Ayahs 4:118–122ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی تھی اور ساتھ یہ بات بھی سمجھائی تھی کہ جو لوگ اللہ کے علاوہ غیروں کی پرستش کرتے ہیں۔ انہوں نے زنا ناموں سے دیویاں بنارکھی ہیں اور دراصل وہ شیطان کی پوجا کرتے ہیں۔ شیطان ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے اور ان کی تخیلات پر غالب آکر ان کو شرک پر آمادہ کرتا ہے حدیث شریف میں شیطان سے پناہ پکڑنے کے لیے اس دعا کا ذکر آتا ہے۔ اللھم انی اعوذ بک من شرالشطین وشرکہ اے اللہ ! میں شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ پکڑتا ہوں۔ اس لفظ کو شرک اور شرک دونوں طرح سے پڑھا گیا ہے۔ شرک کا معنی جال ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو معنی ہوگا ، اے اللہ ! میں شیطان کے جال سے پناہ مانگتا ہوں ، اور شرک کا معنی تو ظاہر ہے کہ شیطان لوگوں کو بہکا کر شرک میں مبتلا کرتا ہے۔ سورة نحل میں موجود ہے کہ شیطان کا غلبہ ان لوگوں پر ہوتا ہے جو اس سے دوستی کرتے ہیں والذین ھم بہ مشرکون اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں ۔ گویا شیطان ان لوگوں کے لیے شرک کا ذریعہ اور سبب بنتا ہے۔ بہرحال یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ تمام نیکیوں کی اصل الاصول توحید ہے اور تمام برائیوں کی جڑ بنیاد شرک ہے ۔ جو شخص شرک میں مبتلا ہوگیا ، اس کی بنیاد خراب ہوگئی اور بنیاد کی خرابی کی وجہ سے دین کی پوری عمارت ہی بگڑ گئی۔ اس لیے شرک کو اکبر الکبائر یعنی سب سے بڑا گناہ کہا گیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھادیا گیا کہ شرک کے ارتکاب میں شیطن کو بہت کچھ دخل حاصل ہے۔ چناچہ اگلی آیت میں شیطان کی کارگزاری کا ذکر ہے کہ وہ انسانوں کو کس طریقے سے شرک اور برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔
شیطان بمقابلہ انسان
جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا ابی واستکبر وکان من الکفرین تو اس نے انکار کردیا اور وہ کفر کرنے والوں میں ہوگیا۔ تمام فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی جب کہ شیطان اکڑ گیا اور پھر حجت بازی شروع کردی کہ میں انسان سے افضل ہوں ، اس لیے کہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین اے اللہ ! تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور انسان کو مٹی سے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ آدم (علیہ السلام) یک تخلیق شیطان کے سامنے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کا مجسمہ بناکر رکھا تو شیطان نے گھوم پھ رکر اسے غور سے دیکھا ، انسان کا پیٹ خالی دیکھ کر شیطان نے اندازوہ لگایا کہ اس خالی جگہ میں وسوسہ ڈالنے کی گنجائش موجود ہے کیونکہ ٹھوس چیز میں تو کچھ داخل نہیں ہوسکتا مگر انسانی جسم اس قابل ہے کہ اس میں ایسی ویسی چیز داخل کی جاسکتی ہے۔ چناچہ اس نے انسان کو بہکانے کا پروگرام بنالیا۔ یہ حدیث کا مضمون ہے۔ بہرحال شیطان نے مٹی کو حقیر جانا۔ اسی سلسلے میں بشار ابن برو کا شعر ہے۔
ابلیس افضل من ابیکم اٰدم
فتبینوا یا معشر الاشرار
اے اشرار کے گروہ ! یاد رکھو ! ابلیس تمہارے جدا مجدآدم (علیہ السلام) سے افضل ہے
النار عنصرہ وآدم طینۃ
والطین لایسمو سموالنار
ابلیس کا عنصر آگ ہے جو افضل ہے۔ اور آدم مٹی سے اور مٹی آگ کی بلندی تو حاصل نہیں کرسکتی۔ یہ شیطان کا فلسفہ ہے کہ آدم مٹی ہے اور مٹی مخذول ہے۔ لہٰذا میں بلند ہو کر ایک پست کے سامنے کیسے جھک سکتا ہوں۔ مگر شیطان کو دھوکا ہوا۔ مٹی میں عاجزی ضرور ہے مگر اس خاکی عنصر میں جو برتری پائی جاتی ہے وہ کسی دوسرے عنصر (ELEMENT) ْمیں نہیں پائی جاتی۔ امام ابن قیم (رح) نے اپنی ایک کتاب میں پندرہ وجوہات بیا ن کی ہیں جن کی بناء پر مٹی کو آگ پر فوقیت حاصل ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ خاکی انسان میں اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت رکھتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات سے مستفید ہوسکتا ہے جب کہ ملائکہ بھی اللہ کی ذاتی تجلیات سے نہیں بلکہ اس کی صفاتی تجلیات سے ہی مستفید ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں اس قدر کمال رکھا ہے مگر شیطان نے اس کی عظمت کونہ پہنچانا ، لہٰذا اللہ کی بارگاہ سے مردود اور ملعون ٹھہرا۔ اس نے اسی وقت سے کہ دیا فبما اغویتنی تو نے مجھے گمراہ ٹھہرادیا ہے۔
لازینن لھم فی الارض ولاغوینھم اجمعین میں ان کے لیے دنیا کو مزین کرکے دکھائونگا اور ان سب کو گمراہ کروں گا۔ اور دوسری آیت میں ہے ثمر لاتینھم من بین ایدیھم ومن خلفھم وعن ایمانھم وعن شمائلھم یعنی اے اللہ ! میں تیری مخلوق کے آگے پیچھے دائیں اور بائیں سے آئوں گا۔ یعنی ہر طرف سے آکر گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں آگے سے مراد دنیا اور پیچھے سے مراد عقبیٰ ہے اسی طرح دائیں سے مراد دین کا راستہ ہے اور بائیں سے مراد خواہشات کا راستہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ میں ہر طرح سے اگے گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا یہ بات شیطان نے قسم اٹھا کر کہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے سمجھادیا کہ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔
بعض دوسری سورتوں میں بھی اس مضمون کی وضاحت کی گئی ہے۔ سورة یٰسین میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مخاطب کرکے فرمایا الم اعھد الیکم لیبنی اٰدم ان لا تعبد والشیطن انہ لکم عدومبین اے بنی آدم ! کیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجا نہ کرنا ، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ؟ سوۃ فاطر میں فرمایا ان الشیطن لکم عدوفاتخذوہ عدواً شیطان تمہارا دشمن ہے ، لہٰذا اسے دشمن ہی سمجھو۔ یہ بڑا خطرناک دشمن ہے جو نظر بھی نہیں آتا۔ نظر آنے والے دشمن سے تو بچائو کیا جاسکتا ہے ، مگر نظر نہ آنے والا زیادہ خطرناک ہوتا ہے کہ نامعلوم کس طرف سے حملہ کردے۔ شیطان اور اس کی ذریت تو تمہیں دیکھ رہی ہے مگر من حیث لاترونھم تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ، اللہ تعالیٰ نے ایسا غیب کا پردہ رکھ دیا ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ مسجد میں اعتکاف فرما رہے تھے آپ کی زوجہ محترمہ حضرت صفیہ ؓ آپ سے ملاقات کے لیے مسجد میں آئیں کچھ دیر آپ سے باتیں ہوئیں ، جب واپس جانے لگیں تو حضور ﷺ انہیں چھوڑنے کے لیے مسجد کے دروازے تک آئے۔ سامنے سے دوآدمی آرہے تھے ، انہوں نے جلدی جلدی قدم اٹھانے شروع کیے حضور ﷺ نے انہیں آواز دے کر ٹھہرایا اور پوچھا تم کون ہو ، وہ ٹھہر گئے اور اپنے نام بتائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، جان لو ! یہ میری بیوی صفیہ ؓ ہے ، کسی کام سے آئی تھی۔ انہوں نے عرض کیا ، حضور ! ہمارے دل میں تو کوئی ایسی بات نہیں آئی ، فرمایا تم نہیں جانتے ان الشیطن یجری من الانسان مجری الدم شیطان انسان کے اندر وہاں تک گھس جاتا ہے جہاں تک خون پہنچتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ یہ تمہارے دلوں میں کوئی وہم ڈال دے گا کہ رات کا وقت ہے ۔ حضور ﷺ اعتکاف فرما رہے ہیں اور یہ عورت کون ہے اور کیسے آئی ؟ تو حضور ﷺ نے شیطان کی شیطانیت سے آگاہ کردیا۔ کہ یہ انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ یہ خون کی طرف باریک سے باریک نسوں تک بھی پہنچ جاتا ہے اور پھر وسوسے ڈالتا ہے یہ ایسا خطرناک دشمن ہے۔
شیطان کا حصہ
جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو اپنی بارگاہ سے مردود کردیا تو اس نے اسی وقت کہہ دیا تھا ۔ وقال لاتخذن من عبادک نصیباً مفروضا میں تیرے بندوں میں سے ایک اچھے خاصے حصے کو گمراہ کردوں گا۔ بلکہ اکثریت میرے ساتھ ہوگی۔ اور تیرے فرمانبردار بندے اقلیت میں ہوں گے چناچہ ابتدا سے لے کر قیامت تک لوگوں کی اکثریت شیطان کے ساتھ رہے گی۔ اس وقت بھی دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سے سوا چار ارب لوگ کفر وشرک میں مبتلا ہیں اور پانچویں حصہ سے بھی کم انسان خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور پھر اس تعداد میں سے بھی ٹھیک طور پر ماننے والے بہت کم لوگ ہیں۔
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ نصیباً مفروضاً کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے کہا کہ میں انسانوں کی کمائی میں سے ایک حصہ اپنے لیے ٹھہرائوں گا۔ یعنی پیداوار کا جو حصہ غیر اللہ کی نذرونیاز میں صرف ہوگا وہ میرا حصہ ہوگا۔ سورة انعام میں تفصیل کے ساتھ یہ ذکر موجود ہے کہ مشرکین کھیتوں کی پیداوار اور مویشیوں میں سے ایک حصہ اللہ کا ٹھہراتے تھے اور ایک اپنے شرکاء کے لیے مقرر کرتے تھے اور ان کی نذر ونیاز کرتے تھے۔ پھر یہ بھی کہ اللہ کا حصہ ادا کرنے میں احتیاط نہیں کرتے تھے مگر غیر اللہ کی نیاز میں سے ایک دانہ کی کمی بھی برداشت نہیں کرتے تھے ، ان کا حصہ پورا پورا ادا کرتے تھے اور کہتے تھے ھذا للہ بزعمھم وھذا لشرکا ئناً گویا ان مشرکوں کے گمان کے مطابق یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ ان کے شریکوں کا۔
آج بھی لوگ شرکیہ رسومات بڑے اہتمام سے ادا کرتے ہیں۔ فرائض سنن اور نوافل عبادات کی چنداں پروا نہیں کرتے۔ زکوۃ وصدقات کا فکر نہیں کرتے مگر گیارہویں بڑے اہتمام سے دیتے ہیں۔ یہ وہی ذہنیت کا رفرما ہے تو شیطان نے یہی کہا ہے کہ انسان کی کمائی میں سے میں ایک حصہ اپنے لیے ٹھہرالیتا ہوں۔ تو گویا نذر ونیاز میں بھی شرک ہوتا ہے۔ اللہ کے علاوہ غیروں کے تقرب اور خوشنودی کے لیے جو نیاز دی جاتی ہے وہ فعلی شرک ہوتا ہے کسی قبر والے ، کسی بزرگ ، پیر ، جن یا فرشتے کو نافع اور رضا ر سمجھ کر اس کے نام کی جو نذر ونیاز دی جاتی ہے ، وہ شیطان کا حصہ ہے انسان سمجھتا ہے کہ اگر غیر اللہ کا حصہ نہ نکالاتو نقصان ہوجائے گا۔ فصل ٹھیک نہیں پکے گی ، پھل پورا نہیں آئے گا یا گائے بھینس کے دودھ میں برکت نہیں ہوگی۔ اس قسم کا اعتقادی شرکیہ عقیدہ ہے۔
شیطانی فلسفہ
شیطان نے اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ بھی کہا ولاضلنھم میں انہیں گمراہ کروں گا ، تیرے بندوں کو بہکائوں گا ولا منینھمان کو باطل آرزئوئیں دلائوں گا۔ شیطان نے ہر شرکیہ فعل کا کوئی نہ کوئی فلسفہ بنارکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ انسانوں کو ورغلاتا ہے ۔ ان کے اذہان میں ڈالتا ہے کہ یہ رسم ادا کرلو ، تو تمہاری بڑی عزت ہوگی ، گنبد بنالو ، جلوس نکالو ، جھنڈیاں لگائو ، تمہارا نام ہوگا ، لوگ تمہیں یاد رکھیں گے۔ طرح طرح کی باتیں بتا کر انہیں غلط راستے پر چلاتا ہے۔ جب کوئی آدمی کوئی الٹا سیدھا کام کرنے لگتا ہے تو پھر اس کے لیے جواز بھی خود ہی ڈھونڈ لیتا ہے۔ ایک بڑا تعلیم یافتہ آدمی جو ہندوستان کا وزیراعظم بھی رہا ہے ، صبح اٹھ کر اپنا پیشاب پیتا ہے ، اور اس کے لیے یہ فلسفہ گھڑا ہے کہ اس سے اسے صحت حاصل ہوتی ہے۔ حالانکہ پیشاب ، ہضم کا فضلہ اور گندی چیز ہے۔ میڈیکل سائنس والے ، یونانی طبیب اور ایلوپیتھک والے سب کے سب پیشاب کو مضر بتاتے ہیں مگر پینے والے کا اپنا فلسفہ ہے۔
جلال الدین اکبر ہندوستان کا بادشاہ تھا اور اس نے بھی ایک فلسفہ گھڑا تھا وہ صاحب علم نہیں تھا ، مگر ذہین تھا۔ سفر کے دوران پیدا ہوا۔ بارہ تیرہ سال گردش زمانہ کا شکار رہا ، اس لیے تعلیم حاصل نہ کرسکا ، ملا مبارک اور اس کے بیٹے ابوالفضل اور فیضی اس کے مشیر تھے۔ یہ گمراہ مولوی تھے۔ اکبر ان کے اشرے پر چلتا تھا۔ آخر گمراہی میں پڑگیا اپنے آپ کو خدا اور رسول سمجھتا تھا۔ نیا دین ایجاد کیا۔ داڑھی منڈوانے کا فلسفہ حواریوں نے یہ سمجھایا کہ یہ فوطوں کی رطوبت کو جذب کرلیتی ہے جس سے قرت مردمی گھٹ جاتی ہے داڑھی نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ شیطانی فلسفہ تھا ، طب کے ساتھ اس کا تعلق نہیں مگر شیطان نے اس طرف لگادیا۔ بادشاہ نے داڑھی صاف کرائی تو باقی تو بھی ایسا ہی کرنے لگے۔
غیر اللہ کے ساتھ نسبت
انسان کی گمراہی کے لیے شیطان نے یہ منصوبہ بھی بنایا ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں جانوروں کے کان کاٹنے کا حکم کروں گا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی جانوروں کے کان چھید کر انہیں آزاد کردیا جاتا تھا اس کسی بت کے نام پر منسوب کردیا جاتا اور اس کا دودھ وغیرہ استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ اگلی سورة میں اسی ضمن میں بحیرہ کا لفظ آئے گا۔ تو یہ شیطان نے اللہ کے حضور اسی وقت کہ دیا تھا کہ تیرے بندوں کو اس طریقے سے بھی گمراہ کروں گا کہ وہ جانوروں کو غیر اللہ کے نام سے منسوب کریں گے۔ چناچہ ایسا ہوتا رہا آج بھی لوگ سر کے اگلے یا پچھلے حصے میں کسی بزرگ کے نام کی چوٹی رکھتے ہیں ۔ کوئی ہاتھ یا پائوں میں کسی بزرگ کی نشانی کے طور پر لوہے کا کڑا ڈال لیتا ہے کہ یہ فلاں بزرگ نے دیا تھا۔
شیطان نے یہ بھی کہاولامرنھم فلیغیرن خلق اللہ میں انہیں حکم دوں گا یعنی ورغلائوں گا اور وہ اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو تبدیل کر گے فطرت کی تبدیلی میں بھی شیطانی فلسفہ کار فرما ہے ، جس سے وہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے ۔ ملوکیت کے زمانے میں بادشاہ جن لوگوں کو گھر میں رکھتے تھے انہیں خصی بنادیتے تھے ۔ یہ فطرت کی تبدیلی اور حرام ہے۔ اسی طرح لواطت بھی غیر فطری چیز ہے مگر شیطن اس پر بھی آمادہ کرتا ہے۔ عورتوں کا آپس میں جنسی التفات بھی شیطانی امور سے ہے۔ اسی طرح جانوروں کے ساتھ غیر فطری فعل ہے۔ آج سے تیس سال پہلے اخبار میں پڑھا تھا ، کہ ڈنمارک کے ایک چھبیس سالہ نوجوان نے جنس تبدیل کرنے کے لیے کئی اپریشن کرائے ، کم وبیش دوہزار انجکشن لگوائے اور آخر کار وہ مرد سے عورت بننے میں کامیاب ہوگیا۔ بعض عورتوں کو مرد بننے کا خبط ہوتا ہے۔ یہ سب غیر فطری باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت بھیجی ہے۔ جو ایک دوسرے کی ضع قطع ، چال ڈھال ، لباس اور سٹائل اپناتے ہیں۔ لعن اللہ المتشبھین بالنساء ووالمتشبھات بالرجالمردوں پر خدا کی لعنت ہو کہ وہ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔ اور وہ عورتیں ملعون ہیں جو مردوں کا سٹائل اپناتی ہیں۔ امام رازی (رح) داڑھی منڈوانے کو بھی اسی مد میں شمار کرتے ہیں۔ عورت کا سر کے بامنڈوانا اور مرد کا داڑھی منڈوانا ایک ہی قبیل سے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان کہ یہود ، ہنود اور مجوس کے ساتھ مشابہت نہ رکھو۔ داڑھی بڑھائو اور مونچھیں کٹوائو ، مگر شیطان نے الٹا سبق سکھلایا ہے۔ اب داڑھی منڈائی جاتی ہے اور مونچھیں بڑھائی جاتی ہیں۔
حضور (علیہ السلام) نے فرمایا لعن اللہ الواصلۃ والمستوصلۃ جو عورت اپنے سر کے بال دوسری عورت کو دیتی ہے تاکہ اس کے بال بھی لمبے نظر آئیں ، اللہ نے دونوں پر لعنت بھیجی ہے ، سرمہ ، کنگھی ، ریشمی پر اندہ وغیرہ تو جائز ہیں۔ عورتوں کو رنگین اور منقش لباس پہننا بھی درست ہے ، مگر غیر فطری زیبائش کی اجازت نہیں۔ اسی طرح بالوں کو چنذ کر باریک ابروبنانا ، اسپر بھی لعنت کی گئی ہے دانتوں کے درمیان مصنوعی فاصلہ بنانا ، ہاتھوں ، پائوں ، ٹانگوں یا پیشانی پر نقش ونگار بنانا سب غیر فطری چیزیں ہیں۔ یہی تغیر فطرت ہے ، شیطان نے کہا تھا ۔ کہ اے اللہ ! میں تیرے بندوں کو ورغلا کر ایسی چیزوں پر آمادہ کروں گا۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر مولود فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی یا مشرک بنادیتے ہیں ، جس قسم کا ماحول ہوتا ہے ، اس کے مطابق انسان ڈھل جاتا ہے جب کوئی شخص اپنی فطرت سلیمہ سے ہٹ گیا تو اس کی فطرت میں تغیر آگیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام میں تبدیلی بھی تغیر فطرت ہے۔ حلال کو حرام یا حرام کو حلال قرا ردینا فطرت کو تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔ بعض مشرک لوگ اللہ کے حلال کردہ جانوروں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ کس دین اور شریعت سے انہیں حرام کیا ہے ؟ اسی طرح شرک کی تمام قسمیں خلاف فطرت ہیں یہ احکام کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔ انسانی فطرت تو یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے مگر مشرک لوگ شرک کا ارتکاب کرکے انسانی فطرت کو تبدیل کردیتے ہیں۔ یہی وہ تغیر فطرت ہے جس کا اعلان شیطان نے روز اول کیا تھا کہ وہ انسانوں کو گمراہ کرکے اس پر آمادہ کرے گا۔
حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ دیکھو شیطان نے کس طرح کہ ا کہ جو لوگ میرے حصے میں آئیں گے ، میں انہیں طریق حق سے گمراہ کروں گا۔ انہیں دنیا کی خوراہشات کا گرویدہ بنادوں گا اور روز قیامت اور جزا وسزا سے بےنیاز کردوں گا۔ میں لوگوں کو اس بات کی تعلیم دوں گا کہ وہ جانوروں کو کاٹ چیر کر غیر اللہ کی طرف منسوب کریں اور انہیں معبودان باطلہ کے نام پر چھوڑ دیں۔ میں انہیں اس بات پر بھی آمادہ کروں گا کہ وہ فطرت کو بدل ڈالیں اللہ کی پیدا کی ہوئی صورتوں میں تغیر وتبدل کریں ، غیر اللہ کی نشانی کے طور پر کڑا وغیرہ پہنیں اور سر پر چوٹی رکھیں۔ میں لوگوں کو غلط ملط آرزوئیں دلائوں گا جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پست پشت ڈال دیں گے اور میرے پیچھے لگ جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کہ شیطان کا اتباع کرے گا ، وہ اس کے حصے میں آ گیا۔
شیطان کی دوستی
فرمایا ومن یتخذ الشیطن ولیاً من دون اللہ جس نے اللہ کے علاوہ شیطان کو دوست بنالیا فقد خسر خسراناً مبیناًبے شک وہ صریح خسارے میں جاپڑا۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی عاقبت خراب ہوگئی۔ وہ ابد الآباد تک جہنم میں رہے گا اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی فرمایا یعدھم ویمنیھم شیطان انہیں جھوٹے وعدے اور جھوٹی آرزوئیں دلاتا ہے ۔ وہ گناہ کو مزین کرکے دکھاتا ہے کہ اس میں بڑا فائدہ ہے راستے اختیار کرلو۔ کفر ، شرک ، بدعات اور غلط رسومات کی ترغیب دے کر انہیں اپنا دوست بناتا ہے۔ فرمایا یعدھم الشطین الاغروراً شیطان تو انہیں محض دھوکے اور فریب کا وعدہ دیتا ہے وہ جو کچھ لوگوں کو دکھاتا ہے ، سب سراب ہوتا ہے ، جب انسان آخرت میں پہنچے گا ، تو پتہ چلے گا کہ اس کے اعمال میں کچھ بھی نہیں ۔ وہ جو کچھ کرتا رہا ، شیطان کے بہکاوے میں آکر کرتا رہا اور اللہ کے پاس ایسے اعمال کا کچھ اجر نہیں اس دھوکے کا نتیجہ یہ ہوگا اولئک ماوئھم جنھم ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ ولا یجدون عنھا میحصاً پھر جہنم سے خلاصی کی کوئی جگہ نہ پائیں گے۔ شیطان کی دوستی کرنے والوں کے لیے جہنم سے رہائی کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔
شیطانی گروہ کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے جماعت حقہ کا ذکر بھی فرمایا ہے والذین امنوا وعملوا الصلحتجو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کے رسولوں ، کتابوں ، ملائکہ ، جنت ، دوزخ اور اس کی نازل کردہ شریعت پر ایمان لائے اور ساتھ ساتھ اچھے اعمال منجملہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، خیرات ، جہاد ، انسانی ہمدردی وغیرہ بھی انجام دئیے۔ فرمایا یہی جماعت حقہ ہے۔ سندخلھم جنت ہم انہیں ایسے باغوں میں داخل کریں گے تجری من تحتھا الانھار جن کے سامنے نہریں بہتی ہونگی۔ خلدین فیھا ابداً وان باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے کبھی نکالے نہیں جائیں گے۔ فرمایا وعد اللہ حقاً یہ اللہ تعالیٰ کا پکا سچا وعدہ ہے کہ نیک اعمال کرنے والا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے والا جنت میں داخل ہوگا۔ اور کفر وشرک کا مرتکب جہنم میں جائے گا۔ ومن اصدق من اللہ قیلاً اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ سچی بات کس کی ہوسکتی ہے وہ احکم الحاکمین ہے۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے ایمان ، توحید اور نیکی کو اختیار کرے تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے فلاح حاصل ہوجائے۔ اور اللہ نے جن باتوں سے منع کیا ہے انہیں نقصان کا باعث کہا ہے ان سے باز آجائے۔ اور اللہ کے سچے وعدے کے مطابق اپنا ٹھکانا بہشت میں بنالے۔
Ayahs 4:123–126ربط آیات
گزشتہ درس میں شرک کی مذمت اور شیطان کی دشمنی ، کارگزاری اور بہکاوے کے مختلف طریقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ شرک تمام برائیوں کی جڑ ہے۔ اور شیطان انسان کو گمراہ کرنا ے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتا ہے۔ شیطان کے اتباع میں شرک کرنے والے لوگ دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے پہلے منافقین اور ان کی حمایت کرنے والوں کی مذمت بھی بیان ہوچکی ہے اہل کتاب گمراہ ہو کر غلط راستے پر چل نکلے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی متنبہ کیا کہ اگر ان میں بھی اہل کتاب جیسی خرابیاں پیدا ہوگئیں تو وہ بھی ناکام رہیں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ کسی جماعت یا فرقے کے ساتھ خالی نسبت کچھ کام نہ آئے گی بلکہ اصل چیز نیک اعمال ہیں ، جو ان کو انجم دے گا وہ کامیاب ہوگا۔
خالی نسبت
ارشاد ہوتا ہے لیس بامانیکم اے اہل ایمان ! کامیابی کا دارومدار تمہاری ارزئوں پر نہیں ہے ۔ تمہاری خواہش کا پورا ہونا ضروری نہیں ہے ولا امانی اھل الکتب اور نہ اہل کتاب کی تمنائوں پر نیکی یا بدی کا انحصار ہے کہ جیسا وہ آرزئو کرتے ہیں ، ویسا ہی ہوگا۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جزا وسزا کا مدار اچھے اور برے کام پر ہے من یعمل سوئً جو کوئی برا عمل کرے گایجزبہ اسے اس کا بدلہ ضرور ملے گا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کوئی شخص اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا بلکہ اسے برائی کا صلہ ضرور ملے گا۔ ولایجدلہ من دون اللہ ولیاً ولا نصیراً پھر وہ اپنے لیے اللہ کے سوا کوئی کار ساز اور مددگار نہیں پائے گا۔ لہٰذا قانون یہی ہے کہ جب تک حقیقت میں موجود ہو محض خالی نسبت قطعاً مفید نہیں ہوسکتی۔
یہودی اپنی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں مگر وہ نہ تورات پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی شریعت پر۔ انہوں نے تو الٹا کتاب و شریعت کو بگاڑ دیا ہے ، ان میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں اور اب ان کی خالی خولی آرزوئیں ہی رہ گئی ہیں کہ لن یدخل الجنۃ الامن کان ھودا اور نصری یعنی جنت میں جانے کا حق اسی کو ہے جو یہودی ہے یا عیسائی ہے ۔ یہودی کہتے ہیں ہمارے بغیر جنت میں کوئی نہیں داخل ہوسکتا اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہ ہمارا حق ہے بعض یہودی یہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہم دوزخ میں گئے بھی تو صرف اتنے دن جتنے دنوں ہمارے بڑوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی یعنی چالیس دن اور دوسری بات یہ کہ ہم نبیوں کی اولاد ہیں۔ ہم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) کے خاندان سے ہیں اس لیے نحن ابتوا اللہ واحباء ہ ہم اللہ کے فرزند اور اس کے محبوب ہیں ، ہم جو چاہیں کرتے پھریں ، ہم سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی اور نہ ہمیں کوئی سزا ملے گی۔ ہم تو جنت کے ٹھیکیدار ہیں۔ اللہ نے جنت ہمارے لیے ہی تیا رکی ہے۔ یہی ان کا زعم باطل تھا۔
ہنود کا بھی یہی حال ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ برہمن اللہ کے گھر اور نجات کے مالک ہیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو چار قوموں میں تقسیم کرلیا ہے یعنی برہمن کشتری ، دیش اور شودر۔ وہ کہتے ہیں کہ نجات یافتہ یہی چار قومیں ہیں۔ باقی سب ملیچ یعنی نجس ہیں اور ان کو کبھی نجات حاصل نہیں ہوگی۔ غرض یہ کہ ہندو بھی اسی نادانی کا شکار ہیں۔
اُدھر نصاری بھی اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ جنت صرف انہی کے لیے ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب تصو ر کرتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اپنی نسبت تو جوڑتے ہیں مگر نہ ان کی انجیل پر عمل ہے اور ان کی شریعت پر۔ وہ بھی اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ عیسائی ایک مزید خوش فہمی کا شکار ہیں۔ کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے صلیب پر چڑھ کر ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا ہے ، اب ہم کچھ بھی کرتے پھریں۔ ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا۔ یہ سب ان کی آرزوئیں اور خام خیالیاں ہیں جنہیں سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ نجات کا دارومدار اس خالی نسبت سے نہیں بلکہ ایمان اور اعمال صالح پر ہے۔
حضرت مولانا شاہ عبدالقادر (رح) نے اپنے ترجمہ قرآن پاک کے حاشیے میں ایک فقرہ لکھا ہے کہ جس طرح یہود ونصاریٰ انبیاء کے ساتھ نسبت کی بنا پر خوش فہمی میں مبتلا ہیں اسی طرح اکثر مسلمان بھی اسی زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم افضل الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ لہٰذا ہم کچھ بھی کریں حضور ﷺ ہماری سفارت کرکے ہمیں جنت میں لے جائیں گے اور پھر مسلمانوں میں جو چھوٹے چھوٹے فرقے اور گروہ ہیں ، ان میں سے ہر ایک محض اس لیے جنت کا دعویدار ہے کہ فلاں فرقے یا گروہ کا رکن ہے۔ شیعہ حضرات کا ایمان یہ ہے کہ امام حسین ؓ کے ساتھ نسبت ہی مدار فلاح ہے۔ محرم میں ماتمی لباس پہن لیا ، تعزیہ نکال دیا مجلس کرادی ، ماتم کرلیا تو بس نجات حاصل ہوگئی۔ علی ہذا لقیاس دوسرے فرقے بھی اس قسم کا دعوی ٰ کرتے ہیں اس کے بعد جو چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جیسے چشی ، قادری ، دیوبندی ، اہل حدیث بھی محض اپنے اپنے فرقہ سے منسلک ہونے کی بنا پر جنت میں جانا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک فرقہ اپنے سوا کسی دوسرے کی نجات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اصول کے طور پر بات سمجھادی کہ محض نسبت سے کبھی فائدہ نہیں ہوگا جب تک کہ ایمان اور نیکی کی حقیقت موجود نہ ہو ایک شخص چشتی کہلاتا ہے ، اپنے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب لکھتا ہے۔ مگر مشائخ اہل چشت کا اتباع نہیں کرتا تو اسے خالی نسبت کیا فائدہ دیگی۔ نقشبندی حضرات بھی بڑے کاملین بزرگ تھے مگر ان کے نام لیوا ان کے رستہ پر کہاں تک چل رہے ہیں ا ب گورپرستی ، عرس بازی ، قوالی اور رسومات باطلہ کا نام قادریت رکھ دیا گیا ہے ، جب تک شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کے طریقے پر نہیں چلیں گے ، محض نام قادری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح شہاب الدین سہروردی (رح) کے طریقے پر چلنا کامل درجے کا اخلاص اور اتباع شریعت وسنت ہے۔ مگر ان کے نام لیوا اپنے دعویٰ میں کہاں تک سچے ہیں۔ غرض یہ کہ عمل کے بغیر خالی نسبت محض خام خیالی ہے۔
خاندانی تفوق
یہودیوں میں خاندانی تفوق کا زعم تھا۔ ا ن کا دعویٰ تھا کہ ان کے جدامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور کسی ختنہ شدہ اسرائیلی کو دوزخ میں نہیں جانے دیں گے اس قسم کی خاندانی نسبت بعض مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے بعض لوگ سادات کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں۔ اور بعض دیگر بزرگوں کی طرف حالانکہ خالی نسبت کچھ کام نہ آئے گی ، گولڑا شریف والے بزرگ خود سادتا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں مگر انہوں نے یہ عجیب و غریب مسئلہ بیان کردیا کہ کسی سید زادی کا نکاح امتی کے ساتھ نہیں ہوسکتا ، حالانکہ یہ سو فیصد غلط مسئلہ ہے۔ اسی طرح بعض لو گ پیر زادے اور بزرگ زادے ہونے کی بناء پر اپنا تفوق جتلاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں ، بزرگ ان کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں داخل کردیں گے ، یہ سب لوگوں کی آرزوئیں اور خواہشات ہیں ، حقیقت سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ جب تک کوئی اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر نہیں چلے گا۔ خالی نسبت سے کام نہیں چلے گا۔
یہودی ہوں یا نصرانی یا نادان مسلمان اس قسم کے تصورات محض خام خیالی ہے۔ کوئی شخص اپنے آپ کو سو مرتبہ حنفی کہے ، جب تک امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے شاگردان رشید کے طریقے پر نہیں چلے گا ، اس کا دعویٰ باطل ہے کوئی لاکھ اہل حدیث یا سلفی ہونے کا دعویٰ کرے جب تک محدثین کے نقش قدم پر نہیں چلتا۔ اہل حدیث نہیں ہے ، اسی طرح کوئی شافعی ہونے کا دعویدار ہے یا مالکی اور حنبلی کہلاتا ہے۔ تو اسے اپنے عمل کے ذریعے اپنے دعویٰ کا ثبوت پیش کرنا ہوگا ، ورنہ یہ خالی نسبتیں کسی کام نہ آئیں گی۔
اس نسبت کو ذرا وسیع کریں تو کئی لوگ ڈاکٹر اقبال مرحوم کے گرویدہ نظر آئیں گے ، وہ ان کے نام پر ہی پل رہے ہیں۔ بعض مسٹر محمد علی جناح مرحوم کے نام لیوا ہیں۔ ان کا نام تو بڑے زور شور سے لیتے ہیں مگر طور طریقہ ان کے خلاف ہے۔ نہ ان ہستیوں جیسا خلوص ہے ، نہ عمل اور نہ بےغرضی ، مگر نام لے کر زندہ ہیں۔ بعض لوگ شاہ اسماعیل شہید (رح) کا نام بڑی عقیدت سے لیتے ہیں ، ان کے نام پر کانفرنسیں کرتے ہیں مگر اپنا عمل ان سے مطابقت نہیں رکھتا۔ غرض ! یہ سب جھوٹے دعاوی اور آرزوئیں ہیں جن کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مدار فلاح نہ تمہاری تمنائوں پر ہے اور نہ اہل کتاب کی آرزئوں پر ، بلکہ جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا ، اسے اس کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔
شاہ ولی اللہ کا فلسفہ
اما م شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہے۔ لایدع عاصیاً وہ کسی مجرم کو دنیا اور آخرت میں سزا دئیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ دنیا کی سزا اسباب کو معطل کیے بغیر دی جاتی ہے یعنی دنیا میں اسباب کے دوران ہی سزا دی جاتی ہے۔ اور پھر اگلے جہان میں جب اسباب کا مسئلہ منقطع ہوجائے گا تو پھر قطعی اور اٹل سزا ملے گی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ خالی نسبت قطعاً مفید نہیں ہوگی۔ نجات کا دارومدار عمل پر ہے لہٰذا جو کوئی برا عمل کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔
نیکی کی جزا
ومن یعمل من الصلحت اور جو کوئی اچھا عمل کرے گا۔ من ذکراونثیٰ خواہ وہ مرد ہو یا عورت وھو مومن بشرطیکہ وہ مومن ہو ، کیونکہ ایمان ہی اصل الاصول ہے۔ نیکیوں کی جڑ اور بنیاد ایمان ہے۔ اگر نیکی کے ساتھ اعمال صالحہ انجام دیتا ہے فائولئک یدخلون الجنۃ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے ولایظمون نقیراً اور ان کے ساتھ ایک تل کے برابر بھی زیادتی نہیں کی جائے گی۔ بات وہی ہے کہ نجات کا مدار نیکی ، ایمان اور عمل پر ہے۔
اس آیت کریمہ میں جزائے عمل کے سلسلہ میں مردوں اور عورتوں کو یکساں حیثیت دی گئی ہے۔ شریعت کے احکام محض مردوں کے لیے نہیں بلکہ عورتوں پر اسی طرح لازم ہیں ، لہٰذا شریعت اور قانون سب کے لیے یکساں ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جائے گا۔ البتہ مردوزن کے دائرہ کار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرق رکھا ہے۔ عورتیں اپنے فرائض گھر کے اندر انجام دینے کی پابند ہیں جب کہ مرد باہر کے امور سے عہدہ برا ہوتے ہیں۔ باقی فرائض ، واجبات وغیرہ جس طرح مرد پر لاگو ہیں اسی طرح عورت پر بھی ان کی مکلف ہے۔
بہترین دین
اس کے بعد فرمایا ومن احسن دینا ممن اسلم وجھہ للہ اس شخص سے اچھا دین کس کا ہوسکتا ہے ، جس نے اپنے چہرے کو اللہ تعالیٰ کے تابع کردیا۔ چہرہ چونکہ انسانی جسم میں معزز ترین حصہ ہوتا ہے اس لیے چہرہ کا نام لیا گیا ہے۔ تاہم اس سے مراد پورا جسم انسانی ہے۔ اور مقصد یہ ہے کہ انسان مکمل طور پر اللہ کے رضا کے تابع ہوجائے اور اپنے آپ کو ہمہ تن خدا تعالیٰ کی طرف جھکادے۔ چہرے کو تابع کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ انسان میں غایت درجے کا اخلاص پایا جائے۔ اور اخلاص کا معنی یہ ہے کہ بندہ ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے اور رضائے الٰہی سے مراد یہ ہے کہ اس کا عقیدہ پاک ہو۔ خدا کی وحدانیت پر صحیح ایمان ہوگا تو اخلاص بھی پیدا ہوگا۔ اخلاص اور توحید کے مسائل حوامیم میں سمجھائے گئے ہیں۔ ” فاعبدواللہ مخلصین لہ الدین کا کیا مطلب ہے ؟ یعنی خاص اسی وحدہ لاشریک کی عبادت کرو اس میں کسی قولی ، فعلی شرک کی ملاوٹ نہیں ہونی چاہیے اخلاص توحید سے آتا ہے اگر اخلاص نہیں ہوگا تو نہ عبادت قبول ہے اور نہ فلاح نصیب ہوگی۔
فرمایا بہترین دین کی ایک صفت تو اخلاص ہے اور دوسری وھومحسن انسان نیکی کرنے والا ہو اور محسن کا مطلب یہ بھی ہے کہ عامل کا طریق کار درست ہو۔ جب تک عمل حضور ﷺ کی سنت اور شریعت کے مطابق نہیں ہوگا۔ مقبول نہیں ہوگا…………… کیونکہ ارشاد مبارک ہے من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھورد یعنی جو عمل ہمارے طریقے کے مطابق نہیں وہ مردود ہے۔
اتباع ملت ابراہیم خلیل اللہ
فرمایا بہترین دین دار وہ ہے جس میں اخلاص پایا جائے اور اس کا عمل سنت نبوی کے مطابق ہو۔ اور تیسری چیز یہ کہ واتبع ملۃ ابراھیم حنیفاً وہ ملت ابراہیم کا پیروکار ہ۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی صفت یہ ہے کہ وہ حنیف یعنی وہر طرف سے کٹ کر ایک طرف لگنے والے ہیں۔ حنیف وہ ہے ، جو اللہ کی توحید پر ایمان رکھتا ہے۔ نماز میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرتا ہے۔ ختنہ کرتا ہے ، قربانی کرتا ہے اور شرک سے بیزار ہے یہ تمام صفات ابراہیم (علیہ السلام) میں پائی جاتی تھیں۔ اس لیے اللہ نے ان کی ملت کے اتباع کا حکم دیا اور فرمایا وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاً ء اور ان لوگوں کو یہی حکم دیا گیا کہ وہ خالص اللہ کی عبادت کریں۔ اور حنیف بن جائو اور شرک کرنے والے نہ بنو اللہ نے یہی بات تمام انبیاء کی زبان کے ذریعے تمام لوگوں تک پہنچائی کہ عبادت خالص اللہ کی کرو۔ غرض یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) سب سے بڑے موحد اور حنیف تھے لہٰذا اللہ نے ان کی ملت کی پیروی کا حکم دیا۔
ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام)
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حنیفیت کا ثمرہ یہ دیا واتخذ اللہ ابرھیم خلیلاً کہ انہیں اپنا خلیل بنالیا اور خلیل کا معنی دوست ہے۔ اور فلاح اس کو نصیب ہوگی جو یا تو خود خلیل ہو۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) یا پھر خلیل کے طریقے پر ہو۔ اسی لیے ملت ابراہیمی کے اتباع کا حکم دیا گیا ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا اتخذ اللہ صاحبکم خلیلاً اللہ نے تمہارے صاحب یعنی خود مجھے اپنا خلیل بنالیا ہے اور ترمذی شریف میں حبیب کا لفظ بھی آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یاد رکھو ! میں کہتا ہوں کہ میں اللہ کا حبیب ہوں۔ میں یہ فخر سے نہیں کہتا ، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے مجھے اپنا حبیب یعنی پیارا بنایا۔
یہاں پر خلت دو معنوں میں استعمال ہوئی ہے۔ اس کا عام فہم معنی تو دوستی ہے جس کا تعلق دل کی انتہائی محبت کے ساتھ ہوتا ہے۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) اس لحاظ سے خلیل ہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے غایت درجہ کی محبت تھی۔ جس کی وجہ سے وہ تعمیل حکم میں ہمیشہ مستعد رہتے تھے۔ اور خلیل کا دوسرا معنی یہ ہے کہ آپ نے اپنی کسی حاجت کو اللہ کے سوا کسی دوسرے کے سامنے پیش نہیں کیا۔ چناچہ مشہور واقعہ ہے کہ جب آپ کو آگ میں ڈالا جارہا تھا تو امتحان کے لیے فرشتے آئے اور عرض کیا ، کہ ضرورت ہو تو ہم آپ کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے صاف فرمادیا ، کہ مجھے اللہ کے سوا کسی کی مدد درکار نہیں۔ فرشتے نے کہا ، پھر اللہ ہی سے مدد کے لیے دعا کریں تو آپ نے فرمایا ، میرے سوال سے اللہ کا علم زیادہ وسیع ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میں کس حال میں ہوں ، لہٰذا مجھے بتانے کی بھی ضرورت نہیں۔ گویا آپ افوض امری الی اللہ کے پورے پورے مصداق تھے۔ غرض یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی خلت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے دل میں اللہ کی انتہائی محبت اور تعظیم تھی اور دوسرے یہ کہ انہوں نے تمام حاجات صرف اللہ کے سامنے پیش کیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح حضور خاتم النبین ﷺ بھی اللہ کے خلیل ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں کسی انسان کو اپنا خلیل بناتا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو بناتا ، مگر تمہارے صاحب کو اللہ نے اپنا خلیل بنالیا ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ دل کا خانہ خاص صرف خدا تعالیٰ کے لیے ہے۔ اور حبیب کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضور نبی کریم ﷺ سے خصوصی محبت ہے جس کی وجہ سے آپ حبیب اللہ بھی ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ جو خلیل کے راستے پر ہوگا ، وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہیں۔ ان کی ملت حقیقت میں ملت اسلامیہ ہے یا ملت محمدیہ ہے ، معنی ایک ہی ہے لہٰذا اللہ کے نزدیک دین اس شخص کا پسندیدہ ہوگا جس میں اخلاص پایا جائے اور اس کا عمل شریعت کے مطابق ہو ، ایسا شخص ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھا جائے گا۔
تصرف اور احاطہ
فرمایا یاد رکھو وللہ مافی السموت ومافی الارض اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وکان اللہ بکل شئی محیطاً اور اللہ ہر چیز کا محیط یعنی احاطہ کرنے والا ہے۔ اللہ کی ان دو صفات میں اکثر لوگ بہک جاتے ہیں۔ ایک تصرف یہ ہے کہ جب زمین وآسمان کی ہر چیز کا مالک خدا ہے تو پھر کائنات میں تصرف بھی اسی کا ہے مگر اکثر لوگ اللہ کی صفت تصرف میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور تصرف میں قبروالوں ، فرشتوں یا جنوں کو بھی شریک کرتے ہیں۔ حالانکہ متصرف فی الامور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
اللہ کی دوسری صفت یہاں پر محیط بیان کی گئی ہے یعنی ہر چیز کا احاطہ کرنا اور انہیں قابو میں رکھنا ، اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے۔ احاطہ علم کے ساتھ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ” بکل شئی علیم ہے۔ ذرے ذرے کا علم اسی کے پاس ہے اور قدرت کے اعتبار سے بھی ہر چیز پر قبضہ اللہ ہی کا ہے۔ اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ لہٰذا محیط بھی وہی ہے۔ اور متصرف بھی وہی ہے۔
اب جدید سائنس دانوں نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کرلیا ہے کہ سبب اور مسبب کا علاقہ قطعی نہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر ہر ذرہ اپنے مالک کے حکم کا منتظررہتا ہے۔ جس وقت جو حکم ہوا اسی کی تعمیل کرتا ہے۔ پہلے تو سائنسدان اسے خلاف عقل سمجھتے تھے مگر اب مان گئے ہیں کہ کسی چیز کا سبب قطعی نہیں۔ یعنی یہ ضروری نہیں کہ ہر سبب ہمیشہ ایک ہی نتیجہ پیدا کرے بلکہ ایک سبب کے مختلف مواقع پر مختلف نتائج بھی ہوسکتے ہیں۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر چہ اللہ تعالیٰ نے سبب اور مسبب (CAUSE AND EFFECT) کو قائم رکھا ہے اور عام طور پر اس اصول نہیں توڑتا ، مگر جب چاہے اس کو توڑ بھی دیتا ہے۔ آگ کا کام جلانا ہے مگر بعض اوقات نہیں جلاتی ، پانی پیاس نہیں بجھاتا ، تلوار نہیں کاٹتی ، گولی اپنا اثر نہیں دکھاتی وغیرہ وغیرہ تو معلوم ہوا کہ تصرف اللہ کے قبضے میں ہے اور وہی احاطہ کرنے والا ہے۔ چونکہ اکثر لوگ انہی صفات میں شرک کرتے ہیں۔ لہٰذا اللہ نے آخر میں انہی دو صفات کا ذکر کرکے لوگوں کو توحید کا درس یاد کرایا ہے۔
Ayah 4:127ربط آیات
گزشتہ رکوعات میں جہاد کا ذکر اور منافقین کی مذمت بیان ہوتی رہی ہے ۔ اب آج کی آیت میں عورتوں اور یتیم بچوں کے حقوق کا تذکرہ ہے ۔ سورة ہذا کی ابتدا بھی انہی موضوعات سے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال میں ناجائز تصرف سے منع فرمایا تھا۔ اور یتیم لڑکیوں کے متعلق حکم تھا کہ اگر تمہیں ان کے ساتھ ناانصافی کا خدشہ ہو ، تو پھر ان کے ساتھ نکاح نہ کرو ، اور جن عورتوں سے نکاح کرو ، ان کے مہر خوشی خاطر سے ادا کرو ، ہاں اگر وہ ازخود مہر کا کچھ حصہ واپس کردیں یا معاف کردیں تو تمہارے لیے مباح ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے یتیموں کے مال کی حفاظت کے بھی مفصل احکام نازل فرمائے۔ وراثت کے احکام تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے جن میں اللہ نے واضح کیا کہ وراثت میں عورتوں کا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح مردوں کا۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے مسائل بھی بیا ن فرمائے اور واضح کیا کہ نہ تو عورتوں کے زبردستی مالک بن جائو اور نہ انہیں نکاح ثانی سے روک رکھو۔ پھر اللہ نے محرمات نکاح کا ذکر کیا اور وہ تمام رشتے گنوائے جن کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ معاشرتی مسائل میں عورتوں پر مردوں کی فوقیت ، دونوں کے دائرہ ہائے کار اور ایک دوسرے کے حقوق وفرائض کا تذکرہ ہوا ، اور ساتھ ساتھ دین کے بنیادی مسائل توحید و رسالت کا بیان بھی ہوا۔
عورتوں کے مسائل
اب آج کی آیت کا تعلق بھی سورة کے ابتدائی حصے میں مذکور یتیموں اور عورتوں کے مسائل سے ہے۔ حضور ﷺ سے یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق سوال کیا گیا ، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ارشاد ہوتا ہے ویستفتونک اے پیغمبر (علیہ السلام) ! لوگ آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں۔ استفتاء کسی معاملے میں حکم طلب کرنے کو کہتے ہیں۔ اس کا مادہ فتیٰ ہے جس کا معنی جو ان ہوتا ہے ۔ کسی معاملہ میں جو فتویٰ دیا جاتا ہے اس کی وجہ سے قوت پیدا ہوتی ہے ، لہٰذا اسے استفتاء کا نام دیا گیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، لوگ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں فی النساء عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سوا ل کے جواب میں فرمایا قل اللہ یفتیکم فیھن آپ فرمادیجئے عورتوں کے بارے میں اللہ تم کو فتویٰ دیتا ہے اور اس کے علاوہ ومایتلیٰ علیکم فی الکتب اور اس ضمن میں کتاب یعنی قرآن پاک کی وہ آیات بھی تمہاری رہنمائی کرتی ہیں ، جو تم پر پڑھی جاتی ہیں۔ اور وہ اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور بہت سی آیات اس کے بعد بھی حسب ضرورت نازل ہوں گی ، لہٰذا اپنے معاملات ان احکام کی روشنی میں طے کیا کرو۔
یتیم لڑکیوں کے حقوق
اور خاص طور پر فی یتمی النساء التی لاتوتونھن ماکتب لھن ان یتیم عورتوں کے معاملات کو جنہیں تم وہ چیزادا نہیں کرتے جو ان کے لیے مقرر کی گئی ہے ۔ سوال کی نوعیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مجملاً یہ جواب ارشاد فرمایا کہ یتیم بچیوں کے متعلق تو ابتدائے سورة میں یہ احکام دئیے جاچکے ہیں۔ کہ اگر ان سے نکاح کرو تو ان کا حق مہر پورا دا کرو۔ اور اگر تم انصاف کے تقاضے پورے نہ کرسکو تو ان کے علاوہ دوسری عورتوں سے نکاح کرو۔
زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں سے دو طرح کی زیادتی ہوتی تھی۔ لڑکیوں کے یتیم ہوجانے کی صورت میں ان کے سرپرست کے تقرر کا مسئلہ پیدا ہوتا تھا ، اور عام طور پر سرپرست چچا یا بھائی مقرر ہوتے تھے اور اگر ان میں سے کوئی موجود نہ ہو تو عصبہ کی صورت میں بعض اوقات چچا زاد بھائی بھی وارث بن جاتے تھے اور لڑکی کے ساتھ اس کا مال بھی سرپرست کی تحویل میں چلا جاتا تھا۔ چونکہ چچا زاد کے ساتھ نکاح جائز ہے اس لیے اگر لڑکی خوبصورت ہوتی تو سرپرست خود اس سے نکاح کرلیتا مگر دستور کے مطابق اسے حق مہر پورا دا نہ کرتا۔ کیونکہ اس سلسلے میں اسے کوئی پوچھنے والا نہ ہوتا ، اور اگر لڑکی شکل و صورت کے لحاظ سے سرپرست کو ناپسند ہوتی ، تو نہ وہ خود نکاح کرتا اور نہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دیتا۔ وہ جانتا تھا کہ لڑکی کے ساتھ اس کے حصے کا مال بھی جائے گا اور وہ خود اس سے محروم ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ان ہی زیادتیوں کی طرف توجہ دلاکر فرمایا کہ اس ضمن میں جو احکام نازل ہوچکے ہیں ، وہی تمہارے لیے کافی ہیں۔ لہٰذا ان کے مطابق عمل کرو۔
فرمایا وترغبون ان تنکحوھن اگر تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو تو پھ ران کا مہر پورا پورا ادا کرو۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت میں ترغبون کے بعد بھی عن یافی مخدوف ہے۔ اور ان کے داخل ہونے پر دو متضاد معنی نکلتے ہیں۔ اگر ترغبون عن پڑھا جائے تو اس کا معنی ہوگا کہ تم نکاح سے اعراض کرتے ہو۔ جیسا کہ سورة بقرہ میں آتا ہے ومن یرغب عن ملۃ ابراہیم اور کون ہے جو ملت ابراہیمی سے اعراض کرتا ہے مگر جو بیوقوف ہے۔ اور اگر ترغبون فیپڑھا جائے تو مطلب ہوگا کہ تم نکاح میں رغبت رکھتے ہو۔ تو ہر دو صورتوں میں مطلب یہ ہوگا کہ تم شکل و صورت کی ناپسندیدگی کی وجہ سے نکاح سے اعراض کرتے ہو ، تو پھر ان یتیم لڑکیوں کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دو ۔ اور اگر وہ تمہارے لیے قبول صورت ہیں تو پھر ان سے نکاح کرکے ان کے مہر وغیرہ کے حقوق بھی پوررے کرو۔ یتیم لڑکیوں سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت کے مطابق انہی عورتوں میں تیم لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوتی تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمادیا۔
کمزور طبقات کے ساتھ انصاف
عورتوں کے ساتھ مذکورہ زیادتی کے علاوہ دیگر کمزور طبقات کے ساتھ بھی انصاف کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا مفصل بیان بھی سورة کی ابتداء میں آچکا ہے۔ جو کہ یہاں پر اشارتاً دہرایا جارہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے والمستضعفین من الولدان کمزور اور یتیم بچوں کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ان کی پرورش نیک نیتی سے کرو اور ان کے مال کی حفاظت کرو ، جیسا کہ ابتدائے سورة میں مفصل احکام نازل کیے جاچکے ہیں۔ یتیم بچوں کے ساتھ بھی دو طرح کی زیادتی ہوتی تھی ۔ ایک تو انہیں وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا اور اگر ان کے حصے میں کچھ مال آجائے تو بچے کے سر پرست حیلے بہانے سے وہ مال ہضم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ یتیم کا مال کھانا اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھرنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کی سختی سے پابندی کرو ، یتیموں کو وراثت میں حصہ دو اور ان کے مال کی حفاظت بھی کرو۔ نیز یہ وان تقومواللیتمی بالقسط یتیموں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قائم رہو ، ان آیات کا مرکزی مضمون یہی ہے کہ کمزور طبقات کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ عورتیں ، چھوٹے بچے یتیم لڑکے اور لڑکیاں سب ضعفا میں شمارہوتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا یہ حکم مسلمانوں کے ہر صاحب اقتدار طبقہ کے لیے ہے خواہ وہ خاندان یا قبیلے کا سربراہ ہو یا وقت کا حاکم ، جو بھی کسی معاملہ میں صاحب اختیار ہے ، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ کمزور طبقات کے معاملات میں انصاف کی بالادستی کو قائم رکھے۔ ظاہر ہے کہ اگر ان طبقوں کے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے تو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی انصاف بطریق اولیٰ ہوگا۔ اور اگر کمزور طبقے ظلم کی چکی میں پس گئے تو دوسروں کے ساتھ بھی انصاف کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ لہٰذا کمزور طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کی بطور خاص تاکید کی گئی ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) اپنی کتاب 1 ؎
غنیۃ الطالبین ص 142 ج 1 مطبوعہ مصر (فیاض)
غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں کہ عدل و انصاف کا قیام تقویٰ کی علامت ہے اور تقویٰ کا خلاصہ اور لب لباب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے ان اللہ یامر بالعدل والاحسان وایتای ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی (سورۃ نحل) بیشک اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا۔ اور قرابت داروں کے حق ادا کرنے کا ، اور منع کرتا ہے بےحیائی اور سرکشی سے فرماتے ہیں ، تقویٰ کا لب لباب اور مرکزی نقطہ عدل ہے۔ جس قوم میں عدل نہیں وہ فاسق قوم ہے ، جس سوسائٹی میں خلاف شرع اور خلاف عقل باتیں رائج ہیں وہ گندی سوسائٹی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یتیموں کے ساتھ عدل قائم کرو ، ان کا مال تلف نہ کرو ، ان کے حقوق ادا کرو۔ عدل ، طہارت ، خشوع و خضوع ، اخبات اور فیاضی مسلمان کا ورثہ ہیں ، انہیں کوئی مسلمان ضائع نہیں کرتا۔
حرف آخر نیک نیتی
حضور ﷺ کے مخلص صحابہ ؓ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل بسر وچشم کرتے تھے۔ جب یتیم لڑکیوں کے متعلق آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کرام ؓ کو خیال ہوا کہ اتنے سخت احکام کا مطلب یہ ہے کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا ہی نہیں چاہیے مبادا کہ ان کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ یہ خیال درست نہیں ہے۔ بطورسرپرست تمہیں خود بھی نکاح کرنے کی اجازت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تمہیں انصاف کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔ بعض اوقات حالات اس قسم کا رخ اختیار کریتے ہیں کہ اگر یتیم لڑکی کا نکاح کسی دوسری جگہ کردیا تو اس بےچاری کو تکلیف پہنچنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ایسی صورت میں تم خود نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ اس کا مہر پورا ادا کرو ، اور اس کے مال کی حفاظت کرو۔ اور اس کا دارومدار تمہاری نیت پر ہے۔ وما تفعلوا من خیر فان اللہ کان بہ علیماً اگر تم بھلائی کا ارادہ رکھتے ہو۔ تو اللہ تعالیٰ اس سے خوب واقف ہے۔ اگر تم خود نیک نیتی کے ساتھ نکاح پر آمادہ ہو تو ایسا کرلو …………… اور ان کے حقوق کا خیال رکھو۔ اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یتیم لڑکی کا فائدہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے۔ تو پھر وہاں نکاح کردو۔ اس کو بلاوجہ نکاح سے نہ روکو اور نہ ہی اس کے مال میں ناجائز تصرف کرو۔ فرمایا تم اس معاملہ میں جو بھی فیصلہ کرو نیک نیتی کے ساتھ کرو ، اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ اس کا علم ذرے ذرے پر محیط ہے۔ اگر تمہارا ارادہ بھلائی کا ہے تو عنداللہ ماجور ہوگے اور اگر نیت میں فتور ہے ، تو پھر انصاف نہیں ہوسکتا اور اللہ تعالیٰ ناانصافی کی سزا ضرور دے گا۔