4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 4:136–137

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر۔ اور اس کتاب پر جس کو اس نے نازل کیا ہے اپنے رسول پر اور ہر اس کتاب پر جس کو نازل کیا ہے اس نے اس سے پہلے۔ اور جو شخص کفر کریگا اللہ کے ساتھ ، اس کے فرشتوں کے ساتھ۔ اس کی کتابوں کے ساتھ ، اس کے رسولوں کے ساتھ۔ اور قیامت کے دن کے ساتھ ، پس بیشک وہ گمراہ ہوا ، اور گمراہی میں دور جا پڑا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور پھر انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ، پھر ایمان لائے ، پھر انہوں نے کفر کیا ، پھر کفر میں بڑھتے گئے ، نہیں ہے اللہ تعالیٰ ایسا کہ ان کو بخش دے۔ اور نہ ان کی راہنمائی کریگا (سیدھے) راستے کی طرف

ربط آیات گزشتہ درس میں ان صاف پر قائم رہنے کی تلقین کی گئی تھی کیونکہ یہ ایک اہم اصول ہی پھر اللہ نے فرمایا کہ گواہی اللہ کیلئے دو خواہ وہ خود تمہاری ذات کے خلاف ہو یا تمہارے والدین یا اقربا کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو اور زبان کو توڑ موڑ کر شہادت کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرو اور نہ ہی گواہی دینے سے اعراض کرو ، بلکہ ہر حالت میں عدل و انصاف کو قائم رکھو۔ انصاف کے بغیر دنیا میں امن و چین نصیب نہیں ہوسکتا۔ اگر عدل نہیں ہوگا تو ظلم و زیادتی کی حکمرانی ہوگی اور انسان خرابی اور بربادی میں مبتلا رہیں گے۔ انصاف ایک بنیادی اصول ہے جسے اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ اب آج کی آیات میں وہ اصل الاصول بیان کیے گئے ہیں جن پر دین ، شریعت اور اخلاق کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان بنیادی اصولوں پرکاربند ہونے کی تلقین کی ہے۔ مومنین سے خطاب ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا امنوا باللہ اے ایمان والو اللہ پر ایمان لاؤ ۔ یہاں پر امنوا اور امنوا دو لفظ اکٹھے ہیں اور یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایمان والوں کو خطاب کر کے پھر انہی سے ایمان لانے کا مطالبہ کیے جا رہا ہے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ امنوا سے عام مومنین مراد ہیں ، خواہ وہ مخلص ہوں یا غیر مخلص اور امنوا کا حکم صرف غیر مخلص مومنوں سے ہے جو ابھی تک اپنے ایمان میں خلوص پیدا نہیں کرسکے بلکہ ڈانوں ڈول ہیں ۔ کبھی ایمان کی طرف مائل ہوتے ہیں اور کبھی کفر کی طرف۔ منافقین جو محض زبان سے ایمان کے دعویدار ہیں اور دل میں ایمان کیخلاف بغاوت ہے اور جس کے نتیجے میں اسلام کے خلاف ظاہری اور باطنی تدبیریں کرتے رہتے ہیں ، وہ بھی اس خطاب کے مخاطبین ہیں اور انہیں حکم دیا جا رہا ہے کہ گومگو کی کیفیت کو چھوڑ کر ایمان کو مکمل طور پر اختیار کرلو۔ اور اس خطاب کی دوسری توجیہہ یہ ہو سکتی ہے کہ یہ خطاب عہد الست کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازل میں پورے عالم ارواح سے دریافت کیا تھا ” الست بربکم “ کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ تو سب نے بیک زبان جواب دیا تھا ” قالوا بلیٰ “ مولا کریم ! کیوں نہیں ، تو ہی ہمارا رب ہے۔ تو اب اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو یہ عہد یاد دلایا ہے کہ جب ازل میں تم مجھ پر ایمان لا چکے ہو تو اب اس مادی جہاں میں پہنچ کر بھی مجھ پر دل و جان سے ایمان لاؤ تاکہ اس ایمان کا صحیح نتیجہ مرتب ہو سکے۔ ایمان پر مداومت تاہم عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ اس خطاب کے مخاطبین میں تمام اہل ایمان شامل ہیں اور امنوا کا مطلب یہ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لاچکے ہو ، اس ایمان پر مداومت اختیار کر۔ اور اس میں کسی قسم کا خلل نہ آنے دو ۔ ظاہر ہے کہ ایمان لانے کے بعد جب کوئی شخص ، کفر ، شرک ، نفاق یا الحاد کی کوئی بات کرتا ہے تو اس کے ایمان میں خلل آتا ہے۔ اسی خلل کو دور کرنے کے سلسلہ میں حضور ﷺ کا امت کے نام فرمان ہے جددوا ایمانکم بقول لا الہ الا اللہ یعنی کلمہ طیبہ کا اعادہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کرلیا کرو۔ اسی کلمہ کو حضور ﷺ نے افضل الذکر بھی فرمایا ہے کہ یہ تجدید ایمان کا ذریعہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص غیر اللہ کے نام کی قسم اٹھائے فلیقل لا الہ الا اللہ اسے فوراً لا الہ الا اللہ کہہ کر اپنی غلطی کا تدارک اور ایمان کی تجدید کر لینی چاہئے۔ ایمان میں اکثر خرابی آتی رہتی ہے کافر ، مشرک تو ویسے ہی ایمان سے خالی ہیں ، مگر ایمان کے دعویداروں میں سے بھی ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو ایمان کے ساتھ صحیح طور پر متصف ہے ، وگرنہ اکثریت کے ایمان میں خلل موجود ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تاکیداً فرمایا کہ اے ایمان والو ، ایمان لاؤ یعنی اپنے ایمان میں اخلاص پیدا کرو اس سے خلل کو دور کرو اور اس پر مداومت اختیار کرو۔ ایمان باللہ انسانوں کی اصلاح کے بنیادی اصولوں میں سے سب سے اہم اصول ایمان ہے اور پھر ایمان کی جزئیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کی تشریح بیان کی ہے۔ سب سے پہلے فرمایا امنوا باللہ ایمان پر ایمان لاؤ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لاؤ ۔ اور ذات کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی صفات بھی ہیں۔ صفات پر ایمان لانا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا ذات پر ایمان لانا چناچہ ایمان کے متعلق بچوں بڑوں سب کو پڑھایا جاتا ہے امنت باللہ کما ھو باسمائہ وصفاتہ یعنی میں ایمان لایا اللہ کے ساتھ جیسا کہ اس کے اسمائے پاک ہیں اور جن صفات کے ساتھ وہ متصف ہے ، میں ان سب پر ایمان لایا۔ اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب شیطان تمہارے دل میں وسوسہ اندازی کرے اور تمہارے ایمان میں خلل اندازی کا خطرہ ہو تو فوراً کہہ دیا کرو امنت باللہ یعنی میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کو تو مانتا ہے مگر اسے صفات سے عاری تسلیم کرتا ہے جیسے فرقہ معتزلہ میں سے معطلہ فرقہ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کا منکر بھی اسی طرح کافر ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر۔ اللہ تعالیٰ کمال صفات کا مالک ہے ، وہ تمام صفات حسنہ کے ساتھ متصف ہے۔ اللہ کا ذاتی نام تو ایک ہی ہے اور رحمان ، رحیم کریم ، قدوس ، جبار ، وہاب وغیرہ اس کے صفاتی نام ہیں جو اس کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور ہر صفت کسی نہ کسی تجلی کی مظہر ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح اس کی صفات پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ ایمان بالرسول فرمایا ایمان لاؤ اللہ پر ورسولہ اور اس کے رسول پر علم عقاید میں رسول کی تعریف یہ کی گئی ہے بعثہ اللہ لتبلیغ الاحکام الی الناس یعنی رسول وہ انسان ہوتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ شریعت کے احکام پہنچانے کے لیے لوگوں کی طرف مبعوث کرتا ہے۔ رسول ایک لحاظ سے عام ہے اور ایک لحاظ سے خاص۔ عام اس طرح کہ انسانوں کے علاوہ فرشتے بھی رسول ہوتے ہیں جیسے فرمایا ” اللہ یصطفی من الملکۃ رسلاً و من الناس “ (سورۃ حج) اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے رسول منتخب فرماتا ہے۔ رسول کی خصوصیت اس لحاظ سے ہے کہ وہ نبی کے مقابلہ میں خاص ہوتا ہے۔ ہر انسان جس پر اللہ کی جانب سے وحی نازل ہوتی ہے ، وہ نبی ہوتا ہے اور معصوم ہوتا ہے۔ البتہ رسول وہ ہوتا ہے جس پر وحی تو بہرحال نازل ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ اسے کتاب یا مستقل شریعت بھی دی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت ابوذر غفاری ؓ کی روایت اگرچہ کچھ کمزور ہے تاہم قابل لحاظ ہے آپ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) سے پوچھا ، حضور ! پہلا نبی کون تھا تو آپ نے فرمایا پہلے نبی آدم (علیہ السلام) تھے۔ پھر عرض کیا ، کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ، آپ نے فرمایا نبی مکلم ہاں نبی تھے۔ اللہ نے ان سے کلام کیا ، ان پر وحی نازل فرمائی اور سب سے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں جن کے متعلق فرمایا ولکن رسول اللہ و خاتم النبین یعنی آپ اللہ کے رسول اور سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چونتیس ہزار نبی اور رسول دنیا میں آئے ، جن میں سے تین سو پندرہ رسول اور باقی سب نبی تھے۔ جیسا کہ عرض کیا نبی کے لیے مستقل شریعت کا ہونا ضروری نہیں بلکہ وہ پہلے سے نازل شدہ شریعت کی ہی تبلیغ کرتا ہے۔ انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہزاروں ایسے گزرے ہیں جو صرف تورات کی تبلیغ کرتے رہے ، وہ کوئی نئی شریعت نہیں لائے تھے۔ جسے نئی شریعت کتاب یا صحیفہ ملتا ہے ، وہ رسول کہلاتا ہے۔ ایمان بالکتاب فرمایا ایمان لاؤ اللہ پر ، اس کے رسول پر والکتب الذی نزل علی رسولہ اور اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جسے اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا۔ الکتب سے مراد جنسِ کتاب ہے اور مقصد یہ ہے کہ جتنی بھی کتابیں نازل ہوئی ہیں سب پر ایمان لاؤ ۔ مفسرین کرام امام شافعی (رح) کا قول نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک سو چار کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے جن میں سے چار عظیم کتابیں تورات ، زبور ، انجیل اور قرآن ہیں اور باقی صحیفے ہیں ، ان میں سے اتنالیس صحیفے موجودہ بائبل میں شامل ہیں۔ بہرحال صحائف میں حضرت یونس (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہم کے صحیفے ہیں۔ جن میں کچھ صحیح اور کچھ غلط ہیں کیونکہ اہل کتاب کہلانے والوں نے ان میں تغیر و تبدل کردیا ہے۔ غرضیکہ کتاب پر ایمان لانے سے مراد تمام کتب سماویہ پر ایمان لانا ہے۔ والکتب الذی انزل من قبل سے مراد قرآن پاک سے پہلے نازل ہونے والی تمام کتب اور صحائف ہیں۔ کفر اور اس کا صلہ اب آگے ایمان کے مقابلہ میں کفر کی جزئیات اور اس کے صلہ کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ومن یکفر باللہ جو انکار کرتا ہے اللہ کا۔ یعنی جو شخص اللہ کی ذات اور اس کی صفات پر ایمان نہیں لاتا اس کا صلہ اور نتیجہ آخر میں بیان ہوگا۔ اللہ کی صفت میں اس کی مقرر کی ہوئی تقدیر بھی ہے۔ ” الذی خلق فسوی والذی قدر فہدی “ تقدیر کو مقدر کرنے والاخود اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہوچکا ہے ہو رہا ہے اور آئندہ ہوگا ، سب اللہ تعالیٰ کے حکم ، ارادے اور مشیت سے ہو رہا ہے۔ جو تقدیر کا منکر ہے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔ پرویز جیسا منکر تقدیر ایمان سے خالی ہے کیونکہ اس نے اللہ کی صفت کا انکار کیا ہے۔ انکار ملائکہ فرمایا جو انکار کرتا ہے اللہ کا و ملئکتہ اور اس کے فرشتوں کا فرشتوں کا انکار کرنا بھی ایمان کے منافی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی پیدائش سے لاکھوں ، کروڑوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو پیدا کیا۔ یہ ایک لطیف مخلوق ہے اور بنی نوع انسان کی مصلحت فرشتوں پر موقوف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات حد درجہ بلند وبالا ہے اس نے اپنا فیض انسانوں تک پہنچانے کے لیے فرشتوں کو مقرر کیا ہے۔ اللہ کا پیغام فرشتے ہی بنی نوع انسان تک پہنچاتے رہتے ہیں۔ جو شخص فرشتوں کے وجود کا انکار کرتا ہے۔ وہ بھی ایماندار نہیں۔ پرویز اور مشرقی وغیرہ منکرینِ ملائکہ میں سے ہیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ انسان کی اچھی صفت کا نام ملائکہ اور غضبی قوت کا نام شیطان ہے۔ اس قسم کی ملحدانہ تاویلیں انکار ملائکہ پر مبنی ہیں اور ایسے شخص کے کفر پر دلالت کرتی ہیں۔ فرشتے اللہ کی لطیف مخلوق ہیں ، ان کے اجسام ہیں جن میں روحیں ہیں ، ان میں ادراک کا مادہ پایا جاتا ہے۔ اور ان کو بالفعل کمال حاصل ہے۔ اسی طرح شیطان کا بھی وجود ہے ان میں سے ہر ایک کا جسم اور روح ہے ، وہ بھی ادراک و شعور رکھتے ہیں۔ ان کا ذکر قرآن پاک میں صراحتاً موجود ہے۔ لہٰذا ان کے انکار پر مبنی تاویلیں کرنے والا ملحد اور کافر شمار ہوگا۔ انکارِ کتب فرمایا جو انکار کرتا ہے اللہ کا ، اس کے فرشتوں کا وکتبہ اور اس کی کتابوں کا۔ ایمان کے سلسلے میں کتاب واحد کا صیغہ استعمال کیا گیا تھا ، آب کتب میں جمع کا صیغہ ہے۔ اور مقصد یہ ہے کہ جتنی بھی آسمانی کتابیں ہیں ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے ، سورة بقرہ میں آ چکا ہے ” وما اوتی النبیون من ربہم “ اس کتاب پر ایمان لانا ضروری ہے جو نبی آخر الزمان پر نازل ہوئی اور جو اس سے پہلے دیگر انبیائے کرام لے کر آئے تمام کتاب سماویہ برحق ہیں ، اللہ نے انسانوں کی راہنمائی کے لیے نازل فرمائیں اور ہمارا ان سب پر ایمان ہے اور ایمان صرف اس چیز پر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اور انجیل کی صورت میں نازل فرمایا یا دوسرے انبیا پر جو کچھ نازل کیا۔ بعد میں اہل کتاب نے جو تحریف کردی ہے ، اس پر ہمارا ایمان نہیں۔ تحریف کو خود عیسائیوں نے ان الفاظ میں تسلیم کیا ہے کہ انجیل میں ہزاروں غلطیاں موجود ہیں۔ انہوں نے قرآن پاک کا انکار کرکے کفر کا ارتکاب کیا بعض کافر اور مشرک بھی کہتے تھے ” ما انزل اللہ علی بشرٍ من شیئٍ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ وہ لوگ تمام کتب سماویہ کا انکار کرتے تھے ، تو فرمایا جس نے کتابوں کا انکار کیا۔ انکار رُسل فرمایا ورسلہ جس نے اللہ کے رسولوں کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ انبیا اور رسل کو انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مبعوث فرماتا ہے۔ ان کی تصدیق کرنا اور ان پر ایمان ضروری ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ ان میں سے کسی ایک رسول کا انکار تمام کے انکار کے برابر ہے۔ اللہ کے نبی اور رسول اس کے منتخب اور برگزیدہ انسان ہیں۔ اس نے وحی نازل فرمائی اور انہیں انسانوں کی راہنمائی پر مامور کیا۔ ان سب پر ایمان لانا ضروری ہے۔ نصاریٰ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی نبوت و رسالت کا انکار کر کے کافر ہوئے اور یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان نہ لانے کی وجہ سے کفر کے مرتکب ہوئے۔ وہ تو صرف ان انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔ جن کا ذکر تورات میں موجود ہے ، لہٰذا وہ بھی منکرین کی صف میں شامل ہوئے ۔ انکار قیامت پانچویں نمبر پر فرمایا والیوم الاخر جس نے آخرت کے دن یعنی قیامت کا انکار کیا ، وہ بھی منکرین کے گروہ میں شامل ہوگیا آخرت پر ایمان لانا بھی جزو ایمان ہے۔ اس کے بغیر انسان مومن نہیں ہو سکتا بلکہ کافر ہی رہے گا اگرچہ وہ باقی چیزوں پر ایمان لے آئے۔ قیامت کا دن جزائے عمل کا دن ہے۔ اس دنیا میں کیے گئے ہر کام کی جزا یا سزا کے لیے ایک دن مقرر ہے۔ اگر اس کا انکار کردیا جائے تو دین کی ساری عمارت ہی منہدم ہوجاتی ہے۔ جزا و سزا کا تصور ہی انسان کو احکام الٰہی پر عمل کی ترغیب دیتا ہے جب اسی پر ایمان ختم ہوگیا تو اوامرو نواہی کا تمام تصور ختم ہوگیا ، لہٰذا قیامت پر ایمان لانا بھی ضروری ٹھہرا۔ الغرض ! یہاں پر تمام اجزائے ایمان کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا جس نے کفر کیا اللہ کے ساتھ ، اس کے فرشتوں کے ساتھ اس کی کتابوں اور رسولوں کے ساتھ اور جس نے قیامت کے دن کا انکار کیا فقد ضل ضلا ابعیدا وہ شخص گمراہ ہوگیا اور گمراہی میں دور جا پڑا۔ مطلب یہ کہ ایمانیات کا انکار کرنے والے کا صلہ یہ نکلا کہ وہ اصل راستے سے بھٹک کر دور چلا گیا۔ مرتدین کا کردار اگلی آیت میں بار بار ایمان لانے اور بار بار کفر کرنے کا بیان ہے۔ بغض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت اعتقادی منافقوں کے متعلق ہے اور بعض دوسرے فرماتے ہیں کہ یہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی تاہم بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت عام ہے اور اس مرتد پر صادق آتی ہے جو ایک دفعہ ایمان لانے کے بعد ہمیشہ کے لیے مرتد ہوجائے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین امنوا بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے ثم کفروا پھر انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ، جیسا کہ منافقین یا اہل کتاب کاشیوہ ہے۔ اہل کتاب حضرات عیسیٰ اور موسیٰ (علیہم السلام) لائے مگر جب حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کا زمانہ پایا تو صاف انکار کر گئے۔ یہ لوگ کافر ہی رہیں گے فرمایا ثم امنوا پھر ایمان لائے ثم کفروا پھر انکار کر گئے یعنی ایک دفعہ ایمان لانے کے بعد کسی نے کفر کیا مگر پھر ایمان لے آیا تو اس کی توبہ قبول ہے لیکن جو مستقل طور پر مرتد ہوگیا ثم اندادوا کفراً پھر وہ کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ وہ خذلان کا شکار ہوگئے۔ ایسے لوگ ایمان سے کھیلتے رہتے ہیں اور آخر کار ہمیشہ کے لیے محروم ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا لم یکن اللہ لیغفرلہم اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو معاف نہیں فرماتا کیونکہ وہ کفر پر پختہ ہوجاتے ہیں۔ توبۃ العبد مالم یغرغر سچی تو بہت نزع کی حالت سے پہلے پہلے قبول ہے ، اور معاف فرما دیتا ہے۔ مگر جو لوگ کفر میں اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ ان کی واپسی کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا ، ان کے متعلق فرمایا کہ ان کی معافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ولا لیھدیہم سبیلاً اور نہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے وہ ہدایت کے طالب ہی نہیں ہوتے۔ وہ کسی خود غرضی یا کسی کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے ایمان لاتے ہیں مگر جب اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر کفر کا راستہ پکڑ لیتے ہیں اور اس طرح دائمی محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں اب اگلی آیت میں اعتقادی منافقوں کے متعلق بعض تفصیلات بیان ہوں گی۔
Ayahs 4:138–141

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

آپ منافقوں کو خوشخبری سنا دیں کہ بیشک ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

وہ (منافق) جو بناتے ہیں۔ کافروں کو اپنا ساتھی مومنوں کے سوا ، کیا یہ تلاش کرتے ہیں ان کے پاس عزت ، پس بیشک عزت اللہ ہی کے لئے ہے سب کی سب

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور تحقیق اتارا ہے اس نے تم پر کتاب میں (یہ حکم) کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا جاتا ہے اور ٹھٹا کیا جاتا ہے ، پس نہ بیٹھو ان کے ساتھ یہاں تک کہ وہ گھس جائیں ، اس کے علاوہ کسی دوسری بات میں ، بیشک تم اس وقت ان جیسے ہوگے تحقیق اللہ تعالیٰ اکٹھا کرنیوالا ہے منافقوں اور کافروں کو جہنم میں سب کو

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

وہ جو انتظار کرتے ہیں تمہارے بارے میں اور اگر تم کو فتح نصیب ہو اللہ کی جانب سے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھی نہیں تھے ؟ اور اگر کافروں کا حصہ ہو ، تو کہتے ہیں کیا ہم نہیں غالب آگئے تھے تم پر اور کیا ہم نے نہیں حفاظت کی تمہاری مومنوں سے پس اللہ تعالیٰ ہی فیصلہ کرے گا ان کے درمیان قیامت کے دن اور ہرگز نہیں بنایا اللہ نے کافروں کے لئے مومنوں پر کوئی راستہ

ربط آیات : گزشتہ درس میں ایمان کی تفصیلات بیان ہوئی تھیں۔ اللہ نے ان اجزائے ایمان کا ذکر کیا جن پر ایمان لانا اور دل سے ان کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مرتدین کا ذکر کیا ، جو ایمان لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ بعض لوگ بار بار ایمان لاتے اور بار بار پھرجاتے ہیں ، ایسے لوگ اکثر محروم رہتے ہیں ان کی لغزشیں معاف نہیں ہوتیں اور نہ ہی صحیح راستہ ملتا ہے ویسے اسلامی حکومت میں مرتد کے لئے حکم یہ ہے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے ، علماء کو جمع کرکے اگر کوئی غلط فہمی ہے تو اسے دور کیا جائے ، اگر وہ مان جائے تو اس سے توبہ کرا کے دوبارہ اسلام میں داخل کیا جائے اور اگر اس کے باوجود ایمان لانے پر آمادہ نہ ہو ، تو ایسے غدار ملت کے لئے سزائے موت واجب ہوجاتی ہے۔ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں ایسے کئی کیس آئے جن میں سزائے موت دی گئی۔ مرتدین کے بعد آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کا تذکرہ فرمایا ہے۔ منافقوں کی دو قسمیں ہیں یعنی اعتقادی منافق اور عملی منافق۔ اعتقادی منافق وہ ہوتا ہے جو زبان سے ایمان کا اقرار کرے مگر دل کفر سے لبریز ہو ، اعتقادی منافق کافروں کی بدترین قسم ہے۔ حقیقت میں یہ کافر ہی ہوتے ہیں۔ مگر انہیں منافق اس لئے کہتے ہیں کہ یہ زبان سے اقرار ایمان کرتے ہیں۔ منافقوں کے ساتھ سلوک بھی کفار سے مختلف ہوتا ہے۔ کفار کے ساتھ تو علی الاعلان جہاد کا حکم ہے مگر منافق چونکہ بظاہر کلمہ گو ہوتے ہیں لہذا ان کے متعلق حکم ہے واعلظ علیھم یعنی ان پر زبانی طور پر سختی کی جائے تاکہ لوگ ان سے محتاط ہوجائیں ، یہ لوگ ریشہ دوانیاں کرتے ہیں اور دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ، بہرحال آج کے درس میں اللہ نے انہی منافقوں کا ذکر کیا ہے۔ ان کی کارگزاری بیان کرکے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے اور پھر ان کے انجام کا تذکرہ کیا ہے۔ منافقوں کے لئے بشارت ارشاد ہوتا ہے۔ بشر المنفقین منافقوں کو بشارت سنا دیجئے ، بشارت کا معنی عام طور پر خوشخبری ہوتا ہے اور یہ خوشی کے موقع پر دی جاتی ہے مگر یہاں پر تو عذاب الیم کی خبر دی جارہی ہے۔ بشارت کا لفظ یہاں خاص طور پر منافقوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر بشارت کا لفظ بطور تحکم استعمال ہوا ہے۔ چونکہ منافق بدترین قسم کے لوگ ہوتے ہیں انہیں استہزاء کی شکل میں خطاب کیا گیا ہے۔ کہ ذرا نہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں بشارت کا معنی روایتی خوشخبری نہیں بلکہ محض خبر ہے اور مراد یہ ہے کہ ان منافقین کو خبردار کردیا جائے کہ وہ بدترین انجام سے دوچار ہونے والے ہیں۔ چناچہ فرمایا ، کہ منافقین کو خوشخبری دے دیجئے۔ بان لھم عذابا ایما کہ ان کیلئے دردناک عذاب تیار ہے ، انہیں ان کے نفاق کا بدلہ مل کر رہے گا۔ کفار کی درستی فرمایا منافقین وہ لوگ ہیں الذین یستخدون الکفرین اولیآء من دون المومنین جو مومنوں کے علاوہ کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں منافقوں کا کام یہی ہوتا ہے کہ کبھی ادھر سازباز کی کبھی ادھر ، کبھی ایک رخ اختیار کیا کبھی دوسرا رخ ، ادھر کی بات ادھر چلا دی ، ان کی کارگزاری ایسی ہی ہے۔ حالانکہ دوستی تو ہمیشہ ۔۔۔۔۔۔ مومنوں کے ساتھ ہونی چاہئے۔ ایک مومن کی دوستی کافر اور منافق کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ دونوں کا نصب العین مختلف ہے ان کی منزل مقصود جدا جدا ہے۔ اس مسئلے کو اللہ تعالیٰ نے سورة آل عمران میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اہل ایمان منافقوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور رواداری سے تو پیش آسکتے ہیں مگر ان کے ساتھ دلی دوستی نہیں کرسکتے۔ اگر ایسا کریں گے تو ان کے اپنے ایمان میں خلل واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ مومنوں کے علاوہ منافقوں کو دوست نہ بنائو۔ عزت کی تلاش فرمایا ایبتغون عندھم العزۃ اے گروہ منافقین ! کیا تم کفار کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہو ، عزت کا معنی قوت اور غلبہ ہوتا ہے۔ عزیز اللہ تعالیی کی صفت ہے ، جس کا معنی قوت والا اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ عربی مقولہ ہے من عزیز جو غالب ہوتا ہے وہ دوسرے پر چھا جاتا ہے۔ الغرض ! منافقوں کو فرمایا کیا تم کافروں کے ہاں عزت چاہتے ہو ، بلکہ حقیقت حال یہ ہے فان العزۃ للہ جمیعا ساری کی ساری عزت تو اللہ کے پاس ہے۔ العزیز تو خدا تعالیٰ ہے۔ تم عزت کی تلاش میں کہاں مارے مارے پھرتے ہو ، اللہ تعالیٰ خود بندے کی زبان سے کہلاتے ہیں وتعزمن نشآء وتزل من تشآئ۔ اے مولا کریم ! تو ہی جسے چاہے عزت دے دے اور جسے چاہے ذلیل و خوار کردے۔ المعز والمذل بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں۔ وہ جسے چاہے غلبہ عطا کردے اور جسے چاہے مغلوب کرکے رسوا کردے۔ تو فرمایا عزت حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اس کے رسول کے لئے اور پھر اہل ایمان کے لئے ہے۔ عزت ایمان اور نیکی کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے مگر منافق اس کی تلاش میں کافروں سے دوستی کرتے ہیں ، انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اہل باطل کی مجلس فرمایا منافقین اپنے مذموم مقصد کے حصول کے لئے اہل باطل کی مجلس میں جاتے ہیں اور ان کی خوشامد کرتے ہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے۔ وقد نزل علیکم فی الکتب کہ اس نے کتاب یعنی قرآن پاک میں تمہارے لئے یہ حکم نازل فرمایا ہے۔ ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا کہ جب تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر اور استہزا کو سنو۔ فلا تقعدوا معھم تو ان لوگوں کے پاس مت بیٹھو۔ حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب کفار کی مجلس میں آیات الٰہی اور شعائر دین کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ ٹھٹا کیا جارہا ہو تو ایسی مجلس میں ہرگز نہ بیٹھو کہ یہ غیرت اسلامی کے خلاف ہے اور اگر وہاں دین پر طعن وتشنیع کرنے کی بجائے کوئی دوسری بات ہورہی ہو تو پھر تمہیں وہاں بیٹھنے کی اجازت ہے۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اہل باطل کی مجلس میں جانے کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر ایسی مجلس میں احکام الٰہی اور آیات اللہ کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور وہاں بیٹھنے والا اس کو پسند کررہا ہے تو وہ بھی کافر ہوگیا اور اگر وہ شخص دین کی توہین کو دل سے تو پسند نہیں کرتا مگر وہاں پر بلاوجہ بیٹھا بھی رہتا ہے تو وہ فاسق ہے۔ البتہ اگر وہ کسی مقصد کی خاطر وہاں بیٹھا ہے۔ مجبور ہے ، مگر دل سے توہین آمیز باتوں کو برا سمجھتا ہے تو ایسی صورت میں اس کا بیٹھنا مباح ہے اور چوتھی صورت یہ ہے کہ بیٹھنے والا شخص اس نیت سے ایسی مجلس میں بیٹھا ہے کہ دین کے حق میں تبلیغ کرے تو پھر اس کا بیٹھنا عبادت میں شمار ہوگا۔ بہرحال فرمایا کہ کافروں کے پاس بلاوجہ مت بیٹھو ، کیونکہ اگر ایسا کروگے۔ انکم اذ مثلھم تو تم بھی انہی کی طرح ہوجائوگے۔ وہ قرآن پاک اور اللہ کے نبی کا استہزا کرتے ہیں اور تم ان کی مجلس میں شریک ہوتے ہو تو تم بھی ان کی طرح سخت گنہگار ہوگے ، حالانکہ مومن کیلئے حضور ﷺ کا فرمان ہے من کان یومن باللہ والیوم الاخر ولا یجلس علی مائدۃ یدار علیھا الخیر جو شخص اللہ پر اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے اسے ایسی جگہ بیٹھنا درست نہیں جہاں شراب کا دور چل رہا ہے اگرچہ یہ خود نہیں پیتا مگر شرابیوں کی مجلس میں بیٹھنے سے بھی منع فرمادیا۔ مقصد یہ کہ جہاں برائی کا کام ہورہا ہو ، اس کے قریب نہیں جانا چاہئے۔ اس لئے اہل باطل کی مجالس میں بلاوجہ جانے کا حکم نہیں ہے۔ اسلام کے ساتھ استہزاء باطل قوتیں اسلام کے ساتھ استہزاء کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ جہاں اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹا ہورہا ہو ، مومن کی شان نہیں ہے کہ وہاں جائے مگر اب تو ایسی مجلسوں میں جانا فیشن بن چکا ہے۔ کفار خصوصاً یہود ، ہنود اور نصاریٰ نے اسلام کی تذلیل کے لئے کئی طریقے نکالے ہیں۔ خاص طور پر یہودی اس معاملہ میں بہت آگے ہیں۔ تقریباً پانچ سال پہلے اخبارات میں یہ خبر چھپی تھی کہ یورپ کی منڈیوں میں عورتوں کے لئے ایسے انڈرویر (زیرجامہ) موجود ہیں جن پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہے۔ بعض خبیثوں نے ایسی قمیضیں تیار کیں جن کے پچھلے حصے پر آیت الکرسی لکھی ہوئی ہے اور جب آدمی بیٹھتا ہے تو آیت الکرسی والا حصہ نیچے آجاتا ہے یہ یہودیوں کی سازش ہے تاکہ اہل ایمان کو اذیت پہنچے۔ گزشتہ دنوں ایسی ماچس تیار کی گئی جس پر کلمہ طبع تھا۔ لوگ ماچس استعمال کرکے ڈبیہ پھینک دیتے اور اس طرح کلمہ طیبہ کی توہین ہوتی۔ شکیب ارسلان مرحوم نے اپنی کتاب حاضر العالم الاسلامی میں لکھا ہے کہ گزشتہ صدیوں کے دوران انگریزوں اور امریکیوں نے اسلام کے خلاف چھ لاکھ کتابیں شائع کیں۔ شکیب ارسلان جرمن میں مقیم تھا ، وہ یورپ کے حالات سے واقف تھا ، اور ان کے خلاف لکھتا رہتا تھا۔ انگریز کا سخت مخالف تھا ، جلاوطن بھی رہا ، ترکوں کے زمانے میں ہسپتالوں کا انچارج تھا۔ جنگ عظیم میں شکست کے بعد یورپ میں پھرتا رہا ، بڑا جاگیردار تھا مگر مسلمان ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار رہا۔ مسلمانوں کی ایذا رسائی کے لئے ایک انگریز نے اپنے کتے کا نام احمد رکھا۔ دنیا بھی میں احتجاج ہوا تو اس نے معذرت کرلی کہ اسے علم نہیں تھا ، غلطی سے ایسا ہوا۔ اسی طرح ایک یہودی نے حضرت علی ؓ کے متعلق (العیاذ باللہ) لنگور کا لفظ استعمال کیا تھا۔ یہ سب اسلام اور مسلمانوں کے استہزا کے طریقے ہیں جو اغیار استعمال کرتے رہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ، یاد رکھو ! ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا۔ اللہ تعالیٰ ان منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔ اعتقادی منافقوں کا ٹھکانا لازماً جہنم ہے۔ ان کے دل ایمان سے خالی ہیں اور ان کا گٹھ جوڑ کفار کے ساتھ ہے۔ دوغلی پالیسی ان منافقین کی خباثتوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا الذین یتربصون بکم یہ لوگ تمہارے بارے میں گردشوں کا انتظار کرتے ہیں فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم تکن معکم اگر تمہیں فتح حاصل ہوجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تو فوراً بول اٹھتے ہیں ، کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے۔ یعنی ہم تو تمہاری ہی پارٹی کے آدمی ہیں۔ وان کان للکفرین نصیب اور اگر کافروں کو کچھ حصہ مل جائے ، ان کو کہیں غلبہ حاصل ہوجائے۔ قالوا تو کہتے ہیں۔ الم نستحوذ علیکم کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے ؟ کافروں سے کہتے ہیں کہ ہم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر تمہیں زیر کرلیا تھا پھر ہم نے چکر چلایا ونمنعکم من المومنین اور مسلمانوں سے بچایا ورنہ تمہیں سخت نقصان پہنچتا۔ دیکھو ! ہم نے تمہارے اوپر احسان کیا کہ مسلمانوں سے تمہاری جان چھڑائی۔ اس طرح وہ کافروں کی ہمدردی حاصل کرتے ہیں۔ فرمایا منافقوں کی یہ سازشیں ادھر ہی رہ جائینگی فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ اس دن پتہ چلے گا کہ منافقین کیسی کیسی سازشیں کرتے تھے اور اہل ایمان کا طرز عمل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اصول کے طور پر سمجھا دیا۔ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلاً اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے مومنوں پر کوئی راستہ نہیں بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور کفار انہیں زک نہیں پہنچا سکیں گے بلکہ وہ خود ہی ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے اور اسلام ہی غالب رہے گا۔ غلبہ اسلام بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس غلبے سے مراد دلیل کے اعتبار سے غلبہ ہے۔ اللہ نے اہل ایمان کو دلائل کے لحاظ سے کفر پر ہمیشہ غالب رکھا ہے۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ دلیل کے اعتبار سے تو اسلام ہمیشہ کفر پر غالب ہے مگر یہاں پر پولٹیکل غلبہ ہی مراد ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ ایمان والوں کو چاہئے کہ وہ کافروں کو غلبہ کا کبھی موقع نہ دیں ، کیونکہ اگر کفار کو غلبہ حاصل ہوگیا تو اسلام کو سخت نقصان پہنچے گا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمان ان احکام سے غافل ہو کر اغیار کا مغلوب ہوچکا ہے۔ اس میں حب مال اور حب جاہ جیسی بیماری پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اس میں ضعف آگیا۔ دنیا طلبی نے مسلمان کو کفار کا مغلوب کردیا۔ اس وقت دنیا کی سیاست پر یہودیوں ، عیسائیوں اور دہریوں کا قبضہ ہے اور مسلمان ہر طرف ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ بزرگان دین کا مقولہ ہے الدنیا جیفۃ وطالبھا کلاب یعنی دنیا ایک مردار ہے اور اس کے طالب کہتے ہیں جو لوگ دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں ان کی حیثیت کتوں جیسی ہے اللہ تعالیٰ کا حکم تو یہ ہے کہ دنیا میں اسلام کا غلبہ ہو مگر ہم نے اس سبق کو فراموش کردیا ہے۔ آج مسلمان عیاشی اور فحاشی میں مبتلا ہو کر قرآن کا پروگرام فراموش کرچکا ہے جس کی وجہ سے کفار کا دست نگر بن گیا ہے۔ مسلمانوں کی یہ حالت تاتاریوں کے زمانہ سے شروع ہوئی اور اب بحیثیت مجموعی اہل اسلام کا قدم پھسل چکا ہے اب مشرق والے مغرب والوں کی خوشامد پر امید لگائے بیٹھے ہیں۔ ان کی طرف سے امداد کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر جب تک اللہ تعالیٰ خود امداد نہ کردے ، نہ کوئی مدد کرسکتا ہے اور نہ عزت دے سکتا ہے۔ عزت و ذلت تو اس مالک الملک کے ہاتھ میں ہے۔ تمہاری عزت تو دین میں تھی جسے تم نے خود اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔ مرتد اور نکاح ” الرجال قومون علی النسآئ “ کے مصداق مرد عورتوں کے نگران ، محافظ اور سرکردہ ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے خاوند غالب اور بیوی مغلوب یا ماتحت ہوتی ہے۔ امام بو حنیفہ (رح) اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ کہ اگر خاوند مرتد ہوجائے ، تو بیوی اس کے نکاح میں نہیں رہ سکتی۔ اصول یہ ہے کہ مسلمان کافر کا مغلوب نہیں ہوسکتا۔ بیوی چونکہ مسلمان ہے لہذا وہ مرتد یعنی کافر آدمی کی مغلوب یعنی بطور بیوی نہیں رہ سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ مرتد پر دوبارہ اسلام پش کیا جائے گا۔ اگر وہ ایمان لے آئے تو ٹھیک ہے ورنہ عورت جدا ہوجائیگی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مومنین پر کافروں کے لئے کوئی راستہ نہیں بنایا۔ بہرحال اہل ایمان کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ غیرمسلموں کے مغلوب نہ ہوں۔ یہ مقصد قربانی اور آخرت طلبی سے حاصل ہوگا۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان دنیا کے طالب ہو کر آخرت کو بھول چکے ہیں۔ آخرت کا طالب کوئی خال خال ہی نظر آتا ہے ، وگرنہ سب کھیل تماشے اور لہو و لعب میں مشغول ہیں۔ آج جو چند لوگ دین کی تعلیم حاصل بھی کرتے ہیں وہ بھی دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نوکری کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں۔ دین کو غالب کرنے کی ” تڑپ ختم ہوچکی ہے۔ اسلام کو سیاسی غلبہ جنگ صفین تک حاصل رہا مگر اس کے بعد اہل اسلام کا زوال شروع ہوگیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے منافقین کا راستہ اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اب اگلی آیات میں منافقین کی مزید مذمت اور ان کے انجام کا ذکر ہے اور اہل ایمان کے لئے مزید تبلیغ ہے۔
Ayahs 4:142–147

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

بیشک منافق دغابازی کرتے ہیں اللہ کے ساتھ اور وہ ان کو ان کی دغابازی کا بدلہ دیتا ہے اور جب یہ منافق کھڑے ہوتے ہیں نماز کی طرف ، تو کھڑے ہوتے ہیں سست دکھاوا کرتے ہیں لوگوں کے سامنے ، اور نہیں یاد کرتے اللہ تعالیٰ کو مگر بہت تھوڑا

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

یہ اس کے درمیان متردو ہیں ، نہ ان کی طرف اور نہ ان کی طرف ، اور جس شخص کو اللہ بہکادے پس ہرگز نہ پائیگا تو اس کے لئے کوئی راستہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ بنائو کافروں کو اپنا دوست مومنوں کو چھوڑ کر ، کیا تم چاہتے ہو کہ بنالو اللہ کے لئے تمہارے اوپر صریح الزام

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

بیشک منافق لوگ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور تو ان کے لئے ہرگز نہ پائے گا کوئی مددگار

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور انہوں نے اپنے دین کو خالص بنایا اللہ تعالیٰ کے لئے ، یہی لوگ ہیں ایمان والوں کے ساتھ اور عنقریب اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بہت بڑا اجر دے گا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

کیا کرے گا اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر اگر تم شکر گزاری کروگے اور ایمان لائوگے اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سزا کا ذکر کیا تھا کہ کافروں اور منافقوں سب کو جہنم میں اکٹھا کیا جائے گا ، منافق لوگ کافروں کے ساتھ تعلق جوڑتے ہیں اور ان کو اپنا دوست اور رفیق بناتے ہیں ان کے ہاں عزت تلاش کرتے ہیں تاکہ گردش آنے کی صورت میں ذلیل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی رد فرمایا ، اور صاف حکم دیا کہ جب اللہ کی آیتوں کے ساتھ ٹھٹا کیا جارہا ہو ، تو ایسی مجلس میں کسی مومن کو بیٹھنے کی اجازت نہیں۔ ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ کافروں کی مجلس میں جاکر ان کی خوشامد کرتے ہیں اور مومنوں کے پاس آکر ان کی چاپلوسی کرتے ہیں تاکہ ان دونوں گروہوں میں سے جن کا پہلو غالب ہو ، اسی کے ساتھ ہوجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دوغلی پالیسی کی مذمت بیان فرمائی۔ اب آج کے درس میں منافقین کی مزید کارگزاریوں اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ دھوکہ دہی ارشاد ہوتا ہے ان المنفقین یخدعون اللہ بیشک منافق لوگ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کیسے دھوکہ دیا جاسکتا ہے جب کہ وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ دھوکہ تو ناواقف آدمی کھاتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات تو اعلیٰ وارفع اور ان چیزوں سے پاک ہے ، پھر اللہ کو دھوکہ دہی کا کیا مطلب ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں جیسا کہ کوئی دھوکے باز کسی دوسرے آدمی کے ساتھ ہیرا پھیری کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بظاہر اسلام ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں ، کلمہ پڑھتے ہیں ، نمازیں ادا کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں مگر دل میں کفر بھرا ہوا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس دوغلی پالیسی سے وہ اہل ایمان اور خود اللہ کو دھوکہ دے رہے ہیں مگر وہ فرماتا ہے وھو خادعھم کہ اللہ بھی ان کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرتا ہے جیسا وہ اللہ کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس مقام پر خادعھم مثاکلت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ کہ جس طرح وہ دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ بھی ان کو ویسا ہی بدلہ دیتا ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ منافقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نفاق کو ظاہر فرما دیتا ہے اور وہ خود بھی اپنے اعمال سے اس کا ثبوت پیش کردیتے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ کفار کا سا سلوک کرنے کا حکم نہیں۔ کفار کے ساتھ ہمیشہ حالت جنگ کا معاملہ ہوتا ہے ، مگر منافقوں کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک ہی کیا جاتا ہے۔ جس طرح مخلص مسلمانوں کی مال ، جان ، عزت ، آبرو محفوظ ہوتی ہے ، اسی طرح منافقوں کو بھی امان حاصل ہوتی ہے تو ان کو ان کے نفاق کے حال پر ہی چھوڑ دینا ان کے ساتھ دھوکہ ہے کہ وہ اس خیال میں رہتے ہیں کہ مسلمان ان کے اصل حال سے واقف نہیں اور وہ کفار کے ساتھ بھی گٹھ جوڑ رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ناکام و نامراد ہیں اور یہی ان کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے جسے وہ سمجھنے سے عاری ہیں۔ نماز میں سستی آگے منافقوں کی کچھ غلط کارگزاری بیان ہورہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ان کی حالت یہ ہے واذا قاموا الی الصلوٰۃ قاموا کسالی جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بددلی اور سستی کے ساتھ۔ وجہ ظاہر ہے کہ نہ ان کا ایمان پختہ ہے اور نہ انہیں نماز کی افادیت پر یقین ہے وہ تو محض مسلمانوں کو دکھانے کے لئے مسجد میں آجاتے ہیں ، تاکہ ان کا نفاق نہ ظاہر ہونے پائے۔ حضور ﷺ نے منافق کی نماز کے متعلق فرمایا کے انتظار کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ جب مکروہ وقت آجاتا ہے تو اٹھ کر چار ٹھونگے مار لیتا ہے ، فرمایا تلک صلوٰۃ المنافق یہ ہے منافق کی نماز۔ ایک مخلص مومن کے لئے نماز اہم ترین عبادت اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے مناجات کی جاتی ہے ، یہ گناہوں کو مٹانے والی چیز ہے مگر منافق اپنی بدعقیدگی کی وجہ سے اسے ضائع کردیتا ہے۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں جن منافقین کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ اعتقادی منافق ہیں اور نماز میں سستی کرتے ہیں۔ وگرنہ سستی تو بعض اوقات مخلص مومن سے بھی ہوجاتی ہے کوئی بیمار ہو یا بھاری جسم والا آدمی ہو تو اسے اٹھنے بیٹھنے میں دقت پیش آتی ہے ، فرمایا یہاں پر ایسا شخص مراد نہیں بلکہ وہ اعتقادی منافق مراد ہے جو دیدہ دانستہ نماز میں سستی کا اظہار کرتا ہے۔ فرمایا منافق کی نماز محض یہ ہے کہ یرآء ون الناس وہ لوگوں کے سامنے دکھلاوا کرتے ہیں کہ دیکھ لو ہم نمازی ہیں لہذا ہمارے ایمان پر شبہ نہ کیا جائے۔ حالانکہ نماز جیسی عظیم عبادت پر تو ان کا اعتقاد ہی نہیں ہے یہ تو ان پر بوجھ ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ریاکاری کی مذمت بھی بیان فرما دی اور ساتھ یہ بھی اشارہ رفما دیا کہ ایک مومن کے لئے ذکر الٰہی کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” اقم الصلوٰۃ لذکری “ میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو مگر منافقین کا حال یہ ہے ولا یذکرون اللہ الا قلیلاً اور نہیں ذکر کرتے اللہ کا مگر بہت تھوڑا ، برائے نام ، بات وہی ہے کہ محض ریاکاری کے لئے نماز پڑھتے ہیں تاکہ لوگ انہیں مومن سمجھیں اور ان کی مال و جان مسلمانوں کے ہاتھوں محفوظ رہے۔ قرآن و سنت میں ذکر الٰہی کی بہت بڑی فضیلت آئی ہے۔ گزشتہ آیات میں بھی گزرچکا ہے۔ فاذکروا اللہ قیماً وقعودا وعلی جنوبکم یعنی اللہ کا ذکر کرو قیام کی حالت میں ، بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے ، اللہ نے یہ بھی فرمایا واذکرو اللہ ذکر کثیرا لعلکم تفلحون اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم فلاح پاجائو۔ بہرحال فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کو یاد بھی کرتے ہیں تو برائے نام ، ان میں خلوص و محبت کا کوئی عنصر نہیں پایا جاتا۔ تذبذب کی حالت فرمایا ان منافقین کا حال یہ ہے مذبذبین بین ذلک اس کے درمیان متردو ہیں۔ کبھی ان کا جھکائو مومنوں کی طرف ہوتا ہے اور کبھی کافروں کی طرف ، جونسا پلہ بھاری نظر آتا ہے فوراً ادھر ہوجاتے ہیں۔ یہ بدبخت اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ دونوں گروہوں میں یکساں مقبول ہیں اور بوقت ضرورت دونوں طرف سے مفاد حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا الی ھولآء الی ھولآء درحقیقت یہ لوگ نہ اس طرف ہیں اور نہ اس طرف اور دونوں اطراف سے محروم ہیں ، یہ ان کی مزید بدقسمتی ہے ، کہ بوقت ضرورت انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کے متعلق فرمایا۔ یعبد واللہ علی حرف (سورۃ حج) یعنی ایک کنارے پر عبادت کرتے ہیں۔ اگر کہیں سے مفاد حاصل ہوگیا تو وہاں ٹک گئے ورنہ دوسری طرف چلے گئے۔ اس لئے منافق کی تعریف ہی یہ کی گئی ہے یاتی ھولآء بوجہ وھولآء بوجہٍ یعنی یہ دو رخی پالیسی اختیار کرنے والے لوگ ہیں۔ کبھی ان کا رخ ایک طرف ہوتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔ فرمایا ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلاً جس کو خدا تعالیٰ گمراہ کردے تم اس کے لئے ہرگز کوئی راہ نہیں پائو گے۔ جب کوئی شخص کفر کا راستہ یا نفاق کا راستہ اختیار کرلیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے اسی راستہ پر قائم رہنے کی توفیق دے دیتا ہے۔ جیسے پہلے گزرچکا ہے نولہ ماتولی ہم اسے ادھر ہی پھیر دیتے ہیں جس طرف وہ جانا چاہتا ہے۔ جب کفر پر جم گیا تو اللہ نے کہا ، اچھا ایسا ہی کرتے رہو۔ تو فرمایا جسے اللہ گمراہ کردے پھر کون اسے راہ راست پر لاسکتا ہے اور اللہ کے گمراہ کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی کو بلاوجہ گمراہی کے لئے راستہ پر چلنے کی توفیق دیتا ہے بلکہ وہ تو علیم کل ہے۔ ہر ایک کی باطنی کیفیت سے واقف ہے وہ ہر شخص کی صلاحیت اور فساد کو بھی جانتا ہے اس لئے وہ ہر شخص کی اصلیت کے مطابق اس کا اپنے پسندیدہ راستہ پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو جبراً گمراہی کی طرف نہیں لے جاتا بلکہ وہ خود اس طرف رخ کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے غلط راستہ پر پختہ ہونے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اغیار سے دوستی منافقین کی مذمت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دوست نہ بنالیں۔ فرمایا یا ایھا الذین امنو لا تسخذوا الکفرین اولیآء من دون المومنین اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائو ، منافق تو مفاد حاصل کرنے کے لئے کفار سے دوستی کرتے ہیں تاکہ انہیں عزت حاصل ہوسکے مگر تم ان کے ساتھ بالکل دوستی نہ کرو۔ کافروں کے ساتھ دوستی سے تمہارا کیا مقصد ہے اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطناً مبیناً کیا تم خود پر اللہ کا صریح الزام ثابت کرنا چاہتے ہو اگر تم بھی منافقوں کی طرح کافروں کو دوست بنائوگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر حجت قائم ہوجائے گی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کے مجرم ٹھہروگے لہذا کافروں کے ساتھ دلی دوستانہ ہرگز نہ رکھو۔ منافقین کا ٹھکانا آگے پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار۔ بیشک اعتقادی منافق دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں گے۔ جہنم کے سات طبقات میں سے سب سے نچلا گڑھا اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لئے مقرر کررکھا ہے۔ یہ لوگ کفار سے بھی زیادہ خطرناک ہیں جو خفیہ طور پر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سزا بھی سخت مقرر کی ہے اور پھر ان کا قید خانہ بھی ایسا ہے۔ ولن تجدلھم نصیراً ۔ تو ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہیں پائیگا۔ وہاں سے رہائی کی کوئی صورت نہیں وہگی۔ جس قدر ان کا جرم بڑا ہے ان کے لئے سزا بھی سخت مقرر کی گئی ہے۔ مومنین کیلئے بشارت فرمایا الا الذین تابوا مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی۔ نفاق کو چھوڑ کر ایمان اختیار کرلیا واصلحوا اور پھر اپنی اصلاح بھی کرلی ، ریاکاری سے باز آگئے کافروں کی دوستی کو ترک کردیا۔ واعتصموا باللہ اللہ کو مضبوطی سے پکڑ لیا یعنی اللہ کی کتاب اور شریعت پر جم گئے۔ دوسری جگہ فرمایا ” ان تنصروا اللہ ینصرکم “ اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ تمہاری مدد کریگا یہاں بھی اللہ کی مدد کرنے سے مراد اس کے دین کی مدد ہے۔ اگر اللہ کی مدد کروگے ” ویتبت اقدامکم “ وہ تمہارے قدم مضبوط کردے گا۔ اعتصام باللہ کا بھی یہی معنی ہے کہ جو لوگ ایمان اور توحید پر ثابت قدم ہوگئے واخلصوا دیھم للہ اور انہوں نے اللہ کے لئے اپنے دین کو خالص بنالیا۔ کفر ، شرک ، نفاق اور ریاکاری سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ اخلاص فی الدین کے متعلق ابن ابی شیبہ کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے آپ سے پوچھا من المخلص حضرت یہ بتائیں کہ مخلص کون ہوتا ہے۔ آپ نے فرمایا مخلص وہ شخص ہے جو نیکی کا کام کرتا ہے مگر اس پر لوگوں سے تعریف کا طالب نہیں ہوتا۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی بھی ہے اخلص دینک یکفیک قلیل من العمل دین میں اخلاص پیدا کرلو تو تھوڑا عمل بھی کفایت کر جائیگا ، اخلاص اتنی اچھی چیز ہے۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ اگر خلوص ہو تو سبق مائۃ درھم ایک درہم جو خرچ کیا جائے ایک سو درہم پر سبقت لے جاتا ہے۔ گویا خلوص کے ساتھ ایک درہم خرچ کرنا ریاکاری کے سو درہم سے بھاری ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اخلاص انسان کو برائی سے روکتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ جنہوں نے توبہ کرلی ، پھر اصلاح کی ، اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیا اور پھر محض اللہ کی خوشنودی کی خاطر دین میں اخلاص پیدا کیا۔ فائولئک مع المومنین ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے مطلب یہ ہے کہ جب نفاق سے تائب ہو کر اللہ کے دین پر خلوص نیت سے ثابت قدم ہوگئے تو پھر ان کا حشر مخلص مومنوں کے ساتھ ہوگا۔ انہیں کامل الایمان مومنین کی رفاقت نصیب ہوجائیگی۔ پہلے اسی سورة میں گزرچکا ہے کہ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ” فاولئک مع الدین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین “ وہ اللہ کے انعام یافتہ نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے۔ خود انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق قرآن پاک میں آتا ہے کہ وہ نیک لوگوں کی رفاقت کی دعا کرتے رہے ” توفنی مسلما والحقی بالصلحین “ اے اللہ ! ہمیں اسلام کی حالت میں موت آئے اور ہمارا حشر نیکوکاروں کے ساتھ ہو۔ فرمایا ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور مومنوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے وسوف یوت اللہ المومنین اجراً عظیماً اللہ تعالیٰ انہیں بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان وہ گا کہ کسی کو مومنین کی معیت نصیب ہوجائے۔ ایسا شخص یقینا مقبول خدا اور عظیم اجر کا مستحق ہوگا۔ اعمال کا بدلہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ کسی شخص کو جو سزا ملتی ہے وہ اس کی اپنی بدعملی کی وجہ سے ملتی ہے اگر انسان ایمان اور توحید پر قائم ہو اعمال صالحہ انجام دیتا ہو تو اللہ تعالیٰ کسی کو بلاوجہ عذاب میں مبتلا نہیں کرتا۔ ارشاد ہے۔ مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم۔ اگر تم نے اللہ کے انعامات کا شکر ادا کیا اور اس پر خلوص نیت سے ایمان لائے تو اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کریگا۔ اپنے بندوں کو عذاب میں مبتلا کرکے اللہ کو خوشی نہیں ہوتی بلکہ وہ تو اپنے بندوں سے محبت کرنے والا ہے۔ اگر بندے اس کی بغاوت نہ کریں تو وہ ان کے ساتھ نہایت ہی مہربان اور بخشنے والا ہے وہ جو بھی تمہیں سزا دیتا ہے وہ تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انسانی فطرت اس طرح بنائی ہے کہ اعمال کا بیج اس کے اندر سے اٹھتا ہے اور پھر اعمال بھی پلٹ کر وہیں جاتے ہیں اور روح کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں اور پھر جزائے عمل کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس پر شریعت کا قانون نافذ ہو اور اگر وہ قانون کی خلاف ورزی کرے تو سزا کا مستوجب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور زیمیت دونوں چیزیں رکھی ہیں اور دونوں کی آپس میں کش مکش جاری رہتی ہے۔ لہذا اس کشمکش کا تقاضا ہے کہ انسان کے لئے جزائے عمل واقع ہو۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نماز کیوں فرض ہے اور زنا کیوں حرام ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ درندے کے لئے گوشت کھانا کیوں ضروری اور گائے بکری کے لئے گھاس چرنا کیسے لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کی فطرت علیحدہ علیحدہ بنائی ہے جس کے مطابق وہ اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں اگر بکری گوشت کھانے لگے تو وہ درندہ بن جائیگی۔ اسی طرح اللہ نے انسان میں خیر و شر کی دونوں قوتیں رکھی ہیں ، جب وہ حدود وقیود کو توڑتا ہے تو سزا کا مستحق ہوجاتا ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ کو بلاوجہ سزا دینے میں کیا فائدہ ہے ؟ فرمایا اگر تم شکرگزاری کروگے اور ایمان لائوگے تو اللہ تعالیٰ یقینا اچھا بدلہ دیگا۔ وکان اللہ شاکرا علیما اللہ تعالیٰ شکرگزاری کرنیوالا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ شکرگزاری کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس کا معنی قدردانی ہوتا ہے اور اگر اس کی نسبت بندے کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا کہ انسان اللہ کے احسان کو یاد کرکے دل میں اس کی قدر کرتا ہے اور زبان سے اس کی تعریف کرتا ہے وہ اپنے اعضاء اور جوارح سے ایسا عمل بجا لاتا ہے جس سے اس کا منعم راضی ہوجائے۔ پھر جب بندہ اپنے آپ کو خالصتا اللہ کے سپرد کردیتا ہے اس کا ہر حکم بجا لاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اس پر راضی ہوتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے۔ قرآن میں آتا ہے ان تشکر وا یرضہ لکم اگر تم ایمان لائوگے تو خدا راضی ہوگا والا یرضی لعبادہ والکفر اور کافروں سے راضی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ غنی ہے۔ وہ ہر حالت میں تعریفوں کا مستحق ہے۔ اگر تم اس کا شکر کروگے اور ایمان لائوگے تو وہ قدردان ہے وہ اور زیادہ انعام عطا فرمائے گا۔ وہ ہرچیز کو جانتا ہے۔ ہر شخص کی نیکی اور برائی اور ان کے درجات تک سے واقف ہے اور اس کے مطابق جزا یا سزا کا سلوک کرتا ہے۔