Ayah 4:11ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا قانون اجمالی طور پر بیان فرمایا تھا۔ اس کی تشریح میں عرض کیا گیا تھا کہ زمانہ جاہلیت میں وراثت کے معاملہ میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کو محروم رکھا جاتا تھا اور وراثت کا حق دار صرف ان جوان مردوں کو سمجھا جاتا تھا جو دشمن کا مقابلہ کرسکیں یعنی ہر وقت لڑائی بھڑائی کے لیے تیار رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس غلط تقسیم کی تردید فرمائی اور یہ واضح فرمادیا کہ مرنے والا جو کچھ چھوڑ جائے ، اس میں سے ہر چھوٹی بڑی منقولہ وغیر منقولہ چیز تقسیم ہونی چاہیے اور وراثت میں مردوں اور عورتوں ، بچوں جوانوں اور بوڑھوں سب کا حصہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصے ہیں۔ ان میں ردوبدل کرنے کا کسی انسان کو حق نہیں پہنچتا۔ اب آج کے درس سے قانون وراثت کی تفصیلات شروع ہورہی ہیں۔
وراثت دور جاہلیت میں
دور جاہلیت میں وراثت کی بنیاد تین چیزیں تھیں۔ ایک تو نسب تھا جس کی بنا پر وہ صرف جوان بیٹے کو باپ کی وراثت کا حق دار سمجھتے تھے۔ اور باقی عورتیں اور بچے محروم ہوجاتے تھے ان کے نزدیک وراثت کا دوسرا سبب تبنی تھا وہ لوگ جس کسی کو منہ بولا بیٹا بنالیتے تھے اسے وراثت میں سے حصہ دیتے تھے۔ اس زمانے میں وراثت کی تیسری بنیاد ولاء تھی۔ ولاء کا معنی آپس میں پختہ دوستی کرلینا ہے جو دو شخص آپس میں حلفیہ قسم کی پختہ دوستی کرلیتے تھے وہ بھی ایک دوسرے کی وراثت کے مستحق ہوتے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں وراثت ان بنیادوں پر تقسیم ہوتی تھی۔
ابتدائے اسلام میں وراثت
جب پیغمبر آخر الزماں (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی ، قرآن پاک کا نزول شروع ہوا اور اسلام آیا ، تو اس کے ابتدائی دور میں زمانہ جاہلیت کی بعض چیزوں کو بھی برداشت کیا گیا۔ چناچہ ابتدائی دور اسلام میں وراثت کے لیے ولاء کو روا رکھا گیا۔ اس کے علاوہ ہجرت کو بھی وراثت کا سبب قبول کیا گیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد بعض مہاجرین اور انصار رشتہ مواخات میں منسلک ہوئے۔ حضور ﷺ نے ایک مہاجر کو ایک انصاری کا بھائی بھائی بنادیا۔ چناچہ ابتدائی دور میں یہ بھائی بھائی ایک دوسرے کی وراثت کے حقدار ہوتے تھے۔ بخاری شریف میں روایت موجود ہے۔ یرث المھاجری الانصاری ویرث الانصاری المھاجری یعنی مہاجر انصاری کا وارث ہے اور انصاری مہاجر کی وراثت میں حقدار ہے۔ ابتدائے اسلام میں ایسا بھی ہوتا رہا۔
مستقل قانون وراثت
اس کے بعد جب وراثت کے مستقل قوانین نازل ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے سبب کو وراثت سے خارج کردیا۔ اور سوۃ انفال میں واضح فرمادیا واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ کہ وراثت کے معاملہ میں اللہ کا قانون یہ ہے کہ قرابت کے رشتہ کو ہی اولیت حاصل ہے۔ چناچہ وراثت کا سب سے پہلا سبب نسب ہی قرار پایا۔ اس طرح گویا خدائی قانون کے مطابق ولائ ، مواخات اور تبنی کے ذرائع وراثت کو ختم کردیا گیا ، اب دوستوں ، اسلامی بھائیوں اور متبنی وغیرہ کے ساتھ حسن سلوک تو کیا جاسکتا ہے ان کے حق میں مقررہ حد تک وصیت کی جاسکتی ہے۔ مگر وراثت میں حصہ نہیں دیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ختم کردیا۔ اب اسلام میں وراثت کا انحصار تین چیزوں پر ہے۔ پہلا نسب ، دوسرا نکاح اور تیسرا اولاد جو کہ ولاء کی پہلی قسم سے مختلف ہے۔ نسب کا قانون یہ ہے کہ جو رشتہ دار میت کے زیادہ قریب ہوگا۔ وراثت پر اس کا حق فائق ہوگا۔ قریبی عزیز کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار کو حصہ نہیں ملتا۔ مثلاً اگر مرنے والے کا باپ موجود ہے تو وراثت کا حق دار وہ ہوگا ، دادا نہیں ہوگا۔ اگر باپ فوت ہوچکا ہے تو دادا زندہ ہو تو اس صورت میں دادا حق دار ہوگا ، اسی طرح اگر میت کا بیٹا موجود ہے تو پوتے کو وراثت نہیں پہنچتی ہے بیٹے کی غیر موجودگی میں پوتا وارث ہوگا۔
وراثت کا دوسرا سبب نکاح ہے ، جب ایک مرد اور ایک عورت رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجاتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کی وراثت کے حق دار بن جاتے ہیں تاوقتیکہ طلاق کے ذریعے علیحدگی اختیار نہ کرلیں۔ اگر خاوند فوت ہوجائے تو بیوی کو حصہ ملتا ہے اور اگر بیوی فوت ہوجائے تو خاوند وراثت میں حق رکھتا ہے گویا وراثت کا مدار نکاح پر بھی ہے۔
وراثت کا تیسرا سب ولاء ہے اور یہ دو قسم سے ہے۔ پہلی ولاء اعباق ہے۔ اگر کوئی شخص اپنے غلام کو آزاد کردے۔ اور غلام کی وفات کے وقت اس کا کوئی حقیقی رشتہ دار موجود نہ ہو تو غلام کی وراثت اس آزاد کرنے والے شخص کو پہنچتی ہے ، مسلم اور ترمذی شریف میں روایت موجود ہیالولا لمن اعتقوراثت اس شخص کے لیے ہے جس نے اسے آزاد کیا یعنی جو اس کی آزادی کا ولی نعمت اور مولیٰ بنا ، وہی وراثت کا حق دار ہے۔ اسی طرح اگر آزاد کرنے والا شخص خود مرگیا اور اس کا کوئی حقیقی رشتہ دار موجود نہیں ہے تو اس کی وراثت آزاد کردہ غلام کو ملے گی۔ یہ ولاء اعتاق ہے آزاد کرنے والا اور آزاد ہونے والا ایک دوسرے کے مولیٰ بن گئے ہیں۔
ولاء موالات
ولا کی دوسری قسم ولاء موالات ہے جو کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک درست ہے۔ اس کا ذکر بھی حدیث شریف میں موجود ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جب کوئی شخص کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرکے اس کے ساتھ دوستانہ قائم کرلیتا تھا تو وہ آپس میں موالی بن جاتے تھے اور اس خصوصی تعلق کو موالات کہا جاتا ہے۔ ابتداء میں لوگ دور دور سے گھر بار ، رشتے دار ، جائیداد وغیرہ چھوڑ چھاڑ کر دارالاسلام میں آجاتے تھے اور اسلام قبول کرلیتے تھے اور اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ موالات بھی قائم کرلیتے تھے۔ خراسان سے اکثر لوگ عرب پہنچے اور اسلام قبول کیا۔ ایسے لوگوں کے حقیقی رشتہ دار نامعلوم ہوتے تھے یا غیر مسلم ، ایسی حالت میں اگر نومسلم فوت ہوجاتا تو اس کی وراثت اس کے موالی کے حق میں چلی جاتی تھی۔ یہ ولاء موالات کہلاتی ہے۔ یہ صورت آج بھی روا ہے اگر کوئی شخص افریقہ یا کسی دیگر دور دراز علاقے سے پاکستان میں آکر کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیتا ہے۔ اس سے ولاء یعنی دوستانہ قائم کرلیتا ہے اس کے حقیقی رشتہ داروں کا علم نہیں یا معلوم ہے کہ وہ غیر مسلم ہیں اور انہیں وراثت نہیں مل سکتی تو پھر ایسے شخص کی موت پر اس کی جائیداد کا وارث اس کا مولیٰ ہوگا ، یعنی وہ شخص ہوگا جس کے ہاتھ پر اس نے مسلمان ہو کر ولا ، موالات قائم کیا۔
موجودہ زمانے میں ولاء کی دو صورتوں میں سے ولاء اعتقاق تو ختم ہوچکی ہے۔ اب نہ کوئی غلام ہے اور نہ اس کی آزادی کی نوبت آتی ہے لہٰذا یہ سبب اب بالکل بند ہوچکا ہے البتہ دوسری قسم ولاء موالات کی اب بھی گنجائش ہے۔ اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ کوئی غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلے اور اس کا مولیٰ بن جائے۔ پھر اس کی وفات کے وقت اس کا کوئی حقیقی مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کی وراثت اس کے مولیٰ کو ملے گی ، گویا اس وقت وراثت کے تین سبب نسب نکاح اور موالات ہیں۔
اس رکوع میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کے احکام کو اس ترتیب سے بیان فرمایا ہے کہ سب سے پلے اولاد کا تذکرہ ہے کیونک کہ اس کا تعلق وراثت کے پہلے سبب نسب کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد نسب ہی کے سبب کے تحت ماں باپ کی وراثت کا ذکر ہے اور پھر مرنے والے کے بھائیوں کا نمبر ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے چوتھے نمبر پر نکاح کے سبب کے تحت خاوند اور بیوی کی وراثت کا ذکر فرمایا ہے۔
شان نزول
ان آیات کی شان نزول کے متعلق حضرت جابر ؓ کی روایت موجود ہے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا۔ میرا گھر حضور ﷺ کے گھر سے کم وبیش دو میل دور تھا۔ آپ (علیہ السلام) میری بیمارپرسی کے لیے میرے گھر تشریف لائے۔ آپ کے پاس سواری بھی نہ تھی ، پیدل ہی آئے۔ آپ پر گردوغبار کے آثار نمایاں تھے۔ جب آپ تشریف لائے تو مجھ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ آپ نے وضو کیا اور وضو کا باقی ماندہ پانی مجھے پلایا اور مجھ پر چھینٹے دئیے۔ اتنے میں مجھے ہوش آگیا۔ کہتے ہیں کہ چونکہ میں اولاد سے محروم تھا اس لیے مجھے اپنی وراثت کے متعلق تشویش تھی۔ اپنی اولاد تو نہ تھی البتہ نو بہنیں تھیں جن میں تین شادی شدہ اور باقی غیر شادی شدہ تھیں۔ ان کے علاوہ ایک بھائی بھی تھا۔ حضرت جابر ؓ کے باپ حضرت عبداللہ انصاری ؓ غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ اونچے درجے کے شہداء میں سے ہیں ، حضور ﷺ نے ان کی بڑی تعریف فرمائی ہے۔ بہرحال روایت میں آتا ہے کہ حضرت جابر ؓ نے حضور سے دریافت کیا کہ میرے بعد میری ورایت کس طرح تقسیم ہوگی ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اس سلسلہ میں حضرت جابر ؓ ہی سے ایک دوسری روایت بھی ترمذی شریف میں موجود ہے۔ حضرت سعد بن ربیع ؓ جنگ احد میں شہید ہوگئے اور اپنے پیچھے دو لڑکیاں چھوڑ گئے۔ ان کی بیوی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا ، حضور ! میرا خاوند آپ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر شہید ہوگیا ہے اور پرانے دستور کے مطابق اس کے مال پر اس کے بھائیوں نے قبضہ کرلیا ہے اب یہ دو بچیاں ہیں ولاتنکحان الا ولھا مال مال کے بغیر تو ان کے نکاح بھی نہیں ہوسکتے۔ اب کیا صورت ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، تم صبر کرو۔ اللہ تعالیٰ اس بارے میں ضرور کوئی فیصلہ فرمائے گا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب وہ عورت دوبارہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو وراثت کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ بنی (علیہ السلام) نے اس عورت کو اور سعد ؓ کے بھائیوں کو بلایا اور ان کو سمجھایا کہ دیکھو بھائی ! سعد ؓ کے جس مال پر تم نے قبضہ کرلیا ہے۔ اس میں سے آٹھواں حصہ اس کی بیوہ کا ہے اور دوتہائی ان بچیوں کو دے دو ۔ باقی جو بچ جائے وہ عصبہ کی حیثیت سے تم لے لو۔
قبل از تقسیم وراثت
بعض چیزیں ایسی ہیں جو کسی وراثت تقسیم کرنے سے قبل کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ اس سلسلے میں قانون یہ ہے کہ سب سے پہلے مرنے والے کے مال میں سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے۔ اس کام پر اخراجات اعتدال کے ساتھ ہونے چاہیں۔ میت کا مال سمجھ کر فضول خرچی نہیں کرنی چاہیے۔ کفن کے لیے مناسب کپڑا اور دوسری اشیاء ضرورت خریدی جائیں۔ قبر کھودنے کا انتظام ہو جس کی مزدوری میت کے مال سے ادا کی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر مرنے والے کے ذمے کوئی قرض ہے تو ادا کیا جائے۔ تیسرے نمبر پر اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو اسے پورا کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے ہر مسلمان کو کل مال کے ایک تہائی کے برابر وصیت کرنے کی اجازت دی ہے ، اس سے زیادہ نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی وصیت کی گئی ہے تو اسے پورا کیا جائے گا اور اس کے بعد باقی ماندہ مال وراثت حصہ رسدی حق داران میں تقسیم کیا جائے گا۔
ایک مرد مساوی دو عورتیں
ارشاد باری تعالیٰ ہے یوصیکم اللہ فی اولادکم اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولادوں کے متعلق۔ یہاں پر ایصا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس میں تاکیدپائی جاتی ہے ، اس لحاظ سے وصیت تاکیدی حکم کو کہتے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے قانون وراثت کے آغاز میں اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ یہ احکام تاکیدی ہیں اور ان میں اپنی مرضی سے نہ کسی کو ردوبدل کر نیکی اجازت ہے اور نہ ہی ٹالے جاسکتے ہیں بلکہ ان پر عملدرآمد لازمی ہے۔ اس قانون کا پہلا حکم یہ ہے للذکر مثل حظ الانثیین ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ دوسرے لفظوں میں ایک عورت کو ایک مرد کی نسبت آدھا حصہ ملے گا۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ اگر کسی مرنے والے کے پس ماندگان میں ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہیں۔ تو کل مال آدھا آدھا کرکے ایک حصہ لڑکے کو مل جائے گا اور باقی آدھا دو لڑکیوں میں برابر بانٹ دیا جائے گا۔ بعض لوگ اس قسم پر اعتراض کرتے ہیں ان کا مقولہ یہ ہے کہ عورت چونکہ مرد کی نسبت کمزورواقع ہوئی ہے۔ لہٰذا عورت کو زیادہ حصہ ملنا چاہیے تھا جب کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو دگنا حصہ دلایا ہے۔ اس سلسلہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ انسان ناقص العقل ہے اس کو سوچ غلط بھی ہوسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔ اس کی کوئی بات حکمت سے خالی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا قانون وراثت بھی فطرت کے عین مطابق ہے ، اس میں کسی فریق کے ساتھ زیادتی نہیں۔ غور فرمائیں کہ لڑکی بالآخر بیاہی جائے گی اور اس کا نان ونفقہ اور رہائش وغیرہ اس کے خاوند کے ذمہ ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی موجود ہے کہ بیوی کا مکان ، خوراک ، لباس اور دیگر ضروریات زندگی مرد کے ذمہ ہیں وہ اپنی مالی حیثیت کے مطابق عورت کی ضروریات بہم پہنچانے کا ذمہ دار ہے۔ چناچہ اسی نسبت سے عورت کی ذمہ داریاں کم ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ رکھا ہے اور عورت کا کم۔
دوسری بات یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کا حصہ اس کے خاوند کی وراثت میں بھی رکھا ہے۔ اس طرح عورت ماں باپ اور خاوند دونوں طرف سے وراثت کی حقدار ہے۔ برخلاف اس کے مرد کو صرف باپ کی وراثت ملتی ہے۔ بالعموم مرد کو بیوی کی وراثت عملی طور پر نہیں پہنچتی۔ کیونکہ بسا اوقات عورت کی جائیداد ہوتی ہی نہیں۔ اور اگر بالفرض کوئی شخص عمر بھر نکاح ہی نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف سے کسی وراثت کی امید مقصد یہ ہے کہ اللہ کے مقرر کردہ قانون پر اعتراض محض بےسمجھی کی وجہ سے ہے وگرنہ اللہ تعالیٰ کا قانون کمال حکمت پر مبنی ہے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے۔
صرف لڑکیوں کی صورت میں وراثت
آگے فرمایا کہ اگر کسی مرنے والے نے کوئی بیٹا نہ چھوڑا ہو بلکہ صرف بیٹیاں ہوں۔ فان کن نساء فرق اثنتین اور وہ دویا … دو سے زیادہ ہوں فلھن ثلثا ماترکتو ان سب کو کل ترکہ کا دوتہائی ملے گا باقی ایک تہائی دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم ہوجائے گا۔ اور اگر کوئی دوسرا رشتہ دار موجود نہ ہو تو پھر بقایا ایک تہائی بھی ان لڑکیوں کیطرف ہی لوٹ آئے گا فرمایا وان کانت واحدۃ اور اگر پسماندگان میں صرف ایک لڑکی ہو یعنی نہ کوئی لڑکا ہو اور نہ ہی دوسری لڑکی تو ایسی صورت میں فلھا النصف اس لڑکی کو کل مال میں سے نصف مل جائے گا اور باقی نصف باپ ، بھائی ، چچا ، چچا زاد اگر کوئی ہوں تو ان کو ملے گا۔ اگر بالکل کوئی رشتہ دار نہیں ہے تو بقیہ نصف مال بھی لڑکی ہی کو مل جائے گا۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسب کی بنیاد پر سب سے پہلے اولاد کے حق کا ذکر فرمایا ہے۔ اب آگے دوسرے نمبرپرماں باپ کے حقوق کا ذکر آرہا ہے۔
والدین کا حصہ
کل کے درس میں وراثت سے معتلق مردوزن کے حصوں کا ذکر تھا کہ ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ نیز یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اگر میت نے صرف ایک لڑکی چھوڑی ہے تو وہ کل مال کے نصف کی وارث ہوتی ہے اور اگر دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو انہیں کل وراثت کا دوتہائی ملتا ہے۔ وراثت کی یہ تقسیم تو نسب کے اعتبار سے تھی۔ اب آج کی آیت میں نسب ہی کے اعتبار سے والدین کا حصہ اور پھر وراثت کے دوسرے سبب نکاح کے اعتبار سے بیوی اور خاوند کے حصص کا تذکرہ ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ولا بویہ لکل واحد منھما السدس یعنی ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہیمما ترک جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے۔ اس صورت میں کہ ان کان مما ترک لہ ولد مرنے والے کی اولاد بھی موجود ہو۔ اولاد میں خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں ایک ہو یا زیادہ اگر والدین زندہ ہیں اور مرنے والی کی اولادبھی ہے تو اس کے باپ کو بھی چھٹا حصہ ملے گا اور ماں کو بھی چھٹا حصہ وراثت ملے گی۔ اس کے برخلاف اگر دوسری صورت ہو یعنی مرنے والے کی اولاد نہ ہو فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابواہ اور اس کے وارث صرف والدین ہوں تو فرمایا فلامہ الثلثماں کو تیسرا حصہ ملے گا۔ گویا اولاد کی غیر موجودگی میں میت کی ماں کا حصہ چھٹے سے بڑھ کر تیسرا یعنی دگنا ہوگیا۔ اس صورت میں وراثت کا باقی دو تہائی حصہ چھٹے سے بڑھ کر تیسرا یعنی دگنا ہوگیا۔ اس صورت میں وراثت کا باقی دو تہائی حصہ مرنے والے کے باپ کو مل جائے گا۔ یہاں پر بھی وہی قانون ہے کہ ایک مرد کو دوعورتوں کے برابر حصہ ملتا ہے۔ جب ماں کو ایک تہائی ملا تو باپ دو تہائی کا مستحق ٹھہرا۔ اس آیت میں بھی مما ترک کا لفظ آیا جس کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے نقدی ، سونا ، چاندی ، مکان ، زمین ، اوزار غرض یہ کہ منقولہ اور غیرمنقولہ ہرچیز میں ورثاء کے مقررہ حصے ان کو پہنچنے چاہئیں۔
بھائیوں کی موجودگی میں
ابک ایک تیسری صورت کا ذکر ہے۔ فان کان لہ اخوۃ یعنی مرنے والے کی اولاد تو نہیں ہے مگر اس کے بھائی زندہ ہیں بھائیوں میں حقیقی (ماں باپ کی طرف سے ) علاتی (صرف باپ کی طرسے ) اور اخیافی (صرف ماں کی طرف سے) سب شامل ہیں۔ اگر میت کے کوئی بھی بھائی ہوں۔ ایک ہو یا زیادہ اس حالت میں فلا مہ السدس میت کی ماں کا پھر چھٹا حصہ رہ جائے گا۔ گویا بھائیوں نے ماں کو تیسرے حصے سے نکال کر چھٹے حصے میں شامل کردیا مگر یہ مسئلہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس طرح ماں کے حصے سے جو چھٹا حصہ بچ گیا وہ ان بھائیوں کو نہیں ملے گا جن کی وجہ سے ماں کا حصہ کم ہوا ، بلکہ یہ چھٹا حصہ بھی باپ ہی کو مل جائے گا کیونکہ باپ بھائیوں کی نسبت زیادہ قریبی ہے اور یہ وراثت کا بنیادی قانون ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں بعید رشتہ دار کو وراثت نہیں پہنچتی۔ مذکورہ صورت میں گویا باپ کو اپنے دو تہائی کے علاوہ ماں کا کم کیا جانے والا چھٹا حصہ مزید مل جائے گا۔ جمہور علماء فقہاء اور آئمہ دین کا یہی مسلک ہے۔ البتہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا اختلاف ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بھائیوں کی موجودگی کی وجہ سے ماں کے حصہ سے بچ جانے والا چھٹا حصہ ان بھائیوں کو ملے گا جن کی وجہ سے ماں کا حصہ کم ہوا۔
وصیت اور قرض
فرمایا یہ مقرر کردہ حصے قابل تقسیم میں من بعد وسیۃ یوصی بھا اس وصیت کے بعد جو مرنے والا کرگیا ہے۔ اودینیا اس قرضے کی ادائیگی کے بعد جس کا مرنے والا مقروض ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر مرنے والا کوئی وصیت کرگیا ہے یا اس نے کوئی قرض دینا ہے ، تو پہلے ان چیزوں کی ادائیگی ہوگی ، اس کے بعد باقی ماندہ مال کو ورثا میں حصہ رسدی تقسیم کیا جائے گا۔
یہاں پر وصیت اور قرض کے تقدم اور تاخر کو سمجھ لینا چاہیے ، اس آیت میں اور اگلی آیات میں بھی وصیت کا ذکر پہلے ہے اور قرضہ کا بعد میں۔ اس لحاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے کفن دفن کے بعد پہلے وصیت پوری کی جائے اور پھر اس کا قرضہ چکایا جائے اور اس کے بعد باقی ماں تقسیم ہو۔ مگر فی الحقیقت ایسا نہیں ہے تمام فقہائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ وصیت اور قرض کے معاملہ میں قرص کو اولیت حاصل ہے۔ پہلے قرضہ ادا ہوگا اور اس کے بعد وصیت پوری کی جائیگی۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ، لوگو ! غلط فہمی میں مبتلا نہ رہنا ، مرنے والے کے قرض کی ادائیگی وصیت سے پہلے ہونی چاہیے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ قرض بندوں کا حق ہے اور اس کا مطالبہ کرنے والے موجود ہوں گے جو قرضہ طلب کرکے اپنے حق کی حفاظت کریں گے۔ برخلاف اس کے وصیت اللہ کا حق ہے اور اس کا مطالبہ کرنے والا بظاہر کوئی موجود نہیں ہوتا۔ تو اس خیال سے کہ کہیں لوگ اللہ کا حق بھول نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے وصیت کا پہلے تذکرہ کیا۔ وگرنہ وراثت کا صحیح تعین ہی اس وقت ہوتا ہے جب اس کے ذمہ واجب الادا قرضہ ادا کردیا جائے۔ لہٰذا قرضہ کی ادائیگی وصیت کی تکمیل سے پہلے ہوگی۔
وصیت کے حقدار
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ لوگو ! اللہ نے تم پر مہربانی فرما کر تمہیں ایک تہائی مال کے تصدق کی اجازت دے دی ہے تاکہ تمہیں آخرت میں بہتری نصیب ہوسکے۔ اور بہتری تبھی حاصل ہوگی جب مال کو کسی کارخیر کے لیے وقف کیا جائے گا کسی مدرسہ یا مسجد کے لیے وصیت کردی جاے کسی یتیم ، مسکین یا بیوہ کے حق میں یا کسی اور رفاہ عامہ کے لیے مخصوص کیا جاسکتا ہے تاہم اس کی مقدار کل مال کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
ہاں ضروری بات یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کے حق میں وصیت نہیں کی جاسکتی جس کو وراثت میں حصہ ملتا ہو۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے لاوصیۃ لوارب وارث کے لیے وصیت کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ اللہ نے وراثت میں اس کا حصہ مقرر کردیا ہے اور اس میں کمی بیشی کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہوگی۔ البتہ ایسا وارث جس کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا ، اس کے حق میں وصیت کی جاسکتی ہے۔ جیسے یتیم پوتا ہو ، کوئی بیوہ بہن ہو ، کوئی نادار بھائی ہو ، وغیرہ وغیرہ مگر جو شخص وراثت کا حق دار ہے ، وہ وصیت کا حق دار نہیں ہوسکتا۔
تقرر حصص کی حکمت
آگے اللہ تعالیٰ نے مختلف حصے مقرر کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے انسان اپنی ناقص عقل کی بناء پر کرسکتا ہے کہ فلاح حصہ کم ہے۔ اسے زیادہ ہونا چاہیے تھا یا فلاں کو زیادہ سے زیادہ دے دیا گیا ، وہ کم ہونا چاہیے مگر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اباء کم وابناء کم لاتدرون ایھم اقرب لکم لفعاً تم نہیں جانتے کہ تمہارے حق میں تمہارے والدیننفع بخش ہیں یا تمہاری اولاد۔ یہ علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کہ تمہارے لیے کون سود مند ہے۔ تم اپنی دانست کے مطابق سمجھتے ہو کہ فلاں رشتہ دار میری خدمت کرے گا اور اسے زیادہ دینے کی کوشش کرتے ہو۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ عین ضرورت کے وقت تمہارے کام وہ شخص آجائے جس سے تمہیں کوئی امید نہ ہو۔ لہٰذا ہرچیز کی حکمت وہ مالک الملک ہی جانتا ہے جو خالق ہے اور جو علیم کل بھی ہے اور حکیم بھی۔ اسی نے یہ حصے اپنی حکمت نامہ کے ساتھ مقرر کیے ہیں یعنی یہ فریضۃ من اللہ ہیں اور ان کو مقرر کرے والا ان اللہ کان علیما کلیماً بیشک ہرچیز سے واقف ہے اور ہرچیز میں اس کی حکمت پوشیدہ ہے جسے تم نہیں جانتے۔
Ayah 4:12زوجین کا حصہ
نسب کے اعتبار سے وراثت کے حصص بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے دوسرے سبب نکاح کا تذکرہ فرمایا ہے اور اس اعتبار سے بیوی اور خاوند کے حصے مقررفرمائے ہیں۔ زوجین میں تقسیم وراثت کے لیے دو صورتیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ میاں بیوی میں سے کسی ایک کی وفات کے وقت یا تو مرنے والے کے زوج کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوگی یا اولاد بھی ہوگی۔ دونوں صورتوں میں ایک دوسرے کے حصے کی مقدار مختلف ہوگی ارشاد ہے ولکم نصف ماترک ازوجکم ان لم یکن لھن ولد اگر تمہاری بیوی کی وفات کے وقت اس کی اولاد نہیں ہے تو اس نے جو کچھ چھوڑا ہے اس میں سے تمہارا نصف حصہ ہے۔ فان کان لھن ولد اور اگر بیوی اولاد بھی چھوڑ گئی ہے ۔ یہ اولاد خواہ موجودہ خاوند سے ہو یا کسی دوسرے خاوند سے اسے وراثت میں حصہ ملے گا۔ لہٰذا فلکم الربع مماترکن تمہارا حصہ نصف کی بجائے چوتھا ہوگا ہر اس چیز سے جو انہوں نے چھوڑی اور یہ حصے بخرے کب ہوں بعد وصیۃ یوصین بھا اودین اس وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو میت نے کی یا اس قرضہ کی ادائیگی کے بعد جو مت کے ذمہ واجب الادا ہے کفن دفن کے اخراجات ، قرضہ کی ادائیگی اور وصیت کو پورا کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا ، اس میں سے تمہارے لیی نصف یا چوتھا حصہ ہے۔ باقی جائیداد دوسرے قریبی رشتہ داروں کو ملے گی۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اگر خاوند فوت ہوجائے ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد اگر بوقت…… وفات پس ماندگان میں صرف تمہاری بیویاں ہیں۔ اولاد نہیں ہے تو انہیں تمہاری جائیداد میں سے چوتھا حصہ ملے گا۔ اگر ایک بیوی ہے تو چوتھے حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور اگر ایک سے زیادہ بیویاں ہیں تو کل جائیداد کا چوتھا حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔ ہاں ! فان کان لکم ولد اگر تم اپنے پیچھے بیوی یا بیویوں کے علاوہ اولاد بھی چھوڑ گئے ہیں تو تمہاری جائیداد میں ان کا بھی حق ہے ایسی صورت میں فلھن الثمن مما ترکتم بیویوں کا حصہ چوتھے سے کم ہو کر آٹھواں ہوجائے گا۔ اگر ایک ہی بیوی ہے تو آٹھویں حصے کی واحد مالکہ ہوگی اور زیادہ بیویاں ہونے کی صورت میں یہ آٹھواں حصہ سب میں برابر برابر تقسیم ہوجائے گا۔ من بعد وصیۃ توصون بھا اودین بنیادی اصول وہی رے گا کہ کل جائیداد میں سے پہلے قرض ادا کیا جائے اگر کوئی ہے اور وصیت پوری کی جائے گی اگر مرنے والے نے کی ہے اور اس کے بعد باقی مال حصہ رسدی تقسیم ہوگا ہر حصہ کے تقرر کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ باربار تاکید فرمائی ہے کہ میت کا قرضہ لازماً ادا کیا جائے اور اس کی وصیت بھی پوری کی جائے۔ ان دونوں چہروں کو تقسیم وراثت پر اولیت حاصل ہے۔
کلالہ کی وراثت
اس رکوع میں وراثت کے مسائل بیان ہوئے ہیں ۔ اولا اولاد کے حصص کا ذکر ہوا پھر والدین کا اور اس کے بعد زوجین کے حصوں کے احکام بیان ہوچکے ہیں۔ اب کلالہ کی وراثت کا مسئلہ آرہا ہے۔ کلالہ اس شخص (مرد یا عورت) کو کہتے جس کے اصول اور فروع نہ ہوں۔ یعنی نہ تو اوپر کی طرف یعنی باپ دادا میں سے کوئی رشتہ موجود ہو اور نہ ہی نیچے کی طرف یعنی بیٹے اور پوتے میں سے کوئی وارث ہو۔ کلالہ کل سے ماخوذ ہے اور اس کا معنی عاجزی یا درماندگی ہوتا ہے۔ چونکہ مذکورہ شخص کے اوپر اور نیچے کی طرف کوئی حقیقی رشتہ دار نہیں ہوتا۔ اور اس لحاظ سے وہ عاجز و درماندہ ہوتا ہے اس لیی اسے کلالہ کہتے ہیں۔ بہرحال آیت کریمہ میں کلالہ کی وراثت کی تقسیم کا قانون بتایا گیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے وان کان رجل یورث کلالۃ اور اگر کوئی ایسا آدمی کہ اس کی وراثت کلالہ کی شکل میں حاصل کی گئی ہے اومراۃ یا وہ عورت ہے جو کلالہ کی صورت میں ہے ولہ اخ اور ایسے کلالہ مرد یا عورت کا ایک بھائی ہے اواخت یا ایک بہن ہے۔ ظاہر ہے کہ مرنے والے کے والدین یا اولاد میں سے تو کوئی باقی نہیں البتہ اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہے۔ اس بات پر مفسرین کا مکمل اتفاق ہے کہ یہاں پر بھائی بہن سے مراد میت کے اخیافی بھاء بہن ہیں جو صرف اس کی ماں کی طرف سے ہیں۔ گویا نہ تو وہ حقیقی ہیں کہ ماں اور باپ دونوں کے مشترکہ ہوں اور نہ صرف باپ کی طرف سے ہیں جنہیں علاتی کہا جاتا ہے بلکہ ایسے بھائی بہن مراد ہیں جو صرف ماں کی طرف سے سگے ہوں۔ فرمایا ایک اخیافی بھائی یا ایک خیانی بہن کی صورت میں فلکل واحد منھا السدس ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے۔ فان کانوا اکثرمن ذلک اور اگر وہ بھائی یا بہن سے زیادہ ہوں۔ یعنی دو بھائی یا دو بہنیں یا ایک بھائی اور ایک بہن یا اس سے زیادہ ہوں تو پھر فھم شرکاء فی الثلث وہ سب تیسرے حصہ میں شریک ہوں گے۔ یعنی ایک سے زیادہ بھائی بہن ہونے کی صورت میں شریک ہوں گے۔ یعنی ایک سے زیادہ بھائی بہن ہونے کی صورت میں مرنے والے کا ایک تہائی مال سب میں برابر تقسیم ہوگا اور مرد وزن کے حصص میں کوئی تفاوت نہیں ہوگا۔ البتہ اگر کلالہ کے پس ماندگان میں اس کے حقیقی بھائی بہن یا علاتی بھائی بہن ہوں تو ان کے درمیان حصص اسی طرح تقسیم ہوں گے جس طرح اولاد کے درمیان ہوتے ہی یعنی للذکر مثل حظ الانثین ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا۔ یہ احکام اسی سورة مبارکہ میں آئیں گے۔
واضح ہو کہ اس آیت مبارکہ میں بھائی اور بہن کے اخیافی مراد لینے کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ حقیقی بھائیوں اور بہنوں کا تذکرہ سورة ہذا کی آخریت آیت میں موجود ہے جس کے احکام اس آیت سے مختلف ہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت سعد ؓ بن ابی وقاص کی روایت میں من الام کا لفظ بھی قرآت میں آتا ہے۔ وہاں پر پوراجملہ یوں قراست میں آتا ہے ولہ اخ اواخت من الام یعنی میت کا بھائی یا بہن ماں کی طرف سے ہو۔ بہرحال یہاں پر بھائی بہن سے اخیافی بہن بھائی مراد ہیں اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں۔
آگے فرمایا مذکورہ حصص کی تقسیم من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین ہوگی ۔ وصیت اور قرصہ کا قانون کلالہ کے معاملہ میں بھی ویسا ہی ہے۔ جیسے دوسرے مرنے والوں کے متعلق کہ وراثت کی تقسیم سے پہلے مرنے والے کا کفن دفن کا انتقام کیا جائے گا۔ پھر قرضہ کی ادائیگی ہوگی اگر کوئی واجب الادا ہے یا اس کے بعد وصیت پوری کی جائے گی اگر مرنیوالے نے کی ہے اور اس کے بعد وراثت حاضر وارثوں میں حصہ رسدی تقسیم ہوگی۔
وصیت کی دو اقسام
وصیت دو قسم سے ہے یعنی فرض اور مستحب۔ اگر کسی شخص کے ذمہ قرض واجب الادا ہے یا کوئی اور لین دین کا معاملہ ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ وصیت کر جائے کہ اس کا قرضہ اس کے مال سے ادا کیا جائے۔ اسی طرح اگر کسی کی نمازیں رہ گئیں ہیں۔ زکوۃ بقایا ہے کچھ روزے رہ گئے ہیں تو اس پر بھی لازم ہے کہ وہ وصیت کرے کہ اس کے مال میں سے زکوۃ ادا کی جائے یا نمازوں کا فدیہ دے دیا جائے۔ ایسی صورت میں وصیت کرنا فرض ہوتا ہے۔ اگر نہیں کرے گا تو عنداللہ ماخوذ ہوگا۔
وصیت کی دوسری قسم مستحب ہے جو کہ مرنے والا اپنے کل مال کے زیادہ سے زیادہ ایک تہائی کے برابر کرسکتا ہے۔ اس کے متعلق حدیث گزشتہ درس میں بھی بیان ہوچکی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرما کر تمہیں اجازت دی ہے کہ تم اپنی آخرت کی بہتری کے لئے امور خیر میں ایک تہائی مال تک وصیت کرسکتے ہو۔ اس سے زیادہ نہیں کہ وہ ورثا کا حق ہے۔ اگر کوئی شخص وارثان کی رضامندی کے بغیر ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرے گا تو وہ نافذ العمل نہیں ہوگی۔ بلکہ عدالت کے ذریعے اسے منسوخ کرایا جاسکتا ہے۔ اس آیت پاک میں بھی وصیت اور قرضہ کی تاکید میں وصیت کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اس تقدم وتاخر کے متعلق بھی گزشتہ درس میں حدیث بیان ہوچکی ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا لوگو ! دھوکا نہ کھانا ، قرض پہلے ہے اور وصیت بعد میں۔ اللہ تعالیٰ نے وصیت کو اس لیے مقدم فرمایا ہے کہ اللہ کا حق ہے اور بظاہر اس کا طالب کوئی نہیں ہوتا۔ اس کوتاکیداً پہلے بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس کی اہمیت کو پہچان سکیں۔
ضرور رساں وصیت
تاہم وصیت کے متعلق فرمایا کہ یہ ایسی ہونی چاہیے جو غیر مضار ہو یعنی اس کے ذریعے کسی وارث کو تکلیف پہچانا مقصود نہ ہو۔ کوئی ایسی وصیت نہ کی جائے جس سے کسی دوسرے شخص کا حق ضائع ہو۔ مثلاً اس قسم کی وصیت نہ کی جائے کہ اس کا مال دور کے رشتہ داروں کو نہ پہنچنے پائے تو یہ وصیت ضرار ہوگی۔ ایسا کرنے والا گنہگار ہوگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک شخص ساٹھ یا ستر سال تک اللہ کی عبادت کرتا ہے مگر وصیت میں ضرار کرتا ہے ، ورثا کو نقصان پہنچاتا ہے تو وہ جہنم کا مستحق بن جاتا ہے ورثا کے نقصان کی صورت یہ ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرتا ہے۔ ہاں ا گر تم ورثا کی رضا مندی سے ایسا کرے تو اجازت ہے بغیر اجازت ایسا کرنا خودکو جہنم کے سپرد کرنا ہے۔ فرمایا یہ احکاموصیۃ من اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وصیت ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کے متعلق سخت تاکید فرمائی ہے۔ اس پر سختی سے عمل ہونا چاہیے۔ اور یاد رکھو ! واللہ علیم حلیم اللہ تعالیٰ ہرچیز سے واقف ہے۔ وہ تمہاری نیت تک کو جانتا ہے کہ تم اس کے حکم میں کس طرح کوتاہی کر رہے ہو یا کسی خوش دلی سے تعمیل کر رہے ہو۔ نیز وہ حلیم یعنی بردبار بھی ہے ۔ بسا اوقات وہ جلد گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے تاکہ گنہگار اب بھی توبہ کرلیں اور بالآخر وہ اپنے وقت پر مجرمین کو پکڑلیتا ہے اور اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا۔
Ayah 4:13حدود اللہ کی پابندی
وراثت کے احکام بیان کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا تلک حدود اللہ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدی ہیں۔ مثلاً وراثت ہی کے متعلق اللہ نے یہ حدیں مقرر کی ہیں کہ مرنے والے کے بعض اقرباذوی الفروض کہلاتے ہیں۔ اور وہ ایسے رشتہ دار ہیں جن کے حصے اللہ تعالیٰ نے مقررفرمادیے ہیں۔ جیس آٹھواں ، چھٹا ، چوتھا ، دو تہائی ایک تہائی وغیرہ ان کا ذکر مختلف آیات میں آگیا ہے اس کے علاوہ دوسرے رشتہ دار ایسے ہوتے ہیں جو عصبہ کہلاتے ہیں ان میں بیٹا ، پوتا یا باپ دادا وغیرہ جن کا تعلق میت کے باپ کی طرف ہو۔ چچا یا اس کی اولاد بھی اسی میں آتے ہیں۔ ذوی الفروض کے بعد جو مال بچتا ہے وہ عصبہ میں تقسیم ہوتا ہے۔……… اور اگر عصبہ موجود نہ ہو تو بقیہ مال ذوی الارحام کو مل جاتا ہے جو میت کی ماں کی طرف سے رشتہ دار ہوں جیسے ماموں یا اس کی اولاد وغیرہ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی مسلک ہے۔ حدیث شریف میں بھی آتا ہے الخال وارث من لاوارث لہ جس کا کوئی وارث نہ ہو اس کا وارث ماموں ہے۔ تاہم امام شافعی (رح) کے مطابق اگر ذوی الفروض اور عصبہ موجود نہ ہوں تو ترکہ بیت المال میں جمع ہوجاتا ہے۔ وراثت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام نکاح طلاق وغیرہ میں بھی حدیں مقرر کی ہیں اسی لیے فرمایا کہ یہ اللہ کی حدیں ہیں۔
حقیقی فلاح
ومن یطع اللہ ورسولہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے گا۔ اللہ کی مقرر کی گئی حدوں کی حفاظت کرے گایدخلہ جنت تجری من تحتھا الانھار اللہ اسے ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے سامنے نہریں بستی ہیں۔ ان کا جنتوں میں داخلہ کسی خاص مدت کے لیے نہیں ہوگا بلکہ خلدین فیھا ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا جو ایک دفعہ جنت میں داخل ہوگیا پھر اس کی نعمتوں سے کبھی محروم نہیں ہوگا۔ فرمایا وذلک الغوز العظیم یہ بہت بڑی کامیابی ہے جسے یہ مقام حاصل ہوگیا وہ خدا تعالیٰ کی رحمت کے مقام میں چلا گیا۔ سورة آل عمران کے آخر میں گزر چکا ہے من زحزح عن النا وادخل الجنۃ فقد فاز جو دوزخ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہ سب سے بڑی اور حقیقی کامیابی ہے کہ انسان حظیرۃ القدوس ، علین اور بہشت کا ممبر بن جائے۔ اس کے علاوہ جو بھی کامیابی ہے وہ عارضی ہے ۔ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان جنت میں داخل ہوجائے گا۔
Ayah 4:14نافرمانی کامنظر
برخلاف اس کے فرمایا ومن یعص اللہ ورسولہ جس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ویتعد حدودہ اور اس کی مقررہ حدوں سے تجاوز کیا۔ یدخلہ نارا اللہ تعالیٰ اس کو جہنم میں داخل کرے گا۔ اور وہاں کی زندگی عارضی نہیں بلکہ خالد فیھا اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ولہ عذاب مھین اور ایسے شخص کے لیے ذلت ناک عذاب ہوگا۔ طرح طرح کی پریشانیاں ہوں گی۔
امام ترمذی نے ترمذی شریف میں بیان کیا ہے کہ تمام صحابہ کرام ؓ ائمہ دین اور اہل حق کا اتفاق ہے کہ جس شخص کے دل میں نور ایمان اور نور توحید ہوگا اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں رکھا جائے گا ایسے شخص کو فاسق ، گنہگار یا عملی منافق کرسکتے ہیں جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اس کی قائم کردہ حدود کو تسلیم کرتا ہے مگر ان کا حق ادا نہیں کرتا۔ وہ شخص اپنے گناہوں کی سزا پاکر جنت میں داخل ہوجائے گا۔ جہنم میں ابدی طور پر وہ لوگ جائیں گے جو کافر ، مشرک یا منافق ہوں گے۔ نور ایمان اور نور توحید سے خالی لوگ دائمی طور پر دوزخ میں رہیں گے۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی صوبہ سرحد کے ایک شخص کا واقعہ ہے کہ دوپانچ چھ مربع میل زمین کا مالک ایک بڑا سردار تھا۔ اس نے لڑکیوں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے اپنی ساری جائیداد لڑکوں کے نام لگوادی۔ وہ شخص دنیا میں ہی سز کا مستحق ہوا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ خود لقوے کی بیماری کا شکارہوگیا۔ ایک لڑکے نے خودکشی کرلی اور دوسرا گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ اللہ نے دنیا میں ہی اسے پریشانی میں مبتلا کردیا۔ تاہم ضروری نہیں کہ ہرنافرمان کو دنیا میں ہی سزا ملے مگر کہیں کہیں نمونے نظر آجاتے ہیں۔ نافرمان لوگ دوسروں کو دیکھ کر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ ان کی رسی دراز کرتا ہے اور پھر وہ وقت بھی آجائے گا جب ان کی رسی کھینچ لی جائے گی اور وہ ذلت ناک عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Ayahs 4:15–16ربط آیات
سورۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کا ذکر فرمایا ان کی ساتھ جو زیادتی زمانہ جاہلیت میں روارکھی جاتی تھی اس کے متعلق قانون بتایا یتیم بچیوں پر ظلم کیا جاتا تھا۔ یتیموں کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں بھی احکام صادرفرمائے۔ پھر وراثت کا قانون سکھایا۔ اس میں بھی عوتوں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی تھی ، اللہ تعالیٰ نے وراثت کا مکمل قانون اور ضابطہ عطا کیا۔ وراثت میں تمام اقربا کے حصے مقرر فرمائے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی کچھ ذمہ داریاں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان کو حقوق تو حاصل ہوگئے اب ان کی تاذیب کی جارہی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں تعزیر لگانے کا بیان ہے۔
انسانی سوسائٹی کی بنیاد
انسانی سوسائٹی کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک چیز مال ہے اور دوسری ربط مال کے متعلق بہت سے احکام پہلے بیان ہوچکے ہیں۔ ایک دوسرے کا مال ناحق کھانے کے متعلق وعید آچکی ہے۔ وراثت کا مسئلہ بھی مال ہی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے قوانین بھی باتفصیل بیان ہوچکے ہیں کسی کا مال غضب کرنے سے یا کسی کی وراثت کو ناجائز طریقے سے حاصل کرنے کی وجہ سے انسانی سوسائٹی تباہ ہوجاتی ہے۔
انسانی سوسائٹی کی دوسری بنیاد ربط ہے۔ معاشرہ اسی ربط سے ہی قائم ہوتا ہے اور سوسائٹی کا اولین ربط ارتباط بین الرجال والنساء ہے۔ مردوں اور عورتوں کے درمیان… ربط ہی معاشرے کی بنیاد بنتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس ابتدائی ربط کو قانون کا پابند فرمادیا ہے۔ اگر مردوزن کا یہ ربط قانون کے تابع عقد نکاح کے ذریعے قائم ہوگا تو آگے نسل بھی ٹھیک ہوگی۔ انسانی اخلاق درست ہوگا انسانی سوسائٹی پاکیزہ ہوگی اور سوسائٹی کے تمام افراد اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے اور اگر یہ اولین ربط ہی لاقانونیت کا شکارہوگیا۔ ربط کی ابتدا نکاح کی بجائے فحاشی سے شروع ہوئی تو پھر انسانی سوسائٹی تباہ وبرباد ہوجائے گی۔ نسل بگڑ جائے گے انسان کا اخلاق تباہ ہوجائے گا۔ دنیا میں ذلت کا منہ دیکھنا پڑے گا اور آخرت میں سخت رسوائی ہوگی۔ چناچہ اس ربط کو خراب کرنے والا عمل قابل تعزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سوساسئٹی سے عیاشی اور زنا جیسے قبیح فعل کے خاتمے کے لیے ابتدائی طور پر یہ تعزیر لگائی جو آج کے دروس کا موضوع ہے اس کے کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی آیات کے ذریعہ اس معاشرتی اور اخلاقی برائی کے متعلق مستقل تعزیر کا اعلان فرمایا۔ مرد وزن کے اس جائز ربط کی حفاظت کے لیے قانون سازی ضروری تھی اللہ تعالیٰ نے اس ربط کو قضائے رشوت اور نسل انسانی کی بقا کے لیے نکاح کی صورت دی ہے مگر اس کے برعکس من ابتغی وراء ذلک فائولک ھم العسدونجو کوئی اس کے علاوہ دوسرا راستہ اختیار کرے گا تو وہی زیادتی کرنے والا ہوگا۔ ایسا شخص انسانی سوسائٹی کا برباد کنندہ اور دشمن ہوگا۔
بےحیائی کی تعزیر
ارشاد باری تعالیٰ ہے والتیوہ عورتیں یاتین الفاحشۃ جو بےحیائی کا ارتکاب کرتی ہیں من نسائکم تمہاری عوتوں میں سے۔ اس مقام پر فحش سے مراد زنا ہے۔ قرآن پاک میں فحش کا اطلاق زنا لواطت ، نجل اور عریانی وغیرہ پر ہوتا ہے۔ تاہم یہاں پر زنا ہی مراد ہے اور تمہاری عورتوں سے مراد منکوحہ عورتیں ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اثر شادی شدہ عورتیں زنا جیسے فعل شفیع کا ارتکاب کریں فاستشھدو علیھن اربعۃ منکم تو اپنے میں سے ان پر چارگواہ لائو۔ گویا فعل زنا کے ثبوت کے لیے چار عینی گواہوں کی ضرورت ہے اس سے کم درجہ کی شہادت سزا کے لیے ناکافی ہے۔ جرم زنا کی نوعیت کے اعتبار سے اس کی سزا بھی سخت ہے۔ اس لیے شریعت نے عاقل ، بالغ ایسے چار مرد گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا ہے جنہوں نے اس فعل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عینی گواہ کیسے مہیا ہوسکتے ہیں جب کہ کسی دوسرے شخص کو بےپردگی میں دیکھناوی سے ہی گناہ ہے۔ تو اس معاملے میں شریعت نے گواہی کی خاطر اس فعل کا مشاہدہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ لہٰذا اس فعل کے ارتکاب کا مشاہدہ کرنے والوں پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ ملزم پر تعزیر عاید کرنیکا دارومدارس گواہی پر ہوگا۔
فرمایا فان شھدواپس اگر چار مرد فعل زنا کے ارتکاب کی گواہی دے دیں فامسکم من فی البیوت تو ان عورتوں کو جن کے خلاف شرعی شہادت مل گئی ہے ، اپنے گھروں میں ید کردو۔ انہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ابتدائی زمانہ اسلام میں بدکار عورتوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہی تعزیر مقرر کی تھی کہ فعل زنا ثابت ہونے پر انہیں گھروں میں نظر بند کردوں اور اس وقت تک قید رکھوحتی یتوفھن الموت یہاں تک کہ انہیں موت آجائے۔ اویجعل الہل لھن سبیلاً یا اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی اور راستہ بنادے۔ بہرحال عمرقید کی سزا کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ بھی فرمایا کہ اس سزا کے علاوہ کوئی دوسرا سزا بھی آمدہ دور میں مقرر کی جاسکتی ہے۔ چناچہ اسی سلسلہ میں بعد میں سورة نوید کی یہ آیت نازل ہوئی۔ الزانیۃ والزنی فاجلد واکل واحد منھما مافۃ جلدۃ یعنی زانی عورت اور زانی مرد میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگائو۔
قرآن پاک میں یہ سزا غیر شادی شدہ مرد وزن کے لیے ہے۔ محصن یعنی شادی شدہ مرد اور عورتوں کی سزا سنت کے مطابق رجم ہے۔ مجرم کو پتھر مار مارکر ختم کردیا جائے گا۔ البتہ غیر شادی شدہ کے لیے سوکوڑوں کے علاوہ اگر حاکم مجاز مناسب سمجھیتو ایک سال کے لیے شہر بدر بھی کرسکتا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے امام شافعی (رح) شہربدری کی سزا کو سوکوڑوں کے ساتھ لازم قرار دیتے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فعل زنا کے متعل اگر چارعینی گواہ نہ مل سکیں تو ملزم کے اقرارپر بھی مقررہ سزا دی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی مثال حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں ملتی ہے۔ ماحز بن مالک سلمی ؓ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم زنا کا چار دفعہ اقرار کیا تو آپ نے اسے رجم کی سزا دی۔ قبیلہ خامدیہ کی ایک عورت نے بھی اعتراف جرم کیا تو اس کو بھی رجم کیا گیا۔
ہم جنسی اور اس کی سزا
پہلی آیت میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا تھا اور یہ صرف عورتوں کی سزا کے متعلق تھی۔ اب اگلی آیت میں فرمایا والذن یہ تثنیہ کا صیغہ ہے اور مراد ہے دو مرد۔ یاتینھا منکم جو تم میں سے بےحیای کا کام کرتے ہیں یعنی زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہاں پر تثنیہ کا صیغہ استعمال ہوا ہے مگر یہ واحد اور جمع پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور مراد ہر صورت میں زنا ہی ہے۔ گزشتہ آیت میں ایسی عورتوں کی سزا تازیست قید مقرر کی اب مردوں کے متعلق فرمایا فاذوھما ان دونوں کو ایذاء پہنچائو ، مار پیٹو ، توہین وتذلیل کرو۔ عورتوں کی سزا کی طرح یہ مردوں کی سزا بھی ابتدائے زمانہ میں تھی بعد میں سورة نور میں مذکورہ سزا نازل فرمائی جس سے یہ محض ایذاء رسائی کی سزا موقوف ہوگئی۔
بعض فرماتے ہیں کہ تثنیہ مذکر کا صیغہ استعمال کرنے سے مراد دو مردوں کی آپس میں ہم جنسی یعنی لواطت ہے جس کی سزا مار پیٹ وغیرہ مقرر کی گئی اور جسے بعد میں منسوخ کردیا گیا۔ البتہ فقہائے کرام کا ہم جنتی کی سزا کے متعلق اختلاف ہے۔ اکثر آئمہ کرام امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) کی ایک روایت امام احمد (رح) امام محمد (رح) اور امام ابو یوسف (رح) وغیرہ ہم فرماتے ہیں کہ دو مردوں پر بھی وہی حد جاری ہونی چاہیے اور ایک مرد ایک عورت کی صورت میں جاری کی جاتی ہے اگر وہ شادی شدہ نہیں تو انہیں سو سو کوڑے لگائے جائیں اور سال بھر کے لیے جلاوطن بھی کیا جائے۔ اور اگر شادی شدہ ہیں تو انہیں سنگسار کردیاجائے۔ امام شافعی (رح) کی ایک دوسری رائے یہ ہے کہ ایسے مردوں کو ہر حالت میں رجم کردیا جائے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم جنسی کے جرم پر زنا کی حد نہیں لگے گی بلکہ ان کے لیے قاضی کی صوابدید کے مطابق تعزیر ہوگی۔ فرماتے ہیں کہ ہم جنسی کو زنا کا مصداق نہیں بنایاجاسکتا۔ کیونکہ زنا ایسا فعل ہے جو کسی مقام پر جاکر رک جاتا ہے مثلاً اگر زانی مرد اور زانیہ عورت اس فعل کے ارتکاب کے بعد آپس میں یا کسی دوسری جگہ نکاح کرلیں تو یہ فعل رک جائے گا مگر لواطت ایسا فعل ہے جس کی حرمت ہمیشہ قائم رہتی ہے اس لیے ہم جنسی زنا سے زیادہ شدید جرم ہے اور اس پر سخت تعزیر ہونی چاہیے۔ اگر کوئی عادی مجرم ہے تو اسے کسی اونچے مینار سے گرا کر ہلاک کردیا جائے یا اس کا سر قلم کردیاجائے۔ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے اسے قید میں ڈالا جاسکتا ہے یا کوڑے لگائے جاسکتے ہیں بہرحال یہ حاکم وقت کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ کیا سزا تجویز کرتا ہے۔
ہم جنسی کی لعنت سب سے پہلے قوم لوط میں آئی۔ اس سے پہلے قباحت کسی سوسائٹی میں نہیں پائی جاتی تھی مگر اس زمانے میں صورت حال یہ ہے کہ شیطان کا یہ جال پوری دنیا می پھیل چکا ہے۔ اور کوئی ملک اس بیماری سے محفوظ نہیں رہا۔ سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ انگریزوں نے ہم جنسی کو قانونی تحفظ فراہم کردیا ہے ان کی اسمبلی میں پاس ہوچکا ہے کہ اگر دو مرد باہمی رضا مندی سے اس فعل کا ارتکاب کریں تو قابل گرفت نہیں ہیں۔ یہ نہایت ہی قابل مذمت بات ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ بہرحال قرآن پاک اس فعل شنیع کو کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کرتا خواہ باہمی رضا مندی کے ساتھ یا زبردستی کیا گیا ہو ، یہ فعل سوسائٹی کے ربط اور اجتماعیت کو باطل کرنے والا ہے۔
توبہ کا دروازہ
اس فعل بد کے مرتکب دو افراد کے متعلق فرمایا کہ انہیں ایذا پہنچائو فان تابا پس اگر وہ دونوں توبہ کرلیں واصلحا اور اصلاح کرلیں ، یعنی اس غلط کام کی قباحت کو سمجھ کر اپنے فعل پر نادم ہوں اور پھر آئندہ کے لیے اس فعل سے تائب ہو کر اپنی اصلاح کرلیں۔ تو فرمایا فاعرضوا عنھما تو ان سے اعراض کرو ، درگزر کرو اور آئندہ انہیں کوئی ایذا نہ دو جب کوئی شخص برے کام سے باز آجائے تو پھر اس کو یاد کرا کے عار نہیں دلاتا۔
چاہیے اور نہ آئندہ ایسی بات کا تذکرہ ہونا چاہیے جس کی وجہ سے اسے کوفت ہو۔ ان اللہ کان تواباً رحیماً بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور بیحد مہربان ہے۔ جب انسان سے کوئی کوتاہی یا لغزش ہوجاتی ہے اور وہ سچے دل سے تائب ہوجاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے اور اس سے درگزر کرتا ہے اس کے بعد توبہ کا قانون بیان ہورہا ہے۔