Ayah 4:31گزشتہ درس میں محرمات نکاح کا بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اموال اور نفوس کے متعلق ارشاد ہوا کہ ایک دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف مت کرو اور نہ ہی کسی کی جان تلف کرو۔ ہی بھی حرام ہے جو شخص تعدی اور ظلم کا ارتکاب کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل کرے گا۔ ایسا شخص مجرم تصور ہو کر سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ ان دونوں چیزوں یعنی مال وجن میں ناجائز تصرف کبیرہ گناہ میں شمار ہوتا ہے۔ اسی نسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیت میں بڑے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جو شخص بڑے گناہوں سے بچتا رہے گا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے گناہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خود ہی معاف فرماتا رے گا اور جنت کے باعزت مقام میں داخل کرے گا۔
کبائر اور صغائر
کبائر اور صغائر کی اصلاح قرآن وسنت میں کثرت سے استعمال ہوئی ہے کبائر سے مراد وہ بڑے گناہ ہیں جو بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ اور صغائر وہ چھوٹی چھوٹی لغزشیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ازخود ہی معاف فرمادیتے ہیں۔ بشرطیکہ انسان بڑے گناہوں سے بچتا رہے اور اعمال صالحہ انجام دیتا رہے۔ آج کی آیت کریمہ میں اللہ نے یہی قانون سمجھا یا ہے ارشاد ہوتا ہے ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ اگر تم ان کبائر سے اجتناب کرتے رہوگے جن سے منع کیا گیا ہے نکفر عنکم سیاتکم ہم معاف کردیں گے تمہاری چھوٹی موٹی خطائیں۔ البتہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے باز آئے تو پھر نہ صرف کبائر کی وجہ سے گنہگار ہوگا بلکہ چھوٹے گناہوں پر بھی موخذہ ہوگا۔ چھوٹی موٹی خطائیں اور لغزشیں تو انسان سے ہر آن صادر ہوتی رہتی ہیں تاہم اگر کبیرہ گناہ سے بچ گیا تو انشاء اللہ اس کی کامیابی کی امید ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان ہے کہ اس نے چھوٹے گناہوں کو ازخود معاف کردینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ بشرطیکہ انسان کبائر سے اجتناب کی شرط کو پورا کرے۔ اس ضمن میں حضور ﷺ کی بہت سی حدیثیں منقول ہیں۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا الجمعۃ الی الجمعۃ کفارۃ لما بینھما ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اگر انسان کبائر سے بچتا رہے تو دوسرے چھوٹے چھوٹے گناہ ان کی وجہ تک اگر انسان کبائر سے بچتا رہے تو دوسرے چھوٹے چھوٹے گناہ ان کی وجہ سے معاف ہوتے رہتے ہیں۔ نبی (علیہ السلام) نے ایسے ہی الفاظ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے درمیانی عرصہ کے متعلق فرمائے کہ اللہ تعالیٰ دو نمازوں کے درمیان معمولی لغزشیں ان نمازوں کی برکت سے معاف فرمادیتا ہے سورة ہود میں بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ان الحسنت یذھبن السیات ذلک ذکری للذکرین بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹاتی رہتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا تعالیٰ کو یاد کرنے والے ہیں۔
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے من توضا فحسن الوضو جس نے اچھی طرح وضو کیا یعنی فرائض ، سنن اور مستحبات کی رعایت کرتے ہوئے اور تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے اعلیٰ درجہ کا وضو کیا ، فرمایا خرجت خطایاہ من جسدہ اس کے تمام صغیرے گناہ اس کے جسم سے نکل جاتے ہیں یعنی اس کے ہاتھوں کے یا آنکھوں کے یا منہ کے چھوٹے چھوٹے گناہ خود بخود وضو کی برکت سے دھل جاتے ہیں۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر بندہ نفلی نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت کے دروزے کھل جاتے ہیں۔
سات کبائر
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے 1 ؎ مسلم ص 41۔ ج 1 (فیاض)
کہ حضور ﷺ نے فرمایا اجتنبوا سبع الموبقاتاے لوگو ! سات مہلک گناہوں سے بچنے کی کوشش کرو۔ ان میں سب سے پہلا گناہ اشراک باللہ ہے یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا۔ یہ سب سے زیادہ مہلک گناہ ہے کفر اور شرک انسان کو تباہ کردیتے ہیں۔ فرمایا دوسرا بڑا گناہ قتل نفس ہے۔ کسی کی جان کو ناحق تلف کرنا۔ اس کے بعد سحر یا جادو کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، لڑائی کے دن دشمن سے بھاگ جانا جب کہ دشمن کی تعداد مسلمانوں سے دگنی سے زیادہ نہ ہو۔ اگر دشمن کی تعداد دگنے سے زیادہ ہے تو پھر پیچھے ہٹ جانے سے انسان گنہگار نہیں ہوتا۔ اس کے بعد فرمایا بڑا گناہ قذف المحصنت یعنی پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانا ہے۔ عورتوں یا مردوں پر بدکاری کی تہمت لگانا اور ساتواں گناہ شہادت الزور یعنی جھوٹی گواہی دینا ہے یہ سب اکبر الکبائر میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک یا زیادہ گناہوں کے مرتکب کے لیے معافی نہیں جب تک وہ جیتے جی تو بہ نہ کرے۔ اور توبہ کی شرائط گزشتہ دروس میں گزرچکی ہیں۔
کبائر کا اصول
امام غزالی (رح) اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ کبیرے گناہوں کی تعداد تو بہت زیادہ ہے تاہم اصولی طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کبیرہ گناہ وہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں یا حضور نبی ﷺ کی زبان مبارک نے جہنم کی وعید فرمائی ہے گویا ایسا ہر جرم کبیرہ گناہ میں شامل ہوگا ، جس پر جہنم میں جانے کی وعید آئی ہے۔ فرمایا ہر ایسا گناہ بھی کبیرہ شمار ہوتا ہے جس کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب کا اظہار فرمایا ہے کہ ایسا کرنے والے پر اللہ کا غضب اور ناراضگی ہو یا سخط اللہ علیہ کے الفاظ آتے ہوں۔ اس کا معنی بھی اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضگی ہے فرماتے ہیں کہ ہر وہ گناہ بھی کبیرہ ہے۔ جس کے مرتکب پر حد جاری کرنے کا حکم ہو جیسے چوری۔ زنا۔ قذف ، شراب نوشی وغیرہ ۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ ہر ایسا گناہ جس پر ایسی خرابی مرتب ہو جو کبیرہ گناہ پر مرتب ہوتی ہے تو وہ بھی کبیرہ گناہ شمار ہوگا۔ اگرچہ اس کا ذکر قرآن پاک میں موجود نہ ہو۔۔
کبائر کے تین گروہ
حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے ہمعصر اور ان کے شاگرد ہیں۔ بڑے پائے کے عالم ، نیک اور صالح آدمی تھے۔ آپ حضرت مرزا مظہر جان جاناں (رح) سے بیعت تھے جو کہ عالمگیر (رح) کے خالہ زاد بھائی اور بہت بڑے ولی اللہ تھے۔ قاضی صاحب نے دس جلدوں پر محیط تفسیر مظہری آپ ہی کے نام سے منسوب کی تھی۔ عربی زبان کی یہ نہایت معتبر تفسیر ہے۔ فارسی زبان میں فقہ کی معتبر کتاب مابدمنہ بھی آپ ہی کی تصنیف ہے جو کہ درس نظامی میں پڑھائی جاتی ہے۔ آپ زمانے کے بیہقی مشہور تھے جس طرح صدی ہجری کے امام بیہقی بڑے محدث ہوئے ہیں ، سنن کبریٰ جیسی عظیم کتاب لکھی ہے اسی طرح پانی پتی (رح) بھی بہت بڑے محدث اور فقیہ تھے۔ آپ فرماتے ہیں کہ کبائر کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کبائر کا پہلا گروہ وہ ہے جس میں فکری خرابی پائی جاتی ہے اور انسان کا عقیدہ فاسد ہوجاتا ہے اس گروہ میں کفر ، شرک ، نفاق ، الحاد اور ارتداد وغیرہ جیسے بڑے گناہ شامل ہیں۔ قرآن پاک یا حضور ﷺ کے کسی ثابت شدہ فرمان کو غلط معنی پہنانے والا شخص بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اسی قبیل سے ہے جس نے نبوی کا دعویٰ کیا ، اور قرآن پاک کے معانی الٹ پلٹ کیے۔ مولوی عبداللہ چکڑالوی نے حدیث کا انکار کیا۔ سرسید اہل حدیث کہلانے کے باوجود ایسا بگڑا کہ قرآن حکیم کی غلط تفسیر کی اور بدعقید گی پھیلائی۔ یہی حال موجودہ زمانے کے پرویز کا ہے۔ نیاز محمد فتح پوری بنیادی طورادیب تھا مگر عقیدہ اس کا بھی فاسد ہوگیا۔ عنایت اللہ مشرقی کی تنظیم خاکسار تو درست تھی۔ وہ مسلمانوں کے عہد رفتہ کو واپس لانا چاہتے تھے ۔ مگر عقیدہ صحیح نہیں تھا ، سات سو علماء نے اس کی گمراہی کا فتویٰ دیا۔ اس نے تذکرہ لکھا جس میں غلط مسائل بیان کیے ، ایمان کو کفر اور کفر کو ایمان کا درجہ دیدیا۔ اس قسم کے تمام لوگ کبیرے گناہوں کے پہلے گروہ سے متعلق ہیں جس میں فکری خرابی پائی جاتی ہے۔
کبائر کا دوسرا گروہ ظلم وتعدی سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی کی جان تلف کردی ، کسی کی بےعزتی کی۔ اس کے مال کو نہ حق ضائع کیا یا اس پر قبضہ کرلیا ، یہ کبائر کے مرتکبین کا دوسرا گروہ ہے۔ اسی طرح تیسرے گروہ میں وہ کبائر آتے ہیں جن کا تعلق بندے اور خدا دونوں سے ہے۔ ان جرائم میں قتل نفس ، زنا ، چوری ، شراب نوشی ترک نماز و دیگر فرائض شامل ہیں۔ ان گناہوں کا مرتکب انسان بیک وقت اس بندے کا بھی مجرم ہوتا ہے جس کے ساتھ اس نے زیادتی کی اور اللہ تعالیٰ کا بھی جس کی اس نے صریح حکم میں نافرمانی کی۔
اعتقادی کبائر
اس کے علاوہ بعض اعتقادی کبائر ہیں مثلاً کوئی شخص خدا تعالیٰ کی رحمت سے بالکل مایوس ہوجائے۔ اس کو الیاس من الرحمۃ کہتے ہیں۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بیان قرآن کریم میں موجود ہے۔ ولاتایئسوا من روح اللہ انہ لا یایئس منروح اللہ الا القوم الکفرون آپ نے اپنے بیٹوں کو فرمایا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا کیونکہ اللہ کی رحمت سے کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ اسی طرح امن کو بھی کفر سے تعبیر کیا گیا ہے کوئی شخص ایسا لاپروا ہوجائے کہ اسے آخرت کی فکرباقی نہ رہے اور وہ یہ سمجھنے لگے جائے کہ خدا مجھے کوئی سزا نہیں دے گا ، وہ جو چاہے کرتا پھرے ، یہ نظریہ بھی کفر ہے اور اس کا حامل کبیرہ گناہ کا مرتکب ہے۔
بہرحال مفسرین نے کبائر کی بہت سی اقسام گنوائی ہیں۔ حضور ﷺ نے ان گناہوں کی بڑی تشریح فرمائی ہے۔ ان سے بچنا ضروری ہے۔ اگر انسان کبائر سے بچتا رہے تو چھوٹی موٹی خطائیں خود بخود معاف ہوتی رہتی ہیں۔ زنا کبیرہ گناہ ہے مگر غیر محرم عورت کی طرف دانستہ نظر اٹھانا صغیرہ گناہ ہے۔ کبیرہ گناہ میں فساد اور خرابی زیادہ واقع ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی وجہ سے اخلاق میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی حاصل ہوتی ہے ارتفاقات یعنی لوگوں کے معاشی طور طریقے سب بگڑ جاتے ہیں کبائر میں بہت زیادہ مفسدہ پایا جاتا ہے۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ بعض کبائر مثلاً کفر اور شرک ایسے ہیں کہ اگر زندگی میں توبہ نہیں کرے گا تو یہ معاف نہیں ہوں گے ان کے علاوہ جو باقی کبائر ہیں ، ان کا قانون یہ ہے کہ اگر توبہ کرے گا تو معاف ہوجائیں گے اور اگر ان کا مرتکب توبہ نہیں کرتا ، مگر دل میں ایمان موجود ہے تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ چاہے تو اپنی مہر بانی سے معاف کردے یا کسی نبی یا ولی کی سفارش قبول کرکے معافی دے دے۔ البتہ عقیدے کے فساد کے متعلق اس کا واضح اعلان ہے ان اللہ لا یغفران یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشا اللہ تعالیٰ شرک جیسے بڑے گناہ کو معاف نہیں کرے گا ، اس کے علاوہ جس کو چاہے معاف فرمادے ، یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے۔
انسانی اعضا کے گناہ
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نیک اور صالح لوگ وہ ہیں الذین یجتنبو کبائر الاثم والفوحش الا اللھم (سورۃ نجم) یعنی نیک اور صالح نیک وہ ہیں جو کبیرے گناہوں سے بچتے ہیں مگر لمم (یعنی کچھ آلودگی) لمم کا لفظ حدیث شریف میں بھی آیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ روایت بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان اللہ کتب علی ابن ادم حظہ من الزنا یعنی اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے لیے زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے اور زنا کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ فرمایا فزنا العین النظر یعنی آنکھ کا زنا یہ ہے کہ و ہ غیر محرم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے۔ مرد ہو یا عورت اجنبی کی طرف نظر اٹھانے کی اجازت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نور میں فرمایا ہے کہ مومنوں سے کہہ دو یغضوا من ابصارھم وہ اپنی نگاہوں کو نیچے رکھیں اور عورتوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے یغضضن من ابصارھن کہ وہ بھی اپنی نظریں پست رکھیں۔ ترمذی شریف کی روایت 1 ؎ ترمذی ص و احکام القرآن للجصاص 513 ج 3 وفتح القدیر ص 52/ ج 4 (فیاض)
میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا یاعلی لاتتبع النظرۃ النظرۃ اے علی ! پہلی نظر کے بعد دوسری نظر اٹھا کر نہ دیکھوفان لک الاولی ولیست لک الاخرۃ کیونکہ پہلی نظر تو معاف ہوگی ، دوسری معاف نہیں ہوگی۔ پہلی نظر اچانک ہوتی ہے مگر دوسری اختیار اور ارادے سے پڑتی ہے اس لیے اس کی معافی نہیں۔ اس کا مواخذہ ہوگا۔
الغرض ! آنکھ کا زنا بری نظر سے دیکھنا ہے اور زبان کا زنا اس ضمن میں گفتگو کرنا ہے۔ نفس انسان کا زنا یہ ہے کہ وہ اس کی تمنا کرتا ہے اور پھر اعضائے مستورہ کے ذریعے یا اس کی تصدیق کردیتا ہے یا تکذیب اگر زنا سے بچ گیا تو تکذیب ہوگئی وگرنہ حقیقی زنا کا مرتکب ہوگیا۔ حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے لاتقربو الزنا زنا کے قریب نہ جائو۔ چوری نہ کرو کسی کو ناحق قتل نہ کرو ، کسی پر بہتان نہ باندھو۔ ان سب گناہوں کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان فرمادی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے سباب المومن فسوق وقتالہ کفر یعنی ایک مومن کو گالی دینا نافرمانی اور کبیرہ گناہ ہے اور مسلمان کو ناحق قتل کرنا کفر ہے۔ مسلمان تو ایک دوسرے کی جان کے محافط ہوتے ہیں۔ البتہ کافر مسلمان کی جان کے درپے ہوتے ہیں یہ سب کبائر میں شامل ہیں۔ کل مثال گزرچکی ہے ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل ایک دوسرے کا مال ناحق طریقے سے مت کھائو۔ چوری ، خیانت ، سود ، رشوت ، فواحش کا ارتکاب اور فرائض نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج ، قربانی وغیرہ کی عدم ادائیگی سب کبائر میں شامل ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر کبائر سے بچتے رہوگے تو چھوٹے چھوٹے گناہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے خود ہی معاف فرماتے رہیں گے۔
عزت کا مقام
ایسے مصلحین کے متعلق فرمایا وندخلکم مدخلاً کریما ہم تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے یعنی پورے اعزاز کے ساتھ بڑے اعلیٰ مقام میں داخل کریں گے اور وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا بہشت ہی ہوسکتا ہے۔ دوسرے مقام پر تحبرون کا لفظ آیا ہے یعنی تمہاری بڑی آئو بھگت ہوگی ، جو جنت میں پہنچ جائے گا اس کو ابدی فلاح حاصل ہوجائے گی عزت کے اس مقام میں جسمانی اور روحانی ہر قسم کی سہولتیں حاصل ہونگی ، جو شخص وہاں پہنچ گیا ، اس پاک خطے کا ممبر بن گیا اس کو بہت بڑی کامیابی حاصل ہوگئی جس کی تفصیلات قرآن پاک میں موجود ہیں۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے کبائر کا حکم بیان کردیا ہے کہ یہ بڑے مضر ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کی سوسائٹی اور روحانیت خراب ہوجاتی ہے ۔ خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر ان بڑے بڑے گناہوں سے بچتے رہوگے تو ہم چھوٹی چھوٹی خطائیں خود بخود معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مقام میں داخل کریں گے۔
Ayahs 4:32–33ربط آیات
سورۃ کی ابتدا سے اللہ تعالیٰ نے انسانی حقوق کا زکر فرمایا ، اس ضمن میں یتیموں کے حقوق کا خصوصی تذکرہ ہے جن کے حقوق اکثر غصب کرلیے جاتے تھے۔ عورتوں کے حقوق بھی بیان ہوچکے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں وراثت کا مسئلہ بڑا الجھا ہوا تھا۔ عورتوں ، ضعیفوں اور بچوں کو وراثت سے بالکل محروم کردیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے وراثت کا مکمل قانون نازل فرما کر تمام حقداروں کو ان کے حصے دلوائے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سوسائٹی کی طہارت کا قانون دیابرائی اور فحاشی کے سدباب کے لیے تعزیرات نافذ کیں۔ پھر محرمات نکاح کی تفصیلات بیان فرمائیں اور ان محرمات کی حکمتیں بھی واضح کیں مالی قانون نازل فرماتے ہوئے حکم دیا کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو حفاظت مال کے بعد حفاظت جان کا قانون بھی دیا اور متنبہ کیا کہ کسی فرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کی جان کو ناحق تلف کرے ، حتی کہ خود اپنی جان کو مارنے کی بھی اجازت نہیں بلکہ یہ بھی بہت بڑا جرم ہے جس کا مرتکب سخت سزا کا مستحق ہوجاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے صغائر اور کبائر گناہوں کا تذکرہ فرمایا اور واضح کیا کہ اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے تو چھوٹی چھوٹی خطائیں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور تمہاری نیکیوں کی برکت سے خود بخود معاف کرتا رہے گا۔ اس کے بعد آمدہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں اور مردوں سے متعلق بہت سے معاشرتی مسائل بیان فرمائے ہیں اور ان دونوں کے مقامات کا تعین کیا ہے۔
شان نزول
آج کی آیت کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بعض عورتوں بلکہ ام المومنین ام سلمہ ؓ کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ مرد ہم سے اجر میں بڑھ جاتے ہیں۔ وہ جہاد میں شریک ہو کر اجروثواب کے علاوہ مال غنیمت بھی حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ انہیں وراثت میں بھی عورتوں کی نسبت دگنا حصہ ملتا ہے۔ کاش کہ ہم بھی مرد ہوتیں ، تو دنیا اور آخرت میں وافر حصہ پاتیں۔ عورتوں کے اس خیال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور اس قسم کے خیالات کے اظہار سے منع فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس فرد کو جس جنس میں پیدا کیا اس کی حکمت کے مطابق وہی اس کے لیے بہتر ہے۔
تفریق جنس
ارشاد ہوتا ہے ولاتتمنوا اور نہ تمنا کرو ، نہ خواہش کرومافضل اللہ بہ بعضکم علی بعض اس چیز کی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مرد کو عورت پر جو فضیلت بخشی ہے اور جس کا ذکر آگے تفصیلاً آرہا ہے ، اس کے متعلق ایسی خواہش کا اظہار نہ کرو کہ عورتیں بھی مرد ہوتیں۔ بلکہ یہ تفریق جنس اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے پیدا کی ہے اور اس میں انسان کا اپنا کوئی اختیار نہیں۔ سورة کی ابتداء میں یہ اصول بیان کیا جاچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نسل انسانی کو ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس سے اس کا جوڑا پید کیا وبث منھا رجالاً کثیرا ونساء اور پھر اس جوڑے سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلادیں۔ کسی کو مرد بنا دینا اور کسی کو عورت پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے کلی اختیار میں ہے ۔ سورة شوریٰ میں فرمایا یھب لمن یشاء اناثاً ویھب لمن یشاء الذکور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بیٹیاں دے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ یہ چیز اس کی کمال حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوی الجسم بنیا ہے۔ لہٰذا مشقت کے کام منجملہ جہاد وغیرہ اس کے فرائض میں شامل ہیں۔ اسی طرح وراثت میں اللہ نے مرد کو دگنا حصہ دیا ہے للذکر مثل حظ الانثیین قانون شہادت بھی سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے کہ ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کے برابر ہے اگر دو مرد گواہ میسر نہ ہوں فرجل وامراتن تو پھر ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت ضروری ہے گویا دو عورتیں ایک مرد کے برابر ٹھہریں۔ یہ تفریق اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کی استعداد اور دائرہ کار کے مطابق مستعین کی ہے۔ لہٰذا اس میں کسی کو کلام کرنے کی گنجائش نہیں۔ یہ غیر اختیاری فضیلت ہے اس کی تمنا نہیں کرنی چاہیے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ العیاذ باللہ عورتیں ذلیل یا حقیر ہیں۔
میدان عمل
البتہ جو چیزیں انسان کے اپنے اختیار میں ہیں مدار فوزوفلاح انہی پر ہے۔ اس معاملہ میں مردوزن برابر ہیں۔ ہر کوئی اپنے اختیار کے مطابق زیادہ سے زیادہ محنت کرکے فضیلت حاصل کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فاستبقوالخیرٰت نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو۔ اس میں مرد اور عورت کی کوئی تفریق نہیں۔ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ نیکی حاصل کرسکتا ہے اور نجات کا مدارارسی چیز پر ہے۔ اس آیت میں یہی بات بیان کی گئی ہے للرجال نصیب مما اکتسبو مردوں کے لیے اس چیز میں حصہ ہے جو انہوں نے کمایاوللنساء نصیب مما اکتسین اور عورتوں کے لیے بھی حصہ ہے اس چیز میں سے جو انہوں نے کمایا۔ گویا اس معاملہ میں عورت اور مرد یکساں ہیں جو کوئی جتنی زیادہ نیکی کرے گا اسی کے مطابق اسے فضیلت اور اجروثواب حاصل ہوگا۔ اسی مضمون کو دوسرے مقام پر اسی طرح فرمایا ولکل درجت مما عملوا یعنی ہر مردوزن کو اپنے اعمال کی نسبت سے درجہ حاصل ہوگا۔ لہٰذا اعمال کا میدان مرد اور عورت ہر ایک کے لیے کھلا ہے۔ جو اس میدان میں جتنا زیادہ عمل کرے گا اتنا ہی خدا تعالیٰ کے ہاں برگزیدہ ہوگا۔
دائرہ کار
اللہ تعالیٰ نے مرد وزن کے لیے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار مقرر فرمایا ہے اور اسی کے مطابق اس سے باز پرس ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو فطرتاً قوی الجسم بنایا ہے تاکہ مشقت کے کام انجام دے سکے مرد یہ کام اپنی ودیعت شدہ طبیعت کے مطابق کرتا ہے۔ دن بھر کی محنت ، مزدوری کھیتی باڑی ، جنگ وجدال وغیرہ مرد کے ذمہ ہیں۔ برخلاف اس کے عورت صنف نازک ہے۔ وہ محنت ومشقت کے کام انجام نہیں دے سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی جسمانی ساخت ایسی بنائی ہے کہ وہ نسبتاً کم محنت طلب کام ہی کرسکتی ہے اس کے علاوہ اللہ نے اسے بچوں کی پیدائش کا ذریعہ بنایا ہے اور پھر بچوں کی محبت ، ان کی دیکھ بھال ، پرورش اور جذبہ خدمت عورت کی فطرت میں داخل کردیا ہے۔ لہٰذا وہ یہ امور انجام دے کر اپنی فطرت کے تقاضے پورے کرتی ہے اور اس میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتی۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے لیے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار متعین کردیا ہے جس کے اندر رہ کر اپنی زندگی گزارتے ہیں اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت بخشی ہے۔
موجودہ زمانے میں اللہ تعالیٰ کی اس تقسیم کار کے برخلاف عورتوں اور مردوں کو برابر کی سطح پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مردوں کے میدان عمل میں عورتوں کو گھسیٹا جارہا ہے اور یہ عام پراپیگنڈہ ہورہا ہے کہ مردوزن ایک ہی گاڑی کے دو برابر پئیے ہیں لہٰذا انہیں ہر معاملہ میں برابری حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ آج عورت کو دفتروں ، کارخانوں ، ہسپتالوں اور فوج میں لایا جارہا ہے۔ یہی چیز عورت کی فطرت کے خلاف ہے عورتیں خود بھی مردوں کے شانہ بشانہ چلنے اور دوش بدوش کام کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ جس کی وجہ سے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں ۔ مولنا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اضطراری حالت میں عورتوں کو بعض کام تفویض کردئیے جائیں تو روا ہے وگرنہ عام حالات میں ان کا مردوں کے ساتھ کھلے عام میل ملاپ معاشرتی برائیوں کو جنم دیتا ہے۔
عورتوں کو گھر سے باہرفرائض انجام دینے میں بعض مالی نقصانات بھی ہیں۔ کسی کارخانے یا دفتر میں ملازمت کی صورت میں اسے حمل اور زچگی کے دوران رخصت دینا پڑے گی اور اس کے ساتھ تنخواہ اور دیگر واجبات بھی ادا کرنے ہوں گے۔ اس طرح عورت ہر بار تین چار ماہ کے لیے معطل ہو کر رہ جائے گی جب کہ اس کی تنخواہ وغیرہ کا بار متعلقہ ادارے کے سر پر موجود رہے گا اور اس طرح عورت کی ملازمت مرد کی نسبت مہنگی پڑے گی۔ بہرحال فطرت نے مردوزن کے لیے دائرہ کار مقرر کیا ہے اس کے اندر رہ کر ہی چین و سکون کی زندگی بسر کی جاسکتی ہے۔ یورپی ممالک نے عورت کی مساوات کا سب سے پہلے تجربہ کیا ہے چناچہ وہاں کے بڑے بڑے مدبر اور فلاسفر اسی نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ اس نظام میں بہت زیادہ خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
کبھی وہ زمانہ تھا جب عیسائیت اپنے غلط تاثر کی بنا پر عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتی تھی اور اب یہ حالت ہے کہ عورت کو مردوں سے بھی آگے بڑھادیا ہے مردوں کے تمام امورعورتوں کے سپرد کردئیے گئے ہیں۔ اس کے اثرات اخلاق نسل اور معاشرت پر پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے ہر جگہ خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔ غیر معمولی (AB NORMAL) حالات میں تو ایسا ہوسکتا ہے ۔ ناگزیر حالات میں حضور ﷺ عورتوں کو جنگ میں بھی ساتھ لے جاتے تھے مگر معمولی حالات میں عورتوں کے متعلق حکم یہی ہے وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی کہ وہ اپنے گھروں میں رہ کر امور خانہ داری انجام دیں اور زمانہ جاہلیت کی طرح اظہار زینت نہ کریں۔ اگر مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش کرینگی تو یہ خلاف فطرت ہوگا اور غیر فطری امور کو جنم دے گا۔
فضل کی طلب
فرمایا واسئلوا اللہ من فضلہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل طلب کرتے رہنا چاہیے کہ وہ نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے اور جو اچھے کام انجام دئیے ہیں ان کے ثمرات بڑھادے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واللہ یختص برحمۃ من یشاء اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے مخصوص کرلیتا ہے ۔ اس کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ واللہ ذوالفضل العظیم اور اللہ تعالیٰ کا فضل بڑا عظیم ہے لہٰذا اس سے اس کا فضل طلب کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نہ مانگنے سے ناراض ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے من لم یسئل اللہ یغضب علیہ انسان کو اپنی عاجزی پر ہمیشہ نظر رکھنی چاہیے اور اس کے عجزوانکسار کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اپنے رب کے فضل کا طلب گار رہے۔
فرمایا ان اللہ کان بکل شئی علیما بیشک اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جاننے والا ہے۔ اس نے مرد کو مرد اور عورت کو عورت بنایا۔ وہ ان دنوں کی صلاحیتوں کو بھی جانتا ہے اور ان کی استعداد بھی اس کے علم میں ہے۔ اس مالک الملک نے مرد اور عورت کے لیے علیحدہ علیحدہ دائر ہائے کار مقرر کردئیے ہیں۔ انسانوں کا فرض ہے کہ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر زندگی بسر کریں اور اسی دائرہ میں محنت ولگن کے ساتھ کمال حاصل کریں۔ نیک اعمال میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت سے باز رہیں جو کہ فطرت انسانی کے خلاف ہے۔
موالات کا قانون
وراثت کے مفصل قوانین اسی سورة کے ابتدائی حصہ میں بیان ہوچکے ہیں۔ جاہلیت کے زمانہ میں یہ ایک رسم تھی کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ دوستی یا بھائی چارہ کرلیتا تھا تو وہ آپس میں نفع نقصان میں مشترک سمجھے جاتے تھے ایک شخص کے مرنے پر دوسرا آدمی اس کی وراثت کا بھی حق دار ہوتا تھا۔ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں اس رواج کو اسلام نے بھی روا رکھا چناچہ ہجرت مدینہ کے بعد حضور ﷺ نے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کو آپس میں رشتہ اخوت میں منسلک کردیا۔ چناچہ یہ بھائی بھائی ایک دوسرے کی وراثت میں بھی حصے دار ہوتے تھے۔ اس کے بعد جب اسلام کو تقویت حاصل ہوگئی اور مسلمانوں کی مشکلات کم ہوگئیں تو یہ قانون اٹھا دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے سورة احزاب کی یہ آیت نازل فرمائی والوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتب اللہ یعنی رشتہ دار اور قرابت دارہی وراثت کے حق دار ہیں۔ چناچہ پہلا سلسلہ ختم کردیا گیا۔
ولاء کی ایک یہ صورت بھی اسلام میں روا رکھی گئی۔ اگر کوئی شخص اپنے عزیز و اقارب کو دور دراز علاقے میں چھوڑکر مسلمانوں کے پاس آجاتا تھا اور اسلام قبول کرلیتا تھا۔ تو جس شخص کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہوتا وہ آدمی اس کا بھائی بند بن جاتا۔ چونکہ یہ وراثت کا عام قانون ہے لایرث المسلم الکافرو ولا الکافرالمسلم یعنی مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوسکتا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں بنتا ، لہٰذا مذکورہ بالا بھائی چارے میں شامل دو مسلمان ایک دوسرے کی وراثت کے حق دار ہوتے تھے۔ یہ قانون اب بھی جاری ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص موجود ہو جس کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود نہ ہو تو اس کی وراثت کا مال امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اس شخص کو جائے گا جس کے ہاتھ پر وہ مسلمان ہو کر اس کا بھائی بن گیا۔ البتہ اما م شافعی (رح) کے نزدیک جس شخص کا کوئی حقیقی مسلمان وارث موجود نہ ہو اس کا ترکہ بیت المال میں جمع ہوگا۔
تضرر حصص وراثت
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولکل جعلنا موالی اور ہر شخص کے لیے ہم نے وارت مقرر کیے ہیں مما ترک الوالدان والاقربون اس ترکہ کے لیے جو والدین اور قرابتداروں نے چھوڑا ہے جیسا کہ وراثت کے قانون میں بیان ہوچکا ہے ورثا میں سے پہلا نمبر ذوی الفروض کا ہے۔ اس سے مراد وہ رشتہ دار ہیں جن کے حصے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مقرر فرمادئیے ہیں۔ دوسرے نمبر پر عصبات یعنی وہ قرابتدار ہیں جن کے حصے تو مقرر نہیں مگر۔ ذوی الفروض سے بچ جانے والا مال ان کو مل جاتا ہے۔ اور پھر تیسرے نمبر پر ذوی الارحلم ہیں جو دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں اگر مال پہلے دو قسم کے عزیزوں سے بچ جائے یعنی وہ دونوں قسم کے وارث موجود نہ ہوں تو تیسرے نمبر والوں کو مل جاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے وارث مقرر کردئیے ہیں اس مال کے لیے جو والدین یا رشتہ دار چھوڑ کر فوت ہوجائیں۔
وصیت کا قانون
البتہ فرمایا والذین عقدت ایمانکم جن کے ساتھ تمہاری قسمیں پختہ ہوچکی ہیں ، یعنی سوالات اور بھائی چارے کا عہد و پیمان ہوچکا ہے۔ فاتوھم نصیبھم انہیں ان کا حصہ دے دو ۔ مطلب یہ ہے کہ اب وراثت میں تو ان کا حصہ نہیں ہے ، البتہ وصیت کے طور پر ان کی حوصلہ افزائی کردو۔ وراثت کا یہ قانون ہے کہ کوئی شخص کسی غیر وارث کے لیے کل مال کے زیادہ سے زیادہ تیسرے حصے کی وصیت کرسکتا ہے۔ اب اگر دو شخصوں کے درمیان بھائی بندی کا پختہ عہد ہوچکا ہے۔ تو وہ ایک دوسرے کے لیے کچھ مال کی وصیت کرسکتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوسرے کو کل ترکہ سے اتنا حصہ ادا کردیا جائے اور ایسا کرنا بالکل جائز ہوگا۔ کیونکہ وراثت کی تقسیم قرضہ (اگر کوئی ہو) کی ادائیگی اور وصیت (اگر کوئی ہو) کو پورا کرنے کے بعد ہوتی ہے۔
فرمایا ان اللہ کان علی کل شی شھیداً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگران اور محافظ ہے ۔ تمام چیزیں اس کے سامنے ہیں اس لیے وہ سب پر گواہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کس استعداد کا حامل ہے اور کس کو کس مقام پر رکھا ہے لہٰذا وہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق ہر ایک کا دائرہ کار مقرر کرتا ہے۔ اس لیے اہل ایمان کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کریں اور غیر فطری امور سے گریز کریں حتی الامکان نیکی کریں تاکہ انہیں فلاح حاصل ہوسکے۔
Ayah 4:34رابط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو منع فرمایا تھا کہ وہ اس قسم کی خواہش نہ کریں کہ وہ مرد ہوتیں تو وہ بھی بڑے بڑے کام انجام دیتیں ، فرمایا ایسی تمنا کرنا غلط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو بعض دوسروں پر فطری طور پر فضیلت بخشی ہے۔ یہ اس مالک الملک کی حکمت اور منشاء کے مطابق ہے۔ لہٰذا کسی انسان کے لیے لائق نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود کو توڑ کر دوسری طرف جانے کی کوشش کرے۔ یہ اللہ کے ہاں ناپسندیدہ فعل ہے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کی فضیلت کی وجوہات اور بعض دوسرے معاشرتی مسائل بیان فرمائے ہیں۔
مرد بطور حاکم
فرمایا للرجال قومون علی النسائمرد عورتوں پر حاکم ہیں قوام اور قیام کا معنی نگران ، محافظ یا کسی کام کو انجام دینے والے کا ہوتا ہے بعض مفسرین نے جن میں مولانا شیخ الہند (رح) بھی ہیں اس لفظ کا ترجمہ حاکم کیا ہے دراصل حاکم بھی نگران اور محافظ ہی ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مرد عورتوں پر نگران یا محافظ ہیں۔ یا ان کے حاکم ہیں۔ مردوں کو یہ فضیلت خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ جہاں انسانی سوسائٹی ہوگی وہاں رئیس اور مرئوس کا معاملہ تو ضرور ہوگا ایک حاکم ہوگا دوسرا محکوم ایک نگران ہوگا۔ دوسرا ماتحت تو ان میں سے اعلیٰ حیثیت اللہ تعالیٰ نے مرد کو عطا کی ہے گویا مرد حاکم ہے اور عورت محکوم سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف وللرجال علیھن درجۃ یعنی جس طرح مردوں کے حقوق ہیں اسی طرح عورتوں کے بھی حقوق ہیں۔ مگر مردوں کو عورتوں پر ایک خاص فضیلت اور درجہ حاصل ہے۔
فطری فضیلت
مردوں کو عورتوں پر فضیلت عطا کرنے کی اللہ تعالیٰ نے دو وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ ایک وجہ فطری ہے اور دوسری اختیاری۔ تو فرمایا کہ مردوں کو عورتوں کا نگران بنایا گیا ہے ، اس وجہ سے بمافضل اللہ بعضھم علی بعض کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض یعنی مردوں کو بعض یعنی عورتوں پر فضیلت بخشی ہے ۔ یہ فطری برتری کئی وجوہ سے ہے۔ مثلاً عقل کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو وافر حصہ عطا فرمایا ہے۔ اسی طرح دین کے معاملہ میں بھی مردوں کو زیادہ سمجھ عطا کی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلہ میں ناقصات عقل اور ناقصات دین ہیں۔ ایک سمجھدار عورت نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی خدمت میں عرض کیا۔ حضور ! ہماری عقلوں میں نقصان کی کیا وجہ ہے فرمایا ، عورتوں میں نسیان کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ دیکھتی نہیں ، اللہ نے دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ٹھہرائی ہے۔ کیا یہ عقل کا نقصان نہیں ؟ پھر اس عورت نے عرض کیا ، حضور ! ہمارے دین میں نقصان کی کیا وجہ ہے ۔ تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو عورت ہر ماہ کتنے دن بیٹھی رہتی ہے نہ وہ نماز پڑھ سکتی ہے ، نہ روزہ رکھ سکتی ہے ، نہ قرآن پاک کو چھو سکتی ہے اگرچہ یہ چیز اس کے لیے غیر اختیاری ہے مگر دین کا نقصان تو ہے۔ اسی طرح زچگی کے دوران بھی عورت نماز اور روزہ سے محروم رہ جاتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں ان کا یہ نقصان ہی تو ہے۔
شرعی گواہی کے معاملہ میں جہاں بعض معاملات میں عورتوں کا نصاب ایک مرد کے مقابلے میں دو سے رکھا گیا ہے وہاں حدود اور قصاص کے معاملہ میں عورت کی گواہی قابل قبول ہی نہیں…… عاقل اور بالغ مرد مسلمان گواہی دیں گے تو حد جاری ہوگی ، ورنہ نہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اور جمعہ کا قیام عورتوں کے ذمہ نہیں ہے۔ یہ صرف مرد ہی قائم کرسکتے ہیں۔ اس سورة کی ابتداء میں گزر چکا ہے کہ مرد بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے مگر کوئی عورت ایک وقت میں ایک سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتی۔ اس معاملہ میں بھی مردوں کو قدرتی فضیلت حاصل ہے۔ طلاق کا حق بھی مرد کو ہی ہے ، عورت کو یہ حق اللہ نے نہیں دیا۔
سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے ” بیدہ عقدۃ النکاح “ کی گروہ کھولنا مرد کے ہاتھ میں ہے۔ عورت کو طلاق کا حق تفویض نہیں کیا گیا۔
وراثت کے حصص کے متعلق اسی سورة کی ابتداء میں گزر چکا ہے۔ للذکر مثل حظ الانیثین ایک مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ مردوں کو اس لحاظ سے بھی فضیلت حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت مردوں کے ساتھ مخصوص کردیا ہے۔ سورة انبیاء میں موجود ہے۔ ” و ما ارسلنا قبلک الا رجالاً نوحی الیہم “ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی مبعوث فرمائے سب مرد تھے کسی عورت کو کبھی نبی نہیں بنایا گیا۔ اسی طرح ولایت ، تولیت یا سرپرستی بھی مردوں تک محدود ہے ، عورت کو تولیت نہیں ملتی۔ جب تک کسی کا باپ ، بیٹا یا بھائی موجود ہے ، وہی ولی ہوں گے۔ ہاں ! اگر مردوں میں سے کوئی بھی باقی نہ ہو تو تولیت عورت کی طرف منتقل ہوتی ہے۔ اس معاملہ میں بھی مردوں کو فوقیت حاصل ہے۔
اس کے علاوہ تمام اعمال شاقہ یا اجتماعی امور اللہ تعالیٰ نے مردوں کے سپرد کیے ہیں۔ نظام حکومت و خلافت بڑامحنت طلب اور ذمہ داری کا کام ہے۔ یہ عورتوں کے بس کا روگ نہیں۔ جب ایرانیوں نے کسریٰ کی بیٹی بوران کو بادشاہ بنادیا تو حضور ﷺ نے فرمایا یفلح قومٌ و لو امرہم امرأۃً وہ قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی جس نے اپنے اجتماعی معاملات عورت کے ہاتھ میں دے دیے۔ کوئی عورت زبردستی حاکم بن جائے تو علیحدہ بات ہے ورنہ وہ اس کے لائق نہیں ہے۔ بعض فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عورت قاضی بھی نہیں بن سکتی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی مقدمہ کا فیصلہ کرتے وقت اس کی حالت درست نہ ہو اور وہ غلطی کر جائے۔ تاہم امام ابوحنیفہ (رح) اور ابن حزم (رح) وغیرہ کہتے ہیں کہ عورت بعض معاملات میں قاضی بن سکتی ہے۔ یہ تمام باتیں قدرتی (NATURAL) ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کے مقابلہ میں مرد کو برتر بنایا ہے۔
اختیاری فضیلت
اب مرد کی فوقیت کی دوسری اور اختیاری فضیلت اس وجہ سے ہے و بما انفقوا من اموالہم کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں ، عورت کا نان نفقہ ، رہائش ، لباس وغیرہ مرد کی ذمہ ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق ضروریات زندگی مہیا کرنے کا پابند ہے جیسے فرمایا ” علی الموسع قدرہ و علی المقتر قدرہٗ “ یعنی خوشحال آدمی اپنی حیثیت کے مطابق خرچ کرے اور تنگ دست اپنی مالی حالت کے مطابق۔ اس کے علاوہ نکاح کا مہر بھی مرد کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ مردکماتا ہے اور عورت پر خرچ کرتا ہے ، لہٰذا قدرتی طور پر اسے برتری حاصل ہوجاتی ہے عام حالات میں عورت کے ذمہ لازم نہیں کہ وہ محنت مزدوری کرے ، البتہ مرد کے ساتھ بعض معاملات میں تعاون کرسکتی ہے۔ ہاں اگر کوئی غیر معمولی حالات پیدا ہوجائیں ، تو اضطراری صورت میں بعض ناجائز چیزیں بھی مباح ہوجاتی ہیں وگرنہ نارمل حالات میں عورت گھر کی چار دیواری میں رہ کر گھر کا نظم و نسق چلانے اور بچوں کی پرورش کی ذمہ دار ہے۔
نیک عورت کے اوصاف
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اچھی اور نیک عورتوں کی تعریف بھی فرمائی ہے فالصلحت قنتٌ نیک عورتیں وہ ہیں جو اطاعت گزار ہیں۔ اطاعت سے مردپہلے اللہ اور اس رسول کی اطاعت ، پھر اپنے خاوند کی اطاعت ہے۔ مسند امام احمد (رح) کی روایت میں موجود ہے جسے امام اصفہانی (رح) نے بھی نقل کیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے المرأۃ اذا صلت خمسھا وصامت شہرھا و احصنت فوجھا و اطاعت بعلھا فلتدخل من ای ابواب الجنۃ شاء تجو عورت پانچ نمازیں پڑھے۔ رمضان کے روزے رکھے اپنے ناموس کی حفاظت کرے… اور اپنے خاوند کی اطاعت کرے ، فرمایا جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس میں چاہے داخل ہوجائے خاوند کی اطاعت کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا لو کنت امر احداً ان یسجد لاحد لامرت المرۃ ان تسجد لزوجھا اگر میں کسی مخلوق کو کسی مخلوق کے لیے سجدے کا حکم دیتا ، تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ مگر سجدہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو روا نہیں۔ عورت کے ذمہ خاوند کی اطاعت ہی بڑی ذمہ داری اور ایک اچھی صفت ہے۔
فرمایا اچھی عورت کی دوسری صفت یہ ہے حفظتٌ للغیب خاوند کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور اپنی ناموس کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ خاوند کا مال فضول اڑا دینا بُری صفت ہے بما حفظ اللہ اس واسطے کہ اللہ نے حفاظت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس لحاظ سے عورت راعی اور محافظ بن جاتی ہے۔ خاوند کی خون پسینے کی کمائی کفایت شعاری کے ساتھ جائز امور پر صرف کرتی ہے۔ یہ تھے نیک عورتوں کے اوصاف۔
نافرمان عورتیں
آگے نافرمان عورتوں کے متعلق فرمایا والتی تخافون تشوزھن اور وہ عورتیں جن کی نافرمانی کا تمہیں خوف ہے۔ یعنی اگر تمہاری عورتیں اطاعت سے گریز کرتی ہیں اور اپنی من مانی کرتی ہیں تو ان کی اصلاح کے متعلق فرمایا فعظوھن ایسی عورتوں کو نصیحت کرو ، زبانی تنبیہی ا فہمائش کرو۔ اسے سمجھانے کی کوشش کرو۔ اگر سلیم الفطرت ہوگی تو راہ راست پر آ جائیگی۔ اگر نہ سمجھے واھجروھن فی المضاجع تو انہیں خواب گاہوں سے علیحدہ کردو۔ اپنے ساتھ مت سونے دو ۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے سے ہی عورت سمجھ جائے کہ خاوند ناراض ہے اسے اپنی اصلاح کرنی چاہئے۔ اگر پھر بھی نافرمانی سے باز نہیں آتی ہے تو تیسری صورت یہ ہے۔ واضربوھن انہیں مارو۔ معمولی تھپڑ وغیرہ مارو ، یہ سزا ادب اور تنبیہ کے لیے ہے ، نہ کہ انتقام کے طور پر۔ لہٰذا بہت زیادہ نہ مارو ، ہو سکتا ہے کہ عورت اس سرزنش سے اطاعت پر آمادہ ہوجائے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں اپنی عورتوں کے متعلق شکایت کی کہ وہ ہماری اطاعت نہیں کرتیں۔ آپ نیف رمایا ، ان کی پٹائی کرو۔ اس اجازت پر لوگوں نے نافرمان عورتوں کو بےتحاشا مارنا شروع کردیا ، سرزنش کی حدود کو قائم نہ رکھ سکے۔ اس پر عورتوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں شکایت کی کہ ابن کے خاوند انہیں بہت زیادہ سزادیتے ہیں۔ حدیث شریف کے الفاظ ہیں۔ لقد طاف بال محمدٍ سبعون امرۃً یعنی ہمارے گھر میں ستر عورتوں نے آ کر شکایت کی ہے اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ، یہ درست نہیں ہے۔ مارنے کی اجازت محض تنبیہ کے لیے دی گئی تھی۔ بہت زیادہ مارنا مقصود نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر مارنے کی نوبت ہی آجائے واضربوھن غیر مجرحٍتو ایسی مار نہ مارو کہ کوئی ہڈی پسلی ٹوٹ جائے۔ یہ زیادتی ہے۔
حجۃ الوداع والی حدیث میں عورتوں کے متعلق آتا ہے۔ کہ دیکھو ! تمہارے اور تمہاری عورتوں کے ایک دوسرے پر حق ہیں۔ اگر وہ کوئی ایسا کام کریں تو انہیں معمولی جسمانی سزا دو ۔ عورتوں سے بہتر سلوک کرو۔ کہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی مانند ہیں۔ تمہارے ماتحت ہیں۔ ان کو کھلاؤ ، پلاؤ ، کپڑا پہناؤ ، ان کی رہائش کا بندوبست کرو۔ اگر وہ نافرمانی کریں۔ تو معمولی ضرب لگاؤ ، چہرے پر مت مارو ، اتنا نہ مارو کہ زخمی کر دو یا کوئی عضو بیکار ہوجائے۔
فرمایا۔ فان اطعنکم پس اگر وہ تمہاری اطاعت پر آمادہ ہوجائیں فلاتبغوا علیھن سبیلاً تو ان پر کوئی الزام تراشی نہ کرو ، نہ ان کے لیے کوئی راستہ یا حیلہ بہانہ تلاش کرو۔ جب عورت نافرمانی سے باز آگئی ، مقصد حاصل ہوگیا ، تو اب کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ یاد رکھو ! اللہ نے تمہیں برتری عطا کی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمہیں ان پر ہر جائز ناجائز کا اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کے اندر رہ کر معاملات کو طے کرو۔ ان اللہ کان علیاً کبیراً بیشک اللہ تعالیٰ بلند اور بڑا ہے۔ اس کے احکام کو مدنظر رکھو۔ اگر خلاف ورزی ہوئی تو پھر اس کی گرفت بھی بڑی سخت ہے۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بھی تنبیہ کردی کہ وہ بھی حدود کے اندر رہیں۔
Ayah 4:35ربط آیات
گزشتہ درس میں عورتوں پر مردوں کی فضیلت کا ذکر تھا۔ اور مردوں کو عورتوں کا نگران ، محافظ اور حام بنائے جانے کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس فضیلت کی اور وجوہات بھی بیان فرمائیں۔ پہلی وجہ تو فطری ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور ارادے سے مرد کو مرد اور عورت کو عورت بنادیا اور مرد کے قویٰ میں وہ استعداد اور اہلیت رکھ دی جس کی وجہ سے اسے عورت پر برتری حاصل ہوئی اور دوسری اختیاری ہے کہ مرد محنت مشقت کرکے روزی کماتا ہے اور پھر عورت پر خرچ کرتا ہے ، اس لیے بھی اس کو فوقیت حاصل ہے۔ پھر فرمایا نیک عورتیں وہ ہوتی ہیں جو اطاعت گزار ہوں اور مرد کی غیر حاضری میں اس کے مال اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتی ہیں۔ البتہ جن عورتوں کی طرف سے نافرمانی کا خوف ہو ، فرمایا کہ انکی اصلاح کا طریق کار یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں نصیحت کرو کہ درست ہوجائیں۔ اگر حالات درست نہ ہوں تو فرمایا پھر انہیں پانی خواب گاہوں سے علیحدہ کر دو ۔ ہو سکتا ہے کہ سمجھ جائیں کہ تم ان سے ناراض ہو۔ فرمایا اگر اس کے باوجود اصلاح نہ ہو تو انہیں مارو یعنی جسمانی سزا دو ۔ اور یہ سزا بھی معمولی درجے کی ہو جس کا مقصد تادیب ہو۔ یہ سزا انتقامی کارروائی کی شکل نہ اختیار کر جائے۔ پھر یہ بھی کہ یہ تینوں طریقے یکے بعد دیگرے استعمال کرو ، بیک وقت نہیں۔ اس کے بعد اگر وہ اطاعت پر آمادہ ہوجائیں تو پھر ان کے ساتھ زیادتی کا کوئی راستہ تلاش نہ کرو ، بلکہ اب خوش اسلوبلی سے گزر اوقات کرو۔
مصالحتی کمیٹی
اگر مذکورہ تینوں طریقے ناکام ہوجائیں اور میاں بیوی میں اصلاح نہ ہو سے تو پھر وہ طریقہ اختیار کرو جو آج کے درس کا موضوع ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ غلطی ہمیشہ عورت کی ہو ، بعض اوقات مرد کی طرف سے بھی زیادتی کا امکان ہو سکتا ہے۔ لہٰذا فرمایا و ان خفتم اگر تمہیں خوف ہو شقاق بینھما دونوں (بیوی خاوند) کے درمیان اختلاف کا ، تو پھر وہ کارروائی عمل میں لاؤ جس کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہاں پر خفتم کے مخاطبین تین قسم کے لوگ ہیں۔ پہلے نمبر پر مرد اور عورت کے سرپرست ، دوسرے نمبر پر جماعت المسلمین یعنی گلی ، محلے یا گاؤں کے لوگ آگے آئیں اور اگر ایسی بھی صورت نہ ہوت و پھر عمال حکومت کا فرض ہے کہ میاں بیوی میں صلح صفائی کے لیے کارروائی کریں۔
فرمایا میاں بیوی میں ناچاقی کو ختم کرنے کے گزشتہ درس میں مذکورہ تینوں حربے یعنی نصیحت ، بستر سے علیحدگی اور مارپیٹ ناکام ہوجائیں تو پھر فابعثوا حکماً من اہلہ مرد کے خاندان میں سے ایک حکم متصف ، ثالث یا مصالحت کنندہ کھڑا کرو وحکماً من اہلھا اور ایسا ہی ایک آدمی عورت کے خاندان سے مقرر کرو ، جو دونوں کے حالات سے واقف ہوں اور میاں بیوی کی ذہنی استعداد اور ان کے عادات و خصائل سے بھی باخبر ہوں۔ یہ دو آدمی سرجوڑ کر بیٹھیں اور باہمی مشاورت سے مرد و زن کے درمیان مصالحت کی بنیاد تلاش کریں اور پھر ان کے درمیان صلح کرا دیں اگر خاندان سے دو مناسب آدمی نہ مل سکیں تو پھر کوئی دوسرے اشخاص بھی مقرر کیے جاسکتے ہیں۔ مقصد وہی ہے کہ میاں بیوی کے حالات سے زیادہ سے زیادہ باخبر ہوں تاکہ انہیں کسی نتیجے پر پہنچنے میں آسانی ہو۔
اس طریقے سے مقرر کیے گئے مصالحت کنندگان کے فیصلے کو شریعت میں معتبر سمجھا جاتا ہے بعض دیگر معاملات میں بھی حکم مقرر کرنے کا حکم موجود ہے۔ اس طرح کی قائم کردہ مصالحتی کمیٹی کو اگرچہ عدالت کا درجہ تو حاصل نہیں ہوتا ، تاہم اس کا فیصلہ عدالت کے فیصلہ کی طرح ہی قابل قبول ہوتا ہے۔ فریقین کے لیے لازمی ہے کہ اپنی مقرر کردہ مصالحتی کمیٹی کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کریں۔ ہاں ! بعض اوقات فیصلے میں بوجوہ غلطی بھی ہو سکتی ہے یا کسی ایک طرف طرفداری محسوس ہوتی ہے تو ایسی صورت میں باقاعدہ عدالت میں اپیل بھی کی جاسکتی ہے اور اگر اصلاح کی کوئی صورت باقی نہ رہے تو پھر عدالت مجاز ہے کہ فریقینکے درمیان تفریق کرا دے۔
خلافت عثمان ؓ کی ایک مثال
حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت میں حضرت عقیل ؓ کا ایک ایسا ہی معاملہ پیش آیا۔ حضرت عقیل ؓ جنگ بدر میں کفار کی طرف سے شامل ہوئے تاہم فتح مکہیا اس کے قریبی زمانہ میں لحقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ اس کے بعد ایک موقع پر حضرت علی ؓ سے ناراض ہو کر حضرت امیر معاویہ ؓ سے جا ملے تھے۔
بہرحال حضرت عقیل ؓ نے فاطمہ ؓ بنت عتبہ سے نکاح کیا تھا۔ عتبہ ، ربیعہ اور ولید وغیرہ غزوہ بدر میں مارے گئے تھے۔ یہ خاندان تو وہی ہے جو حضور ﷺ اور حضرت علی ؓ کا یعنی خاندان عبد مناف ہے حضرت عقیل ؓ اور فاطمہ ؓ کے درمیان بعض اوقات مزاح بھی ہوتا تھا اور بات بڑھ بھی جاتی تھی تو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میاں بیوی کے درمیان کسی بات پر گفتگو ہو رہی تھی کہ فاطمہ ؓ نے پوچھا اس کا باپ عتبہ اور ربیعہ وغیرہ کہاں ہیں تو عقیل ؓ کہنے لگے ، وہ تمہاری بائیں جانب جہنم میں ہوں گے۔ حضرت فاطمہ ؓ نے اس بات کا بُرا منایا اور حضرت عثمان ؓ کی عدالت میں عقیل ؓ کے خلاف شکایت کردی کہ اس کے خاوند نے اسے یہ بات کر کے ذہنی کوفت پہنچائی ہے۔ حالانکہ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اس قسم کا مذاق نہیں ہونا چاہیے۔ مرنے ولاے اپنے نتائج کو پہنچ چکے ہیں۔ لہٰذا ان کے متعلق کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے۔ جس سے ان کے پس ماندگان کی دل آزاری ہو۔ فاطمہ ؓ مسلمان ہے اگر اس کا باپ کفر کی حالت میں مر گای ، ت و اب اس کو جتلانے کی کیا ضرورت ہے اس قسم کا مذاق اچھا نہیں ہوتا۔
عورتوں کی کمزوری
مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمران ابن حصین ؓ کی دو بیویاں تھیں۔ ان کی آپس میں بڑی کھٹ پٹ رہتی تھی۔ اسی طرح ایک دوسرے شخص کی بھی دو بیویاں تھیں اور ان کی حالت بھی کچھ مختلف نہ تھی۔ ایک دفعہ ا یسا ہوا کہ یہ شخص حضرت عمران ؓ سے مل کر گھر آیا تو ایک بیوی نے پوچھا تم کہاں تھے کہنے لگا حضرت عمران ؓ سے مل کر آ رہا ہوں بیوی نے کہا تم غلط بیانی کر رہے ہو ، تم تو دوسری بیوی کے ہاں سے آئے ہو۔ بہرحال اس نے انکار کیا اور یوں کہا کہ میں نے حضرت عمران ؓ سے ایک حدیث سنی ہے کہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا اقل ساکن الجنۃ النساء یعنی جنت میں جانے والی بہت کم عورتیں ہونگی کیونکہ ان کی اکثریت جہنم میں جائے گی۔ حضور ﷺ کا ایک اور فرمان یہ بھی ہے یا معشر النساء رئتیکن اکثر اہل النار یعنی اے عورتوں کا گروہ ! میں نے تمہاری زیادہ تعداد دوزخ میں دیکھی ہے۔ لہٰذا خدا کا خوف کیا کرو اور صدقہ خیرات وغیرہ کیا کرو۔ ایک عورت نے عرض کیا ، حضور ! عورتوں کی اکثریت کا دوزخ میں جانے کی کیا وجہ ہے تو آپ نے فرمایا تکفون العشیر تم خاوند کی ناشکری بہت کرتی ہو۔
بہرحال جب حضرت فاطمہ ؓ نے عقیل ؓ کی شکایت دربار عثمان ؓ میں پیش کی تو حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں ان دو کے بارے میں دو حکم مقرر کرتا ہوں۔ چناچہ فاطمہ ؓ کے خاندان سے حضرت معاویہ ؓ حکم مقرر ہوئے اور عقیل ؓ کے خاندان سے عبداللہ بن عباس ؓ کی رائے یہ تھی کہ یہ جھگڑا اختتام پذیر ہوتا نظر نہیں آتا لہٰذا بہتر ہے کہ میاں بیوی میں تفریق کرا دی جائے۔ امیر معاویہ ؓ کہنے لگے کہ میں عبدمناف کے خاندان کے دو شخصوں کے درمیان مفارقت کے حق میں نہیں ہوں۔ یہ دونوں پنچ حضرات باتیں کرتے ہوئے حضرت عقیل ؓ کے گھر کی طرف جا رہے تھے۔ جب یہ ان کے مکان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا اور وہ میاں بیوی از خود راضی ہوچکے تھے۔ انہیں بات کرنے کا موقع بھی نہ ملا اور واپس آگئے۔ یہ واقعہ امام ابن کثیر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی ذکر کیا ہے۔ بہرحال یہ واقعہ نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس قسم کی مصالحتی کارروائی کا آغاز حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں ہوا۔ جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں دیا ہے۔
مصالحتی کمیٹی کی ذمہ داری
بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میاں بیوی کے درمیان تنازعہ کی صورت میں دو ارکان پر مشتمل ایک مصالحتی کمیٹی بنائی جائے۔ جو دونوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش کرے ، تاہم صلح جوئی کا انحصار کمیٹی کے ارکان کے خلوص پر ہے۔ اگر وہ نیک نیت ہوں گے ان شریدا اصلاحاً اگر ان کا ارادہ فی الحقیقت اصلاحِ احوال کا ہوگا۔ یوفق اللہ بینھما تو اللہ تعالیٰ ان میں ایسی توفیق پیدا کر دے گا کہ وہ صلح پر آمادہ ہوجائیں گے اور مصالحت کنندگان کی کوشش بار آور ہوگی۔ اگر ان کی نیت میں فتور ہوگا ، معاملہ میں جانبداری کا مظاہرہ کریں گے ، تو ظاہر ہے کہ صلح صفائی کی بجائے تنازعہ مزید بڑھے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر منصفان کا ارادہ اصلاح کرنے کا ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ کوئی بہتر صورت پیدا کر دیگا ، جس کی وجہ سے میاں بیوی میں مصالحت ہو جائیگی۔
مصالحت کمیٹی کو تنبیہ
آگے اللہ تعالیٰ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں۔ ان اللہ کان علیماً خبیراً بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے ان صفات کے تذکرے سے مصالحت کنندگان کو تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دیکھو ! تمہارا فیصلہ حق و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے کسی کی بےجا طرفداری نہ کرنا ، اگر تم نے اندرونِ خانہ کوئی گڑ بڑ کی تو اللہ تعالیٰ علیم ہے۔ وہ تمہاری نیتوں کو بھی جانتا ہے۔ ا س سے کوئی چیز مخفی نہیں اور وہ ذات خبیر بھی ہے تم جو کچھ جس نیت اور ارادے سے کر رہے ہو ، اس کی ہر آن اسے خبر ہے۔ اگر فیصلے میں کوتاہی کرو گے ، جان بوجھ کر انصاف کی خلاف ورزی کرو گے تو اللہ کے ہاں مجرم ٹھہرو گے اور اسکی گرفت میں آجاؤ گے۔
یہ بالکل ویسی ہی تنبیہ ہے جیسی گزشتہ درس میں خاوند کو کی گئی ہے کہ دیکھو ! تمہیں اللہ نے عورت پر حاکم بنایا ہے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی مت کرنا۔ یہ نہ سمجھنا کہ مجھے عورت پر کلی اختیار حاصل ہوگئے ہیں جو چاہوں کرتا پھروں۔ انہیں ایسا نہیں ہے۔ وہاں فرمایا ” کان اللہ علیاً کبیراً “ اللہ تعالیٰ بلند بھی اور عظمت و بڑائی کا مالک بھی ہے اگر تم عورت کے ساتھ کوئی زیادتی کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ کی عدالت میں تمہیں بہرحال پیش ہونا ہے اس عدالت سے بڑی نہ کوئی عدالت ہے اور نہ اس عدالت کے سامنے کسی کی چرب زبانی کام آسکتی ہے وہاں تمہیں اپنی زیادتی کا جواب دہ ہونا پڑیگا۔
اگر مصالحتی کمیٹی بھی ناکام ہوجائے تو پھر آخری صورت عدالتی چارہ جوئی ہے۔ اسلامی عدالت فیصلہ کریگی۔ اللہ تعالیٰ نے محرکات نکاح کے ساتھ ساتھ یہ معاشرتی مسائل بھی بیان فرما دیے ہیں۔