Ayah 4:36ربط آیات
سورۃ کی ابتداء سے یہاں تک حقوق ہی کا بیان آ رہا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق بیان فرمائے پھر یتیموں کے حقوق کا تذکرہ کیا۔ مالی حقوق کے طور پر وراثت کے حقوق اور ورثایٔ کے حصص بیان کیے۔ نکاح اور محرمات نکاح کا ذکر ہوا۔ پھر معاشرتی مسائل آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد عورتوں پر نگران یا محافظ ہیں ، ان پر عظیم ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ اگر نگران صحیح ہوگا تو اس کے ماتحت بھی درست ہوں گے اور اگر نگران ہی خرابی کا شکار ہوگا تو زیردست بھی ویسے ہی ہوں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر عورتوں کے ساتھ اختلاف ہوجائے تو اسے کس طرح نپٹانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا طریقہ بتایا اور باقاعدہ قانون مقرر فرمادیا۔
اب آج کے درس کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے س بسے پہلے اس بنیادی چیز کا ذکر کیا ہے جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے کہ عبادت صرف اسی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اگر انسان کی یہ بنیاد درست ہوجائے تو آگے تمام معاملات درست ہوجائیں گے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے اپنا حق بیان کرنے کے بعد باقی حقوق کی تفریع بیان فرمائی ہے۔
عبادت صرف اللہ کی ہو
ارشاد ہوتا ہے واعبدو اللہ اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بنیاد ہے۔ اگر تمام لوگ صرف اللہ ہی کی عبادت کرنے لگیں تو باقی تمام حقوق خود بخود درست ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا خالق ، محسن اور مربی ہے۔ اگر اسی کے حقوق میں کوتاہی روا رکھی گئی تو پھر باقی مخلوق کا حق کیسے ادا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جب بنیاد ہی کمزور ہوگی تو اس پر مضبوط عمارت کیسے تعمیر ہو سکتی ہے لہٰذا سب سے پہلے اس بنیادی عنصر کا ذکر کیا ، لوگو اللہ کی عبادت کرو۔
امام بیضاوی (رح) اور دیگر مفسرین نے عبادت کا مطلب یہ بیان کیا ہے۔ اقصیٰ غایۃ التذل والخصوع یعنی انتہائی درجے کی عاجزی اور نیازمندی کے اظہار کا نام عباد ت ہے اور یہ عمل کبھی نیت سے ہوتا ہے ، کبھی مال سے کبھی قول سے اور کبھی عمل سے۔ یہ انتہائی عاجزی اور نیازمندی مافوق الاسباب ہستی کا تصور رکھتے ہوئے محض اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص ہے اس کے علاوہ کسی کے ساتھ روا نہیں۔ جب عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہوگئی تو پھر غیر اللہ کے ساتھ ایسا معاملہ کسی طرح بھی روا نہیں۔ اگرچہ یہ بات خود بخود ذہن میں آتی ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے یہاں پر تاکیداً یہ بھی فرما دیا ولاتشرکوا بہ شیئًا اس مالک الملک کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔
خالق اور واجب الوجود
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے اور واجب الوجود ہونے میں تو کسی کو شک و شبہ نہیں اور نہ ہی ان دو صفات میں اللہ کے ساتھ کوئی شرک کرتا ہے۔ البتہ شرک ہوتا ہے عبادت میں اور تدبیر میں۔
پوری نوع انسانی میں سے دہریوں کی قلیل تعداد کے علاوہ تمام مذاہب کے لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ خالق صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ اور کوئی خالق نہیں۔ کافر ، مشرک ، یہودی ، نصرانی ، ہندو ، سکھ ، چینی ، بدھ مجوسی کسی سے پوچھ کر دیکھو لو کہ ہر چیز کا خالق کون ہے ؟ سب کہیں گے۔ کہ خالق تو صرف اللہ ہے۔ اللہ خالق کل شیئٍ انسان ، حیوان ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے سب کو کس نے پیدا کیا ؟ اللہ نے زمین ، آسمان ، سیارے ، ستارے ، چاند ، سورج کا پیدا کرنے والا کون ہے ؟ سب کہیں گے اللہ ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے میں کسی کو کلام نہیں۔ جہاں تک اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود ہونے کا تعلق ہے۔ اس میں بھی سب لوگ متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وجودخود بخود ہے ، یہ کسی کا وجود ضروری ہو اور جو واجب الوجودہو۔ لفظ اللہ کا معنی ہی یہ ہے واجب الوجود مستجمح لجمیع صفات الکمال مبرأٌ عن النقص والزوال یعنی وہ واجب الوجود ہے اور تمام صفات کمال کا جامع ہے ، وہ نقص اور زوال سے پاک ہے۔ جب لفظ اللہ بولا جاتا ہے تو یہ ساری حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے۔ فارسی میں اللہ کے لیے خدا کا لفظ ہے جس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ ایسی ہستی جو خود بخود موجود اور قائم ہے ، کسی کی محتاج نہیں ، بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ لہٰذا واجب الوجود بھی اللہ ہی کی ذات ہے ۔
شرک فی العبادات
بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ لہٰذا واجب الوجود بھی اللہ ہی کی ذات ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا شرک عبادت اور تدبیر میں ہوتا ہے۔ لوگ اللہ کے سوا غیر کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ عبادت بھی صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے نخصک بالعبادۃ ہم تیری ہی ذات کو عبادت کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں ایاک نعبد کا بھی یہی مطلب ہے کہ صرف تیریہی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا باقی ہر چیز مخلوق ہے اور مخلوق واجب الوجود نہیں ہوتی عبادت کے لائق صرف وہ ذات ہے جو خالق اور واجب الوجود ہے۔ تمام صفات کاملہ کی جامع اور نقص اور زوال سے پاک ہے۔ وہ صرف ذات خداوندی ہے۔ ملاء اعلیٰ سے لے کر ملاء سافل تک ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ، ہم جس نظام شمسی میں رہتے ہیں اس کا خالق بھی وہی ہے اور اس کے علاوہ جتنے بھی جہان ہیں۔ سیارے اور ستارے ہیں ان سب کا خالق بھی اللہ ہی ہے۔ اسی لیے تو ہر صاحب عقل انسان اقرار کرتا ہے کہ اے مولا کریم نعبدک ولا نعبد غیرک ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہیں کرتے۔ نہ کوئی اس لائق ہے۔ سب فانی ہیں نہ ان کا اپنا وجود ہے۔
اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں کتنے ہی لوگ ہیں جو عبادت میں شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ غایت درجے کی تعظیم جو صرف خدا تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، وہ غیروں کے سامنے کرتے ہیں کوئی بت کے سامنے گڑگڑاتا ہے ، کوئی قبر پر سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ کوئی ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتا ہے۔ انتہائی عجز و انکساری جو خالص اللہ کے لیے روا ہے ، وہی نیازمندی ، مافوق الاسباب ہستی تصور کرتے ہوئے جب غیر اللہ کے لیے پیش کردی تو انسان مشرک بن گیا۔ اللہ کے علاوہ اگر کسی کو نافع اور ضار سمجھ لیا جائے اور پھر اس کی خوشنودی کے لیے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لیے نیاز کے طور پر خرچ کیا جائے۔ اور یہ سمجھا جائے کہ اگر نیاز نہیں دیں گے تو نقصان ہوجائے گا ، یا کم از کم برکت سے محروم ہوجائیں گے ، تو یہ مال میں شرک ہوگا۔
مال بھی صرف اسی ذات کی خوشنودی کے لیی خرچ کیا جاسکتا ہے جس نے اس مال کو اور اس خرچ کرنے والے کو بھی پیدا کیا پھر جب یہی چیز مخلوق کے لیے روا رکھی گئی ، تو ایسا کرنے والا شرک کا مرتکب ہوگیا۔
شرک کے ارتکاب عمل کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ جیسے اللہ کے سوا کسی مخلوق کو سجدہ کر دے۔ اسی طرح کسی کو مشکل کشا ، حاجت روا ، اور بگڑی بنانے والا سمجھنا یا کسی کے متعلق یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ صفات کمال کا حامل ہے۔ اسے ہر چیز کا علم ہے اور وہ محیط کل ہے ، یہ سب شرکیہ عقیدے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ محیط کل ، اس معاملہ میں ملاء اعلیٰ کے مقربین ، انبیاء کرام ، شہداء عظام اور عام صالحین سب برابر ہیں۔ اللہ کی صفاتِ مختصہ میں کسی کا کچھ حصہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے اور باقی سب مخلوق۔ افمن یخلق کمن لایخلق کیا پیدا کرنے والے اور نہ پیدا کرنے والا برابر ہو سکتے ہیں ؟ ہرگز نہیں لہٰذا عبادت کے لائق صرف ذات الٰہی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے علاوہ کسی دوسرے کے ساتھ وہی عقیدہ رکھے گا جو خدا کے ساتھ روا ہے تو یہی شرک فی العبادت ہے۔
شرک فی التدبیر
شرک کی دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کے سوا غیروں کو بھی تدبیر کنندہ ماننے لگے۔ من یدبر الامر من السماء الی الارض آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک کون تدبیر کرتا ہے ؟ جواب یہی آئیگا کہ وہی وحدہٗ لاشریک مدبر ہے۔ اس کے ساتھ تدبیر میں بھی کوئی شریک نہیں۔ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا تدبیر کنندہ صرف اللہ ہے۔ مگر کتنے افسوس کا مقام ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی لوگ غیر اللہ کو مدبر مانتے ہیں حالانکہ یہ زمانہء جاہلیت کا عقیدہ ہے۔ آج بھی نجومی ستاروں کو مدبر مانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ نفع نقصان ، انقلابات اور ماجریات یومیہ ستاروں سے وابستہ کی جاتی ہیں اور یہی شرک فی التدبیر ہے۔
مشرکین لات ، مناۃ اور عزیٰ وغیرہ کو تدبیر کنندہ جانتے تھے اور آج یہی چیز لوگ اہل قبور کے ساتھ منسوب کرتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ سب سے بڑا مدبر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے تاہم ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ اللہ نے چھوٹے چھوٹے آگے مدبر مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو دنیا کے بادشاہوں یا حکومتوں پر قیاس کرتے ہیں۔ جس طرح کوئی حکومت اپنے اعمال یا ناظمین مقرر کرتی ہے ، ان کا خیال ہے کہ اسی طرح اللہ نے بھی اپنے نائبین مقرر کر رکھے ہیں اور ان کے ذمہ بعض امور لگا دیے ہیں جنہیں وہ تفویض شدہ اختیارات کے تحت انجام دیتے رہتے ہیں۔ مشرکین بعض نیک اور صالح لوگوں کے متعلق یہ تصور رکھتے ہیں کہ چونکہ وہ اللہ کے مطیع اور فرمانبردار ہیں اس لیے اللہ ان پر الوہیت کی چادر ڈال دیتا ہے اور کچھ اختیرات ان کو تفویض کردیتا ہے۔ یہ سخت مشرکانہ عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی نبی ، ولی ، شہید یا صالحین میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیتا کہ وہ جو چاہے کرتا پھرے کسی کی بگڑی بنا دے یا کسی کی حاجت روائی کر دے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ حی اور قیوم ہے وہ ہر ایک کی حاجت روائی اور مشکل کشائی براہ راست کرتا ہے وہ قدرت تامہ کا مالک ہے۔ ہر ایک کی ضرورت کو جانتا ہے کیونکہ علیم کل ہے۔ ہر ایک کی حاجت روائی بھی کرتا ہے۔
بعض لوگ اللہ کی صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ غیر اللہ کو مختار مطلق تصور کرلیا۔ یا فلاں حاضر و ناظر ہے ، وہ علیم کل ہے ذرے ذرے سے واقف ہے۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے تاکیداً فرما دیا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو ولا تشرکوا بہ شیئًا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اگر تمہارا عقیدہ توحید مضبوط رہا اور شرک سے پاک رہا تو تمہارے تمام اعمال کی بنیاد پختہ ہوگی اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کے بعد پھر تم حقوق العباد بھی ادا کرسکو گے۔ لامحالہ تمہاری نظر قیامت پر ہوگی اور اس جہان کی بازپرس پر تمہارا یقین ہوگا۔
حضرت معاذ ؓ کی حدیث میں موجود ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا معاذ ! کیا جانتے ہو کہ اللہ کا حق مخلوق پر کیا ہے۔ عرض کیا ، حضور ! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے۔ ان یعبدوہ ولا یشرکو بہ شیئًا یہ کہ عبادت خالص اللہ کی کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مخلوق کا حق اللہ پر کیا ہے۔ پھر عرض کیا ، حضور ! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مخلوق کا حق اللہ پر بذاتہٖ تو کچھ نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے خود یہ حق لے رکھا ہے کہ جب اس کی مخلوق اس کی عبادت کریگی اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں بنائے گی تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو دوزخ میں نہیں ڈالے گا۔
والدین کے حقوق
اب حقوق العباد کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے والدین کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے اور ان کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وبالوالدین احساناً ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اولاد اور والدین کا سب سے قریبی تعلق ہوتا ہے والدین اولاد کے محسن ہوتے ہیں اور بغیر کسی معاوضہ کے احسان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی فطرت میں اولاد کے لیے محبت ڈال دی ہے۔ اس لیے وہ اولاد کے ساتھ مشفقانہ سلوک کرتے ہیں لہٰذا اولاد پر لازم ہے کہ وہ والدین کے ساتھ بہترین سلوک کریں اور انہیں قولی یا فعلی طور پر کسی قسم کی ایذا نہ پہنچائیں۔ جائز امور میں ان کی اطاعت کریں ، ضرورت کے وقت ان کی مالی مدد کریں ، جسمانی طور پر انہیں راحت پہنچائیں ، حتیٰ کہ والدین اگر کافر بھی ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان کا عقیدہ تو اختیار نہ کریں البتہ وصاحبھما فی الدنیا معروفاً مگر دنیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔
دیگر مستحقین
فرمایا والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ وبذی القربیٰ قرابتداروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ماں باپ کے بعد بہن ، بھائی ، چچا اور دیگر عزیز و اقارب ہیں ان کا بھی حق ہے۔ والدین کے واسطہ سے جس قدر کوئی قریبی ہے اسی قدر اس کا حق بھی مقدم ہے۔
آگے فرمایا والیتمیٰ یتیموں کے حقوق ادا کرو۔ ان کے سرپردستِ شفقت رکھو ، ان کی ہر ممکن اعانت کرو والمسکین اور ایسے نادار لوگ جو محنت کے باوجود معاشی طور پر پست ہیں ، ان کے جائز اخراجات آمدنی سے کم ہیں ، وہ تمہارے حسن سلوک کے مستحق ہیں ان کا بھی خیال رکھو۔ اللہ نے ان کا حق بھی تمہارے ذمہ رکھا ہے۔
پڑوسی کے حقوق
حقوق ہی کے ضمن میں فرمایا ذی القربیٰ قرابتدار پڑوسیوں کا خیال رکھو۔ اگر پڑوسی رشتہ دار بھی ہے تو اس کا دہرا حق ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا حضور ! پڑوسی کا حق کہاں تک ہے۔ آپ نے فرمایا چالیس گھروں تک سب تمہارے پڑوسی ہیں ان کا تم پر حق ہے۔ صحیحین کی حدیث میں آتا ہے۔ ما زال جبریل یوصینی بالجار حتی طنت انہ سیورثہ جبریل (علیہ السلام) نے اللہ کی جانب سے مجھے پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی اتنی تاکید کی کہ مجھے خیال ہوا شاید خدا تعالیٰ پڑوسیوں کو وراثت میں شریک کر دے گا۔
والجارِ الجنبِ اور اجنبی یا دور کے پڑوسی کے ساتھ بھی حسن سلوک کا حکم دیا ہے کہ وہ بھی تمہاری مہربانی کے مستحق ہیں والصاحب بالجنب اور پاس بیٹھنے والے بھی اچھے سلوک کا حق رکھتے ہیں۔ ہم جماعت طالب علم ہیں۔ کسی فیکٹری یا دفتر میں اکٹھے کام کرتے ہیں۔ دکان پر بیٹھے ہیں۔
کہیں سفر کے دوران ریل گاڑی ، ہوائی جہاز یا بحری جہاز میں ہم سفر ہیں ، فرمایا یہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حق رکھتے ہیں۔ ہر صاحب استطاعت حسب ضرورت دوسرے کی مدد کرے۔ وابن السبیل اور کوئی مسافر ہو خواہ مہمان ہو یا اجنبی ، اسے بھی اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو اس کا بھی تم پر حق ہے اس کی مناسب اعانت کرو۔ و ما ملکت ایمانکم اور وہ لوگ بھی تمہارے حسن سلوک کے مستحق ہیں جو تمہارے داہنے ہاتھ کی ملکیت یعنی زر خرید خلام ہیں۔ غلام کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لو۔ اور اگر کوئی مشکل کام اس کے سپرد کرو تو اس کا ہاتھ بٹاؤ ۔ جو خود کھاتے ہو ان کو بھی کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو ، ان کو بھی پہناؤ ، ورنہ آگے چل کر مؤاخذہ ہوگا۔ اب غلامی کا سلسلہ تو نہیں ہو ، ان کو بھی پہناؤ ، ورنہ آگے چل کر مؤاخذہ ہوگا۔ اب غلامی کا سلسلہ تو نہیں ہے تاہم اس سے نجی نوکر چاکر ، ملازم وغیرہ بھی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ وہ لوگ تمہاری خوش اخلاقی اور حسن سلوک کے حقدار ہیں۔
ذریعہ فلاح
اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام متعلقین کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا ہے۔ اگر اس ایک آیت پر ہی اہل اسلام عمل کرلیں تو دنیا سے شرو فساد ختم ہوجائے اور دین دنیا میں فلاح نصیب ہوجائے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ جس طرح لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق کو ادا نہیں کیا ، شرک کفر اور بدعات جاری کردی ہیں ، اسی طرح حقوق العباد کے معاملہ میں بھی دور جا پڑے ہیں۔ نہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں اور نہ پڑوسیوں کا خیال کرتے ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے دل شکنی کی جاتی ہے۔ ان کے دروازے پر جاکر گالی گلوچ ، اور شور و شربرپا کیا جاتا ہے۔ پتنگ بازی کے لیے چھتوں پر چڑھ جاتے ہیں ، آج کل ریکارڈنگ کی نئی مصیبت آگئی ہے پڑوس میں کوئی بیمار ہے۔ کوئی طالب علم مطالعہ میں مصروف ہے۔ کوئی عبادت گزار اللہ اللہ کرنا چاہتا ہے ، مگر انہیں خدا کا خوف نہیں ہے ، دوسرے کا احساس تک نہیں۔
اب مسجدیں بھی اس شورو غل میں شامل ہوگئی ہیں۔ وقت بےوقت سپیکر کھول کر غزلیں اور نعتیں شروع کردی جاتی ہیں اور پھر اسے کار ثواب سمجھ کر کیا جاتا ہے حالانکہ یہ مخلوق خدا کو ایذا پہنچائی جا رہی ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے لا تؤذوالمومنین ، لا توذوالمسلمین اہل اسلام کو چھاپہ مارنا کونسی نیکی ہے۔ اگر کسی کو آرام کے وقت آرام میسر نہیں ، عبادت میں انہماک حاصل نہیں ہو رہا ، بیمار کی نیند میں خلل آ رہا ہے ، تو ایسی نیکی کا کیا فائدہ حضرت مولانا سید اغصر حسین دیوبندی (رح) ہمارے بزرگوں میں سے ہیں۔ ان کا معمول تھا کہ گھر میں آم کھائے ہیں تو ان کے چھلکے خود دور جا کر پھینک آتے تھے کہ کہیں پڑوسی کو تکلیف نہ ہو ، نامعلوم انہیں یہ چیز میسر ہے یا نہیں۔ صاحب توفیق ہونے کے باوجود آپ کچے مکان میں رہتے تھے لوگ کہتے تھے کہ آپ اچھا مکان تعمیر کرلیں۔ فرمایا اللہ نے توفیق تو بیشک دی ہے مگر میرے پڑوسیوں کے مکان کچے ہیں اگر میں نے پختہ مکان بنا لیا تو محلے والوں کو تکلیف ہوگی۔ پہلے دارالعلوم میں جا کر درس دیتے تھے جب زیادہ ضعیف ہوگئے تو طلبا کو گھر بلانے لگے۔ آپ طلبا کو ایک ایک چھتری بھی خرید کر دے دیتے تھے کہ انہیں آنے جانے میں تکلیف نہ ہو۔
غرور سے بیزاری
فرمایا ان اللہ لا یحب من کان مختالاً فخورا بیشک اللہ تالیٰ نہیں پسند کرتا اترانے والے اور بڑائی کرنے والے کو اللہ تعالیٰ کو عجز و انکساری محبوب ہے ، وہ مغرور آدمی کو پسند نہیں فرماتا۔ جس شخص کے دل میں عاجزی ہوگی اسے خدا تعالیٰ کی عبادت کا صحیح تصور بھی ہوگا ، وہ وحدانیت کا شیدائی اور شرک سے بیزار ہوگا۔ ایسا شخص اللہ کے حقوق بھی ادا کرے گا اور مخلوق کے حقوق سے بھی عہدہ برآمد ہوگا۔ جو شخص مال ، دولت ، جاہ اور اقتدار کی وجہ سے مغرور ہوگا وہ کسی کا حق ادا نہیں کریگا۔ ایسا مغرور اور شیخی بھگارنے والا شخص اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ ایسے لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بنیادی مسئلہ سمجھادیا ہے کہ عاجزی والا شخص ہی حقوق کو ادا کرسکتا ہے اگر انسان میں عجز نہیں غرور وتکبر ہے تو کوئی کام درست نہیں ہوگا۔
Ayahs 4:37–38ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بنیاد کا تذکرہ فرمایا تھا جو حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طور پر ایمان لایا جائے خالص اسی کی عبادت کی جائے اور شرک سے پرہیز کیا جائے ، جب اس بنیاد کے ذریعہ اللہ کے حقوق ادا ہوجائیں گے تو پھر انسان بندوں کے حقوق بھی ادا کرسکے گا۔ اس ضمن میں خداوند کریم نے فرمیا ا سب سے پہلے ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔ پھر قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آؤ ۔ یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے حقوق ادا کرو۔ جس مقام پر کوئی جس قدر ضرورت مند ہے۔ اس کی حاجت براری کرو۔ ظاہر ہے کہ جس نے بندوں کے یہ حقوق ادا کردیے وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ بن گیا اور جس نے ان حقوق کی ادائیگی سے روگردانی کی اس نے غرور اور تکبر کیا ، اس نے سمجھا کہ جو کچھ اس کے پاس مال و دولت ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے اور اپنی مرضی سے جہاں چاہے خرچ کرنے کا مجاز ہے ، اس معاملہ میں کسی ترغیب و ترہیب کا پابند نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، میں ایسے فخر کرنے والے اور بڑائی کا اظہار کرنے ولاے شخص کو پسند نہیں کرتا۔
اگر صدق دل سے غور کیا جائے تو انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ دراصل غرور وتکبر بخل اور ریاکاری کی بنیاد ہوتا ہے۔ اسی غرور کی وجہ سے انسان بخل کا مرتکب ہوتا ہے اور جب جائز حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اس کے پاس مال بچ جاتا ہے۔ تو پھر وہ محض دکھلاوے کے لیے خرچ کرنے لگتا ہے اور اصل نیکی سے دور چلا جاتا ہے۔ چناچہ آج کے درس میں اللہ جل شانہ نے بخل اور ریاکاری کی مذمت بیان فرمائی ہے۔
بخل کی بیماری
ارشاد ہوتا ہے الذین شبخلون وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو دوسروں تک نہیں پہنچاتے ، حالانکہ اللہ نے ان پر یہ حق عاید کیا ہے کہ اپنی جائز ضرورت سے زاید مال میں ضرورت مندوں اور محتاجوں کو شریک کرلیں۔ ایسے لوگ نہ صرف خود بخیل ہوتے ہیں بلکہ ویامرون الناس بالبخل دوسروں کو بھی بخل کی ترغیب دیتے ہیں کہ تم بھی غربا و مساکین کے حقوق ادا نہ کرو۔ مدینے کے یہودیوں میں یہ دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ وہ خود بھی پرلے درجے کے کنجوس تھے اور اہل اسلام کو بھی مختلف حیلوں بہانوں سے خرچ کرنے سے روکتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ اگر تم نے گاڑھے پسینے کی کمائی بغیر سوچے سمجھے ضائع کردی ، جہاد میں لگا دی صدقہ خیرات کردیا ، غریب مسکین یا کسی مسافر اور مہمان کی خاطر مدارات میں لگا دیا تو تم قلاش ہوجاؤ گے ، پھر بُرے وقت کے لیے تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا اور تم خود کوڑی کوڑی کے محتاج ہوجاؤ گے۔ اس طرح وہ بخل کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بخل ایک قبیح بیماری ہے جس قوم میں بخل پیدا ہوجاتا ہے وہ بددل ہوجاتی ہے اور آخر کار غیروں کی مغلوب ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اللہ کے دیے مال کو معاشرے کے کمزور طبقے تک پہنچنا چاہیے تاکہ وہ لوگ بھی اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں اور مسلمانن من حیث القوم ایک طاقتور معاشرہ قائم کرسکیں۔
ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے البخت بعیدٌ من اللہ یعیدٌ من الناس بعیدٌ من الجنۃ یعنی بخیل آدمی اللہ سے دور ہوتا ہے ، لوگوں سے دور ہوتا ہے اور جنت سے بھی دور ہوتا بلکہ جہنم کے قریب ہوتا ہے۔ اسی طرح سخی کے متعلق فرمایا قریبٌ من اللہ قریبٌ من الناس و قریبٌ من الجنۃِ اللہ سے قریب لوگوں سے قریب اور جنت سے بھی قریب ہوتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا جاہل سخی احب الی اللہ اللہ کا زیادہ محبوب ہوتا ہے من عابدٍ بخیلٍ اس عبادت گزار کنجوس سے جو اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کرتا۔ مقصد یہ کہ محض فرائض کی ادائیگی کے بعد فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ بندہ ہے اس لمبی لمبی نمازیں پڑھنے والے اور نفلی روزے دار سے جو خرچ نہیں کرتا۔
حضور ﷺ کے سامنے بخل کا ذکر کیا گیا۔ آپ مسند احمد ص 308 ج 3 وکنزالمال ص 257 ج 3 (فیاض)
خب ولامنان ولابخیل یعنی دھوکے باز ، احسان جتلانے والا اور کنجوس ہرگز جنت میں نہیں جائیں گے۔ ترمذی شریف میں یہ روایت بھی آتی ہے لا یجتمع خصلتان فی المؤمن سویٔ الخلق والبخل یعنی کسی مومن میں بُرے اخلاق اور بخل جیسی قبیح بیماریاں جمع نہیں ہو سکتیں یہ مومن کی شان کے خلاف ہے کہ وہ بداخلاقی اور بخیل واقع ہو۔
بخیل کی عادت یہ ہے کہ وہ مال کو گن گن کر رکھتا ہے مگر خرچ کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ حاجب مند موجود ہیں ، مال بھی موجود ہے مگر خرچ کرنے کی ہمت نہیں پڑتی اسی لیے تو سعدی صاحب (رح) نے گلستان میں کہا ہے۔
زر از کان کندا از از جان کند
یعنی سونا حاصل کرنے کے لیے کان کو کھودنا پڑتا ہے اور بخیل جب مر جائے تو زر و مال حاصل ہوتا ہے۔ گویا بخیل کی جان کندن حصول زر کا ذریعہ بنتی ہے ، وہ خود اپنی زندگی میں اپنے ہاتھوں خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔
بخل کی ترغیب دینا دراصل شیطانی فعل ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے الشیطن یعدکم الفقر و یامرکم بالفحشائِ شیطان فقر سے ڈراتا ہے کہ خرچ کرو گے تو محتاج ہو جات گے اور اسی طرح بےحیائی کے کاموں کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ کھیل تماشے لہو و لعب ، رسومات اور بدعات میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس طرح انسان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے کی طرف لے جاتا ہے ۔
علم میں بخل
آگے فرمایا بخیل کی حالت یہ ہے ویکتمون ما اتہم اللہ من فضلہ جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے مال و دولت بھی ہے اور علم بھی۔ انسان خود محنت کرتا ہے ، تجارت یا ملازمت یا کھیتی باڑی کے ذریعے مال کماتا ہے۔ بعض اوقات اسے کچھ مال وراثبت اور وصیت کے ذریعے بھی مل جاتا ہے اور یہ سب کچھ من فضلہ ہے اس کے علاوہ جسے اللہ نے علم کی دولت عطا کی ہے وہ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ بخل مال میں بھی برا ہے اور علم میں بھی۔ یہودیوں میں ہر دو طرح کا بخل موجود تھا۔ مال کو خرچ کرنے سے ہچکچاتے تھے اور اہل کتاب ہونے کے حیثیت سے انہیں جو علم حاصل تھا اسے بھی چھپا جاتے تھے اور لوگوں پر سچی بات ظاہر نہیں کرتے تھے۔ سنن بیہقی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ بخل فی العلم ، بخل فی المال سے زیادہ قبیح ہے۔
فرمایا واعتدنا للکفرین عذاباً مہیناً ہم نے کفر کرنے والوں کے لیے ذلت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وجوہ ظاہر ہے کہ نہ خود اچھے کام کرتے ہیں اور نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں۔ اس دنیا میں تو کسی نہ کسی طرح بچ جائیں مگر آخرت میں ذلت ناک عذاب ان کا مقدر بن چکا ہے۔
ریاکاری
آگے ان کا تذکرہ ہے جو بظاہر مال تو خرچ کرتے۔ مگر نیک نیتی کے ساتھ نہیں ، بلکہ محض دکھاوے کے لیے تاکہ دنیا میں ان کی شہرت اور بڑائی ہو۔ فرمایا والذین ینفقون اموالہم رئاء الناس اور وہ لوگ جو لوگوں کے دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ انہیں خوفِ خدا نہیں اور نہ ہی مخلوق کے حقوق کی پاسداری ہے بلکہ وہ تو اس لیے خرچ کرتے ہیں کہ لوگ انہیں بڑے مخیر سمجھنے لگیں اور ان کی عزت میں اضافہ ہو یہ خود پسند اور متکبر لوگ ہوتے ہیں۔ بنیادی طور پر بخیل مگر ریاکاری کے کاموں میں خوب خرچ کرتے ہیں۔ یہ بھی قبیح بیماری ہے۔ حضور نے ریاکاری کو شرک خفی فرمایا۔ شرک جلی تو سابقہ درس میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کی جائے ، انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے۔ سورة کہف میں واضح طور پر آیا ہے فمن کان یرجوا لقا ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً جو اپنے رب کے ساتھ ملاقات چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔ اس کی تفسیر میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ریاکاری نہ کرے کیونکہ ریا سے عمل باطل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح صدقہ خیرات کرنے کے بعد احسان جتلانے سے بھی عمل برباد ہوجاتا ہے۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ریاکاروں سے فرمائیں گے ، اس عمل کا بدلہ ان سے وصول کرو جنہیں دکھانے کے لیے یہ کیا تھا۔ آج میں تمہیں اس کا کوئی اجر نہیں دوں گا۔ میں شرکا کے شرک سے بےنیاز ہوں ، میں وہ عمل قبول کرونگا۔ جو خالص میری رضا کی خاطر انجام دیا گیا ہو۔
ایمان سے خالی
فرمایا جو لوگ دکھلاوے کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ان کی حقیقت یہ ہے کہ ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخروہ نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن پر۔ اگر وہ صحیح معنوں میں ایماندار ہوتے نہ بخل کرتے اور نہ ریاکاری۔ دراصل ان کی بنیاد ہی غلط ہے جو گزشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے واعبدوا اللہ ولاتشرکوا بہ شیئاً یعنی عبادت خالص اللہ کی کرو اور کسی چیز کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ ۔ ان لوگوں نے ریاکاری کی اور اس طرح اللہ کے ساتھ شرک کے مرتکب ہوئے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آ چکا ہے واعتدنا للکفرین عذاباً مہیناً ۔ ہم انہیں ذلت ناک عذاب میں مبتلا کریں گے۔ آخرت میں ان کا حساب ضرور ہو کر رہے گا۔ ہم ہر آدمی سے حساب لیں گے کسی کو چھوڑیں گے نہیں۔ ہر شخص کو جہنم کے پل پر سے گزرنا پڑے گا۔ میزان کے پاس حاضر ہونا ہوگا ، اعمال کا وزن کیا جائیگا۔ نیکیاں اور بدیاں سب سامنے آجائیں گی فمن یعمل مثقال زرۃٍ خیراً یرہ و من یعمل مثقال ذرۃٍ شراً یرہ “ وہاں پتہ چل جائیگا کہ کس نے نیکی کی تھی اور کس نے ریاکاری کی تھی۔
شیطان کا پھندا
فرمایا ریاکار لوگ دراصل شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں اور ظاہر ہے و من یکن الشیطنٌ لہ قریناً جس کا ساتھی شیطان بن گیا۔ فساء قریناً تو وہ بڑا برا ساتھ ہے۔ یہ شیطان ہی ہے جو انسانوں کے دل میں سوسوہ ڈال کر برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ اس کا جہاں تک بس چلے گا ، وہ انسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریگا۔ اس نے تو اعلان کر رکھا ہے کہ میں ہر راستے سے گھیر کر انسان کو جہنم میں پہنچاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے کہ میں نے بھی لوگوں سے وعدہ لے رکھا ہے کہ شیطان کی پوجا نہ کرنا۔ سورة یٰسین میں ہے ” الم اعہد الیکم یبنی ادم ان لا تعبدو الشیطن “ اے بنی آدم ! کیا میں نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ شیطان کے پیچھے نہ چلنا۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور تمہیں ہر حیلے گمراہ کرنا چاہتا ہے۔
تو فرمایا جس نے شیطان کو اپنا ساتھی بنا لیا ، اس کا نتیجہ ظاہر ہے عرب کہتے ہیں :
عن المرء لاتسئل وسل عن قرینہ
فکل قرین بالمقارن یقتدی
کسی شخص کی اچھائی برائی معلوم کرنا مقصود ہو تو اس کے ساتھی کو دیکھو لو۔ کیونکہ ساتھی دوسرے ساتھی کی اقتدا کرتا ہے انگریزی کا مقولہ بھی ہے کہ آدمی اپنی سوسائٹی سے ہی پہچانا جاتا ہے جس کردار کے مالک کسی شخص کے ہم نشین ہوں گے ، وہ خود بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ جس نے اپنا ساتھی شیطان کو بنا لیا ، وہ اسے جہنم میں ہی لے کے جائیگا۔
Ayahs 4:39–42ربط آیات
گزشتہ دروس میں یہ بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو۔ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اسی بنیاد پر پھر حقوق العباد کا ذکر کیا کہ والدین کے ساتھ احسان کرو۔ اور یتیموں ، مسکینوں ، پڑوسیوں ، ہم نشینوں ، مسافروں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ۔ اسی ضمن میں پھر بخل کی مذمت کی گئی کیونکہ بخیل آدمی اپنے بخل کی وجہ سے دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتا ، بلکہ اپنا مال ریاکاری پر خرچ کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص دراصل شیطانی پھندے کا شکار ہوتا ہے جو کہ اسے بنیادی عقیدئہ توحید سے برگشتہ کردیتا ہے جس کی وجہ سے نہ تو اس کا ایمان اللہ کے ساتھ درست ہوتا ہے اور نہ آخرت کی جواب دہی کا یقنی۔ اس لیے وہ حقوق العباد کی پروا نہیں کرتا۔ آج کی آیات اسی تسلسل میں ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے طریقے سے ایسے لوگوں کو توحید اور انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی ہے۔
دعوت الی التوحید
ارشاد ہوتا ہے وما ذا علیہم ان کا کیا نقصان ہوتا۔ ان لوگوں کا کیا جاتا لو امنوا باللہ والیوم الاخر اگر وہ ایمان لے آتے اللہ پر اور قیامت کے دن پر انفقوا مما رزقہم اللہ۔ اور دوسرے کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے۔ تبلیغ کے سلسلے میں یہ بھی ایک طرز بیان ہے جب بات عام طرز گفتگو سے دوسرے کی سمجھ میں نہ آئے تو بعض اوقات تاسف کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ان کو کیا ہوگیا ہے ، بات کو کیوں نہیں سمجھتے اگر مان جاتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا۔ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں کا کیا بگڑتا تھا اگر یہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لے آتے اور اللہ ہی کے عطا کردہ مال میں سے اپنے ہی بھائی بندوں پر خرچ کرتے ایسا کرنے سے اللہ کے حکم کی تعمیل بھی ہوجاتی ، اس کی وحدانیت پر اور قایمت کے دن پر ایمان پختہ ہوتا بلکہ ان کی اپنی سوسائٹی کا معیار بھی بلند ہوجاتا۔ انہیں انسانیت میں کمال حاصل ہوتا ، رذائل سے بچ جاتے۔ کفر شرک ، نفاق ، بدعقیدگی دور ہو کر ان میں اعلیٰ اوصاف پیدا ہوجاتے۔ ایمانیات کی دعوت کا مقصد ہی یہ ہے کہ انسان کی بری خصلتیں دور ہوجائیں۔ اور اعلیٰ اخلاق پیدا ہوجائے۔
ایمانیات میں ایمان باللہ کے ساتھ ایمان بالرسل بھی شامل ہے اس کے علاوہ اللہ کی کتابوں پر ایمان ، فرشتوں پر ایمان ، قیامت پر ایمان ، تقدیر پر ایمان ، اللہ کی صفات پر ایمان سب ایمان ہی کے اجزا ہیں اگلی آیت میں وعصوا الرسول کے الفاظ بھی آ رہے ہیں جو ایمان بالرسل پر خصوصی طور پر دلالت کرتے ہیں۔ رسولوں کی بعثت اللہ کی صفت ہے جیسے اس کا فرمان ہے انا کنا مرسلین (الدخان۔ 5) یعنی رسولوں کو ہم ہی بھیجا کرتے ہیں۔ اس آیت میں صرف ایمان باللہ اور ایمان بالقیامت کا ذکر ہے ، تاہم مراد ایمانیات کی تمام جزیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بعض مقامات پر ایمانیات کا اجمالاً ذکر کیا ہے اور بعض مقامات پر تفصیلاً ۔
یہاں پر چونکہ جزائے عمل کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے اس لیے اللہ اور قیامت پر ایمان کا ذکر ہے ، تاہم اسی سورة میں آگے ایمانیات کا تفصیل کے ساتھ ذکر آئیگا۔ بہرحال یہاں پر فرمایا کہ ان لوگوں کا کیا نقصان تھا اگر وہ اللہ پر اور قیامت پر ایمان لے آتے اور ہمارے دیے ہوئے مال سے مستحقین پر خرچ کرتے۔
فرمایا و کان اللہ بہم علیماً اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے یعنی ان کے ارادے اور خلاص تک سے باخبر ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ، کس نیت کے ساتھ کرتے ہیں۔ کیا ان کا مقصود واقعی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور تقرب ہے یا محض دکھاوا ہے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ کوئی شخص اپنا مال خرچ کر کے اللہ کی عطاکردہ نعمت کا شکر ادا کر رہا ہے ، نوع انسانی سے ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے یا محض ریاکاری کے طور پر رسومات کو ادا کر رہا ہے۔ کیا اس کے پیش نظر آخرت کا اجر وثواب ہے یا دنیا کی نمود و نمائش۔ جس نیت اور ارادے کے ساتھ کوئی شخص نیکی کر رہا ہے ، اس کے نتائج بھی ویسے ہی ظاہر ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا
فرمایا یاد رکھو ! اللہ کا قانون یہ ہے ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃٍ بیشک اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ ظلم یا زیادتی اس لحاظ سے کہ انسان نے کسی جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو اور اللہ اس کو سزاے دے دے یا کسی کا جرم کسی دوسرے کے سر ڈال دے یا کسی کی معمولی سے معمولی نیکی کو بھی ضائع کر دے یہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اللہ کے قانون کے خلاف ہے۔ وہ مالک الملک اور علی الاطلاق شہنشاہ ہے وہ کسی کی حق تلفی نہیں کرے گا اور نہ کسی کے پرخلوص عمل کی جزاء میں کمی کریگا۔
عربی زبان میں ذرہ کے کئی معنے آتے ہیں۔ ذرہ کا لفظ چھوٹی سی سرخ رنگ کی چیونٹی پر بھی بولا جاتا ہے اس کے علاوہی ہ لفظ رائی کے دانے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جب کسی روشندان یا کھڑی سے سورج کی شعائیں اندر آئیں تو ان شعاؤں میں جو چھوٹے چھوٹے ذرات نظر آتے ہیں اور پکڑے نہیں جاسکتے ، وہ یہی ذرہ ہے۔ الغرض ! ذرہ کا لفظ چھوٹی سے چھوٹی چیز پر بولا جاتا ہے اور یہاں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ معمولی سے معمولی درجے کی زیادتی بھی نہیں کرے گا۔
ظلم کا مفہوم
عربی زبان میں ظلم کا معنی وضع الشی فی غیر محلہ کیا جاتا ہے یعنی کسی چیز کو اس کے موقع پر محل کے علاوہ رکھ دینا۔ ظلم کا الاق چھوٹی سے چھوٹی کوتاہی سے لے کر بڑے سے بڑے جرم پر ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا والفکرون ہم الظلمون کافر ہی ظالم ہیں یا ان الشرک لظلم عظیم شرک بہت بڑا ظلم ہے اسی طرح ظلم کا اطلاق قتل پر بھی ہوتا ہے اور چھوٹی چیز میں یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں داخل ہوتے وقت دائیں کی بجائے پہلے بایاں پاؤں داخل کرلے یا مسجد سے باہر آتے وقت بائیں کی بجائے دائیاں پاؤں پہلے نکال لے تو اس پر بھی ظلم کا اطلاق ہوگا۔ پھر یہ بھی ہے کہ ظلم کا لفظ اضداد میں سے ہے اس میں کمی اور زیادتی دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے فرمایا ولم تظللم منہ شیئًا وہاں کسی چیز کی کمی نہ تھی اور زیادتی میں شرک ، اسراف ، قتل ناحق وغیرہ آتا ہے یہ بڑی بڑی زیادتیاں ہیں۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ وہ کسی پر ذرہ بھر ظلم نہیں کرتا انسانی محاورے کے مطابق ہے ، وگرنہ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے ، وہ جو چاہے کرے ، وہ خالق ہے ، باقی سب اس کی مخلوق ہے۔ ہر جاندار اور بےجان چیز اسی کی پیدا کردہ ہے اور جو کوئی اپنی چیز میں تصرف کرتا ہے اسے ظلم پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ امام ابن کثیر نے ص 405 ج 3 اپنی تفسیر میں حدیث بیان کی ہے ان اللہ لو عذاب اہل سماواتہٖ واہل ارضہٖ لعذبہم و ہو غیر ظالم لہم اگر اللہ تعالیٰ تمام آسمان و زمین والوں کو بغیر کسی قصور کے سزا دینا چاہے تو یہ بھی ظلم میں شمار نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ اور وہ اپنی چیز میں جیسے چاہے تصرف کرے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ زیادتی تو کریگا نہیں۔ البتہ و ان تک حسنۃ یضہفہا اگر کسی کی کوئی نیکی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسے دگنا کر دے گا۔ دگنے کا قانون سورة انعام کے آخری رکوع میں موجود ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا جو کوئی ادنی سے ادنیٰ نیکی بھی کریگا اس کا کم از کم اجر دس گنا ملے گا اور زیادہ سے زیادہ جتنا اللہ چاہے۔ سات سو گنا ، سات لاکھ گنا ، سات کروڑ گنا یا سات ارب گنا اس کے ہاں کوئی کمی نہیں۔ نیکی کا بدلہ جتنا چاہے عطا کر دے۔ البتہ جہاں تک جرم اور برائی کا تعلق ہے فرمایا و من جاء بالسیۃ فلا یجزی الا مثلھا ایک قصور کا بدلہ اسی قصور کے برابر ہوگا و ہم لایظلمون اور کوئی زیادتی نہیں کی جائیگی یہ اللہ تعالیٰ کی کس قدر مہربانی ہے کہ نیکی کا بدلہ تو ہزاروں لاکھوں گنا عطا کرتا ہے مگر برائی کی سزا اس برائی سے زیادہ نہیں دیتا۔
بہرحال فرمایا کہ ایک ذرے کے برابر بھی اگر نیکی ہوگی تو اس کو دگنا کردیا جائے گا ویوت من لدنہ اجراً عظیماً اور اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ یہ اجر کتنا بڑا ہوگا ، اس کا تصور انسان اس دنیا میں نہیں کرسکتا۔ جب نتائج سامنے آئیں گے ، اجر تقسیم ہونے لگے تو پھر پتہ چلے گا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کتنی وسیع ہے۔ وہاں پر رائی کا دانہ پہاڑ بن چکا ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کھجور کا دانہ احد پہاڑ جتنا بڑا ہوجائیگا۔ مگر شرط یہ ہے کہ جو بھی نیکی کی جائے اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے خرچ کیا جائے وہ ایمان اور خلوص نیت کے ساتھ کیا گیا ہو تو اللہ تعالیٰ اجر عظیم عطا فرمائیں گے۔
اللہ کے ہاں پیشی
نیکی کی ترغیب کے بعد اللہ تعالیٰ نے منکرین کا تذکرہ فرمایا ہے فکیف اذا جئنا من کل امۃٍ بشہیدٍ پس کیا حال ہوگا۔ ان لوگوں کا جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے۔ جب مجرمین اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہوں گے اور ان کو فرد جرم پڑھ کر سنائی جائے گی تو اس کے ثبوت کے لیے گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ چناچہ مشہور تفسیر کے مطابق ہر امت کی گواہی اس امت کا نبی دیگا۔ اللہ تعالیٰ مجرمین سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس میرا پیغام نہیں آیا تھا۔ وہ انکار کریں گے تو اس امت کا نبی بطور گواہ پیش ہو کر عرض کرے گا ، مولا کریم ! میں نے تیرے سارے احکام ان تک پہنچا دیے تھے۔ وجئنابک علی ہولائِ شہیداً اور اے نبی (علیہ السلام) ! آپ کو ان لوگوں پر گواہ بنا کر لایا جائیگا جن کا واسطہ آپ سے پڑ رہا ہے گویا جس طرح باقی انبیاء اپنی اپنی امتوں پر گواہ ہوں گے اسی طرح آپ بھی اپنی امت پر گواہ ہوں گے۔ اس کی تفسیر حضور ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع میں موجود ہے آپ نے تمام لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا وانتم تسالون عنی فماذا انتم فائلون میرے بارے میں تم سے قیامت کو سوال ہوگا ، اور تم کیا جواب دو گے۔ سب نے جواب دیا نشہدٌ انک قد ادیت الا مانۃ لو بلغت الرسالۃ ونصحت الامۃ ہم گواہی دینگے کہ آپ نے حق امانت ادا کردیا۔ اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور امت کو نصیحت فرما دی۔ لہٰذا حضور ﷺ بھی اپنی امت کے متعلق گواہی دینگے کہ میں نے حق رسالت ادا کردیا اور مولا کریم ! تیرے احکام پورے پورے اپنی امت تک پہنچا دیے۔
اور دوسری گواہی اس وقت پیش کی جائے گی جب پوری پوری امتیں انکار کر دینگی کہ ان تک اللہ کا کوئی حکم نہیں پہنچا۔ تو پھر اسی آخری امت کے لوگ سابقہ انبیاء کے حق میں گواہی دینگے کہ ان انبیاء نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں تک پہنچا دیا۔ سابقہ امتیں اعتراض اٹھائیں گی کہ مولا کریم ! یہ لوگ تو اس وقت موجود ہی نہیں تھے ، ان کی گواہی کیسے قبول ہو سکتی ہے۔ تو امت آخر الزمان کے لوگ کہیں گے کہ پروردگار ! ہمیں تیرے آخری نبی اور آخری کتاب کی ذریعے علم ہوا کہ تمام نبیوں نے اللہ کے احکام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیے لہٰذا ہماری یہ گواہی مشاہدے کی بناء پر نہیں بلکہ علم کی بنیاد پر ہے اور پھر اس امت کے حق میں نبی ختم المرسلین کی گواہی ہوگی۔ ان دونوں گواہیوں کا ذکر سورة بقرہ میں موجود ہے لتکونوا شہداء علی الناس ویکونالرسول علیکم شہیداً یعنی تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو گے اور رسول تمہاری صفائی کی شہادت پیش کریگا۔
اب رہی یہ بات کہ حضور ﷺ ان لوگوں کی گواہی تو مشاہدے کی بنا پر دینگے جو آپ کے زمانے میں آپ کے سامنے موجود تھے مگر ان لوگوں کی شہادت کیسے دیں گے جو خود آپ کے زمانے میں بھی آپ سے غائب تھے یا جو آپ کے وصال کے بعد آئے۔ اس کا تذکرہ دوسرے مقام پر موجود ہے کہ جب آپ سے اس بارے میں پوچھا جائے گا تو آپ فرمائیں گے میں تو وہی بات کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) کہیں گے وکنت علیہم شہیداً مادمت فیہم میں اس وقت تک کا گواہ ہوں جب تک میں ان کے درمیان رہا فلما توفیتنی مولا کریم ! پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا کنت انت الرقیب علیہم تو پھر تو ہی ان کا نگران اور محافظ تھا وانت علی کل شیئٍ شہید اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
یہاں ایک اور بات بھی سمجھ لینی چاہئے ، اہل بدعت اور شرک کہتے ہیں کہ حضور ﷺ ہر شخص کے حالات سے واقف ہیں۔ یہ عقیدہ بھی قرآن و سنت کے خلاہے۔ اگر نبی (علیہ السلام) ہر امتی کے حالات سے واقعی واقف ہوں تو پھر وہ بارگاہ الٰہی میں یہ کیوں کہیں گے۔ کہ پروردگار ! میں تو وہی بات کہوں گا جو تیرے نیک بن دے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہی کہ میں تو ان لوگوں کے حالات سے ہی واقف ہوں جن کے درمیان رہا اور جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو خود ہی ان کا محافظ تھا۔ مسلم شریف کی روایت میں موجود ہے ، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ حضور ! قیامت والے دن آپ ہمیں ساری امتوں میں سے کیسے پہچانیں گے۔ تو آپ نے فرمایا میں اپنی امت کو علامتوں اور نشانیوں سے پہچانوں گا۔ اس آخری امت کی خاص نشانی یہ ہوگی کہ ان کے وضو کے اعضاء قیامت کے دن چمک رہے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر حضور ﷺ ہر شخص کے حالات بذاتہٖ جانتے ہوں تو پھر علامات سے پہچاننے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن نافرمانوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے گواہ لائیں گے اور آپ کو اس امت پر گواہ پیش کیا جائے گا۔
کفار کی بےبسی
آگے قیامت کا نقشہ پیش کر کے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے والوں کی بےبسی کا حال بیان کیا جا رہا ہے۔ ارشاد ہے یومیذ یود الذین کفروا اس دن آرزو کری گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وعصمو الرسول اور رسول کی نافرمانی کی۔ یہاں پر کفر سے مراد مطلق کفر ہے کہ کوئی شخص اللہ کی وحدانیت ، اس کے رسولوں ، فرشتوں ، کتابوں ، تقدیر اور قیامت کے دن کا انکار کر دے اور کفر کا اطلاق محض نافرمانی پر بھی ہوتا ہے اور عام گناہ پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے کفر کا اطلاق ناشکری پر بھی ہوتا ہے جیسے واشکرو الی ولا تکفرون میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔ عورتوں کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا مسلم شریف ص 2 ترمذی ص 348 (فیاض)
بکری کے ساتھ زیادتی کی ہوگی تو اس کو بھی قصاص دلایا جائے گا یہ جانور وغیرہ مکلف تو نہیں ہیں۔ نہ ان پر دائمی سزا ہے۔ البتہ ایک دوسرے سے بدلہ دلانے کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کو نو تراباً مٹی ہوجاؤ اور یہ سب مٹی ہو کر ختم ہوجائیں گے۔ فرمایا اسی طرح کفار اور نافرمانانِ رسول بھی آرزو کریں گے کاش وہ مٹی ہوکردائمی عذاب سے بچ جائیں گمر ان کی یہ حسرت پوری نہیں ہوگی کیونکہ وہ شرائع الٰہیہ کے پابند ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عقل دی ، ان کی راہنمائی کے لیے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ اب ان کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔ اور وہ عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
ہر چیز ظاہر ہوگی
فرمایا ایسے لوگ خواہش کے باوجود ولایکتمون اللہ حدیثاً اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کو چھپا نہیں سکیں گے۔ سورة طارق میں آتا ہے ” یوم تبلی السرائر “ قیامت کے دن تمام اندرونی راز ظاہر کردیے جائیں گے ، دنیا میں انسان ہزاروں بھید چھپا جاتا ہے۔ یومیذٍ تعرضون لاتخفی منکم خافیۃٌ (الحاقہ) اس دن تم حاضر کیے جاؤ گے اور تم سے کوئی چیز چھپ نہیں سکے گی قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے کہ ایک موقع پر مشرکین اپنے شرک کا انکار کردیں گے اور کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے الیوم نختم علی افواہیم وتکلمنا ایدیہم وتشہد ارجلہم اور مجرمین کے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے کہ مولا کریم اس نے فلاں فلاں جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ غرضیکہ اس دن کوئی چیز چھپا نہیں سکیں گے اور اپنے انجام کو پہنچ جائینگے۔