Ayahs 4:78–80ربط آیات
گزشتہ رکوع میں منافقین کے متعلق یہ بیان ہوچکا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں لیمن لیبطئن جو جہاد میں شامل ہونے کے لیے تاخیر کرتے ہیں یا بالکل شریک نہیں ہوتے انہوں نے بظاہر اسلام قبول کر رکھا ہے مگر ان کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ گزشتہ درس میں بعض ایسے لوگوں کا ذکر ہوا تھا جو قتال کو ناپسند کرتے ہیں اور وہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے بلکہ اس سے بھی زیادہ خوف کھاتے ہیں اس سلسلہ میں مفسرین کے دو قول ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ آیت بھی منافقین کے بارے میں ہی ہے جب تک جہاد فرض نہیں ہوا تھا ، وہ اس سے بچے ہوئے تھے مگر جب یہ فرض ہوگیا تو وہ گھبرانے لگے ، بعض دوسرے مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت منافقین کے متعلق نہیں بلکہ کمزور مسلمانوں کے متعلق آئی ہے۔ جہاد ایک مشقت طلب کام ہے اور اس کی ناپسندیدگی ایک طبعی امر ہے ، انسان عام طور پر کمزور واقع ہوا ہے اور اسی کمزوری کی وجہ سے جہاد سے ہچکچاتا ہے ، تاہم یہ لوگ ایماندار ہیں۔ بعض کمزور دلِ لوگوں کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ جنگ جیسے مشکل کام میں نہیں پڑنا چاہتے تو اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ دنیا کا سازو سامان تو بالکل تھوڑا ہے اور اس کے مقابلے میں متقین کے لیے آخرت بہت بہتر ہے۔ دنیا کی زندگی تو بالکل مختصر ہے ، اصل تیاری تو آخرت کی دائمی زندگی کے لیے ہونی چاہئے اور یہ زندگی اچھے اعمال سے ہوگی ، لہٰذا جہاد اور دیگر اعمال صالحہ سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ موت تو اپنے وقت پر بہر صورت آنی ہے تم اسے مضبوط قلعوں میں بند ہو کر بھی نہیں ٹال سکتے ، لہٰذا بزدلی کا اظہار مفید نہیں ہے بلکہ آخرت کے حصول کے لیے بڑھ چڑھ کر کام کرنا چاہئے ، اللہ تعالیٰ نے تنبیہہ فرما دی کہ اہل اسلام دین کے معاملہ میں کمزوری نہ دکھائیں۔
حسنہ اور سیئہ
آج کی آیات میں بھی یہودیوں اور منافقین کے بعض قبیح نظریات کا رد کیا گیا ہے یہ لوگ خیر اور شر کو مختلف ذرائع کی طرف منسوب کرتے تھے اس آیت کریمہ میں حسنہ اور سیئہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یعنی اگر انہیں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو اسے اتفاقی قرار دیتے ہیں اور کسی تکلیف کی صورت میں اللہ کے نبی کو الزام دیتے ہیں۔ مفسر قرآن امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ حسنہ اطاعت اور نیکی کو کہا جاتا ہے اور اس کا اطلاق اچھی حالت پر بھی ہوتا ہے اگر کسی کو نصیب ہوجائے۔ سرسبزی ، دولمندی ، صحت وغیرہ حسنہ میں شمار ہوتے ہیں قرآن کی زبان سے یہی دعا سکھلائی گئی ہے۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃً “ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں حسنہ بہتری یا بھلائی عطا فرما ، یعنی ایسی بہتر اور اچھی حالت عطا فرما جو تیرے نزدیک پسندیدہ ہو۔ برخلاف اس کے سیئہ سے مراد بری حالت ، تنگدستی ، پریشانی ، قحط سالی ، فقر و فاقہ ، بیماری اور شکست وغیرہ کی حالت ہے۔ ان دونوں حالتوں کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے اور اس ضمن میں منافقین اور یہود کے نظریہ باطل کا پردہ چاک کیا ہے۔
نبی پر الزام تراشی
فرمایا و ان تصبہم حسنۃٌ اور اگر ان لوگوں یعنی یہود و منافقین کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے۔ خوشحالی ، آسودگی یا فتح حاصل ہوتی ہے۔ یقولوا ہذہ من عنداللہ تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ منافقین اور یہود کا بھلائی کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا فی الحقیقت اللہ تعالیٰ پر ایمان و یقین کا مظہر نہیں بلکہ ایسی بات وہ محاورے کے طور پر کہتے تھے کہ یہ ایک اتفاقی بات ہے جو اللہ کی جانب سے ہوگئی ہے اور دوسری طرف و ان تصبہم سیئۃٌ اگر ان کو کوئی مشکل پیش آجاتی ہے قحط سالی کا شکار ہوجاتے ہیں یقولوا ہذہ من عندک تو پھر اللہ کے نبی کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تکلیف تمہاری طرف سے آئی ہے یعنی یہ تکلیف تمہاری بےتدبیری یا العیاذ باللہ نحوست کی وجہ سے پہنچی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہود و منافقین برا شگون بھی لیتے تھے۔ قحط سالی واقع ہوگئی ، بارش رُک گئی ، پھل کم آیا تو کہتے تھے کہ یہ ان کی نحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلے ہم مدنیہ میں بڑے خوشحال تھے۔ جب سے مسلمان یہاں آئے ہیں ، ہم طرح طرح کے مصائب کا شکار ہوگئے۔ حضور ﷺ نے شگون کو ویسے بھی شرک سے تعبیر فرمایا ہے الطیرۃ من الشرک حالات کا اتار چڑھاؤ یا بناؤ بگاڑ تو اللہ کی مشیت اور ارادے سے ہوتا ہے۔ ان امور کی نسبت غیر اللہ کی طرف کرنا شرک ہے۔ الغرض ! یہ لوگ اس قسم کے نظریات کا اظہار کر کے اپنی خباثت کا ثبوت فراہم کرتے تھے اور نبی پر الزام تراشی کرتے تھے۔
بھلائی منجانب اللہ ہے
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا قل کل من عنداللہ آپ فرما دیجیے کہ ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے ، کیونکہ حقیقی موجد تو وہی ہے اور اس کی قدرت اور مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا آسودگی ہو یا بدحالی ، فتح ہو یا شکست ، صحت ہو یا بیماری ، ہر چیز کا خالق خدا تعالیٰ ہے ، لہٰذا سب کچھ اسی کی جانب سے آتا ہے۔
منکرین کی بدبختی
فرمایا ان حقائق کے باوجود فمال ہولاء القوم ان لوگوں کیا ہوگیا ہے لا یکادون یفقہون حدیثاً یہ کوئی بات سمجھتے ہی نہیں۔ اس طرح یہود و منافقین کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ یہ لوگ کیسی الٹی باتیں کرتے ہیں۔ کوئی راحت پہنچے تو اسے اتفاقی امر کہتے ہیں اور تکلیف کا سامنا ہو تو اللہ کے رسول پر الزام دیتے ہیں۔ حالانکہ میدانِ احد میں جو نقصان اٹھانا پڑا ، وہ اللہ کے رسول کی بےتدبیری کی وجہ سے نہ تھا۔ آپ نے تو بہترین جنگی منصوبہ بندی کی تھی ، مگر بعض مجاہدین سے کوتاہی ہوگئی جس کی وجہ سے مسلمانوں کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ لہٰذا اللہ کے نبی پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔ یہ بڑی قبیح بات ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتراض منصب انسانیت کے خلاف ہے اسی طرح رسول خدا پر اتہام سخت گستاخی اور بےادبی ہے۔ یہ بات آیت کے اگلے حصے میں سمجھائی گئی ہے۔ تاہم انسانوں کی تادیب کے لیے فرمایا ما اصابک من حسنۃٍ فمن اللہ آپ کو جو بھی بھلائی پہنچے تو یہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے۔ کسی انسان کا اپنا کمال ہرگز نہیں۔ اگر خدا کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو نہ تم کو وجود ملتا اور نہ کوئی دوسری نعمت میسر آتی۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” واصبغ علیکم نعمہ ظاہرۃً و باطنۃً “ (سورۃ لقمان) اس نے تمہارے لیے ظاہری اور باطنی نعمتیں مکمل بنائی ہیں۔ ” ومابکم من نعمۃٍ فمن اللہ “ (سورۃ نحل) تمہیں جو بھی نعمت پہنچتی ہے ، سب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ آرام و راحت ، آسودگی خوشحالی سب اللہ کا فضل ہے۔
برائی از نفسِ انسانی
فرمایا و ما اصابک من سیئۃٍ فمن نفسک اور جو تم کو تکلیف یا برائی پہنچتی ہے تو انسان کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنی کوتاہی پر محمول کرے کہ ضرور ہم سے کوئی لغزش ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہ مصیبت آئی ہے۔ کیونکہ ہر چیز کا خالق اور موجد تو اللہ ہے ، البتہ اس نے کسب کرنے کا اختیار انسان کو دیا ہے۔ اگر کوئی تکلیف پہنچے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے اور جب کوئی نعمت ملے تو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے وگرنہ ہم تو اس کے بالکل مستحق نہ تھے۔ انسان کا جسم اور اس کے فائدے کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و رحمت سے عطا کی ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آئے تو وہ انسان کی اپنی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
بخاری شریف کی روایت میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو جو بھی برائی پہنچتی ہے ، وہ اس کی کسی لغزش ، کوتاہی یا گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کافر کے متعلق تو یہ بات واضح ہے کہ کفر اور نفاق بذاتہٖ بری چیز ہے۔ اس سے انسان کی عقل ، روح اور دلِ ناپاک ہوجاتے ہیں اور کافر پر اللہ کی لعنت برستی رہتی ہے ” لعنۃ اللہ علی الکفرین “ اسی طرح مشرکین بھی ملعون ہیں۔ استسقا والی روایت میں آتا ہے کہ جب مومنین بارش کے لیے دعا کی خاطر باہر نکلیں تو کسی کافر کو ساتھ نہ لے جائیں کہ وہ ملعون ہے اس پر خدا کی لعنت برستی ہے۔ لہٰذا خدا تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے کے لیے ایسے لوگوں کا ہمراہ ہونا درست نہیں۔ بہرحال فرمایا کہ کافر کو جو مشکل پیش آتی ہے وہ لازماً اس کی کوتاہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
ابرار کے لیے درجات عالیہ
البتہ نیک لوگوں پر مصیبت کا آنا ، ان کے گناہوں کی وجہ سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ایک نعمت ہوتی ہے جو ان کی بلندیِ درجات کا ذریعہ بنتی ہے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق تو یہ بالکل واضح ہے کہ نہ ان سے حقیقی گناہ سرزد ہوتا ہے اور نہ ہی انہیں حقیقی سزا ملتی ہے۔ انہیں تکلیف ضرور پہنچتی ہے مگر وہ ان کے رفعتِ درجات کے لیے ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ان کی تربیت مقصود ہوتی ہے۔
اسی لیے ان کی معمولی سے معمولی لغزش پر بھی گرفت آجاتی ہے تو یہاں پر یہی بات سمجھائی گئی ہے اگر تمہیں بھلائی پہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھو۔ اور اگر کوئی تکلیف آجائے تو ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنی ذاتی کوتاہی پر محمول کرو۔
و ارسلنک للناسرسولاً ہم نے آپ کو تمام انسانوں (اور جنات) کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اللہ کا رسول حقیقت میں اپنی اطاعت نہیں کراتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کراتا ہے۔ رسول تو اللہ کا پیغام اس کی مخلوق تک پہنچاتا ہے اور خو د بھی اس پر عمل کرتا ہے تاہم آمر تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی سمجھا دیا کہ کسی شخص کے لیے روا نہیں کہ وہ خدا کے نبی کا معارضہ کرے یا اس پر الزام لگائے ، انسانیت اور شرافت کا تقاضا ہے کہ انسان ہر مشکل کو اپنی کوتاہی پر محمول کرے۔
خود احتسابی
گزشتہ سورة میں بھی یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ جب اسے کوئی تکلیف پہنچے تو خود احتسابی کے عمل کے ذریعے اس کی وجوہات تلاش کرے تاکہ کسی کردہ کوتاہی اور لغزش کا ازالہ کیا جاسکے۔ اس عمل کی واضح مثال جنگ قادسیہ کے موقع پر سامنے آئی تھی۔ جب بعض محاذات پر مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا تو سالار لشکر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے مجاہدین کو جمع فرمایا اور کہا کہ لوگو ! ہمیں بعض محاذوں پر شکست کا سامنا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض آدمیوں کے دلوں میں خود غرضی پیدا ہوگئی ہے ، وہ مفاد پرستی کا شکار ہوچکے ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو اللہ تعالیٰ کے روبرو توبہ کرو۔ اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگو۔ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اپنے دلوں سے تمام کدورتیں صاف کردیں۔ پھر تین دن رات متواتر جنگ ہوئی اور اللہ کی مدد سے یہ عظیم معرکہ سر ہوا اور ایران فتح ہوگیا۔
تفقہ فی الدین
بہرحال ان تمام حقائق کو بےنقاب کرنے کے بعد فرمایا کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات کو نہیں سمجھتے۔ یہاں پر یفقھون کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی سمجھ ، بوجھ اور فقاہت ہے۔ یہ لفظ متعدد احادیث میں بھی آتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حق میں دعا فرمائی 1 ؎ اللہم علمہ الکتب وفقہہ فی الدین اے اللہ ! اس بچے کو قرآن پاک کا علم اور دین میں سمجھ عطا فرما۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور حضرت عبداللہ کو قرآن کا وسیع علیم اور فقاہت فی الدین عطا فرمائی۔ آپ نے ہزاروں لوگوں کو قرآن پاک کی تعلیم دی۔ بخاری شریف کی روایت 2 ؎ میں آتا ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا من یرد اللہ بہ خیراً یفقہہ فی الدین اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے ، اسے دین میں سمجھ عطا کرتا ہے ایسے شخص پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہوتی ہے۔ مسند احمد شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا تو ہر شخص کو دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے یا ناپسند کرتا ہے مگر یوتی الدین من احب دین کی سمجھ اسی کو عطا کرتا جسے وہ محبوب سمجھتا ہے۔
علم فقہ اور فقہائے کرام
قرآن و سنت میں تحقیق کا نام فقہ ہے یہ ایک بلند پایہ چیز ہے جس میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں اور ا س سے مراد دین کی سمجھ ہے۔ جس طرح لوگ سائنس اور دیگر علوم میں ریسرچ کر کے اس علم کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح قرآن و سنت میں ریسرچ کر کے اس علم کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح قرآن و سنت میں ریسرچ کا نام فقہ ہے۔ تحقیق کنندگان (Research Workers) اس کے ذریعے قرآن و سنت سے استنباط کر کے نئے نئے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں اور نئی نسلوں کے لیے دین کی سمجھ کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔
جن لوگوں نے قرآن و سنت میں تحقیق کا فریضہ انجام دیا ہے۔ ان میں امام بخاری (رح) اور امام سفیان ثوری (رح) بھی شامل ہیں مگر ان کی فقہ امام ابوحنیفہ (رح) کے مقابلے میں کمزور تھی کسی پوچھنے والے نے پوچھا کہ امام سفیان ثوری (رح) بڑے فقیہ ہیں یا امام ابوحنیفہ (رح) تو جواب دینے والے نے کہا کہ سفیان ثوری (رح) متفقہ ہیں ، یعنی آپ بہ تکلف فقیہ ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) حقیقی فقیہہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طبیعت میں فقاہت کا ایسا وافر مادہ رکھ دیا ، جو کسی دوسرے کے حصے میں نہ آسکا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں۔ الناس عیالٌ علی ابی حنیفۃ یعنی فقہ کے معاملہ میں باقی سب لوگ امام ابوحنیفہ کے بچے ہیں۔ ان سب نے امام صاحب سے ہی فقہ کا علم سیکھا۔
بعض لوگ نارانی یا تعصب کی وجہ سے کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) حدیث کو نہیں مانتے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ قرآن و سنت ہی فقہ کے اصل ماخذ ہیں اور ان کے بغیر تو اجتہاد ممکن نہیں۔ لہٰذا حدیث کو ترک کرکے کوئی شخص فقیہہ کے منصب پر کیسے فائز ہو سکتا ہے۔ آپ کو ہزارہا احادیث یاد تھیں۔ قرآن ان کا اوڑھنا بچھونا تھا جن کی بناء پر وہ اجتہاد کرتے تھے آپ کے شاگردوں نے بھی یہ فریضہ انجام دیا اور فقہ حنفی کے بارہ لاکھ مسائل مدون کئے اگر آپ کے بیان کردہ بعض مسائل درست نہیں ہیں تو انہیں چھوڑ دیاجائے گا ، ان پر عمل نہیں کیا جائیگا بعض غلط باتیں تو حدیث کی کتابوں میں بھی موجود ہیں۔ لہٰذا امام صاحب کی بعض اغلاط کو بنیاد بنا کر فقہ کا انکار کرنا درست نہیں۔ غلطی سے پاک تو صرف نبی کی ذات ہے۔ کوئی انسان سے محفوظ نہیں لہٰذا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر درست بات کو تسلیم کرلیا جائے اور نادرست کو ترک کر دیاجائے۔ بہرحال امام ابوحنیفہ (رح) کو اللہ تعالیٰ نے بلند فہم عطا کیا تھا۔ عبادت و ریاضت میں بھی آپ کا کوئی مقابلہ نہیں آپ نے اپنی تحقیق کے ذریعے قرآن و سنت کے سمجھنے میں آسانی پیدا کی۔ حضور ﷺ کی احادیث مبارکہ کو فقہ کی صور ت میں سہل کیا جس کو لوگوں نے دستور العمل بنا لیا۔
الغرض فرمایا کہ ان منافقین اور یہودیوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ حقیقت کو سمجھنے کی بجائے نبی کی ذات پر الزام تراشی کرتے ہیں اور اپنی کوتاہی کو تسلیم نہیں کرتے۔ فرمایا ہم نے آپ کو رسول بنا کر سب لوگوں کی طرف بھیجا ہے۔ انہیں آپ کی اتباع کرنی چاہیے اور اگر یہ اپنی ہٹ دھرمی پر مصر ہیں تو فرمایا وکفیٰ باللہ شہیداً اللہ تعالیٰ کافی گواہ ہے وہ سب حالات کو دیکھ رہا ہے اور ان منکرین سے خود ہی نپٹ لیگا۔
رسول کی فرمانبرداری
فرمایا من یطع الرسول فقد اطاع اللہ جس نے رسول کی فرمانبرداری کی ، حقیقت میں اس نے اللہ ہی کی فرمانبرداری کی کیونکہ رسول خود آمر نہیں ہوتا بلکہ اس کا کام احکام الٰہی لوگوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ وہ مبلغ ہوتا ہے۔ وہ الہل کے اوامر پہنچانے کا قطعی ذریعہ ہوتا ہے۔ اس واسطے اس کی اطاعت ضروری ہوتی ہے اور اس سے جھگڑا کرنا اور اس پر الزام لگانا قبیح فعل ہے۔
فرمایا و من تولی جس نے رسول کی اطاعت سے روگردانی کی۔ فما ارسلنک علیہم حفیظاً ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان یا داروغہ بنا کر تو نہیں بھیجا۔ آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے ان کو پکڑ پکڑ کر راہ راست پر لانا آپ کا کام نہیں ہے انما علیک البلاغ باقی ان لوگوں کی گرفت کرنا اور انہیں سزا دینا ہمارا کام ہے۔ ہم انہیں مقررہ وقت پر پکڑ لیں گے۔ کیونکہ وکفی باللہ شہیداً سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔ شہید کا معنی گواہی ا دیکھنے والا ہوتا ہے۔ کسی جگہ وکیل کا لفظ آیا ہے۔ کہیں ولی فرمایا ہے کہ سب اللہ کی صفات ہیں۔ آپ ان پر دراوغہ نہیں ہیں۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات کو پہنچانے والے ہیں۔ روگردانی کرنیوالوں سے اللہ تعالیٰ خود نپٹ لے گا۔
Ayahs 4:81–82ربط آیات
گزشتہ درس میں منافقین اور یہود کا یہ رویہ بیان ہوا کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کا الزام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ذات پر لگاتے ہیں کہ آپ کی بےتدبیری کی وجہ سے ایسا ہوا ہے یا پھر بُرا شگون لیتے ہیں کہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کی مدینے آمد کی وجہ سے ان پر نحوست پڑی ہے (العیاذ باللہ) اللہ نے فرمایا یہ دونوں باتیں غلط ہیں شگون لینا تو ویسے ہی شرک ہے کسی کے آنے یا جانے سے نفع یا نقصان نہیں ہوتا کیونکہ ہر چیز کا خالق اور موجد تو اللہ تعالیٰ ہے۔ البتہ انسانوں کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب انہیں کوئی راحت پہنچے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے اور جب کوئی تکلیف پہنچے تو اسے اپنی کوتاہی پر محمول کرنا چاہئے۔ پھر فرمایا ان منافقین کو کیا ہوگیا ہے لا یکادون یفقہون حدیثاً یہ بات کو سمجھتے ہی نہیں۔ ویسے ہی الٹی سیدھی ہانکتے جاتے ہیں۔ اگر یہ معاملہ کو سمجھتے اور اس کی تہہ تک پہنچ جاتے تو اللہ کے رسول پر الزام تراشی نہ کرتے۔ مگر منافق ہمیشہ بےعقل ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا خصلتان لا یجتمعان فی منافقٍ دو خصلتیں منافق ہیں جمع نہیں ہو سکتیں فرمایا حسن خلقٍ ولافقہ فی الدین یعنی حسن اخلاق اور دین کی سمجھ۔ منافق ان چیزوں سے خالی ہوتا ہے اسی لیے پیغمبر کی ذات پر اعتراض کرتا ہے۔
گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اللہ کے رسول کی اطاعت بیعنہٖ اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے کیونکہ اللہ کا رسول آمر نہیں ہے۔ آمر تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے ، رسول تو مبلغ ہوتا ہے۔ جو اللہ کا پیغام ، دین اور شریعت لوگوں تک پہنچاتا ہے اور خود بھی اس پر عمل کر کے نمونہ پیش کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان حقائق کے باوجود منافقین آپ سے اعراض کریں تو انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں ، کیوں کہ آپ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ ان کے اس بغض ، عناد اور ہٹ دھرمی کے متعلق اللہ تعالیٰ خود ان سے باز پرس کرے گا۔
قول و فعل کا تضاد
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک اور بری خصلت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اور آپ کو تسلی دی ہے کہ آپ فکرمند نہ ہوں بلکہ ان سے اعراض کریں ارشاد ہوتا ہے ویقولون طاعۃٌ ان منافقوں کا حال یہ ہے کہ جب آپ کی مجلس میں آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارا مطالبہ تو اطاعت کا ہے ، آپ جو کچھ فرما دیں ہم اس کی اطاعت کریں گے۔ مگر فاذا برزوا من عندک جب آپ سے نکل کر چلے جاتے ہیں بیت طائفۃٌ منہم غیرالذی تقول ان میں سے ایک گروہ رات کو مشورہ کرتا ہے ، اس کے خلاف جو بات آپ نے کہی۔ بیت کا معنی گھر ہوتا ہے۔ بیتوتت رات گزارنے کو کہتے ہیں کیونکہ رات عموماً گھر میں گزاری جاتی ہے اور تبییت رات کے وقت مشورہ کرنے کو کہتے ہیں۔ منافقین کی یہ روش بیان کی جا رہی ہے۔ کہ جب تک آپ کے ہاں بیٹھے رہتے ہیں ، آپ کی فرمانبرداری کا اقرار کرتے ہیں۔ پھر جب اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ تو رات کو علیحدگی میں آپ کے مشن کے خلاف مشورہ اور منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ اسلام اور اہل اسلام کو کس طرح نقصان پہنچایا جائے۔ اپنی انہی سازشوں کی وجہ سے منافقین اسلام کے خلاف خطرناک ترین گروہ تھا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کو وقتاً فوقتاً بےنقاب کیا اور انہیں سخت سزا کی وعید سنائی۔ مذکورہ سازش کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا واللہ یکتب مایبیتون منافقین جو کچھ مشورہ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کو لکھتا ہے۔ یعنی اس کے فرشتے ان کی ہر ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں۔ پھر قیامت کے دن یہی نوشتہ ان کے سامنے کردیا جائیگا۔ اس دن تمام راز فاش ہوجائیں گے اور منافقین سخت سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ کراماً کاتبین تو ہر شخص کا ہر قول و فعل متواتر نوٹ کر رہے ہیں اور ان میں منافقوں کی سازشیں بھی شامل ہیں۔ پھر یہی نوشتہ اعمال نامہ کی صور ت میں ان کے گلے میں لٹکا دیاجائے گا۔
اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی تمام تر کرتوتوں کے باوجود فاعرض عنہم آپ ان سے اعراض کریں ، ان کی طرف توجہ نہ کریں۔ اور یہاں اشارتاً یہ بھی سمجھا دیا کہ منافقین یہ نہ سمجھیں کہ ان کا راز فاش نہیں ہوا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو بوقت ضرورت آگاہ کرتا رہتا ہے پیغمبر خود تو عالم الغیب نہیں مگر اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے۔ اپنے نبی کو غیب پر مطلع کردیتا ہے۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر موجود ہے کہ اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) کو وحی کے ذریعے بہت سی باتیں بتلا دیں۔ تو یہاں بھی مقصود یہی ہے کہ آپ فکر نہ کریں۔ ہم وقت مقرر پر ضروران کو پکڑ لیں گے اور پھر انہیں اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔
توکل بر خدا
فرمایا آپ منافقین کی طرف توجہ نہ فرمائیں بلکہ وہ توکل علی اللہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ کیونکہ مومن کی شان یہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ” علیہ فلیتوکل المتوکلون “ یعنی بھروسہ رکھنے والے فقط خداوند تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ نیز یہ بھی متعدد مقامات پر آیا ہے ” وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “ یعنی اہل ایمان ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہاں بھی پیغمبر (علیہ السلام) کو یہی نصیحت کی جا رہی ہے کہ آپ منافقین کی سازشوں سے پریشان نہ ہوں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھیں وکفی باللہ وکیلاً کارساز اللہ ہی کافی ہے۔ وکیل کا معنی کام بنانے والا ہوتا ہے۔ ہر چیز تو قبضہ قدرت میں ہے لہٰذا منافقوں کی سکی میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ضرور غالب کریگا۔ اس پر پختہ یقین ہونا چاہئے۔ سورة مزمل میں بھی اسی طرح فرمایا ” لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلاً “ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، لہٰذا کارساز بھی اسی کو پکڑو۔ کام بنانے والا وہی ہے۔ منافقوں کی چالوں کو وہی ناکام بنائے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے منافقین کی سازشوں کا علاج یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں اور اپنا کام کرتے جائیں۔
تدبیر فی القرآن
آگے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ منافقین کی یہ تمام قبیح حرکات قرآن پاک میں غورو فکر کے فقدان کی وجہ سے ہیں۔ اگر یہ اللہ کے پاک کلام قرآن پاک کو پڑھتے ، اسے سمجھتے اور پھر اس پر عمل کرتے تو نبی کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات میں نہ پڑتے۔ اسی لیے فرمایا افلا یتدبرون القران یہ لوگ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے۔ اللہ کا رسول دین کا پروگرام تو قرآن پاک کی شکل میں پیش کرتا ہے ، پھر اس کی تشریح اور وضاحت بھی کرتا ہے ، اس پر عمل کر کے خود نمونہ بھی بنتا ہے۔ اگر یہ قرآن میں غور کرتے تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی ذات اور دین کے پروگرام کے متعلق ان کے تمام شبہات دور ہوجاتے۔ انہیں قرآن کی حقانیت کا یقین آجاتا ، وہ جان لیتے یہ اللہ کا کلام اور اس کی پاک صفت ہے ، یہ کسی انسان کا کلام نہیں۔ اس میں پیش کردہ نظام تمام عیوب سے پاک ہے۔ یہ چیزیں قرآن میں غور و تدبر کرنے سے ہی حاصل ہو سکتی ہیں۔ مگر یہ لوگ قرآن پاک کی طرف متوجہ ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دیدہ و دانستہ اللہ کے دین سے اعراض کر رہے ہیں۔ اگر ایسا کسی غلطی سے ہوتا تو علیحدہ بات ہے ، انسان کی غلط فہمی کبھی نہ کبھی دور ہوجاتی ہے۔ مگر یہ تو ازلی ابدی عنادی ہیں۔ ان کا منتہائے مقصود مخالفت برائے مخالفت ہے ، لہٰذا پیغمبر (علیہ السلام) کو درگزر کر نیکی ہدایت کی گئی ہے۔
قرآن پاک میں غورو فکر ہر انسان کے لیے اپنے اپنے درجے میں ضروری ہے مجتہدین اور علمائے کرام بھی اس میں تدبر کرتے ہیں۔ مجتہدین ایک ایک آیت سے ہزاروں مسائل استنباط کرتے ہیں اور علماء ان کی تصدیق کرتے ہیں۔ ان کے فہم میں بھی اضافہ ہوتا ہے البتہ عوام کا تدبر اتنا ہی ہے کہ وہ قرآن پاک کے معانی ہی سمجھ لیں۔ اس سے ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور محبت پیدا ہوگی۔ جو ایمان کی جڑ ہے تو گویا ہر ایک کے لیے قرآن میں غورو فکر کرنا ضروری ہے۔ اس کو سمجھے گا تو علم حاصل ہوگا اور پھر اس پر عمل کی نوبت بھی آئیگی۔ علم کے بغیر عمل کا درست ہونا ممکن نہیں اور نہ ہی اعتقاد صحیح ہو سکتا ہے۔ لہٰذا قرآن پاک کا کم از کم تدبر یہ ہے کہ اس کے معانی یہ سمجھ لیے جائیں۔ یہی دانائی کی بات ہے۔
قرآن تضاد سے پاک ہے
آگے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کی دلیل کے طور پر فرمایا ولوکان من عند غیر اللہ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا لوجدوا فیہ ختلافاً کثیراً تو وہ اس میں بہت بڑا اختلاف پاتے۔ قرآن پاک منجانب اللہ ہونے کی یہ واضح دلیل ہے کہ اس میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا اس کو ہر بات محکم اور اس کا ہر اصول مضبوط ہے۔ اگر یہ اللہ کے علاوہ کسی مخلوق کا کلام ہوتا تو اس میں جگہ جگہ تضاد پایا جاتا۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ جس ذات پاک کا یہ کلام ہے وہ علم محیط کی مالک اور ہر قسم کے نقص و عیب سے پاک ہے۔ لہٰذا اس کی ہر بات پکی ہے۔ مخلوق میں سے ان صفات کی حامل کوئی ہستی نہیں۔ اس لیے اگر یہ غیر اللہ کا کلام ہوتا تو اس میں ضرور نقوص و عیوب اور تضاد ہوتا۔ قرآن پاک کی تمام آیات حدِ اعجاز میں داخل ہیں ، یہ معجز ہیں اور مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا معارضہ نہیں کرسکتا۔ نہ ایسا فصیح وبلیغ کلام پیش کرسکتا ہے۔ اس میں ماضی اور مستقبل کی بیشمار غیب کی باتیں موجود ہیں مگر کہیں ذرہ بھر بھی تفاوت نہیں پایا جاتا ، اسی لیے فرمایا کہ یہ کلام اختلاف سے پاک ہے۔
قرآن معجزہ ہے
قرآن پاک نے جو نظام پیش کیا ہے۔ ایسا مربوط نظام پیش کرنا کسی مخلوق کے بس میں نہیں۔ نہ کوئی فرد واحد ایسا کرسکتا ہے اور کوئی جماعت ، قوم ، اسمبلی بلکہ تمام انسان اور جن مل کر بھی قرآن پاک کی نظیر پیش نہیں کرسکتے۔ خود قرآن پاک کا چینلج ہے ” ولوکان بعضہم لبعضٍ ظہیراً “ اگرچہ وہ سب ایک دوسرے کے ممدو معاون ہی کیوں نہ بن جائیں ، قرآن پاک کی ایک آیت کا معارضہ بھی محال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک ایک آیت میں اپنی مصلحت رکھی ہے۔ اس لیے قرآن کا نظام بھی معجز ہے اور اس کی تعلیم بھی معجز ہے۔ اس کی صداقت کی یہ بھی ایک بین دلیل ہے کہ اس نے جو جماعت پیدا کی ہے اور جس نے اس پر عمل کیا ہے اس پر اعتقاد رکھا ہے ، وہ دنیا میں بےنظیر جماعت ہے۔ یہ صحابہ کرام کی جماعت ہے ، جنہوں نے قرآن میں تدبر کیا اور اس پر حقیقتاً عمل کیا۔ انسانیت کی پوری تاریخ صحابہ کی مثال پیش نہیں کرسکتی ، یہ خود قرآن پاک کا معجزہ ہے۔ یہ ساری چیزیں غور و فکر کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہیں۔ اسی لیے قرآن پاک غور و تدبر کی دعوت دیتا ہے۔
یہ قرآن پاک میں تدبر کا نتیجہ تھا کہ عربوں جیسی جاہل قوم نے دنیا بھر کی قیادت سنبھال لی۔ یہ اسی قرآن کا اعجاز تھا کہ اخلاقی طور پر انتہائی گری ہوئی قوم اخلاق کی بلندیوں تک پہنچ گئی اور نادان اور بےسمجھ لوگ علم و حکمت کے دریا بہانے لگے۔ یہ سب قرآن پاک کی برکات اور اس کا اعجاز تھا۔ ” ذلک الکتب لاریب فیہ “ یہ شک و شبہ سے بالا کتاب ہے اس میں جن لوگوں نے شک و شبہ کا اظہار کیا وہ ان کی اپنی کج فہمی کا نتیجہ تھا۔ بھینگے آدمی کو ایک چیز دو نظر آتی ہیں۔ یرقان کے مریض کو ہر چیز زرد نظر آتی ہے یہ ان کے دماغ و نظر کی خرابی ہوتی ہے مگر درحقیقت ہر چیز اپنی اصل حالت پر ہی قائم ہوتی ہے۔ اسی طرح قرآن پاک میں شک کرنے والوں کی اپنی عقل و فکر صحیح نہیں ہوتی ، ورنہ وہ کلام پر اعتراض کی جرأت نہ کریں۔ کوئی بھی صاحب علم و عقل اس میں غور کرے گا تو اسے کوئی تفاوت نظر نہیں آئے گا ، جس طرح قرآن کے الفاظ فصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں اس طرح اس کا نظام بھی بےمثال ہے اس کی حکمت و دانائی کا کوئی مقابل نہیں۔ یہ سب باتیں تدبر سے سمجھ میں آتے ہیں مگر منافقین اس کے لیے تیار نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس کی حقانیت پر انہیں یقین نہیں آتا اور وہ اللہ کے رسول کی مخالفت پر کمربستہ رہتے ہیں۔
Ayahs 4:83–84ربط آیات
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان ہوئی تھی کہ یہ لوگ حضور ﷺ کی مجلس میں بٹھ کر آپ کی اطاعت کا اظہار کرتے ہیں مگر جب وہاں سے اٹھ کر جاتے ہیں تو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور سکی میں بناتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی تمام باتیں لکھ لی جاتی ہیں اور وہ قیامت کے دن سزا کے مستوجب ہوں گے۔ پھر حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے اعراض کریں ، اور خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا کام کرتے رہیں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ کارساز ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین اور یہود کا شکوہ کیا کہ یہ لوگ قرآن پاک میں غورو فکر کیوں نہیں کرتے اگر اس طرف توجہ دیتے تو جان لیتے کہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اس میں کوئی تعارض یا تخائف نہیں پایا جاتا۔ اس کے معارف بلند اور تمام اطوار صحیح ہیں۔ یہ علم و حکمت کا خزانہ ہے۔ اور اس کا لایا ہوا نظام بےمثال ہے۔ جب یہ چیزیں واضح ہوجاتیں تو انہیں نبی کی ذات کے متعلق کوئی تردد باقی نہ رہتا اور کلام پاک میں کوئی شک نہ کرتے۔
تشہیر کی ممانعت
اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہر خبر کی بلاتصدیق و تحقیق تشہیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اسلام کی ابتدائی جنگوں کے دوران لوگ محاذوں سے آنے والی خبروں کے منتظر رہتے تھے۔ اور پھر جونہی کوئی خبر پہنچتی اسے بلاتحقیق مشہور کردیتے ، حالانکہ جنگی حکمت عملی کے پیش نظر بعض چیزوں کی تشہیر نقصان کا باعث ہو سکتی ہے۔ اس معاملے میں منافقین اور یہود پیش پیش تھے اور کمزور دل مسلمان بھی ان کے ساتھ شامل ہوجاتے تھے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرما دیا۔ ارشاد ہوتا ہے و اذا جاء ہم امرٌ من الامن الوالخوف جب ان کے پاس کوئی خبر آتی ہے ، امن کی یا خوف کی۔ یہاں امن کی خبر سے مراد خوشخبری ہے ، مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگئی ، مال غنیمت حاصل ہوگیا یا کوئی اور کامیابی ہوگئی تو اسے امن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف اگر شکست آگئی ، جانی یا مالی نقصان ہوگیا تو اسے خوف کا نام دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب کوئی ایسی خبر پہنچتی ہے تو منافقین اور کمزور مسلمان اذاعوا بہ اس کو پھیلا دیتے ہیں ، عام کردیتے ہیں ، حالانکہ ایسی باتوں کی تشہیر بعض اوقات مناسب نہیں ہوتی اور اہل اسلام اور دین کے لیے نقصان کا باعث بن جاتی ہے۔ ہر بات کو بلاتحقیق آگے پہنچا دینا درست نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک 1 ؎ ہے کفی بالمرئِ کذباً ان یحدت بکل ماسمع یعنی کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر چھان بین کے آگے چلا دے۔
پیشگی تحقیق
فرمایا جب بھی کوئی ایسی خبر پہنچے تو اس کے لیے صحیح طریق کار یہ ہے۔ ولوردوہ الی الرسول اور اگر یہ لوٹاتے ایسی بات کو رسول کی طرف و الی اولی الامر منہم اور اپنے میں سے صاحب امر کی طرف۔ تو اس کا فائدہ یہ ہوتا لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم کہ ان میں تحقیق و تجسس کرنے والے بات کی حقیقت کو جان لیتے۔ مقصد یہ ہے کہ کسی خبر کو عام کرنے سے پہلے لازم ہے کہ اسے ذمہ دار لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ وہ اس کی باقاعدہ تحقیق و تصدیق کریں اور پھر فیصلہ کریں کہ آیا اس خبر کی تشہیر اسلام کے مفاد میں ہے یا نقصان میں ، اس ضمن میں فرمایا کہ کسی معاملہ میں حتمی فیصلہ اللہ کے رسول کا ہوتا ہے اگر اللہ کا رسول اس مقام پر موجود ہے تو ایسی بات فوراً اس کے نوٹس میں لاؤ اور پھر اس کے فیصلے کے مطابق عمل کرو۔ اور اگر رسول خدا موجود نہیں ہیں تو پھر ایسی بات آپ کے نایب یا اولی الامر کے پاس لے جاؤ ، تاکہ وہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کرسکے کہ اس کی تشہیر مفید ہے یا نہیں۔
اولیٰ الامر کا لفظ پیچھے اسی سورة کے آٹھویں رکوع میں بھی آ چکا ہے وہاں بھی حکم ہوا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور پانے میں سے صاحب امر کی اطاعت کرو۔ وہاں پر بھی اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ صاحب امر سے مراد مسلمان حکام بھی ہیں اور امت کے علماء و فقہاء بھی۔ اگر معاملہ انتظامی نوعیت کا ہے تو وہ حاکم وقت کے پاس جائیگا ، کیونکہ فوج کی تنظیم ، شہری دفاع اور دیگر ملکی نظم و نسق کی ذمہ داری حکام پر ہوتی ہے ، اس لیے ایسے معاملہ میں وہی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں اور اگر معاملہ حلت و حرمت کا ہے یا کسی بات کے جائز ناجائز کا ہے اور اس میں شرعی فتویٰ کی ضرورت ہے تو پھر ایسا معاملہ علما و فقہاء کے سامنے پیش کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی علمی تحقیق و تجسس کی روشنی میں مسئلہ کا حل پیش کرسکیں۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اولی الامر میں حکام وقت اور علماء فقہاء کے دونوں گروہ شامل ہیں۔
جیسا کہ عرض کیا ، ہر نازک معاملہ کی پیشگی تحقیق از بس ضروری ہوتی ہے ، وگرنہ کسی غلط فہمی یا غلط خبر کی وجہ سے بڑے سے بڑے نقصان کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کسی شخص کو ایک قوم کے پاس زکوٰۃ کی وصولی کے لیے بھیجا۔ جب یہ شخص اس بستی کے قریب پہنچا تو وہ لوگ اسے حضور ﷺ کے معزز نمائندہ سمجھ کر استقبال کے لیے بستی سے باہر نکلے۔ اس شخص کی گاؤں والوں سے کچھ دیرنہ عداوت تھی ، وہ سمجھا کہ شاید اس عداوت کی بنا پر یہ لوگ مجھے ہلاک کرنے کے لیے نکلے ہیں۔ اسی غلط فہمی کی وجہ سے حضور کا محصّل ان لوگوں کو ملے بغیر واپس آ گیا اور آ کر یہ مشہور کردیا کہ وہ لوگ نہ صرف دین سے پھرگئے ہیں اور زکوٰۃ کی ادائیگی سے انکار کردیا ہے بلکہ مجھے مارنے کے لیے نکلے تھے۔ معاملہ بڑا نازک تھا۔ اہل اسلام اور قوم کے ارتداد اور زکوٰۃ سے انکار کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ اگر صورتحال کی تحقیق نہ کی جاتی تو قریب تھا کہ ان لوگوں کے خلاف کوئی فوری کارروائی ہوجاتی اور مسلمانوں کے ہاتھوں ہی مسلمانوں کا نقصان ہوجاتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسی خبر پہنچے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ سورة حجرات میں بھی اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی ارشاد فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! ” ان جاء کم فاسقٌ بنیاء فتبیتوا “ اگر کوئی ایسی ویسی خبر پہنچے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو کہیں نادانی اور جہالت کی وجہ سے کوئی نقصان نہ اٹھا بیٹھو۔ اسی سورة میں آگے تیرہویں رکوع میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔ وہاں بھی اللہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو غلط فہمی کی بناء پر کافر سمجھ کر قتل نہ کردیا کرو بلکہ اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ ایسا نہ ہو کہ بےگناہ مسلمان تمہارے ہاتھوں ماراجائے۔
دورانِ جنگ بعض ایسی خبریں جنگی پراپیگنڈا کے طور پر بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ تاکہ دشمن پر اس کا منفی اثر ہو۔ بعض اوقات اپنی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ مخالف فریق کو فوج کو اعصابی طور پر کمزور کیا جاسکے اور عوام میں بددلی پھیلا دی جائے۔ سورة احزاب میں اللہ نے فرمایا کہ منافقین کا حال یہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں ضعف پیدا کرنے کے لیے غلط پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ ہم نے یہ کردیا یا وہ کردیا۔ موجودہ زمانے میں انگریز نے پراپیگنڈا کے ہتھیار کو موثر طور پر استعمال کیا ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمیا ا کہ ہر خبر کو بلاسوچے سمجھے مشتہر نہ کردیا کرو بلکہ اسے اس کے اہل لوگوں کے پیش کردیا کرو اور پھر وہ جو کچھ فیصلہ کریں ، اس کے مطابق عمل کرو۔
استنباط مسائل
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ یستنبطونہ سے کئی باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ نئے پیش آمدہ مسائل کا حل کلی طور پر نصوص سے نہیں ہو سکتا۔ نص تو ایسی چیز کو کہتے ہیں جو قرآن پاک یا حدیث شریف سے صراحتاً ثابت ہو۔ نئے مسائل میں چونکہ نص موجود نہیں ہوتی۔ لہٰذا ان کا حل استنباط سے ہی ممکن ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنے معاملات اللہ کے رسول یا صاحب امر کے پاس لے جاؤ جو استنباط کی اہلیت رکھتے ہیں ظاہر ہے کہ اگر کوئی انتظامی نوعیت کا معاملہ ہے تو حکام وقت نپٹائیں گے اور اگر حدود شریعت کا مسئلہ ہے تو اسے اہل علم کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔ ہر شخص ہر مسئلہ میں خود مفتی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ عام حکم بھی موجود ہے ” فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لاتعلمون “ اگر تمہیں کسی معاملہ کا علم نہیں تو اہل علم سے دریافت کرلو ، وہی اس کا حل پیش کرینگے گویا کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں استنباط کا عظیم اصول بیان فرمایا ہے۔ استنباط کا لفظ نبط کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی زمین کی تہ میں موجود مخفی پانی کو آلات کی مدد سے نکالنا ہے۔ یہاں بھی استنباط سے مراد قیاس و اجتہاد کے ذریعے کسی مسئلے کا استخراج ہے۔ یہ مجتہد کا کام ہے کہ وہ مسئلہ کی بنیاد تلاش کرے اور دیکھے کہ اس کا تعلق کون سی دلیل کے ساتھ ہے۔ پھر اس میں غورو فکر کر کے پیش آمدہ مسئلہ کا حل پیش کرے۔ ظہر ہے کہ مجتہد کے پاس قطعی علم تو نہیں ہوتا کیونکہ قطعی علم فقط نبی کو بذریعہ وحی حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا مجتہد کا اجتہاد ظن غالب پر مبنی ہوتا ہے۔ اور اسی پر وہ مسئلہ کا حل پیش کرتا ہے۔
استنباط شرعی حجت ہے
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ استنباط حجتِ شرعی ہے۔ اور یہ ہر شخص کا کام نہیں۔ ظاہر ہے کہ نیا مسئلہ اہل علم کے آگے پیش ہوگا۔ اور جب وہ اس کا حل پیش کر دے تو پھر عام لوگوں کا فرض ہوگا کہ وہ اس پر عمل کریں ، اس طرح گویا اہل علم کی تقلید عوام پر واجب ہوگئی۔ اسی لیے اللہ نے ایسے مسائل کو اہلعلم کی طرف لوٹانے کا حکم دیا ہے تاکہ باقی لوگ ان کے فیصلے پر سرتسلیم خم کرلیں۔ یہی تقلید ہے۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ استنباط نبی اور امتی دونوں میں پایا جاتا ہے۔ بعض اوقات جب وحی نہیں آتی تو نبی خود بھی مسئلہ کا استنباط کرتا ہے اور پھر آپ کے عالوہ انتظامی امور میں ذمہ دار حکام وقت اور شرعی معاملات میں اہل علم و دانش استنباط واستخراج مسائل کے ذمہ دار ہیں۔ اہل سنت کے ائمہ اربعہ نے استنباط کے ذریعے ہزاروں اور لاکھوں شرعی مسائل کا حل پیش کر کے اس کی افادیت کو ثابت کردیا۔
امام اور معصومیت
استنباط کے قانون سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ استنباط یا استخراج مساء لغور و فکر کا نتیجہ ہوتا ہے اور غورو تدبر میں آراء کا مختلف ہونا بھی عین ممکن ہے۔ لہٰذا رافضیوں کا عصمت امام کا عقیدہ درست نہیں ہے معصوم وہ ہوتا ہے جس کی بات قطعی ہو ، اور وہ صرف پیغمبر کی ذات ہوتی ہے اگر امام کی بات بھی قطعی ہو تو پھر استنباط کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے استنباط تو وہیں ہوگا جہاں غور و فکر کی ضرورت ہے اور جب کوئی چیز غورو فکر کے ذریعے نکالی جائے تو وہ قطعی نہیں ہو سکتی ، لہٰذا ثابت ہوا کہ امام معصوم نہیں ہوتا۔
ضرورت قیاس
ماہرین اصول فقہ کہتے ہیں کہ دلائل شرع چار ہیں یعنی کتاب اللہ ، سنت رسول اللہ اجماع امت یعنی اتفاق صحابہ ؓ اور قیاس۔ مقصد یہ ہے کہ جس مسئلہ کا حل نہ قرآن پاک سے معلوم ہو اور نہ حدیث رسول سے اور جس پر اجماع صحابہ ؓ بھی ثابت نہ ہو تو اس کا حل قیاس کے ذریعے معلوم کیا جائیگا۔ ائمہ اربعہ نے لاکھوں مسائل کا حل قیاس کے ذریعے پیش کیا اور وہ سب کے سب حق پر ہیں۔ ان کے درمیان بعض مسائل میں فروعی اختلاف پایا جاتا ہے مگر دین کے بنیادی مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ فروعی اختلاف فہم اور استخراج کے طریق کار میں اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے چونکہ یہ غور و فکر کا نتیجہ ہوتا ہے اس لیے اللہ کے رسول نے اسے امت کے لیے باعث رحمت فرمایا ہے۔ بہرحال دلائل شرع میں سے چوتھی دلیل قیاس ہے اور اس کی ضرورت ہر زمان اور ہر مکان میں موجود رہیگی۔ اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں۔
فرمایا ولولا فضل اللہ علیکم و رحمتہ اگر اللہ تالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت شامل نہ ہوتی لاتبعتم الشیطن الا قلیلاً تو چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے چل نکلتے۔ شیطان انسان کے دل میں وہم ڈال کر گمراہ کردیتا ہے وہ گمراہی کی بات کو بڑا مزین کر کے پیش کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے کم علم لوگ اس کی پیروی کرنے لگتے ہیں۔ البتہ کچھ سمجھدار اور اہل علم لوگ اس کے جال سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ اس نے تمہاری ہدایت کے لیے تمام سامان مہیا کردیے ہیں۔ اور وہ طریقے بھی بتلا دیے ہیں جن سے پیش آمدہ مسائل کا حل معلوم کیا جاسکے۔
جہاد فی سبیل اللہ
اگلی آیت میں پھر جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کا تعلق بھی جہاد کی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہے۔ گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے ۔ الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ یعنی ایماندار لوگ محض اللہ کی رضا کے لیے میدان جہاد میں آتے ہیں اس سے پہلے فرمایا ” مالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ “ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کے راستے میں قتال نہیں کرتے ، حالانکہ کمزور مردوں ، عورتوں اور بچوں کو دشمن کی قید سے آزاد کرانا ضروری ہے۔ قبل ازیں یوں بھی ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو ! ” خذوا حذرکم “ دفاع کا سامان مکمل کرلو اور پھر گروہوں کی شکل میں حملہکر دیا سب کے سب یکبارگی دشمن کا مقابلہ کرو۔ اس معاملہ میں لیت و لعل اور تاخیر کرنے ولاے منافق شمار ہوں گے۔ موت تو بہرحال آ جانی ہے اور جہاد سے محروم رہنے والے شہادت کی موت سے محروم رہ سکتے ہیں۔
اب اس آیت میں بھی ارشاد ہے۔ فقاتل فی سبیل اللہ اے پیغمبر ! اللہ کی راہ میں قتال کریں۔ فی سبیل اللہ کی تشریح پہلے عرض کردی گئی ہے کہ مومن کی جنگ محض اس لیے ہوتی ہے۔ ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ تاکہ اللہ کی دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے ، اس کا مطلوب و مقصود ، ملک گیری ، مال و دولت کا حصول یا شجاعت و بہادری کی تشہیر نہیں ہوتا۔ بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ خود جنگ کے موقع پر دعا فرمایا کرتے تھے اللہم منزل الکتب و مجری السحاب اہزم الاحزاب کتاب کو نازل کرنے والے اور بادلوں کو چلانے والے خدا یا ! دشمن کو مغلوب کر دے اور ہمیں فتح نصیب فرما۔ یہاں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ مسلمان کی جنگ کسی دنیوی مقصد کے لیے نہیں ہوتی ہے بلکہ اس کتاب کے پروگرام کو غالب بنانا مقصود ہوتا ہے جو خود اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔
پھر فرمایا لا تکلف الا نفسک نہیں تکلیف دی جائیگی مگر آپ کے نفس کو۔ مقصد یہ ہے کہ اگر لوگ جہاد کے معاملہ میں سستی کرتے ہیں تو ان کا مؤاخذہ آپ کی ذات سے نہیں ہوگا بلکہ آپ سے سوال آپ کی ذات کے متعلق ہوگا۔ لہٰذا آپ اللہ کے راستے میں ہمیشہ مستعد رہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے بعض مواقع پر فرمایا کہ کوئی دوسرا میرے ہمراہ جائے یا نہ جائے ، میں تنہا بھی دشمن کے مقابلے کے لیے ضرور نکلوں گا۔
دشمن پر گہری نظر
فرمایا وحرض المومنین آپ مسلمانوں کو جہاد پر آمادہ کریں اور اس کے لیے ہمیشہ تیار رہیں عسی اللہ ان یکف باس الذی کفروا قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کفار کی طرف لڑائی کو روک دے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر آپ ہمہ وقت مستعد رہیں گے تو دشمن پر اس کا رعب پڑیگا اور وہ کسی ممکنہ حملے سے باز آئیگا۔ اسے پتہ چل جائے گا کہ دوسرافریق غافل نہیں بلکہ ہر وقت آمادہ جنگ ہے تو پھر وہ سوچ سمجھ کر حملہ آور ہوگا بتایا یہ جارہا ہے کہ بسا اوقات فریق ثانی کی مستعدی کی وجہ سے بھی دشمن جنگ سے گریز کرجاتا ہے۔ عرب کہتی ہیں اذا حوصی سقط دشمن کا محاصرہ کرو گے تو اس کو شکست ہوگی ، اگر سست ہوجاؤ گے ، جہاد کی تیاری میں غفلت برتو گے تو دشمن کو حملہ کرنے کی ترغیب ملیگی ، لہٰذا آپ ہر وقت مقابلہ و مقاتلہ کے لیے تیار رہیں۔
فرمایا ولالہ اشد باساً اللہ تعالیٰ سخت گرفت والا ہے واشدُّ تنکیلاً اور اس کی سزا بھی سخت ہوتی ہے۔ گرفت تو بسا اوقات دنیا میں ہوجاتی ہے اور سزا آخرت کے لیے مقرر کردی جاتی ہے۔ جب مومن اللہ کا نام لے کر اللہ کے دین کے قیم کے لیے نکلیں گے تو دشمن کو ذلت ناک شکست ہوگی۔ دنیا نے دیکھا کہ بدر کے مقام پر کفار کو کیسی شکست ہوئی۔ وہ تمام تر سامان ضرب و حزب کے باوجود میدان سے بھاگ کھڑے ہوئے ، وجہ یہ تھی کہ مسلمان اللہ کے دین کی بلندی کے لیے جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں اترے تھے۔