Ayahs 4:64–65ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے ، اللہ ، اس کے رسول اور اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا تھا اور پھر یہ بھی واضح فرما دیا تھا کہ اگر حکام اور رعیت کے درمیان یا افراد کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو ایسے معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا ضروری ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ کہ کسی بھی معاملہ میں آخری اور حتمی فیصلہ کتاب و سنت سے ہی حاصل کرنا ہوگا اگر دا اور قیامت پر ایمان پختہ ہے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ کتاب اللہ اور اس کے رسول کی طرف آؤ ۔ تو یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور خدا و رسول کے فیصلے کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنے مقدمات طاغوت کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ بیماری منافقین مدینہ میں فی الواقع موجود تھی ، وہ اپنا معاملہ حضور ﷺ کے پاس لے جانے کی بجائے کعب بن اشرف جیسے کافر ، فاجر ، سود خور اور بداخلاق یہودی کے پاس لے جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ اب آج کی آیات میں اطاعت کا بنیادی مقصد بیان کیا گیا ہے اور یہ کہ بنی نوع انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی اطاعت کریں۔ گزشتہ درس میں یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ اطاعت بالذات تو فقط خدا تعالیٰ کی ہوتی ہے اور وہی مطاع مطلق ہے مگر رسول کی اطاعت بالذات نہیں ہوتی بلکہ اس کی رسالت کی وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا پیغام مخلوق تک پہنچاتا ہے اور اس ابلاغ میں کسی قسم کی غلطی یا شبہ کا امکان نہیں ہوتا۔
اطاعتِ رسول فرض ہے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول کا مرکزی نکتہ بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے و ما ارسلنا من رسولٍ الا لیطاع باذن اللہ ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اور رسول مبعوث فرما کر انہیں بنی نوع انسان کی ہدایت پر مامور کیا اور اس سلسلہ کی آخری کڑی کے طوپر حضور خاتم النبیین ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ ان تمام انبیاء اور رسل کی بعثت کا مقصد ان کی اطاعت تھا اور وہ بھی باذن اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل ہیں۔ اس لحاظ سے رسول کی اطاعت کو درجہ فرضیت حاصل ہے اور یہ اس لیے کہ رسول کی اطاعت دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہوتی ہے۔ یہ بات اسی سورة میں آگے دوسرے طریقے سے بھی سمجھائی گئی ہے ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ یعنی جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے درحقیقت اللہ ہی کی اطاعت کی۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت تک پہنچنے کے لیے رسول ہی واحد ذریعہ ہے۔ رسول کے پاس کسی شک و شبہ اور غلطی سے مبرا قطعی اور یقینی علم ہوتا ہے۔ نبی کے علاوہ ایسی کوئی دوسری ہستی موجود نہیں جس کے اخذ اور بیان میں شبہ کا امکان نہ ہو۔ نبی کو اس بات کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اللہ کے احکام ٹھیک ٹھیک اخذ کرتا ہے اور پھر انہیں آگے مخلوق کے سامنے بلا کم و ست کا بغیر کسی شبہ اور غلطی کے بیان کردیتا ہے۔ نبی کے بیان اور اولیاء اللہ کے کشف میں یہ بنیادی فرق ہے کہ پیغمبر کا بذریعہ وحی اخذ ، اس کا ضبط اور پھر بیان شک و شبہ سے پاک سو فیصدی درست ہوتا ہے جب کہ صاحب کشف کے کشفی بیان کو یہ قطعیت حاصل نہیں ہوتی۔ ولی کے کشف کو سمجھنے ، اسے ضبط کرنے اور پھر بیان کرنے میں خطا کا امکان ہے ، لہٰذا یہ سو فیصدی قطعی اور یقینی نہیں ہوتا۔
نبی کی اطاعت دراصل اطاعت الٰہی کی قطعی علامت ہوتی ہے اور ہر نبی کی اطاعت اللہ ہی کے حکم سے ہوتی ہے۔ دنیا میں آنے والے ہر نبی نے یہی کہا ” ان اعبدواللہ لوگو ! عبادت اللہ کی کرو۔ ” واطیعون “ اور اطاعت میری کرو۔ گویا مستحق عبادت صرف اللہ کی ذات ہے اور میری اطاعت کے بغیر کسی کو فلاح نصیب نہیں ہو سکتی کیونکہ قطعی اور یقینی علم کے حصول کا میں ہی واحد ذریعہ ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اپنے باپ سے کہا تھا ” یابت انی قدجاء نی من العلم مالم یاتلک فاتبعنی اہدک صراطاً سویاً “ اے باپ ! میرے پاس ایسا علم ہے جو تیرے پاس نہیں ہے ، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ میری بات مان لو میں تمہیں صراط مستقیم کی منزل دکھا دوں گا۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے اطاعت کا یہی مرکزی مضمون سمجھایا ہے کہ نبی کی اطاعت اللہ کے حکم سے ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ فرض ہے اور اس سے سرتابی کفر ہے۔
طلبِ معافی کے آداب
فرمایا کہ لوگوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کے رسول کی اطاعت کرتے۔ خدا کی نازل کردہ ہدایت کی طرف رجوع کرتے مگر یہ لوگ اپنے معاملات اللہ کے رسول کے پاس لانے کی بجائے طاغوتوں کے پاس لے جاتے ہیں۔ ولو انہم اذ ظلموا انفسہم اور جب کہ ان لوگوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا یعنی گناہ اور زیادتی کا ارتکاب کر بیٹھے ، تو ادھر ادھر جانے کی بجائے جاء وک آپ کے پاس آجاتے فاستغفروا اللہ اور اللہ سے بخشش طلب کرتا۔ لوجدوا اللہ تواباً رحیماً تو اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا اور نہایت مہربان پاتے۔ گویا طلب بخشش کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتے کہ اللہ کے نبی کے پاس آجاتے ، خود بھی اللہ سے اپنی لغزش کی معافی مانگتے۔ اللہ کے رسول سے بھی درخواست کرتے اور وہ بھی ان کے لیے بارگاہ رب العزت میں ہاتھ اٹھا دیتے۔ تو اللہ تعالیٰ تو ہے ہی تواّب اور رحیم ، ان کی معافی کا انتظام ہوجاتا ہے۔
معلوم ہوا کہ معافی کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ انسان ایمان سے متصف ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر بخشش نہیں۔ نبی اسی صورت میں گنہگار کے لیے بخشش کی دعا کرے گا جب کہ اس کے اندر ایمان موجود ہو۔ کیونکہ مشرک ، جس کا خاتمہ کفر اور شرک پر ہوا ہو ، اس کے لے معافی کی درخواست کرنا جائز نہیں۔ بہرحال فرمایا اولاً یہ لوگ خود ایمان دار ہوں اور ثانیاً اپنی بخشش کے لیے خود اللہ تعالیٰ سے عرض کریں کیونکہ اللہ کا ارشاد ہے ” من یغفرالذنوب الا اللہ “ اللہ کے سوا کون ہے جو انسان کی غلطیوں ، کوتاہیوں کو معاف فرما دے۔ اور تیسری بات یہ کہ اللہ کا رسول بھی ان کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ سے سفارش کرے۔ اور ایسا کرنا نبی کے لیے عین روا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ” واستغفر لذنبک و للمومنین والمومنت “ (سورۃ محمد) یعنی اپنی لغزشوں کی بھی اللہ سے معافی مانگیں اور مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی بخشش کی دعا کریں۔ آپ کے اپنے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے سورة فتح میں خوشخبری سنا دی لیغفرلک اللہ ما تقدم من ذنبک و ماتاخر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تمام اگلی پچھلی خطائیں فرمادیں تاہم مومنین اور مومنات کی بخشش طلب کرنے کا قانون موجود ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر وہ لوگ آپ کے پاس آجاتے ، وہ خود بھی اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے اور اللہ کا رسول بھی انکے لیے معافی کی درخواست کرتا تو یقینا وہ اللہ کو تواب اور رحیم پاتے۔
عرضِ اعمال
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مذکورہ نبی ﷺ کی طرف سے طلب معافی کی درخواست بظاہر آپ کی حیات مبارکہ کے ساتھ ہی مختص معلوم ہوتی ہے کہ جو کوئی غلطی کا مرتکب آپ کی حیات مبارکہ میں ہی آپ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ، خود بھی استغفار کی اور اللہ کے رسول سے بھی طلب معافی کی درخواست کی تو اللہ نے معاف کردیا ، تاہم مولانا فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق عالم برزخ میں بھی قائم ہے۔ عرضِ اعمال کے متعلق صحیح احادیث موجود ہیں جن کے مطابق امت کے اعمال ملاء اعلیٰ میں حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے مطابق ملاء اعلیٰ کے ممبران میں تین گروہ شامل ہیں۔ پہلا گروہ ملائکہ مقربین اور دیگر بلند پایہ فرشتوں کا ہے جس میں حاملین عرش فرشتے بھی ہیں۔ دوسرا گروہ بھی فرشتوں کا ہے جو دوسرے نمبر پر ہیں اور تیسرا گروہ بنی نوع انسان میں افاضل الآومیین کا ہے یعنی وہ کامل الایمان لوگ جو اپنی زندگیاں دین کی خاطر وقف کردیتے ہیں اور بنی نوع انسان کی اصلاح کا فریضہ انجام دیے ہیں۔ اس گروہ میں تمام انبیائے کرام اور اللہ کے دیگر نیک بندے شامل ہوتے ہیں۔ اور ان ممبران ملاء اعلیٰ کا کام کیا ہے ؟ ان کی پہلی مصروفیت یہ ہے کہ ان کی نگاہ ہر وقت خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم پر مرکوز رہتی ہے اور ان کا دوسرا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کے نیک بندوں کے لیے بخشش کی دعائیں مانگتے ہیں۔ حالمین عرش کے متعلق تو خود قرآن پاک میں موجود ہیں کہ وہ ایمان والوں کے لیے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں الذین یحملون العرش و من حولہ یسبحون بحمد ربہم ویومنون بہ ویستغفرون للذین امنوا (سورۃ المومن) تو مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی اس دنیا سے رحلت کے بعد بھی امت کے اعمال ان کی خدمت میں ملاء اعلیٰ کے مقام پر پیش کیے جاتے ہیں اور وہ امت کے لیے بخشش کی دعا بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ اس گروہ میں شامل ہونے والوں کی ایک مصروفیت طلب بخش بھی ہے۔
روضہء رسول پر استشفاع
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع (رح) اپنی تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ سے حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں آپ سے استشفاع تو بالکل واضح ہے جب کوئی شخص غلطی کرتا ، پھر اسے ندامت ہوتی تو وہ حضور ختمی رسالت کی خدمت میں حاضر ہو کر اللہ سے اپنے گناہ کی معافی طلب کرتا ، پھر آپ سے بھی بخشش طلب کرنے کی درخواست کرتا تو حضور ﷺ اس کے لیے معافی مانگتے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا۔ اس قسم کے واقعات بہت سے صحابہ ؓ کے متعلق احادیث میں آتے ہیں۔ مثلاً حضرت اسامہ ؓ سے غلطی ہوگئی تو آپ ناراض ہوگئے ، پھر اسامہ ؓ نے عرض کیا ، حضور میرے لیے بخشش کی دعا کریں تو آپ نے ایسا کیا تاہم مفتی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کا عموم بتاتا ہے کہ اگر حضور ﷺ کی وفات کے بعد بھی کوئی شخص آپ کے روضہ اقدس پر حاضر ہو کر اپنی غلطی کی اللہ سے معافی طلب کرے اور نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں بھی طلب معافی کی درخواست کرے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں کہ تمام فقہا اس بات پر متفق ہیں کہ حضور ﷺ سے استشفاع کی دعا کرنا جائز ہے ۔ صلوٰۃ وسلام عرض کرنے کے بعد بندہ حضور ﷺ سے درخواست کرے کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں سفارش کریں کہ اللہ میرے گناہ معاف فرما دے میراخاتمہ بالایمان ہو اور میں آپ کی ملت میں شریک رہوں۔
سماعِ موتیٰ
سماعِ موتیٰ کے متعلق حضور ﷺ کی یہ صحیح حدیث موجود ہے 1 ؎ من صلی علی نائیاً ابلغتہ جو مجھ پر درود سے درود شریف پڑھتا ہے وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے و من صل علی عند قبری سمعتہ اور جو کوئی میری قبر پر آ کر درود پڑھے تو میں اس کو سنتا ہوں۔ مولانا گنگوہی (رح) فرماتے ہیں کہ عام مردوں کے سننے کے متعلق علما میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض سماع کے حق میں ہیں اور بعض مخالفت میں ، مگر صحابہء کرام کے دور سے لے کر آج تک یہ اختلاف ختم نہیں ہوسکا ، لہٰذا اس مسئلہ میں زیادہ سختی کا اظہار نہیں کرنا چاہئے۔ تاہم انبیاء (علیہم السلام) کی سماعت کے متعلق کسی کو اختلاف نہیں۔ اگر نبی (علیہ السلام) کی قبر اطہر پر جا کر سلام عرض کیا جائے تو آپ بنفس نفیس اسے سماعت فرماتے ہیں۔ علمائے دیوبند کے مسلک کے مطابق بھی یہ مسئلہ متفق علیہ ہے حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے متعلق آتا ہے کہ وہ سفر پر روانگی سے پہلے اور سفر سے واسپی پر حضور ﷺ کے روضہ اقدس پر حاضر ہو کر سلام عرض کرتے۔ ظاہر ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ قبر شریف پر حاضر ہو کر سلام کرنے سے حضور خود سنتے ہیں۔ اگر ایسی بات نہ ہوتی تو انہیں وہاں قبر پر جانے کی کیا ضرورت تھی ، درودو سلام تو ہر مقام سے آپ کی خدمت میں پہنچ ہی جاتا ہے۔
اس ضمن میں امام ابن کثیر (رح) نے عتبی والی روایت بھی نقل کی ہے۔ عتبی کہتے ہیں کہ روضہ رسول پر موجود تھا کہ ایک اعرابی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور یہی آیت تلاوت کی ولو انہم… (الآیۃ پھر عرض کیا اللہ کے رسول میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں اور اللہ سے معافی ملانگتا ہوں اب آپ کے پاس آیا ہوں ، آپ بھی خدا کی بارگاہ میں میرے لیے بخشش کی دعا کریں یہ کہہ کر دیہاتی چلا گیا۔ عتبی کہتے ہیں کہ وہیں مجھ پر نیند غالب آگئی۔ خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ دوڑ کر اس اعرابی کے پیچھے جاؤ اور اسے خوشخبری سنا دو کہ اللہ نے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے۔
رضا برقضائے رسول
اگلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے فلا و ربک تیرے رب کی قسم۔ یہاں پر تاتاکید قسم کے لیے استعمال ہوا ہے اور اس قسم کی مثالیں قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر بھی موجود ہیں مثلاً لا اقسم بیوم القیمۃ اور ” لا اقسم بہذا البلد تو معنی یہہوا ، تیرے رب کی قسم لا یومنون یہ لوگ ایماندار نہیں ہو سکتے حتی یحکموک فیما شجر بینہم جب تک کہ وہ آپ کو اپنے تنازعات میں حکم یا منصف مقرر نہ کریں۔ شجد میں ہر قسم کے معاملات اور تنازعات شامل ہیں خواہ وہ احکام میں ہوں یاعقائد میں۔ ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو منصف بناؤ اور پھر آپ کے ارشادات میں جو چیز مل جائے اسے صدق دل سے تسلیم کرلو۔
شان نزول
اس آیت کریمہ کی شان نزول کے متعلق ترمذی شریف اور صحاح کی دیگر کتب میں حدیث موجود ہے جسے مفسرین کرام نے نقل کیا ہے۔ حضرت زبیر ؓ اور ایک انصاری کے درمیان کھیت کو سیراب کرنے کے متعلق تنازعہ پیدا ہوا ہوگیا۔ حضرت زبیر ؓ کا کھیت پانی کے راستے میں پہلے واقع تھا لہٰذا وہ اپنے کھیت کو پہلے سیراب کرتے تھے اور بعد میں پانی انصاری کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ انصاری کا مطالبہ یہ تھا کہ اس کا کھیت چونکہ دور ہے اس لیے سیرابی کا حق پہلے اسے ملنا چاہیے۔ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ نے اخلاقی طور پر زبیر ؓ سے فرمایا کہ اپنا کھیت تھوڑا بہت سیراب کرکے پانی اپنے انصاری بھائی کے لیے چھوڑ دیا کرو۔ انصاری صحابی کو یہ فیصلہ پسند نہ آیا ، کہنے لگا کہ آپ نے حضرت زبیر ؓ کی رعایت کی ہے کیونکہ وہ آپ کا پھوپھی کا بیٹا ہے۔ اس پر حضور ﷺ سخت ناراض ہوئے اور حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ تم اپنے کھیت کو خوب سیراب کیا کرو حتیٰ کہ پانی دیواروں تک چڑھ جائے اور اس کے بعد انصاری کے لیے چھوڑا کرو۔ حضرت زبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ ہمارے اس معاملہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ انصاری صحابی بھی پکا سچا مسلمان تھا بلکہ بدری صحابی تھا مگر جہالت میں ایسی بات کہہ دی جس سے حضور ﷺ کو کوفت ہوئی ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیرے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک کامل الایمان مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ ہر معاملہ میں آپ کو حکم مقرر نہ کرلیں۔
ولی تسلیم و رضا
فرمایا کامل الایمان ہونے کے لیے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہر معاملہ میں حضور ﷺ ہی کو حکم بنایا جائے۔ اور جب آپ فیصلہ فرما دیں گے ثم لایجدوا فی انفسہم حرجاً مما قضیلت بلکہ ویسلموا تسلیماً آپ کے فیصلے کو خوشی سے قبول کرلیں۔ اسی میں اللہ کی رضا اور ہماری بہتری ہے خواہ اس فیصلے میں کوئی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔ بہرحال حضور ﷺ کا فیصلہ انجام کے لحاظ سے لازماً بہتر ہوگا جیسا کہ گزشتہ آیت میں بھی گزر چکا ہے ذلک خیرٌ و احسن تاویلاً ۔
حضور ﷺ کے ہر فیصلے کو قبول کرنا تین اعتبار سے ہوگا پہلا یہ کہ انسان کا اعتقاد درست ہو اور اسے اس بات پر اعتماد ہو کہ حضور ﷺ کا فیصلہ بالکل صحیح اور برحق ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان زبان سے بھی فیصلہ کی صحت کا اقرار کرے اور تیسرے یہ کہ عملی طور پر اپنا معاملہ حضور کے سامنے پیش کر دے۔ اگر دل سے تسلیم کرتا ہے اور زبان سے اقرار بھی کرتا ہے مگر عملاً اپنے معاملات دربار نبوی کی طرف نہیں لے جاتا تو بھی فاسق متصور ہوگا کیونکہ اس نے تسلیم و رضا کے تین درجات مکمل نہیں کیے۔
دائمی تحکیم نبوی
حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاکم تو بہرحال ہیں۔ اب تنازعات آپ کے پاس لانا ہی آپ کی تحکیم کا قیام ہے۔ ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ تمام معاملات حضور ہی کے سامنے پیش کیے جائیں اگر ایسا نہیں کریں گے تو نفاق ثابت ہوگا۔ آپ (علیہ السلام) کی حیات مبارکہ میں ایسے معاملات ذاتی طور پر آپ کے سامنے پیش ہوتے رہے اب آپ کے بعد یہ معاملات آپ کی سنت ، شریعت اور تعلیمات کے سامنے پیش کر کے فیصلہ حاصل کیا جائے گا۔ رسول کی اطاعت کا یہی مطلب ہے۔ اس لیے آیت مبارکہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس وقت تک کامل الایمان نہیں ہو سکتے جب تک اپنے معاملات میں نبی اکرم کو منصف نہ مقرر کریں اور پھر آپ کے فیصلہ پر سرتسلیم خم نہ کرلیں۔
Ayahs 4:66–68ربط آیات
گزشتہ سے پیوستہ درس میں منافقین کی مذمت بیان ہوئی تھی کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ شریعت ، دین اور کتاب کی طرف آؤ اور اس کے رسول سے اپنے تنازعات کا تصفیہ کراؤ تو وہ اعراض کرتے ہیں۔ فرمایا یہ لوگ جھوٹے بہانے کرتے ہیں قسمیں اٹھاتے ہیں مگر یہ چیزیں انجام کے اعتبار سے ان کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ اس کے بعد گزشتہ درس میں رسول خدا کی اطاعتِ کی فرضیت کا تذکرہ تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی مرضیات اور نامرضیات معلوم کرنے کا واحد ذریعہ اللہ کے نبی اور رسول ہوتے ہیں ، لہٰذا ان کا اتباع ضروری ہے۔ اس کے بغیر نہ خدا کی رضا حاصل ہو سکتی ہے اور نہ انسان کامیاب ہو سکتا ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے فوائد بیان ہور ہے۔ اور ساتھ ساتھ منافقین کے غلط رویے کی مذمت بھی ہے۔
ابتلامن اللہ
ارشاد ہوتا ہے ولوانا کتبنا علیہم اور اگر ہم لکھ دیتے یعنی ان منافقین پر فرض کردیتے۔ کتب کا لغوی معنی لکھنا ہوتا ہے مگر مطلب یہ ہے کہ فرض قرار دیتے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا کتب علیکم القتال تم پر لڑائی فرض کی گئی ہے۔ یا کتب علیکم الصیام تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں۔ اسی طرح فرمایا کہ اگر ان پر فرض کردیا جاتا ان اقتلوا انفسکم کہ اپنے آپ کو قتل کرو۔ یعنی خودکشی کرلو۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا جب انہوں نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ تو مسویٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ، لہٰذا اب اس کا ازالہ یہ ہے کہ اپنے رب سے توبہ کرو اور ” فاقتملوا انفسکم “ یعنی اپنی جانوں کو ہلاک کرو۔ تو فرمایا اگر ہم تم پر بھی خودکشی فرض کردیتے اواخراجوا من دیارکم یا اپنے گھروں سے نکل جانے کو ضروری قرار دیتے۔ مافعلوہ الا قلیلٌ منہم تو وہ ایسا نہ کرتے مگر ان میں سے بہت تھوڑے لوگ۔
بنی اسرائیل کو خودکشی کا حکم ہوا اور انہوں نے لیت و لعل کرنے کے بعد حکم کی تعمیل بھی کی۔ مگر ہماری شریعت میں خودکشی حرام ہے حضور ﷺ نے فرمایا جو کوئی خودکشی کریگا اسے برزخ اور آخرت میں وہی سزا ملیگی جو طریقہ اس نے خودکشی کے لیے اختیار کیا۔ مثلاً کسی نے زہر کھالیا یا کسی تیز دھار آلے سے یا گولی مار کر خودکشی کی ، کسی بلند مقام سے چھلانگ لگائی ، پانی میں ڈوب مرا ، تو فرمایا آخرت میں اسے اسی قسم کی سزا دی جائیگی اور وہ اسی طرح خودکشی کرتا رہے گا۔
قربانی کا حکم
تو فرمایا آخرت میں اسے اسی قسم کی سزا دی جائیگی اور وہ اسی طرح خودکشی کرتا رہیگا اپنے آپ کی قربانی پیش کرنا بڑا مشکل کام ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسا حکم نہیں دیا اور اگر دے دیتا تو بہت تھوڑے لوگ اس کی تعمیل پر تیار ہوتے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ” لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا کہ وہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں اٹھواتا ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جانی قربانی پیش کرنے کا حکم نہیں دیا۔ صاحبروح المعانی اور دوسرے مفسرین کرام حضرت عمر ؓ کا قول نقل کرتے ہیں۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتے کہ ہم اپنے آپ کو اس کی راہ میں قربانکر دیں تو ہم یقینا ایسا کر گزرتے مگر الحمد للہ اللہ نے ایسا حکم نہیں دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بھی اس قسم کا جواب منقول ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ حکم دیتا تو میں اپنی اور اپنے بال بچوں کی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کردیتا ۔ حضور ﷺ نے صدیق اکبر ؓ کا یہ جذبہ سنا تو فرمایا صدقت یا ابابکرٍ اے ابوبکر ! تو نے سچ کہا ، تمہارا ایمان واقعی اتنے اعلیٰ درجے کا ہے۔
عبداللہ بن رواحہ ؓ انصار کے خاندان کے اکابر صحابہ میں سے ہیں ، اپنے قبیلہ کے سردار اور شاعر بھی تھے۔ ان کے متعلق بھی اسی قسم کی بات منقول ہے۔ حضور علیہ اصلوٰۃ والسلام نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ قربانی پیش کرنے کا حکم دیتا تو عبداللہ بن رواحہ اس قلیل تعداد میں شامل ہوتے ، ج و اس حکم کی تعمیل کر گزرتی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ بھی اس قسم کے حکم کی تعمیل کرتے الحمد للہ مالک الملک نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا وگرنہ لوگ سخت آزمائش میں مبتلا ہوجاتے اور بہت کم لوگ اس حکم کی تعمیل کر پاتے مگر اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی ہے کہ جانی قربانی کا حکم نہیں دیا بلکہ جو کوئی شخص سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کر کے معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ صرف توبہ کرنے سے معافی دے دیتا ہے۔
مفسرین کرام اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی فرماتے ہیں کہ ان اقتلوا انفسکم سے مراد جہاد ہے اور اواخرجوا من دیارکم سے مراد ہجرت ہے۔ مگر یہ دونوں چیزیں منافقین کے لیے بھاری ہیں۔ وہ تو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں وہ جہاد اور ہجرت جیسے مشکل امور کیسے انجام دینگے ، حالانکہ اسلام نے انہیں فرض قرار دیا ہے اسی لیے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ ان دو باتوں کا حکم دیتا ہے تو اس پر بہت قلیل تعداد عمل پیرا ہوتی۔
ہجرت اور جہاد کی اہمیت
ہجرت کی اہمیت کے متعلق آتا ہے ان شان الہجرۃ لشدید یعنی ہجرت کا معاملہ بڑا شدید ہوتا ہے جب کسی علاقے میں کفار کو غلبہ حاصل ہوجائے اور اہل ایمان کے لیے شریعت پر عمل کرنا ممکن نہ رہے تو اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کی خاطر وہاں سے ہجرت کرنا فرض ہوجاتا ہے ایسے حالات میں جو شخص ہجرت کے لیے تیار نہ ہو ، وہ سخت گنہگار ہے اور اس کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے۔ اسی طرح اللہ کے دین کی اقامت کے لیے جہاد بھی فرض ہے۔ جہاد میں قتال بھی شامل ہے جیسے سورة بقرہ میں آ چکا ہے کتب علیکم القتال وہوکرہ لکم پر لڑائی فرض قرار دی گئی ہے اگرچہ وہ تمہیں ناپسند ہو۔ اس میں جان کا خطرہ ضرور ہے مگر انجام کے اعتبار سے اس میں تمہارے لیے بہتری ہے۔ جہاد کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے ذروۃ سنام الاسلام الجہاد یعنی اسلام کی کوہان (بلندی) جہاد ہے۔ جس طرح اونٹ کی شان اس کے کوہان سے ظاہر ہوتی ہے اسی طرح اسلام کی رفعت جہاد سے ہے۔ جہاد کے بغیر نہ حدود اللہ قائم ہو سکتی ہیں اور نہ امن قائم ہو سکتا ہے۔ گویا دشمن کو مغلوب کرنے اور شریعت کے اجرا کے لیے جہاد ضروری ہے۔ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہوتا ہے اگر مسلمانوں کی ایک جماعت اس فریضہ کو ادا کر رہی ہے تو یہ تمام اہل اسلام کی طرف سے ادا تصور ہوگا ، اور اگر قوم کا کوئی فرد بھی جہاد کے لیے تیار نہیں تو پوری کی پوری مسلمان قوم و ملت گنہگار ہوگی۔ قتال کے علاوہ دین اسلام کی تعلیم و تبلیغ ، اشاعت اور تقریر و تحریر بھی جہاد ہی کا ایک حصہ ہے۔ قتال کی طرح یہ فریضہ بھی فرض کفایہ ہی ہے۔ اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو یہ فریضہ ہمیشہ ادا کرتے رہنا چاہیے ، اگر اسلام کی تبلیغ بالکل رک گئی تو پھر بھی ساری قوم گنہگار ہوگی۔
الغرض اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اگر ہم جہاد اور ہجرت ان لوگوں پر فرض قرار دیتے تو اس حکم کی تعمیل کرنے والے بہت کم لوگ ہوتے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس قلیل تعداد میں صحابہ کرام ؓ تو سب کے سب داخل ہیں کیونکہ وہ ہر حکم کی تعمیل کے لیے ہمیشہ تیار رہے ، البتہ کمزور ایمان والے اور منافق لوگوں کے لیے یہ دونوں چیزیں بہت مشکل ہیں۔ وہ خود غرضی اور آرام طلبی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ مشکل کام ان کے بس کا روگ نہیں رہتے۔
تعمیل حکم
منافقین کی اس کمزوری کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولو انہم فعلوا ما یوعظون بہ اگر یہ لوگ ہمارے حکم کی تعمیل کرلیتے ہیں یعنی جس بات کی نصیحت کی جا رہی ہے۔ اسے کر گزرتے ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ، اپنے تمام معاملات رسول خدا کے پاس لاتے ، قرآن و سنت کو اپنی آخری پناہ گاہ بنا لیتے ، تو فرمایا لکان خیراً لہم یہ ان کے لیے بہتر ہوتا۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہوجاتے دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوتی اور آخرت کی فلاح تو بہرحال یقینی ہے واشد تثبیتاً اور حکم دین کی تعمیل پر پختگی کی دلیل ہوتا۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ دین پر پختگی کسی شخص کے اعتقاد اور ایمان کی پختگی کی علامت ہوتی ہے دین کے احکام پر جس قدر عمل ہوگا اسی قدر اعتقاد اور ایمان میں مضبوطی آئیگی۔ اور عمل میں جس قدر کمزوری آئیگی ، اعتقاد اور ایمان بھی اسی قدر کمزور ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایمان میں پختگی آئیگی تو انسان جہاد اور ہجرت کے لیے تیار ہوجائے گا۔ پھر اس کے لیے کوئی کام دشوار نہیں رہے گا۔
ایمان کی پختگی
روایات میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض لوگوں کے ایمان زمین میں گڑھے ہوئے پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں آپ نے کامل الایمان لوگوں کی مثال پہاڑوں کے ساتھ دی۔ ایک شاعر نے کہا ہے۔
تزول الجبال الرسیت و قلبنا علی العھد لایلوی ولاتیغیر مطلب یہ ہے کہ انسان کا عقیدہ اس قدر مضبوط ہونا چاہیے کہ مضبوط پہاڑ تو اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر ہمارا عہدو پیمان اپنی جگہ سے نہ ہٹے۔ علامہ اقبال مرحوم نے بھی یہی بات یوں بیان کی ہے :
بخود خزیدہ و محکم چوں کو ہساراں زی
چوں خس مزی کہہ وا تندو شعلہ بیباک است
یعنی مستقل مزاج بن کر پہاڑوں کی طرح زندہ رہو ، تنکوں کی طرح زندگی مت گزارو کہ ہوا تیز ہے اور شعلہ بیباک ، مطلب یہ کہ اگر حقیر تنکے بن جاؤ گے تو پھر نہ ہوا کے سامنے ٹھہر سکو گے اور نہ آگ سے بچ سکو گے اگز عزت و ناموس کی زندگی گزارنا ہے ، تو پہاڑوں اور چٹانوں کی طرح مضبوط بن جاؤ ۔
آج کی سوسائٹی میں لوگ ڈانواں ڈول پھر رہے ہیں۔ چاروں طرف گمراہی اور اس کے اسباب پھیلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ایمان کی پختگی باقی نہیں رہی لوگ معمولی سی آزمائش پر بھی پورا نہیں اترتے بلکہ قدم قدم پر پھسل جاتے ہیں۔ رسم و رواج اور بدعات میں غرق ہوچکے ہیں۔ مشرک ، کافر ، اور دہریہ اقوام نے دنیا میں ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ لوگ گمراہی کی طرف فوراً راغب ہوجاتے ہیں لہو و لعب ، کھیل تماشہ ، عریانی ، فحاشی اور بےحیائی کے کاموں پر فوراً تیار ہوجاتے ہیں ، ایمان بالکل کمزور ہوچکا ہے ان حالات کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے الصابر علی الدین کالقابض علی البحمد یعنی دین پر ثابت قدم رہنا اتنا مشکل ہوجائیگا جیسے جلتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا مشکل ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پورے کا پورا ماحول اور برادری بگڑ چکے ہیں۔ سب کے سب رسومات اور بدعات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ، ایسے وقت میں ایک صحیح مومن کے لیے گزر اوقات کس قدر مشکل ہوگی۔
دنیا و آخرت کی کامیابی
فرمایا اگر یہ لوگ احکام خداوندی پر عمل پیرا ہوجائیں واذاً لاتینہم من لدنا اجراً عظیماً تو ہم انہیں اجر عظیم عطا کرتے۔ یعنی اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی تابعداری کرتے ، تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ، ہر معاملہ میں شریعت سے راہنمائی حاصل کرتے اور تمام معاملات میں دین ہی کو مقدم رکھتے تو آخرت میں اللہ تعالیٰ انہیں بہت بڑا صلہ عنیات فرماتے ولھدینہم صراطاً مستقماً اور انہیں دنیا میں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی بھی حاصل ہوتی۔ مقصد یہ کہ تعمیل حکم کی صورت میں انہیں دنیا میں صراط مستقیم حاصل ہوجاتا ، جس پر چل کر وہ کامیاب زندگی گزار سکتے ، اور پھر آخرت میں اجر عظیم کے مستحق ہوتے۔ اس طرح دنیا اور آخرت دونوں مقامات پر کامیاب و کامرانہوتے دوسرے مقام پر فرمایا ” والذین اھتدوا زادہم ہدیً “ جو کوئی ہدایت کے راستے پر چل نکلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہدایت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ صراط مستقیم ہر مومن کا مطلوب و مقصود ہے جس کے حصول کے لیے ہر نماز میں دعا کی جاتی ہے ” اہدنا الصراط المستقیم “ اے اللہ ! ہمیں صراط مستقیم پر چلا۔ جسے یہ چیز حاصل ہوجائے اس کے لیے بہت بڑی کامیابی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صراط مستقیم اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو اس کے احکام پر عمل پیرا ہوجاتا ہے۔
Ayahs 4:69–70ربط آیات
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے اور اپنے معاملات کو طاغوت کے پاس لے جانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ارشاد فرمایا کہ انسانوں کی فلاح کا دارو مدار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے ، جب تک وہ اللہ کے رسول کو اپنا حکم مقرر نہ کریں۔ وہ کامل الایمان نہیں ہو سکتے ، پھر فرمایا ، اگر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مشکل احکام نازل فرما دیتا جیسا کہ بنی اسرائیل کی توبہ کو ان کی جانوں کے قتل کے ساتھ مشروط کردیا تھا۔ تو لوگوں کے لیے بڑی دشواری ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے بڑی مہربانی فرمائی کہ کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو تکلیف مالایطاق میں داخل ہو ، لہٰذا ان لوگوں کی بہتری اسی چیز میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کی گئی نصیحت پر عمل پیرا ہوجائیں۔ ایسا کریں گے تو انہیں بہتری ، ایمان میں پختگی ، اجر عظیم اور صراط مستقیم نصیب ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان چار انعامات کا تذکرہ فرمایا۔ ہر نیکی کنندہ کے لیے آخرت میں اجر عظیم تو بلاشبہ ہے ، اسے دنیا میں وہ صراط مستقیم نصیب ہوجائیاگ۔ جس کی دعا ہر مومن ہر نماز میں کرتا ہے۔
انعام یافتہ لوگ
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعت کرنیوالوں کے لیے پانچویں انعام کا ذکر کیا ہے۔ یہ بلند ترین لوگوں کی ریافت ہے جو کہ بڑی ہی فضیلت والی چیز ہے۔ فرمایا و من یطع اللہ والرسول جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریگا۔ اللہ تعالیٰ تو مطاع مطلق بالذات ہے تاہم رسول کی اطاعت بالذات تو نہیں مگر وہ بھی رسالت کی وجہ سے مطلقاً فرض ہے۔ ایسے لوگوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے۔ فاولیک مع الذین انعم اللہ علیہم ان لوگوں کو اللہ کے ان کاملین کی معیت نصیب ہوگی جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے اور یہ انعام یافتہ گروہ چار ہیں من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین یعنی ا نبی ائ ، صدیق ، شہدا اور صالحین ہیں۔ یہ انہی لوگوں کی رفاقت کا تذکرہ ہے۔ جن کے متعلق ہر نمازی سورة فاتحہ میں دعا کرتا ہے ” اہدنا الصراط المستقیم اے اللہ ! ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ صراط الذین انعمت علیہم اور وہ سیدھا راستہ ان لوگوں کا ہے جن پر تو نے انعام کیا سورة فاتحہ میں تو انعام یافتہ لوگوں کی تشریح بیان نہیں کی گئی ، ان کا تذکرہ اب اس آیت کریمہ میں ہو رہا ہے۔ منعم علیہم مذکورہ چار معیاری گروہ ہیں۔ ان کے علاوہ باقی لوگ ان سے کم تر درجہ میں ہیں۔
انبیاء (علیہم السلام)
انعامات دو قسم کے ہیں یعنی مادی اور روحانی۔ اس دنیا میں مادی انعامات میں تو مومن اور کافر وغیرہ سب شریک ہیں۔ البتہ روحانی نعمتیں اللہ کے مقبول بندوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اور ان میں سرفہرست انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت ہے۔ علم العقائد ایک مستقل فن ہے جس کے ذریعے اچھے اور برے عقائد کی تشریح کی جاتی ہے تو اس فن کے ماہرین نے عقائد کی کتابوں میں بنی کی تعریف یوں کی ہے کہ بنی انسان ہوتا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ اپنے احکام پہنچانے کے لیے بنی نوع انسان کی طرف مبعوث فرماتا ہے۔ انسانوں کے علاوہ نبوت کا منصب کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں ہوا ، فرشتوں یا جنات میں سے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ، البتہ اپنے پیغام پہنچانے کے لیے اللہ تعالیٰ رسالت کا فریضہ انسانوں کے علاوہ فرشتوں کے سپرد بھی کردیتے ہیں۔ جیسا سورة حج میں فرمایا ” اللہ یطفی من الملیکۃ رسلاً و من الناس “ اللہ تعالیٰ فرشتوں اور لوگوں میں سے رسول منتخب فرما لیتا ہے۔
انسان کی تعریف
اہل منطق نے انسان کی تعریف بھی ہے کہ انسان کیا ہے۔ پرانے زمانے کے یونانی کہتے تھے کہ انسان حیوانِ ناطق ہے۔ یعنی ایسا جاندار ہے جو بولتا ہے اور ادراک رکھتا ہے۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) کے سلسلہ کو ماننے والے انسان کی تعریف یوں کرتے ہیں مایتفکر وینع بالا لات یعنی جو غور و فکر کرتا ہے اور آلات کو استعمال کرتا ہے۔ یہ بہترین تعریف ہے جو شاہ رفیع الدین (رح) فرزند شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنی منطق کی کتاب میں کی ہے۔ قرآن پاک میں آتا ہے۔ ” خلق الانسان میں علقٍ “ اللہ تعالیٰ نے انسان کو لوتھڑے سے پیدا کیا اگر اس میں علم و شعور اور دین اور ایمان ہوگا تو وہ صحیح معنوں میں انسان ہے ، ورنہ وہ لوتھڑا ہی ہے جس سے اس کی پیدائش عمل میں آئی ہے۔
نبی انسان ہوتا ہے
تو مقصد یہ ہوا کہ نبی انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف شرعی احکام کی تبلیغ کے لیے مبعوث فرماتا ہے۔ اہل بدعت نبی کو انسان ماننے کے لیے تیار نہیں حالانکہ نبی کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ انسان ہوتا ہے۔ اس بات کی وضاحت قرآن پاک میں بار بار کی گئی ہے خود حضور خاتم النبیین اور آپ سے پہلے آنے ولاے رسول انسان ہی تھے۔ سورة انبیاء میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان موجود ہے ” و ما ارسلنا قبلک الا رجالاً نوحی الیہم یعنی پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ سے پہلے ہم نے جتنے بھی رسول بھیجے سب مرد تھے رجل مرد انسان یا بشر کو کہتے ہیں انسان یا بشر ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے۔ اس بات کا اظہار اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے کیا تھا ” انی خالقٌ بشرا من طینٍ “ میں گارے سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں بشر تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے۔ اسے اللہ نے اپنی تمام مخلوق میں زیادہ پیچیدہ ، غامض اور جامع الصفات پیدا کیا ہے۔ انسان جیسا شرف کسی اور مخلوق کو حاصل نہیں۔
نبی معصوم ہوتا ہے۔
بہرحال نبی کو منعم علیہم میں سے پہلا درجہ حاصل ہے اور یہ معصوم ہوتا ہے نبی کی معصومیت اس کی خصوصیات میں داخل ہے اس کو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اس سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیا جائیگا۔ اشرف المخلوقات میں سے یہ شرف کسی دوسری ہستی کو حاصل نہیں۔ ملائکہ بھی معصوم ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” لایعصون اللہ ما امرہم “ مگر فرشتے انسان کی طرح مادی مخلوق نہیں بلکہ وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہے۔ تاہم انسانوں میں سے صرف انبیاء کی جماعت ہی معصوم ہے۔ ان سے جو تھوڑی بہت کوتاہی ہوتی ہے وہ لغزش کہلاتی ہے۔ یہمعمولی چیزیں زلات میں آتی ہیں ، مگر بعض اوقات معمولی سی لغزش پر بھی بہت بڑی گرفت ہوجاتی ہے ، حالانکہ ایسی کوتاہی صغیرہ یا کبیرہ گناہ کی تعریف میں نہیں آتی۔ اہل سنتہ والجماعتہ کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ نبوت ملنے سے پہلے اور بعد اللہ تعالیٰ انبیاء کو معصیت سے محفوظ رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کی اطاعت مطلقہ فرض ہوتی ہے اور نبی کا ہر فیصلہ قابل عمل ہے لہٰذا نبی سے کوئی غلط بات سرزد نہیں ہوتی۔
ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کوئی جج یا قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے کیونکہ اس حالت میں غلطی کا امکان ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قاضی کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہے تو اس کا فیصلہ درست تسلیم نہیں ہوگا۔ یہ صرف اللہ کے نبی کو شرف حاصل ہے کہ اس کے فرمودات غصے اور مزاج کی حالت میں ہو مومن اور کافر سب شریک ہیں۔ البتہ روحانی نعمتیں اللہ کے نیک بندوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ اور ان میں سرفہرست انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت ہے۔ علم العقائد ایک مستقل فن ہے جس کے ذریعے اچھے اور برے عقائد میں بھی برحق ہیں۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، حضور ! بعض اوقات آپ ہمارے ساتھ مزاج فرماتے ہیں۔ فرمایا انی لا اقول الا الحق ایسی حالت میں بھی حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔ اسی طرح اگر آپ نے کوئی فیصلہ غصے کی حالت میں بھی کیا ہے تو بھی برحق اور قابل تعمیل ہوگا۔ یہ نبی کی خصوصیت ہے کہ اگر اس نے کوئی لغزش ہوجائے تو اسے خبردار کردیا جاتا ہے مگر ایک عام انسان کے لیے یہ ضروری نہیں بہرحال نبی معصوم عن الخطا ہوتا ہے اور اس کی اطاعتِ مطلقہ فرض ہے۔
مفسر قرآن امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ پہلا درجہ انبیاء کا ہے۔ وہ تقدس کے بلند ترین مقام پر ہوتے ہیں۔ وہ حد کمال سے بڑھ کر حد تکمیل تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں ، ان میں ہر خوبی بذاتہٖ موجود ہوتی ہے۔ تمام اوصاف حسنہ اور اخلاق فاضلہ کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے رفعت تقدس کے پیش نظر ہم یوں کرسکتے ہیں کہ وہ تمام حقائق ایمانیہ ، صفات ربانیہ ، ملاء اعلیٰ یا ملکوت و جبروت کا قریب سے مشاہدہ کرنے والے ہوتے ہیں۔
صدیق کی تعریف
صدیق راست باز اور سچے انسان کو کہتے ہیں۔ مسلم شریف ، ترمذی اور دوسری کتب احادیث میں آتا ہے لا یزال العبد یتحری الصدق حتیٰ یکتب عنداللہ الصدیق مومن قول ، فعل ، وعدہ غرضیکہ ہر بات می سچائی کی کوشش کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ صدیق لکھ دیاجاتا ہے۔ اسی طرح جھوٹے آدمی کے متعلق بھی آتا ہے لایزال الرجل یتحری الکذب حتیٰ یکتب عنداللہ الکذاب کوئی شخص مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ بہرحال انبیاء (علیہم السلام) سب کے سب صدیق ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن پاک میں کئی انبیاء کے علاوہ دیگر مومن لوگ بھی صدیق ہوتے ہیں۔ مگر وہ دوسرے درجے میں آتے ہیں ان میں مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی۔
یہ فضیلت کا اعلیٰ مرتبہ ہے۔ صدیق ظاہراً اور باطناً کمال درجے کا اطاعت گزار ہوتا ہے۔ وہ اپنے قول ، فعل اور عقیدے میں ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔
شہید اور شہادت
شہید کا معنی گواہ ہے اور کسی معاملہ میں گواہی عموماً مشاہدہ کی بنا پر ہوتی ہے مگر کبھی علم کی بنیاد پر بھی ہو سکتی ہے ۔ اسلام میں قانون شہادت بڑا اہم قانون ہے۔ گواہی کے متعلق قرآن پاک میں متعدد مقامات پر آیا ” اقیموا الشہادۃ للہ “ یعنی اللہ کے لیے بلاکم وکاست گواہی دو ۔
انگریز نے تو قانون شہادت کو بھی برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت عدالتوں میں گواہی دی نہیں جاتی بلکہ پڑھاتی جاتی ہے۔ پولیس اور وکیل گواہوں کو اچھی طرح سکھاتے ہیں کہ یوں گواہی دینا ورنہ کیس خراب ہوجائے گا۔ یہ کیسی گواہی ہے۔ صحیح گواہی تو یہ ہے کہ اولاً گواہ مومن ، شریف اور عقل مند ہو ، فاسق فاجر یا پاگل آدمی کی گواہی قابل قبول نہیں ہوتی اور پھر یہ ہے کہ جو چھ اس نے دیکھا صاف صاف عدالت میں بیان کر دے۔ مقدمات کا صحیح فیصلہ اس قسم کی گواہی پر ہی ہو سکتا ہے۔ اگر انگریزی قانونِ شہادت کے مطابق کرائے کے گواہ ہی گواہی دیتے رہے تو کبھی درست فیصلہ نہیں ہوسکتا۔
بہرحال یہاں پر شہید سے مراد نبی اور صدیق کے بعد تیسرے درجے کے وہ مومنین ہیں جو حق و صداقت اور ایمان کی خاطر اپنی جان کی بازی بھی لگا دیں۔ انہیں حقائق کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ اپنی عزیز ترین متاع جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ ان میں صدیقین جیسی علمی قوت تو نہیں ہوتی مگر ان کی عملی قوت کامل درجے کی ہوتی ہے جو کہ انبیاء کی قوت عملیہ کا عکس ہوتی ہے۔ یہ تیسرے درجے کے منعم علیہ ہوتے ہیں۔
صالحین
انعام یافتہ لوگوں کا چوتھا گروہ صالحین کا ہے۔ یہ صلاحیت اور نیکی کے حامل لوت ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اتباع میں کامل ہوتے ہیں۔ انہیں نہ تو شہیدوں جیسا مشاہدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ صدیقوں جیسا کمال علم۔ یہ دوسروں سے بات سن کر یقین قلب کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں ، ان کا ذہن شک و تردد سے پاک ہوتا ہے اور وہ عمر بھر کمال درجے کی نیکی پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ یہ صالحین کا گروہ ہے جو چوتھے درجے میں آتا ہے۔
قرآن و سنت کی اصطلاح میں صالح شخص وہ ہے جو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو ادا کرے۔ حقوق سے روگردانی کرنے والا شخص صالح نہیں ہو سکتا۔ اچھے اور نیک لوگ ان چار گروہوں کے علاوہ بھی ہیں مگر وہ ان سے کم تر درجہ میں ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ گروہ یہ چار ہی ہیں۔ یہی لوگ صراط مستقیم کے راہی ہیں ، وہ صراط مستقیم جس پر چلنے کی ہر مومن دعا کرتا ہے۔
منعم علیہم کی جامع تعریف
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ نبی پر وحی نازل ہوتی ہے اور اسے حد درجے کا قرب حاصل ہوتا ہے لہٰذا وہ عالم بالا کی چیزوں کا قریب سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ صدیق میں غایت درجے کی قلبی صفائی ہوتی ہے ، اس میں فضائل کی بہتات ہوتی ہے اور رذائل اس سے دور ہوتے ہیں نبی پر جو وحی نازل ہوتی ہے ، صدیق شہادت قلبی سے اس کی تصدیق کرتا ہے ، اس کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے واقعات میں موجود ہے۔ غرضیکہ نبی کا مشاہدہ قریب سے ہوتا ہے اور صدیق کا مشاہدہ دور سے۔ اس کے بعد شہید کا درجہ ہے اسے یہ درجہ دلائل وبراہین کے ساتھ ریاضت اور عبادت کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور صالح وہ ہے جس کے قلب میں قرینے کے ساتھ اطمینان پیدا ہوتا ہے ، جس کے ذریعے وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ امام بیضاوی (رح) نے یوں بھی تاویل کی ہے۔
منعم علیہم کی رفاقت
فرمایا جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اسے انعام یافتہ لوگوں کی رفاقت نصیب ہوگی وحسن اولیک رفیقاً اور ان لوگوں کی رفاقت نہایت ہی اچھی ہے ، جسے نصیب ہوجائے اس رفاقت کی تشریح حدیث شریف میں موجود ہے اور وہ اس طرح کہ بلند درجے والے اور نچلے درجے والے جنتیوں کی آپس میں ملاقاتیں ہونگی ، ایک دوسرے کی مصاحبت حاصل ہوگی اور آپس میں گفتگو ہوگی۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ ہفتہ میں ایک دن یعنی جمعہ کے روز اطاعت گزار لوگ انعام یافتہ لوگوں سے ملاقات کیا کریں گے۔ اس ملاقات سے نچلے درجے والا جنتی بھی اس قدرمطمئن ہوگا کہ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ درجے والے منعم علیہ کا ہم اعزاز ہی سمجھے گا۔ ان پر ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ وہ اپنے آپ کو کمتر خیال نہیں کریں گے حالانکہ ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا جتنا زمین اور بلند تر ستارے کے درمیان فرق ہے۔
بہرحال کمال درجے کی اطاعت کرنے والوں کو منعم علیہم کی معیت نصیب ہوگی اور اچھی سوسائٹی کامل جانا بذات خود بہت بڑی سعادت ہے۔ دنیا میں اچھی سوسائٹی کامل جانا بھی کوئی کم نعمت نہیں مگر آخرت کی یہ پاکیزہ سوسائٹی تو جنت ، علین ، خطیرۃ القدس اور ملاء اعلیٰ میں نصیب ہوگی۔ اس دنیا میں تو اس انعام کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے تو انبیاء نے بھی دعا کی ” توفنی مسلماً والحقنی بالصلحین “ الٰہی مجھے اسلام پر موت اور صالحین کی رفاقت نصیب فرما۔
یہاں پر یہ بات بھی واضح کردی جائے کہ قادیانیوں نے اس آیت کریمہ سے غلط استدلال کیا ہے یہ لوگ کافر اور مرتد ہیں اور یہ ملعون فرقہ ہے۔ انہوں نے اس آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کریگا وہ نبی ، صدیق ، شہید یا صالح بن جائیگا۔ اس طرح وہ مرزا غلام احمد کی نبوت کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آیت کریم کا مطلب واضح ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے اطاعت گزاروں کو ان چار انعام یافتہ گروہوں کی رفاقت نصیب ہو جائیگی۔
شانِ نزول
حضرت ثوبان ؓ حضور ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ سخت بےچینی کی حالت میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے اضطرار کی وجہ دریافت کی تو عرض کیا ، حضور ! جب میں اس دنیا میں اپنے گھر پر ہوتا ہوں اور بےچین ہوجاتا ہوں تو آپ کی زیارت کر کے سکون حاصل کرلیتا ہوں۔ اگلے جہاں میں نامعلوم کیا صورت حال ہوگی۔ اول تو میرا جنت میں جانا قطعی معلوم نہیں اور اگر میں خدا کے فضل سے وہاں پہنچ بھی گیا تو میں تو کسی ادنیٰ درجے میں ہوں گا جب کہ آپ عزت کے بلند ترین مقام میں ہوں گے ، تو وہاں آپ کی زیارت سے اپنی آنکھیں کیسے ٹھنڈی کرسکو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی ؓ حضور ﷺ کے خادم تھے۔ سفرو حضر میں آپ کی خدمت انجام دیتے تھے۔ ایک رات حضور ﷺ نے وضو کیا اور نماز پڑھی۔ پھر ربیعہ ؓ سے فرمایا ، کوئی خواہش ہے تو بیان کرو۔ عرض کیا ، حضور ! میری تمنا یہ ہے کہ جنت میں آپ کی معیت حاصل ہوجائے۔ آپ نے پھر فرمایا۔ او غیر ذلک اس کے علاوہ کچھ مطلوب ہو۔ پھر عرض کیا میری خواہش صرف یہ ہے کہ آپ کی رفاقت حاصل ہوجائے۔ اس پر آپ نے فرمایا اعنی و علی نفسک بکترۃ السجود اپنے نفس کے خلاف سجدوں کی کثرت کے ساتھ میری مدد کرو۔ یعنی کثرت سے نمازیں پڑھا کرو۔ تاکہ تمہارے اندر لطافت پیدا ہوجائے ، تزکیہ نفس ہوجائے اور پھر میں بھی دعا کروں گا تو اللہ تعالیٰ تمہیں میری رفاقت نصیب کردیں گے۔ بہرحال اس قسم کے بعض دیگر واقعات بھی اس آیت کریمہ کے شان نزول میں بیان کیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فضل
فرمایا ذلک الفضل من اللہ انبیائ ، اصدقا ، شہدا اور صالحین کی معیت حاصل ہوجانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فضل ہے ، جسے نصیب ہوجائے یہ اس کی خاص مہربانی اور انعام ہے وکفی باللہ علیماً اور کافی ہے اللہ تعالیٰ جاننے والا۔ یہ چیز رب العزت کے علم میں ہے کہ کون شخص کتنے خلوص کا حامل ہے اس میں ایمان اور تقویٰ کی کتنی مقدار ہے لہٰذا یہ شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ثمرہ ادا کیا جائے گا۔ علیم کل فقط ذات خداوندی ہے۔