Ayah 4:92ربط آیات
پہلی آیات میں جہاد کی ترغیب اور مجاہدین کی فضیلت کا ذکر تھا۔ اور کوتاہی کرنے والوں کو منافقین کے زمرہ میں شمار کیا گیا تھا۔ اور انکی مذمت بیان کی گئی تھی اس کے علاوہ چاپلوسی کرنے ولاے مفاد پرست کافروں کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم دیا گیا اور اہل ایمان کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان کے بارے میں دورائیں نہ رکھیں بلکہ ان کو دشمن ہی سمجھیں جب تک کہ یہ ایمان قبول کر کے ہجرت نہ کرلیں۔ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے منافقین کے ساتھ کھلے کافروں جیسا سلوک کیا جائے۔
یہ تو کفار کے ساتھ سختی کرنے کا حکم تھا کہ انہیں جہاں بھی پاؤ ، پکڑ لو اور مارو۔ اب اس کے بالمقابل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جان کی حفاظت کا حکم دیا ہے اور فرمایا کہ مومن کی جان و مال اور عزت محفوظ ہے جب کہ حربی کافر کو یہ رعایت حاصل نہیں۔ یہ تقابلی ربط ہے۔
مومن کے مال و جان
اس آیت میں مومن کے مال و جان کی حفاظت کا قانون بتلایا گیا ہے اور اگر کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دیاجائے تو اس کی سزا کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ما کان لمومنٍ کسی مومن کے لائق نہیں ان یقتل مومناً کسی مومن کو قتل کرے۔ یہ مومن کے قتل ناحق کی مطلقاً نفی ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے المسلم اخوالمسلم ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے لایخزلہ ولا یظلمہ نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ اس پر ظلم کرتا ہے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تمام مومن آپس میں کجسدٍ واحدٍ یعنی ایک جسم کی طرح ہیں۔ جپ جسم کے ایک حصہ میں درد ہوتا ہے تو ساراجسم درد محسوس کرتا ہے آپ نے فرمایا المومن مراۃ المومن ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینہ ہوتا ہے۔ چناچہ مومن ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے عیوب کی اصلاح کرتے ہیں نبی (علیہ السلام) کا ارشاد مبارک ہے قتال المومن کفرٌ وسبابہٗ فسوق مومن کو قتل کرنا کفر ہے اور اسے گالی دینا فسق یا نافرمانی ہے۔ کفر اس لیے کہ کفار ہی مسلمان کا دشمن ہوتا ہے کوئی مومن کسی دوسرے مومن کا دشمن نہیں ہو سکتا۔ اس لیے وہ کافروں والے فعل کا ارتکاب نہیں کرسکتا کہ یہ بڑی ہی قبیح بات ہے۔ ترمذی شریف 1 ؎ کی روایت میں یہ بھی آتا ہے لزوال الدنیا اھونٌ من قتل رجلٍ مسلمٍ کسی مسلمان آدمی کے قتل کے مقابلہ میں پوری دنیا کا نقصان کم ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ اگر ساری دنیا کے لوگ مل کر کسی شخص کو قتل کردیں تو اللہ تعالیٰ سب کو جہنم میں ڈال دیگا۔ اور اگر ایسا فعل غلطی سے سرزدہوا ہے اور اس کے احکام آگے بیان ہو رہے ہیں۔ بہرحال قتل ناحق بہت بڑا جرم ہے۔
قتل مومن کی تین صورتیں
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ کسی مسلمان کی جان لینا روا نہیں ، بجز تین صورتوں کے۔ پہلی صورت یہ ہے زناً بعد احصانٍ اگر محصن یعنی شادی شدہ مرد یا عورت زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو سنگسار کردیا جائے یہ قتل حق ہے۔ دوسری صورت ہے النفس بالنفس یعنی جان کے بدلے جان ، اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو ناحق قتل کر دے تو قاتل کو قصاص میں قتل کردینا بھی جائز ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے التارک لدینہ و مخالفہ للجمعاعۃ جو شخص دین کو ترک کر کے جماعت المسلمین کو چھوڑ جاتا ہے وہ بھی واجب القتل ہے۔ اس کے علاوہ کسی مسلمان کے قتل کی کوئی جائز صورت نہیں ، جو کوئی ایسا کرے گا سخت گنہگار ہوگا۔ اور اسے قصاص یا خون بہا دینا ہوگا۔
جب باغیوں نے حضرت عثمان ؓ کے گھرکا گھیراؤ کرلیا۔ تو آپ نے مکان کی چھت پر چڑھ کر باغیوں سے خطاب فرمایا کہ لوگو ! تم میرے قتل کے کیسے درپے ہو۔ جب کہ میں نے کسی کو قتل نہیں کیا۔ اور بخدا میں نے کبھی زمانہء جاہلیت میں بھی زنا کا ارتکاب نہیں کیا۔ اور نہ ہی میں نے دین کو چھوڑا ہے۔ میں نے جب سے حضور ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اسلام قبول کیا ہے ، اس پر قائم ہوں لہٰذا تمہارے پاس مجھے قتل کرنے کے لیے کیا دلیل ہے۔
قتلِ خطا
تو فرمایا کسی مسلمان کے لیے روا نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو قتل کرے الاخطأً مگر غلطی سے۔ قتل خطا کی صورت مثلاً یہ ہے کہ کوئی شخص کسی شکاری جانور کو تیر یا بندوق کا نشانہ بناتا ہے مگر وہ غیر ارادی طور پر کسی مسلمان کو لگ جاتا ہے اور وہ ہلاک ہوجاتا ہے تو یہ قتل خطا ہوگا۔ 1953 ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران ڈسٹرکٹ جیل میں ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو قتل کے کیس میں ملوث تھا۔ دریافت کرنیپ ر اس نے بتایا کہ قتل تو ضرور ہوا ہے مگر ایسے کہ میں نے ایک گڑھے کے کنارے بیٹھے ہوئے کبوتر کو بندوق کا نشانہ بنایا۔ میرے علم میں نہ تھا کہ اسی گڑھے میں کوئی شخص رفع حاجت کے لیے بیٹھا ہوا ہے جونہی میں نے گولی چلائی تو گڑھے میں موجود آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور گولی کبوتر کی بجائے اسے جا لگی ، جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ میرا اس شخص سے کوئی تنازعہ نہیں تھا ، نہ میں نے اسے ارادتاً قتل کیا ہے۔ بہرحال ایسا غلطی سے ہوگیا ہے۔ یہی قتل خطا ہے۔
قتل عمد
اس آیت میں تو قتل خطا کا ذکر ہے تاہم قتل عمد کا بیان سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو قصداً قتل کر دے تو اس کا بدلہ قصاص کی صورت میں ہوتا ہے یعنی مقتول کے بدلے میں قاتل کو قتل کردیا جاتا ہے۔ البتہ اگر مقتول کے ورثا راضی ہوجائیں تو قصاص کی بجائے خون بہا بھی لے سکتے ہیں۔ یا چاہیں تو معاف بھی کرسکتے ہیں۔ اس کا قانون یہ ہے کہ مقتول کے ورثا میں سے کوئی ایک وارث بھی اگر معاف کر دے تو قصاص نہیں لیا جائیگابل کہ خون بہا ہوگا جو قاتل کے مال میں سے ادا کیا جائے گا۔
قتلِ شبہ عمد
قتلِ عمد اور قتل خطا کے علاوہ قتل کی ایک تیسری قسم قتل شبہ عمد بھی ہے جس کا کر حدیث میں ملتا ہے۔ یہ قتل عمد کے مشابہ ہوتا ہے اور یہ اس طرح ہوتا ہے کہ قتل ہوتا تو عمداً ہے مگر کسی ایسے آلہ کے ساتھ جس کے ساتھ عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا۔ مثلاً کسی کو لاٹھی ، پتھر ، کلہاڑے کا دستہ وغیرہ مار دیا اور مضروب مر گیا حالانکہ ایسی ضربات سے عام طور پر ہلاکت واقع نہیں ہوتی۔ اگر چھرا ، تلوار یاپستول وغیرہ استعمال کرتا تو یہ تو واقعی آلات قتل ہیں اور ایسا قتل عمد ہی شمار ہوتا ہے۔ مگر معمولی ضرب سے آدمی ہلاک ہوجائے تو وہ قتل شبہ عمد کہلاتا ہے قتل شبہ عمد اور قتل خطا میں قصاص نہیں لیا جاتا ہے بلکہ اس میں خون بہا اور کفارہ ہوتا ہے ، جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
قتل خطا کا کفارہ
فرمایا و من قتل مؤمناً خطاً جس نے کسی مومن کو غلطی سے قتل کردیا۔ ارادہ قتل نہیں تھا ۔ مگر غلطی سے ایسا ہوگیا تو اس کے لیے دو سزائیں ہیں۔ ایک کفارہ اور دوسری خون بہا۔ چناچہ فرمایا قتل خطا کا کفارہ یہ ہے۔
فتحریر رقبۃٍ مؤمنۃٍ ایک مومن غلام کا آزاد کرنا ، غلام مرد ہو یا عورت بہرحال اسے خرید کر آزاد کرنا۔ اس کے ساتھ ایمان شرط ہے۔ صرف مومن غلام یا مومنہ لونڈی ہی کفارے میں قابل قبول ہے۔ اب تو دنیا بھر میں غلامی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ لہٰذا کفارے کی یہ شکل باقی نہیں رہی اب دوسری صورت باقی ہے جس کا ذکر آیت کے اگلے حصے میں آ رہا ہے رقبہ دراصل گردن کو کہتے ہیں۔ اور گردن آزاد کرنے سے مراد غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا ہے۔
دیت یا خون بہا
کفارہ یعنی غلام کی آزادی تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ اب مقتول کے وارثوں کا حق یہ ہے فدیۃٌ مسلمۃٌ الی اہلہ لہ مقتول کے گھر والوں کو نقدی یا مال کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ نقدی کی صورت میں ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک اگر درہم چھوٹے سائز کا ہو تو بارہ ہزار دینا ہوگا۔ اور اگر دیت کے طور پر مال دینا ہو تو اس کی مقررہ مقدار ایک سو اونٹ ہیں جو مختلف عمروں کے ہوں۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق سو اونٹوں کی تفصیل یہ ہے۔
(1) جذعہ (عمر چار تا پانچ سال) بیس اونٹ
(2) حقہ (عمر تین تا چار سال) بیس اونٹ
(3) ابن لبون (عمر دو تا تین سال) بیس اونٹ
(4) بنت لبون (عمر دو تا تین سال) بیس اونٹنیاں
(5) بنت فحاض (عمر ایک تا دو سال) بیس اونٹیاں
فقہائے کرام کے نزدیک اونٹوں کی یہی تعداد حج ہے۔ تاہم دیت مغلظہ یعنی سخت دیت کا ذکر بھی ملتا ہے جس کے مطابق پانچ قسم کی بجائے چار قسم کے اونٹ بھی دیت میں ادا ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ہر عمر میں بیس بیس کی بجائے پچیس پچیس فی قسم کے اونٹ آئیں گے۔ بعض روایات میں تین اقسام کے اونٹوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اس کے مطابق تیس تیس اونٹ دو عمروں کے ہوں گے اور چالیس اونٹ تیسری عمر کے۔ موجودہ زمانے میں یا کسی آئندہ زمانے میں اگر دیت کا قانون نافذ ہوجائے تو سکہ رائج الوقت میں زرِ دیت کا تعین اونٹوں کی قیمت سے لگایا جائے گا یا دینار و درہم کے مبادلے کی مقدار کے مطابق۔
بہرحال قتل خطا میں مذکورہ کفارہ اور دیت ادا کرنا ہوگا۔ الا ان یصدقواسوائے اس کے کہ مقتول کے وارثان بہت معاف کردیں ایسی صورت میں دیت ادا نہیں ہوگی۔ فان کان من قومٍ عدولکم اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہے و ہو مومنٌ مگر ہے مومن ، تو پھر خون بہا نہیں دیا جائے گا بلکہ صرف کفارہ ادا کرنا ہوگا فتحریر رقبۃٍ مومنۃٍ یعنی ایک غلام کو آزاد کرنا۔ چونکہ مقتول کی قوم کافر ہے لہٰذا وہ خون بہا کے حقدار نہیں ہیں و ان کان من قومٍ بینکم و بینہم میثاقٌ اور اگر مقتول کا تعلق ایسی قوم سے ہے کہ تمہارے اور ان کے درمیان عہدو پیمان ہوچکا ہے۔ فدیۃٌ مسلمۃٌ الی اہلہ تو ایسی صورت میں مقتول کے وارثان کو مقررہ خون بہا ادا کرنا ہوگا کیونکہ معاہدہ قوم کا معاملہ آزاد قوم جیسا ہی ہوتا ہے۔ اور دیت کے علاوہ وتحریر رقبۃٍ مومنۃٍ یعنی کفارے کے طور پر ایک غلام بھی آزاد کرنا ہوگا۔ جس قوم کے ساتھ معاہد ہوجائے اس کی جان ، مال اور عزت بھی اسی طرح محفوظ ہوتی ہے جس طرح خود مسلمان ملک میں رہنے والوں کی۔ اس کی مثال گزشتہ درس میں بھی آ چکی ہے ” الا الذین یصلون الی قومٍ بینکم و بینہم میثاقٌ “ یعنی جن لوگوں کی تمہاری کس معاہد قوم سے میل ملاقات ہے ان کو قتل کرنے کی اجازت نہیں۔
بہرحال فرمایا کہ اگر مقتول معاہد قوم سے تعلق رکھتا ہے تو کفارہ اور دیت دونوں چیزیں ادا کرنی پڑیں گی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ بعض مسلمانوں نے معاہد قوم کے دو آدمی قتل کر ڈالے۔ انہیں علم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے لہٰذا انہوں نے دشمن سمجھ کر مار دیا۔ حضور ﷺ کو اسحادثہ کا علم ہوا تو آپ نے افسوس کا اظہار کیا اور دیت بھی ادا کی۔
غلام کا بدل
فرمایا فمن لم یجد اگر کفارہ ادا کرنے کے لیے غلام میسر نہ ہو یعنی غلام نایاب ہے جیسا کہ آج کل کے زمانے میں قاتل غلام خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ تو اس کا بدل یہ ہے فصیام شہرین متتابعین پس دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ یہ کفارے کی دوسری صورت ہے اور اس سے مقصود قاتل کی تنبیہ اور اصلاح ہے تاکہ وہ ایسا کام نہ کرے دیت کی ادائیگی مالی لحاظ سے اور دو ماہ کے مسلسل روزے جسمانی اعتبار سے بڑا مشکل کام ہے تاہم انسان کی بہیمیت کی اصلاح کے لیے کفارے کی ادائیگی ضروری قرار دی گئی ہے۔ دیت سارے خاندان ، برادری ، یا اہل دفتر و فیکٹری کو ادا کرنا ہوگی کہ وہ اس کی غلط تربیت کے ذمہ دار ہیں اور روزے خود رکھنے ہوں گے تاکہ اسے غلطی کا احساس ہوجائے روزے مسلسل رکھنے کی پابندی ہے۔ اگر درمیان میں کوئی روزہ سہواً چھوٹ گیا یا آدمی بیمار ہوگیا جس کی وجہ سے روزہ رہ گیا ، تو پھر نئے سرے سے روزے رکھنا ہوں گے۔ دو ماہ کا تسلسل کسی صورت منقطع نہیں ہونا چاہئے ، ورنہ کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ تاہم دو ماہ کا شمار قمری مہینہ کے اعتبار سے ہوگا۔
اللہ کی طرف سے توبہ
فرمایا توبۃً من اللہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ کا قانون ہے اس نے قتل خطا کی سزا کے طور پر کفارہ اور دیت دونوں مقرر کیے ہیں اور یہ توبہ کا ایک ذریعہ ہے۔ مومن کی جان کا اتلاف بہت بڑا جرم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے توبہ کی یہ صورت بھی ساتھ رکھ دی ہے تاکہ انسان اس کے مطابق عمل کر کے اخروی سزا سے بچ جائے۔ وکان اللہ علیماً حکیماً اللہ تعالیٰ علیم کل ہے۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور وہ حکیم بھی ہے کہ اس نے اپنی کمال حکمت سے جس طرح مناسب سمجھا ، انسانوں کے لیے احکام نازل فرمائے ہیں۔
Ayah 4:93ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ سختی کرنے اور ان کے ساتھ قتال کا حکم دیا ہے اور اس کے بالمقابل اہل ایمان کی جانوں کی حفاظت کا حکم دیا ہے فرمایا کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے۔ اور اگر نیت اور ارادے کے بغیر محض غلطی سے قتل ہوجائے۔ تو قاتل کے لیے ضروری ہوگا ، کہ وہ کفارہ کے طور پر ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔ اس کے علاوہ مقتول کے ورثاء کو خون بہا بھی دینا ہوگا جو کہ سو اونٹوں یا سونے چاندی کی شکل میں ہوگا یا ان کی مساوی القیمت کوئی اور چیز بھی ہو سکتی ہے۔ قتل خطاء میں خون بہا کی ادائیگی کی ذمہ داری قاتل کے عاقلہ یعنی اس کے خاندان قبیلہ یا برادری پر ہوتی ہے اس کے محکمہ ، دفتر ، فیکٹری یا ادارہ پر ہوتی ہے۔ جس کے ساتھ قاتل منسلک ہو ، خون بہا یادیت کی ادائیگی بالاقساط تین سال میں واجب الادا ہوتی ہے ، جس کا انتظام حکومتِ وقت کے ذمہ ہوتا ہے کہ وہ قاتل کے عاقلہ سے وصول کرکے مقتول کے ورثاء تک پہنچائے مفسر قرآن ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ اگر قاتل کے عاقلہ موجود نہ ہوں ، تو دیت کی ادائیگی حکومت اپنے بیت المال سے ادا کریگی ، کیونکہ کسی مومن کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
قتلِ عمد
آج کی آیت کا موضوع قتل عمد یعنی جان بوجھ کر کسی کی جان کو تلف کرنا ہے اور یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس جرم کے گناہ اور اس کی اخروی سزا کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے و من یقتل مومناً متعمداً جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرتا ہے۔ کسی شخص کی جان قصداً تلف کرنا اکبر الکباٹہ یعنی سات بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ ان کی تفصیل جو حضور ﷺ نے بیان فرمائی ہے اس کے مطابق پہلا بڑا گناہ شرک ہے اور دوسرا قتل نفس۔ اس کے متعلق قصاص کا قانون دوسرے پارے میں بیان ہوچکا ہے وہاں فرمایا کتب علیکم القصاص فی القتلی قتل ہوجانے کی صورت میں تم پر قصاص کو فرض کیا گیا ہے یہ قانون اگلی سورة مائدہ میں بھی آئے گا ان النفس بالنفس والعین بالعین… الخ پوری جان کا بھی بدلہ ہے او ہر عضو کا بھی قصاص ہے۔ جسے آنکھ ، ناک ، کان ، دانت وغیرہ اور اگر کسی عضو کا قصاص بعینہٖ ممکن نہ ہو تو وہاں دیت ادا کرنا ہوگی۔ مثلاً ایک شخص نے دوسرے کو بندوق کا کندا اس کی ٹانگ پر مارا جس سے ٹانگ درمیان سے لوٹ گئی۔ اب یہ ممکن نہیں کہ قصاص کے طور پر ملزم کو ویسے ہی کندا مارا جائے اور اس کی ٹانگ اسی مقام سے اتنی ہی ٹوٹے ، تو ایسی صورت میں حکومت وقت کا فیصلہ تسلیم کرنا ہوگا ، تاوان یا ارش ادا کی جائیگی قتل عمد میں یہ قانون بھی ہے کہ اگر مقتول کے ورثاء میں تمام یا کوئی ایک راضی ہوجائے تو قصاص کی بجائے خون بہا ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور اگر ورثا بالکل معاف ہی کردیں تو ان کو اجر عظیم حاصل ہوگا۔ قتل عمد میں دیت کی ادائیگی خود قاتل کے ذمہ ہوتی ہے ، عاقلہ پر یہ بار نہیں ہوتا ، البتہ قتل خطا میں دیت کی ذمہ دار قاتل کی عاقلہ ہوتی ہے۔
قصاص میں زندگی ہے
قصاص اور دیت کا قانون بڑا اہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت یہ بیان فرمائی ہے۔ ” ولکم فی القصاص حیوۃٌ یا ولی الالباب “ اے عقل مندو ! تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔ اگر قصاص کا قانون صحیح طریقے سے نافذ کردیا جائے تو لوگوں کی جانیں محفوظ ہو کر انہیں زندگی نصیب ہوجائے۔ اس قانون کے تحت کسی کی رعایت نہیں کی جاتی۔ قانون کے نزدیک چھوٹا بڑا اور امیر غریب سب برابر ہیں۔ اور نگ زیب عالمگیر ؓ کے بھائی اور اشکوہ نے قتل عمد کا ارتکاب کیا تھا۔ اپنے باپ کی موجودگی میں توہ گرفت سے بچا رہا۔ مگر جب مقتول کے باپ نے یہ مقدمہ عالمگیر کی عدالت میں دائر کیا ، گواہی کے ذریعے قتل کا ثبوت فراہم کیا تو قانون شریعت جاری ہوگیا اور داراشکوہ کو سزائے موت ہوگئی ، انگریز تو اس معاملہ میں عالمگیر کو بدنام کرتے ہیں کہ اس نے اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے بھائی کو مروا دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس نے قتل عمد کاٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا تھا اور اپنے بھائی کے ساتھ رعایت نہیں برتی تھی۔
انگریزی قانون
ہمارے ہاں اب تک تعزیرات کا انگریزی قانون جاری ہے ، اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود پاکستان میں اسلامی قانون نافذ نہیں ہوسکا ، محض نام بدل کر اسے تعزیرات پاکستان کردیا گیا ہے ، حقیقت میں یہ وہی انگریز کا جاری کردہ فوجداری قانون ہے ، یہ ایسا پیچیدہ قانون ہے جس میں صریح مجرم بھی سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور کمزور آدمی پھنس جاتا ہے اس قانون کے تحت کسی کی رعایت نہیں کی جاتی۔
اس قانون میں فیصلہ حقائق کی بجائے وکلاء کی قانونی موشگافیوں پر ہوتا ہے۔ صاحبِ ثروت آدمی وکلا کی بھاری فیسیں اور رشوت دیکر اکثر بچ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کی موجودگی میں کسی شخص کی جان محفوظ نہیں پاکستان میں بےدریغ قتل کیے جاتے ہیں ، مگر قاتل کا بال بیکا تک نہیں ہوتا اگر قانون قصاص ودیت نافذ کردیا جائے تو ساری غنڈہ گردی ختم ہوجائے اور ملک میں لوگوں کو حقیقی زندگی نصیب ہوجائے۔ انگریزی قانون میں دیت کا مسئلہ تو بالکل ہی ناپید ہے اگر عدالت جرمانہ عاید کرے تو وہ حکومت کے خزانے میں چلا جاتا ہے اور مقتول کے ورثا کو کچھ نہیں ملتا۔ مگر شرعی قانون دیت کی بہت بڑی رقم مقتول کے ورثا کو دلاتا ہے۔
صدر ایوب کے زمانہ میں قتل ناحق کے متعلق ایک رپورٹ اسمبلی میں پیش ہو کر زیر بحث آئی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مشترکہ پاکستان (مشرقی اور مغربی) میں تین سال کے عرصہ میں سولہ ہزار افراد قتل ہوئے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق صرف ایک ضلع میں ایک سال میں قتل کے ایک ہزار واقعات پیش آئے۔ خون ناحق کی یہ ارزانی اس لیے ہے کہ یہاں شریعت کا تعزیراتی قانون جاری نہیں کیا گیا۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ، بےگناہ جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔ اگر قصاص اور دیت کا قانون جاری کردیا جائے اور اس کی مناسب تشہیر بھی کی جائے جس سے لوگوں کو پتہ چل سکے کہ قتل کتنا بڑا جرم ہے اور اس کی کتنی بڑی سزا ہے تو اس کا لازماً مثبت نتیجہ برآمد ہوگا اور قتل گری بند ہوجائے گی۔ قانون پر عمل درآمد کے لیے عملے کا انتخاب بھی نہایت چھان بین کے بعد ہونا چاہئے اگر قانون نافذ کرنے والے افراد دیانتدار ہوں جو خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں سے بھی عمل کرائیں تو ملک امن کا گہوارہ بن سکتا ہیوگرنہ انگریزی قانون کے ذریعے تو یہی چھ ہوتا رہے گا جو اب تک ہو رہا ہے۔
دیگر جرائم چوری ، ڈاکہ وغیرہ بھی اسی قبیل سے ہیں۔ پورے فوجداری قانون میں نہ اسلامی تعزیرات کا نفاذ ہے اور نہ ان پر عملدرآمد۔ اسلامی قانون میں چوری ثابت ہوجانے کے بعد چور کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جاسکتی اس کا ہاتھ کاٹنا ہی پڑے گا۔ ڈاکو دن رات سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں۔ ہر شخص کی زندگی غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔ قرآن پاک نے ڈاکو کے لیے چار سزائیں مقرر کی ہیں ان یقتلوا او یصلبوا او تقطع ایدیہم و ارجلہم من خلافٍ او ینفوا من الارض “ انہیں قتل کر دیاجائے یا سولی پر لٹکا دیا جائے یا ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں کاٹ دیا جائے یا ملک بدر کردیا جائے۔ ظاہر ہے کہ جب اس قسم کی سنگین سزا دی جائے گی تو پھر ڈکیتی کی کوشش کون کریگا۔ ہماری بہت سی مصیبتوں کا باعث شرعی تعزیرات کا عدم نفاذ ہے۔
ہمارا انگریزی دان طبقہ اسلامی تعزیرات سے بلاوجہ خوف زدہ ہے یہ ایک مکمل قانون ہے جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور اس کی مکمل تشریح احادیث میں موجود ہے۔ اس کے علاوہ فقہائے کرام نے پوری ریسرچ کے بعد اس کی جزیات کا فیصلہ کیا ہے اور یہ قانون ہر طرح سے قابل عمل ہے اس قانون کے ذریعے جہاں جرم ثابت ہونے پر سخت سزا ملتی ہے ، وہاں شک کی بناء پر ملزم کو رعایت بھی ملتی ہے۔ حضور ﷺ کا واضح ارشاد ہے ادروا الحدود بالشبہات یعنی شک کی صورت میں ملزم پر حد جاری نہ کرو ، اسے شک کا فائدہ دو ۔ غرضیکہ اسلامی تعزیراتی قانون ایک فطری قانون ہے جس میں کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی۔
قتل عمد کا گناہ اور سزا
فرمایا جو کوئی کسی مومن کو دانستہ قتل کرے گا فجزآؤہ جہنم تو اس کے لیے اخروی سزا دوزخ ہے خلداً فیھا جس میں اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنا ہوگا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ قتل عمد کی توبہ نہیں اور قاتل کافروں کی طرح ابدی جہنمی ہے۔ البتہ جمہور صحابہ ؓ اور فقہائے کرام (رح) فرماتے ہیں کہ قتل عمد کبیرہ گناہ ضرور ہے مگر اس کا مرتکب ابدی سزا کا مستحق نہیں ہے ابدی سزا صرف کفر اور شرک کے جرم پر ہے کیونکہ ان جرائم میں عقیدے کی خرابی پائی جاتی ہے۔ ان کے علاوہ باقی جرائم میں اگر توبہ کرے تو جہنم سے بچ سکتا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ توبہ آخری دم تک قبول ہوتی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں ان اللہ یقبل توبۃ العبد مالم یغرغر اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ کی کیفیت نہ طاری ہوجائے۔ سورة فقران میں موجود ہے۔ بعض لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے ذمہ قتل اور زنا جیسے بڑے گناہ ہیں۔ اگر ایمان لانے سے یہ سب معاف ہوجائیں تو ہم ایمان لاتے ہیں ورنہ کیا فائدہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” الا من تاب وامن و عمل عملاً صالحاً فاولیک شبدل اللہ سیا اتہم حسنتٍ “ جو توبہ کریگا۔ ایمان لائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا ، تو اللہ تعالیٰ تمام گناہ فرما دیگا۔ اس لحاظ سے قتل عمد بھی قابل معافی ہے۔ بشرطیکہ ایمان موجود ہو اور سچی توبہ کرلے۔ البتہ من استحل حراماً فقد کفر جس نے حرام کو حلال سمجھ لای ، وہ کفار ہوگیا۔ اگر کوئی شخص قتل ناحق کو حلال سمجھتا ہے تو پھر وہ واقعی ابدی جہنمی ہے۔ وگرنہ خلداً فیھا کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے بڑی دیر تک جہنم میں رہنا ہوگا ، امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ابدی جہنمی نہیں بلکہ طول مدت تک کے لیے سزا کا مستحق ہے دل میں ایمان وجود ہے تو کسی نہ کسی وقت جہنم سے خلاصی پا لیگا۔
امام ترمذی (رح) فرماتے 1 ؎ ہیں کہ اس بات پر تمام اہل حق کا اتفاق ہے۔ ان اھل لتوحید لا یخلدون فی النار یعنی اللہ کی وحدانیت کو جاننے والے ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہینگے۔ کیسا بھی بڑاجرم ہو ، ایمان کی بدولت دوزخ سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا ماسوائے کفر اور شرک کے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان میں ایمان موجود ہے مگر غفلت کا پردہ پڑجاتا ہے انسان قتل ناحق جیسا عظیم گناہ بھی کرجاتا ہے تو وہ ابدی جہنمی نہیں ہوگا۔ بلکہ سزا کے طور پر دیر تک وہاں رہنا ہوگا۔
اس کے علاوہ وغضب اللہ ولعنہ اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کی لعنت ہوگی جس پر اللہ ناراض ہوجائے وہ کتنا معتوب شخص ہوگا۔ یہود و نصاریٰ کے متعلق اللہ نے فرمایا بدوضع لوگ ہیں ، ان پر اللہ کا غضب ہے۔ یہ عنہادی ہیں اور حق کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ اسی طرح کفر و شرک والا آدمی بھی خدا کی لعنت اور غضب کا شکار ہوتا ہے۔ نیز فرمایا واعدا لہ عذاباً عظیماً اللہ نے قاتل کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کررکھا ہے یہ اس کے کیے کا وبال ہے۔ اس نے ایک مومن کی جان لے کر بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ حالانکہ کسی مومن کسی مومن کی جان حلال نہیں۔ یہ آخری سزا کا ذکر ہے اور دنیا میں اگر اسلامی قانون نافذ ہوگا تو قصاص یا دیت بھی دینا ہوگا۔
Ayah 4:94ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے جہاد کا مسئلہ بیان ہو رہا ہے ، اس ضمن میں ہجرت کا ذکر بھی ہوا ، اللہ تعالیٰ نے جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور ان پر اعتماد نہ کرنے کا حکم دیا۔ دشمنوں کے متعلق فرمایا کہ جہاں بھی ملیں انہیں مار ڈالو ، نہ ان سے دوستانہ رکھو اور نہ ان سے کوئی مدد حاصل کرو۔ اس کے برخلاف مومن کی حفاظتِ جان کے متعلق احکام نازل فرمائے اور ارشاد فرمایا کہ کسی مومن کے لیے یہ بات روا نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کی جان کے درپے ہو۔ اور اگر غلطی سے کوئی مسلمان کی جان کے درپے ہو۔ اور اگر غلطی سے کوئی مسلمان مارا جائے ، تو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے کفارے اور دیت کا قانون نازل کیا۔ قتل خطا کفارہ ایک غلام کی آزادی یا دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں۔ اور اس کے علاوہ مقتول کے وارثان کو خون بہا بھی ادا کرنا ضروری ہے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنا بہت بڑاج رم اور قاتل پر وبال ہے ایسا کرنے والا انسان جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی لعنت کی زد کی زد میں آجاتا ہے۔ قتل عمد کے ضمن میں قصاص کا قانون دوسرے پارے میں پہلے ہی بیان ہوچکا ہے۔ اگر مقتول کے وارثان راضی ہوجائیں تو قصاص کی بجائے دیت پر بھی تصفیہ ہو سکتا ہے یا اگر وارثان بالکل معاف کردیں تو ان کے لیے بہت بڑے اجر وثواب کا ذریعہ ہے اگر کوئی شخص قتل ناحق کو جائز سمجھے تو وہ کافر اور مرتد ہوجائیگا اور ابدی جہنم کا حقدار ہوگا۔
آج کی آیت بھی مسلمان کی جان کی حفاظت کے متعلق ہی ہے۔ اس آیت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کسی شخص کے اسلام کے زبانی اظہار کی بعد اسکا خون حرام ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس سلسلے میں کسی شک کی بنا پر خون بہانا ہرگز جائز نہیں۔ حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں بعض ایسے واقعات پیش آئے کہ صحابہ ؓ نے کسی مسلمان کو اس شبہ کی بنیاد پر قتل کردیا کہ اسلام نہیں لایا۔ حالانکہ وہ اسلام لا چکا تھا۔
عیاش ؓ بن ابی ربیعہ کا واقعہ
امام بغوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے یہ واقعہ اس طرح بیان کیا ہے کہ ابوجہل ، حارث ابن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ مادر زاد بھائی تھے ، عیاش ؓ کو اللہ نے توفیق دی تو وہ اسلام قبول کر کے مدینہ طیبہ ہجرت کر گیا۔ اس کی کافرہ ماں کو اس بات کا رنج ہوا۔ اس نے اپنے دوسرے بیٹوں سے کہا کہ کسی طرح عیاش کو واپس لاؤ ۔ جب تک وہ واپس نہیں آتا ، میں نہ سائے میں بیٹھوں گی اور نہ کچھ کھاؤں گی اور اس طرح اس نے بھوک ہڑتال کردی۔ چناچہ باقی دونوں بھائی عیاش کی تلاش میں مدینے پہنچے۔ اسے کسی ٹیلے میں پا لیا اور اس کی منت خوشامد کی کہ تم واپس چلے چلو ، ورنہ تمہاری ماں بھوکی ، پیاسی جان دے دیگی۔ بہرحال اسے واپس آنے پر آمادہ کرلیا۔ مدینے کی حدود سے باہر آ کر اسے خوب مارا پیٹا اور جکڑ کر واپس مکہ لے آئے ابوجہل کی اسلام دشمنی تو پہلے ہی زبان زدِ عام تھی ، اس نے ساری کسر اپنے بھائی عیاش ابن ربیعہ پر نکال دی۔ بہرحال جب وہ ماں کے پاس پہنچے تو اس نے کہا کہ جب تک عیاش اپنے سابقہ دین پر واپس نہیں آجاتا میں راضی نہ ہونگی۔ عیاش نے ہر چند انکار کیا اور اپنے بھائیوں کے مظالم برداشت کیے مگر بالآخر مجبور ہو کر اسلام چھوڑنے پر تیار ہوگیا۔
جب کوئی شخص سخت مجبور ہوجائے تو اضطراری حالت میں اسے کلمہ کفر کہنے کی بھی اجازت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنی جان کی حفاظت کرسکے۔ تاہم ایسا کرنا اس شرط کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس کے دل میں ایمان موجود ہو اور وہ ایسا بالکل مجبوری کے تحت کر رہا ہو۔ تاہم عزیمت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان شہادت قبول کرلے مگر کلمہ کفر زبان پر نہ لائے۔
جب عیاش دین اسلام ترک کرنے پر تیار ہوگیا تو مکہ کے ایک آدمی زید بن حارث نے اسے طعنہ دیا اور کہا کہ عیاش ! جس دین کو تم اب چھوڑ رہے ہو ، اگر وہ واقعی گمراہی تھی ، تو تم گمراہی میں مبتلا ہوگئے تھے اور اب واپس آ کر اس گمراہی کا ازالہ کردیا ہے اور اگر دین اسلام سچا مذہب ہے تو پھر اسے ترک کرنے کے لیے تم کیسے تیار ہوگئے اس پر عیاش کو سخت غصہ آیا اور اس نے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ جب بھی موقع ملے گا زید کو زندہ نہیں چھوڑونگا اسی عیاش ابن ابی ربیعہ کے متعلق بخاری شریف میں روایت آتی ہے کہ حضور ﷺ اس کے لیے قنوت نازلہ پڑھتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے اس کی رہائی کے لیے دعائیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہوئی ، عیاش رہا ہو کر پھر مدینے پہنچے۔ کچھ عرصہ بعد زید ؓ بن حارث بھی مسلمان ہو کر مدینہ طیبہ پہنچ گیا اتفاق سے قبا کے قریب عیاش اور زید کا آمنا سامنا ہوگیا۔ عیاش کو زید کے اسلام لانے کا علم نہیں تھا اور اس کے دل میں پرانی رنجش بھی موجود تھی لہٰذا اس نے اسے وہیں قتل کردیا۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مسلمان ہوچکا تھا ، تم نے اسے ناجائز قتل کیا ہے۔ چونکہ یہ لاعلمی کی بنا پر ایسا ہوا تھا لہٰذا اسے قتل خطا ہی شمار کیا گیا ، جس کے قانون اور تعزیر کا… ذکر پہلے آ چکا ہے۔
اسامہ بن زید ؓ کی تغزش
اسی طرح کا ایک واقعہ اسامہ بن زید ؓ کے متعلق بھی آتا ہے۔ حضور ﷺ نے مسلمانوں کے ایک لشکر کو کفار کی طرف جہاد کے لیے روانہ کیا۔ اسامہ بن زید ؓ بھی اس لشکر میں شامل تھے۔ جب یہ لشکر اپنے ہدف پر پہنچا ، تو وہاں کے سب لوگ بھاگ گئے اور صرف ایک شخص پہاڑ پر رہ گیا جو دراصل اسلام قبول کرچکا تھا۔ یہ شخص اپنی بکریوں سمیت پہاڑ سے اس خیال سے نیچے اتر آیا کہ میرے اسلامی بھائی آگئے ہیں ، یہ میرے ساتھ تعرض نہیں کریں گے۔ اس نے آ کر السلام علیکم اور کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ بھی پڑھا۔ اسامہ بن زید ؓ نے سمجھا کہ اس شخص نے محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا ہے ، لہٰذا اسے دشمن تصور کرتے ہوئے مار ڈالا اور اس کی بکریوں پر قبضہ کرلیا۔ جب یہ لشکر… مدینہ طیبہ واپس آیا تو مذکورہ واقعات کی اطلاع حضور ﷺ کو دی گئی۔ مسلم شریف کی روایت کے مطابق آپ (علیہ السلام) نے اسامہ کو طلب کیا اور ایک مسلمان کے قتل کی وجہ دریافت کی۔ اسامہ نے عرض کیا۔ حضور ! اس نے محض جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا ، وہ دراصل مسلمان نہیں تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا ھلا شفقت عن قلبہ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھا کہ اس کے دل میں کیا ہے۔ اسامہ بہت نادم ہوئے اور حضور ﷺ سے التجا کی میری خطا کی معافی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ماتصنع بلا الہ الا اللہ اذاجاء یوم القیمۃِ جب وہ شخص کلمہ لا الہ الا اللہ لے کر قیامت کے دن حاضر ہوگا ، تو پھر تم کیا کرو گے۔ حضور یہ الفاظ بار بار دہراتے تھے۔ اس پر اسامہ نے تمنا کی کاش وہ آج کے دن مسلمان ہوتے اور ایمان قبول کرتے تاکہ اس قتل کا وبال ان کے سر پر نہ ہوتا۔ اس واقعہ کے بعد اسامہ ؓ بہت محتاط ہوگئے۔ اور صرف اسی شخص پر ہاتھ اٹھاتے جس کی اسلام دشمنی کی اچھی طرح تصدیق کرلیتے۔ حضرت سعد ؓ کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ میں بھی کسی شخص پر بغیر سوچے سمجھے تلوار نہیں اٹھاؤں گا اور صرف اسی کے خلاف ہاتھ اٹھاؤں گا جس کے خلاف اسامہ ؓ کا ہاتھ اٹھے گا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی کہ قتل جیسا انتہائی قدم پوری تحقیق کے بعد اٹھانا چاہئے۔
تحقیق کا حکم
ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! اذا ضربتم فی سبیل اللہ جب تم سفر کرو ، اللہ کے راستے میں۔ ضرب کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ ضرب کا عام فہم معنی تو مارنا ہے اور اس کا معنی بیان کرنا بھی ہے جیسے قرآن پاک میں یضرب اللہ الامثال “ اللہ تعالیٰ مثالیں بیان کرتا ہے۔ اور ضرب کا معنی سفر کرنا بھی ہے جیسا کہ اس آیت میں آیا ہے اور فی سبیل اللہ سے مراد جہاد کے لیے نکلنا ہے۔ اس کی تشریح گزشتہ دروس میں بھی کی جا چکی ہے تو بہرحال مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو ! جب تم جہاد کے لیے سفر پر نکلو ، یعنی متہارا سفر محض اللہ کی رضا کے لیے ہو اس میں ملک گیری اور ہوس زر کو دخل نہ ہو۔ تو دوران سفر اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے فتبینوا تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو ولا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مومناً اور جو شخص تمہیں اسلامی طریقے سے سلام کرے اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔ مقصد یہ کہ جو شخص ظاہری طور پر زبان سے کلمہ پڑھ لیتا ہے اور تمہیں سلام کہتا ہے اس کو مسلمان سمجھو اور اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرو اس کو قتل کرنا حرام ہوجاتا ہے۔ اگر وہ تمہیں دھوکہ دینے کے لیے اسلام کا اقرار کرر ہا ہے تو اس کام عاملہ اللہ کے پاس ہے۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اسے سزا دے گا۔ تمہیں اس پر شک نہیں کرنا چاہئے۔
مال کی تمیز
چونکہ اسامہ ؓ نے اس مقتول کی بکریوں پر بھی قبضہ کرلیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اسی طرف اشارہ فرمایا تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا تم دنیا کی زندگی کا سامان چاہتے ہو۔ عرض کا معنی دنیا کا سازو سامان ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ تو حقیر مالو متاع ہے۔ فعند اللہ مغانم کثیرۃٌ مگر اللہ تعالیٰ کے پاس بہت زیادہ غنیمتیں ہیں۔ خدا تو خزانوں کا مالک ہے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں۔ تمہیں ان بکریوں پر قبضہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے خزانوں پر نظر رکھنی چاہئے تھی۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے وہ بکریاں مقتول کے خاندان والوں کو واپس بھجوا دی تھیں کیونکہ یہ مسلمانوں کے لیے جائز نہ تھیں۔
فرمایا کذلک کنتم من قبل اس سے پہلے تم بھی اسی شخص کی طرح تھے۔ تم کفر پر تھے۔ جب تم نے کلمہ پڑھ لیا تو تم پر اعتبار کرلیا گیا۔ اب تمہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے تھا کہ جب اس شخص نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا تو اس پر اعتماد کرنا تھا۔ حضور ﷺ کا اپنا طریق کار بھی یہ تھا کہ جب دشمن پر حملہ مطلوب ہوتا تو آپ رات کو طلوع فجر تک انتظار فرماتے اگر اس بستی سے اذان فجر کی آواز آجاتی تو سمجھتے کہ یہاں کچھ مسلمان بھی موجود ہیں۔ لہٰذا حملہ کا ارادہ ترک کردیتے اور اگر و ہاں سے شعائر اسلام کی کوئی نشانی نہ ملتی تو حملہ کا حکم دے دیتے۔ بہرحال قانون یہی ہے کہ کوئی مسلمان کسی مسلمان کے ہاتھ سے نہ مارا جائے۔ فرمایا پہلے تم بھی ایسے ہی تھے فمن اللہ علیکم پھر اللہ نے تم پر احسان فرمایا ، تم مسلمان ہوگئے فتبینوا اب لازم ہے کہ تحقیق کرلیا کرو۔
اسلامی مرکز کی ضرورت
اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مسلمانوں کی آپس میں خونریزی بالکل ممنوع ہے۔ مگر اس حکم پر عمل درآمد صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ مسلمانوں کی مرکزیت قائم ہو۔ خلافت کے خاتمہ کے بعد اہل اسلام کا مشترکہ مرکز باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ انارکی میں مبتلا ہے اور اس کا شیراہ بکھر چکا ہے۔ اب مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ کہیں دو ملک آپس میں ا لجھے ہوئے ہیں اور کہیں دو پارٹیاں دست و گریباں ہیں جب تک مسلمانوں کی اجتماعیت قائم نہیں ہوگی۔ مسلمانوں کی آپس کی خون ریزی نہیں رُک سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرمایا کہ ایک دوسرے کا خون بہایا جائے۔ یہ بڑی قبیح چیز ہے اور یہ قانون بھی واضح ہوتا ہے کہ جب کوئی ظاہراً اسلام کا اقرار کرتا ہے تو پھر اس کی جان ، مال اور عزت مسلمانوں کے ہاتھوں محفوظ ہوجاتی ہے۔ اس کے خلاف ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں آپس کی قتل و غارت تو کافروں کا شویہ ہے ، مگر آج مسلمان اسے اختیار کرچکے ہیں جو کہ نہایت ہی افسوس کی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی حتمی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے۔
ہر آن نگرانی
فرمایا ان اللہ کان بما تعملون خبیراً تم جو کچھ بھی کرتے ہو ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کی خبر رکھتا ہے۔ وہ تمہارے ارادوں اور نیت سے واقف ہے تمہاری تمام کارگزاری پر اللہ تعالیٰ ہر وقت نگاہ رکھے ہوئے ہے اور تم ہر آن اس کی نگرانی میں ہو دوسرے مقام پر فرمایا ” ان ربک لبالمرصاد “ بیشک تمہارا رب گھات میں ہے۔ وہ تمہاری تمام حرکات کی نگرانی کرر ہا ہے ، لہٰذا کوئی ایسا بےاحتیاطی کا کام نہ کرو جس سے کسی مسلمان کی جان تلف ہوتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی حفاظتِ جان کا یہ قانون بھی بیان فرمادیا۔
Ayahs 4:95–96ربط آیات
گزشتہ درس میں مسلمانوں کی حفاظتِ جان کا قانون بتلایا گیا تھا اور اس امر کی تنبیہ کی گئی تھی کہ بےاحتیاطی کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان ضائع نہ ہونے پائے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں جب لوگ جہاد کے لیے جاتے تھے تو بسا اوقات غلط فہمی کی بناپ ر مسلمان کے ہاتھوں مسلمان قتل ہوجاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ کوئی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو۔ اس تنبیہ کی وجہ سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں لوگ جہاد میں شرکت سے محض اس لیی اعراض نہ کرنے لگیں کہ کوئی ایسی غلطی ہوجائے جس کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان ناحق تلف ہوجائے۔ اس خدشے کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور واضح فرما دیا کہ جہاد میں حصہ لنیے ولاے گھر بیٹھ رہنیوالوں سے بہرصورت اولیٰ اور افضل ہیں خواہ ان کا پیچھے رہ جانا کسی بھی وجہ سے ہو۔
قاعدین اور مجاہدین کا تقابل
ارشاد ہوتا ہے لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجہدون فی سبیل اللہ بیٹھ رہنے والے مومن جن کو کوئی عذر نہیں اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہد برابر نہیں ہیں اور مجاہدین بھی ایسے جو جہاد کرتے ہیں باموالہم وانفسہم اپنے مالوں کے ساتھ اور اپنی جانوں کے ساتھ۔ یعنی جب اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو پھر اپنا مال اور جان دونوں اثاثے اللہ کی راہ میں پیش کردیتے ہیں۔ قعدون جمع ہے قاعد کی جس کا لغوی منیٰ بیٹھنے والے ہیں اور مراد وہ لوگ ہیں جن کی ضرورت بوجوہ محاذ جنگ پر نہیں ہوتی اور وہ پیچھے بیٹھے رہتے ہیں۔ تاہم حسب ضرورت جاہد میں بالفعل شمولیت کے لیے بھی ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں۔ آج کی اصطلاح میں انہیں ریزرو فورس (R RESERVE FORCE) کا نام دیا جاسکتا ہے۔ انہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ پیچھے بیٹھنے والے مومن اور آگے لڑنے والے مجاہد برابر نہیں ہیں۔ البتہ درمیان میں غیر اولی الضرر کے الفاظ لا کر معذور لوگوں کو مستثنا کردیا کہ ان پر کچھ الزام نہیں اور مطلب یہ ہوا کہ بغیر عذر پیچھے بیٹھنے والے مومنین اور میدان جنگ میں جانے والے مجاہدین برابر نہیں ہیں بلکہ مجاہدین کو قاعدین پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔
شان نزول
اس آیت کی شان نزول کے متعلق احادیث اور تفاسیر میں مذکور ہے کہ اولاً آیت کا یہ حصہ نازل ہوا لایستوی القعدون من المومنین والمجہدون فی سبیل اللہ اس پر حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ؓ کو تشویش لاحق ہوئی آپ نابینا تھے مگر قدیم الاسلام صحابی اور مؤذن بھی تھے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ معذور ہونے کی وجہ سے وہ جہاد میں شریک نہیں ہو سکتے اور پیچھے بیٹھے رہتے ہیں جب کہ مجاہدین جہاد میں بالفعل شریک ہو کر فضیلت میں بڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا حضور ! میں معذور ہوں ، اگر بینا ہوتا تو ضرور…
جہاد میں شریک ہوتا۔ آپ کی اس خواہش اور حسرت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے غیر اولی الضرر کے الفاظ نازل فرمائے۔ حضرت زید ؓ فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں یہ وحی نازل ہوئی ، میں اس مجلس میں موجود تھا اور حضور ﷺ کی ران مبارک میری ران پر تھی۔ جب وحی نازل ہوئی تو میری ران پر اس قدر بوجھ پڑا کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ میری ران ٹوٹ رہی ہے یہ وحی کا بوجھ تھا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جہاد میں عملی شرکت نہ کرنے والوں میں سے معذور افراد مثلاً لنگڑا ، اندھا ، اپاہج وغیرہ کو عذر کی بنا پر مستثنا قرار دے دیا۔ اور اعلان فرما دیا کہ بلاعذر پیچھے بیٹھنے والے اور جہاذد میں بالفعل شریک ہونے والے برابر نہیں بلکہ موخر الذکر لوگ اول الذکر لوگوں پر فضیلت رکھتے ہیں۔
معذوروں کے لیے رعایت
معذوروں کا یہ استثناء ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے جس کا ذکر سورة توبہ میں آتا ہے ” اذا نصحوا للہ ورسولہ “ یعنی ان کا عذر اس صورت میں قابل قبول ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں خیرخواہ ہوں اور پیچھے بیٹھ کر مسلمانوں کی خیرخواہی کی باتیں کریں نہ کہ کوئی ایسا غلط پراپیگنڈا کریں جس سے دشمن کو تقویت حاصل ہوتی جو جنگی چالوں میں سے پراپیگنڈا بھی ایک موثر ہتھیار ہے اور ہر فریق اسے دشمن کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ اس کے اعصاب کمزور ہوں تو اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ معذور لوگ دشمن کے پراپیگنڈا کا شکار ہو کر کوئی جھوٹی موٹی خبریں نہ پھیلانا شروع کردیں جس سے عوام میں بددلی پیدا ہوتی ہو۔ یہ رعایت انہی معذوروں کو حاصل ہوگی جو اہل ایمان کے خیرخواہ ہوں گے اور کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے جماعت المسلمین میں ضعف پیدا ہونے کا خطرہ ہو۔ اہل اسلام کے بدخواہوں کو یہ رعایت حاصل نہیں ہوگی بلکہ وہ عنداللہ معتوب ہوں گے تو فرمایا پیچھے رہ جانے والے جہاد کرنے ولاے برابر نہیں ہیں ، سوائے معذوروں کے۔
درجہ کے اعتبار سے فضیلت
فرمایا فضل اللہ المجھدین باموالہم و انفسہم علی القعدین درجۃً اللہ تعالیٰ نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرنیوالوں کو بیٹھنے والوں پر فضیلت بخشی ہے ایک درجہ کے اعتبار سے یعنی پیچھے رہنے والوں کو وہ درجہ کہاں حال ہو سکتا ہے جو مال و جان کی بازی لگانیوالوں کو اللہ کے ہاں حاصل ہے۔ البتہ وکلاً وعداللہ الحسنی اللہ نے سب کے ساتھ بھلائی کا وعدہ کر رکھا ہے۔ مقصد یہ کہ درجات میں تو دونوں گروہ برابر نہیں مگر بھلائی اور نیکی دونوں گروہوں کو حاصل ہوگی بشرطیکہ گھر بیٹھنے والے اسلام کے باقی احکام نماز ، روزہ ، زکوٰۃ وغیرہ پر عمل پیرا ہوں۔ ان لوگوں کو بھی نجات نصیب ہوگی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ بھی جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ تاہم وہ مجاہدین کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے کیونکہ انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنی سب سے قیمتی متاع بھی اللہ کے حضور پیش کردی ہے۔
جہاد فرض کفایہ ہے
آیت کے اس حصہ کلاً وعداللہ الحسنی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جہاد میں حصے لینے اور نہ لینے والوں سب کے ساتھ بھلائی کا وعدہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد ہر کس و ناکس کے لیے فرض عین نہیں ہے لہٰذا جماعت المسلمین میں سے کچھ لوگ جہاد میں حصہ لے لیں تو پوری ملت اس فرض سے سبکدوش سمجھی جائے گی اور اگر کوئی شخص بھی یہ انتظام نہ کرے تو سارے کے سارے بستی والے گنہگار ہوں گے نماز جنازہ بھی فرضِ کفایہ ہے۔
البتہ بعض غیر معمولی حالات (A BNORMAL) میں جہاد فرض عین بھی ہوجاتا ہے۔ اگر دشمن مسلمانوں کی جماعت پر حملہ کردے ، تو اس وقت ہر عاقل بالغ ، مرد اور عورت پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے۔ ملکی دفاع کے لیے ہر مسملان کو اپنا حصہ ادا کرنا پڑیگا۔ اسی بنا پر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس قسم کے حالات میں عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر دشمن کے خلاف تدبیر کے لیے جاسکتی ہے۔ اسی طرح غلام اپنے آقا کی اجازت کے بغیر جہاد میں شریک ہوسکتا ہے۔
چار گروہ
قانونِ جہاد کی رو سے اب لوگ چار گروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں پہلا گروہ منافقین کا ہے۔ ان کے متعلق لیبطئن آ چکا ہے کہ وہ جان بوجھ کر بلاعذر جہاد سے گریز کرتے ہیں اور گھر بیٹھ رہتے ہیں دوسرا قاعدین کا ہے جس کا ذکر آج کے درس میں آیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بالفعل جہاد میں شریک نہیں ہوتے مگر ضرورت پڑنے پر محاذ جنگ پر جانے کے لیے مستعد رہتے ہیں۔ تیسرا گروہ مجاہدین کا ہے جو بالفعل جہاد میں شریک ہو کر ما ل و جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور چوتھا گروہ معذوروں کا ہے جو کسی عذر کی وجہ سے شریک جہاد نہیں ہو سکتے۔ مگر اہل ایمان کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ ان چاروں گروہوں میں سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت بیان کی ہے ، قاعدین سے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ، مجاہدین کو بلند درجات کی خوشخبری سنائی ہے اور معذورین کو مستثنیٰ کیا ہے۔
جہاد باللسان
اس آیت کریمہ میں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کا ذکر ہے۔ تاہم ابوداؤد شریف اور ترمذی شریف کی روایت میں جہاد باللسان کا ذکر بھی آتا ہے اور جہاد بالسنان کا بھی۔ یعنی جہاد زبان کے ساتھ بھی ہے اور اسلحہ کے ساتھ بھی ہے۔ ابو داؤد شریف کی روایت میں اس طرح آتا ہے جاہدوا الکفار والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی کفار و مشرکین سے جہاد کرو ، اپنے مالوں ، جانوں اور زبانوں کے ساتھ تو گویا بوقت ضرورت لسانی جہاد بھی فرض ہوجاتا ہے۔ دین اسلام کی تبلیغ یعنی اللہ کے احکام کو دوسروں تک پہنچانا لسانی جہاد ہے۔ تقریر وبیان کے ذریعے اسلام کی تبلیغ یا اسلام کے متعلق کسی فرد یا جماعت کے شکوک و شبہات دور کرنا بھی زبانی جہاد کا حصہ ہیں۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم ، اس کی اشاعت اور تبلیغ جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعلایٰ نے مجھے اسی شعبے میں لگایا ہوا ہے اور میں اپنا فرض انجام دے رہا ہوں۔ آپ نے بارہ سال تک دہلی میں تعلیم دی ، پھر حج کے لیے گئے۔ وہاں سے استفادہ حاصل کیا اور پھر واپس آ کر ساری عمر تبلیغ کے شعبے میں لگے رہے۔ آپ بالفعل تو جہاد میں شریک نہیں ہو سکے تاہم آپ نے اسلامی تعلیمات کی ترویج کے لیے اپنا فرض احسن طریقے سے پورا کیا۔
جہاد بذریعہ تصنیف
تبلیغ اسلام کے لیے تصنیف و تالیف بھی جاہد میں داخل ہے میرے سامنے جو قرآن پاک ہے اس کا ترجمہ اور کچھ حاشیہ شیخ الہند (رح) کا ہے اور یہ آپ نے مالٹا میں اسیری کے دوران لکھا تھا۔ اور بقیہ حاشیہ آپ کے شاگرد حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیراحمد عثمانی (رح) نے مکمل کیا تھا۔ یہ بہترین ، مستند اور مختصر حاشیہ ہے۔ آپ کے پاس جو قرآن کریم ہے اس کا ترجمہ اور مختصر حاشیہ حضرت مولانا احمد علی لاہوری (رح) کا ہے ۔ بڑا آسان اور عام فہم ترجمہ ہے۔ یہ بھی ایک عظیم جہاد ہے تصنیف و تالیف کے ذریعے جہالت کو مٹانا ، علم کو پھیلانا ، عدل و انصاف کو قائم کرنا ایمان اور توحید کو دنیا میں غالب کرنا ، معاصی اور فسق و فجور کا قلع قمع جہادہی کا حصہ ہے بلکہ یہ جہاد کبیر ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ یؤزن مداد العلماء بدم الشہداء قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تصنیف و تالیف کرنے والے علما کی سیاہی کو شہیدوں کے خون کا درجہ عطا فرمائیں گے۔ تصنیف و تالیف کی اتنی بڑی فضیلت آئی ہے۔ گویا جہاد کی یہ چار شکلیں واضح ہوگئیں یعنی تصنیف و تالیف ، تبلیغ ، تعلیم اور جہاد بالفعل۔
جہاد بالمال
جن لوگوں کو اللہ نے توفیق بخشی ہے وہ اللہ کی راہ میں مال بھی لگاتے ہیں اور جان بھی پیش کردیتے ہیں۔ تاہم بعض لوگ جسمانی لحاظ سے اس قابل نہیں ہوتے کہ جنگ میں بنفس نفیس شامل ہو سکیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے توفیق دی ہے تو وہ جہاد بالمال میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ کے دین کے قیام اور غلبہ اسلام کے لیے جو مال خرچ کیا جائے اس کا درجہ عام صدقات و خیرات سے بہت بلند ہے۔ جہاد کا موقع تھا۔ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں ایک اونٹنی لایا ، اس پر کجاوہ اور پالان کسا ہا تھا۔ عرض کیا ، حضور ! یہ اونٹنی پوری طرح تیار ہے ، اسے کسی مجاہد کے سپرد فرما دیجیے۔ آپ نے فرمایا تم نے بہت اچھا کام کیا۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح کی سات اونٹنیاں عطا فرمائیگا۔ گویا جہاد کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنے کا ادنیٰ درجہ سات سو گنا ہے۔ سورة انعام میں عام نیکی کا صلہ تو دس گنا بتایا ہے ” من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا “ مگر جہاد کے لیے اجر وثواب سات سو گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ذروۃ سنامہ الجہاد یعنی اسلام کی کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ ہاد کی وجہ سے ملت اسلامیہ میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ حدود اللہ جاری ہوتی ہیں ، برائی کا خاتمہ ہوتا ہے ، کفر کا غلبہ ٹوٹتا ہے اور زمین میں خلافت کا نظام قائم ہوتا ہے۔
ترکِ جہاد کا وبال
ایک عرصہ ہوا ملت اسلامیہ سے جہاد کا جذبہ ختم ہوچکا ہے۔ کفار نے اس جذبہ کو ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔ ہندوستان میں مرزا قادیانی کو کھڑا کیا جس نے اعلن کیا اب جہاد منسوخ ہوچکا ہے۔ ایسا ہی کچھ پراپیگنڈا سرسید سے کروایا گیا۔ ایران میں یہ کام بہاء اللہ سے کروایا کہ نئی شریعت آگئی ہے لہٰذا اب جہاد کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سب انگریز کی خباثت ہے جس نے مسلمانوں میں بزدلی پیدا کرنے کے لیے جہاد سے پیچھے ہٹایا خلافت کو ختم کر کے انگریز نے ملت اسلامیہ کی مرکزیت کو ختم کردیا۔ اسلامی خلافت اور یکجہتی کی وجہ سے انگریز اور جرمن وغیرہ مسلمانوں سے خوفزدہ تھے چناچہ انہوں نے ملی بھگت سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے خطوں میں تقسیم کردیا ہے تاکہ ان کی اجتماعیت ختم ہو اور کسی مشکل کے وقت یہ ایک دوسرے کی مدد بھی نہ کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا میں مسلمانوں کو کہیں بھی عزت کی زندگی نصیب نہیں۔ فلسطین اور افغانستان کے مسلمان بےیارو مددگار ہیں۔ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ انگریز نے ایسی پابندیاں لگا دی ہیں کہ چاہنے کے باوجود کوئی مسلمان اپنے بھائیوں کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا۔ یہ سب غیر اقوام کی سازش کا نتیجہ ہے۔
فضول خرچی
اللہ تعالیٰ کا حکم تو یہ ہے کہ اپنا مال جہاد میں لگاؤ مگر آج مسلمانوں کا مال تعیش کے کاموں میں صرف ہو رہا ہے آج مسلمانوں کی دولت کا رخ کھیل تماشے ، عیاشی ، فحاشی ، مشرکانہ رسومات اور بدعات کی طرف ہے۔ اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے کتنا روپیہ صرف ہو رہا ہے۔ عالی شان عمارتیں ضرور بن رہی ہیں مگر دین کی تبلیغ کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ ہر شخص راتوں رات دنیا بھر کے خزانوں کا مالک بن جانا چاہتا ہے اور اسے اس بات کی کچھ پروا نہیں کہ ذرائع آمدن حلال ہیں یا حرام حالانکہ حکم یہ ہے اجملوا فی الطلب جائز ذرائع سے کماؤ اور جائز امور پر خرچ کرو۔ جو کوئی حرام کاموں پر مال خرچ کریگا۔ عنداللہ ماخوذ ہوگا۔ آج صرف دس فیصدی لوگ دولتمند ہیں اور باقی نوے فیصدی سخت تکلیف میں مبتلا ہیں۔ آج کون ہے جو غریبوں کو بھی اپنا بھائی سمجھ کر انکے دکھ درد میں شریک ہو۔ آج کس کو احساس ہے کہ سب مسلمان بھئای بھائی ہیں۔ سب کا نظریہ حیات (idology) ایک ہے لہٰذا ایک بھائی کو دوسرے بھائی کی ضروریات کا بھی خیال ہونا چاہئے۔
ملی جذبہ
وہ لوگ کہاں گئے جن کے دلوں میں ملی جذبہ موجود تھا اور وہ اپنے بھائیوں کے لیے جذبہ ہمدردی رکھتے تھے۔ خواجہ نظام الدین اولیا (رح) سحری کے وقت کھانا نہیں کھاتے تھے۔ لوگوں نے کہا آپ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور روزہ بھی رکھتے ہیں ، کچھ کھا پی لیا کریں۔ فرمایا مجھے ان غریب مسلمانوں کا خیال آجاتا ہے ، جن کے پاس سحری کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ جب ان کا تصور آتا ہے تو حلق سے لقمہ نیچے نہیں جاتا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر مغرب میں کوئی مسلمان عورت اغوا ہوجائے تو مشرق کے مسلمانوں پر اس کی امداد فرض ہوجاتی ہے فرماتے ہیں اگر مشرق کے رہنے والے کسی مومن کے پاؤں میں کانٹا چبھتا ہے تو مغرب والے مسلمان اس کی چبھن محسوس کرتے ہیں۔ یہ تھا وہ جذبہ جس کی وجہ سے مسلمانوں کو دنیا میں عزت نصیب تھی اور اغیار ان سے دہشت کھاتے تھے۔
اجرِ عظیم
فرمایا و فضل اللہ المجھدین علی القعدین اجراً عظیماً اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو فضیلت بخشی ہے پیچھے بیٹھنے والوں پر اور اجرِ عظیم بھی ، فرمایا درجتٍ منہ یہ درجے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لیی جنت میں سو درجے تیار کر رکھے ہیں اور ہر درجے میں اتنا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ فرمایا اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی ومغفرۃً بخشش بھی ہے جو انہیں نصیب ہوگی۔
جہاد میں بعض کوتاہیاں ہوجاتی ہیں۔ کوئی مسلمان غلطی سے مارا جاتا ہے تو اس قسم کی لغزشوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی بخشش حاصل ہوگی و رحمۃً اور اللہ تعالیٰ مجاہدین کو اپنی آغوش رحمت میں جگہ دے گا۔ اس کی مہربانی شامل حال ہوگی۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفت یہ ہے وکان اللہ غفوراً رحیماً ۔ وہ بخشنے والا ہے۔ انسان کا اعتقاد صحیح ہو ، جذبہ اور طلب صادق ہو تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔ وہ ضرور معاف کردے گا اور رحیم ہے ، اس کی مہربانی بڑی وسیع ہے جب کوئی شخص اللہ کے دین ، اس کی کتاب اور نبی کے مشن کو دنیا میں قائم کرنے کے لیے مال و جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی بخشش و رحمت جوش میں آ کر اس کی تمام کوتاہیاں معاف فرما دیتی ہے۔