Ayahs 4:148–152ربط آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض کارگزاریوں کا تذکرہ فرمایا تھا ، خاص طور پر ان کی کفار کے ساتھ دوستی کی مذمت بیان کی گئی تھی اور ساتھ ساتھ مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی تھی کہ وہ کافروں کو کسی صورت میں بھی اپنا دلی دوست نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ منافقوں کا کفار کے ساتھ دوستانہ حصول عزت کے لئے ہوتا ہے ، مگر انہیں کبھی عزت حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ تو ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جسے وہ عزت نہ دینا چاہے اسے دنیا میں کہیں عزت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا عزت کا مالک تو اللہ ہے اور پھر دنیا میں سب سے زیادہ عزت والا اللہ کا رسول ہے اور اس کے بعد کامل الایمان لوگ عزت والے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی سزا کا ذکر فرمایا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے اور وہاں ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ فرمایا جہنم کے عذاب سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ یہ لوگ توبہ کرلیں ، اپنی اصلاح کریں برائیوں کو ترک کردیں کافروں سے میل جول بند کردیں ، اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں اور اپنے اندر اخلاص پیدا کرلیں تو انہیں بھی مومنوں کی معیت حاصل ہوجائیگی۔
اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا لاتسخذوا الکفرین اولیاء من دون المومنین کہ وہ بھی کافروں کے ساتھ دوستانہ نہ رکھیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کافر اور منافق دونوں مومنوں کے ساتھ دلی عداوت رکھتے ہیں۔ لہذا ان کا مسلمانوں کو ایذا پہنچانا بھی بالکل واضح ہے۔ جب ایسی صورت ہوگی تو مومنین بھی کافروں اور منافقوں کا گلہ شکوہ کریں گے۔ اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے اہل اسلام کا تذکرہ پچھلی سورة میں بھی ہوچکا ہے ولسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا یعنی اے ایمان والو ! تم ضرور اہل کتاب اور مشرکوں کی طرف سے تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ پھر وہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس کا علاج بھی بتایا کہ اگر صبر اور تقویٰ سے کام لوگے تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا تو یہاں پر بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر کفار اور منافقین کی طرف سے تمہیں اذیت پہنچے تو ایسی صورت میں تمہیں کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ تکلیف اٹھا کر تمہاری زبان پر گلہ شکوہ آئیگا تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس رد عمل کے کچھ حدود وقیود بیان فرمائے ہیں۔
مکارم اخالق
ارشاد ہوتا ہے لایحب اللہ الجھر بالسوء من القول اللہ تعالیٰ بری بات کے اظہار کو پسند نہیں فرماتا۔ جب کسی شخص کو دوسرے کے خلاف شکایت پیدا ہوتی ہے تو وہ اس کا اظہار دوسرے کے سامنے کرتا ہے۔ اگر یہ شکوہ تکلیف دہندہ کی موجودگی میں کیا جائے تو طعن کہلاتا ہے اور اگر اس کے پس پشت ہو تو غیبت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں صورتوں میں گلہ شکوہ کو ناپسند فرمایا ہے کہ ایک دوسرے کی عیب جوئی کی جائے ، ہاں اپنی تکلیف کے اظہار کی ایک صورت یہ ہے الا من ظلم یعنی جو مظلوم ہے وہ اپنی شکایت دوسرے کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔ مثلا مظلوم اپنی شکایت کسی بااختیار حاکم یا عدالت میں پیش کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ ظالم کی برائی کا بیان ہوگا جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا مگر یہاں پر الا کا استثنا لگاکر اس بات کی اجازت دے دی گئی ہے کہ مظلوم شخص اپنی شکایت حاکم مجاز کے روبرو پیش کرسکتا ہے۔ یہ چیز غیبت یا طعن کی تعریف میں نہیں آئے گی۔ اسی طرح اگر حاکم وقت بھی مظلوم کی بات سننے اور اس کی دادرسی کے لئے تیار نہیں تو مظلوم اپنی شکایت کا اظہار اپنی قوم اور جماعت کے سامنے برملا کرسکتا ہے اس کی بھی اجازت ہوگی۔ لہذا مفسرین اور ممدثین کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بااثر شخصیت برائی کا ارتکاب کرتی ہے اور سمجھانے کے بجھانے پر بھی اس مذموم حرکت سے باز نہیں آتی تو ایسی برائی کو عوام کے سامنے ظاہر کرنا بھی جائز ہے ، وگرنہ عام قانون یہی ہے کہ کسی دشمن کی بھی سرعام برائی نہ کرو خواہ وہ یہودی ، کافر یا منافق ہی کیوں نہ ہو۔ تکلیف اٹھانے کے باوجود اس کے اظہار سے ممانعت مکارم اخلاق کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ فرمایا وکان اللہ سمیعا علیما اللہ تعالیٰ تمہاری شکایات کو سنتا ہے اور جس جس طریقے سے ایذا پہنچائی جاتی ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے وہ ظالم کا خود محاسبہ کرے گا ، تاہم تمہارے لئے قانون یہی ہے کہ کسی کی برائی بیان کرنے سے حتی الامکان گریز کرو۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پہلی آیت ضعفا کے حق میں ہے۔ کہ مظلوم اپنی فریاد متعلقہ فرد یا جماعت کے روبرو پیش کرسکتا ہے۔ البتہ اگلی آیت اصحاب عزیمت کے متعلق ہے کہ وہ حروف شکایت زبان پر نہ لائیں بلکہ صبر و استقامت کے ذریعے مکارم اخلاق کی اعلیٰ مثال قائم کریں۔ یہ تعلیم قرآن پاک میں مختلف مقامات پر دی گئی ہے۔
سورۃ بقرہ میں فرمایا فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدی علیکم جو تم پر زیادتی کرے ، تم بھی اسی قدر زیادتی کرو جس قدر اس نے کی ہے۔ سورة نحل میں فرمایا ولئن صبرتم لھو خیر للصبرین اگر صبر کروگے تو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔ افضل بات یہ ہے کہ کسی کی زیادتی کا اس کے برابر بھی بدل نہ ل۔ اس سے تمہارے درجات بلند ہوں گے ، دنیا میں بھی فائدہ ہوگا ، مگر عاقبت میں تو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ اللہ تعالیی نے صبر اور برداشت کو اعلیٰ درجے کی خصلت فرمایا ہے۔
البتہ تعدی یا زیادتہ کی صورت میں بدلہ لینے کی اجازت ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے المشتبان فعلی البادی مالم یعتد المظلوم جب دو آدمی آپس میں گالی گلوچ ہوتے ہیں تو اس کا سارا وبال ابتدا کرنے والے کے سر پر ہوتا ہے۔ جب تک کہ مظلوم تعدی نہ کرے۔ یعنی اگر مظلوم نے بھی آگے سے زیادتی کی تو وہ بھی مبتدی کی طرح وہ گیا اور ظلم میں دونوں برابر ٹھہرے۔ ایک شخص نے ایک گالی دی اور دوسرے نے دو گالیاں دیں تو دوسرا آدمی ظالم بن گیا ، اسی لئے فرمایا کہ جتنی کوئی زیادتی کرے ، اس کے ساتھ اتنی زیادتی کرنے کی اجازت ہے ، اس سے زیادہ نہیں۔
نیکی کا اجر
پہلی بات تو یہ فرمائی کے اللہ تعالیٰ کو کسی کی برائی کرنا پسند نہیں ، البتہ مظلوم کو شکایت پیش کرنے کی اجازت ہے۔ اب دوسری بات یہ فرمائی ان تبدوا خیرا اگر تم نیکی کو ظاہر کروگے اوتحصوہ یا پوشیدہ رکھو گئے اوتعفوا ھن سوء یا برائی سے درگزر کروگے فان اللہ کان عضوا قدیرا تو اللہ تعالیٰ بہت ہی معاف کرنیوالا اور قدرت رکھنے والا ہے۔ وہ تم پر بہت زیادہ مہربانی فرمائے گا۔
اس دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے تین باتوں کا ذکر کیا ہے۔ پہلی بات نیکی کو ظاہر کرنا ہے۔ نیکی کو سرعام کرنے میں بعض قباحتیں ہیں۔ مثلا اس میں ریاکاری کا عنصر پایا جاتا ہے مگر بعض اوقات ظاہر کرنے میں بھی حکمت ہوتی ہے اور اس سے دوسروں کو ترغیب دلانا مقصود ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اس قسم کی نیکی کا کام کریں یا کوئی اور مصلحت ہوتی ہے ، وگرنہ عام طور پر کھلے عام نیکی کرنے کا مقصد داد وصول کرنا یا اپنی تعریف کروانا ہوتا ہے اور یہی چیز برائی میں داخل ہے ، جب کسی نیکی میں ریاکاری پیدا ہوجائے تو عنداللھ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ دوسری بات یہ بیان کی گئی کہ اگر تم نیکی کو پوشیدہ رکھو گے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔ جیسے صدقہ کے متعلق فرمایا ، اگر چھپا کر دو نعما ھی تو یہ بڑی اچھی بات ہے۔ اگرچہ ظاہری طور پر صدقہ خیرات کرنا بھی جائز ہے تاہم اگر پوشیدہ طور پر مستحق تک پہنچا دیا جائے تو ریاکاری نہیں رہتی اور یہ ایک بہتر صورت ہے۔
برائی سے درگزر
اس آیت کریمہ میں تیسری چیز برائی سے درگزر کی تعلیم ہے۔ کسی نے قول یا فعل سے تمہاری برائی کی ہے ، اگر تم اسے معاف کردو تو یہ اعلیٰ درجے کی اخلاقی تعلیم ہے اور اگر یہ جذبہ پیدا ہوگیا تو پھر اللہ تعالیٰ خوش ہو کر تمہاری لغزشوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ کسی نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے اور تم نے انتقام لینے کی بجائے کسی سے ذکر تک نہیں بلکہ اس پر صبر کرکے خاموشی اختیار کرلی ہے تو یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے ، ایذرسائی انسان پر شاق گزرتی ہے۔ اس کے باوجود اگر انسان اس پر صبر و استقامت کا دامن تھام لے اور برائی کرنے والے کی برائی کو جواب نہ دے تو اس کے اعلیٰ مرتبت انسان ہونے کی دلیل ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ اگر تم برائی کا بدلہ نیکی کے ساتھ دوگے تو اس سے دشمن کا دل بھی نرم ہوجائے گا اور ہوسکتا ہے کہ تمہارے درمیان عداوت کی جگہ محبت پیدا ہوجائے۔ البتہ فرمایا کہ یہ کام ہر آدمی نہیں کرسکتا بلکہ وہ لوگ کرسکتے ہیں من عزم الامور جو پختہ عزم رکھتے ہیں۔ درگزر کرنا اور معاف کردینا صاحب عزت لوگوں کا کام ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ قانون کے طور پر بتا دیا ہے کہ کسی کی برائی نہ کرو حتی کہ کافروں کے مقابلے میں صبر سے کام لو ، کسی فرد یا جماعت کی غیبت نہ کرو۔ اگر کوئی مشرک دہریہ یا کوئی غیرمذہب بھی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو تم اس کی برائی بھی لوگوں کے سامنے بیان نہ کرو۔ مسلمان کی تربیت کا یہ اعلیٰ اصول ہے کہ اگر برائی کا جواب برائی سے دیا تو کچھ نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے معافی والے قانون کو ہی پسند فرمایا ہے۔ صرف کمزوروں کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی شکایت پیش کرسکتے ہیں کیونکہ ان میں قوت برداشت نسبتا کم ہوتی ہے۔
تفریق بین الرسل
آگے اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کی ایک اور ہماری تفریق بین الرسل کا ذکر فرمایا ارشاد ہے۔ ان الذین یکفرون باللہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کا انکار کرتے ہیں اسکی وحدانیت اور توحید کو نہیں مانتے ورسلہ اور اللہ کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں۔ ویہیدون ان یفرقوابین اللہ ورسلہ اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا چاہتے ہیں۔ یہ تفریق ایمان لانے کے اعتبار سے ہے کہ کچھ رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ پر نہیں لاتے۔ یہود و نصاریٰ یہی کہتے تھے ویقولون نومن بعض ونکفر بعض ہم بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء و رسل پر ایمان لانا ضروری ہے اور کسی ایک کا انکار بھی مکمل انکار کے برابر ہے۔ عیسائی حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخرالزمان دونوں کا انکار کرتے ہیں۔ یہی تفریق بین الرسل ہے اور اس کا مرتکب کافر ہے۔
یہود و نصاریٰ کے علاوہ بعض پہلی امتوں کے لوگ بھی اپنے انبیاء کا انکارت کرتے رہے۔ اس کی گواہی قرآن پاک نے متعدد مقامات پر دی ہے۔ کذبت عاد المرسلین قوم عاد نے رسولوں کا انکار کردیا۔ اسی طرح فرمایا کذبت قوم لوط المرسلین قوم لوط نے بھی رسولوں کا انکار کیا ، اسی طرح بہت سی دیگر قوموں کا بھی ذکر ملتا ہے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو ماننے سے انکار کردیا ، یہی تفریق بین الرسل ہے اور کسی ایک کا جھٹلانا سب کے جھٹلانے کے مترادف ہے کیونکہ سارے انبیاء کا دین عقیدہ اور مشن ایک ہی ہے۔
فرمایا ویریدون ان یتخذوا بین ذلک سبیلا اور یہ لوگ بعض رسولوں کو مان کر اور بعض کا انکار کرکے درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ یہی چیز ایمان کے منافی ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک ھم الکفرون حقا یہ لوگ پکے کافر ہیں۔ ان کے کفر میں کوئی شبہ نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق پیدا کی ہے۔ شاہ ولی اللہ نے اس مسئلہ کو اس طرح سمجھایا ہے کہ ارسال رسل اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور کسی ایک یا زیادہ رسولوں کا انکار خدا تعالیٰ کی صفت کا انکار ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کا انکار کرے وہ کافروں اور دہریوں میں شامل ہوجاتا ہے اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ پکے کافر ہیں واعتدنا للکفرین عذابا مھینا اور ہم نے کفار کے لئے ذلت ناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ خدا کے ہاں انہیں سخت سزا ملنے والی ہے۔
اہل ایمان کا بدلہ
کفار کی مذمت بیان کرنے کے بعد پھر ایمان لانے والوں کے اجر کا ذکر بھی کیا والذین امنوا باللہ ورسلہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے یعنی وہ تمام رسول جن کے نام سے ہم واقف ہیں یا نہیں ہیں سب پر ایمان لائے۔ اسی سورة میں آگے آرہا ہے کہ ہم نے خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ اور یہ بھی فرمایا رسلا قدقصمنھم علیک من قبل ہم نے بعض رسولوں کا ذکر آپ سے کیا ہے ورسلا لم نقصصھم علیک اور بعض کا تذکرہ نہیں کیا ، بہرحال تمام رسولوں کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اور جو کچھ نبیوں کو دیا گیا ہے اس پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ ولم یغرقوا بین احد منھم اور انہوں نے تفریق نہیں کی ان میں سے کسی ایک کے درمیان فرمایا جو لوگ اس ایمان میں پختہ ہوجائیں گے اولئک سوف یوتیھم اجورھم اللہ تعالیٰ ان کو ان کا صحیح صحیح بدلہ دے گا۔ فرمایا وکان اللہ غفورا رحیما اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اہل ایمان سے جو چھوٹی موٹی لغزشیں ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی رحمت سے معاف فرمادے گا کیونکہ وہ اپنے بندوں پر نہایت ہی مہربان ہے۔
Ayahs 4:153–155ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے نبیوں اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے والوں کو مذمت بیان فرمائی اور واضح کیا کہ اللہ کے بعض نبیوں پر ایمان لانا اور بعض پر نہ لانا خالص کفر ہے کیونکہ کسی ایک نبی کا انکار بھی پورے گروہ انبیاء کے انکار کے مترادف ہے۔ مشرکین تو انبیاء کو ویسے ہی نہیں مانتے ، وہ تو مطلقا انکار کی وجہ سے کافر ہیں ، انہوں نے توحید کا بھی انکار کیا اور خود خاتم النبین ﷺ کا بھی انکار کرگئے ، البتہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعتقادی منافقوں کا ذکر کیا ہے جو بظاہر زبان سے تو توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر ان کے دل اسی طرح کفر سے بھرے ہوئے ہیں ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے منافقین کا تذکرہ کرکے انہیں برے انجام سے خبردار کیا ہے۔
نزول کتاب کا مطالبہ
مدینہ طیبہ میں یہودیوں کی اکثریت تھی اور وہی تفریق بین الرسل کے مرتکب ہوتے تھے ، انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد نہ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم کای اور نہ پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ چناچہ ان میں سے بعض متعصب یہودی حضور نبی کریم (علیہ السلام) سے بعض بیہودہ قسم کے سوال بھی کرتے تھے۔ ان میں کعب بن اشرف پیش پیش ہوتا تھا۔ یہ شخص مدینے کے قریب ایک گڑھی میں رہتا تھا ، اس کا اپنا قلعہ تھا ، بڑا ظالم اور سود خور تھا تو اس نے یہودیوں کی ایک جماعت کے ساتھ حضور ﷺ سے سوال کیا تھا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یسئلک اھل الکتب اہل کتاب آپ سے سوال کرتے ہیں ان تنزل علیھم کتبا من السماء کہ آپ ان پر آسمان سے لکھی ہوئی کتاب نازل کریں۔ یہودیوں کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ قرآن پاک کے سبقا سبقا نزول پر ایمان نہیں رکھتے بلکہ وہ اسے اللہ کی کتاب اس وقت تسلیم کریں گے جب کہ یہ پوری کی پوری تحریری صورت میں آسمان سے نازل ہو ، اپنے اس مطالبے کی حمایت میں وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال پیش کرتے تھے کہ آپ نے کوہ طور پر اعتکاف کیا ، روزے رکھے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر تختیوں پر لکھی ہوئی تورات نازل فرمائی تورات کے علاوہ دیگر صحائف کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر صحیفہ وقت کے نبی پر مکمل صورت میں نازل ہوا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) ، ابرایہ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کے صحائف کا اسی طرح ذکر ملتا ہے۔ چناچہ انہوں نے حضور ﷺ سے بھی یہی مطالبہ کیا کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں تو آپ پر قرآن پاک مکمل اور یکبارگی نازل ہونا چاہئے۔
یہودیوں کا یہ اعتراض محض ضد اور دشمنی کی وجہ سے تھا۔ ان کا خیال تھا کہ حضور ﷺ ہمارے سوال کا جواب ہماری تسلی کے مطابق نہیں دے سکیں گے ، اس لئے ہمیں آپ کے انکار کا جواز مل جائیگا اور ایمان لانے سے بچ جائیں گے۔
سورۃ نبی اسرائیل میں موجود ہے کہ مشرکین مکہ نے بھی نبی (علیہ السلام) سے اسی قسم کے سوال کئے۔ انہوں نے چشموں اور باغات کا مطالبہ ، آسمان پر چڑھ جانے کا مطالبہ اور اللہ اور فرشتے ان کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا حتی کہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمہارے لئے سونے کا گھر ہونا چاہئے اور یہ کہ آپ آسمان پر چڑھ جائین۔ ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقروہ۔ ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ آپ آسمان سے کتاب نہ لے آئیں جسے ہم خود پڑھیں۔ وہ لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ آپ دعویٰ کرتے ہیں آپ پر وحی نازل ہوتی ہے ، یہ وحی یا کتاب ہم پر کیوں نہیں نازل ہوتی۔ اگر ہم پر کوئی فرشتہ اترے تو اس کی بات سن کر ہم آپ کی تصدیق کردیں گے۔ بہرحال مدینے کے یہودیوں نے آپ پر اس قسم کے بیہودہ سوال کئے تاکہ نہ آپ ان کا جواب دے سکیں اور نہ وہ آپ پر ایمان لائیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہودیوں کے اس سوال کے جواب میں تسلی دی ہے کہ ان کا اعتراض ضد اور ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔ اگر کسی شخص کو کوئی غلط فہمی ہو یا وہ واقعی کسی چیز کو سمجھنا چاہے تو اسے مطلوبہ تعلیم دی جاسکتی ہے مگر جس شخص کا سوال ہی بربنائے عناد ہو وہ کبھی ایمان نہیں لاسکتا ، وہ ہر بات کے جواب میں مزید اعتراضات کرتا چلا جائیگا ، اس لئے اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ آپ سے کتاب کا مطالبہ کرتے ہیں مگر سوال کرنا تو ان کی عادت قدیمہ ہے۔ فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے تھے۔ یہ لوگ اپنی عادت سے مجبور ہیں۔ ان کی ذہنیت ہی بگڑ چکی ہے۔
روئیت الٰہی کا مطالبہ
فرمایا یہودیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے بڑا سوال یہ کیا تھا فقالوا ارنا اللہ جھرۃ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سامنے دکھا دے ، اس کے بغیر ہم ایمان کے لئے تیار نہیں۔ یہ بڑی گستاخی کی بات تھی۔ یہ بدبخت اپنے آپ کو اس قابل سمجھتے تھے کہ اس مادی دنیا میں ان آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکتے ہیں۔ حالانکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوسکتا ، خود موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی جب اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا رب ارنی انظر الیک اے اللہ ! میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہی جواب دیا تھا لن ترنی کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ فرمایا کہ اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ پر قائم رہ سکا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر اللہ کے حضور توبہ کی۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی اس ضمن میں یہ ہے۔ انکم لن تروا ربکم حتی تموتوا یعنی تم گرنے سے پہلے اپنے رب تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے۔ جب یہ دنیا ختم ہوجائے گی ، نیا جہان پیدا ہوگا ، نئی قوتیں اور صلاحیتیں پیدا ہونگی تو وہاں عالم قدس میں اللہ تعالیٰ آنکھوں کو وہ قوت عطا کردیگا جن سے وہ دیدار الٰہی کرسکیں۔ چناچہ تمام اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ جنت میں پہنچنے والے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی رویت نصیب ہوگی۔ اس مسئلہ میں صرف رافضی اور معتزلہ وغیرہ دیدار الٰہی کا انکار کرتے ہیں ، باقی سب متفق ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے پیغمرب (علیہ السلام) ! آپ سے تو یہ صرف کتاب لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ، یہ بدبخت موسیٰ (علیہ السلام) سے دیدار الٰہی کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں اور پھر اس مطالبے کے جواب میں فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ان کی اس زیادتی یعنی بیہودہ سوال کی وجہ سے ان پر بجلی گری۔ وہ سب مر گئے۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ نے انہیں دوبارہ زندگی بخشی۔
بچھڑے کی پوجا
فرمایا پھر یہودیوں نے ایک اور قبیح کام کیا۔ ئم اتخذوا العجل من بعد ماجاء تھم البینت انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھنے کے باوجود بچھڑے کی پوجا کی۔ فعفونا عن ذلک پھر ہم نے ان کا یہ جرم بھی معاف کردیا۔ ان کی توبہ اس شرط کے ساتھ قبول ہوئی فاقتلوا انفسکم کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔ چناچہ بچھڑے کی پوجا کرنے والے گنہگاروں کو بےگناہ لوگوں نے قتل کیا اور پھر واتینا موسیٰ سلطنا مبینا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلا غلبہ عطا کیا۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے بچھڑے کو توڑ پھوڑ کر جلا دیا اور جیسا کہ دوسری سورة میں موجود ہے راکھ کا کچھ حصہ پانی میں بہا دیا اور کچھ حصہ ہوا میں اڑا دیا۔ بچھڑا چونکہ شرک کا شعار تھا اسے مکمل طور پر نیست و نابود کردیا گیا اور اس کے 70000 ستر ہزار پجاریوں کو بھی قتل کردیا گیا۔
ارتفاقع طعر
یہودی تاریخ کے ایک اہم واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ ورفعنا فوقھم الطور بمیناقھم ان سے عہد لیتے وقت ہم نے طور پہاڑ ان کے سروں پر معلق کردیا تھا۔ بعض جدید مفسر رفعنا کی غلط تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہاڑ کو اٹھا کر بنی اسرائیل کے سروں پر نہیں کھڑا کیا گیا تھا بلکہ ان لوگوں کو پہاڑ کے دامن میں اس طرح کھڑا کیا تھا کہ پہاڑ کا کچھ حصہ ان پر جھکا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہے۔ سورة اعراف میں آتا ہے۔ واذ ننقنا الجبل فوقھم جب ہم نے پہاڑ ان کے سروں پر لا کھڑا کیا۔ نتق کا معنی اکھاڑنا ہے اور مطلب صاف ظاہر ہے کہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے اکھاڑ کر بنی اسرائیل کے اوپر معلق کردیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ اگر نہیں مانتے تو یہ پہاڑ تمہارے اوپر گرادیا جائے گا اور تم چکنا چور ہوجائوگے۔
اس مقام پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ دین میں جبر تو روا نہیں۔ اللہ کا حکم واضح ہے لا اکماہ فی الدین مگر یہودیوں کو پہاڑ کے خوف سے زبردستی منایا گیا۔ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل کو فرعون سے آزادی ملی اور صحرائے سینا میں پہنچے تو انہوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ ہمارے لئے کوئی قانون کی کتاب لائیں جس پر ہم عمل کریں جو اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی۔ تورات کا معنی ہی قانون (LAW) ہے جب کتاب آگئی تو کہنے لگے اس کے احکام بڑے مشکل ہیں ، ہم ان کی تعمیل نہیں کرسکیں گے۔ لہذا اللہ نے ان سے عہد لیا تھا خذوا ما اتینکم بقوۃ جو احکام ہم نے دیئے ہیں انہیں مضبوطی سے پکڑو واذکروا مافیہ اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ ان احکام پر عمل کرو۔ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خوفزدہ اس لئے کیا تھا کہ ایک چیز انہوں نے خود مانگ کرلی ہے اور اب اس پر عمل کرنے سے اعتراض کر رہے ہیں۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ لا اکراہ فی الدین کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو دین قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ کسی شخص کو جبراً اسلام میں داخل نہیں کیا جاسکتا ، ہاں تبلیغ کرو ، اگر کوئی مان جاتا ہے تو ٹھیک ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فیکفر جس کا دل چاہے ایمان لائے اور نہ چاہے تو کفر پر اڑا رہے۔ اسے اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کفر کرے گا تو اللہ تعالیٰ کے ہاں سزا کا مستحق ہوگا ، بہرحال اسے زبردستی مسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ البتہ اگر اسلام لانے کے بعد کوئی شخص اس کے احکام کی خلاف ورزی کریگا تو وہ جبر کا مستحق ہوگا۔ اس پر حد جاری ہوگی یا تعزیر لگے گی بہرحال دین میں لانے کے لئے جبر نہیں بلکہ دین کا قانون توڑنے پر ضرور جبر ہے۔
سجدہ سے انکار
فرمایا دیکھو ! یہ کیسے بدعہد اور بدلینت لوگ ہیں وقلنا لھم ادخلوا الباب مسجدا ہم نے ان سے کہا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا مگر انہوں نے اس حکم کی بھی خلاف ورزی کی۔ جب یہودیوں نے کہا ، لن نصبر علی طعام واحد ہم ایک ہی کھانے یعنی من وسلویٰ پر صبر نہیں کرسکتے لہذا ہمارے لئے اپنے رب سے سبزیاں ، پیاز اور دال وغیرہ کا مطالبہ کیجئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا پر اللہ نے فرمایا کہ انہیں کہو کہ اس بستی (اریحا) میں داخل ہوجائو ، وہاں تمہیں مطلوبہ اشیاء حاصل ہوجائیں گی۔ البتہ یہ ہے کہ شہر میں داخل ہوتے وقت دو رکعت نفل ادا کرنا۔ مفسرین نے سجدا کے دو معنی بیان کیے ہیں یعنی جھک کر یا سجدہ کرکے مگر یہ ایسے بدطینت لوگ ہیں کہ اللہ کے حکم کے خلاف جھکنے کی بجائے اکڑ کر داخل ہوئے۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ چتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے تاکہ جھکنا نہ پڑے۔
سبت کی بےحرمتی
اللہ نے یہ بھی فرمایا وقلنا الھم لاتعدوا فی السبت ہم نے انہیں کہا کہ دیکھو ! ہفتے کے دن تجاوز نہ کرنا ، انہیں حکم تھا کہ اس روز صرف عبادت کرنی ہے ، کوئی کاروبار ، تجارت ، شکار وغیرہ بالکل نہیں کرنا ، حتی کہ چولہے بھی نہیں جلانا مگر انہوں نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں وہ تجاوز شروع کردیا جس کا ذکر سورة اعراف میں موجود ہے۔ واسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر دریا کے کنارے اس بستی کا حال دیکھو کہ انہوں نے اللہ کے قانون کو توڑا تو پھر انہیں کیسی سزا ملی۔ ان کا کردار یہ تھا کہ ہفتے کے دن مچھلیوں کا شکار تو نہیں کرتے تھے مگر انہیں حوض میں بن کرلیتے تھے اور پھر اگلے دن جمع شدہ تمام مچھلیاں پکڑ لیتے تھے۔ بعض لوگ انہیں ایسا کرنے سے منع کرتے تھے مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے لاترکبوا ما ارتکبت الیھود تم اس جرم کا ارتکاب نہ کرنا جس کا یہودیوں نے کیا تھا۔ فتستحلوا خارم اللہ بادنی الحیل کہ حیلے بہانے سے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بناتے پھرو ، آپ نے یہ بھی فرمایا لعن اللہ الیھود یہود پر اللہ کی لعنت ہو کہ ان پر حلال جانور کی چربی بھی حرام تھی مگر وہ لوگ اسے فروخت کرکے رقم کھا جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم حکم الٰہی کی تعمیل میں چربی نہیں کھاتے ھالان کہ جو چیز بنفسہ حرام تھی اس کی قیمت بھی حرام تھی مگر انہوں نے حیلے بہانے سے حرام کو حلال بنالیا مچھلی کے شکار کے متعلق بھی انہوں نے ایسا ہی حیلہ کیا ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کا عذاب آیا اور ان کی شکلیں مسخ ہوگئیں۔ کچھ بندر بن گئے اور کچھ خنزیر۔ اللہ نے فرمایا یہ ایسی سزا تھی جو نکالا لما بین یدیھا وما خلقنا موجود اور آئندہ آنے والے لوگوں کے لئے عبرت تھی۔
دلوں پر مہر
فرمایا واخذنا منھم میثاقا غلیظا ہم نے ان سے پختہ عہد لیا تھا کہ وہ اللہ کے احکام کی پابندی کریں گے۔ فبما نقضھم میثاقھم مگر اس عہد کو توڑ دینے کی وجہ سے وکفرھم بایت اللہ اور ان کے اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے وقتلھم الانبیاء بغیر حق اور اللہ کے نبیوں کے ناحق قتل کی وجہ سے وقولھم قلوبنا غلف اور ان کے اس قول کی بنا پر کہ ان کے دل بند ہوچکے ہیں اور اب ان میں کوئی چیز داخل نہیں ہوسکتی۔ فرمایا یہودیوں کی ان تمام حرکات کی وجہ سے نہیں۔ بل طبع اللہ علیھا بکفرھم بلکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں۔ نافرمانیاں کر کر کے ان کے دل سیاہ ہوچکے ہیں۔ ان پر زنگ چڑھ چکا ہے اور اب ان میں کوئی چیز نہیں اتر سکتی۔ وہ من مانی کرتے ہیں ، برائی کو برائی نہیں سمجھتے۔ لہذا ختم اللہ علی قلوبھم اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگادی ہے۔ یہ کفر میں راسخ ہوچکے ہیں اور راہ راست پر آنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے فلا یومنون الا قلیلا ان کی ایک قلیل تعداد ایمان لاتی ہے اور اکثریت کفر پر ہی قائم رہتی ہے۔ چناچہ مدینے کے اطراف میں آباد یہودیوں کے دس بڑے عالموں میں سے صرف حضرت عبداللہ بن سلام ؓ ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے باقی سب بےایمان ہی رہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، اگر یہ دس علمائے یہود ایمان لے آتے تو دنیا میں کوئی یہودی باقی نہ رہتا۔ مگر یہ لوگ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود ویسے کے ویسے ہی عنادی ہیں۔ قرآن کو اللہ کی کتاب نہیں مانتے اور نبی آخرالزمان کو نبی تسلیم نہیں کرتے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ آپ سے طرح طرح کے مطالبات کرتے ہیں ، آپ گھبرائیں نہیں ، اس سے پہلے یہ موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے مطالبات کرچکے ہیں۔ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے اور اب ان کی اکثریت ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتی۔
Ayahs 4:156–159گزشتہ آیات میں اہل کتاب کے عناد کا ذکر تھا ، اللہ نے ان کے اعتراض کو بیان فرمایا ، خصوصا یہودی کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے تو پھر یہ بیک وقت لکھی لکھائی آسمان سے کیوں نازل نہیں ہوتی۔ جس طرح کہ تورات موسیٰ (علیہ السلام) پر تختیوں کی صورت میں نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان کی بعض قباحتوں کا تذکرہ فرمایا تھا اور حضور ﷺ کو بایں الفاظ تسلی دی تھی کہ یہ عنادی لوگ ہیں ، انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کئے ، لہذا آپ دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ صبر کریں۔ آج کے درس کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دیگر خرابیوں کا ذکر کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ ان کی انہی خرابیوں کی وجہ سے یہ لوگ مستحق لعنت ٹھہرے ہیں۔ ان قباحتوں کے تذکرے کے بعد پھر آگے ان کے اصل سوال کا جواب آئے گا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک یکبارگی کیوں نہیں نازل فرمایا۔
حضرت مریم ؓ پر بہتان
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی یہ قباحت بیان فرمائی ہے۔ وبکفرھم اور ان کے کفر کی وجہ سے۔ اس کفر کا تذکرہ گزشتہ آیات میں ہوچکا ہے کہ یہودیوں نے بچھڑے کی پوجا کی ، نزول کتاب کا مطالبہ کیا ، رویت الٰہی کی خواہش ظاہر کی ، سجدے کا حکم ہوا تو اکڑ گئے ، ہفتے کے دن تعدی کی اور انبیاء کو ناحق قتل کیا یہ سب کفر کی باتیں تھیں تو فرمایا ان کے کفر کی وجہ سے وقولھم علی مریم بھتانا عظیما اور ان کے اس قول کی وجہ سے جس کے ذریعے انہوں نے حضرت مریم پر عظیم افترا باندھا ، حضرت مریم تو اللہ کی مقبول بندی اور صدیقہ تھیں جب وہ بچہ گود میں لئے آئیں تو کہنے لگے یمریم لقد جنت شیئا فریا تو یہ بری چیز کہاں سے لے آئی ہے انہوں نے حضرت مریم پر زنا کا الزام لگاتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولدالزنا قرار دیا۔ حالانکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اللہ جل شانہ نے اپنے بندے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا فرمایا اور نبوت کا تاج ان کے سر پر رکھا۔ فرمایا ان سب خباثتوں کی وجہ سے ہم نے اہل کتاب کو لعنت کا مستحق ٹھہرایا۔
قتل انبیاء
فرمایا وقولھم ان کی اس بات کی وجہ سے کہ انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم ہم نے مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا یا رسول اللہ جو اللہ کا رسول کہلاتا تھا۔ یہودی حضرت مسیح کو خود تو اللہ کا رسول نہیں مانتے تھے۔ اس لئے وہ کہتے تھے کہ ہم نے اس مسیح کو قتل کردیا ہے جو اللہ کا رسول کہلاتا ہے۔ ان بدبختوں کا حال تو یہ ہے کہ جن کو اللہ کا رسول مانتے تھے ان کو بھی قتل کیا ، جیسے پہلے گزرچکا وقتلھم الانبیاء بغیر حق انہوں نے اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کیا۔ قتل انبیا تو بہت ہی بری خصلت ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مغضوب ترین شخص وہ ہے جس کو اللہ کا نبی قتل کرتا ہے یا جو اللہ کے نبی کو قتل کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا نبی اسی بدبخت کو قتل کرتا ہے جو نہایت ہی سرکش ہو اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کے نبی کو قتل کرتا ہے۔ اسی لئے انبیاء کے ناحق قتل کو بہت بڑا جرم قرار دیا گیا۔
قتل مسیح
بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے لغوعقیدہ قتل مسیح کا رد کرتے ہوئے رفمایا وما قتلوہ وما صلبوہ حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں نے نہ تو مسیح (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی دی ولکن شبہ لھم بلکہ ان کے لئے بات مشتبہ کردی گئی۔ انہوں نے اشتباہ میں پڑ کر غلط عقیدہ قائم کرلیا و ان الذین اختلفوا فیہ اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا لفی شک منہ وہ شک اور تردد میں پڑے ہوئے ہیں۔ ان پر حقیقت حال واضح نہیں ہوسکی مالھم بہ من علمٍ انہیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں الا اتباع الظن سوائے گمان کی پیروی کرنے کے۔ یعنی وہ تو محض اپنے گمان سے اٹکل پچو باتوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ، اصل حقیقت سے ہرگز واقف نہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاکیزہ بندے کو ان کے گندے ہاتھوں سے کیسے محفوظ کھا۔ اس کا ذکر سورة آل عمران میں بھی آ چکا ہے ” اذ قال اللہ یعیسی انی متوفیک ورافع الی ومطہرک من الذین کفروا یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اس دنیا کی مدت پوری کرنے کے بعد تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کفار کی صحبت سے پاک کر دوں گا۔ ان کے ناپاک ہاتھ تم تک نہیں پہنچیں گے چناچہ ایسا ہی ہوا ” ومکروا و مکر اللہ “ یہودیوں نے آپ کو قتل کرنے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو محفوظ رکھنے کا منصوبہ بنایا اور پھر ” واللہ خیر الماکرین “ کے مصداق اللہ کی تدبیر ہی کامیاب ہوئی۔ یہودی عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ قتل کرسکے اور نہ سولی پر چڑھا سکے اور ان کے منصوبے خاک میں مل گئے۔ فرمایا اب یہ اپنے گمان کی پیروی میں لایعنی باتیں کرتے ہیں۔ وما قتلوہ یقینا یہ یقینی بات ہے کہ یہودی مسیح (علیہ السلام) کو قتل نہ کرسکے۔ وما قتلوہ یقینا یہ یقینی بات ہے کہ یہودی مسیح (علیہ السلام) کو قتل نہ کرسکے۔ بل رفعہ اللہ الیہ برخلاف اس کے اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنی طرف یعنی آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ وکان اللہ عزیزاً حکیماً اور اللہ تعالیٰ عزیز ہے۔ وہ کمال قدرت کا مالک ہے اور حکیم ہے کہ کمال حکمت کا مالک بھی وہی ہے۔
رفع مسیح پہلی روایت
ہمارے مفسرین میں سے عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد امام ضحاک (رح) کا بیان تفسیروں میں موجود ہے جسے آپ حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہودی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے دشمن تھے ، کیونکہ وہ ان کے تعصب ، ضد اور ہٹ دھرمی کا رد کرتے تھے۔ ان کے علما نے شریعت کو بگاڑ دیا تھا اور اخلاقی لحاظ سے نہایت پست ہوچکے تھے۔ جوں جوں مسیح (علیہ السلام) اللہ کے حکم سے صحیح دین کی تبلیغ کرتے توں توں یہودی آپ کے جانی دشمن بنتے چلے گئے۔ انجیل میں موجود ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) یہودیوں کی غلط باتیں دیکھ کر برداشت نہ کرتے اور سخت الفاظ میں ان کی تردید کرتے۔ یہودیوں کے علما اور پیر غلط ملط تاویلوں کے ذریعے اپنے غلط عقائد کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے مگر اللہ کا نبی عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی تمام کرتوتوں کو ظاہر کردیتا چناچہ یہودیوں نے فیصلہ کیا کہ مسیح (علیہ السلام) کو زندہ نہیں چھوڑیں گے اور اس کام کے لیے حکومت کی امداد حاصل کریں گے۔
اس زمانے میں شام و فلسطین رومیوں کے زیرنگیں تھے اور رومیوں کا گورنر اس علاقے میں تعینات تھا ، جو وہاں کے معاملات نمٹاتا تھا۔ یہ بالکل اسی طرح کا انتظام تھا جس طرح انگریزوں کی حکومت کے زمانے میں ہندوستان میں انگریزوں کا وائسرائے یا نائب رہتا تھا۔ تو یہودی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو حکومت وقت کی معرفت قتل کروانا چاہتے تھے اس واقعہ سے کچھ عرصہ پہلے یہ لوگ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کو بھی قتل کرچکے تھے۔ اور اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیچھے پڑے ہوئے تھے چناچہ منصوبہ کے تحت چار ہزاریہودیوں نے اس مکان کا محاصرہ کرلیا جس میں مسیح (علیہ السلام) اپنے حواریوں سمیت مقیم تھے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس محاصرہ کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ یہ لوگ میری جان کے درپے ہیں ، تم میں سے کون آدمی ہے جو میری جگہ باہر نکل کر قتل ہوجائے ، ایسا شخص جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ اس پر ایک حواری نے لبیک کہا۔ مسیح (علیہ السلام) نے اپنی پگڑی اور کرتہ اسے پہنایا ، اللہ تعالیٰ نے اس شخص پر مسیح (علیہ السلام) کی شبیہ بھی ڈال دی ، وہ شخص باہر نکلا تو یہودیوں نے اسے مسیح سمجھ کر سولی پر چڑھا دیا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اس مکان کے روزن سے فرشتوں کے ذریعے آسمان پر اٹھا لیا۔
دوسری روایت
دوسری روایت یہ ہے کہ محاصرین نے اپنے میں سے ایک آدمی کو اس مکان کے اندر بھیجا جس میں مسیح (علیہ السلام) مقیم تھے تاکہ آپ کو گرفتار کیا جاسکے۔ جب یہ شخص مکان میں پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر مسیح (علیہ السلام) کی شبیہ ڈال دی اور اس کی شکل و صورت بالکل عیسیٰ (علیہ السلام) جیسی ہوگئی۔ اللہ نے مسیح (علیہ السلام) کو تو آسمان کی طرف اٹھا لیا ، مگر جب وہ جاسوس باہر نکلا تو محاصرین نے اسے مسیح سمجھ کر پکڑ لیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ اس کے باوجود ان لوگوں کو تسلی نہ ہوئی۔ اور ولکن شبد لہم کے مطابق وہ اس شبہ میں مبتلا ہوگئے کہ مسیح (علیہ السلام) کو تو ہم نے قتل کردیا ، مگر ہمارا وہ آدمی کہاں گیا جسے پتہ کرنے کے لیے ہم نے مکان کے اندر بھیجا تھا۔ اور اگر ہم نے اپنے ہی آدمی کو مسیح کے شبہ میں قتل کردیا تو پھر مسیح (علیہ السلام) کہاں گئے۔ بہرحال وہ تردد میں پڑگئے اور آج تک پڑے ہوئے ہیں۔ بعض کو اس قدر شبہ ہوگیا کہ وہ کہتے کہ جس شخص کو ہم نے سولی پر چڑھایا ہے ، اس کی شکل و صورت تو مسیح جیسی تھی اور باقی جسم ان کے مشابہ نہیں تھا۔
تیسری روایت
تیسری روایت اناجیل کے بیان پر مشتمل ہے۔ مؤرخین نے انسائیکلو پیڈیا آف رلیجنز (Encyclopaedia of Religions) میں لکھا ہے کہ جب مسیح (علیہ السلام) کے خلاف شورو غوغا بہت بڑھ گیا تو رومی وائسرائے نے اپنے مرکز کو لکھا کہ یہاں کے لوگ ایک بےگناہ کے سخت خلاف ہوگئے ہیں ، مجھے ان حالات میں کیا کرنا چاہیے۔ وہاں سے حکم آیا کہ ایسے شخص کو کچھ نہ کہا جائے۔ وائسرائے نے دوبارہ مرکز سے رابطہ قائم کی ، تو پھر وہی جواب آیا۔ اس اثنا میں مخالفت حد سے بڑھ گئی اور بغاوت کا خطرہ پیدا ہوگیا۔ تو مقامی حاکم نے تیسری دفعہ اپنی حکومت کو لکھا کہ اب تو حالات قابو سے باہر ہو رہے ہیں۔ اس پر ہیڈ کو ارٹر سے یہ حکم آیا کہ شورش کو ختم کرو۔ خواہ اس شخص کو قتل کرنا پڑے۔ چناچہ مسیح (علیہ السلام) کو گرفتار کرلیا گیا۔ اور پھر ان کے لیے سزائے موت کا حکم ہوا۔ اس زمانے میں رواج یہ تھا کہ سولی پانے والے شخص کو سولی کا شہتیر خود اٹھا کر سولی کے مقام تک پہنچانا ہوتا تھا چناچہ یہ وزنی شہتیر حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اٹھوایا گیا۔ ان کے سر پر کانٹوں کا تاج رکھا گیا اور (العیاذ باللہ) آپ کے منہ پر تھوکا گیا۔ لوگوں کا جم غفیر اور رومی پولیس آپ کے ہمراہ چل رہی تھی۔ بھاری شہتیر کا اٹھانا مسیح (علیہ السلام) کی طاقت سے باہر ہو رہا تھا چناچہ یہ شہتیر ایک شخص شمعون قرینی کے کندھے پر رکھ دیا گیا تاکہ سولی کے مقام تک پہنچایا جاسکے۔ اس دوران میں رومی پولیس کے آدمیوں کی ڈیوٹی بدل گئی اور نئی نفری آگئی۔ نئی پولیس نے رواج کے مطابق سولی اٹھانے والے شخص کو ہی مجرم سمجھا اور اسے سولی پر لٹکادیا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بچانا تھا ، وہ ہجوم میں ادھر ادھر ہوگئے۔ روایت ہے کہ اس دوران شمعون کی شکل و صورت بھی حضرت مسیح جیسی اللہ نے بنا دی ، جس کی وجہ سے شمعون کو سزائے موت دے دی گئی۔ اور مسیح (علیہ السلام) کو اللہ نے بچا لیا۔ روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ اس دن جمعہ کا دن تھا۔ آگے ہفتہ یہودیوں کی تعطیل کا دن آ رہا تھا ، جس دن انہیں کوئی کام نہ کرنے کا حکم تھا۔ لہٰذا انہوں نے کوشش کی کہ مسیح (علیہ السلام) کام آج ہی تمام کردیا جائے تاکہ پھر اتوار تک انتظار نہ کرنا پڑا۔ یہ افراتفری بھی مسیح (علیہ السلام) کو بچانے اور شمعون قرینی کو سولی پر لٹکانے کا باعث بنی۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہودی نہ تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرسکے اور نہ انہیں سولی پر لٹکا سکے ، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔
دیگر نظریات
اس ضمن میں قادیانیوں نے ایک نیا نظریہ قائم کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ قرآن پاک کے بیان کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ تو قتل کیا گیا اور نہ سولی پر لٹکایا گیا ، بلکہ آپ طبعی موت مرے اور آپ کی روح کو اوپر اٹھا لیا گیا۔ اس طرح اس گروہ نے قرب قیامت میں نزول مسیح کا بھی انکار کردیا ہے۔
مولانا مودودی نے مسیح (علیہ السلام) کے رفع الی السماء کو مشتبہات میں شمار کیا ہے۔ حالانکہ یہی آیت اس مسئلہ میں صریح نص ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کی زندگی اور دوبارہ نزول کا ذکر قرآن پاک میں اجمالاً موجود ہے اور احادیثِ نبوی اس کی مکمل تصریح کرتی ہے۔ اس آیت کے الفاظ انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ واضح کرتے ہیں کہ جس ہستی کو قتل کرنے کے یہودی دعویدار تھے ، وہ مسیح ، عیسیٰ ابن مریم ، اللہ کے رسول ہیں۔ ظاہر ہے کہ قتل کا دعویٰ محض روح کے لیے نہیں بلکہ جسم و روح دونوں کے لیے تھا۔ اور انہی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ نہ تو انہیں قتل کیا گیا اور نہ سولی دیا گیا بلکہ ان (یہودیوں) پر شبہ ڈال دیا گیا۔ پھر اسی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا۔ بل رفعہ اللہ الیہ یعنی ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھالیا۔ تو جب قتل کا تعلق جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہے اور اللہ تعالیٰ اسی عمل کی تردید فرما رہے ہیں تو پھر رفع الی السماء کا تعلق بھی جسم و روح دونوں کے ساتھ ہے۔ نہ کہ صرف روح کے ساتھ۔ لہٰذایہ آیت مسیح (علیہ السلام) کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کی صریح نص ہے۔
حضرت مولانا انور صاحب کشمیری (رح) نے ” التصریح بما تواتر بہ نزول المسیح “ عربی اور اردو میں کتاب لکھی ہے جو دمشق سے بھی شائع ہوچکی ہے۔ اس میں آپ نے ڈیڑھ سو کے قریب احادیث نقل کی ہیں جن میں مسیح (علیہ السلام) کی زندگی اور دوبارہ نزول کا ذکر ہے۔ صحیحین کی روایت میں یہ بھی موجود ہے لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حکماً عدلاً یعنی وہ وقت بھی آئیگا جب مسیح (علیہ السلام) تمہارے درمیان حاکم عادل بن کر اتریں گے ، صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ قبول نہیں کریں گے۔ آپ کے دور میں ملت اسلامیہ کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہیگا۔
قرآن پاک کی آیت ” وانہ لعلم للساعۃ “ سے مسیح (علیہ السلام) کا تذکرہ آپ کو قیامت کی نشانیوں میں سے ظاہر کرتا ہے جس سے ان کا قرب قیامت میں ظہور ثابت ہوتا ہے۔
اہل کتاب کا ایمان لانا
فرمایا : وان من اہل الکتب اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں ہے۔ الا لیومننن بہ قبل موتہ مگر یہ کہ ایمان لائیگا حضرت مسیح پر آپ کی موت سے قبل۔ موتہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بھی راجع ہوتی ہے اور ہر ہر فرد اہل کتاب کی طرف بھی۔ اور اگر اس سے کتابی مراد ہے یعنی ہر یہودی اور نصرانی مرنے سے پہلے عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے گا تو اس وقت کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیگا۔ موت سے پہلے جب فرشتے نظر آنے لگتے ہیں اور پردہ غیب اٹھ جاتا ہے تو اس وقت اگر انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو ولدالزنا اور دجال تک کے لقب دیے تھے ، تو اس وقت ان کا ایمان کچھ مفید نہ ہوگا۔ عیسائیوں نے بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور تین خداؤں میں تیسرا کہا تھا حالانکہ آپ خدا کے برگزیدہ بندے تھے۔ اگر مرتے وقت ان پر بھی حقیقت آشکارا ہوجائے اور انہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہوجائے تو اس وقت کی توبہ تو قبول ہی نہیں ہوگی لہٰذا ان کی موت بھی کفر پر ہی آئے گی۔
مسلم شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ قبل موتہ سے مراد یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کی موت سے قبل ہر کتابی آپ پر ایمان لائے گا۔ تو حقیقی موت تو اس وقت آئے گی جب آپ دوبارہ نازل ہو کر زندگی کے چالیس یا ساٹھ سال گزار چکیں گے۔ اس وقت سے پہلے پہلے جو کتابی ایمان نہیں لائے گا ، وہ موت کے گھاٹ اتار دیا جائیگا ، نہ کوئی یہودی باقی رہے گا اور نہ نصرانی۔ اس بارے میں سو سے زیادہ حدیثیں موجود ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) دوبارہ نازل ہوں گے۔ مسلم شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا یہ فرمان بھی موجود ہے کہ وہ وقت بھی آئے گا جب عیسیٰ (علیہ السلام) فج روحاء کے مقام سے حج یا عمرہ کا احرام باندھیں گے۔ زمین پر حکومت کریں گے۔ انصاف قائم کریں گے اور پھر ان کے زندہ رکھنے کی خاص مصلحت دجال کا مقابلہ ہے اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کریں گے ، یاجوج ماجوج کا فتنہ برپا ہوگا ، اس کے لیے دعا کریں گے تو ہ فتنہ بھی ختم ہوجائے گا۔ آپ شادی بھی کریں گے ، زمین پر چالیس یا ساٹھ سال کا عرصہ گزار کر وفات پائیں گے اور پھر دفن ہوں گے۔ یہ سب باتیں نزول کے بعد وارد ہونے والی ہیں اور آپ کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کی طرف دلالت کرتی ہیں۔
عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول کا عقیدہ بنیادی عقیدہ ہے۔ اہل حق میں سے اس بارے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ متواتر اور صحیح احادیث اس کثرت سے ہیں کہ انکا انکار کفر ہے۔ ایسا شخص اسلام سے خارج سمجھا جائے گا۔ اس آیت میں یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا مگر وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے قبل آپ پر ایمان لے آئے گا۔ ویوم القیمۃ اور قیامت والے دن یکون علیہم شہیداً مسیح (علیہ السلام) اہل کتاب پر گواہ ہوں گے۔ آپ اللہ کے ہاں گواہی دیں گے کہ یہود و نصاریٰ نے دنیا میں ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ ایک گروہ نے سرے سے تکذیب کردی آپ کے مخالف ہوگئے حتیٰ کہ سزائے موت دلوانے کی کوشش کی ، اور دوسرے گروہ نے انہیں خدا کا بیٹا بنا دیا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ سب باتیں ہوں گی۔