Ayahs 4:85–87ربط آیات
گزشتہ درس میں جہاد کے سلسلہ میں منافقین کی مذمت بیان کی گئی تھی ، اور اس بات کا تذکرہ تھا کہ امن و جنگ کے زمانہ میں غلط بات کی تشہیر نہیں کرنی چاہیے منافقین کا طریقہ تھا کہ وہ ہر ایسی بات کو عام کردیتے تھے جس سے اہل اسلام کو نقصان پہنچنے کی امید ہو اور پھر ان کے ساتھ کمزور دل مسلمان بھی شامل ہوجاتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ، نیز یہ فرمایا کہ جب کوئی ایسی بات پہنچے تو اسے بلاتحقیق آگے چلانے کی بجائے رسولِ خدا کے سامنے پیش کر دو یا پھر حاکم وقت کے نوٹس میں لاؤ ، جو پوری تحقیق و تجسس کے بعد فیصلہ کریگا کہ آئندہ لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔ پھر اسی ضمن میں علماء فقہاء کا ذکر بھی آیا کہ انتظامی امور بلاشبہ انتظامی حکام کے سامنے ہی پیش کرنے چاہئیں۔ تاہم شرعی معاملات علماء و فقہا کے پاس لیجانے چاہئیں۔ پھر تحقیق کے بعد جو وہ فیصلہ کریں اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے احسان جتلایا کہ اس نے اپنے فضل سے تمہیں برائی سے بچنے کے تمام سامان مہیا کردیے ، ورنہ تم میں سے اکثر لوگ شیطان کا اتباع کرتے۔
پھر ترغیب جہاد ہی کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہیں۔ آپ سے صرف آپ کی ذات کے متعلق ہی مؤاخذہ ہوگا۔ دوسروں کے متعلق آپ سے باز پرس نہیں ہوگی۔ نیز فرمایا کہ آپ اہل ایمان کو جہاد کی ترغیب دیتے رہیں اور دشمن کے خلاف ہمیشہ مستعد رہیں ، امید ہے کہ اس سے دشمن پر رعب طاری ہوگا اور وہ اسلام کے خلاف کوئی کارروائی کرنے سے رُک جائیگا۔ البتہ یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی سخت گرفت کرے گا اور پھر اس کی سزا بھی بڑی سخت ہے۔
اچھی اور بُری سفارش
اب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اچھی اور بُری سفارش اور پھر اس کے نتائج کا تذکرہ کیا ہے۔ گزشتہ درس میں جہاد پر برانگیختہ کرنے کا ذکر تھا اور یہ بھی ایک اچھی سفارش ہے تو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے اچھی اور بری سفارش کی وضاحت فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے۔ من یشفع شفاعۃً حسنۃً جو شخص سفارش کریگا کوئی اچھی سفارش یکن لہ نصیبٌ منھا تو اس کو اس میں سے حصہ ملیگا۔ یعنی اچھی سفارش کرنے اور پھر اس پر عملدرآمد سے جو اچھے نتائج مرتب ہوں گے ، ان کے اجر وثواب میں سے سفارش کنندہ یعنی اچھے کام کی ترغیب دینے والے کا بھی حصہ ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ الدال علیالخیر کفاعلہ یعنی نیکی کی دعوت دینے والا ایسا ہی ہے جیسے ان نیکی کو انجام دینے والا۔
اسی طرح غلط کام کی ترغیب کے متعلق فرمایا و من شفع شفاعۃً سیئۃً جو کوئی بری سفارش کریگا یکن لہ کفلٌ منھا تو اس میں سے اس سفارش کنندہ کے لیے بھی بوجھ ہوگا۔ یعنی بُرے کام پر اکسانے اور پھر اس پر عمل درآمد سے جو بُرے نتائج مرتب ہوں گے ، ایسا سفارشی بھی اس گناہ میں شریک سمجھا جائیگا ، وہ بھی مجرم تصور ہوگا اور مستوجب سزا بھی اور ایسا مؤاخذہ کرنا اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے کیونکہ و کان اللہ علی کلِ شیئٍ مقیتاً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔ لہٰذا اچھے اور برے کام پر ابھارنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی کوششیں رائیگاں نہیں جائینگی اور بلکہ حسب حال ان پر اچھی یا بری جزا ضرور مرتب ہوگی۔ منجملہ بری سفارشات کے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کو جہاد میں شمولیت سے ڈرایا جائے۔ اور اس قسم کا پراپیگنڈا کیا جائے۔ جس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا ہو اور وہ جہاد کے معاملہ میں کمزور پڑجائیں۔
جائز سفارش پر ثواب
کسی مومن بھائی کے لیے اس کی پس پشت دعا کرنا بھی اچھی اور جائز سفارش میں شامل ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ دعوۃ المر المسلمہ الاخیلہ بظہر الغیب مستجابۃٌ کسی مومن کی اپنے بھائی کے لیے پس پشت دعا قبول ہوتی ہی یہ بھی ایک سفارش ہے کہ اللہ… میرے بھائی کی فلاں مشکل آسان کر دے یا اس کی فلاں جائز ضرورت پوری فرما دے۔ اس کے علاوہ ہر جائز کام میں کسی کی مدد کرنا نیکی کا کام ہے اور جس قدر ثواب اس کام کے انجام دینے والے کو ہوگا ، اس میں سے سفارش کرنے والے کا بھی حصہ ہوگا اور وہ بھی محروم نہیں رہیگا۔ نبی ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے اشفعوا ولتوجرو اجائز امور میں سفارش کیا کرو ، تمہیں اجر ملیگا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ویقضی اللہ علی لسان نبیہ ماشاء اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے فیصلہ کرتا ہے۔ لہٰذا اچھی بات کی ہمیشہ ترغیب دینی چہئے اور اس کی انجام دہی کے لیے سفارش کرنی چاہیے۔ اگر کام نہ بھی ہو ، تو سفارش کرنے والے کو بہرحال اچھی سفارش کا اجر مل جائیگا۔
ناجائز سفارش پر عتاب
جائز سفارش اجر وثواب کا موجب ہے تو ناجائز سفارش معصیت میں شامل ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جائز یا ناجائز سفارش کی اجرت لینا حرام ہے۔ جائز میں اس لیے کہ یہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور عبادت کی اجرت لینا حرام ہے اور ناجائز سفارش کی اجرت اس لیے حرام ہے کہ وہ بذات خود معصیت ہے۔ مگر مقام افسوس ہے کہ آج کے دور میں لوگ جائز و ناجائز کی حدود کو قائم نہیں رکھتے۔ اس زمانہ میں اکثر سفارشات ناجائز ہوتی ہیں ایک شخص کسی عہدہ کا اہل نہیں مگر وہ عہدہ اسے سفارش کے ذریعے دلایا جاتا ہے ، یہ کیسے درست ہو سکتا ہے۔ آج ہمارے گردو پیش میں کتنے معاملات ہیں جن میں سو فیصد غلط کام کی سفارش کی جاتی ہے اس کا لازماً مؤاخذہ ہوگا۔ آج کے دور میں حکومت کے اکثر محکمے رشوت اور سفارش کی بنیاد پر چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ رشتہ داری ، دوست نوازی اور اقربا پروری کی بنیاد پر غلط ملط کام کی سفارش کی جاتی ہے۔ سفارش کے ذریعے صریح مجرم کو بچایا جاتا ہے اور بےگناہ کو سزا دلوائی جاتی ہے آخر اس ظلم کا وبال ضرور پڑے گا۔ یہ چیزیں تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے والی ہیں۔ جب حالات ایسے ہوجائیں تو پورے معاشرے کا امن و سکون تباہ ہوجاتا ہے اور ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ والا ماحول جنم لیتا ہے۔ لعن اللہ۔۔ من اویٰ محدثاً مجرم کو پناہ دینے والے پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔ جو شخص حقیقی چور کے ہاتھ نہ کاٹنے کی سفارش کرتا ہے ظاہر ہے کہ وہ بھی اس جرم میں شریک ہے اور اس برائی میں سے اسے بھی اپنے حصے کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔
سلام مکارم اخلاق
معاشرتی معاملات میں مکارمِ اخلاق کو اعلیٰ حیثیت حاصل ہے اور سلام مکارم اخلاق ہی کا حصہ ہے۔ سلام کرنا ایک دوسرے کے حق میں سلامتی کی دعا ہے اور اس لحاظ سے یہ بھی ایک اچھی اور جائز سفارش ہے کہ کسی بھائی کو ایمان اور نہ ہر لحاظ سے سلامتی نصیب ہو۔ تو اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے کو سلام کرنے کی ترغیب دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واذا حییتم تجیۃٍ جب تمہیں دعا دی جائے ، سلام کے ساتھ فحیوا باحسن منھا تو تم اس سے بہتر دعا دو اور دوھا یا کم از کم اسی کو لوٹا دو ۔ یہ تحیہ اور حیہ زندگی کے لیے دعا کو کہا جاتا ہے۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یوں کہا کرتے تھے حیاک اللہ یا حییت یعنی تم دیر تک زندہ رہو تمہیں اللہ سلامتی کے ساتھ زندہ رکھے۔ اس زمانے میں انعم صباحاً (تمہاری صبح خوشگوار) کے الفاظ بھی بولے جاتے تھے۔ آج کل بھی Good Morning (صبح بخیر) جیسے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ تاہم اسلام نے یہ طریقہ جاری کیا۔ کہ جب تمہیں کوئی سلام کہے تو اس اس سے بہتر سلام کہو یا کم از کم اسی کو لوٹا دو صرف لوٹانا یہ ہے کہ جب کوئی السلام علیکم کہے تو تم جواب میں وعلیکم السلام کہ دو ۔ اور بہتر سلام یہ ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ کہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص صرف علیکم السلام کہتا ہے تو اسے دس نیکیاں حاصل ہوتی ہیں اور اگر کوئی اس کے ساتھ رحمۃ اللہ بھی کہ دے تو بیس نیکیوں کا حقدار بن جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اگر کوئی وبرکاتہ کا لفظ بڑھا دے تو تیس نیکیاں اور ومغفرتہ ، کا اضافہ کرنے سے اس کے نامہ اعمال میں چالیس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں تو گویا بہتر سلام یہ ہوا وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، و مغفرتہ ، تاہم سلام کا کم ازکم جواب وعلیکم السلام ہے۔
صحیحین کی روایت میں آتا ہے کہ سلام کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے جاری فرمایا۔ آپ کو پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہشت میں فرشتوں کی ایک جماعت ہے ، اس کو جا کر سلام کرو۔ جو جواب وہ دیں گے وہی جواب تمہارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے ہوگا۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے پاس جاکر السلام علیکم کہا ، تو انہوں نے جواب میں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا۔ چناچہ سلام کا یہی طریقہ بنی آدم میں رائج ہوگیا۔
سلام کی تشہیر
یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جو شخص سلام میں پہل کرتا ہے۔ اس کو زیادہ اجر ملتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ راستوں پر نہ بیٹھا کرو ، اگر بیٹھنا ہے تو راستے کا حق بھی ادا کیا کرو۔ اور راستے کا حق یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرو ، بھٹکے ہوئے آدمی کو راہ دکھاؤ اور آنے جانے والوں کو سلام کہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ میں تم کو ایسی چیز نہ بتاؤں جس پر عمل کر کے تم آپس میں محبت کرنے لگو اور آپس میں محبت کرو گے تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت عطا کریں گے۔ فرمایا وہ چیز ہے افشو السلام بینکم یعنی آپس میں سلام پھیلاؤ ایک دوسرے کو السلام علیکم کہا کرو۔ علی من عرفت و من لم تعرف جس کے ساتھ جان پہچان ہے اسے بھی سلام کہو اور جس کے ساتھ تعارف نہیں ہے ، اس کو بھی سلام کرو۔ یہ پیار و محبت کا بہترین نسخہ ہے۔
کفار اور سلام
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کے مخاطبین اہل اسلام ہیں اور سلام کرنے کا حکم انہی کے لیے ہے کہ جب آپس میں ملو تو ایک دوسرے کو سلام کیا کرو اور اس کا بہتر جواب دیا کرو۔ یہ حکم کافروں کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا حتی الامکان کفار کے ساتھ سلام میں ابتداء نہ کرو لا تبدوا الیھود والنصریٰ بالسلام۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کفار کے ملک میں ان کے زیر اثر رہتا ہے اور سلام نہ کرنے سے اسے نقصان اٹھانے کا خطرہ ہے تو اسے سلام کرنا مباح ہوگا ، گنہگار نہیں ہوگا۔ مگر عام حالات میں ابتداء نہیں کرنی چاہئے اور اگر کوئی غیر مسلم خود سلام میں ابتداء کرے تو اس کے جواب میں وعلیکم کہ دنیا کافی ہے۔ اس سے زیادہ نہ کہے اگر کسی مجلس میں مومن اور کافر ملے جلے ہوں تو سلام کرتے وقت مومنوں کے حق میں نیت کرو یا فرشتوں کا تصور کر کے السلام علیکم کہو۔
آدابِ سلام
یاد رہے کہ بعض حالتوں میں سلام کرنا مکروہ ہوجاتا ہے۔ مثلاً بول و براز کی حالت میں سلام نہیں کرنا چاہئے۔ اذان ، نماز ، تلاوت یا دیگر علمی مشاغل کے دوران سلام مکروہ ہے۔ اسی طرح اگر کوئی معصیت کا کام مثلاً کبوتر بازی ، پتنگ بازی بٹیر بازی ، گانے بجانے کے دوران سلام کرنا مکروہ ہے۔
آدابِ سلام کے سلسلے میں حضور ﷺ نے یہ تعلیم بھی دی ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کرے ، سوار پیدل کو سلام کرے ، چلنے ولا ا بیٹھنے والے کو سلام کرے۔ یہ مکارم اخلاق کی تعلیم ہے تاکہ لوگوں میں تکبر پیدا نہ ہو۔ کسی شخص کو لائق نہیں کہ وہ دوسرے شخص کے سلام کامنتظر رہے۔ بلکہ ہر شخص کو سلام میں ابتداء کی کوشش کرنی چاہئے۔ حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ آپ سلام میں پہل فرماتے تھے ، جب آپ کا بچوں پر گزر ہوا۔ تو سلام کیا ، عورتوں کے پاس گزرے تو وہاں بھی سلام کیا۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عورتیں اپنی اعزہ و اقارب میں سے ہوں یا عمر رسیدہ ہوں تو ان کو سلام کیا جاسکتا ہے۔ نوجوان عورتوں کو اجنبی نوجوان کا سلام فتنہ کا باعث ہو سکتا ہے لہٰذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
حضور ﷺ نے بھی یہ فرمایا کہ جب اپنے گھر جاؤ تو بیوی بچوں کو سلام کرو اس میں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیرو برکت ڈال دے گا۔ اگر کسی خالی گھر میں جاؤ تو وہاں بھی سلام کرو اور یوں کہو السلام علینا و علی عباد اللہ الصلحین ہم پر سلام ہو اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔ فرمایا وہاں اللہ کی کوئی دیگر مخلوق فرشتے وغیرہ ہوں گے تو وہ بھی اس سلام میں شامل ہوجائیں گے۔ یہ تمام باتیں احادیث میں آتی ہیں اور فقہائے کرام نے ان کی تشریح بیان کردی ہے یہ مکارمِ اخلاق کا حصہ ہے۔
سلام کی تکمیل مصافحہ
تمام التحیہ یعنی سلام کی تکمیل مصافحہ سے ہوتی ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے اللہ تعالیٰ مصافحہ کرنے والوں کے گناہوں کو گراتا ہے۔ مصافحہ ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ سے ملانے کو کہا جاتا ہے اور یہ مسنون ہے۔ البتہ مصافحہ کی تیمم دونوں ہاتھوں سے ہوتی ہے۔ بعض لوگ دونوں ہاتھ بلانے سے گریز کرتے ہیں یہ ٹھیک نہیں مصافحہ کی تکمیل دونوں ہاتھوں سے ہے تاہم یہ ضروری بھی نہیں۔ اس کے علاوہ معانقہ کی بھی اجازت ہے۔ حضور ﷺ نے بعض موقع پر اپنے صحبہ سے معانقہ بھی کیا یعنی گلے ملے۔ یہ انتہائی محبت و الفت کی علامت ہے۔ بشرطیکہ کسی فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔
بہرحال فرمایا کہ جب تمہیں سلام کے ساتھ دعا دی جائے تو اس سے بہتر جواب دو یا کم از کم اسی کو لوٹا دو ۔ ان اللہ کان علی کل شیء حسیباً بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں کریگا۔ اور خلوص و محبت کے ساتھ ایک دوسرے کو سلام کہنے پر جنت نصیب فرمادیگا۔
اسلام کی بنیاد توحید
فرمایا اللہ لا الہ الا ہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یہ اسلام کی بنیاد ہے اور ہمیشہ مدنظر رہنی چاہئے۔ اگر بنیاد درست ہوگی تو تمام معالات درست ہوں گے اگر بنیاد ہی غلط ہوگئی ، تو اس پر تعمیر ہونے والی پوری عمارت خراب ہوگئی۔ لہٰذا اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہیے ، اسی پر تمام اعمال کا دارو مدار ہے۔ تمہاری عبادات ، جہاد ، سلام ، ملاقاتیں سب اس بنیادی عقیدہ کے تابع ہیں۔ یہی تمہارا نظریہ (Ideology) اور جب اس پر یقین مکمل ہوجائے تو یاد رکھو لیجمعنکم لای یوم القیمۃ اللہ تعالیٰ تم سب کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا ، وہاں محاسبہ ہوگا ، لہٰذا اپنے بچاؤ کا سامان کرلو۔ ایسا نہ ہو کہ وہاں تمہارے نامہ اعمال میں کچھ نہ نکلے ، وہاں کے محاسبے کیل یے ابھی سے تیاری شروع کردو۔ اور وہ قیامت اور محاسبے کا دن ایسا ہے ” لاریب فیہ “ جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ، وہ بہرصورت آ کر رہے گا ، اللہ تعالیٰ نے یہ سب باتیں واضح کردیں۔
حاصل کلام
فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہ باتیں کھول کھول کر بیان کردی ہے و من اصدق من اللہ حدیثاً اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہو سکتی ہے۔ وہ اصدق القائلین ہے۔ اس کے تمام احکام اور فرامین برحق ہیں لہٰذا ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ بلاچون و چرا ان پر عمل پیرا ہو اور اس سلسلہ کسی شک و شبہ کو اپنے دل میں جگہ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کے بعد سفارش کا مسئلہ اور پھر سلام و دعا کی تفصیل سے بھی آگاہ کردیا۔ مکارم اخلاق کی تربیت بھی دے دی۔ اب آئندہ جہاد کا وہی سلسلہ آگے چلے گا جو گزشتہ رکوع سے بیان ہو رہا ہے اور ساتھ ساتھ منافقین کی مذمت کا پہلو بھی ہے یہ سلسلہ آگے دور تک چلا جائے گا۔
Ayahs 4:88–89منافقوں کی دو قسمیں
منافقین کی مذمت کا سلسلہ پیچھے سے چلا آرہا ہے اور ان کو مختلف سازشوں کا پردہ چاک ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں جہاد فی سبیل اللہ اور دیگر ضروری مسائل بھی بیان ہوچکے ہیں۔ آج کی آیات بھی منافقین ہی سے متعلق ہیں۔ ان میں اہل اسلام کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں مختلف آراء سے پرہیز کرتے ہوئے کسی ایک رائے پر ہی متفق رہیں اور انہیں کوئی ایسا موقع نہ دیں کہ وہ الٹا تمہیں گمراہ کرسکیں ۔
مفسرین کرام نے منافقین کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ پہلی قسم اعتقادی منافقین کی ہے اور دوسری عملی منافقین کی۔ اعتقادی منافق وہ ہے جو بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ مگر اس کا دل کفر پر جما رہتا ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانہ میں مدینہ میں اکثر منافقین کا تعلق اس قسم کے ساتھ تھا۔ وہ حصول مقصد یا کسی ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے کلمہ شہادت زبان سے تو ادا کرلیتے تھے مگر ان کا باطن ایمان سے خالی ہوتا تھا۔ منافقین کی یہ بدترین قسم ہے ، جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اسی سورة میں واضح فرما دیا ہے ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار “ منافقین جہنم کے زیریں ترین اور بدترین حصے میں ہوں گے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں اکثر منافقین یہودیوں میں سی تھے۔ منافقین کا تذکرہ قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں موجود ہے۔
سورۃ بقرہ ، آل عمران اور اسی سورة نساء میں ان کے قبیح خصائل کا تذکرہ ہے منافقین کے نام سے مکمل سورة بھی موجود ہے۔ سورة توبہ میں بھی ان کے متعلق بہت کچھ آیا ہے مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان ان بدبختوں کی سازشوں سے ہوشیار رہیں اور ان کے دام فریب میں نہ پھنس جائیں۔
منافقوں کی دوسری قسم عملی منافق ہیں۔ ایسے منافقین کا ذکر احادیث میں کثرت سے آیا ہے۔ ان کو اخلاقی منافق بھی کہہ سکتی ہیں کہ دل میں نور ایمان موجود ہے ، توحید کی تصدیق بھی کرتے ہیں مگر عمل اور اخلاق اس کے خلاف ہے حضور ﷺ نے ایسے منافق کی نشانیاں یہ بتائیں اذا حدث کذب جب بات کرے جھوٹ بولے اذا وعد اخلف جب وعدہ کرے تو خلاف کرے واذا او تمن خان اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ یہ عملی منافق ہیں۔ آپ کے زمانے کے بعد اور ہر زمانہ میں عملی منافق کثرت سے موجود رہے ہیں۔ آج بھی دیکھ لیں کہ زبانی عقیدہ تو درست ہے مگر قول و فعل میں تضاد ہے نماز کو فرض مانتا ہے مگر نہیں پڑھتا۔ جانتا ہے کہ روزہ فرض ہے مگر نہیں رکھتا چوری ، خ ، یانت ، جھوٹ ، حرام ہیں مگر کیے چلا جارہا ہے، یہی عملی منافقت ہے اور اس قسم کے منافقین سے دنیا بھری پڑی ہے۔
اس آیت میں مذکورہ منافقین
آج کی آیت میں جن منافقین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کا تعلق کس گروہ کے ساتھ ہے۔ کیا ان سے مراد اعتقادی منافق ہیں یا عملی منافق۔ حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے وہ اعتقادی منافق مراد ہیں جو احد کے موقع پر عبداللہ بن ابی کی قیادت میں راستے ہی سے واپس چلے گئے تھے اور اس جنگ میں مسلمانوں کو کافی جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ ان منافقوں کے متعلق اہل ایمان کی دورائیں ہوگئی تھیں۔ بعض کہتے تھے کہ ان کے ساتھ بالکل کافروں جیسا سلوک ہونا چاہیے اور بعض دوسرے ان کے لیے قدرے نرم گوشہ رکھتے تھے۔
تفسیر روح المعانی میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس آیت میں مذکور منافقین سے وہ کفار مراد ہیں جو مکہ سے مدینے آئے ، اسلام کے ساتھ اظہار ہمدردی بھی کیا اور پھر تجارت کے بہانے سے واپس مکہ چلے گئے۔ دراصل ان لوگوں کو اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، بلکہ یہ لوگ جاسوسی کی غرض یا کسی دیگر سازش کے تحت مدینہ آئے تھے اور پھر واپس چلے گئے ان کے متعلق بھی اہل ایمان دو مختلف رائیں رکھتے تھے۔ بعض کہتے تھے کہ وہ ایمان لا چکے ہیں مگر کسی مجبوری کی وجہ سے واپس نہیں آسکے جب کہ دوسرے لوگوں کا خیال تھا ، کہ یہ کافر تھے اور کفر پر ہی واپس چلے گئے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس پورے رکوع میں جن منافقین کا ذکر ہے ان سے مراد دراصل کافر ہیں اور منافق کا لقب انہیں محض لغوی اعتبار سے دیا گیا ہے ، کیونکہ منافق ذی وجہین یعنی دو رخہ ہوتا ہے۔ اِدھر کچھ بات کی اور ادھر کچھ اور سکیم بنائی۔ بہرحال شاہ صاحب کی تحقیق بھی یہ ہے کہ یہ آیات مکہ کے ان کافروں کے متعلق ہیں جو مدینے آ کر واپس چلے گئے تھے ، نہ کہ مدینہ کے اعتقادی منافق۔
چونکہ اہل ایمان ان کے متعلق دو مختلف رائے رکھتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے اسے ناپسند فرمایا اور کہا فما لکم فی المنفقین فئتین تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقوں کے بارے میں تم دو گروہ ہوگئے ہو۔ واللہ ارکسہم بما کسبوا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں الٹ دیا ہے ان کی کمائی کی وجہ سے۔ لہٰذا تمہیں ان کے متعلق مختلف رائیں نہیں رکھنی چاہئیں۔ بلکہ ایک بات پر متفق ہوجانا چاہئے کہ یہ کافر ہیں اور بہت بُرے لوگ ہیں۔ ان کی کرتوتوں کی وجہ سے اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کردیا ہے لہٰذا ان کے متعلق کوئی اچھا گمان نہ رکھو۔ اللہ نے اگلی آیت میں انکے خلوص کا معیار بھی مقرر کردیا ہے۔
” حتی یھاجروا فی سبیل اللہ “ جب تک یہ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ نہ آجائیں یہ قابل اعتماد لوگ نہیں ہیں۔ لہٰذا انہیں اس وقت تک کافر ہی تصور کیا جائے۔
ہجرت کی تین قسمیں
ہجرت تین اقسام سے ہے اس کی پہلی قسم تو فرض ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ جب کسی علاقے میں کفار کا اس قدر غلبہ ہو کہ اہل ایمان شعار اسلام اور شعار ایمان ادا نہ کرسکیں تو وہاں سے ہجرت فرض ہوجاتی ہے۔ چناچہ ابتدائے اسلام میں جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا تو ان کے لیے ہجرت واجب ہوگئی چناچہ مسلمانوں نے دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کی اور تیسری دفعہ مدینہ میں آکر قیام پذیر ہوگئے اس وقت ایمان کا معیار ہی یہ تھا کہ کفار کے زیر تسلط رہنے والا مسلمان جب تک ہجرت نہیں کرتا اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا شخص کسی بھی وقت کفار کے غلبہ سے مغلوب ہو کر ایمان کا دامن چھوڑ سکتا ہے۔ چناچہ اس سورة میں بھی اور دیگر سورتوں میں بھی اس معاملہ میں سخت وعید آئی ہے اسی سورة میں پہلے گزر چکا ہے کہ کچھ کمزور مرد ، عورتیں اور بچے مکہ میں رہ گئے تھے۔ کفار کے مظالم برداشت کرتے تھے مگر ہجرت کے لیے طاقت نہیں رکھتے تھے ، بیچارے مجبور تھے۔ ایسے لوگوں کو تو معذور سمجھا جاسکتا ہے ، مگر کوئی صحت مند جوان اور ہجرت کی استطاعت رکھنے ولا ا شخص اگر ہجرت نہیں کرتا ، تو اس کے ایمان کا کچھ اعتبار نہیں کیا جاتا تھا ، ہجرت بہرصورت ایک مشکل کام ہے اور اس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے ان شان الہجرۃ لشدیدٌ ہجرت کا معاملہ بڑا دشوار ہے۔ بہرحال یہ ہجرت ابتدائے اسلام کے زمانہ سے فتح مکہ تک فرض تھی جب مکہ فتح ہوگیا تو حضور ﷺ نے فرمایا لاہجرۃ بعد الفتح یعنی فتح کے بعد ہجرت کی ضرورت نہیں ! ہاں ! اگر پھر کسی جگہ ایسے حالات پیدا ہوجائیں جیسے مکہ میں تھے۔ کفار کے غلبہ کی وجہ سے اہل ایمان اپنے ایمان کو قائم نہ رکھ سکتے ہوں ، تو ان پر وہاں سے ہجرت فرض ہو جائیگی۔
یہاں پر مسئلہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو شخص ایک دفعہ دارالکفر سے ہجرت کر کے دارالالسلام آ گیا اور دوبارہ دارالکفر میں چلا گیا ، اس کی ہجرت باطل ہوجائے گی۔ اسی لیے حضور ﷺ صحابہ کرام کے متعلق دعا کیا کرتے تھے اللہم امض لاصحابی ہجرتہم اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو جاری فرما۔ کسی کی ہجرت باطل نہ ہو۔ مگر حضرت سعد ابن خولہ ؓ کی ہجرت باقی نہ رہی کیونکہ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹنی سے گر کر شہید ہوگئے تھے۔ حضور نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کیا کہ وہ جہاں سے ہجرت کر گئے تھے ان کی موت اسی جگہ واقع ہوئی۔ بہرحال ہجرت کا معاملہ بڑا دشوار ہے۔ کیونکہ اس میں گھر بار ، خاندان ، قبیلہ ، مکان ، زمین اور ہر قسم کی جائیداد کی قربانی دینی پڑتی ہے تاہم جہاد کی طرح یہ بھی ضروری ہے اور کوتاہی کرنے والے کے لیے جہنم کی وعید آئی ہے۔
ہجرت کی دوسری قسم یہ ہے کہ آدمی پیغمبر (علیہ السلام) کے ساتھ جہاد میں شریک ہوے جائے۔ منافقیں مدینہ کے لیے یہ بڑی دشوار تھی۔ وہ حیلے بہانے سے جہاد سے گریز کرتے تھے ، پیچھے رہ جاتے تھے۔ چناچہ احد کے موقع پر ایسا ہوا کہ عبداللہ بن ابی تین سو آدمیوں کی جماعت کے ساتھ اس لیے واپس آ گیا کہ ان کی رائے کا احترام نہیں کیا گیا تھا۔ وہ مدینہ میں رہ کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے جب کہ صحابہ کی اکثریت باہر میدان میں نکل کر لڑائی کرنا چاہتی تھی۔ ان منافقین کے متعلق بھی بعض مسلمان اچھاخیال رکھتے تھے کہ یہ کلمہ گو ہیں۔ نمازیں پڑھتے ہیں ، ہر مجلس میں شامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے متعلق بدگمانی نہیں ہونی چاہئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب تک یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں۔ ان کا کچھ اعتبار نہیں۔ لہٰذا ان کی ہجرت یہ تھی کہ وہ جہاد میں شامل ہوجائیں۔
ہجرت کی تیسری قسم کے متعلق حضور ﷺ کی حدیث مبارک ہے کہ مومن وہ ہے جو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن وامان سے وقت گزارے ، ان کو تکلیف نہ پہنچائے اور مسلمان وہ شخص ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ پھر فرمایا والمھاجر من ہجر مانھی اللہ عنہ مہاجر وہ ہے جو ہر اس چیزکو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ حقیقی مہاجر وہ ہے جو گناہ سے بچ جائے۔ گھر بار اور وطن چھوڑنے کے باوجود اگر اسلام کے باقی احکام پورے نہیں کرتا ، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا۔ تو وہ حقیقی مہاجر نہیں ہے۔
مرکزیت کا فقدان
الغرض ! فرمایا کہ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان کافروں کے متعلق دورائیں رکھتے ہو۔ تمہاری اجتماعیت کا تقاضا ہے کہ ہمیشہ ایک رائے پر متفق ہوجایا کرو۔ دشمنانِ دین کے متعلق تمہیں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے امریکہ ہو یا روس یہود ہوں یا ہنود اسلام دشمن میں یہ سب متفق ہیں۔ مگر مسلمانوں کی اجتماعیت کا شیراہ بکھر چکا ہے ، یہ اپنوں کی بجائے غیروں سے دوستانہ رکھتے ہیں ، ان سے غلط توقعات وابستہ کرتے ہیں اور پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک بتلا رہا ہے کہ مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع ہونا چاہئے ، ان سب کی ایک رائے ہونی چاہئے۔ مگر اجتماعیت کے فقدان نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آج کسی ملک یا کسی علاقے میں کسی مسلمان پر افتاد آجائے تو کوئی دوسرا مسلمان اس کی مدد نہیں کرسکتا۔ آج مسلمان اغیار کے دام فریب میں گرفتار ہیں۔ ان کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہیں۔ آج کون ہے جو فلسطین ، افغانستان اور ہندوستان کے مسلمانوں کی مدد کو پہنچے۔ ہماری حکومتیں بڑی طاقتوں سے اس قدر مرعوب ہیں کہ وہ کسی کو مسلمانوں کی امداد کے لیے جانے کی اجازت بھی نہیں دے سکتیں۔ وجہ یہی ہے کہ آج ہم مرکزیت کو بھول چکے ہیں۔ دنیا میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان آباد ہیں مگر ہر ایک کی رائے جدا جدا ہے ، نہ کوئی مرکز ہے اور نہ اس کے تحت مسلمان کوئی مفاد حاصل کر رہے ہیں۔ حضور ﷺ کا اپنا زمانہء مبارک اور خلفائے راشدین کا زمانہ مرکزیت کا زمانہ تھا ، اس وقت تمام دنیائے اسلام ایک مرکزی حکم کی پابندی تھی ، سب ایک رائے پر متفق تھے ، مگر آج یہ چیز ختم ہوچکی ہے اس لیے مسلمان طرح طرح کے مصائب کا شکار ہیں۔
باطل نظام ہائے
معیشت
اس وقت دنیا میں دو بڑے نظام ہائے معیشت جاری ہیں ایک انگریز کا نظام سرمایہ داری اور دوسرا سوشلسٹ ملکوں کا اشتراکی نظام مگر یہ دونوں باطل ہیں۔ انگریز سے دوستانے اور سرمایہ دارانہ نظام نے مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ سرمایہ داری نظام محض مفاد پرستی پر مبنی ہے اس میں حلال حرام کی کوئی تمیز نہیں دولت جس راستے سے چاہو کماؤ اور جس راستے میں چاہو خرچ کرو۔ کسی پر کوئی پابندی نہیں مقررہ ٹیکس اداکر کے گورنمنٹ سے لائسنس حاصل کرلو اور پھر چاہے سینما جاری کرلو ، شراب کی دکان کھول لو یا قحبہ خانہ چلا لو ، ہوٹل قائم کرلو جہاں پر شراب اور خنزیر کا گوشت کھلاؤ ، کون پوچھتا ہے۔ اشتراکی نظام کی اپنی قباحتیں ہیں۔ وہاں انسان اور حیوان میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا ، انسان کو کو لہو کے بیل کی طرح چلایا جاتا ہے اور پھر اس کی جائز ضروریات بھی پوری نہیں کی جاتیں۔ یہ دونوں نظام ہائے معیشت باطل ہیں۔ قرآن پاک کا اپنا نظام معیشت ہے جس کی بنیاد اللہ کی توحید اور قیامت کے تصور پر ہے یہ نظام اللہ تعالیٰ کی حدود پر قائم ہوتا ہے۔ حرام حلال کی تمیز سکھاتا ہے۔ نہ ناجائز ذرائع سے طلب زر کی اجازت دیتا ہے اور نہ ناجائز امور پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسلام کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ” لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ کسی کا مال ناحق مت کھاؤ ۔ اللہ کا یہ بھیحکم ہے لاتسرفوا اگر مال آ گیا ہے تو اسے ضائع نہ کرو۔ ولاتبذروا فضول خرچی نہ کرو۔ اسے جائز امور پر خرچ کرو۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اسراف و تبذیر کی کون جرأت کرسکتا تھا ، وہ کمائی پر قدغن لگاتے تھے اور اخراجات کو بھی کنٹرول کرتے تھے ، مگر آج فضول خرچی کو کون روک سکتا ہے ہمارے ملک میں اتنی بڑی بڑی عمارتیں بن رہی ہیں جن کی نقشہ نویشی پر ہی لاکھوں روپیہ لگ جاتا ہے۔ ذرا اندازہ فرمائیں کہ ایسی عمارتوں کی کل لاگت کیا ہوگی۔ یہ سی فضول خرچی اور عیاشی ہے جو کہ مرکزیت سے عدم تعلقی کی وجہ سے ہے۔
ہدایت بدست خدا
آگے اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم کفار سے دوستانہ اس لیے کرتے ہو کہ شاید وہ راہ راست پر آجائیں ، اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ کیا تم ان لوگوں کو ہدایت یافتہ بناناچاہتے ہو ، جنہیں اللہ نے گمراہ کردیا ہے۔ فرمایا یہ تمہارے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ وہ من یظل اللہ فلن تجدلہ سبیلاً جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ، اسے کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے بما کسبوا ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے۔ جب وہ حق کی مخالفت پر تُل جاتے ہیں تو پھر اللہ انہیں سیدھے راستے سے بھٹکا دیتا ہے دوسرے مقام پر فرمایا ” واللہ لا یھدی القوا الظلمین “ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ جب تک ظالم اپنے ظلم سے باز نہ آجائے اور سچی توبہ نہ کرلے اس وقت تک اسے ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔ فرمایا کفار و منافقین کی بری کمائی کی وجہ سے اللہ نے انہیں الٹا دیا ہے تم انہیں کیسے ہدایت کی راہ پر چلا سکتے ہو۔
اغیار کی دلی خواہش
فرمایا اسلام دشمن طاقتوں کی خواہش یہ ہے۔ ودوا لو تکفرون کما کفروا وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کفر کا راستہ پکڑلو جس طرح وہ خود کفر کیے بیٹھے ہیں ساری دنیا کے کفار کی یہی تمنا ہے۔ یہودی ہوں یا عیسائی ، ہندو ہوں یا کوئی اور سب چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کو اپنے دین میں داخل کرلیں ، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی طرح تم بھی شتر بےمہار ہوجاؤ ، نہ حلال حرام کی تمیز اور نہ جائز ناجائز کی فکر۔ جس طرح چاہو کماؤ اور جیسے چاہو خرچ کرو۔ پہلے دو سو سال تک برطانیہ کا طوطی بولتا تھا ، وہ من مانی کرواتار ہا۔ اب اس کی جگہ امریکہ آ گیا ہے اس کی خواہش بھی یہی ہے کہ ساری دنیا اسی کے پیچھے لگ جائے۔ یہ سب طاغوت ہیں اور لوگوں سے اپنا اتباع کرانا چاہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ اغیار کی خواہش پر انہی کا طریقہ اختیار کرلینے سے ان کی مراد یہ ہے فتکونون سوائً تاکہ سب برابر ہوجائیں ، کوئی کسی کو کہنے ولا ا نہ ہو۔ مگر اللہ نے اسلام کے متبعین کو فرمایا فلا تتخذوا منہم اولیاء ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ یہ سب تمہارے دشمن ہیں۔ دوستی کی آڑ میں تمہارے ساتھ دھوکا کرنا چاہتے ہیں۔ لہٰذا ان سے بچ کر رہو۔ جب تک یہ لوگ اپنی روش ترک نہ کریں اور دارالکفر کو چھوڑ کر دارالاسلام میں نہ آجائیں اور پھر تمہارے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوجائیں حتیٰ یھاجروا فی سبیل اللہ یعنی ہجرت جیسا اہم فریضہ پورا نہ کریں ، اس وقت تک ان کا کچھ اعتبار نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کی دوستی سے منع فرما دیا۔
اُن کے لیے حکم
فرمایا فان تولوا اگر وہ روگردانی کریں۔ تمہارے ساتھ شامل نہ ہوں ، کفار کی چاپلوسی ترک نہ کریں تو پھر سمجھ لو کہ یہ پکے کافر ہیں۔ پھر ان کا علاج یہ ہے فخذوہ ان کو پکڑ لو واقتلواہم حیث وجدتموہم انہیں جہاں بھی پاؤ مارو۔ ولاتتخذوا منہم ولیاً ولانصیراً اور نہ بناؤ ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار ، حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ آیت کے اس حصہ سے و اضح ہے کہ ان لوگوں سے مراد مکہ کے کافر ہیں کیونکہ اعتقادی منافقوں کو مارنے کا حکم نہیں تھا۔ عبداللہ بن ابی اور دوسرے منافقین کے بعض نفاق جب ظاہر ہوتے تھے تو صحابہ انہیں قتل کردینے کی اجازت طلب کرتے تھے ، مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلّم اس کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ اگر منافقین کو قتل کرنا شروع کردیا گیا تو ان الناس یتحدثون ان محمداً یقتل اصحابہ لوگ باتیں بنانے لگیں گے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم اپنے ساتھیوں کو قتل کرنے لگے ہیں۔ اور اس طرح دین کی تبلیغ میں رکاوٹ پڑے گی۔ لہٰذا حضور ﷺ منافقین کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ البتہ ان پر زبانی کلامی سختی کا حکم دیتے تھے۔ گویا کافروں کے ساتھ عملی سختی کا حکم تھا اور منافق کے ساتھ زبانی سختی روا تھی۔ بہرحال اس آیت میں مذکورہ وہ لوگ ہیں۔ جو دراصل کافر ہی تھے۔ مگر چاپلوسی کے ذریعے مسلمانوں کو اپنی حمایت کا یقین دلاتیت ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کا راز فاش کردیا اور ان کے ساتھ مقاتلہ کی اجازت دیدی بلکہ حکم صادر فرما دیا۔
البتہ جن لوگوں سے لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی ، ان کا ذکر اگلی آیت میں آئے گا۔ یہ بعض قسم کے منافقین ہیں جنہیں مخصوص حالات میں لڑائی سے مستثنیٰ کردیا گیا ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئیگی۔
Ayahs 4:90–91ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا ، کہ وہ منافقین کے بارے میں دو رائیں نہ رکھیں بلکہ ان کے خلاف واحد مشترکہ پالیسی اختیار کریں۔ اعتقادی منافقین کو یہ رعایت حاصل ہے کہ انہیں قتل نہ کیا جائے بلکہ زبانی طور پر ان سے سختی برتنی چاہیے ، البتہ انہیں قتل کرنے کا حکم نہیں ہے ان کا اعتماد صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے کہ وہ جماعت المسلمین میں پورے خلوص کے ساتھ داخل ہوجائیں اور پھر ان کے ساتھ جہاد میں بھی شریک ہوں۔ محض زبانی کلمہ پڑھ لینے سے ان پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ، گزشتہ درس میں جن منافقین کا ذکر تھا ، وہ دراصل کافر ہیں ، جو مسلمانوں سے مل کر محبت کا اظہار کرتے ہیں اور چاپلوسی بھی کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کی طرف سے کسی ممکنہ تکلیف سے بچ جائیں ادھر جب اپنی کفار کی جماعت میں جات ہیں۔ تو ان کے ساتھ تعاون کرتے ہیں ایسے منافقین کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے متعلق دورائیں نہ رکھو ، یہ خدا اور اس کے دین کے دشمن ہیں۔ ان کا حکم خالص کافروں جیسا ہے انہیں جہاں بھی پاؤ ان کے ساتھ لڑائی کرو۔ انہیں اپنا دوست اور مددگار نہ سمجھو ، یہ خطرناک لوگ ہیں۔
رعایت بوجہ معاہدہ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے واضح کیا ہے کہ صرف دو صورتیں ایسی ہیں جن میں مذکورہ کفار منافقین کو رعایت دی جاسکتی ہے اور یہ مسلمانوں کے عتاب سے بچ ستے ہیں۔ فرمایا الا الذین یصلون الی قوم وہ لوگ مستثنا ہیں جو ایسے لوگوں سے ملتے ہیں بینکم وبینہم میثاقٌ کہ تمہارے اور اس قوم کے درمیان عہدو پیمان ہوچکا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس گروہ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوچکا ہے ، اس کے ساتھ لڑنے کی اجازت نہیں۔ اور اگر یہ منافق قسم کے کافر تمہارے ساتھ معاہدہ میں شریک لوگوں سے جا ملتے ہیں۔ تو پھر اس معاہدہ کی رُو سے ان کو بھی امان حاصل ہوگی اور ان کے ساتھ جنگ نہیں کی جائے گی۔ اس کی مثال معاہدہ صلح حدیبیہ ہے اس معاہدہ کی رو سے بعض قبائل مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگئے تھے اور بعض نے قریش مکہ کے ساتھ شریک ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ چناچہ بنو خزاعہ مسلمانوں کے حلیف تھے اور بنو کنانہ قریش مکہ کے تو فرمایا کہ اس قسم کے عہدو پیمان میں شامل لوگوں کے ساتھ لڑائی کی اجازت نہیں۔ لہٰذا اگر یہ کفار منافقین کسی ایسے فریق کے ساتھ اتحاد کرلیتے ہیں جس کے ساتھ تمہارا بعض شرائط پر معاہدہ ہوچکا ہے تو پھر ان کے ساتھ بھی لڑنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ استثنیٰ کی پہلی صورت ہے۔
رعایت بوجہ عجز
فرمایا ایسے لوگوں کے ساتھ رعایت برتنے کی دوسری صورت یہ ہے اوجاء وکم حصرت صدورہم ان یقاتلوکم او یقاتلوقومہم کہ وہ تمہارے پاس اس حالت میں آجائیں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ لڑنے یا کفار کے ساتھ لڑنے سے تنگ آ چکے ہیں وہ اس قدر عاجز آ چکے ہیں اور اپنے آپ کو اتنا بےبس پاتے ہیں کہ نہ تم سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں اور نہ تمہارے ساتھ مل کر اپنی قوم کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔ تو فرمایا ایسے لوگوں کو بھی رعایت حاصل ہے کہ مسلمان ان کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں۔
حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں اس قسم کے بعض واقعات ملتے ہیں مثلاً سراقہ بن مالک ؓ مدلجی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا اور عرض کیا کہ حضور ! معلوم ہوا ہے کہ آپ ہمارے قبیلہ مدلج کی طرف حضرت خالد بن ولید ؓ کو سرکوبی کے لیے بھیج رہے ہیں ، مگر ہماری پالیسی اس وقت یہ ہے کہ ہم آپ کے خلاف بھی نہیں لڑتے ، نہ دوسروں کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہم تو قریش کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اگر وہ اسلام قبول کرلیں گے ، تو ہم بھی کرلیں گے۔ اگر وہ نہیں مانتے ، تو پھر ہم از خود سوچیں گے کیا کرنا ہے۔ بہرحال ہم مسلمانوں کے خلاف ہرگز نہیں۔ تو فرمایا جو لوگ اس قسم کی عاجزی کا اظہار کریں کہ وہ نہ از خود مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوں اور نہ اسلام کے خلاف دوسروں کی مدد کریں تو ان کے ساتھ بھی لڑائی کی اجازت نہیں ہے ، وہ بھی مستثنیٰ ہیں۔
اللہ کی خاص مہربانی
فرمایا ولو شاء اللہ لسلطہم علیکم اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کردیتا فلقتلوکم اور تم سے لڑائی کرتے۔ مگر یہ اس مالک الملک کی خاص مہربانی ہے کہ انہیں تم پر غالب نہیں ہونے دیا۔ فان اعتزلوکم پس اگر یہ تم سے الگ رہیں فلم یقاتلوکم اور تمہارے ساتھ لڑائی کرنے سے باز رہیں والقوا الیکم السلم اور تمہاری طرف صلح کی پیش کش ڈالیں۔ فما جعل اللہ لکم علیہم سبیلاً ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف تمہارے لیے کوئی راستہ نہیں بنایا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ تم سے آمادہ جنگ نہیں ہوتے بلکہ صلح کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو پھر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہو۔ یہ صلح و جنگ کے قوانین ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔ اسلام کسی دشمن کے خلاف بھی اس وقت تک کارروائی کی اجازت نہیں دیتا جب تک اس کا شر و فساد واضح نہ ہوجائے لہٰذا ایسے کفار کے ساتھ بھی جنگ نہ کرو ، جو تمہارے ساتھ جنگ کرنے کی بجائے صلح پر آمادہ ہیں۔ یہ بھی ایک قسم کا معاہدہ ہے اور مسلمان معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ فرمایا اس قسم کی پیش کش کو قبول کرلو۔
قوانین صلح و جنگ
صلح و جنگ کے بعض قوانین اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں بیان کیے اور بعض دیگر قوانین سورة انفال ، سورة توبہ اور سورة فتح میں بھی آتے ہیں۔ یہ ایک پورا نظام صلح و جنگ ہے۔ مگر چونکہ ہم اپنے اجتماعی نظام سے منسلک نہیں ہیں ، اس لیے ہمیں علم ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں کیا قوانین نازل فرمائے ہیں۔ صلح و جنگ کے یہ بنیادی اصول اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اور ان کی شرح احادیث میں موجود ہے۔ پہلی صدیوں میں ان پر ضخیم کتابیں لکھی گئی ہیں اور انہیں عمل درآمد کے لیے بالکل واضح کردیا ہے دنیا کے کسی مذہب اور لٹریچر میں یہ قوانین اس قدر وضاحت کے ساتھ موجود نہیں جس قدر اسلام نے پیش کیے ہیں۔ مگر آج کی دنیا میں ہم اغیار کے رحم و کرم پر ہیں۔ سیاست بھی اسی کی چلتی ہے جس کا غلبہ ہو غالب قومیں اپنی مرضی کے قوانین نافذ کرتی ہیں۔ جو سرا سرناانصافی پر مبنی ہوتے ہیں۔ آج اسلام کے قانون کو کون پوچھتا ہے۔ حالانکہ یہ منزل من اللہ ہے اور اعلیٰ وارفع ہے۔ یہ قانون حضور ﷺ نے عملی طور پر نافذ کر کے دکھائے آپ کے دس سالہ مدنی دور میں چھوٹی بڑی پچاس جنگیں ہوئیں۔ آٹھ جنگوں میں تو باقاعدہ آمنے سامنے لڑائی ہوئی اور بعض میں لڑائی کی نوبت نہیں آئی اگرچہ اسلامی لشکر میدان جنگ میں پہنچ گیا۔ آپ نے اپنی زندگی میں اسی محاذ پر بڑی فوج بھیجی اور کسی پر چھوٹے دستے۔ کہیں مجاہدین کی تعداد ہزاروں میں تھی اور کہیں سینکڑوں میں۔ مگر آپ نے قوانین صلح و جنگ کو نافذ کر کے ان پر عمل کر کے دکھادیا۔ بہرحال فرمایا کہ یہ منافق نما کافر صرف دوصورتوں میں مسلمانوں کے عتاب سے بچ سکتے ہیں یا تو یہ ان لوگوں کے ساتھ اتحاد کرلیں جن کے ساتھ مسلمانوں کا عہدو پیمان ہوچکا ہے اور یا وہ اتنے عاجز آ چکے ہوں کہ نہ تمہارے ساتھ لڑنے کی اہمیت پاتے ہوں اور نہ ہی اپنی قوم کے خلاف آواز اٹھانے کے قابل ہوں۔ لہٰذا اگر وہ صلح کا ہاتھ بڑھائیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔
فتنہ پرور لوگ
اس کے بعد فرمایا ستجدون اخرین تم بعض ایسے لوگوں کو بھی پاؤ گے۔ یریدون ان یامنوکم جو چاہتے ہیں کہ تمہاری طرف سے بھی امن میں رہیں ویامنوقومہم اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ فرمایا یہ فتنہ پرور لوگ ہیں۔ ان کی خصلت یہ ہے کہ کلما ردوا الی الفتنۃ جب انہیں فتنہ کی طرف پلٹایا جاتا ہے۔ ارکسوا فیھا تو فوراً اس کی طرف پلٹا دیے جاتے ہیں۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں فتنہ سے مراد کفر اور شرک ہے اور مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے مسلمانوں اور کفار دونوں طرف سے مامون و محفوظ رہنا چاہتے ہیں۔ مگر جونہی انہیں موقع ملتا ہے یہ فوراً کفر و شرک کی طرف لوٹ جاتے ہیں گویا ان کے دلوں میں اسلام کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ لوگ مسلمانوں کی طرف سے کی جانے والی کسی کارروائی سے بچنے کی خاطر ان کے ساتھ چاپلوسی کا اظہار کرتے ہیں ، حقیقت میں ان کا رجحان کفر و شرک کی طرف ہی ہے مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں بنی اسد اور بنی عظفان کے قبائل کا یہی حال تھا۔ وہ کفار اور مسلمانوں دونوں طرف سے مامون رہنا چاہتے اور دونوں طرف اپنی ہمدردی کا یقین دلاتے تھے۔ مگر جونہی موقع ملتا ، وہ کفر و شرک میں مبتلا لوگوں کے ساتھ مل جاتے اور اس طرح اسلام کی عملی طور پر مخالفت کرتے۔
ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فان لم یعتزلوکم اگر یہ تم سے الگ نہ رہیں ویلقوا الیکم السلم اور صلح کی پیش کش نہ کریں ویکفوا ایدیہم اور اپنے ہاتھوں کو تمہارے خلاف لڑنے سے نہ روکیں۔ مقصد یہ کہ اس قسم کے فتنہ پرداز لوگ اہل ایمان کے ساتھ تعاون نہ کریں بلکہ موقع ملنے پر انہیں نقصان پہنچانے کے درپے ہوں فخذوہم پھر ان کو پکڑ لو ، واقتلوہم ان کے ساتھ لڑائی کرو حیث ثقفتموہم جہاں بھی انہیں پاؤ ۔ اب ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں۔ و ہ جہاں بھی ملیں ان سے لڑو۔ یہ عرب کے مشرکین تھے اور بظاہر مسلمانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے تھے مگر دل سے کفار کے ساتھ ہی تھے۔
جزیرۃ العرب کی پاکیزگی
امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ مشرکین عرب کے متعلق اللہ تعالیٰ کا آخری فیصلہ یہی ہے کہ انہیں جہاں بھی پاؤ ، مارو۔ فتح مکہ کے بعد مشرکین کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا ، کچھ لوگ مرتد ہوگئے ، جن خاتمہ کردیا گیا اور باقی وہاں سے بھاگ گئے۔ مقصد یہ تھا کہ جزیرۃ العرب کو مشرکین کی نجاست سے بالکل پاک کردیا جائے کیونکہ اس خطہ زمین کو مرکز اسلام کی حیثیت دلانا مقصود تھا۔ حضور ﷺ کا اپنا بھی ارشاد موجود ہے کہ جزیرہ نما عرب میں دو دین نہیں چل سکتے ، یہاں ایک ہی دین ہوگا اور وہ دین اسلام ہے جب وہاں پر حق آ گیا تو باطل کو جانا ہی تھا۔ وہاں پر ایک قبلہ ہوگا ، دوسرا نہیں۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اس سرزمین میں جزیہ کے عوض بھی کسی کو امان دینا روا نہیں کیونکہ وہاں دو دین نہیں چل سکتے۔ دوسرے مقامات پر تو غیر مسلم جزیہ ادا کر کے مامون ہو سکتے ہیں لیکن اس پاک سرزمین پر ایسا کرنے کی گنجائش بھی نہیں۔ وہاں کا اٹل فیصلہ یہی ہے کہ اسلام قبول کرلو ، یا وہاں سے چلے جاؤ ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔
اباحت خون
فرمایا اگر یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائیں ، صلح کی پیش کش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو پھر یہ جہاں ملیں انہیں قتل کرو۔ یہ مباح الدم لوگ ہیں۔ ان لوگوں کا خون تمہارے لیے مباح ہے۔ معاہدہ یا صلح کی صورت میں تو خون گراناحرام ہوتا ہے۔ مگر اس قسم کے سازشی لوگوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ان کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسا کھلے کافروں کا واولیکم جعلنا لکم علیہم سلطاناً مبیناً یہی لوگ ہیں کہ ہم نے تمہارے لیے ان پر غلبہ یا کھلی سند بنائی ہے۔ یعنی ان فتنہ پرور لوگوں کا خون تم پر مباح کردیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکوبی کی اجازت دے دی ہے لہٰذا مذکورہ صورتوں کے خلاف یہ جہان بھی چاہے جائیں ، انہیں قتل کر دو ۔