Ayahs 4:71–74ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کے لزوم کا بیان تھا۔ اور اسے کامیابی کا ذریعہ بتلایا گیا تھا ، پھر اس اطاعت کے فوائد گنوائے گئے کہ اطاعت گزاروں کو نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کی معیت نصیب ہوگی جو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اس سے پیشر اطاعت ہی کے ضمن میں منافقین کا اعراض اور ان کی مذمت بیان ہوئی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے تنازعات کا رُخ رسول خدا کی بجائے طاغوت کی طرف موڑتے ہیں پھر یہ بھی بیان ہوا کہ منافقین کے ساتھ کیا روش اختیار کرنی چاہیے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا کیونکہ تقویٰ ہی مومنین کا مقصود ہے۔ اس ضمن میں حلال و حرام کا امتیاز واضح کیا گیا۔ محرکات نکاح کی وضاحت ہوئی۔ وراثت کے مسائل بیان ہوئے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا تذکرہ ہوا اور خاص طور پر یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی تاکید کی گئی۔ اہلِ کتاب کی قباحتوں کو بیان کر کے ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ، یہ سب تقویٰ ہی کی جزیات ہیں پھر اسی ضمن میں دین کے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کا بیان ہے مخالفین کے ساتھ جہاد اور قتال بھی حصول تقویٰ ہی کا ذریعہ ہے کیونکہ اس کے ذریعے اللہ کا حکم غالب آتا ہے ، لہٰذا آج کی آیات سے جہاد کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے جس کے مضامین اور متعلقات آئندہ تقریباً چھ رکوع تک بیان ہونگے۔
دفاع کے لیے تیاری
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے صاحب ایمان لوگو ! خذوا حذرکم اپنے بچاؤ کا سامان کرلو۔ حذر کا معنی احتیاط ہوتا ہے ، یعنی اپنی حفاظت کا بندوبست کرلو کیونکہ اب دشمن سے ٹکر لینا ضروری ہوگیا ہے۔ بچاؤ یا دفاع کے سلسلے میں جن جن ہتھیاروں یا دیگر لوازمات کی ضرورت پیش آتی ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان سب کو جمع کرنے اور اپنی قویٰ کو مجتمع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس ضمن میں مفصل احکامات سورة انفال اور توبہ میں بیان ہوئے ہیں کیونکہ ان سورتوں کا موضوع ہی ” اسلام کا قانونِ جنگ اور صلح “ ہے۔ وہاں پر اللہ تعالیٰ نے یہی حکم ان الفاظ کے ساتھ دیا ہے۔ ” واعدوا لہم ما استطعت من قوۃٍ و من رباط الخیل “ یعنی اپنی پوری طاقت کے ساتھ دشمن سے مقابلے کے لیے تیر رہو۔ وہاں پر گھوڑوں کا خاص طور پر ذکر کیا کہ اس زمانے میں میدانِ جنگ میں سامان حرب کے علاوہ گھوڑوں کو بھی خاص اہمیت حاصل ہوتی تھی۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق اس زمانے میں تیر اندازی بھی نہایت ہی موثر طریقہ جنگ تھا۔ چناچہ تیر اندازی سیکھنا ضروری اور سیکھ کر بھلا دینا یعنی اس کی مشق ترک کردینا گناہ تھا۔ بہرحال من قوۃ میں حرب و ضرب کے تمام وہ ذرائع آجاتے ہیں جو جنگ کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ اس زمانے میں تلوار ، تیر ، نیزہ وغیرہ تھے۔ اب گردش زمانہ کے ساتھ ساتھ اوزارِ جنگ بھی تبدیل ہو رہے ہیں۔ تیر تلوار کے بعد آتشیں اسلحہ ایجاد ہوا ، بندوق آئی ، پھر توپ بنائی گئی۔ بم تیار ہوئے اور پھر انہیں پھینکنے کے لیے تیز رفتار ہوائی جہاز ایجاد ہوئے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر راکٹ اور میزائل بنائے گئے جن کے ذریعے گھر بیٹھے دشمن پر وار کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال مقصد یہ ہے کہ دشمن سے نبرد آزما ہونے کے لیے جس جس زمانہ میں جس جس سامانِ دفاع کی ضرورت ہو ، وہ سب جمع کرلو اور اپنی تمام تر قوتیں اور وسائل اس کام پر لگادو۔
جدید ٹیکنالوجی
جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت
خذواحذرکم میں یہ بات بھی آتی ہے کہ ہر زمانے میں کامیاب جنگ لڑنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی کا حصول بھی ضروری ہے۔ اس کے بغیر کوئی قوم دشمن کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ اس ضمن میں مسلم اقوام تقریباً گزشتہ چار سو سال سے انحطاط کا شکار ہیں۔ ترکوں نے بڑی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ اب اس دور میں جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، روس اور امریکہ کے پاس ہے۔ انہوں نے بڑی کوشش اور محنت سے جدید ٹیکنالوجی حاصل کی ہے اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خطرناک سے خطرناک اسلحہ تیار کر رہے ہیں۔ ایٹم بم پھینکنے کا واحد تجربہ امریکہ دوسری جنگ عظیم میں کرچکا ہے اب روس اور امریکہ کے درمیان دور مار میزائلوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ اور دنیا میں یہ خطرہ محسوس کیا جارہا ہے کہ اب اگر عالمی جنگ چھڑ گئی تو اس قسم کے خطرناک ہتھیار دنیا کو تباہی کے منہ میں دھکیل دیں گے۔ اس کے مقابلے میں مسلم ممالک کی حالت زار یہ ہے کہ بڑی طاقتوں سے بچے کھچے ہتھیاروں کی بھیک مانگ رہے ہیں اور انہیں یقین دلا رہے ہیں کہ ہمیں فلاں فلاں سامان جنگ دے دو ، کسی ضرورت کے وقت ہم بھی تمہارے ساتھ ہوں گے ، مگر غیر مسلم بڑی عالمی طاقتیں (Super Powers) جدید ترین اسلحہ ، مسلم ممالک کو دینے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتیں ، انہیں خطرہ ہے کہ یہ ہتھیار خود ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ آج اسلامی دنیا کے پا س وسائل موجود ہیں۔ مگر ٹیکنالوجی نہیں ۔ وہ ذہنی طور پر مغلوب ہوچکے ہیں۔ بڑی طاقتوں نے انہیں غلام بنا رکھا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر ایسا جادو کردیا ہے کہ ان میں حریت کا مادہ ہی ختم ہوچکا ہے۔ آج اسلامی دنیا کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ سب مل کر اپنے وسائل جمع کرلیں اور جدید ٹیکنالوجی حاصل کریں اس کے ذریعے سامانِ دفاع تیار کریں تاکہ بوقت ضرورت دشمن پر بھرپور وار کیا جاسکے۔
سلف کے کارنامے
ہمارے اسلاف نے تمام ممکن ذرائع استعمال کیے اور جان پر کھیل کر بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ مصر کی فتح میں حضرت زبیر ؓ نے عظیم قربانی پیش کی۔ قلعہ مضبوط تھا اور سَر ہونے میں نہیں آتا تھا۔ آپ نے ساتھیوں سے کہا کہ مجھے ٹوکرے میں ڈال کر قلعے کی دیوار سے کس طرح قلعے کے اندر پھینک دو کہ اب یہی ایک طریقہ باقی رہ گیا ہے۔ آپ کے ساتھیوں نے ایسا ہی کیا آپ نے قلعہ میں داخل ہوتے ہی اندھا دھند تلوار چلانی شروع کردی ہے مصری سمجھے کہ مسلمانوں کی پوری فوج قلعہ میں داخل ہوگئی ہے لہٰذا انہوں نے بھاگنے کے لیے قلعہ کے دروازے از خود کھول دیے۔ پروگرام کے مطابق مجاہدین قلعہ سے باہر منتظر تھے ، جونہی دروازہ کھلا انہوں نے یکبارگی حملہ کردیا اور اس طرح یہ مضبوط قلعہ فتح ہوا۔ یہی حضرت زبیر ؓ ہیں جنہوں نے شامیوں کے ساتھ جنگوں میں اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ایک ایک لاکھ دشمن کی صوفوں میں تن تنہا گھس جاتے تھے۔ بخاری شریف کی روایت کے مطابق انہوں نے اپنے بیٹے عروہ (رح) سے کہا بیٹے ! میرے جسم کی کوئی ایک انچ جگہ بھی زخم سے خالی نہیں۔ میں نے بڑی بڑی جنگیں لڑی ہیں ، مگر شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ موت تو آخر اپنے وقت پر ہی آئے گی۔ ایک موقع پر دشمن کا نیزہ آپ کے جسم سے آر پار ہوگیا ، اگرچہ زخم مندمل ہوگیا مگر وہاں پر ایک کڑا سا بن گیا تھا ، میں ہاتھ ڈا ل کر عروہ (رح) بچپن میں کھیلا کرتا تھا۔
جنگی حکمت عملی
بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اپنی قوت ، سرمائے اور دیگر وسائل کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو۔ مسلمان مادی لحاظ سے اگرچہ کمزور ہیں تاہم اگر قوت ایمان بھی موجود ہو تو پھر بھی مسلمان ناقابل تسخیر ہوتا ہے مگر افسوس کہ مسلمان اس سے بھی محروم ہیں۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ ایمان والو ! اپنے دفاع کے لیے ہر مطلوبہ سامان مہیا کرو ، جدید ترین آلات حرب سے لیس ہونے کی کوشش کرو اور پ ھر مناسب جنگی حکمت عملی کے تحت دشمن پر حملہ آور ہو۔ اور اس سلسلہ میں فانفروا ثباتٍ او انفروا جمیعاً نکل کھڑے ہو گروہوں کی صور ت میں یا سب اکٹھے ہو کر۔ مقصد یہ ہے کہ موقع کی مناسبت سے خواہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں حملہ آور ہو یا یکدم پوری قوت اور لشکر جھونک دو ۔ جس طریقے سے کامیابی کا امکان ہو ، وہی طریقہ استعمال کرو۔ بعض اوقات کھلے عام ٹکر لینے کی بجائے گوریلا وار زیادہ مناسبِ حال ہوتی ہے ویٹ نامیوں نے امریکہ کے خلاف دس سال تک گوریلا جنگ لڑی جس میں تیس لاکھ آدمی ہلاک ہوئے اور بالآخر امریکہ کو ویت نام سے جانا ہی پڑا۔ بہرحال فرمایا کہ پوری تیاری کے بعد مناسب طریقہ سے جنگ کا آغاز کرو۔
منافقین کی روش
جہاں اہل ایمان کو جنگ کی ترغیب دی جا رہی ہے وہاں منافقین کے نفاق کا پردہ بھی چاک کیا جا رہا ہے۔ و ان منکم لمن لیبطن اور تم میں سے بعض ایسے ہیں جو تاخیر کرتے ہیں۔ یعنی جب مجاہدین کی روانگی کا وقت آتا ہے تو منافق لوگ حیلے بہانے سے روانگی میں دیر کرتے ہیں تاکہ کسی طرح جنگ میں شریک ہونے سے بچ جائیں اور جنگ کے نتیجے میں ایسا بھی ہوتا ہے فان اصابتکم مصیبۃٌ اگر تم پر یعنی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے۔ شکست آجاتی ہے یا جانی اور مالی نقصان ہوجاتا ہے تو منافق کہتا ہے۔ قال قد انعم اللہ علی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر ڑا حسان کیا ہے اذ لم اکن معہم شہیداً کہ میں ان مجاہدین کے ساتھ شامل نہیں تھا۔ اگر ان کے ساتھ جہاد میں شریک ہوجاتا تو مجھ پر بھی وہی آفت آتی جو ان پر آئی ہے۔ اور اگر اگر کے برخلاف و لئن اصابکم فضل من اللہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا فضل حاصل ہوجائے فتح حاصل ہو یا مال غنیمت ہاتھ آئے تو منافق کی حالت یہ ہوتی ہے۔ لیقولن کان لم تکن لبینکم و بینہ مودۃٌ گویا تمہارے اور اس کے درمیان دوستی کا کوئی تعلق ہی نہیں۔ اسے تمہاری کامیابی پر قطعاً کوئی خوشی نہیں ہوتی اور پھر بالکل اجنبی بن کر کہتا ہے یلیتنی کنت معہم کاش کہ میں بھی مجاہدین کے ہمرکاب ہوتا فافوز فوزاً عظیماً تو مجھے بھی بہت بڑی کامیابی حاصل ہوتی اور میں بھی ایمان والوں کے برابر مفاد حاصل کرتا۔
مسلمان بحیثیت جماعت
یہ تو منافق کا حال بیان کیا گیا ہے۔ مگر پکے سچے مسلمان کی حالت یہ ہے کہ شکست ہوجائے یا کوئی دیگر نقصان ہوجائے تو ہر مسلمان کو اس پر دلی افسوس ہوتا ہے اور اگر مسلمان کی جماعت کامران ہوجاتی ہے تو ہر مسلمانوں کو خوشی حاصل ہوتی ہے کہ الحمد للہ ہماری جماعت کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مگر منافق ہمیشہ اپنے ذاتی نفع و نقصان پر نظر رکھتا ہے۔ مفاد حاصل ہوگیا تو خوش ہوگیا ، ورنہ افسوس کرنے بیٹھ گیا۔ مسلمان اور منافق کے تقابل سے بتانا یہ مقصود ہے کہ مسلمان من حیث الجماعت ہی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں کیونکہ ید اللہ علی الجماعۃ جماعت پر اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے ، اسے خداوند عالی کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے اور جب جماعت کی بجائے انفرادیت پیدا ہوگی تو پوری قوم خود غرضی کا شکار ہو جائیگی اور تباہی کے کنارے پر پہنچ جائے گی۔ من شذ شذ فی النار جو جماعت سے علیحدہ ہوگیا وہ جہنم رسید ہوگیا۔ انفرادیت کی جڑ خود غرضی ہوتی ہے اور جب انفرادیت آتی ہے تو جماعت اور ملت خراب ہوجاتی ہے اور مسلمان بحیثیت قوم مغلوب ہوجاتا ہے۔
طبری نے لکھا ہے کہ قروان اولیٰ میں مسلمان ایک مضبوط قوم کی حیثیت سے زندہ تھے۔ جب جنگ کے نتیجے میں قید ہونے والے قیدیوں کا تبادلہ کیا جاتا تھا تو انہیں اختیار دیا جاتا تھا کہ وہ چاہیں تو کافروں کے ساتھ واپس چلے جائیں اور اگر وہ مسلمان ہو کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہونا چاہیں تو انہیں خوش آمدید کہا جائیگا کہتے ہیں کہ اس طریقے سے اگر کوئی کافر قیدی مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوجاتا تھا تو مسلمانوں کو اس قدر خوشی حاصل ہوتی تھی۔ گویا انہیں دنیا ومافیہا کی ہر چیز میسر آگئی اور اگر کوئی ایک مسلمان بھی کفار کے ساتھ جا ملتا تھا تو مسلمانوں پر غم واندوہ کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ ہماری ساری دنیا ہی لُٹ گئی ہے۔ مگر آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے اپنے ملک پاکستان میں کتنے لوگ دائرہ اسلام سے نکل کر عیسائیت اور مرزائیت کی آغوش میں جاچکے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج ایسے واقعات سے ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ جب زیاں کا احساس تک باقی نہ رہے تو اس سے بڑھ کر بدبختی کیا ہو سکتی ہے۔
کامیابی کی کلید
مسلمانوں کو قعر مذلت سے نکالنے کے لیے فرمایا فلیقاتل فی سبیل اللہ پس چاہیے کہ اللہ کے راستے میں لڑیں وہ لوگ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ جو بیچتے ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں۔ مقصد یہ کہ اہل ایمان محض اعلائے کلمۃ اللہ کی خاطر جنگ میں کود جائیں۔ ان کا یہ جہاد ، دولت ، شہرت اور سلطنت کیل یے نہیں بلکہ اللہ کے دین کی بلندی کے لیے ہونا چاہئے۔ اس مضمون کو سورة توبہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔ ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور مال جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ مومن مال اور جان کی بازی اس لیے لگاتا ہے کہ اسے ایمان میں کمال حاصل ہوجائے اور اس کی ذات میں قرآن کا اخلاق پیدا ہوجائے۔ وہ اس راستے کی ہر رکاوٹ کو دور کرتا چلا جاتا ہے ، یہی ایک مومن کی شان ہے۔ وہ اپنی جان و مال کا نذرانہ پیش کر کے عزت اور ابدی مقام جنت کا ٹکٹ حاصل کرتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ ڈالنے والے یا تو ملوک ہوتے ہیں یا غلط قسم کے مولوی اور پیر یہی طاغوت ہیں۔ کیونکہ قرآن پاک کی اصطلاح میں ہر وہ طاقت طاغوت ہے جو ایمانی اور قرآنی اخلاق کی تکمیل میں رکاوٹ بنتی ہے۔
اجرِ عظیم
آگے فرمایا و من یقاتل فی سبیل اللہ جو کوئی اللہ کی راہ میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ فیقتل تو خواہ وہ قتل کردیا جائے یعنی شہید ہوجائے اویغلب یا دشمن پر غالب آجائے۔ اللہ تعالیٰ فتح عطا کر دے ، دونوں صورتوں میں فسوف نوتیہ اجراً عظیماً عنقریب ہم اسے اجر عظیم عطا کریں گے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ تکفل اللہ للمجاہدین اللہ تعالیٰ نے مجاہدوں کو ضمانت دے رکھی ہے کہ اگر شہید ہوگیا تو اسے اللہ تعالیٰ بلند ترین مرتبے تک پہنچائیں گے اور اگر غازی بن کر آیا تو دنیوی اعتبار سے بھی مستحق اجر ہوگا کہ اسے مال غنیمت سے حصہ ملے گا۔ جہاد اس قدر بلندمرتبہ چیز ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ذروۃ سنامہ الجہاد یعنی اسلام کی بلندی جہاد میں ہے حدو داللہ جہاد کے ذریعے ہی قائم ہو سکتے ہیں۔ جب تک مسلمانوں میں جذبہ جہاد زندہ رہے گا ، وہ غالب رہیں گے۔ جب ضرورت پڑے گی میدانِ جنگ میں کودنے سے دریغ نہیں کریں گے اور خود اپنے دفاع کو مضبوط رکھیں گے۔ اسی عمل میں ان کے لیے دنیا کی عزت اور آخرت کی فلاح ہے۔
Ayahs 4:75–76ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور رسول کی اطاعت کو فرض قرار دیا۔ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا انحصار اطاعت ہی پر ہے۔ جن لوگوں کو اطاعت نصیب ہوجاتی ہے ، ان کے دین میں پختگی آجاتی ہے ، اجرِ عظیم کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ انہیں صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کرتا ہے اس کے نتیجے میں اطاعت گزار لوگوں کو آخرت میں انبیائ ، اصدقا ، شہدا اور صالحین کی رفاقت نصیب ہوجاتی ہے۔
معاملات کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ کفر و شرک کے علمبرداروں کے ساتھ کس طرح پیش آنا چاہیے۔ پھر اہل ایمان کو خصوصی خطاب فرمایا خذوا حذرکم یعنی دشمن سے بچاؤ کے لیے ہر ممکن تدبیر اختیار کرلو۔ اسلحہ جمع کرلو اور پھر جنگی حکمت عملی کے تحت خواہ گروہوں کی صورت میں دشمن پر حملہ آورہوجاؤ یا پوری طاقت کے ساتھ یکبارگی ٹکراؤ جاؤ ، حالات کے مطابق دونوں صورتیں روا ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دشمن کے مقابلہ سے گریز کرنے والوں کو منافقین کے زمرہ میں شمار کیا اور فرمایا کلمہ پڑھنے کے باوجود بعض لوگ منافق ہیں۔ فرمایا مقابلے میں اگر مسلمانوں کو نقصان ہوجائے تو منافقین خوش ہوتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم ان کے ساتھ شامل نہیں تھے ، ورنہ ہم بھی مصیبت میں گرفتار ہوجاتے۔ برخلاف اس کے اگر مسلمان دشمن سے مقابلے میں کامیاب لوٹیں تو یہ لوگ کفِ افسوس ملتے ہیں اور حسرت کے ساتھ کہتی ہیں کاش کہ ہم بھی مال غنیمت اور دیگر مفاد میں مجاہدین کے ساتھ شریک ہوتے۔
اب آگے اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب دی ہے۔ اور فرمایا کہ اہل ایمان قرآنی اصولوں پر مبنی اخلاق اور آخرت کی فلاح کے لیے اپنی ہر چیز قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں ۔ حتیٰ کہ بوقت ضرورت جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ جہاد اور اس سے متعلقات کا سلسلہ آگے تقریب چھ رکوع تک چلے گا۔ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا بطور خاص ذکر فرمایا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ مومن محض اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے ، اس کے پیش نظر کوئی ذاتی مفاد ہرگز نہیں ہوتا اور دوسری بات یہ ہے کہ مظلوم ظلم سے نجات دلانا اہل ایمان کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔
جہاد فی سبیل اللہ
ارشاد ہوتا ہے ومالکم لاتقاتلون فی سبیل اللہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں لڑائی نہیں کرتے۔ یہ پہلی بات ہے۔ فی سبیل اللہ کا ذکر قرآن پاک میں کثرت سے ملتا ہے اور اس سے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ اہل ایمان کی دشمن کے ساتھ جنگ نہ کسی ذاتی مفاد کے لیے ہے ، نہ ہوس ملک گیری ہے اور نہ نسلی ، وطنی یا زبان کی بنیاد پر کسی کی مخالفت مقصود ہے بلکہ جہاد فی سبیل اللہ کا واحد مقصد اعلائے کلمۃ اللہ ہے۔ اللہ کا دین تمام ادیان پر غالب آجائے اور اہل دنیا پر ثابت ہوجائے کہ ” کلمۃ اللہ ہی العلیا “ ہر مقام پر اللہ کی بات کو ہی برتری حاصل رہے۔ اسی موضوع کو سورة فتح میں یوں بیان کیا گیا ہے ” ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ “ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دیکر بھیجا ہے تاکہ اسے ادیانِ عالم پر غالب کیا جاسکے۔ چناچہ جب تک مسلمان جہاد کے لیے کمربستہ رہے ، کامیابی ان کے قدم چومتی رہی۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت تک مسلمانوں میں جذبہ جہاد قائم تھا لہٰذا مسلمانوں کو ہر میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ اس وقت نہ کوئی فرقہ تھا ، نہ پارٹی اور نہ اہل اسلام میں اختلاف رائے تھا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا اپنا زمانہ مبارک پھر شیخین حضرات ابوبکر صدیق ؓ ، اور فاروق اعظم ؓ کا دور خلافت اور حضرت عثمان ؓ کے ابتدائی چھ سال کا عرصہ تاریخ اسلام میں نمونہ کے طور پر محفوظ ہے جو امور اس نمونہ کے مطابق انجام دیے جائیں گے ، وہی درست ہوں گے ، اس نمونہ سے ہٹ کر انجام پانے والے امور کی گارنٹی نہیں دی جاسکتی۔ حضرت علی ؓ اور امیر معاویہ ؓ کے درمیان جنگ صفین تک پچاس سال کے عرصہ میں مسلمان آدھی دنیا پر چھا گئے تھے ، دلیل اور حجت کے اعتبار سے تو حق ہمیشہ غالب ہوتا ہے ، تاہم مذکورہ پچاس سالہ دور میں اہل اسلام کو دنیا میں سیاسی غلبہ بھی حاصل تھا۔ اس لحاظ سے جہاد کو عبادت کا درجہ حاصل ہے فقہائے کرام باب باندھ کر سمجھاتے ہیں کہ عقیدے کی درستگی کے بعد نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور جہاد پانچ عبادات فرض ہیں۔ عام طور پر جہاد فرض کفایہ میں آتا ہے۔ جب مسلمانوں کا ایک گروہ جہاد کے لیے ہر وقت تیار ہو تو پھر تمام لوگوں پر جہاد ضروری نہیں رہتا۔ اور بعض اوقات اگر حالات کا تقاضا ہو تو جہاد ہر مسلمان پر فرض عین بھی ہوجاتا ہے ان آیات میں اسی بات کی توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمان بوقت ضرورت اللہ کی راہ میں کیوں نہیں لڑتے ، دین حق کی تبلیغ کا فریضہ کتنے لوگ ادا کرر ہے ہیں۔ ذاتی مفادات کے لیے کتنے لمبے لمبے سفر کیے جاتے ہیں مگر اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے کیا کچھ کیا جا رہا ہے۔ کفر اپنی پوری قوت کے ساتھ اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہے مگر مسلمان لہو و لعب اور کھیل تماشے میں مصروف ہے۔ وہ دین حق کو غالب کرنے کے سلسلے میں اپنا فرض ادا کرنے سے کیوں گریز ہے۔
جہاد کی راہ میں رکاوٹ
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) ہمارے انقلاب پسند اکابرین میں سے ہیں آپ انگریز کے سخت خلاف تھے۔ وہ آپ سے اس قدر خوفزدہ تھے کہ حجاز کے قیام کے دوران مولانا کے پیچھے جاسوس بھیجتے تھے تاکہ معلوم کیا جاسکے ہمارے خلاف کیا تدبیر کر رہے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں کہ جہاد کے راستے میں رکاوٹ بننے والا ہر فرد منافق ہے ، خواہ وہ مولوی ہو یا پیر۔ سلطان ہو یا بادشاہ ، سرمایہ دار ہو یا دہریہ۔ فرماتے ہیں کہ ملوک و سلاطین اکثر جہاد کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں اور انہوں نے فی سبیل اللہ کا نظریہ ہی خراب کردیا ہے۔ ان کے نزدیک صحیح اور غلط کا کوئی معیار مقرر نہیں ، بیت اللہ کو باپ دادا کی جاگیر سمجھ کر اپنی من مانی کارروائیوں پر صرف کرتے ہیں۔ انہوں نے دین کا نظام ہی درہم برہم کردیا ہے ان کی حمایت علمائے سو کرتے ہیں ، پیر ان کی پشت پر ہوتے ہیں اور اس طرح وہ غلط ملط فتوے حاصل کر کے اپنے مذموم عزائم پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح عوام بیچارے ظلم کی چکی میں پستے رہتے ہیں صاحب اقتدار اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ہر جائز ناجائز کام کر گزرتا ہے اور پھر عالم سطح پر اقتدار کی جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ آج دنیا میں روس اور امریکہ کے درمیان کیا ہو رہا ہے ، محض اقتدار کی ہوس ہے ہر کوئی دنیا میں اپنی چودھراہٹ چاہتا ہے۔ چین اور روس ایک ہی اشتراکی نظریہ کے حامل ہوتے کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہیں۔ محض اقتدار کی بھوک ہے کہ کسی طرح دنیا میں برتری حاصل ہوجائے زیادہ سے زیادہ مالک ان کے ہمنوا ہوجائیں۔ یہ سب مادیت پرستی کا نتیجہ ہے۔ کافر مال و دولت اور اقتدار کے لیے جنگ لڑتا ہے۔ مگر ایک سچا مسلمان اللہ کے دین کی خاطر جہاد کرتا ہے۔ کفر و اسلام کا یہی طرہ امتیاز ہے۔
نظریہ حق و باطل
تاریخ علام پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ غیر اقوام محاذ جنگ پر جانے والے سپاہیوں کے لیے عیاشی کے تمام سامان مہیا کرتی ہیں کیونکہ ان کا مقصد ملک گیری ہوتا ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں ہزاروں ٹن شراپ سپاہیوں کو پلائی گئی ، حتیٰ کہ ان کی عیاشی کے لیے عورتیں بھی مہیا کی گئیں اس جنگ میں امریکہ کے جاپان پر حملہ کے نتیجے میں سوا لاکھ حرامی بچے پیدا ہوئے ، اتنی کثیر تعداد میں جاپانی عورتیں امریکی سپاہیوں کی ہوس کانشانہ بنیں۔ یہ کوائف تو صرف پیدا ہونے والے ناجائز بچوں کے ہیں۔ اس کے علاوہ کیا کچھ ہوا ، وہ تو اللہ ہی کے علم میں ہے۔ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے ان عورتوں کے لیے انعامات کا اعلان کیا تھا جو فوجی سپاہیوں کی خوش طبعی کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں دوسری طرف فی سبیل اللہ کا نظریہ ہے کوئی بدکاری اور عیاشی نہیں محض اللہ کے دین کی سربلندی مطلوب ہے ، جب محمد بن قاسم حملہ آور ہوا توہندوؤں کی حسین ترین لڑکیاں استقبال کے لیے موجود تھیں مگر کسی سپاہی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہیں ہوئی۔ آخر کیا وجہ تھی ان کا ایک ہی مشن تھا اور وہ یہ دین اسلام کو دنیا میں غالب کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ انہوں اتنا لمبا سفر اللہ کے دین کی خاطر کیا ہے ، نہ کہ ذاتی مفاد اور نمود و نمائش کے لیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ دنیا کی خاطر جہاد کرنے والے اور اپنی پہلوانی کا سکہ بٹھانے والے مجاہد کو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ جاؤ تمہارے لیے میرے پاس کچھ اجر نہیں تم نے ریاکاری کے لیے جہاد کیا تھا ، میری رضا مقصود نہ تھی ، پھر حکم ہوگا کہ اسے اٹھا کر جہنم میں پھینک دو ۔
اغیار کے پروگرام
جوں جوں مسلمان جہاد کے فریضہ سے غافل ہوئے ہیں ، غیر اقوام نے اسلام پر شب خون مارنا شروع کردیا ہے وہ تو کفر کے پروگرام کو دنیا میں غالب دیکھناچاہتے تھے۔ اس کے لیے کفار کی تمام طاقتیں مشترکہ طور پر کوشش کر رہی ہیں مسلمانوں کو عیسائی اور مرزائی بنایا جا رہا ہے کچھ نیم عیسائی اور کچھ دہریہ ہوچکے ہیں۔ سکول اور فری شفاخانے قائم کئے جا رہے ہیں اور خدمت خلق کی آڑ میں مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں اس کے برخلاف مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ اپنی تمام توانائیاں عیاشی اور فحاشی پر خرچ کر رہے ہیں۔ کھیل تماشے سے دل بہلا رہے ہیں۔ بڑی بڑی کاروں اور کوٹھیوں کی ریس لگی ہوئی ہے۔ ہر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں بھاگا جا رہا ہے۔ اغیار انہیں دین سے برگشتہ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ جہاد سے منہ موڑ چکے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ عالمی سطح پر بڑی طاقتوں کے غلام بن چکے ہیں۔
رفع التظالم مظلوم کی مدد
نزول قرآن کے زمانے میں مسلمانوں کا ایک مظلوم طبقہ مکہ میں کفار کے ظلم و ستم کی چکی میں پس رہا تھا۔ مظلوم کو ظلم سے نجات دلانا جہاد کا دوسرا سبب ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں 1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 337 2 ؎ بخاری ص (فیاض)
کہ بیشک انبیاء کی بعثت کے مقاصد میں یہ بات داخل ہے کہ رفع التظالم من بین الناس یعنی مظلومین کو ظلم سے نجات دلائی جائے ، جس طرح دین حق کی تبلیغ انبیا کا فرض منصبی ہے اسی طرح ظلم کی بیخ کنی بھی ان کے فرائض میں داخل ہے۔ بخاری شریف کی روایت 2 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ سے جن امور کی بیعت لی تھی ، ان میں عون الضعیف ونصرالمظلوم یعنی کمزوروں کی اعانت اور مظلوم کی مدد بھی شامل تھی۔ چناچہ فتاویٰ کی تمام کتابوں میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ اگر کوئی ظالم مشرق میں کسی مسلمان عورت کو قیدی بنا لے تو مغرب کے سارے مسلمانوں پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ وہ اس مظلوم کو رہا کرائیں ، ورنہ سب گنہگار ہوں گے۔
آج دنیا میں لاکھوں مظلوم ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ گزشتہ تین سال میں دس لاکھ کابلی ہلاک ہوچکے ہیں جس ہزار زندہ باشندوں کو گڑھوں پر پھینک کر اوٹر مٹی ڈال دی گئی اور وہ بیچارے زندہ درگور ہوگئے۔ ان پر ہونے ولاے ظلم کا جواب کون دے رہا ہے ان کی تکلیف کا کس کو احساس ہے عالمی سطح پر کانفرنسیں تو ہوتی ہیں مگر ان کے دکھ کا کیا مداوا ہوسکا ہے مسلمان ممالک ان کی کیا مدد کر پائے ہیں۔ محض بیان دینے سے کسی کی تکلیف رفع نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ جب مصریوں پر مصیبت کے پہاڑ ٹوٹے تو عالم اسلام نے کیا مدد کی۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے نہر سویز پر سوا لاکھ مصریوں کو ہلاک کردیا ، اربوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔ مگر کون پوچھنے والا ہے۔
کمزوروں کی امداد ہمارا جزوِ دین ہے ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لا تظلم ولاتظلم یعنی نہ خود کسی پر ظلم کرو اور نہ کسی کے ظلم کو برداشت کرو۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے والا جذبہ مسلمانوں میں باقی نہیں رہا۔ امیر شکیب (رح) نے اپنی کتاب ” حاضر العالم الاسلامی “ میں لکھا ہے کہ جب اٹالین طرابلس میں مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے تھے تو میں نے اپنے قریب پچاس کے قریب ایسے نوجوان دیکھے جن کی شکل و صورت عربوں سے مشابہ نہ تھی۔ میں نے دریافت کیا ، تم کون لوگ ہو۔ کہنے لگے ہم کابل سے اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آئے ہیں۔ ظلم کے خلاف جذبہ انسانی ہمدردی انہیں کابل سے طرابلس لے گیا۔ مگر اب وہ چیز کہاں ؟
مکہ کے مظلوم مسلمان
ہجرت مدینہ کے بعد بھی مسلمانوں کا ایک کمزور طبقہ مکہ میں رہ گیا تھا جو ہجرت پر قادر نہیں تھے اور کفار کے ظلم کا تختہ مشق بنے ہوئے تھے۔ یہ کون لوگ تھے والمستضعفین من الرجال والنساء والولدان الذین یہ مردوں عورتوں اور بچوں پر مشتمل ایک نہایت ہی کمزور طبقہ تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں اور میری والدہ انہی لوگوں میں شامل تھے کافروں نے انہیں زنجیروں میں جکڑ رکھا تھا اور انہیں طرح طرح کی تکالیف دی جاتی تھیں سلمہ بن ہشام ؓ ، ولید بن ولید ؓ اور ابوجندل ؓ وغیرہ بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔
قیدوبند کے دوران یقولون وہ یوں دعائیں کرتے تھے۔ ربنا اخرجنا من ہذہ القریۃ الظالم اہلھا اے پروردگار ! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے باشندے ظالم لوگ ہیں اور ساتھ یہ بھی کہتے تھے۔ اے مولا کریم ! واجعل لنا من لدنک ولیاً اپنی طرف سے ہمارا کوئی حمایتی بنا دے۔ جو ہمی اس ظلم سے نجات دلا سکے۔ و اجعل لنا من لدنک نصیراً اور اپنی طرف سے ہمارے لیے کوئی مددگار بنا دے۔ انہی حالات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی توجہ اس طرف دلا رہے ہیں کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال نہیں کرتے۔
آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرما لی۔ خود حضور ﷺ بھی مدینے میں انکے لیے دعائیں کرتے تھے اور نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے تھے۔ چناچہ یہ لوگ قید سے آزاد ہو کر مدینے پہنچ گئے۔ حضور ﷺ نے قنوت نازلہ پڑھنی چھوڑ دی تو صحابہ نے عرض کیا کہ حضور ! اب آپ قنوت کیوں نہیں پڑھتے۔ فرمایا دیکھتے نہیں جن لوگوں کے لیے دعائیں کی جا رہی تھیں ان میں سے ابن ہشام ؓ ولید ؓ اور ابوجندل ؓ وغیرہ مدینہ پہنچ چکے ہیں اور پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے حمایتی بھی پیدا کردیا۔ آپ نے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کو مکہ کا گورنر مقرر فرمایا۔ عتاب بن اسپد ؓ بڑے ذہین اور سنجیدہ قسم کے انسان تھے۔ انہوں نے مظلوموں کی خوب مدد کی اور احسن طریقے سے امن وامان قائم کیا ، اللہ نے ان کی یہ دعا بھی قبول فرما لی۔
اللہ اور طاغوت کے راستے
آگے پھر وہی بات دہرائی جا رہی ہے الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ جو اہل ایمان ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں لڑائی کرتے ہیں ، ان کا مقصود و مطلوب محض رضائے الٰہی ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے دین کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ برخلاف اس کے والذین کفروا کفار کا شیوہ یہ ہے کہ یقاتلون فی سبیل الطاغوت وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں اور طاغوت کا معنی ہی یہ ہے کل ما اضل عن سبیل اللہ ہر وہ طاقت جو اللہ کے راستے سے روکتی ہے ، وہ طاغوت ہے۔ اس میں وہ ملوک ، سلاطین وغیرہ سب آجاتے ہیں جو اعلائے کلمۃ اللہ کے مخالف ہیں۔ شیطان بذات خود طاغوت ہے اور اس کا یہی مشن ہے۔ اللہ نے اپنے تمام انبیاء پر یہی وحی بھیجی ” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “ یعنی اللہ کی عبادت کرو اور طواغیت کی فہرست میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کا مقصد طاغوتی پروگرام کا غلبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے ایمان والو ! فقاتلوا اولیاء الشیطن شیطان کے دوستوں سے مقابلہ کرو۔ ان کے خلاف جہاد کرو کیونکہ وہ اس کے حمایتی ہیں اور کفر کے پروگرام کو غالب کرنا چاہتے ہیں اور یاد رکھو ایمان والو ! ان کید الشیطن کان ضعیفاً شیطان کی تدبیر بالکل کمزور ہے اگرچہ شیطان کے مکرو فریب کا جال بہت وسیع ہے مگر اللہ کے نزدیک اس کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں عورتوں کے مکروفریب کے متعلق فرمایا ان کیدکن عظیمٌ کہ تمہاری مکاریاں بہت زیادہ ہیں۔ شیطان عورتوں ہی کو اپنا جال بنا کر لوگوں کو گمراہ کرتا ہے لہٰذا وہ عورتوں سے بھی بڑا دھوکہ باز اور مکار ہے۔ تاہم اگر مومن صحیحر استے پر گامزن ہوجائیں۔ دین کے غلبے کے لیے کمربستہ ہوجائیں تو پھر اللہ ان کا حمایتی بن جائیگا اور جس کا حمایتی خود اللہ بن جائے ، شیطان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اسی لیے فرمایا کہ شیطان کی تدبیر کمزور ہے۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ ” ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم و ان یخذلکم فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ اگر خدا تعالیٰ کی مدد تمہارے شامل حال ہوگی تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر تمہاری بدعقیدگی اور بدعملی کی وجہ سے خدا تمہیں رسوا کر دے تو اس کے علاوہ کوئی تمہاری مدد نہیں کرسکتا۔ تم لاکھ دنیا کی طاقتوں پر بھروسہ کرو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، تمہیں عزت و آبرو حاصل نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی حمایت اور مدد حاصل کرنے کے لیے صراط مستقیم پر گامزن ہوجاؤ ۔
Ayah 4:77ربط آیات
یہآیات بھی جہاد ہی سے متعلق ہیں اور یہ سلسلہ اس سورة مبارکہ میں دور تک چلا جائے گا۔ گزشتہ رکوع کی ابتداء میں اہل ایمان کو اپنے دفاع کی تلقین کی گئی تھی اور حکم دیا گیا تھا کہ موقع کی مناسبت سے گروہوں کی شکل میں حملہ کرو یا یکبارگی پوری قوت میدان میں لے آؤ ، دشمنکا مقابلہ بہرحال کرنا ہے ، پھر جہاد سے اعراض کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ منافق لوگ حیلے بہانے سے جہاد میں شرکت سے گریز کرتے ہیں۔ اسبابِ قتال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کا ایک مقصد تو اللہ کے دین کو غالب کرنا اور دوسرا مظلوموں کو ظلم سے نجات دلانا ہے۔ اس کے بعد جہاد کی غرض وغایت بیان فرمائی کہ اہل ایمان کے راستے میں ، اس کے دین کے قیام اور اسے غالب بنانے کے لیے جنگ کرتے ہیں۔ برخلاف اس کے کافر ، مشرک ، منکرِ دین و توحید شیطان کے راستے میں لڑتے ہیں وہ دنیا میں شیطانی پروگرام کو غالب کرنا چاہتے ہیں۔ ملوکیت یا ڈکٹیٹر شپ اسی طاغوتی پروگرام کا حصہ ہے۔ شیطانی پروگرام اللہ کے دین کی بجائے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نافذ کرنا چاہتا ہے جن کی بنیاد ملک گیری ، نسل پرستی ، زبان یا علاقائیت پر ہوتی ہے اور مقصود مال و دولت ، اقتدار اور شہرت ہوتی ہے۔ مسلمان صرف خدا کے دین کی بلندی کے لیے جہاد کرتا ہے اس کے پیش نظر ہمیشہ کلمۃ اللہ ہی العلیا ہوتا ہے۔ فتنہء و فساد کی بیخ کنی اور مظلوموں کی مدد اس کا مطمح نظر ہوتا ہے۔ یہی عظیم مقصد انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے مقاصد میں بھی داخل ہے۔ بہرحال وہاں پر جہاد کی ترغیب اور اس راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اور آج کی آیات میں جہاد کے مبادی کا ذکر کیا گیا ہے۔
جہاد کی عدم اجازت
مکی زندگی کے تیر ، چودہ سال اہل ایمان کو لڑائی کرنے کی اجازت نہیں تھی ، کیونکہ اس وقت مسلمان کمزور تھے اور ایسی حالت میں طاقتور دشمن سے مقابلہ مناسب حال نہیں تھا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے الم تر کیا نہیں دیکھا تم نے اے مخاطب ! یہ بات بعض گزشتہ دروس میں بھی بیان ہوچکی ہے کہ ہیاں دیکھنے سے مراد رؤیت بصری نہیں بلکہ رویت قلبی ہے جس کی بنیاد علم پر ہوتی ہے۔ امام ابن جریر (رح) اور بعض دوسرے اہل لغت نے بھی یہی فرمایا ہے کہ رؤیت ہمیشہ چشم دید ہی نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات یہ علمی رؤیت بھی ہوتا ہے۔ اس کی کئی ایک مثالیں پہلے بھی گزر چکی ہے اور آئندہ بھی قرآن پاک میں آتی رہیں گی جیسے ” الم تر الی الذینخرجوا من دیارہم “ (سورۃ بقرہ) یا سورة فجر میں یوں آتا ہے ” الم ترکیف فعل ربک بعادٍ سورة فیل میں بھی ہے ” الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل “ اسی طرح اس آیت میں بھی الم تر کا لفظ ہے اور مقصد ان تمام کا رویت قلبی ، یا ردیت علمی ہے نہ کہ عینی مشاہدہ بہرحال فرمایا کیا آپ نے نہیں دیکھا الی الذین قیل لہم ان لوگوں کی طرف کہ جن کو کہا گیا کفوا ایدیکم اپنے ہاتھ روک لو۔ ابھی دشمن کے مقابلے میں ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ مکی دور میں ایمان والوں کو بڑی بڑی تکالیف برداشت کرنا پڑیں ، و ہ ان مصائب سے تنگ آ کر دشمنان دین سے ٹکرا جانا چاہتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ ابھی قتال کی اجازت نہیں ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے فرمایا کہ اس امت میں میں اولین شخص ہوں جس نے ایک کافر پر ہاتھ اٹھایا۔ واقعہ یوں ہوا کہ حضور ﷺ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کسی درے میں نماز ادا کرر ہے ہیں کہ ایک کافر کو علم ہوگیا ، وہ نماز کی حالت میں ہی مسلمانوں پر حملہ آور ہونا چاہتا تھا ، حضرت سعد ؓ کے قریب ہی اونٹ کے جبڑے کی ہڈی پڑی تھی۔ آپ نے اٹھا کر کافر کے سر پر دے ماری جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ تاہم مکہ کے قیام کے دوران صبرو تحمل ہی کی تلقین کی جا رہی تھی۔ مسلمانوں پر عرصہء حیات تنگ کیا جا رہا تھا۔ انہیں دو دفعہ ہجرت پر بھی مجبور کیا گیا ، ان مہاجرین میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی شامل تھے ، مگر جلد ہی واپس آگئے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ہاتھ روک رکھے تھے اور اس کے لیے مناسب موقع کا انتظار تھا۔
ابتدائی تربیت
کسی انقلابی پروگرام کو عملی جامہ پہنچانے کے لیے تربیت یافتہ جماعت کی تشکیل ضروری ہے۔ تربیت کے بغیر کام شروع کرنے سے کامیابی کے امکان روشن نہیں ہوتے۔ مکی دور میں اگرچہ مسلمان ظلم و ستم کانشانہ بن رہے تھے اور وہ کفار کا مقابلہ بھی کرنا چاہتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں میدان جنگ میں لانے سے پیشتر ان کی تربیت کرنا چاہتا تھا تاکہ جس وقت اصل مقصد کی طرف رجوع کریں تو انہیں ناکامی کا منہ نہ دیکھنا پڑے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے تربیت کے لیے یہ دو اصول بتائے واقیموالصلوٰۃ واتوا الذکوٰۃ یعنی نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ گویا یہ تمہارا تربیتی نصاب ہے جب ان پر کار بند ہوجاؤ گے تو تمہارے اندر ایک تربیت یافتہ جماعت تیار ہوجائے گی جو دشمن سے ٹکر لے سکے گی۔ سورة مزمل مکی زندگی کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے وہاں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے ” قم الیل کہ آپ رات کو اٹھ کر نماز پڑھا کریں تاکہ ابتدائی تربیت مکمل ہو سکے۔ جب یہ تربیت مکمل ہوجائیگی تو پھر جنگ کرنے کی اجازت بھی دیدی جائے گی۔ ساتھ یہ بھی فرمایا لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلاً معبود برحق اللہ کی ذات ہے اور اسی کو کارساز پکڑو تاہم اس کے ساتھ ساتھ ظاہری اسباب و علل کی بھی ضرورت ہے۔ سامان ضرب و حرب کبھی اکٹھا کرنا ہوگا ، تاکہ دشمن پر بھرپور وار کیا جاسکے۔ اور اس ضمن میں فرمایا ” خذوا حذرکم “ اپنے دفاع کا سامان کرلو ” واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ “ بھی فرمایا کہ پوری طاقت کے ساتھ دشمن کے مقابلے کے لیے تیار ہوجاؤ ۔ بہرحال مکی زندگی میں مسلمانوں کو تربیت پر ہی زور دیا گیا۔
عام مادی زندگی میں تربیت سے مراد فوجی تربیت ہوتی ہے۔ جس کا اہتمام دنیا کے تمام ممالک اپنی فوج کے لیے کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اولین تربیت یا ٹریننگ وردی پہن کر خاص قسم کی ورزش یا پریڈ کرنا ہوتا ہے اس کے ساتھ اسلحہ کے استعمال کی ٹریننگ ہوتی ہے مگر اس ٹریننگ کے ذریعے نہ تو تعلق باللہ پیدا ہو سکتا ہے اور نہ ہی مظلوم کو ظلم سے نجات دلانے کا جذبہ۔ جب تک یہ دو چیزیں کسی قوم میں نہیں پائی جائیں گی امن کا قیام ممکن نہیں۔ امریکہ اور روس جیسی بڑی طاقتیں دنیا میں امن قائم کیوں نہیں کرسکیں ؟ وجہ یہی ہے کہ ان کے تربیتی پروگرام میں وہ چیزیں شامل ہی نہیں جو امن وامان کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔ ان سے قیام امن کی امید محض عبث ہے۔ یہ لوگ تربیت کے لیے لاکھ کالج اور یونیورسٹیاں بنا لیں ، فوج جمع کر کے اسلحہ کے انبار لگا لیں ، مگر قیام امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قرآن پاک کی اصطلاح میں یہ غیر مہذب لوگ ہیں ، کیونکہ اللہ کے نزدیک مہذب وہ قوم اور جماعت ہوگی جو اس کے مقرر کردہ تربیتی نصاب کا کورس مکمل کریگی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز قائم کرو ، اس کے ذریعے تعلق باللہ قائم ہوگا اور پھر زکوٰۃ دو کہ اس کے ذریعے تمہارے اندر مستحقین کے لیے جذبہ ہمدردی پیدا ہوگا۔ جب تم یہ تربیت مکمل کرلو گے ، تو پھر اس قابل ہوجاؤ گے کہ دنیا سے ظلم و ستم کا خاتمہ کر کے اللہ کے دین کو غالب کر دو اور مظلوم کو ظلم سے نجات دلا دو ۔ ان دو اصولوں کے بغیر انسانی ہمدردی پیدا نہیں ہو سکتی ، دنیا میں شرو فساد کا بازار گرم رہیگا ، بدکاری اور عیاشی ہوگی اور نسل بگڑے گی ، لہٰذا اللہ کے دین کے قیام اور دنیا میں امن وامان کے دور دورہ کے لیے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ تربیت کا حاصل کرنا ضروری ہے۔ بہرحال مسلمانوں کی مکی زندگی ان کیل یے تربیتی دور تھا تاکہ ابتدائی ٹریننگ حاصل کر کے جماعت المسلمین کو مضبوط بنایا جاسکے جو آگے چل کر دین کے غلبہ کے لیے عملی قدم اٹھا سکے۔
نماز ام العبادات
نماز انسان کی بدنی عبادت اور جامع العبادات ہے۔ نماز کو ام العبادات المقربہ الی اللہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا قرب دلانے والی عبادات کی جڑ اور بنیاد ہے یہ جماعت میں اتحاد فکر پیدا کرتی ہے مسلمانوں کو تنظیم اور ڈسپلن کا درس دیتی ہے۔ یہی نماز اجتماعیت ، مساوات طہارت اور انسانی ہمدردی سکھاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة حاقہ میں فرمایا ہے کہ قیامت کے دن جب مواخذہ ہوگا ، تو نافرمانوں سے پوچھا جائیگا کہ تم دوزخ میں کیسے پہنچے ہو ، تو وہ کہیں گے۔ ” انہ کان لایومن باللہ العظیم ولا یحض علی طعام المسکین “ پہلی بات تو یہ کہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں تھا۔ اگر ایمان مضبوط ہوتا تو نماز ادا کرتا۔ اور دوسری بات یہ کہ مساکین کو خود کھانا کھلانا تو کجا کسی کو کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔ گویا خدا کا بھی دشمن اور انسانی سوسائٹی کا بھی دشمن۔ سورة مدثر میں بھی اسی قسم کے الفاظ آتے ہیں کہ جب اہل جنت مجرمین سے پوچھیں گے کہ تم دوزخ میں کس طرح آگئے تو وہ کہیں گے ” لمنک من المصلین “ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے ” و لم نک نطعم المسکین “ اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ بہرحال نماز ایک بنیادی عبادت اور اہل ایمان کی اولین تربیت کا ایک حصہ ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد عمر بھر نماز ادا نہیں کرتی۔ دس بیس سال گزر جاتے ہیں مگر نماز کا خیال تک نہیں آتا۔ دنیا کے باقی تمام امور شان و شوکت سے انجام دیے جاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے حق کی پروا نہیں کی جاتی۔ نجات تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ، اگر ایمان موجود ہے تو ہو سکتا ہے کہ نجات حاصل ہوجائے مگر مجرم اور باغی ہونے میں تو کوئی شک نہیں۔
نماز تعلق باللہ کی استواری کا بہترین ذریعہ ہے انسان اس کے بغیر طہارت پر قائم نہیں رہ سکتا۔ جب کوئی شخص نماز میں مناجات کرتا ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے ، تو گویا اللہ تعالیٰ کی صفت کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اسی لیے نماز میں قرآن پاک پڑھنے کا ثواب سب سے زیادہ ہے۔ نماز کے علاوہ قرآن پاک پڑھنے کا ثواب صدقہ خیرات سے بھی زیادہ ہے بلکہ نفلی روزے سے بھی تلاوت کا ثواب زیادہ ہے۔ قرآن پاک ایک ورد بھی ہے اور ہمارا مکمل پروگرام بھی۔ اس لحاظ سے نماز کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔
زکوٰۃ کی ادائیگی
تربیت کا دوسرا جزو زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔ یہ مکی دور کے ابتداء میں ہی فرض ہوگئی تھی مگر اس کا نصاب مدنی زندگی کے دوسرے سال میں مقرر ہوا۔ مکی زندگی میں زکوٰۃ کی ادائیگی صرف اس حد تک تھی کہ اپنے مال کا کچھ حصہ غرباء و مساکین اور دیگر نیکی کے کاموں پر خرچ کیا جائے۔ مالی عبادات میں سے زکوٰۃ اہم ترین عبادت ہے۔ کیونکہ یہ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق مطلوب ہے تو اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنا بھی لازم ہے۔ اس لیے مالی عبادات میں زکوٰۃ سرفہرست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اگر یہ لوگ کفر شرک سے تائب ہو کر ایمان میں داخل ہوجائیں تو پھر ان کو دو لحاظ سے پرکھاجائے گا فان تابوا اگر وہ توبہ کرلیں ” واقاموا الصلوٰۃ واتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ اور نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ یہ بھی فرمایا ” فخلوا سبیہم “ پھر ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ یہ اب تمہارے بھائی ہیں۔ اب یہ تمہاری سوسائٹی کے رکن ہیں۔ انکی جان و مال محفوظ ہے مقصد یہ کہ نماز اور زکوٰۃ ایمان لانے کی ظاہری علامات ہیں۔ انہیں علاماتِ فارقہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ انہی کے ذریعے مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز کیا جاسکتا ہے۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کے ذریعے انسان کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس میں پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ انسان کی اپنی تہذیب نفس ہوتی ہے۔ روحانی پاکیزگی اور طہارت حاصل ہوتی ہے۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ” لن تنالوا البرحتی تنفقوا مما تحبون “ اپنی بہترین اور پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہی اصل نیکی ہے اس سے بخل جیسی رذیل خصلت دفع ہوتی ہے بخت بہت بری بیماری ہے حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ مسند احمد ص 308 ج 3 وکنزالعمال ص 257 ج 3 (فیاض)
ای داء ادواء من البخل بخل سے بڑھ کر کونسی روحانی بیماری ہے۔ جو اس سے بچ گیا وہ کامیاب ہوگیا۔
فرمایا ” ومن یوق شح نفسہ فاولیک ہم المفلحون فرمایا تہذیب نفس کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی نہایت ضروری ہے۔ کوئی انسان محض اچھے لباس ، اچھے مکان اچھی سواری کے ذریعہ شائستہ اور مہذب نہیں بن جاتا بلکہ مہذب وہ ہے جسے شریعت مہذب قرار دے دے۔ اور وہ ایسا شخص ہے جس کے دل و دماغ میں رذائل کی جگہ پاکیزہ خصائل پیدا ہوجائیں اور یہ چیز زکوٰۃ کی ادائیگی سے بطریق احسن حاصل ہوجاتی ہے۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کا دوسرابڑا فائدہ یہ ہے کہ ایک انسان کا تعلق دوسرے انسان کے ساتھ درست ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مال دار کے مال میں یتیم ، مسکین اور نادار کا حق رکھا ہے۔ فرمایا ” فی اموالہم حقٌ معلوم للسائل والمحروم “ جب تک اس حق کو ادا نہیں کرے گا ، اللہ کے ہاں مجرم تصور ہوگا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تہذیب نفس اور انسانی ہمدردی زکوٰۃ کے دو بڑے فوائد ہیں مگر آج مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ شادیوں پر لاکھوں روپے اڑا دیں گے۔ اپنی نام و نمود کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ مگر اللہ کی مقرر کردہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے لیت و لعل کرتے ہیں۔
لڑائی سے اعراض
مکی دور میں ایسے ایماندار بھی موجود تھے۔ جو کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ان کے خلاف جہاد کرنے پر بھی آمادہ تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے روک دیا۔ کیونکہ ” قدجعل اللہ لکل شیئٍ قدراً “ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا وقت مقرر کر رکھا ہے ، لہٰذا قبل از وقت کوئی کام انجام دینا مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔ پھر جب مسلمانوں کی ابتدائی تربیت مکمل ہوگئی ، ایک مضبوط جماعت تیار ہوگئی جو دشمن سے ٹکر لے سکے۔ تو پھر فلما کتب علیہم القتال مدنی دور میں جب ان پر لڑائی فرض کردی گئی۔ اذا فریقٌ منہم یخشون الناس کخشیۃ اللہ تو ان میں سے ایک گروہ لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے اواشد خشیۃ یا اللہ کے خوف سے بھی زیادہ ڈرتا ہے مقصد یہ کہ اب جب کہ لڑائی لازمی قرار دے دی گئی ہے تو ایک فریق کو یہ بات ناگوار گزرتی ہے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسا گروہ ہے جو جہاد سے گریز کر رہا ہے۔ منافقین کے متعلق تو پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ جہاد کا اعلان ان پر گراں گزرتا تھا اور وہ ہر حیلے بہانے سے اس میں شرکت سے گریز کرتے تھے ابھی پچھلے رکوع میں گزر چکا ہے ” وان منکم لمن لیبطن “ تم میں سے ایسے بھی ہیں جو پیھچے رہ جاتے ہیں یا تاخیر کرتے ہیں کیونکہ وہ جہاد میں شرکت پر آمادہ نہیں ہوتے۔ تاہم اکثر مفسرین کرام جن میں امام ابو منصورما تریدی (رح) اور صاحب معالم التنزیل بھی شامل ہیں ، فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جس فریق کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سے مراد کمزور ایمان والے لوگ ہیں اگرچہ وہ منافق نہیں مگر ان پر لڑائی گراں گزرتی ہے وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال اور وہ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہم پر لڑائی کیوں فرض کردی ہے۔ زبان سے ایسا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ دل سے لڑائی کو بُرا نہیں سمجھتے بلکہ اس کی مشکلات کو دیکھ کر خوف زدہ ہوجاتے ہیں اور ان کی زبان سے بےساختہ اس قسم کے الفاظ نکل جاتے ہیں۔
اور اگر خدانخواستہ جہاد پر ان کا اعتقاد ہی نہیں رہا ، تو انہوں نے ایک فرض کا انکار کردیا اور مجرمین کی فہرست میں شامل ہوگئے۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ بعض اوقات بات زبان تک بھی نہیں آتی بلکہ محض دل میں وسوسے پیدا ہوتے ہیں کہ شاید ہم دشمن کا مقابلہ نہ کرسکیں اور مغلوب ہوجائیں یا مارے جائیں اسے حدیث نفس کہتے ہیں۔ اور یہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے۔ تاہم ایسی باتوں کو جی میں نہیں لانا چاہیے۔ پھر وہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں لولا اخرتنا الی اجلٍ قریبٍ اے اللہ ! ہمیں کچھ مزید مہلت دے دی ہوتی تاکہ ہمیں دشمن سے مقابلہ نہ کرنا پڑتا کیونکہ اس میں مال و جان کا ضیاع ہے۔
دنیا بمقابلہ آخرت
لوگوں کے اس قسم کے خیالات کے متعلق حکم ہوا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے متاع الدنیا قلیلٌ دنیا کی زندگی کا فائدہ تو بالکل تھوڑا ہے۔ یہ زندگی کتنی لمبی ہو سکتی ہے ، دس ، بیس ، پچاس یا سو سال ، اسے آخر کار ایک دن ختم ہونا ہے۔ تم زندگی کے اس معمولی سے فائدے کی خاطرآخرت کے اجر عظیم سے محروم ہونا چاہیے ہو۔ یاد رکھو ! والاحدۃ خیر لمن السقی خدا تعالیٰ سے خوف کھانے والے ، کفر ، شرک اور معصیت سے بچنے والے کے لیے آخرت ہے اسے اس دنیا کی کچھ پروا نہیں۔ وہ جانتا ہے کہ جسے آخرت میں بہتری حاصل ہوگئی ، اسے ابدی راحت نصیب ہوگئی۔ ولا تظلمون فتیلاً اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائیگا۔ ایمان اور جہاد کا پورا پورا بدلہ دیاجائے گا ، اس لیے تم جہاد سے روگردانی کر کے اپنے اجر میں کمی کیوں کرتے ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہ بات لطیف پیرائے میں بتا دی ہے کہ دل میں برے وسوسے نہ آنے دو ۔ اگرچہ ان کا مؤاخذہ نہیں ہے ، پھر بھی حتی الامکان ان کو قریب نہ پھٹکنے دو ، بلکہ جہاد پر کمربستہ ہو کر اللہ کی دائمی رحمت میں داخل ہوجاؤ ۔
موت سے مفر نہیں
آگے فرمایا ، یہ دنیا کی زندگی بالکل عارضی ہے۔ یہ بہرطور ختم ہونے والی ہے۔ این ماتکونوا یدرککم الموت تم جہاں بھی ہو گے موت تمہیں پا لے گی اور تم اس سے بچ نہیں سکتے۔ گزشتہ سورة میں بھی گزر چکا ہے کہ اگر تم لڑائی میں شامل نہ بھی ہو تو تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ تم ہمیشہ زندہ رہو گے۔ ہو سکتا ہے کہ جنگ میں شریک ہونے والوں سے پہلے تمہیں موت آجائے۔ جس چیز سے انسان بھاگتا ہے وہی اس کے پیش آتی ہے۔ موت کا فرشتہ تو بہرصورت پہنچ جائے گا ولو کنتم فی بروجٍ مشیدۃٍ اگرچہ تم مضبوط اور مستحکم قلعوں میں کیوں نہ بند ہوجاؤ ۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کاش میری (رح) فرماتے ہیں مضبوط دیواریں اور قلعے فرشتوں کے سامنے ہوا میں اڑنے والے پرندوں کی مانند ہیں۔ جس طرح پرندوں کو ہوا چیرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی اسی طرح ملک الموت اور دوسرے فرشتے بلا روک ہر مقام پر پہنچ جاتے ہیں لہٰذا تمہیں موت سے ہرگز خوف نہیں کھانا چاہیے اور جہاد کے لیے ہمیشہ آمادہ رہنا چاہیے۔