Ayah 4:24منکوحہ عورتیں
گزشتہ دروس میں تین قسم کے محرمات نکاح کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ محرمات کی پہلی قسم نسبی اعتبار سے ہے جسے ماں ، بیٹی ، بہن وغیرہ دوسری قسم رضاعی ہے اور اس میں وہ رشتے آتے ہیں جو دودھ میں شرکت کی بناء پر پیدا ہوتے ہیں۔ تیسری قسم مصاہرت کی ہے یعنی وہ رشتے جو دامادی اور سسرالی کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں آج کے درس میں محرمات کی چوتھی اور آخری قسم کا بیان ہے اور اس میں منکوحہ عورتیں آتی ہیں۔ ارشاد ہے والمحصنت من النساء اور خاوند والی یعنی منکوحہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جو عورت کسی شخص کے نکاح میں ہے اس کے ساتھ کوئی دوسرا شخص نکاح نہیں کرسکتا۔ نکاح ثانی کے لیے پہلے نکاح کا فسخ ہونا ضروری ہے اور اس کی دو صورتیں ہیں۔ یا اس منکوحہ عورت کا خاوند خود طلاق دے دے یا وہ فوت ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد وہ عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ نکاح کرسکتی ہے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ تیسری کوئی صورت نہیں جس کی رو سے کسی ایسی عورت سے نکاح کیا جاسکے جس کا نکاح پہلے کسی کے ساتھ ہوچکا ہے۔
محصنہ کا ایک معنی تو خاوند والی عورت ہے اور اس کا دوسرا معنی پاکدامنہ بھی ہوتا ہے۔ گویا محصنہ عفت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ سورة نور میں موجود ہے والذین یرمون لمحصنتجو پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں۔ اور پھر اس پر چار گواہ پیش نہیں کرسکتے انہیں اسی کوڑے لگانے کا حکم ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وہ اکبر الکبائر یعنی سات بڑے گناہوں میں سے ایک میں شامل ہوتے ہیں۔ بہرحال یہاں پر محصنہ کا معنی منکوحہ یعنی خاوند والی عورت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عورت بھی اپنے خاوند کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے حرام ہے۔ تاہم یہ قسم وقتی محرمات میں سے ہے ، ایدی نہیں۔ کوئی منکوحہ عورت طلاق یا بیوگی کے بعد دوسرے شخص کے نکاح میں جاسکتی ہے۔
ملک یمین یعنی لونڈی
اب تک جتنی عورتوں کا ذکر آیا ہے یہ حرمت علیکم پر عطف آرہا ہے یعنی فلاں فلاں عورت تم پر حرام ہے۔ اب آگے استثناء کے طور پر فرمایا الا ماملکت ایمانکم سوائے ان عورتوں کے کہ جن کے مالک ہوجائیں تمہارے ہاتھ ، یعنی جو عورتیں لونڈی بن کر تمہاری ملکیت میں آجائیں وہ تمہارے لیے حلال ہیں اگر چہ وہ پہلے سے منکوحہ ہوں۔ جب کوئی عورت جنگی قیدی بن کر لونڈی میں تبدیل ہوجائے تو اس کا پہلا نکاح ختم ہوجاتا ہے اور وہ مسلمان مرد کے لیے حلال ہوجاتی ہے۔ جنگی قیدیوں کی مختلف صورتیں قرآن پاک میں بیان کی گئی ہیں۔ فریقین جنگ کی رضا مندی سے یا تو قیدیوں کا آپس میں تبادلہ کرلیا جاتا ہے۔ یا کسی مصلحت کے تحت ویسے ہی انہیں چھوڑ دیا جاتا ہے یا فدیہ وصول کرکے آزاد کردیا جاتا ہے یا قیدیوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی صورت بھی مناسب نہ سمجھی جاتی تو پھر انہیں گزشتہ زمانے میں غلام اور لونڈی بنالیا جاتا۔ اس آخری صورت پر بھی عمل درآمد حکومت ہی کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کو غلام اور لونڈی میں تبدیل کرے اور پھر انہیں مسلمانوں میں تقسیم بھی کردے یہ کسی فرد واحد کے اختیار میں نہیں ہے کہ ازخود کسی کو لونڈی یا غلام بنالے بلکہ جس عورت کو حاکم وقت لونڈی بنائے گا وہی لونڈی سمجھی جائے گی اور جس آدمی کے سپرد کرے گا وہی اس سے فائدہ اٹھانے کا مجاز ہوگا۔
غلام اور لونڈی بنانے کا ذکر بیشک قرآن پاک میں موجود ہے مگر اس کی حیثیت محض اباحت کی ہے ، یہ نہ فرض ہے ، نہ واجب اور نہ سنت بلکہ جنگی قیدیوں کے ساتھ سلوک کا ایک ذریعہ ہے جس پر پرانے زمانہ میں ساری دنیا میں عمل ہوتا رہا ہے۔ اسلا منے بھی اسے کسی حد تک قبول کیا ، مگر اس نظام کی برائی قرآن میں جگہ جگہ مذکور ہے۔ اسی لیے قرآن پاک نے غلاموں کی آزادی کی با ربار ترغیب دی ہے۔ اور بعض جنایات میں غلام کی آزادی بطور تعزیر نافذ کی ہے۔
لونڈی سے فائدہ اٹھانے سے پہلے عدت گزارنا بھی ضروری ہے۔ اسے عدت استبزاء کہتے ہیں اور ایک حیض پر مشتمل ہے۔ اگر کوئی منکوحہ عورت قیدی ہو کر لونڈی بن جائے تو لازم ہے کہ وہ اپنے مالک کے ساتھ مباشرت سے پہلے کم ازکم ایک حیض کا توقف کرے۔ اس کے بعد اس کا مالک اس سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔ البتہ اس میں نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عورت کاملکیت میں آجانا ہی نکاح کا قائم مقام ہوتا ہے اگر ملکیت میں آنے کے وقت لونڈی حاملہ ہو تو پھر اسے وضع حمل تک عدت پوری کرنا ہوگی ، اس کے بعد وہ صنفی تعلقات قائم کرسکتی ہے۔ اس معاملہ میں مسلمانوں نے حرج محسوس کیا کہ جن عورتوں کے پہلے خاوند موجود ہیں وہ کیسے مباح ہوسکتی ہیں تو اللہ نے فرمایا الاماملک ایمانکم تمہاری ملکیت میں آنے کے بعد ان کے سابقہ نکاح ختم ہوچکے ہیں۔ اب اللہ نے انہیں تمہارے لیے مباح کردیا ہے۔ البتہ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مشرکہ لونڈی کے ساتھ صنفی تعلقات قائم نہیں کرنے چاہیں۔ یا تو وہ مسلمان ہوجائیں یا پھر کتابی ہوں تو ان کے ساتھ یہ تعلق قائم کیا جائے۔
غلامی کا بین الاقوامی رواج
زمانہ قدیم میں غلامی کا رواج پوری دنیا میں موجود تھا جو اب ختم ہوچکا ہے ۔ ایک زمانے سے مسلمانوں میں بھی انحطاط پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری اقوام عالم نے بھی غلامی کی لعنت کو ترک کردیا ہے۔ اب اسلام میں بھی اس کا کوئی نشان باقی نہیں۔ نزول قرآن کے زمانے میں غلاموں اور لونڈیوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا تھا۔ حضور ﷺ نے ان کے حقوق بیان فرما کر رعائیتیں دیں۔ البتہ اس رواج کو یکدم ختم نہ کیا کیونکہ یہ ساری دنیا میں پھلا ہوا تھا۔ اب بھی اصول یہی ہے کہ اگر ساری دنیا اس رواج کو برداشت کرتی ہے تو اسلام بھی کرے گا اور اگر دنیا اس کو ترک کردے تو اسلام پر کوئی حرف نہیں آتا۔ قرآن پاک اشارتاً بتاتا ہے کہ غلامی ایک غیر فطری چیز ہے جو انسانوں پر سزا کے طور پر مسلط ہوتی ہے۔ یہ اچھی چیز نہیں ہے تو بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عورتیں تم پر حلال ہیں کتب اللہ علیکم یہ اللہ کا نوشتہ اور قانون ہے جو اس نے تم پر مقرر کیا ہے لہٰذا اس کے مطابق عمل کرو۔
شرائط حلت
حرمت نکاح کی تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا واحل لکم ماوراء ذلکم ان کے علاوہ باقی تمام عورتیں تم پر حلال ہیں یعنی چار قسم کی محرمات کو چھوڑ کر تم باقی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو۔ تاہم اس کے لیے کچھ شرائط بھی ہیں۔ ان میں سے پہلی شرط یہ ہے۔ ان تبتغوا کہ تم تلاش کرو۔ یہ مرد کا فرض ہے کہ وہ اپنے لیے عورت تلاش کرے ، طلب یا PROPOSE کرے۔ اور دوسری شرط یہ ہے باموالکم اپنے مالوں کے ساتھ طلب کرو یعنی اس کے لیے مال بھی خرچ کرنا پڑے گا ، عورت کو مہر بھی ادا کرنا ہوگا۔
امام ابوحنیفہ (رح) اسی لفظ مال سے استدلال کرتے ہیں کہ مہر میں مال کا ہونا لازم ہے یا مہر میں ایسی چیز مقرر کی جائے جو مال کا معاوضہ بن سکتی ہے حضرت علی ؓ اور ابن مسعود ؓ سے منقول روایت مسلک حنفی کی دلیل ہے کہ لامھراقل من عشردواھم دس درہم سے کم مہر نہیں ہوتا۔ مال کی کم ازکم مقدار درہم ہو تو وہ مال کی تعریف میں آتا ہے اسی لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا کے لیے کم ازکم دس درہم چوری ضروری ہے ورنہ قطع ید نہیں ہوگا۔ حدیث میں تین درہم اور پانچ درہم کا جو ذکر آتا ہے وہ تعزیری ہے مگر قطع ید کی حد جاری کرنے کے لیے دس درہم کے برابر ہونا چاہیے۔
یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ چونکہ نکاح کے لیے مہرضروری ہے اس لیے اگر کوئی شخص مہر کی ادائیگی سے انکار کرے تو امام مالک (رح) کے نزدیک ایسا نکاح ہی نہیں ہوتا۔ البتہ امام اعظم (رح) کے نزدیک نکاح تو ہوجائے گا البتہ مہر کی عدم ادائیگی کی شرط باطل سمجھی جائے گی اور مہر مثلی دینا پڑے گا۔ مہرمثلی کی مقدار وہ تصور ہوتی ہے جو اس کے خاندان کی اکثر عورتوں مثلاً پھوپھیوں یا بہنوں وغیرہ کا مہر مقرر ہوتا ہے۔ اسی طرح وٹے کے نکاح کے متعلق بھی امام صاحب فرماتے ہیں کہ نکاح تو ہوجائے گا مگر وٹے کی شرط باطل ہوگی۔ بہرحال نکاح کے لیے مال خرچ کرنا نکاح کی دوسری شرط ہے۔
نکاح کی تیسری شرط کے متعلق فرمایا محصنین غیر مسفحینعورتوں کا عقد نکاح میں لانا مقصود ہو ، محض شہوت رانی پیش نظر نہ ہو۔ احصان کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو قید نکاح میں لاکر بےحیائی سے بچایا جائے تاکہ صنفی تقاضے صحیح طور پر پورے ہوسکیں۔ نکاح کی چوتھی شرط آگے آرہی ہے ولا متخذی اخذان یہ الفاظ سورة مائدہ میں بھی آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد وزن کا ایجاب و قبول کھلے علی الاعلان ہو ، نہ کہ چوری چھپے ، اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ بغیر گواہوں کے نکاح درست نہیں۔ نکاح عورت اور مرد کے درمیان ایک نہایت اہم نوعیت کا معاہدہ (AGREEMENT) ہوتا ہے ، جسے عام مجلس میں گواہوں کے روبروطے پانا چاہیے۔ گویا عورت کے حلال ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ چار شرائط مقرر فرمائی ہیں۔
ادائیگی مہر
مہر کی اہمیت اور اس کی ادا ئیگی کے متعلق پہلے بھی بیان ہوچکا ہے ۔ اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عقد نکاح کے بعد فما استمتعتم بہ منھن پس جو تم نے ان عورتوں سے فائدہ اٹھالیا فاتوھن اجورھن فریضۃ پس ان کا مقرر کیا ہوا مہر ان کو دے دو ۔ میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہونے یا ہم بستری ہونے کے بعد مہر موکد ہوجاتا ہے اور پورا مہر ادا کرنا لازم ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا اگر کوئی شخص بغیر مہر ادا کیے فوت ہوگیا ، تو مہر کی ادائیگی بطور واجب الادا قرضہ متوفی کے ترکہ سے کیا جائے گا ، ہاں ! اگر نکاح کے بعد خلوت صحیحہ نہیں ہوئی اور عورت کو طلاق دیدی تو اس صورت میں نصف مہر ادا کرنا ہوگا۔
متعہ حرام ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض لوگوں نے اسی لفظفما ستمتعتم سے متعہ کا جواز نکالا ہے حالانکہ متعہ ہماری شریعت میں ہرگز جائز نہیں۔ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں بعض ضرورتوں اور مجبوریوں کی وجہ سے اس کو روارکھا گیا تھا ، پھر جب مسلمانوں کو غلبہ حاصلہ ہوگیا اور وہ مجبوریاں رفع ہوگئیں تو متعہ یعنی وقتی نکاح کو ہمیشہ کے لیے حرام قرا ردید گیا۔ ظاہر ہے کہ کسی خاص مدت کے لیے نکاح کرنے سے نہ تو حقوق کماحقہ ، ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی اولاد صحیح ثابت ہوتی ہے۔ زوجین کے دیگر حقوق کا بھی تعین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ دوچار ماہ یا جو بھی مدت مقرر ہوئی ، اس کے ختم ہونے پر نکا ح خود بخود ختم ہوگیا ، لہٰذا اس قسم کا نکاح جائز نہیں ہے مسلم شریف اور احادیث کی دیگر کتب میں خود حضرت علی ؓ سے حدیث منقول ہے جس کی رو سے متعہ کو ابدی طور پر حرام قرا ردیا گیا ہے۔ لہٰذا عورتوں سے استفادہ حاصل کرنے کی دو ہی صورتیں ہیں کہ یا تو باقاعدہ عقد نکاح ہو یا پھر لونڈی ہو۔ اس کے علاوہ تیسری کوئی صورت نہیں۔ اگر کوئی ایسی صورت پیدا کرے گا تو وہ باطل ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے بارے میں بھی ترمذی شریف میں منقول ہے کہ پہلے وہ متعہ کے قائل تھے مگر بعد میں انہوں نے رجوع کرلیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا بھی یہی قول ہے کہ نکاح اور لونڈی کے علاوہ کل فرج سواھما حرامہرذریعہ شہوت رانی حرام ہے۔
مہر میں کمی بیشی
مقررہ مہر کی ادائیگی کو لازم قرا ردینے کے بعد فرمایا کہ صرف ایک صورت میں مہر کی کلی یا جزوی ادائیگی سے بچت ہوسکتی ہے اور وہ یہ کہ ولاجناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ تم میاں بیوی آپس میں راضی ہوجائو مہر مقرر ہونے کے بعد۔ آپس کی رضا مندی سے اگر عورت مہر کلی یا جزوی طور پر معاف کردیتی ہے تو تم پر کچھ گناہ نہیں اس کے مطابق عمل کرسکتے ہو۔ پھر پورا مہر ادا کرنا لازم نہیں رہے گا۔ اسی طرح اگر مرد رضا مندی سے مقررہ مہر سے زیادہ اداکردے تو بھی اس میں کوئی حرج نہیں۔ بعض اوقات ایسا ہوجاتا ہے کہ نکاح کے وقت مالی حالت اچھی نہ تھی ، بعد میں بہتر ہوگئی۔ اب اگر خاوند مقررہ مہر سے زیادہ ادا کرنا چاہیے تو اسے اجازت ہے اور اگر نکاح کے وقت مہر بالکل مقرر ہی نہ کیا گیا ہو تو مہر کی ادائیگی پھر بھی لازم ہے اور اس کی مقدار وہ ہوگی جو میاں بیوی بعد میں طے کرلیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے بعض صورتوں میں مہر مثلی بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔
بہرحال فرمایا کہ جس عورت سے فائدہ اٹھایا ہے اس کا مقررہ مہر ادا کرنا ضروری ہے۔ اللہ نے جو بھی احکام نازل فرمائے ہیں ان میں ہر لحاظ سے بہتری ہے اور جن عورتوں سے نکاح حرا م ٹھہرایا ہے اس میں بھی مصلحت ہے۔ جائز نکاح کے ساتھ جو شرائط اور پابندیاں عائد کی ہیں ان میں بھی حکمت پوشیدہ ہے۔ انسان کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین پر صدق دل سے یقین رکھے اور ان پر عمل پیرا رہے۔ کیوں ؟ ان اللہ کان علیماً حکیماً بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز حتی کہ ہر ضعف ، کمزوری حاجت اور پریشانی کو جانتا ہے اور اس کی ہر بات اور ہر حکم حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم میں حکمت پوشیدہ ہے لہٰذا انسان کے لیے لازم ہے کہ اس کی تعمیل کرے۔
Ayah 4:25لونڈیوں کے ساتھ نکاح
محرمات نکاح کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ باقی سب عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہے۔ پھر مہر کی ادائیگی کی بھی تاکید فرمائی۔ اب آج کی آیت میں لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا بیان ہے اور یہ مسئلہ بیان ہوا ہے کہ لونڈیوں اور آزاد عورتوں کے احکام مختلف ہیں۔ اگر کوئی لونڈی بےحیائی کا ارتکاب کرے تو وہ آزاد عورت کی نسبت نصف سزا کی مستحق ہے ۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ومن لم یستطع منکم طولا اور جو شخص تم میں سے طاقت نہیں رکھتا۔ طولا کا معنی ، قدرت مقدرت وغیرہ ہے۔ ان ینکح المحصنت المومنتیہ کہ نکاح کرے پاکدامن مومن عورتوں سے یعنی اگر کوئی شخص مالی لحاظ سے اتنا کمزور ہے کہ وہ آزاد عورت کے ساتھ نکاح کرنے کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے کہ ایسی عورتوں کے حقوق زیادہ ہوتے ہیں۔ انہیں مہر بھی زیادہ ادا کرنا پڑتا ہے اور ان کے نان نفقہ کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المومنت اپنی مومنہ نوجوان لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرلو۔ ملکت ایمانکم کا لغوی معنی داہنے ہاتھ کی ملکیت ہے ، مگر مراد لونڈیاں ہیں۔ لونڈی سے نکاح کرنے کی صورت یہ ہے کہ اس لونڈی کا مالک اسے دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی اجاز ت دے۔ ایسا کرنے سے لونڈی بیوی تو دوسرے شخص کی بن جاتی ہے مگر ملکیت مالک ہی کی ہوتی ہے ، مالک اس سے حسب منشاء خدمت تو لے سکتا ہے مگر نکاح کردینے کے بعد اس سے مجامعت نہیں کرسکتا ، تو فرمایا کہ اگر آزاد عورت کو نکاح میں لانے کی استطاعت نہ ہو تو پھر اگر لونڈی مل جائے تو اس کے ساتھ ہی نکاح کرلو۔
لونڈی اور آزاد عورت میں تقابل
آزاد عورت جب کسی شخص کے نکاح میں چلی جاتی ہے۔ تو پھر اس کے حقوق وفرائض خاوند کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں اور میکے کے ساتھ اس کا تعلق محض باہمی رضا مندی تک ہی محدود ہوتا ہے۔ جب کہ لونڈی اگر نکاح میں بھی دے دی جائے تو مالک کو حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اس سے خدمت لے سکے اور اسے اپنے گھر میں رکھے۔ ایسی حالت میں لونڈی کا نان نفقہ بھی مالک کے ذمہ ہوگا اور اگر وہ لونڈی اس کے شوہر کا سونپ دے تو پھر اس کے اخراجات بھی خاوند کے ذمہ ہوں گے ، البتہ آزاد عورت اپنے خاوند کے گھر میں رہنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کے اخراجات کی ذمہ داری بھی خاوند پر ہی ہوتی ہے عام طور پر لونڈیوں کے حقوق آزاد عورتوں کے برابر نہیں تسلیم کیے جاتے۔ ان کے حقوق بھی کم ہوتے ہیں مہر بھی نسبتاً کم مقرر ہوتا ہے۔ اور نان ونفقہ کے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں ، مہر بھی معمولی ہوتے ہیں ، لہٰذا لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں یہ سہولت ہے۔ برخلاف اس کے لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں یہ قباحت بھی ہے کہ وہ اپنے اصل مالک کی ملکیت میں رہے گی اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد بھی غلا م اور لونڈیاں تصور ہوں گے۔ خاوند لونڈی کے مالک کی مرضی کے خلاف اس سے خدمت نہیں لے سکتا ، کیونکہ وہ مالک کی خدمت کرنے کی پابند ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ لونڈی پر دے کہ پابند نہیں۔ اگر اس کا مالک اسے سودا لینے کے لیے بازار بھیجے تو وہ بےپردہ کھلے سرجائے گی جو کہ ایک غیر مند خاوند کے لیے روح فرسا معاملہ ہوگا۔ آزاد عورت کے حق میں برہنہ سر ہنا موت کے مترادف ہے حتی کہ آزاد عورت ننگے سر تنہائی میں بھی نماز ادا نہیں کرسکتی ، وہ اپنے ہاتھ پائوں اور چہرے کے علاوہ جسم کا تمام حصہ ڈھانپنے کی پابند ہے مگر لونڈی پر یہ پابندی عائد نہیں ہوتی۔ تو بہرحال لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں بعض سہولتیں ہیں اور اس کے ساتھ بعض پریشانیاں بھی ہیں۔
ایمان کی شرط
لونڈی کے ساتھ ایمان کی شرط عائد کی گئی ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک یہ شرط لازمی ہے اس کے بغیر یعنی غیر مسلمہ لونڈی سے نکاح کی اجازت نہیں البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک لونڈی کا مسلمان ہونا بہتر ہے ، لازم نہیں۔ ان کے نزدیک کتابیہ یعنی یہودی یا نصرانی لونڈی کے ساتھ نکاح بھی درست ہے بہرحال یہ فطری چیز معلوم ہوتی ہے کہ مدار فخر ایمان ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ کوئی مومنہ لونڈی ایمان کی وجہ سے آزاد عورت کی نسبت اللہ کے نزدیک بہتر ہو۔ اور ایمان کی حقیقت کے متعلق فرمایا واللہ اعلم بایمانکم اللہ تعالیٰ تمہارے ایمانوں کو خوب جانتا ہے۔ اسے علم ہے کہ ایمان کی کسوٹی پر کون پورا اترتا ہے۔ یعنی کسی عورت یا مرد میں کس درجہ کا ایمان ہے اور اس کی قوت یا ضعف اللہ ہی کے علم میں ہے لہٰذا مومنہ لونڈی سے نکاح کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہونی چاہیے۔
آگے فرمایا بعضکم من بعض تمہارے بعض بعض میں سے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ لونڈیاں بھی تمہاری ہی جنس سے ہیں۔ وہ بھی آخر انسان ہیں مگر جنگی قیدی بن کر غلامی کی زنجیرروں میں جکڑی گئی ہیں۔ لہٰذا انہیں حقیر نہ سمجھو اور ان کی تذلیل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ نازل فرما کر آزد اور غلام کے درمیان نفرت کو کم کرنے کا حکم دیا ہے۔
مالک کی رضا مندی
آگے فرمایا فانکحوھن باذن اھلھنمومنہ لونڈیوں سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو کیونکہ اس کے بغیر تو نکاح ہو ہی نہیں سکتا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ایما عبدنکح بغیر اذن موالیہ فھو عاھر یعنی جو غلام اپنے آقا کی رضا مندی کے بغیر نکاح کرے وہ بدکار ہے۔ لونڈیوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔
اسی لیے فرمایا کہ لونڈیوں کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو۔ اور ساتھ یہ بھی حکم دیاواتوھن اجورھن ان کے مہر ان کو ادا کرو بالمعروف دستور کے مطابق۔ یعنی جو مہر مقرر ہوا ہے اسے حیلے بہانے سے روکنے کی کوشش نہ کرو ، بلکہ دے دو ۔ البتہ اس مہر کا مالک لونڈی کا مالک ہوگا ، کیونکہ لونڈی خود کسی چیز کی مالکہ نہیں ہوتی۔ بایں ہمہ مہر کا ادا کرنا ضروری ہے۔
آگے فرمایا کہ جن لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنا چاہو ان میں یہ شرائط ہونی چاہئیں کہ وہ محصنتقید نکاح میں آنے والی ہوں غیر مسفحتمحض شہوت رانی کے لیے نہیں بلکہ عزت وناموس کی حفاظت کی خاطر نکاح پر آمادہ ہوں ولا متخذت اخدان اور نہ وہ پوشیندہ طور پر دوستی کی خواہشمند ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ نکاح کا انعقاد علی الاعلان ہو۔ اور اس امر کا چرچا ہوجانا چاہیے کہ فلاں لونڈی فلاں شخص کے نکاح میں آگئی ہے ۔ اور عقد نکاح کے لیے شرعی گواہوں کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ کوئی عنصر پوشیدہ نہ رہے کیونہ ایسا کام چوری چھپے کرنا بداخلاقی تصور ہوگا۔
بے حیائی کی سزا
فرمایا فاذا احصن پس جب وہ قید نکاح میں لائی جائیں یعنی جب کوئی لونڈی کسی شخص کی بیوی بن جائے اور اس کے تمام متعلقہ حقوق ثابت ہوجائیں۔ اس کے بعد فان اتین بفاحشۃ وہ بےحیائی کا ارتکاب کربیٹھیں فعلیھن نصف ماعلی المحصنت من العذاب تو پھر ان پر آزاد عورتوں کی نسبت آدھی سزا ہوگی۔ جس طرح غلام اور لونڈی کے حقوق آزاد کی نسبت کم ہیں ، اسی طرح کسی گناہ کے ارتکاب پر ان کی سزا بھی نصف ہے۔ بدکاری کی صورت میں غلام یا لونڈی کو رجم کی سزا تو دی نہیں جاسکتی کیونکہ اس کا نصف ممکن نہیں۔ البتہ غیر شادی شدہ کے لیے سوکوڑوں کی بجائے پچاس کوڑے سزا ہوگی اور ایک سال کی جلاوطنی کی جگہ صرف چھ ماہ کی شہر بدری کافی ہوگی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اگر کسی کی لونڈی برائی کا ارتکاب کربیٹھے تو اس پر حد جاری کرو اور اس کو ملامت نہ کرو۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک چھ ماہ کی جلاوطنی حد کا جزو نہیں جبکہ امام شافعی (رح) اسے حد ہی کا ایک حصہ قرار دیتے ہیں۔ اور کوڑوں کی سزا کے ساتھ جلاوطنی بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ حد جاری کرنے کے لیے لونڈی کا مومنہ ہونا بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ من اشرک باللہ فلیس بمحصن جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محصن نہیں ہوسکتا۔ بہرحال سزا دینے کے راستے میں اس قدر پابندیاں ہیں۔ اور جب یہ تمام شرائط پوری ہوجائیں تو پھر غلام اور لونڈی کے لیے آزاد کی نسبت آدھی سزا ہے۔
مشروط اجازت
فرمایا لونڈی کے ساتھ نکاح کی اجازت صرف اس شخص کے لیے ہے ذلک لمن خشی العنت منکم جو تم میں سے مشقت میں پڑنے سے ڈرتا ہے ۔ مقصد یہ کہ جو شخص مجبور ہوگیا۔ مالی حالت آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی اجازت نہیں دیتی اور نفسانی خواہش برائی پر آمادہ کرتی ہے اسے خوف ہے کہ کہیں گناہ میں ملوث نہ ہوجائے۔ تو ایسی صورت میں لونڈی کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے۔ فرمایا وان تصبروا اگر تم سخت ضرورت کے باوجود صبر کروخیرلکمتو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ، کیونکہ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے لونڈی کے ساتھ نکاح کرنے میں کئی طرح کی پریشانیاں بھی لاحق ہونگی لہٰذا صبر بہتر ہے واللہ غفور رحیم بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اگر کوئی غلطی ہوگئی ہے۔ اور انسان اس پر اصرار نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے وہ بڑا مہربان ہے۔
Ayahs 4:26–28ربط آیات
گزشتہ دروس میں محرمات نکاح کا ذکر ہوا ، پھر اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اور اس کی حکمت بھی بیان فرمادی ، اس کے بعد اللہ نے مخلوق پر اپنے احسان کا ذکر فرمایا ، اور حلال و حرام سے متعلقہ احکام کی حکمت بیان فرمائی ہے۔
مکمل وضاحت
ارشاد ہوتا ہے یرید اللہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے لیبین لکمتا کہ بیان کردے تمہارے لیے وہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال ہیں اور جو حرام ہیں اللہ تعالیٰ تمہیں وہ باتیں بھی بتانا چاہتا ہے جو تمہارے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور جن میں تمہارافائدہ ہے۔ اور وہ باتیں بھی جن سے بچنا بھی تمہارے لیے ضروری ہے یہ اللہ تعالیٰ کا خاص احسان اور اس کی مہربانی ہے کہ وہ ہمارے فائدے کی باتیں بیان کرتا ہے تاکہ ہم انہیں اختیار کرلیں اور نقصان دہ امور سے بچ جائیں۔
مفسر قرآن امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے کہ بیان دو قسم کا ہوتا ہے۔ بیان کی پہلی قسم نص ہے اور اس سے مراد وہ احکام و فرامین ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بالکل صراحت کے ساتھ بیان کردئیے ہیں ان میں حلال و حرام بالکل واضح الفاظ میں بتلادئیے ہیں۔ یا دوسری صورت میں یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے صریح الفا ظ میں وضاحت فرمادی گئی ہے ، یہ بھی نص ہے۔
بیان کی دوسری قسم وہ ہے جو دلالت کے ساتھ اخذ ہو۔ یہ احکام صراحتاً تو بیان نہیں کیے گئے مگر ایسے اشارات پائے جاتے ہیں جن سے اہل علم ، مفکر ، مجتہدین اور علماء غوروفکر کرکے ایسے احکام کو اخذ کرتے ہیں۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دنیا میں جو چھوٹا بڑا حادثہ ہوتا ہے یا کوئی نبی چیز پیدا ہوتی ہے اس میں اللہ کا حکم ضرور ہوتا ہے اور یہ حکم صراحتاً ہوگا یا دلالتاً ۔ ایسے حکم کو معلوم کرنا ہر شخص کا کام نہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فاسئلوا اھل الذکرک ان کنتم لاتعلمون اگر تم کسی بات کو نہیں سمجھ پائے تو اسے اس کے جاننے والوں ، یاد رکھنے والوں سے دریافت کرلو ، وہ تم کو بتائیں گے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے ، بیان کی دوسری قسم یہی ہے ۔
خصوصی رہنمائی
فرمایا پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے ہر چیز کو بیان کرنا چاہتا ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ ویھدیکم سنن الذین من قبلکم تمہاری راہنمائی کرنا چاہتا ہے۔ ان لوگوں کے راستوں کی طرف جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان پہلے لوگوں سے مراد اللہ کی وہ نبی ہیں۔
ان پہلے لوگوں سے مراد اللہ کے وہ نبی ہیں اور وہ نیک لوگ ہیں جو تم سے پہلے گزرچکے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہم بھی ان صالحین کے نقش قدم پر چل کرمنزل مقصود کو پالیں۔ انبیاء میں سے حضرات ابراہیم (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) وغیرہ ہم کے راستے مقصود ہیں جن کو ہم اختیار کرسکتے ہیں۔ اسے کے علاوہ صالحین ، مقربین اور کامل الایمان لوگوں کے راستے بھی بتلائے مردوں کا ذکر بھی کیا اور عورتوں کا بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسے صالحین کا تذکرہ بھی فرمایا جو دنیا میں صاحب اقتدار بھی تھے۔ ذوالقرنین ایک بڑا بادشاہ تھا۔ زمین کا بیشتر حصہ اس کی زیر نگیں تھا مگر وہ ایماندار اور عادل بادشاہ تھا۔ ہمارے لیے اس کا راستہ بھی قابل اتباع ہے پھر لقمان جیسے عقل مند اور حکیم کا تذکرہ فرمایا تاکہ دنیا کے اہل دانش اور سمجھدارلوگ ان کی پیروی کرسکیں۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے کس اعلیٰ طریقے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تعلیم دی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی بطور نمونہ ذکر کیا ہے اور پھر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء اور صالحین کے ساتھ ساتھ سرکش نافرمان ظالم مشرک کافر متکبر لوگوں کا تذکرہ بھی فرمایا تاکہ ایسے لوگوں کے غلط طریقے سے بچا جاسکے۔ وہ ایسے لوگ تھے الذین طغوا فی البلاد جنہوں نے زمین کو شروفساد سے بھردیا۔ ان کا حال بیان کرکے اللہ نے ہمیں تعلیم دی کہ ایے نافرمان اور باغی لوگوں کا راستہ اختیار نہیں کرنا۔
انبیائے سابقین سے مطابقت
یہاں اصول فقہ کا یہ مسئلہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیائے کرام کا تذکرہ قرآن پاک میں کیا ہے اور پھر اگر ان سے منسوب احکام کی تردید نہیں فرمائی تو ایسے احکام امت آخر الزمان کے لیے دستور العمل ہوں گے۔ گویا ایسے حکم کو اللہ نے ہمارے لیے بھی مقرر فرما دیا ہے اور وہ ہمارے واسطے قابل عمل ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ سابقہ ادوار میں نکاح کی چار صورتیں رائج تھیں۔ حضور ﷺ نے ان چار میں سے موجودہ صورت کو برقرار رکھا اور باقی تین کو منسوخ فرمادیا لہٰذا اب یہی صورت ہمارے لیے قابل عمل ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں کچھ لوگ بیع سلم کیا کرتے تھے یعنی رقم پیشگی ادا کردیتے تھے اور جنس اس کے بکنے پر وصول کرتے تھے اس میں کچھ باطل شرطیں بھی موجود تھی جنہیں اللہ کے نبی نے منسوخ کردیا اور جائز طریقہ کو جاری رکھا۔ اسی طرح اگر سابقہ کتب آسمانی تورات یا انجیل وغیرہ میں کوئی ایسے احکام موجود ہوں جن کی تردید نہیں کی گئی تو وہ بھی ہمارے لیے قابل قبول ہوں گے۔
رجوع من اللہ
فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے سابقہ لوگوں کے راستوں کی نشاندہی فرماتا ہے اور اس کے ساتھویتوب علیکم تمہاری طرف رجوع فرماتا ہے توبہ کا معنی رجوع ہے جیسا کہ کسی گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے بندے کا رجوع یہ ہے کہ وہ معاصی کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے اور اگر یہ رجوع اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو تو وہ ثواب ہے ، وہ اپنے بندے پر مہربانی اور شفقت کے ساتھ رجوع کرتا ہے جب بندہ اس سے معافی مانگتا ہے تو وہ اس کو قبول کرتا ہے اسی کو فرمایا ویتوب علیکم وہ تمہاری طرف مہربانی اور شفقت سے رجوع کرتا ہے۔
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے فائولئک یتوب اللہ علیھم اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ایسا مہربان ہوتا ہے کہ معافی مانگنے والوں کو معاف کرنے کے علاوہیبدل اللہ سیاتھم حسنات ان کی برائیاں نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ بندے کی توبہ جس قدر خلوص نیت کے ساتھ ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا صلہ بھی اسی قدر بہترعطا کرتا ہے بندے کے نامہ اعمال سے غلطیاں کوتاہیاں وغیرہ دور کرکے ان کی جگہ نیکیاں لکھ دیتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ تم پر رجوع فرماتا ہے معاف کرنے اور بخشش کرنے کے ساتھ۔
فرمایا واللہ علیم حکیم اللہ تعالیٰ ہرچیز کو جانتا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ اس نے حلال حرام نکاح ، طلاق وغیرہ کے متعلق جو بھی احکام دئیے ہیں ان میں ضرور کوئی نہ کوئی حکمت ہے اور اس کے تمام اوامر ونواہی ہماری ہی بہتری کے لیے ہیں ، جن عورتوں سے نکاح کو حرام قرام دیا گیا اس میں لازماً ہماری مصلحت اور انسانیت کا بھلا ہے۔ انسان کا علم ناقص اور محدود ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تمام حکمتوں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی علیم یعنی ہرچیز کو جاننے والی ہے۔ اور وہ حکیم ہے کہ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔
خواہشات پرست لوگ
اللہ تعالیٰ نے دوبارہ تاکید کے طور پر فرمایا واللہ یرید ان یتوب علیکم اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرنا چاہتا ہے اور اپنی بخشش اور مہربانی سے تم پر رجوع کرنا چاہتا ہے اور اپنی بخشش اور مہربانی سے تم پر رجوع کرنا چاہتا ہے۔ برخلاف اس کے ویرید الذین یتبعون الشھوت وہ لوگ جو خواہشات کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں ان تمیلوا میلاً عظیما کہ تم کو راہ راست سے ہٹاکر پھر گمراہی کی طرف پھیردیں۔
اس ضمن میں مجوسیوں کا حال دیکھ لیں کہ وہ اپنی غلیظ خواہشات کے پیش نظر اپنی حقیقی ماں اور بہن سے بھی نکاح کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ کس قدر بےحیائی کی بات اور شہوت پر ستی ہے۔ اس سلسلہ میں یہودیوں کا حال بھی ایسا ہی ہے وہ بھی باطل پرست ٹولہ ہے ایسے ہی لوگ ہیں جو مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ ان کے ہاں پھوپھی اور ماموں کی بیٹی سے نکاح تو جائز ہے مگر بھتیجی اور بھانجی سے کیوں جائز نہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں میں شبہات ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ہنود کا مذہب بھی باطل ہے ان کے ہاں چچا کی بیٹی سے نکاح درست نہیں اور نہ وہ ماموں کی بیٹی سے نکاح کرتے ہیں حالانکہ اسلام نے چچا ، ماموں ، پھوپھی اور خالہ کی بیٹی سے نکاح کو باطل قرار دیا ہے کیونکہ اس میں جنبیت پیدا ہوتی ہے اور یہ فطرت کے عین مطابق ہے اس کے علاوہ بھانجی اور بھتیجی سے نکاح حرام ہے کیونکہ اس میں بےحیائی پیدا ہوتی ہے۔
1940 ء کا واقعہ ہے کہ سیالکوٹ کے ایک وکیل کا گریجوایٹ بیٹا گوری شنکر اپنی پھوپھی یاماموں کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا تھا مگر ہندو مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا لڑکی بھی رضا مندی تھی مگر باطل مذہب ان کے راستے میں رکاوٹ تھا معاملے نے بڑا طول پکڑا آخر لڑکی کی شادی کسی دوسری جگہ کردی گئی وہ بیماری کی حالت میں گھل گھل کر مر گئی۔ اُدھر لڑکے پر بھی دیوانگی کے دورے پڑنے لگے اس پر مجذبوں جیسی کیفیت طاری ہوگئی تاہم الحمد اللہ اسے ایمان کی دولت نصیب ہوگئی محمد غوری نام رکھا تقسیم ہند کے وقت ہندوخاندان تو ترک وطن کر گیا مگر وہ لڑکا پاکستان میں ہی رک گیا ابھی دس بارہ سال پہلے فوت ہوا ہے اس کے اسلام لانے کی وجہ یہ بنی کہ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ جس مذہب میں اس قسم کے غلط احکام ہوں وہ مذہب صحیح نہیں ہوستا ، لہٰذا اس نے ہندو ازم کو ترک کردیا۔
پرانے زمانے میں ایران کے رہنے والے مزدک اور مانی لوگوں کا مذہب یہ ہے کہ عورت ایک مشترکہ متاع ہے لہٰذا ہر عورت کو ہر شخص استعمال کرسکتا ہے اس میں نکاح کی حدود وقیود کی ضرورت نہیں۔ ان میں ماں بہن بیٹی وغیرہ کا بھی کوئی امتیاز نہیں ، عورت صرف عورت ہے اور ہر آدمی کی شہوت رانی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ دور جدید میں اشتراکیت بھی انہی راستوں پر چل رہی ہے۔ اشتراکیت کے غلط نظریات سے متاثرہ لوگ بھی عورت کے متعلق اسی قسم کے خیالات اپنانے لگے ہیں اوڈن قسم کے لوگ بھی عورت کو مشترکہ کھاتے ہیں رکھنے کے خواہشمند ہیں اور چاہتے ہیں کہ نکاح کی بندوشوں کو توڑدیا جائے۔
یورپ اور فرانس میں گزشتہ تیس چالیس سال سے ادیب اسی قسم کا پراپیگنڈا کر رہے ہیں جس سے نکاح کا بندھن ختم ہوجائے اور حلال و حرام کی تمیز اٹھ جائے تاکہ کوئی کسی کو حلالی یا حرامی کہنے کی پوزیشن میں نہ رہے۔ اس قسم کا پراپیگنڈا فرانس کی ادبی کتابوں میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کی توجہ اسی بےحیائی ، عیاشی اور فحاشی کی طرف دلانا چاہتا ہے کہ دیکھو ! اس قسم کے خواہشات کے پرستار لوگ تمہیں تمہارے راستے سے پھیر دینا چاہتے ہیں تم ان کی طرف توجہ نہ کرو بلکہ اللہ احکم الحاکمین کی طرف آئو جو تم پر اپنی بخشش اور مہربانی سے رجوع کرنا چاہتا ہے۔
ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں نے بعض رسومات باطلہ یہاں کے قدم ہندوئوں سے اخذ کی ہیں۔ ہندو کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی لاش کو جلا دیتے ہیں۔ پھر تیسرے دن بقیہ ہڈیوں کو اکٹھا کرتے ہیں اور ان پر پھول چڑھاتے ہیں ان کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے قبروں پر پھول اور چادریں چڑھانا شروع کردیں اور اسے بڑا نیکی کا کام سمجھنے لگے۔ حالانکہ اسلام میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ مٹی کے ڈھیر پر پھول ڈالنے یا چادر چڑھانے کا کیا فائدہ۔ اگر ایصال ثواب ہی مقصود ہے تو یہ پیسے کسی محتاج کردے دو اس کے کام بھی آئیں گے اور مرنے والے کا بھی فائدہ ہوگا۔ الغرض ! اس قسم کی رسومات باطلہ مسلمانوں میں کچھ یہود کے راستے سے آئی ہیں اور کچھ ہنود کے راستے سے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں صراط مستقیم سے ہٹاکر باطل راستوں پر ڈال دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مذموم ارادے کی نشاندہی فرما کر اہل اسلام کو آگاہ کردیا ہے اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اللہ کی طرف جانا چاہتے ہیں یا خواہشات پرستوں کے پیچھے۔
جہنم اور جنات کی باڑھ
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے 1 ؎ ترمذی ص 367 ومسلم ص 378 و بخاری ص 069/82 (فیاض)
کہ لوگوں کی خواہشات کی طرف بڑی رغبت ہوتی ہے اور فرمایا حفت النار بالشھواب جہنم کی باڑھ خواہشات ہی سے لگائی ہے۔ نفسانی خواہشات سے مراد آج کل کی آزادی ، فحاشی ، عریانی ، زنا ، جوا ، شراب نوشی ، بدمعاشی ، راگ رنگ اور ناچ گانے ہیں ، ہرناقص الایمان آدمی کی خواہش انہی چیزوں میں جاکر اٹکتی ہے۔ لوگ بڑی رغبت کے ساتھ اس طرف جاتے ہیں مگر جب خواہشات کی اس باڑھ کو عبور کرتے ہیں تو آگے جہنم ہے جس میں جاگرتے ہیں۔ اسی لیے حضور نے فرمایا کہ خواہشات جہنم کی باڑھ ہیں۔ دوسری طرف جنت کی باڑھ عبادت ، تقویٰ ، نیکی ، ایمان ، تزکیہ ، قوانین کی پابندی ، حلال و حرام کی تمیز اور اومراو نواہی کی پابندی سے موسوم ہے۔ جو شخص جنت میں جانے کا خواہش مند ہے اسے یہ مشکل گھاٹیاں عبور کرنا ہونگی۔ جب وہ اس معیارپر پورا اترے گا تو آگے جنت اس کا استقبال کرے گی وہ کامیاب وکامران ہوگا۔
راہ اعتدال
فرمایا اگرچہ خواہشات کے پیروکار تمہیں راہ راست سے دور ہٹانا چاہتے ہیں۔ مگر یاد رکھو ! یرید اللہ ان یخفف عنکم اللہ تعالیٰ تم سے تخفیف کرنا چاہتا ہے۔ وہ تمہاری خواہشات کو مکمل طور پر دبانا نہیں چاہتا بلکہ انہیں جائز حد تک پورا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اگر خواہشات کو بالکل مٹادیا جائے تو انسلاخ ہوجائے گا ، رمبانیت پیدا ہوگی۔ جو گی پنا ہوگا ج فطرت انسانی کے خلاف ہے۔ اللہ نے نکاح کی اجازت دے کر تم پر بعض پابندیاں عائد کردیں کہ ان کے اندر رہ کر خواہشات کو پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کا طریقہ کار اختیار کرنے کی ترغیب دی جس کے ذریعے بہیمیت کی اصلاح کی جاسکے اور انسان میں اعتدال پیدا ہو۔
تو اللہ نے فرمایا کہ تم پر صرف تخفیف کی گئی ہے۔ خواہشات کو مکمل طور پر مٹانا مقصود نہیں۔ جائز طریقے سے انہیں بھی پورا کرو۔ حلال حرام کی پابندی کرو۔ اس سے انسان ترقی کرتا ہے۔ انار کی ہمیشہ انسانی تنزل کا باعث ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کے احکام کے تابع رہ کر اپنی ضروریات کی تکمیل کرو ۔
فرمایا وخلق الانسان ضعیفاً جسمانی طور پر انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی کمزوری کو ملحوظ رکھ کر اسے خواہشات سے مکمل دست برداری کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ اس کے لیے جائز صورتیں وضع کردی گئی ہیں تاکہ وہ اپنے طبع تقاضوں کو پورا کرسکے۔ اس دنیا میں بھی خوش وخرم زندگی بسر کرے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوجائے۔ بہرحال اللہ نے نکاح کی حلت و حرمت کے بعد اس کی حکمت کی طرف بھی اشارہ فرمادیا ہے۔
Ayahs 4:29–30ربط آیات
گزشتہ دروس میں محرمات نکاح اور ان محرمات کی حکمت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے پرانے لوگوں کے حالات اور دستور کی طرف بھی اشارہ کیا ، تاکہ ہمیں موجودہ شرائع الٰہیہ سے تقابل اور ترجیح کا موقع مل سکے اور معاملے کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ خداوند قدوس نے اس معاملہ میں انسان کی طبعی خواہشات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس کے لیے آسانی پیدا فرمادی ہے۔ اور انہیں پورا کرنے کا بہتر طریق کار بھی سمجھادیا ہے۔ چونکہ انسان فطرتاً کمزور پیدا کیا گیا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تخفیف فرمادی ہے۔
محرمات نکاح کے مسئلہ میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ کسی نفس میں ناحق طریقے سے تصرف کرنا حلاف نہیں ہے۔ لہٰذا جن عورتوں کے ساتھ نکاح حرام ہے ان میں تصرف باطل ہے تو جس طرح کسی جان میں ناحق تصرف جائر نہیں اسی طرح مال میں بھی شرعی احکام کے خلاف تصرف روا نہیں۔ اس سورة کی ابتداء میں بھی جانی اور مالی حقوق کا تذکرہ آچکا ہے۔ تخلیق انسانی کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے حق میں ناانصافی کرنے سے منع فرمایا۔ پھر عورتوں کے مہر کا ذکر کیا۔ وراثت کے احکام بیان ہوئے کہ یہ بھی مالی احکام ہیں۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے مالی اور جانی حقوق کا ذکر کیا ہے اور واضح فرمایا ہے کہ شرعی حکم کے بغیر نہ مال میں تصرف روا ہے اور نہ جان میں۔
مال میں ناجائز تصرف
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! یہ خطاب خاص طور پر اہل ایمان کے لیے ہے ، لاتاکلو اموالکم بینانہ کھائو اپنے مالوں کو اپنے درمیان بالباطل باطل طریق سے ، اور اس سے مراد ناجائز اور حرام راستے ہیں۔ ہر وہ ذریعہ آمدنی جو شریعت نے حرام قرا ردیا ہے ، وہ باطل میں شمار ہوگا اس میں چوری ، ڈکیتی ، خیانت ، سود ، رشوت ، دھوکہ وغیرہ سب آجاتے ہیں۔ بیوع فاسدہ یعنی وہ خرید وفروخت جس سے شریعت نے منع فرمایا وہ بھی باطل میں شامل ہوگی۔ جن اشیاء کی تجارت مثلاً شراب ، مردار ، تصاویر ، مجسمے وغیرہ کی ممانعت آئی ہے ان کے ذریعے مال کا حصول بھی باطل ہے اس کے علاوہ بعض ایسے ہیں جن کو اختیار کرنے سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے جیسے گانا بجانا آلات لہو و لعب جوا وغیرہ سب امور باطلہ کی فہرست میں آتے ہیں ۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ایک دوسرے کا مال باطل ذرائع سے مت کھائو۔ بعض اوقات کسی کا وراثت کا حق غصب کیا جاتا ہے۔ شراکتی کاروبار بھی ایک دوسرے کے حق میں خیانت ہوجاتی ہے فرمایا ات کل ذی حق حقہ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ اگر کسی طریقے سے دوسرے کے مال میں ناجائز تصرف ہوگا ، تو حرام ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے صریح الفاظ میں منع فرمادیا ہے کہ اے ایمان والو ! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھائو۔
مفسر قرآن امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح دوسرے کا مال ناجائز طور پر کھانا یا استعمال کرنا روا نہیں ، اسی طرح اپنا مال بھی ناجائز اور باطل طریقے سے استعمال کرنا حرام ہے۔ اگر اپنا مال بھی کھیل تماشے میں لگادیا یا رسومات باطلہ کی نذر کردیا ، اسراف وتبذیر میں اڑادیا تو یہ بھی ناجائز ہے۔
تجارتی منافع
البتہ ایک صورت ایسی ہے جس میں ایک دوسرے کا مال کھایا جاسکتا ہے۔ الا ان تکون تجارۃ اور وہ ہے ذریعہ تجارت ، تجارت کے ذریعے سے ایک فریق کو دوسرے فریق سے جو منافع حاصل ہوتا ہے اس کا استعمال جائز ہے اور پھر تجارت بھی ایسیعن تراض منکم جو باہمی رضا مندی سے کی جائے ، اور جو صحیح تجارت ہے وہ رضامندی سے ہی ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی فریق تجارتی لین دین میں راضی نہ ہو تو وہ تجارت نہیں بلکہ زبردستی ہوگی جو کہ ناجائز ہے۔ تجارت کا مطلب ہی یہ ہے مبادلۃ المال بالمال بالتراضی یعنی مال کا بدلہ مال سے باہمی رضا مندی کے ساتھ کیا جائے۔ اس میں یقینا منافع حاصل ہوگا اور وہ مومن کے لیے شرعاً حلال ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ باہمی رضا مندی بھی اسی صورت میں روا ہے جب کہ تجارت شرعی حدود کے اندر ہو۔ اگر کوئی شخص سود یا رشوت کی رقم دوسرے فریق کی رضا مندی سے دیتا ہے یا لیتا ہے تو وہ لین دین جائز نہیں ہوگا۔ کیونکہ ان اشیاء کو تو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ ایسی رضا مندی کا کچھ اعتبار نہیں۔ البتہ تجارت میں منافع لینا جائز ہے ، اور اس کی کوئی تحدید نہیں۔ منافع کبھی زیادہ بھی ہوسکتا ہے اور کبھی کم۔ کبھی برابر سرابر تجارت کرنا پڑتی ہے اور کبھی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے ، بہرحال تجارت میں نفع کمانا جائز ہے۔ اس کے علاوہ کی کا مال استعمال کرنا جائز نہیں۔ ابودائود شریف میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے۔ 1 ؎ ابودائود ص و احکام القرآن للجصاص ص 633 ج 3۔ (فیاض)
لایحل مال امرء مسلم الا بطیب نفسہ کسی مسلمان کا مال اس وقت تک حلال نہیں جب تک وہ خوشی خاطر سے خود اس کی اجازت نہ دے ۔
غیر تجارتی ذرائع مال
یہ امر قابل ذکر ہے کہ تجارت کے علاوہ بعض دیگر ذرائع بھی موجود ہیں جن سے کوئی مسلمان مال حاصل کرسکتا ہے۔ ان میں وراثت میں وصول ہونے والا مال ہے۔ اگر کوئی شخص دوسرے کو کوئی مال ہبہ کردے تو اس کے لیے حلال ہوجاتا ہے۔ یا کوئی کسی کو عطیہ دے دے یا صدقہ دے تو وہ مال بھی دوسرے کے تصرف میں آسکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیت زیر درس میں صرف تجارت کا ذکر آیا ہے ، باقی ذرائع مال کی کیا حیثیت ہوگی۔ اس کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگرچہ تجارت کے علاوہ حصول مال کے دیگر ذرائع بھی موجود ہیں مگر یہاں پر تجارت کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ سب سے بڑا ذریعہ مال تجارت ہی ہے ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں کل مال تصرف کا اسی فیصد حصہ تجارت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور باقی بیس فیصد دیگر ذرائع سے۔ تجارت کو دنیا میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انسانی تمدن میں یہ سب سے بڑا ذریعہ مبادلہ ہے۔ تجارتی لین دین مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک ہوتا رہتا ہے ایک ملک دوسرے سے تجارت کرتا ہے۔ ایک شہر کا مال دوسرے شہر میں جاتا ہے حتی کہ ایک محلے اور علاقے کا سامان دوسرے مقام پر تجارت کے ذریعے پہنچتا ہے۔ غرضیکہ پوری دنیا کی ضروریات زندگی ایک خطے سے دوسرے خطے میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی تجارت ہے اور یہی سب سے بڑا ذریعہ حصول مال ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ باہمی رضا مندی کی تجارت کے علاوہ آپس میں باطل طریقے سے مال نہ کھائو۔
یہاں پر اکل کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنفی کھانے کا ہوتا ہے ، یعنی باطل طریقے سے مال نہ کھائو۔ مگر مال صرف کھایا ہی نہیں جاتا بلکہ یہ دیگر ضروریات یعنی پہننے ، رہائش ، سواری وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ تو کیا کھانے کے علاوہ دیگر امور میں باطل طریقے سے مال استعمال کیا جاسکتا ہے ؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ ضرورت زندگی میں انسان کے لیے کھانا سب سے اہم ضرورت ہے۔ باقی ضروریات کو کسی مدت تک ملتوی کیا جاسکتا ہے مگر کھانا ایک ایسی چیز ہے جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے ۔ شیخ سعدی (رح) بھی گلستان میں کہتے ہیں کہ انسان تکیے کے بغیر سو سکتا ہے ، بیوی کے بغیر گزارہ کرسکتا ہے ، پھول اور خوشبو کے بغیر بھی گزراوقات ہوسکتی ہے ، لیکن پیٹ ایسا ظالم ہے کہ جب تک اس میں کوئی چیز داخل نہ کریں ، گزارہ نہیں ہوتا۔ اسی لیے کہتے کہ دنیا پیٹ پر چلتی ہے پیٹ ہی کی خاطر انسان طرح طرح کے دھندے کرتا ہے۔ لہٰذا یہاں پر کھانے کا ذکر زندگی کی اہم ترین ضرورت ہونے کی وجہ سے کیا گیا ہے اسی طرح سود کو حرام کرتے وقت بھی فرمایا لاتاکلو لربو یعنی سود مت کھائو۔ حالانکہ سود کی رقم دیگر کاموں میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ مقصد یہی ہے کہ کھانے میں استعمال کی ہرچیز شامل ہے۔
گہوارہ امن
ایک دوسرے کے مال میں عدم تصرف کا اللہ تعالیٰ نے ایسا پاکیزہ اصول بیان کردیا ہے کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو پوری دنیا گہوارہ امن بن جائے۔ کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ ناجائز تصرف سے شروفساد کا دروازہ کھلتا ہے۔ حرص ، لالچ ، طمع ، خود غرضی ، نفس پرستی اور تعیش وغیرہ سب ناجائز تصرف کا ثمرہ ہیں۔ اگر مسلمان خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے ناجائز تصرف سے باز آجائیں تو پوری سوسائٹی میں امن وامان قائم ہوجائے بہرحال فرمایا کہ ناجائز طریقوں سے مال اکٹھا نہ کرو بلکہ اس کے لیے جائز اور پسندیدہ ذرائع تلاش کرو۔ اللہ نے فرمایا واحل اللہ البیع وحرم الربو یعنی اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ لہٰذا انسان کو لازم ہے کہ وہ معیشت کے لیے حلال ذرائع اختیار کرے اور حرام راستوں سے بچ جائے۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی حضور نبی کریم ﷺ نے اعلان کروایا تھا ان اللہ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام یعنی اللہ تعالیٰ نے مردار ، خنزیر ، شراب اور مجسموں کی خرید وفروخت کو حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذا تجارت بھی ایسی کرنی چاہیے جس میں حرمت کا پہلو نہ پایا جائے۔
قتل نفس
جس طرح مال میں ناجائز تصرف حرام ہے۔ اسی طرح جان میں بھی ناجائز تصرف حرام ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولاتقتلوا انفسکم اور نہ قتل کرو اپنی جانوں کو ۔ یعنی ایک دوسرے کے قتل کے درپے مت ہو کہ یہ بھی حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور پھر انفسکم سے یہ بھی مراد ہے کہ کوئی شخص خود اپنی جان کو بھی تلف نہ کرے ، گویا خودکشی بھی حرام ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے جو شخص جس آلے کے ساتھ خودکشی کرے گا اسی آلے کے ذریعے اس کو جہنم میں سزا دی جائے گی۔ اگر کسی چھری یا دیگر تیز دھار آلے سے اپنے آپ کو ہلاک کیا ہے۔ تو دوزخ میں اسی سے ہلاک ہوتا رہے گا۔ اگر زہرکھایا ہے تو ہی زہر اس کو کھانے کو ملے گا ، اگر کوئی شخص اونچے مینار یادیوار سے چھلانگ لگاکر خودکشی کا مرتکب ہوتا ہے تو دوزخ میں اسے اونچی جگہ سے گرایا جائے گا غرضیکہ وہاں پر جزاجنس عمل سے ملے گی۔ مقصد یہ ہے کہ خودکشی بھی حرام ہے۔ اور کسی دوسرے آدمی کی جان لینا بھی قطعی حرام ہے۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اہل اسلام بھی مال وجان میں تصرف کی پروا نہیں کرتے۔ صدر ایوب کے زمانے میں اسمبلی میں رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق صرف ایک صوبے میں تین سال کے عرصہ میں سولہ ہزار قتل ہوئے اور ایک ضلع میں ایک سال میں ایک ہزار قتل ہوئے۔ حالانکہ کسی ایک مسلمان کی جان کا اتلاف دنیا بھر کے نقصان سے بڑھ کر ہے۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے۔ 1 ؎ ابن ماجہ ص وترمذی 022 ج 2 (فیاض)
زوال الدنیا اھون علی اللہ من قتل رجل مسلم یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان کا قتل پوری دنیا کے زوال سے بھاری ہے۔ مگر آج دنیا میں کیا ہورہا۔ معمولی معمولی باتوں پر قتل روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ علاوہ ازیں خودکشی کے واقعات بھی عام ہوچکے ہیں یہ جہالت اور نادانی کی انتہا ہے کہ انسان اپنی ہی جان کے درپے ہوجاتا ہے بمبئی میں میٹرک کے نتیجے کے موقع پر ساحل سمندر پر فوج متعین کردی جاتی ہے۔ تاکہ فیل ہونے والے طلباء کو خودکشی سے روکا جاسکے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ، خودکشی کرنے والا آدمی آخرت میں سزا کا مستحق ہوجاتا ہے اسی لیے فرمایا ایک دوسرے کو ناحق قتل نہ کرو ، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ مہربان ہے ان اللہ کان بکم رحیماً اللہ تعالیٰ نے تمہیں جان ومال کی حفاظت کے قوانین بتلادئیے ہیں ، ان پر عمل کرنے سے تمہارا اپناہی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور سے آگاہ کردیا ہے جو تمہارے لیے دین ، دنیا ، برزخ اور آخرت کے لیے مفید ہیں اور وہ چیزیں بھی بتادیں جو تمہارے لیے مضر ہیں۔ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم ان میں سے کون سی چیز کو اختیار کرتے ہو۔
ناجائز تصرف کی سزا
فرمایا ومن یقعل ذلک جو شخص ایسا کام کرے گا مال وجان میں ناجائز تصرف کرے گا عدوانا تعدی کرتے ہوئے وظلماً اور زیادتی کرتے ہوئے۔ واضح رہے کہ قتل نفس عدوان میں آتا ہے۔ یہ شرک کے ساتھ اکبر الکبائر میں شمار ہوتا ہے اور مال میں ناجائز تصرف ظلم کہلاتا ہے تو فرمایا کہ جو شخص تعدی اور ظلم سے ناحق مال کھائے گا یا کسی کی جان لے گا۔ فسوف نصلیہ ناراً تو عنقریب ہم اس کو جہنم کی آگ میں داخل کریں گے۔ اگر وہ اس دنیا میں کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ بھی گیا ، تو جہنم میں اس کے لیے ………ابدی سزا بہرحال اس کے انتظار میں ہے۔ وکان ذلک علی اللہ یسیراً اور دوزخ میں سزا دینا اللہ تعالیٰ کے لیے آسان ہے۔ یہ نہ سمجھنا کہ ہم مسلمان ہیں اور سزا سے بچ جائیں گے بلکہ جرم کی سزا ضرور ملے گی۔ بلکہ اکثر کسی شخص سے غلطی سے بھی قتل ہوجائے تو اس کے لیے بھی کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ توبہ کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے خون بہا کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا زیادتی کرکے پھر بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے تمہیں دین حق دیا۔ مغرور ہو کر اس کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ہمیشہ اس کی اطاعت کرنی چاہیے۔