Ayahs 4:47–50رابط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کی بعض قبیح خصلتوں کا تذکرہ ہوا تھا کہ وہ حق و صداقت کے مقابلے میں باطل پرستی کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ، اللہ کی کتاب کی تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں ، اللہ اور رسول کی نافرمانی کرتے ہیں ، بلکہ اللہ کے نبی کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ زبان کو پیچ دیکر ذومعنی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور دین میں طرح طرح کی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ آب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو وعید سنائی ہے کہ اس قرآن پاک پر ایمان لے آؤ ورنہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری شکلیں بگاڑدی جائیں اور تم پر اس طرح لعنت بھیجی جائے جس طرح اصحاب سبت پر بھیجی گئی اور انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا گیا۔ ان آیات کی شان نزول کے متعلق مؤرخ محمد ابن اسحاق (رح) بیان فرماتے ہیں کہ ایک موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے یہودی عالموں کو دعوت دی اور انہیں اس طرح خطاب فرمایا کہ اے احبارِ یہود ! ایمان لے آؤ ، بخدا تم جانتے ہو۔ جو چیزیں میں لے کر آیا ہوں ، میں اللہ کی سچی کتاب لایا ہوں ، تم اس پر ایمان لے آؤ مگر یہودیوں پر اس نصیحت کا کچھ اثر نہ ہوا ، بلکہ وہ اپنے باطل عقائد پر اڑے رہے۔ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے ان کی وعید کے لیے یہ آیات نازل فرمائیں۔
ایمان کی دعوت
ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین اوتو الکتب اے وہ لوگو ! جن کو کتاب دی گئی ہو ، یہودی اور عیسائی اپنے آپ کو اہل کتاب کہلاتے تھے۔ عیسائی انجیل کے حامل ہونے کے دعویدار تھے ، جب کہ یہودی تورات کے۔ قرآن پاک کی اصطلاح میں بھی انہیں اہل کتاب کہا گیا ہے۔ گزشتہ درس میں ” اوتوا نصیباً من الکتب “ کے الفاظ تھے یعنی وہ لوگ جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا یعنی جن کے پاس محض الفاظ ہیں اور روح نہیں۔ یا یہ کہ اصل کتب کا کچھ حصہ ہی اپنی اصل حالت میں موجود ہے اور باقی تحریف کی نذر ہوچکا ہے۔ تاہم اس آیت میں مطلقاً اہل کتاب کو خطاب ہے کہ امنو بما نزلنا اس چیز پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے یعنی قرآن پاک۔ اور وہ ایسی کتاب ہے مصدقا لما معکم جو تصدیق کرتی ہے اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے یعنی تورات اور انجیل۔
ظاہر ہے کہ ہر بعد میں آنے والی کتاب پہلی کتاب کی تصدیق کرتی ہے اور بعد میں آنے والا نبی پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا مصدق ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک نے تورات ، انجیل اور زبور کی منزل من اللہ ہونے کی تصدیق کی اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلّم نے سابقہ تمام انبیاء کے برحق ہونے کی تصدیق کی البتہ سابقہ امتوں نے خود اپنی کتابوں میں خرابی ڈالی اور ان میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اس بات کا اظہار قرآن پاک نے کردیا ہے۔ سورة مائدہ میں موجود ہے یاھل الکتب قدجاء کم رسولنا یبین لکم کثیراً مما کنتم تخفون من الکتب وینفوا عن کثیر اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آ گیا ہے جو تمہاری بہت سی (مسخ شدہ) باتوں کو ظاہر کرتا ہے اور بعض چیزوں سے درگزر کرتا ہے یعنی تمہاری بعض خصلتیں ایسی بھی ہیں جنہیں ظاہر نہیں کیا گای۔ لہٰذا تم قرآن پاک پر ایمان لاؤ جو تمہاری کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ من قبل ان نطمس وجوھاً اس سے پیشتر کہ تمہارے چہرے مٹا دیے جائیں یا مسخ کردیے جائیں ، بگاڑ دیے جائیں۔ فتردھا علی ادبارھا پس چہروں کو پشت کی جانب پھیردیں۔ ایسا وقت آنے سے پہلے پہلے ایمان لے آؤ ۔ جب اللہ کا غضب جوش میں آتا ہے تو پھر ایسا ہوتا ہے کہ دینا میں ہی لوگوں کی شکلیں مسخ کردی جاتی ہیں۔ قرآن پاک میں کتنی نافرمان قوموں کا ذکر ہے جن کی شکلیں بگاڑ دی گئیں اور انہیں جانوروں کی شکلوں میں تبدیل کردیا گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ آخری زمانہ میں بھی ایسا ہوگا ، قربِ قیامت میں بھی بعض لوگوں کی شکلیں مسخ کردی جائیں گی۔ جب کسی کا قلب و ذہن باطنی گمراہی سے بھرا ہو تو ظاہر ہے کہ باطنی طور پر تو اس کی شکل بگڑ چکی ہے اور یہ شر کا دوسرا درجہ ہے۔ اس کا آخری درجہ یہ ہے کہ ظاہری شکلیں بھی بگڑ جائیں۔ عام طور پر ایسا نہیں ہوتا ، تاہم کہیں اکا دکا واقعہ پیش آجانا عین ممکن ہے۔
اصحابِ سبت
فرمایا ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ تمہاری شکلیں مسخ کردی جائیں اونلعنہم یا ہم ان پر لعنت بھیجیں ، رحمت سے دور کردیں کما لعناً اصحب السبت جس طرح کہ ہم نے ان لوگوں پر لعنت بھیجی جو ہفتے کے دن زیادتی کرتے تھے۔ یہ بھی بنی اسرائیل ہی کا ایک فرقہ تھا۔ ان کو حکم تھا کہ وہ ہفتے کے دن کوئی کاروبار نہ کریں سوائے عبادت کے ، مگر انہوں نے حیلے بہانے سے مچھلی کا شکار شروع کردیا اور اس طرح حرام چیز کو حلال بنانے کی کوشش کی اور بار بار سمجھانے کے باوجود نہ سمجھے۔ آخر اللہ کا عذاب اس شکل میں نازل کہ اللہ نے حکم دیا ” کونوا قردۃ خاسئین ذلیل بندر بن جاؤ دوسرے مقام پر فرمایا وجعل منہم القردۃ والخنازیر بعض کی شکلیں بندروں کی اور بعض کی خنزیروں کی بن گئیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان کے نوجوان بندروں کیش کل میں تبدیل ہوگئے اور بوڑھے خنزیر بن گئے۔ فرمایا وکان امر اللہ مفعولاً اور اللہ کا حکم تو ہو کر رہتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو عید سنائی ہے کہ خدا کا خوف کرو ، ایمان لے آؤ ۔ اللہ کا نبی تو پہلی کتابوں کا مصدق ہے۔ لہٰذا تمہارے انکار کی کوئی وجہ باقی نہیں۔ تم کیوں۔ کفر پر ا صرار کر رہے ہو۔
شرک ناقابلِ معافی جرم
ان تمام تر خرابیوں کے باوجود یہودی اس دعوے پر مصر تھے کہ وہی صحیح دین پر قائم ہیں۔ وہ اپنے کفر اور شرک کا انکار کرتے تھے ، مگر اللہ تعالیٰ نے بطور قانون ارشاد فرمایا ان اللہ لاتغفران تشرک بہ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بخشا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ شرک ایسی قبیح بیماری ہے کہ اس کے لیے بقائمی ہوش و حواس توبہ ضروری ہے اگر مرنے سے پہلے توبہ نہیں کی تو ایسا شخص ہمیشہ کے لیے عذاب کا مستحق بن گیا۔ البتہ ویغفر مادون ذلک لمن یشاء شرک کے علاوہ دیگر جس گناہ کو اللہ چاہے اپنی رحمت سے معاف فرمادے ، اللہ تعالیٰ نے یہ قانون کے طو ر پر بتلا دیا کہ شرک کے علاوہ جو بھی گناہ کریگا ، اس کی معافی کی گنجائش موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو سزا دینے کے بعد معاف کر دے یا اپنی رحمت کے ساتھ بغیر سزا دیے بھی معاف کر دے مگر جہاں تک شرک جیسے عظیم گناہ کا تعلق اس کی معافی کی کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ انسان موت طاری ہونے سے پہلے پہلے سچے دل سے تائب ہوجائے۔ فرمایا و من یشرک باللہ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا فقد افتریٰ اثما عظیماً اس نے بہت بڑے گناہ کا افتراء کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے قرآن پک میں شرک کی جگہ جگہ مذمت بیان کی گئی ہے۔
شرک کی تعریف
شرک کی وضاحت قرآن و سنت میں موجود ہے۔ علمائے کرام نے شرک کی تردید میں بڑی کتابیں لکھی ہیں۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) کا رسالہ تقویۃ الایمان توحید و شرک کے مسئلہ کی خوب وضاحت کرتا ہے۔ ایک اور بزرگ مولانا حافظ احمد الدین صاحب بھیرے کے قریب موضع بگا کی رہنے والے تھے۔ مولانا شاہ محمد اسحاق (رح) کے شاگرد تھے۔ چودہ سال تک دہلی میں تعلیم پائی۔ آپ نے آج سے قریباً ڈیڑھ ، پونے دو سو سال پہلے دلیل المشرکین کے نام سے عربی زبان میں کتاب لکھی ، جس کا ترجمہ اس فقیر نے کیا ہے۔ اس میں حافظ صاحب نے شرک کی بیس قسمیں بیان کی ہیں۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) نے قرآن پاک کے دوسرے پارے کے حاشیے میں ایک چھوٹا سانوٹ دیکر یہ مسئلہ سمجھایا ہے۔ فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ولا تنکحوا المشرکین “ یعنی مومن مرد مشرک عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔ اور مومن عورت مشرک مرد کے نکاح میں نہیں آسکتی آپ فرماتے ہیں کہ اگر مرد یا عورت میں سے کسی ایک نے شرک کا ارتکاب کیا تو اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا کیونکہ مومن اور مشرک کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
بعض صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی صفت غیر اللہ میں مانی جائے تو شرک کا ارتکاب ہوجائے گا۔ مثلاً یہ کہ کسی پیر ، ولی ، بزرگ ، فرشتے یا نبی کو ہر شے کا علم ہے ، مشرکانہ عقیدہ ہے کیونکہ واللہ بکل شی علیم ہر چیز کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اسی طرح قدرت تامہ بھی اللہ کی صفت مختصہ ہے۔ اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ فلاں بزرگ یا نبی یا ولی جو چاہے کرسکتا ہے تو وہ بھی مشرک ہوگیا۔ قادر مطلق ہونا بھی اللہ ہی کی صفت ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اس کا بُرا بھلا کرنا کسی دوسرے کے اختیار میں ہے ، کوئی نبی ، ولی اس کا نافع اور ضار ہے تو یہ بھی شرک میں داخل ہے۔ اسی طرح غایت درجہ کی جو تعظیم اللہ تعالیٰ کے سامنے کرنی چاہیے ، جیسے رکوع ، سجود وغیرہ ، یہی تعظیم اگر غیر اللہ کی کریگا ، تو شرک کا ارتکاب ہوگا۔ شرک کبھی ذات میں ہوتا ہے اور کبھی صفات یا عبادت میں۔ خدا تعالیٰ کی ذات کے علاوہ کسی دوسرے کو اگر خدا مانے گا تو یہ شرک فی الذات ہوگیا مجوسیوں کا ایک فرقہ ثنوی ہے ، جو یزدان اور اہرمن دو خدا مانتے ہیں یہ بھی مشرکانہ عقیدہ ہے۔ شرک مشیت میں بھی ہوتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی دوسری ہستی بھی ایسی مانی جائے جو جو چاہے کرسکے۔ ایک شخص نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا ماشاء اللہ وماشئت یعنی جو آپ چاہیں اور اللہ چاہے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، کیا تو مجھے خدا کا شریک بنانا چاہتا ہے ۔ کہو ماشاء اللہ وحدہٗ جو صرف اللہ چاہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ مختار کل کوئی نہیں ہے۔ تصرف میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو نفع نقصان کا مالک سمجھ کر اس سے روزی ، اولاد یا شفا طلب کی جائے۔ کسی نبی ، ولی یا پیر کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اسے بھی تصرف حاصل ہے تو یہ بھی شرک ہوگا۔ عبادات میں رکوع ، سجود وغیرہ کا ذکر آ چکا ہے ، اس کے علاوہ طواف بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور بیت اللہ شریف کے ساتھ مختص ہے ولیطوفوا بالبیت العتیق بیت اللہ شریف کا طواف کرو۔ اگر یہی طواف کسی قبر یا مسجد کے گرد کیا ، تو یہ بھی شرک ہوگیا۔ کوہِ مراد پر کوئی گمراہ فرقہ ہے۔ انہوں نے کوئی ایسی جگہ بنائی ہوئی ہے جس کا طواف کرتے ہیں۔ یہ صریحاً شرک ہے۔
نذر بغیر اللہ یعنی اللہ کے سوا کسی دوسرے کی نذر ماننا بھی شرک ہے۔ نذر صرف خدا تعالیٰ کی مانی جاسکتی ہے۔ بعض اوقات شرک فی العادت ہوتا ہے کئی کام عادت کے طور پر کیے جاتے ہیں جیسے زنا باندھنا ، جنیوا باندھنا یا گلے میں صلیب لٹکانا وغیرہ ایک شخص صلیب لٹکا کر حضور ﷺ کے سامنے آیا تو آپ نے فرمایا الق عنک ہذا لوثن اس بت کو اتار پھینکو یہ شرک کی نشانی ہے۔ بعض نام بھی شرکیہ ہوتے ہیں جیسے عبدالمسیح ، عبدالمصطفیٰ ، عبدالرسول یا عبدالحسین ، عبدیت کی نسبت ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف ہونی چاہیے اگر غیر کی طرف ہوئی ، تو شرک ہوگیا۔ قسم اٹھانے میں بھی شرک ہوتا ہے۔ من احلف بغیر اللہ فقداشرک جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی اس نے بھی شرک کیا۔ اللہ کی ذات اور اس کی صفات کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم اٹھانا حرام ہے۔ بعض اوقات جانور ذبح کرنے میں شرک ہوتا ہے ۔ کوئی مکان یا دیگر عمارت شروع کرتے وقت اس کی بنیاد میں جانور ذبح کرتے ہیں۔ عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا تو عمارت میں نقص رہ جائے گا۔ بسا اوقات کسی درخت کے نیچے یا کسی نہر پر جانور ذبح کیا جاتا ہے اور اس سے مقصود کسی جن بھوت کو خوش کرنا ہوتا ہے۔ یہ بھی مشرکانہ عقیدہ ہے ۔ کسی چیز میں مستقل تاثیر ماننا بھی شرک ہے کیونکہ مستقل تاثیر تو خدا تعالیٰ کے حکم میں ہے اور اس کی صفت میں ہے۔ اس کے علاوہ ہر تاثیر مستعار ہے۔ استعانت مافوق الاسباب میں بھی شرک ہوتا ہے عالم اسباب میں ایک دوسرے کی مدد کرنا شرک نہیں بلکہ یہ تو حکم ہے۔ ” تعاونوا علی البر والتقوی “ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو۔ البتہ مادی اسباب کے علاوہ غائبانہ طور پر اگر کوئی غیر اللہ سے مدد طلب کرتا ہے ، تو وہ مشرک ہے ندا میں بھی شرک ہوتا ہے۔ غیر اللہ کو حاضر ناظر سمجھ کر پکارنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہماری بات سنتے ہیں ، شرک ہے۔ جیسے یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا اللہ ، یا بہاؤ الحق ، یا پیر دستگیر ، یا علی ، یا حسین وغیرہ سب شرک ہے۔ جانور ذبح کرتے وقت اگر اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کا نام لے لیا تو بھی شرک کا ارتکاب ہوگیا جیسے بسم اللہ و اسم محمد حالانکہ صرف بسم اللہ کہنا ضروری ہے اسی طرح شگون لینا بھی شرک ہے۔ کوئی جانور الو وغیرہ دائیں یا بائیں اڑ گیا تو عرب اسے منحوس خیال کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا الطیرۃ شرک شگون لینا بھی شرک ہے۔ مومن ہمیشہ ذات خداوندی پر بھروسہ کرتا ہے ، وہ اس اس قسم کے وہم میں مبتلا نہیں ہوتا۔ اگر کوئی ایسی بات ذہن میں آئے تو اسے نکال دینا چاہیے۔ لوگ خبریں معلوم کرنے میں بھی شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ نجومی رمال ، جفار یا دست شناس سے قسمت حال معلوم کرنا شرک ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا یہ لوگ غیب دان ہیں ؟ عالم الغیب تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے فرمایا جو شخص نجومیوں سے خبریں معلوم کرتا ہے اور ان پر یقین کرتا ہے وہ محمد کی شریعت کا انکار کرتا ہے۔ ایسی شرکیہ باتوں پر قطعاً یقین نہیں رکھنا چاہیے۔
بعض لوگ تصور میں شرگ کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ بزرگوں ، مشائخ یا پیران پیر کی روحیں ان کے گھر آتی ہیں فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسا عقیدہ رکھنے والا آدمی کافر ہے ، مشرک ہے ، یہ تصور میں شرک ہے۔ تعویز گنڈے میں بھی بعض اوقات فرعون ، جبرائیل یا کسی جن سے مدد طلب کی جاتی ہے تعویزوں میں شرکیہ کلمات ہوتے ہیں۔ حضور ﷺ نے صراحتاً فرمایا کہ گلے میں لٹکانے والے تعویزوں میں بھی شرک ہوتا ہے بعض اوقات جھاڑ پھونک میں شرکیہ الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ غیر اللہ سے استعانت طلب کی جاتی ہے۔ یہ بھی شرک میں داخل ہے کبھی توسل میں شرک کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ غیر اللہ کا وسیلہ پکڑا جاتا ہے کہ وہ ہر حالت میں ہماری حاجت خدا تعالیٰ سے پوری کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ راضی ہو یا ناراض ، یہ بزرگ ہمارا کام ضرور کروا دیں گے۔ مشرکین عرب ، لات ، منات اور عزیٰ کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے تھے۔ یہودی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق یہی تصور رکھتے تھے اور شیعہ امام حسین ؓ کو وسیلہ پکڑتے ہیں۔ قبر پرست لوگ بہت سے بزرگوں کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کی نذر و نیاز دے دی جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ضرور راضی کرلیتے ہیں اور شرک کی بیسویں قسم ریا ہے ، اسے شرک اصغر کہا جاتا ہے اگر کوئی عمل دکھاوے کے لیے کیا جائے تو شرک کا ارتکاب ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے من عمل یرالی فقد اشرک جس نے دکھلاوے کے لیے کوئی عمل کیا۔ اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، شرک کی یہ تمام اقسام فقد افتری اثماً عظیماً میں آتی ہیں۔
خودستائی
آگے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مذمت میں فرمایا الم تر الی الذین یزکون انفسہم کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو اپنے آپ کو پاک صاف بتاتے ہیں حالانکہ ان میں کفر ، شرک اور معاصی جیسی قبیح بیماریاں موجود ہیں۔ یہود و نصاریٰ اپنے آپ کو پیغمبر زادے کہتے تھے اور محض اس بات پر ہی فخر کرتے تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص جنت میں نہیں جائیگا۔ یہ بیماری آج کل کے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے ، وہ پیرزادے اور سید زادے کہلاتے ہیں بعض نے یہ فتویٰ بھی دیا کہ حضرت فاطمہ ؓ کی اولاد میں سے کسی عورت کا نکاح امتی کے ساتھ جائز نہیں ، یہ ایک قسم کا خود ساختہ تقدس ہے۔ اپنے آپ کو اعلیٰ خاندان سے منسوب کرنا حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑائی کا معیار نیکی ، ایمان اور تقویٰ ہے۔ محض ذات پاک کی وجہ سے کسی کو برتری حاصل نہیں ہے تو فرمایا کہ یہود ونصاریٰ اپنی تعریف آپ کرتے ہیں اور اس میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا بل اللہ یزکی من یشاء پاک تو اللہ کرتا ہے ، جسے چاہے پاک کر دے دوسری جگہ فرمایا فلا تزکوا انفسکم و ھو اعلم بمن اتقی اپنی پاکیزگی خود نہ کرنے لگ جاؤ ، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے کون زیادہ متقی ہے اور کون زیادہ پاک ہے۔ ہر شخص کی بغیر سوچے سمجھے تعریف کرنا درست نہیں ہے تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے یا انبیاء کی معصوم جماعت کی ، جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے اجازت دی ہے۔ یقینا وہ اللہ تعالیٰ کے پاک اور برگزیدہ بندے ہیں۔ اللہ نے ان کی تعریف خود وحی الٰہی میں کی ہے مگر کسی چھوٹے بڑے آدمی کی قطعی تعریف بغیر علم کے جائز نہیں ہے۔
فرمایا اللہ کا قانون یہ ہے کہ اس کے ہاں انصاف ہوگا۔ ولایظلمون فتیلاً ایک دھاگے کے برابر بھی کسی پر زیادتی نہیں ہوگی۔ فتیل اس چھوٹے سے دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے اسے قطمیر بھی کہتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو جتناعمل کریگا ، اس کے مطابق بھگتان کرنا ہوگا ، مگر زیادتی کسی کے ساتھ نہیں ہوگی۔
اللہ پر افترأ
فرمایا انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب فرمایا دیکھو ! یہ یہود و نصاریٰ کس طرح اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان میں ہر برائی موجود ہے مگر پھر بھی کہتے ہیں ” نحن ابناء اللہ واحباء ہ “ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں۔ ہمیں کچھ نہیں ہوگا۔ ہم نبی آخر الزماں پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ، ہم اسے (العیاذ باللہ) سچا نبی نہیں سمجھتے۔ اللہ نے فرمایا وکفی بہ اثماً مبیناً اس سے بڑھ کر اور کیا گناہ ہو سکتا ہے۔ ان لوگوں میں ہر قسم کی برائی موجود ہے مگر اپنا تقدس ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر ان کی کیا بدبختی ہو سکتی ہے۔
Ayahs 4:51–53ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی قباحتوں کا تذکرہ کر کے ان کی مذمت بیان فرمائی تھی۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں ، یہاں بھی ان کی ایک سازش کا ذکر ہے جو انہوں نے کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف کی۔ جھوٹ ، مکر اور فریب ان کی سرشت میں داخل تھا۔ اللہ کے نبی کے ساتھ دشمنی اور پھر آپ کی توہین کرنا ان کا روزمرہ کا معمول تھا۔
سورۃ نساء کے بعد اگلی سورة مائدہ میں بھی یہ ذکر موجود ہے کہ اہل اسلام کے سب سے بڑے دشمن یہودی ہیں ، اور ان کے بعد پھر مشرک اور نصاریٰ درجہ بدرجہ آتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” لتجدن اشد الناس عداوۃً للذین امنوا الیہود والذین اشرکوا “ یعنی اسلام دشمنی میں یہود سب سے بڑھے ہوئے ہیں ، ان کے بعد مشرکین کا نمبر ہے اور پھر نصاریٰ کا۔ بہرحال آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی شرارتوں کا ذکر کیا ہے۔
شان نزول
مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لانے کے بعد حضور ﷺ نے مدینے کے قبائل ، جن میں یہودی بھی شامل تھے ، کے ساتھ میثاق مدینہ کے نام سے ایک معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق یہ طے پایا کہ اہل اسلام اور مدینہ کے گرد و نواح میں رہنے والے تمام قبائل اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے آپس میں اتفاق و اتحاد کی فضا برقرار رکھیں گے اور اگر مدینہ پر باہر سے حملہ ہوا تو سب مل کر اس کا دفاع کریں گے۔ یہودیوں کا ایک بڑا عالم کعب بن اشرف تھا۔ مدینہ کے قریب ہی اس کا اپنا قلعہ اور گاؤں تھا۔ صاحبِ علم اور دولت مند تاجر تھا۔ اس کی تجارت اور سودی کاروبار پورے عرب میں پھیلا ہوا تھا۔ چونکہ یہ بااثر آدمی تھا اس لیے یہودیوں کی طرف سے میثاق مدینہ پر اس نے بھی دستخط کیے تھے اور اس معاہدہ کی پابندی کا عہد کیا تھا۔ اس کے باوجود یہ شخص دل سے مسلمانوں کے ساتھ بغض رکھتا تھا اور ہمیشہ انہیں درپردہ نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتا تھا۔ اس سے پہلے جنگ بدر میں مسلمان کامیاب ہوچکے تھے مگر احد پر کفار کا پلہ بھاری رہا۔ اس شخص نے موقع غنیمت جانا اور سترآدمیوں کا ایک وفد لیکر مکہ پہنچا۔ ابوسفیان سے ملاقات کر کے اسے یہ عندیہ دیا کہ ہم محمد اور اہل اسلام سے فیصلہ کن جنگ کرنا چاہتے ہیں ، آپ ہماری مدد کریں ، ہم مدینہ کے معاہدہ کو ختم کرنا چاہتے ہیں ابو سفیان کو کعب بن اشرف کی بات پر یقین نہ آیا۔ اس نے کہا میں تمہاری بات کو اس صورت میں سچا ماننے کے لیے تیار ہوں جب کہ تم ہمارے بتوں کے سامنے سجدہ کرو۔ اسلام دشمنی کے غیظ و غضب میں اس نے سجدہ بھی کردیا۔ اس کے بعد مشرکین مکہ نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ ہمارا دین اچھا ہے یا مسلمانوں کا ہم بیت اللہ شریف کے متولی ہیں طواف کرتے ہیں۔ جانور ذبح کرتے ہیں ، حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں ، مگر محمد اپنے اباؤ اجداد کے دین کو ترک کرچکے ہیں۔ بہرحال انہوں نے کعب بن اشرف سے یہ تصدیق کر والی کہ ان کا طریقہ مسلمانوں کی نسبت اچھا ہے اپنی مزید تسلی کے لیے انہوں نے کہا کہ اچھا اب ایسا کرتے ہیں کہ تیس آدمی ہمارے اور تیس آدمی تمہارے کعبۃ اللہ کے ساتھ چمٹ کر قسمیں اٹھائیں اور عہد کریں کہ دونوں فریق مسلمانوں کے خلاف جنگ میں پوری پوری کوشش اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔ چناچہ کعب بن اشرف نے مشرکین کی یہ شرط قبول کرلی اور فریقین کے تیس تیس آدمیوں نے بیت اللہ کے روبرو مسلمانوں کے خلاف معاہدہ کرلیا۔ آج کی آیات میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ کر کے یہودیوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
جِبت اور طاغوت
فرمایا الم تر الی الذین اوتو نصیباً من الکتب کیا آپ نے نہیں دیکھا ان لوگوں کی طرف جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ مکمل تورات تو ان کے پاس نہیں ہے۔ انہوں نے تو اس کو خلط ملط کردیا ہے ، تاہم اس کا کچھ نہ کچھ اصل حصہ موجود ہے ، ان یہودیوں کا حال یہ ہے کہ یومنون بالجبت والطاغوت یہ لوگ جبت اور طاغوت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جبت کا لفظ پورے قرآن پاک میں صرف ایک اسی جگہ استعمال ہوا ہے ، البتہ طاغوت کا لفظ مختلف سورتوں میں سات مرتبہ آیا ہے۔ عام مفسرین جبت کا معنی بت اور طاغوت کا معنی شیطان کرتے ہیں لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ یہودی بتوں اور شیطان کے پجاری ہیں۔ جیسا کہ ان آیات کے شان نزول میں بیان ہوا کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے اسلام دشمنی کی بنا پر مشرکین مکہ کے کہنے پر بتوں کو بھی سجدہ کیا۔ طاغوت طغویٰ کے مادہ سے ہے جس کا معنی سرکش ہو کر د سے بڑھ جانا ہے۔ اور یہ شیطان پر ہی صادق آتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ حبشی زبان میں طاغوت شیطان ہی کو کہتے ہیں۔
مفسرین نے جبت کا معنی سحر بھی کیا ہے۔ اس ضمن میں یہودیوں کا حال سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال کر سحر یعنی جادو حاصل کیا ” واتبعوا ماتتلوا الشیطین علی ملک سلیمن “ اس لحاظ سے جبت کا معنی جادو بھی ہے۔ سیرت کی معروف کتاب کے مؤلف امام ابن ہشام (رح) فرماتے ہیں الجبت عندالعرب ماعبد من دون اللہ یعنی عربوں کے نزدیک ہر وہ چیز جبت ہے کہ اللہ کے سوا جس کی پوجا کی جائے اور ہر وہ چیز طاغوت ہے کل ما اضل منالحق جو راہ حق سے گمراہ کرنے والی ہو۔ جبت کی جمع جبوت اور طاغوت کی جمع طواغیت آتی ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق امام ابن ہشام (رح) فرماتے ہیں کہ جبت کا معنی سحر اور طاغوت کا معنی شیطان ہے۔ سورة بخل میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی پر یہ حکم نازل فرمایا ان اعبدواللہ واجتنبوا الطاغوت “ یعنی اللہ کی عبادت کرو او طاغوت کی پرستش سے باز آ جاؤ ۔ گویا ہر سرکش اور حق سے گمراہ کرنے والا طاغوت ہے خواہ وہ شیطان ہو یا کوئی دوسری شخصیت ملوک اکثر طاغوت کی نمائندگی کرتے ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کے حکم کی بجائے اپنا حکم چلاتے ہیں اور لوگوں کو راہ راست سے ہٹاکر غلط بات ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں لا تحلفوا باباء کم ولا بالطواغیت یعنی اپنے اباؤ اجداد یا کسی طاغوت کے نام کی قسم مٹ اٹھاؤ بہرحال گمراہ کرنے والی تمام طاقتیں طاغوت ہیں اور شیطان ان کا سرغنہ ہے۔
حق پر کون
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، دیکھو ! یہ اہل علم کا حال ہے کہ طاغوت اور جبت پر یقین رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے سچے نبی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ مشرکین کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رکھا ہے ویقولون للذین کفروا کفار کے متعلق کہتے ہیں۔ ہؤلاء اہدی من الذین امنوا سبیلاً کہ اہل ایمان کی نسبت یہ زیادہ راہ راست پر ہیں ، یعنی مکہ کے کافروں اور مشرکوں کا دین مسلمانوں کے دین سے بہتر ہے۔ یہ کعب بن اشرف ولاے واقعہ کی طرف ہی اشارہ ہے کہ اس نے مشرکین کے استفسار پر بتایا تھا کہ تمہارا دین محمد ﷺ کے طریقے سے اچھا ہے۔ اس شخص کے متعلق میں نے پہلیعرض کیا کہ بڑا ظالم آدمی تھا۔ خودشاعر تھا اور دوسروں سے بھی حضور ﷺ کی مذمت میں شعر کہلواتا تھا۔ اس کی ضلالت کی انتہا یہ تھی کہ سودی قرضے دیتا تھا اور عام چیزوں کے علاوہ لوگوں کی عورتوں کو بھی رہن رکھ لیتا تھا۔ بہرحال اس شخص نے میثاق مدینہ کو توڑا تو حضور ﷺ کی اجازت سے محمد ابن مسلمہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے اسے قتل کردیا۔
خدا کی لعنت
گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے یہودیوں کو فرمایا تھا یا معشرالیہود ! اے یہودیو ! تم جانتے ہو کہ میں خدا کا سچا نبی ہوں اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں ، وہ برحق ہے لہٰذا تم ایمان لے آؤ تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو مگر ان بدبختوں نے کفر پر اصرار کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا اولیک الذین لعنہم اللہ اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی و من یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیراً اور جس پر اللہ تعالیٰ لعنت کر دے ، اس کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
لعنت کا مفہوم
لعنت کا لفی معنی بعد ہوتا ہے اور اصطلاحاً اسے اللہ کی رحمت سے دوری پر محمول کیا جاتا ہے۔ یہ لفظ جب کافر کے حق میں استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسا شخص اللہ کی رحمت سے ابدی طور پر دور یعنی محروم ہوگیا اور سزا کا مستحق ٹھہرا جیسے سورة بقرہ میں کفار کے متعلق آیا ہے ” اولیک علیہم لعنۃ اللہ والملکۃ والناس اجمعین “ ایسے لوگوں پر اللہ کی اس کے فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ البتہ جب لعنت کا لفظ گنہگار مومن کے لیے استعمال ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ سزا کا مستحق ٹھہرا اگرچہ ابدی طور پر نہیں مگر گناہ کی سزا بھگتنے کے بعد جنت میں داخلہ مل جائیگا بہرحال ایسے شخص کا درجہ کم ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سے بُرے کاموں پر لعنت کا لفظ استعمال کیا ہے جیسے ” الا لعنۃ اللہ علی الظلمین “ یعنی ظلم کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہو۔
حضور ﷺ کے ارشادات میں بھی بعض کاموں پر لعنت آئی ہے جیسے فرمایا لعن اللہ من لعن والدیہ یا فرمایا لعن اللہ من سب والدیہ یعنی اس شخص پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جو اپنے والدین پر لعنت کرتا ہے یا انہیں گالی دیتا ہے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا لعن اللہ الواصلۃ والمسترصلۃ اس عورت پر بھی لعنت ہے جو اپنے سر کے بال دوسری عورت کو دیتی ہے تاکہ وہ بھی اپنے بال لمبے کرے اور جو عورت ایسا کرتی ہے وہ بھی معلون ہے۔ ایشم یادھاگے کا پر اندہ بنا کر ان کو لمباکر لینا جائز ہے ، مگر دوسری عورت کے بال لے کر اپنے بالوں کو لمبا کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح گودنے گدوانے والوں یا جسم پر نیل کے داغ لگوانے والوں پر بھی لعنت کی گئی ہے۔ آپ 1 ؎ قرطبی ص 238 ج 14 و احکام القرآن للحصاص ص 273 ج 3 (فیاض
نے لعن اللہ المصورین بھی فرمایا یعنی فوٹو کھینچنے والے بھی ملعون ہیں۔ لعن اللہ من عمل عمل قوم لوطٍ جس نے قوم لوط کا عمل کیا وہ بھی لعنت کا مستحق ہوا۔
اس بات کی وضاحت ہوجائے کہ کسی شخص معین پر اس وقت تک لعنت کا اطلاق نہیں کرنا چاہیے جب تک کہ اس کے متعلق صریحاً علم نہ ہو کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہوا ہے جیسے ابوجہل ، ابولہب یا شیطان لعین وغیرہ ۔ ایک شخص واقعی کافر ہے ، مگر کیا معلوم کہ مرنے سے پہلے وہ ایمان اختیار کرلے ، لہٰذا اس پر بھی لعنت درست نہیں جب تک کہ اس کا خاتمہ علی الکفر نہ ہوجائے۔ اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) یزید پر لعنت بھیجنے کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ اس کا کفر پر مرنا ثابت نہیں۔ البتہ بعض افعال پر لعنت بھیجی جاسکتی ہے جیسے حضور ﷺ نے فرمایا لعن اللہ السارق اللہ چور پر لعنت کرے۔ ” لعنۃ اللہ علی الکذبین “ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر ان کے افعال قبیحہ کی وجہ سے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ تعالیٰ لعنت کر دے ، وہ ذلیل و خوار ہو کر رہے گا اور اس کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا۔ یہودی ایسے خبیث لوگ ہیں جو اپنی نفسانی اغراض ، ضد اور عناد کی وجہ سے اسلام کو باطل اور کفر کو حق قرار دیتے ہیں ، ان کو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ذلیل و خوار کرے گا اور وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔
خدائی میں حصہ
آگے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے متعلق فرمایا امر لہم نصیبٌ من الملک کیا ان کا خدا کی خدائی میں کچھ حصہ ہے ، کیا انہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ حق کو باطل اور باطل کو حق قرار دے دیں۔ ہرگز نہیں ، انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بادشاہت میں کوئی حصہ عطا نہیں کیا اور نہ انہیں کوئی اختیار دیا ہے البتہ اگر ان کے پاس کوئی اختیار بھی ہوتا۔ فاذ الا یوتون الناس نقیراً اگر کوئی چیز ان کے پاس ہوتی بھی تو یہ اس قدر بخیل واقع ہوئے ہیں کہ کسی کو ایک تِل بھی نہ دیتے۔ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کے بخل کا ذکر فرمایا ہے قل لو انتم تملکون خزائن رحمۃ ربی اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ ان سے فرما دیں کہ اگر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے بھی ہوتے ” اذا لا مسکتم خشیۃ الانفاق تو تم انہیں خرچ ہونے کے خوف سے روک رکھتے۔ وکان الانسان قتوراً کیونکہ انسان تنگ دل واقع ہوا ہے یہاں پر بھی فرمایا کہ اگر خدا کی بادشاہ میں بہت کچھ حصہ ہوتا تو تم کسی کو ایک تِل کے برابر یعنی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی دینے کے لیے تیار نہ ہوتے۔
سلسلہ نبوت
دراصل یہودی حسد کا شکار ہوچکے تھے۔ ان کو امید تھی کہ نبی آخر الزمان نبی اسحاق میں سے آئے گا ، مگر جب آخر میں سلسلہ نبوت بنی اسماعیل میں آ گیا تو یہ لوگ حسد کی آگ میں جل گئے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ ” حسداً من عند انفسہم “ کے الفاظ آتے ہیں۔ نبوت کا سلسلہ ہزاروں سال تک بنی اسرائیل میں جاری رہا مگر یہ انعام ہمیشہ کے لیے تو انکے لیے مخصوص ہو کر نہیں رہ گیا تھا بلکہ ” واللہ یختص برحمتہ من یشائ “ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت کے لیے خاص کر دے۔ اس نے اپنی رحمت سے حضور ﷺ کو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں مبعوث فرما دیا تو اس میں حسد کی کون سی بات ہے۔ انہیں تو چاہیے کہ اپنی کتابوں کے مطابق آپ کی نشانیاں دیکھ کر فوراً ایمان لے آتے۔ یہ لوگ صاحب علم اور اہل کتاب تھے ، ان کو انکار نہیں کرنا چاہیے تھا مگر یہ حسد کی وجہ سے انکار کر گئے۔
بہرحال فرمایا کہ ان کے پاس کچھ ہوتا تو یہ ایک نقیر یعنی تل کے برابر بھی کسی کو کچھ نہ دیتے۔ نقیر دراصل اس باریک دھاگے کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی کے سوراخ پر ہوتا ہے جس سے پودا پھوٹ کر نکلتا ہے۔ مقصد یہ کہ نقیر بہت معمولی چیز پر بولا جاتا ہے۔ اناج کے دانوں میں سے تِل بھی ایک بہت چھوٹا سا دانہ ہوتا ہے ، اس لیے اس کا ترجمہ تل کردیا گیا ہے۔ بعض اوقات چھوٹی چیز کو خردل یعنی رائی کے دانے سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔
Ayahs 4:54–57ربط آیات
گزشتہ آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بعض قباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوئے ، انہوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور دین میں طعن بھی کی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وعید سنائی کہ اگر آپ بھی ایمان نہیں لائیں گے ، پھر ان پر خدا تعالیٰ کی لعنت برسیگی ، بالکل اسی طرح جیسے سبت یعنی ہفتہ کے دن والوں پر اللہ نے لعنت فرمائی اور انہیں بندر اور خنزیر کی شکلوں میں تبدیل کردیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مزید خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ جبت اور طاغوت کی پرستش کرتے ہیں اور ان پر یقین رکھتے ہیں۔ سحر جیسی باطل چیزوں اور شیطان کے پیروکار ہیں۔ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ یہ لوگ اہل اسلام کے ساتھ حسد میں اتنے پاگل ہوچکے ہیں کہ مشرکین کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین کی نسبت تمہارا دین اچھا ہے اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ ملعون ہیں ، اللہ کی رحمت سے دور ہوچکے ہیں اور جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوجائے ، اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ کیا خدا تعالیٰ کی بادشاہی میں ان کا کچھ حصہ ہے۔ ایسا تو ہرگز نہیں۔ اگر ایسا ممکن ہوتا۔ تو یہ لوگ اپنے بخل کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی تک دینے کو تیار نہ ہوتے۔
حسد کی آگ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی حسد جیسی قبیح بیماری کا تذکرہ فرمایا ہے اور پھر اس بیماری میں مبتلا اہل کتاب کو جہنم کی سزا کی وعید سنائی ہے اور مومنوں کے لیے آرام و راحت کا تذکرہ فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے امر یحسدون الناس کیا یہ لوگوں کے ساتھ اس چیز پر حسد کرتے ہیں علی ما اتہم اللہ من فضلہ جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کی ہے۔ اس آیت کریمہ میں یحسدون کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹتی ہے کیونکہ ان کا تذکرہ پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔ اور الناس سے مراد حضور نبی کریم (علیہ السلام) ، آپ کے صحابہ کرام ؓ او عرب کے لوگ ہیں۔ جیسا کہ گزشتہ درس میں بھی عرض کیا تھا کہ یہودیوں کو اہل ایمان کے ساتھ حسد اس بات پر تھا کہ نبی آخر الزمان بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں کیوں آ گیا ہے۔ حسد کی اس آگ میں وہ اس قدر جل گئے کہ انہوں نے نہ صرف حضور ﷺ کی نبوت کا انکار کردیا اہل اسلام کی ایذا رسانی میں اپنی تمام توانائیاں صرف کردیں۔ اس بات کا ذکر سورة بقرہ اور دوسری کئی سورتوں میں بھی وضاحت کے ساتھ آیا ہے۔ چناچہ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اسی حسد کا تذکرہ فرمایا ہے کہی ہ لوگ اس چیز میں حسد کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کی خواہش کے خلاف دوسروں کو عطا کردی ہے۔
حسد ہماری شریعت میں بھی حرام ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے لاتحاسدوا لوگو ! ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کیا کرو۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے دب الیکم داء الامم قبلکم الحسد والبغضاء گزشتہ امتوں کی بیماریاں حسد اور بعض آہستہ آہستہ تمہاری طرف آ رہی ہیں ہی الحالقۃ یہ مونڈنے والی ہیں ، پھر فرمایا لا اقول تحلق الشعر ولکن تحلق الدین میں نہیں کہتا کہ یہ بیماریاں بالوں کو مونڈنے والی ہیں بلکہ یہ دین کا صفایا کرنے والی ہیں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا ایاکم والحسد لوگو ! حسد سے بچو فان الحسد یا کل الحسنات کماتا کل النار الحطب کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ ابلیس نے بھی حضرت آدم (علیہ السلام) سے حسد اور کفر کیا تھا اور حسد کی تعریف یہ ہے کہ کسی کے ما ل و نعمت کو دیکھ کر اس کے زوال کی تمنا کی جائے یعنی یہ خواہش کی جائے کہ فلاں شخص کے پاس جو مال و دولت ، مکان ، دکان ، کارخانہ ، مویشی ، فصل موجود ہے۔ وہ اس کے پاس نہ رہے۔ یہی چیز حرام ہے۔ البتہ کسی دوسرے شخص کی نعمت دیکھ کر اگر کوئی شخص خواہش کرے کہ اسے بھی ایسی چیز اللہ تعالیٰ عطا کر دے تو یہ جائز ہے۔ اسے غبطہ یعنی رشک کہتے ہیں۔
بزرگانِ دین کا مقولہ ہے ماخلا جسدٌ عن حسدٍ یعنی کوئی جسم حسد سے خالی نہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو کسی کا مال ، خوبی ، حسن علم ، نیکی یا مال و دولت دیکھ کر اسے زوال کی تمنا کرتے ہیں ، یہی حسد ہے اور حرام ہے۔ بنی اسرائیل کی بھی یہی بیماری تھی جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کو اپنے فضل سے نبوت ، علم ، مرتبہ ، حکومت اور اقتدار عطا فرمایا تو بنی اسرائیل حد کی آگ میں جل اٹھے۔ کیونکہ وہ یہ چیزیں اپنے خاندان کے ساتھ مخصوص سمجھتے تھے۔
فرمایا ہم نے اپنے فضل سے بنی اسماعیل میں جو نبوت کا سلسلہ منتقل کیا ہے تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ کیونکہ بنی اسماعیل بھی تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں فقد اتینا آل ابراہیم الکتب بیشک ہم نے آل ابراہیم میں کتاب دی ہے اسی خاندان میں آئیں والحکمۃ اور حکمت یعنی علم بھی اسی خاندان کو عطا کیا ، اس خاندان میں بڑے بڑے حکیم دانشور اور صاحب علم لوگوں کو پیدا فرمایا۔ واتینہم ملکا عظیماً اور اس خاندان کو عظیم سلطنت بھی عطا کی۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکومت کا تذکرہ ہر زبان پر ہے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت مثالی تھی آپ نے اللہ مالک الملک سے دعا کی تھی ” ھب لی ملکاً لا ینبغی لاحدٍ من بعدی “ الٰہی مجھے ایسی سلطنت عطا فرما جو میرے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دعا قبول فرمائی اور مثالی سلطنت عطا فرمائی اس کے علاوہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت طالوت (رح) جیسے عظیم المرتبت بادشاہ ہوئے یہ سب بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اس نعمت کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ کی ابتداء میں بھی کیا ہے۔ تخلیق انسانی اور خلافت ارضی کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد فرمایا ” ینبی اسرائیل اذکرو انعمتی التی انعمت علیکم “ اے بنی اسرائیل میری عطا کردہ نعمتوں کو یاد کرو اور یہ بھی نوٹ کرلو کہ اب یہ نعمت عظمیٰ تمہارے خاندان سے منتقل ہوچکی ہے اب تمہارے لیے فلاح و ترقی کا واحد ذریعہ یہ ہے ” وامنوا بما انزلت مصدقاً لما معکم “ اس چیز پر ایمان لے آؤ جو میں نے نبی آخر الزمان (علیہ السلام) پر نازل کی ہے اور جو اس چیز یعنی کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے ، نبوت ، کتاب اور حکمت اگرچہ بنی اسماعیل میں چلی گئی ہے تاہم یہ ہے بہرحال خاندان ابراہیم میں۔ لہٰذا اسے تسلیم کرلو تو تمہیں اسی طرح عزت حاصل ہوتی رہیگی۔ مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی پروا نہ کی اور ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔
یہود کی طرف سے مخالفت
فرمایا یہودی سارے کے سارے ایک جیسے نہیں بلکہ فمنہم من امن بہ ان میں سے بعض ایمان لا چکے ہیں جیسے عبداللہ بن سلام ؓ اطراف مدینہ کے دس بڑے بڑے یہودی علما میں سے آپ واحد شخص ہیں جنہیں ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔ باقی سب مخالفت پر اڑے رہے حضور ﷺ نے فرمایا اگر یہ دس آدمی ایمان لے آتے ، تو روئے زمین پر کوئی یہودی باقی نہ رہتا سب ایمان لے آتے۔ بہرحال ان میں سے بعض ایمان لائے ومنہم من صدعنہ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو ایمان لانے سے روکتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت اپنی ضد پر اڑی رہی۔ انکے متعلق پہلے بھی گزر چکا ہے اور آئندہ سورة میں بھی آ رہا ہے اکثرہم الفسقون ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ حاسد ، بغیض ، ضدی اور الٹے دماغ والے ہیں۔ دین سے روکنے میں یہود و نصاریٰ سب سے آگے ہیں۔ یہ ہر وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان کو انکے دین سے برگشتہ کردیا جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی تمام تر توانائیاں اور مال و دولت خرچ کرتے رہتے ہیں کہ کسی طرح مسلمان اپنے دین سے متعلق شک میں پڑجائیں۔ اس سلسلہ میں عیسائی اور یہودی مشنریاں پوری طرح کام کر رہی ہیں۔ مستشرقین یہی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ دین اسلام کے نام پر بننے والے پاکستان میں اب تک لاکھوں مسلمان عیسائی بن چکے ہیں۔ پرانے زمانے میں اس قسم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہمارے دلوں میں پہلے مسلمانوں جیسا جذبہ ایمان باقی نہیں رہا۔ قرون اولیٰ میں اگر کوئی مسلمان دین سے پھرجاتا تھا تو تمام اہل اسلام پر قیامت ٹوٹ پڑتی تھی ، وہ سمجھتے تھے کہ ایک آدمی کے مرتد ہونے سے ان کی ساری دنیا تباہ ہوگئی ہے۔ مگر آج لوگ کس تعداد میں عیسائی اور مرزائی ہو رہے ہیں مگر ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے دین حق سے روکنے والوں کے متعلق فرمایا وکفیٰ بجہنم سعیراً انکے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کافی ہے وہ لوگ بچ نہیں سکتے ، آخر پکڑے جائیں گے۔
کفار کے لیے جہنم کی سزا
فرمایا ان الذین کفروا بایتنا جن لوگوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ کفر کا شیوہ اختیار کیا سوف نصلیہم ناراً عنقریب ہم انہیں جہنم کی آگ میں داخل کریں گے۔ کفار میں یہودی ، نصرانی اور مشرکین سب شامل ہیں فرمایا انہیں ایسی مسلسل سزا دی جائیگی کلما نضبحت جلودہم آگ میں جاکر جب انکے جسموں کی کھالیں جل جائینگی بدلنہم جلوداً غیرھا ہم ان کی کھالیں تبدیل کردیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ایک دفعہ جل جانے سے ان کا کام ختم نہیں ہوجائیگا بلکہ ایک کھال جلنے کے بعد دوسری کھال پہنا دی جائیگی ، وہ بھی جل جائیگی تو اور دے دی جائیگی اور یہ سزا ہمیشہ جاری رہیگی۔ کعب احبار کی روایت کے مطابق ایک گھنٹے میں ایک سو بیس دفعہ کھال تبدیل ہوگی۔ گویا ہر ایک منٹ کے عرصہ میں دو دفعہ کھال جلائی جائیگی اور دو دفعہ نئی پہنائی جائیگی۔ یہ بات کعب احبار نے حضرت عمر ؓ کے سامنے بیان کی اور کہا کہ انہوں نے پہلی کتابوں میں ایسا ہی پڑھا ہے۔ چناچہ حضرت عمر ؓ نے اس بات کی تصدیق کی۔ ابتداء میں تو ہر جہنمی کی شکل و صورت آدمی کی ہوگی مگر جہنم میں جاکر جسم میں کلانی آئیگی اور وہ بہت بڑا ہوجائیگا۔ اور جسم جتنا بڑا ہوگا اسے گرمی ، سردی وغیرہ کا اتنا ہی زیادہ احساس ہوگا۔ فرمایا ہم آگ کی یہسزا دیں گے لیذوقوا العذاب تاکہ وہ عذاب چکھیں۔ اس وقت وہ حسرت ویاس کا اظہار کریں گے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کا کیوں انکار کیا اور کیوں لوگوں کو گمراہ کرتے رہے۔ فرمایا ان اللہ کان عزیزاً حکیماً بیشک اللہ تعالیٰ غال بہے اور وہ مجوزہ سزا دینے پر قادر ہے۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اپنی حکمت کے ساتھ کافروں کو مقررہ وقت پر ضرور سزا دیگا۔
مومنوں کے لیے انعام
امنوا جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور روز جزا پر ایمان لائے۔ نبیوں کی تصدیق کی اور آیات الٰہی کو سچا تسلیم کیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ وعملوا الصلحت نیک اعمال بھی انجام دیے شیخ مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر اعمال صالحہ چار ہیں یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ۔ جو شخص ان کو انجام دیگا وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوجائیگا۔ باقی اعمال انہی چار اعمال کے تابع ہیں۔
فرمایا جو نیک اعمال انجام دیں گے سندخلہم جنتٍ عنقریب ہم انہیں باغوں میں داخل کریں گے ایسے باغات تجری من تحتھا الانھار جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی۔ مومنین کا وہاں قیام کسی خاص مدت کے لیے نہیں ہوگا بلکہ خلدین فیھا ابداً وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ انہیں وہاں ہر طرح کی رہائشی سہولت حاصل ہوگی اور تمام نعمتیں میسر ہوں گی۔
پاکیزہ بیویاں
فرمایا جنت میں مومن تنہائی بھی محسوس نہیں کریں گے کیونکہ لہم فیھا ازواجٌ مطہرۃٌ وہاں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ جو ان کی طبعی خواہش کو پورا کریں گی اور پاکیزہ بھی ایسی کہ نہ بول و براز کی حاجت نہ حیض کی نجاست اور نہ ہی کوئی اور الائش۔ معنوی طور پر بھی پاکیزہ ہوں گی کہ خوش شکل و صورت ، خوش اطوار اور خوش اخلاق ہوں گی ، تمام اخلاقِ حسنہ مطہرہ میں شامل ہیں۔ اچھی بیوی تو اس دنیا میں سعادت سمجھی جاتی ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو اچھا مکان ، اچھی سواری اور اچھی بیوی میسر آگئی تو یہ دنیاوی اعتبار سے سعادت کی نشانی ہے۔ اور اگر بیوی تعینہ علی امر دینہ یعنی دین کے معاملات میں تعاون کرنے والی ہو تو یہ مزید باعث راحت ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ جنسی خواہش کی تکمیل کے لیے جنت میں مومنوں کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ جو ہر قسم کی آلائش سے پاک اور خوش کرنیوالی ہوں گی۔
مکان ، لباس ، خوراک ، بیوی ، نیک لوگوں کی رفاقت وغیرہ مادی نعمتوں کا عروج ہے مگر پھر بھی دنیا میں ایسی نعمت کوئی نہیں جو کدورت سیخالی ہو۔ اگر ہر قسم کی نعمتیں میسر ہوں ، پھر بھی بقول شیخ سعدی (رح) یہ کھٹکا تو لگا رہتا ہے ایک نہ ایک دن مرنا ہے اور یہ سب کچھ ختم ہونا ہے مگر جنت کے متعلق فرمایا کہ وہاں کی نعمتیں ابدی ہوں گی جو کبھی ختم نہ ہوں گی اور پھر فرمایا۔ یدخلہم ظلا ظلیلاً ہم داخل کریں گے مومنوں کو گھنے سایہ میں۔ اس کی تشریح ترمذی شریف کی روایت میں موجود ہے کہ جنت کے ایک ایک درخت کا سایہ اتنا لمبا چوڑا ہوگا کہ کوئی گھوڑ سوار لگاتار سو سال میں بھی اسے عبور نہیں کرسکے گا۔ اور یہ سایہ مومن کے لیے باعث راحت ہوگا۔ اگرچہ سایہ کا احساس دھوپ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ مگر بعض اوقات محض سایہ بھی باعث تسکین ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انعام کے طور پر گھنے سائے کا تذکرہ فرمایا۔