4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 4:103–104

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم پورا کر چکو نماز کو ، تو اللہ کا ذکر کرو کھڑے ہو نیکی حالت میں اور بیٹھنے کی حالت میں اور اپنی کروٹوں کے بل پھر جب تم اطمینان کی حالت میں ہوجاؤ تو نماز کو قائم کرو (دستور کے مطابق) بیشک نماز ایمان والوں پر فرض کی ہوئی ہے بقید وقت

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور مت سستی کرو دشمن کا تعاقب کرنے میں اگر تم درد پاتے ہو ، پس بیشک وہ بھی درد پاتے ہیں جیسا کہ تم درد پاتے ہو ، اور تم امید رکھتے ہو ، اللہ سے اس چیز کی ، جس کی وہ امید نہیں رکھتے ، اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

ربط آیات اس رکوع کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے سفر کی حالت میں اور خوف کی حالت میں نماز ادا کرنے کا طریقہ بیان فرمایا۔ دورانِ سفر بعض نمازوں کی رکعتوں کی تعداد میں کمی ہوجاتی ہے اور سنت اور نوافل وغیرہ بھی ضروری نہیں رہتے۔ اور جب کسی دشمن کا خوف ہو یا کسی موذی جانور کی طرف سے خطرہ لاحق ہو ، تو اس موقع پر نماز خوف ادا کی جاسکتی ہے ، جس کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ ایک گروہ امام کے ساتھ نصف نماز پڑھے اور دوسرا گروہ دشمن کے بالمقابل کھڑے رہے۔ پھر دوسرا گروہ آ کر امام کے ساتھ مل جائے اور نصف نماز ادا کرے۔ ہر دو گروہ اپنی اپنی بقیہ نصف نماز علیحدہ ادا کریں۔ اس طرح نماز کی حالت میں چلنا پھرنا ہتھیار اٹھانا ، سمت تبدیل کرنا وغیرہ جائز قرار دے دیا گیا حالانکہ عام حالات میں یہ چیزیں ناقص نماز ہوتی ہیں۔ ذکر پر مداومت اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے بعد ذکر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ نماز خواہ سفر کی ہو یا خوف کی یا عام نماز ، اس کے بعد ذکر الٰہی پر مداومت اور اوقات نماز کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ فاذا قضیتم الصلوٰۃ جب تم نماز پوری کر چکو۔ یعنی نماز کے لیے تو وقت مقرر ہے ، اس مقررہ وقت میں جب نماز سے فارغ ہوجاؤ فاذکرو اللہ تو اللہ کا ذکر کرو اور ذکر کے لیے وقت کی کوئی قید نہیں ، ہر وقت اور ہر حالت میں روا ہے۔ قیماً کھڑے ہو وقعوداً بیٹھے ہو وعلی جنوبکم یا اپنی کروٹوں کے بل یعنی لیٹے ہو ، ذکر الٰہی ہر حالت میں جاری رہے گا۔ مفسرین کرام اس جملے کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں کہ جب نماز پوری کر چکو تو داومواعلیٰ الذکر تو الہل کے ذکر پر مداومت اختیار کرو۔ چناچہ صحیح حدیث میں ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت 1 ؎ ابوداؤد ص 4 ج 1 (فیاض) ہے کان رسول اللہ ﷺ یذکرو اللہ فی کل احسیانہ یعنی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم ہر وقت ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کا کوئی وقت ذکر سے خالی نہیں ہوتا تھا۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب آپ کسی مجلس میں تشریف لاتے تو مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے ذکر سے کرتے اور اس کی انتہا بھی ذکر الٰہی سے ہوتی۔ قلبی ذکر زبانی ذکر کے لیے طہارت ضروری ہے مگر قلبی اذکار طہارت سے مستثنیٰ ہیں۔ مثلاً کوئی شخص رفع حاجت کے لیے گیا ہے تو ایسی حالت میں زبانی ذکر تو نہیں کرسکتا مگر قلبی ذکر روا ہے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ قلب یا روح کے ساتھ ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غورو فکر کرے ، اس کے انعامات اور نشانیوں کو یاد کرے ، جب ایسا کریگا۔ تو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوگی ، اس کی وحدانیت ، قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ اور اس کی صفات کو پہچانے گا ، یہی قلبی ذکر اور عبادت ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ قلبی ذکر کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے اندر موجود لطائف باطنیہ کو بیدار کرے ، انسانی جسم میں انیس لطائف باطنیہ یا مرکز ہیں ، جن کا تعلق اس کے قلب اور روح کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب انسان خوب محنت کرتا ہے تو اس کے لطائف بیدار ہو کر ذکر الٰہی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ امام ابوبکر جصاص (رح) نے قلبی ذکر کے یہ دو طریقے بتائے ہیں۔ ہر سانس کے ساتھ ذکر بزرگانِ دین یہ بھی فرماتے ہیں کہ انسان کا کوئی سانس ذکر الٰہی سے خالی نہیں ہونا چاہئے۔ نفی اثبات کا ذکر لا الہ الا اللہ کے ذریعے کرے یا صرف ذکر جلالہ اللہ کرے۔ آدھا ذکر سانس لیتے وقت ہو اور آدھا سانس ختم ہوتے وقت۔ اس ذکر کے لیے کوئی پابندی نہیں ، یہ ہر حالت میں روا ہے جو لوگ اس کی مشق کرلیتے ہیں ، وہ نیند کی حالت میں بھی اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں سوئے ہوئے ہیں مگر ہر سانس کے ساتھ اللہ کا ذکر جاری ہے۔ نقشبندی حضرات کسی سانس کو ضائع نہیں ہونے دیتے۔ چلتے وقت ان کا کوئی قدم بھی ذکر الٰہی سے خالی نہیں ہوتا ، بلکہ ہر قدم پر اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ لامحدود ذکر اللہ کا ذکر ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی حد (Limit) نہیں قرآن پاک میں موجود ہے۔ ” واذکروا اللہ کثیراً لعلکم تفلحون اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کرو تاکہ تمہیں فلا ح نصیب ہوجائے۔ زبان کے ساتھ ذکر ہر شخص کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تکبیر بیان کرے ، اس کی حمدو ثنا بیان کرے ، عظمت کے کلمات دہرائے ، استغفار کے کلمات کہتا ہے یا قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول رہے۔ بہرحال ہر قسم کی نماز کی ادائیگی کے بعد ذکر الٰہی پر مداومت کا حکم دیا گیا ہے اور ذکر کھڑے بھی ہوتا ہے ، بیٹھ کر بھی اور کروٹ کے بل لیٹ کر بھی جاری رہتا ہے۔ نماز بھی ذکر ہے امام بیضاوی (رح) آٹھویں صدی ہجری کے عظیم مفسر ہوئے ہیں۔ آپ ایران کے ایک گاؤں بیضا کے رہنے والے تھے۔ بڑے عالم ، فاضل اور صالح آدمی تھے جج کے عہدہ پر فائز تھے۔ آپ امام شافعی (رح) کے پیروکاروں میں سے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ذکر الٰہی سے مراد نماز ہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جنگ کے دوران پاؤں پر کھڑے کھڑے ، دوڑتے ہوئے یا لیٹے لیٹے بھی نماز ادا کرسکتی ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سواری پر بیٹھے بیٹھے تو نما ز ہو سکتی ہے مگر پیدل چلتے وقت نماز ادا نہیں ہوتی ، البتہ پاؤں پر کھڑے کھڑے پڑھ سکتا ہے اگرچہ رکوع سجود اشارے سے ہی کرے اور بیٹھ کر پڑھنے کا تو قانون موجود ہے فان لم تستطع فقاعداً یعنی اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہیں تو بیٹھ کر نماز پڑھ لے۔ اور اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتا فعلی جنبک تو پہلو کے بل لیٹ کر یہ فریضہ ادا کرسکتا ہے۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ ذکر الٰہی صلوٰۃ خوف اور صلوٰۃِ سفر پر تبصرہ ہے یعنی جب نماز ادا کرلی ، خواہ وہ سفر کی حالت میں ہو یا خوف کی حالت میں ، تو پھر کثرت سے اللہ کا ذکر کرو۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مجاہد اور غازی کی تعریف کی ہے جو دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہے اور ساتھ اللہ کا ذکر بھی کر رہا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ کے ذ کر پر مداومت اختیار کرو ، اس کے ذکر سے کوئی لمحہ خالی نہیں ہونا چاہیے ، ایک دوسری حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے ما من شیء انجی من عذاب اللہ من ذکر اللہ اللہ کے ذکر سے بڑھ کر عذاب سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔ لہٰذا کثرتِ ذکر ذریعہ نجات ہے۔ نماز بعد از رفع عذر آگے فرمایا فاذا اطماننتم فاقیموا الصلوٰۃ جب تم اطمینان کی حالت میں ہوجاؤ تو (دستور کے مطابق) نماز قائم کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت کا تعلق نماز سفر اور نماز خوف کے ساتھ ہے۔ سفر کے دوران نماز میں کمی آگئی تھی اور خوف کی حالت میں نماز کا طریقہ بدل گیا تھا۔ اب فرمایا کہ جب تمہیں اطمینان حاصل ہوجائے یعنی سفر سے واپس آ جاؤ یا خوف کی حالت زائل ہوجائے ، تو پھر اسی طریقے سے نماز ادا کرو جس طرح عام حالات میں کرتے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ آدھی کی بجائے پوری نماز پڑھو اور پھر اس میں رکوع سجود ، قومہ ، قعدہ پوری طرح ادا کرو ، استقبال قبلہ بھی ضرور ہو۔ غرضیکہ نماز کی تمام شرائط پوری کرو۔ کیونکہ اب عذر رفع ہوچکا ہے۔ نماز بقید وقت فرمایا ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتباً موقوتاً بیشک نماز مومنوں پر بقید وقت فرض کی گئی ہے۔ پانچوں نمازوں کے اوقات مقرر ہیں جن کے اندر ہر نماز ادا کی جائیگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ان للصلوٰۃ اولاً واخراً بیشک ہر نماز کے لیے وقت کی ابتداء اور انتہا ہے۔ چناچہ حضور ﷺ نے اول اور آخر اوقات میں خود نمازیں ادا کر کے اوقات نماز کی عملاً تعلیم دی۔ اور ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیج کر نمازوں کے اوقات بتلائے۔ جبریل (علیہ السلام) نے دو دن آپ کو نماز پڑھائی۔ پہلے دن اول اول اوقات میں اور دوسرے دن آخر اوقات میں تاکہ اوقات نماز کا تعین ہو سکے۔ بہرحال اوقات نماز کا تعین اسی دنیا میں ممکن ہے جہاں نظام شمسی کے تحت دن رات کا نظام موجود ہے۔ نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک ہے۔ وقت ظہر کے متعلق سورة بنی اسرائیل میں آتا ہے ” اقم الصلوٰۃ لدنوک الشمس “ یعنی یہ نماز سورج کے ڈھلنے کے وقت ادا کریں۔ ظہر کے منتہائے وقت میں آئمہ کا کچھ اختلاف ہے۔ اکثر ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے کے بعد سے لیکر کسی چیز کے ایک مثل سایہ تک رہتا ہے جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہر چیز کا سایہ دو مثل ہونے تک ظہر کا وقت ہوتا ہے۔ سایہ مثل معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کوئی چھڑی وغیرہ دھوپ میں کھڑی کردی جائیگی۔ عین زوال کے وقت اس چھڑی کا جتنا سایہ ہو ، اس پر نشان لگا دیا جائے۔ اس کے آگے جب سایہ بڑھتے بڑھتے اس چھڑی کی لمبائی کے برابر ہوجائے تو وہ ایک مثل ہوگا۔ عصر کا وقت دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس کی ابتداء بعض آئمہ کے نزدیک ایک مثل اور بعض کے نزدیک دو مثل سایہ کے بعد ہوتی ہے اور غروب آفتاب تک نماز کا وقت ہوتا رہتا ہے۔ تاہم جب سورج میں زردی آجائے تو نماز کے لیے وقت مکروہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا زردی آنے سے پہلے پہلے عصر کی نماز ادا کر لینی چاہئے۔ نماز مغرب کا وقت غروب آفتاب کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔ البتہ اس کے انتہائی وقت میں بھی قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز مغرب کا وقت شفق یعنی سرخی کے صائب ہونے تک ہے جو کہ زیادہ سے زیادہ بیس پچیس منٹ کا وقفہ ہوتا ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سرخی ختم ہونے کے بعد سفیدی کے اختتام تک نماز مغرب کی تعریف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے سرخی پر محمول کرتے ہیں اور بعض سفیدی پر۔ نماز عشاء کا وقت تین حیثیت سے ہے۔ اس کا اول وقت غروب آفتاب سے لیکر ایک تہائی را ت ہے۔ مستحب یہ ہے کہ نماز کو ایک رات تک موخر کرے اور اگر لولوں کو وقت ہو تو ابتدائی وقت میں بھی پڑھی جاسکتی ہے۔ عشاء کا دوسرا وقت تہائی رات سے نصف شب تک ہے اور صحیح وقت یہی ہے۔ تیسرا وقت نصف رات کے بعد ہے۔ اگرچہ نماز تو اس وقت بھی ادا ہو جائیگی مگر اس میں کراہت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ بہرحال تیسرے وقت کی انتہا طلوع فجر تک ہے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر پانچ نمازیں بقید وقت فرض کی ہے۔ نظام الاوقات کی عدم موجودگی میں نماز جیسا کہ پہلے عرض کیا ، اوقاتِ نماز کا تعین اسی خطہ ارض میں کیا جاسکتا ہے۔ جہاں نظام الاوقات میں باقاعدگی پائی جاتی ہے البتہ جن مقامات پر یہ نظام ہی موجود نہ ہو ، یا جہاں اس میں معتدبہ تبدیلی آجائے ، وہاں اوقات نماز کے تعین میں دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ مثال کے طور پر کوئی شخص ہوائی جہاز کے ذریعے مغرب کی طرف مسلسل بیس گھنٹے سفر کرتا ہے تو اس کے لیے تو سورج غروب ہی نہیں ہوگا بلکہ ایک ہی حالت پر قائم رہے گا۔ تو ایسی صورت میں نماز ظہر اور عصر کیسے ادا کی جائیگی ؟ قطبِ شمالی یا قطب جنوبی جہاں پر دن رات چھ ماہ یا کم و بیش عرصہ کے ہوتے ہیں ، وہاں پر بھی نماز پنجگانہ کے اوقات کا تعین کسی دوسرے طریقے سے کرنا ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی مسلمان چاند یا کسی دوسرے سیارے پر پہنچ جائے جہاں اس زمین کا نظام شب و روز موجود نہیں ، تو وہ کیسے نمازیں ادا کریگا ؟ دنیا میں بعض مقامات ایسے ہیں جہاں صرف چار نمازوں کا وقت ملتا ہے یعنی مغرب کی غروب شفق سے پہلے فجر طلوع ہوجاتی ہے اور اس طرح نماز عشاء کے لیے وقت نہیں ملتا۔ تو اس صورت میں کیا طریقہ اختیار کیا جائیگا۔ اس ضمن میں حضور ﷺ نے قاعدے کے طور پر یہ بات سمجھا دی کہ جب دجال کا ظہور ہوگا تو ایک دن ایک سال کے برابر طویل ہوجائے گا۔ ایک صحابی نے عرض کیا ، حضور ! کیا اتنے لمبے عرصہ میں پانچ ہی نمازیں ادا کرنا ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا ، نہیں بلکہ ہر چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں ادا کرنی ہوں گی اور اس کے لیے اوقات کا تعین خود حساب لگا کر کرنا ہوگا تو مطلب یہ ہوا کہ ہر وہ مقام جہاں نظام الاوقات معمول کے مطابق جاری نہیں یا کسی دوسرے سیارے میں جہاں زمین کا نظام لیل و نہار موجود نہیں ، وہاں اوقاتِ نماز کا تعلق خود حساب لگا کر کرنا پڑے گا۔ اور ہر چوبیس گھنٹے میں پانچ نمازیں پڑھنا ہوں گی۔ غیر معمولی حالات میں بھی نماز ترک نہیں کی جاسکتی ، کیونکہ نماز میں دو چیزیں ایسی ہیں جنہیں کسی صورت میں بھی چھوڑا نہیں جاسکتا پہلی چیز تہذیب نفس ہے۔ کہ نماز کے ذریعے انسان میں شائستگی پیدا ہوتی ہے اور دوسری چیز یہ ہے کہ نماز کے ذریعے انسان تعلق باللہ قائم کرتا ہے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں لہٰذا نماز پنج وقتہ بھی لازمی ہے۔ فرضیت نماز بقید وقت کا یہی مطلب ہے۔ دشمن کا تعاقب نمازِ سفر اور نماز خوف اور پھر اس کے بعد اوقاتِ نماز کا ذکر ہوا۔ اب اگلی آیت پھر اسی جہاد کے سلسلہ ہی کی کڑی ہے جو کہ پانچ چھ رکوع تک چلے گا۔ فرمایا ولا تھنوفی ابتغاء القوم دشمن کا تعاقب کرنے میں سستی نہ کرو۔ یہاں پر قوم سے مراد دشمن ہے۔ جس طرح نماز میں سستی کرنا منع ہے ، اس طرح دشمن کے تعاقب میں بھی سستی کی ممانعت ہے۔ گزشتہ سورة میں گزر چکا ہے کہ احد کے موقع پر زخم خوردگی کے باوجود صحابہ کرام ؓ نے کئی میل تک دشمن کا تعاقب کیا تاکہ وہ دوبارہ حملہ آور نہ ہوسکے۔ فرمایا اپنی تکالیف کے باوجود دشمن کا تعاقب کرو ان تکونوا تالمون اگر تم تکلیف میں مبتلا ہو فانہم یالمون کما تالمون تو وہ کفار بھی تماری طرف تکلیف میں مبتلا ہیں۔ ان کے اور تمہارے اجسام کی ساخت میں کوئی فرق نہیں نہ وہ زیادہ مضبوط ہیں اور نہ تم کمزور۔ جس طرح تمہیں دکھ درد آتا ہے اسی طرح انہیں بھی آتا ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کافر تو شیطانی پروگرام کے لیے تکالیف برداشت کرتے ہیں جب کہ تم اللہ کے دین کی خاطر نکلے ہو لہٰذا تمہیں بطریق اولیٰ مشقت برداشت کرنی چاہئے اور دشمن کا تعاقب کر کے اس پر کاری ضرب لگانی چاہئے۔ اجر کی امید فرمایا اس تمام جدوجہد کے نتیجے میں وترجون من اللہ مالا یرجون تم اللہ تعالیٰ سے اس اجر کی امید رکھتے ہو ، جو کافر نہیں کھتے۔ کافر و مشرکین جہنم رسید ہوں گے جب تم میں سے ہر زخمی اور شہید اللہ تعالیٰ سے عظیم بدلا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں درجات عالیہ پر فائز فرمائیں گے۔ اس دنیا میں بھی تمہارا مطمح نظریہ ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو۔ پیغمبر آخر الزمان کی بعثت کا مقصد ہی ” لیظہرہ علی الدین کلہ “ ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنا چاہتا ہے اور اس کا صلہ تم اس دنیا میں بھی پالو گے اور آخرت میں بھی درجات عالیہ کے مستحق ہو گے۔ لہٰذا دشمن کے تعاقب میں سستی نہ دکھانا۔ فرمایا وکان اللہ علیماً حکیماً اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر ایک کی نیت اور ارادے سے واقف ہے۔ ہر شخص کا خلوص اس کی نگاہ میں ہے اور وہ کمال حکمت کا مالک ہے۔ اس کے تمام احکام نسل انسانی کی فلاح کے لیے ہیں۔ لہٰذا انسانوں کا فرض ہے کہ وہ بلاشک شبہ ان حکام پر کماحقہض عمل پیرا ہو کر ہمیشہ کی کامیابی حال کرلیں۔
Ayahs 4:105–109

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

بیشک ہم نے اتاری ہے آپ کی طرف کتاب حق کے ساتھ تاکہ آپ فیصلہ کریں لوگوں کے درمیان اس کے مطابق جو اللہ نے آپ کو بات سمجھائی ہے اور نہ ہوں آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا کرنے والے

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور نہ جھگڑا کریں آپ ان لوگوں کی طرف سے جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں بیشک اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا اس شخص کو جو خیانت کرنیوالا اور گنہگار ہو

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگ چھپتے ہیں لوگوں سے اور نہیں چھپتے اللہ سے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے جب کہ وہ رات کو مشورہ کرتے اس بات کا جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جو کچھ بھی یہ کام کرتے ہیں ، اس کا احاطہ کرنے والا ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

ہاں سنو ! اے لوگو ! تم جھگڑتے ہو ان کی طرف سے دنیا کی زندگی میں۔ پس کون جھگڑے گا ، اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کی طرف سے قیامت والے دن۔ یا کون ہوگا ان کی طرف سے وکیل

ربط آیات گزشتہ دروس میں سفر اور خوف کی حالتوں میں نماز کا بیان تھا۔ اس کے بعد امن کی حالت میں دستور کے مطابق نماز پڑھنے کا حکم ہوا۔ پھر جہاد کے ضمن میں دشمن کا تعاقب کرنے کی تلقین کی گئی ہے اور اس معاملہ میں سستی کا اظہار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ اہلِ ایمان کو یاد دلایا کہ کافر باطل پروگرام رکھنے کے باوجود بڑے مستعد ہیں جب کہ مسلمانوں کے پاس تو اللہ اور اسکے رسول کا دین برحق ہے لہٰذا انہیں دشمن کے مقابلہ میں زیادہ مستعد ہونا چاہئے۔ انہیں اللہ تعالیٰ سے وہ کچھ امید ہے جو کفار کو نہیں ہو سکتی۔ اُس سے پہلے منافقین کا تذکرہ تھا کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس میں شمولیت کے خلاف حیلے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہاد کی فضیلت بیان فرمائی اور اس ضمن میں بہت سے دیگر احکام بھی نازل فرمائے۔ اب آج کے درس میں منافقین کی ان کارگزاریوں کا ذکر ہے جن کی وجہ سے وہ قابل مذمت ہیں اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی طرفداری نہ کریں ، یہ بڑے بد باطن لوگ ہیں اور اسلام کو ہمیشہ نقصان پہنچانے کی تدابیر سوچتے ہیں۔ شان نزول ترمذی شریف کی کتاب التفسیر ، مستدرک حاکم اور حدیث کی بعض دوسری کتب میں 4 ھ کا یہ واقعہ مذکور ہے کہ مدینہ میں بنو ابیرق کا ایک خاندان آباد تھا۔ منافقین کا یہ خاندان تین بھائیوں بشر ، بشیر اور مبشر پر مشتمل تھا۔ بشیر کو طعمہ بھی کہتے تھے۔ یہ شاعر تھا اور اپنے اشعار میں حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی ہجو کرتا تھا۔ چونکہ منافق تھا ، اس لیے ایسے اشعار وہ کسی دوسرے کی طرف منسوب کردیتا تھا تاکہ اس کا نفاق نہ ظاہر ہوجائے۔ صحابہ کرام ؓ اس شخص کے مختلف دو مختلف رائیں رکھتے تھے۔ بعض کا خیال تھا کہ یہ بدبخت خود اشعار کہتا ہے ، اور دوسروں کی طرف منسوب کردیتا ہے۔ جب کہ بعض دوسرے صحابہ ؓ کو تردد تھا۔ کہ ہو سکتا ہے یہ کسی اور شخص کی کرتوت ہو۔ بہرحال یہ اس قسم کا بدکردار آدمی تھا۔ حضرت رفاعہ بن زید ؓ حضور کے ایک کھاتے پیتے آسودہ حال صحابی تھے۔ ان کے بالاخانے میں گندم کے آٹے کی بوری تھی ، اس زمانہ میں گندم کا آٹا تو کسی خوشحال آدمی ہی کی خوراک ہوتا تھا ، وگرنہ عام لوگ جَو اور کھجوروں پر گزارہ کرتے تھے اس آٹے کی بوری پر کچھ ہتھیار بھی رکھے تھے۔ رات کو مکان میں نقب زنی ہوئی اور چور آٹے کی بوری اور ہتھیار اٹھا لے گئے۔ صبح رفاعہ ؓ کو پتہ چلا تو انہوں نے اپنے بھتیجے قتادہ ؓ سے ذکر کیا۔ تفتیش شروع تو بنو ابیرق پر شک کیا گیا۔ ان کے آس پاس سے پتہ چلا کہ رات ان کے ہاں چولہا جلا ہے اور روٹی پکی ہے ، حالانکہ یہ خاندان مالی پر کمزور ہے جنہیں آٹے کی روٹی میسر نہیں۔ جب بنو ابیرق کو علم ہوا کہ چوری میں ان کا نام لیا جا رہا ہے تو انہوں نے بھی اپنے دفاع کے لیے اپنے حمایتی جمع کیے اور چوری کا الزام حضرت لبیدبن سہل ؓ پر لگا دیا۔ جب انہیں اس بات کا علم ہوا ، تو وہ تلوار نکال لائے اور بنو ابیرق سے کہا کہ یا تو چوری ثابت کرو ، ورنہ یہ تلوار تمہارا کام تمام کر دے گی۔ اس پر وہ ڈر گئے اور اپنی غلطی کا اعتراف کر کے ان سے جان چھڑا لی۔ جب بنو ابیرق کا یہ منصوبہ ناکام ہوگیا تو انہوں نے اپنی صفائی کے لیے دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ اپنے خاندان کے بعض معتبرین کو حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ اس وفد میں خاندان کا بڑا چوہدری بھی شامل تھا جو مخلص مسلمان تھا ، مگر اپنی برادری کے کہنے پر ان کی سفارش کے لیے چلا گیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضرت رفاعہ ؓ اور ان کے بھتیجے قتادہ ؓ انہیں خواہ مخواہ بدنام کرر ہے ہیں حالانکہ وہ چور نہیں ہیں۔ حضور ﷺ نے دیکھا کہ بعض شریف آدمی ان کی صفائی پیش کر رہے ہیں ، لہٰذا ہو سکتا ہے یہ بیگناہ ہوں اور ان پر غلط الزام لگایا جا رہا ہو۔ اس وقت تک آیات نازل نہیں ہوئی تھیں لہٰذا حضور ﷺ نے ان کی بات پر یقین کرلیا۔ اسی دوران حضرت رفاعہ ؓ نے حضرت قتادہ ؓ کو کہا کہ تم حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں جا کر چوری کا واقعہ بیان کرو اور آپ کو یہ بھی بتاؤ کہ قرائن بتا رہے ہیں کہ چور بنو ابیرق ہیں۔ جب حضرت قتادہ ؓ حضور کی خدمت میں پہنچے تو وہ مخالفین کی بات کو پہلے ہی صحیح سمجھ چکے تھے۔ آپ نے حضرت قتادہ ؓ کو ڈانٹا کہ تم خواہ مخواہ بےگناہوں پر الزام لگا رہے ہو جب کہ اتنے آدمی ان کی صفائی پیش کرچکے ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ کو اس بات کا سخت صدمہ ہوا کہ ان کی چوری بھی ہوگئی ہے اور الٹا انہی کو ڈانٹ ڈپٹ بھی ہوگئی۔ انہوں نے واپس آ کر ساری بات حضرت رفاعہ ؓ کے گوش گزار کردی کہ یہ تو معاملہ ہی الٹا ہوگیا ہے ، ان لوگوں نے حضور ﷺ کے پاس وفد بھیج کر اپنی صفائی پیش کردی ہے اور آپ نے مجھے ڈانٹا ہے کہ تمہارا الزام غلط ہے اس پر حضرت رفاعہ ؓ نے کہا کوئی بات نہیں ، اللہ تعالیٰ تو سب کچھ جانتا ہے۔ اس پر دو رکوع پر مشتمل یہ آیات نازل ہوئیں اور منافقین کی سازش کو ظاہر کردیا گیا۔ بعض تفاسیر میں یہ بھی آتا ہے کہ بشیر ابن ابیرق نے آٹے کی بوری ایک شخص زید بن سمین یہودی کے گھر میں امانت کے طور پر رکھ دی ، جب مسروقہ مال کی تلاش شروع ہوئی تو وہ بشیر کی بائے زید یہودی کے گھر سے برآمد ہوا۔ جب اس سے دریافت کیا گیا کہ آٹے کی بوری تمہارے گھر کیسے پہنچی تو اس نے بشیر کا نام لیا کہ اس نے امانت کے طور پر رکھی تھی۔ مگر بشیر نے انکار کیا۔ اور قسم اٹھا کر کہا کہ چور وہ ہے جس کے گھر سے مال برآمد ہوا ہے اس واقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ منافقوں کا راز فاش ہوگیا ، حضرت لبید ؓ اور یہودی بےگناہ ثابت ہوئے اور بنو ابیرق پر چوری ثابت ہوگئی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں منافقین کی کارگزاری کی طرف اشارہ کر کے ان کی مذمت بیان کی ہے۔ منافق کا انجام جب مسروقہ مال مل گیا تو حضور ﷺ نے حضرت رفاعہ ؓ اور قتادہ ؓ کو بلا کر ان کے سپرد کردیا اور منافق اپنی جان بچانے کے لیے وہاں سے بھاگ گیا۔ ایماندار ہوتا تو اقرار جرم کرکے حد سرقہ برداشت کرتا ، اور آخرت خراب نہ کرتا ، مگر وہ صریحاً مرتد ہو کر مشرکین مکہ سے جا ملا اور ایک عورت سلافہ بنت سعد کے پاس جا ٹھہرا۔ اُدھر حضرت حسان ؓ کو علم ہوا تو انہوں نے اپنے اشعار میں بشیر اور سلافہ دونوں کی مذمت بیان کی۔ جب اس عورت کی بدنامی ہوئی تو وہ سخت سیخ پا ہوئی اور اس نے بشیر کا سامان اٹھا کر باہر بطحا میں پھینک دیا اسے اپنے گھر سے نکال دیا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ شخص سخت ذلیل و خوار ہوا اور پھر اس کی موت بھی اس طرح واقع ہوئی کہ یہ ایک زیر تعمیر دیوار کے نیچے آ کر واصل بہ جہنم ہوا۔ اللہ کی طرف سے وعید ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے جنہوں نے بنو ابیرق کی باتوں میں آ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے پاس ان کی صفائی پیش کی تھی حضور ﷺ نے بھی ظاہری حالات کے مطابق منافقین کو بےگناہ سمجھ کر حضرت قتادہ ؓ کو ڈانٹا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تنبیہ فرمائی ہے اور تمام اہل ایمان کو یہ بات اصولاً سمجھا دی ہے کہ خائن لوگوں کی طرف داری نہیں کرنی چاہئے بلکہ ہمیشہ پوری تحقیق کے بعد کسی نتیجے پر پہنچنا چاہئے اور حق کی حمایت کرنی چاہئے۔ ارشاد ہوتا ہے انا انزلنا الیک الکتب بالحق بیشک ہم نے یہ کتاب (قرآن مجید) آپ کی طرف حق کے ساتھ اتاری ہے۔ اس کتاب کے اصول ، ضوابط احکام اور فرامین سب برحق ہیں۔ اور اسے نازل کرنے کا مقصد یہ ہے لتحکم بین الناس بما ارنک اللہ تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اس چیز کے ساتھ فیصلہ کریں ، جو اللہ نے آپ کو سمجھائی ہے ارک بمعنی رویت یعنی دیکھنا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ اس چیز کے ساتھ فیصلہ کریں جو چیز اللہ نے آپ کو دکھائی ہے یاسمجھائی ہے ، اور ظاہر ہے کہ اس روایت یا فقاہت کا ذریعہ اللہ کی وحی ہے۔ تو فرمایا ولاتکن للخائسین خصیماً آپ خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑانہ کریں۔ یعنی ان منافقین نے اپنی صفائی کے لیے جو ماحول پیدا کردیا ہے ، ان سے متاثرہ ہو کر آپ ان کی حمایت نہ کریں۔ استغفار کی تلقین فرمایا منافقوں کو بےگناہ سمجھنے میں جو لغزش ہوئی ہے اس کے لیے واستغفر اللہ آپ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں ، اس کی بخشش کے طلب گار ہوں۔ اور ساتھ ساتھ تمام اہل اسلام کو بھی یہ بات سمجھا دی کہ جب بھی کوئی ایسی غلطی ہوجائے۔ فوراً اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون حق و انصاف پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق اپنے تنازعات نپٹائے جائیں۔ رشتہ داری ، خویش پروری اور اقربا نوازی نہیں ہونی چاہئے۔ ایسی خطا پر جب معافی طلب کریں گے ان اللہ کان غفوراً رحیماً تو اللہ تعالیٰ بھی بخشش کرنے والا اور مہربان ہے۔ وہ ضرور معاف فرما دے گا۔ لہٰذا غلطی پر معافی مانگنے میں تامل نہیں کرنا چاہئے۔ خائنوں کی مذمت فرمایا تجادل عن الذین یختانون انفسہم اور آپ ان لوگوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں جو اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرنے والے ہیں۔ جو شخص چوری کرتا ہے ، وہ ظاہر ہے کہ اپنے ہی نفس سے خیانت کرتا ہے۔ اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، دنیا و آخرت میں اسی سے باز پرس ہوگی اور اسے اس کا بدلہ چکانا ہوگا۔ فرمایا خائنوں کی حمایت نہ کریں ، کیونکہ ان اللہ لا یحب من کان خواناً اثیماً بیشک اللہ تعالیٰ خائن اور گنہگار آدمی کو پسند نہیں کرتا۔ وہ تو عدل و انصاف کا حامی ہے اور اطاعت گزار کو پسند فرماتا ہے۔ دھوکہ باز اور خیانت کرنے والوں سے وہ بیزار ہے۔ پھر دیکھو ! یہ لوگ کیا کرتے ہیں یستخفون من الناس لوگوں سے چھپ چھپا کر معصیت کا ارتکاب کرتے ہیں چوری کرتے ہیں خفیہ سازش کرتے ہیں۔ مگر انہیں علم ہونا چاہئے ولا یستخفون من اللہ اللہ تعالیٰ سے کچھ نہیں چھپا سکتے۔ وہ تو ہر آن ہر چیز کو دیکھ رہا ہے ، وہ گوشتہ کہاں پائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کی نظر نہ پہنچتی ہو یستخفون کا معنی شرمانا بھی ہو سکتا ہے۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ منافقین لوگوں سے شرماکر چوری چھپے غلط کام کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ جو حاضر ناظر ہے اس سے نہیں شرماتے ، یہ اس قدر ڈھیٹ واقع ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ حاضر و ناظر ہے فرمایا وھو معہم اذ یبتون جب یہ لوگ رات کو مشورہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے اور بات بھی ایسی کرتے ہیں مالا یرضی من القول جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ ایک تو چوری کی اور دوسرا الزام بےگناہوں پر لگایا اور اپنی جھوٹی صفائی پیش کردی یہ سب چیزیں منشائے ایزدی کے خلاف ہیں۔ اور یہ اس قدر جاہل لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف اس کی موجودگی میں اس قسم کے مشورے کرتے ہیں۔ فرمایا وکان اللہ بسما یعملون محیطاً منافقین جو کچھ کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔ وہ محیط کل ہے کوئی چیز اس کے علم اور احاطہ قدرت سے باہر نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی تمام چالوں سے اپنے نبی کو بذریعہ وحی آگاہ کردیا اور اس طرح ان کی سازش کو بےنقاب کردیا۔ مجرمین کی بےبسی آگے فرمایا ھانتم ” ھا “ حرف تنبیہ ہے۔ یعنی تم غور سے سنو ! ھولاء جدلتم عنہم فی الحیوۃ الدنیا یہی وہ لوگ ہیں جن کی طرف سے تم دنیا کی زندگی میں جھگڑا کرتے ہو۔ ان خائنوں اور گنہگاروں کی طرفداری کرتے ہو ، ان کی سفارش کرتے ہو اور ان کی صفائی پیش کرتے ہو۔ اس دنیا میں تو ایسا کر رہے ہو۔ فمن یجادل اللہ عنہم یوم القیمۃ مگر قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان کی طرف سے کون جھگڑا کریگا۔ اس دن تمام راز فاش ہوجائیں ” فمالہ من قوۃٍ ولا ناصر “ تو اس دن ان کا کوئی حامی و مددگار نہیں ہوگا۔ تو فرمایا امر من یکون علیہم وکیلاً اس دن گنہگاروں کی کون وکالت کریگا ، یہ لوگ اس دنیا میں تو چرب زبانی کر کے غلط سفارش کرا لیتے ہیں مگر قیامت کے دن اللہ کے ہاں کون سا ایڈوکیٹ یا بیرسٹر پیش کریں گے۔ وہاں کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا گویا اہل ایمان کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آئندہ ایسے دھوکہ بازوں کی طرفداری نہ کریں اور ہمیشہ حق کی حمایت کریں اب اگلی آیات میں اس بات کا تذکرہ ہے۔ کہ اگر کوئی جرم مجرم کی بجائے کسی بےگناہ پر ڈال دیاجائے تو اس کا کتنا بڑا وبال ہے۔
Ayahs 4:110–113

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص برائی کرے یا ظلم کرے اپنی جان پر پھر وہ اللہ سے بخشش طلب کرے تو پائے گا اللہ کو بخشش کرنے والا اور مہربان ،

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو شخص گناہ کمائے گا ، بیشک وہ کمائے گا اس کو اپنی جان پر ، اور اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے ،

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی خطا یا گناہ کرے گا ، پھر وہ اسے کسی بری شخص پر لگائے گا بیشک اس نے اٹھایا بہتان اور صریحاً گناہ ،

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر آپ پر اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا اور اسکی رحمت ، تو البتہ ارادہ کیا تھا ایک گرروہ نے ان میں سے ، کہ آپ کو بہکادیں ، اور وہ نہیں بہکاتے مگر اپنی جانوں کو اور وہ نہیں نقصان پہنچاسکتے آپ کو کسی قسم کا۔ اور اتاری ہے اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت اور سکھلایا ہے آپ کو وہ کچھ جو آپ نہیں جانتے تھے اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے۔

ربط آیات اس سورة میں منافقین کا تذکرہ اور ان کی مذمت مختلف مقامات پر ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کارگزاری کا تذکرہ فرمایا کہ جرم کا ارتکاب خود کرکے اس کا الزام دوسروں پر لگادیتے ہیں۔ جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ منافقین نے حضرت رفاعہ ؓ کے گھر چوری کرکے اس کا اتہام پہلے ایک مسلمان پر لگایا اور پھر یہودی پر۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ کے پاس اپنی بریت کی سفارش بھی بہم پہنچائی ، ظاہری حالات دیکھ کر بنی (علیہ السلام) نے بھی ایسا ہی خیال کیا ، مگر اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرما کر اصل صورت حال سے مطلع فرمادیا اور منافقوں کی سخت مذمت بیان کی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر اس قسم کی غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لینی چاہیے اور مجرموں کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔ فرمایا ایسے لوگ دنیا میں تو اپنا حمایتی پیدا کرلیتے ہیں مگر کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کونسا وکیل پیش کریں گے جو ان کی وکالت کرسکے۔ فرمایا اگر وہ منافق چور ارتکاب جرم کے بعد اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیتا تو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا۔ مگر الٹا بھاگ گیا اور مرتد ہو کر کفار کے ساتھ جاملا اور نہایت بری موت مرا۔ گناہ کے بعداستغفار ان آیت میں اللہ تعالیٰ نے اصول کے طور پر یہ ارشاد فرمایا ومن یعمل سوائ جو شخص برائی کا ارتکاب کرے گا اویظلم نفسہ یا اپنے نفس پر زیادتی کرے گا سو ، اور ظلم برنفس تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں اور برائی یا گناہ پر محمول کیے جاتے ہیں تاہم سوء سے مراد وہ گناہ ہے جو متعدی ہو۔ یعنی خود گناہ کرکے الزام دوسرے پر لگادیا جائے یا بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں جن کا اثر وہ براہ راست دوسروں پر پڑتا ہے ، جیسے کسی کو قتل یازخمی کردیا جائے ، کسی کی بےعزتی کی جائے یا مال چوری کرلیا جائے اور ظلم وہ گناہ ہے جس کا اثر مرتکب کی اپنی ذات تک محدود رہتا ہے ، جیسے نماز ، روزہ وغیرہ کا تارک یا حلال و حرام سے بےنیاز ، تو فرمایا کسی قسم کا گناہ کیا ہے ، اس کے بعد ثم یستغفر اللہ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لے تو یجد اللہ غفوراً رحیما یقینا اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا ، کیونکہ اس زندگی میں بڑے سے بڑے گناہ کفر اور شرک سے بھی توبہ ہوسکتی ہے۔ البتہ حقوق العباد میں یہ شرط ہے کہ توبہ کے ساتھ واصلح یعنی جس شخص کا حق تلف کیا ہے ، اسے ادا کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر متعلقہ شخص معاف کردے تو بھی مجرم بری الذمہ ہوگیا بہرحال اللہ نے یہ توبہ کا قانون بھی بتادیا ہے کہ التوبۃ معروضۃ مالم یغرغرانسان کی توبہ اس وقت تک قابل قبول ہے ۔ جب تک زندگی کے آخری لمحات میں غرغرے کی حالت طاری نہ ہوجائے ، جب اس کی جان لبوں پر آجاتی ہے اور عالم غیب کا پردہ اٹھ جاتا ہے فرشتے اور برزخ کی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں ، تو اس وقت توبہ کی قبولیت کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے پہلے تندرستی ہو ، بیماری ہو ، ہر حالت میں توبہ قبول ہوتی ہے۔ آگے فرمایا ومن یکسب اثماً جو کوئی شخص گناہ کمائے گا۔ فانما یکسب علی نفسہ تو یقینا وہ اپنے نفس پر ہی کمائے گا ، یعنی جو آدمی قصداً برائی کا ارتکاب کرتا ہے اس کا وبال اسی کی جان پر پڑے گا۔ ایسے جرم میں وہ خود ہی ماخوذ ہوگا۔ وکان اللہ علیماً حکیماً اللہ تعالیٰ علیم ہے کہ ہرچیز سے واقف ہے اور حکیم ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ وہ گناہ کرنے والے کے گناہ اور اس کی سزا کو جانتا ہے اور اس کا ہر فیصلہ پراز حکمت ہے۔ بہتان طرازی فرمایا ومن یکسب خطیۃ اواثماً جس شخص نے کوئی خطا کی یا گناہ کا ارتکاب کیا۔ خطا سے مراد صغیرہ گناہ جو بغیر ارادے کے سہواً سرزد ہوگیا۔ اور اثم وہ بڑا گناہ ہے جو نیت اور ارادے سے کیا جائے نیکی اور بدی وہی موثر ہوتی ہے جو قصداً کی جائے۔ تو فرمایا جس شخص نے چھوٹا گناہ کیا یا بڑا ثم یرم بلہ بریاً پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگادی جیسا کہ اس منافق نے چوری کا ارتکاب کرکے دوسروں کو ملوث کرنے کی کوشش کی تھی ، تو فرمایا فقد احتمل بھتاناً واثماً مبیناً ایسے شخص نے بہت بڑا افترا اور گناہ اٹھالیا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کردیا کہ کسی بےگناہ پر اتہمام لگانا بہت بڑا جرم ہے۔ اس سے بچتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ منافقین کی مذمت بھی بیان فرمادی۔ عصمت انبیا (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ منافقین حضور ﷺ کو اپنے ساتھ شامل کرکے آپ کو بھی ملوث کرنا چاہتے تھے ، اس سلسلہ میں انہوں نے سفارش بھی بہم پہنچائی اور دوسروں پر بھی الزام لگایا تکہ وہ خود بری قرار پائیں مگر اللہ تعالیٰ نے ساری صورت حال سے بذریعہ وحی مطلع فرمادیا اور اس طرح آپ کو غلطی سے بچا کر عصمت انبیاء کو برقرار رکھا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ اگر اس کا نبی بعض ظاہری حالات کو دیکھ کر یا کسی قرینے کی بنیاد پر کوئی خلاف معمول رائے قائم کرے یا حکم جاری کردے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے اپنے نبی کو مطلع کردیتا ہے اور اسے اپنی خلاف حقیقت رائے پر قائم نہیں رہنے دیتا۔ اگر نبی غلطی پر قائم رہے تو یہ اس کی عصمت کے خلاف ہوتا ہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالت پر نہیں چھوڑتا۔ نبی اور مجتہد میں یہ بنیادی فرق ہے کہ مجتہد جب اپنے اجتہاد اور غوروفکر سے کوئی غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا اجر تو بہرحال اس کو مل جاتا ہے مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اسے اس کی غلطی سے مطلع کرکے اصلاح کردی جائے۔ اس کے برخلاف اگر نبی سے کسی فیصلہ میں کوئی لغزش ہوجائے تو اسے فوراً بذریعہ وحی مطلع کردیا جاتا ہے اور ایسی خطا سے بچالیا جاتا ہے۔ عصمت کا یہی معنی ہے جس کی حفاظت اللہ نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ حفاظت خداوندی اللہ نے ارشاد فرمایا ولولا فضل اللہ علیک ورحمۃ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت آپ پر نہ ہوتی۔ لھمت طائفۃ منھم ان یضلوک تو ان میں سے ایک گروہ نے ارادہ کررکھا تھا کہ آپ کو بھی بہکادیں۔ اور اپنا طرفدار بنالیں۔ منافقین نے اس مقصد کے لیے بھرپور کوشش کی تھی اور معززین کا ایک وفد لے کر حضور ﷺ کے پاس گئے۔ آپ نے بھی ظاہری حالات کے مطابق ان کو بےگناہ سمجھا ، اور حضرت قتادہ ؓ کو فرمایا کہ تم ایسے باصلاحیت اور نیک لوگوں پر کیوں شبہ کرتے ہو۔ قریب تھا کہ حضور ﷺ ان کی باتوں میں آکر ان کے طرفدار بن جاتے مگر اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ کو متنبہ کردیا۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ومایضلون الا انفسھم وما یضرونک من شئییہ لوگ اپنے آپ کو ہی بہکار ہے ہیں۔ اور وہ نہیں نقصان پہنچاسکتے آپ کو کسی قسم کا اب بھی اگر کوئی ایسی حرکت کرے گا تو مجرم ٹھہرے گا۔ اگر کوئی دوسرا شخص بہکاوے میں آکر غلط طور پر طرفدار بن جائے گا تو اس سے کام کا محرک بری الذمہ نہیں ہوگا۔ نہ اس کا گناہ کم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی عدالت میں اسے جواب دینا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ سے فرمایا کہ ظاہری حالات سے متاثر ہوجانے کی وجہ سے آپ پر تو کوئی الزام نہیں آتا۔ کیونکہ بسا اوقات ایسے حالات میں کوئی شخص ایسی رائے قائم کرلیتا ہے مگر جن لوگوں نے یہ ساری کارروائی کی ہے ، وہ نقصان سے نہیں بچ سکیں گے۔ اور اس گناہ کا وبال انہی پر پڑے گا۔ کتاب وحکمت فرمایا وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی ہے۔ کتاب سے مراد قرآن حکیم ہے اور بقول امام مالک (رح) حکمت سے مراد سنت ہے۔ حکمت کی تفسیر میں اور بھی کئی اقوال آئے ہیں۔ سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرکات کی فضیلت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے۔ ” واذکرن مایتلی فی بیوتکن من اٰیت اللہ والحکمۃ اور اس بات کو یاد کرو جو اللہ کی آیتیں اور حکمت تمہارے گھروں میں پڑھی جاتی تھیں۔ ظاہر ہے کہ آیات اللہ سے مراد قرآن پاک اور حکمت سے مراد آپ کے اقوال اور اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب نازل فرمائی جو وحی جلی ہے اور جس کے الفاظ منجانب اللہ ہیں۔ اور حکمت وحی خفی ہے جس کے الفاظ اللہ کی جانب سے نہیں ہیں مگر مضمون اللہ تعالیٰ کا ہی القا کردہ ہے۔ جو باتیں حضور ﷺ کی زبان مبارک سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے القاشدہ ہیں ۔ حضور ﷺ نے اپنی زبان مبارک سے قرآن پاک کی تشریح کی ہے اور یہی حکمت ہے۔ کلی اور جزوی علم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ، آپ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی وعلمک مالم تکن تعلم اور آپ کو وہ کچھ سکھایا جو آپ نے جانتے تھے یہی مضمون دوسرے مقام پر اس طرح آیا ہے ” ماکنت تدری ما الکتب والا الایمان (الشوریٰ ) آپ کتاب اور ایمان کی تفصیلات نہیں جانتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر آپ کو آگاہ کیا بعض چیزیں وحی جلی کے ذریعہ بتائیں اور بعض وحی خفی کے ذریعے۔ بعض اہل بدعت آیت کے اس ٹکڑے سے حضور ﷺ کا کلی علم ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو نبوت سے متعلقہ تمام چیزیں سکھادیں ، اور جن کا تعلق منصب نبوت کے ساتھ نہیں ہے ان میں سے بھی بہت سی چیزوں کا علم دیدیا مگر ذرے ذرے کا علم نہیں دیا۔ اگر اس آیت کے ذریعے اللہ نے سب کچھ آپ کو بتادیا تھا تو یہ آیت تو 4 ھ یا 5 ھ میں نازل ہوئی اس کے بعد باقی سورتوں کے نزول کی کیا ضرورت تھی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اس سورة کے بعد سورة مائدہ ، سورة توبہ ، سورة احزاب اور بہت سی سورتیں نازل ہوئیں ۔ جب ایک چیز سکھادی تھی تو دوبارہ نازل کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ لوگ اس آیت کا صحیح مطلب نہیں سمجھ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا علم حضور ﷺ کو دیا وہ سب سے زیادہ تھا جیسا فرمایا اوتیت علم الاولین والاخرین مجھے پہلوں اور پچھلوں کا علم دیا گیا ، بیشک اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی امتوں کے حالات بتائے ، قرآن پاک میں قصص کا ایک معتدبہ حصہ موجودہ ہے اور بعد میں پیش آنے والے بہت سے واقعات سے بھی آپ کو آگاہ کیا۔ جن کا ذکر قرآن وسنت میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔ اس کے باوجود آپ علم محیط کے مالک نہیں ہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاصا ہے ۔ عالم الغیب والشہادت صرف وہی ذات ہے اللہ نے اپنے انبیاء اور رسل کو دین اور شریعت کا مکمل علم دیا مگر ذرے ذرے کا علم نہیں دیا ، کیونکہ اس کی ضرورت نہ تھی۔ اب اگر کوئی کہے کہ حضور ﷺ فلاں مشینری جوڑنا یا ہوائی جہاز بنانا نہیں جانتے تھے ، تو اس سے آپ کی ذات پر کیا فرق پڑتا ہے ؟ اور آپ کی شان میں کیا کمی آتی ہے ؟ یہ تو ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق کائنات سے ہے اور ان کا جاننا آپ کے لیے ضروری نہیں تھا۔ ہاں ! اگر کوئی یہ کہے کہ حضو رعلیہ السلام دین کی فلاح بات یا حلال و حرام کا فلاں مسئلہ نہیں جانتے تھے ، تو یقینا یہ کلمہ کفر ہے۔ مگر دنیا کی عام چیزیں تو انسان اپنے مشاہدے اور عقل سے سیکھتے ہیں اور اپنے تجربات کو بروے کار لاتے ہیں۔ البتہ بعض علم مضر ہیں وہ اللہ نے اپنے نبی کو نہیں سکھائے اور نہ وہ آپ کی شان کے لائق ہیں۔ سحر ، کہانت ، نجوم آپ کے منصب کے شایان شان نہیں اور اللہ نے آپ کو نہیں سکھائے۔ اسی شعروشاعری کے متعلق فرمایا وماعلمنہ الشعر وماینبغی لہہم نے اپنے نبی کو شعر کا علم نہیں سکھایا ، نہ وہ اس کی شان کے لائق ہے۔ اگر ایسی چیزیں آپ نہیں جانتے تو آپ کی شان میں ذرا برابر فرق نہیں آتا ، مزید برآں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کی آپ نے نفی کرنی ضروری ہے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تفہیمات الٰہیہ میں فرماتے ہیں کہ آپ کے واجب الوجود ہونے کی نفی کرنا ضروری ہے ، ورنہ انسان ایماندار نہیں ہوگا۔ واجب الوجود ، قادر مطلق اور علیم کل تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے حضور ﷺ کی ذات سے ان سب کی نفی لازم ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ حضور کو ذرے ذرے کا علم دیا گیا ، درست نہیں ہے۔ فضل عظیم فرمایا وکان فضل اللہ علیک عظیماً اور آپ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے ، امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ آپ کو نبوت عطا فرمائی ، پھر آپ کو ختم نبوت کا تاج پہنچایا۔ آپ کو جو کتاب دی گئی وہ سب کتابوں سے افضل۔ آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل۔ آپ کے متبعین بھی سب سے زیادہ آپ کو معجزات بھی دوسرے انبیاء سے زیادہ دئیے گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ظاہری اور معنویٰ اولاد بھی سب سے زیادہ بنائی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔ اگلی آیات میں منافقوں کی بعض مزید سازشوں اور ان کے مشوروں کا تذکرہ بیان کیا گیا ہے اور ان کی مذمت بھی کی گئی ہے۔