Ayahs 4:160–162ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کی خرابیوں کا تذکرہو رہا ہے اور یہدرس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اہل کتاب نے عناد کی وجہ سے کہا کہ اگر آپ اللہ کے نبی ہیں تو کتاب یکبارگی کیوں نہیں لے آتے ، جیسا کہ پہلے نبی لائے۔ اس اعتراض کا حقیقی جواب تو اگلے رکوع میں آئے گا ، تاہم گزشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ آپ اہت کتاب کے فضول اعتراضات سے دل برداشتہ نہ ہوں ، اس ضدی قوم نے آپ سے پہلے انبیاء پر اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے رویت الٰہی کا مطالبہ کیا ، اللہ تعالیٰ نے انہیں فوراً سزا دی اور ایک بجلی آئی جس نے انہیں جلا کر ہلاک کردیا ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ن دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی عطا کی اللہ نے یہودیوں کی یہ خباثت بھی بیان فرمائی کہ واضح دلائل دیکھنے کے باوجود انہوں نے بچھڑے کی پوجا کی اور کفارے کے طور پر ستر ہزار آدمیوں کو قتل کیا گیا۔ ان لوگوں نے اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کیا اور آخر میں حضرت مریم پر بہتان باندھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو (العیاذ باللہ) ولدالزنا کہا۔ انہوں نے فخریہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے ، حالانکہ وہ نہ تو آپ کو قتل کرسکے اور نہ سولی پر چڑھا سکے۔ بلکہ یہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ ہو کر رہ گیا اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبازہ نزول کی طرف بھی اشارہ کیا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ اس زمانے میں یہود و نصاریٰ میں سے کوئی شخص بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) پر ایمان لائے بغیر نہیں رہے گا ، کیونکہ جو ایمان نہیں لائے گا۔ وہ ہلاک ہوجائے گا۔
ھلال و حرام
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو دی جانیوالی اس سزا کا ذکر کیا ہے۔ جس کے مطابق ان پر بعض حلال چیزیں حرام قرار دے دی گئی تھیں۔ ارشاد ہوتا ہے فیظلمٍ من الذین ھادوا یہودیوں کے ظلم یعنی گناہوں کی پاداش میں حرمنا علیہم طیبتٍ اُحلت لہم ہم نے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام قرار دیدیں جو ان کے لیے حلال تھیں۔ اور ظلم سے مراد اہل کتاب کی وہ خرابیاں ہیں جن کا تذکرہ گزشتہ دروس سے چلا آ رہا ہے۔
کسی چیز کی حرمت دو وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ حرام چیز میں کوئی ایسی خرابی پائی جاتی ہے جو جسمانی یا روحانی لحاظ سے انسان کے لیے مضر ہوتی ہے لہٰذا مصلحتاً اسے حرام قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور یا پھر کوئی حلال چیز محض سزا کے طور پر کسی قوم پر حرام کردی جاتی ہے۔ آج کے درس میں اس قسم کی حرمت ہی کا تذکرہ ہے۔
جسمانی نقصانات
اگلی سورة مائدہ میں حلال و حرام کا تفصیل سے ذکر ہے۔ وہاں پر طیبات کو حلال قرار دیا گیا ہے اور پھر بھیمۃ الانعام یعنی مویشیوں کو حلال قرار دیا ہے ، ان کا گوشت اور دودھ حلال ہیں کیونکہ ان جانوروں یعنی گائے ، بھینس ، بھیڑ ، بکری ، اونٹ وغیرہ کا مزاج انسانی مزاج کے مطابق ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے درندے جو انسانی مزاج سے مطابقت نہیں رکھتے ، انہیں حرام قرار دیا گیا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے نھیٰ رسول اللہ ﷺ عن الدواء الخبیث یعنی حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے خبیث دوا کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ مثلاً سنکھیا یا کوئی دوسری زہر دوائے خبیث ہے۔ حضور نے اس کے ذریعے علاج کرنے سے منع فرما دیا کہ اس کا استعمال انسانی مزاج کے بالکل خلاہے۔ اس کی معمولی مقدار بھی انسان کے معدے ، جگر اور مثانے کو زخمی کردیتی ہے۔ خون جاری ہوجاتا ہے۔ جسم میں ورم آجاتا ہے اور پھر تمام جسمانی نظام درہم برہم ہو کر مریض کی ہلاکت کا باعث بن جاتا ہے۔ چونکہ زہر انسانی جسم کے لیے مضر ہے ، لہٰذا اس کے استعمال سے منع فرما دیا گیا حضور ﷺ نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی مگر گدھے کے گوشت سے منع فرما دیا۔ گدھے کا گوشت انسانی جسم سے مطابقت نہیں رکھتا ، جو شخص کھائے گا بلید الطبع ہوجائے گا۔ اس میں گدھے جیسی صفات پیدا ہوں گی۔ اسی طرح درندوں کا گوشت بھی حرام ہے۔ جو شخص شیر ، چیتا ، ریچھ ، گیدڑ ، بلی ، کتا وغیرہ کا گوشت استعمال کرے گا ، اس میں وہی صفات پیدا ہوجائیں گی جو قومیں درندوں کا گوشت کھاتی ہیں ان میں ان جیسی صفات ہی پیدا ہوتی ہیں۔ ابو داؤد شریف کی روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم نے چیتے کی کھال سے تیار کیے گئے مصلے پر بیٹھنے سے منع فرما دیا اگرچہ وہ دباغت شدہ ہو۔ وجہ یہ ہے کہ ایسی کھال استعمال کرنے والے میں تکبر جیسی قبیح صفت پیدا ہوگی جو کہ ہمارے اخلاف کے لیے سخت مضر ہے۔ برخلاف اس کے اونٹ ، گائے ، بھیڑ بکری کی کھال کے مصلے پر بیٹھنا جائز ہے کہ یہ جانور انسانی طبائع سے مطابق رکھتے ہیں۔
روحانی نقصانات
اللہ تعالیٰ نے بعض چیزیں روحانی نقصانات کی وجہ سے حرام قرار دی ہیں جیسے مردار ، دم مسفوح ، خنزیر کا گوشت اور نذر بغیر اللہ۔ مردار کی حرمت میں یہ وجہ کار فرما ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان میں سستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے نیز نیکی کے کام اور عبادت میں نشاط پیدا نہیں ہوتا ، یہ اس کا روحانی نقصان ہے اسی طرح رگوں سے نکلنے والے خون میں یہ خرابی ہے کہ اسے استعمال کرنے والے آدمی میں درندگی کے اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں شیر ، ریچھ وغیرہ جانور کا خون ہی پیتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں اس قدر زندگی پائی جاتی ہے۔
خنزیر گندگی کھانے والا جانور ہے۔ اس کا گوشت کھانے والے آدمی میں بھی گندگی ہی پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ جانور بےغیرت بھی ہے ، لہٰذا اس کا گوشت کھانے والے بھی بےغیرتی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ انگریز اور سکھ خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں لہٰذا یہ دونوں قومیں بےغیرتی میں ملوث ہیں۔ حضور ﷺ نے گندگی کھانے والے جانور (جلالہ) کا گوشت مکرہ تحریمی میں شمار کیا ہے جو گائے یابھیڑ وغیرہ گندگی کھانے لگے اس کا حکم یہ ہے کہ اسے دس دن تک باندھ کر گندگی سے حفاظت کی جائے تو پھر اس کا گوشت کھانے کے قابل ہوگا اس طرح اگر مرغ بھی گندگی کھانے لگے تو اسے تین دن تک روک کر پھر اس کا گوشت کھایا جاسکتا ہے۔
چوتھی چیز غیر اللہ کے نام کی نذر بھی حرام ہے ” وما اہل بہ لغیر اللہ “ اس کے استعمال سے بھی روحانی نجاست پیدا ہوتی ہے جسے اعلیٰ روحانیت کے حامل لوگ بھی محسوس کرتے ہیں۔ نذیر بغیر اللہ کی اشیاء کھانا ، دودھ ، گوشت وغیرہ اگرچہ بظاہر حلال ہیں مگر جب یہ پاکیزہ چیزیں اللہ تعالیٰ کی بجائے کسی پیر فقیر جن یا فرشتے کی خوشنودی کے لیے موسوم کی جائیں تو ان کے کھانے سے انسان کی روح ناپاک ہوجاتی ہے گویا یہ روحانی طور پر مضر ہیں۔
حرمت بطور سزا
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے جن محرمات کا ذکر کیا ہے وہ چیزیں یہودیوں پر بطور سزا حرام قرار دی گئی تھیں۔ ان ضدی اور شرارتی لوگوں نے بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب کیا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر احکام بھی سخت نازل فرمائے۔ بچھڑے کی پوجا اور پھر بنی اسرائیل کی توبہ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ انہوں نے شرک جیسے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا تو اللہ تعالیٰ نے قبولیتِ توبہ کی کڑی شرط لگا دی کہ تمام مشرکین کو تہ تیغ کردیا جائے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ اسی طرح اللہ نے ان کی قباحتوں کی وجہ سے ان پر بعض پاکیزہ چیزیں بھی حرام قرار دے دیں۔ اللہ تعالیٰ نے کثرت سے پائے جانے والے شتر مرغ ان کے لیے حرام کردیے۔ اونٹ اور دیگر حلال جانوروں کی چربی حرام قرار دے دی۔ وہ صرف ہڈیوں یا آنتوں کے ساتھ ملی ہوئی چربی تو استعمال کرسکتے تھے مگر گوشت کے ساتھ لگی ہوئی چربی ان کے لیے حرام تھی۔ یہ ان کے لیے بڑا دشوار حکم تھا مگر اللہ نے فرمایا کہ یہ ان کے اپنے جرائم کی وجہ سے سزا کے طور پر کرنا پڑا۔
صراطِ مستقیم میں رکاوٹ
فرمایا یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ان کے لیے بعض پاکیزہ چیزیں حرام کردی گئیں وبصدہم عن سبیل اللہ کثیراً اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنا بھی یہودیوں کے جرائم میں سے ہے اور ان کے لیے بعض حلال چیزوں کی حرمت کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہ لوگ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے تھے کہ کسی طرح لوگ اسلام قبول نہ کریں بلکہ کفر و ضلالت کے دام فریب میں ہی پھلے رہیں۔ آج تک یہودیوں کا یہی وطیرہ ہے۔ لوگوں کو صراط مستقیم سے روکنے میں تمام اقوامِ عالم سے پیش پیش ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں سازشوں کا جال پھیلار کھا ہے ۔ ہنود تو ان کے مقابلے میں بھی نہیں۔ یہ لوگ لٹریچر اور فلموں کے ذریعے دین حق کی قبولیت سے روکتے ہیں ، مال خرچ کرتے ہیں ، عورتوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔ سکول اور ہسپتال بناتے ہیں۔ ان تمام سکیموں کا واحد مقصد یہ ہے کہ کسی طرح قرآن پاک کی تعلیم سے بہروز نہ ہو سکیں اور نہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلّم کے مشن پر گامزن ہو سکیں۔ اسی لیے فرمایا کہ یہودیوں کی سزا کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کی کثیر تعداد کو صراط مستقیم سے روکتے ہیں۔
سود خوری
فرمایا واخذہم الربو وقدنھو عنہ اور سود لینے کی وجہ سے حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا ہے بنکنگ سسٹم کے موجد اور سود خوری کے امام بھی یہی لوگ ہیں ان لوگوں نے سود کا طریقہ ایجاد کر کے ساری دنیا کو اس لعنت میں گرفتار کردیا ہے۔ سود پہلی شریعتوں میں بھی حرام تھا اور آج بھی حرام ہے۔ مگر یہ لوگ اسے مسلسل کھا رہے ہیں واکلہم اموال الناس بالباطل اور لوگوں کا مال بالکل طریقے سے کھانے کی وجہ سے یہ لوگ مستحق لعنت ٹھہرے۔ سود خوری بذات خود مال ہڑپ کرنے کا باطل ترین ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ دھوکہ ، فریب اور من مانے جو ازات کے ذریعے ناحق مال کھانا ان کی عادت قدیمہ ہے۔ سورة آلِ عمران میں گزر چکا ہے ” لیس علینا فی الامین سبیلٌ “ یعنی امیوں کا مال ہمارے لیے ہر طرح مباح ہے اسے ناجائز طریقے سے کھانے میں بھی کوئی گناہ نہیں۔ حالانکہ اللہ نے فرمایا یہ لوگ جھوٹے ہیں ، کسی کا مال ناحق کھانا اللہ کے دین اور شریعت میں قطعاً روا نہیں اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا قطعی حکم موجود ہے۔ ” لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ یعنی ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ مگر لوگوں نے ناجائز طریقے سے مال ہڑپ کرنے کے کتنے طریقے ایجاد کرلیے ہیں۔ خوشی غمی کی رسومات ، جھوٹے تعویز گنڈے اور سحر سب مال کھانے کے باطل ذرائع ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا واعتدنا للکفرین منہم عذاباً الیماً ہم نے منکرینِ دین و شریعت کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وہ اللہ کے ہاں پکڑے جائیں گے۔
حق پرست لوگ
مجرمین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حق پرست مومنین کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ گزشتہ سورة میں بھی گزر چکا ہے ” لسوا سوائ “ سب لوگ برابر نہیں ہوتے۔ اہلِ کتاب میں بھی بعض حق پرست لوگ ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ باطل پرستوں کی فہرست سے نکل جاتے ہیں اور حق کو قبول کرلیتے ہیں۔ فرمایا لکن الرسخون فی العلم منہم مگر جو لوگ علم میں پختہ کار ہوتے ہیں۔
حضور ﷺ کے زمانے میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ اور ان کے بعض رفقا نے ایمان قبول کیا ، وہ لوگ صحیح معنوں میں اہل علم تھے۔ والمومنون اور کچھ ایسے ایمان والے بھی ہوتے ہیں یومنون بما انزل الیک جو اس چیز پر ایمان لاتے ہیں کو آپ پر نازل کی گئی یعنی قرآن پاک وما انزل من قبلک اور اس چیز پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی گئی یعنی تمام کتب سماویہ۔ اور ایمان کی تکمیل بھی ہوتی ہے جب تمام انبیاء اور تمام کتب پر ایمان لایا جائے۔ تمام شرائع الٰہیہ کو تسلیم کیا جائے ، تاہم عمل صرف آخری شریعت اور کتاب ہی پر کیا جائے گا۔
فرمایا قابل تعریف ہیں وہ حق پرست لوگ جو علم میں پختہ اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لانے والے ہیں ان کے علاوہ والمقیمین الصلوٰۃ جو نماز قائم کرنے والے ہیں کیونکہ تعلق باللہ قائم کرنے کے لیے نماز ایک بہترین ذریعہ ہے۔ انسان نماز خدا کی بارگاہ میں پیش ہوتا ، مناجات کرتا ہے۔ اور اعضاء جوارح سے اس کی تعظیم بجا لاتا ہے۔ پھر فرمایا والموتون الذکوۃ اور زکواۃ ادا کرنے والے لوگ بھی قابل آفرین ہیں۔ نماز کے ساتھ تعلق باللہ قائم ہوتا ہے تو زکوٰۃ کے ذریعے مخلوق کے ساتھ تعلق اور ہمدردی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ کے بندوں کی خیرخواہی کے لیے زکوٰۃ کی ادائیگی فرائض میں سے ہے۔۔ سورة توبہ کی آیت انما الصدقت للفقراء …الخ انہی امور خیر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
فرمایا وہ لوگ بھی قابل تعریف ہیں والمومنون باللہ جو اللہ پر ایمان لانے والے ہیں والیوم الاخر اور قیامت کے دن پر بھی ان کا ایمان ہے جزائے عمل کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولیک سنویتہم اجراً عظیماً ایسے لوگوں کو ہم عنقریب اجرِ عظیم سے مالا مال کریں گے۔ ایسے لوگ چاہے یہودیت سے آئے ہوں یا انصرانیت کی گود سے ، اگر وہ علم میں پختہ کار ہیں۔ تمام کتب سماویہ پر ایمان لاتے ہیں ، نماز ادا کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ روز آخرت پر ان کا ایمان ہے تو وہ لوگ لائق تعریف اور مستحق اجر ہیں۔
Ayahs 4:163–165ربط آیات
اہلِ کتاب سے مراد مدینے کے اطراف میں رہنے والے یہودی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اعتراض کا ذکر فرمایا ” یسلک اہل الکتب ان تنزل علیہم کتباً من السمائ “ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ نبوت کے دعویدار ہیں ، تو پھر قرآن پاک تھوڑا تھوڑا کرکے کیوں نازل ہوتا ہے آپ پوری کتاب ایک دفعہ کیوں نہیں آسمان سے لے آتے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو پوری تورات تختیوں پر لکھی سکھائی یکبارگی مل گئی تھی ، یہودیوں میں یعض ایسے بدبخت بھی تھے جو کہتے تھے ما انزل اللہ علی بشرمن شیئٍ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اور آپ کا دعویٰ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سوال کے الزامی جواب دیے اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ معترضین ایسے بیہودہ لوگ ہیں کہ انہوں نے اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سے بھی بڑے سوال کیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سوالوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ، کہ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ، جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ان لوگوں نے واضح نشانیاں ملنے کے باوجود بچھڑے کی پوجا کی ، عہدو پیمان کو توڑا ، انبیاء کو ناحق قتل کیا ، حضرت مریم ؓ پر طوفان باندھا ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق نہایت گندا عقیدہ وضع کیا ، اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سے تجاوز اور تعدی کی بنا پر ان پر سخت احکام نازل فرمائے اور ان کے لیے بعض حلال چیزیں حرام قرار دے دیں۔ انہیں سود سے اور لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع کیا ، مگر انہوں نے ذرا پرہیز نہ کیا بلکہ زیادتی میں مزید بڑھ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض لوگوں کی تعریف فرمائی جو علم میں پختہ کار تھے ، جب انہوں نے قرآن پاک سنا اور پیغمبر اسلام کی زیارت کی تو ایمان لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجرِ عظیم کی بشارت سنائی۔
صداقت کی دلیل
اب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اس سوال کا حقیقی جواب دیا ہے جس میں وہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو آپ پر پوری کتاب اکٹھی کیوں نہیں نازل ہوتی۔ ارشاد ہوتا ہے انا اوحینا الیک بیشک ہم نے آپ کی طرف وحی نازل کی کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ جس طرح ہم نے وحی نازل کی حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیا کی طرف۔ اللہ تعالیٰ نے چند انبیاء کے نام بھی گنوائے ہیں جن کی طرف وحی آتی رہی۔ فرمایا واوحینا الی ابراہیم و اسمعیل واسحق و یعقوب والاسباط اور ہم نے وحی بھیجی ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر۔ اس کے علاوہ وعیسیٰ و ایوب و یونس و ہارون و سلیمن ہم نے حضرات عیسیٰ علہی السلام ، ایوب (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) ، ہارون (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو زبور عطا کی۔ جواب کی نوعیت یہ ہے کہ اہل کتاب جب سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی نبوت پر ایمان لاتے ہیں تو نبی آخر الزمان پر ایمان کیوں نہیں لاتے جب کہ اللہ کے آخری نبی پر بھی اسی طرح وحی نازل ہوتی ہے جس طرح انبیاء سابقہ پر ہوتی رہی تو اب اس نبی اور اس کتاب کو تسلیم کرنے میں کونسا امر مانع ہے۔ ان حقائق کے باوجود اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ، تو یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے اور یہ کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وحی صرف نبی پر آتی ہے ، غیر نبی پر نہیں۔ البتہ کشف یا الہام غیر نبی کو بھی ہو سکتا ہے۔ مگر اسے وہ قطعی اور یقینی حیثیت حاصل نہیں ہوتی ، جو وہی الٰہی کو حاصل ہوتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمام انبیاء پر وحی نازل ہوتی رہی ہے مگر سب کو کتابیں نہیں دی گئیں۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جن کو کتابیں دی گئی ہیں وہ سب کی سب اکٹھی نہیں دی گئیں بعض انبیاء کو یکبارگی کتاب دے دی گئی مگر بعض پر آیات کی صورت میں تھوڑی تھوڑی وحی نازل ہوتی رہی ، لہٰذا انبیاء کے واسطے پوری کتاب کا اکٹھا نازل ہونا ضروری نہیں جس کا یہ اہل کتاب مطالبہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے تحت جس نبی پر جس وقت جتنی وحی چاہتا ہے ، نازل فرماتا ہے اگر یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ باقی انبیاء کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں تو پھر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلّم کی نبوت کو بھی مان لینا چاہئے۔
رسول اور کتابیں
اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو مکمل کتابیں دیں اور بعض کو چھوٹے چھوٹے صحیفے چناچہ حضرت ابوذر غفاری (رح) کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ نے کل کتنے نبی اور رسول مبعوث فرمائے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ کل انبیاء اور رسل کی تعداد کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔ پھر عرض کیا کہ ان میں رسول کتنے تھے۔ فرمایا تین سو پندرہ رسول تھے اور باقی سب انبیائ ، وحی تمام انبیاء و رسل پر نازل ہوئی مگر کتاب اور شریعت صرف رسولوں کو ملی۔ اسی روایت میں کتابوں کا ذکر بھی آتا۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ نے عرض کیا۔ حضور ! اللہ نے کتنی کتابیں نازل فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کل ایک سو چار ، جن میں چار بڑی کتابیں اور ایک سو چھوٹے چھوٹے صحیفے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے انبیاء پر بھی اللہ نے بعض صحیفے نازل فرمائے۔ اسی حدیث میں آتا ہے کہ اللہ کے پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) تھے اور آخری نبی حضرت محمد ﷺ پھر عرض کیا ، کیا آدم (علیہ السلام) نبی تھے ؟ فرمایا ، ہاں ! وہ نبی تھے کلمہ اللہ ، اللہ تعالیٰ نے ان سے کلام کیا ، لہٰذا وہ نبی اور مکلم تھے۔
آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ان کے صلبی بیٹے حضرت شیث (علیہ السلام) بھی اللہ کے نبی تھے۔ اور ان کے بیٹے یا پوتے حضرت ادریس (علیہ السلام) بھی نبی تھے ، آپ کو اخنوخ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ادریس (علیہ السلام) ہی ہیں جنہوں نے سب سے پہلے قلم سے لکھنا شروع کیا۔ کپڑے سینے کی سوئی اور دیگر لوازمات روزمرہ زندگی آپ ہی نے ایجاد کیے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو صحیفے نازل فرمائے ، وہ لوگوں کی بودو باش سے متعلق احکام پر مشتمل تھے ، چونکہ دنیا کی آبادی اس وقت بڑھے لگی تھی… لہٰذا اس قسم کے احکام کی ضرورت تھی ، جسے اللہ نے ادریس (علیہ السلام) پر پورا فرمایا۔ آپ کے زمانہ کے متعلق مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے ہیں ، تاہم اول الذکر زمانہ بعثت زیادہ معتبر ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا زمانہ
حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے تک دنیا کا ابتدائی دور تھا۔ آپ سے پہلے تک کے دور کو زمانہ طالب علمی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ، پھر جب آپ کا دور شروع ہوا ، تو یہ گویا تکمیل تعلیم کے بعد امتحان کا وقت تھا۔ امتحان کا نتیجہ پاس یا فیل ہونے کی صورت میں نکلتا ہے۔ کامیاب ہونے والوں کو انعام ملتا ہے اور ناکام ہونے والوں کی تادیب ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں مخلوق کا امتحان لیا گیا جس میں اکثر لوگ ناکام ہوئے ، اور انہیں طوفان کی صورت میں سزا ملی۔ صحیحین کی روایات میں آتا ہے کہق یا مت کے دن لوگ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور آپ سے عرض کریں گے۔ انک اول الرسل الی اھل الارض آپ اہل زمین کی طرف سے پہلے عظیم المرتبت رسول ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے مستقل شریعت عطا فرمائی ، لہٰذا آپ اللہ کے ہاں سفارش کریں کہ وہ حساب کتاب شروع کرے۔ مگر آپ جواب دیں گے کہ میں اس کام کا اہل نہیں ہوں اذھبوا الی غیری تم دوسروں کے پاس جاؤ ۔ بہرحال حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کے بعد آنے والے انبیاء پر اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا ، جب چاہا اور جتنی مناسب سمجھی وحی نازل فرمائی۔ لہٰذا پوری کتاب کے یکبارگی نزول کا مطالبہ کوئی معقول مطالبہ نہیں تھا۔
معروف اور غیر معروف انبیاء
آگے ارشاد ہوتا ہے ورسلاً قد قصصنہم علیک من قبل آپ سے پہلے ہم نے بہت سے رسول بھیجے جن کا ذکر ہم نے قرآن پاک میں کردیا ہے۔ چناچہ قرآن حکیم میں چھبیس یا ستائیس انبیائے کرام کے اسماء یا ان کے لقب کا تذکرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ ورسلاً لم نقصصہم علیک ایسے رسول اور انبیاء بھی ہیں جن کا ذکر ہم نے نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بالرسل کے لیے تمام انبیاء کے اسمائے گرامی یا ان کے کارہائے نمایاں کا جاننا ضروری نہیں ہے بلکہ سب پر اجمالی طور پر ایمان لانا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اور جہاں بھی کوئی نبی معبوث فرمایا ہے ، ہمارا ان سب پر ایمان ہے ، وہ سب اللہ کے سچے نبی تھے۔ جو لوگوں کی ہدایت کے لیے تشریف لائے ، سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ یوں کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر ، اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل لی گئی اور اس چیز پر بھی جو ابراہیم ، اسماعیل ، اسحاق ، یعقوب (علیہم السلام) اور انکی اولاد پر اتاری گئی ” وما اوتی النبیون من ربہم “ اور اس چیز پر بھی ایمان لائے جو تمام انبیاء کو ان کے رب کی طرف سے عطا کی گئی۔ ہر زمانے میں ہر قوم کی طرف رسول آئے ہیں ” لکل قومٍ ھادٍ “ اللہ نے ہر قوم کے لیے ہادی اور راہنما بھیجے ہم انہیں جانتے ہیں یا نہیں ، سب پر ہمارا ایمان ہے۔
برصغیر کی بعض شخصیتیں
برصغیر کی بعض شخصیتوں کے متعلق لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید وہ نبی ہوں کیونکہ اللہ نے تمام انبیاء کا ذکر تو کیا نہیں بلکہ ان کی اکثریت غیر معروف ہے۔ چناچہ برصغیر کے کرشن جی مہاراج ، رام چندر اور بدھ کے متعلق اللہ کے بنی ہونے کا گمان ہوتا ہے۔ ایران میں زرتشت ہوا ہے۔ جس کا زمانہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ کے قریب ہے۔ کرشن جی مہاراج آج سے تقریباً تین ہزار سال پہلے ہوئے ہیں۔ تاریخ میں ان کے صحیح صحیح واقعات نہیں ملتے اور نہ ان کی تعلیم کے متعلق کوئی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے۔ ہندوؤں نے جو چیزیں ان کی طرف منسوب کی ہیں ، ان میں تو کفر اور شرک پایا جاتا ہے ، جو ایک نبی کے ساتھ قطعاً مطابقت نہیں رکھتیں۔ مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی اصل تعلیم صحیح ہو۔ مگر بعد میں یہاں کے لوگوں نے اسے اسی طرح بگاڑ دیا ہو ، جس طرح یہود و نصاریٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بگاڑ کر کچھ سے کچھ کردیا ہے۔ بدھ کے نظریات کے متعلق جو کچھ ہم تک پہنچا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ منکر خدا تھا۔ وہ مسیح (علیہ السلام) سے بھی پانچ سو سال پہلے گزرا ہے ، ہو سکتا ہے ، وہ اللہ کا نبی ہو ، مگر بعد میں اس کی تعلیم کو بگاڑ دیا گیا ہو۔ بہرحال ان لوگوں کے اقرار یا انکار کے لیے ہمارے پاس کوئی قطعی دلیل نہیں ہے۔ ہمارا ایمان اس حد تک ہے کہ اللہ کے تمام انبیاء و رسل برحق تھے۔
ذی الکفل کا نام قرآن پاک میں موجود ہے مگر ان کے متعلق مزید تفصیلات کا علم نہیں۔ بعض مفسرین نے کفل کو کپل کی بستی سے منسوب کیا ہے جو کہ ہندوستان کے صوبہ بہار میں واقع ہے۔ مہاتما بدھ یہیں پیدا ہوا تھا مگر یہ محض گمان ہی ہے یقینی بات نہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ذی الکفل سے مراد وہ کفالت والے نبی ہیں جنہوں نے ایک شخص کی ضمانت دی تھی اور پھر اس ضمانت کی پاداش میں چودہ سال تک قید کاٹی اور اس واقعہ کی نسبت سے ان کا لقب ذی الکفل مشہور ہوگیا۔ واللہ اعلم۔
خدا تعالیٰ سے ہم کلامی
بہرحال انبیاء پر ایمان لانے کے لیے ان کی تفصیلات جاننا ضروری نہیں ان پر اجمالاً ایمان لانا ہی کافی ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی ایک خصوصیت کا ذکر کیا ہے وکلم اللہ موسیٰ تکلیماً اور موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے متعدد بار کلام کیا۔ چناچہ کوہ طور پر آپ کی اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کی بہت سی روایات موجود ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض انبیاء کو خصوصیت عطا فرمائی ، جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تکلم کی خصویت ہے۔ اسی طرح یہ خصوصیت حضور ﷺ کو بھی عطا کی گئی کہ آپ کو معراج کے موقع پر عالم بالا میں اللہ تعالیٰ کی رویت نصیب ہوئی۔ تو یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی خصویت بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کلام کیا۔
انداز و تبشیر
اللہ تعالیٰ نے فرمایا رسلاً مبشرین ہم نے خوشخبری دینے ولاے رسول مبعوث فرمائے۔ اور خوشخبری ایمان اور نیکی کی بنا پر حاصل ہوتی ہے فرمایا ” ان لہم قدم صدقٍ “ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا پایہ ہے تمہارے نیک اعمال کا بدلہ یقینا تمہیں ملے گا ، اللہ تعالیٰ تم پر راضی ہوگا ، تمہیں درجات ملیں گے اور نجات حاصل ہوگی۔ ومنذرین اللہ نے نبی بھیجے جو ڈرانے والے بھی ہیں۔ گویا انداز وتبشیر ہر نبی کی صفت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو یہ حکم دیا کہ اہل ایمان کو خوشخبری دے دو اور نافرمانوں کو بُرے انجام سے خبردار کرو۔ سورة مدثر میں حکم ہے اے نبی (علیہ السلام) ! ” قم فانذر “ آپ لوگوں کو ڈرائیں ، انہیں بتائیں کہ کفر ، شرک کا انجام کیا ہوگا۔ چناچہ حضور ﷺ نے اہل مکہ کو صفا پہاڑی پر جمع کیا ، اور ان سے تصدیق کرائی کہ آپ بالکل سچے ہیں۔ پھر فرمایا اگر یہ بات ہے توانی لکم نذیر بین یدی عذابٍ شدیدٍ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ ایک بڑا عذاب آنے والا ہے اس سے بچ جاؤ ۔ اگر ایمان نہیں لاؤ گے۔ تو یقینا بڑے عذاب میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ یہ سن کر مشرکین سخت سیخ پا ہوئے اور گالیاں دیتے ہوئے چلے گئے۔
فرمایا اللہ کے نبی لوگوں کو خوشخبری سناتے ہیں اور ڈراتے ہیں لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسول تاکہ رسول بھیجنے کے بعد اللہ کے سامنے لوگوں کے لیے کوئی حجت باقی نہ رہے۔ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں تو اللہ کے احکام کا علم نہیں ہوا ، اور جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ، کہ کوئی یہ نہ کہے ” ماجاء نامن بشیرٍ ولانذیرٍ “ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہ آیا۔ بلکہ ” فقد جاء کم بشیرٌ ونذیرٌ “ تمہارے پاس تبشیر و انداز کرنے والے آ چکے۔ انہیں بھیج کر اللہ نے اپنی حجت پوری کردی ہے اب تمہارے پاس لاعلمی کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ اس کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لے آؤ ۔ اسی میں تمہاری نجات ہے۔
سامانِ ہدایت
مفسر قرآن امام بیضاوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے تمام سامان اپنی مخلوق کو مہیا کر کے اپنی حجت تمام کردی سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حواس خمسہ دیے ، عقل و شعور کی دولت دی۔ پھر رسول بھیجے جو لوگوں کے لیے عملی نمونہ تھے۔ اس کے ساتھ اللہ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے کتابیں نازل فرمائیں۔ اس طرح اللہ نے ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیے تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہہ سکے ، کہ مجھے پتہ نہیں چلا ، اور نہ میں ایمان لے آتا ، میں نے کوئی نشانی نہیں دیکھی یا میرے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں پہنچا ، ان تمام ذرائع ہدایت کے باوجود جو لوگ گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے وکان اللہ عزیزاً حکیماً اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک وہ سزا اور جزا دینے پر قادر ہے۔ اور وہ حکیم ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ لہٰذا اس کے احکام پر عمل کرنے سے فلاح حاصل ہوگی۔
Ayahs 4:166–170ربط آیات
گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے کہ ” یسئلک اھل الکتب “…الخ یعنی یہودی آپ پر سوال کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکمل کتاب کیوں نہیں لاتے ، جیسا کہ موسیٰ (علیہ السلام) لائے۔ اس اعتراض کے اللہ تعالیٰ نے دو طریقوں سے جواب دیتے ہیں۔ پہلا جواب الزامی تھا اور حضور ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا ، کہ یہ لوگ ضدی اور عنادی ہیں ، ان کا مقصود ہر حالت میں یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں اور قرآن پاک پر ایمان نہ لایا جائے یہ ان کی قومی عاد ت ہے انہوں نے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بھی سوال کیا تھا کہ ہم ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بدسلوکی کا تذکرہ بھی کیا ان کی والدہ پر زنا کا الزام لگایا اور خود انہیں قتل کرنے کی سازش کی۔
یہودیوں کے اعتراض کا دوسرا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا ” انا اوحینا الیک “… الخ یعنی ہم نے آپ پر بھی اسی طرح وحی نازل فرمائی ہے۔ جس طرح آپ سے پہلے نوح (علیہ السلام) اور ان کے بعد آنے والے انبیاء (علیہم السلام) پر وحی نازل کی گئی اس استدلال سے مقصود یہ تھا کہ تمام انبیاء و رسل پر نزول وحی کی نوعیت یکساں ہے تو پھر کیا ہے کہ یہ لوگ پہلے انبیاء کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر آپ کی نبوت کا انکار کر رہے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح تمام انبیاء کو ان کی کتابیں یک مشت نہیں دی گئیں۔ بعض پیغمبروں پر وقتاً فوقتاً وحی نازل ہوتی رہی اور تھوڑی تھوڑی کر کے کتابیں نازل ہوئیں۔ اسی طرح نبی آخر الزمان پر بھی وقفے وقفے سے وحی نازل ہو کر کتاب کی تکمیل ہوتی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو یکشمت نازل نہ کرنے کی حکمت بھی سورة فقران میں بیان فرمائی ” کذلک لنثبت بہ فوادک ورتلنہ ترتیلاً “ قرآن پاک کا تدریجاً نزول آپ کے دل کی پختگی کے لیے ہے۔ جو شخص سبقاً سبقاً تعلیم حاصل کرتا ہے اس میں پختگی پیدا ہوتی ہے اور وہ بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیتا ہے ، سب کچھ یکدم پڑھنے سے اچھی طرح یاد نہیں ہو سکتا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا تاکہ یہ اچھی طرح ذہن نشین ہو کر قیامت تک کے لیی مشعل راہ بن سکے۔ تھوڑا تھوڑا پڑھنے میں یہ سہولت بھی ہوتی ہے کہ اس دوران پیدا ہونے ولاے شکوک و شبہات کی تشریح بھی ہوتی رہتی ہے اور اس طرح انسانی ذہن اسے مکمل طور پر قبول کرلیتا ہے۔ قرآن پاک کے نزول کا یہ تدریجی عمل تیئس سال میں مکمل ہوا۔
باقی انبیا (علیہم السلام) پر بھی فوقتاً فوقتاً وحی نازل ہوتی رہی ہے ان میں سے بعض انبیاء کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کردیا ہے اور بعض کا نہیں کیا ، اس کی تفصیلات بھی گزشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے۔ بہرحال تمام انبیاء و رسل پر اجمالی طور پر ایمان لانا ضروری ہے اگرچہ قابل عمل شریعت آخری نبی کی آخری شریعت اور اللہ کی آخری کتاب ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ سارے نبی مبشر اور منذر ہوتے ہیں۔ لوگوں کو نیکی پر خوشخبری سنانا اور برائی کے انجام سے ڈرانا ان کے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے تاکہ کل قیامت کو کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ اسے اللہ تعالیٰ کے احکام کا علم نہیں ہوسکا ، بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم اور بستی کی طرف انبیا بھیج کر ان پر اپنی حجت تمام کردی۔
لغت نبی آخر الزمان
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک گروہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا ، مجھے یقین ہے کہ تم مجھے اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہو مگر اس کا اظہار کیوں نہیں کرتے ؟ یہودی اپنے پرانے تعصب اور عناد کی وجہ سے کہنے لگے ، بخدا ! ہم نہیں جانتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ ہم آپ میں رسولوں والی کوئی علامت نہیں پاتے۔ اسی طرح ایک موقع پر مشرکین نے بھی یہودیوں سے کہا کہ تم لوگ اہل علم ہو۔ بھلا بتاؤ کیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلّم دعویٰ نبوت میں سچے ہیں ؟ وہاں پر بھی انہوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور آپ میں پائی جانے والی علاماتِ نبوت کا صاف انکار کر گئے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اس ضد کا تذکرہ مختلف مقامات پر کیا ہے کہ یہ لوگ نبی آخر الزمان کو اچھی طرح پہچاننے کے باوجود آپ کی رسالت کا مسلسل انکار کرر ہے ہیں۔ حالانکہ آپ کی علامات ان کی اپنی کتابوں میں ابھی تک موجود ہیں اگرچہ ان کتابوں میں بہت سی تحریف ہوچکی ہے۔ ان میں حسد کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا آخری نبی بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں کیوں آیا ہے۔ اس اعتراض کا جواب بھی قرآن کے مختلف مقامات پر آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ تو قائم نہیں کر رکھا تھا کہ تمام کے تمام انبیاء انہی کے خاندان سے آئیں گے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ ” یختص برحمتہ من یشائ “ وہ جیسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے مخصوص کرلیتا ہے اس میں کسی کی خواہش اور آرزو کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں یہ بات ازل سے طے ہوچکی تھی کہ نبی آخر الزماں بنی اسماعیل میں سے آئے گا اور اس کا تذکرہ خود تورات میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا تھا کہ میں تیرے بھای بندوں میں ایک رسول برپا کروں گا جس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہی بات نزول قرآن کی ابتدائی سورتوں میں بھی بیان فرما دی ” انا ارسلنا الیکم رسولاً شاہداً علیکم کما ارسلنا الیٰ فرعون رسولاً “ ہم نے تمہاری طرف اسی طرح رسول مبعوث فرمایا جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کی طرف بھیجی یہی چیز تورات میں بھی بیان کی گئی ہے مگر یہودی اس کو بھی چھپا جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں ان کے کتمانِ حق کی قلعی اس طرح کھولی ہے۔ ” الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوباً عندہم فی التورنۃ والانجیل “ یہ لوگ نبی آخر الزمان کا لقب ” اُمی “ اور۔ آپ کی نشانیاں اپنی کتابوں میں موجود پاتے ہیں ، اسکے باوجود ایمان نہیں لاتے بلکہ مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ ایک موقع پر مشرکین مکہ نے یہودیوں سے پوچھا تھا کہ یہ بتاؤ ، ہمارا دین اچھا ہے یا وہ دین جو محمد صلی اللہ علیہ وسلّم پیش کرتے ہیں تو انہوں نے اس وقت بھی اپنی دیرینہ خباثت کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا تھا کہ تمہارا دین بہتر ہے۔ پہلے سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے ” یعرفونہ کما یعرفون ابناء ہم “ یعنی یہ لوگ حضور ﷺ کو اپنی اولاد کی طرح پہچانتے تھے مگر یہ لوگ عناد اور ضد کی وجہ سے آپ پر ایمان نہ لائے۔
قرآن کی حقانیت
اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! یہ لوگ قرآن پاک کی حقانیت تسلیم کریں یا نہ کریں لکن اللہ یشھد بما انزل الیک مگر اللہ تعالیٰ اس چیز کی گواہی ضرور دیتا ہے جو آپ پر نازل ہوئی ہے قرآن پاک کی سچائی کی ایک دلیل یہ بھی ہے انزلہ بعلمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے علم کے ساتھ اتارا ہے۔ علم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے کہ وہ علیم کل ہے۔ ابو عبدالرحمن سلمی (رح) حدیث کے راوی اور بڑے بزرگ آدمی ہوئے ہیں۔ ان کے متعلق امام ابن کثیر (رح) نے نقل کیا ہے کہ جب ان کے سامنے کوئی شخص قرآن پاک کی تلاوت کرتا تو کہتے اخذت بعلم اللہ تم نے اللہ تعالیٰ کا علم حاصل کرلیا ہے۔ اب تم سے افضل دنیا میں کوئی نہیں الابعملٍ ہاں جو اس پر عمل کریگا ، وہ تجھ سے بہتر ہوگا ، مقصد یہ کہ قرآن پاک اللہ کا علم ہے جس نے اسے حاصل کرکے اس پر عمل کیا وہ افضل ترین آدمی ہے۔ اس عظیم کتاب کے مطابق اللہ نے فرمایا قسم ہے اس عزت والے قرآن کی نیز یہ بھی فرمایا ! اے پیغمبر ! بیشک یہ کتاب آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے باعث شرف ہے اور یہی وہ چیز ہے جسے اللہ نے اپنے علم کے ساتھ نازل کیا۔
آگے فرمایا والملیکۃ یشھدون اللہ کے فرشتے بھی اس کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ مقدس مخلوق ہے جس کی تعداد خود اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ موجود ہے ” قل ای شیً اکبر شہادۃ قل اللہ شہیداً بینی وبینکم “ سب سے بڑی گواہی تو خدا تعالیٰ کی ہے۔ خدا تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ سچی کتاب ہے۔ توحید کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی گواہی کا ذکر آتا ہے۔ یعنی اللہ ، اس کے فرشتے اور انصاف پر قائم رہنے والے صاحب عقل لوگ بھی گواہی دیں گے کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح قرآن پاک کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ کی گواہی اللہ تعالیٰ نے اپنی یہ آخری کتاب اپنے آخری نبی پر اپنے علم سے اتاری۔ اس کے علوم ، معارف اور حقائق کا ذخیرہ اتنا وسیع ہے کہ بڑے سے بڑا انسان بھی اس کی کسی چیز پر حاوی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ یوں کہیں کہ پروردگار ! میرے علم میں اضافہ فرما
کفار کی گمراہی
قرآن پاک کی حقانیت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ذرا کفار کا حال بھی سن لیجئے۔ ان الذین کفروا جن لوگوں نے کفر کیا اور کفر کا معنی انکار ہے جو کہ بدترین چیز ہے۔ جس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی کتاب ، اس کے ملائکہ ، اس کے انبیاء اس کی صفت یا قیامت کا انکار کیا۔ اور اس سے مراد یہودی ہیں جو صاف کہتے ہیں کہ ہم نبی آخر الزمان کو نہیں پہچانتے گویا آخری نبی اور آخری شریعت کا نہ صرف خود انکار کرتے ہیں بلکہ وصداواعن سبیل اللہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں مختلف قسم کی سازشیں کرتے ہیں کہ کس طرح لوگ اسلام قبول نہ کریں۔
راستے کا پتھر
اس آیت کریمہ میں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے کہ وہ خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی قبولیتِ حق سے روکتے ہیں۔ مگر آج جب ہم اپنے گردو پیش پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آج خود مسلمان اسلام کے راستے میں سب سے بڑا پتھر ہے۔ انگریز نو مسلم محمد پکھتال (رح) نے مدارس میں اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ میرا دنیا بھر کا مشاہدہ ہے کہ خود مسلمان اسلام کے راستے کا سنگ گراں ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر مسلمان توحید کے بجائے شرک اور سنت کے بجائے بدعت پر عمل پیرا ہونگے ، کفر کے شعار کو اپنائیں گے تو لوگ اسلام سے متنفر نہیں ہوں تو کیا ہوگا۔ مسلمان کے لیے تو لازم تھا کہ وہ اسلام کی حفاظت کرتا۔ جاپان کے ایک نو مسلم پروفیسر ہشام سے دریافت کیا گیا کہ تمہارے اسلام لانے کی کیا وجہ بنی ، تو کہنے لگا ، میں مسلمانوں کے کردار کو دیکھ کر مسلمان نہیں ہوا ، بلکہ خوش قسمتی سے مجھے قرآن پاک کا نسخہ میسر آ گیا جسے پڑھ کر مجھے یقین آ گیا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ البتہ مسلمان خود جھوٹے ہیں۔
منکرین کے لیے سزا
فرمایا ان الذین کفروا و ظلموا جن لوگوں نے انکار کیا اور زیادتی کی۔ کفر و شرک کا راستہ اختیار کیا اللہ تعالیٰ ان کو معاف نہیں کریگا اور نہ ان کو راستہ بتلائے گا جب تک کوئی شخص فسق و فجور میں مبتلا ہو ، باطل طریقے پر اڑا ہوا ہو۔ اسے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل نہیں ہوسکتی۔ بلکہ الا طریق جہنم اسے تو جہنم کا راستہ ہی میسر آئے گا۔
ایما ن بالرسول
یہودیوں کا کردار بیان کرنے کے بعد اگلی آیات میں نصاریٰ کا ذکر بھی آ رہا ہے۔ البتہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے پوری بنی نوع انسان کو خطاب کیا ہے خواہ اس کا تعلق کسی مذہب اور عقیدے سے ہو۔ ارشاد ہوتا ہے اے لوگو ! تمہارے پاس اللہ کا رسول حق بات لے کر آ گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے۔ پس ایمان لے آؤ کہ اسی میں تمہاری بھلائی ہے۔ اللہ کا آخری رسول تمہارے پاس اللہ کا آخری پیغام (قرآن پک) لیکر آیا ہے۔ جو تمہاری فلاح کا حتمی پروگرام ہے اگر اس پروگرام پر عمل پیرا ہوجاؤ گے تو دنیا میں بھی کامیابی نصیب ہوگی اور آخرت کی فلاح تو بہرحال تمہارے مقدر میں ہے ۔ مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ پیغمبر (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی چیز کا ماننا فرض ہے اور اس کا انکار کفر ہے۔
Ayah 4:171ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب میں سے یہود کا ذکر آ رہا ہے انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو پھر اللہ کی کتاب آپ پر یکمشت کیوں نہیں نازل ہوئی ، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے الزامی جوابات دیے پھر فرمایا کہ جس طرح باقی انبیاء پر وحی نازل ہوتی رہی ہے اسی طرح نبی آخر الزمان پر ہوتی ہے اور تمام انبیاء پر اکٹھی کتاب نازل نہیں ہوئی ، جب تم ان تمام انبیاء پر ایمان لاتے ہو تو پھر اس آخری نبی پر کیوں ایمان نہیں لاتے۔ جو شخص وحی الٰہی کا انکار کرتا ہے وہ کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور یہودی
اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق یہودیوں کا کیا عقیدہ تھا اور انہوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ سب سے پہلی بات تو یہ تھی کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ الٹا آپ کی والدہ پر زنا کا الزام لگایا (العیاذ باللہ) اور آپ کو ولد الزنا کہا گیا۔
پھر جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں اللہ کا پیغام پہنچانا شروع کیا ، تو وہ لوگ آپ کے جانی دشمن بن گئے انہوں نے آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دیں اور آخر میں سولی پر لٹکانے کی کوشش بھی کی مگر اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔
غیر تدریجی ولادت
اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ بیشک مسیح ، عیسیٰ ابن مریم اللہ کے رسول ہیں۔ وکلمتہ اور اللہ کا کلمہ ہیں۔ القہا الی مریم جس کلمے کو اللہ نے مریم کی طرف ڈالا۔ اس کی تفصیل سورة مریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” فارسلنا الیھا روحنا قتمثل لھا بشراً سویا “ ہم نے انسانی شکل میں اپنا فرشتہ بھیجا۔ سورة انبیا میں فرمایا فنفخنا فیھا من روحنا پھر اس میں ہم نے اپنی روح پھونکی۔ فرشتے کے حضرت مریم کے آستین میں پھونک مارنے سے آپ کو حمل ٹھہر گیا۔ اگرچہ یہ پھونک فرشتے نے ماری تھی مگر چونکہ یہ اللہ کے حکم سے تھی ، اس لیے اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کیا کہ ہم نے پھونک ماری۔ اور پھر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت کے لیے نو ماہ کا عرصہ نہیں گزرا تھا ، بلکہ پیٹ میں فوراً بچہ بن گیا تھا۔ امام جزری (رح) نے المثل السائر میں لکھا ہے۔ فحملت بہ حضرت مریم پھونک مارنے سے حاملہ ہوگئیں ، فوراً بچہ بن گیا ، انہیں درد زہ محسوس ہوا اور مکان شرقیہ میں چلی گئیں اور اسی وقت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت ہوگئی۔ کلمۃ سے مراد اللہ کا کلام یا اس کا حکم ہے ، کیونکہ اللہ کے حکم سے فرشتے نے پھونک ماری تھی۔
مسلمانوں کا غلو
عیسائیوں کے تجاوز کا ذکر ہوگیا ، اس کی روشنی میں جب ہم اپنے آپ پر نظر مارتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اسی غلو کا شکار ہوچکی ہے۔ اولیاء اور اموں کو نبیوں کے منصب تک پہنچانے والے کون لوگ ہیں اور انبیاء کو الوہیت کا مرتبہ دینے ولاے بھی مسلمان ہی ہیں۔ قبروں پر بڑے بڑے گنبد بنانا اور پھر ان قبروں پر چادریں اور چڑھاوے چڑھانا اسی غلو کا نتیجہ ہے میلاد کی جھنڈیاں اور جلوس تعزیے اور ذوالجناح دین کی حدود سے تجاوز کا نتیجہ ہیں۔ بھائی ! بزرگان دین کی تعظیم بھی کرنی ہے تو حد سے نہ بڑھو ، یہی غلو فی الدین ہے یہی چیز ہے جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر کفر شرک میں مبتلا ہوجاؤ گے ، بدعت جاری کر دو گے۔ خود فرقہ بندی دین میں غلو کا نتیجہ ہے ۔ نصاریٰ غلو فی الدین کی وجہ سے گمراہ ہوئے اور یہودی اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے راہ راست سے بھٹک کر کفر میں مبتلا ہوگئے۔ آگے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق مزید بیان آ رہا ہے۔
Ayahs 4:172–175ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے کفرکا تذکرہ کیا۔ خصوصاً یہودیوں نے انبیاء کی نبوت کا انکار کیا اور دیگر بڑے بڑے جرائم کا ارتکاب بھی کیا ، عیسائیوں نے دین میں تجاوز کیا اور اللہ کے بندے مسیح (علیہ السلام) کو معبود مانا پھر ان کے کئی فرقے بن گئے ، کوئی ابنیت کے عقیدے کا قائل ہوا ، کس ینے تثلیث کو اپنا لیا اور کوئی انسانوں میں اللہ کے حلول کو تسلیم کر بیٹھا۔ اللہ نے فرمایا۔ یہ سب باطل عقیدے ہیں اللہ کی ذات اولاد سے پاک ہے اس کے لیے بیٹا ہونا عیب کی بات ہے۔ اولاد ہونامخلوق کی صفت ہے اگر یہی صفت اللہ تعالیٰ میں مانی جائے تو وہ بھی مرکب اور حادث بن جائے گا حالانکہ خدا قدیم اور ازلی ہے اس نے کسی کو بیٹا بنایا بھی نہیں کیونکہ یہ احتیاج کی دلیل ہے ، اللہ غنی اور صمد ہے ، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ سب اس کے محتاج ہیں۔
Ayah 4:176ربط آیات
سورۃ نساء جن مضامین پر مشتمل ہے ، ان میں انسانی حقوق کو اولیت حاصل ہے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے کمزور طبقات یعنی یتیم بچوں اور عورتوں کے حقوق کا تذکرہ کیا ہے۔ اس میں معاشرتی حقوق اور نکاح کے مسائل بیان ہوئے ہیں محرمات نکاح کا ذکر ہے اور پھر حقوق ہی کے ضمن میں وراثت جیسا اہم مسئلہ تفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ سورة کی ابتداء میں بھی وراثت کے احکام آئے ہیں اور یہ آخری آیت بھی اس یہ مسئلہ سے تعلق رکھتی ہے م سئلہ وراثت کا یہ اہم جزو پہلے حصے میں بیان ہونے سے رہ گیا تھا ، جو اس آخری حصے میں سمجھا دیا گیا ہے۔ سورة کے درمیانی حصہ میں بعض دیگر مسائل بھی آگئے ہیں۔ ان میں توحید ، کفر اور شرک کی تردید ، اہل کتاب کی ضد اور عناد ، ان کے اعتراضات اور جوابات بھی بیان ہوگئے ہیں ۔ آج کی آخری آیت مسئلہ وراثت ہی کا تتمہ ہے بعض صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے کلالہ کی ورثابت کا مسئلہ دریافت کیا تھا ، جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
مرد کلالہ کی وراثت
جیساکہ پہلے عرض کیا ہے۔ کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کی صور ت میں وراثت کے حصوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، کلالہ خواہ مرد ہو یا عورت۔ مگر جب تقسیم کلالہ کے حقیقی یا علاتی بہن بھائیوں کے درمیان مقصود ہو ، تو مرد کلالہ اور عورت کلالہ کے مسائل مختلف ہیں۔ اس آیت کریمہ میں موخر الذکر حصص بیان کیے گئے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے یسئلوناک اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ اس حصہ آیت میں فتویٰ کی نوعیت کا ذکر نہیں ہے بلکہ اس کا ذکر جواب میں بیان کردیا گیا ہے ، چناچہ اس جواب کی روشنی میں یسئلونک کا معنی یہ ہوگا کہ یہ لوگ آپ سے کلالہ کی وراثت کا مسئلہ دریافت کرتے ہیں۔ جواباً فرمایا قل اللہ یفتیکم فی الکللۃ آپ کہہ دیجئے ، اللہ تم کو فتویٰ دیتا ہے کلالہ کے بارے میں۔ اور وہ یوں ہے ان امروا ھلک لیس لہ ولدٌ اگر ایسا آدمی فوت ہوجائے جس کی اولاد نہ ہو ، اور اس کے اصول یعنی باپ دادا وغیرہ بھی موجود نہ ہوں۔ بلکہ ولہ اُختٌ مرنے والے کی صرف ایک بہن ہو ، خواہ حقیقی ہو یا علاتی فلھا نصف ماترک تو اس کے لیے کل وراثت کا نصف حصہ ہے۔ رہا باقی نصف مال تو اس کے لیے دیگر رشتہ دار مثلاً چچا ، تایا یا چچا زاد بھائی کو تلاش کیا جائیگا۔ مگر بعض فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ ساری کی ساری جائیداد اس ایک بہن کو ملیگی ، نصف حصہ تو اللہ نے مقرر کردیا ہے لہٰذا یہ اسے صاحب فرض ہونے کی حیثیت سے ملے گا اور باقی نصف بطور عصبہ لے جائیگی ، کیونکہ میت کی عصبہ بھی وہی بہن ہے۔
عورت کلالہ کی وراثت
اور اگر مرنے والی عورت ہے جس کی نہ اولاد ہے اور نہ ماں باپ ، اور اس کا صرف ایک بھائی ہے تو فرمایا و ھو یرثھا ان لم یکن لھا ولدٌ وہ بھائی ساری جائیداد کا واحد وارث ہوگا۔ ایسی وراثت میں مزید کسی رشتہ دار کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
اور اگر کلالہ (مرد یا عورت) کی دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں فان کانتا اثنتین فلھما الثدثن مماترک تو کل ترکہ میں سے ان کا دوتہائی حصہ ہوگا۔ یہ حصے بالکل حقیقی بیٹوں کی طرح ہیں کہ اگر مرنے والے کی ایک بیٹی ہو تو وہ آدھے حصے کی مالک ہوتی ہے اور اگر دو یا دو سے زیادہ ہوں تو ان کو دوتہائی مال تقسیم ہوجاتا ہے۔
فرمایا و ان کانوا اخوۃً رجالاً و نساء اور اگر کلالہ کے بہن بھائی ملے جلے ہوں تو حقیقی بیٹے بیٹیوں کی طرح فللذکر مثل حظ الانثین کی رو سے ایک مرد کو دو عورتوں کے برابر حصہ ملے گا یعنی بھائی کا حصہ بہن سے دوگنا ہوگا۔ ایک بہن کو ایک روپیہ ملا ہے تو بھائی کو دو روپے ملیں گے۔
یہ مسئلہ بیان کرنے کے بعد فرمایا یبین اللہ لکم ان تضلوا اللہ تعالیٰ واضح طور پر بیان کرتا ہے تاکہ تم احکام الٰہی کو اچھی طرح سمجھ جاؤ اور کوئی غلطی کرکے گمراہ نہ ہوجاؤ ۔ ان تضلوا میں لامخدوف ہے۔ اللہ تعالیٰ مسائل کی وضاحت اس لیے فرماتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو جات بلکہ تم ہدایت کے راستے پر چلتے رہو۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں کرامۃً محذوف ہے اور پورا جملہ یوں بنتا ہے کر اہۃ ان تضلوا یعنی اللہ تعالیٰ اس چیز کو ناپسند فرماتا ہے کہ تم گمراہ ہوجاؤ ۔ فرمایا واللہ بکل شیء علیمٌ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ وہ تمہارے ناقص علم سے بھی واقف ہے اس لیے اس نے تمام مسائل کی وضاحت فرما دی ہے۔
قدرت اور علم خداوندی
سورۃ ہذا کے ابتدائی حصے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت کا تذکرہ فرمایا تھا۔ یایھا الناس اتقوا ربکم الدی خلقکم من نفسٍ واحدۃٍ یعنی اس اللہ سے ڈر جاؤ جو کمال قدرت کا مالک ہے۔ یہ اس قدرت کا شاہکار ہے کہ اس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا اور پھر کروڑوں بلکہ اربوں مرد و زن دنیا میں پھیلا دیے۔ اور اب سورة کے آخری حصے میں واللہ بکل شیء علیمٌ فرما کر اپنے علیم کل ہونے پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ کمال دقرت کا مالک بھی وہی ہے اور کمال علم کا مالک بھی وہی خداوندِ قدوس ہے اس نے انسان کو گمراہی سے بچنے کے لیے تمام سامان مہیا کردیے ہیں۔ وہ ہر شخص کے خیر و شر سے واقف ہے۔ وہ کسی نیکوکار کے اچھے اجر میں کوئی کمی نہیں کریگا اور نہ اپنے سرکش کے محاسبے میں کوئی کسر چھوڑے گا۔ محاسبے کا عمل شروع ہونے والا ہے ، اسی لیے فرمایا ” واتقوا اللہ “ اللہ سے ڈر جاؤ ۔ ” الذی تسائلون بہ والا رحام “ کہ تم اس کے واسطے سے سوال کرتے ہو۔ اور قرابتداروں سے خبردار رہو۔ ان کے حقوق کا خیال رکھو اگر کسی کے حقوق کو پامال کیا تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آ جاؤ گے۔
واللہ اعلم بالصواب و صلی اللہ تعالیٰ علی سیدنا محمد والہ و اصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین