3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:1–6

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں (کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہی ہے زندہ تھامنے والا۔

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے تمہاری طرف حق کے ساتھ کتاب اتاری ہے ، تصدیق کرنیوالی ہے انکی جو اس سے پہلے ہیں۔ اور اس نے اتاری ہے تورات اور انجیل۔

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

اس سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے ، اور نازل کیا اس نے فرقان (فیصلہ کرنے والی بات) بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اللہ کی آیتوں کے ساتھ ، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور للہ تعالیٰ غلبے والا۔ انتقام لینے والا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز مخفی نہیں ، زمین میں اور نہ آسمان میں۔

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہ وہی ہے جو تمہاری تصویر بناتا ہے (نقشہ بناتا ہے) رحموں کے اندر جس طرح چاہے۔ کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کے سوا۔ وہی ہے کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا۔

نام اور کوائف : سورۃ کا نام آل عمران ہے۔ چونکہ اس سورة میں عمران کی اولاد کا ذکر ہے اس لیے اس کا نام آل عمران ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح پہلی سورة میں بقرہ یعنی گائے کا ذکر ہے ، تو اس کا نام سورة بقرہ ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، کہ عمران دو ہیں۔ ایک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم (علیہا السلام) کے والد۔ چونکہ اس سورة میں زیادہ تر حضرت مریم ؓ اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے یہاں پر عمران سے مراد حضرت مریم ؓ کے والد ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد بھی پیغمبر نہیں تھے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی پیغمبر نہیں۔ البتہ یہ دونوں حضرات نیک ، صالح اور ایماندار تھے تاہم حضرت مریم کے والد عمران بیت المقدس کے امام تھے۔ ہاں ! حضرت مریم کے خالو حضرت زکریا (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے۔ زمانہ نزول : یہ سورة مدنی ہے کیونکہ ہجرت کے بعد نازل ہوئی۔ ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ ہجرت سے پہلے نازل ہونے والی سورتیں مکی کہلاتی ہیں۔ اس سورة میں نجران کے اس عیسائی وفد کا ذکر ہے۔ جو حضور ﷺ سے بحث مباحثہ کے لیے فتح مکہ سے اگلے سال یعنی سن 9 ہجری میں مدینے آیا تھا۔ لہذا اس کا زمانہ نزول سن 9 ہجری ہے۔ البتہ اس سورة میں جنگ بدر اور جنگ احد کا ذکر بھی ہے۔ اس لیے بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا زمانہ نزول سن 4 ہجری تا سن 9 ہجری ہے۔ بعض آیات سن 9 ہجری سے پہلے نازل ہوئی ہیں اور بعض اس سال میں۔ تاہم اس سورة کا زیادہ تر حصہ سن 9 ہجری میں نازل ہوا۔ تفسیر تنویر جو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی طرف منسوب ہے اور جسے امام فیروز آبادی نے مرتب کیا ہے۔ اس کے مطابق سورة آل عمران کا نزول سورة انفال کے بعد ہوا ہے۔ مرکزی مضمون : سورة انفال میں بدر وغیرہ کے واقعات مذکور ہیں اور جیسا کہ عرض کیا گیا تھا کہ سورة بقرہ کا خاص مضمون یہود کی اصلاح اور اس کے ساتھ اہل ایمان کے لیے ضروری احکام ہیں جن کے ذریعہ حصول تقویٰ کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ نظام خلافت کبریٰ کا مفصل بیان ہے۔ اس سورة میں روئے سخن زیادہ تر نصاری کی طرف ہے اور اہل ایمان کے لیے ضروری احکام بھی ہیں۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة کی ابتدائی 83 آیتوں میں عیسائیوں کے باطل عقیدہ کا رد ہے۔ اور ضمناً بہت سی دوسری باتیں بھی بیان ہوئی ہیں۔ توحید کا مسئلہ اور اس کے عقلی و نقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اس کے علاوہ قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا تذکرہ ہے۔ پہلی سورة میں جو بعض باتیں اجمالاً ذکر کی گئی تھیں۔ ان کا تفصیلی ذکر ہے جیسے وہاں پر شہداء کا ذکر اجمالی تھا ، یہاں تفصیل کے ساتھ ہوگا۔ وہاں پر رسولوں کا ذکر اجمالی تھا ، اب تفصیل کے ساتھ آئے گا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے تذکرے سورة بقرہ میں اجمالی تھے ، اب ان کا مفصل تذکرہ آئے گا ، سورة بقرہ کے آخر میں ایمانیات کا تذکرہ تھا۔ امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون۔ کل امن باللہ و ملائکتہ و کتبہ ورسلہ۔ اس سورة مبارکہ میں ابتداء ہی سے توحید کا مسئلہ بیان ہوا ہے۔ نجران کا وفد : یمن کے نجران کا عیسائی وفد ساٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ جن میں چودہ سر کردہ آدمی اور تین سردار تھے۔ ان میں عبدالمسیح عاقب امارت اور سیادت کے لحاظ سے اعلی حیثیت کا مالک تھا۔ ایہم السید عقلمندی اور تدبیر میں کامل تصور کیا جاتا تھا اور تیسرا شخص ابو حارثہ ابن علقمہ مذہبی اعتبار سے ایک جید عالم ، پادری ، وقیع اور معزز شخص تھا۔ یہ آدمی در اصل عربوں کے مشہور قبیلہ بکر بن وائل سے تعلق رکھتا تھا۔ اس قبیلہ نے عیسائی مذہب اختیار کرلیا تھا۔ روم کے عیسائی بادشاہ نے انہیں جاگیر بخش رکھی تھی۔ ان کی بڑی قدر و منزلت کرتا تھا۔ روم کے عیسائی بادشاہ نے انہیں جاگیر بخش رکھی تھی۔ ان کی بڑی قدر و منزلت کرتا تھا۔ انہیں ایک بہت بڑا گرجا بنا کردیا تھا۔ مورخین کے اقوال ، سیرت کی کتابوں اور ذخیرہ احادیث سے وفدِ نجران کی آمد کے دو مقاصد سمجھ میں آتے ہیں۔ پہلا مقصد تو سیاسی تھا یہ وہ زمانہ تھا جب مکہ فتح ہو کر عرب کی پوری سرزمین اور یمن کے کچھ علاقے بھی مسلمانوں کے تسلط میں آ چکے تھے اور نجران کے یہ عیسائی بھی مسلمانوں سے خائف تھے۔ ادھر مدینہ طیبہ کے گرد یہودیوں کی اکثریت تھی۔ جن میں تین خاندان بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ بڑے متعصب یہودی تھے۔ سود خور اور سازشی ذہن کے حامل تھے۔ ان کی اسی خباثت کی وجہ سے ان میں سے دو قبیلوں یعنی بنو نضیر اور بنو قینقاع کو جلا وطن کردیا گیا تھا۔ تیسرے قبیلہ بنو قریظہ کا فیصلہ جنگ خندق کے بعد کیا گیا تھا۔ ان لوگوں نے اس جنگ میں مسلمانوں کے ساتھ غداری کی تھی۔ چناچہ جنگ کے بعد ان کا مسئلہ پیش ہوا۔ کہ وہ اپنی سزا خود ہی تجویز کریں۔ انہوں نے حضرت سعد بن معاذ کو اس سلسلے میں حکم تسلیم کیا ، جنہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان کے تمام مردوں کو جن کی تعداد چار سو یا چھ سو تھی قتل کردیا جائے ، ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے ، اور ان کے اموال مسلمانوں میں تقسیم کردیے جائیں۔ چناچہ اس فیصلے پر عمل کرکے ان کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا گیا۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ سعد کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہے۔ ان تاریخی واقعات سے نجران کے عیسائی سخت خائف تھے کہ کہیں مسلمان ان کے ساتھ بھی یہودیوں جیسا سلوک نہ کریں۔ لہذا انہوں نے اس وفد کے ذریعے مسلمانوں سے صلح کرنے اور ان سے امان حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اور جزیہ ادا کرکے مسلمانوں کے زیر تسلط اپنے ہی علاقے میں آباد رہنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وفد نجران کی آمد کا دوسرا بڑا مقصد عیسائیت کی تبلیغ تھا۔ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق ان کا عقیدہ تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں یا تین خداؤں میں سے تیسرے ہیں یا وہ خود خدا ہیں۔ اس عقیدے پر وہ حضور ختم المرسلین ﷺ سے بحث مباحثہ کرنا چاہتے تھے۔ اس کا ذکر آگے سورة میں صریح الفاظ میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ فان حاجوک۔ اگر یہ آپ سے جھگڑا کریں۔ تو پہلے نرم طریقہ سے ان کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ فقل اسلمت وجہی للہ و من اتبعن۔ یعنی میں اور میرے پیروکاروں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے سونپ دیا ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ آپ کی دعوت کو قبول نہ کریں۔ اور آپ سے مسلسل جھگڑا کریں۔ فقل تعالوا ندع ابناءنا و ابناء کم و نساءنا و نساء کم و انفسنا و انفسکم ۔ ثم نبتہل فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین۔ تو پھر ان کو دعوت مباہلہ دے دیں۔ اور اعلان کردیں کہ آؤ تم بھی اپنی اولاد اور عورتوں کے ساتھ میدان میں نکل آؤ اور اگر پھر بھی اسی طریقے سے آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا کریں۔ اور جھوٹے پر خدا کی لعنت کریں۔ مگر آپ کے اس چیلنج کو عیسائیوں نے قبول نہ کیا۔ اس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔ بہرحال عیسائیوں کا دوسرا مقصد حضور ﷺ سے بحث و مباحثہ کرنا تھا۔ موضوع بحث : چونکہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الٰہ مانتے تھے۔ لہذا اس بحث مباحثے کا موضوع بھی مسئلہ الوہیت قرار پایا۔ چناچہ حضور ﷺ نے ان کے سامنے الوہیت کی چار صفات بیان کرکے دریافت کیا کہ کیا یہ صفات عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھی پائی جاتی ہیں۔ فرمایا کیا عیسیٰ (علیہ السلام) ازلی اور ابدی ہیں جن کو کبھی فنا نہیں۔ تو عیسائیوں نے اقرار کیا۔ کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو حیات سرمدی حاصل نہیں۔ حضور ﷺ نے دریافت کی۔ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور کیا ان سے کوئی چیز مخفی نہیں ؟ عیسائیوں نے اس کا جواب بھی نفی میں دیا۔ آپ نے تیسرا سوال کیا کہ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوئے ؟ انہوں نے کہا کہ بیشک آپ حضرت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئے ، پھر آپ نے سوال کیا ، کیا عیسیٰ (علیہ السلام) قادر مطلق ہیں۔ انہیں ہر چیز پر تصرف حاصل ہے ؟ عیسائی وفد یہ بھی ثابت نہ کرسکا ، بلکہ اس کا انکار کیا۔ تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ چاروں صفات الوہیت کی صفات ہیں۔ اگر بقول تمہارے ان میں سے ایک بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) میں نہیں پائی جاتی تو پھر تم انہیں الٰہ کیسے تسلیم کرتے ہو۔ آپ نے فرمایا ، تمہیں شرم آنی چاہئے اور اس باطل عقیدہ سے توبہ کرنی چاہیے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ کھانا کھاتے رہے ، پانی پیتے رہے ، بول و براز کی ضرورت رہی۔ تو ایسی شخصیت الٰہ کیونکر ہوسکتی ہے ، الٰہ تو وہ ذات پاک ہے ، جو ازلی اور ابدی ہے جس کو فنا نہیں جس کا علم ہر چیز پر محیط ہے اور کوئی چیز مخفی نہیں جو قادر مطلق ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا ہے نہ کسی کا باپ ہے مسیح (علیہ السلام) ان میں سے کسی بھی صفت سے متصف نہیں لہذا ان کو الٰہ تسلیم کرنا کس قدر جہالت کی بات ہے ، بہرحال عیسائی بحث مباحثہ کرتے رہے اور اپنی ضد پر اڑے رہے۔ آخر میں حضور ﷺ نے دعوت مباہلہ دی ، مگر عیسائی اس سے بھی بھاگ گئے۔ ایمانیات کا بیان : جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے۔ سورة بقرہ کے آخر میں ایمانیات کا ذکر تھا اور اس سورة کی ابتداء اسی مضمون سے ہورہی ہے۔ الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ الم حروف مقطعات میں سے ہے۔ اور اس کا ذکر سورة بقرہ کی ابتدا میں ہوگیا تھا۔ اب ارشاد ہوتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ یعنی وہی الیہ ہے کیونکہ وہ حیی اور قیوم ہے۔ اس کی حیات ازلی اور ابدی ہے وہ حی ہے۔ اور وہ حیات دینے والا ہے۔ وہ قیوم ہے یعنی خود قائم ہے ، ہمیشہ قائم رہے گا۔ اور دوسروں کو قائم رکھنے والا ہے۔ وہی سب کو تھامنے والا ہے۔ خدا کے سوا نہ کوئی حی ہے اور نہ قیوم ہے۔ لہذا معبود برحق وہی ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ عبادت کے لائق کوئی نہیں ہوسکتا۔ یہ تو عقلی دلیل ہے۔ کہ مسجود خلائق صرف وہی ذات ہے۔ اب نقلی دلیل ہے۔ کہ مسئلہ توحید سمجھانے کے لیے ، لوگوں کو ایمان کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے اور شرک و کفر کی بیخ کنی کے لیے اس مالک الملک نے کتابیں نازل فرمائیں۔ نزل علیک الکتب بالحق۔ اس اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب یعنی قرآن پاک حق کے ساتھ نازل فرمایا۔ اور اس کی خوبی یہ ہے کہ یہ مصدقا لما بین یدیہ اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ جس طرح ہر آنیوالا نبی پچھلے نبی کی تصدیق کرتا ہے۔ اسی طرح ہر آسمانی کتاب سابقہ کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اور اس میں شامل شدہ خرابیوں کی نشاندہی کرتی ہے یہ چیز قرآن پاک نے بتائی کہ تورات سچی کتاب ہے۔ جو اللہ نے نازل فرمائی۔ مگر یہودیوں نے اس میں خرابیاں پیدا کیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر فرمایا وانزل التوراۃ والانجیل ، اللہ تعالیٰ نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا۔ تورات کا معنی ہی قانون (LAW) ہے۔ جب فرعون غرق ہوگیا اور بنی اسرائیل اس کے عذاب سے بچ گئے۔ تو انہوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا۔ کہ مصر میں قیام کے دوران میں تو ہم مجبوراً فرعون کے قانون کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔ اب ہم آزاد ہیں اس لیے ہمارے لیے کوئی اپنی شریعت یعنی قانون ہونا چہایے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قانون کے لیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی۔ تو اللہ رب العزت نے فرمایا۔ کوہ طور پر آ کر اعتکاف کرو ، چالیس روزے رکھو تو آپ کو کتاب دی جائے گی۔ یہ سارا واقعہ سورة اعراف میں موجود ہے۔ چناچہ یہودیوں کی اپنی خواہش کے جواب میں ان کو تورات عطا کی گئی ۔ یہ ایک عظیم کتاب تھی۔ مگر یہودیوں ، اور عیسائیوں اور ان کے پیروکاروں نے اس میں تحریف کرکے اس کو بگاڑ دیا۔ تاہم اس کا کافی حصہ اب بھی اپنی اصل صورت میں موجود ہے۔ فرمایا والانجیل ، یعنی تورات کے بعد ہم نے انجیل بھی اتاری۔ یہ کتاب بنی اسرائیل کے آخری نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ مگر افسوس کہ اس کا مصدقہ نسخہ آج دنیا سے مفقود ہے۔ اصل انجیل وہ فرامین اور خطبات ہیں۔ جس مسیح (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری تین برسوں میں ارشاد فرمائے۔ آپ کی زندگی میں یہ فرامین تحریری صورت میں موجود نہ تھے۔ بلکہ آپ کے شاگرد ان کی زبانی تبلیغ کرتے تھے۔ ایک مدت کے بعد جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معتقدین کو یہودیوں سے الگ امت قرار دیا گیا۔ اور انہیں عیسائی کہا جانے لگا۔ تو انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی زندگی اور ان کے فرمودات پر کتابیں تصنیف کیں جن کی تعداد 34 تک پہنچتی ہے۔ موجودہ اناجیل اربعہ کی بنیاد یہی کتابیں ہیں۔ یہ چاروں انجیلیں یونانی زبان بولنے والے عیسائیوں کی ترتیب دی ہوئی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اس مذہب میں داخل ہوئے۔ ان اناجیل کا ایک بھی نسخہ اصل یونانی زبان میں موجود نہیں۔ عیسائی ان میں تغیر و تبدل کرتے رہے۔ لہذا آج انجیل کے وہی احکامات قابل اعتماد سمجھے جاسکتے ہیں جن کی تصدیق قرآن پاک نے کی ہے باقی سب غیر معتبر اقوال ہیں۔ فرمایا : من قبل ھدی للناس : یہ تورات و انجیل پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں۔ انبیائے بنی اسرائیل انہیں کتابوں کے احکامات کی تجدید کے لیے آتے رہے۔ تا آنکہ وانزل الفرقان اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو نازل فرمایا۔ اس مقدس اور آخری کتاب کے ذریعے سابقہ تمام احکام منسوخ ہوگئے۔ اور قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے یہی احکام قرآن منبع رشد و ہدایت ٹھہرے۔ اس کے ساتھ ہی نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا گیا۔ اور تبلیغ دین کا کام علمائے امت کے سپرد ہوا۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل (اور العلماء ورثۃ الانبیاء) یعنی میری امت کے علمائے حق بنی اسرائیل کے نبیوں کی مانند ہیں۔ جو کام بنی اسرائیل کے نبی انجام دیتے تھے ، وہی کام میری امت کے علماء انجام دیتے رہیں گے۔ فرقان کا معنی حق و باطل میں فرق کرنے والا یا متنازعہ امور میں آخری فیصلہ کرنے والا ہے۔ قرآن پاک کو فرقان اس لیے کہا گیا ہے۔ کہ جب بھی اللہ کے دین کو کسی نے بگارنے کی کوشش کی ، قرآن پاک نے حق کی نشاندہی کردی۔ تورات و انجیل کے تحریف شدہ نسخوں میں آج بھی قرآن پاک اللہ تعالیٰ کے اصل احکام کو واضح کرکے اپنے فرقان ہونے کا ثبوت مہیا کر رہا ہے۔ منکرین کا انجام : فرمایا ان واضح احکامات آجانے کے بعد ان الذین کفروا بایات اللہ۔ جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا۔ انکار لفظی بھی ہوسکتا ہے۔ اور معنوی بھی لفظی انکار تو یہ ہے کہ اللہ کی کتاب کے الفاظ کو ہی بدل دیا جائے جیسا کہ یہودیوں نے تورات کے ساتھ کیا۔ اور معنوی انکار یہ ہے کہ واضح حکم کی غلط تاویل کرکے اسے اپنی مرضی کے مطابق غلط معنی پہنا دیے جائیں۔ اس کی بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ کس طرح یہودیوں اور عیسائیوں نے اللہ کے احکام کو اپنی من مرضٰ کے معنی پہنائے اپنے گردوپیش میں نظر دوڑائیں ایسے منکرین آیات کی آج بھی کمی نہیں ، اگرچہ آج اللہ کے اس آخری کلام کی تحریف لفظی تو ممکن نہیں مگر کتنے ہی پیٹ کے پجاری معنوی تحریفات کرکے اللہ کے غضب کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ایسے ہی منکرین کے متعلق فرمایا لھم عذاب شدید ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ جب اللہ کی پکڑ آئے گی تو پھر اس سے بچ نہیں سکیں گے کیونکہ واللہ عزیز۔ اللہ تعالیٰ غلبے والا ہے۔ اسے ہر چیز پر غلبہ حاصل ہے۔ اس کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ اس کے سامنے کوئی چالاکی اور حیلہ سازی کام نہیں آئیگی۔ اور وہ ذوانتقام یعنی بدلہ لینے والا ہے وہ ظلم و زیادتی کی رسی کو دراز ضرور کرتا ہے۔ مگر جب اپنے باگی سے انتقام لینے پر آتا ہے۔ تو اس کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ فرمایا : ان اللہ لا یخفی علیہ شیء فی الارض ولا فی السماء۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب خوب سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی سازشوں سے بیخبر نہیں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہہ کر یہ لوگ جس طرح اس کی توحید میں خلل اندازی کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام سازشوں سے واقف ہے۔ اور یہ تمام باتیں ان کے اعمال ناموں میں لکھی جا رہی ہیں۔ وقت آنے پر اس کا بدلہ چکا دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ : فرمایا ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء ۔ وہی ذات پاک ہے۔ جو ماؤں کے رحموں میں تمہاری تصویریں بناتا ہے جس طرح چاہے بچے کی ظاہری شکل و صورت یعنی گورا ، کالا ، گندمی ، سرخ وغیرہ ہونا بھی اسی کی قدرت تامہ کا شاہکار ہے۔ اور اس کا نیک و بد ، عقل مند اور بےعقل سعید اور شقی ہونا سب اس کے علم اور قدرت میں ہے۔ یہاں پر بنی اسرائیل یعنی یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ سمجھانا بھی مقصود ہے۔ کہ مسیح (علیہ السلام) دیگر مخلوق کی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ اور ابتدائی حالت سے لے کر پیدائش تک ان پر جو تغیرات گزرے وہ سب ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود یہ لوگ حضرت مسیح کو خدا کا بیٹا کس مشابہت کی بنا پر کہتے ہیں یہ تو بڑی زیادت کی بات ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ تو اس مالک الملک کے لیے یہ کونسی ایسی بڑی بات ہے۔ اس نے تو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا (علیہا السلام) کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمادیا تھا۔ لا الہ الا ھو العزیز الحکیم۔ معبود حقیقی وہی ہے اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ کیونکہ عبادت کے لائق وہی ہوسکتا ہے جو قدرت کاملہ کا مالک ہو اور جس کا علم ہر چیز پر محیط ہو۔ یہ صفات صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ لہذا الٰہ بھی صرف وہی ہے مسیح (علیہ السلام) الٰہ نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ تو مخلوق ہیں اور نہ وہ قدرت کاملہ کے مالک ہیں اور نہ ان کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ اور نہ وہ ازلی و ابدی ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ عزیز یعنی ہر چیز پر غالب ہے اور حکیم ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ کائنات کا تمام نظام اس کے مقررہ اصولوں اور حکمت کے مطابق انجام پا رہا ہے۔
Ayahs 3:7–9

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری۔ اس میں بعض آیتیں محکم ہیں وہ کتاب کی اصل ہیں۔ اور دوسری متشابہ ہیں۔ پس جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے پس وہ پیچھے لگتے ہیں متشابہات کے اور اس میں تلاش کرتے ہیں گمراہی اور تلاش کرتے ہیں ان کی تاویلیں۔ حالانکہ نہیں جانتا ان کی تاویل مگر اللہ۔ اور جو پختہ ہیں علم میں وہ کہتے ہیں۔ ہم ایمان لاتے ہیں ان سب پر۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نہیں نصیحت پکڑتے مگر عقلمند لوگ۔

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر جب کہ تو نے ہدایت بخشی ہے اور بخش ہمارے لیے اپنی طرف سے مہربانی۔ بیشک تو ہی بخشش کرنے والا ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے ہمارے رب تو جمع کرنے والا ہے لوگوں کو اس دن میں جس میں کوئی شک نہیں۔ بیشک اللہ جو وعدہ کرتا ہے۔ اس کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں بیان کیا جا چکا ہے۔ کہ سورة آل عمران کے اہم مضامین میں سے مسئلہ توحید اور اس کے عقلی و نقلی دلائل ہیں۔ پھر قرآن پاک کی صداقت و حقانیت کا تذکرہ ہے۔ اور بعض دوسرے مضامین بھی بیان ہوئے ۔ سابقہ آیات میں مسئلہ توحید کو اجاگر کیا گیا تھا۔ اور سابقہ کتب کا تذکرہ تھا۔ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں تک ہدایت کا سامان بہم پہنچاتا رہا۔ ان ہدایات کا انکار کرنے والوں کے لیے سخت سزا کی وعید تھی۔ اور لوگوں کو یاد دلایا گیا تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ وہ ہر انسان کی ہر حرکت سے واقف ہے۔ بلکہ ماں کے رحم میں انسان کی شکل و صورت بنانے والی بھی وہی ذات ہے۔ پھر اس سے انسان کی کونسی حرکت پوشیدہ ہوسکتی ہے۔ ضمناً نصاری کو یہ بھی باور کرنا مقصود تھا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) قدرتی طریقہ کے مطابق ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے۔ تو پھر خدا کے بیٹے یا خود الہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا تذکرہ ہے۔ اور اس کے احکام سے مستفید ہونے کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے۔ جن کے دلوں میں کجی پائی جاتی ہے۔ اور وہ قرآن پاک کی متشابہ آیات کی غلط تاویل کرکے فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔ نیز ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو علم میں پختہ ہیں اور ان کا ایمان تمام آیات پر یکساں ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے کہ وہ ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے نیز قیامت کے دن دوبارہ جی اٹھنے اور حساب کتاب ہونے پر یقین کا اظہار کیا گیا ہے۔ نزول کتاب : ارشاد ربانی ہے : ھوالذی انزل علیک الکتب۔ اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے۔ کتاب سے مراد قرآن پاک ہے جو حضور ﷺ کی ذات اقدس پر آخری کتاب کے طور پر نازلہوا جس طرح نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگیا ہے۔ اسی طرح اب کوئی آسمانی کتاب بھی نازل نہیں ہوگی۔ قرآن پاک کے احکامات قیامت تک آنے والی نسل انسانی کے لیے یکساں طور پر مفید ہیں۔ محکم اور متشابہ : قران پاک کے احکام و فرامین کے متعلق فرمایا۔ منہ ایات محکمات۔ اس میں بعض آیات مھکم ہیں۔ ھن ام الکتب۔ یہی آیتیں کتاب کی جڑ بنیاد ہیں۔ امام راغب اصفہانی فرماتے ہیں۔ فالمحکم لا یعرض فیہ شبھۃ من حیث اللفظ ولا من حیث المعنی۔ یعنی محکم سے مراد وہ آیات ہیں جن کا مفہوم واضح ہو۔ اور اس پر لفظی یا معنوی اعتبار سے کسی قسم کا شبہ وارد نہ ہوتا ہو۔ گویا ایسی آیتیں جن کی زبان آسان ہے۔ اور جن کے معانی متعین کرنے میں کسی اشتباہ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ایسی آیات میں تاویلات کرنے کا موقع مشکل ہی سے ملتا ہے۔ تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت منقول ہے کہ قرآن پاک میں جو آیتیں عمل کے لیے نازل ہوئی ہیں۔ وہ محکم ہیں۔ اور جن سے عمل متعلق نہیں ، محض ان پر ایمان لانا مقصود ہے جیسے حروف مقطعات ، قیامت یا دجال وغیرہ سے متعلق آیات۔ تو ایسی آیات متشابہ ہیں۔ فرمایا کہ و اخر متشابہات۔ اور بعض آیتیں متشابہ ہیں۔ مفردات امام راغب اصفہانی میں متشابہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ المتشابہ ما اشکل تفسیرہ اما من حیث اللفظ والمعنی۔ یعنی ایسی آیت جس کا معنی اور تفسیر کسی لفظی یا معنوی پیچیدگی کی وجہ سے مشکل ہو۔ اور اس میں تاویل کی گنجائش رہتی ہو۔ ظاہر ہے کہ قرآن پاک نے آئندہ زمانے کے لیے بعض ایسی پیشن گوئیاں کی ہیں۔ اور برزخ ، قیامت ، جنت ، دوزخ ، فرشتے ، جنات وغیرہ کے متعلق ایسی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جنہیں اس وقت انسان نہ دیکھ سکتا ہے اور نہ محسوس کرسکتا ہے۔ ایسی چیزوں کی ٹھیک ٹھیک کیفیت معلوم کرنے کے لیے انسان لاکھ کوشش کرے مگر اس کی حقیقت کو نہیں پا سکتا۔ ایسے امور میں انسان جتنی زیادہ کوشش کرے گا۔ وہ حقیقت سے قریب تر ہونے کی بجائے دور بھی ہوسکتا ہے۔ لہذا اس قسم کی باتوں سے متعلقہ آیات متشابہات میں داخل ہیں۔ اور انسان کے لیے اتنا ہی کام ہے۔ وہ ان پر ایمان لے آئے۔ فاما الذین فی قلوبھم زیغ : پس جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے۔ فیتبعون ما تشابہ ، وہ متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں۔ چونکہ ان کے دلوں میں حسد ، بغض ، عناد ، اور بےایمانی رچی بسی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ مھکم یعنی واضح آیات کو چھوڑ کر متشابہ آیتوں کی تاویلیں کرنے لگتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کے سامنے ایسے معانی بیان کرتے ہیں جو محکم آیات کے مفہوم کے منافی ہوتے ہیں ، حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ متشابہات کی تاویل کرتے وقت محکم آیات کی پیروی کی جاتی مگر ایسے لوگ الٹا چلنا چاہتے ہیں۔ اور لوگوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس سے ان کا مقصد یہ ہے منہ ابتغاء الفتنۃ اس سے فتنہ یعنی گمراہی تلاش کرتے ہیں۔ وابتغاء تاویلہ اور متشابہات کے ذریعے ایسی الٹی سیدھی تاویلیں تلاش کرتے ہیں۔ جن کے ذریعے مخلوق خدا کو گمراہ کرسکیں۔ غلط تاویلیں : ان آیات کے سیاق وسباق کے مطابق ان کا ہدف یہود و نصاری ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی متشابہ آیات کی غلط تاویل کرکے لوگوں کو اصل دین سے دور کردیا۔ حتی کہ محکم آیات کو بھی متشابہات کے تابع کرکے دین کا حلیہ بگاڑ دیا۔ آج کے دور میں جب ہم اپنے گردوپیش دیکھتے ہیں۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں یہود و نصاری سے بڑھ کر خود مسلمانوں کے دور میں ایسے بہت سے فرقے اور لوگ موجود ہیں جنہوں نے پہلے متشابہات کی غلط تاویلیں کی۔ اور پھر محکم آیات کو توڑ موڑ کر متشابہات کے معانی پہنائے اور اس طرح وہ یہود و نصاریٰ سے بھی بازی لے گئے ، قادیانی پرویزی اور سرسید جیسے کتنے لوگ ہیں۔ جنہوں نے دوزخ ، جنت ، برزخ ، حساب کتاب حتی کہ حضور کی زندگی کے سب سے بڑے معجزے معراج تک کو غلط معنی پہنا کر لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا۔ ایسے ہی لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کا بالکل انکار کردیا۔ اور اسی قرآن پاک کی آیات کی ایسی ایسی تاویلیں کیں کہ العیاذ باللہ۔ اب ذرا اور قریب آ کر دیکھئے۔ کہ قرآن پاک نے مسئلہ توحید کو کس وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ قرآن کریم کا کوئی صفحہ ، اس کا کوئی رکوع ایسا نہیں جس میں توحید کو کسی نہ کسی رنگ میں پیش نہ کیا گیا ہو۔ مگر آج یہی مسئلہ ہمارے ہاں متنازعہ بن چکا ہے۔ قرآن پاک صاف کہتا ہے قل لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ۔ زمین و آسمان میں غیب کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں مگر آج ثابت کیا جا رہا ہے۔ کہ حضور ﷺ کو بھی علم غیب تھا۔ بلکہ اس باطل عقیدہ پر ایمان نہ لانے والوں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ قرآن پاک کہتا ہے وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کسی تکلیف میں مبتلا کردے تو اس کے سوا اسے کوئی دور نہیں کرسکتا۔ مگر آج مسلمانوں میں ایسے بھی ہیں کہ فلاں بزرگ بھی بگڑی بنا سکتا ہے۔ فلاں بھی مشکلات کو حل کرسکتا ہے ، مشکل کشا کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ قرآن پاک خود حضور ﷺ کی زبان سے کہلاتا ہے۔ قل انما انا بشر مثلکم یعنی میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں۔ بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے سب انسانوں میں سے ہی آئے۔ وما ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم۔ یعنی اے نبی اکرم ہم نے آپ سے پہلے انسانوں کو ہی رسول بنا کر بھیجا۔ مگر آج کے دور میں انبیاء کرام اور خصوصا حضور خاتم المرسلین کو نسل انسانی سے ہی خارج کیا جا رہا ہے۔ یہ محکم آیات کی واضح غلط تاویلیں نہیں تو اور کیا ہے۔ پھر یہیں پر بس نہیں کیا۔ ان ظالم قادیانیوں نے حضور ﷺ کی ختم نبوت تک کو معاف نہیں کیا۔ اور خاتم النبیین کے معنی کچھ سے کچھ کردیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زندہ اٹھائے جانے کا انکار کردیا۔ آخر یہ سب کچھ کہاں سے ہو رہا ہے۔ قرآن پاک کی آیات کا سہارا ہی تو لیا جا رہا ہے۔ کہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کے پیچھے لگتے ہیں اس سے گمراہی پھیلاتے ہیں۔ اور غلط تاویلیں تلاش کرتے ہیں۔ صحیح تاویل : فرمایا وما یعلم تاویلہ الا اللہ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ متشابہ آیات کی حقیقت صرف اللہ ہی کو معلوم ہے۔ صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو لوگ متشابہ آیتوں کا مطلب اللہ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ جو کوئی دعوی کرتے کہ اس کو متشابہ آیت کا مطلب یا تاویل معلوم ہے۔ وہ جھوٹا ہے۔ مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ محکم آیتوں پر عمل کرو۔ اور متشابہ پر فقط ایمان لاؤ مطلب یہ کہ مفہوم سمجھ میں نہیں آتا تو اس کو اللہ کی طرف سونپ دو ۔ جھگڑا مت کرو۔ غلط معنی مت بیان کرو۔ اسی لیے مولانا عبیداللہ سندھی فرماتے ہیں۔ غلط تفسیروں کی وجہ سے دنیا میں بڑی تباہی آتی ہے گمراہی پھیلتی ہے۔ فرماتے ہیں۔ قرآن پاک کی محکم آیتیں ہر سلیم الفطرت آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے مگر بہت سی باتیں ایسی بھی ہیں جو استاذ کے بغیر سمجھ میں نہیں آتیں۔ لہذا یایس باتیں استاذ سے سیکھنی چاہئیں۔ جو ایسا نہیں کرتا وہ کسی نہ کسی گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ مولانا سندھی خود اپنی مثال بیان کرتے ہیں کہ مجھے راسخین فی العلم سے واسطہ پڑا۔ میرے استاذوں نے میری راہنمائی فرمائی اور اللہ نے مجھے قرآن میں کمال درجے کا ملکہ عطا فرمایا ہے میں اپنی مشکلات استاذوں کے سامنے پیش کرتا تھا وہ مجھے مشورہ دیتے تھے اور میرے اشکال کو حل کرتے تھے۔ اس لیے مجھے کسی قسم کی پریشانی لاحق نہیں ہوئی فرماتے ہیں میری طرح اور بھی کوئی لوگ اسلام میں داخل ہوئے مگر انہیں اچھے استاذ نہ مل سکے۔ اس لیے وہ مشکلات میں پھنسے رہے۔ آپ کے استادوں میں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) جیسے راسخ فی العلم لوگ تھے۔ مولانا شیخ الہند جن کا یہ ترجمہ وار دو سورتوں کی مختصر تفسیر بھی ہے بہت بڑے راسخ العلم انسان تھے۔ خاموشی سے تعلیم دیتے تھے۔ ان کے شاگردوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کتنا کمال عطا کیا تھا ان کے شاگردوں میں حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ۔ مولانا عبیداللہ سندھی ، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور آپ کے شہر کے مولانا عبدالعزیز محدث ، حضرت مولاناانور شاہ کشمیری رحمہ سندھ کے مولانا محمد صادق اور مولانا احمد علی لاہوری شامل ہیں۔ ان لوگوں نے دنیا میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ انگریز کی اسلام دشمنی : مولانا سندھی فرماتے ہیں کہ میں نے اٹھارہ سال تک اپنے استاذ حضرت شیخ الہند (رح) کی خدمت میں رہ کر دین بھی سیکھا ہے اور سیاست بھی سیکھی ہے۔ آپ سیاست کے بھی امام تھے۔ آخر زمانہ میں جب ہندوستان آئے تو کلکتہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا ، میں نے انگریز کے قدم اکھاڑ دیے ہیں۔ اگر اب انگریز ہندوستان میں رہ گیا تو میری قبر پر تھوک دینا۔ آپ بارہ سال تک مکہ معظمہ میں رہے۔ تعلیم دیتے تھے ، اور انگریز کی تباہی کا سامان بھی کرتے تھے۔ فرماتے تھے۔ انگریز قوم نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان انگریز نے پہنچایا ہے۔ اس نے مسلمانوں کی سلطنتیں تباہ کردیں مقامات مقدسہ کی بےحرمتی کی۔ قرآن پاک کے خلاف بڑی سازشیں کیں۔ مولانا شیخ الہند (رح) کو انگریزوں سے نفرت تھی۔ کہ اگر کوئی ان کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتا تو فرماتے کسی اور عالم سے پوچھ ، مجھے ان سے سخت نفرت ہے ، شاید میں غلطی نہ کرجاؤں۔ مگر آج لوگ انگریز کی تہذیب کو فخر سے اپناتے ہیں۔ حالانکہ وہ مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے۔ علامہ اقبال بھی انگریزوں کو خوب سمجھتا تھا۔ انہوں نے اپنی شاعری کا ایک معتد بہ حصہ انگریزوں کے خلاف لکھا ہے۔ بےعمل ہونا الگ بات ہے۔ مگر اقبال قومی آدمی تھا۔ اس نے انگریزوں کی خوب خبر لی ہے۔ علم سیکھنے سے آتا ہے : امام بخاری نے بخاری شریف میں لکھا ہے۔ العلم بالتعلم یعنی علم سیکھنے سے آتا ہے۔ خود بخود نہیں آجاتا۔ اس کے لیے بہرحال استاذ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو لوگ استاذ کے بغیر خود بخود عالم بن بیٹھتے ہیں وہ گمراہی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مرزا قادیانی اور پرویز جیسے لوگوں کو یہی حال ہوتا ہے۔ اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام بنا دیتے ہیں۔ جب کہ انسان کسی راسخ فی العلم کے پاس نہ بیٹھے اس کے اشکال دور نہیں ہوتے۔ راسخ فی العلم : فرمایا والراسخون فی العلم اور جو علم میں پختہ ہیں یقولون آمنا بہ۔ وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے اس پر کل من عند ربنا۔ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں۔ یعنی جن باتوں کی تاویل صرف اللہ کے علم میں ہے۔ ان میں محض اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑاتے۔ بلکہ ان کا ایمان یہ ہوتا ہے۔ کہ سب کچھ ان کے اللہ کی طرف سے برحق ہے۔ فرمایا اس سیدھی سادھی بات کو بھی عام لوگ نہیں سمجھتے۔ وما یذکر الا اولوا الالباب۔ اور نہیں نصیحت پکڑتے۔ مگر عقلمند لوگ ، کم علم اور بےعقل لوگ ایسی باتوں کو نہیں سمجھتے اور خواہ مخواہ گمراہی کے گڑھے میں گر پڑتے ہیں ۔ طبرانی میں ابی مالک اشعری سے روایت ہے۔ کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اپنی امت سے یہ خوف ہے۔ کہ وہ متشابہ آیتوں کی تاویل کے درپے ہوں گے۔ حالانکہ ان کی تاویل سوائے خدا کے کسی کو معلوم نہیں۔ دعائیہ کلمات : فرمایا راسخون فی العلم یہ بھی کہتے ہیں۔ ربنا لا تزغ قلوبنا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا۔ بعد اذ ھدیتنا۔ بعد اس کے کہ تو نے ہمیں ہدایت سے نوازا ہے۔ ہمیں اسی راہ ہدایت پر قائم رکھ۔ اسی لیے حضور ﷺ دعا کیا کرتے تھے اللھم مصرف القلوب صرف قلوبنا علی طاعتک۔ یعنی اے دلوں کے پھیرنے والے ، ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر قائم رکھ۔ وھب لنا من لدنک رحمۃ۔ اور اپنی طرف سے ہمیں رحمت بخش۔ کیونکہ انک انت الوھاب۔ تو ہی سب کچھ دینے والا ہے۔ ساری کی ساری مخلوق تیری ہی محتاج ہے۔ تیرے بغیر کوئی کسی کی حاجت روائی نہیں کرسکتا۔ اس لیے اپنی رحمت سے تو ہی ہماری حاجات پوری فرما۔ فرمایا پختہ علم والے یہ بھی دعا کرتے ہیں۔ ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ۔ اے ہمارے پروردگار ! تو ہی لوگوں کو اس دن میں جمع کرنے والا ہے۔ جس میں کوئی شک نہیں۔ وہ دن یقیناً آنے والا ہے جس دن تمام مخلوق اپنے رب کے ہاں پیش ہوگی۔ جس طرح انسان کو اپنے وجود پر شک نہیں۔ اسی طرح قیامت کے برپا ہونے اور پھر محاسبے کا عمل واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ وعداً علینا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ کہ ہم انسانوں کو دوبارہ اٹھائیں گے اور ان کا حساب لیں گے انا کنا فاعلین ہم ضرور ایسا کرنے والے ہیں۔ لہذا اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے ۔ فرمایا ان اللہ لا یخلف المیعاد۔ اللہ تعالیٰ جو وعدہ کرتا ہے اس کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ وہ اپنا وعدہ پورا کرتا ہے اس لیے اس کے بندے اس کے آگے دعا کرتے ہیں کہ مالک الملک اس دن ہمیں رسوائی حاصل نہ ہو۔ ہم ذلیل و خوار نہ ہوں بلکہ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں خصوصی رحمت اور مہربانی عطا فرما۔
Ayahs 3:10–13

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

بیشک وہ جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا۔ ہرگز کام نہ آئیں گے ان کے لیے ان کے مال اور نہ ان کی اولادیں اللہ کے سامنے ، اور یہی لوگ ہیں دوزخ کے ایندھن۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

(ان کا حال ایسا ہی ہے) مثل عادت آل فرعون کے اور ان لوگوں کے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ پس پکڑا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے گناہوں کے بدلے ، اور اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے۔

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ، کہ تم مغلوب ہوگے اور اکٹھے کئے جاؤ گے جہنم کی طرف اور بہت بڑا ٹھکانا ہے۔

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تحقیق تمہارے لیے نشانی ہے ان دو گروہوں میں جو آپس میں ٹکرائے ، ایک گروہ اللہ کے راستے ۔۔ میں لڑتا ہے اور دوسرا کفر کرنے والا ہے ، دیکھتے ہیں ان کو اپنے سے دگنا آنکھ کے ساتھ دیکھنا ، اور اللہ تعالیٰ تائید کرتا ہے اپنی مدد سے جس کو چاہے بیشک اس میں عبرت ہے آنکھیں رکھنے والوں کے لیے۔

ربط آیات : پہلی آیت میں قیامت کا ذکر تھا۔ اس سے پہلے اللہ نے نصارٰ کی تردید فرمائی اور ان کے باطل عقیدے کا رد فرمایا ، توحید کا مسئلہ بیان فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی صفات الوہیت کا ذکر کیا اور جن متشابہ لفظوں سے یہود و نصاری استدلال کرتے تھے ، اس کا جواب دیا۔ اب اس آیت میں کفار کے متعلق فرمایا کہ کوئی چیز انہیں خدا کی گرفت سے نہیں بچا سکتی ، حتی کہ ان کے مال و اولاد بھی انہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتے۔ اس کے بعد جنگ بدر سے متعلق یہود مدینہ کی زبان درازی کا ذکر ہے۔ کہتے تھے کہ اہل مکہ ناتجربہ کار تھے۔ جو مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ، وگرنہ ہم جیسے آزمودہ کار لوگوں سے واسطہ پڑتا ، تو مسلمانوں کو پتہ چلتا کہ کیسے غالب آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس چالاکی کا رد فرمایا۔ اس کے علاوہ نصاری اور مشرکین کی بھی تردید فرمائی ہے۔ شانِ نزول : امام رازی اور امام محمد بن اسحاق جو کہ مفسرِ قرآن ہونے کے علاوہ مورخ بھی ہیں فرماتے ہیں ، کہ ان آیات کا مصداق نجران کا وفد ہے۔ اس آیت میں جن کفر کرنے والوں کا ذکر ہے۔ جن کے مال و اولاد ان کے کام نہیں آئیں گے ، ان سے مراد وفد نجران میں شامل لوگ ہیں ، اور ان کا اطلاق عام طور پر ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے۔ جو اس قسم کا ذہن رکھتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ نجران کا یہ وفد جب مدینہ طیبہ کے سفر پر روانہ ہوا۔ تو دوران سفر خچر پر سوار ان کے لاٹ پادری ابوحارثہ کو ٹھوکر لگی۔ اس کا بھائی کرز بن علقمہ بھی ہمراہ تھا۔ اس کی زبان سے نکلا۔ تمس الابعد۔ ہلاک ہو خیر سے دور رہنے والا۔ مراد حضور ﷺ کی ذات والا صفات تھی۔ عربوں کی یہ عادت تھی۔ کہ جب کسی کو کوئی تکلیف پہنچتی ، تو اپنے مخالف کو برا بھلا کہتے۔ تعس فلان ، فلاں ہلاک ہو ، تباہ ہو۔ چناچہ جب کرز نے یہ الفاظ ادا کیے۔ تو اس کے بھائی ابو حارثہ پادری نے کہا یا تعس امک۔ تیری ماں ہلاک ہو۔ تم نبی آخر زماں کی شان میں یہ الفاظ کیوں کہتے ہو۔ وہ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ ان کی نشانیاں ہماری کتابوں میں موجود ہیں۔ اس پر کرز کہنے لگا کہ اگر محمد واقعی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ تو پھر تم ان سے بحث مباحثہ کرنے کی بجائے ان پر ایمان کیوں نہیں لے آتے۔ ابوحارثہ نے جواب دیا۔ کہ اس کیوجہ یہ ہے۔ لان ھؤلاء الملوک اعطونا اموالا کثیرۃ واکرمونا ولو امنا بمحمد لاحذ وامنا کل ھذہ الاشیاء۔ یعنی روم کے ان عیسائی بادشاہوں نے ہمیں مال و دولت دے رکھا ہے وہ ہمیں عزت بخشتے ہیں۔ اگر ہم محمد ﷺ پر ایمان لے آئیں۔ تو یہ تمام چیزیں ہم سے چھن جائیں گی۔ ہمارے تمام اعزازات ختم ہوجائیں گے اور ہم مفلس اور کنگال ہو کر رہ جائیں گے۔ بہرحال کرز سمجھ گیا کہ ہمارا دین غلط ہے۔ ہم محض مال و دولت کی خاطر اللہ کے نبی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ الغرض جب یہ وفد مدینہ پہنچا۔ حضور ﷺ سے بحث مباحثہ ہوا۔ وفد کسی نتیجے پر پہنچے بغیر واپس آ گیا۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے کرز بن علقمہ کو ایمان کی دولت سے نوازا اور وہ صحابی رسول بن گیا۔ تو ان آیات کے مصداق یہی لوگ ہیں۔ جن کے متعلق فرمایا گیا ہے۔ کہ ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ ان آیات کا اشارہ مدینے کے اردگرد بسنے والوں یہودیوں کی طرف بھی ہے جنگ بدر میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ تو یہودیوں نے کہنا شروع کردیا کہ مکہ والے لڑائی سے نابلد تھے۔ اگر کہیں ہم سے پالا پڑتا تو مسلمانوں کو بتا دیتے کہ لڑائی کیسے ہوتی ہے۔ چناچہ یہاں پر ان یہودیوں کا بھی رد ہے کہ یہ ان کی غلط فہمی ہے کہ وہ بڑے مالدار لوگ ہیں۔ سچے دین کے مقابلے میں ان کے مال اور اولاد ان کے لیے مفید ثابت نہیں ہوسکتے۔ اس ذہن کے عیسائیوں اور دیگر مشرکین کو بھی تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ ظاہری سازوسامان پر نہ اترائیں۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے ماننے والوں کی مدد فرماتا ہے۔ تو مخالفین کی تمام تدبیریں ناکام ہوجاتی ہیں۔ اور اللہ کے دین کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ مال اور اولاد بےسود ہوں گے : ارشاد ہوتا ہے ان الذین کفروا بیشک جن لوگوں نے کفر کیا۔ لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا۔ ہرگز کام نہ آئیں گے ان کے مال اور نہ اولاد کچھ بھی۔ یعنی جب اللہ کی گرفت آئے گی تو مال و اولاد جن کی خاطر وہ ایمان سے محروم رہے ، انہیں اس گرفت سے بچا نہ سکیں گے۔ دوسرے مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں سورة شعراء میں یہ بات مذکور ہے۔ یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی اللہ بقلب سلیم۔ قیامت کے دن نہ کسی کو مال فائدہ دیگا اور نہ اس کے بیٹے کام آئیں گے۔ ہاں وہاں پر کامیاب وہ ہوگا۔ جو قلب سلیم لے کر حاضر ہوگا۔ جس کے دل و دماغ میں ایمان کی شمع روشن ہوگی۔ اور جو اخلاص اور توحید پر قائم ہوگا۔ آج کتنے لوگ ہیں۔ جو مال اور اولاد کی خاطر طرح طرح کی بدعنوانیوں میں مبتلا ہیں۔ ناانصافی ، رشوت خوری۔ ذخیرہ اندوزی بلیک مارکیٹنگ سب کچھ مال و اولاد کی خاطر ہو رہا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن یہ لوگ تہی دست ہوں گے۔ دنیا میں کمائے ہوئے مال ان کے کچھ کام نہ آسکیں گے اور یہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوجائیں گے۔ سورة الحاقہ میں بھی آتا ہے کہ جس بدبخت کا اعمالنامہ اس کے بائیں ہاتھ میں آئیگا وہ چیخ و پکار کرے گا۔ کاش مجھے یہ اعمالنامہ ملتا ہی نہ ، مجھ سے حساب کتاب نہ لیا جاتا ، میرا کام ہی تمام کردیا جاتا ، کیونکہ ما اغنی عنی مالیہ۔ آج میرے مال نے مجھے کوئی نفع نہ پہنچایا۔ الغرض ! اس مقام پر بھی یہی فرمایا کہ کفر کرنے والوں کے مال اور ان کی اولادیں کچھ کام نہ آئیں گے۔ واولئک ھم وقود النار۔ ایسے لوگ خود دوزخ کا ایندھن ہیں۔ یہ کندہ ناتراش جہنمی ہیں۔ دوزخ کے ایندھن کے متعلق فرمایا۔ وقودھا الناس والحجارۃ۔ انسان اور پتھر دوزخ کا ایندھن ہیں۔ چناچہ کفر کرنے والے پتھروں کے ساتھ دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ کیونکہ کفر کے پروگرام کو غالب کرنے کے لیے حق کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ آل فرعون کی مثال : اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو آل فرعون سے تشبیہ دی ہے کہ جیسی عادات قوم فرعون کی تھیں ، ویسی ہی ان کی بھی ہیں۔ قوم فرعون کو یقین تھا کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اللہ کے برحق پیغمبر ہیں ، مگر وہ انہیں ماننے پر تیار نہ تھے۔ سورة نمل میں فرمایا۔ وجحدوا بھا واستیقنتھا انفسہم ظلما وعلوا۔ اگرچہ ان کے دل یقین کرچکے تھے۔ کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اللہ کے سچے نبی ہیں مگر اپنے ظلم وتعدی کی بناء پر ان کا انکار کردیا۔ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی عادت کا ذکر فرمایا۔ کداب آل فرعون والذین من قبلھم ان کی عادت بھی آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کی سی ہے یعنی ان کا کفار کا بھی وہی شیوہ ہے۔ جو آل فرعون کا تھا کہ محض دنیا کے مال و متاع کی خاطر حق کو قبول کرنے پر تیار نہ تھے۔ یہ لوگ بھی مال اور اولاد کی خاطر دین حق سے منہ موڑ رہے ہیں۔ داب کے معنی عادت اور خصلت کے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہر دو اقوام کے عادات و خصائل کا موازنہ فرمایا۔ اور آل کے لفظ سے مراد محض صلبی اولاد نہیں بلکہ اس لفظ میں تمام حوالی موالی اور ہاں میں ہاں ملانے والے تمام لوگ شامل ہیں۔ والذین من قلھم سے مراد وہ تمام پہلی قومیں ہیں۔ جنہوں نے اپنے اپنے انبیاء کا انکار کیا۔ جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم وغیرہ وغیرہ۔ فرمایا۔ کفار مکہ کی عادات بھی ان گذشتہ اقوام کی عادات و خصائل کے مطابق ہیں۔ کذبوا بایتنا انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ آیات سے مراد احکام بھی ہیں اور معجزات بھی۔ گویا ان لوگوں نے نہ تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پروا کی اور نہ ہی پیغمبر کے معجزے کو سچا جانا۔ بلکہ جب کبھی ایسی بات دیکھتے تو کہتے کہ یہ تو محض جادو کا کرشمہ ہے۔ انہوں نے اپنے انبیاء کو کبھی مجنوں کہا۔ کبھی شاعر کہا اور اس طرح ہمارے انبیاء اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فاخذھم اللہ بذنوبھم۔ اللہ تعالیٰ نے ان گناہوں کی پاداش میں انہیں پکڑ لیا۔ گویا سمجھانا یہ مقصود ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ اس طرح اہل مکہ یا مدینہ کے یہود و نصاری بھی اپنی بری حرکتوں سے باز نہ آئے تو وہ بھی ایسی ہی گرفت میں آجائیں گے اور پھر ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ واللہ شدید العقاب اور اللہ تعالیٰ سخت گرفت کرنے والا ہے۔ جب وہ پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔ جیسا کہ سورة بروج میں فرمایا ان بطش ربک لشدید۔ تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے اس کے غضب کو دعوت نہ دینا۔ وہ حلیم بھی ہے مہلت بھی دیتا ہے مگر جب پکڑتا ہے۔ تو رہائی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ ان کفار کے متعلق نبی ﷺ کو ارشاد ہوتا ہے۔ قل للذین کفروا۔ ان کافروں سے کہہ دیجئے۔ ستغلبون تم عنقریب مغلوب ہوجاؤگے۔ اور آج تم جن غریب ، کمزور اور ناتواں مسلمانوں کو بےبس سمجھ رہے ہو ، یہی تم پر غالب آئیں گے۔ تمہارا یہ حشر تو اسی دنیا میں ہوگا۔ جس میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اور آخرت میں و تحشرون الی جھنم تمہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ تم سب کو اس طرف ہانک کرلے جایا جائے گا۔ جو کہ و بئس المھاد بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ یہ پیش گوئی اس وقت کی گئی جب مسلمان طرح طرح کے مظالم کے شکار تھے۔ اور وہ بظاہر نہایت ہی کمزور جماعت تھے۔ مگر جلد ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں غلبہ عطا کردیا۔ پھر اگلی آیت میں اس بات کو ایک مثال کے ذریعے واضح کردیا ہے۔ اور عبرت کا سامان پیدا فرمایا ہے۔ جنگ بدر کی یاد : فرمایا قد کان لکم آیۃ فی فئتین التقتا۔ تمہارے لیے آپس میں ٹکرانے والے دو گروہوں میں نشانی ہے۔ ان دو گروہوں سے مراد مسلمان مدینہ اور کفار مکہ ہیں۔ فئۃ تقاتل فی سبیل اللہ۔ ایک گروہ وہ تھا جو اللہ کی راہ میں لڑتا تھا۔ یعنی مسلمانوں کی جماعت۔ یہ گروہ نبی آخر الزماں (علیہ السلام) پر ایمان لانے والا گروہ تھا جو اللہ کی توحید اور اس کی کتاب کے غلبے کے لیے جہاد کر رہا تھا۔ و اخری کافرۃ اور دوسرا گروہ کفار مکہ کا تھا جو کفر کو غالب کرنا چاہتا تھا۔ جب جنگ بدر میں مسلمان فتح و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹے تو مدینہ کے یہودی کہتے تھے۔ کہ مسلمانوں کا واسطہ مکہ کے ناتجربہ کاروں سے پڑا ہے جس کی وجہ سے کامیاب ہوئے۔ اگر ہم جیسے جنگجو اور تجربہ کار لوگوں کے ساتھ لڑائی ہوتی تو دیکھتے یہ کیسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ ذکر کرکے یہود مدینہ کو عبرت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔ فرمایا مسلمانوں کی فتح کی جو وجہ تم سمجھ رہے ہو۔ یہ بات نہیں ہے۔ بلکہ یرونھم مثلیھم رای العین۔ وہ خود اپنی آنکھ سے انہیں دگنا دیکھتے ہیں۔ اس دیکھنے کا تعلق دونوں گروہوں سے ہے۔ اہل ایمان دیکھ رہے تھے۔ کہ کفار ان سے تعداد میں بھی زیادہ تھے۔ اور دوسری طرف یہ بھی معنی ہے کہ فار مسلمانوں کو اپنے سے دگنی تعداد میں دیکھتے تھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد کے ک لیے فرشتوں کو بھیج دیا تھا۔ اس کی تفصیل اور حکمت خداوند کریم نے سورة انفال میں بیان فرما دی ہے۔ واذ یریکموھم اذ التقیتم فی اعینکم قلیلا۔ بدر کے دن تم ان کفار کو اپنے سے کم تعداد میں دیکھ رہے تھے و یقللکم فی اعینھم اور تمہیں ان کی نظروں میں کم کرکے دکھایا۔ مقصد یہ تھا۔ لیقضی اللہ امرا کان مفعولا۔ کہ اللہ تعالیٰ جس کام کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ وہ مکمل ہوجائے۔ غرضیکہ میدان بدر میں اللہ نے ابتداء میں ایسی کیفیت طاری کردی تھی۔ کہ دونوں گروہ ایک دوسرے کو اپنے سے کم تر دیکھ رہے تھے۔ اہل ایمان نے کفار کو دیکھا۔ تو انہیں اپنے سے کم تعداد میں پایا۔ اور کافروں نے ایمان والوں کو دیکھا۔ تو وہ بھی تھوڑے نظر آئے اور وہ حقیقت میں بھی کم تھے مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کفار کی تعداد کم کرکے دکھانے میں مصلحت یہ تھی کہ کہیں تمہارے دلوں میں ضعف نہ پیدا ہوجائے۔ ولو اراکھم کثیرا الفشلتم۔ اگر انہیں کثیر تعداد میں دکھایا جاتا تو تم پھسل جاتے ، تم پر رعب طاری ہوجاتا اور تم جم کر نہ لڑ سکتے۔ پھر جب لڑائی شروع ہوئی۔ تو اللہ نے فرشتے میدان میں اتارے تو کفار کو مسلمانوں کی تعداد زیادہ نظر آنے لگی۔ جس کی وجہ سے ان پر رعب طاری ہوگیا۔ اور ان کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کی یہ خاص مہربانی اور ادھر نبی (علیہ السلام) کی اللہ کے حضور دعا اور مناجات تھی۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں محض اللہ کی رضا اور کامل ایمان تھا۔ چناچہ مسلمان فتحیاب ہوئے۔ تائید خداوندی : جنگ بدر میں مسلمانوں کا ظاہری حال تو یہ تھا کہ ایک ہزار مسلح افراد کے مقابلے میں صرف تین سو تیرہ یا تین سو انیس مجاہدین تھے۔ کل ستر اونٹ ، دو گھوڑے چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں ان کا سامان جنگ تھا کفار کے پاس سامانِ ضرب و حرب میں ہر چیز موجود تھی۔ ہر روز اونٹ ذبح کرکے کھاتے تھے۔ شراب پیتے تھے۔ ہر طرح کا آرام میسر تھا۔ ناچنے گانے والی عورتیں موجود تھیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کا اعلان یہ ہے۔ واللہ یوید بنصرہ من یشاء۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ مسلمانوں کے پاس اس قدر کم تعداد اور قلیل سامان ہونے کے باوجود تائید ایزدی مسلمانوں کے حق میں تھی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کہ مسلمانوں کو فتح عظیم حاصل ہوگی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ان فی ذلک لعبرۃ لا اولی الابصار۔ ایسے واقعات میں عبرت ہے۔ ان لوگوں کے لیے جو صاحب بصیرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے طاقتور دشمن کو کیسی عبرتناک شکست دی۔ مسلمانوں میں سے صرف چودہ شہید ہوئے۔ جن میں ایک سولہ سال کا بچہ بھی تھا۔ ان کی قبور وہیں میدان بدر میں ہیں۔ بر خلاف اس کے کفار کے بڑے بڑے سرکردہ اشخاص سمیت ستر مارے گئے۔ اور اتنی ہی تعداد میں قیدی بنا لیے گئے۔ بہت سا مال غنیمت بھی مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔ بچے کھچے کفار نہایت ذلت کے ساتھ بھاگ گئے۔ مکہ پہنچ کر بڑی خفت اٹھانی پڑی۔ مکہ والے فتح کی خوشخبری کے منتظر تھے۔ مگر ان کی امیدوں پر خاک پڑگئی۔ یہ واقعہ بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہودیوں کو عبرت دلانا ہے۔ کہ تم سامان حرب پر فخر نہ کرنا۔ ماہرین جنگ پر غرور نہ کرنا۔ اپنے تجربے اور جنگی چالوں پر نہ جانا۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو قلیل لشکر کو کثیر پر غالب کردیتا ہے۔ سابقہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بھی بتلا دیا ہے۔ کم من فئۃ قلیلۃ غلبت فئۃ کثیرۃ باذن اللہ۔ کئی دفعہ ایسا ہوا ہے۔ کہ اللہ کی تائید سے چھوٹے چھوٹے گروہ بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آئے ہیں۔ اسی طرح آج مسلمانوں کی جماعت ایک غریب اور کمزور سی جماعت نظر آتی ہے۔ مگر وقت آئیگا۔ کہ اللہ کے یہ سپاہی قیصر و کسریٰ جیسی بڑی بڑی سلطنتوں کو تہ وبالا کرکے رکھ دینگے۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ ہزاروں سال پرانی سلطنتیں جن کے متمدن شہری۔ دفتری نظام ، باقاعدہ فوجیں ، تنخواہ دار ملازم ، خزانے سے بھرپور مگر اللہ تعالیٰ نے بےسروسامان مگر ایمان سے لبریز مجاہدین کے ذریعے ان سلطنتوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ مگر اللہ نے فرمایا ایسا ہو کر رہے گا اسی طرح مدینے کے یہودیوں کافروں کو فرمایا کہ تم عنقریب مغلوب ہوگے ، اور پھر قیامت کو تمہارا حشر جہنم کی طرف ہوگا۔ شرطِ غلبہ : تاہم فرمایا کہ مسلمانوں کو غلبہ اسی صورت میں ہوگا کہ وہ خالص میری عبادت کرنے والے ہوں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ یعبدوننی ، لایشرکون بی شیئا (سورۃ نور) جب تک مسلمان اس اصول پر قائم رہے۔ اللہ نے غلبہ عطا کیا۔ یہود و نصاریٰ نے غیر اللہ کی عبادت شروع کردی۔ شرک میں مبتلا ہوگئے ، لہذا وہ مغلوب ہوگئے۔ اہل کتاب بھی اپنے آپ کو یسوع مسیح کا ماننے والا کہتے تھے مگر اپنا الو سیدھا کرتے تھے۔ آج مسلمانوں کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی ہے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کا نام لے کر اپنی خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں ایسی حالت میں ذلت کے سوا اور کیا مقدر میں ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نفاق کو پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کامل الایمان لوگوں سے مدد کا وعدہ کرتا ہے۔ جو لوگ راہ راست سے ہٹ جاتے ہیں۔ وہ آنے والی قوموں کے لیے باعث عبرت بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا یہ محض قصے کہانیاں نہیں جن کو سن کر خوش ہوجاؤ بلکہ لقد کان فی قصصہم عبرۃ لاولی الاباب۔ ان واقعات میں اہل بصیرت لوگوں کے لیے سامانِ عبرت ہے جو لوگ ایسے حقائق کو کھلی آنکھوں سے نہیں دیکھتے۔ وہ تو سورج طلوع ہونے کے بعد اس کا بھی ان کار کرسکتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ ان واقعات کو عبرت کی نگاہ سے دیکھو کہ وہ لوگ جن بد افعال کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئے ان سے پرہیز کرو۔ اور اللہ تعالیٰ نے کن لوگوں کو کس وجہ سے غلبہ عطا فرمایا ان کی پیروی کرو۔ تم آج بھی کامیاب ہوجاؤگے۔