3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:116–117

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، ہرگز کام نہیں آئیں گے ان کے مال اور نہ ان کی اولادیں اللہ کے سامنے کچھ بھی ، اور یہی لوگ دوزخ والے ہیں ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں اس دنیا کی زندگی میں مثل اس ہوا کے ہے جس میں شدید سردی ہے ، جو پہنچی ہے ایسی قوم کے کھیت کو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ پس اس کو ہلاک کردیا ، اور اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرتے تھے۔

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی عداوت کا ذکر کر کے ان کی مزمت بیان فرمائی۔ پھر فرمایا ان میں سارے کے سارے برابر نہیں ہیں ، بلکہ بعض اہل کتاب منصف مزاج بھی ہیں ، جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کی قدر کرتا ہے ، اور تمام متقیوں کی نیت ، ارادے اور اعمال کو بھی جانتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی ہے پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ہے اور وہ وجوہات بھی بیان ہوئی ہیں جن کی وجہ سے وہ سرکشی کرتے تھے۔ پھر ان میں سے بعض کی مدح کا تذکرہ ہوا ہے اور اب کفر کرنے والوں کی مذمت بیان ہورہی ہے۔ مال و اولاد کا فتنہ : ارشاد ہوتا ہے ان الذین کفروا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، ایسے لوگ خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرکین میں سے ، سب کا ایک ہی معاملہ ہے۔ تاہم اس آیت میں اہل کتاب کی بات چل رہی ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان قبول نہ کیا ، توھید کو اختیار نہ کیا ، حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی رسالت کا انکار کیا اور ایمان کے دیگر اجزا کی بھی تصدیق نہی کی ، ان کے متعلق فرمایا لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولاد ھم من اللہ شیئا ایسے لوگوں کے مال اور اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گے۔ یہ چیزیں انہیں اللہ کے غضب سے نہ بچا سکیں گی۔ دنیا میں انسان بعض اوقات مال کے زور پر بچ جاتے ہیں اور بسز اوقات اولاد بھی بچاؤ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ مگر اللہ کی بارگاہ میں یہ دونوں چیزیں کام نہ آئیں گی۔ عام طور پر یہ مشاہدہ میں آیا ہے کہ اکثر لوگ انہی دو چیزوں یعنی مال اور اولاد کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں۔ قرآن پاک میں دوسرے مقام پر موجود ہے " انما اموالکم واولادکم فتنۃ " بیشک تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔ فتنہ سے مراد آزمائش ہے۔ انسان ان چیزوں کی محبت میں مبتلا ہو کر ایمان اور آخرت کو فراموش کر جاتے ہیں ، حلال و حرام کی حدود کو توڑتے ہیں ، اور اسی طرح مال اور اولاد ان کے لیے ذریعہ آزمائش بن جاتے ہیں۔ پھر جب اس آزمائش پر پورا نہیں اترتے تو ان پر وبال آجاتا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا وما اموالکم ولا اولادکم بالتی تقربکم عندنا زلفی تمہارے مال اور اولاد تمہیں خدا کا قرب نہیں دلا سکتے۔ قرب الہی تو ایمان ، توحید اور اعمال صالحہ سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر لوگ اس چیز کو بھول کر مال و اولاد کی محبت میں جائز اور ناجائز کی تمیز نہیں رکھتے۔ لہذا ان کو اللہ کا قرب حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس واسطے یہ چیزیں اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی ، حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اولادانسان کے حق میں بخل اور بزدلی کا باعث ہے۔ اسی طرح انسان مال خرچ نہیں کرتا اور جہاد میں شریک نہیں ہوتا کہ اولاد کی حفاظت کون کرے گا۔ اسی کی خاطر نیکی کے دوسرے کاموں سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ ھضور (علیہ السلام) نے فرمایا لکل امۃ فتنۃ ہر امت کے لیے ایک ضاص فتنی ہوتا ہے وفتنۃ امتی المال اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ مال کی محبت کی وجہ سے بہت سی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ صحیحین کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے : ترجمہ : مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں۔ مجھے تمہارے متعلق یہ ڈر ہے۔ کہ تم پر دنیا وسیع کردی جائے گی۔ جس طرح تم سے پہل لوگوں پر کی گئی ، پھر تم اس میں رغبت کرنے لگو گے جس طرح ان لوگوں نے کی ، پھر وہ تم کو ہلاک کردے گی جس طرح پہلے لوگوں کو ہلاک کیا۔ مقصد یہ کہ دنیا کے معاملے میں تم ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کروگے اور پھر وہ تم کو ہلاک کردے گی۔ اسی لیے فرمایا کہ میری امت کا خاص فتنہ مال ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے ، کہ مال انسان کا اچھا ساتھی ہے۔ بشرطیکہ وہ اس میں سے اللہ اور اس کے بندوں کا حق ادا کرے۔ اور اگر حق ادا نہیں کرتا۔ تویہی مال اس کے لیے وبال جان ہے۔ مال کی جتنی بہتات ہوگی ، آزمائش بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ فتنے بھی اتنے ہی زیادہ برپا ہوں گے۔ مال کی وجہ سے ہی اسلام کے نام لیوا برائی اور عیاشی میں مبتلا ہیں۔ فضول امور میں خرچ میں دوسری اقوام سے آگے ہیں۔ دولت تو ہے مگر صحیح جگہ پر خرچ نہیں ہوتی غلط جگہ پر خرچ ہو کر فتنہ بن جاتی ہے۔ حیاداری : اخلاق کے متعلق بھی حضور ﷺ کا ارشاد ہے ان لکل دین خلقت ہر دین کا کوئی مخصوص اخلاق ہوتا ہے وخلق الاسلام الحیاء اور اسلام کا خلق حیا ہے۔ جب تک لوگوں میں حیا داری موجود ہے ، اخلاق موجود ہے۔ جب حیا نہ رہی تو اخلاق کا جنازہ نکل گیا۔ صحیح بخاری اور موطا امام مالک وغیرہ میں پہلے انبیاء کی تعلیم سے یہ بات اخذ کی گئی ہے اذا لم تسحی فاصنح ماشئت جب حیا کا دامن چھوڑ دیا جو چاہو کرتے پھرو ، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مصری شاعر شوقی نے کہا ہے انما الامم با لاخلاق مابقیت فاذاذھب اخلاقھم ذھبوا امتیں اخلاق کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں۔ جب ان میں اخلاق ختم ہوجائے تو امتیں بھی مٹ جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں کسی امت کا زندہ رہنا یا ختم ہوجانا کچھ مفید نہیں رہتا۔ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا اخلاق نہایت اعلی درجے کا تھا ، یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا پر غلبہ حاصل ہوا اور انہوں نے اس زمین پر نیکی کو رائج کیا۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا انسان کے حق میں مال اور اولاد دو بڑی آزمائشیں ہیں۔ لوگ انہی کی وجہ سے ایمان اور نیکی سے محروم ہوتے ہیں۔ مگر یہ دونوں چیزیں الہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ فرمایا ان چیزوں سے حد سے زیادہ محبت کرنے والوں کا انجام یہ ہوگا واولئک اصحب النار ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ ھم فیھا خلدون اور اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ کفار کا مہلک انفاق : اگلی آیت میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ کفار اس دنیا میں جو مال خرچ کرتے ہیں ، اس کی کیا حیثیت ہے۔ کیا اللہ کے ہاں اس قسم کے خرچ کا کوئی فائدہ ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک مثال کے ذریعے سمجھائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ مثل ماینفقون فی حذہ الحیوۃ الدنیا مثال اس کی جو خرچ کرتے ہیں ، اہل ایمان تو اس دنیا میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں ، وہ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں ، اور اس کا بدلہ اللہ کے ہاں یقینا بہتر ملے گا۔ مگر کافروں کے ساتھ معاملہ کیسے ہوگا برے کاموں می خرچ کرنے کے علاوہ وہ لوگ بعض اوقات اچھے کاموں پر بھی خرچ کرتے ہیں۔ غریبوں کی امداد کرتے ہیں ، سکول اور ہسپتال قائم کرتے ہیں ، یتیم خانے تعمیر کرتے ہیں ، پل اور سرائیں بنواتے ہیں اور اپنے اپنے مذاہب کے مطابق نیکی کے دوسرے کاموں میں روپیہ صرف کرتے ہیں۔ تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کے خرچ کیے ہوئے کی مثال ایسی ہے۔ کمثل ریح فیھا صر جیسے ہوا ہو جس میں سخت سردی ہو۔ اصابت حرث قوم ظلموا انفسھم یہ سرد ہوا ایسی قوم کی کھیتی پر آئی ہو ، جس نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ کھیت پک کر تیار ہو رہا ہے ، اناج سے بھرا پڑا ہے۔ خوب لہلہا رہا ہے۔ اتنے میں سخت ٹھنڈی ہوا آتی ہے فاھلکتہ اس کو ہلاک کردیتی ہے۔ اچھی بھلی کھیتی دیکھتے ہی دیکھتے تباہ و برباد ہوجاتی ہے اور اس کے مالک منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ فرمایا کفر کرنے والوں کے خرچ کی مثال ایسی ہی ہے۔ وہ اس دنیا میں رفاہ عامہ کے کاموں پر خرچ کر کے خوش ہو رہے ہیں کہ ان کا خرچ کیا ہوا مال انہیں بہت فائدہ دے گا۔ مگر حقیقت میں اللہ کے ہاں اللہ کے ہاں اس خرچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح کھیتی کا مالک آس لگائے بیٹھا تھا۔ مگر یخ ہوا نے اسے برباد کر کے رکھ دیا ، اسی طرح مال خرچ کرنے والے کافر امید کریں گے کہ مال خرچ کرنے کے عوض ان کو اجر عظیم ملے گا ، مگر ان کا یہ سارا کیا کرایا یکدم ضائع ہوجائے گا۔ اور ان کے لیے کچھ مفید نہ ہوگا۔ دنیا میں شہرت : فرمایا وما ظلمھم اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ایسے لوگوں کو اجر سے محروم کر کے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ بلکہ ولکن انفسکم یظلمون انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں عمل کی قبولیت کے لیے ایمان ، سحیح عقیدہ اور اعمال صلحہ کی شرط لگائی ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا " فمن یعمل من الصلحت وھو مؤمن " اجر اس کو ملے گا۔ جو ایمان لانے کے بعد اعمال صالحہ انجام دیگا ، جس کا ایمان ہی درست نہیں ہے جس کا عقیدہ ہی صحیح نہیں۔ جو توحید پر قائم نہیں ، اس کے نیک اعمال بھی آخرت میں کچھ کام نہ آئیں گے۔ ایسے لوگوں نے ند عقیدگی اختیار کر کے اپنے اندر مہلک مادہ پیدا کرلیا ہے ، جو ان کے صحیح اعمال کو بھی ضائع کر رہا ہے۔ البتہ ان کے دنیا میں اچھے کام ان کے لیے دنیا میں ہی عزت ، شہرت ، وجاہت اور وقار کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ چیزیں تو ان کو دنیا میں ہی حاصل ہوجاتی ہیں ، لہذا آخرت میں ان کے لیے کوئی حصہ باقی نہیں رہتا۔ کافروں کے علاوہ منافقوں کا بھی یہی حال ہے۔ سورة توبہ میں موجود ہے کہ منافقوں کا خرچ کردہ مال ان کے لیے کیوں مفید نہیں ہوتا ، اللہ تعالیٰ اس کو کیوں قبول نہیں کرتے ، اس لیے کہ ان کے دل و دماغ ناپاک ہیں ، ان کے دل نفاق سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کے اخلاق بگڑ چکے ہیں۔ یہی حال کفر کرنے والوں کا ہے ، کہ ان کا عقیدہ فاسد ہے۔ اس لیے ان کے نیکی کے کام بھی آخرت میں بےسود ہوں گے۔ البتہ اس دنیا میں ان کا بدلہ انہیں عزت و شہرت کی صورت میں مل جائے گا۔ برائی کا اثر نیکی پر : کفر ، شرک اور بعض گناہ ایسے ہوتے ہیں ، جن کا اثر انسان کی نیکیوں پر پڑتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، جو شضص ایک دفعہ شراب پی لیتا ہے ، چالیس دن تک اس کی نیکیاں یعنی نماز وغیرہ قبول نہیں ہوتی اگرچہ اس کے ذمہ سے نماز ادا تو سمجھی جائے گی ، مگر وہ بارگاہ الہی میں اس وقت تک قبول نہیں ہوگی جب تک شرابی صدق دل سے توبہ نہ کرلے۔ ایک اور صحیح حدیث میں حضور نبی کریم صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، جو شخص حرام کا ایک لقمہ پیٹ میں ڈالتا ہے ، چالیس دن تک اس کی عبادت قبول نہیں ہوتی ، حرام کا اتنا شدید اثر ہوتا ہے۔ ہاں اگر توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ اللہ نے تو ان پر احسان کیا ، جسم دیا ، صحت و توانائی دی ، حواس ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ، عقل و شعور جیسی نعمت دی ، انبیاء مبعوث فرمائے ، کتابیں نازل فرمائیں تاکہ انسان ہدایت کا راستہ اختیار کریں۔ ان تمام اسباب کی فراہمی کے بعد بھی اگر کوی کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے تو وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ اللہ نے ان پر زیادتی نہیں کی۔ کیونکہ " وما ربک بظلام للعبید " اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا " وما اللہ یرید ظلما للعباد " اللہ تو اپنے بندوں پر زیادتی کرنے کا ارادہ بھی نہیں فرماتے۔ یہ تو خود انسان ہیں ولکن انفسھم یظلمون جو خود اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ اپنے ایمان اور عقیدے کو خراب کرتے ہیں برے اعمال انجام دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا۔ یہ برے اعمال ان کی اپنی کمائی ہیں۔ اب اس کا بھگتان کرو۔ اگر نیکی انجام دی ہے۔ تو اللہ فرمائے گا کہ شکر کرو کہ میں نے تمہیں نیکی کی توفیق بخشی جس کا آج اچھا بدلہ مل رہا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے کافروں خرچ کردہ مال کی حیثیت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کرکے بات سمجھادی کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوگا۔
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ مخلص دوست بناؤ اپنوں کے سوا دوسروں کو۔ وہ تمہارے حق میں خرابی پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ اس چیز کو پسند کرتے ہیں جو تمہیں مشقت میں مبتلا کرے۔ تحقیق دشمنی ان کے مونہوں سے ظاہر ہوچکی ہے ، اور جو کچھ ان کے سینے چھپاتے ہیں ، وہ بہت زیادہ ہے ، تحقیق ہم نے تمہارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں ، اگر تم عقل رکھتے ہو۔

ربط آیات : اہل کتاب کی خرابی ، دشمنی اور عداوت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اور پھر یہ بھی بیان ہوچکا ہے۔ کہ ان کے مال اور اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔ جو مال وہ اسلام دشمنی کے لیے یا نیکی سمجھ کر خرچ کرتے ہیں وہ بھی رائیگاں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے مال کی حیثیت کو ایک مثال کے ذریعے واضح کیا۔ کہ جس طرح کسی عمدہ فصل کو ٹھنڈی ہوا تباہ کردیتی ہے۔ اس طرح کفر کرنے والوں کے خرچ کردہ مال بھی ضائع ہوجائیں گے۔ وجہ ظاہر ہے کہ عقیدے کی خرابی اور معاصی نیکیوں کو برباد کردیتے ہیں۔ اس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتے بلکہ وہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اب آج کے درس میں اہل ایمان کو تنبیہ کی جارہی ہے۔ کہ مسلمان اہل کتاب کی اسلام دشمنی کے پیش نظر ان کو اپنا مخلص دوست نہ بنائیں۔ مخلص دوست : ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنو اے ایمان والو ! لا تتخذوا بطانۃ من دونکم اپنوں کر سوا دوسروں کو اپنا مخلص دوست نہ بناؤ۔ یہاں پر بطانہ کا لفظ آیا ہے جو کہ خاص الخاص رازداں دوست کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے لیے بطانۃ الرجال بھی بولا جاتا ہے۔ عربی زبان میں بطانہ استر یعنی کوٹ کے اندر لگائے جانے والے کپڑے کو بھی کہتے ہیں۔ گویا یہ ایسی چیز ہے ، جو داخلی طور پر استعمال ہوتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے انصار مدینہ کے متعلق مرمایا الانصار شعار " والناس دثار " یعنی انصار میرے لیے بمنزلہ شعار یعنی اندر والے کپڑے کے ہیں اور باقی لوگ دثار یعنی باہر والے کپڑے چادر ، کمبل وغیرہ کی مانند ہیں۔ اس لحاظ سے شعار اور بطانۃ ہم معنی لفظ ہیں۔ اور یہ نہایت ہی مخلص دوست کے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ چناچہ شاہ عبد القادر محدث دہلوی (رح) اور مولانا شیخ الہند (رح) نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے۔ من دونکم میں اہل کتاب اور مشرک آتے ہیں ، بعض مفسرین نے منافقین کو بھی اس زمرہ میں شامل کیا ہے۔ تو مسلمانوں کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ایمان کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا مخلص دوست نہ بنائیں۔ مدینے میں دو مشہور قبائل اوس اور خزرج آباد تھے۔ یہ مشرک لوگ تھے ، اللہ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق بخشی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا۔ کہ یہ اپنی پرانی دشمنی ترک کر کے آپس میں شیر و شکر ہوگئے۔ ان قبائل کے مدینے کے یہودیوں سے دیرینہ تعلقات تھے ، جنہیں وہ اسلام لانے کے بعد نبھاتے رہے۔ مگر یہودی چون کی ایمان نہیں لائے تھے ، اس لیے وہ مسلمانوں کے مخلص دوست نہیں ہوسکتے تھے ، لہذا اللہ تعالیٰ نے اوس اور خزرج والوں کو بھی منع فرما دیا کہ یہودیوں کے ساتھ دوستی نہ رکھیں ، کیونکہ وہ اسلام اور اہل اسلام کو اچھا نہیں سمجھتے۔ گویا یہ آیت اوس اور خزرج والوں کے حق میں نازل ہوئی۔ مفسرین کرام نے اس آیت کی شان نزول میں ایک اور واقعہ بھی بیان کیا ہے حضرت عبادۃ بن صامت ضی اللہ عنہ انصار مدینہ میں سے عظیم المرتبت صحابی ہیں۔ مصر کی فتح کے دوران اسلامی لشکر کے سپہ سالار عمرو بن عاص ؓ نے حضرت عبادۃ ؓ کو مقوقس سے گفتگو کرنے کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔ آپ سیاہ رنگ کے دس بالشت قد کے آدمی تھے۔ بڑے عظیم انسان تھے انہوں نے حضور ﷺ کی خرمت میں عرض کیا ، حضور ! یہاں کے یہودیوں سے میرے مخلصانہ تعلقات ہیں۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں ان کو اپنے ساتھ جنگ میں شریک کرلوں۔ ی واقع جنگ احد یا جنگ خندق کا ہے۔ نبی (علیہ السلام) نے یہودیوں کی امداد لینے سے یہ کہ کر منع فرما دیا کہ ان سے خیر کی توقع عبث ہے۔ ان سے مسلمانوں کے حق میں نقصان کی توقع ہی کی جاسکتی ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے ساتھ دوستی کرنے سے روک دیا۔ لا تصاحب الامؤمنا مومن کے سوا کسی سے رفاقت نہ کرو۔ غیر مومن کی رفاقت سے نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ لہذا ان سے مخلصانہ دوستی نہ جوڑو۔ فساد انگیزی : فرمایا غیر مسلموں کی دوستی سے اس لیے منع کیا گیا ہے۔ کہ لایالونکم خبالا وہ تمہرے درمیان فساد پیدا کرنے میں کوئی کمی نہیں کریں گے۔ خبال عربی میں فساد کو کہا جاتا ہے۔ غیر مومنوں کی ہمیشہ یہ خواہش ہوگی۔ کہ مومنوں کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچائیں ، انہیں تمہاری خیر خواہی ہرگز منظور نہیں۔ ان سے رازداری قائم کرنے کی صورت میں مسلمانوں کو دنیا اور دین دونوں جگہ نقصان ہوگا۔ اس سے پہلے سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ کہ اہل کتاب ہرگز پسند نہیں کرتے کہ اہل اسلام پر خدا کی جانب سے کوئی بہتری نازل ہو یا ان کو دنیا میں عزت اور ترقی نصیب ہو ، وہ تو چاہتے ہیں کہ مسلمان ان سے زیادہ پستی میں چلے جائیں۔ اہل کتاب یہود و نصاری کے علاوہ اہل ہنود اور دہریوں کا بھی یہی حال ہے۔ مسلمانوں کی ترقی ان کو بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چناچہ اسی صورت میں پہلے گزر چکا ہے کہ ایک مومن کی دوستی ایک غیر مومن کے ساتھ کسی حال میں نہیں ہوسکتی۔ دوستی کے لیے کم از کم نظریات تو یکساں ہونے چاہییں مگر ایسا ممکن نہیں۔ یہاں تو صوت حال یہ ہے " لا اعبد ما تعبدون " بلکہ " لکم دینکم ولی دین " غیر مسلم کفر کو پسند کرتے ہیں ، جب کہ اہل اسلام کا منتہائے مقصود محض رضائے الہی ہوتی ہے۔ لہذا دونوں دوستوں کی آپس میں مخلص دوستی ممکن نہیں۔ اخلاق رواداری : البتہ کسی کے ساتھ اخلاق کے ساتھ پیش آنا ایک الگ چیز ہے۔ اس قسم کے اشارات سورة ہذا کے علاوہ سورة مائدہ اور سورٰ ممتحنہ میں بھی ملتے ہیں اسلامی ملک میں رہنے والے غیر مسلم جذیہ ادا کرکے اسلامی قوانین کے تحت زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ تاہم انہیں اپنے مذہب پر کاربند رہنے کی مکمل آزادی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ذمی کہلاتے ہیں۔ ذمیوں کی مال و جان اور عزت و آبرو اسی طرح محفوظ ہوتی ہے جس طرح مسلمانوں کی ہوتی ہے۔ انہیں تمام بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں ، مذہبی آزادی کے علاوہ کاروبار اور تجارت میں آزادی حاصل ہوتی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، جو شخص کسی ذمی کو تنگ کرے گا ، میں قیامت کے دن ذمی کی طرف سے خدا کے ہاں جھگڑا کروں گا ، آپ نے ذمیوں کو اتنے حقوق دیے ہیں۔ اس کے باوجود فرمایا کہ ان سے دوستانہ قائم نہیں ہوسکتا۔ مخلص دوستی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوگی۔ کسی کافر کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ خصوصا یہود ونصری کے متعلق تو خاص احتیات کی ضرورت ہے ، اس کا تذکرہ آگے اس سورة میں بھی اور اس کے بعد بھی آئے گا۔ کلیدی آسامیوں پر تقرری : غیر مسلموں سے دوستی اور رازداری کرنے سے اس لیے منع فرمایا گیا کہ یہ لوگ اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ لہذا کوئی راز کی بات ان تک نہیں پہنچنی چاہیئے۔ ایسا کرنے سے مسلمانوں کی ترقی اور تبلیغ میں رکاوٹ پیدا ہونے کا احتمال سے۔ اسی لیے امام ابونکر جصاص (رح) فرماتے ہیں۔ کسی غیر مسلم کو اسلامی ملک میں کسی کلیدی عہدے پر فائز نہیں کرنا چاہیئے۔ انہیں نہ وزیر بنانا چاہیئے ، نہ مشیر اور نہ ہی پارلیمنٹ کا ممبر منتخب کرنا چاہیئے۔ جمہوریت میں تو ایسا درست ہے مگر اسلامی نقطہ نظر سے ایسا ناجائز ہے ، کسی عیسائی ، یہودی ، ہندو یا قادیانی کو وزیر یا مشیر یا افواج کا کمانڈر بنا دیا جائے ، تو معاملہ بگڑ جائے گا۔ جب کارنیلس کو وزیر قانون بنایا گیا تھا تو ہم نے اسی وقت کہا تھا کہ جو شخص اسلامی قانون پر ایمان پر ہی نہیں رکھتا اس کو وزیر قانون کیسے بنایا گیا ہے ، پارلیمنٹ کا غیر مسلم ممبر اسلامی قانون کی قانون سازی میں کیسے حصہ لے سکتا ہے۔ مگر یہ بات حکومت کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ حضرت عمر ؓ کے دور میں حضرت حذیفہ ؓ نے اپنا کاتب ایک غیر مسلم کو مقرر کرنا چاہا تھا ، مگر آپ نے انکار کردیا تھا اور فرمایا جسے خدا نے دور کیا تم اسے کیوں قریب کرنا چاہتے ہو۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نر ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے اور تفسیر احکام القرآن میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ کہ وثیق نامی روم کا عیسائی حضرت عمر ؓ کا غلام تھا۔ بڑا ذہین اور اعلی درجے کا حساب دان تھا۔ آپ نے فرمایا اگر تم ایمان لے آؤ تو میں تمہیں کوئی ذمہ داری کا کام سونپ دوں۔ مگر وہ شخص ایمان نہ لایا۔ اور آپ نے اسے کوئی عہدہ نہ دیا۔ جب آپ زخمی ہوگے تو اسے پھر بلا کر ایمان اور عہدہ کی پیشکش کی مگر وہ رضامند نہ ہوا۔ آپ نے اسے آزاد کردیا مگر کوئی عہدہ نہ دیا۔ اس رویت سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کی اسلام میں جبر نہیں ہے۔ " لا اکراہ فی الدین " کسی کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جاسکتا اور دوسری بات یہ کہ کسی غیر مسلم کو اسلامی حکومت میں کوئی کلیدی آسامی پیش نہیں کی جاسکتی۔ اگر ایسا ہوگا تو اسلامی حکومت کے لیے لازما نقصان کا باعث ہوگا۔ مسلمانون کے ساتھ بد خواہی : غیر مسلموں کی خصلت بیان فرماتے ہوئے فرمایا ودوا ماعنتم وہ تمہاری مشقت کو پسند کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر ہے " ولوشاء اللہ لا عنتکم " اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت ، یں مبتلا کردیتا۔ ان کی دلیخواہش یہ ہوتی ہے کہ مسلمان مصیبت میں گرفتار ہوں۔ اور دیکھو قد بدت البغضاء من افواھہم ان کی اسلام دشمنی کی بات بعض اوقات ان کی زبانوں پر بھی آجاتی ہے۔ وہ لاکھ کوشش کریں کہ ان کی اسلام دوستی مخفی رہے مگر پھر بھی منہ سے کوئی نہ کوئی بات ایسی نکل جاتی ہے جو ان کی اندرونی خباثت کا مظہر ہوتی ہے۔ سئہ 1971 میں جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو اندا گاندھی کی زبان سے یہ بات نکل گئی تھی کہ ہم نے ہندوستان پر مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کا بدلہ لے لیا ہے۔ اسی طرح انگریز ، عیسائی ، امریکی ، ہنود اور یہود ہمیشہ مسلمانوں کے بدخواہ ہی رہیں گے اور اس دشمنی کا اظہار وقتا فوقتا ان کی زبانوں سے ہوتا رہے گا۔ یہ لوگ قرآن پاک اور حضور نبی کریم ﷺ کی توہین کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔ ایک انگریز نے یہ ہرزہ سرائی کی تھی کہ مسلمانوں کے آخری نبی تو بادشاہ تھے وہ تو لونڈیوں کے ساتھ کھیلتے رہتے تھے ( العیاذ باللہ) ایک اور انگریز نے کوئی چالیس سال پہلے اپنے کتے کا نام احمد رکھا تھا۔ اس پر ساری دنیا میں احتجاج ہوا۔ کوئی اپنے اونٹ کا نام محمد رکھتا ہے ہے تاکہ مسلمانوں کو ذہنی کوفت ہو۔ ایک اور خبیث نے اپنے رسالے میں حضرت علی ؓ کے متعلق لنگور کا لفظ استعمال کیا تھا۔ بہرحال اس قسم کی اذیت ناک باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ اسی لیے غیر مسلموں کے ساتھ دوستی سے منع فرمایا گیا ہے۔ ان لوگوں نے قرآن پاک کے متعلق بھی اپنی خباثت کا اظہار کیا ہے۔ اسے رجعت پسندانی کتاب کا نام دیا گیا ہے ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ کا وزیر اعظم گلیڈ سٹون تھا ، اس نے قرآن پاک کو ہاتھ میں لے کر ہا تھا ، کہ جب تک یہ کتاب موجود ہے دنیا مہذب نہیں ہوسکتی ، لہذا اس کتاب کو ختم کرنا ہوگا ( نعوذ باللہ) متحدہ ہندوستان کے صوبجات متحدہ کا گورنر سرولیم میور نہ صرف عیسائی تھا بلکہ بہت بڑا پادری تھا۔ اس نے کہا تھا۔ کہ انسانیت کی دشمن دو چیزیں ہیں۔ ایک محمد کا قرآن اور دوسری اس کی تلوار ، جس کے ساتھ وہ جہاد کرتے ہیں۔ اسلام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت اسکی کتاب (life of muhammad) (سوانح محمد) میں موجود ہے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں۔ جو ایل اسلام کے لیے نہایت تکلیف دہ ہیں۔ بات وہی ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں کبھی مسلمانوں کی خیر خواہ نہیں ہو سکتیں۔ ان کی اندرونی خباثت بسا اوقات ان کی زبانوں پر تو آتی رہتی ہے۔ مگر وما تخفی صدور ھم اکبر جو کچھ ان کے دلوں میں چھپی ہوئی غلاظت ہے ، وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ لہذا ان سے ہمیشہ خبردار زہنا چاہیئے۔ کوئی راز کی بات ان تک نہیں پہنچنی چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قد بینا لکم الایت ہم نے اپنی نشانیاں ار احکام کھول کھول کر بیان کردیے ہیں۔ ان کنتم تعقلون اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو تو ان پر سختی سے عمل پیرا ہوجاؤ۔ اور اگر اس کے باوجود تم غیر مسلموں پر اعتماد کروگے ان کو وزیر مشیر بناؤ گے بڑے بڑے عہدوں پر فائز کروگے تو پھر بہت بڑے قومی نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔
Ayahs 3:119–120

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

سنو اے لوگو ! تم ان سے محبت کرتے ہو ، اور وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پر۔ اور جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہیں ہم بھی ایمان لائے ہیں۔ اور جب وہ الگ ہوتے ہیں تو غصے کی وجہ سے تم پر انگلیاں کاٹتے ہیں۔ اے پیغمبر ! آپ کہ دیجیے تم اپنے ہی غصہ سے مرو۔ بیشک اللہ سینے کے رازوں کو جانتا ہے۔

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اگر تم کو کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو ان کی تدبیر کچھ نقصان نہ پہنچائے گی۔ بیشک اللہ احاطہ کرنے والا ہے ، اس کا جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں۔

ربط آیات : اہل کتاب کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب مشرکین اور منافقین سے دوستی کرنے سے منع فرمادیا۔ اور خبردر کردیا کہ ان کو اپنے دلی رازدان نہ بناؤ، ورنہ وہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد کی اگ بھڑکا دیں گے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جو چیز تمہیں مشقت میں ڈالتی ہے وہ اس کو پسند کرتے ہیں۔ ان کی اسلام دشمنی بسا اوقات ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمہارے خلاف جو بغض وعناد ان کے دلوں میں پوشیدہ ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ تم اس کا اندازپ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تمام احکام کھول کر بیان کردیے ہیں۔ اگر تم عقل و شعور رکھتے ہو ، تو ان کو سمجھ جاؤ اور غیر مسلموں کو اپنا دلی دوست نہ بناؤ۔ نہ ہی ان کو راز سے آگاہ کرو ، انہیں وزیر اور مشیر بھی نہ بناؤ، کہ اس طرح تمہاری اندرونی باتیں ان تک پہنچتی ہیں ، جو تمہارے نقصان کا باعث بنتی ہیں ، وہ تمہاری کامیابی پر کبھی خوش نہیں ہونگے ، لہذا ان کی ہر وقت کوشش یہ ہوگی کہ تم کسی نہ کسی طرح ناکام ہو کر مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ۔ اسی سورة میں تیسرے پارہ میں احکام بیان ہوچکے ہیں ، کہ مومن کی دلی دوستی کسی صورت میں بھی کافر کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ البتہ ذمیوں کے ساتھ یا ایسے لوگوں کے ساتھ جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو ، ان سے نیکی اور احسان کا سلوک روا ہے۔ جو غیر مسلمان مسلمانوں سے برسرپیکار نہیں ، نہ وہ اپنے ہاں کے مسلمانوں کو ملک بدر کرتے ہیں ، ان کے ساتھ اچھے اخلاق کا مظاہر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان تبروھم وتقسطوا الیھم انکے ساتھ نیکی اور انصاف کرو تاہم دلی دوستی اور رازداری ان کے ساتھ بھی نہیں ہوسکتی۔ افشائے راز : حاطب بن ابی بلتعہ ؓ بلند پایہ صحابی رسول ہیں۔ آپ جنگ بدر میں بھی شریک ہوئے ، مگر یہ ایک معاملہ میں لغزش کھا گئے۔ ان کے بچے ابھی تک مکہ میں تھے قریش مکہ کی طرف سے اپنے بچوں کی خیر سگالی کے جذبات حاصل کرنے کے لیے انہوں نے مسلمانوں کے مکہ پر حملہ آور ہونے کا کا راز مکہ والوں کو پہنچانے کی کوشش کی۔ ایک عورت کو اس غرض کے لیے خط دے کر مکہ روانہ کیا۔ حضور علیہالسلام کو اس بات کی خبر بذریعہ وحی ہوئی ، تو آپ نے سوار بھیج کر اس عورت کو راستے میں ہی جالیا اور اس سے خط برآمد کرلیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے پوچھ گچھ ہوئی ، انہوں نے اہنی مجبوری کا اظہار کیا اللہ کے رسول نے اس کی تصدیق کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورة ممتحنہ کی آیات نازل فرمائیں " یایھا الذین امنو لا تتخذوا عدوی وعدوقم اولیاء " اے ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ ان کو راز کی باتیں مت بتاؤ۔ اب تو معافی ہوگئی ہے۔ آئندہ ایسی حرکت نہیں ہونی چاہیئے۔ آج ہمارے گردوپیش یہی کچھ ہو رہا ہے۔ کافر ، عیسائی ، یہودی اور دہریہ طاقتیں مسلمانوں کے اندرونی معاملات میں دخیل ہو رہی ہیں۔ مسلمان اپنی نالائقی کی وجہ سے اپنے مشن سے ہٹ چکے ہیں ، نتیجہ یہ ہے۔ کہ ہر معاملے میں اغیار کو رازداں بنایا جارہا ہے۔ ان سے مشورے طلب ہوتے ہیں ، اور پھر وہی لوگ اندرونی راز حاصل کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ، تاکہ وہ ہمیشہ انہی کے دام میں گرفتار ہیں۔ خلافت اسلامیہ : اس وقت دنیا میں پچاس کے قریب اسلامی حکومتیں ہیں مگر کوئی بھی اپنی رائے میں آزاد نہیں ہے۔ سب غیر مسلموں کے دست نگر ہیں۔ تمام اہم امور انہی کے مشورے سے انجام پاتے ہیں۔ جب سے خلافت ترکی کا خاتمہ ہوا ہے مسلمانوں کا وقار ختم ہوگیا ہے۔ شیخ السلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) نے اپنے خطبہ میں لکھا ہے کہ مصر کا ایک انگریز اپنے ملازم سے کہ رہا تھا۔ کہ ہم تمہارے خلیفہ سے بہت خائف ہیں۔ جب کوئی شکایت خلیفہ کے پیش ہوتی ہے وہ اس کے تدارک کی فورا کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے کفار کو حزیمت اٹھانا پڑتی ہے۔ اگر خلافت کی طاقت نہ ہوتی ، تو ہم مسلمانوں کو بہت ذلیل کرتے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب خلافت اسلامیہ بلکل کمزور ہوچکی تھی۔ اور جب یہ اپنے عروج پر تھی ، تو کسی کو مسلمانوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ اب حالات بالکل بدل چکے ہیں اور مسلمان ہر جگہ غیر مسلموں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے۔ کہ اب مسلمان اپنے مشن کو ترک کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب دنیا میں ان کو عزت کا کوئی مقام حاصل نہیں۔ اب وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی بجائے اغیار کے مشوروں کے سہارے پر چل رہے ہیں ، کوئی معاملہ ہو ، سیاسیات ہوں یا اقتصادیات ، زراعت ہو یا تجارت ہر چیز میں غیر مسلم دخیل ہیں ، حتی کہ تہذیب اور فیشن بھی انہی کا اپنا لیا گیا ہے ، وقار تو ان قوموں کو ہوتا ہے ، جو اپنے نظریے پر قائم ہوں۔ مسلمان جب تک اپنے مشن پر قائم رہے انہیں دنیا میں عزت و وقار حاصل تھا۔ مگر اب ہم نے غیروں سے مشورے طلب کرکے خود ان کو اپنا راز داں بنا لیا ہے۔ وہ ہمیں اچھا مشورہ کیسے دے سکتے ہیں۔ وہ تو ہمیشہ ہماری ٹانگ کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ غیر اوام کے ساتھ دلی دوستی قائم نہیں کرنی چاہئے۔ یکطرفہ محبت : اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ھانتم اولاء تحبونہم۔ اے ایمان والو ! تم تو دوسروں سے محبت کرتے ہو ، ولا یحبونکم۔ مگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے مطلب یہ کہ تم تو عیسائیوں ، یہودیوں ، انگریزوں اور امریکنوں کو اپنا رازدار بنا رہے ہو ، ان کو مشیر بنا رکھا ہے ، ان سے محبت بڑھا رہے ہو۔ مگر وہ تم سے دلی لگاؤ نہیں رکھتے۔ لہذا ان کے ساتھ تمہاری محبت یکطرفہ ہے۔ محبت ہمیشہ جانبین کی طرف سے ہونی چاہئے۔ تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے۔ لہذا صرف تمہاری طرف سے یکطرفہ محبت کوئی محبت نہیں ، وہ تو اللہ ، اس کے رسول اور قرآن پاک کے شدید ترین دشمن ہیں۔ لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود۔ مسلمانوں کے حق میں سب سے زیادہ دشمن یہودی ہیں۔ اس کے بعد مشرکین اور نصاریٰ کا نمبر آتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ صرف تمہاری طرف سے دوستی اور محبت اہل اسلام کے لیے لازماً نقصان کا باعث ہوگی۔ ایمان بالکتب : فرمایا کہ اہل ایمان اور اہل کتاب میں ایک بنیادی فرق یہ ہے۔ وتومنون بالکتب کلہ۔ تم یعنی اہل ایمان تو تمام آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ منجانب اللہ ہونے کی حیثیت سے تمہارے نزدیک زبور ، تورات ، انجیل اور قرآن پاک سب برابر ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا۔ بما انزل اللہ من کتب۔ اللہ تعالیٰ نے جو بھی کتاب ، جس نبی پر نازل فرمائی ہے ، خواہ وہ کسی بھی زمانے میں نازل ہوئی ہو ، اہل ایمان اس کو برحق مانتے ہیں۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے ہیں ، مگر اہل کتاب قرآن پاک کو اللہ کی کتاب نہیں مانتے۔ یہودی ہمیشہ قرآن پاک کی مخالفت میں تمام اخلاقی حدود کو پامال کرتے رہے ہیں۔ فرانس کا ایک انگریز نولڈک نامی ہوا ہے ، اس نے کہا کہ محمد پر مرگی کا دورہ پڑتا تھا (العیاذ باللہ) اور اس دوران بڑبڑانے سے جو کچھ ان کے منہ سے نکلتا تھا ، اس کو جمع کرکے قرآن بنادیا گیا۔ بعض کہتے ہیں۔ کہ جوانی کے دور میں حضور ﷺ کی ملاقات نسطورا نامی راہب سے ہوئی تھی۔ اس نے جو باتیں آپ کو سکھائیں ، وہ قرآن بنا کر پیش کردیا گیا ، کہ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اہل کتاب قرآن پاک کو انسانیت کا دشمن سمجھتے ہیں۔ جب کہ ہمارے نزدیک انسانیت کی بہتری کے لیے سب سے اعلی کتاب قرآن کریم ہے۔ ان حالات میں جب کہ اہل ایمان اور اہل کتاب کی دوستی کی بنیادی ہی نہیں ہے ، تو ان کے ساتھ دوستی کیسے ہوسکتی ہے۔ یہ ناممکن ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا کہ ان کو رازداری کی بات نہ بتا دینا ، ورنہ وہ نقصان پہنچائیں گے۔ منافقین کا اظہارِ خفگی : آگے اللہ تعالیٰ نے یہودی منافقین کی ایک اور خصلت بیان فرمائی ہے۔ واذا لقوکم قالوا امنا۔ جب وہ تم سے یعنی مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں۔ واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیظ۔ اور جب الگ ہوتے ہیں ، تو غصے کے مارے انگلیوں کو چباتے ہیں۔ جب کسی انسان کی مرضی کے خلاف کوئی چیز واقع ہوجائے تو اسے نہایت افسوس ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی بےبسی کے طور پر غصے میں دانت پیستا ہے ، اور کبھی ہاتھوں کی انگلیوں کو دانتوں سے کاٹتا ہے اور ہاتھ کی پشت پر دانت نصب کردیتا ہے ایسا نہایت غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ منافق قسم کے یہودی بظاہر تو تمہارے ساتھ ایمان کے رشتے جوڑتے ہیں۔ مگر جب تم سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں تو تمہاری ہر کامیابی ان کو سخت گراں گزرتی ہے۔ اور وہ غصے کے مارے دانت پیستے بلکہ انگلیاں کاٹنے لگتے ہیں۔ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! یہ لوگ آپ کے اور ایمان والوں کے خلاف غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔ اس صورتحال میں۔ قل۔ آپ ان سے کہہ دیں ۔ موتوا بغیظکم۔ تم اپنے ہی غصے کی آگ میں جل مرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ جب کسی سے قطع تعلقی کرنا ہو ، تو اسے کوئی چبھتی ہوئی بات کہہ دینی چاہئے تاکہ وہ سمجھ جائے کہ اب یہ تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ، یہ الفاظ بھی اسی قسم کے ہیں۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کا دوستانہ نہیں رہ سکتا ، ہم تمام آسمانی کتابوں کو برحق سمجھتے ہیں مگر وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب ماننے پر تیار نہیں۔ ہم تمام انبیاء کی تصدیق کرتے ہیں مگر وہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) پر ایمان لانے کو تیار نہیں تو پھر دوستی کی بنیاد ہی ختم ہوگئی۔ لہذا ان کو یہ دل شکن بات کہہ دی گئی۔ کہ جس غیظ و غضب کا اظہار تم مسلمانوں کے خلاف کر رہے ہو ، خود اسی غصے سے مرجاؤ۔ فرمایا اگرچہ تم بظاہر ایمان کا اظہار کرتے ہو ، مگر یاد رکھو ! ان اللہ علیم بذات الصدور۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سینوں کے راز یعنی ان میں بھری ہوئی غلاظت سے خوب واقف ہے ، وہ جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام ، اہل ایمان اور اللہ کی کتاب قرآن پاک کے خلاف تمہارے دلوں میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے ، تمہاری کچھ خباثت تو تمہاری زبانوں سے بھی بعض اوقات ظاہر ہوجاتی ہے۔ مگر جس چیز کو تم چھپا رہے ہو ، اللہ سے کچھ مخفی نہیں۔ وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔ پھر اس کی گرفت سے بچ نہیں سکوگے۔ فرمایا اے ایمان والو ! ان تمسسکم حسنۃ تسؤھم۔ اگر تمہیں کوئی اچھائی پہنچے تو منافقین کو ناگوار گزرتی ہے ، تمہاری کامیابی دیکھ کر جل جاتے ہیں ، مسلمانوں کی تعداد میں ضافہ ہو ، کسی جنگ میں فتح ہو تو ان پر گراں گزرتا ہے۔ وان تصبکم سیئۃ یفرحوا بھا۔ اور اگر تم کو کوئی تکلیف پہنچے شکست ہوجائے ، کچھ آدمی مارے جائیں۔ مالی نقصان ہوجائے۔ تو یہ بڑے خوش ہوجائے ، کچھ آدمی مارے جائیں۔ مالی نقصان ہوجائے ، تو یہ بڑے خوش ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ان لوگوں سے دوستی کبھی مفید نہیں ہوسکتی ہے ، کیونکہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد و غم خوار ہوں گے۔ المومن اخو المومن۔ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے۔ اور پھر انما المومنون اخوۃ۔ تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ لہذا دلی دوستی اپنے بھائیوں سے رکھو۔ دشمنانِ خدا اور دشمنان رسول سے لاتعلقی کا اظہار کرو۔ ان سے دوستی نقصان کا باعث ہوگی۔ دفاع کا طریقہ : فرمایا اہل کتاب کی طرف سے ہر قسم کی ضرر رسانی کا دفاع دو طریقوں سے ممکن ہے۔ پہلی چیز ہے۔ وان تصبروا۔ اگر تم صبر کرو۔ مومن کے لیے صبر ایک بہت بڑا دفاع ہے۔ صبر ملت ابراہیمی کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے۔ سورة بقرہ میں ملت ابراہیمی کے اصولوں کی تشریح آ چکی ہے توحید ، ایمان ، ذکر ، شکر ، صبر ، شعائر اللہ کی تعظیم ، نماز ، طہارت وغیرہ کا بیان مختلف دروس میں آ چکا ہے۔ صبر کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ اور اس کی ہر موقع پر ضرور پڑتی ہے۔ مصیبت میں صبر ، اطاعت میں صبر ، خواہشات نفسانیہ پر قابو پانے میں صبر انسان کو حد اعتدال سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کی تعریف بھی بیان کی ہے۔ اللہ مع الصبرین۔ اللہ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑتا۔ بلکہ انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب۔ ان کو قیامت کے دن بغیر حساب کے اجر عظیم عطا کرے گا۔ فرمایا دفاع کا دوسرا طریقہ وتتقوا ہے۔ صبر کے ساتھ ساتھ اگر تقوی اختیار کیے رکھو گے۔ گناہ سے بچتے رہوگے ، تو پھر تمہارا پورا پورا دفاع ہوگا۔ لایضرکم کیدھم شیئا۔ دشمنان اسلام کی کوئی مکاری اور حیلہ سازی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی۔ نقصان وہاں ہوگا۔ جہاں صبر اور تقوی کا فقدان ہوگا۔ صابرین کا نمونہ دیکھنا ہے۔ تو حضور ﷺ کے صحابہ کرام پر ایک نظر ڈال لو۔ وہ تقوی کی اعلی منزل پر تھے۔ انہیں کے نقش قدم پر چل کر تم بھی صبر اور تقوی کے اوزار زیب تن کرسکتے ہو جن کے ذریعے دشمن کے ہر حملے کا دفاع کیا جاسکتا ہے۔ ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا۔ اگر اللہ سے ڈرتے رہوگے ، تو وہ ہر مقام پر تمہارے حق میں بہتر فیصلہ کرتا چلا جائے گا۔ اس نے بدر میں تمہارے حق میں فیصلہ دیا ، فتح مکہ میں تمہاری مدد کی۔ تبوک میں تمہیں فتح عطا کی۔ ہاں بعض اوقات نیکوکاروں کو بھی تکلیف آجاتی ہے اس سے گھبرا کر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ مومن کے لیے ایسی تکلیف یقیناً اس کے رفع درجات اور نجات کا باعث بنتی ہے۔ اگرچہ بظاہر نقصان ہوتا ہے مگر حقیقت میں ایک مومن آدمی نفع میں ہی رہتا ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اصول بتا دیے کہ اپنے علاوہ غیروں کو راز دار نہ بناؤ۔ ان کی مکاریوں کا دفاع صبر اور تقوی کے ساتھ کرو ، تو تم ہمیشہ مامون رہوگے۔ جنگ کے لیے تیاری : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اصول بتا دیے کہ اپنے علاوہ غیروں کو راز دار نہ بناؤ۔ ان کی مکاریوں کا دفاع صبر اور تقوی کے ساتھ کرو ، تو تم ہمیشہ مامون رہوگے۔ البتہ ان اللہ بمایعملون محیط۔ اللہ تعالیٰ ان کے ہر عمل کا احاطہ کرنے والا ہے۔ ان کی شرارتوں کی سزا ان کو ضرور مل کر رہے گی۔ وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 3:121–122

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور جب آپ صبح کے وقت نکلے اپنے گھر سے ، آپ ٹھکانے مقرر کرتے تھے ایمان والوں کے لی لڑائی کے واسطے ، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

جب خیال کیا تم میں سے دوگروہوں نے کہ وہ بزدل ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ ہی ان کا ولی ہے۔ اور چاہئے کہ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

ربط آیات : پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دشمنی اور عناد کا تذکرہ کرکے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی ممانعت فرمائی اور یہ بھی بتا دیا کہ جو عناد ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے ، وہ بہت زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یاد دلایا کہ تم تمام آسمانوں کتابوں پر ایمان رکھتے ہو ، مگر اہل کتاب قرآن پاک کو اللہ کا کلام تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ، فرمایا ان حالات میں تمہاری اہل کتاب کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں۔ اگر ان سے قریبی تعلقات قائم کیے گئے تو وہ اہل اسلام کو نقصان پہنچائیں گے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ اے ایمان والو ! اگر تم صبر اور تقوے پر قائم رہوگے ، تو اہل کتاب اپنی تمام تر عداوت کے باوجود تمہاری کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے تمام اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ صبر اور تقوے : شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) سے تقوی کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے آیت کریمہ ان اللہ یامر بالعدل والاحسان۔ پڑھ کر سنا دی۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ تقوی سے مراد کفر ، شرک اور معاصی سے بچاؤ اور عدل و انصاف پر قیام ہے۔ عدل ایک بنیادی اصول ہے جس پر تمام بنی نوع انسان کا عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ عادل لوگ ہی دنیا میں اچھا نظام قائم کرسکتے ہیں۔ اسی عدل کی بدولت اچھی حکومت اور اچھی سوسائٹی معرض وجود میں آتی ہے۔ جہاں عدل نہیں ہوگا۔ وہاں نہ حکومت اچھی ہوگی ، نہ سوسائٹی۔ لہذا مسلمانوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر انہیں شکست ہوجائے یا کوئی نقصان اٹھانا پڑے ، تو ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے تقوے اور صبر میں خرابی پیدا ہوگئی ہے وہ ان زریں اصولوں پر قائم نہیں رہ سکے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ان اصولوں پر قائم رہوگے ، تو دشمن کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کامیاب نہیں ہوگی۔ اب آج کے درس میں دو واقعات کی طرف اشارہ کرکے مثال بیان کی جا رہی ہے۔ کہ دیکھو ! بدر کے میدان میں اہل ایمان نے اللہ کی ذات مکمل بھروسہ کیا ، تقوے اور صبر کا دامن تھامے رکھا ، تو اللہ نے انہیں فتح عطا کی ، حالانکہ تعداد کے لحاظ سے مسلمان قلیل تھے ، اور سامان حرب کی بھی شدید قلت تھی۔ دوسری طرح احد کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد بدر کی نسبت زیادہ تھی ، مگر صبر اور تقوے میں کمی آنے کی وجہ سے شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ آگے جنگ احد کے واقعات تفصیلاً آ رہے ہیں۔ اور اس موقع پر مسلمانوں کی طرف سے جو غلطی سرزد ہوئی تھی ، اس پر تنبیہ فرمائی گئی ہے ، کہ آئندہ ایسی چیز کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے۔ جنگ احد کا پس منظر : رمضان 2 ھ میں جنگ بدر لڑی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسی شاندار فتح عطا کی ، جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ قریش مکہ اپنی اس شکست سے سخت سیخ پا ہوئے اور ان کے دلوں میں انتقام کا جذبہ بھڑکنے لگا۔ ابوسفیان کے جس تجارتی قافلہ کی حفاظت کے نام پر یہ جنگ لڑی گئی ، اس کا سارا منافع مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے وقف کردیا گیا۔ جنگ بدر میں بڑے بڑے آئمہ کفر مارے گئے تھے ، کسی کا باپ مارا گیا ، کسی کا بیٹا قتل ہوا ، سب غیظ و غضب سے بھرے ہوئے تھے۔ لہذا وہ پوری تیار کے ساتھ مدینہ طیبہ پر حملہ آور ہوئے۔ صحابہ ؓ سے مشورہ : جب اس حملہ کی خبر مدینہ منورہ پہنچی تو حضور ﷺ نے صحابہ کو جمع کرکے ان کا مشورہ طلب کیا ، کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کرنا چاہئے یا شہر سے باہر کھلے میدان میں۔ اس معاملہ میں واضح طور پر دو رائیں تھیں۔ نوجوان طبقہ خصوصاً وہ صحابہ جو جنگ بدر میں شامل نہیں ہوسکے تھے ، ان میں جوش و ولولہ تھا ، اور وہ دشمن کا مقابلہ باہر نکل کر کرنا چاہتے تھے۔ ان کی اکثریت تھی۔ تاہم انصار کی اکثریت کی رائے یہ تھی کہ دشمن کی کثیر تعداد کے پیش نظر مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کرنا چاہئے۔ ان کا خیال تھا کہ مجاہدین کے علاوہ عورتیں اور بچے بھی شہر کی جنگ میں شریک ہوسکتے ہیں۔ وہ پتھروں کی بارش کرکے بھی غنیم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے پہلے تجربہ بھی یہی تھا۔ کہ شہر پر حملہ آور ہونے والوں کو چنداں کامیابی نہیں ہوتی رہی تھی ، لہذا ان لوگوں کا مشورہ یہ تھا کہ شہر میں رہ کر مقابلہ کیا جائے۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی رائے بھی یہی تھی۔ خود حضور نبی کریم ﷺ کی ذاتی رائے بھی اندرون شہر مقابلہ کرنے کے متعلق تھی۔ چونکہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نہیں آئی تھی۔ اس لیے عام اصول۔ وشاورھم فی الامر۔ کے مطابق آپ نے مشورہ طلب کیا اور اکثریت رائے کے مطابق شہر سے باہر جا کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یاد رہے کہ مشورہ کرنا اسلام کے اہم اصولوں میں سے ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ، جو بات مشورے سے کی جاتی ہے ، اس میں نقصان نہیں ہوتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ مشورہ ہر کس و ناکس سے نہیں ہوتا بلکہ دانا ، سمجھدار ، متقی اور صائب الرائے لوگوں سے ہوتا ہے۔ یہ ایک الگ اصول ہے جس کی تشریح اسی سورة میں آگے آ رہی ہے۔ حضور ﷺ کے خواب : اس دوران حضور ﷺ نے خواب دیکھا ، جس کی تعبیر بھی خود آپ نے بیان فرما دی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں ایک ذبح شدہ گائے دیکھی۔ جس کی تعبیر یہ ہے کہ ہمیں خیر حاصل ہوگی۔ خواب کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ میں نے اپنی تلوار ذوالفقار کو حرکت دی تو وہ ٹوٹ گئی اور اس میں دندانے پڑگئے ، اس کی تعبیر یہ ہے۔ کہ ہمیں ہزیمت ہوگی۔ مورخ ابن ہشام لکھتے ہیں کہ تلوار میں دندانے پڑنے کی تعبیر میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے اہل بیت کا ایک شخص شہید ہوگا ، چناچہ سید الشہداء حضرت امیر حمزہ اس خواب کی تعبیر بنے۔ خواب کا تیسرا جزو حضور نے یہ فرمایا کہ میں نے ایک محفوظ مقام پر زرہ میں ہاتھ ڈالا ہے آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد مدینہ منورہ ہے۔ الغرض ! نبی (علیہ السلام) کی ذاتی رائے مدینہ کے اندر رہ کر مقابلہ کرنے کی تھی مگر آپ نے اکثریت کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ بہرحال حضور ﷺ گھر تشریف لے گئے اور پھر زرہ پہن کر باہر تشریف لائے۔ بعض صحابہ نے اس بات پر ندامت کا اظہار کیا۔ کہ انہوں نے آپ کی ذاتی رائے پر عمل نہیں کیا۔ چناچہ انہوں نے عرض کیا کہ اگر آپ کی رائے کے مطابق بہتر یہی ہے۔ تو دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر ہی کیا جائے ، مگر حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی نبی کے لائق نہیں ہے۔ کہ وہ ہتھیار پہن کر رک جائے ، لہذا اب باہر نکل کر ہی مقابلہ کرنا ہوگا۔ شوال کی 12 یا 13 تاریخ اور جمعہ کا دن تھا۔ حضور ﷺ نے جمعہ کی نماز مدینہ منورہ میں ادا کی اور اپنے جانثاروں کے ساتھ احد کی طرف روانہ ہوئے۔ ابتدا میں آپ کے ہمراہ ایک ہزار کا لشکر تھا ، مگر جیسا کہ آگے اشارات ملتے ہیں ، اس میں سے تین سو آدمی راستے میں سے واپس چلے گئے۔ واقعہ یوں ہوا کہ عبداللہ بن ابی نے بعض لوگوں کو جنگ سے بدگمان کردیا۔ ایک تو اس کی شہر میں لڑنے کی رائے سے اتفاق نہیں کیا گیا تھا۔ دوسرے وہ دشمن کے مقابلہ میں مسلمانوں کی قلیل تعداد کے پیش نظر ان کو کمزور سمجھتا تھا ، لہذا اس نے بزعم خود ہلاکت سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو جنگ سے علیھدہ کرلیا۔ یہ سارے کے سارے لوگ منافق نہیں تھے ، مگر چونکہ عبداللہ بن ابی کے زیر اثر تھے ، اس لیے اس کے کہنے میں آگئے۔ بہرحال ان میں سے بہت سے لوگ منافق تھے۔ باقی سات سو افراد کا لشکر احد کے دامن میں صبح کے وقت پہنچا ، اور آپ نے اگلے دن صبح کی نماز وہیں ادا کی۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا۔ واذ غدوت۔ اس ووقت کو دھیان میں لائیں جب آپ صبح کے وقت نکلے۔ من اھلک۔ اپنے گھر سے۔ جس دن آپ احد کے لیے روانہ ہوئے ، اس روز آپ کا قیام ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر پر تھا اور وہیں سے آپ ہتھیار بند ہو کر نکلے تھے اسی سے مفسرین کرام یہ استدلال کرتے ہیں کہ ام المومنین حضور ﷺ کے اہلبیت میں شامل ہیں۔ برخلاف اس کے روافض حضرت عائشہ کو نہ صرف اہلبیت سے خارج کرتے ہیں بلکہ آپ کو نعوذ باللہ منافق سمجھتے ہیں۔ یہاں پر اھلک کے لفظ نے شیعوں کے اس باطل عقیدہ کی تردید کردی ہے۔ میدان احد میں پہنچ کر حضور علیہ السلام۔ تبوئ المومنین مقاعد للقتال۔ لڑائی کے لیے مومنوں کے ٹھکانے مقرر کرتے تھے جگہ مقرر کرنا ، ڈیوٹی لگانا ، جنگ کے تقاضوں کے مطابق صف بندی کرنا وغیرہ سب چیزیں۔ تبوئ المومنین مقاعد للقتال ، میں آتی ہیں۔ یہ آیت صاف بتلا رہی ہے۔ کہ جنگ بدر کی طرح جنگ احد میں بھی کمان خود حضور ﷺ نے کی ، آپ کے علاوہ کوئی دوسرا کمانڈر نہیں تھا۔ آپ نے میدان جنگ کا اچھی طرح جائز ہ لیا۔ جبل احد پانچ سات میل میں پھیلا ہوا لمبا چوڑا پہاڑ ہے ، آپ نے جنگی حکمت عملی کے تحت پہاڑ کے ایک درے کے اوپر عبداللہ بن جبیر ؓ کی سرکردگی میں پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ مقرر فرمادیا۔ اور حکم دیا کہ وہ خوب چوکنے رہیں۔ کہیں دشمن پشت پر سے حملہ نہ کردے۔ اگر ایسی صورت ہو ، تو ان پر تیروں کی بارش کردینا اور اپنی جگہ کسی صورت میں بھی نہ چھوڑنا۔ مگر اس جماعت سے سخت غلطی ہوگئی جس کا ذکر آگے آئیگا۔ فرمایا۔ واللہ سمیع علیم۔ اللہ تعالیٰ تمام باتوں کو سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ بہرحال یہ بات اللہ تعالیٰ نے تمہید کے طور پر یہاں فرما دی ، اس کی تفصیل آگے آئے گی۔ توکل علی اللہ : مدینے کے دو قبیلے بنوسلمہ اور بنوحارثہ تھے۔ ایک اوس خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور دوسرا خزرج سے۔ عبداللہ بن ابی ان قبیلوں پر بھی اثر انداز ہوا۔ اور انہیں جنگ احمد میں شرکت سے روکنا چاہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر اس طرح کیا۔ اذ ھمت طائفتان منکم ان تفشلا۔ جب تم میں سے دوگروہوں نے بزدلی دکھانے کا ارادہ کیا۔ قریب تھا کہ یہ دو قبیلے عبداللہ بن ابی کے کہنے پر مسلمانوں سے الگ ہوجاتے ، مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو مضبوط کردیا۔ ان کی دستگیری فرمائی اور وہ ثابت قدم ہوگئے۔ اللہ نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔ واللہ ولیھما۔ اللہ تعالیٰ ہی ان کا کارساز ہے۔ اس نے عین موقع پر ان کی مدد فرمائی اور وہ غلطی سے بچ گئے ، ورنہ منافقین کی صف میں شامل ہوجاتے۔ اللہ نے فرمایا۔ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ اللہ پر ہی مکمل بھروسہ رکھیں ، فتح وشکست اسی مالک الملک کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اس پر بھروسہ کرتے ہوئے حتی الامکان کوشش کرے۔ اسلحہ جمع کرے ، مجاہدین تیار کرکے میدان جنگ میں اترے اور پھر نتیجہ اللہ کی ذات پر چھوڑ دے۔ فتح و نصرت اسی کی طرف سے ہوگی۔ مومنوں کو ہر حال میں اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ کمزوروں ، مجبوروں ، اور بےسہارا لوگوں کو خدا کی مدد پر بھروسہ کرکے میدان عمل میں اترنا چاہئے۔ مسلمان جبتک اس اصول پر پر عمل کرتے رہے۔ کامیاب ہوئے ، جب صبر اور تقوی کا دامن چھوٹ گیا ، تو نقصان اٹھانا پڑا۔