3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:105–109

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

ان لوگوں کی طرح نہ ہو جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا جبکہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکیں۔ اور یہی لوگ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن کئی چہرے سفید ہونگے اور کئی چہرے سیاہ ہونگے ، بحرحال وہ لوگ جن کے چہرے سیاہ ہوں گے (ان سے کہا جائے گا) کیا تم نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا۔ پس عذاب چکھو۔ یہ بدلہ ہے اس کا جو تم کفر کرتے تھے۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور بہرحال وہ لوگ جن کے چہرے سفید ہوں گے ، وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ اللہ کی آیتیں ہیں جنہیں ہم آپ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ظلم کا ارادہ نہیں کرتا جہان والوں پر۔

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے۔

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اہل کتاب کی اطاعت کرنے سے منع فرمایا گیا تھا۔ پھر تقوی اختیار کرنے کا حکم ہوا ، اور اللہ کی رسی یعنی قرآن کریم کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی۔ اس کے بعد فرمایا کہ امت مسلمہ میں سے ایک گروہ ضرور ایسا ہونا چاہیئے جو نیک کاموں کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کا حکم کرتے رہیں اور برائی سے روکتے رہیں۔ اس طرحجماعت کا نظم بھی قائم رہے گا اور لوگ گمراہی سے بھی بچ جائیں گے۔ اب اہل ایمان سے مزید خطاب ہو رہا ہے۔ کہ یہود و نصاری کی طرح تم بھی آپس میں تفرقہ کا شکار نہ ہوجانا۔ اہل کتاب نے واضح احکام آجانے کے باوجود اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لیے تفرقہ ڈالا۔ ان کے الگ الگ گروہ بن گئے۔ خود ساختہ عقیدے وضع ہوگئے اور اس طرح وہ گمراہی میں مبتلا ہوئے ، اے اہل ایمان ! تم ایسا نہ کرنا۔ تفرقہ فی الدین : ارشاد ہوتا ہے ولا تکونواکالذین تفرقوا وختلفوا ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا ، جو متفرق ہوگئے ، گروہوں میں بٹ گئے اور انہوں نے اختلاف کیا۔ من بعد ماجاءھم البینت واضح احکام و دلائل آجانے کے بعد۔ یہ اختلاف کسی غلط فہمی کی بنا پر نہیں پیدا ہوئے۔ بلکہ انہوں نے اپنی خواہشات نفسانیہ کی تکمیل کے لیے دیدۃ دانستہ اختلاف کا راستہ اختیار کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے۔ واولئک لھم عذاب عظیم اور ایسے لوگ خدا کے نزدیک بڑے عذاب کے مستحق ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) مفسر قرآن ہیں۔ آپ اولیاء اللہ میں سے تھے نقشبندی طریقہ کے بزرگ تھے۔ آپ نے شیخ جان جاناں رحمۃ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور پھر انہی کے نام سے آپ نے تفسیر مظہری لکھی۔ بڑے پائے کی تفسیر ہے۔ یہ تفسیر بڑے عرصہ تک قلمی نسخہ کی شکل میں محفوظ رہی۔ اب سے تقریبا چالیس سال پہلے دس جلدوں میں زیور طبع سے آرستہ ہوئی۔ حضرت مظہر جان جاناں (رح) عالم گیر (رح) کے خالہ زاد بھائی تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے ہم عصر تھے۔ اور حضرت مرزا جان جاناں کو رافضیوں نے گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ قاضی ثنا اللہ پانی پتی امام ولی اللہ کہ شاگرد اور حضرت مرزا مظہر جان جاناں کے مرید باصفا تھے۔ اس آیت کے متعلق امام ابن کثیر ، قاضی ثنا اللہ پانی پتی اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں جس اختلاف کی ممانعت کی گئی ہے ، وہ اصول دین کا اختلاف ہے۔ کیونکہ قطعی اصولوں میں اختلاف کرنا قطعی ناجائز ہے۔ ایسے اختلافات سے دین کا عقیدہ ہی بگڑ جاتا ہے اور انسان گمراہ ہوجاتا ہے۔ اصول دین میں توحید ، رسالت اور قیامت وغیرہ کے مسائل آتے ہیں۔ فروعات میں اختلاف روا ہے۔ مگر ایسا اختلاف بھی اگر نفسانی خواہشات کہ تابع کیا جائے تو جائز نہیں ہوگا۔ ایسی چیزیں جو فروعات میں شمار ہوتی ہیں ، مگر امت میں متفق علیہ ہیں ، ان میں بھی اختلاف کرنا اصول دین میں اختلاف کرنے کے مترادف ہے۔ مثال کے طور پر فرماتے ہیں۔ کہ موزہ یا موٹی جراب پر مسح کرنا تو جائز ہے۔ سلف صالحین اس پر متفق ہیں۔ مگر خالی پاؤں پر بوقت وضو مسح درست نہیں ہے۔ ہی نہ تو حضور ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ کرا م ؓ سے۔ مگر اس متفقہ مسئلہ کے خلاف روافض ننگے پاؤں پر بھی مسح کرتے ہیں۔ جو کہ درست نہیں ہے۔ ایسے مجمع علیہ مسائل میں اختلاف کرنا بذات خود گمراہی ہے۔ اہل بدعت بھی بعض متفقہ مسائل میں اختلاف کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ایسے ہی اختلافات سے منع کیا گیا ہے۔ صحابہ روشن ستارے ہیں : البتہ نفسیات سے مبرا فروعی اختلافات تو صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین میں بھی موجود تھے ، تحقیق اور تجسس کے لیے اختلاف ائمہ دین میں بھی پایا جاتا ہے ان کا مقصد راجح پہلو اختیار کرنا ہوتا ہے۔ لہذا اس قسم کا اختلاف روا ہے۔ بعض محدثین میں بھی فروعی اختلاف رہا ہے مگر یہ اختلاف تلاش حقیقت کے لیے ہوتا تھا ، اس کو گمراہی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ صحابہ کرام ؓ کے متعلق دار قطنی اور ابن عبدالبر وغیرہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ یا محمد ان اصحبک عندی کا لنجوم آپ کے صحابہ میرے نزدیک ستاروں کی مانند ہیں بعضھا اقوی من بعض ، ایک دوسری روایت میں آتا ہے بعضھا اضوء من بعض ، یعنی بعض ستاروں کی روشنی بعض کی نسبت زیادہ ہے ، مگر سب ہی روشن ہیں ، کوئی ستارہ تاریک نہیں ہے۔ کل نور ان صحابہ کے متعلق فرمایا فمن اخذ بشی مما علیہ جس شخص نے کسی ایک صحابی کے طریقے کو اختیار کرلیا ، وہ ہدایت پر ہے۔ مقصد یہ کہ صحابہ کے فروئی اختلافات کے باوجودجس نے کسی نھی طریقے کو اپنا لیا ، تو وہ ہدایت پر ہی ہوگا۔ اگر کسی دوسرے شخص نے دوسرے صحابی کی بات کو مان کر اس پر عمل شروع کردیا ، تو وہ بھی درست ہوگا۔ اور ایسا شخص ہدایت یافتہ شمار ہوگا۔ اختلاف رحمت : امام بہقی (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ ما اوتیتم من الکتب جب تمہارے پاس کتاب اللہ سے کوئی چیز پیش کی جائے تو اس پر عمل کیا جائے لا عذر لاحد فی ترلہ اس کو ترک کرنے میں کسی کا عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ مقصد یہ کہ قرآن پاک کے حکم کو ہر حالت میں ماننا پڑے گا ، اس کے خلاف کوئی حیلہ بہانہ نہیں چلے گا۔ اور اگر قرآن پاک میں کسی معاملہ کی وضاحت موجود نہ ہو ، تو فرمایا ففی سنۃ نبی تو حضور ﷺ کی سنت مطہرہ میں تلاش کرو ، وہاں سے حکم معلوم کر کے اس پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ اور اگر وہاں پر بھی کوئی چیز تشنہ رہے تو فرمایا ، فما قال اصحابی میرے صحابہ کی بات کو مان لو ، یہ بھی تمہارے لیے حجت ہوگی اصحابی کالنجوم کیونکہ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں فبایھم اقتدیتم اھتدیتم تم جس صحابی کی بات مان کر اس پر عمل کرلو ، ہدایت پاجاؤ گے۔ یاد رکھو ! اختلاف اصحابی لکم رحمۃ میرے صحابہ کا اختلاف تمہارے لیے باعث رحمت ہے۔ جس مسئلہ میں انہوں نے اختلاف کیا ہے۔ اس میں اللہ نے تمہارے لیے سہولت رکھ دی ہے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے صاحب زادے محمد کے فرزند امام قاسم ابن محمد (رح) بڑے پائے کے امام تھے۔ آپ تابعین کے دور کے فقہائے سبعہ (سات بڑے فقہاء) میں سے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں اختلاف اصحاب محمد رحمۃ لعباد اللہ اصحاب محمد کا اختلاف اللہ کے بندوں کے لیے باعث رحمت ہے۔ لہذا اس قسم کا اختلاف بالکل روا بلکہ امت کے لئے سہولت کا باعث ہے۔ چاروں ائمہ دین جن کے پیروکار پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں ، ان کا آپس میں اختلاف بھی جائز ہے۔ کیونکہ نہ تو وہ اصول دون میں ہے اور نہ بربنائے نفسانیت ہے۔ پانچواں طبقہ محدثین ظاہریہ کا ہے۔ جو ظاہری طور پر کسی امام کی تقلید نہیں کرتے ، مگر یہ سب کے سب اہل حق ہیں۔ ان کا آپس میں اختلاف تحقیق اور تجسس کی بنا پر ہے نہ کہ تعصب اور ضد کی بنا پر۔ مسلک امام ابوحنیفہ (رح) : امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک بھی وہی ہے ، جو صحابہ کرام کا ہے۔ امام طحاوی (رح) نے طحاوی شریف کے مقدمہ میں لکھا ہے۔ کہ امام ابوحنیفہ احمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے۔ کہ وہ سب سے پہلے کتاب اللہ سے رجوع کرتے ہیں۔ اگر وہاں پر مسئلہ کا حل نہ ملے ، تو سنت رسول ﷺ میں تلاش کرتے ہیں ، اگر وہاں بھی نہ پائیں ، تو جس مسئلہ پر صحابہ کرام کا اتفاق ہو ، اس کو بلا چوں و چرامان لیتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اگر کسی معاملہ میں صحابہ کرام کا اختلاف ہو ، تو پھر امام صاحب زیادہ راحج پہلو لو اختیار کرتے ہیں۔ اگر صحابی ؓ کے قول میں بھی کوئی چیز نہ ملے تو پھر خود اجتہاد کرتے ہیں ، آپ کے نزدیک اجتہاد چوتھے درجہ پر آتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ بعض لوگ اس معاملہ میں امام صاحب کو بدنام کرتے ہیں ، کہ آپ حدیث پر قیاس کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ امام طمادی (رح) لکھتے ہیں۔ کہ امام ابوحنیفہ (رح) ضعےحدیث پر بھی عمل کرتے ہیں چہ جائیکہ وہ اعلی درجے کی حدیث کو نظر انداز کردیں۔ ابن حزم ظاہری (رح) نے اس کی مثال قہقہہ والی حدیث سے دی ہے۔ اس ضعیف حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کی حالت میں ہنس پڑے تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ، حدیث اگرچہ ضعیف ہے مگر امام ابوحنیفہ کا اسی پر عمل ہے۔ انہوں نے بلاوجہ قیاس نہیں کیا۔ ان کا اجتہاد ایسے مسائل میں واقع ہوا ہے ، جہاں روایت میں اختلاف پایا کیا ہے۔ یا صحیح روایت ثابت ہی نہیں ہوسکی۔ اختلاف زحمت : جائز فروعی اختلاف تو باعث رحمت ہے۔ مگر بعض ضدی اور متعصب قسم کے لوگ کسی معمولی اختلاف کو بنیاد بنا کر آپس میں بحث و مناظرہ کرتے ہیں۔ اور پھر جب ہٹ دھرمی کی وجہ سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پاتے تو آپس میں سر پھٹول کرتے ہیں۔ بعض اوقات ایسے اختلاف قتال تک پہنچ جاتے ہیں ۔ تاتاریوں کے زمانہ میں حنفی اور شافعی مسلک کے لوگ ایخ دوسرے جانی دشمن بن گئے اور قتل غارت گری تک نوبت پہنچی ۔ اس قسم کا اختلاف باعث رحمت کہا گیا ہے۔ بلکہ اس قسم کا اختلاف باعث زحمت ہے۔ جو مسلمانوں میں افتراق پیدا کرتا ہے۔ امیر معاویہ ؓ ی روایت میں ہے ان اھل الکتبین افترقو دو کتابوں یعنی تورات اور انجیل کی طرف نسبت کرنے والوں نے اپنی پارٹیاں اور گروہ بنا لیے۔ یہ لوگ ثنتین وسبعین یعنی بہتر 72 فرقے بن گئے۔ نیز فرمایا وتفترق امتی علی ثلث و سبعین میری اس امت کے تہتر 73 فرقے بن جائیں گے۔ مگر یاد رکھو کلھم فی النار الا واحدۃ ایک فرقے کے سوا سب جہنم میں جائیں گے۔ عرض کیا حضور ! وہ ناجی فرقہ کون سا ہوگا ، فرمایا وہ جماعت ہوگی جس کو اہل سنت والجماعت کہا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہوں گے جو حضور ﷺ کی سنت اور صحابہ ؓ کے طریقے پر چلیں گے۔ ان کا عقیدہ اور عمل ھضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ ؓ کے عمل کے مطابق ہوگا یہی لوگ ناجی ہیں۔ بدعات کی کثرت : حضور ﷺ کا ارشاد ہے سیخرج اقوام عنقریب میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوجائیں گے تتجاری بھم تلک الاھواء ان میں خواہشات اور بدعات اس طرح سرائیت کر جائیگی کما یتجاری الکلب بصاحبہ جس طرح پاگل کتے کے کاٹنے سے بیماری سارے جسم میں سرایت کر جاتی ہے۔ لا یبقی منہ عرق ولا مفصل الا دخلہ کوئی رگ اور جوڑ ایسا نہیں ہوگا۔ جس میں یہ سرایت نہ کر جائے۔ بدعت ایسی بری چیز ہے۔ کہ اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اس کے رسول ، صحابہ کرام اور بڑے بڑے فقہاء کے اٹل فیصلے نظر انداز کردیے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہوتے۔ آج اپنے اردگرد نظر اٹھا کر دیکھ لیں ، سنت کا متلاشی کوئی خاص ہی اللہ کا بندہ نظر آئے گا۔ ورنہ ہر موقع پر لوگ بدعات کی پیروی کر رہے ہیں۔ بیاہ شادی کا موقع ہو ، یا فوتگی کا ، کوئی خوشی کا موقع ہو یا غمی کا ہر جگہ بدعات کی بھرمار ہے۔ بارہ ربیع الاول کے نام پر عوام سے لے کر حکومتی سطح تک جو کچھ گلی کوچوں اور ایوانوں تک کیا گیا ہے ، کیا یہی اسلام ہے۔ صحابہ کرا اضی اللہ عنہ اور آئمہ دین (رح) کے زمانے تک تو کسی کو جلوس نکالنے ، چراغاں کرنے اور جھنڈیاں لگانے کی نہ سوجھی ، یہ تمام بدعات تو ساتویں صدی میں شروع ہوئیں۔ خاص طور پر قابل غور بات یہ کہ نبی (علیہ السلام) کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ربیع الاول کی یکم ، دو ، چھ ، نو ، دس اور بارہ کی مختلف روایات ہیں۔ مؤرخین کسی ایک تاریخ پر متفق نہیں ہوسکے البتہ وفات کی تاریخ بارہ ربیع الاول متفق علیہ ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ لوگ وفات کی تاریخ کو جشن مناتے ہیں۔ اب تو حکومت بھی ان بدعات میں حصہ دار بن گئی ہے۔ چوں کفر از کعبہ بر خیزد کجا ماند مسلمانی۔ جب محکمہ اوقاف نے مزاروں کو اپنی تحویل میں لیا ، تو توقع پیدا ہوئی کہ شاید اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے گی۔ مگر حکومت کے خزانے میں تو صرف آمدنی کی ضرورت ہے۔ انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ مزارات پر کیا کچھ ہورہا ہے۔ عرس ہوتے ہیں۔ چادریں چڑھتی ہیں ، پھول اور پھولوں کی چادریں اڑھائی جاتی ہیں اور پھر غیر اللہ کی نظر چلتی ہے ، سب کفر ، شرک اور بدعات کی قبیح رسومات ہیں۔ جس چئز کو آج دین بنا کر پیش کیا جارہا ہے ، نہ ان سے صحابہ کرام ؓ واقف تھے ، نہ تابعین (رح) اور نہ چاروں امام (رح)۔ پھر یہ بدعت نہیں تو اور کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں پر اتحاد کی دعوت دی ہے۔ شرک ، کفر اور بدعت پر اتحاد کا حکم نہیں دیا۔ اس معاملہ میں لا اعبد ما تعبدون فرمایا ہے۔ کسی صحیح چیز پر اتفاق سے بہتر نتائج برآمد ہونگے ، بدعات پر عمل پیرا ہونے سے اور خرابیاں پیدا ہوں گی اور ملت مذید کمزور ہوگی۔ فرمایا ان لوگوں میں نہ ہونا جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا۔ حالانکہ ان کے پاس کھلی کھلی اور واضح نشانیاں آچکی تھیں۔ آج توحید جیسے بنیادی مسئلہ میں اختلاف کیا جارہا ہے۔ غیر اللہ کو اللہ کا شریک بنایا جارہا ہے۔ ان کے نام کی دہائی دی جاتی ہے ، ان کو مصیبت میں پکارا جاتا ہے۔ قرآن سنت کا واضح پیغام موجود ہے مگر اپنے پیٹ کی خاطر اہل اسلام میں تفرقہ پیدا کیا جارہا ہے ، گروہ اور پارٹیاں بن رہی ہیں۔ یہ سب کچھ خواہشات نفسانی کی پیروی میں ہورہا ہے ، ان چیزوں کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے لوگ یقینا خدا کے عذاب کے مستحق ہوں گے۔ روشن اور سیاہ چہرے : فرمایا یوم تبیض وجوہ جس دن بہت سے چہرے سفید ہوں گے۔ یقینا اہل ایمان اور سنت پر عمل کرنے والوں کے چہرے قیامت کے دن سفید ہونگے۔ وتسود وجوہ البتہ کفر ، شرک ، بدعت اور معصیت میں ملوث لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ، ان سے کہا جائے گا اکفرتم بعد ایمانکم کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا۔ کفر اعتقاد میں بھی ہوتا ہے اور اعمال میں بھی۔ اگر عقیدہ بگڑ گیا ، تو ایمان میں کفر پیدا ہوا اور اگر اعمال میں کفر کیا ، تو اعمال کفار جیسے ہوگئے۔ فرمایا اس کی سزا یہ ہے فذوقو العذاب بما کنتم تکفرون اس کفر کا بدلہ چکھو ، جس کا ارتکاب کرتے تھے۔ فرمایا واما الذین ابیجت وجوھھم ففی رحمۃ اللہ جن کے چہرے سفید ہوں گے ، وہ اللہ کی رحمت میں ہوں گے ھم فیھا خلدون ایسے لوگ ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہنے والے ہوں گے۔ پھر فرمایا تلک ایت اللہ نتلوھا علیک بالحق یہ اللہ کی آیتیں ہیں۔ جن کو ہم آپ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ یاد رکھو ! وما اللہ یرید ظلما للعلمین۔ اللہ تعالیٰ جہان والوں پر ذرہ بھر بھی ظلم کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جو کچھ ملے گا بندوں کے اپنے اعمال کا ثمرہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہوگا کہ بےعمل کو اچھا بدلہ دے دیا جائے ، یا کم جرم کے مجرم کو زیادہ سزا دی جائے۔ ہاں ! مگر کوئی شخص جرم کر کے سزا سے بچ بھی نہیں سکے گا۔ اسے اپنے جرم کی سزا بھگتنا ہوگی۔ رجوع الی اللہ : فرمایا وللہ مافی السموت وما فی الارض جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ ہر چیز پر اسی کا تصرف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین پر اور راس کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے بسنے اور اس کی نعمتوں کو استعمال کرنے والا اس کے خلاف کیسے کچھ کرسکے گا۔ اگر کوئی شخص اللہ کے ساتھ شریک بنائے گا۔ سنت کو ترک کریگا ، دین میں رخنہ اندازی کریگا ، تو اللہ تعالیٰ معاف نہیں کریں گے۔ کیونکہ والی اللہ ترجع الامور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ سب نے اس کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ تمام معاملات کا فیصلہ وہیں ہوگا۔
Ayahs 3:110–111

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

تم سب سے بہتر امت ہو جس کو ظاہر کیا گیا ہے لوگوں کے فائدے کے لیے ، تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے منع کرتے ہو ، اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے تو البتہ یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، ان میں سے بعض ایمان پر ہیں اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

وہ تم کو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، مگر زبان سے ستانا۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے ، تو تمہاری طرف پیٹھ پھیر دیں گے ، پھر ان کی مدد نہ کی جائے گی۔

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی باتوں کو ماننے سے منع فرمایا اور اس کے نقصانات کا تزکرہ بھی کیا۔ پھر اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا حکم دیا اور قرآن پاک کو مضبوطی سے پکڑنے کی وصیت کی۔ تفرقہ بازی کی ممانعت فرمائی ، اور حکم دیا کہ تمہارے درمیان ہر وقت ایک ایسا گروہ جرور ہونا چاہیئے جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دیتے رہیں ، معروف کا حکم کرتے رہیں اور بری باتوں سے منع کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی حالت یاد دلا کر فرمایا کہ ان کی طرح نہ ہونا جنہوں نے تفرقہ ڈالا ، اور واضح احکامات آجانے کے بعد اختلاف کیا۔ یہ لوگ ناکام ہیں اور خدا کے عذاب کے مستحق بھی۔ گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے رد میں کئی چیزیں بیان فرمائیں۔ ابتدا میں خانہ کعبہ کا ذکر آیا۔ اہل کتاب اپنے قبلہ کو افضل قرار دیتے تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی فضیلت کا تذکرہ فرمایا " ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا وھدی للعلمین " لوگوں کی عبادت کے لیے اولین عبادت خانہ بیت اللہ شریف سب سے افضل ہے۔ اس کے بعد پیغمبر (علیہ السلام) کا ذکر آیا ، کہ تم نافرمانی کس طرح کروگے جبکہ تمہارے درمیان اللہ کا عظیم المرتبت رسول موجود ہے۔ پھر قرآن کریم کا تذکرہ ہوا ، کہ آسمانی کتابوں میں سب سے افضل کتاب ہے اور تمام لوگوں کو حکم دیا کہ اللہ کی اس کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں۔ اب حضور ﷺ کی امت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ کہ آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ یہ چاروں چیزیں یعنی بیت اللہ شریف ، پیغمبر اعظم ، قرآن حکیم اور امت محمدیہ کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی ہوچکا ہے ، اب پھر اس کو دہرایا جارہا ہے۔ بہترین امت : ارشاد ہوتا ہے۔ اے امت رسول اللہ ﷺ کی امت کنتم خیر امتۃ تم بہترین امت ہو۔ کنتم ماضی بعید کا صیغہ ہے امام بیضاوی (رح) اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ اس بات کا تذکرہ ماضی میں کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سابق اور لوح محفوظ میں بھی یہ بات موجود ہے کہ اللہ کے ہوں تم سب سے بہتر امت ہو ، اس کا فیصلہ روز ازل سے ہوچکا ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے نحن الاخرون السابقون یوم القیامہ ہم دنیا میں تو سب سے آخر میں آنے والے ہیں مگر جبت میں سب سے پہلے جانے والے ہوں گے۔ ایک دوسری حدیث میں یوں بھی آتا ہے کہ جب تک حضور اکرم (علیہ السلام) جنت میں داخل نہیں ہوں گے کوئی دوسرا نبی داخل نہیں ہوگا۔ اسی طرح جب تک حضور کا تم المرسلین کی امت بہشت میں نہیں جائے گی۔ کوئی دوسری امت وہاں نہیں جائے گی۔ البتہ کتاب پہلی امتوں کو پہلی دی گئی اور ہم بعد میں آئے ہیں لیکن ہم سنقت کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں قیامت کے دن۔ سورة بقرہ میں بھی آتا ہے " وکذالک جعلنکم امۃ وسطا " اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے امت محمدیہ ! ہم نے تم کو امت وسط بنایا ہے۔ وسط کا معنی درمیان ہوتا ہے۔ جو افراط وتفریط سے پاک ہو۔ اسی کیے حضور اکرم (علیہ السلام) کا ارشاد ہے خیر الامور اوسطا بہترین کام وہ ہیں جو درمیانے ہوں۔ غرضیکہ حضور ﷺ کی امت امت وسط ہونے کے لحاظ سے بھی باقی امتوں سے افضل ہے۔ امر بالمعروف : فرمایا یہ ایسی امت ہے اخرجت للناس جس کو لوگوں کے فائدے کے لیے نکالا گیا ہے۔ ظاہر کیا گیا ہے۔ اور یہ تین طریقوں سے لوگوں کو نفع پہنچاتی ہے پہلی بات یہ ہے تامرون بالمعروف کہ تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو۔ یہ نہیں فرمایا کہ نیک ی کا حکم دو ۔ یہ گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے۔ کہ تم میں ایک ایسی جماعت ہونی چاہیئے جو نیکی کا حکم کرے۔ اس مقام پر انداز بیان یہ ہے کہ تمہاری صفت ہی یہ ہے کہ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو۔ اب رہی یہ بات کہ نیکی کیا ہے۔ تو توحید سے لے کر ادنی درجے کی اچھ چیزیں سب نیکی میں آجاتی ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ کہ لا الہ الا اللہ کہنا سب سے افضل نیکی ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے سوال کیا گیا۔ حضور کونسا عمل افضل ہے ، فرمایا ایمان باللہ یعنی اللہ پر ایمان لانا ، توحید کو ماننا۔ اس کے بعد دوسرے اعمال نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ ہیں۔ گویا لوگون کو ایمان اور توحید کی دعوت دینا سب سے بڑی نیکی ہے۔ اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں۔ حتی کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی مومن اپنے یمان کے تقاضے سے اہک روڑا یا پتھر بھی راستے سے ہٹا دیے تاکہ کسی راہ گزر کو ٹھوکر نہ لگے۔ تو وہ بھی نیکی شمار ہوگی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آتا ہے لا تحقرن من المعروف شیئا نیکی کی کسی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھو۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر قیامت کے دن پہاڑ بن جائیں گی ۔ اسی طرح کسی برائی کو بھی حقیر اور کمتر نہیں سمجھنا چاہیئے ، کیونکہ یہ اکٹھی ہو کر بہت بڑا زخیرہ بن جائیں گی۔ غرض فرمایا کہ اے امت محمدیہ ! تمہاری صفت یہ ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو۔ نہی عن المنکر : فرمایا تمہاری دوسری صفت یہ ہے وتنہون عن المنکر تم بری باتوں سے منع کرتے ہو۔ بری چیزوں میں کفر وشرک سے لے کر بدعات ، رسومات قبیحہ ، فسق وفجقر ، ہر قسم کی بد اخلاقی اور نامعقول باتیں شامل ہیں۔ ان سے روکنے کی تشریح پہلے ہوچکی ہے۔ کہ روکنا بھی ہاتھ سے ہوتا ہے ، کبھی زبان سے ، کبھی قلم سے اور کبھی تلوار سے۔ ابو داؤد شریف کی روایت میں موجود ہے جاھدوالکفار والمشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ مال جان اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ تبلیغ کا کام زبانی جہاد ہے۔ اگر توحید ، ایمان اور دیگر نیکی کی باتیں پھیلانے کے لیے کوئی مضمون لکھا جائے ، رسالہ جاری کیا جائے ، کوئی دستاویزتیار کی جائے یا کتاب لکھی جائے یہ قلم کے ذریعے جہاد ہے۔ اگر صاحب استطاعت ہے تو طاقت کے ذریعے بھی برائی کو روک سکتا ہے۔ اسکی تشریح پہلی آیت میں آچکی ہے۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ امر بالمعروف فرض امور میں فرض ہوتا ہے ، واجب امور میں واجب ، سنت امور میں سنت اور مستحب امور میں مستحب کا درجہ رکھتا ہے۔ البتہ مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر آدمی مایوس ہو تو زبانی جہاد کو ترک بھی کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی کو تجربہ کی بنیاد پر یقین ہے کہ اس کی بات کوئی نہیں سنے گا ، تو زبانی جہاد کو ترک کرنے کی بھی اجازت ہے اسکے باوجود بھی اگر وہ زبانی جہاد جاری رکھتا ہے تو بہت بڑے اجر کا مستحق ہوگا۔ البتہ جو صاحب اقتدار ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ برائی کو طاقت سے روکے۔ اگر ایسا نہیں کرتا تو مجرم ٹھہرے گا۔ اور قابل مؤاخذہ ہوگا۔ آج کر دور میں نئی نئی برائیوں نے جنم لیا ہے۔ نئی تہذیب نے گندے انڈے دیے ہیں۔ فوٹوگرافی ، مجسمہ سازی ، سینما ، وڈیو کیسٹ ، ٹیلیویژن ، وی سی آر وغیرہ موجودہ دور کی پیداوار ہیں۔ آب کھیلوں کی نئی بیماری آئی ہے۔ کرکٹ اور ہا کی وغیرہ کا بین الاقومی سطح پر خوب چرچا ہے۔ حکومت سرپرستی کر رہی ہے۔ انگریزوں اور یونانیوں کے جاری کردہ کھیل پوری دنیا میں چھا چکے ہیں ، کئی کئی دن مواتر کھیل جاری رہتا ہے لوگ کام کاج چھوڑ کر میدان میں پہنچ جاتے ہیں یا پھر ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے گرد بیٹھ جاتے ہیں۔ کامیابی پر مبارکباد دی جاتی ہے مٹھائیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ صدر اور وزیر اعظم ٹہیم کو مبارکباد بھیجتے ہیں۔ کھیلوں پر بھاری رقم خرچ کی جاتی ہے۔ ذرا اندازہ لگائیں کہ اس سے کون سا بڑا مقصد حاصل ہوتا ہے۔ یہ محض لہو و لعب اور فضول خرچی ہے۔ یہی وقت اور روپیہ مظلوم کی مدد کرنے اور تکلیف زدہ کی تکلیف دور کرنے میں خرچ کرو۔ لوگوں کو قبیح رسومات اور کفر وشرک سے باہر نکالنے لیں خرچ کرو۔ یہاں تو الٹ ہی ہورہا ہے۔ قبریں پختہ بنائی جارہی ہیں۔ ان پر بےدریغ روپیہ صرف کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ نبی (علیہ السلام) کا ارشاد تو یہ ہے لا تجصصوا پختہ قبریں مت بناؤ، مگر سارا میٹریل سیمنٹ ، بجری ، اینٹ حرام کاموں میں صرف ہورہا ہے۔ شریعت میں قبروں کو پختہ کرنا ہرگز جائز نہیں۔ یہی دولت کسی نیکی کے کام میں لگتی تو امت کا فائدہ ہوتا۔ سینما ، تھیٹر ، ٹیلی ویژن کی جتنی بہتات ہوگی۔ اتنی ہی فحاشی پھیلے گی۔ قوم و ملت کو کیا فائدہ ہوگا۔ کبھی سینما دیکھ کر بھی نیکی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ سب شیطانی کام ہیں۔ جس کام کی بنیاد ہی لہو و لعب پر ہو ، لوگوں کو غافل بنانے اور خدا اور رسول کے احکام سے برگشتہ کرنے پر ہو ، اس سے کیا تربیت حاصل ہو سکتی ہے۔ وہاں سے چوری ، زنا ، ڈاکہ ، عریانی اور بےحیائی کی تعلیم ہی حاصل ہوگی۔ اگر تربیت حاصل کرنا ہے تو کسی نیک مجلس میں جاؤ، کسی خدا کے بندے کی صحبت اختیار کرو۔ نیکی وہاں سے ملے گی۔ جس چیز کو آج ترقی کا نام دیا جارہا ہے وہ تو سراسر منکرات میں شامل ہے جس کو روکنا صاحب اختیار کے لیے ضروری ہے۔ حضرت عمر ؓ نے تو فرمایا تھا اگر تم خیر الامت بننا چاہتے ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو جاری کرو ، ہر شخص کا دل نور ایمان سے منور ہو تب ترقی حاصل ہوگی۔ برائیوں کا ارتکاب کرکے خیر الامت کا لقب حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان باللہ : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، تم بہتر امت ہو جسکو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ میں آچکا ہے کہ اللہ نے تمہیں وسط امت بنایا ہے " لتکونوا شھداء علی الناس " تاکہ تم دو سے لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔ شاہ عبدالقادر (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں " تاکہ تم دوسرے لوگوں کے معلم بن جاؤ " گویا رسول تمہارا معلم ہے ، اور تم دوسرے لوگوں کے معلم ہو۔ تاکہ تم دیگر اقوام اور مذاہب کے لوگوں کو ہدایت کا راستہ دکھاؤ۔ اگر تم خود ہی کفر ، شرک اور بدعات میں ڈوب گئے تو باقی دنیا کو ہدایت کے راستے پر کون لائے گا۔ اس لیے فرمایا کہ تمہارے بہتر امت ہونے کی دلیل یہ ہے کہ تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو۔ وتؤمنون باللہ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ جو دین اور شریعت ہمیں نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کے توسط سے ملا اس کی تمام جزئیات پر ہمارا ایمان ہے۔ اور اس کے تمام احکام کی بجا آوری ہم پر لازم ہے ۔ جو شخص اللہ پر ایمان لانے کا دعویدار ہے مگر قرآن و سنت کے احکام کو نہیں مانتا ، وہ کیسا مومن ہے یہی بات اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو بھی فرمائی ہے ولو امن اھل الکتب لکان خیرا لھم اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ اللہ پر ایمان لانے کا یہی مطلب ہے کہ وہ نبی آخر الزمان اور قرآن حکیم اور پوری شریعت اور پوری ملت اسلامیہ پر ایمان لاتئے ۔ مگر یہ لوگ تو دانستہ کفر میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے اپنی کتاب بگاڑ لی ، عقیدہ خراب کرلیا اور طرح طرح کی برائیوں میں مبتلا ہیں۔ اہل ایمان سے ان کو ضد ہے۔ انہوں نے تعصب کی بناء پر کفر کا راستہ اختیار کیا۔ ان کی بہتری اسی میں تھی کہ اللہ پر ایمان لے آتے۔ پھر فرمایا ، البتہ منھم المومنون ان میں سے بعض لوگ ایماندار بھی ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں مدینے کے دس بڑے یہودی علماء میں سے صرف عبداللہ بن سلام اور ان کے بعض ساتھی ان کی دولت سے مشرف ہوئے مگر واثرھم الفسقون ان کی اکثریت کافروں پر مشتمل رہی۔ یہود و نصاری کی اکثریت آج بھی فسق پر ہے۔ نزول قرآن کو چودہ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا۔ مگر ہی لوگ ابھی تک کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں۔ بناوٹی انجیل پر ان کا ایمان ہے۔ یہودی ان سے بھی زیادہ خباثت میں مبتلا ہیں۔ ان میں مکاری اور بےایمانی پائی جاتی ہے۔ انہیں آج تک کچھ سمجھ نہیں آئی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے۔ یہ لوگ قرآن پاک اور نبی آخرالزمان کی مخالفت میں ہ وقت سرگرداں رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ اسلام کے قریب نہ آئیں۔ ان کی اکثریت فساق کی ہے۔ ایسے زمانے میں خال خال ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تعصب سے پاک ہوں۔ یہ لوگ تھوڑی سی توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں ایمان کی دولت عطا فرما دیں۔ اہل ایمان کو تسلی : اہل ایمان کی خصلت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی لن یضروکم الا اذی اہل کتاب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے ، تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے مگر زبانی چھیڑ چھاڑ جاری رکھیں گے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف نڑی سازشیں کی مگر اللہ نے ہر سازش کو ناکام بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے آئندہ کے لیے بھی فرما دیا " انتم الاعلون ان کنتم مؤمنین اگر تم ایمان پر قائم رہے ، تو غالب تم ہی رہوگے۔ اہل کتاب تم پر غلبہ نہیں کرسکتے۔ ہاں اگر تم ایمان کو چھوڑ بیٹھو تو پھر اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں ہے "۔ ان یضذلکم فمن ذا الذی ینصرکم من بعدہ "۔ تمہاری بداعمالیوں کی وجہ سے اگر خدا تمہیں رسوا کردے تو پھر تمہارا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ فرمایا وان یقاتلوکم اگر اہل کتابت تم سے لڑائی کریں۔ یولوکم الادبار تو تمہاری طرف پیٹھ پھیر دیں گے ، تم سے لڑنے کی ہمت نہیں پائیں گے۔ سورة حشر میں بھی آتا ہے تم ان کی طرف سے پریشان نہ ہو ، یہ تمہارے ساتھ کھلم کھلا جنگ نہیں لڑ سکتے۔ اور اگر ایسا کوئی وقت آ بھی جائے تو یہ لوگ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائینگے ثم لا ینصرون پھر ان کی ہرگز مدد نہیں کی جائے گی۔ یہ ناکا م اور نامراد ہوں گے۔
Ayahs 3:112–115

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

ان پر ذلت مسلط کی گئی ہے ، جہاں بھی وہ پائے جائیں گے۔ مگر اللہ کی رسی کے ساتھ اور لوگوں کی سی کے ساتھ۔ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ، اور مسلط کی گئی ان پر مسکنت ، یہ اس وجہ سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی ، اور وہ حد سے بڑھنے والے تھے۔

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ سب کہ سب برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب میں سے ایک امت ایسی بھی ہے ، جو سیدھے راستے پر قائم ہے۔ وہ اللہ کی آیتوں کو رات کی گھڑیوں میں پڑھتے ہیں ، اور وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

وہ ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر ، اور اچھی باتوں کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں۔ اور وہ نیکی کے کاموں میں سبقت کرتے ہیں ، اور یہی لوگ نیک بختوں میں ہیں۔

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور جو بھی وہ نیکی کا کام کریں گے ، اس کی ناقدری ہرگز نہیں ہوگی ، اور اللہ تعالیٰ پوری طرح باخبر ہے ان لوگوں سے جو متقی ہیں۔

ربط آیات : گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جس طرح حضور نبی کریم ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں ، اسی طرح آپ کی امت بھی تمام امتوں سے افضل ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں بھی یہ چیز موجود ہے۔ اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب سے شکوہ کیا گیا اگر وہ نبی آخر الزمان پر ایمان لے آتے ، تو بہترین امت میں شامل ہوجاتے ، اور یہ ان کے لیے بہتر ہوتا ، مگر وہ اپنے باطل عقیدے پر اڑے رہے۔ پھر فرمایا کہ ان میں سے کچھ ایمان والے بھی ہیں مگر اکثر نافرمان ہیں۔ پھر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ ان سے کوئی خطرہ محسوس نہ کرو۔ یہ لوگ تمہیں زبانی حد تک تو ستائیں گے مگر تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکیں گے۔ اگر تمہارے مقابلے میں آئیں گے ، پیٹھ دکھا کر بھاگیں گے۔ چناچہ نزول قورآن کے زمانے میں خیبر کے یہودیوں کو شکست ہوئی ، مدینے کے اطراف میں آباد یہودی قبائل بنی نضیر ، بنی قریضہ اور بنی قینقاع ذلیل و خوار ہوئے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں رومیوں نے شکست فاش کھائی۔ شام اور مصر کے علاقے ان سے پاک ہوئے۔ اور جب تک مسلمانوں میں صلاحیت اور نیکی کا جذبہ قائم رہا وہ یہودیوں پر غالب رہے۔ پھر ساتویں صدی میں مسلمانوں کا انحطاط شروع ہوا ، جو گزشتہ آٹھ صدیوں سے جاری ہے۔ یہودیوں کی ذلت : اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب خصوصا یہودیوں کے متعلق فرمایا ضربت علیھم الذلۃ این ماتقفو اس پر ذلت مسلت کردی گئی ، جہاں بھی وہ پائے جائیں۔ جب انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی ہے اور برائیوں میں ملوث ہوئے ہیں ، اس وقت سے ذلیل خوار ہو رہے ہیں۔ قرآن میں یہودیوں کی ذلت کا ذکر بہت سے دوسرے مقامات پر بھی موجود ہے ، ان کی رسوائی کے متعلق پہلی بات تو یہ ہے کہ یہودی سیاسی عروج اور اقتدار سے محروم کردیے گئے ہیں۔ گذشتہ اڑھائی ہزار سالہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ دنیا کے کسی خطے میں ان کو اقتدار حاصل نہیں ہوا۔ اس سے پہلے ان کی عظیم الشان سلطنتیں تھیں ، مگر اب اس سے محروم ہیں۔ اور محکومی کی زندگی بسر کر رہے ہیں این ماثقفو کا یہی مطلب ہے کہ یہ لوگ جہاں کہیں بھی ہیں ذلیل و خوار ہو کر ہی گزر اوقات کر رہے ہیں۔ یہودیوں کی ذلت کی دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ عزت نفس سے محروم رہے ہیں۔ کروڑ پتی ہونے کے باوجود بھکاریوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مال سے محبت ، ہر کام میں سازش اور ہر قوم سے مکاری اور چالاکی ان کی خصوصیت رہی ہے۔ ان کو کہیں بھی آرام سے بیٹھنا نصیب نہیں ہوا۔ اہک جگہ شرارت کی تو دوسری جگہ چلے گئے وہاں سازش کی تو وہاں سے نکالے گئے۔ گذشتہ تاریخ سے واضح ہے کہ دنیا کی کوئی قوم انہیں عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے نصاری سے بھی ان کی ایسی ہی ان بن تھی۔ جیسے مسلمانوں کے ساتھ۔ یہودی کبھی عیسائیوں کے ماتحت رہے ، کبھی مسلمانوں کے اور کبھی دیگر اقوام کے دست نگر رہے۔ حبل اللہ اور حبل الناس : اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ جہاں بھی پائے جائیں ان پر ذلت اور رسوائی مسلط ہوگی الا بحبل من اللہ ہاں ! اگر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں تو رسوائی سے بچ جائیں گے ، بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسی سے مراد تورات کی وہ بچی کچی رسمیں ہیں جن پر یہلوگ عمل کرتے ہیں۔ گویا تورات سے کسی حد تک وابستگی کی بنیاد پر یہ دنیا میں جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر اتنا بھی نہ ہوتا تو یہ لوگ صفحہ ہستی سے مکمل طور پر مٹ چکے ہوتے ، بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ کی رسی سے مراد اللہ کا عہد و پیماں ہے ، لہذا اگر یہ ایمان قبول کرلیں۔ تو عزت کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ فرمایا یہودیوں کے دنیا میں زندہ رہنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ وحبل من الناس کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ معاہدہ کر کے ان کی ماتحتی میں رہنا قبول کرلیں۔ تو پھر بھی زلت سے بچ جائیں گے۔ بعض مفسرین نے حبل من اللہ کا ترجمہ اللہ کی دستاویز اور حبل من الناس کا ترجمہلوگوں کی دستاویز کیا ہے۔ مقصد ایک ہی ہے۔ کہ یا تورات سے کسی حد تک لگاؤ کی وجہ سے یا پھر دوسری اقوام کے ساتھ عہد و پیماں کر کے گزر اوقات کرسکیں گے۔ دوسرے لوگوں کی ماتحتی قبول کرنا ہوگی اور ان کی رعیت بن کے رہنا پڑے گا۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) یہی تفسیر کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے حبل کا معنی ذمہ کیا ہے۔ یعنی اللہ کا ذمہ اور مسلمانوں کا ذمہ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان کو اپنی امان میں لے لیں یا مسلمان ان کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھائیں تو ذلت سے بچ سکیں گے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ناس سے مراد عام لوگ ہیں۔ اگر کوئی دوسری قوم بھی ان کی پشت پناہی کرنے لگے ، تو یہ رسوائی سے بچے رہیں گے۔ محروم اقتدار : جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے۔ گذشتہ اڑھائی ہزار سال میں یہودی اقتدار سے محروم رہے ہیں ، اور ہمیشہ دیگر اقوام کے ماتحت رہ کہ وقت گزارا ہے۔ ان کی سابقہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے تجارت کے بہانے جہاں بھی قدم جمانے کی کوشش کی ، ہمیشہ تکلیف اٹھائی جرمن قوم نے ان کو خوب مارا ، لوگ جرمنوں کو بدنام کرتے تھے۔ کہ انہوں نے یہودیوں سے اچھا سلوک نہیں کیا ، مگر وہ کہتے تھے کہ کہ تمہیں ان کی شرارتوں کا علم نہیں ہے ، یہ سازشی لوگ ہیں ان کو ہر وقت شرارت ہی سوجھتی ہے۔ جہاں بھی رہتے ہیں لوگوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتے۔ یہ لوگ ترکی میں ہمیشہ رہے ہیں اور اب بھی ہیں مگر اسلامی سلطنتیں ان سے ہمیشہ تکلیف اٹھاتی رہی ہیں۔ مسلمان ان کو رعایاسمجھ کر ان سے نرمی برتتے رہے مگر یہ اپنی فطرت سے کبھی باز نہ آئے۔ اب موجودہ زمانے میں صورت حال مختلف ہے۔ تقریبا چالیس سال قبل اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی اور یہودیوں کو ٹھکانا نصیب ہوا۔ اس پر چہ میگوئیاں ہونے لگی ہیں کہ کیا قرآن پاک کا دعوی معاذ اللہ غلط ثابت ہوا ہے۔ کہ یہودیوں پر ذلت مسلط کردی گئی اور وہ اقتدار سے محروم ہیں۔ اس ضمن میں عرض ہے۔ کہ یہودیوں کی موجودہ حکومت کی کوئی بنیاد نہیں ، ان کا موجودہ اقتدارمحض حبل من الناس کی بدولت ہے۔ ناس سے مراد غیر ملکی طاقتیں ہیں ۔ جن میں کچھ عیسائی ہیں اور کچھ دہریہ ہیں۔ اسرائیل ان کی مشترکہ چھاؤنی ہے ۔ جسے ارد گرد کے مسلمان ملکوں کو تنگ کرنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اسرائیل کا قیام ان چاروں عالمی طاقتوں کی مسلمانوں کے خلاف سازش کا نتیجہ ہے۔ اگر آج یہ قوتیں اسرائیل سے اپنا سایہ اٹھا لیں ، تو یہودی ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ امریکہ اس سازش میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل اپنے اردگرد مسلمانوں پر ظلم کر رہا ہے۔ تل ابیب کی بجائے بیت المقدس کو دار الخلافہ بنایا گیا ہے۔ جولان کی پہاڑیوں پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے۔ اور پھر انہیں اسرائیلی اسمبلی کے ذریعے اسرائیل کا حصہ قرار دے لیا ہے ، حالانکہ یہ شامی علاقہ ہے ، مگر اس ساری کاروائی میں امریکہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ وہ اسرائیل کو ذیادتی کرنے سے روک سکتا ہے۔ مگر دانستہ اس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت قائم کرنے والے برطانیہ اور فرانس ہیں۔ امریکہ بھی اپنے مفاد میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا ہے ، ادھر روس کا مفاد بھی اسی میں ہے۔ کہ مسلمان ملکوں کے درمیان اسرائیل کا یہ شاخسانہ قائم رہے۔ پہلی تین طاقتیں عیسائی ہونے کے باوجود آپس میں بھی درپردہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ مگر مسلمانوں کی مخالفت کے معاملہ میں سب اکٹھے ہیں ، روس تو ویسے ہی دہریہ اور منکر خدا ہے ، اسے مسلمانوں سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے۔ البتہ جہاں اس کا اپنا مفاد وابستہ ہو ، وہاں وہ ہر کاروائی کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ بحرحال اسرائیلی حکومت کے قیام اور اس کی پشت پناہی میں سب شریک ہیں۔ مسلمانوں کی زبوں حالی : اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک عرب کے لگ بھگ ہے ، پچاس کے قریب خود مختار حکومتیں ہیں مگر ان عیسائی اور اشتر کی طاقتوں نے انہیں اس قدر بےبس کر رکھا ہے کہ وا آپس میں ایک دوسرے کی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ قیام پاکستان کے وقت مسلمان ممالک مدد کرسکتے تھے۔ مگر نہیں کی گئی۔ آج کابل کے مجاہدین آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں ، مگر ہماری اپنی حکومت ہمیں سرحد پار جاکر مجاہدین کی مدد کرنے سے روکے گی۔ حقیقت یہی ہے کہ یہودی حبل من الناس اس کی وجہ سے نہ صرف خود زندہ ہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ بیت المقدس کی توہین ہورہی ہے۔ بیس 20 لاکھ فلسطینی مسلمانوں کو اس زمین سے نکال دیا گیا ہے۔ بہت سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ کچھ اردن میں پڑے ہیں ، کچھ لبنان میں مگر وہاں بھی آئے دن ان کے خیموں میں بمباری ہوتی رہتی ہے۔ ان کی بچیاں جیلوں میں گل سڑ رہی ہیں ، یتیم بچوں کو عیسائی مشنریاں لے گئی ہیں ، تاکہ انہیں عیسائی بنایا جاسکے ، مگر دنیا بھر کے مسلمان بےبس ہیں۔ سپر پاورز مسلمانوں کے راستے میں حائل ہیں۔ مگر یہ ہیں کہ پھر بھی ان کے گن گاتے ہیں۔ انہیں کے طور طریقے اختیار کرتے ہیں۔ وہ تو مسلمانوں کو عیش و عشرت کے راستے پر ڈال رہے ہیں ۔ نئے نئے فیشن ، ٹیلی ویژن ، وی سی آر ، بڑی بڑی کوٹھیاں اور کاریں ، کھیل اور تماشے سب مسلمانوں کو خواب غفلت میں سلانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ تاکہ یہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوسکیں ، اپنی مارکیٹ کی خاطر صنعتی ترقی میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ آج تک ہم جہازوں کے معمولی پرزے تک درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا ، سب ایک ہی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ غیر اقوام کے اس قدر دست نگر ہوچکے ہیں۔ کہ ان کے بغیر ایک قدم نہیں چل سکتے۔ غضب الہی : بہرحال ہمارا ایمان ہے۔ کہ یہودیوں پر ذلت ہمیشہ کے لیے مسلط کی گئی ہے۔ اگرچہ اس وقت ان کو ایک پناہ گاہ میسر آگئی ہے مگر صحیح حدیث کے مطابق ایک وقت آنے والا ہے ، جب ان کو شجر و حجر بھی پناہ نہیں دیں گے اگر کوئی یہودی کسی درخت کے پیچھے چھپا ہوگا ، تو وہ درخت پکار کر کہے گا ، اے مسلمان ! یہودی یہاں چھپا ہے اس کو پکڑ لو۔ مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول پر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔ فرمایا ان پر ذلت اور رسوائی مسلط کی گئی ہے وباء و بغضب من اللہ اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ، کیونکہ نافرمانیاں کرتے کرتے ان کی ذہنیت ہی بگڑ گئی وضربت علیھم المسکنۃ اور ان پر مسکینی وارد کردی گئی۔ اکثر یہودی اپنے آپ کو مسکین ہی ظاہر کرتے ہیں۔ ہمیشہ سے ان کا یہی وطیرہ ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے ذالک بانھم کانو یکفرون بایت اللہ کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیا ہے۔ ویقتلون الانبیاء بغیر حق اور اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کیا ہے۔ گذشتہ ادوار میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے اور اس زمانے کے یہودی اس کارنامے پر فخر کرتے ہیں ، یہ کہتے ہیں۔ کہ ہمارے آباؤ اجداد نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرنے والے ہیں اور خدا کے نبیوں کے قاتل ہیں ، ظاہر ہے وہ غضب ہی لے کر لوٹیں گے۔ ذلک بما عصوا یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ وکانوا یعتدون اور یہ حد سے بڑھنے والے لوگ تھے۔ سعید روحیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیوں کی اکثریت تو نافرمان ہی ہے تاہم یہ سب کے سب برابر نہیں ہیں لیسوا سواء ان میں سے کچھ فیصدی اچھے بھی ہیں۔ ان میں نیک بخت اور سعید روحیں بھی ہیں من اھل الکتب امۃ قائمۃ اہل کتاب میں سے ایک گروہ سیدھے راستے پر بھی قائم ہے۔ ان اچھے لوگوں کا کام یہ ہے یتلون ایت اللہ اناء الیل وہ اللہ کی آیتوں کو رات کی گھڑیوں میں پڑھتے ہیں ایسے لوگ ایمان قبول کرتے ہیں۔ اور حضور خاتم النبیین کا اتباع کرتے ہیں۔ چناچہ نزول قرآن کے زمانے میں نجران کے چالیس 40 عربی النسل عیسائیوں نے فورا اسلام قبول کرلیا۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی (رح) نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر حضرت عثمان ؓ اور حضرت جعفر ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ وہاں کے اکتیس 31 مزید باشندے بھی ایمان لائے۔ اسی طرح روم میں آٹھ آدمی فورا مسلمان ہوگئے۔ مدینہ کے حقیقت پسند لوگوں نے بھی اسلام کو لبیک کہا ، عبداللہ بن سلام تو حضور ﷺ کی پہلی زیارت کرنے پر ہی اسلام سے مشرف ہوگیا۔ مدینے کی اکثریت مشرکوں کی تھی مگر بعض شرک کو برا سمجھتے تھے۔ مدینے کے اطراف میں یہودی آباد تھے۔ ان میں کچھ سعید روحیں ضرور موجود تھیں۔ ان میں براء بن معردر ؓ کا نام آتا ہے۔ محمد ابن مسلمہ ؓ وغیرہ جنابت کا غسل کرتے تھے اور توحید کا تصور بھی رکھتے تھے۔ جب نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کے متعلق سنا تو فورا ایمان لے آئے۔ بعد کے دور میں بھی بعض یورپین عیسائیوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان میں برطانیہ کا مسٹر کو یلم ہے جس کا نام عبداللہ کو یلم رکھا گیا۔ موکودہ زمانے میں محمد اسد ہے۔ یہ جرمنی کا یہودی تھا ، مگر اللہ نے سمجھ عطا کی۔ اب وہ فرانس میں ہے اور دین خدمت بھی کر رہا ہے۔ راسخ العقیدہ مسلمان ہے۔ پاکستان میں بھی رہ چکا ہے۔ اس نے کئی ایک کتابیں لکھی ہیں۔ موجودہ دور کا محمد پکھتال ترکی میں ملازم تھا ، اس نے اسلام قبول کیا ، اس نے قرآن پاک کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ غرضیکہ سارے کے سارے اہل کتاب بدبخت نہیں ہیں بلکہ ان میں کچھ سمجھدار لوگ بھی ہیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کے علاوہ وھم یسجدون یہ لوگ اللہ کے سامنے سجدہ ریز بھی ہوتے ہیں ، فرمایا یؤمنون باللہ والیوم الاخر یہ لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ جس حضور ﷺ کی سچائی کا علم ہیتا ہے۔ فورا ایمان قبول کرتے ہیں۔ ویاء مرون بالمعروف پھر نہ صرف خود ایمان لاتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم کرتے ہیں۔ وہنھون عن المنکر اور برائی سے روکتے ہیں یعنی تبلیغ دین کا کام بھی کرتے ہیں۔ اور پھر ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے وسارعون فی الخیرات وہ نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے لگتے ہیں۔ واولئک من الصلحین یہی لوگ صالح ہیں۔ یہ اچھے لوگوں کی تعریف بھی ہوگئی۔ فرمایا وما یفعلوا من خیر فلن یکفروہ جو بھی نیکی کا کام کریں گے ، ان کی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکی کو قبول کر کے بہتر اجر عطا فرمائیں گے۔ بلکہ حدیث شریف کے مطابق ایسے لوگوں کو دوہرا اجر ملے گا۔ پہلے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمن لاتے تھے ، ایک اجر اس ایمان کا ہوگا اور دوسرا اجر حضور خاتم النبیین پر ایمان لانے کا ہوگا۔ اس طرح وہ دوہرے اجر کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا واللہ علیھم بالمتقین اللہ تعالیٰ متقیوں یعنی اس سے ڈرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اس کے علم میں ہے۔ کہ کون لوگ ایسے ہیں ، جو کفر و شرک کی برائیوں سے بچ کر نکل جاتے ہیں۔