Ayah 3:92ربط آیات :
سورۃ آل عمران کے ابتدائی حصے میں زیادہ تر نصاری کی تردید کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے غلط عقائد کا رد فرمایا ہے۔ اور انہیں اصلاح کی دعوت دی ہے تاہم اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے یہودیوں کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بھی خرابیاں بیان کی ہیں ، اور ان کے غلط عقائد کی تردید کی ہے اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کا خلاصہ بیان فرمایا ہے۔ دین اسلام کے برحق ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور اس کی پیروی اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ نیز واضح فرمایا ہے کہ اسلام کے سوا اللہ تعالیٰ کسی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔ اور اسلام کے علاوہ کسی دین میں کامیابی ممکن نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہدایت اختیار کرنے کے بعد دوبارہ گمراہی کے راستہ پر چل نکلنے والوں کا رد فرمایا ہے۔ اور ان کی سزا کا تذکرہ کیا ہے اس سے پہلے بیان کیا تھا کہ جو لوگ کفر کی حالت میں مرگئے تو اگر وہ زمین بھر سونا بھی فدیہ کے طور پر قیامت کو دینا چاہیں گے ، تو اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرے گا۔ کافر کی نجات ہرگز ممکن نہیں۔ اس کی طرف سے دنیا میں خرچ کیا ہوا مال کسی کام نہ آئیگا۔
قبولیت کا مدار ایمان پر ہے :
آج کی آیت میں اہل ایمان سے خطاب ہے۔ انہیں یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔ کہ کافر خواہ کتنا بھی مال خرچ کریں۔ شرف قبولیت حاصل نہیں کرسکتے البتہ اہل ایمان تھوڑی سی چیز بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو اجرِ عظیم کا مستحق ٹھہرے گا۔ مقصد یہ کہ قبولیت کا مدار اسلام اور ایمان پر ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے۔ اخلص دینک یکفیک قلیل من العمل۔ اپنے دین میں اخلاص پیدا کرو ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لیے کفایت کرے گا۔ اخلاص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے عقائد کی اصلاح فرمانبرداری اور نیت کی درستگی سے پیدا ہوتا ہے۔ لہذا جب اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہو ، تو اپنی محبوب اور پسندیدہ چیز خرچ کرو ، تاکہ تمہیں اعلی درجے کی نیکی حاصل ہوجائے۔
بِر ، بَر اور اثم :
بِر اور بَر کی اصطلاحیں قرآن و سنت میں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں کہ بِر سے مراد جنت بھی ہوسکتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اعلی درجے کی نیکی ہی کے ذریعے کوئی شخص جنت میں داخل ہوسکتا ہے۔ یامطلقاً بِر سے مراد نیکی ہے ، جس کی ادائیگی کے بعد انسان کو اچھا بدلہ مل سکتا ہے۔ مگر جب تک وہ اپنی محبوب چیز کو خرچ نہیں کرے گا۔ اعلی درجے کا معیار حاصل نہیں ہوسکتا۔ ان معانی میں پہلی آیتوں کے ساتھ ربط بھی پیدا ہوجائے گا۔ اہل کتاب اس لیے ایمان نہیں لاتے کہ انہیں اپنی محبوب چودھراہٹ کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ نجران کے نصاریٰ نے یہی تو کہا تھا کہ اگر ہم ایمان قبول کرلیں تو ان کی جاگیر اور اعزاز ختم ہوجائے گا۔ مقصد یہ کہ اگر اعلی درجے کی نیکی چاہتے ہو ، تو ان سب چیزوں کو قربان کرنا پڑے گا۔ محبوب چیز خواہ مال و دولت ہو یا جاہ و حشمت ان کی قربانی دینا پڑے گی۔ مگر اہل کتاب اس کے لیے تیار نہ تھے۔
بَر اللہ تعالیٰ کا اسم پاک بھی ہے۔ البر الرحیم۔ بہت احسان کرنے والا خدا تعالیٰ ہی ہے۔ بار نیکوکار آدمی کو کہتے ہیں۔ اور اس کی جمع ابرار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابرار یعنی نیکوکار بندوں کی تعریف فرمائی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کسی نے حضور ﷺ سے دریافت کیا۔ حضرت ! بِر کس کو کہتے ہیں۔ فرمایا۔ البر ما اطمئن الیہ النفس۔ یعنی بِر وہ ہے ، جس سے نفس کو اطمینان حاصل ہو۔ اور اثم وہ ہے۔ ما حاک فی الصدر و کرھت ان یطلع علیہ الناس۔ جس سے دل میں کھٹکا پیدا ہو۔ اور تم یہ پسند نہ کرو۔ کہ لوگ اس پر مطلع ہوں۔ ایسی چیز کو ترک کرنا چاہئے۔
حضرت شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں۔ کہ بِر ہر ایسا کام ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری اور اس کی طرف سے الہام پا کر اس کی مراد میں فنا ہو کر کیا جائے۔ نیز ہر ایسا کام بِر کی تعریف میں آتا ہے جس کی وجہ سے ارتفاقات میں اصلاح پیدا ہوتی ہے۔ روز مرہ زندگی میں اطاعت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ، حجابات ہٹتے ہیں۔ اور ایسے اعمال کی بدولت دنیا اور آخرت میں اچھا نتیجہ ملتا ہے۔ برخلاف اس کے اثم ایسا فعل ہے ، جو شیطان کی اطاعت کے جذبے سے انجام دیا جاتا ہے اس سے ارتفاقات میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اور دنیا کے طور طریقوں میں فساد برپا ہوتا ہے ، ایسا فعل انسان میں حجابات پیدا کرتا ہے۔ اور نافرمانی کے جذبے کو ابھارتا ہے۔ یہ اثم ہے۔ اور اس کا نتیجہ دنیا وآخرت ہر دو مقامات پر برا ہی مرتب ہوتا ہے۔
ارشاد ربانی ہے۔ لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون۔ ہرگز نہ پاؤگے تم اعلی درجے کی نیکی یہاں تک کہ اس چیز میں سے خرچ کرو جسے تم پسند کرتے ہو۔ سارا مال خرچ کرنے کا حکم نہیں ہے۔ بلکہ مما سے مراد ہے اپنی استطاعت کے مطابق۔ جب حضرت ابوطلحہ نے یہ آیت سنی تو حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا حضرت میرے باغات میں سے بیرحاء مجھے بہت محبوب ہے میں اسے اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں۔ آپ اس کو مناسب جگہ پر صرف فرما لیں۔ فرمایا ، خوب ، یہ مال بڑا فائدہ دینے والا ہے۔ میرا مشورہ یہ ہے۔ کہ اسے اپنے غریب رشتہ داروں میں تقسیم کردو۔ چناچہ ابوطلحہ ؓ نے وہ باغ اپنے تین چار اقرباء میں تقسیم کردیا۔ اس میں میٹھا پانی بھی تھا۔ حضور ﷺ کبھی کبھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور اس کے کنوئیں کا پانی نوش فرماتے۔ حضرت عمر رضٰ اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ جو زمین مجھے خیبر میں ملی ہے وہ مجھے اپنے اموال میں سے زیادہ پیاری ہے میں چاہتا ہوں کہ اسے اللہ کی راہ میں دے دوں۔ آپ نے فرمایا اسے وقف کرو ، چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔
حضور ﷺ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔ میرے پاس بڑی اچھی چال والا ایک گھوڑا ہے اور وہ مجھے بڑا محبوب ہے ، میں اسے اللہ کی راہ میں دینا چاہتا ہوں سرور کائنات نے فرمایا ، بہت اچھے ی بات ہے دے دو ۔ عرض کیا ، حضور ! جسے آپ مناسب سمجھیں دے دیں۔ آپ نے وہ گھوڑا زید ہی کے بیٹے حضرت اسامہ کو دے دیا۔ تاکہ وہ اسے جہاد میں استعمال کرسکیں۔ اس پر زید ؓ کو کچھ تردد ہوا ۔ کہ میں تو اللہ کی راہ میں دینا چاہتا تھا ، مگر حضور (ﷺ) نے میرے اپنے بیٹے کو ہی عنایت کردیا۔ حضور ﷺ کو پتہ چلا ، تو فرمایا ، تردد مت کرو۔ جب تم نے اللہ کی راہ میں دے دیا تو اللہ نے اسے قبول کرلیا ، تمہارا بیٹا اس کا مستحق تھا ، لہذا تمہارے صدقے میں کوئی کمی نہیں آئی۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس ایک بڑی اچھی رومی لونڈی تھی جو آپ کو بڑی عزیز تھی۔ آپ نے اس کو اللہ کی راہ میں آزاد کردیا۔ خود فرمایا کرتے تھے۔ کہ اگر میں اپنی دی ہوئی چیزوں میں سے واپس لینا چاہتا تو یقیناً اس سے نکاح کرلیتا۔ مگر میں اس کو فی سبیل اللہ آزاد کرچکا ہوں۔ پھر آپ نے مشورہ کرکے اپنے شاگرد نافع سے اس لونڈی کا نکاح کرا دیا۔ مقصد یہ کہ اپنی محبوب چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بلاشبہ اعلی درجے کی نیکی ہے۔
پچھلی سورة میں گزر چکا ہے کہ اللہ کی راہ میں اچھی چیز خرچ کرنی چاہئے نہ کہ ردی چیز۔ جب تم خود ناقص چیز پسند نہیں کرتے تو ایسی چیز اللہ کی راہ میں کیسے دیتے ہو۔ حکم تو یہ ہے۔ انفقوا من طیبت ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الارض۔ یعنی اپنی کمائی میں سے اچھی سے اچھی اور پاکیزہ سے پاکیزہ چیز خدا کی راہ میں خرچ کرو۔ کسی نے حضور ﷺ سے دریافت کیا۔ حضور ! کونسا غلام آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے۔ فرمایا جو مالک کے نزدیک زیادہ پیارا ہو۔ جیسا کہ قربانی کے ضمن میں آتا ہے کہ اچھے سے اچھا ، خوب موتا تازہ ، پالا پوسا ہوا جانور اللہ کی راہ میں قربان کرو۔ اس سے اجر بھی زیادہ ملے گا۔
محبوب چیز کی قربانی :
یہ چند مثالیں میں نے عرض کردیں۔ صحابہ کرام عام طور پر اعلی سے اعلی چیز خدا کی راہ میں خرچ کرتے تھے۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ تھوڑا ہو یا زیادہ ایمان ، اسلام اور اطاعت کے جذبہ سے ہوگا ، تو قبولیت کے درجہ کو پہنچے گا۔ اور اس کا اجر بھی اعلے درجے کا ہوگا۔ یہاں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ خرچ کا تعلق صرف مال کے ساتھ ہی نہیں بلکہ جو بھی کسی پاس محبوب چیز ہے ، اس کی قربانی دے کر اعلی مرتبہ حاصل کرسکتا ہے۔ اگر کسی شخص کو جاہ اور حکومت پیاری ہے تو اس کو قربان کرنا ہوگا۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے عہدہ اور منصب کے ذریعے مخلوق خدا کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔ اور اپنے ذہن سے ظالم اور جابر حاکم کا زعم نکال دے۔ یہی اس کی قربانی ہے۔ اگر کوئی حاکم کسی کا جائز کام نہیں کرتا ، ناجائز ذرائع سے مال اکٹھا کرتا ہے ، اپنے آرام و آسائش کی فکر میں رہتا ہے ، جو کوئی کوٹھی ، کار خادم اور دیگر آرام و آسائش کے پیچھے پڑا رہتا ہے۔ تو اسے اعلی درجے کی نیکی کہاں حاصل ہوسکتی ہے ، اسے تو یہ چیزیں قربان کرنا ہوں گی۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا ہے ۔
ہیچ خیر از چشمک زرکش مجو
لن تنالوا البر حتی تنفقوا
سونا کھینچنے والی نگاہوں سے کبھی نیکی کی امید نہ رکھو ، جو شخص مال اکٹھا کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ وہ نیکی کو کیسے پہنچ سکتا ہے۔ نیکی تو جب حاصل ہوگی جب اپنی محبوب چیز کی قربانی کروگے۔
معاشی نظام :
سرمایہ داری نظام میں یہی کچھ ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے بنک بیلنس کی فکر میں رہتا ہے جائز و ناجائز ، حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ مال آنا چاہئے خواہ کسی راستے سے آئے مگر دوسرے کے ساتھ نیکی کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔ جو شخص خود دوسروں کا خون چوستا ہے۔ حرام کھاتا ہے ، سود خور ہے ، لوگوں کی حق تلفی کرتا ہے ، اس سے نیکی کی کیا امید ہوسکتی ہے۔ اسی لیے قرآن نے سرمایہ دارانہ نظام کو لعنتی نظام قرار دیا ہے۔ امریکہ برطانیہ ، فرانس سب لعنتی نظام معیشت کو اپنائے ہوئے ہیں۔ وسائل معیشت اکثر ناجائز ہیں۔ مال اکٹھا کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے ، دوسری طرف الحادی نظام ہے۔ یہ سراسر خدا تعالیٰ اور شرائع الہیہ کا انکار ہے۔ روس اور چین وغیرہ میں یہی نظام ہے مگر سرمایہ دارانہ نظام کی طرح یہ اشتراکی نظام بھی ملعون ہے۔ ہاں جو نظام معیشت انبیاء (علیہم السلام) نے پیش کیا ہے۔ یہی صحیح اسلامی نظام ہے۔ اس کے ذرائع آمدن بھی جائز ہیں اور یہ حرام چیزوں پر خرچ بھی نہیں ہوتا۔ اس میں تعیش اور حرام خوری نہیں ہے۔ یہ نظام ناداروں اور غریبوں کی مدد کرتا ہے ، مظلوم کو اس کا حق دلاتا ہے۔ یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھتا ہے۔ اور بیواؤں کا سہارا بنتا ہے۔ اس نظام کے اپنانے والے مال اکٹھا نہیں کرتے ، انہیں جاہ و حشمت کی کوئی خواہش نہیں ہوتی ، بلکہ ان میں قربانی کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے۔
تاجروں کے لیے لمحہ فکریہ :
کسی قوم اور ملک کی معیشت میں تاجر حضرات مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان کا رویہ مثبت ہوگا ، حرام کی کمائی سے بچیں گے ، تو دنیا اور آخرت دونوں جگہ کامیاب ہوں گے ، ورنہ خوار ہوں گے ، حضور ﷺ نے تاجروں کو مخاطب کرکے فرمایا ، اے تاجروں کے گروہ ! یاد رکھو ، قیامت کے دن اکثر تاجر ، فاجر اٹھائے جائیں گے۔ الا من اعطی و بر و صدق۔ سوائے اس کو جو نیکی والا ہوگا ، سچائی والا ہوگا ، اور تقوی والا ہوگا ، ایسے ہی لوگ نبیوں۔ صدیقوں ، شہیدوں اور نیکو کاروں کی قطار میں کھڑے ہوں گے۔ حضور نبی کریم ﷺ بازار میں تشریف لے گئے اور فرمایا ، اے تجار ! میں تم کو ایک بات کہتا ہوں ، تم دو چیزوں کے والی بنائے گئے ہو۔ انہی دو چیزوں کی وجہ سے پہلی کئی امتیں تباہ ہوئیں فرمایا وہ دو چیزیں الکیل والوزن ترازو اور پیمانہ ہیں۔ ان میں کمی بیشی کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بہت سی قوموں کو ہلاک کیا ، عذاب میں مبتلا کیا ، یہ لوگوں کی حق تلفی کرتے تھے۔ ویل للمطففین۔ میں اسی بات کی طر فاشارہ کیا گیا ہے۔ کہ ماپ تول میں کمی بیشی کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ سورة الرحمن میں فرمایا۔ واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسرو المیزان۔ ترازو میں کمی نہ کرو ، بلکہ پورا پورا تولو۔ انصاف کرو ، ناانصافی نہ کرو۔
اسراف و تبذیر : بہرحال اسلام کے علاوہ جو بھی نظام معیشت ہے ، سب ملعون ہے۔ یہ انسانیت کے خلاف ہے۔ البتہ اسلام کا نظام اور انبیاء کا نظام بالکل الگ ہے۔ اس میں حلال و حرام کی پابندیاں ، اسراف و تبذیر کی پابندیاں ہیں۔ اسی لیے تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ الدنیا سجن المومن۔ یہ دنیا مومن کا قید خانہ ہے۔ مومن جب کلمہ پڑھ لیتا ہے۔ تو پھ اس پر بہت سی پابندیاں عائد ہوجاتی ہیں۔ نہ وہ حرام مال حاصل کرسکتا ہے اور نہ حرام مقام پر خرچ کرسکتا ہے۔ آج کل فضول رسومات میں بےدریغ روپیہ صرف کیا جا رہا ہے اور اسے بڑی عزت سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ سراسر اسراف ہے۔ قرآن پاک نے فضول خرچی کرنے والوں کو شیطان کے بھائی کہا ہے۔ ان المبذرین کانوا اخوان الشیطین۔ حضرت شاہ محمد یعقوب بھوپالی فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اسراف کو بڑی عزت سمجھتے ہیں ، حالانکہ یہ صریحاً خلاف شرع ہے۔ مثال کے طور پر فرماتے ہیں کہ مسلمان کی عادت بن چکی ہے۔ کہ شادی میں تمام رشتہ داروں کو بلایا جاتا ہے۔ صاحب خانہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس موقع پر کوئی رشتہ دار ناراض نہیں رہنا چاہئے۔ سب کو منت سماجت کرکے راضی کیا جاتا ہے اور تقریب میں بلایا جاتا ہے البتہ اپنی غلط رسوم اور اسراف کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول کو رخصت کردیا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ آپ جائیں ، ہمارے لیے ہمارے رشتہ دار کافی ہیں۔ اس طرح اللہ کے احکام کی کچھ پروا نہیں کی جاتی۔ اب دیکھیے ربیع الاول آ رہا ہے۔ مسلمان جھنڈیاں لگا کر حضور ﷺ کی اتباع کا دعویدار بن رہا ہے۔ مگر یہ نہیں سوچتا کہ وہ اسراف کا ارتکاب کرکے حضور نبی کریم ﷺ کی مخالفت کر رہا ہے۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ہرگز نہ پا سکوگے اعلی درجے کی نیکی یہاں تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزکو خرچ کرو۔ وما تنفقوا من شیء۔ اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو ، فان اللہ بہ علیم۔ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جاننے والا ہے اسے علم ہے۔ کہ تم کس نیت اور جذبے کے تحت خرچ کر رہے ہو۔ لہذ اس کا بدلہ بھی نیت اور جذبے کے مطابق ہی ملے گا۔
Ayahs 3:93–95شان نزول : گذشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اصول بیان کرکے واضح کیا تھا۔ کہ ملت ابراہیم ، حنیفیت یا اسلام کا مطلب ایک ہی ہے۔ لہذا حضور ﷺ نے اہل کتاب کو اسی ملت ابراہیمی کی طرف دعوت دی۔ اور فرمایا کہ ملت ابراہیمی کے اصل پیروکار اہل اسلام ہیں۔ لہذا اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ بھی مسلمانوں کے طریقے کے مطابق ملت ابراہیمی کی پیروی کریں۔ اس کے برخلاف یہودیوں کا دعوی یہ تھا۔ کہ اصل ابراہیمی وہ ہیں۔ انہوں نے جوابا کہا کہ اگر مسلمانوں کو ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی ہے۔ تو پھر ملت ابراہیمی میں حرام کردہ چیزوں کو وہ کیوں حلال سمجھتے ہیں۔ ان کی مراد اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ سے تھی ، جسے اہل کتاب حرام سمجھتے تھے مگر مسلمان اس کو حلال جانتے ہوئے استعمال کرتے تھے۔ یہودیوں کا دوسرا سوال یہ تھا کہ اگر مسلمان ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ تو پھر اس ملت کے قائم کردہ بیت المقدس کو قپلہ کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ پہلے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آیات زیر درس نازل فرمائیں اور واضح کیا کہ اونٹ کا گوشت اور دودھ بنی اسرائیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار نہیں دیا بلکہ یہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نذر کی تکمیل میں خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ اور پھر ان کی اتباع میں ان کی اولاد نے بھی ان چیزون کو حلال نہ سمجھا۔ اہل کتاب کے دوسرے سوال یعنی تحویل قبلہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت ان اول بیت میں وضاحت فرمادی ہے۔
مستدرک حاکم اور ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے اول درجہ کی صحیح حدیث موجود ہے۔ کہ یہودیوں نے حضور ﷺ سے سوال کیا تھا۔ کہ یعقوب (علیہ السلام) نے کس چیز کو اپنے اوپر حرام کیا تھا۔ اس کے جواب میں نبی (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ یعقوب (علیہ السلام) جن کا لقب اسرائیل یعنی اللہ کا بندہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت دی تھی کہ تم کو بیٹا دوں گا۔ جسے اپ اپنی زندگی میں دیکھ لیں گے۔ یعقوب عقب کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی پیچھے آنے والا ہے چناچہ اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ اور پھر آپکے بارہ بیٹوں کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی جن کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی۔
حضور نبی کریم نے یہودیوں کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) عرق النسا کی بیماری لاحق ہوگئی تھی جس کو لنگڑی کا درد بھی کہتے ہیں۔ نساء کے متعلق مشہور ہے کہ یہ رگ ہے۔ مگر حقیقت میں پٹھہ ہوتا ہے۔ جو کولہے سے شروع ہو کر ران سے ہوتا ہوا انگوٹھے تک جاتا ہے یہ درد عرق النساء کہلاتا ہے۔ یہ درد کبھی تانگ کے ایک طرف ہوتا ہے اور کبھی دونوں طرف۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہی عارضہ تھا۔ انہوں نے نذر مانی کہ اللہ تعالیٰ نے صحت عطا فرمائی تو میں اپنی خوراک میں سے مرغوب چیز کھانا ترک کر دوں گا۔ آپ کے نزدیک مرغوب اشیاء میں اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ تھا۔ چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے آپکو صحت عطا فرمائی ، تو آپنے ان چیزوں کو ترک کر کے اپنی منت پوری کی مقصد یہ کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کی تھیں۔ بلکہ حضرت یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں یہودی اس جواب سے مطمئن ہوگئے۔
ایک دوسری روایت میں یوں آتا ہے کہ یہودیوں نے نبی اکرم سے کہا۔ کہ ہم آپ سے بعض ایسی باتیں پوچھنا چاہتے ہیں ، جن کا جواب نبی کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا۔ آپ نے فرمایا ، اگر میں نے ان باتوں کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو تمہیں ایمان لانا ہوگا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ایمان لے آئیں گے۔ چناچہ یہودیوں کا پہلا سوال یہی تھا ، جس کا ذکر آچکا ہے۔ کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کون سی چیز اپنے اوپر حرام قرار دی تھی۔ مذکورہ جواب سن کر یہودیوں نے اس کی تصدیق کی۔
یہودیوں کا دوسرا سوال یہ تھا۔ کہ ماں کے پیٹ میں تفریق جنس کس طرح واقع ہوتی ہے۔ یعنی بچہ یا بچی کیسے بنتے ہیں آپ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ مرد کا مادہ تولید رنگت میں سفید اور قوام میں گاڑھا ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے عورت کا مادہ رنگت میں زرد قوام میں رقیق یا پتلا ہوتا ہے۔ فرمایا دونوں مادہ ہائے تولید میں جس مادہ کا غلبہ ہوتا ہے ، وہی جنس پیدا ہوتی ہے۔ حدیث میں علی کا لفظ آتا ہے یعنی جونسا مادہ غالب آجائے۔ رہا یہ سوال کہ غالب کس طرح آتا ہے۔ تو اس کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ مثلا خاصیت میں ، وصف میں یا مقدار میں غلبہ ہو سکتا ہے۔ بہرحال جس مادہ کو غلبہ حاصل ہوجاتا ہے ، تولد ہونے والا بچہ اسی جنس میں ڈھل جاتا ہے۔ یہودیوں نے لہا کہ جواب درست ہے۔
یہودیوں کا تیسرا سوال یہ تھا۔ نبی آخرالزمان کی نشانی کیا ہے۔ آنحضرت (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا تنام عینہ ولا ینام قلبہ اس کی آنکھ سوتی ہے مگر دل بیدار رہتا ہے۔ یہودیوں نے اس جواب کی بھی تصدیق کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ ان سوالوں کے جواب مجھے معلوم نہ تھے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جبریل (علیہ السلام) نے آکر یہ جواب مجھے بتائے تو میں نے یہودیوں کو بتا دیے۔
یہودیوں نے چوتھا سوال یہ کیا۔ کہ فرشتوں میں سے نبی امی کا دوست فرشتہ کون سا ہے۔ تو نبی (علیہ السلام) نے جواب دیا ، ان کا دوست جبرائیل فرشتہ ہے اس سوال پر یہودی بدک گئے کہ جبرائیل کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔ اس فرشتہ نے ہمارے آباؤاجداد کو تکلیفیں دی ہیں۔ ہم اس کو نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کا دوست تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح یہودیوں نے چوتھے سوال کے جواب کا انکار کر کے ایمان لانے سے انکار کردیا حالانکہ پہلے اسکا وعدہ کرچکے تھے۔
حلت و حرمت : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا کل الطعام کان حلا لبنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کے لیے کھانے پینے کی تمام چیزیں حلال تھیں۔ طعام سے مراد کھانے پینے کی چیزیں ہیں۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کل الطعام سے وہ چیزیں مراد ہیں جو کھانے پینے کے کام آتی ہیں۔ وہ سب حلال تھیں سوائے ان چیزوں کے جن کا ذکر سورة نساء کے پہلے رکوع میں آجائے گا۔ بعض حرام چیزوں کا ذکر سورة اعرف میں بھی آتا ہے۔ اس کے علاوہ وحی الہی کے ذریعے حرام کردہ چیزیں مثلان مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور نذر بغیر اللہ بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال نہیں تھیں۔ البتہ کھانے پینے کی عام چیزیں اور بہمیتہ الانعام یعنی بھیڑ بکری یا اسی قسم کے دیگر جانوروں کا گوشت ، دال ، سبزی ، روٹی وغیرہ تمام چیزیں بنی اسرائیل کے لیے حلال تھیں۔ ہاں ! الا ما ھرم اسرائیل علی نفسہ جو چیزیں حضرت یعقوب یلیہ السلام نے بذریعہ نذر خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں۔ وہ خاص انہیں کے واسطے حرم تھیں۔ اور وہ بھی من قبل ان تنذل التورات تورات کے نازل ہونے سے سینکڑوں سال پہلے۔ مگر ان کی دیکھا دیکھی ان کی اولاد نے بھی اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ استمال کرنا ترک کردیا۔ حالانکہ یہ ان کے لیے بالکل جائز تھا۔ اور تورات میں ان چیزوں کی حرمت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ یہودیوں نے یہ غلط مشہور کردیا تھا۔ کہ یہ چیزیں تورات کے حکم سے حرام ہوئی ہیں۔
یہاں پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے۔ کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام قرار دے دینا اللہ کے حکم سے تھا یا ان کے ذاتی اجتہاد کی وجہ سے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ یہ حرمت دونوں طرح سے جائز ہے سابقہ شرائع میں کوئی چیز اللہ کے حکم سے بھی حرام ہو سکتی ہے اور نبی کے اجتہاد سے بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور مسئلہ زیر بحث میں دونوں ذرائع کا امکان موجود ہے۔ البتہ ہماری شریعت میں کسی حلال چیز کو حرام قرار دینا درست نہیں ہے۔ ہماری شریعت کا حکم یہ ہے۔ کہ اگر کوئی شخص نذر کے طور پر بھی کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے تو ایسی نذر کو پورا کرنا ضروری نہیں ، بلکہ ایسی نذر کا توڑنا ضروری ہے۔ اور ایسی نذر کے کفارے کا ادا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ نے بعض بیویوں کی خوشنودی کی خاطر ایک لوندی اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا ، یا مسلم شریف کی روایت کے مطابق شہد پینے کو حرام کرلیا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے سورة تحریم میں حکم نازل فرمادیا ی " ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک " اے نبی ! اپ اس چیز کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں۔ جو اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہے۔ پھر آگے فرمایا " قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم " اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے کہ قسمیں توڑ دی جائیں۔ ہماری شریعت میں یہ حکم ہے۔ کہ اگر کوئی شخص کسی حلال چیز کو خود اپنے اوپر حرام قرار دے لیتا ہے۔ تو قسم واقع ہوجاتی ہے ، جسے توڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔ مگر یعقوب (علیہ السلام) کی شریعت میں یہ ضروری نہیں تھا۔ لہذا انہوں نے اپنی قسم کو پورا کرتے ہوئے اپنے آپ پر دو چیزیں حرام کرلی تھیں۔
اور یہ تورات کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ظاہر ہے کہ تورات تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ اور یعقوب (علیہ السلام) نے آپ سے سینکڑوں سال پہلے ایسا کیا تھا۔ اور وہ صحت یابی پر نذر کی صورت میں ، نہ کہ ملت ابراہیمی کے حکم کی حیثیت سے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود اونٹ کا گوشت کھاتے تھے ، آپ نے اسے اپنی اولاد کے لیے حرام بھی قرار نہیں دیا۔ بنو اسماعیل میں اونٹ کے گوشت اور دودھ کے ترک کی کبھی نوبت نہیں آئی ، البتہ بنو اسحاق میں سے صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قسم کی تکمیل میں یہ چیزیں چھوڑ دی تھیں۔ انہوں نے اپنی اولاد کو بھی ان کے استعمال سے منع نہیں کیا تھا۔ یہ تو آپکی اولاد کی محض اپنی صوابدید تھی کہ انہوں نے بھی ان چیزوں کا استعمال ترک کردیا۔
ہاں ! تورات نے بعض دوسری چیزوں کو بنی اسرائیل کی سرکشی کی وجہ سے ان پر حرام کردیا تھا۔ ان اشیاء کا ذکر سورة نساء کے آخر میں اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آئے گا۔ " فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم " یعنی بنی اسرائیل کی شرارتوں کی وجہ سے ہم نے کئی جلال چیزیں ان پر حرام کردیں۔ ان پر گائے کا گوشت حلال تھا مگر چربی حرام تھی انہیں ایک ایک بوٹی سے چربی علیحدہ کرنے کی مشکت برداشت کرنی پڑتی تھی۔ سرف آنت کی چربی حلال تھی۔ ان کے لیے بعض دیگر جانور بھی حرام قرار دیے گئے تھے۔ حالانکہ ملت ابراہیمی میں یہ تمام چیزیں جائز تھیں۔
چونکہ یہودیوں کا دعوی تھا کہ اونٹ کے گوشت اور دودھ کی حرمت کا حکم تورات میں موجود ہے۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل فاتوا بالتورۃ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ ان سے کہ دیں کہ اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو تو تورات لے آؤ، فاتلوھا ان کنتم صدقین اس کو پڑھو ، تو معلوم ہوجائے گا کہ تم اپنے دعوی میں کہاں تک سچے ہو۔ ظاہر ہے کہ تورات میں ان چیزوں کی حرمت کا حکم نہیں نکلے گا۔ کیونکہ یہ چیزیں تو یعقوب (علیہ السلام) نے سینکڑوں سال پہلے خود اپنے اوپر حرام کی تھیں ، لہذا تورات میں ان کا حکم ثابت نہیں ہوتا۔
یہودیوں نے اس چیلنج کو قبول نہ کیا۔ اگر وہ تورات لا کر پڑھتے تو یہ حکم ثابت نہ کرسکتے اور جھوٹے ثابت ہوتے۔ اس سے قبل زنا کی سزا سے متعلق بھی ان کی کزب بیانی ہوچکی تھی۔ اس کا ذکر سورة مائدہ میں آئے گا۔ واقعہ یہ ہوا۔ کہ خیبر کے ایک مرد اور عورت زنا کے مقدمے میں ملوث ہوئے۔ جب یہ مقدمہ آنحضرت یلہ السلام کی خدمت میں پیش ہوا۔ تو آپ نے فرمایا کہ تورات میں اس جرم کی سزا مقرر ہے۔ تو وہ کہنے لگے کہ تورات کا حکم یہ ہے۔ کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے مارے جائیں اور ان کا منہ کالا کر کہ گدھے پر الٹے رخ بٹھایا جائے۔ اس پر آپ نے فرمایا ، نہیں بلکہ تورات میں زانین کے رجم کا حکم ہے تورات لا کر پڑھو۔ جب تورات لائی گئی تو یہودیوں نے اصل حکم پر انگلی رکھ لی۔ مگر حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے ذریعے اصل حکم واضح ہوگیا کہ زانی اور زانیہ شادی شدہ کو بیشک جان سے مارا جائے۔ چناچہ اس حکم کے مطابق خیبر کے بدکاروں کو سنگسار کردیا گیا۔ اسی طرح حضور ﷺ نے اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ کے متعلق بھی یہودیوں سے فرمایا کہ اگر ان کی حرمت کا حکم تورات میں موجود ہے۔ تو تورات لاؤ اور پڑھ کر دیکھ لو۔ مگر یہودی چونکہ جھوٹے تھے ، انہوں نے تورات لانے کی جرات نہ کی۔ اگر تورات لے آتے تو حرمت کا حکم ثابت نہ کرسکتے۔
چنانچہ اسی واقعہ کے پیش نظر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا فمن افتری علی اللہ الکذب من بعد ذلک یعنی جو کوئی حق واضح ہوجانے کے بعد اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ فاولئک ھم الظلمون تو جان لو کہ یہی لوگ ظالم ہیں۔
ملت ابراہیمی کا اتباع : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصیحت کے طور پر فرمایا قل صدق اللہ اے نبی (علیہ السلام) ! آپ کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے۔ اور ملت ابراہیمی کے اصول واضح کردیے ہیں۔ اور آپ ان کی دعوت دینے والے ہیں۔ اور اس پر قائم ہیں۔ البتہ خود یہودی ملت ابراہیمی کو چھوڑ چکے ہیں۔ انہوں نے خدا کی کتابوں میں تحریف کی ہے اور عمدا جھوٹ بولا ہے۔ اب جبکہ حق واضح ہوگیا ہے۔ فاتبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا پس ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کرو۔ یہی دین اسلام ہے۔ اور یہی حنیفیت ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خود حنیف تھے۔ حنیف وہ ہے جو اللہ کی توحید پر ایمان لاتا ہے۔ قبلے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے۔ ختنہ کرتا ہے اور بیت اللہ کا حج کرتا ہے۔ لہذا تم بھی حنیف بن جاؤ۔ ہر طرف سے کٹ کر ایک خدا وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ۔ اور ملت ابراہیم کا اتباع کرو۔ پہلے گزر چکا ہے۔ " ان اولی الناس بابرھیم للذین اتبعوہ وھذا لنبی والذین امنوا " اپنے دور میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے قریب تر وہ لوگ تھے ، جنہوں نے ان کی پیروی کی۔ اور اس دور میں یہ نبی اخرالزمان (علیہ السلام) اور اس پر ایمان لانے والے لوگ ہیں۔ یہی لوگ آپکی امت کے پیروکار ہیں۔ یہودی تو ملت ابراہیمی کے تارک ہیں۔ انہوں نے ملت کو مسخ کردیا۔ تورات کے احکام میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اصولوں کو بگاڑ دیا اور شرک میں مبتلا ہوگئے۔ حالانکہ وما کان من المشرکین ابراہیم (علیہ السلام) تو نعوذ باللہ مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ لہذا تم بھی حنیف بن جاؤ۔ کیونکہ حنیف مشرک نہیں ہوسکتا۔ " حنفاء للہ غیر مشرکین بہ " اے اہل کتاب تم بھی شرک کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آؤ۔ تم ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے پہلے سوال کا جواب دیا۔ جس میں انہوں نے مسلمانوں سے کہا تھا۔ کہ جب تم ملت ابراہیمی کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہو۔ تو پھر اونٹ کا گوشت اور دودھ کیوں استعمال کرتے ہو۔
Ayahs 3:96–97گذشتہ سے پیوستہ :
یہودیوں نے ملت ابراہیمی کی نسبت مسلمانوں پر دو سوال کیے تھے اول یہ کہ اگر اہل اسلام ملت ابراہیمی پر ہونے کے دعویدار ہیں ، تو پھر وہ اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ کیوں استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ ملت ابراہیمی میں یہ چیزیں حرام تھیں۔ اس سوال کا جواب گذشتہ آیات میں آچکا ہے۔ کہ یہ چیزیں ملت ابراہیمی میں حرام تھیں۔ صرف یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی نذر کی تکمیل میں از خود ان اشیاء کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ باقی سب لوگوں کے لیے حلال تھیں مگر آپکی اولاد نے بھی محض آپکی اتباع میں ان چیزوں کا استعمال ترک کردیا۔ یہ تو نزول تورات سے سینکڑوں سال پہلے کی بات ہے۔ البتہ تورات کے نازل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بعض چیزیں ان کی نافرمانی اور شرارت کی وجہ سے حرام قرار دے دیں ، جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔
ارشاد ہوتا ہے۔ ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ بیشک سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، بکہ میں ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ۔ یہاں بیت سے مراد مطلق گھر نہیں۔ بلکہ عبادت خانہ ہے اس بات کی تشریح مسلم شریف کی حدیث میں موجود ہے۔ حضرت ابو ذرغفاری ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ، حضور ﷺ سے دریافت کیا ، حضور ! زمین پر سب سے پہلے کونسا عبادت خانہ یا مسجد بنائی گئی۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا مسجد حرام جس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ پھر ابوذر غفاری ؓ نے دریافت کیا۔ حضور ! دوسرے نمبر پر کونسی مسجد تعمیر ہوئی۔ ارشاد ہوا ، مسجد اقصی جو بیت المقدس ہے۔ پھر عرض کیا ، ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ ہے فرمایا چالیس 40 سال۔
یہ بات تو واضح ہے ۔ کہ بیت اللہ شریف کی تعمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کی ، اور بیت المقدس حضرت سلیمان کے ہاتھوں تعمیر ہوا۔ اور ان دونوں انبیا کے درمیان ایک ہزار سال کا وقفہ ہے۔ لہذا حضور ﷺ کا چالیس 40 سال کا وقفہ بتانا کیسے ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ روئے زمین پر سب سے پہلا عبادت خانہ اللہ تعالیٰ نے آدم علہ السلام کے ہاتھوں سے بیت اللہ شریف کو تعمیر کرایا۔ جب آدم (علیہ السلام) زمین پر اترے تو انہیں وحشت ہوتی تھی اور وہ پریشان رہتے تھے۔ آپ کی اس وحشت کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ جس طرح فرشتے آسمانوں پر بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اور وہاں پر عبادت کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ بھی زمین پر عبادت خانہ بنائیں ، جس کا لوگ طواف کریں۔ چناچہ آدم (علیہ السلام) نے زمین پر سب سے پہلے بیت اللہ شریف تعمیر کیا۔ اس کے چالیس سال بعد آپ نے شام کا سفر کیا تو وہاں پر بیت المقدس تعمیر کیا۔ اس طرح بیت اللہ شریف اور بیت المقدس کی تع میرات میں چالیس سال کا وقفہ ہے۔
اس کے بعد حوادث اور طوفان آتے رہے۔ اور یہ دونوں مقدس مقامات ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ، دونوں عمارات منہدم ہوگئیں۔ اس کے ہزاروں سال بعد بیت اللہ شریف کی دوبارہ تعمیر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں سے ہوئی۔ سورة حج میں موجود ہے۔ " واذبوانا لابراھیم مکان البیت " جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے بیت اللہ شریف کی جگہ ٹھیک کردی۔ چناچہ یہ جگہ اس وقت سے آباد ہے۔ لہذا اولین عبادت خانہ بہت اللہ شریف ہی ہے۔ تمام انبیاء (علیہ السلام) نے اسکا حج کیا ہے۔ اور یہی ملت ابراہیمی کا قبلہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن پر فرمایا کہ صرف بیت اللہ شریف کی طرف ہی اپنا رخ کرو۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) کے نزدیک حنیف وہ شخص ہے۔ جو نماز میں بیت اللہ شریف کا حج کرتا ہے۔ چناچہ قبلہ اول بیت اللہ شریف ہی ہے۔ یہی ملت ابراہیمی کا قبلہ ہے۔ بیت المقدس بھی قبلہ رہا ہے مگر اب نہیں ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے وہ قبلہ ثانی تھا۔ وہ مکرم و محترم ہے۔ حضور ﷺ کی حدیث پاک میں جن تین مقدس مقامات کا ذکر آتا ہے ، وہ یہی ہیں ، مسجد حرام ، مسجد نبوی اور بیت المقدس یعنی مسجد اقصی۔ یہ تینوں مقامات ہدایات کے مرکز ہیں ، تاہم ان میں سے سب سے زیادہ محترم بیت اللہ شریف ہے۔
بکہ اور مکرمہ :
بیت اللہ شریف جس شہر میں واقع ہے وہ عرف عام میں مکہ کہلاتا ہے جبکہ اس آیت کریمہ میں لفظ بکہ استعمال ہوا ہے۔ یہ دونوں نام اسی ایک ہی مقام کے ہیں۔ اس شہر کو ام القری ، بلدہ طیبہ ، بلد امین ، بلدۃ المامون اور بلد مقدسہ بھی کہتے ہیں۔ یربی زبان میں بکہ کے دو معنی آتے ہیں۔ اس کا معنی اجتماع ہے چونکہ یہاں پر لوگوں کا کثرت سے آنا جانا ہے۔ خصوصا ایام حج میں بہت بڑا ہجوم ہوتا ہے ، اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں۔ اس کا دوسرا معنی جھکانا ہے ، یا توڑنا ہے۔ امام بیضاوی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ یہ شہر تبک اعناق الجبارین یعنی جبارون کی گردنوں کو جھکانے والا ہے اور گردنوں کا جھکانا دو طریقوں سے ہوتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے۔ کہ یہاں پر بڑے بڑے ملوک اور جبار گردنوں کو جھکا کر سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور دوسری صورت یہ ہے۔ کہ جو کوئی اس مقدس مقام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی گردن توڑ دیتے ہیں۔ اصحاب فیل کا واقعہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ ابرہہ نے ہاتھیوں کے ساتھ بیت اللہ پر چڑھائی کی ، اسکو گرانے کی کوشش کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے وادی محسر سے آگے نہیں جانے دیا۔ مکہ سے تین میل باہر منی کے قریب اس لشکر کو ہلاک کیا۔ گویا بلکہ ان معانی میں بھی ہے۔ کہ جو کوئی اس کو نقصان پہنچانا چاہے اللہ تعالیٰ اس کی گردن توڑ دیں گے۔
بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے۔ حبشہ کا ایک ظالم بادشاہ جو سیاہ رنگ ، موٹی پنڈلیوں والا ، پست قد اور بڑا سنگدل ہوگا ، خانہ کعبہ کی عمارت کو گرائے گا۔ اس کے بعد پوری دنیا کا نطام درہم برہم ہوجائے گا اور وہ زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکے گی۔ اس کے بید صور اسرافیل پھونکا جائے گا۔ گویا انہدام کعبہ دنیا کے آخری دور کی علامت ہوگا۔ قرآن پاک میں کعبہ شریف کی ایک خصوصیت یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ " جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیما للناس " اللہ تعالیٰ نے کعبہ شریف کو دنیا میں لوگوں کے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب تک خانہ کعبہ قائم ہے ، اس میں خدا تعالیٰ کی عبادت ہوتی رہے گی ، دنیا قائم رہے گی۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا جب زمین میں اللہ اللہ کرنے والا کوئی نہیں رہے گا یقینا قیامت برپا ہوجائے گی۔
فضائل بیت اللہ شریف :
فرمایا زمین پر سب سے پہلا عبادت خانہ مکہ مکرمہ میں ہے اور اس کے فضائل میں سے ایک ہے مبرکا وہ بڑا ہی بابرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں ظاہری اور باطنی تمام برکات رکھی ہیں۔ برکت کا معانی ایسی زیادتی ہے جس میں تقدس پایا جائے۔ حرم پاک میں ہر وقت خدا تعالیٰ کی تجلیات کا نزول ہوتا ہے۔ اور ہر عابد کو اس میں سے حصہ ملتا رہتا ہے۔ وہاں پر ادا کی جانے والی عبادت کا اجر وثواب دوسرے مقامات کی نسبت بیحد و حساب بڑھ جاتا ہے ابن ماجہ کی روایت کے مطابق وہاں پر ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہوتا ہے۔ صحیحین کی روایت کے مطابق ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے باطنی طور پر اس مقام کو کتنی فضیلت بخشی ہے۔ لہزا یہودیوں کا یہ دعوی غلط ہے۔ کہ مسجد اقسی کی فضیلت مسجد حرام سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ظاہری طور پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو بڑا بابرکت رکھا ہے۔ یہ مقام کثیر الخیر و المنفعت ہے۔ اس کے مکین خوش نصیب ہیں ، جن کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی " رب اجعل ھذا بلدا امنا وارزق اھلہ من الثمرات " اے مولا کریم ! اس شہر کو امن والا بنا دے اور اس کے مکینوں کو پھلوں سے روزی عطا فرما۔ اس دعا کی قبولیت کا ثمرہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ غیر ذرع وادی میں ہر چیز کی کتنی بہتات ہے۔
فرمایا مکہ مکرمہ بابرکت بھی ہے۔ وھدی للعلمین اور تمام جہانوں کے لیے ذریعہ ہدایت بھی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ لا تشد والرحال الا الی ثلثۃ مساجد کجاوے نہ کسے جائیں یعنی سفر اختیار نہ کیا جائے مگر ان تین مساجد کی طرف۔ اور وہ ہیں مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصی۔ اس کا مطلب یہی ہے۔ کہ یہ تینوں مقامات مراکز ہدایت ہیں۔ تاہم ان میں خانہ کعبہ کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے۔ اسی لیے وہاں پر عبادت کا ثواب بھی زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان کو وہاں پیدا کیا ، قرآن پاک کو وہاں نازل کیا اور مسلمانوں کی ابتدائی جماعت وہیں تیار کی ، جو اللہ کے دین کو پوری دنیا میں جاری وساری کرنے والی تھی۔
مکہ مکرمہ کے مرکز ہدایت ہونے کی مثال ایسی ہے۔ جیسے ماں کے پیٹ میں بچے کو ناف کے ذریعے خوراک بہم پہنچائی جاتی ہے۔ ناف جسم انسانی کا مرکز ہوتا ہے تو اس کے ذریعے بچے کو خوراک پہنچا کر اس کی نشونما کی جاتی ہے۔ اسی طرح بیت اللہ پوری دنیا کا مرکز ہے۔ اور اس کے ذریعے تمام بنی نوع انسان کو روحانی غذا پہنچائی جاتی ہے۔
فضائل بیت اللہ شریف میں ایک یہ بھی کہ یہ وسط البلاد ہے مکہ یا بکہ کا ایک معنی وسط بھی ہے۔ یہ پوری دنیا کا وسط ہے۔ محدث بیجوری (رح) فرماتے ہیں کہ جس آدمی کو نکسیر پھوٹتی ہو۔ اسکی نکسیر کا خون لے کر اسکی پیشانی پر لکھ دیا جائے۔ مکہ وسط البلاد واللہ رؤف بالعباد تو اللہ تعالیٰ اس کی نکسیر روک دیں گے۔ یہ مقام اس لحاظ سے بھی وسط البلاد ہے کہ زمین کی پیدائش سے پہلے ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ پھر بیت اللہ شریف کے مقام پر ایک بلبلہ سا پیدا ہوا اور اسی سے اللہ نے ساری زمین کو پھیلا دیا ، تو گویا زمین کی پیدائش میں مکہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اور یہ پوری دنیا کا سنٹر ہے۔
تاریخ تعمیر کعبہ :
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے بیت اللہ شریف کی تعمیر کی۔ اور اس کی تجدید حضرت ابراہیم کے ذریعے سے ہوئی۔ اس کے بعد جرہم نے تعمیر کی۔ یہ حضرت ابراہیم کے سسرال کا خاندان ہے۔ پھر قوم عمالقہ کا ذکر ملتا ہے۔ اور اس کے بعد قریش نے حضور ﷺ کے اعلان نبوت سے پانچ سال قبل بیت اللہ شریف کی تعمیر کی جب اس کی چھت کمزور ہوچکی تھی۔ یہ وہی تعمیر ہے جس کے دوران حطیم کا حصہ خانہ کعبہ سے باہر نکالا گیا تھا۔ جو آج بھی اسی حالت میں ہے۔ اس کے بعد عبداللہ بن زبیر ؓ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ پھر عبدالملک بن مروان کے زمانے میں حجاج بن یوسف نے بئت اللہ کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کیا۔ اور پھر یہ آخری تعمیر ترکی عہد حکومت میں سلطان مراد کے زمانے میں ہوئی ، جو اب تک قائم ہے۔ البتہ موجودہ سعودی حکومت نے حرم شریف کی تعمیر میں گران قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ خانہ کہبہ کے گرداگرد ترکی عہد کے برآمدوں کے پیچھے بڑے وسیع برآمدے اور چاروں طرف سات بلند اور خوبصورت مینار تعمیر کیے ہیں۔ اب صفا اور مروہ کا پورا حصہ ساتھ شامل ہوچکا ہے۔ اس دو منزلہ عمارت کا فرش سنگ مرمر کا ہے جس پر دبیز قالین بچھائے گئے ہیں۔ آب زم زم کی فراہمی کے لیے جدید نظام قائم کیا ہے۔ حرم پاک میں روشنی کے لیے ٹیوب لائیٹس اور فانوس روشن ہیں۔ برقی پنکھے ہمہ وقت چلتے رہتے ہیں۔ اور لاؤڈ سپیکر کا مربوط نظام قائم ہے۔
اہل کتاب نے اس مقدس مقام کی فضیلت کم کرنے کی غرض سے اپنی ہی کتابوں میں تحریف کی ہے۔ زبور میں موجود ہے کہ خدا کے مقدس بندے وادی بکہ میں گزریں گے۔ وہاں پر پانی کے چشمے کا بھی ذکر ہے۔ اس سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمائیل (علیہ السلام) ہیں۔ اور چشمہ سے مراد آب زم زم ہے۔ مگر انہوں نے بکہ کو بکا بنا دیا اور کہا کہ یہ وادی مکہ کا نہیں وادی بکا کا ذکر ہے۔ عربی زبان میں بکا کا مطلب رونا ہے اسی طرح ان کی کتابوں میں مروہ کا ذکر بھی ملتا ہے۔ کہ اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی قربانی دی۔ مروہ سے مراد تو وہی صفا اور مروہ پہاڑہاں ہیں۔ مگر انہوں نے اس لفظ کو بگاڑ کر موریا بنا دیا۔ یہ بھی ان کی تحریف کا اہک شاہکار ہے۔
مقام ابراہیم :
فرمایا بیت اللہ شریف وہ مقدس مقام ہے فیہ ایت بینت جس میں واضح نشانیاں ہیں۔ منجملہ ان کے مقام ابراھیم مقام ابراہیم ہے۔ مقام ابراہیم کا ایک معنی تو یہ ہے۔ کہ اس جگہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد اسمائیل (علیہ السلام) کے لیے اقمت گاہ بنایا۔ جیسا کہ سورة ابراہیم میں موجود ہے " ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد گیر ذی زرع عند بہتک المحرم " اے ہمارے پروردگار ! میں اپنی اولاد کو تیرے حرمت والے گھر کے پاس بےآب وگیاہ زمین میں آباد کرتا ہوں۔ تاکہ وہ نماز قائم کریں ، تیری عبادت کریں اور دنیا کے دل وہاں کھینچے ہوئے آئیں۔ اور انہیں پھلوں سے روزی عطا فرما۔ تاکہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا تھی۔ جو حرف بحرف پوری ہوئی " اطعمھم من جوع و امنھم من خوف " اللہ نے انہیں بھوک سے نجات دی اور خوف سے امان بخشی۔ تو اس لحاظ سے اس میں بڑی واضح نشانیاں ہیں۔ عام مشہور یہ ہے۔ کہ مقام ابراہیم سے مراد وہ پتھر ہے۔ جس پر کھڑے ہو کر ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ شریف تعمیر کیا تھا۔ خانہ کعبہ کی دیواریں جوں جوں اونچی ہوتی جاتی تھیں۔ پتھر بھی خود بخود اوپر کو اٹھتا تھا۔ اور آپ اس پر کھڑے کھڑے تعمیر کا کام کرتے تھے۔ اس سخت پتھر پر اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاؤں کا نشان بھی نقش کردیا تھا ، جس کا مشاہدہ دنیا بھر کے لوگ آج تک کر رہے ہیں۔ پہلے یہ پتھر ایک دوسری عمارت میں بند کر کے رکھا گیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اسکو شیشے میں بند کر کے باب رحمت کے سامنے مطاف میں رکھ دیا ہے۔ یہ دیکھنے والوں کو بخوبی نظر آتا ہے۔ سعودی حکومت نے شیشہ کا یہ خول 35 لاکھ ریال میں امریکہ سے خصوصی طور پر تیار کروایا تھا۔ بیک وقت دو خول بنائے گئے تھے ، تاکہ اگر ایک ٹوٹ جائے تو دوسرا وہاں رکھ دیا جائے۔ یہ خاص قسم کا شیشہ ہے جو موسمی اثرات سے محفوظ رہتا ہے۔ بحرحال مقام ابراہیم اللہ تعالیٰ کی واضح نشانیوں میں سے ہے۔
فرمایا یہ ایسا متبرق و مطہر مقام ہے ومن دخلہ کان امنا جو شخص اس میں داخل ہوگا اسے امان حاصل ہوگی۔ امن سے مراد ظاہری اور باطنی دونوں امن ہیں۔ ظاہری امن تو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص قاتل ہو۔ یا کسی دوسری جنابت میں ملوث ہو اور وہ حرم شریف میں پناہ لے لے ، تو اس کو مارنے کی اجازت نہیں البتہ محدثین فرماتے ہیں کہ ایسے شخص سے میل جول اور اس کی خوراک پانی وغیرہ بند کر کے اسے باہر نکلنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے۔ اور پھر حرم سے باہر لے جا کر اس پر حد جاری کی جاسکتی ہے۔ بعض فرماتے ہیں۔ کہ اگر کوئی شخص وہاں پر بالفعل فساد کرے ، تو اس کا دفاع جائز ہے مگر اس سے بھی حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ 1979 میں حرم شریف میں جو حادثہ پیش آیا ، اس کی وجہ سے حرم پاک کی بڑی بےحرمتی ہوئی۔ عام حالات میں اگر کوئی زیادتی کرتا ہے۔ تو حرم شریف کے تقدس کو ممکن حد تک بحال رکھنا چاہئیے۔ تاہم چونکہ ان فسادیوں نے حرم کے اندر اسلحہ جمع کیا۔ میناروں پر چڑھ کر گولیاں چلائیں ، تو پھر حکومت کو بھی ضروری کاروائی کرنا پڑی ، علمائے کرام نے فتوی دیا کہ حرم شریف کے اندر قتال کرنے والوں کا قلع قمع ضروری ہوگیا ہے چناچہ حکومت سعودیہ کو مجبورا ان کے خلاف کاروائی کرنا پڑی جس سے حرم پاک کا تقدس بحرھال مجروح ہوا۔ کیونکہ یہ جائے امن ہے۔
امن کی دوسری صورت باطنی ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص وہاں داخل ہوگیا ، وہ دوزخ کی آگ سے مامون ہوگیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص مکہ یا مدینے کے حرم میں فوت ہوگیا ، کنت شفیعالہ میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔ بشرطیکہ ایسا شخص ایماندار ہو۔
فرضیت حج :
بیت اللہ شریف کے مختصر تعارف کے بعد فرمایا وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہر اس شخص پر بیت اس گھر کا حج فرض ہے جو اس کی طرف جانے کی استطاعت رکھتا ہو حضور ﷺ سے سوال کیا گیا ، استطاعت سے کیا مراد ہے۔ فرمایا " الزاد والرحلۃ " یعنی سواری اور توشہ۔ اس سفر پر جانے کے لیے سواری میسر ہو ، اپنے اور اپنے بال بچوں کے لئے اتنا سامان موجود ہو ، جو اس سفر مقدس کے عرصہ کے لیے کافی ہو ، تو ایسے شخص پر حج فرض ہوجاتا ہے۔ البتہ بعض فروعات میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ جس شخص کے پاس مال موجود ہے اس پر حج لازم ہے ، خواہ وہ ذاتی طور پر معذور ہو یعنی اپاہج ، اندھا یا بیمار ہے۔ اگر وہ خود چل کر حج نہیں کرسکتا۔ تو اسے لازم ہے کہ کسی دوسرے شخص کو حج بدل کے لیے بھجے۔ امام مالک (رح) کا مسلک یہ کہ مال کے علاوہ آدمی کا تندرست ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر وہ خود سفر اختیار کرنے سے معذور ہے ، تو حج ساقط ہوجائے گا۔ خواہ اس کے پا اس کتنا مال موجود ہو۔ امام اعظم (رح) فرماتے ہیں کہ حج کی فرضیت کے لیے مال اور جان دونوں لوازمات کا ہونا ضروری ہے۔ انسان صاحب مال بھی ہو اور تندرست و توانا بھی ہو ، تب حج فرض ہوتا ہے۔ کیونکہ حج مالی اور بدنی دونوں قسم کی عبادات کا مرکب ہے۔ لہذا استطاعت میں دونوں چیزیں شامل ہیں۔ اسی طرح عورت کے ساتھ محرم کا ہونا ضروری ہے اگر مھرم نہین ہے تو عورت پر حج فرض نہیں رہا۔ کہون کہ محرم کا ہونا حج کی شرائط میں داخل ہے۔
حضور ﷺ کے زمانے میں ایک شخص کی بیوی حج پر چلی گئی۔ خاوند کا نام مجاحدین کی فہرست میں شامل ہوچکا تھا اور وہ جہاد کی تیاری کر رہا تھا۔ نبی (علیہ السلام) کو خبر ہوئی تو اس شخص کو فرمایا حج مع امراتک جہاد کو ترک کر دے اور اپنی بیوی کے ساتھ حج پر جا ایک دوسری حدیث میں حضور اکرم کا ارشاد گرامی ہے۔ جو عورت اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتی ہے ، وہ اپنے خاوند یا محرم کے بغیر تین دن سے زیادہ کا سفر اختیار نہیں کرسکتی ، اور محرم وہ شخص ہوتا ہے جس کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو ، جیسے باپ ، بیٹا ، بھتیجا ، بھانجا ، ماموں ، چچا ، تایا ، خسر وغیرہ۔
معرضین حج کے لیے وعید :
فرمایا ومن کفر جو کوئی کفران کرے۔ اکثر مفسرین کرام نے یہی ترجمہ کیا ہے۔ کہ جو شخص استطاعت کے باوجود حج کرنے سے کفران کریگا فان اللہ غنی عن العلمین تو بیشک اللہ تعالیٰ جہان والوں سے بےنیاز ہے۔ کفران سے مراد مطلق کفران نعمت بھی ہے۔ خدا کے کسی حکم کی نافرمانی اور انکار شریعت پر بھی دلالت کرتا ہے تاہم یہاں مراد یہ ہے۔ کہ حج فرض ہوچکا ہے مگر ادا نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ کو ایسے شخص کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ ایسے شخص کی عبادت کی اللہ کو ضرورت نہیں ہے۔ عبادت و ریاضت تو انسان اپنی ذات کی تکمیل کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تو ہر حالت میں حمید ہے ، تعریفوں والا ہے ، وہ محمود اور غنی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہے۔ اور وہ اس کے لیے کوشش نہیں کرتا ، درخواست نہیں دیتا ، تو ہماری طرف سے ایسا شخص یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر ، ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ ایسے شخص کو کوئی حاوثہ پیش آجائے ، مال میں کمی ہوجائے یا کسی اور تکلیف میں مبتلا ہوجائے ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔