3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

پس قبول کی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان کی دعا کہ بیشک میں ضائع نہیں کرتا عمل کرنے والے کے عمل کو تم میں سے مرد ہو یا عورت۔ بعض تمہارے بعض سے ہیں۔ پس وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میرے راستے میں ستائے گئے اور انہوں نے لڑائی کی اور شہید کیے گئے تو میں ان کی برائیاں ان سے مٹا دوں گا اور البتہ ضرور میں ان کو بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے پاس بہت اچھا بدلہ ہے۔

ربط آیات : یہ آیت بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہے۔ سابقہ دروس میں عقلمند لوگوں کی صفات بیان ہوتی رہی ہیں۔ کہ عقلمدن وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰکی پیدا کردہ چیزوں میں غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے پروردگار ! تو نے یہ سب چیزیں بیکار پیدا نہیں کیں۔ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں۔ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل عقل و خرد کی بعض علامات بھی بیان فرمائیں کہ وہ اٹھتے ، بیٹھتے ، لیٹے ، ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور پھر اپنے رب کریم سے دعائیں بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں۔ کہ ہمیں تیرا پیغام پہنچا۔ ہمیں ایمان کی دعوت دی گئی جسے ہم نے قبول کرلیا۔ اس طرح انہوں نے عقلی و نقلی دونوں طرح کے دلائل سے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کی۔ اور دعاؤں میں مشغول ہوگئے۔ آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ دعاؤں کی قبولیت کی خوشخبری دی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ فاستجاب لھم ربھم۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے ان کی دعاؤں کو قبول کرلیا۔ جب ان لوگوں نے غور و فکر کے نتیجے میں دعوت ایمان پر لبیک کہا ، اللہ کا ذکر کیا اور اس کے سامنے گڑگڑا کر دعائیں کیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور فرمایا۔ انی لا اضیع عمل عامل منکم۔ بیشک میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ اور پھر نیک اعمال میں سرفہرست ایمان باللہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا۔ حضور یہ ارشاد فرمائیں۔ ای الاعمال افضل۔ کونسا عمل زیادہ افضل ہے۔ ارشاد فرمایا ایمان اللہ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہے۔ اس کے بعد دیگر منجملہ ، نماز ، جہاد ، والدین کی خدمت وغیرہ ہیں۔ تاہم تمام اعمال کی جڑ بنیاد ایمان ہی ہے۔ بہرحال فرمایا جو بھی نیک عمل کرے ، مرد ہو یا عورت ، میں اس کا عمل ضائع نہیں کرتا۔ یہاں پر مرد و زن کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ جو بھی نیک عمل کرے گا ، بدلہ پائے گا۔ ام المومنین ام سلمہ کی روایت میں آتا ہے۔ کہ انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور نیکی کے کاموں میں مردوں کا ذکر تو کثرے سے آتا ہے مگر عورتوں کا ذکر اس کثرت سے نہیں آتا۔ ایکد وسری روایت کے مطابق بعض عورتیں حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا حضور ! بہت سے اعمال صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں جیسے ، اذان ، جہاد وغیرہ تو اس لحاظ سے مرد عورتوں سے اجر میں بڑھ گئے۔ عورتوں کو تو بہت کم حصہ ملا۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا۔ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ عورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسا مردوں کو۔ اللہ کے قانون میں اس بارے میں کوئی تفریق نہیں۔ مرد و زن دونوں یکساں ہیں۔ البتہ ان کے عمل کی نوعیت مختلف ہے۔ مرد میدان جنگ میں جہاد کرتا ہے اور عورت اس کی خدمت کرتی ہے۔ تو دونوں کو برابر برابر ثواب ملے گا۔ بعض مشقت طلب کام ہیں جو صرف مردوں کے ذمہ ہیں اور بعض کام صرف عورتوں کے سپرد ہیں۔ اور بعض کام نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، حسن سلوک حقوق العباد اور حقوق اللہ مرد و زن دونوں کے لیے یکساں ضروری ہیں۔ لہذا جس طرح مردوں کو اجر ملے گا۔ اسی طرح عورتوں کو بھی ملے گا۔ بعض عورتوں نے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ جہادکن الحج۔ تمہارا حج ہی جہاد کے برابر ہے محرم کے ساتھ حج کرو ، یہ تمہارے لیے کافی ہے غرضیکہ عورت اور مرد میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں ہوگا۔ مرد و زن کا دائرہ کار : مرد و زن میں اگر کوئی تفریق ہے تو وہ دائرہ کار کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کے لیے اپنے اپنے کام مقرر کردیے ہیں جو وہ انجام دیں گے۔ اور اگر میاں بیوی مثال کے طور پر جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوی بنایا ہے اور اس کے ذمہ کام بھی مشقت طلب لگائے ہیں۔ اسی طرح عورت بحیثیت صنف نازک نسبتاً آسان کام کرنے کی اہل ہے۔ مرد محنت مزدوری کرتا ہے ، مشقت کرتا ہے اور گزر اوقات کے لیے کما کر لاتا ہے۔ عورت اپنے گھر کی چار دیواری میں بچوں کی پرورش اور دیگر امور خانہ داری کی ذمہ دار ہے اب فساد وہاں پیدا ہوتا ہے ، جب مرد و زن ایک ہی دائرہ کار میں نظر آنے لگتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق کی آڑ میں انگریز نے جو پراپیگنڈا کیا ہے۔ اس سے مشرقی ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ہر مقام پر مرد و زن کے شانہ بشانہ چلنے کی وجہ سے معاشرہ میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ جس کا نتیجہ بےحیائی اور فحاشی کی صورت میں نکلے گا۔ اس غلط رجحان نے اذہان کو شیطان کی جولان گاہ بنا دیا ہے۔ جب عورتیں ، دفتروں ، کارخانوں ، فوج پولیس ، بازاروں اور کھیل کے میدانوں میں مردوں کے دوش بدوش چلیں گی تو نتیجہ ظاہر ہے ، معاشرے میں فساد آئے گا۔ اب تو عورتیں ممبر بھی بن رہی ہیں۔ اسمبلیوں میں وزارتوں میں ، مجالس شوری میں ہر مقام پر ان کا حصہ مقرر ہوچکا ہے۔ اور پھر ایسے مقامات پر مردوں اور عورتوں کی جس طریقے پر نوک جھونک ہوتی ہے اس کی تفصیلات اخبارات میں آتی رہتی ہیں۔ عورتوں کا کام گھر کی دیکھ بھال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کے متعلق بہت سے احکام سورة نساء ، سورة طلاق ، سورة تحریم وغیرہ میں بیان فرما دیے ہیں۔ جن سے ان کے دائرہ کار کا پتہ چلتا ہے ، لہذا ان کی بھلائی اپنے دائرہ کار میں رہنے سے ہی ہے۔ اس سے تجاوز شر و فساد کا موجب ہوگا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مرد و زن کے ذمہ جو بھی فرائض ہیں ان کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کرتے۔ تفریق صنف : آگے فرمایا۔ بعضکم من بعض۔ بعض تمہارے بعض سے ہیں۔ مرد عورتوں سے ہیں اور عورتیں مردوں سے ہیں۔ یعنی ایک دوسرے کی جنس سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک جنسِ انسانی سے پیدا فرمایا ہے۔ دونوں کا ایک ہی باپ اور ایک ہی سلسلسہ نسب ہے۔ البتہ دونوں کی صنف میں تفریق پیدا کی ہے۔ ایک کو مرد اور دوسرے کو عورت بنا دیا۔ دونوں کے دائرہ ہائے کار الگ الگ مقرر فرمائے اور پھر معاشرے کی تہذیب و ترقی کا انحصار اپنے اپنے امور کی انجام دہی پر رکھ دیا۔ جب تک عورت اور مرد اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر اپنے اپنے فرائض انجام نہیں دیں گے تمدن کی اصلاح نہیں ہوسکے گی۔ غرضیکہ مرد و زن کی جنس تو ایک ہے مگر ان کی صنف الگ الگ ہے۔ بعضکم من بعض کا یہی مطلب ہے۔ اچھی تربیت : شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ کہ بعض کام ایسے ہیں جنہیں صرف عورتیں ہی انجام دے سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا مزاج ہی ایسا بنا دیا ہے کہ تکلیف پر تکلیف اٹھانے کے باجود اولاد کی حضانت کی ذمہ دار ہے اور اسے خوشی سے انجام دینی ہے۔ بلکہ اکثر مشاہدہ میں آیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے بچے کی پیدائش کا سلسلہ شروع نہ ہوسکے تو عورت بےچین ہوجاتی ہے۔ اور پھر پیدائش کے بعد بچے کی پرورش اور دیکھ بھال عورت کی فطرت میں داخل ہے یہ کام مرد انجام نہیں دے سکتا ، کیونکہ اللہ نے اس کا دائرہ کار مختلف بنایا ہے۔ عورتیں اگر دیندار ، سمجھدار اور اپنے کام کی بجا آوری کماحقہ انجام دیں۔ تو ان کے تربیت یافتہ بچے ایک اچھی سوسائٹی کی بنیاد رکھیں گے۔ اور اس طرح جو تمدن پیدا ہوگا ، وہ اعلی درجے کا ہوگا۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم فرماتے ہیں۔ مادرتِ درس نخستیں با تو داد غنچہ تو از نسیم او کشاد دولت جاوید ازوداند دختی از لب او لا الہ آموختی بچے کو سب سے پہلا درس مال ہی دیتی ہے اور بچہ کلمہ طیبہ ماں ہی کی زبان سے سیکھتا ہے گیوا ایمان کی دولت انسان کو ماں کے ذریعے نصیب ہوتی ہے۔ اچھی ماں کی اچھی تربیت انسان کی زندگی پر مثبت اثر ڈالے گی اور اس کے برخلاف اگر ماں کی تربیت بےدینی پر مشتمل ہوگی ، تو اولاد بھی ویسی ہی ہوگی۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ دنیا کی سب سے اچھی نعمت مراۃ صالحۃ یعنی نیک عورت ہے۔ اور معاشرے کے بناؤ بگاڑ میں اس کا بنیادی حصہ ہے۔ ہجرت کی فضیلت : عقلمند لوگوں کی دعا اور اس کی قبولیت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشقت کے کام کرنے والے دیگر لوگوں کا تذکرہ بیان فرمایا۔ مشکل ترین امور میں سے ایک ہجرت بھی ہے۔ چناچہ اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا۔ فالذین ھاجروا۔ جن لوگوں نے ہجرت کی۔ بعض اوقات اہل ایمان اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ، کیونکہ وہ خدا کا نام نہیں لے سکتے اور اس سلسلے میں بعض اوقات مال اور اہل و عیال کی قربانی دینی پڑتی ہے۔ نئی جگہ پر ماحول مختلف ہوتا ہے۔ آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے انسان طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے۔ زباندانی کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ حسب خواہش خوراک میسر نہیں آتی۔ لہذا ہجرت کرنا بڑا اذیت ناک کام ہے۔ مگر مجبوراً کرنا پڑتا ہے فرمایا وہ لوگ جنہوں نے خود ہجرت کی اور وہ بھی وخرجوا من دیارھم ، جو اپنے گھروں سے زبردستی نکالے گئے۔ مال و اسباب پر قبضہ کرلیا گیا۔ بیوی بچوں کو روک لیا گیا۔ کتنی تکلیف دہ صورت حال ہے۔ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کو یہ تمام تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ مدینہ جا کر آب و ہوا میسر نہ آئی ، بیمار ہوئے۔ سفر کی تکالیف برداشت کیں۔ اسی یلے حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ شان الھجرۃ لشدید ہجرت کا معاملہ بڑا مشکل ہے اور جو شخص اس میں ثابت قدم ہو کر نکلے اس کے لیے اجر بھی عظیم ہے۔ حضور ﷺ نے خود دعا فرمائی۔ اللہم امض لاصحابی ھجرتھم۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو جاری فرما۔ اور پھر جب کوئی شخص دوسرے مقام پر ہجرت کرلیتا ہے۔ تو اس کو واپس اپنے پہلے مقام پر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ جو لوگ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ چلے گئے۔ وہ حج کے لیے بھی مکہ آتے تھے ، تو حج کے بعد تین دن سے زیادہ ٹھہرنے کی اجازت نہ تھی ، وجہ یہ ہے۔ کہ اس مقام پر فوت ہو کر دفن ہونا بھی ٹھیک نہیں۔ یہاں پر یہ بات واضح ہوجانی چاہئے کہ ہجرت وہی مقبول ہے جو کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے لیے کی جائے۔ محض دنیا کے حصول کے لیے ہجرت شرعی ہجرت نہیں ہوگی جس کی اتنی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ صحیحین کی روایت میں حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے۔ فمن کانت ہجرتہ الی اللہ ورسولہ فھجرتہ الی اللہ ورسولہ۔ جس شخص کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ تو اس کی ہجرت درحقیقت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی۔ ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا اوامرءۃ یتزوجھا فھجرتہ الی ما ھاجر الیہ۔ اور جو کوئی کسی دنیاوی غرض کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی خاطر مہاجر بنا ۔ تو اس کی ہجرت اس کے مطلوبہ مقصد کے لیے ہوگی۔ اللہ کے ہاں اس کا کچھ اجر نہ ہوگا۔ اذیت فی سبیل اللہ : فرمایا وہ لوگ جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے۔ واوذوا فی سبیلی۔ اور جنہیں میرے راستے میں تکلیف دی گئی ، وہ کون سی تکلیف ہے جو کافروں ، مشرکوں اور اہل کتاب نے مسلمانوں کو نہیں پہنچائی۔ انہیں تشدکا نشانہ بنایا گیا ، تپتی ہوئی ریت پر لٹایا گیا ، مالی نقصان پہنچایا گیا اور پھر سب سے بڑی دینی تکلیف دی گئی۔ اسلام کو استہزاء کا نشانہ بنایا گیا۔ قرآن پاک کی تکذیب کی گئی اور حضور نبی کریم کی شان میں گستاخی کی گئی۔ یہ تکلیف جسمانی اذیت سے بھی سوا ہے۔ اسی لیے تو حضور ﷺ نے دعا فرمائی۔ اللھم لا تجعل مصیبتنا فی دیننا۔ اے اللہ ! دین کے معاملے میں ہمیں اذیت نہ پہنچے۔ ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ گذشتہ رکوع میں گزر چکا ہے کہ اے اہل ایمان ! تمہیں مالوں اور جانوں کے ذریعے آزمایا جائے گا اور تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے اذیت ناک باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر ان تکالیف پر صبر کروگے اور تقوے کا راستہ اختیار کروگے تو یہ چیز دین میں مطلوب و مقصود ہے اور باعث فوز و فلاح ہے۔ اور پھر فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں۔ وقتلوا۔ جنہوں نے اللہ کے راستے میں جہاد بالسیف کیا۔ جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلنا بڑا مشکل کام ہے اور اس سے کوئی دنیاوی غرض نہ ہو بلکہ لتکون کلمۃ اللہ ھی العلیا۔ اس لیے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو ، اس کا دین غالب آئے اور قرآن پاک کا دستور جاری ہو۔ فرمایا جو لوگ کفن بردوش نکلے۔ وقتلوا۔ اور شہید بھی کیے گئے۔ انہوں نے اللہ کی راہ میں جان جیسی قیمتی متاع قربان کردی۔ اس سے بڑی قربانی کیا ہوسکتی ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا۔ لاکفرن عنھم سیاتھم۔ میں ان کی خطاؤں کو ضرور معاف کردوں گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ شہید کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے قبل اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا کہ اسلام ، ہجرت اور حج تین عمل ایسے ہیں کہ ان کے انجام دینے پر ، یھدم ما کان قبلھا۔ اللہ تعالیٰ سابقہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے۔ البتہ ایک چیز پھر بھی اس کے ذمہ رہتی ہے اور وہ حقوق العباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو معاف فرما دیتا ہے مگر بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک صاحب حق خود نہ معاف کرے۔ کا شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر میں خدا کی راہ میں اس طرح مارا جاؤں۔ مقبلاً غیر مدبر۔ بغیر پشت پھیرے بہادری کے ساتھ لڑوں اور پھر جان قربان کردوں ، تو کیا میرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے ؟ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں۔ یہ سن کر جب وہ شخص واپس جانے لگا نبی کریم ﷺ نے پھر بلایا اور ارشاد فرمایا کہ باقی گناہ تو سارے ہی معاف ہوجائیں گے۔ الا الذین سوائے قرضہ کے۔ یہ حقوق العباد میں سے ہے۔ آپ نے فرمایا ، جبرائیل نے ابھی آ کر مجھے بتایا ہے کہ شہادت سے قرضہ معاف نہیں ہوگا۔ جنت میں داخلہ : فرمایا ایسے لوگوں کے گناہ معاف کردوں گا۔ ولادخلنھم جنت تجری من تحتھا الانھر۔ اور میں ان کو ایسے بہشتوں میں داخل کروں گا۔ جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ جنت بڑا عزت کا مقام ہے۔ بڑی اعلی اور ارفع جگہ ہے۔ جہاں باغات ، کوٹھیاں اور محلات ہوں گے ، جن کی تفصیلات قرآن پاک میں مختلف مقامات پر ذکر ہوئی ہیں۔ فرمایا یہ سب چیزیں۔ ثوابا من عند اللہ۔ اللہ تعالیٰ کیطرف سے اجر وثواب ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو ایمان لائے ، اللہ کا ہر حالت میں ذکر کرے ، دعائیں کرے مشقت کے کام انجام دے ، جہاد میں حصہ لے۔ دین کو قائم کرے ، اس کا بدلہ ایسا ہی ہونا چاہئے۔ فرمایا واللہ عندہ حسن الثواب۔ بیشک اللہ کے ہاں بہت ہی اچھا بدلہ ہے۔ ایسا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہی ہے لہذا اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنی چاہئے۔ اور ہمیشہ اس کی وحدانیت پیش نظر رہنی چاہئے۔
Ayahs 3:196–198

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

نہ مغالطے میں ڈالے آپ کو ان لوگوں کا مختلف شہروں میں چلنا پھرنا جنہوں نے کفر کیا۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

یہ تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت برا ٹھکانا ہے۔

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن وہ لوگ جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لیے باغات ہیں جن کے سامنے نہریں جاری ہیں۔ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہمانی ہے۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ بہتر ہے نیکوکاروں کے لیے۔

ربط آیات : گذشتہ دروس میں ذکر آ چکا ہے۔ کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرنے کے بعد ایمان قبول کرتے ہیں اور آخرت کی فکر میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں اور آخرت کی رسوائی سے بچنے کے لیے گڑگڑا کر دعائیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ اور کسی عامل کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ عمل کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت۔ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ ضرور ملے گا۔ خصوصاً جو لوگ مشقت کے کام کرتے ہیں ، اپنے گھر بار کو چھوڑ کر اللہ کے دین کی خاطر ہجرت کرتے ہیں اور جان ہتھیلی پر رکھ کر خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ، کبھی غالب آتے ہیں۔ اور کبھی شہادت کا درجہ پاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے خدا تعالیٰ کے ہاں بڑا اجر وثواب ہے۔ استدراج : اب آج کے درس میں دوسری قسم کے لوگوں کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا ہے کہ کفار کی ظاہری شان و شوکت مال و دولت اور آرام و آسائش دیکھ کر کہیں دھوکے میں نہ پڑجائیں کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتیں عطا کی ہیں۔ وہ فی الحقیقت اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ فرمایا ایسا نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ لایغرنک تقلب الذین کفروا فی البلاد۔ کفار کا مختلف شہروں میں آنا جانا کہیں آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے۔ فرمایا آپ دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں اور معاصی میں مبتلا ہیں ، وہ اس دنیا میں خوشحالی کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔ بہترین مکانوں میں رہائش پذیر ہیں۔ اعلی سواریاں حاصل ہیں ، کارخانے ہیں ، مربعے ہیں ، مال و دولت کی فراوانی ہے۔ مگر ایمان سے خالی ہیں۔ نیکی سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہیں رکھتے ، نہ عاقبت کی انہیں کوئی فکر ہے۔ فرمایا ایسے لوگوں کے متعلق یہ گمان نہ کر بیٹھنا کہ شاید یہ لوگ اچھے ہیں۔ افراد سے بڑھ کر قوموں پر بھی یہ اصول منطبق ہوتا ہے۔ روسی اور امریکی اگر سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے ہیں۔ جاپانی صنعت میں سرفہرست ہیں ، جرمنی اور برطانوی انجینئرنگ میں کمال حاصل کرچکے ہیں ، انہیں دنیا میں اقتدار حاصل ہے ، لوگ خوشحال ہیں۔ روپے کی ریل پیل ہے۔ ، ڈالر ، مارک اور پونڈ کے ذریعے پوری دنیا کی معیشت ان کے قبضے میں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہیں مغالطے میں نہ رہنا یہ استدراج ہے اور اللہ کے ہاں یہ سب جہنم کے کندہ ناتراش ہیں۔ ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے یہ تو اللہ نے انہیں مہلت دے رکھی ہے کہ جو کچھ کرنا ہے کرلو۔ نولہ ماتولی۔ آخر پکڑے جاؤگے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا۔ لایغبطن فاجرا فانک لاتدری ما ھو لاق بعد موتہ فان لہ عند اللہ قاتلا لای موت۔ تم کسی فاجر اور نافرمان آدمی کی حالت پر رشک نہ کرنا ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد وہ کس چیز سے ملنے والا ہے۔ کیونکہ اس کے لیے اللہ کے ہاں ایسا قاتل ہے جو کبھی نہیں مرے گا۔ قاتل سے مراد موت ہے۔ جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ ہلاکت میں مبتلا رہے گا۔ طرز تخاطب : لایغرنک ، میں صیغہ واحد مذکر حاضر استعمال کیا گیا ہے۔ کہیں آپ کو دھوکے میں نہ ڈالیں۔ وحی الہی کے مخاطب اول تو حضور نبی کریم (علیہ السلام) ہیں اور اسی لحاظ سے یہ آپ کو خطاب کیا جا رہا ہے۔ کہ کہیں مغالطہ کا شکار نہ ہوجائیں کہ کافر لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ ظاہر ہے کہ نبی (علیہ السلام) کی ذات کے متعلق تو یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ حضور ﷺ کو کبھی شک بھی گزرا ہو کہ کافر اللہ کے محبوب ہیں۔ لہذا اس خطاب کا مطلب یہ ہے کہ یہ خطاب تو آپ ہی سے ہے مگر بات ساری امت بلکہ ساری انسانیت کو سمجھائی جا رہی ہے۔ کہ کفار کی ظاہری شان و شوکت دیکھ کر کہیں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجانا کہ وہ حق پر ہیں۔ اس قسم کا طرز تخاطب قرآن پاک کے ک مختلف مقامات پر آتا ہے۔ اکثر مقامات پر لفظ۔ قل۔ کے ذریعے نبی (علیہ السلام) کو مخاطب کیا گیا ہے مگر مقصود تمام متعلقین کو سمجھانا ہوتا ہے۔ ایک مقام پر حضور سے خطاب ہے۔ لاتطع الکفرین۔ یعنی آپ کفار کی اطاعت نہ کریں۔ حالانکہ آپ کی ذات والا صفات کے متعلق تو دور کا گمان بھی نہیں کیا جاسکتا مگر مقصد یہاں بھی عام اہل ایمان کی ہدایت ہے۔ سورة کوثر میں آتا ہے۔ فصل لربک وانحر۔ اے پیغمبر ! آپ اپنے رب کی نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ صیغہ واھد استعمال ہونے کی بنا پر کیا یہ حکم صرف آپ کی ذات کے لیے ہی ہے۔ نہیں ، بلکہ ساری امت کو نماز اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ اور اگر یہ خطاب حضور ﷺ کی ذات تک ہی محدود سمجھا جائے ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کو یہ بات تاکید کے طور پر کہی جا رہی ہے کہ کافروں کے متعلق کسی غلط فہمی میں نہ پہلے آپ کبھی مبتلا ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں۔ اس قسم کی تاکید بعض دوسرے مقامات پر بھی آتی ہے۔ مثلاً حضور ﷺ کو فرمایا۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک۔ آپ شرک نہ کریں اگر آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا تو آپ کے عمل بھی ضائع ہوجائیں گے۔ اللہ کے تمام نبی تو شرک سے معصوم ہوتے ہیں۔ نبی کی ذات سے تو شرک کا شائبہ تک محال ہے مگر تاکید کے طور پر اس قسم کا خطاب کیا گیا ہے۔ کہ آپ ہمیشہ شرک سے بیزار رہے ہیں لہذا آئندہ بھی اس سے بچتے رہیں۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ یہ خطاب عام ہے۔ اور ہر اس مخاطب کے لیے ہے جو حق کا طلبگار ہے اور حقیقت تک پہنچنا چاہتا ہے گویا عام طالبانِ حق کو بات سمجھائی جا رہی ہے۔ کہ کافروں کی خوشحالی دیکھ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ متاع قلیل : فرمایا دنیا کا سارا سازوسامان جو اس زمین پر بسنے والے ایک ایک فرد کے پاس موجود ہے ، اور وہ خزانے جو پہاڑوں کی تہوں میں موجود ہیں اور بیش قیمت موتی جو سمندروں میں پائے جاتے ہیں ، مکان ، کوٹھیاں ، کاریں ، کارخانے ، زر و جواہرات ، مع دنیات غرضیکہ دنیا کی ہر چیز ایک جگہ پر اکٹھی کردی جائے ، تو پھر بھی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ متاع قلیل۔ تھوڑا سا فائدہ اٹھانا ہے۔ یہ معمولی سامان ہے جو اللہ نے لوگوں کے استعمال کے لیے دے رکھا ہے ہے۔ حضور نبی (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق پوری دنیا کے مال و دولت کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جو اللہ نے لوگوں کے استعمال کے لیے دے رکھا۔ حضور نبی (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق پوری دنیا کے مال و دولت کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے کوئی شخص سمندر میں انگلی ڈبو کر نکال لے۔ انسان جس مال و متاع کی موجودگی پر اکڑ رہا ہے۔ اس کی حیثیت اتنی بھی نہیں جتنا پانی کسی انگلی کو لگ سکتا ہے۔ اب تو لوگوں کی عمریں چھوٹی ہوگئیں ہیں اور اس تھوڑے وقت میں انسان کیا کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ پہلے لوگوں نے بڑی لمبی لمبی عمریں پائیں اور اس طرح انہوں نے مال و دولت بھی زیادہ اکٹھا کیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور تک لوگوں کی عمریں طویل تھیں پھر کم ہونا شروع ہوگئیں۔ اس وقت لوگوں پر بڑھاپا بھی طاری نہیں ہوتا تھا۔ اب بڑھاپا آنے لگا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے لوگوں کے بال بھی سفید نہیں ہوتے تھے۔ سب سے پہلے آپ ہی کے بالوں میں سفیدی آئی۔ غرض ! اب تو پوری دنیا پر بڑھاپا طاری ہوگیا ہے ، ابتدائے دنیا سے لے کر جتنا بھی مال و متاع ہے آخرت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ لہذا آپ کافروں کی طرف دیکھ کر کسی مغالطے میں نہ پڑجائیں کہ وہ محبوب خدا ہیں جو کچھ بھی ان کے پاس ہے بالکل حقیر چیز ہے۔ جو اس دنیا میں ختم ہوجائے گا۔ اور پھر جب وہ آخرت کی منزل میں قدم رکھیں گے۔ ثم ماواھم جھنم۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وبئس المہاد۔ اور وہ بہت برا ٹھکا انا ہے جس کی طرف جا رہے ہیں۔ متقین کے لیے انعام : فرمایا یہ تو کفار کا انجام ہوگا۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ لکن الذین اتقوا ربھم۔ مگر وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ شرک و کفر سے محفوظ رہے۔ معاصی سے بچتے رہے ان کے دلوں میں خدا کا خوف جاگزیں رہا اور اسی خوف کی وجہ سے اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز نہیں کیا ، دنیا میں حلال و حرام کا امتیاز کیا۔ نیکی اور بدی کو پہچانا ، اپنے ایمان کی حفاظت کی ، اسی چیز کا نام تقوی ہے۔ چناچہ جن لوگوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا فرمایا۔ لھم جنت تجری من تحتھا الانھر۔ ان کے لیے باغات ہیں۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں۔ جنت کی نعمتوں کی جو تفصیلات قرآن پاک نے مختلف مقامات پر بیان کی ہیں وہ ایسی چیزیں ہیں جو انسان عام طور پر اپنے تصور میں لاسکتا ہے۔ مثلاً دنیا میں آرام و آسائش کے لیے اچھا مکان ، اچھی بیوی جو اچھے اخلاق واطوار کی حاملم ہو۔ قرا ان پاک نے انہیں۔ ازواج مطھرۃ۔ کا نام دیا ہے۔ ومسکن طیبۃ۔ یعنی پسندیدہ مکانوں کا ذکر کیا ہے۔ اور اسی طرح اچھی رفاقت کا تذکرہ آتا ہے جیسے گذشتہ درس میں گزر چکا ہے مع الابرار۔ نیک لوگوں کی رفاقت کی دعائیں انبیاء (علیہم السلام) بھی کرتے رہے۔ اس کے علاوہ انسان اچھا لباس بھی پسند کرتا ہے اس کی موافقت سے جنت کے پاکیزہ لباس کا تذکرہ بھی آتا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ جنت کی حور کی اوڑھنی نصیفۃ خیر من الدنیا ومافیھا۔ اس پوری دنیا اور اس میں موجود ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہوگی۔ آخرت کا مال و متاع اور آرام و آسائش اس دنیا کے مقابلے میں لامحدود ہوگا۔ اسی طرح شراب طہور ، عسل مصفی ، دودھ کی نہروں اور غیر آسن پانی کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ سب چیزیں اہل جنت کو حاصل ہوں گی جن کا صحیح تصور ہم اس وقت نہیں کرسکے ، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنے انعام یافتہ بندوں کے لیے جن انعامات کا ذکر کیا ہے۔ وہ ایسی چیزیں ہیں جو کسی حد تک ہمارے تصور میں آسکتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ متقی لوگوں کے لیے باغات ہوں گے جن کے سامنے مصفی پانی کی نہریں بہتی ہوں گی۔ ان نہروں کا پانی کبھی خراب نہیں ہوگا اور اگر جنتی چاہیں گے تو یہ نہریں بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کے اوپر چل رہی ہوں گی۔ فرمایا متقین اس جنت میں کسی مھدود عرصہ کے لیے نہیں جائیں گے بلکہ ، خلدین فیھا ، اس میں ہمیشہ ہمیشہ سکونت پذیر رہیں گے اور اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہاں سے انہیں نکالا نہیں جائیگا۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی فرمائیں گے کہ تم مقام رضوان میں پہنچ چکے ہو۔ اب میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ اللہ کی طرف سے مہمانداری : فرمایا یہ ساری نعمتیں ، نزلا من عنداللہ ، اللہ کی طرف سے مہمانداری ہوگی۔ نزل۔ اس اچھی سے اچھی چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے جو مہمان کی آمد پر سب سے پہلے پیش کی جاتی ہے۔ ایسی نعمتوں کا اشارہ اگلی آیت کے اگلے حصے میں بھی آرہا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ کی مہمانداری میں اعلی ترین چیزیں پیش کی جائیں گی جن میں مادی نعمتوں کے علاوہ تقرب الہی اور تجلیات الہی جیسی عظیم نعمتیں بھی شامل ہوں گی۔ نزل کو مہمانداری کے معانی میں عام عربی بول چال میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ امام بیضاوی ایک شعر نقل فرماتے ہیں۔ وکنا اذ الجبار بالجیش ضافنا جعلنا القنا والمرھفات لہ نزلا اگر جبار لشکر لے کر ہمارا مہمان بنتا ہے۔ تاہم اس کے لیے نیزے اور قاطع تلواریں مہمانی کے طور پر تیار رکھیں گے۔ مطلب یہ کہ ظالم شخص کا استقبال ہم تلواروں اور نیزوں سے کرتے ہیں یہ تحکم کے طور پر بات کی گئی ہے۔ تو بہرحال نزل کا معنی مہمانداری ہے۔ جو اللہ تعالیٰ جنتیوں کے لیے پیش کریں گے۔ ظاہر ہے کہ جن خوش قسمت لوگوں کا میزبان خود خدا ہوگا ، ان کو کتنی عزت اور کتنا شرف حاصل ہوگا۔ نیکوکاروں کے لیے بہتر اجر : فرمایا ، وما عنداللہ خیر للابرار ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے یعنی اس کی اعلی سے اعلی نعمتیں بہتر ہیں نیکوکاروں کے لیے ابرار کا لفظ پہلے بھی گزر چکا ہے یہ بِر کی جمع ہے اور مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کی نگاہ ہمیشہ انجام پر رہتی ہے اور نیکی کرنا ان کا شعار ہوتا ہے۔ وہ ہر چھوٹے بڑے ، اعلی ادنی کے ساتھ نیکی کرتے ہیں۔ بڑوں کا حق ادا کرتے ہیں ، اولاد اور دیگر عزیز و اقارب کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔ والدین کی خدتم کرتے ہیں برابر والوں سے حسن سلوک کرتے ہیں۔ دوست احباب اور پڑوسیوں سے میل ملاپ رکھتے ہیں ، غربا و مساکین کے ساتھ مطلوبہ سلوک روا رکھتے ہیں ، غرض وہ لوگ ہر وقت اور ہر ایک کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں۔ فرمایا اللہ کے پاس جو کچھ انعامات ہیں وہ ان نیک لوگوں کے لیے بہتر اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان کے گروہ میں شامل ہونے کا مستحق بنائے۔
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بیشک بعض اہل کتاب میں سے البتہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اور اس چیز پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس چیز پر جو ان کی طرف اتاری گئی۔ وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ وہ نہیں خریدتے اللہ کی آیتوں کے بدلے کم قیمت یہی لوگ ہیں جن کے واسطے ان کے پروردگار کے پاس بدلہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر فرمایا کہ اے اہل ایمان ! کفار کی خوشحالی وسعت کاروبار ، اعلی ذرائع آمدورفت ، اچھی خوراک اور اچھی رہائش کہیں تمہیں اس مغالطے میں نہ ڈال دے کہ یہ لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ فرمایا یہ تو دنیا میں استعمال کے لیے انہیں تھوڑا سا سامان دیا گیا ہے۔ اور پھر مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا جو کہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ فرمایا البتہ عام متقین کے لیے ان کے رب کے پاس بدلہ ہے۔ انہیں جنت میں داخل کیا جائیگا ، وہ اللہ رب العزت سے اعلی انعام پائیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی مہمانداری کریں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے خاص متقین کا ذکر فرمایا ہے۔ کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائیں گے ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سارے اہل کتاب برابر نہیں : اسی سورة میں اہل کتاب کے متعلق پہلے بھی گزر چکا ہے۔ لیسوا سواء۔ سارے کے سارے اہل کتاب تو ایک جیسے نہیں۔ اگر ان کی اکثریت قرآن پاک ، نبی خاتم النبیین ﷺ اور اسلام کے دشمن ہیں تو ان میں سے اچھے لوگ بھی ہیں جو اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہیں۔ وہ تعصب اور عناد کو چھوڑ کر ایمان کو قبول کرلیتے ہیں جو اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہیں۔ وہ تعصب اور عناد کو چھوڑ کر ایمان کو قبول کرلیتے ہیں ، اگرچہ وہ تعداد میں قلیل ہیں۔ ایسے سمجھدار لوگ ہر زمانے میں پائے گئے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں عبداللہ بن سلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے ، مگر اللہ کی توفیق سے اسلام قبول کیا۔ ان کے ساتھ بہت سے دوسرے لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ تمیم داری مشہور عیسائی تھے۔ صہیب رومی کا تعلق بھی اسی مذہب سے تھا ، سلمان فارسی جیسی عظیم المرتبت شخصیت کا پہلا دین عیسائیت تھا۔ ان سب نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں کی صفِ اول میں جگہ پائی۔ بعض مفرین فرماتے ہیں کہ لیسو سواء والی آیت میں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سب برابر نہیں ہیں۔ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں اور اس آیت ان من اھل الکتب سے نصاری مراد ہیں۔ یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا عبداللہ مثل عاشر عشرہ۔ کہ وہ عشرہ مبشرہ کی طرح ہیں۔ یعنی وہ ان دس صحابہ کی طرح ہیں جنہیں حضور ﷺ نے بیک وقت جنت کی بشارت دی۔ ان میں حضرات ابوبکر صدیق ، عمر فاروق ، عثمان غنی ، علی المرتضی ، طلحہ ، زبیر ، سعد ، سعید ، ابوعبیدہ ، عبدالرحمن ، ؓ شامل ہیں۔ یعنی حضرت عبداللہ بن سلام ان دس صحابہ کی طرح جنتی ہیں۔ مسلم شریف اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ عبداللہ بن سلام نے خواب دیکھا اور حضور ﷺ کے پاس بیان کیا ، تو آپ نے فرمایا۔ ان تموت علی الایمان۔ یعنی تمہارا خاتمہ بالایمان ہوگا۔ آپ نے یہ بشارت اسی وقت سنا دی تھی۔ نجاشی کا قبول اسلام : امام نسائی اور امام بیضاوی نے حضرت انس سے روایت بیان کی ہے اور امام ابن جریر نے حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ نجران کے چالیس عیسائی ایمان قبول کرچکے تھے۔ حبشہ میں بھی بتیس خوش نصیب ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے ، مدینے کے یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام سر فہرست تھے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی خود ایمان لے آئے۔ امام نسائی فرماتے ہیں۔ کہ مکہ سے ہجرت کرکے دو قافلے حبشہ پہنچے۔ پہلے قافہلہ میں تو مہاجرین کی تعداد کم تھی ، تاہم دوسرا اسی افراد پر مشتمل تھا جس میں حضرت عثمان بمع اپنی زوجہ اور حضور ﷺ کی دختر حضرت رقیہ شامل تھے۔ حضرت جعفر بھی بمع اپنی زوجہ اسماء کے ساتھ اسی قافلے کے ہمراہ گئے۔ فرماتے ہیں کہ نجاشی نے حضرت عثمان اور حضرت جعفر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسے حضور ﷺ کی ملاقات کا زیست بھر شوق رہا۔ مگر اس کی یہ حسرت پوری نہ ہوسکی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر نجاشی نے تیس افراد پر مشتمل ایک وفد جس میں اس کا اپنا بیٹا بھی تھا ، حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ یہ وفد بحری سفر کے دوران سمندری طوفان کی نذر ہوگیا ، کشتی ڈوب گئی اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔ البتہ اس کے علاوہ ایک اور قافلہ وہاں سے مدینے آیا اور ایمان قبول کیا ، اس کا ذکر ساتویں پارے کی ابتداء میں آئے گا۔ اہل کتاب کے لیے دہرا اجر : امام بغوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ نجاشی کی وفات کے وقت وہاں پر ایک بھی مسلمان موجود نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعے حضور ﷺ کو خبر دی کہ آج نجاشی فوت ہوگیا ہے۔ وہ صاحب ایمان تھا ، لہذا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس بات کا عام اعلان فرمایا۔ لوگ باہر عید گاہ میں نکلے ، دو بڑی بڑی صفیں بنیں اور نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امام بغوی فرماتے ہیں۔ کہ حقیقت میں یہ جنازہ غائبانہ نہیں تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مدینے اور حبشہ کے درمیان موجود تمام پردے ہٹا دیے اور نجاشی کی میت حضور ﷺ کو نظر آنے لگی اور اس طرح یہ جنازہ گویا حاضر میت پر ہی پڑھا گیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا ، جس طرح مشرکین کے بیت المقدس سے متعلق سوال کرنے پر اللہ تعالیٰ نے درمیانی تمام پردے چاک کرکے بیت المقدس حضور ﷺ کے سامنے کردیا تھا اور آپ ہر سوال کا جواب بیت المقدس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کردیتے جاتے تھے۔ نماز جنازہ غائبانہ طور پر درست ہے یا نہیں ، یہ مسئلہ متنازعہ ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ کہ جس مسلمان کا جنازہ پڑھنے والا کوئی مسلمان موجود نہ ہو ، اس کا غائبانہ جنازہ پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ نماز فرض کفایہ ہے اور چند مسلمانوں کی طرف سے نماز جنازہ پڑھ لینا سب کو کفایت کرجاتا ہے ، نجاشی کا جنازہ غائبانہ ایک تو اس وجہ سے جائز تھا کہ اس وقت حبشہ میں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا لہذا اس کا جنازہ پڑھنا دوسرے مسلمانوں پر ضروری ہوگیا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے۔ کہ یہ جنازہ حقیقت میں غائبانہ نہیں تھا کیونکہ نجاشی کی میت حضور ﷺ کی آنکھوں کے سامنے کردی گئی تھی۔ بعض حضرات اسی واقعہ نجاشی سے غائبانہ جنازہ کا جواز نکالتے ہیں مگر صحیح مسلک یہی ہے۔ کہ اگر کسی مرنے والے کا جنازہ بعض آدمیوں نے پڑھ لیا تو سب کو کفایت کر گیا ، اب دوبارہ غائبانہ جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام بغوی (رح) لکھتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے نجاشی کا جنازہ ادا کرنے کا اعلان فرمایا تو منافقین نے کہا ، حضور ! وہ جو حبشی غلام ہیں کیا ہم ان کی نماز جنازہ پڑھیں ، فرمایا وہ مومن تھا اور ایمان لا کر اعلی مقام حاصل کرچکا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں آتا ہے کہ صحابہ کرام بیان کرتے تھے کہ کافی عرصہ تک نجاشی کی قبر پر نور برستا دکھائی دیتا رہا۔ فرماتے ہیں کہ نجاشی کا جنازہ پڑھنے پر بعض منافقین نے اعتراض کیا کہ دیکھو ! مسلمان کن لوگوں کے جنازے پڑھ رہے ہیں۔ مگر بعض خالص مسلمانوں کو بھی تردد تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خبر دے کر واضح کردیا کہ نجاشی ایمان قبول کرکے مومن ہوچکا تھا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آیت زیر درس اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ فرمایا۔ وان من اھل الکتب۔ اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں۔ لمن یومن باللہ۔ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ و اما انزل الیکم۔ اور اس چیز پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی۔ وما انزل الیھم۔ اور جو ان کی طرف اتاری گئی۔ کچھ اہل کتاب ایسے ہیں کہ جو تورات اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا نزول فرمایا تو اس پر بھی ایمان لے آئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ تین آدمی ایسے ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں۔ پہلا شخص وہ مسلمان غلام ہے جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اور پھر اپنے دنیوی آقا کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ، فرمایا اس کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اس اجر کا حقدار دوسرا وہ شخص ہے جو اپنی لونڈی کی اچھی تربیت کرتا ہے ، پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیتا ہے اور تیسرا وہ شخص بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے جو پہلے کسی دوسرے نبی اور دوسری کتاب پر ایمان رکھتا ہے اور پھر حضور ﷺ کا زمانہ پا کر آپ پر اور قرآن پاک پر ایمان لے آتا ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دو صفات بھی بیان فرمائی ہیں۔ اور پھر ان کے اجر کا تذکرہ کیا ہے۔ قریبی دور کے نومسلم : اس قسم کے لوگ ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔ بعض انصاف پسند لوگوں کو ہمیشہ دوہرا اجر حاصل ہوتا رہا ہے۔ ہمارے قریبی زمانہ انیسویں اور بیسویں صدی میں ایسے کئی خوش نصیب ہمارے سامنے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کے جد امجد برہمن تھے۔ اللہ نے ایمان نصیب فرمایا۔ مولانا احمد علی لاہور کے والد اولا ہندو تھے ، زرگری کا کام کرتے تھے ، اللہ نے ایمان بخشا۔ اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھی سکھ تھے۔ وہ خود ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے اور اعلی مقام پایا۔ یہاں آپ کے ضلع میں پروفیسر محبوب الہی سکھ مذہب رکھتے تھے۔ اللہ نے ایمان بخشا۔ اسلامیہ ہائی سکول کے تیچر ابراہیم صاحب کے والد اور مولانا احمد علی کے والد اکٹھے مسلمان ہوئے۔ اسیران مالٹا میں سے واحد زندہ شخصیت مولانا عزیر گل کی بیوی انگریز تھی ، وہ بھی ایمان لائی اور تیس سال تک آپ کے عقد میں رہی۔ ابھی چند سال پہلے فوت ہوئی ہے۔ بڑی عبادت گزار خاتون تھیں۔ تحفۃ الہند کے مصنف ہندو تھے۔ پٹیالے کے رہنے والے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) کی جماعت کے آدمیوں سے متاثر ہو کر ایمان لائے۔ آپ نے اسلام کے حقائق اور شرک کی تردید میں بڑی اچھی کتاب لکھی ہے۔ اب بھی ایک آدمی زندہ ہے جو یہودی تھا اور ترکوں کے دور کے آخری حصے میں مسلمان ہوا۔ اس وقت مصر ، اردن اور شام کا مدینے کے ساتھ رابطہ بذریعہ ریل قائم تھا۔ اردن میں تو اب بھی یہ ریل چلتی ہے ، مگر سعودی عرب والا حصہ جنگ عظیم میں ایسا تباہ ہوا جو آج تک بحال نہیں ہوسکا۔ بہرحال اس جرم یہودی کا پہلا نام لیوپولڈ تھا ، مسلمان ہو کر محمد اسد کہلایا۔ اس شخص نے مطالعہ اسلام کے لیے مصر سے بذریعہ ریل سفر کا آغاز کیا۔ گاڑی میں فلسطین کے کچھ مسلمان بدو بھی ہم سفر تھے۔ دوران سفر ایک بدو کسی سٹیشن پر اترا اور کھانے کے لیے دو روٹیاں لے آیا۔ اس نے کھانے میں شرکت کے لیے لیوپولڈ کو بھی دعوت دی اور کہا۔ بسم اللہ علی برکۃ اللہ۔ تناول فرمائیں۔ اس نے معذرت چاہی مگر اس بدو نے اصرار کیا کہ ہم مسلمانوں کا یہی طریقہ ہے۔ کہ ہم ساتھیوں کو بھی کھانے کی دعوت دیتے ہیں ، وہ شخص اس پیش کش سے بہت متاثر ہوا۔ اس شخص نے بدو کے سامنے اسلام پر یہ اعتراض پیش کیا۔ کہ تمہارے بقول اسلام ایک عالمگیر اور منصفانہ دین ہے مگر اس کا یہ قانون عجیب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان آدمی اہل کتاب عورت سے تو شادی کرسکتا ہے مگر ایک مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ وہ بدو باشعور تھا ، فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا اور اعتراض کی وضاحت یوں کی کہ مسلمان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سمیت تمام انبیائے کرام پر ایمان رکھتے ہیں۔ لانفرق بین احد منھم۔ اور ان کی اسی طرح تکریم کرتے ہیں جس طرح نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہودی یا عیسائی عورت مسلمان کے گھر میں آجاتی ہے ، تو وہ اس گھر میں اپنے نبی اور اس کی کتاب کے متعلق کوئی تکلیف دہ بات نہیں سنے گی بلکہ اپنے نبی کا عزت و اھترام دیکھے گی۔ برخلاف اس کے اگر مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی کے گھر داخل ہوگی۔ تو وہ اپنے نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم کو محفوظ نہیں پائے گی۔ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ذہنی کوفت میں مبتلا رہے گی۔ لہذا اسلام نے کسی مسلمان عورت کو غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ اس بات نے بھی لیوپولڈ پر اثر کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا دل ایمان کے لیے کھول دیا۔ اس شخص نے اسلام کی تائید میں بڑی اچھی کتابیں لکھی ہیں جن میں Road of Makkah (شاہراہ مکہ) بڑی اچھی کوشش ہے ، اور Islam at Theoross Road (اسلام چور رستے پر) بھی اعلی کتاب ہے۔ یہ شخص مسلمانوں کی زبوں حالی کا بڑا شاکی ہے۔ ماما ڈیوک بھی عیسائی تھا۔ ترکی میں جاسوسی کرنے کی غرض سے گیا۔ اس دور کے شیخ الاسلام کی مجالس میں شمولیت اختیار کی جس کا اثر یہ ہوا کہ عیسائیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ ضلع جہلم میں پروفیسر غازی احمد آج بھی زندہ سلام تموجود ہے جس نے خود اسلام قبول کیا۔ اس کا باپ کٹر ہندو تھا۔ اسلام قبول کرکے بڑے مصائب کا شکار ہوا۔ والدین کی طرف سے سختیاں جھیلیں اور آخر کار دل پر پتھر رکھ کر ہمیشہ کے لیے ان سے علیحدہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے علم جیسی نعمت عطا کی ، اس نے ہدایہ کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں شاہی خاندان کے فرد کو یلم نے اسلام قبول کیا۔ اس نے قبول اسلام کا واقعہ خود لکھا ہے جسے طنطاوی جوہری (رح) نے تفسیر الجواہر میں نقل کیا ہے۔ کو یلم تبدیلی آب و ہوا کے لیے الجزائر گیا ، وہاں پر مسلمانوں کے وضوء کے طریقے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ خود بیرسٹر تھا۔ اس کے ساتھ خاندان کے مزید چالیس افراد نے ایمان قبول کیا۔ انگریزوں نے اس پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ اس نے اپنے مقدمہ کی خود پیروی کی اور انگریز نامراد رہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام غیر مسلم ایک سے نہیں ہوتے بلکہ ان میں بعض منصف مزاج بھی ہوتے ہیں۔ جو حق کو قبول کرلیتے ہیں اور ایسے لوگ ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ خشیت الہی : آگے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ خشعین للہ ۔ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں۔ خشیت الہی یا اخبات للہ اسلام کے چار اہم اصولوں میں سے ایک ہے۔ اور ہر اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس امت سے جو چیز سب سے پہلے اٹھے گی وہ اخبات ہے۔ فرمایا مسجد نمازیوں سے بھری ہوگی مگر پانچ سو آدمیوں میں سے۔ لاتری فیہ خاشعا۔ ایک بھی صاحب خشوع و خضوع نظر نہیں آئے گا ، اخبات کا اس قدر قحط واقع ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنا جزو ایمان ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرے گا ، وہ اپنے گردوپیش والوں کے ساتھ بھی تواضع سے پیش آئیگا۔ وہ کسی بات پر اکڑ نہیں دکھائے گا حضور ﷺ نے فرمایا۔ لایبغی بعضکم علی بعض۔ تم ایک دوسرے کے ساتھ فخر و غرور کے ساتھ مت پیش آؤ، ہمیشہ انکساری اختیار کرو۔ فرمایا ایسے لوگوں کی دوسری صفت یہ ہے۔ لایشترون بایات اللہ ثمنا قلیلا۔ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلے دنیا کا حقیر مال نہیں خریدتے۔ گذشتہ دروس میں کئی مقامات پر آ چکا ہے۔ کہ اہل کتاب اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ بعض اچھے ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی بیماری ہے ، جو اہل کتاب سے مسلمانوں میں بھی آگئی ہے دھوکے فریب کی کمائی اسی قبیل سے ہے۔ غلط مسائل بتا کر اس کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی آیتوں کو بیچنے کے مترادف ہے۔ حساب میں جلدی : فرمایا۔ اولئک لھم اجرھم عند ربھم۔ ایسے لوگوں کا اپنے پوردگار کے ہاں بہتر اجر ہے۔ بلکہ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عطا فرمائیں گے۔ ان اللہ سریع الحساب۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے قیامت قریب ہے اور ہر شخص کا حساب جلدی شروع ہونے والا ہے۔ لہذا اسے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حساب جلدی لینے والا ہے۔ تو اس کا اجر بھی جلدی عطا کرے گا اس میں کسی قسم کی دیر نہیں ہوگی۔ اچھا یا برا بدلہ جس کا کوئی شخص حقدار ہوگا۔ فوراً پا لے گا۔
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے ایمان والو ! صبر کرو اور مقابلے میں مضبوط رہو۔ اور لگے رہو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔

خلاصہ سورة : پانچ اصول : سورة آل عمران کی یہ آخری آیت ہے۔ یہ لمبی اور عظیم سورتوں میں سے ہے۔ سورة کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے خطاب کرکے اس سورة کے خلاصہ طور پر پانچ اصول بیان فرما دیے ہیں اور اس کے چھٹی بات مومنوں کے لیے فلاح و کامیابی کا مثدہ ہے۔ آج کی یہ آخری آیت پوری سورة کا لب لباب اور ایک جامع نصیحت پر مشتمل ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری سورة آل عمران اس آخری آیت میں مذکورہ پانچ اصولوں کی تشریح ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا۔ اے ایمان والو ! اس آیت میں خطاب ہی ایمان والوں سے ہے۔ انسان کے لیے سب سے اہم مطلوبہ چیز ایمان ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایمان والوں سے خطاب بھی ہے اور ایک اہم اصول بھی ہے۔ انسان کی سعادت ، فلاح ، نجات اور دنیا و آخرت میں کامیابی ایمان پر ہی موقوف ہے۔ اس سورة کی ابتداء سے اختتام تک ایمان ہی کی بات سمجھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے بیس سے زیادہ مقامات پر شرک کی تردید فرمائی ہے اور واضح کردیا ہے۔ کہ جس طرح اللہ کی ذات میں کوئی شریک نہیں اسی طرح علم میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ، علیم کل بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی وہ خود ہی ہے۔ کہیں مغالطے میں پڑ کر شرک نہ کر بیٹھنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بالوضاحت فرما دیا ہے کہ ہر قسم کی عبادت بدنی ہو یا مالی صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔ عبادت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تمام کائنات کا تصرف اور اختیار بھی اللہ جل جلالہ کے پاس ہے۔ اس میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ تمام چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں ، ان باتوں میں ذرا سی لغزش مشرک بن جانے کے لیے کافی ہے۔ نذر و نیاز بھی اللہ کے سوا کسی کے لیے روا نہیں۔ اسی سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ کی نذر کا ذکر آ چکا ہے۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے وہ تیری رضا کی خاطر وقف کرنے کی نذر مانتی ہوں۔ گویا نذرونیاز بھی صرف اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لی ہونی چاہئے۔ غیر اللہ کے تقرب کی نذر کفر تک پہنچا دے گی۔ اور یہ چیز ایمان کے منافی ہوگی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور کی نشاندہی فرما دی ہے۔ جو ایمان میں خلل کا باعث بن سکتے ہیں۔ شرک کی مختلف صورتوں کو بھی واضح کردیا ہے۔ غرض ! ایمان تمام اصولوں کا بنیادی اصول ہے ، اور اس کے بعد چار دیگر اصول بھی بیان کردیے گئے ہیں۔ دوسرا اصول : فرمایا اے ایمان والو ! اصبروا ، صبر کرو۔ اس سورة میں کتنے ہی مقامات پر اہل ایمان کی تکالیف اور ایذا رسانیوں کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر صبر کی تلقین کی ہے۔ تکالیف کو برداشت کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اللہ کے سچے انبیاء حضرات موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) ، ابراہیمی (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) اور پھر آخر میں خاتم النبیین ﷺ نے کس قدر تکالیف برداشت کیں اور ان پر صبر و تحمل کا کیسا نمونہ پیش کیا۔ اس سورة میں غزوہ احد کی بہت سی تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن سے مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام اور خود حضور ﷺ نے صبر کا کتنا بڑا معیار قائم کیا۔ سورة کے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا ہے۔ وان تصبروا۔ یعنی اگر صبر کروگے ، تو کامیابی حاصل کرلوگے ، سورة بقرہ میں بھی صبر کا اصول اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ، یہ ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے وہاں بھی صبر کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا۔ یا ایہا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اے ایمان والو صبر اور نماز کے ساتھ استعانت پکڑو۔ اطاعت کے لیے سبر بہت ضروری ہے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ جیسی اطاعتیں صبر کے بغیر ممکن نہیں ، لہذا صبر بہت ضروری اصول ہے۔ صبر کا لغوی معنی روکنا یا ضبط کرنا ہے ، لہذا صبر کی ایک دوسری صورت نفس انسانی کو خواہشات سے روکنا ہے۔ نفس ہمیشہ خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔ اور اس کو ڈسپلن کا پابند بنانا بھی صبر ہی کی ایک قسم ہے۔ صبر کی ایک قسم یہ ہے۔ کہ انسان پر دین کے سلسلہ میں جس قدر مشکلات آئیں ، ان کو برداشت کرے۔ گویا صبر انسانی زندگی کے ہر موڑ پر کام آنے والا اصول ہے۔ کوئی نقصان ہوجائے۔ جان چلی جائے ، مقدمہ پیش آجائے۔ ہنگامہ ہوجائے ، جنگ چھڑ جائے ہر معاملے میں صبر کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس کے بغیر انسان کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ تیسرا اصول ، تلقین صبر : اللہ تعالیٰ نے تیسرا اصول فرمایا۔ وصابرو۔ اور مقابلے میں مضبوط رہو۔ پہلے فرمایا تھا ہر تکلیف پر خود صبر کر ، اب فرمایا ، اور مقابلہ میں مضبوط رہو۔ اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر دوسروں کو صبر کی تلقین کرنیکا حکم دیا گیا ہے۔ کہ انہیں ترغیب دو کہ وہ مشکلات پر صبر کے ذریعے قابو پائیں سورة بلد میں فرمایا۔ وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ۔ یعنی ان لوگوں میں ہوجاؤ جو ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں سورة العصر میں بھی ایسا ہی آتا ہے۔ وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ یعنی خسارے سے محفوظ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کی۔ گویا ایمان کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ اور تواصی بالصبر بھی ضروری ہے۔ حق اور صبر کی تلقین ایک جیسی ضروری ہیں۔ صابروا میں یہ بات بھی آگئی کہ خود بھی ایمان پر قائم رہو اور دوسروں کو بھی قائم رہنے کی تلقین کرتے رہو۔ غرضیکہ ایک اصول خود صبر کرنا ہے اور دوسرا اصول تواصی بالصبر ہے۔ چوتھا اصول۔ رباط : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چوتھے اصول کے متعلق فرمایا۔ ورابطوا۔ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگے رہو۔ رابطہ در اصل دشمن کی سرحد پر گھوڑے باندھنے کو کہتے ہیں۔ جہاں دو ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں ہو ہاں سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مستعد رہنا بھی انہی معانی میں آتا ہے۔ اسلامی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور وہاں پر پہرہ دینے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ کہیں دشمن حملہ کرکے اسلام کے پروگرام میں خلل اندازی نہ کرے۔ لہذا سرحدوں کی حفاظت اہل اسلام کے لیے فرض ہوجاتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے۔ رباط یوم خیر من صیام شھر وقیامہ۔ (مسند احمد) یعنی سرحد پر ایک رات پہرہ دینا مہینہ بھر کی نفلی عبادت سے افضل ہے۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا۔ خیر من الف شہر۔ ایک ہزار مہینوں کی نفلی عبادت سے افضل ہے اور جو شخص سرحدوں کی حفاظت کے دوران فوت ہوگیا ، تو اس کا یہ عمل قیامت تک کے لیے لکھا جائے گا۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ ایسا شخص قبر کے فتنے سے مامون رہے گا۔ رباط کی دو صورتیں ہیں ، ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ظاہری رباط کا بیان تو ہوچکا۔ باطنی رباط یہ ہے کہ انسان شیطان کے مقابلے میں مستعد ہوجائے۔ اور اسے دخل اندازی نہ کرنے دے۔ جس طرح ظاہری دشمن کے مقابلے میں سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے۔ اسی طرح باطنی دشمن شیطان کا مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ وسوسہ اندازی نہ کرسکے۔ انسان جب تک نیکی میں لگا رہے گا ، شیطان دخل نہیں دے سکے گا۔ جب آدمی غافل ہوجاتا ہے تو شیطان کا وسوسہ اندازی کا موقع مل جاتا ہے۔ لہذا شیطان کے مقابلے میں باطنی رباط بھی ضروری ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے۔ الا ادلکم علی ما یمحو اللہ بہ الخطایا و یرفع بہ الدرجات قالوا بلی یا رسول اللہ قال اساغ الوضوء علی المکارہ وکثرۃ الخطا الی المساجد وانتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ فذالکم الرباط۔ آپ نے صحابہ کرام کو فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹاتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ، حضور ! کیوں نہیں۔ فرمایا۔ تکلیف برداشت کرکے کامل وضو بنانا ، مسجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ تمہارا رباط ہے۔ یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔ پانچواں اصول تقوی : آگے فرمایا۔ واتقوا اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے ہو ، یعنی تقوی اختیار کرو۔ اور یہ بھی اہم اصول ہے۔ تقوی کا معنی اللہ تعالیٰ سے ڈر جانا ، برائیوں سے بچ جانا اور اللہ کی حدود کو قائم کرنا ہے۔ شاہ ولی اللہ اپنی کتاب الطاف القدس میں فرماتے ہیں۔ تقوی محافظت است برحدود شرع ، یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا تقوی کہلاتا ہے۔ اور تقوی میں عدل اور احسان اور شعائر اللہ کی تعظیم بھی شامل ہے شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں تقوی کی تشریح کرنے کے بعد یہ آیت نقل کی ہے۔ ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان ایتاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ گویا تقوی میں عدل قائم کرنا ، لوگوں کے ساتھ احسان کرنا ، سرکشی بےحیائی اور بری باتوں سے بچ جانا بھی شامل ہے۔ تقوی کا لفظی معنی ڈر اور بچاؤ ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچ جاتا ہے وہ تقوی کو پالیتا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں جگہ جگہ تقوی کی تعلیم دی گئی ہے۔ الغرض ! یہ پانچواں اصول ہے جو اس سورة میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا خود صبر کرو ، دوسروں کو صبر کی تلقین کرو۔ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ لعلکم تفلحون۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ کہ تم کامیاب ہوجاؤگے۔ منزل مراد کو پا لوگے۔ حضور ﷺ نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران کی بڑی فضیلت بیان کی ہے فرمایا قیامت کے دن یہ دونوں سورتیں خیموں کی شکل میں آئیں گی ، ان کے درمیان چمک ہوگی اور وہ اپنے پڑھنے والوں ، عمل کرنے والوں اور ایمان رکھنے والوں پر سایہ فگن ہوں گی اور بندے کے حق میں سفارش کریں گی۔ ان سورتوں کو زہراوین یعنی دو روشن سورتیں کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لمبی سورتوں میں بہت سے حقائق ، معارف ، بنیادی اصول اور مسائل بیان فرمائے ہیں۔ دارمی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص جمعے کے دن سورة آل عمران کی تلاوت کرے گا اس کے لیے فرشتے سارا دن دعائیں کرتے رہیں گے۔ حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ و صلی اللہ علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وازواجہ واتباعہ اجمعین۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔ والحمد للہ رب العلمین۔