3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:176–178

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور آپ کو وہ لوگ غم میں نہ ڈالیں جو کفر کی طرف دوڑتے ہیں۔ بیشک یہ لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے۔ کہ ان کے لیے آخرت میں حصہ نہ بنائے اور ان لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر کو خریدا ، اللہ تعالیٰ کو ہرگز کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور نہ گمان کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ بیشک جو مہلت دیتے ہیں تاکہ وہ مزید گناہ کرتے ہیں۔ اور ان کے لیے ذلت ناک عذاب ہے۔

ربط آیات : شہداء کے فضائل بیان کرنے کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت بیان فرمائی تھی۔ غزوہ احد کے اختتام پر صحابہ کے زخموں کے ابھی خون بھی بند نہیں ہوئے تھے کہ وہ اللہ اور رسول کے حکم کی تعمیل میں کفار کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اجر عظیم کی بشارت سنائی۔ پھر مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے جو پراپیگنڈا کا ہتھیار استعمال کیا تھا ، اہل ایمان نے اس کا بھی کوئی اثر قبول نہ کیا ، بلکہ ان کے ایمان مزید مضبوط ہوگئے۔ ان کی زبان پر۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ کے الفاظ تھے ، گویا انہوں نے دشمن سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسے کا عملی نمونہ پیش کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیوی انعام سے بھی مالا مال کیا اور آخرت میں ان کے لیے وافر حصہ مقرر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے پراپیگنڈا کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ انما ذالکم الشیطن۔ یہ شیطانی فعل ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے وہ اپنے دوستوں کو تو ڈرا سکتا ہے ، مگر اہل ایمان پر اس کا کوئی بس نہیں چلتا۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے ، یہ جو ہے ، سو شیطان ہے ، کہ ڈراتا ہے اپنے دوستوں سے ، یعنی اپنے حواریوں کے ذریعے اہل ایمان کو ڈراتا ہے۔ موجودہ زمانے میں بھی دشمن کو مغلوب کرنے کے لیے اس قسم کے ذرائع اختیار کیے جاتے ہیں۔ چناچہ آج کی سرد جنگ (Cold war) اور اعصابی جنگ (Neyws War) اسی قبیل سے ہیں۔ مگر جن لوگوں کو خدا کی ذات پر بھروسہ ہے وہ مادی اسباب کو بھی جانتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات سے بھی واقف ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔ مومن اللہ کے حکم کے مطابق اسباب کو اختیار کرتے ہیں مگر وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بغیر اسباب کے بھی کامیابی عطا کرسکتا ہے۔ بہرحال مخالفین کا پراپیگنڈا شیطانی فعل ہے ، جس کے ذریعے وہ اہل ایمان کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر اہل ایمان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ شیطانی تدابیر سے نہ ڈرو بلکہ محض میری نافرمانی سے ڈرو۔ منافقین کی مذمت : آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جو مشرکین کے غلط پراپیگنڈہ سے متاچر ہو کر کفر کی طرف دوڑتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ تعلقات استوار کرکے کسی آئندہ مصیبت سے مامون رہیں۔ اللہ نے ایسے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ولا یحزنک الذین یسارعون الی الکفر۔ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! وہ لوگ آپ کو غم میں نہ ڈالیں جو کافروں کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں تاکہ ان کے ساتھ دوستانہ مراسم قائم کرسکیں۔ فرمایا اپ دین کے معاملہ میں فکر مند نہ ہوں۔ انھم لن یضروا اللہ شیئا۔ یہ لوگ اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ یہاں پر اللہ کو نقصان پہنچانے سے مراد اللہ کے دین کو نقصان پہنچانا ہے۔ اس قسم کا طرز کلام قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں آتا ہے۔ جیسے سورة حج میں آتا ہے۔ ولینصرن اللہ من ینصرہ۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی مدد کرے گا ، جو اس کی مدد کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی مدد کی کیا ضرورت ہے ، وہ تو خود مدد کرنے والا ہے اور ہر چیز سے بےنیاز ہے۔ مگر مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرے گا۔ لفظ ، لن ، مستقبل کے لیے نفی تاکیدی کا معنی دیتا ہے۔ یعنی یہ لوگ آئندہ زمانہ میں بھی اللہ کے دین اور اہل ایمان کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے بشرطیکہ اہل ایمان اپنے ایمان پر پوری طرح قائم رہیں۔ اس مقام پر تو منافقین کی بات ہو رہی ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بتلا دیا کہ سچے مومنوں کے خلاف یہود ، نصاری ، مشرکین یا کسی بھی دشمن دین کی سازش کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر آج تک غیر مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ سازشیں کرتے رہے ہیں۔ خصوصاً گذشتہ چار صدیوں میں تو اہل اسلام کے خلاف اس قدر طوفان برپا کیا گیا ہے کہ بیچارے اجتماعی طور پر مغلوب ہوگئے ہیں۔ تاہم دین اور اہل اسلام کو جس قدر بھی نقصان پہنچا ہے۔ یہ ہماری اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر مسلمان صراط مستقیم پر قائم رہیں تو اللہ کا وعدہ آج بھی موجود ہے کہ تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ فرمایا ان کی سازشوں کے صلے میں۔ یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اہل ایمان کے خلاف کافروں کے ساتھ ساز باز کریں گے ، خدا تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈاللیں گے ، اس کے ماننے والوں کا کچھ خیال نہ کریں گے ان کا آخرت میں کیا حصہ ہوسکتا ہے ، البتہ ولھم عذاب عظیم۔ ان کے لیے بہت بڑا عذاب ضرور ہوگا۔ ایمان اور کفر : آگے اللہ تعالیٰ نے ایمان اور کفر کا تقابل بیان فرمایا ہے۔ ان الذین اشتروا الکفر بالایمان۔ وہ لوگ جنہوں نے ایمان کے بدلے میں کفر خریدا۔ فرمایا یاد رکھو۔ لن یضروا اللہ شیئا۔ وہ نہ خدا کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ اس کے دین کو۔ اللہ کا دین صداقت اور حقانیت پر مبنی ہے ، اس کو اکتیار کرنے والے لوگ ہمیشہ قائم رہیں گے ، حتی کہ مسیح (علیہ السلام) نازل ہوجائیں یعنی قیامت برپا ہوجائیں یہ ایمان اور کفر کا تقابل ہے۔ سورة بقرہ میں بھی آ چکا ہے۔ فما ربحت تجارتھم۔ منافقین نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو خریدا ہے۔ لہذا اس تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ یہاں بھی معاملہ ایسا ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل ، حواس ، ظاہری اور باطنی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ انسانی زندگی ایک پونجی ہے جو اللہ نے اسے وجود کے ساتھ عطا کی ہے۔ اور حکم دیا ہے کہ اس زندگی کی پونجی کو ایسی تجارت میں لگاؤ جو تمہارے لیے نفع بخش ہو۔ اس پونجی سے ایمان اور نیکی کا سامان خریدو جو تمہیں جنت تک لے جائے گا۔ ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ من خاف اولج۔ جو خوف کھاتا ہے وہ جلدی چل پڑتا ہے۔ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ میں جلدی چل کر وقت پر منزل مقصود تک پہنچ جاؤں۔ اور جو جلدی پہنچ گیا وہ یقینا کامیاب ہوگیا۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا۔ الا ان سلعۃ اللہ غالیۃ۔ اللہ تعالیٰ کا سودا بڑا مہنگا ہے۔ اللہ کے ساتھ جنت کا سودا مطلوب ہے تو اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اس کی وضاحت اللہ تعالیی نے سورة توبہ میں کی ہے۔ ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالھم بان لھم الجنۃ۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے ساتھ سودا کیا ہے کہ ان کی جان اور مال خرید کر اس کے بدلنے میں جنت عطا فرمائی ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی اور مال جیسی قیمتی پونجی عطا کرکے فرمایا کہ اس کے بدلے میں مہنگا سودا یعنی جنت خرید لو۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل وفکر کی قوت بخشی ، حواس عطا کیے اور بقول امام بیضاوی انسان کی ہدایت کے لیے تمام اندرونی اور بیرونی ذرائع مہیا کیے۔ اپنے رسول بھیجے ، معلم اور مبلغ مقرر کیے تاکہ انسان نیکی کو اختیار کرلے۔ اور پھر اس قیمتی پونجی کے بدلے میں جنت جیسی اعلی چیز خریدے۔ شیخ سدی فرماتے ہیں کہ انسانی زندگی ہے تو بڑی قیمتی پونجی مگر جلد ختم ہوجانے والی ہے۔ فرماتے ہیں۔ عمر برف ست و آفتاب تموز اند کے ماند وخواجہ گرہ ہنوز۔ انسان کی عمر کی مثال برف کی ڈلی جیسی ہے اور ادھر بھادوں کا سورج بھی نکلا ہوا ہے جب کہ سورج کی تپش اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں برف جلدی جلدی پگھل جاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ برف یعنی عمر تھوڑی رہ گئی ہے۔ اور صاحب دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اس پونجی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں۔ اس قیمتی پونجی کے بدلے ایمان خریدو جو کہ تمہارے لیے فلاح دوام کا سامان ہوگا۔ مسند احمد ، ترمذی اور دارمی میں حضرت صدیق اکبر ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا ، حضور (ﷺ) ! کونسا آدمی بہتر ہے۔ فرمایا من طال عمرہ و حسن عملہ۔ جس کی عمر دراز ہو اور اعمال اچھے ہوں۔ آپ سے پھر پوچھا گیا ، حضور ! (ﷺ) برا انسان کون ہے۔ فرمایا۔ من طال عمرہ و ساء عملہ۔ جس کی عمر زیادہ ہو مگر اعمال برے ہوں۔ انسان کی عمر ، حواس ، تندرستی قیمتی پونجی تھی مگر اس نے اس سے برائی خریدی فرمایا اس برائی کا وبال نہی پر ہوگا۔ و ان قبیح حرکات سے لن یضروا اللہ شیئا۔ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ ولھم عذاب الیم۔ اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ آخری امت کی عمریں ؛ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی کہ سابقہ امتوں کی لمبی لمبی عمریں ہوا کرتی تھیں۔ حتی کہ چار سو ، پانچ سو اور ہزار سال تک کی عمریں بھی پائی گئیں ، مگر فرمایا۔ اعمار امتی ما بین ستین الی سبعین۔ میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہوں گی۔ فرمایا۔ وقل من یجوز ذلک۔ بہت کم لوگ ہوں گے جو اس سے آگے جائیں گے۔ بیہقی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جن لوگوں کو اللہ نے دنیا میں ساٹھ سال کی عمر عطا کی ان کے لیے قیامت کے روز اعلان ہوگا۔ این ابناء الستین۔ یعنی ساٹھ سال کی عمر والے لوگ کہاں ہیں۔ وہ لوگ فوراً حاضر ہوجائیں گے۔ فرمایا یہ اس لیے ہوگا کہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ اولم نعمر کم ما یتذکر فیہ من تذکر وجا 4 کم النذیر۔ کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی کہ انسان نصیحت پکڑلے۔ نیکی حاصل کرلے اور ایمان اور تقوی کی دولت حاصل کرلے فرمایا یہ ساٹھ سال کی عمر کے متعلق ہے۔ جب کوئی انسان اس عمر کو پہنچ جاتا ہے۔ تو پھر اس کا کوئی عذر قابل قبول نہیں رہتا۔ انسان یہ نہیں کہہہ سکتا کہ نیکی کمانے کے لیے مجھے دنیا میں مہلت نہیں ملی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں۔ اولم نعمرکم۔ سے مراد بالوں کی سفیدی ہے۔ یہ انسان کو ڈرا رہی ہے۔ کہ تمہاری عمر ختم ہونے کے قریب ہے ، اب ہوشیار ہوجاؤ۔ اور جس قدر نیکی کما سکتے ہو ، کما لو۔ کفار کے لیے مہلت : اس کے بعد فرمایا۔ ولا یحسبن الذین کفروا انما نملی لھم خیر لانفسہم۔ کافر لوگ یہ گمان نہ کریں کہ ہماری عطا کردہ مہلت ان کے حق میں بہتر ہے۔ ہم انہیں مہلت اس لیے دے رہے ہیں۔ تاکہ وہ مزید گناہ کا ارتکاب کرلیں اور پھر یکبارگی ہماری گرفت میں آجائیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شاگرد استاذ کے بار بار کہنے پر تعلیم کی طرف توجہ نہ دے ، تو استاذ آخر اسے کہنا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ اور کہتا ہے اچھا ! جب امتحان کا وقت آئے گا تو پھر تم سے منٹ لوں گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی فرماتے ہیں۔ کہ تمہیں جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ تمہارے فائدے کے لیے نہیں۔ انما نملی لھم لیزدادوا اثما۔ بلکہ اس واسطے کہ تم مزید گناہ میں مبتلا ہوجاؤ۔ اور پھر جب میری پکڑ آئے گی تو تم ذلیل و خوار ہو کر رہ جاؤگے۔ سورة الرحمن میں جنوں اور انسانوں سب کو مخاطب کرکے فرمایا۔ سنفرغ لکم ایہ الثقلن۔ ہم نے تمہاری خبر لینے کے لیے عنقریب فارغ ہوا چاہتے ہیں۔ تمہارے کیے کی سزا تمہیں مل کر رہے گی۔ یہاں بھی یہی چیز سمجھائی جا رہی ہے۔ کہ زندگی کی قیمتی پونجی کو اچھی تجارت میں لگا کر اس سے آخرت کا سامان خرید لو۔ اس عمر کو غنیمت جانو۔ صحت سے فائدہ اٹھاؤ مال کو اچھے مصرف میں لگاؤ۔ اگر اس پونجی سے فائدہ نہ اٹھایا تو یاد رکھو ! ولھم عذاب مھین۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت ناک عذاب بھی تیار ہے۔ وہ بچ نہیں سکیں گے۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ رسول کو اس ھالت میں چھوڑ دے ، جس پر تم ہو ، یہاں تک کہ جدا کردے خبیث کو پاک سے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تم کو غیب پر مطلع کرے۔ مگر اللہ منتخب فرماتا ہے جس کو چاہے اپنے رسولوں میں سے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور بچتے رہوگے ، پس تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔

گذشتہ درس میں نافرمان لوگوں کی مالی آسودگی اور ان کو اللہ کی طرف سے مہلت دینے کا تزکرہ تھا۔ اللہ کریم نے فرمایا کہ اگر ایسے لوگوں کو دنیا کی نعمتیں حاصل ہوجائیں ، لمبی عمر مل جائے اور وہ کفر ، شرک اور برائی کا ارتکاب کرتے رہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے محبوب بن گئے ہیں۔ بلکہ بسا اوقات اللہ تعالیٰ اس لیے مہلت دیتا ہے تاکہ وہ معصیت میں دور تک چلے جائیں ، اور پھر اس کی انتہا یہ ہوگی کہ وہ عذاب مہین کا شکار ہوجائیں گے۔ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا کہ اگر انہیں کسی وقت تکلیف آجائے وہ مصیبت کا شکار ہوجائیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے مقبول بندے نہیں رہے ، بلکہ خداوند تعالیٰ کی نگاہ میں ان کی بڑی قدر و منزلت ہے اور وقتی تکلیف محض ان کا امتحان ہے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ غزوہ احد میں مسلمانوں کی شکست کی وجہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی نہیں تھی ، بلکہ اس کی بہت سی حکمتیں تھیں ، جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں کا امتحان لینا چاہتا تھا اور ان کے اخلاص کو ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ ولیمحص ما فی قلوبکم کے الفاظ پہلے آ چکے ہیں۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نقصان پہنچنے کی تکوینی حکمت بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلص مومنوں اور منافقوں کے درمیان واضح امتیاز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تاکہ پتہ چل جائے کہ کون خالص مومن ہیں اور کون منافق ، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ پکے سچے مسلمان منافقین کی سازشوں سے اپنا دفاع کرسکیں گے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ماکان اللہ لیذر المومنین علی ما انتم علیہ۔ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے۔ کہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑ دے جس پر تم ہو۔ حتی یمیز الخبیث من الطیب۔ یہاں تک کہ ناپاک کو پاک سے علیحدہ کردے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ پسند نہیں ہے۔ کہ خالص مومن اور منافق آپس میں ملے جلے بلا امتیاز چلتے رہیں۔ جو لوگ ایماندار ہیں اور اپنی فکر ، ذہن اور عمل کے لحاظ سے پاک ہیں۔ وہ فکری ، ذہنی اور عملی لحاظ سے ناپاک لوگوں کے ساتھ کیے اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ انہیں تو بہرحال ممیز ہونا چاہئے۔ بد عقیدگی ، کفر اور شرک گندگی ہے۔ قرآن پاک نے صاف فرمایا۔ انما المشرکون نجس۔ مشرک بلاشبہ پلید ہیں۔ اللہ نے منافق کو بھی ناپاک فرمایا ہے۔ مگر مومن کی شان یہ ہے۔ کہ وہ جنابت میں بھی ناپاک نہیں ہوتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ المومن لاینجس۔ مومن کبھی نجس نہیں ہوتا ، اس کی روح ہمیشہ پاک رہتی ہے وقتی طور پر اس کا جسم ناپاک ہوجاتا ہے ، اس کے لیے غسل فرض ہوجاتا ہے ، مگر ایسی حالت میں بھی وہ دوسرے شخص کو سلام کرسکتا ہے۔ اس سے مصافحہ کرسکتا ہے۔ لوگوں سے میل ملات کرسکتا ہے ، اللہ کا ذکر کرسکتا ہے جس روح میں ایمان اور توحید بھری ہوئی ہے ، وہ ناپاک نہیں ہوتی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی یہ تکوینی حکمت ہے کہ وہ مخلصین کو منافقین سے الگ کردے۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا یہ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو شکست دے کر ہی منافقوں کو ممتاز کرے ۔ وہ مالک الملک ہے۔ وحی کے ذریعے بھی منافقوں کی نشاندہی کرنے پر قادر تھا۔ بعض دیگر مواقع پر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ہی بتلایا کہ فلاں فلاں شخص منافق ہے۔ سورة توبہ میں اس کی مثال موجود ہے۔ اولا یرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین۔ سال میں ایک دو مرتبہ منافقوں کی ضرور رسوائی ہوتی ہے۔ جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ کون کون منافق ہے بعض منافقین کے متعلق صریح آیات بھی نازل ہوئی ہیں۔ مگر یہ لوگ پھر بھی نہ اپنے نفاق کا اقرار کرتے ہیں اور نہ توبہ کرتے ہیں۔ اگر غزوہ احد کے موقع پر ان کو مھض وحی کے ذریعے علیحدہ کیا جاتا تو یہ لوگ اعتراض کرسکتے تھے کہ ہم تو پکے مسلمان ہیں ، ہمیں کیوں جدا کیا گیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کی بجائے مومنوں کو بالفعل مشاہدہ کرا دیا۔ کہ دیکھ لو یہ لوگ منافق ہیں۔ ان میں سے تین سو کے قریب تو راستے ہی سے عبداللہ بن ابی کی معیت میں واپس چلے گئے اور جو جنگ میں شریک بھی ہوئے انہوں نے بزدلی کی بعض ایسی باتیں کیں جس سے ان کا نفاق ظاہر ہوگیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اب عذر نہیں کرسکیں گے کہ انہیں بلاوجہ جدا کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کو اہل ایمان سے جدا کرنے کی تکوینی حکمت بیان فرما دی۔ غیب کی خبریں ؛ آگے دوسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی۔ و ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب۔ اللہ تعالیٰ ایسا بھی نہیں ہے کہ ہر ایماندار کو غیب پر مطلع کردے۔ یعنی اللہ پر یہ لازم نہیں کہ ہر ایک کو دوسرے کے حال سے واقف کرائے۔ کہ فلاں مومن یا فلاں منافق ہے۔ فلاں توحید پرست ہے اور فلاں مشرک ہے اس کے بجائے ولکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء ۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ بلاشبہ رسول اللہ کے منتخب لوگ ہوتے ہیں۔ انھم عندنا لمن المصطفین الاخیار۔ یہ چنے ہوئے لوگ ہیں۔ جن کے اندر اللہ تعالیٰ خاص صلاحیت اور استعداد رکھتا ہے اور پھر ان کو غیب کی بات بتلاتا ہے۔ اور اس میں کسی دوسرے کو دخیل نہیں ہونے دیتا۔ جب وحی آتا ہے تو فرشتوں کا پہرا ہلگ جاتا ہے۔ سورة جن میں موجود ہے۔ فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ رصدا۔ نزول وحی کے وقت اللہ تعالیٰ آگے پیچھے پہریدار لگا دیتا ہے۔ اور مطلوبہ چیز براہ راست نبی کے قلب پر وارد ہوتی ہے۔ اور یہ وحی انباء غیب یعنی غیب کی خبر بن جاتی ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی اور ان کو نبوت عطاء کی مگر اے پیغمبر ! آپ خود تو وہاں موجود نہیں تھے۔ یہ سب خبریں ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائیں۔ یہ چیزیں اخبارِ غیب کہلاتی ہیں۔ غیب کا مفہوم : غیب کا معنی مخفی اور پوشیدہ ہے۔ عربی زبان میں پست جگہ کو بھی غیب کہتے ہیں۔ گردے کے اندر جو دبا ہوا حصہ ہوتا ہے اس کو بھی غیب کہتے ہیں۔ علامہ بیضاوی نے غیب کا مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے مالا یدرکہ الھس۔ ایسی چیز جسے حواس کے ذریعے معلوم نہ کیا جاسکے ، حواس ظاہرہ ہوں یا باطنہ لا تقتضیہ بداھۃ العقل۔ وہاں تک عقل کی رسائی نہ ہوسکے۔ جو چیز عقل اور حواس کے ذریعے معلوم ہوگی ، وہ غیب نہیں ہوگی بلکہ اخبار غیب بن جائیگی ۔ غرض غیب وہ چیز ہے جو نہ حواس سے معلوم ہوسکے اور نہ عقل کا وہاں ادراک ہو۔ غیب خاصہ خداوندی ہے : غیب اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کے دو حصے ہیں۔ پہلا یہ کہ غیب لذاتہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا ذاتی ہے۔ کسی کا عطا کردہ نہیں۔ اس کے علاوہ مخلوق کے پاس جس قدر علم ہے وہ سب اللہ کا دیا ہوا ہے کسی فرد کے پاس ذاتی علم غیب نہیں ہے۔ یہ تو سیدھا سا مسئلہ ہے۔ کہ مخلوق میں سے کسی کی ذات ہستی بھی اس کی ذاتی نہیں بلکہ عطائی ہے تو علم جو صفت ہے وہ کیسے ذاتی ہوسکتا ہے۔ جب کہ ہر صفت بشمول علم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علم محیط بھی اللہ کی ذات کے ساتھ مختص ہے۔ اس کے سوا کسی کا علم ، علم محیط نہیں۔ قرآن پاک میں بار بار آیا ہے۔ واللہ بکل شیء علیم۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے۔ نیز واللہ بکل شیء محیط۔ ازل سے لے کر ابد تک کے ذرہ ذرہ کا احاطہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات کو ہے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو ذاتی علم ہے اور نہ وہ ہر چیز پر مھیط ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے سب سے زیادہ علم انبیاء (علیہم السلام) کو عطا کرتا ہے۔ اور پھر تمام انبیاء میں سے سب سے زیادہ حضور نبی کریم ﷺ کو دیا ہے۔ لیکن آپ کا علم بھی نہ ذاتی ہے اور نہ مھیط ہے۔ آج کے دور میں تو کہا جاتا ہے۔ کہ نبی (علیہ السلام) ذرے ذرے کا علم جانتے ہیں۔ اہل بدعت نے اس آیت کو غلط معنی پہنائے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نبی کو علم غیب عطا کردیتا ہے۔ یہ عقیدہ کتاب ، سنت ، اور اجماع امت کے خلاف ہے لہذا باطل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلی علم کسی کو نہیں دیا۔ قرآن پاک میں بیسیوں آیات ہیں جو اس مسئلہ کو واضح کرتی ہیں۔ قرآن پاک نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ۔ ہم نے اپنی نبی کو نہ شعر و شاعری سکھائی ہے اور نہ یہ اس کی شان کے شایان ہے شاعری کتنا بڑا فن ہے۔ دنیا میں اس کی لاکھوں کتابیں موجود ہیں مگر یہ چیز نبی کو نہیں سکھائی گئی۔ دنیا میں کتنے علوم ہیں جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے۔ جیسے جادو ، کہانت ، شعر وغیرہ۔ کیا ہم ہر علم کو نبی کی ذات جمع کریں گے۔ نبی (علیہ السلام) نے تو خود دعا کی۔ اللہم انی اعوذبک من علم لا ینفع۔ اے اللہ ! میں غیر نفع بخش یعنی مجر علم سے تیری پناہ پکڑتا ہوں ، وہ مجھے نہ دیا جائے۔ تو ایسی صورت میں نبی (علیہ السلام) کے لیے علم محیط کیسے تسلیم کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انبیاء کو وہ علم دیتا ہے جس سے اس کے دین ، شریعت اور انسانوں کی تکمیل مقصود ہوتی ہے۔ ہرہ ر بات کا علم نہ نبی کے لیے ضروری ہے اور نہ اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ نبی اکرم صابن بنانا نہیں جانتے تھے یا وہ مشین فٹ نہیں کرسکتے تھے تو یہ بیہودہ اعتراض ہوگا۔ جس علم کی نبی کو ضرورت تھی اللہ نے پورا پورا دے دیا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرما دیا۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی۔ آج میں نے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی۔ اہل بدعت نے انبیاء کے لیے علم غیب اور علم محیط ثابت کرنے میں لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ وہ بھی مجبور ہیں جب تک انبیاء کے لیے علم غیب ثابت نہیں ہوگا ، یہ سلسلہ اولیا اور پیروں تک کیسے پہنچے گا۔ یہ عیسائیوں والا عقیدہ ہے جو مسلمانوں میں بھی عود کر آیا ہے قرا ان نے تو صاف فرما دیا۔ قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ۔ اللہ کے سوا ارض و سما میں کوئی ذات نہیں جو غیب جانتی ہو۔ تفسیر مدارک والے امام عبداللہ نسفی ساتویں صدی ہجری میں حنفی امام گزرے ہیں۔ آپ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیت فرقہ باطنیہ کے خلاف نص ہے۔ جو واجح کرتی ہے۔ کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا اور نبی کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ فرقہ باطنیہ والے حسن ابن صباح کے پیروکاروں میں سے ہیں۔ آغاخانی بھی انہی کی ایک شاخ ہے۔ شاہ عبدالعزیز نے رافضیوں اور شیعوں کے اڑتالیس اقسام بیان کیے ہیں جن میں سے بعض گمراہ ہیں اور بعض قطعی طور پر کافر۔ ان باطنیہ فرقے والوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے امام معصوم بھی ہوتے ہیں اور غیب دان بھی۔ تو امام عبداللہ نسفی (رح) نے اسی بات کی تردید کی ہے۔ ان کا دوسرا عقیدہ یہ بھی ہے کہ وھم یحلون ما یشاءون و یحرمون ما یشاءون ان کے امام جس چیز کو چاہیں حلال قرار دے دیں اور جس کو چاہیں حرام کردیں۔ یہ بھی باطل عقیدہ ہے۔ کسی چیز کی حلت و حرمت صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ یہ اختیار نبی کو بھی حاصل نہیں۔ وہ بھی اللہ کے حکم کے مطابق حلال و حرام اشیاء کی وضاحت کرتا ہے ، نہ کہ حلت و حرمت کا اختیار خود رکھتا ہے جب نبی کو یہ اختیار حاصل نہیں تو اماموں کو کیسے حاصل ہوگیا۔ بہرحال امام بیضاوی آیت۔ وماکان اللہ لیطلعکم علی الغیب۔ کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے منتخب رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے بعض الغیوب یعنی غیب کی بعض باتیں بتلا دیتا ہے۔ اور یہ بعض ہوتا ہے۔ کل نہیں ہوتا۔ تقریبا یہی جملہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیب کی بعض خبریں اپنے انبیاء کو وحی کے ذریعے بتا دیتا ہے۔ جتنی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سے مطلع کردیتا ہے مگر ذاتی علم یا مھیط صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہی ہے۔ اجر عظیم : فرمایا فامنوا باللہ ورسلہ۔ تمہارا فرض ہے۔ کہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ اسی میں تمہاری فلاح ہے۔ وان تومنوا۔ اور اگر کماحقہ ایمان لاؤ گے۔ وتتقوا۔ اور تقوی کی راہ اختیار کروگے۔ کفر ، شرک ، بدعت ، معاصی اور ذنوب سے بچتے رہوگے۔ اللہ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کروگے۔ فلکم اجر عظیم۔ تو تمہارے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب الطاف القدس میں فرماتے ہیں کہ تقوی محافظت بر حدود شرع کا نام ہے۔ شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے حلال و حرام کا امتیاز کرنا ، صحیح اور غلط میں فرق کرنا ہی تقوی کہلاتا ہے۔ جو شخص تقوی کے معیار پر پورا اترا ، اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بہت بڑے انعام کا وعدہ فرمایا ہے۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز پر جو اللہ نے ان کو دی ہے اپنے فضل سے کہ وہ ان کے لیے بہتر ہے ، بلکہ وہ ان کے لیے بری ہے۔ ان کے گلے میں وہ چیز طوق بنا کر ڈالی جائے گی۔ جس کے ساتھ انہوں نے بخل کیا قیامت کے دن۔ اور اللہ ہی کے لیے وراثت آسمانوں کی اور زمین کی۔ اور جو کچھ وہ کام کرتے ہیں اللہ اس کی خبر رکھتا ہے۔

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر فرمایا ، اور ان کے فاسد عقیدے کو بیان کیا۔ یہاں پر زیادہ تر تذکرہ نصاری کا ہے۔ مگر مختصرا یہودیوں کا بھی کچھ بیان آیا ہے۔ اس کے بعد جنگ احد سے متعلق بہت کچھ آ چکا ہے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے بہت سی باتیں سمجھائی ہیں اور آخر میں خبیث اور طیب کے امتیاز کا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اچھے اور برے عقیدے میں امتیاز پیدا کرکے چھوڑے گا اور واجح ہوجائے گا کہ سچے مومن کون ہیں ، اور گندے عقیدے والے منافق کون ہیں۔ اس طرح مالک ذوالجلال نے غزوہ احد میں شکست کی تکوینی حکمت بھی بیان فرما دی۔ جہاد بالمال : اللہ تعالیٰ کے دین کی تقویت کے لیے جہاد بہت بڑا عمل ہے جس کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو انسان بذات خود جہاد میں شریک ہو کر جسم و جان کی بازی لگا دیتا ہے ہے۔ یا پھر مال خرچ کرکے مجاہدین کے لیے سامان پیدا کرتا ہے۔ گذشتہ دروس میں ان منافقین کا ذکر آ چکا ہے۔ جنہوں نے اپنی جان بچانے کی خاطر مختلف حیلوں بہانوں سے جہاد میں حصہ لینے سے اعراض کیا۔ اب آج کے درس میں ان بخیل لوگوں کا تذکرہ ہے۔ جو ضرورت کے وقت خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ انفاق فی سبیل اللہ کا حکم سورة بقرہ میں بھی آ چکا ہے۔ وانفقوا فی سبیل اللہ ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ۔ اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بخل کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ولا یحسبن الذین یبخلون بما اتھم اللہ من فضلہ ھو خیرا لھم۔ بخیل لوگ بخل کرکے یہ نہ گمان کریں کہ جو کچھ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا ہے ، وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ بل ھو شر لھم۔ بلکہ وہ تو ان کے لیے برا ہے۔ اس آیت کریمہ میں بما اتٰھم اللہ کے الفاظ خاص طور پر قابل غور ہیں۔ اللہ کریم انسان کو یہ جتلانا چاہتے ہیں کہ جس مال کے خرچ کا اس سے تقاضا کیا جا رہا ہے۔ وہ اس کا ذاتی نہیں بلکہ اللہ ہی کا عطا کردہ ہے۔ انسان کا تو جسم اور قوی بھی ذاتی نہیں ہیں چہ جائیکہ مال ذاتی ہو۔ اللہ تعالیٰ مختلف لوگوں کو مختلف ذرائع سے مال مہیا کردیتا ہے اور انسان یہ سمجھتا ہے۔ کہ یہ اس کے عقل و ہنر کا مرہون منت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اسباب پیدا کرکے مال دیا ہے۔ اور پھر اس میں سے اپنے راستے میں کرچ کرنے کی ترغیب دی ہے مگر کنجوس آدمی سمجھتا ہے۔ کہ کنجوسی اس کے حق میں بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ بخل ان کے حق میں بہت بری چیز ہے۔ بخل کی بیماری : بخل کی بیماری ایسی مہلک بیماری ہے جس کی وجہ سے انسان نہ صرف نیکیوں سے محروم ہوجاتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا انکار کرکے ہلاکت میں پڑجاتا ہے۔ بخل کی وجہ سے انسان فرائض بھی ادا نہیں کرسکتا۔ مثال کے طور پر جو شخص اپنے مال سے اللہ کی فرض کردہ زکوۃ ادا نہیں کرتا۔ وہ مسنون اور مستحب صدقہ و خیرات کب کرے گا۔ اسی لیے بخل کو بد ترین اخلاقی بیماری کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلھون۔ جس شخص کو اس کے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا ، یقین جانو وہ کامیاب ہوگیا۔ انسان کا مزاج تو ویسے ہی مال کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ انہ لحب الخیر لشدید۔ انسان مال کی شدید محبت میں گرفتار ہے۔ وہ ہر طریقے سے مال حاصل کرنا چاہتا ہے اور پھر خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو صلح کے باب میں بھی فرمایا ہے۔ واحضرت الانفس الشح۔ یعنی مال خرچ کرکے بھی صلح کرلینی چاہئے۔ نفسوں کے پاس بخل حاضر ہوتا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خرچ کرنے سے رک جاتے ہیں۔ حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا گیا ، یا حضرت ! فلاں شخص میں بخل کی بیماری پائی جاتی ہے۔ فرمایا ای داء ادوء من البخل۔ بخل سے بڑھ کر بری بیماری کونسی ہوسکتی ہے۔ اگلی آیت میں یہودیوں کی خرابیوں میں بخل کو بھی شامل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مطلقاً بخل سے منع فرمایا ہے۔ یہ بدترین بیماری ہے۔ نسائی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ لایجتمع الشح والایمان فی قلب عبد ابدا۔ یعنی کسی مومن بندے کے دل میں بخل اور ایمان جمع نہیں ہوسکتے۔ جو سچا مومن ہوگا ، وہ بخیل نہیں ہوسکتا۔ اگر بخیل ہے تو ناقص الایمان ہے اسے اپنے ایمان کی اصلاح کرنا ہوگی۔ بخل فی العلم : جس طرح مال اللہ کا فضل ہے۔ اسی طرح علم کو بھی اللہ کا فضل کہا گیا ہے اور بخل نہ مال میں روا ہے اور نہ علم میں ، جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم جیسی دولت عطا فرمائی ہے اور وہ اس کو آگے نہیں پہنچاتا ، بخل کرتا ہے۔ تو حضور ﷺ نے ایسے شخص کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ من سئل علما فک تمہ الجم بلجام من نار یوم القیمۃ۔ یعنی جس شخص سے کوئی علم کی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا تھا۔ مگر اس نے وہ بات چھپا دی ، فرمایا قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام ڈالی جائیگی۔ سائل علم کا محتاج تھا۔ مگر صاحب علم نے اس کی ضرورت کو پورا نہ کیا ، لہذا اس نے بخل کیا۔ اس لحاظ سے علم کا بخل مال کے بخل سے بھی برا ہے۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی۔ ۔ ۔۔ جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں۔ فرمایا۔ اولئک یلعنھم اللہ و یلعنھم اللعنون۔ ایسے لوگوں پر اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور دوسرے لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔ یہ ملعون لوگ ہیں اسی لیے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت کے پیش نظر مسلمانوں پر بہت بڑی ذمہ داری آتی ہے۔ مسلمان حامل قرآن ہیں مگر اس وقت حالت یہ ہے کہ دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سو چار ارب اس نعمت سے محروم ہیں۔ انہیں قرآنی ہدایت کی ضرورت ہے۔ اور اگر قرآن کا علم ان تک نہ پہنچے اور وہ کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا رہیں تو اس کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن جیسی عظیم نعمت دی جسے انہوں نے چھپائے رکھا اور ضرورت مند تک آگے نہیں پہنچایا۔ قرآن پاک کی طرح سنت رسول ﷺ بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ مگر اس کو بھی مستحقین تک نہیں پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ بھی حق بات کو چھپانے اور ویصدون عن سبیل اللہ کے مترادف ہے۔ اللہ کے راستے سے روکنے والی بات ہے۔ لہذا اہل اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین اسلام کے علم کو دوسروں تک پہنچائیں۔ نہ خود برائی کا ارتکاب کریں اور نہ دوسروں کو کرنے دیں۔ یہ سب کچھ فضل میں شامل ہے۔ فضل وسیع تر معنوں میں : فضل کے لفظ میں اور بھی بہت سی چیزیں آتی ہیں۔ مثلاً سورة فتح میں نبی (علیہ السلام) کے صحابہ کی مدح میں آتا ہے۔ یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا۔ وہ اللہ کا فضل اور رضوان تلاش کرتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ کہ رضوان سے مراد اللہ تعالیٰ کا تقرب اور خوشنودی ہے۔ اور فضل میں ارتفاق ، معاش پایا جاتا ہے۔ جس شخص کو جائز ذرائع سے رزق حلال میسر آ رہا ہے یہ خدا کا فضل اور ارتفاق ہے۔ دوسرے فرائض کے بعد کسب رزق ھلال بھی انسان کے لیے فرض ہے اگر اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے۔ تو اس کے خرچ کرنے میں بخل نہ کرو ، کیونکہ جس ذات باری تعالیٰ نے یہ عطا کیا ہے ، وہ چھین بھی سکتا ہے۔ ہم نے اپنی زندگی میں کتنے مشاہدات کیے ہیں۔ کہ بڑے بڑے امیر کبیر اور دولت مند چند دنوں میں قلاش ہوگئے۔ لہذا مال کے ساتھ ھد درجہ کی محبت نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے ہاتھ سے خرچ کردینا چاہئے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے۔ یا بن آدم ان تبذل الفضل خیر لک۔ اے آدم کے بیٹے ! اگر تمہارے پاس ضرورت سے زیادہ مال ہے تو اسے کرچ کردو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ وان تمسک شر لک۔ اور اگر روکے رکھوگے تو یہ تمہارے لیے برا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر تم نے مال کے فرائض ادا نہیں کیے تو جہنم لازم آئیگی اور اگر فرائض ادا کردیے ہیں۔ پھر بھی فضیلت سے محروم رہوگے۔ اس میں شر کا کوئی نہ کوئی درجہ ضرور پایا جائے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ اپنی دعا میں فرمایا کرتے تھے۔ اللھم اجعل رزق ال محمد قوتا۔ اے اللہ ! آل محمد کی روزی بس اتنی کردے جس سے گذر اوقات ہوجائے اس سے زائد کی ضرورت نہیں ہے۔ کہ کہیں شر میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ اخلاق کا بگاڑ : حجۃ اللہ البالغہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی عظیم کتاب ہے۔ گذشتہ بارہ صدیوں میں اسلام کی تائید و خدمت میں ایسی کتاب نہیں ملتی ، یہ کتاب ہمارے درسوں میں پڑھائی جاتی ہے۔ آپ کی دوسری معرکۃ الآراء کتاب۔ ازالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء ہے۔ اس میں خلفائے اربعہ کی سوانح حیات اور ان کا نظام حکومت مذکور ہے شاہ صاحب ان دونوں کتابوں میں فرماتے ہیں کہ دنیا میں اخلاق کا بگاڑ پیدا کرنے والی دو چیزیں ہیں ایک امپریلزم جسے شہنشاہیت یا ملوکیت کہا جاتا ہے اور دوسری سرمایہ داری انبیاء (علیہم السلام) ایسی ہی چیزوں کی اصلاح کے لیے تشریف لاتے رہے ملوکیت میں من مانی کاروائیاں کی جاتی ہیں ، کسی کے حقوق کا خیال نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے اخلاق میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اور سرمایہ داری میں بھی انسان حلال و حرام کی تمیز کے بغیر مال اکٹھا کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے ، جس سے دوسرے لوگوں کے حقوق ضائع ہوتے ہیں ، لہذا یہ دونوں چیزیں انسانی اخلاق کے بگاڑ کا موجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة فجر میں فرمایا۔ و تحبون المال حبا جما۔ تم جی بھر کر مال سے محبت کرتے ہو ، غرباء مساکین کا خیال نہیں رکھتے یتیموں کی سرپرستی نہیں کرتے ، لہذا ذلت کا شکار ہو کر رہوگے۔ ہم مشرقی ممالک کے باشندے سرمایہ داری کا شکار ہیں۔ برخلاف اس کے بعض ممالک میں اشتراکی نظام رائج ہے۔ یہ سب نظام خدا اور اس کے دین سے انکار پر مبنی ہیں ، اس لیے ملعون ہیں۔ ہاں ! اسلامی نظام ہی وہ نظام ہے جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور آخرت کے مواخذہ پر رکھی گئی ہے۔ لہذا اس میں حق تلفی کی بجائے حق رسی ہوتی ہے۔ ذرائع آمدنی پر کنٹرول کرکے حلت و حرمت کو واضح کیا جاتا ہے۔ سرمایہ داری کی حوصلہ افزائی کی بجائے اس کی اصلاح کی جاتی ہے۔ رزق حلال کمانے کی ترغیب دی جاتی ہے اسی لیے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اسلام نے باطل نظاموں کو ختم کرکے اپنا اعلی وارفع نظام قائم کیا ہے۔ جب مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے اقتدار دیا تو انہوں نے قیصر و کسری کے غلط نظاموں کو یکدم تبدیل کردیا اور دنیا میں ایک صالح نظام قائم کیا ، خلافت راشدہ کا نظام دنیا میں مثالی نظام تھا ، مگر آج مسلمان اس نظام کو بھول چکے ہیں۔ بخیل کی سزا : فرمایا بخیلوں کو جو کچھ اللہ نے دیا ہے ، وہ اسے اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ وہ ان کے لیے شر ہے۔ اور ان کے بخل کی آخرت میں سزا یہ ہوگی۔ سیطوقون ما بخلوا بہ یوم القیمۃ۔ قیامت کے دن بخیلوں کے گلے میں اس چیز کو طوق بنا کر ڈالا جائے گا ، جس کے ساتھ انہوں نے بخل کیا۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے سونے چاندی کی دولت عطا کی اور اس نے زکوۃ ادا نہیں کی ، قیامت کے دن یہ مال سانپ بن جائیگا ، اور اس کے گلے میں پڑ کر اس کو کاٹے گا ، اور کہے گا۔ انا کنزک انا مالک۔ میں تیرا وہ مال ہوں ، میں تیرا وہ خزانہ ہوں جسے تو سمیٹ سمیٹ کر رکھتا تھا ، جسے تو عیاشی اور فحاشی مٰں صرف کرتا تھا اور جس کے ساتھ تو غریب و مسکین کی پرورش نہیں کرتا تھا۔ فرمایا اسی طرح اگر کسی کے پاس جانور تھے اور اس نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ تو وہ اس شخص کو ٹا کر اس کے اوپر سے گزریں گے اس کو روندیں گے اس کو سینگ ماریں گے۔ اور اس کو کاٹیں گے۔ فرمایا یہ نہ سمجھو کہ اگر دنیا میں کسی کو مال مل گیا تو وہ اس کی ذاتی میراث بن گیا۔ بلکہ وللہ میراث السموت والارض۔ زمین و آسمان کی تمام وراثت اللہ تعالیٰ کی ہے۔ ہر چیز کا خالق بھی وہی ہے۔ اور مالک بھی وہی ہے۔ احسن اللہ علیک۔ اللہ نے تم پر احسان فرمایا کہ تمہیں عارضی طور پر اس کا مالک بنایا۔ پھر اپنے احکام بھیجے تاکہ ان کے مطابق عمل کرکے اس مال سے نیکی کما لو۔ اس کے مال کو اسی کے راستے میں خرچ کرو ، بخل نہ کرو۔ اور یاد رکھو ! واللہ بما تعملون خبیر۔ تمہارے ہر فعل کی اللہ تعالیٰ کو خبر ہے۔ ینبئکم بما عملوا۔ تم جو کچھ دنیا میں کر رہے ہو ، وہ سب کچھ تمہارے سامنے آجائیگا اور پھر تمہیں اس کا بھگتان کرنا ہوگا۔
Ayahs 3:181–182

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

البتہ تحقیق اللہ نے ان لوگوں کی بات سنی ہے جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ ہم ضرور لکھیں گے اس چیز کو جو انہوں نے کہی ہے۔ اور ان کا اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی۔ اور پھر ہم (جزائے عمل کے وقت) کہیں گے کہ چکھو جلانے والے عذاب کا مزہ۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

اور یہ اس وجہ سے جو آگے بھیجا تمہارے ہاتھوں نے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

شان نزول : اس سے پہلے درس میں یہودیوں کے بخل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ سے متعلق ہیں۔ یہ تو معلوم ہے کہ حجور نبی کریم (علیہ السلام) کی ہجرت مدینہ کے وقت خود مدینہ طیبہ اور اس کے ارد گرد یہودی کثیر تعداد میں آباد تھے۔ خیبر یہودیوں کا خاص گڑھ تھا۔ اس کے علاوہ جوار مدینہ میں بنی قریظہ ، بنی نضیر اور بنی قینقاع کی بستیاں تین تین چار میل کے فاصلے پر آباد تھیں۔ ان آیات کے شان نزول کے متعلق جو واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ اسے امام بیضاوی ، صاحب تفسیر مظہری اور ابن جریر وغیرہ نے محمد بن اسحاق مورخ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق کو دعوت اسلام کا پیغام دے کر بنی قینقاع کی طرف بھیجا۔ یہ دعوت نامہ بایں مضمون تھا کہ اتقوا اللہ ۔ یعنی اللہ سے ڈر جاؤ۔ ایمان لے آؤ کیونکہ تم جانتے ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے برحق رسول ہیں اور اس بات کی گواہی خود تمہاری کتب میں موجود ہے۔ الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل۔ نیز یہ بھی کہ نماز قائم کرو ، زکوۃ ادا کرو۔ واقرضوا اللہ قرضا حسنا۔ اور اللہ کو قرض حسن دو ۔ حضرت صدیق اکبر یہ مکتوب لے کر بنی قینقاع کے ہاں پہنچے اس وقت یہودیوں کا بڑٓ عالم فنحاص بن عازوراء بیت المدراس میں تعلیم دے رہا تھا۔ حضور ﷺ کا مکتوب پڑھ کر کہنے لگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اسی لیے تو وہ ہم سے قرضہ طلب کرتا ہے (العیاذ باللہ) ۔ یہودی عالم نے یہ بھی کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سود حرام کیا ہے اور ہمارے لیے جائز بنایا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق یہ سن کر برداشت نہ کرسکے اور اس یہودی عالم کے تھپڑ دے مارا۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ حائل نہ ہوتا تو میں تلوار سے تمہارا کام تمام کردیتا۔ روایت میں آتا ہے کہ فنحاص بن عازوراء نے حضور نبی کریم ﷺ سے شکایت کی کہ حضرت ابوبکر صدیق نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے آپ کے دریافت کرنے پر صدیق اکبر نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی تھی ، کہتا تھا ، ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء ۔ یعنی اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ اللہ ہم سے قرض مانگتا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی اس گستاخی کا جواب دیا ہے۔ قرض حسن : جہاں تک اللہ کو قرض حسن دینے کی بات ہے۔ اسے یہودی اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ سمجھ سکے۔ اللہ تعالیٰ نہ تو فقیر ہے (نعوذ باللہ) اور نہ اسے اپنی مخلوق سے قرض کی ضرورت ہے۔ اس نے جس قرض حسن کا ذکر کیا ہے۔ اس سے مراد یتیموں ، مسکینوں ، بیواؤ اور دیگر مستحقین پر خرچ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مقصود یہ ہے۔ کہ تم اپنے مال میں سے مستحقین پر خرچ کرو۔ اور اس کا اجر مجھ سے وصول کرلو۔ فرمایا۔ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا فیضعفہ لہ۔ جو اللہ کو قرض دے گا۔ میں اس کا دگنا چوگنا اجر عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں خرچ کرنے والوں کو یقین دلایا ہے۔ کہ تمہارا خرچ کیا ہوا مال ضائع نہیں جائے گا۔ بلکہ اس کے عوض میں تمہیں بڑھا چڑھا کر عطا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اس کے سامنے تمام مخلوق مھتاج ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا ارشاد ہے۔ یا ایہا الناس انتم الفقراء الی اللہ۔ واللہ ھو الغنی الحمید۔ اس کی ذات بےنیاز ہے اور تم سب اس کے سامنے فقیر اور محتاج ہو۔ حلال و حرام کی حکمت : یہاں پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے حلت و ھرم کے جتنے احکام نازل فرمائے ہیں وہ سب انسانوں ہی کے فائدے کے لیے ہیں یا ان کے نقصان سے بچنے کے لیے ہیں۔ لوگ جس قدر صدقہ خیرات کرتے ہیں یا زکوۃ ادا کرتے ہیں ، ان میں سے اللہ تعالیٰ کی طرف کوئی چیز نہیں جاتی اور نہ ہی اس کو ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ وہ تو غنی ہے۔ اس میں باقی انسانوں کے لیے فائدے ہیں۔ امیر آدمی کے صدقہ خیرات سے محتاج کی پرورش ہوجاتی ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے آپس میں ہمدردی اور غمگساری کا ذریعہ پیدا فرما دیا ہے اس سے پاکیزہ جذبات پیدا ہوتے ہیں اور انسان کو تہذیب نفس حاصل ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے اخلاق کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ چیزیں بہرحال بنی نوع انسان کے لیے مفید ہوتی ہیں۔ اسی طرح اللہ جل جلالہ نے جن چیزوں کو حرام ٹھہرایا ہے۔ ان میں لوگوں کے لیے نقصانات ہیں۔ اول تو کوئی نہ کوئی جسمانی نقصان ہوگا ، وگرنہ روحانی نقصان تو لازمی ہوگا ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو انسانوں کے لیے حرام قرار دے دیا ہے۔ یہود کی گستاخیاں : یہودیوں نے حرص اور بخل کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی شان میں بہت سی گستاخیاں کیں جن کا تذکرہ قرآن پاک میں ملتا ہے۔ جب ان بدبختوں کو مالی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تو کہنے لگے۔ یداللہ مغلولۃ۔ خدا تعالیٰ کے ہاتھ جکڑے گئے ہیں وہ ہم پر فیاضی نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا۔ غلت ایدیھم ولعنوا۔ ان بےنصیبوں کے اپنے ہاتھ جکڑے ہوئے ہیں اور ان پر اللہ کی لعنت برس رہی ہے۔ فرمایا۔ بل یدہ مبسوطتان۔ بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں۔ وہ تو اپنی فیاضی کی بارش نازل فرما رہا ہے۔ وہ جس طریقے سے چاہے خرچ کرتا ہے ، اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہودی کفر کے کلمات بول کر گستاخی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور بےادبی میں مبتلا ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا واقعہ سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا۔ لنل نومن لک حتی نری اللہ جھرۃ۔ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ان کھلی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی کی فوراً سزا دی اور وہ گرفت میں آگئے۔ آج کے درس کی آیت کریمہ میں بھی یہودیوں کی گستاخی کا تزکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔ لقد سمع اللہ قول الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ (معاذ اللہ) فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ فرمایا یہودیوں کے اس گستاخانہ کلام کا بدلہ یہ ہے کہ سنکتب ما قالوا۔ ہم اس بات کو ضرور لکھ لیں گے۔ اللہ تعالیٰ تو علیم کل ہے اسے لکھنے کی بھی ضرورت نہیں۔ ہر چیز اس کے علم میں ہے۔ تاہم انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان کی یہ بات لکھ لی جائیگی۔ اور دفرت میں محفوظ ہوجائیگی۔ پھر حساب کتاب کے دن لاکر ان کے سامنے رکھ دی جائیگی۔ تاکہ وہ اس کا انکار نہ کرسکیں۔ قتل انبیاء : اس گستاخی کے علاوہ یہودیوں کی ایک بہت بری خصلت ناحق قتل انبیاء ہے فرمایا۔ و قتلھم الانبیاء بغیر حق۔ ان کی جانب سے اللہ کے نبیوں کا ناحق قتل بھی ہم نے لکھ رکھا ہے۔ ہم اس کی بھی ان کو ضرور سزا دیں گے۔ نبی کا قتل تو یقیناً ناحق ہوتا ہے۔ بلکہ کسی عام مسلمان کا قتل ناحق بھی اکبر الکبائر میں سے ہے۔ اور بدترین جرم ہے۔ تاہم یہاں پر لفظ بغیر حق سے مراد یہ ہے۔ کہ انبیاء کا قتل خود ان قاتلین کے نزدیک بھی ناحق تھا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے سخت سزا کا مستحق وہ شخص ہوگا۔ جس نے اللہ کے نبی کو شہید کیا ہوگا۔ یا وہ شخص سب سے زیادہ ملعون ہوگا۔ جسے اللہ کا نبی قتل کردے۔ ایسے شخص کی مثال ابی بن خلف کی ہے۔ جو غزوہ اھد میں نبی (علیہ السلام) کے نیزہ کی زد میں آکر جہنم واصل ہوا تھا۔ بنی اسرائیل کے قتل کا ذکر تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ کیا ہے خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی یہودیوں نے نبی (علیہ السلام) کو شہید کرنے کی کئی مذموم کوششیں کیں۔ خیبر میں آپ کو زہر دیا گیا مگر اللہ نے آپ کو محفوظ رکھا۔ پھر بنی نضیر کے علاقے میں دیوار کے اوپر سے آپ (علیہ السلام) پر پتھر گرانے کی سعی لاحاصل کی گئی۔ یہ لوگ اپنے آباء و اجداد کے ان قبیح کارناموں کو نظر استحسان دیکھتے تھے اور ان پر فخر کرتے تھے۔ اگرچہ حضور ﷺ کے زمانے کے یہودی قاتلین انبیاء کے صدیوں بعد آئے مگر اپنے سابقین کی برائی کی حمایت کرنے کی وجہ سے یہ اس قتل ناحق میں شریک سمجھے گئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ کہ ایک شخص بالفعل برائی نہیں کرتا ، مگر برائی کرنے والے کو دل سے اچھا سمجھتا ہے ، تو وہ بھی برائی کرنے والے کے ساتھ شامل سمجھا جائے گا۔ البتہ ایسا شخص جو اپنے سامنے برائی ہوتی دیکھ کر دل سے برا مناتا ہے ، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ گستاخی کی سزا : ان گستاخیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا۔ وتقول ذوقوا عذاب الحریق۔ اور پھر ہم اجزائے عمل کے وقت کہیں گے جلانے والے عذاب کا مزہ چکھو۔ تم خدا تعالیٰ کی شان میں بےہودہ کلمات بولتے تھے کہ خدا فقیر ہوگیا ہے جو ہم سے قرض مانگتا ہے۔ لو آج اس گستاخی کی سزا بھگت لو۔ فرمایا ہماری سخت سزا تمہارے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ بلکہ ذلک بما قدمت ایدیکم۔ یہ اس وجہ سے ہے جو کچھ تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا۔ تم نے دنیا میں جس قسم کے اعمال انجام دیے یہ انہی کا بدلہ ہے۔ سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت۔ تمہاری اپنی ہی کمائی تمہارے سامنے آئے گی۔ یہ تمہاری بد اعمالیوں کا صلہ ہے۔ جو تمہیں مل رہا ہے۔ اور یاد رکھو ! وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا ، وہ تو انصاف کرنے والا ہے۔ رحیم و کریم ہے۔ یہاں پر ظلام مبالغہ کا صیغہ ہے اور معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بالک ظلم نہیں کرتا یا ذرہ بھر بھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ مگر انسان خود اپنی نافرمانی ، بدا عتقادی ، بد اعمالی اور معاصی کی وجہ سے شدید تر سزا کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔