3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:31–32

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ، اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو ، تو میرا اتباع کرو۔ اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا۔ اور تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا ہے۔

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے ، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اگر تم اعراض کروگے ، تو بیشک اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر کا رد فرمایا اور توحید پر ایمان لانے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا قانون بتلایا۔ اب ان آیات میں ایمان بالرسالت کا تذکرہ ہے۔ جس طرح اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اور اس سے انکار بمنزلہ کفر ہے۔ اسی طرح رسول کی رسالت پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جس طرح اللہ کی اطاعت فرض ہے ، اسی طرح رسول کی تابعداری بھی ضروری ہے۔ دعوی محبت : نزولِ قرآن کے زمانے میں مشرکین عرب یہود اور نصاری محبت الٰہی کا دعوی کرتے تھے۔ جب مشرکین سے کہا جاتا کہ تم شرک کیوں کرتے ہو ، تو جواب دیتے ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ ہم ان معبودوں کی عبادت محض ا سلیے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کا قرب دلا دیں گے۔ یعنی بتوں کی پرستش تقرب الہی کے لیے ہے۔ اور جب یہی سوال نصاری سے کیا جاتا کہ تم کیوں شرک میں مبتلا ہو۔ تو وہ بھی محبت الٰہی کا دعوی کرتے اور کہتے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور اس کی پرستش اللہ کی محبت کے لیے ہے۔ نصاری حضرت مریم کو مادر خدا ، یا خود خدا تسلیم کرتے ، یا تین خدا مانتے تو ان کا ادعا جیسا کہ آگے آئے گا ، اللہ کی محبت میں غلطان ہونا تھا۔ یہود بھی کہتے تھے۔ نحن ابناء اللہ و احباءہ۔ ہم اللہ کی اولاد ہیں کیونکہ اس کے مقرب انبیاء کی اولاد ہیں۔ گویا وہ بھی اللہ کے محبوب ہونے کے دعویدار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے باطل دعاوی کا رد فرمایا ہے اور اپنی محبت کا معیار مقرر فرمایا ہے۔ جو کوئی اس معیار پر پورا اترے گا ، وہی حقیقی محبوب ہوگا ، اس کے علاوہ کفر و شرک ہوگا۔ اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ محبت رکھنے والے لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ اور اس ضمن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) ، حضرت مریم اور آل عمران کی مثال بیان فرمائی ہے مشرکین اور اہل کتاب کی تردید کی ہے۔ کیونکہ وہ معیار محبت پر پورے نہیں اترتے۔ معیار محبت : ارشاد ہوتا ہے ، قل ، اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ کہہ دیجئے ، ان کنتم تحبون اللہ ، اور اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو اور اس کے دعویدار ہو ، تو اس کا ایک ہی معیار ہے ، فاتبعونی ، میرا اتباع اختیار کرلو۔ گویا پہلی بات تو رسالت کے متعلق ا اگئی کہ اللہ کی محبت نبی کی اطاعت کے بگیر ممکن نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مرضیات اور نامرضیات نبی کی اطاعت کے بغیر معلوم نہیں ہوسکتیں۔ لہذا رسالت پر ایمان لانا ضروری ٹھہرا۔ اللہ تعالیٰ پر اس لیے ایمان لانا ضروری ہے کہ وہ خالق ہے ، مالک ہے اور معبود ہے اور رسول پر ایمان لانا اس لیے لازمی ہے ، کہ خدا تعالیٰ کی مرضیات اور نا مرضیات اس کے واسطے سے معلوم ہوتی ہیں اور یہ چیزیں انسان محض اپنی عقل سے معلوم نہیں کرسکتا۔ رسول پر ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا۔ جب تک اس کا اتباع نہیں ہوگا۔ اس کے بغیر محبت کا دعوی باطل محض ہے۔ لہذا جو کوئی رسول کا اتباع کرے گا۔ وہ اللہ کی محبت کو پا لے گا ، اور اللہ کا محبوب بن جائے گا۔ حب رسول : جیسے کہ عرض کیا ہے یہود و نصاری کا دعویٰ محبت محبت باطل تھا ، وہ تو کفر و شرک کے مرتکب تھے۔ نبی (علیہ السلام) کا اتباع کہاں کرتے تھے۔ اسی لیے تو حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لم اجئت بہ ، تم میں سے کوئی کامل الایمان ہو ہی نہیں سکتا جب تک وہ اس چیز کا اتباع نہ کرے جسے میں لایا ہوں۔ نیز یہ کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی میرے ساتھ محبت تمام مخلوق سے زیادہ نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مطاع مطلق ہے اور رسول تو اللہ کی محبت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ لہذا اس کا اتباع بھی ضروری ہے۔ اور اس کے ساتھ محبت بھی لازمی ہے۔ کسی ذات کے ساتھ محبت اس کے جمال ، کمال اور احسان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ مالکِ حقیقی اور محسن حقیقی اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کا کمال بھی ہے اور جمال بھی ہے۔ اور مخلوق میں سب سے زیادہ محسن اللہ کا نبی ہے آپ نے فرمایا۔ میں نے کوئی چیز ایسی نہیں چھوری جو اللہ کی رضا کا ذریعہ اور جنت تک پہنچانے والی ہو کہ تم کو نہ بتلائی ہو۔ اور اسی طرح کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جو خدا تعالیٰ کے غضب کا ذریعہ ہو ، تم کو نہ بتلائی ہو۔ مقصد یہ کہ میں نے ہر اچھی اور بری چیز کی نشاندہی کردی ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق مالک اور محبوب حقیقی ہے۔ لہذا اہل ایمان کی سب سے زیادہ محبت اللہ کے ساتھ ہونی چاہئے۔ جیسا فرمای اوالذین امنوا اشد حبا للہ۔ اور مخلوق میں سے ، النبی اولی بالمومنین من انفسہم ، اللہ کا نبی مومنوں کے ساتھ ان کی جانوں سے بھی زیادہ لگاؤ رکھتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کا اپنا نفس ان کے لیے اتنا مفید اور خیر خواہ نہیں ہے ، جتنا اللہ کا رسول ہے۔ وہ ہمیشہ اہل ایمان کی بھلائی چاہتا ہے۔ لہذا اس پر ایمان لانا اور اس کا اتباع کرنا ضروری ہے۔ مشکوۃ شریف میں امام بیہقی کی روایت موجود ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ وضو فرما رہے تھے کہ کچھ لوگ آپ کے ماء مستعمل کو اپنے جسموں پر مل رہے تھے۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو ، تو انہوں نے جواب دیا۔ حبا للہ و رسولہ ، اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی بناء پر ایسے کرتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اور اس کے رسول کی محبت کی بناء پر ایسے کرتے ہیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ تمہاری محبت اس وقت ثابت ہوگی ، جب زبان سے سچ بولوگے ، امانت میں خیانت نہیں کروگے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دینے والی کوئی بات نہیں کروگے۔ ظاہر ہے کہ سچ بولنا بڑا مشکل کام ہے ، امانت دار ہونا بھی بڑی بات ہے۔ پڑوسی کو ایذاء سے محفوظ رکھنا بھی ایمان کی نشانی ہے تو جب تک حضور ﷺ کے ارشادات کا اتباع نہیں ہوگا محض زبانی محبت کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ غرضیکہ تکمیل ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اتباع رسول میں فرق نہ آنے پائے۔ اتباع رسول : بہرحال فرمایا اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ یحببکم اللہ۔ اللہ تم سے محبت کریگا۔ اور اتباع رسول کی تکمیل اس وقت ہوگی۔ جب اس کو زندگی کے ہر شعبہ میں اختیار کیا جائیگا۔ صرف نماز پڑھنے سے اتباع کا حق ادا نہیں ہوگا۔ بلکہ تجارت ، معاملات ، اخلاق ، لین دین ، عبادات ، سیاسیات ، جہاد ، جنگ ، صلح ، شادی ، غمی غرضیکہ معاشرہ میں پیش آنے والے ہر معاملہ میں اتباع رسول کو لازم پکڑنا ہوگا۔ اب تو وقت یہاں تک آپہنچا ہے۔ کہ عبادات بھی اپنی خواہش کے مطابق ہونے لگی ہیں۔ رسول کے طریقے کی کوئی پروا نہیں کی جاتی ، چہ جائیکہ دیگر معاملات میں سنت رسول کی پیروی کی جائے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور عرض کیا ، حضور ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ذرا سوچ سمجھ کر بات کرو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ اس شخص نے عرض کیا۔ حضور ! میں خدا کی قسم اتھا کر کہتا ہوں۔ کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو ، تو فقر کو اپنی زندگی کا جزو بنا لو ، کیونکہ میرے ساتھ محبت کرنے والوں کے پاس فقر اس قدر تیزی سے آتا ہے۔ کہ سیلاب بھی اپنے منتہا کی طرف اتنی تیزی سے نہیں جاتا۔ غرضیکہ حب رسول کا دعویدار مال جمع نہیں کرسکتا۔ وہ ہمیشہ محتاج رہے گا۔ اگر کوئی شخص عیش و عشرت میں زندگی گذارتا ہے بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کرتا ہے۔ اور پھر محبت کا دعوی بھی کرتا ہے ، تو وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں کیونکہ یہ حضور ﷺ کے مقرر کردہ معیارِ محبت کے خلاف ہے جس طرح اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا کسی نہ کسی ابتلا میں ضرور مبتلا ہوگا۔ اسی طرح رسول کی محبت کا دعویدار فقیر ہوگا ، مال و دولت اور محبت رسول متضاد چیزیں ہیں۔ محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ لوگ نوع انسان کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کریں۔ ان کی جائز حاجات کا خیال رکھیں ، اگر ان چیزوں کی طرف دھیان دے تو اس کے پاس مال جمع نہیں ہوسکتا ، لہذا فقیر ہوگا۔ اللہ کی محبوبیت : الغرض ! فرمایا کہ اتباع رسول کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یحببکم اللہ ، تم اللہ کے محبوب بن جاؤگے اور پھر اللہ کی محبوبیت کا تقاضا یہ ہے۔ ویغفرلکم ذنوبکم۔ وہ تمہاری غلطیاں ، لغزشیں اور گناہ معاف فرما دے گا۔ گناہ کی معافی کا قانون اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان کردیا ہے۔ کہ خالی گناہ تو استغفار سے ہی معاف ہوجائے گا۔ سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ نے معاف فرما دیا۔ اگر فرائض میں کوتاہی ہوئی ہے۔ تو پہلے ان کو ادا کرو۔ پھر اللہ سے معافی مانگو ، اللہ معاف کردے گا۔ نماز رہ گئی ہے ، روزہ قضا ہوگیا۔ پہلے انہیں ادا کرلو۔ اور اگر حقوق العباد میں کوتاہی کی ہے کسی کا حق غصب کیا ہے۔ تکلیف پہنچائی ہے تو پہلے اس کا حق ادا کرو یا اس سے معافی مانگ کر جان چھڑا لو۔ اگر اس دنیا میں حقوق العباد ادا نہیں کرسکے ، تو پھر قیامت کے دن اس کے بدلے میں اپنی نیکیاں نماز ، روزہ ، خیرات وگیرہ حقدار کو دینا ہوں گی اور اگر نیکیاں ختم ہوگئیں ، تو حقدار کے گناہ حق دہندہ کے سر پر ڈالے جائیں گے۔ جس کا نتیجہ جہنم کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ لہذا حقوق العباد کا فیصلہ اسی دنیا میں کرجاؤ۔ اور اللہ سے معافی مانگ لو ، واللہ غفور رحیم ، اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور بڑا مہربان ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہے کہ اپنے نبی کو بھیجا ، کتاب نازل فرمائی ، اور ہدایات کا سامان پیدا کیا۔ تاکہ انسان گناہ سے بچ جائیں۔ اور پھر جہنم سے بچ کر جنت میں داخل ہوجائیں۔ عصمتِ انبیاء : اس کے بعد فرمایا ، قل اطیعوا اللہ والرسول ، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی تابعداری کرو ، کیونکہ وہ خالق ، مالک اور معبود برحق ہے اس کی اطاعت فرض مطلق ہے۔ اور اس کے ساتھ رسول کی تابعداری کرو۔ کہ وہ خدا کی اطاعت تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ جب تک رسول کی اطاعت نہیں ہوگی۔ خدا کی اطاعت ممکن نہیں۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوینے اسی آیت سے عصمت انبیاء کی دلیل پکڑی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور اپنے رسول کی اطاعتِ مطلقہ کا حکم دیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ رسول غلطی نہیں کرتا۔ اگر غلطی کا امکان ہوتا۔ تو اللہ تعالیٰ اطاعت مطلقہ کا حکم نہ دیتا۔ خود حضور ﷺ کا واقعہ آتا ہے۔ آپ نے کسی موقع پر مزاح فرمایا۔ صحابہ نے عرض کیا۔ آپ اللہ کے رسول ہو کر مزاح فرماتے ہیں۔ فرمایا ہاں ! مگر ایسی حالت میں بھی میری زبان سے کوئی باطل بات نہیں نکلتی بلکہ ، لا اقول الا الحق ، میں حق کے سوا کوئی بات نہیں کرتا۔ آنحضرت ﷺ کی مزاح کے انداز میں فرمائی ہوئی ایک بات سے فقہاء نے ایک سو مسئلہ نکالا ہے۔ اللہ نے نبی کی زبان پر ایسا حق جاری فرمایا۔ غرضیکہ نبی معصوم ہوتا ہے۔ یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نبی سے اپنی حفاظت اٹھا لیتا ہے اور بعض غلطیاں بھی سرزد ہونے دیتا ہے۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ آپ بھی بشر اور مخلوق ہیں ، یہ عقیدہ درست نہیں ہے۔ نبی سے عصمت کی حفاظت کسی وقت نہیں اٹھائی جاتی۔ ورنہ رسول پر اعتماد ہی ختم ہوجائے گا۔ نبی کو تو گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اس کی زبان پر ہمیشہ حق ہوتا ہے۔ غلطی سرزد نہیں ہوتی ، بعض معمولی لغزشیں ہوتی ہیں۔ جو کہ عام لوگوں کے لیے تو وہ گناہ نہیں ہوتا مگر انبیاء کے لیے وہ بھی قابل مواخذہ ہوتی ہیں۔ تاہم وہ گناہ کی فہرست میں آتا نبی گناہ سے ہمیشہ پاک ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے ساتھ نبی کی اطاعت مطلقہ کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ فرمایا ، فان تولوا ، اگر تم روگردانی کروگے۔ فان اللہ لا یحب الکفرین ، تو اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا فرض ہے اسی طرح نبی پر ایمان لانا بھی فرض ہے۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کفر ہوگا۔ نبی پر ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے۔ کہ اس پر محض ایمان لایا جائے اور اعلی درجہ ایمان کا یہ ہے۔ کہ اس کے ساتھ محبت ہو۔ اور محبت کا تقاضا ہے کہ اتباع ہو۔ اگر دعوے محبت کے ساتھ اتباع نہیں تو دعوے جھوٹا ہے۔ یہ بھی کافرانہ بات ہے۔ جیسا کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ کفران کرتی ہیں۔ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا ہاں و تکفرن العشیر۔ یہ خاوند کی ناشکر گذاری کرتی ہیں۔ اس کو کفر باللہ نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ کفران نعمت ہے۔ مشرکین ، یہود و نصاری ، کا کفر تو صریح کفر ہے۔ کہ وہ حضور ﷺ پر ایمان ہی نہیں لائے۔ مگر جو مسلمان محبت کا دعوی کرنے کے باوجود اتباع نہیں کرتا ، وہ کفرانِ نعمت کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان کا دعوی محبت درست نہیں ہے۔ لہذا ایسے لوگ قابل مواخذہ ہیں۔ چناچہ فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ پھر اگر یہ روگردانی کریں ، تو اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا کافر خواہ کفر باللہ کرنے والا ہو یا کفرانِ نعمت کرنے والا ہو۔ محبوب خدا نہیں بن سکتا۔
Ayahs 3:33–34

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا آدم (علیہ السلام) کو ، اور نوح (علیہ السلام) کو اور آل ابراہیم کو اور آل عمران کو جہان والوں پر۔

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

یہ اولاد تھی بعض بعض سے اور اللہ تعالیٰ سننے والا۔ اور جاننے والا۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کا معیار بیان فرمایا پھر حضور ﷺ کی محبت اور اس کے جواب میں آپ کے اتباع کو معیار قرار دیا۔ گویا اللہ تعالیٰ کی محبوبیت حاصل کرنے کے لیے حضور ﷺ کا اتباع اختیار کرنے کی ترغیب دلائی۔ اتباعِ رسول ہی دین اور مذہب کا بنیادی اصلو ہے۔ سورة بقرہ میں روئے سخن یہود کی طرف تھا ، اور سورة آل عمران میں نصاری کی اصلاح کا پہلو غالب ہے۔ گذشتہ سورة میں یہودیوں کی چالیس خرابیوں کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ فرمائی اور انہیں اصلاح کی طرف متوجہ کیا۔ اب اس سورة میں نصاری کی اصلاح مطلوب ہے۔ تاہم ابتدائے سورة میں توحید کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ بہرحال نصاری کا تذکرہ دور تک آئیگا اور اس ضمن میں بہت سی باتیں آئیں گی جن میں اہل ایمان کے لیے بھی بہت سی نصیحت اور عبرت کی باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے عظیم اصول بیان فرمائے ہیں۔ آج کا درس آئندہ آنے والے مضامین کی تمہید سمجھ لیجئے۔ ظلم و ستم کا دور : جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ سورة آل عمران کا مرکزی موضوع نصاریٰ کی اصلاح ہے۔ نزول قرآن کے وقت ان میں دو قسم کی خرابیاں پائی جاتی تھیں۔ پہلی خرابی تو ان کے دین میں تھی۔ یعنی عقیدہ مشرکانہ تھا۔ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ، خود خدا یا تینوں میں سے تیسرا خدا کہتے تھے۔ اور دوسری خرابی ان کی سیاسی نوعیت کی تھی۔ اس زمانے میں دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں۔ ایک ایرانی سلطنت تھی ، جس کے فرمانروا مجوسی تھے۔ یہ آتش پرست تھے اور ہزاروں سال سے حکمران چلے آ رہے تھے۔ ہندوستان ، پاکستان ، افغانستان ، روس ، چین وغیرہ سب ایرانی سلططنت کسریٰ کے تابع اور زیر اثر تھے اور انہیں ٹیکس ادا کرتے تھے۔ دوسری بڑی طاقت روما کی تھی جو سینکڑوں سال سے وہاں پر مسلط تھی۔ باقی نصف دینا ان کے زیر نگیں تھی تمام دنیا ان دو حکومتوں کے رحم و کرم پر تھی۔ یہ جب اور جہاں چاہتے تھے اپنی مرضی کے مطابق انقلاب برپا کردیتے تھے۔ ہر طرف ظلم و ستم کا دور دورہ تھا۔ کمزور ریاستوں کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ بڑی طاقتیں جو چاہتیں کر گزرتی تھیں۔ ان کے عوام ظلم کی چکی میں پسے جا رہے تھے۔ معاشی طور پر نہایت پس ماندہ تھے ظاہر ہے۔ کہ جہاں عدل و انصاف کا فقدان ہوگا۔ وہاں ایسے حالات ہی رونما ہوں گے عوام و خواص کی حالت خراب ہوجائیگی ، رشوت خوری ، چور بازاری عام ہوگی۔ ہر طرف جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہوگا۔ دنیا میں امن وامان اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک عدل و انصاف کی حکمرانی نہ ہو۔ آج ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ کہ کرہ ارض کے کسی خطے میں عدل و انصاف کا پرچم بلند نظر نہیں آتا۔ کہنے کو ہم ایٹمی دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ ہر طرف مادی ترقی کا دور دورہ ہے۔ مگر کوئی کونہ ایسا نہیں جہاں ظلم و ستم کا بازار گرم نہ ہو۔ ایک سے ایک بڑھ کر ظالم موجود ہے۔ کمزوروں کو کچلنا طاقتوروں کا مشگلہ بن چکا ہے۔ امریکہ اور روس کی کشمکش میں ویٹ نام کے دس لاکھ آدمی ہلاک ہوئے یہ ظلم و ستم بیس سال تک جاری رہا۔ آخر وہ بھی تو انسان ہی تھے مگر انسانیت کی ٹھیکیدار یہ بری طاقتیں انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگتی ہیں۔ مگر ان کے دل کے کسی گوشہ میں جذبہ رحم موجود نہیں۔ انہیں اپنی سیاست اور اپنی بالا دستی سے غرض ہے چاہے انسان گاجر مولی کی طرح کٹتے ہیں۔ گزشتہ چھ سال سے افغانستان میں کیا ہورہا ہے۔ روسی فوجیں مجاہدین پر کس طرح بمباری کر رہی ہیں لاکھوں افغانی موت کے گھاٹ اتار دے جا چکے ہیں۔ تیس پینتیس لاکھ ملک بدر ہوچکے ہیں۔ جن کی غالب اکثریت پاکستان میں پناہ گزین ہے۔ باقی ایران میں ہیں۔ دنیا کی سپر پاور ہونے کی حیثیت سے کیا روس کا یہی فرض بنتا ہے۔ یہ سب ظلم و جور ہے جو بےگناہ لوگوں پر ڈھایا جا رہا ہے۔ ادھر مصر اور فلسطین پر نگاہ ڈالیے۔ اسرائیل امریکہ کا پالتو درندہ ہے۔ جب چاہتا ہے فلسطینی مہاجرین پر چرھ دوڑتا ہے۔ مسلمانوں کی ہزاروں لڑکیاں ان کی جیل میں ہیں جن سے ظالمانہ سلوک ہورہا ہے۔ صدر ایوب کے زمانے میں قبرصی مسلمانوں کا یہ حال ہوا کہ یونان کے عیسائیوں نے بیس ہزار ترکوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ، ان کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں دی جا رہی وہاں پر عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ جو مسلمانوں کو کسی صورت زندہ دیکھنا نہیں چاہتے ، فلپائن میں تھوڑے سے مسلمان ہیں۔ مگر ان کا عرصہ حیات بھی تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان کو مورد و مسلمان یعنی ڈاکو اور قزاق کے نام سے پکارا جاتا ہے ان کا قصور صرف یہ ہے۔ کہ وہ تعداد میں تھوڑے ہیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتے ، ان کا کوئی جائز حق ان کو نہیں مل سکتا۔ غرض ! قوموں کے بگاڑ کی یہ تمہید بیان ہو رہی ہے ۔ کہ قوموں کی خرابی یا تو عقیدے میں ہوتی ہے یا سیاست میں۔ جب تک عدل و انصاف کا دور دورہ نہیں ہوگا۔ مظلوم ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے۔ اور جب تک عقیدہ درست نہیں ہوگا۔ لوگوں کی اصلاح ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے ابتداء کرکے حضرت نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) اور ا ال عمران کا ذکر فرمایا ہے۔ پھر مسیح ابن مریم (علیہا السلام) کا ذکر ہوگا۔ اور پھر تمام اقوام کی اصلاح کے اصول بتائے جائیں گے۔ شرف انسانی اور آدم (علیہ السلام) : ارشاد باری تعالیٰ ہے ، ان اللہ اصطفی ادم ، بیشک اللہ تعالیٰ نے پسند کیا ، منتخب کیا آدم (علیہ السلام) کو۔ اللہ تالیٰ کی مخلوق تو بیشمار تھی ارض و سما ، چاند ، سورج ، ستارے ، شجر ، حجر ، فرشتے ، جن سب اللہ کی مخلوق ہیں۔ مگر اس کے علم محیط ، حکمتِ بالغہ اور قدرت تامہ کے ساتھ جو مقام حضرت آدم (علیہ السلام) اور آپ کے توسط سے نسل انسانی کو حاصل ہونے والا تھا ، وہ کسی اور مخلوق کے حصہ میں نہ تھا۔ انسان کی برتری اور فوقیت کے لیے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو منتخب کیا۔ اور نظام خلافت آپ کے سپرد فرمایا۔ یہ کام ملائکہ کے سپرد بھی نہیں کیا بلکہ نظر انتخاب اڈم (علیہ السلام) پر پڑی۔ اللہ نے ان کو یہ فضیلت اور شرف عطا فرمایا۔ اور سب سے بڑی فضیلت اصطفیٰ بالنبوت ہے۔ یعنی آپ کو نبوت جیسے اعلیٰ منصب کے لیے منتخب فرمایا۔ انسانیت کے لیے سب سے بلند مقام نبوت ہی ہوسکتا ہے۔ جو کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کو عطا فرمایا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ کہ سب سے پہلے نبی آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اور سب سے آخر محمد رسول اللہ ﷺ ہیں ایک روایت کے مطابق کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار میں سے تین سو پندرہ رسول ہیں۔ باقی سب نبی ہیں۔ نوح (علیہ السلام) : اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا آدم (علیہ السلام) کو۔ و نوحاً ، اور نوح (علیہ السلام) کو ، دنیا میں سب سے پہلے صاحب شریعت رسول نوح (علیہ السلام) ہیں۔ اور ا اپ ہی کی قوم کو سب سے پہلے ہلاک کیا گیا۔ اس سے پہلے کوئی امت عذاب میں مبتلا نہیں ہوئی۔ قیامت کے دن جب لوگ آپ کے پاس سفارش کے لیے جائیں گے تو آپ کو ان الفاظ سے ساتھ پکاریں گے۔ یا نوح انک اول الرسل الی اھل الارض اے نوح (علیہ السلام) ! آپ اللہ کے پہلے رسول ہیں۔ جنہیں شریعت دے کر اہل زمین کی طرف بھیجا گیا۔ آپ ہماری سفارش کریں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ہماری حالت کیا ہے۔ الا تری الی ما نحن فیہ ۔ نوح (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا۔ آج اللہ تعالیٰ اس قدر ناراض ہے کہ اس سے پہلے کبھی ایسا ناراض نہیں ہوا۔ اور نہ آج کے بعد کبھی ہوگا۔ اس وقت قہری تجلیات اتر رہی ہوں گی ، کوئی شخص دم نہیں مارے گا۔ آپ کہیں گے ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ۔ غرضیکہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے صاحب شریعت رسول ہیں۔ آپ کی امت کو مکمل طور پر ہلاک کردیا گیا۔ پھر طوفان کے بعد جو آدمی بچ گئے۔ ان کی اولاد سے آگے نسل انسانی چلی۔ اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو بھی منتخب فرمایا۔ آل ابراہیم : حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد فرمایا۔ وآل ابراہیم۔ یعنی آل ابراہیم کو منتخب فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آل ابراہیم کو اس قدر شرف بخشا ہے کہ انبیاء کی ایک جماعت ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے پیدا فرمائی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بعض امور میں آزمایا اور آپ پورے اترے تو اللہ کریم نے فرمایا اے ابراہیم (علیہ السلام) انی جاعلک للناس اماما۔ میں تمہیں لوگوں کا امام یعنی پیشوا بنانے والا ہوں ، مطلب یہ ہے کہ میں آپ کو منصب نبوت پر فائز کرنے والا ہوں کیونکہ تمام انبیاء اپنی اپنی امت کے امام ہوتے ہیں۔ مگر ابراہیم (علیہ السلام) تو ابو الانبیاء ہیں۔ تاہم آپ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی۔ ومن ذریتی۔ مولا کریم ! جس طرح تو نے مجھے امامت سے نوازا ہے۔ اسی طرح یہ منصب میری اولاد میں بھی عطا کر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا یہ وعدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔ چناچہ اللہ کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی آل میں لاتعداد انبیاء مبعوچ فرمائے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی نسل میں سے حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت یوسف (علیہ السلام) ، حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) ایسے جلیل القدر پیغمبر پیدا کیے ، جن میں سے بعض کو دنیاوی سلطنت بھی عطا کی اور وہ وقت کے حکمران بھی ہوئے۔ اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرما کر سلسلہ نبوت ہمیشہ کے لیے بند کیا۔ اسی لیے یہاں پر فرمایا کہ ہم نے آل ابراہیم (علیہ السلام) کو منتخب فرمایا۔ آل عمران : فرمایا ، وال عمران ، اور اللہ تعالیٰ نے آل عمران کو منتخب فرمایا۔ مفسرین کرام فرماتے ۔ کہ عمران دو ہیں۔ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے والد کا نام بھی عمران ابن یصہر تھا۔ یہ بھی مومن مرد تھے۔ جو فرعون کے زمانے میں ہوئے۔ تاہم یہاں پر جس عمران کا ذکر ہے ، وہ حضرت مریم کے والد ہیں۔ آپ بھی نیک اور صالح آدمی تھے۔ نہایت عبادت گزار اور ہیکل مقدس کے امام تھے۔ بیت المقدس میں نماز پڑھاتے تھے۔ تاہم نبی نہیں تھے قرآن پاک کے اس مقام پر چونکہ حضرت مریم اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ذکر ہے۔ اس لیے آل عمران سے مراد حضرت مریم کے والد ہیں۔ ان دونوں عمرانوں کے درمیان ایک روایت کے مطابق اٹھارہ سو سال کا وقفہ ہے۔ تاہم ایک ہزار سال سے بہرحال زیادہ ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے آل عمران کو بھی منتخب فرمایا۔ علی العالمین۔ جہاں والوں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت نوح (علیہ السلام) ، آل ابراہیم اور آل عمران کو باقی لوگوں پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی۔ نسل انسانی : اب عقیدے کی اصلاح کے لیے بات سے بات نکلے گی۔ فرمایا۔ ذریۃ بعضھا من بعض۔ تمام انسان ایک دوسرے کی اولاد ہیں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔ نیز حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ، حضرت نوح کی اولاد میں سے ہیں۔ اور دونوں عمران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ حضرت مریم ، عمران کی بیٹی ہے۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے ہیں۔ چونکہ وہاں پر باپ نہیں ہے۔ لہذا سلسلہ نسب ماں کی طرف سے چلتا ہے۔ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ، یعیسی ابن مریم ، کہہ کر پکارا۔ اور امام بخاری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن بھی آپ کو اسی نام سے مخاطب کیا جائے گا جب کہ باقی مخلوق کی نسبت باپ کی طرف کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ ء انت قلت للناس اتخذونی و امی الھین من دون اللہ ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا۔ کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے علاوہ معبود بنا لو ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ سن کر عیسیٰ (علیہ السلام) کپکپا اٹھیں گے اور اللہ جل جلالہ کے سامنے اپنی صفائی پیش کریں گے۔ صاحب روح المعانی اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پانچ سو سال تک کپکپی کی حالت میں رہیں گے۔ اس کے بعد ان کے حواس بحال ہوں گے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض کرینگے۔ قال سبحانک ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق۔ اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے۔ میں وہ بات کیسے کہہ سکتا ہوں ، جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ سب لوگ بعض اولاد ہیں بعض کی۔ بشریت انبیاء : اب یہیں سے تمام انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت بھی ثابت ہوتی ہے۔ اور عیسائیت کی جڑ کٹتی ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم کے فرزند ہیں۔ اور آپ کا سلسلہ نسب حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔ وہ اللہ کے بیٹے (نعوذ باللہ) کیسے ہوئے۔ سارے نبی انسان اور بشر تھے ، بشر ہونا تو کوئی توہین کی بات نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا ہم نے بشر کو مٹی سے پیدا کیا۔ اور یہ سب ایک دوسرے کی اولاد ہیں۔ بشر سے مراد اللہ کی وہ مخلوق ہے جس کی کھال نظر آتی ہے۔ یہ گندمی رنگ والا انسان مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے مٹی سے انسان کو بنایا۔ یہ تو عزت کا مقام ہے۔ اہل بدعت مولویوں نے لوگوں کے ذہن خراب کردیے ہیں کہ نبی کو بشر تسلیم کرنے سے ان کی نعوذ باللہ توہین ہوجاتی ہے۔ لہذا انبیاء کو نور تسلیم کرو۔ پھر یہیں تک ختم نہیں کیا۔ بلکہ ، نور من نور اللہ ، کا عقیدہ بنایا۔ نبی کو اللہ کا جزو بنا کر عیسائیوں کے عقیدے کی تصدیق کردی۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہا ، انہوں نے نور من نور اللہ کہہ دیا۔ وجعلوا لہ من عبادہ جزءا ، اللہ کے بندوں میں سے ہی اس کا جزو بنا دیا۔ کتنی لغوی اور بیہودہ بات ہے۔ یہ تو معاذ اللہ اللہ کی توہین اور اس کی بغاوت ہے اور اپنی فکر کو فاسد کرنا ہے۔ خود اللہ کے نیک بندوں کی توہین ہے فرمایا واللہ سمیع علیم ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو سنتا ہے اور جانتا ہے۔ آج کے درس کی ابتدائی آیت پاک میں اللہ تعالیٰ نے اصطفی کا ذکر فرما کر اس بات کی تمہید باندھ دی ہے کہ ساری نسل انسانی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس اشرف المخلوق کو برگزیدگی عطا فرمائی ہے۔ اس کے بعد حضرت مریم کی برگزیدگی کا ذکر آئے گا۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اصطفیٰ کا ذکر بھی جزوی طور پر ہوگا۔
Ayahs 3:35–37

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

جب عمران کی بیوی نے کہا ، اے پروردگار ! میں نے تیرے لیے نذر مانی ہے ، جو کچھ میرے پیٹ میں ہے آزاد کیا ہوا۔ پس قبول فرما مجھ سے بیشک تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

اور جب اس کو جنا تو کہنے لگی اے پروردگار ! میں نے جنا ہے اس کو لڑکی۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے ، جو کچھ اس نے جنا ہے۔ اور نہیں ہے لڑکا مثل لڑکی کے۔ اور بیشک میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔ اور میں اس کو تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

پس قبول کیا اس کو اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول کرنا۔ اور بڑھاپا اس کو اچھی طرح بڑھانا۔ اور کفیل بنایا اس کا زکریا (علیہ السلام) کو۔ جب زکریا (علیہ السلام) اس کے پاس حجرے میں داخل ہوتے۔ تو اس کے پاس روزی پاتے ، تو انہوں نے کہا ، اے مریم ! یہ روزی تیرے پاس کہاں سے آئی ، تو وہ کہتی ، یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بغیر حساب کے۔

زوجہ عمران کی نذر : جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نصاری کے غلط عقائد کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے۔ آج کے درس میں حضرت مریم کی ولادت سے موضوع سخن کا آغاز کی اجا رہا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اس واقعہ کو اپنے ذہن میں لاؤ۔ اذ قالت امرات عمران ، جب عمران کی بیوی نے کہا۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! میں نے تیرے لیے یہ نذر مانی ہے کہ جو کچھ میرے پیٹ میں ہے ، وہ میں نے محض تیری عبادت کے لیے آزاد کردیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں ، محررا ، یعنی آزاد کرنے سے مراد ہے ، مخلصا للعبادۃ ، یعنی ہونے والے بچے کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے مختص کردیا جائیگا۔ کسی دنیوی کام میں نہیں لگایا جائیگا۔ بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آزاد کرنے کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ پہلا معنی تو عام فہم ہے یعنی غلامی سے آزاد کردینا۔ اور دوسرا معنی کسی معاملہ میں کتابت یا تحریر کرلینا ہے۔ جب کوئی چیز تحریر میں آجاتی ہے۔ تو معاملہ صاف ہو کر کسی ممکنہ فساد و اضطراب سے آزادی حاصل کرلیتا ہے۔ اس بات کا تذکرہ بھی پہلے ہوچکا ہے۔ کہ تاریخ میں دو ایسے اشخاص کا تذکرہ آتا ہے۔ جن کے نام عمران ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام بھی عمران ہے۔ اور حضرت مریم کے والد بھی عمران ہیں۔ دونوں نیک اور صالح آدمی تھے ، مگر نبی نہیں تھے۔ اس مقام پر جس عمران کا تذکرہ ہے۔ وہ مریم کے والد ہیں۔ امام بیضاوی اور دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ ان کی بیوی کا نام حنہ بنت فاقوس تھا۔ وہ بھی صالحۃ خاتون تھیں۔ بعد میں ان کے نام پر گرجے بھی بنے۔ اس علاقے میں دیر حنہ وغیرہ مشہور تھے۔ اسی طرح حضرت مریم کے نام پر بھی گرجے اور عبادت خانے مشہور تھے۔ حنہ زوجہ عمران عمر رسیدہ ہوگئیں مگر اولاد سے محروم تھیں۔ امام ابن کثیر اور دوسرے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے چریا کو دیکھا کہ اپنے بچے کو دانہ کھلا رہی ہے یہ دیکھ کر ان کے دل میں بھی اولاد کی خواہش پیدا ہوئی۔ تو اللہ تعالیٰ سے عجز و انکساری کے ساتھ دعا کی۔ جو اللہ نے قبول فرمائی۔ جب وہ اس کبر سنی میں حاملہ ہوگئیں تو انہوں نے شکرانے کے طور پر یہ منت مانی کہ وہ پیدا ہونے والے بچے کو اللہ کی عبادت کے لیے وقف کردیں گی۔ ان کی دلی خواہش یہ تھی۔ کہ اللہ تعالیٰ بیٹا عطا کرے ، تو وہ اسے اللہ کی راہ میں آزاد کردیں گی۔ یہ نذر ماننے کے بعد پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ فتقبل منی اے اللہ ! مجھ سے یہ نذرانہ قبول کرلے۔ میں پیدا ہونے والے بیٹے کو تیری عبادت اور بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردوں گی۔ انک انت السمیع العلیم۔ بیشک تو سننے والا ہے اور جاننے والا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ میں اس مکمل یقین کے ساتھ دعا کر رہی ہوں کہ تو میری التجا کو سن رہا ہے۔ اور میری اس نذر اور اس میں پائے جانے والے خلوص کو جانتا بھی ہے۔ جائز اور ناجائز نذر۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ جو نذر عمران کی بیوی نے مانی تھی ، ایسی نذر ہماری شریعت میں بھی جائز ہے۔ آج بھی کوئی شخص منت مانے کہ میں اپنے بیٹے کو دین کی خدمت کے لیے وقف کروں گا۔ وہ علم دین یعنی قرآن ، حدیث ، فقہ وغیرہ سیکھے گا ، اسے کسی دنیا کے کام میں نہیں لگاؤں گا ، تو ایسی نذر ماننا بالکل درست ہے۔ اور اس کا پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ البتہ اگر کوئی معصیت کی نذر مانے ، کسی ناجائز کام کے لیے منت مانے ، تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسی نذر کو توڑ دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا من نذر ان یطیع اللہ ، جس شخص نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی تو اس کو وہ نذر پوری کرنی چاہئے۔ اور لازماً اللہ کی اطاعت کرنی چاہئے برخلاف اس کے اگر کسی نے اللہ کی نافرمانی کرنے کی نذر مانی تو فرمایا فلا یعص اللہ ، ایسے شخص کو نافرمانی نہیں کرنی چاہئے۔ بلکہ ایسی غلط نذر کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ کفارتہ کفارۃ الیمین ، نذر تورنے کا کفارہ قسم توڑنے کے برابر ہے۔ یعنی دس مساکین کو کھانا کھلائے یا انہیں کپڑے پہنائے یا تین دن کے متواتر روزے رکھے۔ بہرحال کسی نیک کام کے لیے نذر ماننا بمنزہ عبادت ہے اور درست ہے۔ کسی کو دین کی خدمت یا مسجد کی خدمت کے لیے وقف کیا جائے۔ یہ نذر صحیح ہے اور جائز ہے۔ البتہ کسی قبر کا مجاور بننے کی منت درست نہیں۔ کیونکہ اس سے شرک و بدعت کی آبیاری ہوتی ہے اور یہ معصیت کی نذر تصور ہوگی۔ اسی طرح قبروں پر چڑھاوا چڑھانے اور وہاں پر نذر و نیاز پیش کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بعض صورتوں میں یہ شرک کا ارتکاب ہوتا ہے۔ اور بعض صورتوں میں یہ بدعت ہوتی ہے۔ لہذا درست نہیں۔ تاہم عمران کی بیوی نے جو نذر مانی تھی ، اس سے بیت المقدس کی خدمت مقصود تھی۔ اس زمانے میں اس قسم کے کام کے لیے لڑکوں کو وقف کیا جاتا تھا۔ اس مقصد کے لیے لڑکیوں کو وقف کرنے کا رواج نہیں تھا۔ ان کی خواہش اور دعا تھی کہ اللہ تعالیٰ لڑکا عطا کرے تو وہ اسے اللہ کے گھر کی خدمت پر مامور کردیں گی۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ مجہول کی نذر بھی درست ہے۔ یعنی ابھی علم ہی نہیں کہ پیدا ہونے والا لڑکا ہے یا لڑکی۔ مگر یہ نذر صحیح ہے کہ جو بھی اللہ تعالیٰ عطا کرے گا اسے وقف کردیا جائے گا۔ حضرم مریم کی ولادت : فلما وضعتھا ، جب عمران کی بیوی نے جنا ، تو وہ لڑکی تھی۔ قالت ، کہنے لگی ، رب انی وضعتھا انثی ، اے پروردگار ! میں نے تو لڑکی کو جنم دیا ہے۔ واللہ اعلم بما وضعت ، اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ اس نے جنا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ میں نے تو نذر مانی تھی کہ لڑکا ہوتا۔ تو اسے بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردوں گی مگر لڑکی کو ایسے کام کے لیے مقرر کرنا مناسب نہیں۔ ولیس الذکر کالانثی ، اور لڑکا لڑکی کی طرح تو نہیں ہے۔ لڑکی وہ مشقت کا کام نہیں کرسکتی جو لڑکا کرسکتا ہے۔ بہرحال لڑکی جننے کے بعد انہوں نے کہا۔ وانی سمیتھا مریم۔ اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے۔ مریم کا معنی بعض کے نزدیک عابدہ یعنی عبادت گزار ہے اور بعض کے نزدیک خادمہ ہے۔ امام ابوبکر جصاص اور دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ عمران حضرت مریم کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے۔ اور ان کی بیوی ہی نومولود کی کفیل اور سرپرست تھی۔ لہذا بچی کا نام انہوں نے خود رکھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ ماں کو بھی بچے کا نام رکھنے کی اجازت ہے خصوصاً اس وقت جب کہ باپ موجود نہ ہو۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ بچے کی پیدائش کے دن ہی اس کا نام رکھ دیا جائے۔ تاہم ساتویں دن بال اتارنا ، عقیقہ کرنا اور نام رکھنا بھی درست ہے۔ حضرت انس کے بھائی کی ولادت ہوئی۔ اسی دن اس کو اٹھا کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور ﷺ نے نومولود کو گڑھتی دی اور عبداللہ نام بھی رکھا ، خود حضور ﷺ کے ہاں ماریہ قبطیہ ؓ کے بطن سے رات کو بچہ پیدا ہوا۔ صبح آپ نے فرمایا کہ رات میرے ہاں لڑکا تولد ہوا ہے۔ اور اس کا نام میں نے اپنے جد امجد کے نام پر رکھا ہے۔ گویا بچے کا نام اس کے باپ نے رکھا۔ مگر حضرت مریم کا نام ان کی والدہ نے رکھا۔ کیونکہ باپ موجود نہیں تھا۔ بعض مفسرین نے اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔ کہ باپ کی عدم موجودگی میں تو ماں سرپرست بن سکتی ہے۔ مگر اس کی موجودگی میں نہیں بن سکتی۔ نام رکھنے کے ساتھ ہی فرمایا۔ وانی اعیذھا بک و ذریتھا من الشیطن الرجیم ، اے اللہ ! میں اس بچی کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ تاکہ شیطان کسی قسم کی دخل اندازی نہ کرے حدیث شریف میں آتا ہے کہ شیطان نے ہر مولود کو چوکا لگایا ، سوائے حضرت مریم ؓ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ، کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا۔ یہ ان کی والدہ کی دعا کی وجہ سے ان کی خصوصیت تھی ، فتقبلہا ربھا بقبول حسن ، پس قبول کیا اس کو اس کے رب نے اچھی طرح قبول کرنا ، یعنی لڑکے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی ، تو اسے ہی عبادت کے لیے قبول فرمایا ، وانبتھا نباتا حسنا ، اور بڑھایا اس بچی کو اچھی طرح بڑھانا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی نشونما فرمائی۔ کہ حضرت مریم عام معمول سے بہت جلدی بڑی ہوگئی اور آپ کی صحت بھی بہت اچھی تھی۔ حضرت مریم کی کفالت : وکفلھا زکریا ، اس کی قراءت دو طرح سے آتی ہے یعنی کَفَلَہا اور کَفَّلہا ، کَفَلَہا کا معنی ہے کفیل بن گیا یا ضامن بن گیا ، گویا زکریا (علیہ السلام) حضرم مریم کے کفیل بن گئے ، اور کَفَّلہا کا معنی ہوگا کہ اللہ نے زکریا (علیہ السلام) کو حضرت مریم کا کفیل بنا دیا۔ بہرحال دونوں طرح مقصد ایک ہی ہے۔ بچی کا باپ موجود نہیں۔ ماں اس کو لے کر ہیکل مقدس میں آگئی۔ تو وہاں پر موجود ہر شخص نے خواہش ظاہر کی کہ اس بچی کو اپنی کفالت میں لے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت منظور تھی۔ آپ نیک اور صالح آدمی تھے اور بیت المقدس کے امام بھی تھے۔ ادھر آپ حضرت مریم کے رشتہ دار بھی تھے۔ یعنی ان کے خالو لگتے تھے۔ آپ کے گھر میں حنہ کی بہن ایشاع بنت فاقوس تھی۔ لہذا انہیں کفالت کا زیادہ حق تھا۔ ایسا ہی واقعہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی پیش آیا۔ جب حضرت حمزہ کی بچی کو مدینہ لایا گیا تو حضرت علی حضرت زید اور حضرت جعفر ؓ کے گھر میں بچی کی خالہ تھی۔ لہذا حضور ﷺ نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا اور فرمایا الخالۃ بمنزلۃ الام ، خالہ بمنزلہ ماں کے ہوتی ہے۔ لہذا کفالت کی وہی زیادہ حقدار ہے۔ الغرض ! حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم کے کفیل مقرر ہوئے۔ انہوں نے مریم کے لیے بیت المقدس میں الگ کمرہ بنا دیا۔ جہاں وہ دن بھر عبادت میں مصروف رہتی اور رات کو اسے اپنے گھر لے جاتے۔ آپ کی تعلیم و تربیت بھی کرتے۔ یہ اللہ کی قدرت تھی۔ کہ حضرت مریم کے طبن سے حضرت مسیح کی ولادت مقصود تھی۔ بخاری شرییف میں آتا ہے کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) بڑھئی کا کام کرتے تھے۔ اور زیادہ وقت منصب نبوت کی ادائیگی میں صرف کرتے تھے اس لیے کبھی کھانے کو کچھ مل جاتا اور کسی دن فاقہ بھی برداشت کرنا پڑتا۔ عام طور پر انبیاء (علیہم السلام) کی حالت ایسی ہی ہوتی ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو حضرت مریم (علیہا السلام) کی پرورش بھی جلد از جلد منظور تھی۔ کیونکہ آپ کے بطن سے جلیل القدر پیغمبر تولد ہونے والے تھے۔ حضرت مریم کی کرامت : اس کا انتظام اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کلما دخل علیہا زکریا المحراب جب زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم کے کمرے داخل ہوئے ، وجد عندھا رزقا تو اس کے پاس روزی پاتے۔ حضرت زکریا کے پاس تو اس قدر وسائل نہ تھے۔ مگر وہ دیکھتے کہ حضرت مریم کے پاس بےموسم پھل موجود ہیں۔ سردیوں کے پھل موسم گرما میں اور گرمیوں کے پھل موسم سرما میں حضرت مریم کے پاس مہیا ہوتے۔ یہ حضرت مریم کی کرامت تھی کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت بالغہ اور قدرت تامہ سے انہیں روزی پہنچاتا تھا۔ جو خرق عادت فعل انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھ پر ظاہر ہو۔ وہ معجزہ ہوتا ہے اور جو اولیاء کے ہاتھ پر ظاہر ہو وہ کرامت ہوتی ہے۔ اہل سنت والجماعت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اولیاء اللہ کی کرامت برحق ہے۔ اس سے انکار کی مجال نہیں۔ عقائد کی کتابوں میں نبی کے معجزے اور ولی کی کرامت کو عقیدے میں شامل کیا گیا ہے۔ البتہ کسی ولی اللہ کے ساتھ جھوٹ موٹ کرامت منسوب کرنا غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیخ عبدالقادر جیلانی کے ہاتھ پر بہت سی کرامات ظاہر فرمائیں۔ ان کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں منقول ہے۔ مگر کشتی کا بارہ سال والا قصہ جھوٹا اور من گھڑت ہے۔ بعض دیگر بزرگانِ دین کی طرف بھی لوگوں نے بہت سی جھوٹی باتیں منسوب کردی ہیں ، جو درست نہیں۔ بہرحال جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے پاس پھل دیکھے تو فرمایا ، قال یمریم انی لک ھذا ، اے مریم یہ کہاں سے آگئے قالت ھو من عند اللہ ، تو انہوں نے جواب دیا۔ کہ یہ اللہ کی طرف سے آئے ہیں۔ یہ اس کی خاص عنایت تھی۔ تاکہ حضرت مریم جلد از جلد سن بلوغت کو پہنچیں۔ اور آگے نبوت کا سلسلہ جاری ہو۔ مسند ابی یعلی کے حوالے سے امام ابن کثیر نے بیان کیا ہے۔ کہ ایک موقع پر حضور ﷺ کئی روز سے فاقے سے تھے۔ آپ اپنی بیٹی فاطمہ کے گھر تشریف لائے اور کھانے کے لیے طلب کیا۔ جواب ملا ، ابا جی ! آج تو گھر میں کھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ چناچہ حضور ﷺ واپس تشریف لے آئے۔ اتفاق سے تھوڑی ہی دیر بعد کسی پڑوسن نے دو چھوٹی چھوٹی روٹیاں اور گوشت کا ایک ٹکڑا حضرت فاطمہ کو ہدیۃً بھیجا۔ وہ کھانا آپ نے بچوں کو کھلانے کی بجائے۔ حضور ﷺ کے لیے رکھ لیا اور آپ کو پیغام بھیجا۔ آپ تشریف لائے۔ حضرت فاطمہ نے کپڑے کے نیچے رکھا ہوا کھانا نکال کر حضور کی خدمت میں پیش کردیا۔ حضور نے فرمایا کہ تھوڑی دیر پہلے تو گھر میں کوئی کھانا نہ تھا۔ اب کہاں سے آگیا۔ تو حضرت فاطمہ نے وہی الفاظ کہے جو حضرت مریم نے کہے تھے۔ ھو من عنداللہ ، کہ یہ اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کھانے میں اس قدر برکت ڈال دی کہ وہ مختصر سا کھانا حضور ﷺ نے خود تناول فرمایا۔ حضرات حسنین اور حضرت علی رض اللہ عنہم نے کھایا۔ آپ کی تمام ازواج مطہرات نے کھایا۔ پھر بھی بچ گیا تو پڑوسیوں میں تقسیم کیا گیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ فاطمہ ! تمہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کا شبیہ بنایا ہے۔ انہوں نے بھی یہی کہا۔ کہ کھانا اللہ نے بھیجا ہے اور تو نے بھی یہی بات کی ہے۔ حقیقت یہ ہے۔ ان اللہ یرزق من یشاء بغیر حسا تا ب ، اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے یہ اس کی خاص مہربانی ہے۔ :