3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:159–160

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

پس اللہ کی رحمت سے آپ ان کے لیے نرم خو ہیں۔ اور اگر آپ سخت مزاج اور تنگ دل ہوتے ، تو یہ لوگ آپ کے اردگرد سے پراگندہ ہوجاتے ہیں پس ان کو معاف کردیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگیں اور معاملے میں ان سے مشورہ کریں۔ پس جب آپ نے پختہ ارادہ کرلیا ، تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ بھروسہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا ، پس تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔ اور اگر وہ تمہیں رسوا کردے تو کون ہے۔ جو اس کے سوا تمہاری مدد کرے۔ اور چاہئے کہ ایمان والے اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا کہ کافروں کے ساتھ مشابہت نہ کریں۔ وہ تمہیں بزدل بنا کر دین اسلام سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ زندگی اور موت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جہاد میں شریک ہونے والا لازماً ہی شہید نہیں ہوگا ، بلکہ اگر اس کی زندگی باقی ہے ، تو وہ میدان جنگ سے بھی زندہ سلامت واپس آئے گا۔ اور جس شخص کی موت لکھی جا چکی ہے وہ اگر اپنے گھر میں بھی بیٹھا ہوگا تو عین موقع پر اپنی قتل گاہ پر پہنچ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ اگر وہ راہ خداوندی میں شہید ہوگئے تو اللہ کی مہربانی ان کے شامل حال ہوگی۔ اور دنیا کے اس مال و متاع سے بہتر ہوگی جسے لوگ زندگی بھر اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ فرمایا کوئی طبعی موت مرے یا راہ حق میں شہید ہوجائے ، سب کو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اکٹھا ہونا ہے ، جہاں تمہاری بہتری کے وافر سامان موجود ہیں۔ لہذا موت سے گبھرانا نہیں چاہئے۔ اب آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (علیہ السلام) کی تعریف فرمائی ہے۔ کہ اللہ کے فضل سے آپ نہایت ہی نرم دل ، شفیق اور مہربان ہیں۔ اپنے صحابہ کے ساتھ حسن سلوک فرماتے ہیں۔ غزوہ احد کے موقع پر انہوں نے غلطی ضرور کی۔ جس کی وجہ سے بہت سی تکلیف اٹھانا پڑی۔ مگر بہرحال یہ لوگ مخلص تھے۔ آپ ان کی غلطیوں کی اصلاح فرمائیں اور آپ تنگ دل ہو کر ان پر ناراض نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو دین کی ترقی رک جائے گی اور مسلمانوں کی جو تھوڑی سی جماعت قائم ہوگئی ہے۔ اس کے ٹوٹ جانے کا مزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے اخلاق حمیدہ اور اپنی خصوصی عنایت کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے۔ فبما رحمۃ من اللہ۔ پس اللہ کی رحمت کے سبب۔ لنت لھم۔ آپ ان کے لیے نرم ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے۔ کہ آپ کو اپنے صحابہ کے لیے نرم بنایا۔ یہاں پر فبما میں مَا زاید ہے۔ عربی زبان میں یہ تاکید کے لیے آتا ہے اور اس کی مثالیں قرآن پاک میں مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ جیسے فبما نقضھم میثاقھم۔ پس بہ سبب بنی اسرائیل کے عہد و پیمان توڑنے کے ہم نے ان پر سختیاں کیں اور ان کو گرفت میں لیا۔ عربی کا مشہور شاعر اعشیٰ بھی اپنے کلام میں ما کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کرتا ہے۔ اذھبی ما الیک ادرکنی الحلم عدانی عن ھیجکم اشفاقی جاؤ اب میرے اندر بربداری آگئی ہے۔ تم جس شوق و محبت سے مجھے ابھارتی تھی وہ اب مجھ سے دور ہوگئی۔ مجھے خود بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بہرحال یہ ، ما ، تاکیدی ہے۔ اگر اس کو درمیان سے ہٹا بھی دیا جائے تو معنی میں خاص فرق نہیں آئے گا۔ جیسے فبرحمۃ من اللہ۔ اللہ کی مہربانی سے ، لنت لھم ، آپ ان کے لیے نرم ہیں۔ ولو کنت فظا۔ اور اگر آپ تند خو ہوتے یا سخت مزاج ہوتے ، یا پھر غلیظ القلب ، تنگ دل ہوتے۔ لانفضوا من حولک۔ تو یہ لوگ آپ کے ارد گرد سے پراگندہ ہوجاتے۔ یہ اللہ کا فضل عظیم ہے کہ آپ عالی اخلاق اور نرم مزاج ہیں۔ آپ کی رحم دلی کا یہ عالم ہے۔ کہ غزوہ احد میں جلیل القدر صحابہ کے تتر بتر ہوجانے کے باوجود آپ نے ان کو ملامت نہیں کی اور نہ ان سے سختی سے پیش آئے۔ آپ نے ہر ممکن حد تک صحابہ کی اصلاح فرمائی ہے۔ اگر آپ دنیوی سلاطین کی طرح صاحب اقتدار ہوتے تو صحابہ کی اس غلطی کا سختی سے نوٹس لیتے اور ان کو سرزنش کرتے۔ مگر ایسی کوئی بات نہیں ہوئی ، کیونکہ آپ نرم دل اور شائستہ مزاج تھے۔ اگر آپ میں یہ عالی ظرفی نہ ہوتی ، تو لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے۔ بخشش ، معافی اور مشورہ : اس بات کا امکان تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں کچھ رنجش باقی رہتی کہ صحابہ کرام نے خلاف توقع عمل کیوں کیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سفارش کردی فاعف عنھم۔ اے نبی کریم ! اپنے صحابہ کی یہ لغزش معاف کردیں دل میں ان کے متعلق کسی قسم کا رنج نہ رکھیں بلکہ واستغفرلھم ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کریں۔ ظاہر ہے کہ جس شخص کے لیے اللہ کا رسول بخشش طلب کرے گا۔ وہ ضرور فائز المرام ہوگا۔ اس بات کا بھی امکان تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں کوئی رنج تو باقی نہ رہے ، مگر ان کی لغزش کی وجہ سے آئندہ آپ صحابہ سے مشورہ ہی نہ کیا کریں۔ جیسے غزوہ احد کے موقع پر کیا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں بھی صاف فرما دیا۔ وشاورھم فی الامر۔ اور معاملات میں ان سے مشورہ فرما لیا کریں۔ حضور ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ جنگ یا دیگر معاملات میں صحابہ سے مشورہ کرلیا کرتے تھے۔ ہاں مشورہ کی ضرورت ان امور میں پیش آتی تھی جن میں وحی الہی کے ذریعے واضح حکم موجود نہیں ہوتا ہے کیونکہ جہاں اللہ کا حکم موجود ہو۔ وہاں اس کا اتباع لازم ہے ، جیسا کہ نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ جیسے فرائض میں احکام الہی کا اتباع ضروری ہوتا ہے۔ اور اگر وحی نہ آئے تو پھر پیغمبر (علیہ السلام) اجتہاد بھی کرتے ہیں اور مشورہ بھی افک کے معاملہ میں مہینہ بھر وحی نہ آنے کی وجہ سے آپ پریشان تھے۔ آپ مننبر پر کھڑے ہو کر فرماتے تھے۔ یا ایھا الناس اشیروا علی۔ لوگو ! مجھے مشورہ دو کہ اس معاملہ میں کیا کرنا چاہئے ، میں نے تو اپنی بیوی میں کوئی برائی نہیں دیکھی مگر بعض لوگ برائی کا خیال ظاہر کرتے ہیں۔ پھر جب وحی نازل ہوگئی تو سارے اتہام اور بہتان ختم ہوگئے ، آپ کی تسلی ہوگئی اور مجرموں کو سزا دی گئی۔ منافقوں کو ہمیشہ کے لیے جہنمی قرار دے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ کے متعلق دو رکوع نازل فرمائے۔ مشاورت کی مثالیں : حضور ﷺ نے بہت سے معاملات میں اپنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا۔ غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کا مشورہ سلمان فارسی نے دیا تھا۔ انہوں نے عرض کیا حضور ! میں نے اپنے ملک میں دیکھا ہے کہ جب دشمن ہجوم کرتا ہے۔ تو بسا اوقات اپنے شہروں اور بستیوں کے ارد گرد خندق کھود کر دفاع کیا جاتا ہے۔ آپ نے اس مشورہ کو شرف قبولیت بخشا اور خندق کھود کر دفاع کیا جاتا ہے۔ آپ نے اس مشورہ کو شرفِ قبولیت بخشا اور خندق کھودنے کا حکم دیا۔ چناچہ مدینہ کی تین اطراف میں خندق کھود دیا گیا۔ اور ایک طرف خود دشمن کا دفاع کیا۔ مجاہدین صرف تین چار ہزار تھے۔ جب کہ مقابلے میں پچیس ہزار کا جم غفیر تھا۔ مشرکین نے بڑی تیاری اور سازو سامان کے ساتھ حملہ کیا مگر ناکام رہے آپ نے فرمایا ، مشرکوں کا یہ آخری حملہ تھا ، آئندہ وہ حملہ کرنے کی جرات نہیں کریں گے بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم ہی ان پر حملہ آور ہوں گے۔ اسی جنگ کے دوران جب دشمن کا دباؤ زیادہ بڑھ گیا تو حضور ﷺ کا خیال ہوا کہ قبیلہ غطفان کے بعض سرداروں سے معاہدہ کرلیا جائے۔ آپ کا خیال تھا کہ مدینے کے درختوں کی آمدنی یا پھل کا کچھ اس قبیلہ کو پیش کردیا جائے اور اس کے بدلے میں ان سے عہد لیا جائے کہ وہ مشرکوں کا ساتھ نہ دیں۔ معاملہ بڑا ہی نازک تھا۔ خطرے کی وجہ سے مسلمانوں کے دل اچھل کر گلے تک آ رہے تھے۔ اس منظر کو اللہ تعالیٰ نے سورة احزاب یوں بیان فرمایا۔ بلغت القلوب الحناجر۔ اس تمام تر دباؤ کے باوجود مدینے کے انصار صحابہ حضرت سعد بن معاذ اور حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے حضور ﷺ کی رائے سے اتفاق نہ کیا بلکہ عرض کیا ، حضور ! ہم اپنے دفاع کی سر توڑ کوشش کریں ، ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے بہتری کا سامان پیدا کرے گا ، مگر مدینے کی آمدنی کا کچھ حسہ قبیلہ غطفان کو دینا منظور نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے ان صحابہ کی رائے سے اتفاق کیا۔ آپ نے مجوزہ معاہدہ نہ کیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی مدد فرمائی اور مشرک ناکام و نامراد واپس لوٹ گئے۔ اسی طرح غزوہ بدر کے موقع پر حباب بن منذر نے مشورہ دیا تھا کہ اگر ہم فلاں مقام پر پڑاؤ کریں تو ہمیں پانی اور دیگر ضروریات کے حصول میں سہولت رے گی آپ نے اس رائے کو قبول فرماتے ہوئے اسی مقام پر ڈیرا جمایا۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں بھی مسلمانوں کی مدد فرمائی اور انہیں فتح عظیم سے نوازا۔ غرضیکہ اس قسم کے اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں نبی کریم (علیہ السلام) نے صحابہ سے مشورہ فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کا واضح حکم بذریعہ وحی نہیں ملتا تھا تو آپ مشورہ بھی کرتے تھے اور اجتہاد بھی فرماتے تھے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مشورہ کا قانون بھی سمجھا دیا۔ مشورہ کی فقہی حیثیت : مشورے کی فقہی حیثیت کے متعلق بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ یہ نبی (علیہ السلام) کے لیے مستحب تھا۔ مگر بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ ۔ شاورھم۔ امر کا صیغہ ہے۔ لہذا حضور ﷺ کا صحابہ سے مشورہ فرمانا وجوب کا درجہ رکھتا ہے۔ جو حضرات مستحب ہونے کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ آپ کے لیے مشورہ کرنا ضروری نہیں تھا۔ بلکہ صحابہ کرام کی طیب خاطر کے لیے تھا۔ امام ابوبکر جصاص (رح) بہت بڑے مفسر قرآن ہوئے ہیں۔ انہوں نے قرآن کے احکام پر عظیم کتاب لکھی جس میں صرف احکام پر بحث کی گئی ہے۔ آپ حنفی امام تھے ، رئی کے رہنے والے تھے۔ یہ علاقہ بڑا مردم خیز خطہ ہو۔ جس میں امام عبدالقادر رازی ، عبداللہ بن مبارک ، امام فخر الدین رازی رحمہم اللہ وغیرہ ہوئے ہیں۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ شاورھم کا حکم وجوبی ہے۔ جس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل نہ ہو اس معاملہ میں حضور کا صحابہ سے مشورہ کرنا واجب تھا۔ البتہ یہ بات قابل غور ہے کہ مشورہ کن صحابہ سے کیا جائے۔ ہر شخص تو مشورہ دینے کا اہل نہیں ہوتا۔ اس کا الگ قانون موجود ہے۔ تاہم حضور ﷺ اکثر معاملات میں کبار صحابہ سے مشورہ فرمایا کرتے تھے۔ آپ نے بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورہ کیا اور پھر حضرت ابوبکر صدیق کی رائے کو تسلیم کیا اگرچہ حضرت عمر ؓ کی رائے مختلف تھی۔ مسند احمد کی حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں۔ کہ حضور ﷺ نے حضرت صدیق اکبر اور عمر فاروق سے فرمایا لوجتمعتما ما خالفتکما۔ اگر تم دونوں کسی معاملہ میں متفق ہوجاؤ۔ تو میں تمہارے خلاف نہیں کروں گا۔ یعنی تمہاری رائے کو اختیار کرلوں گا۔ شیخان اور بعض دوسرے صحابہ نہایت ثقہ لوگ تھے ، صاحب فہم ، موقع شناس اور سمجھدار تھے۔ لہذا آپ ایسے ہی لوگوں سے مشورہ فرمایا کرتے۔ غرضیکہ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ مشورہ کا حکم وجوبی ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ مشاورت واجب ہے اور یہ صائب الرائے لوگوں سے ہونی چاہئے۔ مگر آج کے مسلمان امرا ، ملوک اور سلاطین صحیح لوگوں سے مشورہ کرنا ترک کرچکے ہیں۔ برخلاف اس کے من مانی کارروائیاں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے قوم و ملت کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔ جب خود پیغمبر ﷺ مشورہ کرنے کے پابند تھے۔ تو کسی حاکم کو یہ حق نہیں پہنچتا وہ اصحاب حل وعقد سے مشورہ کیے بغیر اپنی خواہشات نفسانیہ کے پیچھے چلتا رہے۔ ہماری تاریخ میں بنو عباس کے زمانے سے یہ مصیبت چلی آ رہی ہے۔ کہ ملوک مشورہ سے معاملہ سلجھانے کی بجائے من مانی کرتے ہیں۔ اور اگر مشیر رکھے ہوئے ہیں تو ایسے جو محض ان کی ہاں میں ہاں ملانے والے ہوں ، جو کچھ صاحب اقتدار نے کہہ دیا انہوں نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ یہی چیز قوم کو تباہی کی طرف لے جانے والی ہے۔ حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے۔ کہ انہوں نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا ، حضور ! جو بات ہمیں قرآن و سنت میں نہ مل سکے اس کے متعلق کیا طریقہ اختیار کیا جائے آپ نے فرمایا شاوروا فقھاء العابدین۔ یعنی دین میں سمجھ رکھنے والے اور نیک لوگوں سے مشورہ کیا کرو ولا تمضوا رایۃ الخاصۃ اور کسی خاص ا کے د کے کی بات کو نہ مانو کسی فاجر فاسق کو اپنا مشیر نہ بناؤ بلکہ نیک اور صالح لوگوں سے مشورہ کیا کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں میں برکت ڈالے گا۔ نانی کی وراثت کا کا مسئلہ پیدا ہوا تو حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا اس کا حل میں قرآن و سنت میں تو نہیں پاتا لہذا لوگوں سے مشورہ کروں گا۔ آپ نے اس کے لیے اعلان فرمایا۔ پھر جس کے پاس علم تھا اس نے آکر گواہی دی تو معاملہ طے ہوا۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ بھی اہل لوگوں سے مشورہ کیا کرتے تھے حتی کہ بعض معاملات میں عورتوں کی رائے بھی لے لیتے تھے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم رؤوف الرحیم سے فرمایا کہ آپ ایسے معاملات میں مشورہ کرلیا کریں۔ فاذا عزمت۔ پھر جب آپ پختہ ارادہ کرلیں۔ آپ معاملہ کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں مشورہ کے ذریعے کوئی بات طے ہوجائے۔ فتوکل علی اللہ۔ تو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس معاملہ میں عمل پیرا ہوجائیں اور کوئی حکم ہو تو اس کو جاری کردیں۔ اس سے مفسرین کرام نے قانون اخذ کیا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں آراء مختلف ہوں تو پھر امیر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اکثریت کے فیصلہ کو قبول کرے یا قلیت کی رائے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنا آخری فیصلہ جاری کردے۔ عام دنیوی امور میں کثرت رائے کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ مگر اسلام کا اصول یہ ہے کہ اگر کوئی معاملہ اتفاق رائے سے طے ہوتا ہے تو اسے بعینہ تسلیم کرلیا جائے اور اگر اس میں اختلاف رائے واقع ہوجائے تو پھر امیر اپنی صوابدید سے اکثریت یا اقلیت میں سے کوئی بھی رائے تسلیم کرکے فیصلہ دے سکتا ہے وہ کثرت رائے کو تسلیم کرنے کا پابند نہیں ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اے نبی کریم ! جب آپ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیں ، تو پھر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے۔ اس کو پایہ تکمیل پر پہنچا دیں۔ کیونکہ معاملہ جنگ کا ہو یا کوئی اور ہو اس کا بناؤ یا بگاڑ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ مسبب الاسباب ہے۔ آپ اس کے بھروسہ پر کام شروع کردیں کیونکہ ان اللہ یحب المتوکلین۔ بیشک اللہ تعالیٰ انہی کو پسند فرماتا ہے جو اس پر بھروسہ کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ متوکل علی اللہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے معبود حقیقی کو پہچانتے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے دوسرا قانون یہ بیان فرمایا۔ ان ینصرکم اللہ فلا غالب لکم۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا تو کوئی دوسرا تم پر غالب نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ نیکی کے کاموں میں مدد کرے گا۔ فسق و فجور ، عیاشی ، فحاشی اور فیشن کے کاموں میں مدد نہیں کرے گا اور نہ وہ ایسے لوگوں کو غالب کرے گا۔ اور دوسری بات یہ۔ وان یخذلکم۔ اور اگر وہ تم کو رسوا کردے۔ اور وہ برائی ، بیحیائی ، ظلم اور کفر کرنے والوں کو ذلیل و خوار بھی کردیتا ہے۔ اگر ایسی صورت پیدا ہوجائے تو فرمایا یاد رکھو ! فمن ذالذی ینصرکم من بعدہ۔ پھر اس کے سوا تمہاری کون مدد کرے گا۔ کوئی بڑے سے بڑا حاکم بادشاہ یا ڈکٹیٹر کوئی بھی ہو تمہاری مدد کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ احکم الحاکمین نے تمہاری مدد روک لی ہے اور اس سے بڑی سپر پاور اور کوئی نہیں جو اس کے حکم اور ارادے کو بھی چیلنج کرسکے ، لہذا تمہین اس کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہوگا ، اس کی مشیت کے خلاف کوئی بھی تمہاری مدد کو نہیں پہنچے گا۔ فرمایا جب یہ اصول اٹل ہے تو پھر یہ بھی حقیقت ہے۔ وعلی اللہ فلیتوکل المومنون۔ کہ جن لوگوں کے دل نور ایمان سے منور ہیں وہ اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ ادھر ادھر اندھیرے میں ٹکریں نہیں مارتے۔ غیر اللہ کے دروازوں پر نہیں جاتے بلکہ فقط اسی ذات وحدہ لاشریک پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے معاملات اسی کے سپرد کردیتے ہیں۔
Ayahs 3:161–163

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور نہیں لائق نبی کے یہ بات کہ وہ خیانت کرے۔ اور جو شخص خیانت کرے گا تو وہ لائیگا اس چیز کو جو اس نے خیانت کی قیامت کے دن۔ پھر پورا پورا بدلہ دیا جائے گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اللہ کی ناراضگی اور غصہ لے کر لوٹا ہے۔ اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہے اور وہ لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے۔

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

اللہ کے نزدیک یہ مختلف درجات ہیں۔ اور اللہ نگاہ میں رکھتا ہے ان کاموں کو جن کو یہ لوگ کرتے ہیں۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق عالیہ کا تذکرہ فرمایا تھا۔ کہ آپ کا حسن اخلاق کامیابی کی دلیل ہے۔ اسلام کی تبلیغ کے سلسلہ میں بھی اللہ کا عام قانون یہی ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ۔ کہ تبلیغ اسلام کا فریضہ اچھے طریقے سے اور خوش اخلاقی سے انجام دو ۔ حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی طرف روانہ کرتے وقت فرمایا تھا کہ تم ایک اکھڑ مزاج اور ظالم قوم کے پاس جا رہے ہو۔ فقولا لہ قولا لینا لعلہ یتذکر او یخشی۔ لہذا فرعون کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کرنا شاید وہ نصیحت حاصل کرجائے۔ غرضیکہ اسلام نے ہمیشہ خوش خلقی کی تعلیم دی ہے۔ حضور ﷺ کے صحابہ سے احد کے موقع پر جب لغزش ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ ان کو معاف کردیں ، ان کے لیے بخشش کی دعا کریں اور ان سے مشورہ بھی کرتے رہیں۔ کہیں دل برداشتہ ہو کر آپ صحابہ سے مشورہ کرنا ترک نہ کردیں بلکہ انہیں ہمیشہ اعتماد میں لے لیا کریں کیونکہ مشورہ بڑی اہم چیز ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہ بھی فرمایا کہ مشورہ کے بعد جب آپ کسی معاملہ کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کرلیں تو پھر اللہ کے بھروسہ پر اسے انجام دے دیں۔ کیونکہ متوکلین اللہ کے محبوب ہیں۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اعظم ﷺ کے اخلاق عالی کو ایک اور پہلو سے بیان فرمایا ہے۔ اللہ کا نبی جس طرح نرم مزاج اور رحم دل ہوتا ہے ، اسی طرح وہ امین اور دیانت دار بھی ہوتا ہے۔ کسی نبی کے متعلق یہ گمان کرنا کہ وہ (نعوذ باللہ) خیانت کا مرتکب بھی ہوسکتا ہے ، نبی کے منصب کے خلاف ہے۔ اللہ کا نبی معصوم عن الخطایا ہوتا ہے۔ وہ امت کے لیے بہترین نمونہ ہوتا ہے۔ لہذا وہ کسی غیر اخلاقی فعل کا ارتکاب نہیں کرتا۔ شانِ نزول : ارشاد ہوتا ہے۔ وماکان لنبی ان یغل۔ یہ بات کسی نبی کے لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے یا کسی چیز کو چھپائے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا تعلق غزوہ بدر سے متعلق ایک واقعہ کے ساتھ ہے۔ جنگ بدر میں جو مال غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہوا ، اس میں سے ایک کمبل یا چادر گم پائی گئی۔ اس کے متعلق لوگوں نے مختلف خیالات کا اظہار کیا۔ بعض نے کہا کہ شاید یہ چادر حضور ﷺ نے خود لے لی ہو۔ اس قسم کی بات اگر منافق کرے تو اس سے کچھ بعید کیونکہ انہیں تو بات کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ چاہئے۔ البتہ اگر کسی مسلمان نے یہ بات کی ہوگی تو یہ سمجھ کر کہ حضور نبی کریم ﷺ کو کوئی بھی چیز حاصل کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ لہذا اسی حق کی بناء پر آپ نے یہ چادر لے لی ہوگی۔ بایں ہمہ اللہ تعالیٰ نے نبی کی طرف سے ایسے فعل کے ارتکاب کی سختی سے تردید فرمائی۔ اور لوگوں کو خبردار کیا کہ تمہارا نبی اخلاق کے عالی مرتبے پر فائز ہے۔ لہذا یہ گمان بھی نہ کرنا کہ مسلمانوں کی اطلاع کے بغیر خود بخود بھی کوئی چیز اپنے لیے رکھ لے گا۔ غلول کا مفہوم : غلول اصل میں مال غنیمت میں سے کسی چیز کے چھپا لینے کو کہتے ہیں اس کے علاوہ غلول کا اطلاق مطلقاً خیانت پر بھی ہوتا ہے۔ یہ لفظ کسی دوسرے کے حق کے ضیاع پر بھی بولا جاتا ہے۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کی حدیث مبارکہ ہے۔ ان اللہ لا یقبل صلوۃ بغیر طھور ولا صدقۃ من غلول۔ یعنی اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا اور خیانت کے مال میں سے صدقہ قبول نہیں کرتا۔ مقصد یہ کہ غلول مطلقاً خیانت پر بھی بولا جاتا ہے اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کے چھپا لینے کو بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی جملہ مسلمانوں کے ساتھ خیانت کا ارتکاب ہوتا ہے اسلام نے اس ضمن میں بڑی واضح ہدایات دی ہیں۔ خیانت کبیرہ : حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ لایحل لامرء مسلم مال اخیہ الا بطیب نفسہ۔ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے۔ کہ کسی دوسرے مسلمان کے مال کو اس کی اجازت کے بغیر قبضہ میں لے۔ اگر اپنی خوشی سے ایک مسلمان دوسرے کو کوئی چیز دیتا ہے ، تو وہ جائز ہے اور چوری ، خیانت ، دغا بازی یا فراڈ سے کوئی چیز حاصل کرنا دوسرے بھائی کا حق ضائع کرنا ہے۔ مسلم شریف کی حدیث میں تو یہ بھی آتا ہے۔ کہ اگر کچھ آدمی اکٹھے کھجوریں کھا رہے ہوں۔ تو کسی کے لیے روا نہیں کہ وہ ایک کی بجائے دو دو کھجوروں کا لقمہ بنائے البتہ اگر اس کے شریک طعام اس کو اجازت دے دیں تو پھر جائز ہے۔ غرضیکہ کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی دوسرے بھائی کا حق بغیر اس کی اجازت کے حاصل کرے چہ جائیکہ اللہ کا نبی ایسا کام کرے۔ ترمذی شریف میں غزوہ خیبر یا کسی اور جنگ سے متعلق واقعہ آتا ہے حضور ﷺ کا کر کرہ نامی ایک غلام تھا۔ وہ جنگ میں مارا گیا۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے لیے شہادت مبارک ہو۔ اس پر نبی (علیہ السلام) نے فرمایا۔ کلا۔ ہرگز نہیں ، وہ تو جہنمی ہے۔ اس غلام نے غنیمت کے مال میں سے ایک چادر غصب کی تھی ، وہ اس پر شعلے بن کر چمٹ رہی ہے۔ یہ سن کر لوگ سخت خوفزدہ ہوئے۔ اور جس کسی نے کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مال غنیمت میں سے تقسیم کیے بغیر حاصل کی ہوئی تھی سب واپس کردی۔ حضور ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص نے جوتے کا ایک تسمہ یا دو تسمے بھی ناحق وصول کیے ہیں۔ تو وہ بھی دوزخ میں لے جانے کا باعث ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ شراکا فی النار و شراکان فی النار۔ ایک شخص نے مشترکہ مال میں سے ایک معمولی دھاگا رکھ لیا تھا۔ جب حضور ﷺ کی وعید سنی تو وہ دھاگا لے کر حاضر ہوگیا۔ آپ نے فرمایا ، اب تو وہ مال تقسیم ہوچکا ہے۔ اس دھاگے کو میں اب باقی مسلمانوں میں کیسے تقسیم کروں۔ تم نے غلط کام کیا ہے۔ غرضیکہ آپ نے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ گویا خیانت کبیرہ گناہ ہے۔ تکبر ، غلول اور قرض : ترمذی شریف میں حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے۔ کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ من خرج روحہ الجسد وھو بری من ثلاث دخل الجنۃ الکبر والغلول والدین۔ یعنی جس شخص کی روح اس حالت میں اس کے جسم سے جدا ہوئی کہ وہ تین چیزوں سے پاک ہے یعنی تکبر ، خیانت اور قرض ، تو وہ شخص جنت کا حقدار ہے۔ تکبر صرف ذات باری تعالیٰ کو ہی سزاوار ہے۔ کسی انسان کے لیے یہ بہت ہی بری خصلت ہے۔ تکبر کا عام معنی ہے بطر الحق و غمط الناس یعنی سچی بات کو ٹھکرا دینا اور لوگوں کو حقیر جاننا۔ طاقت ، دولت ، اقتدار ، قومیت وغیرہ کی بناء پر دوسرے کو حقیر جاننا اور سچی بات کو ٹھکرا دینا تکبر کی نشانی ہے۔ یہ وہی بیماری ہے جو ابلیس کو لاحق ہوئی۔ ابی واستکبر وکان من الکفرین۔ ابلیس نے انکار کیا اور تکبر کیا جس کی وجہ سے وہ جہنمی ٹھہرا۔ اس نے کہا کہ میں ناری ہو کر خاکی کے سامنے کیسے جھک سکتا ہوں ، میں آدم کی تعظیم نہیں کرسکتا ، کیونکہ انا خیر منہ۔ میں اس سے اعلی ہوں۔ تکبر بہت بری بیماری ہے۔ اور اس کا علاج اس سے زیادہ مشکل ہے ، بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ایک پہاڑ کو سوئی کے ساتھ اٹھا کر دوسری جگہ منتقل کرنا آسان ہے مگر تکبر کو کسی کی طبیعت سے نکالنا بہت مشکل ہے۔ بزرگان دین لوگوں کی تربیت کرتے وقت سب سے آخر میں تکبر کو ان کے دل و دماغ سے نکالتے ہیں۔ یہ ایسی بیماری ہے۔ جس کا علاج بڑا مشکل ہے۔ فرمایا دوسری چیز غلول یعنی خیانت ہے جس کی وجہ سے لوگ جنت سے محروم ہو کر دوزخ میں چلے جائیں گے۔ خیانت خواہ مال غنیمت سے ہو یا مطلق خیانت ، یہ بہرحال بہت بری خصلت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں داخلے کے لیے اس سے بریت ضروری ہے تیسری اہم چیز قرضہ ہے۔ فرمایا کسی شخص کے ذمہ قرضہ نہیں ہونا چاہئے جب کہ وہ زندگی کی آخری سانس لے رہا ہو۔ قرض دوسرے کا حق ہوتا ہے جسے لازماً واپس لوٹانا چاہئے اسے ادا کیے بغیر جان نہیں بچ سکتی ، آخرت میں پکڑا جائے گا۔ عورتوں کا مہر بھی انسان کے ذمہ قرضہ ہوتا ہے۔ جو لوگ ادا نہیں کرتے وہ مجرم ہیں اگر معاف بھی کرانا ہے تو عورت خوشی سے معاف کردے۔ اگر محض رواجی طور پر معافی کا لفظ ادا کردیا ، تو اس کا کچھ اعتبار نہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بڑے بڑے مالدار لوگ مہر ادا نہیں کرتے اور معافی کے چکر میں پڑے رہتے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ قرض کو خدا بھی معاف نہیں کرتا جب تک حقدار اسے معاف نہ کردے۔ اسے معمولی بات سمجھ کر اس سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ بہتر ہے کہ ہر مسلمان حتی الامکان قرضہ لینے سے اجتناب کرے۔ اس کی بجائے تکالیف برداشت کرے صبر کرے مگر قرض نہ لے کیونکہ اس کی ادائیگی میں بڑی مشکلات پیش ا اتی ہیں۔ جب قرض ادا نہیں کرتا اور ٹال مٹول اور جھوٹے وعدے کرتا ہے تو مزید جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس سے بچنا چاہئے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو ان تین چیزوں یعنی تکبر۔ خیانت اور قرضہ سے بچ کر آگیا ، وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ خائن کی سزا : الغرض ! فرمایا کسی نبی کے یہ لائق نہیں کہ وہ خیانت کرے۔ ومن یغلل۔ اور جو کوئی خیانت کا ارتکاب کرے گا۔ یات بما غل یوم القیمۃ۔ تو وہ خیانت شدہ چیز کو قیامت کے دن اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔ اور پھر اس کی رسوائی ہوگی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ اے لوگو ! میں نے تم کو خبردار کردیا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا اونٹ چوری کرے گا ، تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ حتی کہ اگر کسی نے کسی دوسرے کی زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہے۔ تو زمین کا وہ ٹکڑا ساتوں زمین نیچے تک اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا۔ جو اسے کھینچتا ہوا لائے گا۔ اسی طرح فرمایا۔ اگر کسی نے سو اونٹ چوری کیے ہیں ، تو سب کے سب اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ بعض لوگوں نے اس اشکال اظہار کیا ہے۔ کہ زمین جیسی بڑی چیز یا سو اونٹ ایک آدمی کیسے اٹھا کر لائے گا۔ اس ضمن میں مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایسی باتیں مغربی ذہن کے انگریزی دان لوگ کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ یہی سوال کسی صحابی نے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز کفار کے جسم اتنے بڑے بڑے ہوجائیں گے کہ ان کی ایک داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مدینہ سے ربذہ تک یعنی چھتیس میل لمبی چوڑی ہوگی۔ تو اتنے بڑے جسم کے لیے سو اونٹ یا کوئی بڑی چیز اٹھانا کیسے مشکل ہوگا۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اٹھائی جانے والی چیز حقیقی نہ ہو بلکہ مثالی ہو۔ اونٹ سو ہوں یا ہزار مثالی رنگ میں پیش کرنا کونسا مشکل ہے۔ اور اگر کپڑے کا ایک گٹھا ہے تو بھی گھسیٹ کر لانا ہوگا۔ مقصد یہ ہے کہ۔ اس دن ہر برا فعل ظاہر کردیا جائے گا۔ انسان جس چیز کو زندگی بھر چھپائے پھرتا رہا ، قیامت کے دن سب کے سامنے ہوگی ، بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا۔ بچ جاؤ ! میں نے تم کو خبردار کردیا ہے۔ جو کوئی خیانت سے کسی چیز پر قبضہ کرے گا۔ وہ سب قیامت کو ظاہر ہوجائے گا۔ جزائے عمل : فرمایا قیامت کے دن تمام پوشیدہ اعمال ظاہر کردینے کے بعد۔ ثم توفی کل نفس ما کسبت۔ ہر نفس کو اس کے عمل کے مطابق پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وھم لایظلمون۔ اور کسی پر کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ کہ یہ تمہارے خود کردہ اعمال ہیں ، میں نے ان کو شمار کر رکھا ہے اب اس کا بھگتان کرو۔ ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہوگا۔ کسی کا عمل کسی دوسرے کے ذمے نہیں لگایا جائیگا۔ اور ہر جرم کی سزا جرم کی سنگینی کے مطابق دی جائے گی۔ ۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں بیحد و بیشمار ہوں گی اس کی رحمت کے دروازے کھلے ہوں گے۔ نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہوگا جو بڑھ کر سات سو تک یا لاکھوں گنا تک بھی ہوسکتا ہے۔ نیک و بد برابر نہیں : آگے ارشاد ہوتا ہے۔ افمن اتبع رضوان اللہ کمن باء بسخط من اللہ۔ کیا وہ شخص جو اللہ کی رضا چاہتا ہے اس شخص کی مانند ہے جو اللہ کی ناراضگی لے کر لوٹا ہے۔ کفر ، شرک ، نافرمانی ، حق تلفی ، چوری ، خیانت وغیرہ خدا کی ناراضگی کے کام ہیں۔ جو شخص عمر بھر ان کاموں میں لگا رہا وہ اس شخص کی طرح کیسے ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے ، اس کے احکام پر عمل کرتا ہے۔ اور مخلوق خدا کی خدمت کرتا ہے۔ اللہ کی ناراضگی مول لینے والے کے متعلق فرمایا۔ وماواہ جھنم ایسے شخص کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ و بئس المصیر۔ اور یہ لوٹ کر جانے کی نہایت ہی بری جگہ ہے۔ نیکی اور بدی کے درجات : ہر نیک و بد کے متعلق فرمایا۔ ھم درجات عند اللہ۔ اللہ کے ہاں ان سب کے درجات ہیں۔ نیکی کے بھی درجات ہیں اور برائی کے بھی درجات ہیں۔ جس قسم کا عمل ہوگا ، اسی قسم کی جزا ہوگی۔ مجرمین میں سے چور ، ڈاکو اور خائن وغیرہ کا درجہ الگ ہوگا۔ کافر الگ ہوں گے۔ مشرک اور بدعتی اپنے درجے میں ہوں گے عیاشی ، فحاشی اور شراب نوشی کرنے والے اس درجہ میں ہوں گے۔ عیاشی ، فحاشی اور شراب نوشی کرنے والے اس درجہ میں ہوں گے۔ اور ان سے ایک ایک جرم کا مواخذہ کیا جائے گا۔ اور درجہ بدرجہ سزا دی جائیگی۔ اسی طرح نیکی کے بھی درجات ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ولکل درجت مما عملوا۔ ہر شخص کے درجات اس کے عمل کے مطابق ہوں گے۔ جس طرح دنیا میں اونچ نیچ ہے اسی طرح آخرت میں بھی تفاوت ہوگا۔ بعض لوگ نہایت بلند درجوں میں ہوں گے اور بعض نہایت ہی پستی میں ہوں گے۔ فرمایا۔ واللہ بصیر بما یعملون۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ لہذا وہ اعمال کے مطابق ہی جزا اور سزا کا فیصلہ کرے گا۔
Ayah 3:164

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

تحقیق اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے۔ وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اور بیشک اس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کی وضاحت فرمائی تھی۔ کہ نبی کی شان کے شایاں نہیں کہ وہ مال غنیمت میں سے کوئی چیز از خود اپنے پاس رکھ لے۔ وہ تو جماعت کا سربراہ ہے۔ اس کو اللہ نے اجازت دی ہے کہ جو چیز چاہے سر عام اپنی تحویل میں لے۔ لہذا اسے کیا ضرورت ہے کہ کوئی چیز خفیہ طور پر لے لے۔ اللہ کا پیغمبر ایسا نہیں کرسکتا۔ اللہ نے لوگوں کی تردید فرمائی جو اس قسم کا گمان کر رہے تھے۔ آج کے درس میں ہے کہ اللہ جل جلالہ نے اپنے رسول کو اہل ایمان کے لیے بطور نعمت پیش کیا ہے۔ آپ کے اوصاف حمیدہ اور آپ کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے۔ احسان خداوندی : ارشاد ہوتا ہے لقد من اللہ علی المومنین۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں پر بڑا احسان کیا ہے۔ من کا عام فہم معنی احسان کرنا ہے۔ جب کہ اس کا اصل معنی قطع کرنا ہے۔ عربی محاورے کے مطابق جس شخص کو نعمت حاصل ہوجائے اس کی تکلیف قطع ہجاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہوتا ہے۔ چناچہ جزائے عمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ فلھم اجر غیر ممنون۔ ان کے لیے ایسا اجر ہوگتا جو منقطع نہیں ہوگا۔ کبھی زائل نہیں ہوگا بلکہ ابدی ہوگا۔ اونٹون کے چلنے سے جو گردو غبار اٹھتا ہے اسے منین کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی آہستہ آہستہ منقطع ہوتا رہتا ہے غرضیکہ من کا لفظی معنی قطع کرنا اور اصطلاحی معنی احسان کرنا آتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر بڑا احسان فرمایا ہے۔ قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کے لیے عموما اور متقین اور مومنین کے لیے خصوصاً ذریعہ ہدایت فرمایا ہے۔ جیسے ھدی للمتقین۔ یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ ھدی و بشری للمومنین۔ مومنوں کے لیے ہدایت اور بشارت ہے۔ نیز ھدی للناس وبینت من الھدی۔ عام لوگوں کے لیے منبع ہدایت ہے اس طرح حضور ﷺ کی یہ دو حیثیتیں بھی بیان فرمائی ہیں۔ جیسے آپ کی زبان سے کہلوایا۔ قل یا ایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ اے نبی (علیہ السلام) ! آپ فرما دیں کہ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ سب کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت و راہنمائی سے سب سے زیادہ مستفید تو متقین اور مومنین ہی ہوتے ہیں۔ لہذا حضور ﷺ کی رسالت کا زیادہ احسان بھی انہی پر ہے اور وہ احسان یہ ہے۔ اذ بعث فیھم رسولا۔ کہ ان میں ایک رسول بھیجا اور رسول بھی وہ جو عظیم الشان ، عالی مرتبت اور کمال عطمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دو عظیم نعمتوں میں سے پہلی نعمت حضور نبی کریم ﷺ کا وجود مبارک ہے۔ جو تمام انسانیت کے لیے بالعموم اور اہل ایمان کے لیے بالخصوص بہت بڑی نعمت ہے۔ کسی انسان کو جس قدر کمالات حاصل ہوسکتے ہیں ، وہ صرف پیغمبر (علیہ السلام) کے واسطے سے ہی حاصل ہوسکتے ہیں۔ چناچہ پیغمبر کی ذات ایک مومن کے لیے حصول کمال کا ذریعہ بھی ہے اور تقرب الی اللہ کا بھی اور پھر بالآخر نجات کا ذریعہ بھی یہی ہے۔ لہذا عظیم ترین نعمت یہی ہے ۔ مفسرین کرام امام جعفر (رح) کا قول بیان کرتے ہیں۔ کہ دنیا کی مادی نعمتیں تو عام ہیں۔ کوئی انسان ان سے خالی نہیں۔ اسبغ علیکم نعمہ ظاھرۃ وباطنۃ۔ اللہ نے تمہیں ظاہر و باطن کی تمام نعمتیں عطا کی ہیں۔ اور ان کی تعداد اس قدر ہے کہ تمہارے احاطہ شمار سے باہر ہے۔ اسی لیے فرمایا۔ وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو ، تو ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ اس کی نعمتیں شمار سے باہر ہیں۔ انسان کے اپنے وجود اور اس کی باطنی قوتوں سے لے کر ظاہری جسم کے تمام متعلقات اور اس کے ارد گرد اللہ کی اتنی نعمتیں موجود ہیں۔ کہ وہ ان سے ہر وقت استفادہ کرتا رہتا ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اتنی کثیر تعداد میں نعمتیں موجود ہونے کے علاوہ دو نعمتیں ایسی ہیں جو ان سب سے بڑھ کر ہیں۔ فرمایا ایک نعمت پیغمبر خدا کا وجود ہے اور دوسری اللہ کا کلام قرآن پاک ہے اور یہ دونوں نعمتیں صرف ایمان والوں کو حاصل ہیں۔ مادی نعمتیں تو بعض اوقات ایمان سے مھروم لوگوں کو اہل ایمان سے بھی زیادہ حاصل ہوتی ہیں۔ مگر عظیم ترین نعمتیں یعنی پیغمبر خدا اور قرآن پاک صرف اہل ایمان کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کو نسل انسانی میں پیدا کرکے ان کے عروج ، ترقی اور اعلی مراتب کا بندوبست کردیا ہے اور قرآن پاک جو اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے ، اسے نازل کرکے انسانیت کی عظمت کو مزید بلند کردیا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے متعلق اس کا عام قانون یہ ہے۔ لئن شکرتم لازیدنکم۔ اگر حصول نعمت پر میرا شکر ادا کروگے تو میں انعامات میں اضافہ کروں گا۔ ولئن کفرتم ان عذابی لشدید۔ اگر کفران نعمت کروگے تو میرا عذاب بھی بڑا شدید ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر احسان فرمایا کہ ان میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا۔ من انفسہم۔ انہی میں سے یعنی انسانوں میں سے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ملائکہ یا جنات میں سے نہیں بنایا بلکہ اہل ایمان کی جنس انسانی میں سے اٹھایا ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے۔ کہ عرب و عجم میں سے اللہ نے آپ کو عربوں میں پیدا فرمایا۔ اور پھر عربوں کے قبائل میں سے بہتر قبیلے میں پیدا کیا ، یعنی اللہ نے آپ کو عرب کے سب سے اشرف قبیلے میں اٹھایا گویا اس لفظ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ حضور خاتم النبیین ﷺ تمام انبیاء انسان اور بشر ہیں بلکہ سید البشر ہیں یعنی آپ تمام انسانوں کے سردار ہیں اور اسی نسل انسانی میں سے ہیں کسی دوسری جنس سے نہیں ہیں۔ سید محمود آلوسی بغداد متوفی 1270 ھ آخری دور کے عظیم مفسر گزرے ہیں۔ آپ نے روح المعانی جیسی عظیم تفسیر تیس جلدوں میں قلمبند کی ہے۔ اور کمال یہ ہے کہ یہ تفسیر انہوں نے جوانی کے عالم میں لکھی ہے۔ آپ شاہ عبدالعزیز (رح) کے ہمعصر تھے۔ شاہ صاحب 1239 ھ میں ہی وفات پا گئے ، تاہم آپ کا زمانہ 1270 ھ تک جاتا ہے۔ علم تفسیر کے ساتھ ساتھ آپ کو فقہ اور علم حدیث پر بھی عبور حاصل تھا۔ آپ نے اپنی تفسیر میں یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ کسی نے امام عراقی سے دریافت کیا کہ حضرت ! ایمان کے صحیح ہونے کے لیے کیا یہ شرط ہے کہ اللہ کا رسول بشر ہے ، عربوں میں ہے اور عجمی نہیں ہے ؟ آپ نے جواب دیا بیشک شرط ہے۔ جو شخص حضور ﷺ کے متعلق یہ عقیدہ نہ رکھے اس کا ایمان صحیح نہیں ہوگا ، کیونکہ اس پر نصوص قرآنی کا انکار لازم نہ آئے گا۔ اور آدمی کافر ہوجائے گا۔ تو گویا۔ من انفسہم۔ میں یہ تام متعلقات شامل ہیں۔ اگر اس معاملہ میں کوئی ناواقف ہے۔ مسئلے کا پوری طرح علم نہیں تو اسے بتانا پڑے گا کہ بھائی اچھی طرح سمجھ لو کہ ہمارے نبی انسان تھے اور عربوں میں سے تھے اور عجمی نہیں تھے۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص آپ کی بشریت یا عربی ہونے کا انکار کرتا ہے تو وہ دائرہ کفر میں داخل ہوجاتا ہے۔ عقیدہ نور من اللہ : بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اس زمانے میں لوگوں نے عیسائیوں کی طرز پر نور من نور اللہ۔ کا عقیدہ وضع کرلیا ہے۔ گویا انہوں نے ۔ وجعلوا لہ من عبادہ جزءا۔ اللہ کے رسول کو اس کا جزو بنا دیا ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں۔ جو بیٹا ہوتا ہے وہ باپ کا جزو ہوتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس چیز سے پاک ہے۔ انہوں نے بیٹا بنا کر خدا کا جزو بنایا ، ہم نے اللہ کے نور میں سے نور کہہ کر جزو ہونے کی تصدیق کردی۔ فرق کیا رہ گیا ؟ ہاں بھئی ! حضور نبی کریم ﷺ نور ہدایت یقیناً ہیں۔ آپ کے نور ہدایت کی روشنی چار دانگ عالم میں پھیلی۔ مگر آپ انسان اور بشر ہیں اور بڑے بڑے عالی مرتبے والے ہیں۔ حضور ﷺ کی بشریت کا اقرار قطعاً باعث توہین نہیں بلکہ اشرف المخلوقات میں سے ہونے کی بناء پر آپ کی عظمت میں اور اضافہ ہوجاتا ہے۔ ابوالبشر حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق پر اللہ نے بطور انعام اس بات کا اعلان فرمایا کہ دیکھو میں نے مٹی سے کس قدر باکمال ہستی کو پیدا کیا ہے۔ میر تقی میر نے اس بات کی ترجمانی یوں کی ہے۔ میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا خاکِ ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا لہذا بشر ہونا کمال کی علامت ہے نہ کہ توہین کی۔ صحابہ کرام بھی حضور ﷺ کے متعلق یہی عقیدہ رکھتے تھے۔ ان کے زمانہ میں نور من نور اللہ کا کوئی عقیدہ موجود نہیں تھا۔ آپ نور ہدایت ہیں مگر انسان ہیں۔ عائشہ صدیقہ سے بالکل بالوضاحت مروی ہے۔ کان رسول اللہ بشرا من البشر۔ حضور ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ مسلم کی روایت میں موجود ہے کہ نبی (علیہ السلام) نے خود فرمایا میں بھی انسان ہوں۔ میں بھی کبھی کبھی بھول جاتا ہوں۔ اگر نماز میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔ وہاں پر ذکرونی کے الفاظ موجود ہیں۔ ظاہر ہے کہ خطا اور نسیان انسان سے ہی سرزد ہوتی ہے۔ انسانی زندگی کے تمام لوازمات کھانا پینا ، قضائے حاجت بیوی بچے ، صحت ، بیماری ، زندگی اور موت وغیرہ تمام انبیاء کے ساتھ بھی یکساں ہیں۔ امور طبعیہ رونا ہنسنا وغیرہ انبیاء کے ساتھ بھی لازم ہے۔ البتہ یہ ہے کہ انبیاء کا ایمان ، اعتقاد ، اور اخلاق غایت درجے کا ہوتا ہے اور وہ حد کمال تک پہنچے ہوئے ہیں ، مگر ہیں بہرحال انسان۔ تلاوت قرآن : آیت کے اگلے حصے میں اللہ نے اپنے نبی کے وہ کام بیان فرمائے ہیں جو وہ انجام دیتا ہے۔ پیغمبر خدا (علیہ السلام) کا پہہلا فریضہ یہ ہے کہ یتلو علیھم ایتہ ، وہ لوگوں کو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے کلام اور اس کے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ یہ تلاوت پاک ہے اور اس لحاظ سے حضور ﷺ اولین مبلغ اسلام ہیں۔ تلاوت قرآن سب سے اعلیٰ درد ہے حضور ﷺ نے تلاوت قرآن کو افضل ال اور اد فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں نیک نیتی کے ساتھ تلاوت قرآن کرے گا۔ میں اسے مانگنے والوں سے زیادہ دوں گا اگرچہ وہ مجھ سے کوئی سوال نہ کرے۔ تلاوتِ کلام پاک کا اجر اس قدر زیادہ ہے۔ کہ ایک ایک حرف کے بدلے اللہ تعالیٰ دس دس نیکیاں عطا فرمائے گا۔ یہ شرف صرف قرآن پاک کو ہی حاصل ہے کہ کوئی اسے سمجھ کر پڑھے یا بغیر سمجھئے۔ اجر سے محروم نہیں رہے گا۔ یہ ہے وہ قرآن مجید جس کے متعلق فرمایا کہ اللہ کا نبی اس کی آئتیں پڑھ کر سناتا ہے۔ مرشد کامل : فرمایا حضور اکرم ﷺ کا دوسرا فریضہ یہ ہے۔ ویزکیھم۔ اور ان کا تزکیہ کرتا ہے۔ حضور ﷺ اس لحاظ سے امت کے لیے مرشد ہیں کیونکہ تزکیہ نفس کرنا مرشد کا کام ہے۔ تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے انسان کی باطنی گندگی دور ہوجائے۔ اس عمل کو بزرگانِ دین تخلیہ سے عبیر کرتے ہیں۔ کہ انسان کی تمام رذیل خصلتیں دور ہوجائیں ، کفر ، شرک ، نفاق اور بداخلاقی وغیرہ سے پاک ہوجائے۔ اور اس کے بجائے انسان اوصاف حمیدہ سے متصف ہوجائے۔ شرک کی جگہ توحید آجائے۔ کفر کی بجائے ایمان حاصل ہو۔ اور بداخلاقی ، خوش اخلاقی میں بدل جائے۔ یہ ہے وہ تزکیہ جسے مرشد برحق انجام دیتا ہے۔ جب یہ عمل پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے تو معصیت کی بجائے عبادت کی صفت آجاتی ہے۔ اور تمام کدورتیں دور ہو کر انسان کا عقیدہ اور دل و دماغ بالکل پاک صاف ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ تمام کائنات کے لیے بالعموم اور اہل ایمان کے لیے بالخصوص مرشد کامل ہیں۔ آپ نے اپنے صحابہ کی تربیت اسی طریقہ پر فرمائی۔ حضور ﷺ کے اخلاق حمیدہ اور تربیت خاصہ سے متعلق بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ حضرت معاویہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نماز میں کلام کرتا ہوا داخل ہوا۔ کچھ لوگوں نے اشارے کنائے سے مجھے ڈانٹا۔ مجھے بھی غصہ آیا۔ جب میں نماز سے فارغ ہوا تو حضور ﷺ نے نہایت شفقت سے اپنے پاس بلا کر فرمایا دیکھو ! نماز میں انسانی کلام کی گنجائش نہیں ہوتی۔ نماز تو اللہ کے ذکر کے لیے ہے۔ اس میں تسبیح و تہلیل قرآن کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مناجات بیان ہوتی ہے۔ لہذا نماز میں کوئی دوسرا کلام نہیں کرنا چاہئے۔ آپ نے نہ مجھے سرزنش کی اور نہ برا بھلا کہا بلکہ نہایت مشفقانہ انداز میں بات سمجھا دی۔ فرماتے ہیں۔ خدا کی قسم ما رایت معلما۔ میں نے کبھی ایسا شفیق معلم نہیں دیکھا۔ اسی طرح ایک آدمی نے مسجد میں پیشاب کردیا۔ لوگوں نے اس شخص کی طرف قہر آلود نظروں سے دیکھا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو ، یہ ادھر ادھر بھاگے گا تو باقی مسجد کو بھی آلودہ کرے گا۔ جب وہ شخص پیشاب کرچکا تو آپ نے فرمایا یہاں پانی بہا کر جگہ کو صاف کردو۔ ابو داود شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ آپ نے وہاں سے تھوڑی سی مٹی بھی نکلوا دی اس کے بعد آپ نے اس آدمی کو نرمی سے سمجھایا کہ یہ اللہ کا گھر ہے۔ یہاں تلاوت قرآن پاک ، نماز اور دیگر عبادات ہوتی ہیں۔ یہاں گندگی پھیلانا مناسب نہیں۔ ایک شخص نے آکر عرض کیا۔ حضور ! میں ایمان قبول کرنے کے لیے تیار ہوں مگر مجھے زنا کی لت پڑچکی ہے جو مجھ سے چھوٹتی نہیں۔ حضور ﷺ نے اسے اپنے قریب بلایا۔ اس پر اپنا دست شفقت رکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اس کو ہدایت نصیب فرما۔ پھر آپ نے اس شخص کو سمجھایا کہ دیکھو اگر کوئی دوسرا شخص تمہاری ماں یا بہن یا بیٹی کے ساتھ ایسی حرکت کرے ، تو کیا تم پسند کروگے۔ عرض کیا۔ حضور ! ہرگز نہیں ، آپ نے فرمایا کہ جن کے ساتھ تم زیادتی کرتے ہو ، وہ بھی کسی کی ماں ، بہن یا بیٹی ہوتی ہے۔ یہ سن کر وہ شخص سخت نادم ہوا ، اور اس قبیح فعل سے ہمیشہ کے لیے تائب ہوگیا۔ اسی چیز کا نام تزکیہ ہے۔ کہ انسان سے بری خصلتوں کو نکالا جائے اور اس میں اچھی خصلتیں پیدا کی جائیں۔ یہی وہ فریضہ ہے۔ جو نبی (علیہ السلام) انجام دیتے رہے۔ قرآنی تعلیمات : فرمایا اللہ کا نبی تیسرا کام یہ کرتا ہے۔ و یعلمھم الکتب۔ وہ لوگوں کو کتاب کی تعلیم دیتا ہے۔ کتاب سے مراد قرآن پاک ہے قرآن پاک اگرچہ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اولین مخاطبین بھی عرب ہی تھے۔ اس کے باوجود اس کے رموز ونکات کی وضاحت کی ضرورت پیش آتی تھی۔ بعض اوقات بعض امور کو سمجنے میں اہل زبان بھی دقت محسوس کرتے ہیں۔ لہذا یہ بھی نبی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ امت کو منزل من اللہ کتاب کی تعلیم دے۔ قرآن پاک کی یہ آیت جب نازل ہوئی حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود۔ یعنی جب سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہوجائے تو سحری کھانا بند کردو۔ تو بعض اہل زبان نے بھی سفید اور سیاہ دھاگے پاس رکھ لیے ، تاکہ اختتام سحری کا تعین کرسکیں۔ جب یہ بات حضور ﷺ کے پاس بیان کی گئی تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہارا تکیہ بڑا لمبا چوڑا ہے جس میں تم نے رات اور دن کو لپیٹ کر رکھ لیا۔ فرمایا سیاہ اور سفید دھاگے سے مراد رات اور دن ہیں۔ یہ عام دھاگے مراد نہیں ہیں۔ چناچہ اس اشتباہ کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے من الفجر کے الفاظ کا اضافہ فرما دیا۔ امن اور ہدایت پانے والے لوگوں کی یہ صفت بیان ہوئی۔ الذین امنوا ول یلبسوا ایمانہم بظلم۔ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہے اس پر بھی صحابہ کو اشتباہ پیدا ہوا۔ کہ ایسا کونسا آدمی ہے جس نے اپنے نفس پر کوئی زیادتی نہ کی ہو۔ وہ متفکر ہوگئے کہ اس طرح تو نجات بہت شکل ہے۔ حضور ﷺ کو صحابہ کی اس تشویش کا علم ہوا تو فرمایا کہ یہاں پر ظلم سے مراد عام گناہ نہیں ہے ، معمولی لغزشیں تو لوگوں سے ہرو قت سرز ہوتی رہتی ہیں۔ بلکہ بعض کبیرہ گناہ بھی سرزد ہوجاتے ہیں ، جو توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں تاہم یہاں پر ظلم سے مراد شرک ہے جس کی کوئی معافی نہیں۔ لہذا جو شرک سے محفوظ رہا ، اس کی نجات ممکن ہے۔ اسی لیے تو حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی۔ یبنی لا تشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم۔ اے بیٹے ! اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک گناہ عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے کہ ہر خطا معاف فرما دوں گا ، سوائے شرک کے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کا نبی لوگوں کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے۔ تعلیم حکمت : چوتھی چیز فرمایا۔ والحکمۃ۔ پیغمبر خدا لوگوں کو حکمت کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ حکمت کا عام فہم مطلب دانائی ، دانشمندی یا گہری سمجھ کی باتیں ہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ نے ایک جاہل قوم کی تربیت اس طریقے سے کی کہ انہیں دنیا کی متمدن قوموں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ یہ لوگ علم و ھکمت اور اخلاق سے عاری تھے ، مگر یہ حضور ﷺ کی تعلیم حکمت کا نتیجہ تھا کہ انہیں علم و حکمت کے بام عروج تک پہنچا دیا۔ اور امی کہلانے والے لوگ دنیا کے معلم بن کر ابھرے ۔ حکمت سے مراد حضور ﷺ کی سنت مبارکہ بھی ہے۔ مولانا گنگوہی فرماتے ہیں کہ ہر صحیح حدیث جو آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے ، وہ قرآن کی شرح ہے ، جو چیز حضور نبی کریم ﷺ کے قول ، فعل یا تقریر سے ثابت ہو وہ سراپا ہدایت ہے۔ حکمت کی تشریح پہلے اور دوسرے پارے میں بھی تفصیل کے ساتھ آ چکی ہے۔ فرمایا وان کانوا من قبل لفی ضلل مبین۔ بیشک حضور کی بعثت سے قبل یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔ یعنی اس قدر بھٹکی ہوئی قوم کو نبی کریم ﷺ نے تعلیم قرآن و حکمت ، تزکیہ نفس اور تلاوت قرآن کے ذریعے ایک با اخلاق اور متمدن قوم بنا دیا۔ اس زمانے میں جگہ جگہ بت رکھے ہوئے تھے حتی کہ خود بیت اللہ شریف میں 360 بت تھے ، پوری کی پوری قوم شرک کی لعنت میں گرفتار تھی توحید کا تصور رکھنے والا کوئی اکا دکا آدمی ہی ملتا تھا۔ انہوں نے ملت ابراہیمیہ کے اصلوں کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ گزشتہ چار پانچ صدیوں سے پوری دنیا شرک کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص احسان فرمایا کہ ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما کر ایمان اور نیکی کی دولت عطا فرمائی۔ قرآن و سنت جیسی عظیم نعمتیں عطا کیں۔ اس سے زیادہ اللہ کا کیا احسان ہوسکتا ہے۔