Ayahs 3:14–15اسباب ضلالت :
گذشتہ آیت میں یہ وعید سنائی گئی تھی کہ جو لوگ کفر کے پروگرام کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے مال اور اولاد ان کے کچھ کام نہ آئیں گے۔ اور ساتھ یہ بشارت بھی سنا دی کہ ایسے لوگ بالآخر مغلوب ہوں گے ، اور جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے گمراہی کے اسباب بیان فرمائے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے زین للناس حب الشھوات مرغوب چیزوں کی محبت کو لوگوں کے لیے مزین کردیا گیا ہے۔ یعنی ان اشیاء کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت ڈال دی گئی ہے۔ دوسری جگہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ انا جعلنا ما علی الارض زینۃ لھا۔ یعنی جو کچھ زمین پر موجود ہے۔ ہم نے اسے زینت بنایا ہے۔ اور زیب وزینت کے اس تمام ساز و سامان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے۔ لیبلوکم ایکم احسن عملا۔ تاکہ لوگوں کو آزما سکیں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون ہے۔ اور برائی کا راستہ اختیار کرنے والا کون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کو امتحان کے لیے مزین کردیا ہے۔ قرآن کریم میں بعض مقامات پر تزئین کی نسبت شیطان کی طرف کی گئی ہے کہ وہ کم بخت مرغوب اشیاء کو مزین کرکے دکھاتا ہے۔
اس آیت کریمہ میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ اکثر و بیشتر انسان کی گمراہی کا سبب بنتی ہیں ان چیزوں کے دو پہلو ہیں۔ ایک فطری اور دوسرا غیر فطری۔ اگر ان مرغوب اشیاء کو اسی انداز پر رکھا جائے جس پر انہیں رکھنا مقصود ہے۔ یعنی ان کی رغبت میں حد سے تجاوز نہ کیا جائے تو یہ فطری امر ہے۔ اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ البتہ جب ان چیزوں کی رغبت میں غلو اور زیادتی پیدا ہوجاتی ہے تو یہی اشیاء غیر فطری بن کر گمراہی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ انہی چیزوں کی غیر فطری محبت میں مبتلا ہو کر لوگ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ گمراہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ وگرنہ یہی چیزیں فطرت کے مطابق اپنی حدود کے اندر رہیں تو ان سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ان اشیاء کو شہوات یعنی خواہشات کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ان کا ذکر آگے آتا ہے۔
مرغوب اشیاء : 1۔ عورت :
فرمایا مزین کی گئی ہے لوگوں کے لیے خواہشات کی محبت۔ من النساء ، عورتوں سے۔ اس فہرست میں سب سے پہلا نمبر عورت کا آیا ہے۔ یعنی عورتوں کی محبت انسانوں کے دلوں میں مزین کردی گئی ہے۔ اور جب لوگ اس محبت میں مبتلا ہو کر غفلت کا شکار ہوجاتے اور اطاعت الٰہی کا دامن چھوڑ دیتے ہیں تو گمراہی کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنی امت میں عورتوں سے بڑھ کر خطرناک فتنہ کوئی نہیں چھوڑ چلا۔ یعنی مردوں کے حق میں مجھے سب سے زیادہ خطرہ عورتوں کی طرف سے ہے۔ یہ بڑا خطرناک فتنہ ہے۔ ان کی محبت میں مبتلا ہو کر انسان اللہ سے غافل اور خیر سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ اور محض نفسانی خواہش کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔
مرد و زن کا فطری رشتہ اللہ تعالیٰ نے بڑا عجیب بنایا ہے۔ فرمایا میں نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس کا جوڑا اسی سے پیدا کیا۔ یعنی مرد کے مقابلہ میں دوسری صنف کو پیدا کیا۔ لتسکنوا الیھا۔ یعنی مرد ان کے ذریعہ سکون حاصل کرسکیں۔ غم واندوہ اور پریشانی کی صورت میں عورت مرد کے لیے مرہم کا کام دے ، اس کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرے ، اسے سکون میسر ہوگا ، اور نفسانی خواہش کی تکمیل کا ذریعہ بنے گی ، اسی لیے قرآن پاک میں ارشاد ہے وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد و زن کے درمیان محبت اور مہربانی کے جذبے کو پیدا کیا ، تاکہ یہ جوڑا پیار و محبت کی بہترین زندگی گزار سکے۔ دوسرے مقام پر فرمایا گن لباس لکم و انتم لباس لھن۔ عورتیں مردوں کے لیے بمنزلہ لباس کے ہیں اور مرد عورتوں کے لیے لباس ہیں دونوں ایک دوسرے کے لیے پردہ پوشی کا ذریعہ ہیں۔ عفت اور پاکدامنی کا سبب ہیں اور یہ فطری رشتہ ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ عورت سے مقصود پاک دامنی اور اولاد صالحہ ہونی چاہئے۔ محض شہوت رانی مطلوب نہیں ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ جب عورتوں کے قریب جاؤ تو۔ وابتغوا ما کتب اللہ لکم۔ اس چیز کی تلاش کرو جو اللہ نے تمہارے مقدر میں کی ہے ، یعنی نیک اولاد کی تمنا ہونی چاہئے۔
الغرض ! اگر عورت سے مقصود عفت ، پاکدامنی اور اولاد ہو تو یہ بڑی اچھی چیز ہے ، حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ خیر متاع الدنیا المراۃ الصالحہ۔ دنیا کی مفید اشیاء میں سے نیک عورت سب سے زیادہ فائدے والی چیز ہے۔ اگر مرد اس کی طرف نگاہ کرے تو وہ اس کو خوش کرے گا اور اگر حکم دے گا تو بجا لائے گی۔ اگر خاوند گھر سے باہر جائیگا تو اس کے مال کی اور اپنی ناموس کی حفاظت کرے گی۔
انسان کے لیے حقیقی سعادت تو یہ ہے کہ اسے ایمان کی دولت نصیب ہو اور وہ اعمال صالحہ پر کار بند ہو۔ دنیاوی سعادت کے متعلق مسند احمد شریف کی روایت میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ جس کو دنیا میں تین چیزیں حاصل ہوگئیں۔ وہ سعادت مند ہوگا۔ ان اشیاء میں پہلا نمبر المراۃ الصالحۃ یعنی نیک عورت کا ہے۔ اس کے بعد رہنے کے لیے اچھا مکان اور سفر کے لیے اچھی سواری۔ یہ تین چیزیں سعادت کی نشانی ہیں۔ ان کے بغیر انسان شقی سمجھا جائیگا۔
کثرت اولاد :
جیسا کہ عرض کیا گیا ہے۔ عورت سے مقصود کثرت اولاد بھی ہے۔ جو کہ ملت اسلامیہ میں اضافہ کا باعث ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا انی مکاثر بکم الامم۔ میں کثرت اولاد پر فخر کروں گا بشرطیکہ وہ نیک ہو۔ علمائے کرام فرماتے ہیں۔ کہ کثرت دو طریقے سے ہوتی ہے۔ ایک صورت تو نسل میں زیادتی ہے ، جتنی زیادہ اولاد ہوگی ، اتنا ہی اچھا ہے۔ امت محمدی میں اضافہ ہوگا۔ اسی لیے اسلام نے تعدد ازواج کی بھی اجازت دی ہے۔ کثرت امت کی دوسری صورت تبلیغ دین ہے جس قدر لوگ حلقہ بگوش اسلام ہونگے ان کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔ اور یہ چیز حضور ﷺ کے لیے باعث فخر ہوگی۔ ایک عام مسلمان کے لیے یہی چیز باعث ثواب اور ذریعہ نجات ہوگی۔
شاہ ولی اللہ حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ۔ جو لوگ کثرت اولاد کے راستے کو بند کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ منصوبہ کا مقابلہ کرکے اس کے نزدیک ملعون ٹھہریں گے۔ چناچہ خاندانی منصوبہ بندی ، برتھ کنٹرول اور عائلی قوانین جیسے غیر فطری بند جہاں بھی باندھے جاتے ہیں سب ملعون ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو اولاد میں کثرت چاہتا ہے۔ مگر یہ اس کی حکمت میں دخل اندازی کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ اگر کوئی بچہ کم سنی میں فوت ہوگیا ، یا کچا حمل ضائع ہوگیا۔ تو یہ بچہ قیامت کے دن اپنے مومن والدین کے حق میں شفاعت کریگا۔ وہ ماں باپ کے دامن کو پکڑلے گا ، اور جہنم میں نہیں جانے دے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسی سفارش کرے گا کہ والدین کو ساتھ لے کر جنت میں جائے گا۔ اور اگر بچہ جوان ہوگیا۔ تو والدین کے مرنے کے بعد ان کے لیے دعا کریگا ، اور نیک کام کرے گا تو باعث فخر ہوگا۔ لہذا ہر لحاظ سے اولاد کا ہونا باعث سعادت ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک عورت نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا۔ حضور ! میرے تین چھوٹے بچے فوت ہوچکے ہیں۔ میرا کوئی زندہ بچہ نہیں ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا لقد حضرت بخضار شدید۔ تو نے تو جہنم کے آگے بڑی شدید باڑھ لگا دی ہے۔ ان بچوں کی بدولت تو جہنم کی آگ سے بچ جائیگی۔
خرابی کی بنیاد :
برخلاف اس کے اگر عورت کی محبت حد سے بڑھ جائے تو پھر یہی چیز انسان کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ تاریخ میں کتنے واقعات محفوظ ہیں۔ جن کا مرکزی کردار عورت تھی۔ اسی کی وجہ سے بڑی بڑی سازشیں پیدا ہوئیں بڑی بڑی سلطنتیں تباہ ہوگئیں۔ بےحیائی کو اس قدر ترقی حاصل ہوئی۔ کہ اب یورپ والے بھی کان پکڑتے ہیں۔ آج بیشتر گمراہی اور نیکی سے دوری عورت کی وجہ سے ہے۔ اور اس کے ذمہ دار خود مرد ہیں جو عورت کو ہر میدان میں گھسیٹ لائے۔ ان کی رسائی تعلیمی اداروں تعلیمی اداروں تک تو درست تھی کہ بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں اور پردے اور شرافت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں مگر جب یہی عورتیں دکانوں کی زینت بن گئیں ، دفتروں اور ہسپتالوں میں پہنچ گئیں ہوائی جہازوں میں ائرہوسٹس بن گئیں ، فوج میں بھرتی ہونے لگیں ، تو گمراہی کا ذریعہ بن گئیں۔ یہی کچھ انگریز نے کیا تھا۔ اور اب مشرق بھی مغرب کی تقلید میں بھاگا جا رہا ہے۔ حالانکہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا فرمان ہے کہ عورت کو اس مقام پر رکھو جہاں اللہ نے اسے رکھا ہے نماز کے لیے عورت اگلی صف میں کھڑی نہیں ہوسکتی۔ اس کا مقام پچھلی صف حتی کہ بچوں سے بھی پیچھے ہے۔ عورت جس قدر عفت مآب ہوگی صاحب فضیلت اور صاحب کمال ہوگی۔ جوں جوں عریانی کے کاموں میں آگے بڑھے گی ، عورت عورت نہیں رہے کچھ اور چیز ہی بن جائیگی ۔ کھیل کے میدان میں عورت کو فٹ بال ، والی بال کرکٹ ، ہا کی وغیرہ کھلائی جا رہی ہے۔ مردوزن سب دیکھ رہے ہیں۔ خرابی نہیں آئیگی تو اور کیا ہوگا۔ مردوں کے خیالات پراگندہ ہوں گے۔ اور نتیجہ ظاہر ہے اس لیے اسباب ضلالت میں عورت کو پہلے نمبر پر رکھا گیا ہے۔
عورت کی نمائندگی :
اب جمہوریت نے نیا گل کھلایا ہے۔ ہر سطح پر عورتوں کی نمائندگی بھی ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ مرد و زن ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ دونوں پہیوں کو برابر چلنا چاہئے ، ورنہ زندگی کی گاڑی جام ہو کر رہ جائے گی۔ لہذا مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو میونسپل کمیٹیوں کے ممبر بناؤ۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں نمائندگی۔ وزاررت و مشاورت کے قلمدان ان کے سپرد کرو۔ ان کے بغیر کام نہیں چل سکت۔ کس قدر گمراہی کی بات ہے۔ عورت سے مشورہ کرنے کی ممانعت نہیں۔ حضور ﷺ خود عورتوں کے مسائل میں اپنی عورتوں سے بات پوچھ لیتے تھے ، حضرت عمر ؓ مشورہ کرلیتے تھے ، مگر گھر میں ، اپنے مقام پر۔ مشورہ کے لیے اسمبلی اور مجلس مشاورت میں کھینچ لانا کہاں سے نکال لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا النساء حبالۃ الشیطن۔ یعنی عورتیں شیطان کا جال ہیں۔ انہی کے ذریعے شیطان لوگوں کو پھانستا ہے۔ اور پھر بڑے بڑے قبیح واقعات پیش آتے ہیں۔ بڑے بڑے سکینڈل بنتے ہیں۔ حتی کہ تاریخ کا رخ مڑ جاتا ہے۔
ترمذی شریف میں حضور خاتم النبیین ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ اذا کان امراء کم خیارکم۔ جب تمہارے حکام پسندیدہ قسم کے لوگ ہوں۔ واغنیاء کم سمحاء کم۔ اور تمہارے دولت مندلوگ سخی ہوں۔ وامورکم شوری بینکم۔ اور تمہارے کام آپس میں مشورہ سے طے ہوں۔ فظہرالارض خیر لکممن طبنھا تو ایسی حالت میں تمہارا زمین کے اوپر رہنا زمین کے اندر چلے جانے سے بہتر ہے۔ نیز فرمایا اگر اس کا الٹ ہوجائے یعنی اذا کان امراء کم شرار کم۔ جب تمہارے حاکم شریر قسم کے لوگ ہوں۔ واغنیاء کم بخلاء کم اور تمہارے مالدار لوگ بخیل ہوجائیں و امورکم الی نساء کم۔ اور تمہارے معاملات عورتوں کے ذریعہ طے پائیں۔ تو پھر سمجھ لو۔ بطن الارض خیر الکم من ظھرہا ، تمہارے لیے زمین کے اندر چلے جانا زمین کے اوپر رہنے سے بہتر ہے۔ یعنی تمہارا مر جانا ہی بہتر ہے۔ ای لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لوگوں کے لیے خواہشات (مرغوب چیزوں) کی محبت کو مزین کیا گیا ہے۔ اور ان خواہشات یا مرغوب چیزوں میں اول نمبر عورت کا ہے۔
2 ۔ اولاد۔ انسان کی مرغوبات میں سے دوسری چیز فرمایا ۔ والبنین۔ یعنی اولاد ہے۔ اولاد کی محبت ایک خاص درجے تک فطری ہے۔ اور مال و اولاد کو دنیوی زندگی کے لیے زینت قرار دیا گیا ہے۔ المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا۔ مگر اللہ جل شانہ نے یہ بھی فرمایا۔ انما اموالکم واولادکم فنتۃ۔ یعنی تمہارے اموال اور اولاد میں سے تمہارے لیے فتنے کا باعث بھی ہیں۔ اولاد میں سے خصوصا بیٹیوں کے ساتھ محبت فطری امر ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ بیٹے کی وجہ سے اس کی نسل کا سلسلہ باقی رہے گا ، نیک ہوگا ، تو اس کا نام روشن ہوگا ، اس کے لیے باعث عزت ہوگا برخلاف اسکے اگر یہی اولاد خلاف توقع بری نکلے۔ اللہ کی حدود کو توڑ دے جائز اور ناجائز کا خیال نہ کرے ، فتنہ و فساد کا بازار گرم کرے ، تو انسان کے لیے سخت آزمائش کا باعث ہوگی ، اولاد کے ہاتھوں لوگ کس قدر تنگ آتے رہتے ہیں ، ہر روز اخباروں میں خبریں چھپتی ہیں۔ کہ والدین کے لیے نہ صرف بدنامی بلکہ ہلاکت کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ بیٹا زبردستی باپ سے جائداد کا حصہ طلب کرتا ہے۔ جان سے مار دینے کی دھمکی دیتا ہے۔ قتل و اغواء کے مقدمات میں ملوث ہو کر بات کو ذلیل و خوار کردیتا ہے۔ والدین لاکھ کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح اولاد سنور جائے۔ اولاد کے لیے مال ، دولت ، مکان ، زمین ہر چیز مہیا کرنے کی کوشش کرتے ہیں خواہ انہیں ناجائز ذرائع ہی کیوں نہ اختیار کرنا پڑیں۔ مگر جب آزمائش آتی ہے تو یہی لاڈ پیار سے پالی ہوئی اولاد جان کی دشمن بن جاتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اولاد بھی فتنے اور گمراہی کے اسباب میں سے ایک سبب ہے۔
3 ۔ مال و دولت : انسان کے لیے جو مرغوبات چیز مزین کی گئی ہیں ان میں سے تیسری چیز فرمایا والقناطیر المقنطرۃ من الذھب والفضۃ سونے چاندی کے جمع کیے ہوئے خزانے (ڈھیر مال) ہیں۔ یہ بھی انسان کے لیے گمراہی کا باعث بن سکتے ہیں۔ مال کی محبت بھی کسی حد تک فطری ہے۔ سورة عادیات میں فرمایا وانہ لحب الخیر لشدید انسان مال کی محبت میں بڑا پکا ہے۔ بلکہ فرمایا ھلوعا یعنی حریص اور بےصبرا بھی ہے۔ یہی محبت اگر حد سے تجاوز کرجائے تو گمراہی کا باعث بن کر باعث وبال ہوگی۔ قناطیر سے مراد بہت سارا مال ہے۔ عرب ایک لاکھ اشرفی یا درہم کو قناطیر کہتے تھے۔ مقصد یہ کہ یہ لفظ ڈھیر مال پر بولا جاتا ہے۔ اور اس کے حصول کے لیے انسان ہمیشہ سرگردان رہتا ہے۔ اس کے ذریعہ دنیا میں بھی آسائش ، عیش و آرام حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اور گمان یہ کرتا ہے۔ ان مالہ اخلدہ ۔ کہ یہ مال اسے ہمیشہ حوادثات سے محفوظ رکھے گا۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ جب مصیبت آتی ہے۔ تو مال و دولت کسی کام نہیں آتے پہلے گزر چکا ہے۔ لن تغنی عنھم اموالھم ولا اولادھم من اللہ شیئا۔ ان کے مال اور اولاد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گے۔ انسان مال کے حصول کے لیے کیسے کیسے ناجائز حربے اختیار کرتا ہے رشوت چوری ، ڈاکہ ، جوا ، چور بازاری غرض کیا کچھ نہیں کیا جاتا۔ مگر بسا اوقات یہ مال اس دنیا میں بھی کام نہیں آتا۔ تو اللہ کے ہاں تو یہ بجائے خود وبال جان بن جائے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ گمراہی کے اسباب میں سے مال بھی ایک ہے۔
4 ۔ گھوڑے اور مویشی : چوتھی چیز فرمایا والخیل المسومۃ والانعام۔ نشان زدہ گھوڑے یعنی خوب پالے پوسے اور طاقتور گھوڑے اور دیگر مال ڈنگ مویشی بھی اسباب ضلالت میں سے ہیں۔ یہ بھی انسان کی مرغوب اشیاء میں سے ہیں۔ انسان ان سے خوب نفع حاصل کرتا ہے۔ گائے بھینس ، بھیڑ ، بکر ، اونٹ وغیرہ سے دودھ حاصل کرتا ہے۔ اور ان کا گوشت کھاتا ہے۔ ان سے سواری اور بار برداری کا کام بھی لیتا ہے۔ یہ انسان کی اچھی خاصی جائداد ہوتی ہے۔ اور ان سے محبت بھی فطری ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص ان کی محبت میں اس قدر غرق ہوجائے کہ ان کی دیکھ بھال میں نمازوں کی پروا نہ کرے۔ دیگر نیکی کے کاموں کی طرف توجہ ہی نہ دے سکے۔ گویا اخذتم باذناب البقر گائے بیل کی دم پکڑ کر بیٹھا رہے۔ تو یہی مال انسان کے لیے گمراہی کا سبب بن جائے گا۔ لہذا اس سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
5 ۔ کھیتی :
فرمایا اسباب ضلالت میں سے والحرث بھی ایک ہے۔ انسان کھیتی باڑی کے کام میں مصروف ہو کر بھی فرائض سے غافل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے یہی چیز اس کے لیے فتنہ بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا تھا ذلک متاع الحیوۃ الدنیا۔ یہ چیزیں تو دنیا کی زندگی میں فائدہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔ مگر اصل مقصود تو آخرت کی زندگی ہے۔ اگر ان اشیاء کی محبت میں آخرت سے غافل ہوگیا۔ تو سخت خسارے کا سودا کیا ۔ قیامت کے دن خالی ہاتھ ہوگا۔ یہ تمام لوازمات اسی مادی زندگی تک محدود ہیں۔ یہ چیزیں اس زندگی کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گی۔ اور پھر آخرت کی زندگی شروع ہوگی۔ انسان کو عبرت دلائی گئی ہے کہ اس آئندہ زندگی کے لیے کوئی سامان پیدا کرے۔ کیونکہ اصل زندگی وہی ہے۔ واللہ عندہ حسن المآب اصل اور بہترین ٹھکانا تو مالک الملک کے پاس ہے۔ اور اس کے حصول کے لیے ، انسان کو ایمان اور اعمال صالحہ کی فکر کرنا چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مرغوباتِ دنیا میں مبتلا ہو کر ایمان کی دولت سے محروم ہوجائے۔ اور پھر اس دنیا سے خالی ہاتھ جانا پڑے یہ سخت گھاٹے کا سودا ہوگا۔
متقین کے لیے انعام :
جب حب الشہوات والی آیت نازل ہوئی۔ تو حضرت عمر فاروق نے اللہ کے حضور دعا کی۔ کہ مولا کریم ! کہ گمراہی کے ان اسباب کے پیش نظر ہمیں کیا کرنا چاہئے۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا قل۔ اے پیغمبر (علیہ السلام) ان کو فرما دیجئے۔ اونبئکم بخیر من ذلکم۔ کیا میں تمہیں ان تمام مرغوبات سے بہتر چیز نہ بتاؤں۔ للذین اتقوا۔ ان لوگوں کے لیے جو اللہ سے ڈرتے رہے۔ ان کی طبیعتوں میں خوف خدا قائم رہا ہے۔ اور وہ کفر ، شرک ، نفاق اور برائی سے بچتے رہے۔ فرمایا عند ربھم جنت۔ ان کے رب کے ہاں باغات ہیں۔ تجری من تحتہا الانہار۔ جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں ، خلدین فیھا۔ مومن لوگ ہمیشہ باغات میں رہیں گے۔ وہاں سے نکالے جانے کا انہیں کوئی کھٹکا نہیں ہوگا۔ یہ باغات دنیا کی ان مرغوب اشیاء سے کہیں بہتر ہیں۔ اور پھر یہ صرف باغات ہی نہیں ہوں گے بلکہ تقوی اختیار کرنے والوں کے لیے وہاں وازواج مطہرۃ پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ جو ہر قسم کی جسمانی و روحانی غلاظت سے پاک ہوں گی۔ اس دنیا کی بہترین عورتیں بھی ان کی طہارت کا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔ فرمایا اس کے علاوہ جنتیوں کو ، و رضوان من اللہ ، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگی۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی۔ جب لوگ دوزخ سے نکل کر جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ اور انہیں ہر نعمت حاصل ہوجائے گی ، تو اللہ کریم ان سے فرمائیں گے ، کیا میں تمہیں کچھ اور زیادہ نہ دوں۔ وہ لوگ حیران ہوں گے۔ اور کہیں گے یا الٰہی ! ہم جنت میں پہنچ گئے ، کامیاب ہوگئے۔ ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوگئیں۔ اب اور کیا ملے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ احل علیکم رضوانی۔ میں اپنی خوشنودی اور رضا تم کو دیتا ہوں۔ فلا اسخط علیکم بعدہ ابدا۔ اب آج کے بعد کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔ گویا اللہ تعالیٰ جنتیوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے راضی ہوجائے گا۔ یہ انسان کی ابدی فلاح ہوگی۔ فرمایا واللہ بصیر بالعباد۔ اللہ تعالیٰ تمام بندوں کے حالات کو نگاہ میں رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ اور کون کس برائی میں مبتلا ہے۔ لہذا اس کی گرفت سے کوئی شخص نہیں بچ سکتا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون ایماندار ہے اور اعمال صالحہ کر رہا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے اس کے ہاں صلے کی کمی نہیں ہے وہ انہیں آخرت میں بہترین ابدی زندگی عطا کرے گا۔
Ayahs 3:16–18ربط آیات :
گذشتہ درس میں گمراہی کے اسباب بیان ہوئے تھے۔ عام طور پر انہی اشیاء کی محبت میں گرفتار ہو کر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دین اور آخرت کی زندگی سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتلا دیا کہ دنیا کی ان مرغوب اشیاء کے مقابلے میں اہل تقوی کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سامان موجود ہے۔ وہاں پر جنت ہے جس میں ہر طرح کی نعمتیں مہیا ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اللہ کی خوشنودی اور رضا حاصل ہوجائے گی۔ جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگی۔ اور جس کو کبھی زوال نہیں آئیگا۔ اب آیات زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ یعنی یہ وہ لوگ ہیں۔ جنہیں جنت کی نعمتیں اور اللہ کی رضا حاصل ہوگی۔
ایمان اور بخشش :
فرمایا جنت کے وارث وہ لوگ ہوں گے الذین یقولون ربنا اننا امنا ، جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لے آئے ہیں۔ وہ اس بنیادی عقیدے کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی صفات ، اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں ، اس کے فرشتوں اور روز قیامت پر یقین رکھتے ہیں۔ اس ایمان کے اعتراف کے بعد وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں فاغفر لنا ذنوبنا مولا کریم ! تو نے ہمیں ایمان کی دولت دے کر اپنی پہچان کرائی ہے۔ ہم تیرے بندے ہیں۔ پس ہمارے گناہ معاف فرما دے ہم سے جس قدر غلطیاں ، کوتاہیاں اور لغزشیں سرزد ہوچکی ہیں ، ان سے درگزر فرما۔
امام رازی اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں ، بخشش کا مبنی ایمان ہے۔ ایمان کے بغیر بخشش نہیں ہوگی۔ اسی لیے امنا کا اعتراف پہلے ہے اور فاغفرلنا کی درخواست بعد میں ہے۔ جب تک ایمانمکمل نہیں ہوگا ، معافی کی صورت پیدا نہیں ہوگی۔ اے مولا کریم ! ہمیں معاف فرما ، وقنا عذاب النار اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ، تیری دوزخ کی سزا بڑی سخت ہے اسے برداشت کرنے کی ہم طاقت نہیں رکھتے ، اس لیے ہمیں ایمان کی بدولت اس جہنم سے بچا لے۔
دوزخ کی سزا اس قدر خطرناک ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار اس سے بچنے کی دعا سکھائی ہے۔ فرمایا۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔ اے اللہ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ دوسری جگہ فرمایا ، ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ ، اے پروردگار ! جسے تو نے آگ میں داخل کردیا وہ ذلیل و خوار ہوگیا۔ ہمیں اس رسوائی سے بچا۔ غرضیکہ اہل تقوی کی یہ صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں۔ اور دوزخ کے عذاب سے رہائی کے طالب ہوتے ہیں۔
اہل تقوی : 1۔ صابر :۔
اہل تقوی کی فہرست میں سب پہلے فرمایا ، الصابرین ، ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ صبر کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ بہت بڑی صفت ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے وقت ، نفسانی تقاضوں سے بچنے کے وقت یا کسی مصیبت آنے پر صبر ہی کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یا ایہا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ ، اے اہل ایمان ! صبر اور نماز کے ساتھ مدد چاہو۔ صبر کرنا اگرچہ بڑا مشکل کام ہے مگر اس کا اجر بھی زیادہ ہے۔ فرمایا یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔
حضرت علی ؓ کی روایت میں آتا ہے الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الجسد ، صبر کا تعلق انسان کے ایمان کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسے سر کا تعلق جسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ سر اتر جائے تو دھڑ بیکار ہوجاتا ہے اسی طرح صبر کا دامن چھوٹ جائے تو ایمان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ صبر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت اور دین اسلام کے اہم اصولوں میں سے ہے۔ صبر بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان ، نماز اس کا ذکر تعظیم شعائر اللہ اور اس کی نعمتوں کا شکر ضرور ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کیا میں تمہیں درجات بلند کرنے والی چیز نہ بتلاؤں جو گناہوں کو مٹاتی ہے فرمایا وہ ہے اتمام الوضوٗ عند الکریھات یعنی تکلیف کے وقت مکمل وضو کرنا۔ گرمی سردی میں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ اگر سخت سردی کے ایام میں پانی گرم کرنے کا انتظام نہ ہو ، تو وضو کرتے وقت تکلیف ہوتی ہے بعض اوقات ہاتھ پاؤں پھٹ جاتے ہیں۔ مگر ایک مومن جب یہ تکلیف برداشت ، کرتا ہے تو اللہ تالیٰ اسے انعامات سے نوازتا ہے۔ اس کے لیے بخشش کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بعض گرم طبقات میں ٹھنڈے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ایسا پانی میسر نہ آنے کی صورت میں گرم پانی سے ہی وضو کرنا پڑتا ہے۔ اور ایک مومن یہ تکلیف بھی برداشت کرتا ہے۔ اور صبر کا دامن نہیں چھوڑتا۔ نماز کے لیے قیام ، رکوع اور سجود پر صبر کرتا ہے۔ روزہ رکھ کر صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔ حج کی تکالیف پر صبر کرتا ہے اور سب سے بڑھ کر صبر جہاد کے موقع پر کرتا ہے۔ اور سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ ان الجنۃ تحت ظلال السیوف۔ یعنی جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ جسے جنت کی خواہش ہے۔ وہ جہاد میں چمکتی ہوئی تلواروں اور بڑھتے ہوئے تیروں اور نیزوں سے نہیں ڈرتا ہے۔ یہ اس کے صبر و استقامت کی انتہا ہے۔ اسی طرح اپنی عزیز متاع مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بھی صبر پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سب صبر ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔
صبر کی ایک اور بڑی صورت کسی تکلیف یا صدمے کے وقت صبر کرنا ہے۔ مال و جائداد ضائع ہوجائے۔ کوئی عزیز یا بزرگ فوت ہوجائے۔ کسی چیز کا خوف مسلط ہوجائے۔ تو ایسی حالت میں صبر کا دامن تھامنا بہت بڑا اصول ہے اسی اصول کو چھوڑ کر رافضیت اور شیعیت پیدا ہوئی۔ جس اصول کو امام حسین نے آخر دم تک اپنائے رکھا۔ اسی اصول کو اس کے نام لیواؤں نے ترک کرکے بےصبری کا انتہائی مظاہرہ کیا۔ رونا پیٹنا ، واویلا کرنا ، منہ نوچنا۔ چھریاں مارنا ، چھاتی پیٹنا کونسا اصول ہے۔ یہ تو بےاصولی کی بات ہے۔ حضرت علی نے صبر کے اصول کو قائم رکھا۔ حضرت عثمان نے اس پر آنچ نہ آنے دی ، حضرت عمر نے اس کا کمال مظاہرہ کیا۔ آج ہم اس زریں اصول کو ترک کرکے کیسے فلاح پا سکتے ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر صبر کرنے والوں کی تعریف بیان کی ہے۔ اس کا عام اعلان ہے۔ ان اللہ مع الصابرین ، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
2 ۔ صادقین :
اہل تقوی میں سے دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا ، والصدقین ، وہ لوگ ہیں جو ہر معاملہ میں سچائی اور راست بازی کو اختیار کرتے ہیں۔ اپنے قول ، فعل ، معاملے اور وعدے میں سچائی کو پیش نظر رکھتے ہیں۔ جیسے فرمایا ، لایزال المومن یتحری الصدق حتی یکتب عند اللہ صدیقا۔ یعنی مومن برابر سچائی کو تلاش کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کو صدیق لکھا جاتا ہے۔ سورة توبہ میں فرمایا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو ، وکونوا مع الصدقین ، اور سچے لوگوں کے ساتھ شامل ہوجاؤ۔ سورة مائدہ میں فرمایا ، ھذا یوم ینفع الصدقین صدقھم ، قیامت کے دن راست باز لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی۔ سورة احزاب میں فرمایا لیسئل الصادقین عن صدقھم ، قیامت کے دن سچے لوگوں کے سچ کے متعلق پوچھا جائے گا۔ سورة عنکبوت کی ابتداء میں فرمایا۔ فلیعلمن اللہ الذین صدقوا۔ یعنی اللہ تعالیٰ سچوں کو جانچتا رہتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ کے ہاں سچائی بہت بڑا عمل ہے۔ اور اس کے ہاں اس کے واسطے بہت بڑا اجر ہے۔
3 ۔ اطاعت گزار :
فرمایا متقیوں میں تیسرا گروہ والقنتین کا ہے۔ یہ لفظ قنوت سے مشتق ہے۔ اور اس کا معنی اطاعت بجا لانا ہے۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں۔ جو اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کا دامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑتے ان پر خوشحالی آئے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں اور آزمائش آئے تو صبر کرتے ہیں ، مگر اپنے آپ سے باہر ہو کر اطاعت خداوندی سے باہر نہیں ہوتے انہیں ہر وقت یہ فکر لگی رہتی ہے۔ کہ کسی وقت اللہ کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ یہی لوگ قانتین ہیں۔ سورة احزاب میں اللہ تعالیٰ نے جن مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کی بشارت سنائی ہے۔ ان میں والقنتین والقنتت ، بھی شامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اطاعت گذار مردوں اور اطاعت گزار عورتوں کے لیے قیامت کو بہت بڑے اجر کا مژدہ سنایا ہے الغرض اہل تقوی کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کے اطاعت گزار ہوتے ہیں۔ اس کی نافرمانی نہیں کرتے۔
4 ۔ خرچ کرنے والے :
اہل تقوی کو چوتھا گروہ والمنفقین کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں۔ جو اللہ کی راہ میں محتاجوں پر خرچ کرنے والے ہیں۔ دین اسلام میں خرچ کرنا بذات خود ایک بہت بڑا اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محض جمع کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ یہودیوں کی یہ صفت تھی جمع فاوعی ، کہ وہ محض جمع کرنا جانتے تھے۔ خرچ نہیں کرتے تھے۔ مگر ایک مومن کی صفت یہ ہے کہ وہ دولت کماتا ہے۔ تو اللہ کی راہ میں خرچ بھی کرتا ہے۔ بخل نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے وفی اموالھم حق للسائل والمھروم کہ ان کے مالوں میں محتاجوں اور محروموں کا حق بھی ہے اور ان کے متعلق حکم یہ ہے کہ اعط کل ذی حق حقہ ہر حقدار کو اس کا حق پہنچاؤ۔ اگر محتاج کی خبر گیری نہیں کروگے تو لعنت برسے گی۔ مسلمانوں کا اجتماعی نظام خراب ہوجائے گا۔ لہذا جب اللہ تعالیٰ مال عطا کرے۔ تو اس کے دیے ہوئے میں سے اس کے حکم کے مطابق ضرورتمندوں کو ان کا حق ادا کرو۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ خرچ کرنے کا حکم محض انفرادی نہیں۔ بلکہ اس کا اطلاق اجتماعی حیثیت پر بھی ہوتا ہے۔ اور اس ضمن میں حکومتِ وقت پر سب سے زیادہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے۔ جو حکومت محض جمع کرتی ہے۔ ایسی حکومت کو اسلام ختم کرنے کے لیے آیا تھا۔ اس زمانے میں قیصر و کسری کی بڑی بڑی سلطنتیں تھیں۔ لوگوں پر ناجائز ٹیکس لگا کر مال جمع کرتے تھے اور پھر اسے حقداروں تک پہنچانے کی بجائے اپنی عیاشی پر خرچ کرتے تھے۔ ایسی حکومتوں کی بیخ کنی کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کو مبعوث فرمایا۔ اور قرآن پاک نازل فرمایا۔ چناچہ خلفائے راشدین کے زمانے تک مسلمان اس زریں اصلو پر عمل کرتے رہے مگر بعد میں مسلمانوں میں ہی قیصر و کسری پیدا ہوگئے۔ اب دنیا بھر میں نظر دوڑا کر دیکھ لو۔ کون سی حکومت ہے جو محتاجوں کا خیال کرتی ہے۔ ان قیصر و کسری کے جانشینوں سے کوئی پوچھے کہ تم لوگوں کے خون پسینے کی کمائی کو حاصل کرکے اسے کہاں خرچ کر رہے ہو۔ سب من مانی کر رہے ہیں کوئی اکا دکا اچھا آدمی ہوگا جسے خوف خدا ہوگا۔ اور جو امانت اللہ نے اس کے سپرد کی ہے اسے حقداروں تک پہنچاتا ہوگا ورنہ عام طور پر ہر طرف شہنشاہیت ، ملوکیت اور امپریلزم نظر آتا ہے۔
شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں۔ جو سوسائٹی اپنے غریبوں اور محتاجوں کا خیال نہیں رکھتی وہ مٹا دینے کے قابل ہے۔ آپ نے اپنے سب سے بڑے مرید اور رشتے کے بھائی کی بیعت ان الفاظ میں لی کہ نیکی قائم کرنا اور ہمیشہ غرباء اور مساکین کے مسائل کو حل کرنا۔ آپ نے بیعت میں یہ چیز داخل کردی۔ مولانا عبیداللہ سندھی فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء نے بھی کام خراب کیا ہے یہ بھی ملوکیت سے متاثر ہو کر بگڑ گئے ہیں۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو غرباء اور مساکین کا خیال کرتے ہیں۔ خود عیش و آرام کے طالب ہیں۔ مگر اصل مشن سے دور چلے گئے ہیں۔ غرضیکہ منفقین کا یہ لفظ بتلا رہا ہے کہ اہل ایمان دولت کو سمیٹ کر نہیں رکھتے۔ بلکہ دولت کو خرچ کرنا ان کے اوصاف میں داخل ہے۔
5 ۔ طالبان بخشش :
فرمایا متقین کی پانچویں شاخ ہے۔ والمستغفرین بالاسحار۔ وہ لوگ سحری کے وقت اٹھ کر بخشش کی دعائیں مانگتے ہیں۔ سحری کا وقت تنہائی اور سکون کا وقت ہوتا ہے۔ اللہ کی رحمت کے نزول کا وقت ہوتا ہے تقرب الہی کے اس وقت میں اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تہائی رات باقی رہنے پر اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر اعلان فرمتا ہے۔ من یدعونی استجب لہ ہے کوئی دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ من یسئلنی فاعطیہ ، ہے کوئی سائل کہ میں اسے عطا کردوں۔ من یستغفرنی فاغفر لہ ، ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا کہ میں اس کو بخش دوں۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ، حضرت علی اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق منقول ہے۔ رات کو نماز میں مشغول رہتے۔ پھر پوچھتے سحری ہوگئی ہے۔ اس وقت توبہ استغفار میں لگ جاتے۔ ربنا اغفر لنا ذنوبنا۔
توحید باری تعالیٰ :
اس سورة مبارکہ کی ابتداء مسئلہ توحید سے ہوئی تھی۔ الم ۔ اللہ لا الہ الا ھو۔ اب اس آیت میں پھر وہی بات دہرائی جا رہی ہے ، جو اصلی مبنیٰ دین ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ شھد اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی گواہی دی۔ انہ لا الہ الا ھو۔ اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ، کوئی عبادت کے لائق نہیں ، نہ جبرائیل (علیہ السلام) ، نہ میکائیل (علیہ السلام) ، نہ مسیح (علیہ السلام) اور نہ محمد رسول اللہ ﷺ ، کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں۔ الٰہ کا معنی بڑا وسیع ہے۔ الٰہ و ہ ہوسکتا ہے۔ جس میں الوہیت کی صفت پائی جاتی ہو۔ جو واجب الوجود ہو ، جس کا علم محیط ہو ، جس کی قدرت تام ہو ، جو خالق اور مدبر ہو اور جو فاطر ہو جو خود مخلوق اور محتاج ہو ، وہ الہ کیسے ہوسکتا ہے۔ جو ہمہ دان نہ ہو ، ہمہ بین نہ ہو اور ہمہ تو ان نہ ہو ، وہ الہ نہیں ہوسکتا۔ الہ وہ ہے جو جو چاہے کر گزرے ، اس کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ لہذا فرمایا اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی کہ اس کے سوا الٰہ کوئی نہیں ہے۔ یہ جملہ اس قدر اہم ہے۔ کہ اس ایک آیت میں دو دفعہ دہرایا گیا ہے۔ حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کی تعریف ان الفاظ میں سکھائی گئی ہے۔ اللہم لا احصی ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک۔ اے مولا کریم ! میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کرسکتا۔ تیری تعریف وہ ہے ، جو تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے۔ اسی طرح اللہ نے خود گواہی دی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کے سوا کوئی حاضر ناظر نہیں۔ کوئی مختار کل نہیں کوئی عالم الغیب نہیں ، کوئی دینے والا نہیں اور کوئی چھیننے والا نہیں۔
فرمایا ، والملئکۃ ، اور فرشتوں نے بھی یہ گواہی دی ہے۔ اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں ، واولوا العلم ، اور اہل علم نے بھی یہی گواہی دی ہے۔ علم والوں میں سب سے پہلے نبی ہیں ، پھر کامل الایمان لوگ پھر حکماء اور دانشور ، سب نے یہی گواہی دی ہے۔ کہ اللہ جل شانہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔
آگے فرمایا ، قائما بالقسط ، خدا تعالیٰ کی ذات انصاف کے ستھ قائم ہے ، امام بیضاوی اور صاحب مدارک امام نسفی اس کا ترجمہ کرتے ہیں مقیما بالقسط ، انصاف کو قائم کرنے والا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت بھی بنتی ہے اور اہل علم کی بھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام فیصلوں اور افعال میں انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ اس نے ہر چیز کو انصاف کے دائرے میں رکھا ہوا ہے۔ اس کے عمل اور اس کی پسند میں ظلم بالکل نہیں ہے کسی کام میں ناانصافی نہیں ہے۔ بلکہ ہر کام میں اعتدال اور توازن ہے۔ وہ خود انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ اور انصاف کو قائم کرنے والا ہے۔
علمائے حق :
اہل علم کی بھی یہی صفت ہے۔ ہر اہل علم مقیماً بالقسط یعنی انصاف کو قائم کرنے والا ہے۔ ان کو حکم دیا گیا ہے۔ کہ وہ ایسا ہی کریں۔ کیونکہ قرآن پاک میں انصاف کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب اہل علم انصاف پر قائم ہوں گے تو وہ بھی یہی گواہی دیں گے ، لا الہ الا ھو ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ کلمہ تمام ادیان اور شرائع الہی کی بنیاد ہے۔ اللہ نے اپنی بہترین مخلوق کے متعلق فرمایا کہ اس کا ہر فرد اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ لا الہ الا ھو اس کے سوا کوئی پرستش کے قابل نہیں۔
علمائے سوء :
البتہ علماء کا ایک اور گروہ بھی ہے جو توحید کا درس دینے کی بجائے شرک و بدعت کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ علمائے سوء ہیں۔ جہاں شرک و بدعت کی تعلیم دی جا رہی ہو ، سمجھ لو کہ یہ پیٹ پرور ، دنیا دار علماء کی آواز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تو یہ ہے کہ اہل علم کی شہادت لا الہ الا ھو ہے۔ اگر تعلیم اس کے خلاف ہے۔ عرس منانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ قوالی ہورہی ہے قبروں پر سجدے ہو رہے ہیں ، خواجہ فرید الدین کے دروازے سے گزرنے والے کو جنت کا ٹکٹ دیا جا رہا ہے۔ تو سمجھ لو کہ علماء سوء کی مجلس برپا ہے خواجہ صاحب تو ماشاء اللہ کامل الایمان بزرگ تھے۔ ان کے ہاتھ پر پنجاب کے لاکھوں خاندانوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ انہوں نے استعارے سے کوئی بات کی ہوگی ، جو کوئی بات کی ہوگی ، کہ جو کوئی نیکی کے دروازے سے گزر گیا ، جنت میں جائے گا۔ مگر جاہلوں نے ان کی قبر کے دروازے کو جنت کا دروازہ بنا لیا یہ تو شرکیہ فعل ہے۔ کہیں تعزیہ نکل رہا ہے۔ اس کی تعظیم ہو رہی ہے۔ سجدہ ہورہا ہے اس پر چڑھاوے چڑھائے جا رہے ۔ یہ صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ حکومت کی سطح تک ایسے افعال کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ قبروں پر چادریں چڑھائی جا رہی ہیں۔ مقبرے بن رہے ہیں۔ ایسے کاموں پر بےدریغ روپیہ بہایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ کیا ہورہا ہے۔ لاؤڈ سپیکر پر علی الاعلان شرک و بدعت کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ یہ اولی العلم کا کام نہیں۔ کیونکہ ان کی شہادت تو ایک ہی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔
فرمایا ھو العزیز الحکیم۔ امام رازی فرماتے ہیں عزیز کا معنی ہے کمال قدرت کا مالک۔ وہ جو چاہے کرے۔ اس کی قدرت کے سامنے کسی کو ٹھہرنے کی مجال نہیں۔ اور حکیم کے معنی کمال حکمت کا مالک۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہے۔ وہ حکیم ہے۔ وہی معبود ہے۔ اس کے بغیر کوئی عبادت کے لائق نہیں اس کے سوا کوئی نہیں جو مخلوق کی حاجت روائی کرسکے ، یہ تعلیم تمام انبیاء اور تمام آسمانی کتابوں کی جڑ اور بنیاد ہے تمام اصحاب علم بھی اس کی تعلیم دیں گے جو اس تعلیم کیخلاف کریگا۔ وہ علمائے سوء یا پیران سوء میں شمار ہوگا۔ ایسا شخص اہل علم نہیں ہوگا بلکہ اہل بدعت ہوگا۔
Ayahs 3:19–20ربط آیات : پہلی آیات میں دین کا مبنیٰ ، جڑ اور بنیاد مسئلہ توحید اور اللہ کی صفات کو قرار دیا گیا تھا۔ اب اس آیت میں اللہ نے اسلام کی حقانیت بیان فرمائی ہے مشرکین عرب اور ایران کے مجوسی دعویٰ کرتے تھے کہ ان کے ادیان سچے ہیں۔ اہل کتاب یعنی یہود اور نصاری اس معاملے میں زیادہ ہی غلو کرتے تھے وہ اپنے علاوہ ہر دوسرے مذہب کو غلط بتاتے تھے اور نجات کو صرف اپنے ہی دین میں بند سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہود و نصاری کے پاس کوئی حقیقت اس وقت نہ تھی۔ اور نہ آج ہے۔ انہوں نے انبیاء کے اصل دین کو بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ اور کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔
اس سے قبل گمراہی کے اسباب بھی بیان ہوچکے ہیں۔ حق و صداقت کی مخالفت کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ، کہ ان کے مال و اولاد ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ اور وہ اس دنیا میں بھی مغلوب ہوں گے۔ اور آخرت میں جہنم کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اللہ نے یاد دلایا کہ تم نے جنگ بدر میں اللہ کی نصرت کا نمونہ دیکھ لیا ہے۔ اس سے عبرت حاصل کرو۔ دنیا میں گمراہی عام طور پر عورتوں اور بیٹوں کی محبت ، سونے چاندی کے جمع کردہ مال ، عمدہ ، گھوڑے مویشی اور کھیتی باڑی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ان تمام چیزوں سے بہتر اللہ کی طرف سے ملنے والا وہ اجر وثواب ہے۔ جو ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ مگر وہ متقیوں کے لیے ہے۔ ان نعمتوں میں پاکیزہ بیویاں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ جو اہل جنت کو حاصل ہوگی۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفت بیان کیں۔ کہ وہ ایمان کا اقرار کرتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں کی معافی مانگتے ہیں دوزخ سے پناہ چاہتے ہیں ، صبر و استقلال کو اختیار کرتے ہیں اور سچائی پر ڈٹ جاتے ہیں ، ہمیشہ اطاعت کا دامن تھامے رکھتے ہیں ، اپنی نیک کمائی میں سے خرچ کرتے ہیں ، محتاجوں کی اعانت کرتے ہیں اور سحری کے وقت استغفار کرتے ہیں۔ یہ تمام باتیں بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا کہ دین کی جڑ اور بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتے اور تمام اہل علم گواہی دیتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ عزیز اور حکیم ہے۔
سچا دین صرف اسلام :
اب اس آیت میں دین کی صداقت کا تزکرہ ہے۔ ان الدین عند اللہ الاسلام۔ یعنی اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور سچا دین صرف اسلام ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان (علیہ السلام) تک تمام انبیاء کرام اسی دین کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں اختلاف اگر کوئی ہے تو شریعتوں میں ہے ، کیونکہ ان میں فروعی احکام ہوتے ہیں۔ جو مختلف ادوار میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ لہذا یہود و نصاری ، مجوس یا مشرکین کا یہ دعوی کہ ان کا دین سچا ہے ، بالکل غلط دعوی ہے۔ یہ تو کذب بیانی اور خلاف واقعہ ہے۔ صداقت تو صرف دین اسلام میں ہے۔ اور اپنے دعوی میں سچا وہی ہوگا ، جو دین اسلام کا پیروکار اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر ایمان لانے والا ہوگا۔
وجہ اختلاف :۔ اہل کتاب سے دو گروہ مراد ہیں۔ اولاد یہودی جو اپنے آپ کی نسبت تورات کی طرف کرتے تھے۔ کہ ان کے پاس اللہ کی عظیم کتاب ہے۔ اور دوسرے عیسائی جو انجیل کے حامل ہونے کے دعویدار تھے۔ چناچہ اگلی آیت کے مصداق دونوں گروہ یعنی یہود و نصاری ہیں۔ تاہم چونکہ اس سورة میں عموماً نصاری کا ذکر ہے اس لیے وہ خاص طور پر اس آیت کے مخاطب ہیں۔ اب اگر دین سچا ہوتا ہے۔ تو اختلاف کی کوئی وجہ نہ تھی۔ مگر انہوں نے سچے دین اسلام سے اختلاف کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس اختلاف کی وجہ بھی بیان فرما دی ، وما اختلف الذین اوتوا الکتب ، اور نہیں کیا اہل کتاب نے ، الا من بعد ماجاءھم العلم۔ مگر بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یعنی وہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کے متعلق تمام علم یعنی ان کی تمام نشانیاں معلوم کرنے کے بعد بھی آپ کو نبی ماننے پر تیار نہ ہوئے۔ سورة بقرہ میں بیان ہوچکا ہے۔ یعرفونہ کما یعرفون ابناءھم ، یہ لوگ حضور ﷺ کو اسی طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔ مگر پھر بھی ایمان نہیں لاتے تھے۔ اس سورة کی ابتدائی آیات میں نجران کے وفد کا ذکر ہوچکا ہے۔ وہ لوگ بھی جانتے تھے کہ نبی آخر الزماں حضور ﷺ ہی ہیں ، جن کی پیشین گوئیاں ان کی کتابوں میں موجود ہیں۔ مگر اس کے ابوجود آپ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے خود بیان فرمائی بغیا بینھم۔ ان کا یہ فعل آپس میں سرکشی کی وجہ سے تھا۔ یہود و نصاری کو اس زمانے میں ایک قسم کا اقتدار اور تفوق حاصل تھا۔ اور نصاری برسر اقتدار بھی تھے۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اگر وہ نبی آخرالزمان پر ایمان لے آئے تو پھر ان کی تابعداری کرنی پڑے گی۔ اور اس صورت میں ان کا اپنا اقتدار ختم ہوجائے گا۔ مدینے کا رئیس المنافقین اسی حسد کی بناء پر ساری عمر حضور ﷺ کی مخالفت کرتا رہا۔ مدینے والے اسے اپنا بادشاہ تسلیم کرنے کو تیار تھے۔ مگر حضور ﷺ کی تشریف آوری سے اس کا سارا کھیل بگڑ گیا۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ لوگ علم حاصل ہونے کے بعد بھی مخالفت پر اڑے رہے سرکشی کرتے ہوئے محض اپنے اقتدار کے دفاع کے لیے حالانکہ اسلام کی وجہ سے انہیں جو شرف حاصل ہونے والا تھا ، اس کا وہ اندازہ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ الغرض ! اہل کتاب نے سرکشی اور ضد کی بناء پر اسلام قبول نہ کیا۔
اسلام کیا ہے : اسلام کا اصلی معنی سونپ دینا ہے۔ جب کوئی شخص اپنے اعمال و افعال میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کو قبول کرلیتا ہے۔ تو گویا وہ اسلام لے آتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے۔ جب ان کے رب نے ان سے کہا ، اسلم ، تم اسلام لے آؤ۔ تو عرض کیا ، اسلمت لرب العالمین ، میں تمام جہانوں کے رب کا مطیع و فرمانبردار ہوگیا ہوں۔ اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیا۔ گویا تسلیم و رضا کا نام ہی اسلام ہے۔ اور تمام انبیاء کرم اسی دین کی طرف دعوت دیتے رہے ہیں۔ حتی کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی اسی دین کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ ایسا دین ہے۔ جو کامل ، اکمل اور عالمگیر ہے۔ یہ ناقابل تنسیخ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء کی تمام شرائع منسوخ کرکے صرف نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی شریعت کو قیامت تک کے لیے قائم و دائم رکھا۔
نجران کے عیسائیوں سے آپ نے یہی فرمایا کہ تم اسلام کیوں نہیں لاتے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پہلے ہی اسلام لائے ہوئے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ تم غلط کہتے ہو ، تم کہاں ایمان لائے ہو۔ محمد بن اسحاق کی روایت میں حضور ﷺ کے الفاظ ہیں اسلموا تم اسلام لے آؤ، تو وہ کہنے لگے۔ اسلمنا ، ہم تو اسلام لا چکے ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا ، کذبتم ، تم جھوٹ کہتے ہو۔ کیف یصح اسلامکم ، تمہارا اسلام کیسے درست ہوسکتا ہے۔ جب کہ انتم تثبتون ولدا للہ ، تم مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا ثابت کرتے ہو۔ تین خداؤں میں سے ایک کہتے ہو یا بعینہ خدا کہتے ہو مسلمان تو وہ ہے۔ جو اللہ وحدہ لا شریک کی توحید کا قائل ہے لہذا تمہارا دعوی اسلام بالکل غلط ہے۔
آنحضرت (علیہ السلام) نے مزید فرمایا کہ تم کیسے مسلمان ہو۔ جب کہ تعبدون الصلیب ، تم صلیب کی عیادت کرتے ہو۔ یہ تو شرک کی نشانی ہے۔ مسند احمد ترمذی اور دیگر احادیث میں صلیب کو وثن کہا گیا ہے۔ یہ تو بت کی مانند ہے تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس صلیب پر لٹکائے گئے تھے جو کہ سراسر غلط ہے۔ اسی طرح حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا تیسرا کام یہ ہے۔ وتاکلون الخنزیر۔ کہ تم خنزیر کا گوشت کھاتے ہو۔ اسلام میں خنزیر قطعاً حرام ہے۔ تم خنزیر کو کھانے والے مسلمان کیسے ہوسکتے ہو۔ یہ ساری تفصیل امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں نقل کی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی نبی اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمائے ، سب کے شرائع میں خنزیر حرام رہا ہے۔ لہذا یہ سور کا گوشت کھانے والے اور حضرت مریم ؓ کی تصویروں کی پوجا کرنے والے اسلام کا دعوی کیسے کرسکتے ہیں۔ یہ لوگ تو اللہ کی صریح آیات کا انکار کر رہے ہیں۔ اور ان کے متعلق حکم یہ ہے ومن یکفر بایات اللہ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا۔ تو یاد رکھو۔ فان اللہ سریع الحساب۔ کہ بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ جب وہ مواخذہ کرتا ہے۔ تو پھر اس کی گرفت سے بچ کوئی نہیں سکتا۔
اطاعت خداوندی :
فرمایا ان تمام حقائق کے واضح ہوجانے کے باوجود ، فان حاجوک ، اگر یہ لوگ آپ سے جھگڑا کریں ، فقل ، تو آپ کہہ دیں ، اسلمت وجہی للہ ، میں نے اپنے چہرے کو اللہ کے تابع کرلیا ہے ، و من اتبعن ، اور میرے پیروکاروں نے بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع بنالیا۔ غرض ! اسلام یہ ہے کہ اپنے آپ کو مکمل طور پر خدا کی اطاعت میں دے دیا جائے۔ گویا اسلام کے بنیادی اصول دو ہیں۔ پہلا اصول توحید کا ہے جیسا کہ گذشتہ درس میں آچکا ہے۔ شھد اللہ انہ لا الہ الا ھو۔ یہ توحید الہی کا اعلان ہے۔ اور دوسرا بنیادی اصول اسلام ہے یعنی اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں دے دینا۔ یہ دونوں اصول اہل کتاب میں مفقود تھے۔ نہ وہ توحید کو مانتے تھے۔ اور نہ اسلام لاتے تھے۔ لہذا ان کا زبانی دعویٰ ناقابل قبول ٹھہرا۔ وہ لوگ اپنے آپ کو حنیف یا ابراہیمی کہتے تھے جیسا کہ عرب اپنے آپ کو اسماعیلی کہتے تھے۔ جو کہ سراسر غلط تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا تمہاری دعویٰ باطل ہے۔ آگے سورة نساء میں ذکر آئے گا کہ اصل حنیف تو حضور ﷺ اور آپ کے پیروکار ہیں۔ یہ اہل کتاب تو اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔ دوسرے مقام سورة یوسف میں فرمایا علی بصیرۃ انا و من اتبعنی۔ میں اور میرے ماننے والے ہی صحیح بصیرت پر ہیں۔ یہ تمام انبیاء کی مشترک تعلیم ہے۔ اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں۔ وہ ہر بات واضح طور پر بیان کردیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا کہ خوب کان کھول کر سن لو۔ ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ۔ پھر تمہارے معاملے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔ سورة ہود میں فرمایا ، فاستقم کما امرت و من تاب معک ، آپ بھی ٹھیک ٹھاک راستے پر چلیں اور آپ کے پیروکار بھی ، کیونک ہمیں اپنے مسلک ، اعمال یا اخلاق میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں اپنے مسلک ، اعمال یا اخلاق میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے۔ ہمیں دل سے یقین ہے کہ ہم ٹھیک راستے پر چل رہے ہیں۔ مومن کی یہی شان ہے۔ برخلاف اسکے مشرک اور منافق اندھیرے میں ٹھوکریں کھائیگا ہمارے لیے روشنی کامینار قرآن پاک ہے جو کہ بصائر للناس وھدی ورحمۃ ہے۔ یہ دلوں میں بصیرت پیدا کرتا ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہدایت کا سامان مہیا کرتا ہے۔ لہذا اس کے ساتھ تعلق قائم کرنا ضروری ہے اسکے علاوہ راہ ہدایت کسی سے نہیں مل سکتی۔ اس کو مضبوطی سے پکڑنے والا کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔
ایمان کی دعوت :
فرمایا وقل للذین اوتو الکتب والامیینء اسلمتم ، ان اہل کتاب اور ان پڑھوں سے کہہ دیجئے۔ کیا تم اسلام لاتے ہو۔ دین توحید قبول کرتے ہو ، اطاعت خداوندی اختیار کرتے ہو۔ اہل کتاب سے مراد یہودو نصاری ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگ تھے۔ متمدن تھے۔ دفتری نظام سے واقف تھے۔ حکومت کرنا جانتے تھے ۔ ان کے سو کل تھے۔ جن میں تعلیم حاصل کرتے تھے اور ان کے پاس تورات اور انجیل بھی تھی۔ اس لیے اہل کتاب کہلاتے تھے۔ ان کے علاوہ عرب کے باقی لوگ جو عام طور پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد تھے ، وہ ان پڑھ تھے تعلیم و تربیت مفقود تھی ، نوشت و خواند سے بےبہرہ تھے۔ تاریخی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ نزول قرآن کے زمانے میں صرف چار فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے باقی سب ان پڑھ تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے علاوہ ان امیوں کو بھی پیغام دیا کہ بتاؤ کیا تم اسلام لاتے ہو۔ فرمایا ، فان اسلموا ، اگر اگر وہ اسلام لے آئیں ، فقد اھتدوا ، پس بیشک وہ ہدایت پا گئے۔ سورة بقرہ میں بھی اسی قسم کا بیان گزر چکا ہے۔ فان امنوا بمثل ما امنتم بہ فقد اھتدوا اگر یہ بھی تمہاری طرح ایمان لے آئیں تو ہدایت پا جائیں گے۔ تم کو اللہ نے معیار حق بنا کر پیش کیا۔ غرض یہ کہ اگر اہل کتاب اور امی صحابہ کرام حضرات ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی عبدالرحمن بن عوف ، ابوعبیدہ ، خالد وغیرہم کی طرح اسلام لے آئیں تو ہدایت پاجائیں گے۔ فان تولوا ، اور اگر وہ روگردانی کریں۔ فانما علیک البلغ ، تو آپ کے ذمے پہنچا دینا ہے۔ آپ اپنی ذمہ داری پوری کردیں۔ واللہ بصیر بالعباد۔ باقی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کو نگاہ میں رکھنے والا ہے وہ ان کے ایک ایک فعل سے واقف ہے کہ انہوں نے کس قسم کے گندے عقیدے بنا رکھے ہیں۔ اور کس قدر ضد ، عناد اور تعصب کا شکار ہیں۔