3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:55–57

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے عیسیٰ ! بیشک میں تجھ کو قبض کرنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور پاک کرنے والا ہوں ، ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ، اور میں بنانے والا ہوں تیرا اتباع کرنے والوں کو اوپر ان لوگوں کے جنہوں نے کفر کیا قیامت (کے قریب تک) پھر میری طرف ہی تم سب کا لوٹ کر آنا ہوگا۔ پھر میں فیصلہ کروں گا تمہارے درمیان ان باتوں میں جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

پس بہرحال وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، پس میں ان کو سزا دوں گا۔ سخت سزا دینا دنیا اور آخرت میں ، اور ان کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا۔

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اور جنہوں نے اچھے کام کیے۔ پس (وہ اللہ تعالیٰ پورا پورا دے گا ان کو ان کا بدلہ اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں ان سازشوں کا ذکر تھا ، جو یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نقصان پہنچانے کے لیے کیں۔ انہوں نے آپ کو قتل کروانے کے لیے بادشاہ وقت کے کان بھرے کہ یہ شخص تورات کو بدلنا چاہتا ہے یہ لوگوں کو بےدین بنا دے گا لہذا اسے سزا ملنی چاہیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے بھی مخفی تدبیریں کیں اور اللہ نے بھی تدبیر کی۔ اور اللہ ہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والے ہیں وہ یہودیوں کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے بلکہ خود اپنی منشاٗ کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت کریں گے۔ امام ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش کے تحت۔ فبعث فی طلبہ ان یاخزہ ویصلبہ و ینکل بہ۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرکے لایا جائے۔ انہیں سولی پر لٹکایا جائے۔ اور انہیں عبرتناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی جرات نہ کرسکے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اذ قال اللہ یعیسی۔ وہ واقعہ قابل ذکر ہے جب اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا۔ انی متوفیک۔ میں تجھ کو قبض کرنے والا ہوں۔ توفی کا معنی : عربی لغت میں توفی۔ وفی۔ کا معنی ہوتا ہے اخذ الشیئ۔ وافیا ، یعنی کسی چیز کا مکمل طور پر وصول کرلینا ہے۔ کسی چیز کو قبض کرلینا مراد ہوتا ہے چناچہ شیخ الہند اس آیت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! میں لے لوں گا تجھ کو اور اٹھا لوں گا تجھ کو اپنی طرف جو کہ بالکل صحیح ترجمہ ہے۔ البتہ مجازی طور پر اس کا اطلاق موت اور نیند پر بھی ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ اللہ یتوفی الانفس حین موتھا۔ اللہ تعالیٰ موت کے وقت نفسوں کو قبض کرلیتا ہے۔ والتی لم تمت فی منامہا۔ اور جو نیند کے وقت نہیں مرتی اس کو چھوڑ دیتا ہے۔ گویا توفی کا لفظ نیند کے لیے بھی استعمال ہوگیا۔ وھو الذی یتوفاکم باللیل۔ اللہ تعالیٰ رات کو تمہاری روحوں کو قبض کرلیتا ہے۔ و یعلم ما جرحتم بالنھار۔ اور اللہ جانتا ہے جو تم دن میں کام کرتے ہو۔ اس طرح توفی کے تین معنی ہوگئے۔ اصل معنی وصول کرنا اور مجازی معنی موت اور نیند ہوگیا۔ تو بعض اس کا مجازی معنی کرتے ہیں۔ اور پھر اس سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پا گئے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بالفرض اگر توفی کا معنی موت بھی لیا جائے۔ تو پھر متوفیک ورافعک الی ، میں تقدیم تاخیر ماننی پڑے گی۔ یعنی عمل کے لحاظ سے رافعک الی پہلے ہوگا اور متوفیک کا عمل بعد میں۔ اس طرح معنی یہ ہوگا کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) میں (اس وقت) تجھ کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور پھر (اپنے وقت پر) موت دینے والا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس توفی کا معنی موت کرتے ہیں مگر ان سے یہ روایت بھی صراحتاً منقول ہے۔ کہ حضور ﷺ نے فرمایا لم یمت عیسیٰ ، یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو موت نہیں ٓائی ، بلکہ وہ زندہ ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ آپ قیامت کے قریب دوبارہ نزول کریں گے۔ اور زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے۔ جیسے وہ اس سے پہلے ظلم اور ناانصافی سے پر ہوگی ! ابو داود شریف کی روایت میں یہ بھی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) دوبارہ نزول کے بعد چالیس سال تک زمین پر حکومت کریں گے بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نکاح بھی کریں گے۔ بچے پیدا ہوں گے۔ پھر آپ کی وفات کا ذکر بھی ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے۔ کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پائیں گے تو میرے پاس ہی دفن ہوں گے۔ چناچہ حجرہ مبارک میں چوتھی قبر کی جگہ اب بھی موجود ہے۔ اس وقت وہاں پر تین قبریں ہیں یعنی حضور ﷺ حضرت صدیق اکبر اور حضرت عمر فاروق ، چوتھی قبر عیسیٰ (علیہ السلام) کی بنے گی۔ ان احادیث کے علاوہ اگلی سورة نساٗ میں بل رفعہ اللہ الیہ ، کے صریح الفاظ موجود ہیں ، جس کا معنی یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے وفات نہیں پائی بلکہ اللہ نے آپ کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور وہ دوبارہ نازل ہوں گے۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ حیات مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں روایات اس کثرت سے ہیں۔ کہ وہ تواتر کا درجہ رکھتی ہیں۔ تواتر چار قسم کا ہوتا ہے یعنی لفظی ، معنوی ، طبقہ اور توارد۔ اور یہ چاروں درجات ان احادیث میں پائے جاتے ہیں۔ جن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ تواتر کے راوی اتنی کثرت سے ہوتے ہیں۔ کہ آدمی کی عقل تصور نہیں کرتی کہ اتنے آدمی جھوٹ بول سکتے ہیں۔ ابن حزم ظاہری لکھتے ہیں۔ لم یشک فی کفرہ اثنان۔ یعنی آپ کو دو آدمی بھی ایسے نہیں ملیں گے ، جنہیں ایسے شخص کے کفر میں شک ہو ، جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حیات اور آپ کے دوبارہ نزول پر یقین نہ رکھتا ہو۔ یعنی پوری امت کے علمائے دین میں سے کوئی بھی اس معاملہ میں متردد نہیں ہے۔ اس مسئلہ کا ایک دوسرے طریقہ سے تجزیہ بھی ضروری ہے کہ ایک منٹ کے لیے فرض کرلیا جائے کہ متوفی کا معنی موت دینا ہے۔ تو پھر گذشتہ آیت کی تکذیب لازم آئے گی۔ گذشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ مخالفوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مارنے کی تدبیر کی۔ اور ادھر اللہ تعالیٰ نے انہیں بچانے کی تدبیر کی۔ اگر مخالفین آپ کی جان لینے میں کامیاب ہوگئے تو پھر واللہ خیر المکرین۔ کا کیا معنی نکلا۔ اس سے مراد تو یہ ہے کہ اللہ کی تدبیر کامیاب ہوئی۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو بچا لیا گیا۔ اور اگر ان کو موت ہی دے دی گئی۔ تو پھر اللہ تعالیٰ اور مخالفوں کی تدبیر کی کامیابی کا اعلان کیا ہے ، جو حیات مسیح پر قطعی دلیل ہے۔ قادیانیوں کی غلط تاویل : توفی کے لفظ سے قادیانیوں نے بڑا غلط مفہوم لیا ہے۔ وہ اس کا معنی موت کرتے ہیں۔ اور پھر اس دعوی کی دلیل میں سورة مائدہ کی یہ آیت بھی پیش کرتے ہیں۔ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم۔ عیسیٰ اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے ، اے مولا کریم ، جب تو نے مجھے فوت کردیا ، موت دے دی ، تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ مرزائی پھر اس سے یہ دلیل پکڑتے ہیں کہ چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) فوت ہوچکے ہیں ، اس لیے ان کے دوبارہ نازل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ قرآن پاک کی بہت سی آیات کے علاوہ حضور ﷺ کی احادیث بکثرت موجود ہیں ، جن میں مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نازل ہونے کا ذکر ہے ، تو کہتے ہیں۔ کہ ان احادیث کی رو سے دوبارہ آنے والے مسیح ابن مریم نہیں ہوگا بلکہ مثیل مسیح یعنی اس کے مشابہ ہوگا۔ اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ جس کے متعلق روایات میں آتا ہے کہ وہ دنیا میں ہدایت کا سامان پیدا کرے گا۔ لہذا مسیح موعود آ چکا ہے۔ اب کسی مسیح کا انتظار نہیں ہے۔ یہ ہے وہ بنیادی مسئلہ جس پر قادیانی گزشتہ تقریباً سو سال سے جھگڑا کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ دعوی صریحاً کفر ہے۔ مسئلہ ختم نبوۃ : علمائے امت نے اس مسئلہ میں قادیانیوں کا ہر طرح سے رد کیا ہے بڑے بڑے مناظرے ہوئے اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ مولانا سید انور شاہ کشمیری جو بیس سال تک مدرسہ دار العلوم دیوبند کے شیخ الحدیث رہے ہیں انہوں نے ختم نبوت پر فارسی زبان میں بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ آپ کا علم چونکہ زیادہ عمیق تھا اس لیے کتاب ذرا مشکل ہے ، مگر قادیانیوں کا بڑے اچھے طریقے سے رد کیا ہے۔ اس کا اردو ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔ ذرا محنت کرکے پڑھنے والے اس کتاب سے خوب فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آپ نے حیات مسیح پر بھی عربی میں دو کتابیں لکھی ہیں اور ان میں مسئلہ کی پوری تحقیق کے ساتھ وضاحت کی ہے۔ مفتی محمد شفیع نے اپنی کتاب میں مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول کے متعلق ایک سو حدیثوں کا ذکر کیا ہے۔ جو تواتر کے درجہ کی ہیں۔ عربی زبان میں یہ نہایت عمدہ کتاب ہے۔ جو دمشق میں طبع ہوئی۔ موجودہ زمانے کے علمائے کرام میں سے مولانا ابو الحسن علی ندوی نے عربی زبان میں القادیانیہ لکھی ہے۔ جس سے مشرق وسطی میں اس مسئلہ کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں علمائے کرام میں سے ابوالحسن علی ندوی نے عربی زبان میں القادیانیہ لکھی ہے ۔ جس سے مشرق وسطیٰ میں اس مسئلہ کو سمجھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔ اس کے علاوہ بھی مختلف اوقات میں علمائے امت نے چھوٹی بڑی بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں قادیانیت کا رد کیا گیا ہے۔ حق و باطل : اس وقت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق دنیا میں تین مذاہب پائے جاتے ہیں۔ یہود ، نصاری اور اہل حق ، یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا گیا۔ آگے سورة نساء میں اس کا مفصل ذکر آئیگا۔ اللہ تعالیٰ نے تردید کی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی۔ لہذا یہودیوں کا عقیدہ باطل ٹھہرا نصاریٰ کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھا دیا گیا اور وہ سات گھنٹے تک مردہ رہے۔ اس کے بعد زندہ ہو کر آسمان پر چلے گئے۔ یہ بھی باطل عقیدہ ہے۔ تیسرا عقیدہ اہل حق کا ہے۔ وما قتلوہ و ما صلوبوہ۔ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ قتل کرنے میں کامیاب ہوسکے اور نہ سولی دینے میں کامیاب ہوئے۔ اور نہ ہی ان کی طبیع موت واقع ہوئی۔ بل رفعہ اللہ الیہ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سلامت باعزت اپنی طرف اٹھا لیا۔ تو اس آیت میں بھی یہی بات ہے۔ انی متوفیک۔ میں تجھے اپنے وقت پر فوت کروں گا۔ سر دست میں تجھ کو رافعک الی۔ اپنی طرف اٹھانے والا ہوں یہ بشارت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی زندگی میں ہی سنا دی جس کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا جا رہا ہے۔ واقعہ ارتفاع : اس کے بعد فرمایا ، و مطہرک ، اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! میں تجھ کو پاک کرنے والا ہوں۔ من الذین کفرو۔ ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا۔ یعنی کافروں کے ناپاک ہاتھ تجھ تتک نہیں پہنچ پائیں گے۔ چناچہ روایات میں آتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کرنے والے آئے۔ آپ کے ساتھی ، ادھر ادھر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ آپ جس مکان میں محصور تھے۔ دشمنوں نے ایک شخص کو اس مکان کے اندر بھیجا تاکہ وہ آپ کو گرفتار کرسکے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس مکان کے روشندان کے راستے اٹھوا لیا اور جو آدمی پکڑنے گیا تھا اس پر مسیح (علیہ السلام) کی شبیہ ڈال دی وہ شخص کافی دیر تک تلاش کرنے کے بعد جب خود باہر نکلا تو لوگوں نے اسے ہی مسیح سمجھ لیا اور پکڑ کرلے گئے۔ اس نے بڑا شور مچایا کہ وہ مسیح نہیں ہے مگر اس کی بات کون سنتا تھا۔ ولکن شبہ لھم ، کا یہی مطلب ہے کہ ان پر شبہ ڈال دیا گیا اور وہ اپنے ہی آدمی کو مسیح سمجھ بیٹھے اور اسے سولی پر چڑھا دیا۔ عیسی (علیہ السلام) کی ذاتی حفاظت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بشارت بھی سنائی۔ وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیمۃ۔ اور میں تیرے متبعین کو قیامت تک کے لیے کفار کے اوپر بنانے والا ہوں۔ یعنی غالب کرنے والا ہوں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا کہ تیرا اتباع کرنے والوں کو قرب قیامت تک کفار پر غالب رکھوں گا۔ اب غور فرمائیے کہ اتباع کرنے والے کون ہیں اور کفر کرنے والے کون۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں دو گروہ واضح ہیں۔ پہلا درجہ آپ کے ابتدائی دور کے حواریوں کو ہے۔ جو آپ پر ایمان لائے اور آپ کو خدا کا سچا نبی تسلیم کیا۔ موجودہ مسلمان بھی اسی گروہ مٰں شامل ہیں۔ کیونکہ یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بلکہ تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ کامل متبعین ہیں۔ البتہ متبعین کا دوسرا گروہ نصاری کا ہے۔ جو اگرچہ کامل متبعین نہیں ہیں۔ مگر وہ عزت تو کرتے ہیں تو بہرحال اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ ان دو گروہوں کو قیامت کے قریب تک غالب رکھوں گا۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا میں آج تک مسلمان یا عیسائی ہی غالب رہے ہیں ان لوگوں پر جنہوں نے کفر کیا۔ اور آپ کا کفر کرنے والے یہودی ہیں۔ جنہوں نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے ناپاک ہاتھوں سے بچا لیا۔ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک یہودی مغلوب ہی رہے ہیں۔ پوری دنیا میں ان کا کوئی وطن ہی نہیں تھا اور کوئی حکومت نہیں تھی۔ اب قریبی زمانہ میں یہودیوں کی حکومت بھی قائم ہوگئی ہے۔ اور انہوں نے اسرائیل کے نام پر اپنا علیحدہ وطن حاصل کرلیا ہے کیا اب اللہ تعالیٰ کا وعدہ غلط ہوگیا ہے ؟ نہیں ، بلکہ اللہ کا وعدہ قائم ہے۔ یہودیوں کی موجودہ حکومت کوئی مستقل حکومت نہیں ہے۔ بلکہ یہ ملک دنیا کی سپر پاورز امریکہ ، روس ، فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ چھاؤنی ہے۔ روس کے علاوہ باقی تینوں طاقتیں عیسائی ہیں۔ جب کہ روس بگڑا ہوا یہودی اور عیسائی ہے ، دہریہ اور ملحد ہے اگر اسرائیل کو ان عالمی طاقتوں کی پشت پناہی حاصل نہ ہو تو یہ ایک دن بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ ان کو امن اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے۔ کہ یا تو خدا پر ایمان لے آئیں یا دوسری قوموں کے ماتحت ہو کر رہیں۔ اس زمانے میں یہ لوگ غیر اقوام کیک ماتحتی میں ہیں اور الا بحبل من الناس کے مطابق غیروں کی سرپرستی میں گزارہ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں ان کی اپنی ذاتی حیثیت صفر کے برابر ہے جب بھی اغیار کی حمایت سے محروم ہوں گے ، مسیح (علیہ السلام) کے متبعین کے مغلوب ہی ہوں گے۔ الغرض ! فرمایا ، میں تیرا اتباع کرنے والے لوگوں کو تیرے ساتھ کفر کرنے والے لوگوں پر غالب بنانے والا ہوں۔ اور یہ سلسلہ قیامت کے قریب تک اسی طرح رہے گا۔ ثم الی مرجعکم۔ پھر قیامت کے بعد تم سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہوگا۔ فاحکم بینکم فیما کنتم فیہ تختلفون۔ پھر میں تمہارے درمیان ان چیزوں میں فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ عذاب اور ثواب : فرمایا فاما الذین کفرو۔ پس بہرحال وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ فاعذبھم عذابا شدیدا فی الدنیا والاخرۃ پس ان کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا۔ ایسے لوگ دنیا میں بھی طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہو کر ذلیل و خوار ہوں گے اور آخرت کا عذاب تو قطعی ہے۔ وما لھم من نصرین۔ اور ان کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا۔ جو مشکل وقت میں ان کو عذاب الہی سے بچا سکے۔ واما الذین امنوا وعملوا الصلحت اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور اچھے اعمال انجام دیے فیوفیھم اجورھم ، ان کو ان کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ واللہ لا یحب الظلمین۔ اور اللہ تعالیٰ ظلم و زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ایسی قوم اور ایسا شخص سزا کا مستحق ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ضرور آئے گا۔ دیکھ لیجئے وفی کا لفظ یہاں بھی آیا ہے۔ اور معنی وہی ہے اخذ الشیئ وافیا۔ کسی چیز کو مکمل طور پر لے لینا۔ اس لفظ کا لغوی معنی موت نہیں ہے۔ بلکہ موت پر یہ مجازا بولا جاتا ہے۔
Ayahs 3:58–60

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

یہ بات ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں ، یہ آیتیں ہیں اور محکم بیان ہے۔

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسی آدم (علیہ السلام) کی مثال اس کو اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا ، پھر اس نے فرمایا ہوجا ، پس وہ ہوگیا۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

حق وہ ہے جو تیرے پروردگار کی طرف سے ہے پس آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوں۔

رفع عیسیٰ (علیہ السلام) پر دلائل : گذشتہ درس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے کا ذکر ہوچکا ہے۔ اس درس میں اس موضوع پر بعض دلائل ہوں گے اور واقعہ رفع کی مزید تفصیلات پیش کی جائیں گی۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کا واقعہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر جو معجزات ظاہر فرمائے ، وہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔ کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ غیر معمولی سلوک کر رہا ہے ، پہلے گزر چکا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مٹی سے پرندے کی شکل بناتے ، پھر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے حکم سے زندہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ آپ کا دوسرا معجزہ یہ تھا۔ کہ آپ لاعلاج بیماریوں کا علاج کرتے جن امراض سے دنیا بھر کے اطباء عاجز آ چکے تھے ، عیسیٰ (علیہ السلام) ہاتھ لگاتے تو اللہ تعالیٰ شفا دے دیتا۔ اسی طرح آپ کا آسمان کی طرف اٹھائے جانا بھی عین ممکن ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش میں نفخہ جبرائیلیہ کا اثر تھا۔ اللہ کے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونکا تھا۔ تو اس کے اثر سے حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی گویا آپ کو فرشتوں کے ساتھ کامل مناسبت ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے۔ کہ جبرائیل (علیہ السلام) جن کا لقب روح القدس ہے وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے تھے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، وایدنہ بروح القدس۔ یعنی ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح القدس سے تائید فرمائی آپ کی اس غیر معمولی حیثیت کی بناء پر آپ کے اترفاع پر حیرت کا اظہار کسی طور پر مناسب نہیں۔ اس معاملہ میں شک کرنے والے لوگ نہ تو معجزات کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ انہیں اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے پر یقین ہے۔ ایسے لوگ دہریے ، پرویزی یا نیچری تو ہوسکتے ہیں ، کوئی مومن اس شبہ میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے اور دوبارہ نزول کا سلف میں سے کسی نے انکار نہیں کیا۔ حضرت قتادہ جو تابعین میں سے ہیں ، فرماتے ہیں ، فطار علی الملئکۃ وھو معہم ، عیسیٰ (علیہ السلام) فرشتوں کے ساتھ اڑتے ہوئے گئے اور فرشتوں کے ساتھ اڑنے میں کسی کو تعجب نہیں ہوتا۔ فرشتے آسمانوں میں اڑتے ہیں ، عرش الہی کے گرد چکر لگاتے ہیں اور ایسا کرنے میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔ امام بغوی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) میں چاروں صفات پائی جاتی ہیں ، یعنی انسیا ، ملکیا ، سماویا اور ارضیا ، آپ انسان ہیں۔ آپ میں ملکی صفات بھی پائی جاتی ہیں۔ آپ سماوی بھی ہیں اور ارضی بھی ہیں۔ فرشتے کے روح پھونکنے کی بناٗ پر آپ سماوی ہیں اور والدہ کی نسبت سے ارضی ہیں۔ لہذا آپ کے آسمان پر چلے جانے پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ حضرت قتادہ کے علاوہ مفسر قرآن حضرت ضحاک ، حضرت مجاہد ، حضرت عکرمہ ، سعید ابن جبیر ، سعید ابن مسیب ، حضرت حسن بصری ، محمد ابن سیرین یہ سب تابعین میں سے ہیں اور بڑے پائے کے لوگ ہیں۔ یہ سب رفع مسیح کے قائل ہیں۔ امام ابوحنیفہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ آپ نے آٹھ صحابہ کی زیارت کی ہے اور چار سے روایت بھی بیان کرتے ہیں۔ چار مسلمہ فقہا مٰں سے یہ شرف صرف امام ابوحنیفہ کو حاصل ہوا ہے۔ آپ بھی یہی فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے میں کسی قسم کا استعجاب نہیں ہونا چاہئے۔ نشانات صداقت : تو اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع کے متعلق فرمایا۔ ذلک نتلوہ علیک من الایات۔ یہ باتیں جو ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ آیات الہی میں سے ہیں۔ اس سے پیشتر حضرت مریم اور زکریا (علیہ السلام) کے واقعات کے متعلق بھی آ چکا ہے۔ ذلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔ یعنی یہ غیب کی خبریں ہیں ، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں اور آپ ان کے پاس نہیں تھے جب وہ قرعہ ڈال رہے تھے۔ کہ مریم کی کفالت کون کرے اور نہ اس وقت آپ ان کے پاس تھے ، جب وہ جھگڑ رہے تھے۔ وہاں پر بھی یہ باتیں حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی دلیل کے طور پر بیان کی گئی تھیں اور یہاں پر بھی ، نتلوہ علیکم میں آپ کی رسالت کی صداقت کا تذکرہ ہے۔ قرآن پاک میں آیت کا لفظ کئی معنوں میں آیا ہے۔ آیت کا معنی نشانی ہوتا ہے۔ چناچہ اس مقام پر آیت سے مراد یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو صحیح صحیح واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ آپ کی صداقت کی نشانی ہے۔ اور آیت کا معنی دلیل بھی ہوتا ہے۔ لایات لاولی الالباب۔ اس میں عقلمندوں کے لیے دلائل ہیں۔ اسی طرح آیت کا معنی معجزہ بھی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا کیا ہے ، آیات سے مراد احکام اور مسائل بھی ہوتے ہیں اور قرآن پاک میں کئی مقامات پر یہ لفط ان معانی میں استعمال ہوا ہے۔ فرمایا ، والذکر الحکیم ، یہ جو کچھ ہم پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ محکم بیان بھی ہے۔ بیان کا معنی Sattement یعنی مسیح (علیہ السلام) کے متعلق وضاحت ہے۔ اور حکیم سے مراد مضبوط اور مستحکم ہے۔ اس سے مراد حکمت والا بھی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان جو حواس ظاہرہ اور باطنہ کو صحیح طریقے سے استعمال کرتا ہے ، وہ یقینا یہی اعتقاد رکھے گا کہ مریم اور مسیح (علیہ السلام) الہ نہیں بلکہ انسان ہیں۔ یاد رہے کہ حواس ظاہرہ سے مراد آنکھ ، کان ، ناک اور لمس وغیرہ ہیں۔ اور حواس باطنہ میں وہم ، خیال ، فکر اور حس مشترک وغیرہ آتے ہیں۔ صانع اور مصنوع : یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص نظام کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اور یہ اللہ کی خاص مخلوق ہے۔ باقی ہر چیز عام مخلوق ہے۔ مخلوق خاص ہو یا عام یہ اللہ کی بنائی ہوئی ہے۔ اور مصنوع کہلاتی ہے اللہ تعالیٰ اس کا بنانے والا یعنی صانع ہے۔ قرآن پاک میں اس کے لیے بدیع کا لفظ آیا ہے۔ فاطر اور خالق کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ صانع کا لفظ حدیث شریف میں آیا ہے۔ ان اللہ خلق کل صانع وصنعتہ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر صانع یعنی کاریگر اور اس کی صنعت کو پیدا کیا ہے۔ اب دیکھئے جس طرح باقی اشیاٗ مصنوع ہیں ، اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) بھی مصنوع ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کا صانع ہے۔ اور ہر صاحب عقل سلیم جانتا ہے کہ ہر مصنوع چیز خواہ وہ مشینری ہو ، برتن ہو ، کپڑا وگیرہ ہو ، اپنے صانع کی دلیل ، علامت اور نشانی ہوتی ہے۔ اور اگر کسی مصنوع کو ہی صانع بنا دیا جائے تو اعتقاد باطل ہوجائے گا۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے یہاں پر لفظ آیت سے سمجھائی ہے کہ ذرا غور کرو مسیح (علیہ السلام) مصنوع ہیں ، صانع نہیں ہیں ان کو اللہ یا خدا کا بیٹا یا تیسرا خدا بنانا باطل عقیدہ ہے۔ اس طرح تو ساری حکمت ہی باطل ہوجائے گی۔ یہ عقل انسانی اور فطرت سلیمہ کے خلاف ہے کائنات میں پائی جانیوالی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی کاریگری اور صنعت کی نشانیاں ہیں۔ فی کل شیئ لہ ایۃ تدل علی انہ واحد : جو یقیناً بتاتی ہے کہ اس کا پیدا کرنیوالا خدائے واحد ہے ، شیخ سدی نے بھی کہا ہے ہر گیا ہے کہ از زمین روید وحدہ لاشریک لہ گوید جو بھی گھاس زمین سے پیدا ہوتی ہے۔ وہ زبان حال سے وحدہ لاشریک کہتی ہے ہر ہر پتہ اور ہر ہر ذرہ اپنے صانع یعنی خالق کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے۔ ہر چیز خود بخود معرض وجود میں نہیں آگئی۔ بلکہ اس کو ظاہر کرنیوالی کوئی ہستی موجود ہے۔ مولانا رومی نے یہ بات ایک مثال کے ذریعے سمجھائی ہے۔ فرماتے ہیں : ہیچ چیزے خود بخود چیزے نہ شد ہیچ آہن خود بخود تیغے نہ شد کوئی چیز خود بخود نہیں بن جاتی جس طرح کوئی لوہا خود بخود تلوار کی شکل اختیار نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا کوئی صانع ہوتا ہے۔ مقصد یہ کہ ہر مصنوع کا کوئی صانع ہے۔ اور ہر مصنوع اپنے صانع کی نشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح مسیح (علیہ السلام) بھی اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی نشانی ہوتی ہے۔ اسی طرح مسیح (علیہ السلام) بھی اپنے پیدا کرنے والے اللہ کی نشانی ہیں۔ وہ خود الہ نہیں ہیں۔ رفع کی مزید تفصیل : حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر اٹھائے جانے کے متعلق مفسرین روایت بیان کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے بادل کو مقرر کیا۔ وہ بادل قریب آیا تو آپ اس میں داخل ہوگئے۔ جب بادل آپ کو للے کر اوپر اٹھا ، تو آپ کی والدہ قریب ہی تھیں ، انہوں نے آپ کو پکڑ لیا اور چلانے لگیں مگر آپ کی والدہ قریب ہی تھیں ، انہوں نے آپ کو پکڑ لیا اور چلانے لگیں مگر آپ نے فرمایا کہ اب ہمارے اکٹھا رہنے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔ ان القیامۃ تجمعنا۔ اب قیامت ہی کو ہم اکٹھے ہوں گے۔ تفسیر جلالین میں یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد لکھا ہے کہ یہ واقعہ لیلۃ القدر کی رات پیش آیا۔ اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عمر 33 سال تھی۔ آپ کی والدہ محترمہ صدیقہ مریم آپ کے اٹھائے جانے کے بعد چھ سال زندہ رہیں۔ پھر وفات پا گئیں۔ نزول مسیح : بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں ہے۔ ینزل بقرب القیامۃ مسیح (علیہ السلام) قیامت کے قریبی زمانہ میں زمین پر نازل ہوں گے۔ یحکم بشریعۃ نبینا ہمارے نبی کی شریت کے مطابق حکم جاری کریں گے کیونکہ ان کی اپنی شریعت کا دور ختم ہوچکا ہے۔ وہ حضور خاتم النبیین ﷺ کے نائب ، امتی اور قابل جرنیل کی حیثیت سے زمین پر آئیں گے ، قرآن و سنت کے مطابق فیصلے کریں گے۔ اور جیسا کہ مسلم شریف روایت میں آتا ہے۔ دفجال اور خنزیر کو قتل کریں گے۔ صلیب کو توریں گے اور جزیے کو موقوف کریں گے۔ مسلم شریک کی ایک اور روایت کے مطابق آپ سات سال تک زمین پر ٹھہریں گے۔ ابوداود کی ایک روایت کے مطابق عیسیٰ (علیہ السلام) کی زمین پر ٹھہرنے کی کل مدت چالیس سال ہے۔ آپ 33 سال عمر گزار چکے ہیں۔ اور باقی سات سال دوبارہ نزول پر گزاریں گے۔ ایک اور روایت میں یہ بھی آتا ہے۔ کہ نزول ثانی پر یزوج ویولد لہ ، آپ نکاح کریں گے اور اولاد ہوگی۔ ابن ابی شیبہ اور مسلم کی روایت میں آتا ہے کہ جب تک عیسیٰ (علیہ السلام) زمین پر دوبارہ نازل نہیں ہوں گے۔ لاتقوم الساعۃ ، قیامت برپا نہیں ہوگی۔ آپ اتریں گے اس حالت میں کہ حکماً فیصلہ کرنے والے ہوں گے۔ مقسطا ! انصاف قائم کرنے والے ہوں گے اور اماما عادلا ، ادل امام بن کر آئیں گے۔ خلافت بھی آپ کے ہاتھ میں ہوگی اور آپ عادل خلیفہ ہوں گے۔ فیکسر الصلیب ، آپ صلیب کو توڑیں گے اب صلیب کا نشان عیسائیوں کے باطل عقیدہ کی نشانی ہے۔ ان کا ایمان ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس صلیب پر لٹک کر لوگوں کا کفارہ بن گئے۔ اسی لیے وہ اس کی پوجا کرنے لگے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ صلیب بت ہے اور شرک کی نشانی ہے۔ گلے میں لٹکا کر اور گرجے میں رکھ کر اس کی تعظیم کی جاتی ہے ، جو اس کی پرستش کے مترادف ہے۔ حالانکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ سولی پر چڑھایا گیا ، اور نہ وہ ہلاک ہوئے۔ خنزیر کو قتل کرنے کا مطلب یہ ہے۔ کہ آپ عیسائیوں کو ذلیل کریں گے کیونکہ جب رومی بادشاہ نے عیسائیت قبول کی تو اس زمانے میں انہوں نے خنزیر کو حلال قرار ردیا۔ ورنہ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام شریعتوں میں خنزیر حرام رہا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کفار سے جزیہ وصول کرنے کی مدت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول تک ہے۔ چناچہ آپ کے دوبارہ نزول پر یہ مدت ختم ہوجائے گی اور آپ جزیے کو موقوف کردیں گے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرینگے ، لہذا یا تو سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے یا تہ تیغ ہوجائیں گے۔ صحیحین میں آتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بدترین دشمن یہودیوں کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ جس پتھر یا درخت کے پیچھے چھپنا چاہیں گے ، وہ پتھر یا درخت خود بول کر کہے گا کہ اے مسلمان ! دیکھ میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کے دوبارہ نزول کے زمانے میں مال و دولت کی اس قدر فراوانی ہوگی کہ کوئی شخص صدقہ و خیرات قبول نہیں کرے گا۔ ابو داود کی ایک روایت میں آتا ہے کہ ینزل عیسیٰ ابن مریم مریم عند المنارۃ والبیضاٗ شرقی دمشق۔ آپ دمشق سے مشرقی جانب سفید مینارے پر اتریں گے۔ وہ سفید مینار بیت المقدس میں ہے۔ جو دمشق سے بجانب مشرق ہے۔ علامات قیامت : حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا قیامت سے پہلے دس بڑی نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ ان میں سے ایک مسیح (علیہ السلام) کا نزول بھی ہے۔ اس کے علاوہ دجال کا خروج ، یاجوج ماجوج کا ظہور ، سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ، لوگوں کا زمین میں دھنسایا جانا ، آگ کا نکلنا اور دابۃ الارض وغیرہ بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ حضرت حسن بصری کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ان عیسیٰ لم یمت۔ یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) نے وفات نہیں پائی۔ فانہ راجع الیکم قبل یوم القیامۃ ، کیونکہ وہ قیامت سے پہلے تمہاری طرف دوبارہ لوٹ کر آئیں گے۔ ابن ماجہ کی روایت میں معراج کے واقعہ کے متعلق آپ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب قیامت کا تذکرہ ہوا ، تو سب انبیاء نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ قیامت کب آئیگی۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا۔ اما وجب تھا فلا یعلمھا الا اللہ۔ قیامت کے وقوع کے وقت کا سوائے اللہ کے کسی کو علم نہیں۔ مجھے تو اتنی بات بتائی گئی ہے کہ میں زمین پر اتروں گا اور دجال کو قتل کروں گا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں یہ آیت آئی ہے۔ وانہ لعلم للساعۃ اس سے مراد یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی نشانی ہیں اسی طرح آگے آیت آ رہی ہے۔ وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ۔ اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ، مگر وہ مسیح (علیہ السلام) کی موت سے قبل ایمان لائے گا۔ اہل کتاب ابھی تک تو ایمان سے محروم ہیں ظاہر ہے کہ یہ پیش گوئی ان کے دوبارہ نزول کے بعد پوری ہوگی۔ اس وقت سے جتنے لوگ ہوں گے ، یا تو ایمان لے آئیں گے ، یا پھر ختم ہوجائیں گے۔ مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہ مختصر سی بات میں نے عرض کردی۔ تخلیق عیسیٰ پر مثال : حدیث شریف میں آتا ہے کہ وفد نجران کے عیسائیوں نے حضور ﷺ پر اعتراض کیا تھا۔ لم تسب صاحبنا۔ کہ آپ ہمارے صاحب یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو گالی کیوں دیتے ہیں۔ تقول لہ عبداللہ۔ آپ انہیں اللہ کا بندہ کہتے ہیں ، حالانکہ وہ تو خدا کے بیٹے ہیں اور الہ ہیں۔ نصاری کی اس احمقانہ بات پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم۔ اللہ کے ہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) جیسی ہے۔ یعنی جس طرح آدم (علیہ السلام) کا ماں باپ نہیں تھا ، اسی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ بھی نہیں ہے۔ یہاں ماں تو موجود ہے ، آدم (علیہ السلام) کی ماں بھی نہیں ہے ، یہ تو یہودی اور عیسائی سب تسلیم کرتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا۔ بائبل اور قرآن دونوں کتابوں میں یہ آیات موجود ہیں۔ لہذا اگر تم آدم (علیہ السلام) کو ماں باپ کے وسیلہ کے بغیر مانتے ہو تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے کیوں تسلیم نہیں کرتے۔ گویا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب و غریب چیز پر قیاس کرکے مسیح (علیہ السلام) کی پیدائئش کا مسئلہ سمجھایا۔ تو فرمایا بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسے آدم (علیہ السلام) کی مثال خلقہ من تراب۔ اسے اللہ نے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر نفخ فیہ الروح اس میں جان ڈالی۔ قرآن پاک میں خشک مٹی اور گارے کا ذکر بھی آتا ہے گائے میں جب خمیر پیدا ہوتا ہے تو وہ گل سر جاتا ہے۔ یہ وہ عنصر (Element) ہے جس سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ہوئی۔ اسے قرآن میں صلصال اور حما مسنون بھی کہا گیا ہے۔ اور پھر یہ بھی ذکر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا فرما کر اپنے دست قدرت سے اس میں روح ڈالی۔ ثم قال لہ کن فیکون ۔ پھر اسے کہا ہواجاؤ، تو وہ کامل انسان ہوگیا۔ آدم (علیہ السلام) کامل انسان تھے۔ عقلمند ایسے کہ نبی سے زیادہ کوئی شخص عقلمند ، ذہین اور دانا نہیں ہوسکتا۔ ڈارون کا نظریہ بالکل باطل ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ اولین انسان کی تخلیق بطور بندر ہوئی ، پھر آہستہ آہستہ ترقی کرکے انسان بن گیا۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ حضور نے فرمایا ، نبیا مکلما ، آدم (علیہ السلام) نبی مکلم تھے۔ نبی ہمیشہ کامل انسان ہوتا ہے۔ آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان اور نبی تھے۔ اور بالکل مکمل انسان تھے۔ سمجھانا یہ مطلوب ہے۔ کہ جب اللہ تعالیٰ بغیر ماں باپ کے مٹی سے انسان کی تخلیق کرلیتا ہے۔ تو عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا فرما دینا کون سی مشکل بات ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ لہذا عیسیٰ (علیہ السلام) عبداللہ یعنی اللہ کے بندے ہیں ، وہ خود الہ نہیں ہیں۔ فرمایا الحق من ربک ، حق وہ ہے جو تیرے پروردگار کی طرف سے ہے۔ فلاتکن من الممترین ، پس آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوں ۔ یہ خطاب حضور ﷺ کو ہو رہا ہے۔ مگر بات سب کو سمجھائی جا رہی ہے کہ کسی مومن کو اس بات میں شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بندے ہیں۔ خداوند تعالیٰ نے آپ کو مریم جیسی کنواری عورت کے بطن سے پیدا فرمایا ، وہ الہ نہیں ہیں۔ اس حقیقت کے واضح ہوجانے کے باوجود اگر یہ لوگ جھگڑا کریں گے ، تو پھر آگے مباہلہ کا چیلنج بھی آ رہا ہے۔
Ayahs 3:61–63

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پس جو شخص اس بارے میں آپ سے جھگڑا کرے بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے۔ پس کہہ دیجئے ، آؤ، بلائیں ہم اپنی اولادوں کو ، تم اپنی اولادوں کو ، ہم اپنی عورتوں کو ، تم اپنی عورتوں کو۔ ہم اپنی جانوں کو ، تم اپنی جانوں کو۔ پھر ہم التجا کریں اور گڑ گڑائیں۔ پھر ہم سب اللہ کی لعنت کریں ان لوگوں پر جو جھوٹے ہیں۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

بیشک یہی بات صحیح اور سچا بیان ہے۔ اور کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے۔ اور بیشک البتہ اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

پس اگر یہ لوگ قبول نہ کریں ، تو بیشک اللہ خوب جانتا ہے مفسدوں کو۔

گذشتہ دروس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں۔ وہ نہ تو خدا کے بیٹے ہیں اور نہ خود خدا ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات ایک واضح مثال کے ذریعے سمجھائی۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بغیر باپ کے پیدا ہونا ناممکنات میں سے نہیں ہے۔ آپ کی مثال حضرت آدم (علیہ السلام) کی مثال جیسی ہے۔ جسے اللہ نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا۔ اگر آدم (علیہ السلام) الوہیت کے درجے کو نہیں پہنچے ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) الہ کیسے بن گئے۔ نجران کے عیسائی وفد کا تذکرہ ابتدائے سورة ہی سے ہورہا ہے۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ عیسائیوں کی بحث نے طول پکڑا ، اور جھگڑا بڑھ گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر وفد نجران کو مباہلہ کی دعوت دی۔ ارشاد فرمایا ۔ فمن حاجک فیہ من بعد ماجاءک من العلم۔ پس جو شخص اس معاملہ میں آپ سے جھگڑا کرے ، بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم آ چکا ہے فقل تعالوا پس آپ ان سے کہیں آؤ، ندع ابناء نا وابناء کم۔ ہم اپنی اولادوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنی اولادوں کو بلاؤ۔ ونساءنا ونساء کم۔ ہم اپنی عورتوں کو بلاتے ہیں ، تم اپنی عورتوں کو بلاؤ۔ وانفسنا و انفسکم۔ ہم خود بھی آتے ہیں تم بھی خود ا اؤ۔ ثم نبتھل ، پھر ہم سب گڑگڑائیں اور التجا کریں۔ فنجعل لعنت اللہ علی الکذبین۔ پھر جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کریں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مباہلہ کرنے کا ایک طریقہ بتایا ہے۔ کہ اگر واضح دلائل دینے کے باوجود یہ لوگ حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔ تو پھر آپ انہیں چیلنج کریں کہ آؤ تم خود بھی آجاؤ اور اپنے گھر والوں کو بھی میدان میں لے آؤ۔ پھر ہم سب مل کر اللہ کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کریں۔ کہ مولا کریم ! جو فریق جھوٹا ہے۔ اس پر تیری لعنت ہو۔ ایسا گروہ تیرے عذاب میں گرفتار ہو۔ جب حضور ﷺ نے نصاری کو یہ دعوت دی۔ تو کہنے لگے ، ہم آپس میں مشورہ کرنے کے بعد جواب دیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل امام بیضاوی یوں بیان فرماتے ہیں لما دعوا الی المباھلۃ قالوا ننظر۔ جب انہیں مباہلہ کی دعوت دی گئی تو کہنے لگے ، ہم باہمی مشورہ کرتے ہیں۔ فلما تخالوا ، جب وہ علیحدگی میں ملے۔ تو ان میں سے جو زیادہ سمجھدار اور صاحب رائے تھا وہ کہنے لگا واللہ لقد عرفتم نبوتہ خدا کی قسم تم اس شخص کی نبوت کو پہچان چکے ہو۔ ولقد جاء کم بلفصل فی امر صاحبکم اور تمہارے صاحب یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اس نے فیصلہ کن بات کی ہے۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ وہ الہ ہرگز نہیں ہیں۔ اور میں کہتا ہوں ، واللہ ما باھل قوم نبیا الا ھلکو ، خدا کی قسم جس قوم نے بھی کسی نبی سے مباہلہ کیا ، وہ قوم ہلاک ہوگئی۔ فان ابیتم الا الف دینکم ، اور اگر تم اس رسول برحق کا انکار کرتے ہو۔ اور اپنے ہی دین پر قائم رہنا چاہتے ہو۔ فوادع الرجل ، تو اس شخص کے ساتھ موادعت کرلو ، مصالحت کرلو ، اور یہاں سے واپس چلے جاؤ۔ مباہلہ سے فرار : چنانچہ وہ لوگ مشورہ کے لیے باہر چلے گئے۔ حضور ﷺ خود بھی گھر تشریف لے گئے۔ اور پھر اس حالت میں باہر آئے کہ حضرت حسین آپ کی گود میں تھے۔ واخذ بید الحسن اور آپ نے حضرت حسن ؓ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ حضرت فاطمہ آپ کے پیچھے پیچھے آ رہی تھیں۔ اور حضرت علی ان کے پیچھے تھے۔ آپ ان سے فرما رہے تھے ، اذا ان دعوت فامنوا ، جب میں مباہلے کے لیے دعا کروں ، تو تم آمین کہنا۔ گویا آپ مباہلہ کے لیے بالکل تیار ہو کر تشریف لے آئے۔ جب عیسائیوں نے آپ کو اس حالت میں دیکھا تو ان کا لاٹ پادری اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا ، یمعشر النصاری ، اے نصاری کے گروہ ! ، انی لاری وجوھاً : میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں ، لو سالوا اللہ ان یزیل جبلا من مکانہ لا زال ، اگر یہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں کہ یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے ، تو وہ ضرور ہٹا دے گا۔ لہذا تمہاری خیریت اسی بات میں ہے فلا تباھلوا ، کہ تم مباہلہ نہ کرو۔ ورنہ تم تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ چنانچہ عیسائیوں کے وفد نے مباہلے کا چیلنج قبول نہ کیا۔ اور ان شرائط پر صلح نامہ کرلیا۔ کہ وہ مسلمانوں کے ماتحت رہ کر جزیہ ادا کرتے رہیں گے۔ تاہم اپنے مذہب اور اپنی رسومات پر قائم رہیں گے۔ اس معاہدے کے تحت نجران کے عیسائیوں نے سالانہ ٹیکس کے طور پر دو ہزار جوڑے کپڑے جو حلہ یا بعض روایات کے مطابق حمراء قسم کے طے پائے۔ ان میں سے ایک ہزار سوٹ صفر کے مہینہ میں اور ایک ہزار رجب کے مہینہ میں واجب الادا قرار پائے۔ اس کے علاوہ تیس زرہیں ، تیس گھوڑے ، تیس اونٹ اور لڑائی میں استعمال ہونے والے ہر قسم کے تیس تیس ہتھیار منجملہ تلوار ، نیزہ وغیرہ بھی بطور جزیہ ادا کرنے کا معاہدہ ہوا۔ صلح نامہ طے پاجانے کے بعد نصاری نے کہا۔ کہ ان کے ہمراہ کوئی دیانتدار عامل بھیج دیا جائے ، جو ایک تو ٹیکس کی اشیاء وصول کرے اور دوسرے ہمارے درمیان پیدا ہونے والے تنازعات کا تصفیہ کرے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ہاں ! میں تمہاری طرف ایک نہایت ہی امانتدار آدمی بھیجوں گا۔ چناچہ آپ نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح کو اس کام پر مامور فرمایا ، اور فرمایا ، لکل امۃ امین۔ ہر امت میں کوئی خاص امانتدار ہوتا ہے۔ اور میری امت کا سب سے بڑا امانتدار ابو عبیدہ ہے۔ بخاری اور ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت منقول ہے کہ ایک دفعہ ابوجہل نے اعلان کیا کہ اگر میں نے محمد کو کعبے کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھ لیا تو ان کی گردن روند ڈالوں گا۔ لاطئن علی عنقہ ، جب حضور ﷺ کو یہ خبر پہنچی تو فرمایا کہ اگر یہ بدبخت ایسی حرکت کرے گا ، تو فرشتے اس کو پکڑ لیں گے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ کو اس قبیح حرکت کی طاقت نہیں دے گا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہودیوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ لوگ زندگی میں بڑے حریص ہیں۔ اگر ان کا پختہ ایمان ہے۔ کہ جنت صرف انہی کے لیے ہے ، کوئی دوسرا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا تو پھر یہ لوگ موت کی تمنا کیوں نہیں کرتے ، حضور نے فرمایا۔ اگر یہ موت کی تمنا کرتے تو فوراً مر جاتے۔ اور اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لیتے۔ قرآن پاک کا دعوی اس قدر سچا ہے کہ یہودیوں نے کبھی موت کی تمنا نہیں کی۔ نیز فرمایا کہ اگر نجران کے عیسائی مباہلہ پر آمادہ ہوجاتے ، تو جب واپس لوٹتے نہ ان کا مال باقی رہتا نہ اہل۔ ہر چیز فنا ہوجاتی۔ ایک دوسری روایت میں جسے امام بیضاوی (رح) نے نقل کیا ہے۔ یہ الفاظ آتے ہیں۔ لمسخوا قردۃ وخنازیر۔ اللہ تعالیٰ ان کی شکلیں مسخ کرکے بندر اور سور بنا دیتا۔ اللہ تعالیٰ وادی نجران پر آگ برساتا اور ساری وادی آگ سے بھڑک اٹھتی ، پوری وادی میں پرندوں اور درختوں تک کوئی چیز باقی نہ رہتی۔ بغیر مباہلہ کیے لوٹ جانے سے وہ لوگ اس وبال سے بچ گئے۔ مباہلہ اور اہلبیت : پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ مباہلہ کے لیے حضور ﷺ اپنے اہل خانہ میں سے بیٹی فاطمہ ، حسن ، حسین اور علی ؓ کو لے کر نکلے۔ شیعہ حضرات اس ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے اہل بیت یہی افراد ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی اہل بیت میں شامل نہیں ہے۔ حالانکہ اہل بیت میں ازواج مطہرات بھی شامل ہیں۔ مگر سب کو اس موقع پر لانا ضروری نہیں تھا۔ یہ تو دعا کا مقام تھا۔ آپ چند افراد کو لے کر فوراً نکل آئے۔ تاہم مذکورہ روایت میں واقعہ کی پوری تفصیل موجود نہیں ہے۔ ابن عساکر (رح) بہت بڑے مورخ گزرے ہیں۔ جنہوں نے بڑی مستند تاریخ لکھی ہے۔ وہ امام جعفر صادق (رح) سے اور وہ اپنے والد امام محمد باقر (رح) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ جب حضور نبی کریم ﷺ مباہلہ کے لیے تشریف لائے تو ان کے ساتھ حضرات ابوبکر صدیق ، عمر فاروق ، عثمانِ غنی علی المرتضی ؓ اور ان سب کی اولاد بھی تھی۔ یہ روایت امام جلال الدین سیوطی (رح) نے درمنثور میں اسی طرح بیان کی ہے۔ اور یہی روایت تفسیر روح المعانی میں بھی موجود ہے۔ تاہم پہلی مذکورہ روایت میں باقی تین حضرات اور ان کی اولاد کا ذکر نہیں ہے دونوں روایات کو جمع کرنے سے پوری صورت حال سامنے آجاتی ہے۔ شیعہ حضرات تو حقائق کو اس حد تک مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہ حضرت فاطمہ کے علاوہ حضور ﷺ کی کسی دوسری بیٹی کو تسلیم ہی نہیں کرتے حالانکہ آپ کی تین صاحبزادیاں حضرت فاطمہ کے علاوہ تھیں جو واقعہ مباہلہ سے قبل فوت ہوچکی تھیں۔ حضرت رقیہ 2 ھ میں فوت ہوئیں۔ آپ غزوہ بدر کے لیے تشریف لے گئے تو رقیہ مدینہ میں فوت ہوگئیں۔ آپ ان کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوسکے۔ بدر سے واپس آ کر ان کی قبر پر جا کر دعا کی۔ اس کے بعد ام کلثوم کا حضرت عثمان غنی سے نکاح ہوا ، مگر کچھ عرصہ بعد وہ بھی وفات پا گئیں۔ پھر آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی حضرت زینب 8 ھ میں فوت ہوئیں ، اس کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔ واقعہ مباہلہ 9 ھ یا 10 ھ میں پیش آیا ، جب کہ آپ کی تین صاحبزادیاں 8 ھ تک فوت ہوچکی تھیں۔ مگر نہایت افسوس کا مقام ہے۔ کہ شیعہ سوائے حضرت فاطمہ کے آپ کی کسی اور صاحبزادی کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ان حضرات کا معتبر مصنف ملا باقر مجلسی اپنی کتاب حیات القلوب میں لکھتا ہے کہ جب حضور ﷺ مباہلے کے لیے نکلے تو مہاجرین اور انصار سب آپ کے ساتھ تھے۔ قرآن پاک نے ازواج مطہرات کو صریحاً اہل بیت فرمایا ہے خود حضور ﷺ نے ایک موقع پر ازواج کو اہل بیت میں شریک کیا تھا۔ لہذا شیعوں کا عقیدہ باطل ہے۔ مباہلہ کی مشروعیت : یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ نے خود تو مباہلہ فرمایا ، کیا یہ آپ کے بعد بھی ہوسکتا ہے ؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ ہمارے بزرگوں میں سے محقق فرماتے ہیں کہ مباہلہ اب بھی جائز ہے۔ مگر بعض فرماتے ہیں۔ کہ مباہلہ حضور ﷺ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھا۔ اگر آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص مباہلہ کرے گا ، تو اس کے وہ نتائج بر آمد نہیں ہوسکتے ، جو حضور ﷺ کے اپنے زمانے میں ہوتے ، تاہم اس کے جواز کی گنجائش موجود ہے۔ چناچہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں ، کہ جب نصاری حضور ﷺ کے مقابلہ پر آئے تو ان کے سمجھداروں نے کہا ، اے گروہ نصاریٰ ! تم خوب سمجھ چکے ہو کہ محمد ﷺ نبی مرسل ہیں اور انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کے متعلق بڑی واضح اور فیصلہ کن بات کی ہے۔ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل میں آخری نبی بھیجنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ لہذا کچھ بعید نہیں کہ یہ وہی نبی ہوں جن کی بشارت ہم سنتے چلے آ رہے ہیں۔ یاد رکھو ! نبی کے ساتھ مباہلہ کسی قوم کے حق میں اس کے سوا کی انکل سکتا ہے کہ ایسی قوم کا کوئی چھوٹا بڑا عذاب الہی سے نہ بچ سکے۔ اور پھر پیغمبر کی لعنت کا اثر نسلوں تک پہنچے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ہم ان سے صلح کرکے اپنی بستیوں کو لوٹ جائیں۔ ہم سارے عرب سے لڑائی مول نہیں لے سکتے آخر آپ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ حسن ، حسین ، فاطمہ اور علی ؓ کو ساتھ لیے باہر تشریف لا رہے تھے۔ یہ نورانی صورتیں دیکھ کر عیسائیوں کے لاٹ پادری نے کہا ، میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو بھی ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ تم ان سے مباہلہ کرکے اپنی ہلاکت کو دعوت نہ دو ۔ ورنہ زمین پر ایک بھی نصرانی باقی نہیں رہے گا۔ چناچہ نجرانیوں نے مقابلہ ترک کردیا۔ جزیہ دینا قبول کیا اور صلح کرکے واپس چلے گئے۔ مولانا عثمانی (رح) لکھتے ہیں۔ کہ قرآن پاک نے یہ نہیں بتایا کہ مباہلہ حضور ﷺ کے بعد بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ مباہلے کا اثر آپ کے بعد بھی وہی ہونا چاہیے جو آپ کی موجودگی میں ہونے والا تھا۔ البتہ بعض سلف اور بعض فقہائے حنفیہ کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ مباہلے کی مشروعیت اب بھی باقی ہے مگر یہ صرف انہی معاملات میں ہو سکتا ہے ، جن کا قطعی ثبوت موجود ہو۔ اب مباہلے میں عورتوں اور بچوں کو شریک کرنا بھی ضروری نہیں۔ اور اس قسم کا عذاب آن ابھی لازمی نہیں جیسا کہ حضور ﷺ کے ساتھ مباہلہ پر آتا۔ تاہم اس وقت مباہلہ اتمام حجت اور بحث و مباحثہ کو ختم کرنے کی ایک صورت ہے۔ مولانا عثمانی یہ بھی فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں مباہلہ ایک عام کاذب کے ساتھ نہیں بلکہ کاذب معاند (عناد کرنیوالا) کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ان یباھل من عاند الحق فی امر عیسیٰ بعد ظھور البیان۔ کہ آپ ایسے شخص کے ساتھ مباہلہ کریں جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق حق کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ جب کہ دلائل وبراہین کے ساتھ بات بالکل واضح ہوچکی ہے۔ اور تمام قرائن سے ثابت ہوگیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) خدا کے پیدا کیے ہوئے اس کے بندے ہیں ، وہ خود الہ نہیں ہیں ، بہرحال مباہلہ اب بھی جائز ہے مگر اس قسم کے ٹھوس معاملات میں۔ بعض لوگ معمولی مسائل مثلاً فاتحہ خلف امام یا آمین وغیرہ میں مباہلہ پر تیار ہوجاتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے۔ حق بات : فرمایا ان ھذا لھو القصص الحق۔ بیشک البتہ یہ بیان ہے سچا۔ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق جو واقعات بیان ہوئے ، ہیں ، یہ بالک لصحیح ہیں۔ قصص ، قصہ کی جمع ہے اور قصہ واقعہ کو کہتے ہیں۔ قص یقص بیان کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس مقام میں قصص ، مصدر بمعنی بیان کرنا ہے ، قص کا اصل معنی نقش قدم کو تلاش کرنا ہے قاص واعظ کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی واقعات کے پیچھے چلتا ہے۔ الغرض فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) کے متعلق یہ دعویٰ کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، بالکل صحیح بیان ہے۔ وما من الہ الا اللہ ، اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ یعنی مستحق عبادت نہیں ہے وہ نافع اور ضار ہے ، خالق ، قیوم ، قادر مطلق اور علیم کل ہے۔ وہ جو چاہے کرے وہ ازلی ابدی قائم و دائم ہے۔ وہی بگڑی بنانے والا ہے۔ وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ آگے سورة مائدہ اور بعض دوسری سورتوں میں بھی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تفصیل سے موجود ہے کہ وہ خود بھی محتاج ہیں۔ فرمایا۔ وان اللہ لھو العزیز الحکیم۔ بیشک خدا تعالیٰ ہی غالب اور کمال قوت رکھنے والا حکیم ہے۔ وہ اپنی حکمت سے چاہے کسی کو بغیر باپ کے یا ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا فرما دے۔ وہ کمال حکمت کا مالک ہے۔ مفسدین کو تنبیہ : فرمایا ، فان تولوا۔ اگر یہ لوگ اعراض کریں۔ حق واضح ہوجانے کے بعد بھی خدا کی وھدانیت کو تسلیم نہ کریں۔ اور اسی طرح عناد کرتے رہیں۔ تو آپ فرما دییکجئے۔ فان اللہ علیم بالمفسدین۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اور زمین میں سب سے بڑا فساد شرک ہے۔ کیونکہ امن کا قیام ، ایمان ، توحید ، اطاعت اور نیکی سے ہی ممکن ہے۔ کفر ، شرک اور برائیوں سے بدامنی ، فساد ، بد اعتقادی ، ذہنی پستی اور طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ لہذا خوب اچھی طرح سمجھ لو ، کہ فسادی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ فساد کی خاطر کفر و شرک کا ارتکاب کرنے والے اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ضرور سزا دے گا۔