Ayah 3:64ربط آیات : جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ سورة بقرہ میں روئے سخن زیادہ تر یہودیوں کی طرف تھا۔ اور اس سورة آل عمران میں زیادہ تر عیسائیوں کے عقائد باطلہ کی تردید ہے۔ اس سورة میں تقریباً 83 آیات نجران کے عیسائیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں جو حضور ﷺ سے بحث مباحثہ کرنے کے لیے مدینہ طیبہ آئے تھے۔ مگر جب آپ نے مباہلہ کا چیلنج پیش کیا ، تو انہوں نے قبول نہ کیا۔ بلکہ جزیہ ادا کرنے پر رضا مند ہو کر صلح کرلی۔ اور واپس چلے گئے۔ اہل کتاب کے ان دونوں گروہوں کے عقائد باطلہ کی بیخ کنی کی گئی ہے۔ اور دلائل کے ساتھ ان کا رد کیا گیا ہے آج کی آیت میں یہود و نصاری دونوں کو مخاطب کرکے عقیدہ توحید کی دعوت دی گئی ہے۔ جو کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے۔
عقیدہ توحید :
ارشاد ہوتا ہے۔ قل یا اھل الکتب ، اے نبی (علیہ السلام) آپ فرما دیجئے اے اہل کتاب ! یعنی اے تورات کے ماننے والے یہودیو ! اور انجیل کے ماننے والے عیسائیو ! یہ دونوں گروہ کفر و شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کرکے اور انہیں ایذا پہنچا کر کفر کا ارتکاب کیا جب کہ عیسائیوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کا درجہ دے کر شرک کو اختیار کیا۔ اس زمانے میں اہل کتاب کے علاوہ ایران کے آتش پرست مجوسی تھے اور وہ بھی مشرک ، عرب کے لوگ جو اپنے آپ کو ابراہیمی کہلاتے تھے ، وہ بھی کفر و شرک میں غرق تھے۔ نزول قرآن کے زمانے میں کوئی اکا دکا آدمی ہی ملت ابراہیمی پر چلنے والا ہوگا۔ ورنہ سب کے سب کفر و شرک کی ظلمان میں ٹھوکریں کھا رہے تھے۔
ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) سے اہل کتاب کو کہلوایا ، تعالوا الی کلمۃ ، ایک ایسے کلمے کی طرف آجاؤ، سواء بیننا و بینکم ، جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ یعنی مسلم ہے۔ اس بارے میں تورات ، انجیل اور قرآن کی بات مساوی ہے۔ یعنی مسلم ہے۔ اس بارے میں تورات ، انجیل اور قرآن کی بات مساوی ہے۔ اور وہ ہے مسئلہ توحید یہ سب کا مشترکہ مسئلہ ہے یعنی الا نعبد ال اللہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔ اس مسئلہ پر تورات و انجیل اور قرآن پاک متفق ہیں بلکہ ہر نبی کی یہی تعلیم ہے۔ لہذا ہم سب اس پر کاربند ہوجائیں۔ قرآن پاک نے یہی مسئلہ دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ، فاعبدو اللہ مخلصین لہ الدین ، پس اللہ کی عبادت کرو اپنے دین کو اسی کے لیے خاص کرکے۔ ہر نبی نے اپنے قوم سے یہی کہا۔ یقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ، ، اے قوم ! صرف اسی ایک خدا کی عبادت کرو ، اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ ولا نشرک بہ شیئا اور اس کے ساتھ ہم کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ، امام ابن خثیر لفظ شیئا کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔ لا وثنا ولا صلیبا ولا صنما ولا طاغوتا ولا نارا ولا شیئا۔ یعنی آؤ ہم اس بات پر متفق ہوجائیں کہ ہم اللہ کے ساتھ نہ بت کو شریک بنائیں گے ، نہ صلیب کو ، نہ طاغوت کو ، نہ آ گ کو اور نہ کسی اور چیز کو۔ طاغوت کے متعلق قرآن پاک کی تعلیم موجودہ واجتنبوا الطاغوت ، طاغوت سے بچو۔ شاہ عبدلقار نے طاغوت کا معنی ہڑدنگا کیا ہے۔ یعنی وہ شخص جو کسی کے بنانے سے نہیں بلکہ خود ہی چودھری بن جائے۔ اور یہ شیطان کی خصلت ہے بلکہ ساری باطل طاقتین اسی قبیل سے ہیں۔
مقصد یہ کہ اہل کتاب کو دعوت دی گئی ہے۔ کہ آؤ ہم سب مل کر اپنی عبادت اللہ ہی کے لیے مخصوص کردیں۔ چناچہ ہر مومن ، ہر نماز کی ہر رکعت میں اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اے مولا کریم ! ایا کعبد ، ہم تجھے ہی عبادت کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں۔ لا نعبد غیرک۔ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ مگر عیسائیوں نے اقنوم ثلاثہ کا عقیدہ گھڑ لیا یعنی باپ ، بیٹا اور روح القدس تین مل کر ایک خدا بنتے ہیں۔ پھر تینوں الگ الگ بھی خدا ہیں۔ عجیب ملغوبہ ہے۔ بالکل مشرکانہ عقیدہ ۔ نہ تو تین خدا ہیں اور نہ تینوں ایک ہیں۔ یہ سب بناوٹی عقیدے ہیں۔ یہ باتیں پولس نے عیسائیوں کے عقیدے میں داخل کیں۔ انجیل کی تعلیم کے بالکل خلاف ہے۔ نہ کوئی خدا کا اوتار ہے اور نہ کوئی اس کا مظہر ہے۔ یہ تو ہنود کا عقیدہ ہے۔ عیسائیوں کا عقیدہ بھی ان کے ساتھ ملتا جلتا ہے کہ خدا کسی انسان کے روپ میں آ کر ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح وہ شخص اوتار یا مظہر خدا کہلاتا ہے۔ کہیں مریم پرستی ہورہی ہے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کی تصویروں کو گرجوں میں رکھ کر ان کی تعظیم کی جاتی ہے۔ ان کو مادر خدا کہتے ہیں۔ ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے ہیں۔ مسیح پرستی کے علاوہ موجودہ عیسائیوں میں پاپائیت بھی پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے بڑے راہنماؤں کو الوہیت کے درجے پر پہنچا دیتے ہیں۔ مسلمانوں میں میں اولیاء پرستی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ شہدا پرستی اور پیر پرستی مسلمانوں میں عام پائی جاتی ہے۔ ان کی ایسی تعظیم کرتے ہیں جیسی خدا کی کرنی چاہئے۔ ان کی بات کو خدا اور رسول کی بات سے مقدم سمجھتے ہیں۔ ان کے سامنے سجدے کرتے ہیں۔ اور ان کا تقرب حاصل کرنے کے لیے نذر و نیاز دیتے ہیں۔
قبر پرستی :
قبر پرستی کی بیماری یہود و نصاری میں تھی اور اب مسلمانوں بھی عام ہے۔ حکومت خود اس معاملے میں پیش پیش ہے۔ چادریں چڑھائی جا رہی ہیں۔ قبروں کی بےجا تعظیم ہورہی ہے۔ یہ سب شرکیہ رسوم اور اسراف ہے۔ بھائی ! قبروں پر جا کر وہ کام کرو ، جو شریعت سے ثابت ہے اور جس کا حکم دیا گیا ہے۔ وہاں جا کر فاتحہ پڑھو۔ اور فوت شدگان کے لیے دعا کرو۔ حضور ﷺ نے خود اپنے متعلق فرمایا ، اللہم لا تجعل قبری وثنا یعبد ، اے اللہ ! میری قبر کو صنم یا بت نہ بنانا کہ لوگ اس کی پوجا کرنے لگیں۔ اس زمانے میں قبر پرستی کی بہت سی صورتیں رائج ہیں۔ یہ عرس کیا ہے۔ شرک و بدعت کے ارتکاب کا ایک طریقہ ہے۔ قبر کو پختہ بنانا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، لا تجصصوا ، قبروں پر چونا نہ لگاؤ۔ مگر اب چپس ہو رہے ہیں۔ گنبد بنائے جا رہے ہیں۔ نقش و نگار ہوتا ہے۔ اللہ کے بندو ! یہ اینٹ ، مسا کسی غریب کو دے دو ، اس کے سر چھپانے کے لیے جھونپڑی بن جائے اور تمہیں ثواب بھی حاصل ہو ، کسی محتاج کی دعائیں لو ، قبروں پر چراغاں کرنے ، بلب لگانے اور پنکھے نصب کرنے سے کیا حاصل۔ یہ تو صریحاً قبر پرستی ہے۔
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (رح) بہت بڑے ولی اللہ ہوئے ہیں۔ آپ کا لقب سلطان الہند ہے۔ تقریباً نوے لاکھ انسانوں کو آپ کی وساطت سے ایمان کی دولت نصیب ہوئی ، اسی طرح سید خواجہ علی ہجویری (رح) نے اپنے پیرو مرشد حضرت فتلی (رح) کے حکم سے لاہور تشریف لائے اور تبلیغ کا کام کیا۔ جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا ، تو عرض کیا ، حضرت ! وہاں تو سید میراں حسین زنجانی (رح) تبلیغ دین میں مصروف ہیں میں وہاں جا کر کیا کروں گا۔ فرمایا ، جاؤ میرے حکم کی تعمیل کرو۔ چناچہ آپ لاہور تشریف لے آئے۔ جب آپ شہر میں داخل ہوئے تو ایک جنازہ نظر پڑا۔ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ سید میراں حسین زنجانی کا جنازہ جا رہا ہے۔ غرضیکہ خواجہ اجمیری (رح) نے ہندوستان میں دین کی بہت بڑی خدمت کی۔ ان کے متعلق شاہ ولی (رح) فرماتے ہیں کہ جو کوئی شخص ان کی قبر پر یا سالار مسعود غازی کی قبر پر اس غرض سے جاتا ہے کہ ان سے کوئی حاجت طلب کرے ، وہ قتل اور زنا سے زیادہ سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح لاہور میں حضرت علی ہجویری (رح) بہت بڑے عالم اور بزرگ تھے۔ ان کی بلندی درجات کے لیے دعا کرنا تو جائز ہے۔ مگر مافوق الاسباب کسی کی مراد پوری کرنا اور حاجت روائی کرنا تو صرف شان خداوندی ہے۔ یہ ان بزرگوں کی شان نہیں ہے۔ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے واسطے سے ہمارا خاتمہ بالخیر ہو۔ جنت میں ان کی معیت نصیب ہو۔ ایصال ثواب کرنا ہے۔ تو اپنے گھر پر ہی مساکین کو کھانا کھلا دو کپڑے پہنا دو ۔ دیگر ضروریات مہیا کردو اور دعا کردو کہ اللہ تعالیٰ اس کا اجر خواجہ معین الدین چشتی (رح) کو یا خواجہ مسعود سالار غازی (رح) کو یا حضرت علی ہجویری (رح) کی روح مبارک کو پہنچائے۔ ان کے درجات بلند کرے۔ یہ سب کچھ اپنے مقام پر بھی ہوسکتا ہے وہاں چل کرجانے کی کیا ضرورت ہے۔
شرک کی لعنت :
حکام پرستی اور ملوک پرستی بھی ، شیئا ، میں شامل ہے اور شرک ہی کی قسم ہے۔ جاپانی شینٹو ازم یعنی ملوک پرستی میں مبتلا تھے۔ وہ لوگ اپنے بادشاہ کو الٰہ کا درجہ دیتے تھے۔ بادشاہ کو کلی اختیار تھے ، جو چاہے کرے ، اس پر کوئی قدغن نہ تھی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے کہ مسلمہ بات یہ ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ نہ کسی کو حاضر و ناظر فرمائیں ، نہ مختار کل ، نہ علیم کل ، نہ مشکل کشا اور حاجت روا ، کسی کو پیر دستگیر اور غوث اعظم بھی بھی تسلیم نہ کریں۔ یہ سب شرکیہ باتیں ہیں۔ صرف خدا تعالیٰ کے لائق ہیں۔ مافوق الاسباب حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف خدا کی ذات ہی کرسکتی ہے۔ جگہ جگہ یا علی اور یا غوث لکھا ہوا ہے یہ سب شرک کی نشانیاں اور غلط عقیدے کا اظہار ہے۔ پیروں کے سامنے رکوع اور سجدہ کیا جاتا ہے۔ بلکہ قبروں پر بھی سجدے ہوتے ہیں۔ یہ تو انجیل نے بھی منع کیا ہے۔ وہاں یہ آیت موجود ہے۔ خداوند کو سجدہ کر اور صرف اسی کی عبادت کر مگر عیسائی اس کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ مسیح (علیہ السلام) کو ابن اللہ یا الٰہ مانتے ہیں۔ مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ہیں۔ جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ہونا چاہئے۔
(بزرگان دین کے کلام میں پیر دستگیر اور غوث اعظم وغیرہ الفاظ بعض مقامات پر استعمال کیے گئے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس سے ہرگز وہ معانی مراد نہیں لیے جو اہل شرک مراد لیتے ہیں۔ بلکہ غوث سے مراد ایسی مقبول کار آمد مستجاب الدعویات ہستی جن کی دعاؤں اور برکات سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو فیض پہنچاتا ہے اور یہ لوگوں کا تزکیہ کرتے ہیں اور روحانی فیض پہنچاتے ہیں اور لوگوں کی طرح طرح کی مشکلات اور ضروریات کی گرہ کشائی ان حضرات کی تعلیم و تربیت ، تلقین و تزکیہ تصفیہ ، دعاؤں اور توجہات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی رہتی ہے۔ 12۔ عبدالحمید سواتی)
آگے فرمایا ، ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ ، ہم میں سے بعض بعض کو اللہ کے سوا رب نہ بنا لیں۔ کسی کو رب بنانا بھی کفر اور شرک میں داخل ہے۔ لا رب سواہ ، خدا کے سوا کوئی رب نہیں۔ ہم بار بار پڑھتے ہیں ، الحمد للہ رب العالمین ، پھر یہ بھی کہتے ہیں ، قل اعوذ برب الناس ، ملک الناس ، مطلب یہ کہ ربوبیت کا ، مالک ، پرورش کرنے والا کسی چیز کو درجہ کمال تک پہنچانے والا اور تمام اسباب مہیا کرنے والا صرف اور صرف خدا تعالیٰ ہی ہے۔ لہذا اس کے سوا کسی کو رب نہ بنائیں۔
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں۔ کہ توحید کے دو درجے تو مشرک بھی مانتے ہیں یعنی واجب الوجود اور خالق۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ خدا کی ذات واجب الوجود ہے اور وہی ہر چیز کا خالق ہے۔ مگر خرابی تیسرے اور چوتھے درجے میں جا کر پیدا ہوتی ہے۔ تیسرا درجہ تدبیر کا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ ہی مدبر ہے۔ وہی ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے۔ مگر مشرک لوگ یہاں آکر پھسل جاتے ہیں۔ نجومی ستاروں کو بھی تدبیر کنندہ سمجھتے ہیں۔ عیسائی اس کی نسبت مسیح (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں یہودی عزیر (علیہ السلام) کی طرف اور باقی مشرک کسی اور طرف۔ اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ توحید کا چوتھا درجہ عبادت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پورے خلوص کے ساتھ انتہائی درجے کی تعظیم صرف خدا کی ہی ہوسکتی ہے کوئی دوسری ہستی مستحق عبادت نہیں ہے۔ مگر حال یہ ہے۔ کہ لوگ مالی اور جانی ہر قسم کی عبادتیں خدا کے علاوہ دوسروں کے سامنے انجام دیتے ہیں۔ اور اس طرح شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اپنے پیرو و مرشد امام جعفر صادق (رح) سے عرض کیا۔ اے رسول اللہ کے فرزند ! یہ فرمائیں۔ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت بھی کسی کے سپرد کی ہوئی ہے انہوں نے کہا ، معاذ اللہ ! اللہ نے اپنی ربوبیت کسی کے سپرد نہیں کی۔ ربوبیت کے کام وہ خود انجام دیتا ہے لوگوں کی حاجات پوری کرنے کا اس نے کسی کو اختیار نہیں دیا۔ ابن جریج فرماتے ہیں کہ گناہ کے کام میں کسی کی اطاعت کرنا اور غیر اللہ کے آگے سجدہ کرنا بھی بعض کو بعض کا رب بنانا ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد حضرت عکرمہ کا قول ہے کہ بنیادی طور پر ، ارباباً من دون اللہ ، تحلیل و تحریم کے بارے میں ہے۔ اس کا پتہ خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کے ایک واقعہ سے چلتا ہے۔ حاتم طائی کی سخاوت ضرب بن چکی چکی ہے۔ امام قتیبہ نے اپنی کتاب الشعر و الشعراٗ میں تذکرہ کیا ہے۔ کہ حاتم کی سخاوت کو شہرت ایسے ہی حاصل نہیں ہوگئی۔ اس شخص نے انیس مرتبہ اپنا گھر بار ، مال و متاع لٹا دیا تھا۔ عیسائی مذہب رکھتا تھا اور اسی پر اس کی موت واقع ہوئی۔ اس کا بیٹا عدی بن حاتم بھی عیسائی تھا اور ابتداء میں اسلام کا سخت مخالف تھا۔ مگر کسی نیک آدمی کے مشور سے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوا ، اس کی بہن کو بھی ایمان کی دولت نصیب ہوئی۔ عدی خود بیان کرتے ہیں کہ جب میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو اس وقت ، فی عنقی صلیب من ذھب ، میری گردن میں سونے کی صلیب لٹک رہی تھی۔ آنحضرت (علیہ السلام) نے دیکھتے ہی فرمایا ، الق عنک ھذا الوثن ، اس بت کو اپنی گردن سے اتار پھینک۔ گویا آپ نے صلیب کو وثن کہا۔ صنم اور وثن میں فرق یہ ہے کہ جو بت گھڑا ہوا ہوتا ہے ، وہ صنم کہلاتا ہے۔ اور جو ان گھڑا ہو ، اسے وثن کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے صلیب کو وثن فرمایا۔ نیز حضور ﷺ نے یہ بھی تلاوت فرمایا ، اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ ، ان یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مولویوں اور درویشوں کو رب بنا لیا ہے۔ حضرت عدی کہتے ہیں۔ میں نے عرض کیا ، حضرت ! ماکنا نعبدھم ، ہم ان کی عبادت تو نہیں کرتے تھے۔ رب تو جب بناتے جب ان کی عبادت کرتے۔ اس پر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ الیس انھم کانو یحلون لھم ما حرم اللہ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ اہل کتاب کے مولوی اللہ کی حرام کردہ اشیاء کو حلال قرار دیتے تھے اور وہ لوگ اسے حلال ہی سمجھتے تھے۔ نیز یہ کہ جس چیز کو اللہ نے حلال فرمایا یہ درویش اس چیز کو حرام قرار دے دیتے تھے ، اور وہ لوگ اسے حرام ہی سمجھتے تھے۔ حضرت عدی ؓ نے عرض کیا ، حضور ! ایسا تو ہے۔ تو آپ نے فرمایا۔ یہی تو رب بنانا ہے۔ کیونکہ حلال و حرام ان کے اختیار میں نہیں تھا۔
شاہ والی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں سے ہے۔ البتہ جب اس کی نسبت نبی کی طرف ہوتی ہے تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کی حلت یا حرمت کی قطعی علامت ہے۔ نبی خود حلال و حرام نہیں کرتا۔ بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کرتا ہے ۔ جس چیز کو مجتہد حلال یا حرام ٹھہراتے ہیں ، اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں دیا ہے۔ انہیں خود ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جس چیز کا نبی کو اختیار نہیں ، مجتہد کو کیسے ہوسکتا ہے۔
شیعہ حضرات اپنے ائمہ کے متعلق یہ اعتقاد رکھتے ہیں۔ یحلون ما یشاڑون و یحرمون ما یشاءون ، یعنی ان کے امام معصوم ہیں وہ جس چیز کو چاہیں حلال قرار دیں اور جس کو چاہیں حرام کردیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معصوم صرف نبی ھ کی ذات ہے۔ یہ گارنٹی صرف اسے حاصل ہے کہ اس سے گناہ سرزد نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لہذا شیعوں کا عقیدہ اس معاملے میں درست نہیں ہے۔
حضور ﷺ نے مختلف ممالک کے فرمانرواؤں کو بذریعہ خطوط و مکاتیب اسلام کی دعوت دی۔ ان خطوط میں ایک خط قیصر شاہ روم کے نام بھی تھا۔ یہ دعوت نامہ آپ نے 7ھ میں دحیہ ابن خلیفہ کلبی ؓ کے ہاتھ گورنر شام کی معرفت بھیجا تھا۔ اس خط کے الفاظ یہ ہیں ہیں :
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد الرسول اللہ الی ھرقل عظیم الروم سلام علی من اتبع الھدی۔
یہ خط اللہ کے رسول محمد ﷺ کی طرف سے رومیوں کے بادشاہ ہر قل جو عظیم ہے رومیوں کا ، کی طرف ہے۔ سلامتی ہو اس پر جس نے ہدایت کی تابعداری کی۔ اما بعد ، فاسلم تسلم ، اسلام لے آؤ، سلامتی پا جاؤگے۔ واسلم یوتک اللہ اجرک مرتین ، اسلام قبول کرلو ، اللہ دوہرا اجر دیگا۔ عیسائیت کے بعد اگر ایمان لے آؤ گے تو عیسائیت کا اجر بھی ملے گا اور اسلام لانے کا اجر بھی یعنی دوہرا اجر ملے گا۔ فان تولیت ، اور اگر تم روگردانی کروگے ۔ فان علیک اثم الیریسین۔ تو تمام رعیت کا گناہ بھی تم پر ہوگا۔ کیونکہ تمہاری وجہ سے سب لوگ ایمان سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے بعد یہ آیت لکھی جو آج کے درس میں آئی ہے۔ یا اھل الکتب تعالوا الی کلمۃ سواء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون۔
حضور نبی کریم رؤوف الرحیم ﷺ صبح کی نماز کی سنتوں میں پہلی رکعت میں پہلے پارے کی یہ آیت تلاوت فرماتے تھے۔ قولوا امنا باللہ وما انزل الینا وما انزل الی ابراھیم واسمعیل واسحق ویعقوب والاسباط وما اوتی موسیٰ و عیسیٰ وما اوتی الننبیون من ربھم۔ لا نفرق بین احدھم منہم ونحن لہ مسلمون۔ اور دوسری رکعت میں آج کی آیت ، یا اھل الکتب ، تلاوت فرماتے ۔ بعض اوقات آپ پہلی رکعت میں سورة کافرون اور دوسری رکعت میں سورة اخلاص بھی تلاوت فرماتے۔ یہ آیات اور سورتیں عقیدہ توحید اور تردید شرک پر مشتمل ہیں۔ اس لیے بڑی اہم ہیں۔ ان میں اسلام کی بنیادی باتیں اور اس کی دعوت ہے۔
Ayahs 3:65–68ربط آیات : گذشتہ ادرس میں اہل کتاب کو اس کلمہ توحید کی دعوت دی گئی تھی ، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) ، تمام کتب اور تمام شرائع کا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ یعنی خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ اور ہم ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنے احبار اور رہبان کو رب بنا لیا۔ اور رب بنانے سے مراد یہ ہے کہ جس چیز کو مولوی اور درویش حلال قرار دے دیں اسے حلال سمجھ لیا جائے اور جسے حرام کہیں اس کو حرام ہی سمجھ لیں۔ گذشتہ درس میں اس بات کی وضاحت کردی گئی تھی کہ تحلیل و تحریم اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے۔ اس کے سوا کسی کو حلال یا حرام قرار دینے کا اختیار نہیں جب نبی کسی چیز کو حلال یا حرام کہتا ہے۔ تو اس کو قطعی سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ نبی وہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیان کرتا ہے۔ آج کے درس میں بھی خطاب اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ دونوں سے ہے۔ اور ان کے آپس کے جھگڑے کے متعلق ہے ، جو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق کرتے تھے۔
شان نزول : حضرت حسن بصری (رح) اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب نجران کے عیسائی حضور ﷺ کے ساتھبحث و مناظرہ کرنے کے لیے مدینے آئے ، تو مدینے کے یہودی بھی جمع ہوگئے۔ عیسائیوں کا لاٹ پادری بھی وفد میں شامل تھا ، ادھر یہودیوں کے علماء بھی اکٹھھے ہوگئے اور یہ دونوں گروہ آپس میں جھگرنے لگے۔ یہودی کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہمارے طیرقے پر تھے۔ مگر نصاریٰ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ ان کا دعویٰ تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) عیسائیوں کے طریقے پر تھے۔ مگر دوسرا گروہ اسے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ گویا دونوں گروہ اپنی نسبت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے تھے۔ یہ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں بھی پیش ہوا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر یہود و نصاریٰ دونوں گروہوں کی تردید فرمائی کہ دونوں فریق ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے سے ہٹ چکے ہیں۔ لہذا ان کی خالی نسبت کا کچھ فائدہ نہیں۔
ارشاد ہوتا ہے : یا اھل الکتب ، اے یہودیو اور عیسائیو ! لم تحاجون فی ابراھیم ، تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگرتے ہو۔ یہودیوں کا دعوی ہے۔ کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے۔ حالانکہ آپ کو یہودیت سے کیا تعلق۔ یہودیت تو تورات کو مسخ کرنے سے پیدا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے جس تورات کو نازل فرمایا یہودیوں نے اس میں تحریف کی۔ اس میں قطع برید کرنے کے بعد کچھ چیزیں اپنی طرف سے ملا لیں اور بعض اصلی احکام چھوڑ دیے۔ اس طرح تورات اپنی اصل حالت میں باقی نہ رہی۔ گویا یہودیت موسیٰ (علیہ السلام) کے بگڑے ہوئے دین کا نام ہے۔
اسی طرح عیسائیت انجیل کو بگارنے سے پیدا ہوئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں آپ کے حواری تو آپ کو مانتے تھے اور آپ کے دین کی تبلیغ بھی کرتے تھے۔ مگر جب آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا ، تو انجیل میں رد و بدل شروع ہوگیا۔ روم کے مشرک بادشاہ نے عیسائیت قبول کرلی۔ اس کے ساتھ اس کی رعایا بھی اسی دین میں شامل ہوگئی پھر انہوں نے بہت سی مشرکانہ رسوم عیسائیت میں داخل کردیں۔ عقائد بھی بدل دیے۔ پولس کی تعلیم کے ذریعے ابنیت کا عقیدہ وضع کیا گیا۔ یعنی مسیح (علیہ السلام) خدا کا بیٹا ہے۔ اسی طرح تین خداؤں کا عقیدہ ایجاد ہوا۔ غلط عقاید اور مشرکانہ رسوم نے اصل مذہب کو باقی نہ رہنے دیا اور اس طرح عیسائیت یا نصرانیت معرض وجود میں آئی۔ عیسائیوں کے مولویوں اور پادریوں نے انجیل کی تعلیمات کو بگاڑ دیا۔ خنزیر کو حلال قرار دینے کا مسئلہ قسطنتین کے زمانے میں پیدا ہوا۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے تمام انبیاء نے خنزیر کو حرام قرار دیا۔ اور یہ سب کچھ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بہت بعد کی بات ہے۔ الغرض ! عیسائیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بگڑئے ہوئے دین کا نام ہے۔
ہندوانہ رسوم : ہمارے ملک میں بھی دین کے ساتھ کم و بیش ایسا ہی ہوا ہے۔ آج کی بیشتر رسوم ہندوؤں سے ماخوذ ہیں۔ خصوصاً موت کی رسوم منجملہ تیسرا ، ساتواں ، دسواں ، چالیسواں ، برسی وغیرہ ہندوانہ رسمیں ہیں۔ آریاؤں کی آمد کے بعد برصغیر میں ہندو مذہب اختیار کرلیا گیا۔ اور ان کی رسوم صدیوں تک اس ملک میں جاری رہیں۔ پھر جب اسلام آیا تو یہی رسوم اسلام میں داخل ہوگئیں۔ شادی بیاہ کے سلسلہ میں گانا ، سہرا ، باجا گا جا ، وغیرہ سب ہندوؤں کی رسمیں ہیں۔ یہ چیزیں اسلام کے ساتھ عرب سے نہیں آئیں۔ بلکہ یہاں پر دین میں داخل کرلی گئیں۔ شب معراج اور دیگر مواقع پر چراغاں کی بیماری مجوسیوں کے راستے سے آئی کیونکہ وہ آگ کو مقدس مانتے تھے۔ ہندو بھی اپنی دیوالی اور دسہرے کے موقع پر چراغاں کرتے تھے۔ مسلمانوں میں بھی جاری ہوگیا الغرض ! جس طرح عیسائیوں اور یہودیوں نے غلط عقیدے اور رسوم اپنے دین میں داخل کرکے اصل دین کو بگاڑ دیا۔ اسی طرح مسلمان بھی اس کام میں ان سے پیچھے نہیں رہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات کا نزول حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک ہزار سال بعد ہوا۔ اور انجیل کے نزول کے وقت تو دو ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر چکا تھا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) پر ہزاروں سال بعد پیدا ہونے والی یہودیت یا نصرانیت کیسے چسپاں کی جاسکتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ وما انزلت التوراۃ والانجیل الا من بعدہ افلا تعقلون۔ تورات اور انجیل تو ابراہیم (علیہ السلام) کے ہزاروں سال بعد نازل ہوئیں۔ تو جو کتابیں ان کے بعد نازل ہوئیں تم ان کی نسبت ان کتابوں کی طرف کیسے کرتے ہو۔ عقل کی بات کرو۔ پھر تنبیہ کے طور پر فرمایا ، ھا انتم ھوء حاججتم فیما لکم بہ علم ، تم نے اس چیز میں تو جھگڑا کیا جس کا تمہیں کچھ علم تھا۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق تو تمہیں کچھ تھوڑا بہت علم تھا۔ کہ ان پر نازل شدہ کتابیں کسی نہ کسی شکل میں تمہارے پاس موجود تھیں۔ لہذا ان کے متعلق تمہارا اختلاف رائے کسی حد تک قبول کیا جاسکتا ہے۔ فلم تحاجون فیما لیس لکم بہ علم۔ مگر تم اس چیز کے متعلق جھگڑا کیوں کرتے ہو۔ جس کا تمہیں سرے سے علم ہی نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کوئی صحیح صحیفہ تمہارے پاس نہیں۔ ان کی کسی تعلیم پر تمہارا عمل نہیں۔ لہذا ان کی طرف غلط باتیں کیوں منسوب کرتے ہو۔ کہ وہ یہودی تھے یا نصرانی تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ، واللہ یعلم وانتم لا تعلمون ، اس بارے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
فرمایا : ماکان ابراہیم یھودیا ولا نصرانیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی ، ولکن کان حنیفا مسلمان۔ بلکہ وہ تو حنیف اور مسلمان تھے۔ حنیف اس کو کہتے ہیں۔ جو سب طرف سے ہٹ کر ایک طرف لگ جائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی تعلیم دی۔ حنفاء للہ ، اللہ کیلیے حنیف بن جاؤ۔ ہر طرف سے کٹ کر صرف اسی کی اطاعت میں آجاؤ اور مشرک نہ بنو۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) تو حنیفہ ہیں ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض کیا۔ انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین۔ میں نے ہر طرف سے منہ موڑ کر اپنا رشتہ اس اللہ ل جلالہ سے جوڑ لیا ہے۔ جو آسمان و زمین کا خالق ہے۔ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔
شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حنیف سے مراد وہ شخص ہے۔ جو ابراہیم کو ماننے والا ہے۔ فارسی تفسیر فتح الرحمن کے حاشیے پر لکھا ہے کہ حنیف وہ شخص ہے جو کعبے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتا ہے۔ جو بیت اللہ کا حج کرتا ہے۔ جو ختنہ کرتا ہے ، جو شعائر اللہ کی تعظیم کرتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ سب حنیف کی علامتیں ہیں۔ تو کوئی مشرک آدمی حنیف کیسے ہوسکتا ہے۔ مشرک اور حنیف تو متضاد صفات ہیں۔
فرمایا ، ابراہیم (علیہ السلام) حنیف بھی تھے اور مسلمان بھی۔ در اصل حنیف اور مسلمان ہونا ایک ہی چیز ہے۔ اسلام کا معنی اطاعت اور فرمانبرداری ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) سے فرمایا۔ اسلم فرمانبردار ہوجاؤ اسلام قبول کرلو۔ قال اسلمت لرب العلمین۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ ہاں مولا کریم ! میں نے تیری فرمانبرداری قبول کرلی۔ میرا تو مقصد حیات ہی تیری اطاعت ہے۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا۔ ہاں مولا کریم ! مٰں نے تیری فرمانبرداری قبول کرلی۔ میرا تو مقصد حیات ہی تیری اطاعت ہے۔ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ جو کہتے ہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے۔ یہ اپنی نسبت غلط طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتے ہیں۔ و ما کان من المشرکین ، ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں میں سے نہیں تھے۔
بزرگوں کی طرف نسبت : بزرگوں کی طرف خالی نسبت کی وبا مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ اپنے آپ کو سلفی کہلانے والے کیا واقعی اسلاف کے طریقے پر چل رہے ہیں۔ محض دعوی ہے ، کام الٹ ہیں۔ اسی طرح آجکل حنفیوں کی اکثریت امام ابوحنیفہ (رح) کے عقیدے سے بالکل مختلف عقیدہ رکھتی ہے۔ قادری اپنی نسبت شیخ عبدلقادر جیلانی (رح) کی طرف کرتے ہیں مگر ان کا معاملہ آپ کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسے یہود و نصاری کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھا۔ شیخ جیلانی کا عقیدہ پاک تھا ، ان کا عمل پاکیزہ تھا۔ اعلی درجے کی روحانیت کے مالک تھے مگر ان کی طرف سبت رکھنے والے شرک و بدعت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ یہی حال نقشبندیوں اور چشتیوں کا ہے۔ آجکل چشتی گانے بجانے والے کو سمجھا جاتا ہے۔ کیا خواجہ معین الجمیری کی یہی تعلیم تھی۔ خواجہ فرید الدین شکر گنج کا دروازہ سال کے بعد کھولو۔ لاکھ دو لاکھ آدمی اس میں سے گذر گئے تو چشتی اور جنتی ہوگئے۔ العیاذ باللہ ، یہ بزرگ اعلی درجے کی روحانیت کے مالک تھے۔ پکے توحید پرست اور متبع سنت تھے۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ چشتیوں کی طرف یہ منسوب کرنا کہ وہ گانے بجانے کے قائل تھے ، بالکل غلط ہے۔ اس برصغیر میں جس قدر اتباع سنت چشتیوں میں پایا گیا ہے ، کسی اور مسلک میں نہیں ملتا۔ اسی مہینے میں حضرت علی ہجویری (رح) کا عرس منایا جا رہا ہے۔ مزار کو عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے۔ حکوتم کے نمائندے چادریں چرھاتے ہیں۔ اب ان مزاروں پر گنبد بن گئے ہیں۔ چپس لگ گئے ہیں۔ عرس ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ ؎ چوں کفر از کعبہ برخیزد کجا ماند مسلمانی۔ ۔۔ اوقاف میں آنے کا مقصد تو یہ تھا کہ لوگوں کی اصلاح کی جائے۔ شرک و بدعات سے منع کیا جائے۔ مگر اب خود مسلمان ہی یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ ان کو اس برائی سے کون روکے گا۔ یہاں تو آمدنی سے غرض ہے۔ چڑھاوے کی آمدنی کھانے پینے اور ملازموں کی تنخواہوں پر خرچ ہوتی ہے۔ جو شخص اپنی نسبت حضرت علی ہجویری کی طرف کرتا ہے اور پھر شرک و بدعت کا ارتکاب بھی کرتا ہے۔۔ وہ خود بھی جھوٹا ہے اور اس کی نسبت بھی غلط ہے۔
خواجہ گیسو دراز (رح) گلبرگہ دکن میں رہنے والے بڑے اعلیٰ پایہ کے بزرگ تھے ان کی کم و بیش سو کتابیں ہیں۔ ان میں قرآن پاک کی تفسیر بھی ہے۔ تصوف پر کتابیں ہیں۔ مکتوبات بھی ہیں۔ ان کتابوں میں شرک کی واضح تردید موجود ہے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک جوگی کوئی عمل بتانے کے لیے آیا۔ مگر ہزار منت کے باوجود آپ نے وہ عمل نہیں سیکھا۔ فرمایا مجھے تمہارے عمل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس اللہ کا قرب دلانے والے عمل موجود ہیں۔ ہم سونا بنانے کا عمل سیکھ کر کیا کریں گے آپ متوکل علی اللہ اور معلم تھے ، خواجہ بختیار کا کی (رح) عبادت و ریاضت کے شیدائی تھے۔ دو رکعت میں پورا قرآن کریم اور چار پارے تلاوت فرماتے تھے۔ خواجہ بختیار کا کی (رح) کا مجاہدہ تھا کہ بیس برس تک زمین پر پشت لگا کر نہیں سوئے۔ نیند کا غلبہ ہوا تو بیٹھے بیٹھے ہی آرام کرلیا۔
حضرت مجدد الف ثانی (رح) کا حال دیکھو۔ ان کے ماننے والوں نے عرس منانے پر ہی اکتفا کرلیا ہے۔ اور سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں مجددیت کو ترقی دے رہے ہیں۔ یہ سب غلط نسبتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہودیت یا نصرانیت کی محض ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف نسبت کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ ان تمام بزرگوں کی طرف نسبت اسی وقت مفید ہوسکتی ہے۔ جب ان کا عقیدہ اور عمل بھی اپنایا جائے۔ آجکل تو محض مزار بنا لینا اس پر عمارت بنا کر قوالی کرالینا اور عرس منا لینا ہی کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ عقیدے اور عمل کو کون جانچتا ہے۔ یہاں گوجرانوالہ مٰں ایک پاگل یا فاتر العقل کا مزار بنا دیا گیا ہے۔ کسی نے نہیں روکا کہ کیا کر رہے ہو۔ اتنے متمدن شہر میں اس دیوانے کی قبر پر چڑھاوے چڑھنے لگے ہیں۔ وہ بیچارہ مجنون تھا یا مجذوب تھا ، بہرحال غیر مکلف تھا۔ اس کو خدا کا ولی بنا کر پوجا پاٹ شروع کردی۔ کیا ایمان اور توحید اسی چیز کا نام ہے ؟
حضرت ابراہیم کے متبعین : فرمایا یاد رکھو ! ان اولی الناس بابراہیم للذین اتبعوہ ، بیشک ابراہیم (علیہ السلام) کے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے دور میں ان کا صحیح اتباع کیا۔ ایسے ہی لوگوں کی نسبت آپ کے ساتھ درست ہے۔ ان کے علاوہ ، وھذا النبی والذین امنوا ، یہ خاتم النبیین اور آپ پر ایمان لانے والے جو درحقیقت ابراہیم (علیہ السلام) کے متبع ہیں ، یہ بھی ان سے مناسبت رکھتے ہیں۔ ان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ اپنی نسبت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کریں۔ یہود و نصاری کو یہ حق قطعاً نہیں پہنچتا۔ فرمایا ، واللہ ولی المومنین ، اللہ ہی مومنوں کا کارساز ہے۔ ولی کا معنی رفیق ، سرپرست ، دوست اور کارساز ہے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے پھر وہ اس کا کارساز بن جاتا ہے۔ پھر اسے کسی دوسرے دروازے پر جانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
Ayahs 3:69–71ربط آیات : گذشتہ درس میں تذکرہ ہوچکا ہے ، کہ یہود و نصاریٰ کا آپس میں جھگڑا یہ تھا کہ یہود کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں گروہوں کی تردید فرمائی۔ اور فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نصاری کہتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے بلکہ وہ تو حنیف اور مسلمان تھے۔ یہودیت اور نصرانیت نام کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ یہ تورات اور انجیل کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے۔ اہل کتاب نے تورات او انجیل میں تحریف کرکے اصل دین کو بگار دیا۔ کفر اور شرک دونوں گروہوں میں قدر مشترک ہے۔
دوسری طرف مشرکین بھی اپنا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جوڑنے کا دعوی کرتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر ان کے دعویٰ کے بھی تردید فرمائی ہے۔ نیز یہ بھی واضح فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ نسبت وہ لوگ رکھتے ہیں۔ جنہوں نے آپ کے دور میں آپ کا اتباع کیا۔ اور اس دور میں خاتم النبیین ﷺ کا اتباع کیا۔ اور جو حقیقی معنوں میں اسلام میں داخل ہوئے۔
اہل کتاب کا منصوبہ : اب اہل کتاب کے پیشواؤں کی گمراہی کا ذکر ہورہا ہے۔ یہ لوگ بھٹک کر ایسے دور نکل گئے ہیں اور ان کے دل ضلالت میں اس قدر سخت ہوچکے ہیں کہ اب یہ کفر کے امام بنے ہوئے ہیں۔ یعنی جو شخص ایمان قبول کرکے صحیح راستے پر چلتا ہے۔ یہ لوگ اسے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ودت طائفۃ من اھل الکتب۔ اہل کتاب کا ایک گروہ آرزو کرتا ہے۔ لو یضلونکم۔ کہ وہ کسی نہ کسی طرح تم کو گمراہ کریں گذشتہ چودہ سو سال کے عرصہ میں اہل کتاب یہی کچھ کرتے آئے ہیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے متنفر کردیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا کہ یہ لوگ خواہش کرتے ہیں۔ کہ تم گمراہ ہو کر ان کے ساتھ برابر ہوجاؤ۔ فتکونون سواٗ ۔ کے الفاظ آئے ہیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ عیسائیوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے مرکزی نقطہ سے ہٹا دیا جائے۔ تاکہ وہ بھی گمراہ ہو کر ان ہی کے ساتھ آ ملیں۔ اگرچہ ان کو جزوی کامیابی ہوئی ہے۔ مگر مجموعی طور پر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں وعدہ کر رکھا ہے۔ کہ سچا دین ہمیشہ قائم رہے گا۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب مسلمان قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل پیرا رہیں۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانے تک مسلمان اپنے دین پر بالکل متفق رہے اور ایک نقطے پر قائم رہے۔ آپ کے زمانے میں یہودی سازشیں کرنے لگے۔ عبداللہ ابن سبا یمنی یہودی تھا ، جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا۔ مگر مسلمانوں میں فرقہ بندی کی وباء پیدا کردی۔ شیعہ اسی کو مانتے ہیں۔
نصاری بھی مسلمانوں کے ساتھ برابر ٹکر لے رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا وروم ذوات القرون ، یعنی عیسائی قرن ہا قرن تک قائم رہیں گے حتی کہ مسیح ابن مریم نازل ہوجائیں۔ کبھی عیسائیوں کو غلبہ ہوگا۔ اور کبھی مسلمانوں کو۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلیبی جنگیں صدیوں جاری رہیں۔ گذشتہ دو سو سال میں بھی عیسائیت کا بڑا عروف رہا ہے۔ اس عرصہ میں برطانیہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت تسلیم کی جاتی تھی اور برطانیہ کو برطانیہ عظمی کہا جاتا تھا۔ یہ سب عیسائی ہی تو تھے۔ آج اگرچہ امریکہ بڑی طاقت ہے۔ مگر یہ تو کل کا بچہ ہے۔ یہ بھی برطانیہ سے بھاگے ہوئے انگریز ہیں جنہوں نے نیا بر اعظم دریافت کیا۔ اور پھر وہیں آباد ہوگئے۔ تاہم مسلمانوں کو کمزور کرنے والے برطانوی عیسائی ہی تھے۔ جن کی سازش کافی حد تک کامیاب ہوئی۔
مستشرقین کی سازش : امیر شکیب ارسلان شام کے باشندے تھے اور وہاں کے جاگیردار تھے جنگ عظیم میں سلطنتِ ترکیہ کے ہسپتالوں کے انچارج تھے۔ آپ انگریزوں کے خلاف جہاد میں بالفعل شریک ہوئے۔ جب انگریزوں نے ان کے علاقوں پر قبضہ کیا تو ان کی جاگیریں بھی ضبط کرلیں۔ آپ بیس سال تک یورپ میں بھی مقیم رہے ہیں۔ جنگ عظیم کے بعد ایک امریکی نے مسلمانوں کی حالت زار پر انگریزی زبان میں کتاب لکھی۔ اس کا عربی ترجمہ کسی مصری عالم نے کیا۔ یہ کتاب امیر شکیب (رح) کے پاس پہنچی تو انہوں نے اس کا مقدمہ لکھا اصل کتاب ایک جلد میں ہے۔ مگر اس کا مقدمہ تین جلدوں پر پھیل گیا۔ امیر شکیب (رح) نے دیکھا کہ اس کتاب میں جہاں مسلمانوں کے متعلق بعض صحیح باتیں لکھی گئی ہیں۔ وہاں کچھ غلط چیزیں بھی شامل ہوگئی ہیں۔ اس لیے آپ کو اتنا لمبا مقدمۃ لکھنا پڑا۔ آپ نے پورے عالم اسلام کی سیاسی اقتصادی ، تمدنی حالت پر سیر حاصل بحث کی۔ اور تمام ممالک اسلامیہ کی مردم شماری بھی پیش کی۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی عرصہ میں یہ بڑی اہم کتاب تصور کی جاتی تھی۔ مجموعی حالات کے لحاظ سے عالم اسلام پر اس سے بہتر اور کوئی کتاب نہ تھی۔ آپ نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ یورپ کے یہودی اور عیسائیوں نے گذشتہ زمانے میں حضور خاتم النبیین ﷺ کے خلاف کم و بیش چھوٹی بڑی چھ لاکھ کتابیں لکھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں ان لوگوں نے مسلمانوں اور ان کے پیغمبر اعظم ﷺ کے خلاف کس قدر طوفان اٹھایا ہوگا۔
مشرقی علوم کے ماہر انگریز اور یورپین لوگ مستشرق کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے ہمدرد بن کر اسلامی علوم کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور پھر اسے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنرل ایوب کے زمانے میں فضل الرحمن اسی قبویل سے تھا۔ وہ بھی مستشرقین کا شاگرد ہی تھا۔ جس نے کہا تھا کہ قرآن پاک کا کچھ حصہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کچھ حصہ میں حضور ﷺ کے اقوال بھی ہیں۔ اس نے بظاہر خدمت اسلام کے جذبہ سے کتاب لکھی مگر اس میں اس قسم کا طوفان باندھا۔ پاکستان میں اس کے خلاف شور برپا ہو تو فضل الرحمن کو اس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے لوگ مسلمانوں کو دین سے بد ظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ یہود و نصاری اور مستشرقین کا مشترکہ نصب العین ہے ان کی خواہش اور کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح مسلمان اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور قرآن پاک سے متنفر ہوجائیں۔ یہ لوگ ایسے ایسے اعتراضات اٹھاتے ہیں کہ بعض لوگ شک میں پڑجاتے ہیں۔ ان کے حملہ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے۔ کہ مسلمان اپنے مرکزی عقیدہ اور قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھیں۔ اگر مسلمان ان دو چیزوں کا دامن چھوڑ بیٹھے تو پھر گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔
آپ دیکھ رہے ہیں۔ کہ مخالفین اسلام کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ پورے عالم اسلام میں کہیں بھی مسلمان اپنے دین پر قائم نہیں رہ سکے ان کے عقیدے بگڑ چکے ہیں اور نظریات فاسد ہوگئے ہیں۔ آج کی دنیا میں مسلمانوں نے بھی انہی نظریات کو اپنا لیا ہے ، جو غیر مسلمانوں نے اختیار کر رکھے ہیں۔ آج کے اکثر نام نہاد اعلی تعلیم یافتہ فاسد خیالات کا شکار ہیں۔ انگریزی تعلیم کے پروردہ ہونے کی بنا پر قرآن پاک کی تعلیمات کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں۔
فن اور فحاشی : آج کھیل تماشے ، عریانی ، فحاشی اور ایسی ہی دیگر قباحات کو فن کا نام دے دیا گیا ہے۔ اور پھر دعوی یہ ہے کہ اسلام ان کی مخالفت نہیں کرتا۔ گانا بجانا ، راگ رنگ ، فلم اور ڈرامہ فن ہے اور اس میں حصہ لینے والے فنکار ہیں۔ یہ لوگ اپنے نام نہاد فن کے ذریعے ملک کی بہت بڑی مفید خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا دعوے ہے کہ وہ عوام الناس کو سستی تفریح مہیا کرتے ہیں۔ جگہ جگہ فن کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ بلکہ غیر ممالک کے طائفوں سے تبادلہ ہوتا ہے ، اور اس طرح دنیا بھر کی قباحتیں تبادلہ میں ملتی رہتی ہیں۔ اب یہ چیزیں ہر گھر میں اس کثرت سے جاری ہیں کہ ان کی قباحت کا احساس تک باقی نہیں رہا۔ یہ سب یہود و نصاریٰ کا اثر ہے۔
تصویر سازی کا فن بھی عیسائیوں کا یجاد کردہ ہے۔ اور اب مسلمانوں کی زندگی کا بھی لازمی حصہ ہے ، حالانکہ اسلام میں تصویر کشی بالکل حرام ہے۔ لعن اللہ المصورین۔ تصویر بنانے والوں پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے۔ آج دنیا کے کسی مملک میں بھی مسلمان اسلام پر مکمل طور پر کاربند نہیں ہیں۔ اہل کتاب نے انہیں شکوک شبہات میں مبتلا کردیا ہے۔ ان کے عقیدے بگاڑ دیے ہیں اور نظریات فاسد کردیے ہیں یہ سب فحش چیزیں ہیں۔ قل ان اللہ لا یامر بالفحشاء۔ اللہ تعالیٰ تو تمہیں بےحیائی اور فواحش کا حکم نہیں دیتا۔ مگر آج انہی قبیح چیزوں کو فن کا نام دے کر جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ ان تمام لغویات کا علاج قرآن و سنت پر استقامت میں ہے۔ مگر اس دور میں دنیا بھر کے مسلمان یہودیت اور نصرانیت کا شکار ہیں۔
مشنری اداروں کا جال : دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عیسائیوں کے مشنری ادارے بھی مسلمانوں کو ان کے دین سے گمراہ کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ گرجے ، سکو۔ ل ، ہسپتال سب گمراہی کے اڈے ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو انجیل کا سبق پڑھایا جاتا ہے۔ جب مریض تندرست ہو کر باہر نکلتا ہے۔ تو آدھا عیسائی ہوچکا ہوتا ہے۔ یہی حال مشنری سکولوں کا ہے۔ جہاں بائبل کی تعلیم لازمی ہے ۔ ان مشنری اداروں کو چلانے والے امریکہ ، کینیڈا ، برطانیہ اور جرمنی کے عیسائی ہیں۔ انہوں نے مشرقی ممالک پر یلغار کی ہوئی ہے تاکہ مسلمان اپنے اسلام سے بیگانہ ہو کر ان کے مشن کو اپنا لیں۔ آج کی دنیا میں عالمی خبریں تمام کی تمام یہود و نصاری کے توسط سے آتی ہیں اور وہ انہیں اپنی مرضی کے مطابق توڑ موڑ کر اخبارات میں پیش کرتے ہیں۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف یہود و نصاری کو تقویت حاصل ہو۔ پوری دنیا میں کوئی مسلمان خبر ایجنسی نہیں جو ان تک صحیح خبریں پہنچائے۔ لوگ غلط ملط خبریں پڑھ کر یقین کرلیتے ہیں حالانکہ ان میں بیشتر من گھڑت ہوتی ہیں ، ان کا مقصد محض یہ ہے کہ تمہیں اپنے اصل نظریات سے متنفر کرکے باطل نظریات کی طرف راغب کریں تاکہ قرآن کے ساتھ تمہارا تعلق منقطع کردیں۔
فرمایا حقیقت یہ ہے۔ کہ اگر مسلمان اپنے مرکزی عقیدہ اور قرآن پر قائم رہیں گے تو وما یضلون الا انفسہم نہیں گمراہ کرسکیں گے۔ مگر اپنی ہی جانوں کو۔ ان کی پھیلائی ہوئی گمراہی کا وبال انہیں پر پڑے گا بشرطیکہ مسلمان اپنے صحیح عقیدہ پر قائم رہیں۔ آگے قیامت کا محاسبہ آنے والا ہے۔ ان کو معلوم ہوجائے گا کہ گمراہی پھیلانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ وما یشعرون وہ اس وقت نہیں سمجھتے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔ یا اھل الکتب لم تکفرون بایات اللہ۔ اے اہل کتاب ! اللہ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو۔ یعنی ان کو کیوں جھٹلاتے ہو۔ حضور نبی کریم ﷺ کو اللہ کا سچا نبی کیوں نہیں مانتے۔ قرآن پاک کے احکام پر عمل کیوں نہیں کرتے۔ وانتم تشھدون۔ حالانکہ تم گواہ ہو۔ یعنی تم جانتے ہو کہ قرآن پاک اللہ کی سچی کتاب ہے۔ اور اس کے لانے والے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے سچے نبی ہیں ، جن کے متعلق اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ کیا تھا کہ بنی اسماعیل میں سے تمہارے جیسا نبی برپا کروں گا ، اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ قرآن پاک وہی کلام ہے۔ اور محمد ﷺ وہی نبی ہیں۔ یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم۔ جنہیں تم اسی طرح جانتے پہچانتے ہو جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں فرمایا ہے۔ یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل۔ اہل کتاب حضور خاتم النبین ﷺ کی صداقت کے متعلق تورات و انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ مگر اپنی ضد ، عناد ، حسد اور ذہنی فساد کی وجہ سے ان پر ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔
اللہ مالک الملک نے فرمایا۔ یا اھل الکتب لم تلبسون الحق بالباط۔ اے اہل کتاب ! حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو۔ اللہ کی نازل کردہ کتابوں میں تحریف کے مرتکب کیوں ہوتے ہو۔ اس کے احکام کو کیوں بدلتے ہو۔ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ تمہاری کتابوں میں نبی آخر الزمان کی کیا علامتیں ہیں تو اصل علامات کی بجائے غلط ملط علامتیں بتا دیتے ہو۔ و تکتمون الحق اور تم حق بات کو چھپا جاتے ہو۔ ۔ وانتم تعلمون۔ حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ یہود و نصاری کو حق و باطل کے امتیاز میں کوئی شبہ نہیں مگر یہ لوگ دانستہ کتمان حق اور کذب بیانی کرتے ہیں۔ مشرکین تو لاعلمی اور اشتباہ کی وجہ سے گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے ، ان کے پاس کوئی کتاب نہیں تھی ، مگر تم جان بوجھ کر گمراہی میں پڑے ہوئے ہو تمہارا کوئی علاج ممکن نہیں۔ جب یہ لوگ مکہ میں آتے تو مشرکین ان سے دریافت کرتے کہ ہمارا مذہب اچھا ہے یا مسلمانوں کا تو کہتے تمہارا دین صحیح ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا ہو۔ یہ اہل کتاب ہیں۔ انبیاء کی تاریخ سے واقف ہیں مگر اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس وقت ساری دنیا میں یہود و نصاریٰ کی سازش پھیلی ہوئی ہے۔ مگر بہت تھوڑے مسلمان اس سازش کو پہچانتے ہیں۔ اور اپنے دین پر قائم ہیں۔ ورنہ اکثریت ان کے جال میں پھنس چکی ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ ترقی یافتہ لوگ ہیں۔ جو کچھ کہتے ہیں ، درست کہتے ہیں ، اللہ تعالیٰ حق و باطل کی پہچان کی توفیق عطا فرمائے۔