Ayahs 3:81–82ربط آیات : گذشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جب حضور ﷺ وفد نجران کو بحث میں لاجواب کر رہے تھے ، تو ایک یہودی نے کہا ، کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کی پرستش شروع کریں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ جس انسان کو نبوت سے سرفراز فرمائے ، اس کی یہ شان نہیں ہے۔ کہ وہ اللہ کی بجائے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے یہ اٹل بات ہے کہ نبی ہمیشہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا ہے۔ وہ تو کہتا ہے۔ کہ اللہ والے ہوجآ ۔ وہ ملائکہ یا انبیاء کی عبادت کا حکم نہیں دیتا۔ اس معاملہ میں انبیاء کی بریت واضح کرنے کے بعد آمدہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے میثاق النبیین کا تذکرہ فرمایا ہے۔ یعنی اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت سے لیا تھا کہ جب تمہارے پاس اللہ کا رسول آجائے۔ جو تمہارے پاس موجود چیز کی تصدیق کرے ، تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔
میثاق الست : قرآن پاک میں مختلف میثاقوں کا ذکر ہے۔ منجملہ ان کے میثاق الست ہے یہ وہ عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے لیا تھا۔ اس کا ذکر سورة اعراف میں موجود ہے۔ واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتہم واشھدھم علی انفسہم۔ الست بربکم۔ قالو بلی۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والی نسل آدم کو عالم ارواح میں متمثل فرما کر ان سب سے سوال کیا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں " گویا یہ عہد اللہ نے اپنی الوہیت اور ربوبیت کے اقرار کے لیے اس دنیا میں آنے سے پہلے لیا تھا۔ پھر جوں جوں نبی آدم کو پیدا فرمایا اس عہد کی یاد دہانی کے لیے انبیاء کو مبعوث فرمایا۔ اور کتابیں نازل فرمائیں۔
تمام انبیاء نے تمام انبیاء سے لیا۔ اس میثاق کی تشریح میں دو قول ہیں۔ پہلا قول حضرت علی ؓ کا ہے جسے امام ابن جریر نے اپنی تفسیر طبری میں اور سید محمود آلوسی نے روح المعانی میں نقل کیا ہے۔ دوسرا قول امام طاؤس کا ہے۔ آپ تابعین میں سے ہیں اور مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ بلند پایہ فقیہ اور محدث تھے۔ امام صاحب کا یہ قول مصنف عبدالرزاق میں درج ہے۔ جو کہ علم حدیث کی معتبر کتاب ہے اس کتاب کا قلمی نسخہ موجود تھا۔ اب زمانہ حال میں یہ عظیم کتاب زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔ اس میں بائیس ہزار احادیث اور آثار مذکور ہیں۔ عبدالرزاق امام بخاری کے استاذ الاساتذہ اور امام ابوحنیفہ کے شاگرد تھے۔ مولانا محمد یوسف بنوری (رح) کی کوششوں سے ایک مسلمان نے چار لاکھ روپیہ صرف کرکے اسے بیروت سے طبع کرایا ہے۔ اس کا حاشیہ ہندوستان کے ایک بہت بڑے عالم اور بزرگ حبیب الرحمن اعظمی بعمر 85 ، 80 سال بقید حیات ہیں ، نے لکھا ہے اور کتاب کی تصحیح بھی کی ہے۔ بڑی عظیم کتاب ہے۔ اس میں اما طاؤس کا یہ قول مذکور ہے کہ اس آیت میں جس میثاق النبیین کا ذکر ہے۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے لیا تھا۔ ان یصدق بعضہم بعضا۔ یعنی ہر نبی دوسرے نبی کی تصدیق ہی کی ہے ، کسی نے کسی کی تکذیب نہیں کی۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ سورة احزاب کی آیت واذ اخذنا من النبیین میثاقھم و منک (احزاب آیت 7) یعنی اس واقعہ کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور آپ سے بھی عہد لیا۔ ومن نوح و ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ ابن مریم۔ اور نوح (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) ، موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہا السلام) سے بھی پختہ عہد لیا۔ یہ آیت بھی امام طآس کے قول کی تشریح کرتی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے اس بات کا پختہ وعدہ لیا تھا۔ کہ وہ دوسرے نبی کی تصدیق کرے گا۔ یہ قول بھی درست ہے۔
حضرت علی کا قول ہے جسے صاحب روح المعانی اور امام ابن جریر نے نقل کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ میثاق انبیاء عام نہیں ہے کہ ہر نبی دوسرے کی تصدیق کرے گا۔ بلکہ یہ میثاق خاص ہے۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) سے حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق تھا۔ لم یبعث اللہ نبیا ادم و من بعدہ الا اخذ الیہ العھد فی محمد ﷺ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں فرمایا۔ مگر حضور ﷺ کے متعلق اس سے عہد لیا۔ لئن بعث وھو حی لومنن بہ ولینصرنہ۔ کہ اگر تمہاری زندگی میں نبی آخر الزمان آجائیں تو ان پر ایمان لاؤگے اور ان کی مدد کروگے۔ لہذا یہ عہد خاص طور پر حضور ختم المرسلین ﷺ کے متعلق تھا۔ یہ قول بھی صحیح ہے۔
حضور ﷺ کے متعلق اس خاص عہد سے آپ کی ختم نبوت کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ کسی نبی نے حضور ﷺ کا زمانہ نہیں پایا ، جو اس میثاق کی رو سے آپ پر ایمان لاتے اور آپ کی مدد کرتے۔ البتہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب قرب قیامت میں نازل ہوں گے تو حضور ﷺ کا زمانہ پائیں گے۔ اس وقت وہ حضور ﷺ کے نائب کی حیثیت سے جلوہ افروز ہوں گے اور آپ کی شریعت کے مطابق دنیا میں قرآن و سنت کا نظام جاری کریں گے۔ اس عہد سے حضور ﷺ کی خاص فضیلت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اسی بنا پر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ شب معراج میں اللہ نے تمام انبیاء کو بیت المقدس میں جمع کیا۔ فاممتہم ، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آگے کردیا اور آپ نے تمام انبیاء کو نماز پڑھائی۔
سید آلوسی بغدادی (رح) جنہوں نے حضرت علی ؓ کا یہ قول نقل کیا ہے ، بلند پایہ مفسر قرآن ہوئے ہیں۔ آپ تیرھویں صدی ہجری میں ہوئے ہیں۔ 1270 ھ میں آپ کی وفات ہوئی حنفی مسلک رکھتے تھے۔ آپ نے تیس جلدوں میں قرآن پاک کی تفسیر لکھی ہے۔ ہر پارے کی الگ جلد ہے۔ اور کمال یہ ہے کہ یہ تفسیر آپ نے آغاز جوانی میں لکھی۔ اس تفسیر میں تمام علوم منجملہ صرف ، نحو ، علم عقائد اور قراءت وغیرہ موجود ہیں۔
دیگر مفسرین کی طرح آپ نے بھی اپنے زمانے کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے قرآن پاک کی عظیم تفسیر کی ہے۔
یہودیوں کی خلاف ورزی : میثاق انبیاء کا تذکرہ کر رکے امتیوں کو بات سمجھائی جا رہی ہے کہ جس چیز پر انبیاء سے ایمان لانے کا عہد لیا گیا ، اس چیز پر ایمان لانا انبیاء کے امتیوں کا بطریق اولی فرض ہے۔ جب تمام انبیاء کرام سے یہ عہد لیا گیا کہ حضور ختم المرسلین ﷺ پر ایمان لانا ، تو ان انبیاء کے اتباع کے دعویدار یہود و نصاری پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کی نبوت کو تسلیم کریں۔ مگر یہ آج تک نبی کریم (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے سے گریزاں ہیں۔ بلکہ مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ کہ جو عہد ان کے نبیوں نے اللہ سے کیا تھا۔ یہ اس کی پابندی کیوں نہیں کرتے۔ یہ ان کے ایمان کی خرابی ، اور ان کی حماقت ہے۔ ان کے لیے حکم یہ ہے۔ کہ وہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) پر ایمان لائیں۔ آپ کے دین کی تائید کریں اور اس کی تقویت کا باعث بنیں۔ مگر یہ لوگ الٹی مخالفت کرکے اپنے انبیاء کے عہد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) نے تو حضور ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرکے آپ سے مکمل وابستگی کا اظہار کردیا۔ آپ کی فوقیت اور عظمت کی گواہی دی۔ اور اپنے متبعین کو بھی یہی تلقین کی۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے تو خاص طور پر حضور ﷺ کی آمد کی بشارت دی۔ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسموہ احمد۔ میں اپنے بعد آنے والے رسول احمد کی بشارت دیتا ہوں۔ اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ مگر ان لوگوں نے تعصب اور عناد کی بناء پر گمراہی کا تاستہ اختیار کرلیا۔
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ایک عہد اہل کتاب سے بھی لیا تھا۔ جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا لکتب۔ اس واقعہ کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے عہد لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ۔ کہ تم خدا کی کتاب اور اس کے فرمان کو لوگوں پر ظاہر کرو گے اور اس کو چھپاؤ گے نہیں۔ انہوں نے بھی اس بات کا اقرار کیا۔ مگر حق آجانے کے بعد حضور کی پیشن گوئی کو کیوں چھاپتے ہیں۔ یہ بھی ان کی گمراہی کی دلیل ہے۔
پاکیزہ مشن : مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ چونکہ ایک نبی دوسرے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس لیے انبیاء کے متبعین کا فرض ہے کہ اپنے نبی کے اتباع میں وہ بھی دوسرے انبیاء کی تصدیق کریں۔ اس سے شاہ صاحب یہ بھی اخذ کرتے ہیں۔ کہ مشائخ کو مشائخ سے یہی معاملہ کرنا چاہئے۔ کوئی شیخ وقت ، نیک بندہ یا درویش اپنے برابر والے شیخ یا اپنے سے اونچے درجے والے کی تصدیق کرے۔ اس سے دعا کرانے اور اس کی حمایت کرنے سے گریز نہ کرے۔ شاہ رفیع الدین تو یوں فرماتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندے اور اولیاء ایک دوسرے کی کبھی مخالفت نہیں کرتے۔ الفقراء کنفس واحدۃ تمام فقراء کی مثال ایک جسد واحد کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی بزرگ نے دوسرے کی تکذیب نہیں کی کہ جس طرح ایک نبی دوسرے نبی کی تنقیص نہیں کرتا اسی طرح ایک اللہ والا دوسرے ولی اللہ کو اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بناتا بلکہ اس کی حمایت کرتا ہے۔ مگر اس وقت جو ایک دوسرے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔ یہ نہ تو درویشی اور نہ فقراء کا سلسلہ ہے۔ یہ کچھ اور ہی ہے۔ بزرگی محض قبریں بنا لینے ، ان پر گنبد کھڑے کرلینے اور بدعات جاری کرنے کا نام نہیں ہے۔ اصل بزرگوں کا ہرگز یہ مشن نہیں ہوسکتا۔ جو اللہ کے نیک بندے ہیں وہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے ہیں۔
حضرت یحییٰ منیری (رح) ، حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے مرید اور بڑے بزرگ مرد تھے۔ مشرقی میں قیام تھا۔ لوگوں نے ان کے لیے خانقاہ تیار کی اور لاکر وہاں بٹھا دیا۔ فرمانے لگے ، دوستو ! بڑا افسوس ہے ، تم نے میرے لیے ایک مندر سے بنا دیا۔ ہمارے ساتھ تو اس کا تعلق ہی قائم نہیں ہوتا۔ خواجہ فرید الدین کو بادشاہ وقت فیروز تغلق نے جاگیر کی پیش کش کی۔ آپ نے فرمایا کہ میرا اور میرے بزرگوں کا یہ طریقہ نہیں ہے۔ اس جاگیر کو مستحقین میں تقسیم کردو۔ یہی بات حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رح) نے صدر ہند راجندر پر شاد کو کہی تھی۔ حکومت نے
ملک کا سب سے بڑا اعزاز پدم بھوشن پیش کرنا چاہا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ میرے اور میرے بزرگوں کے طریقے کے خلاف ہے۔ اس کو اپنے پاس رکھو۔ ہم نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد اللہ کی رضا اور انسانیت کی بہتری کے لیے کی تھی۔ کوئی تمغہ یا جاگیر لینے کے لیے نہیں کی تھی۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ انصاف کرو۔ مسلمانوں کو تنگ نہ کرو۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ ، اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) سے پختہ عہد لیا۔ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ۔ جب میں نے تمہیں کتاب اور حکمت یعنی علم ، دانش اور فہم عطا کیا۔ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ ۔ پھر آگیا تمہارے پاس رسول۔ رسول سے مراد ہر رسول بھی ہے۔ اور بڑا رسول بھی۔ نکرۃ تعظیم کے لیے ہوتا ہے۔ جب رسول ، عظیم الشان رسول آگیا۔ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ ۔ وہ ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہو ، جو تمہارے پاس ہیں۔ تو اس وقت تمہارا فرض ہے۔ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ ۔ ضرور اس پر ایمان لانا۔ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ۔ اور ضرور اس کی مدد کرنا۔ قَالَ ۔ اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا۔ أَأَقْرَرْتُمْ ۔ کیا تم اقرار کرتے ہو۔ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي۔ اور تم نے اس بات پر میرا پختہ عہد لیا ؟ اصر بوجھ کو کہتے ہیں اور اس سے مراد پختہ عہد ہے۔ اس کو میثاقا غلیظا بھی کہتے ہیں۔ جس طرح بوجھ کو اٹھانا ضروری ہوتا ہے۔ اسی طرح عہد کی پاسداری بھی ضروری ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا کہ جب میرا نبی آخر الزماں آجائے گا۔ تم اس پر ایمان لانا اور اس کی اعانت کرنا۔ اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں۔ قَالُوا أَقْرَرْنَا۔ سب انبیاء (علیہم السلام) نے کہا ، ہم نے اقرار کیا۔ کہ ہم اس عہد کو پورا کریں گے اور ہر آنے والے نبی پر اور خصوصاً حضور ختم المرسلین ﷺ پر ایمان لائیں گے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ بنی قریظہ کا ایک یہودی حضرت عمر ؓ کا دوست تھا۔ اس نے تورات میں سے کچھ اچھی اچھی باتیں لکھ کر آپ کو دیں حضرت عمر ؓ وہ لے کر حضور ﷺ کے پاس آئے۔ اور عرض کیا کہ میرے ایک یہودی دوست نے تورات کی بعض اچھی چیزیں لکھ کردی ہیں۔ کیا میں ان کو پڑھ لیا کروں۔ یہ سن کر ناراضگی کی وجہ سے حضور ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوگیا۔ فرمایا۔ اتھوکتم کما تھوکت الیھود والنصری۔ کیا تم بھی اسی طرح سرگردان ہونا چاہتے ہو جس طرح یہود و نصاری ہوئے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ، قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ یہ تو تم تحریف شدہ تورات کا ورق لائے ہو اگر موسیٰ (علیہ السلام) بنفس نفیس آجاتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کا اتباع کرتے تو تم گمراہ ہوجاتے۔ انا آخر النبیین۔ میں آخری نبی ہوں جو تمہارے حصے میں آیا ہوں۔ لہذا تم پر میری ہی اطاعت لازم ہے۔ اس پر حضرت عمر نے کہا۔ رضیت باللہ ربا و بالاسلام دینا و بمحمد نبیا ورسولا۔ میں راضی ہوگیا اللہ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی اور رسول ہونے پر۔ اس پر حضور ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہوگیا۔
الغرض ! جب تمام انبیاء نے اپنے عہد کا اقرار کرلیا۔ قَالَ ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ ۔ گواہ بن جاؤ۔ کہ تم نے یہ اقرار کرلیا ہے۔ تم نے وعدہ کیا ہے کہ جب نبی آخر الزمان (علیہ السلام) آئے گا تو اس پر ایمان لاؤ گے اور اس کی تائید کروگے۔ اور دیکھو میں بھی تمہارے ساتھ اس بات پر گواہ ہوں۔
عہد شکنی پر وعید : فرمایا کہ پختہ عہد کرنے کے بعد۔ فَمَنْ تَوَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ ۔ جس نے اعراض کیا اس کے بعد یعنی عہد کی پابندی نہ کی۔ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۔ تو ایسے لوگ فاسق اور نافرمان ہوں گے۔ فاسق نافرمان ، منافق اور کافر کو بھی کہا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکاری ہے تو یہ بنیادی فسق ہے۔ انسان کافر ہوجائے گا ، ورنہ معصیت کا مرتکب خصوصاً ککبیرہ گناہ کا مرتکب فاسق ہوتا ہے فرمایا اس عہد کو توڑنے والا فاسقوں میں شمار ہوگا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ اگرچہ یہ بات میثاق انبیاء کے ضمن میں کہی جا رہی ہے۔ کہ عہد شکنی کرنے والا فاسق ہوجائے گا۔ مگر اس سے مراد امت کو سمجھانا ہے۔ کہ انبیاء کے کئے ہوئے عہد کو توڑ نہ دینا ورنہ تمہارا نام فاسقوں کی فہرست میں لکھ دیا جائے گا۔ اور اس سے مراد اہل کتاب خاص طور پر ہیں۔ کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) سے عہد شکنی کا تو گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کا نبی ایسا کام نہیں کرسکتا۔ بلکہ نبی کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لئن اشرکت لیحبطن عملک ۔ اگر آپ نے بھی شرک کا ارتکاب کیا۔ تو آپ کے تمام اعمال ضائع کردیے جائیں گے۔ لہذا نبی سے عہد شکنی کا گمان نہیں کیا جاسکتا۔ یہ امت کو سمجھانا مقصود ہے۔ کہ انبیاء کے عہد کو توڑ کر فاسقوں کے گروہ میں شامل نہ ہوجانا۔ اہل کتاب تو بیشک عہد شکن ہیں۔ مگر آج کا مسلمان بھی اس معصیت سے محفوظ نہیں رہ سکا۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا کرے۔
Ayahs 3:83–85ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے عہد و پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ جو اس نے عام لوگوں اور انبیاء (علیہم السلام) سے لیا۔ اور پھر اس عہد کو توڑنے والوں کی سزا کا بیان بھی آ چکا ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ نے ڈانٹ پلائی ہے۔ اس کے بعد دین اسلام کی صداقت اور حقانیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس دین اطاعت فرمانبرداری کو قبول نہیں کرتے جس کا ان سے عہد لیا گیا تھا ، تو پھر کیا اس کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان تو دین توحید کے متعلق لیا تھا۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) اسی دین کی تعلیم دیتے رہے ہیں لہذا وہ کبھی اس بات کی تعلیم نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ مخلوق میں سے کسی کو رب بنا کر اس کی عبادت کی جائے۔ یا کسی کو حلال و حرام کا مختار سمجھا جائے۔ وہ تو ہمیشہ یہی تعلیم دیتے رہے ہیں۔ کو نو ربانیین۔ یعنی اللہ والے بن جاؤ۔ رب والے ہوجاؤ۔ صرف اسی کی عبادت کرو اور اسی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھو۔
سچا دین :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب یہ لوگ سچے دین کو قبول نہیں کرتے۔ افغیر دین اللہ یبغون۔ کیا وہ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کے متلاشی ہیں۔ حالانکہ اللہ کا سچا دین تو صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلام۔ پہلی آیتوں میں گزر چکا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا۔ اسلم۔ یعنی اسلام لے آؤ، اللہ کے سچے دین کو قبول کرلو ، اس کی اطاعت کے آگے سر تسلیم خم کردو ، تو انہوں نے جواب میں کہا۔ اسلمت لرب العلمین۔ میں نے تمام جہانوں کے رب کا نازل کردہ دین قبول کرلیا۔ اس کا فرمانبردار ہوگیا۔ میں نے اسلام قبول کرلیا۔ کیوں کہ۔ ان الدین عند اللہ الاسلام۔ اللہ کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہی ہے۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) نے اسی دین کی تعلیم دی ہے۔ مگر یہ لوگ اس دین کو قبول کرنے کی بجائے کسی دوسرے دین کو تلاش کرتے ہیں۔ دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا کہ ان لوگوں نے جو جھوٹے دین بنا رکھے ہیں۔ کیا ان کے بارے میں انہیں اللہ نے اجازت دی ہے کہ جھوٹے اور کمزور شرک والے ادیان کو تسلیم کریں۔ اللہ کے علاوہ کونسی ذات ہے۔ جس کی اطاعت تمام مخلوق پر لازم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے تو خود فرمایا۔ ولہ اسلم من فی السموات والرض۔ آسمان و زمین کی ہر مخلوق اسی خدائے وحدہ لاشریک کی فرمانبرداری کرتی ہے۔ ہاں ! طوعاً و کرھا۔ کچھ لوگ اس کی اطاعت خوشی سے کرتے ہیں بعض دوسرے مجبوری اور لاچاری کی بناء پر کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے احکام دو قسم کے ہیں۔ تکوینی احکام وہ احکام ہیں جو انسان کو اپنی خواہش اور اختیار کے بغیر کرنے پڑتے ہیں۔ جیسے زندگی ، موت ، بیماری حادثات ، بارش ، خشک سالی ، سیلاب ، زلزلہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں ، جو انسان پر بغیر خواہش اور بغیر اختیار کے وارد ہوتی ہیں۔ انسان کو ان احکام پر مجبوراً عمل پیرا ہونا پڑتا ہے۔ یہ تکوینی احکام ہیں۔ دوسری قسم کے احکام شرعی احکام کہلاتے ہیں۔ یہ احکام اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ ان پر عمل انسان اپنی خواہش اور اختیار سے تسلیم کرتی ہے۔ اور بعض بدبخت ایسے بھی ہیں ، جو انہیں ماننے کے لیے تیار نہیں۔ تو فرمایا کہ ایسی ہستی جس کے تمام تکوینی اور شرعی احکام مانے جائیں وہ صرف خدا کی ذات ہے۔ اور ماننے والے آسمان میں بھی ہیں۔ اور زمین میں بھی ہیں۔ آسمانی مخلوق میں فرشتے ہیں۔ یہ اللہ کی مطیع اور فرمانبردار مخلوق ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ آسمان میں چار بالشت بھی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں کوئی فرشتہ اپنے مالک کی عبادت میں مصروف نہ ہو۔ زمینی مخلوق میں انسانوں کے علاوہ شجر ، حجر ، چرند ، پرند ، نباتا ، جمادات سب اللہ کے تکوینی احکام کی تعمیل کرتے ہیں۔ رہے انسان تو ان میں بہت سے ایسے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ کے شرعی احکام قبول کرتے ہیں۔ اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں۔ وکثیر حق علیہ العذاب۔ اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی سزا ثابت ہوچکی ہے۔ تکوینی احکام تو وہ بھی مجبوراً مانتے ہیں مگر شرعی احکام پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ایسے لوگ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہاں جائیں گے ، وہ تو فرماتا ہے۔ والیہ یرجعون۔ انہیں بہرصورت اس مالک الملک کی طرف ہی لوٹ کرجانا ہے۔ سب اس کے سامنے پیش ہوں گے اور ہر ایک سے اس کے عقیدے اور عمل کے متعلق باز پرس ہوگی۔ تو یاد رکھنا چہئے کہ کافر ، مشرک ، یہودی اور عیسائی اگر اللہ کے سچے دین کو نہیں مانتے۔ تو پھر کس دین کو مانیں گے۔ کیا کوئی ایسی ذات ہے۔ جو اللہ کے علاوہ انہیں کوئی سچا دین مہیا کردے۔ یہ کس دین کے متلاشی ہیں۔ دین عطا کرنے والی ذات تو فقط ذات واحد ہے۔
جس سچے دین کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ وہ وہی دین ہے جس کی تعلیم حضور خاتم النبیین ﷺ دے رہے ہیں۔ اور اس کا خلاصہ یہ ہے۔ حنفاء للہ غیر مشرکین بہ۔ کہ حنیف بن جاؤ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ چناچہ اسی دین حنیف کی تشریح میں فرمایا۔ قل۔ اے پیغمبر ! (علیہ السلام) ان سے کہہ دیجئے ۔ امنا باللہ۔ ہم اللہ پر ایمان لائے۔ یعنی اپنے خدا تعالیٰ کی ہستی کو اجب الوجود تسلیم کیا۔ ہم نے اس کی توحید کو مانا ۔ اس کے کمال صفات کے ساتھ متصف ہونے کو مانا ، اس ذات کو نقص و عیب سے پاک جانا۔ اس کو ازلی و ابدی تسلیم کیا ۔ ہم اس بات پر ایمان لائے کہ وہی ذات مالک و مختار کل ہے۔ وہی علیم کل ہے۔ وہ خالق کل اور مربی کل ہے۔ وہ ہر جگہ پر حاضر و ناظر ہے وہی حلال المشکلات ہے۔ وہی نافع اور ضار ہے۔ یہی ایمان باللہ ہے۔ یہی عقیدہ سبحان اللہ وبحمدہ میں سمجھایا گیا ہے۔
ایمان باللہ کے بعد فرمایا وما انزل علینا۔ اور ہم اس چیز پر بھی ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی ، ظاہر ہے کہ ہماری طرف اللہ نے قرآن پاک نازل فرمایا ہے ، جس پر ہم ایمان لائے۔ اس کی تشریح میں فرمایا۔ ثم ان علینا بیانہ۔ پھر اس کا بیان کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔ نیز فرمایا کہ پیغمبر کا ایک کام یہ بھی ہے۔ لتبین للناس ما نزل الیھم۔ جو کتاب اس پر نازل کی گئی ہے۔ لوگوں اس کی تشریح بیان کرے۔ تاہم یہ تشریح بھی منجانب اللہ ہوتی ہے۔ قرآن پاک وحی جلی ہے اور جو تشریح پیغمبر کی زبان سے ہوتی ہے۔ وہ وحی خفی ہے مسلم شریف کی روایت میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایمان وہ چیز ہے۔ ما جئت بہ۔ جو کچھ میں لے کر آیا ہوں۔ یعنی جو بھی چیز اللہ کی طرف سے نبی لایا ہے ، اس پر ہم ایمان لائے ہیں۔
فرمایا۔ وما انزل علی ابراہیم۔ ہم اس چیز پر بھی ایمان لائے جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اتاری گئی ہے۔ قرآن میں موجود ہے۔ کہ اللہ جل جلالہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر صحیفے نازل فرمائے۔ جیسا کہ سورة اعلی میں آتا ہے۔ صحف ابراہیم و موسیٰ اللہ تعالیٰ نے ان کو دین دیا ، شریعت دی ، احکام دیے اور تمام مخلوق کا امام بنایا۔ فرمایا واسمعیل و اسحاق و یعقوب والاسباط۔ ہم اس چیز پر بھی ایمان لائے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دو بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) ہیں۔ پہلے حضرت ہاجرہ کے بطن سے اور دوسرے حضرت سارہ سے۔ دونوں اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ اللہ نے ان کو مستقل شریعت دی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ وہ بھی اللہ کے صاحب شریعت نبی ہیں۔ اور پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اسباط یعنی اولاد ہے۔ اس میں سے اللہ نے جس کو نبوت دی ، ان پر وحی نازل فرمائی اور ان کو شریعت بھی دی۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اللہ نے چار ہزار نبی اور رسول مبعوث فرمائے۔ یہ اتنا عظیم خاندان ہے۔ اسباط سے یہی انبیاء اور رسل مراد ہیں جن میں حضرت داود (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) جیسے عظیم پیغمبر مبعوث ہوئے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) بھی آپ کی اولاد میں سے ہیں تاہم بعض انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ اکثر کا نام ذکر نہیں کیا گیا۔ ان تمام انبیاء (علیہم السلام) پر جو چیز نازل کی گئی۔ اس پر ہمارا ایمان ہے۔
اس کے علاوہ۔ وما اوتی موسیٰ و عیسی۔ جو چیز موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اس پر بھی ہمارا ایمان ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات جیسی عظیم کتاب نازل کی گئی۔ اس کے علاوہ کچھ صحیفے بھی ہیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر اللہ نے انجیل نازل فرمائی۔ جسے بگاڑ کر اہل کتاب نے ایک سو بیس انجیلیں بنا لیں۔ ان میں سے متی ، لوقا ، یوحنا اور مرقس تو بائیبل میں موجود ہیں۔ جن کے مضامین ایک دوسری سے مختلف ہیں۔ پانچویں انجیل بربناس ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی اصل حالت پر موجود نہیں رہی۔ تاہم ہمارا ایمان اس اصلی انجیل پر ہے۔ جو سریانی زبان میں نازل ہوئی۔
آخر میں فرمایا۔ النبیون من ربھم۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) پر ان کے رب کی طرف سے جو کچھ بھی اتارا گیا ہے۔ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ مسلمانوں کی صداقت کی یہی نشانی ہے۔ کہ وہ انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی تمام کتب کو مانتے ہیں۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا۔ تومنون بالکتب کلہ۔ تم تو سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو۔ مگر یہ یہود و نصاری اللہ کی سب سے عظیم اور آخری کتاب قرآن پاک کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ محمد (ﷺ) اپنی طرف سے بنا کر لائے ہیں (العیاذ باللہ) یہ اس قدر متعصب لوگ ہیں۔ اور یہی ان کے کذب کے دلیل ہے۔ یہ تو ایک دوسرے کے بھی مخالف ہیں۔ مگر ہم تو تمام انبیاء کی رسالت پر یقین رکھتے ہیں یہی حنیفیت ہے۔ اور یہی سچا دین اسلام ہے۔ ہر نبی دوسرے نبی کی تصدیق کرتا ہے۔ اور تمام انبیاء (علیہم السلام) نے حضور خاتم النبیین ﷺ کی تصدیق کی۔ اور خدا کی بارگاہ میں آپ کی نصرت کا وعدہ کیا۔
یہ آیت قریب قریب انہی الفاظ کے ساتھ پہلے پارے میں بھی گزری ہے وہاں پر ملت ابراہیمی کی تشریح الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔ وہاں پر علینا کی جگہ الینا اور والنبیون سے پہ 9 لے وما اوتی کے الفاظ زیادہ ہیں۔ مقصد یہی ہے کہ جو کچھ اللہ نے نبیوں پر نازل کیا ہے وہ حق ہے اور ان سب پر ہمارا ایمان ہے۔ گویا اس اصل ہدایت پر ہمارا مکمل ایمان ہے اگرچہ بعد میں آنے والوں نے اس میں تغیر و تبدل کردیا تاہم اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں اور اللہ کے ہاں جواب دہ ہیں۔
ایمان بالرسل :
اور آخر میں تمام انبیاء پر ایمان لانے کی وضاحت اس طرح فرمائی۔ لانفرق بین احد منہم۔ ہم انبیاء اور سل میں کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے ، تفریق کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہودیوں کی طرح بعض انبیاء پر ایمان لائے اور بعض پر نہ لائے۔ اس قسم کی تفریق صریح کفر ہے کیونکہ تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں۔ وہ سب اللہ کے کامل بندے اور برحق نبی ہیں۔ انہوں نے اپنے اپنے دور میں مخلوق خدا کو حق کا پیغام پہنچایا۔ اللہ نے اپنے انبیاء کو کتابیں اور شرائع عطا فرمائیں۔ ان سب پر ہمارا ایمان ہے۔ مگر یہود و نصاری اللہ کے تمام انبیاء پر ایمان نہیں رکھتے۔ مثال کے طور پر دونوں گروہ حضور ختم المرسلین (علیہ السلام) پر ایمان نہیں رکھتے۔ لہذا یہ تفریق بین الرسل کے مرتکب ہو کر کافر ٹھہرے۔ اسی طرح یہودی مسیح (علیہ السلام) کو نہیں مانتے۔ بلکہ انہیں دجال کہتے ہیں اور ان کی تذلیل و تحقیر کرتے ہیں۔ مگر ہم بحیثیت مسلمان کسی نبی کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ونحن لہ مسلمون۔ ہم اللہ کی فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ یہی اسلام ہے۔ یہی حنیفیت ہے اور یہی ملت ابراہیمی ہے جس کی تعلیم سارے نبی دیتے آئے ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے۔ یاد رکھو ! ومن یبتغ غیر الاسلام دینا۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین تلاش کرے گا۔ اور یہ سمجھے گا کہ ایسا کرکے وہ کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔ فلن یقبل منہ۔ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ اللہ کے نزدیک سچا دین صرف اسلام ہے۔ لہذا وہی مقبول ہوگا۔ یہود و نصاری نے یہودیت اور عیسائیت کی تبلیغ کے لیے بین الاقوامی طور پر بڑی بڑی سازشیں کی ہیں۔ ماضی قریب تک سلطنت برطانیہ بڑی وسیع سلطنت اور عظیم طاقت تھی۔ اس نے ساری دنیا کی ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ دو سو سال تک اس طاقت نے دنیا میں اودھم مچائے رکھا تاھ۔ خصوصاً اہل اسلام کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ خلافت کو اسی نے ختم کیا۔ برصغیر کی آزادی کے بعد افریقی ممالک یکے بعد دیگرے آزاد ہونا شروع ہوئے۔ تو وہاں کے لوگ دھڑا دھڑا مسلمان ہونے لگے۔ کہتے ہیں کہ ایک ایک مجلس میں سینکڑوں لوگ اسلام لاتے تھے۔ یہ چیز انگریز کو ہرگز گوارا نہ تھی۔ انہوں نے وہاں پر طرح طرح کے فتنے کھڑے کئے۔ احمد دیبلو مسلمان مبلغ تھے ان کے علاوہ نائجیریا کے صدر اور وزراء کو مروا ڈالا۔ جب لوگوں نے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا۔ تو انہوں نے تحریف فی القرآن کا ارتکاب کیا۔ تحریف شدہ قرآن پاک کے نسخے بڑے خوبصورت انداز میں طبع کرا کے مفت تقسیم کیے۔ مثال کے طور پر آیت زیر مطالعہ میں سے لفظ غیر کو حذف کردیا اور باقی صرف و من یبتغ الاسلام دیناً رہ گیا جس کا معنی بالکل الٹ ہوگیا۔ جب یہ بات کرنل ناصر مرحوم کے نوٹس میں آئی تو اس نے اس کا سختی سے نوٹس لیا۔ اس نے اشاعت قرآن کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنائی جس نے پوری صحت کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں قرآن پاک طبع کرا کے تقسیم کیے۔ اور ساتھ کہہ دیا کہ اس نسخے کے علاوہ کسی دوسرے نسخے کا اعتبار نہ کرو۔ یہ نسخہ ہمارے پاس بھی موجود ہے انہوں نے اشاعت اسلام کے لیے صوت الاسلام کے نام سے ایک مستقل ریڈیو سٹیشن بھی قائم کیا تاکہ قرآن پاک کی نشر و اشاعت ہوتی رہے۔ یہ ناصر کا بہت بڑا کارنامہ ہے اگرچہ اس نے اپنے زمانے میں غلطیاں بھی کیں۔ بہرحال یہود و نصاری کی سازش کا کامیاب جواب دیا گیا۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا لا تتخذوا لیھود والنصری اولیاء۔ یہود و نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ یہ سازشی لوگ ہیں ، ہر وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں۔ لہذا اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کو تلاش نہ کرو۔ جو ایسا کرے گا ، اس کا دین ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ وھو فی الاخرۃ من الخسرین۔ ایسا شخص آخرت میں نقصان میں پڑے گا۔ اسلام کے علاوہ کوئی دین بھی کامیابی کی طرف نہیں لے جائے گا۔ بلکہ اس کے متبعین سراسر خسارے کا سودا کریں گے۔
مسلمانوں کی بدقسمتی :
یہود و نصاری کی اسلام دشمنی تو قابل فہم ہے ، وہ تو دوسرا دین ہی تلاش کریں گے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ آج کا مسلمابھی اپنے دین پر اعتماد نہیں کرتا۔ آج کے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہیں۔ کہ جب تک غیر اقوام کی شاگردی اختیار نہیں کریں گے ، ترقی نصیب نہیں ہوگی۔ انہیں معلوم ہونا چاہئے۔ کہ جب مسلمان اپنے دین پر یقین کرتے تھے ، عروج کی بلندیوں پر تھے۔ کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی۔ مگر اب خود مسلمان انگریزوں سے مرعوب ہیں۔ ان کی تہذیب اختیار کر رہے ہیں۔ انہی کے لہو ولعب میں مشغول ہیں اور اسی میں اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پیروان اسلام کے سوا کسی کو فلاح نصیب نہیں ہوسکتی۔ آخرت میں تو سخت نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔
اسلامی قوانین :
تہذیب و تمدن کے علاوہ آج کا مسلمان اسلامی قوانین سے بھی مطمئن نظر نہیں آتا۔ اسی لیے وہ غیر اسلامی قوانین کی طرف دیکھ رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اسلام ایک فرسودہ دین بن چکا ہے۔ لہذا وہ اقتصادی نظام کے لیے روس ، جرمنی ، امریکہ اور فرانس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ ان کے پاس تعزیرات کا کوئی قانون موجود نہیں ان کے تمام قوانین بناوٹی ہیں۔ برخلاف اس کے کہ اسلام کے پاس اپنے قوانین موجود ہیں۔ صحابہ کرام کا دستور العمل مشعل راہ ہے۔ مگر اب قوانین اس مجلس شوری سے بنوائے جا رہے ہیں۔ جس میں ہندو اور عیسائی بھی شامل ہیں۔ کیا اسلام کا قانون یہ لوگ بنائیں گے ؟ ممبران شوری کے لیے تو خصوصی اہلیت مقرر ہونی چاہئے تھی۔ جس سے پتہ چلتا کہ واقعی یہ لوگ اسلامی قانون سازی کے قابل ہیں۔ حضرت عمر ؓ کی شوری کے ممبر وہ لوگ ہوتے تھے۔ جو قرآن پاک کو زیادہ جاننے والے ہوتے۔ آج بھی اسلامی شوری میں جانے کے اہل وہ لوگ ہیں۔ جو قرآن و سنت اور تعامل صحابہ کے عالم ہوں۔ جب تک اہل لوگ اکٹھے نہیں ہوں گے اسلامی قانون کی تدوین نہیں ہوسکتی۔ جب فاسق فاجر ، ہندو ، مرزائی ، رافضی وغیرہ ممبران شوری ہوں گے۔ تو اسلامی قانون کیسے بن سکتا ہے ؟ وہ تو اپنی اغراض پوری کریں گے۔ یہ سب غیر الاسلام دینا۔ والی بات ہے۔ اگر فلاح کی ضرورت ہے تو اسلامی قوانین کو من و عن جاری کرنا ہوگا۔ اگر کلچر غیر اقوام کا اپنانا ہے ، اقتصادیات اور سیاست ان سے لینی ہے۔ اخلاق ان سے اخذ کرنا ہے۔ تو پھر مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔ آؤ ! آج بھی راہ راست پر آجاؤ۔ اور دین اسلام کو سینے سے لگا لو ، تو کامیابی و کامرانی نصیب ہوجائیگی۔
Ayahs 3:86–91ربط آیات :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حنیفیت کی تشریح بیان فرمائی تھی۔ اور اسلام کی حقانیت کا تذکرہ کیا تھا۔ اور فرمایا تھا کہ اللہ کے ہاں اسلام کے سوا کوئی دین قابل قبول نہیں ہے۔ جو کوئی اسلام کے علاوہ کسی دوسرے دین کا طالب ہوگا ، اس سے وہ چیز قبول نہیں کی جائے گی اور ایسا شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوگا۔ خاص طور پر آخرت میں تو وہ جہنم کا مستحق ہو کر سراسر نقصان اٹھائے گا۔ اب آج کے درس میں اسلام کے بعد کفر کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کی توفیق نہیں دے گا۔ اور نہ ہی ان کی توبہ قبول کی جائیگی وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
آخرت کا مدار اسلام پر ہے :
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں اس طرح کے الفاظ آتے ہیں کہ قیامت کے دن مختلف نیکیاں اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گی ، مثلاً نماز حاضر ہو کر عرض کرے گی۔ پروردگار ! میں نماز ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ انت علی خیر۔ تم بہتری پر ہو۔ یعنی تمہارا بدلہ اچھا ہوگا۔ پھر صدقہ آئے گا اور عرض کرے گا ، مولا کریم ! میں صدقہ ہوں۔ اللہ جل شانہ فرمائیں گے ، تمہارا بدلہ بھی اچھا ہے۔ تم بھی بہتری پر ہو۔ جس شخص نے دنیا میں صدقہ کیا ہوگا۔ اسے یقینا اس کا اچھا بدلہ ملے گا۔ اس کے بعد روزہ آئے گا۔ اور عرض کرے گا۔ انا الصوم۔ اے اللہ ! میں روزہ ہوں۔ اللہ فرمائے گا۔ تم بھی بہتری پر ہو۔ پھر اسلام آئے گا اور عرض کرے گا اے پروردگار ! انت السلام و انا الاسلام۔ تو سلام یعنی سلامتی والا یا سلامتی دینے والا ہے (یہ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک ہے) اور میں اسلام ہوں یعنی مجسم فرمانبرداری ہوں میں اطاعت ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، ہاں ٹھیک ہے۔ بک اعطی و بک اخذ ۔ آج میں تیری وجہ سے ہی دوں گا اور تیری وجہ سے مواخذہ کروں گا۔ آج سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا ہے ، اس کو اچھا بدلہ ملے گا۔ آج سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ جس نے اسلام قبول کیا ہے ، اس کو اچھا بدلہ ملے گا۔ اور جس نے اسلام سے روگردانی کی ، اس کا مواخذہ ہوگا۔ کہ تم نے اسلام کو کیوں نہ قبول کیا۔
شان نزول :
ان آیات کی شان نزول میں مختلف روایات آتی ہیں حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں آتا ہے کہ انصار مدینہ میں سے کوئی شخص اسلام قبول کرنے کے بعد پھر گیا۔ مگر بعد میں اس پر نادم ہوا تاہم بعض شخص ایسے بھی تھے جو اسلام کو ترک کرنے کے بعد کفر پر اڑے رہے ، منجملہ ان کے ، بشیر ، منافق کا ذکر آتا ہے جو مرتد ہو کر مشرکین مکہ سے جا ملا۔ یہ شخص اسلام اور اہل اسلام کی سخت مخالفت کرتا رہا اس طرح ابن خطل کے متعلق آتا ہے۔ کہ اسلام لانے کے بعد اس کو حضور ﷺ نے صدقات کی وصولی کے لیے کسی جگہ بھیجا۔ راستے میں خدمت کے لیے ایک خادم بھی ہمراہ بھیجا۔ دوران سفر اس خادم نے کھانا تیار کرنے میں دیر کردی تو اس ظالم نے اس کو قتل کردیا۔ ظاہر ہے کہ قتل ناحق کے جرم میں اس کے خلاف مقدمہ قائم ہوتا ، پھر یا تو وہ قصاص میں قتل کیا جاتا یا دیت پر فیصلہ ہوجاتا اور آخرت کی سزا سے بچ جاتا۔ مگر اس نے دنیا کی سزا قبول کرنے کی بجائے اسلام کو ترک کردیا اور مرتد ہو کر کفار مکہ سے جا ملا۔ وہاں پر اس نے عیش و عشرت کی زندگی گزارنا شروع کردی۔ اس کے پاس لونڈیاں تھیں۔ رقص و سرود کی محفلیں گرم ہوتیں جن میں اسلام کی توہین اور اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کی جاتی۔ حضور ﷺ نے ابن خطل سمیت چار آدمیوں کے متعلق حکم دے رکھا تھا کہ یہ جہاں بھی ملیں قتل کردیے جائیں۔
میں حضور ﷺ دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ فتح مکہ کے لیے تشریف لائے۔ تو ابن خطل نے بیت اللہ شریف کے پردے پکڑ کر امان چاہی۔ حضور ﷺ کو خبر ملی تو اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا چناچہ اس بدبخت کو مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درمیان قتل کردیا گیا۔ غرضیکہ یہ ان لوگوں میں سے تھا جو مرتد ہونے کے بعد کفر میں اور زیادہ بڑھ گئے۔ ان آیات میں ایسے ہی لوگوں کا تذکرہ ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت میں یہ بھی آتا ہے۔ کہ مدینہ طیبہ کے اطراف میں رہنے والے دس یہودی اسلام میں داخل ہوئے مگر بعد میں مرتد ہوگئے یہ آیات ان کے متعلق نازل ہوئیں۔ یہودیوں کی سازش کا تذکرہ اسی سورة میں آ چکا ہے۔ کہ وہ آپس میں منصوبہ بناتے تھے۔ کہ دن کے پہلے حصے میں مسلمان ہوجاؤ۔ اور پھر آخری حصے میں اسلام کو ترک کردو۔ اس طرح وہ لوگ بھی اسلام سے بد ظن ہوجائیں گے جو اسلام لا چکے ہیں۔ دوسری طرف یہود کا تعصب بھی اللہ تعالیٰ نے بیان فرما دیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت سے پہلے یہ لوگ آخری نبی کے منتظر تھے۔ اور کہتے تھے کہ ہم اس نبی کا ساتھ دیں گے اور اس کے ساتھ مل کر کفار و مشرکین کا مقابلہ کریں گے اور ان پر غلبہ حاصل کریں گے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ وکانوا من قبل یستفتحون علی الذین کفروا۔ نبی آخر الزماں کے آنے سے پہلے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعائیں کیا کرتے تھے۔ کہ اے اللہ ! اپنے آخری نبی کو مبعوث فرما تاکہ ہم اس کے ساتھ مل کر کافروں پر فتح حاصل کریں۔ مگر اللہ نے فرمایا۔ فلما جاءھم ما عرفوا کفروا بہ فلعنۃ اللہ علی الکفرین۔ جب وہ نبی برحق آگیا۔ اور ان بدبختوں نے اسے پہچان بھی لیا ، تو انکار کردیا۔ پس کافروں پر اللہ کی لعنت ہو۔
بعثت رسول کی پیش گوئیاں :
نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی بعثت کے متعلق سابقہ کتب میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ بائیبل میں اعمال رسل کے باب میں یہ آیت موجود ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے باپ دادوں سے کہا۔ خداوند جو تمہارا خدا ہے ، وہ تمہارے بھائیوں میں تمہارے لیے ایک نبی میری مانند اٹھائیگا۔ جو کچھ وہ تمہیں کہے ، تم سب اس کو سنو۔ یہ آیت شیخ الاسلام نے حاشیہ میں نقل کی ہے۔ حضور ﷺ کے متعلق عیسیٰ (علیہ السلام) نے تو نہایت تاکید کے ساتھ کہا تھا کہ وہ میرے بعد آنیوالا ہے مگر جب وہ آگیا اور انہوں نے پہچان بھی لیا تو صاف انکار کرگئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود سمجھتے تھے کہ آسمانی ہدایت صرف ان کے لیے مخصوص ہے قرآن پاک میں موجود ہے۔ قالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصری۔ وہ کہتے تھے۔ کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ دوسرا کوئی شخص جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ وہ اس زعم میں مبتلا تھے کہ دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں انہی کے لیے مخصوص ہیں۔ مگر جب وہ نبی آخر الزماں تشریف لے آئے اور اعلان فرما دیا۔ یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، تو اہل کتاب ضد اور حسد میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے عناد اور کفر کا اظہار کیا۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق نشانیوں کو مٹانے کی کوشش کی اور آپ کے متعلق پیشین گوئیوں کو خلط ملط کردیا ، اس طرح یہ لوگ خاتم المرسلین ﷺ کے انکار میں آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔
ظالم ہدایت سے محروم ہیں :
ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا۔ کیف یھدی اللہ قوما۔ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو کیسے ہدایت دے گا۔ کفروا بعد ایمانہم۔ جنہوں نے اپنے ایمان لانے کے بعد کفر کیا۔ وشھدوا ان الرسول حق۔ اور گواہی بھی دی کہ بیشک خدا کا رسول برحق ہے۔ وجاءھم البینت۔ اور ان کے پاس واضح اور کھلی کھلی نشانیاں بھی آگئیں۔ یاد رکھو ! جب تک کوئی قوم ظلم و ستم کرتی رہے گی۔ واللہ لا یھدی القوم الظلمین۔ اللہ ایسی قوم کو ہدایت نصیب نہیں کریں گے۔ راہ راست کے لیے تو شرط ہے کہ انسان اپنی غلطی یا ظالم کو ترک کردے اور خلوص دل سے ہدایت کا طالب ہو ، تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہدایت کا راستہ کھول دے گا۔ مگر یہ لوگ تو بدنیت اور بدکردار ہیں۔ اولئک جزاءھم ان علیھم لعنۃ اللہ۔ ان کا بدلہ تو یہ ہے۔ کہ ان پر خدا کی پھٹکار ہے اور لعنت ہے۔ لعنت کا معنی خدا کی رحمت سے دوری ہے۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ اور پھر یہ کہ والملئکۃ اللہ کے فرشتے بھی ان پر لعنت اور پھٹکار کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ رسول کی آمد سے پہلے ان کو مانتے تھے۔ مگر جب وہ آگئے تو انہوں نے ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کردیا۔ اور جن لوگوں کا خاتمہ کفر پر ہوتا ہے۔ والناس اجمعین۔ ان پر ساری مخلوق بھی لعنت بھیجتی ہے۔ اور اس لعنت کا ثمرہ یہ ہوگا۔ خلدین فیھا۔ وہ اس لعنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے گرفتار رہیں گے۔ لا یخفف عنھم العذاب۔ نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ ولاھم ینظرون۔ اور نہ انہیں مہلت ملے گی۔ ان کو اپنی اصلاح کرنے یا اللہ تعالیٰ کو منانے کا کوئی موقع نہیں دیا جائیگا۔
قبولیت توبہ :
فرمایا۔ الا الذین تابوا من بعد ذلک۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی توبہ کرلے گا تو باب التوبۃ مفتوح۔ اس کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے مطلب یہ کہ مرتد ہونے کے بعد بھی اگر کوئی سچے دل سے توبہ کرے گا ، تو وہ قبول ہوسکتی ہے۔ جب تک سورج مشرق کی بجائے مغرب کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا ، توبہ قبول ہوگی ، انسان خواہ کتنا بھی گنہگار ہو۔ پھر یہ ہے کہ توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ۔ واصلحوا۔ اصلاح بھی کرلیں اور نیک اعمال انجام دیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اصلحوا میں یہ بات بھی شامل ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کیا جائے۔ اگر اللہ کے حقوق یعنی فرائض منجملہ نماز ، روزہ وغیرہ قضا ہوا ہے۔ تو اس کو ادا کیا جائے اور اگر بندوں کے حقوق ضائع ہوئے ہیں تو پہلے انہیں ادا کیا جائے یا بندوں سے معاف کرایا جائے۔ اس کے بغیر توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے ، جو غلطی ہوئی ہے ، اس کا اعادہ نہ کیا جائے۔ اگر ان شرائط پر پورا اترا ، تو توبہ قبول ہوگی ، فان اللہ غفور رحیم۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ اس کی رحمت بڑی وسیع ہے۔ جب اس کی رحمت جوش میں آتی ہے ، تو سچے دل سے تائب کی سابقہ برائیاں نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے۔
عدم قبولیت توبہ :
فرمایا۔ ان الذین کفروا بعد ایمانہم۔ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا۔ ثم ازدادوا کفرا۔ پھر وہ کفر میں بڑھتے چلے گئے۔ لن تقبل توبتھم۔ ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں توبہ کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوگی۔ ورنہ تو بہ کا عام اصول یہ ہے۔ کہ جب تک انسان کے ہوش و حواس قائم ہیں اور اس پر غرغرے کی حالت طاری نہیں ہوتی ، اس کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ ہاں ! الذین یعملون السیئت۔ جو لوگ برائیوں کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں۔ حتی کہ موت نظر آجاتی ہے۔ ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جب موت کے فرشتے نظر آنے لگیں ، غیب کا پردہ اٹھ جائے تو پھر توبہ کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ توبہ کی عدم قبولیت کا یہی معنی ہے۔ فرمایا واولئک ھم الضالون۔ یہی لوگ گمراہ ہیں۔ انہیں توبہ کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوئی۔
فدیہ کام نہ آئے گا :
فرمایا یاد رکھو۔ ان الذین کفروا وماتوا وھم کفار۔ جن لوگوں نے کفر کیا اور پھر کفر کی حالت میں ہی ان کی موت واقع ہوئی ، تو پھر ان کی حالت یہ ہوگی۔ فلن یقبل من احدھم ملء الارض زھبا ولوا فتدی بہ۔ کہ ان میں سے اگر کوئی شخص سونے سے بھری ہوئی زمین بھی فدیہ میں دینا چاہے گا ، تو اس سے قبول نہیں کی جائے گی۔ اول تو یہ بات ویسے ہی محال ہے۔ کہ قیامت کے دن کسی شخص کی ملیکیت میں زمین بھر سونا ہو اور وہ اسے اپنی جان کی خلاصی کے لیے دینا چاہے۔ تاہم اگر ایسا ہو بھی جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔
حدیث شریف میں آتا ہے۔ قیامت کے روز ایک شہید شخص کو اللہ کی بارگاہ میں پیش کیا جائیگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، تمہارا ٹھکانا کیسا ہے۔ عرض کرے گا ، مولا کریم ! بہت ہی بہترین ٹھکانا ہے۔ اللہ فرمائے گا ، کوئی اور خواہش ہے تو بتاؤ۔ وہ عرض کرے گا ، الہی ! مجھے دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت دی جائے تاکہ میں پھر تیرے راستے میں لڑتا ہوا شہید ہوجاؤں۔ اللہ فرمائے گا۔ اس بات کی اجازت نہیں۔ پھر ایک کافر کو لایا جائے گا۔ اس سے بھی وہی سوال ہوگا ، کہ تمہارا ٹھکانا کیسا ہے۔ عرض کرے گا۔ شر مکانا۔ بہت برا ٹھکانا ہے۔ اللہ فرمائے گا۔ اگر ساری زمین سونے سے بھری ہوئی تیرے قبضے میں ہو ، تو کیا تو اپنی جان کا فدیہ دینے کے لیے تیار ہے۔ عرض کرے گا ، پروردگار میں بالکل تیار ہوں ، اللہ فرمائیگا ، تو جھوٹٓ ہے۔ میں نے تم سے ایک معمولی سا مطالبہ کیا تھا کہ مجھے وحدہ لاشریک مان لو ، اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ یہ کون سی مشکل بات تھی۔ مگر تم نے نہ مانا اور کفر کا راستہ اختیار کیا۔ آج زمین بھر سونا فدیہ دینا چاہتے ہو ، مگر یہ بھی قبول نہیں ہوگا۔ فرمایا۔ اولئک لھم عذاب الیم۔ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے عذاب کے تمام زہریلے مادے اپنے اندر جمع کر رکھے ہیں۔ انہیں نہایت ہی دکھ دینے والا عذاب پہنچتا رہے گا۔ وما لھم من نصرین۔ ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ دنیا میں تو انسان لاکھوں حیلے بہانے اختیار کرلیتا ہے۔ کہیں افرادی قوت میسر آجاتی ہے۔ کہیں رشوت اور سفارش کام کرجاتی ہے۔ مگر قیامت کے دن اس قسم کا کوئی حیلہ کارگر نہ ہوگا۔ کفر کرنے والے بےبس ہوجائیں گے۔ اور ابدی سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔