Ayahs 3:123–125ربط آیات :
گذشتہ آیت میں غزوہ احد کا ذکر تھا اور آمدہ آیات بھی احد ہی سے متعلق ہیں ، تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کا بطور مثال ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ! بدر کے موقع پر تم بےسروسامانی کی حالت میں تھے ، افرادی قوت بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قبیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے بھی کم تھی ، رسد بھی بالکل قلیل تھی۔ مگر تمہارے صبر اور تقویٰ کے درجہ کمال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں طاقتور دشمن پر عظیم فتح نصیب فرمائی ، اور اب احد کے موقع پر تمہاری پوزیشن بہت بہتر تھی۔ مگر صبر اور تقوی کی کمی اور بعض غلطیوں کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ، اس میں مسلمانوں کی کمزوری ان کے قائد کی قیادت کے کسی نقص کی بناء پر نہٰں تھی ، کیونکہ جنگ کی کمان تو خود اللہ کا رسول کر رہا تھا ، بلکہ یہ نقصان دوسرے مسلمانوں کے خود اپنے پیدا کردہ اسباب کی بناء پر ہوا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کی کمزوری کے اسباب کو رفع کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور آئندہ کے لیے مستعد رہنے کی تلقین کی ہے۔ سابقہ غلطیوں کی معافی کا ذکر بھی موجود ہے۔ بہرحال اس سورة میں غزوہ احد کے متعلق بہت سی تفصیلات آگئی ہیں
غزوہ بدر :
جیسا کہ پہلے عرض کیا آج کے درس میں غزوہ بدر کے متعلق اللہ تعالیٰ کی مدد کا تذکرہ ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ولقد نصرکم اللہ ببدر البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ بدر کے مقام پر تمہاری ممد کرچکا ہے۔ بدر ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے ستر یا اسی میل کے فاصلے پر ہے۔ در اصل جاہلیت کے زمانے میں بدر بن قیس یا امام ابن کثیر کے مطابق بدر ابن نارین نامی ایک شخص نے اس مقام پر کنواں کھودا تھا ، جس کے نام پر ، اس کنویں کا نام بدر مشہور ہوگیا ، اور اسی نسبت سے اس جگہ کا نام بھی بدر ہی پڑگیا۔ چار پانچ میل کا یہ ایک میدانی علاقہ ہے جس کے ارد گرد پہاڑیاں ہیں ، تاہم ساحل سمندر سے قریب ہی ہے۔ اس مقام پر بروز جمعہ سترہ ماہ رمضان 2ھ میں اہل حق اور اہل باطل کے درمیان ایک عظیم واقعہ پیش آیا ، جو مسلمانوں کے لیے ہجرت کے بعد سب سے اہم لڑائی تھی۔ اس سے پہلے چھوٹ چھوٹی دو تین جھڑپیں ہوچکی تھیں ، تاہم یہ سب سے بڑا معرکہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة انفال میں جنگ بدر کو یوم الفرقان سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ حق و باطل کے درمیان عظیم فیصلے کا دن تھا۔ جب دنیا کو پتہ چل گیا۔ کہ اللہ تعالیٰ اہل حق کی کس طرح نصرت فرماتا ہے جنگ کی تفصیلات سورة انفال میں آتی ہیں۔ اما م بخاری اور مسلم وغیرہ نے اپنی کتب میں مستقل باب باندھ کر مختلف جنگوں کا حال بیان کیا ہے اور وہ تمام احادیث جمع کی ہیں ، جو اہل اسلام اور دشمنان اسلام کی لڑائیوں کے متعلق ہیں ، امام بخاری کی کتاب المغازی میں سب سے پہلے غزوہ بدر کا حال آتا ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ تمہاری بدر کے میدان میں مدد کرچکا ہے۔ اس حالت میں۔ وانتم اذلۃ۔ کہ تم نہایت ہی کمزور تھے۔ اذلۃ ، ذلیل کی جمع ہے اور یہ لفظ عربی زبان میں کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کا ایک معنی کمزور اور بےسروسامان ہوتا ہے۔ اور اس موقع سے یہی معنی زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس صرف ایک یا دو گھوڑے ، ستر اونٹ اور چند ایک شکستہ تلواریں تھیں ، کچھ زرہیں بھی تھیں۔ مجاہدین کی تعداد 313 یا 319 تھی۔ برخلاف اس کے کفار کی تعداد ایک ہزار افراد پر مشتمل تھی ، ان کے پاس ایک سو زبردست گھوڑے ، ماہر سوار ہر سپاہی کے پاس دو دو اونٹ اور سامان خوردو نوش کی فراوانی تھی۔ وہ سامان ضرب و حرب سے لیس تھے۔ ظاہر ہے کہ ان کے مقابلے میں مسلمان کمزور اور بےسروسامان ہی تھے ، اور یہی اذلۃ کا معنی ہے۔
عربی زبان میں لفظ ذلیل نرم مزاج آدمی پر بھی بولا جاتا ہے۔ جیسا کہ سورة مائدہ میں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی ایک صفت یہ بیان فرمائی ہے۔ اذلۃ علی المومنین اعزۃ علی الکفرین۔ یعنی اہل ایمان مومنوں کے لیے نرم مزاج اور کافروں پر سکت ہوتے ہیں۔ گویا مومن آپس میں رحماء بینھم کا نقشہ ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے بڑے ہی نرم مزاج ہوتے ہیں۔
ذلیل کا ایک تیسرا معنی حقیر اور رسوا بھی ہوتا ہے۔ و تعز من تشاء و تزل من تشاء۔ اے باری تعالیٰ تو جسے چاہے عزت دے دے اور جسے چاہے ذلیل و رسوا کردے۔ اس معنی کی مثال سورة نمل میں بھی ملتی ہے۔ ملکہ سبا نے اپنے درباریوں سے کہا تھا۔ کہ جب بادشاہ دوسرے ملک پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ وجعلوا اعزۃ اھلہا اذلۃ۔ تو وہاں کے شرفا کو رسوا کردیتے ہیں۔ بہرحال اس مقام پر اذلۃ کا معنی کمزور اور بےسروسامان ہی زیادہ مناسب ہے۔
تقوی اور شکر :
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ اور اہل ایمان کو یاد دلایا کہ اس کہ اس نے تمہاری اس کمزوری اور بےسروسمانی کی حالت مٰں عظیم الشان فتح عطا کی۔ غزوہ بدر دنیا کی تاریخ میں ناقابل فراموش جنگ کی حیثیت سے محفوظ ہے فرانسیسی اور انگریز اور بعض دیگر غیر مسلم مفکرین نے اپنی کتابوں میں تسلیم کیا ہے ، کہ مشرکین مکہ کے خلاف مسلمانوں کی یہ فتح مبین تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یادگار فتح عطا فرمائی ، لہذا اے مسلمانو ! فاتقوا اللہ لعلکم تشکرون۔ اللہ سے ڈر جاؤ، تاکہ تم شکر ادا کرسکو۔ تقوی سے مراد کفر ، شرک اور معاصی سے بچنا حدود شریعت کی کی حفاظت کرنا اور عدل و انصاف پر عمل پیرا ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اس معیار پر پورا اترے گا ، وہ یقینا شکر گزار ہوگا۔ برخلاف اس کے کافر ، مشرک بدعقیدہ لوگ اس معیار پر پورے نہیں اترتے اس لیے وہ ناشکر گزقار ہوتے ہیں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر اسی صورت میں ادا ہوسکتا ہے کہ انسان تقوی اختیار کرے جس کی تشریح میں نے عرض کردی ہے۔
فرشتوں کے ذریعے مدد :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ واذ تقول للمومنین۔ جب آپ ایمان والوں سے کہہ رہے تھے۔ الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الاف من الملئکۃ منزلین۔ کیا تمہارے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے تین ہزار اتارے ہوئے فرشتوں کے ساتھ۔ اس آیت کریمہ کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں کافروں کی تعداد تو پہلے ہی زیادہ تھی ، بعض نے یہ تعداد ایک ہزار لکھی ہے جو زیادہ مشہور ہے اور بعض نے پندرہ سو بھی لکھی ہے۔ اس کے باوجود وہاں یہ مشہور ہوگیا۔ کہ کافروں کی مدد کے لیے کرز بن جابر مزید لشکر لا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس خبر سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہونے کا کطرہ تھا۔ لہذا اس وحشت کو دور کرنے کے لیے اللہ نے اپنے بذریعہ وحی یہ بشارت دی ، کہ مسلمان دشمن کی کثرت تعداد سے خوف نہ کھائیں ، اللہ تمہاری مدد کے لیے آسمان سے تین ہزار فرشتوں کو نازل فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تین ہزار فرشتوں کا ذکر کیا ، بلکہ جیسا کہ اگلی آیت میں آ رہا ہے ، بوقت ضرورت اللہ نے پانچہزار فرشتوں کے نزول کا بھی وعدہ فرمایا ، مگر حقیقت میں صرف ایک ہزار فرشتوں ہی مدد دی گئی۔ اس کی تفصیل سورة انفال میں آئے گی۔ بہرحال چونکہ کافروں کو مزید کمک نہیں پہنچی تھی۔ اس لیے اللہ نے صرف ایک ہزار فرشتوں کے ذریعے ہی مشرکین کو شکست فاش دیدی۔
یہاں پر فرشتوں کے متعلق منزلین کا لفظ فرمایا ہے یعنی اتارے ہوئے ، ظاہر ہے۔ کہ یہ فرشتے اللہ ہی کے حکم سے اترے تھے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے۔ کہ بدر کے میدان میں میں نے حضور ﷺ کے دائیں بائیں سفید پگڑی والے دو آدمیوں کو دیکھا ، جو کافروں کا مقابلہ کر رہے تھے وہ گھوڑی پر سوار تھے اور گھوڑی کو کہہ رہے تھے۔ اقدم حیزوم۔ اے حیزوم ! آگے بڑھ ، اتنے میں میں نے ایک کافر مرا ہوا دیکھا۔ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ ایسے لوگ پہلے کبھی نہیں دیکھے یہ کون ہیں ، تو آپ نے ارشاد فرمایا ، کہ وہ جبرائیل اور میکائیل تھے۔ ان فرشتوں کے اتارنے کی حکمت کا تذکرہ اللہ نے سورة انفال میں بیان فرمایا ہے۔
بہرحال یہاں پر اہل ایمان کو تسلی دی گئی کہ وہ ہمت نہ ہاریں۔ بلکہ نصرت الہی پر بھروسہ رکھیں۔ نیز فرمایا۔ بلی۔ کیوں نہیں۔ ان تصبروا و تتقوا۔ اگر تم صبر کرتے رہو۔ بدر کی جنگ میں واقعی مسلمانوں نے صبر کا عطیم مظاہرہ کیا۔ صبر اور بےقرار متضاد چیزیں ہیں۔ صبر روح کی صفت ہے اور بےقرار نفس کی صفت ہے۔ جب روح کی صفت نفس کی صفت پر غالب آجائے ، تو انسان کو اطمینانِ قلب حاصل ہوجاتا ہے۔ صبر بہت بڑی صفت ہے اور اس کا امتحان مصیبت کے وقت ، اطاعت کرنے کے موقع پر اور معاصی کے ارتکاب کے وقت ہوتا ہے۔ یہ ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے۔ اسی لیے مسلمانوں سے فرمایا کہ اگر تم صبر کرتے رہوگے۔ وتتقوا۔ اور تقوی اختیار کرتے رہوگے۔ تقوی کے متعلق بھی بہت کچھ بیان ہوچکا۔ اگر انسان کو تقوی کی دولت حاصل ہوجائے ، تو اس کے لیے شریعت کے احکام پر چلنا نہایت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ بھی ایک عظیم صفت ہے۔ جسے حاصل ہوجائے۔ اسی لیے فرمایا۔ ویاتوکم من فورھم ھذا۔ اگر دشمن تمہارے مقابلے میں اچانک آجائیں ، دشمن کو پیچھے سے مزید کمک پہنچ جائے تو پھر بھی تم جی نہ ہارنا ، گھبرانا نہیں ، یمددکم ربکم بخمسۃ الاف من الملئکۃ۔ اللہ تمہاری مدد پانچ ہزار فرشتوں سے کرے گا ، مطلب یہ کہ اگر دشمن کی تعداد بڑھ جائیگی ، تو ان کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ فرشتوں کی فوج بھی برھا دے گا ، اس لیے ہمت نہ ہاریں۔
آگے ان فرشتوں کی صفت بیان کی۔ مسومین۔ وہ نشان لگانے والے ہوں گے ، ہر قوم کے اپنے جنگی نشان ہوتے۔ آج کل کے دور میں ٹینک ، توپ ، بندوق ، ہوائی جہاز وغیرہ تمام آلات حرب پر مخصوص نشان ہوتے ہیں اسی طرح قدیم زمانے میں شناخت کے لیے گھوڑوں پر فوجی نشان ہوتے ہیں اسی طرح قدیم زمانے میں شناخت کے لیے گھوڑوں پر فوجی نشان ہوا کرتے تھے۔ اس سورة کے ابتدا 4 میں بھی یہ لفظ آیا تھا۔ والخیل المسومۃ۔ یعنی نشان لگے ہوئے گھوڑے۔ الغرض ! مسومین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے فرشتوں سے مدد فرمائے گا ، جو دشمن پر ، اس کے گھوڑوں پر اور سامان حرب پر نشان لگائیں گے تاکہ انہیں تباہ و برباد کیا جاسکے۔ مسومین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے فرشتوں سے مدد فرمائے گا ، جو دشمن پر ، اس کے گھوڑوں پر اور سامان حرب پر نشان لگائیں گے تاکہ انہیں تباہ و برباد کیا جاسکے۔ مسومین سے مراد فرشتوں کی اپنی نشانیاں بھی ہوسکتا ہے۔ حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فرشتوں کی نشانی سفید عمامے تھے۔ جب کہ احد کے میدان میں ان کی نشانی شرخ عمامے تھے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ صبر اور تقوی کا پھل یہ ہے کہ اللہ نے بدر میں فتح نصیب فرمائی۔ رہا غزوہ احد کا معاملہ تو وہاں مجاہدین سے کچھ کوتاہی ہوگئی تھی جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے۔ اب آگے فرشتوں کے اتارنے کی حکمت کا تذکرہ ہے۔
Ayahs 3:126–129ربط آیات :
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر اصل تذکرہ تو غزوہ احد کا ہے۔ تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر غزوہ بدر کا ذکر بھی کردیا ہے۔ تاکہ اہل اسلام کو تسلی رہے کہ جس مالک الملک نے انہیں نہایت بےسروسامانی کی حالت میں بدر کے مقام پر عظیم فتح سے نوازا تھا ، وہ اپنے بندوں کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ واقعہ بدر کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کی بشارت سنائی ، پھر تین ہزار کا وعدہ فرمایا ، نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر مشرکین کی جمعیت میں اچانک اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ آسمانوں سے لیے پانچہزار فرشتوں کو نازل فرما دے گا ، جو اپنے گھوڑوں کو نشان لگانے والے ہوں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نزول ملائکہ کی حکمت بیان فرمائی ہے اور واضح کیا ہے کہ فرشتوں کو اتارنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے کفار کے ساتھ براہ راست جنگ میں شریک ہوں گے ، بلکہ جنگ تو بہرحال مسلمانوں نے ہی لڑنی ہے۔ سورة انفال میں اس کا تفصیل سے ذکر ہے۔ تاہم بدر کے متعلق فرمایا۔ اذ تستغیثون ربکم۔ جب تم اپنے پروردگار کے سامنے فریاد کر رہے تھے ، تو اللہ نے تمہاری مدد کے لیے فرشتے اتار دیے ، اور تمہارے حق میں ایسے حالات پیدا فرما دیے کہ تمہیں فتح مبین حاصل ہوگئی۔ فرشتے اللہ کی لطیف مخلوق ہے ان میں اللہ نے طاقت بھی بہت زیادہ رکھی ہے۔ جیسا کہ روایات میں آتا ہے۔ بدر کے مقام پر حضور ﷺ کے دائیں بائیں جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) تھے۔ وہ براہ راست لڑائی میں شریک نہیں تھے۔ البتہ اکا دکا ایسے واقعات کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ جن میں کافروں کو کچھ اذیت بھی پہنچائی گئی۔ تاہم من حیث الجماعت لڑائی کرنا اہل ایمان ہی کا کام ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے یہاں پر نزول ملائکہ کا مقصد بھی بیان فرما دیا ہے۔
مقصد نزول ملائکہ :
ارشاد ہوتا ہے۔ وما جعلہ اللہ۔ نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے نزول ملائکہ کو۔ الا بشری لکم۔ مگر تمہارے لیے خوشخبری۔ تاکہ تمہیں بشارت ہو کہ اللہ کے فرشتوں کی امداد تمہارے ساتھ ہے۔ تاہم فتح تو بہر صورت اللہ کے حکم سے ہی ہوگی ، مگر اطمینان قلب کے لیے یہ بھی کافی ہے کہ مسلمانوں کو فرشتوں کی تائید بھی حاصل ہے دنیا کی اس زندگی میں اس قسم کے معاملات پیش آتے رہتے ہیں۔ اگر کسی کو حاکم اعلیٰ یا کسی بڑے چودھری کی حمایت حاصل ہو ، تو اسے دل میں تسلی ہوتی ہے۔ کہ کوئی بات نہیں ، فلا بڑی ہستی میرے ساتھ ہے ، مجھے کیا پروا ہے۔ اس پر قیاس کرکے سمجھا جاسکتا ہے۔ کہ ایک عام انسان کی حمایت دوسرے کے لیے تسلی و تشفی کا باعث ہوتی ہے تو جس کا حمایتی اور طرفدار خود احکم الحاکمین ہو ، اسے کس قدر سکون حاصل ہوگا۔ اسی لیے فرمایا کہ نزول ملائکہ کا مقصد ایک تو تمہیں بشارت سنانا ہے اور دوسرے ولتمطئن قلوبکم بہ۔ تاکہ تمہارے دل اطمینان حاصل کریں۔ اور تم کسی خوف میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ جہاں تک نصرت غیبی کا تعلق ہے وہ تو مجانب اللہ ہی ہوتی ہے۔ سورة انفال میں موجود ہے۔ اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر وحی نازل کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اور ان کو حکم دیا۔ فثبتوا الذین امنوا۔ کہ اہل ایمان کے دلوں کو مضبوط کریں۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ کے ملائکہ تو ویسے بھی مومنوں کے دلوں میں اچھے خیالات القا کرتے ہیں۔ جس طرح شیاطین در اندازی کرکے انسان کو برے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اسی طرح رحمت کے فرشتے اچھے کاموں کی طرف ابھارتے ہیں۔ بعض صحابہ نے فرشتوں کی تعریف کی کہ حضرت ! ہم نے ایسی بات دیکھی ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا۔ ذلک مدد من السماء الثالث۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کے لیے یہ فرشتے تیسرے آسمان سے نازل فرمائے ہیں۔ بہرحال فرشتوں کے اتارنے کا مقصد مسلمانوں کو بشارت دینا اور ان کے دلوں کو مطمئن کرنا تھا ، نہ کہ براہ راست جنگ میں شریک ہونا۔
نصرت الہی !
غزوہ یرموک کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب نے اس جنگ کے لیے پانچ صحابہ کو کمانڈر مقرر فرمایا۔ ان میں ابوعبیدہ بن جراح ، خالد بن ولید ، ابن حسنہ ، یزید بن ابی سفیان اور عیاض تھے۔ آپ حکم دیا تھا کہ بحیثیت مجموعی پوری فوج کی کمان حضرت ابوعبیدہ کے پاس ہوگی تاہم باقی جرنیل اپنے اپنے دستوں کے سردار ہوں گے اور اپنے اپنے یونٹوں میں فوجی انتظامات کے ذمہ دار ہوں گے جب رومیوں کے ساتھ لڑائی شروع ہوئی تو مسلمانوں نے کچھ کمزوری محسوس کی ، ان کے کئی مجاہد شہید ہوگئے۔ چناچہ انہوں نے امیر المومنین کو مزید کمک کے لیے خط لکھا۔ حضرت عمر نے جواباً لکھا کہ میں تمہاری راہنمائی اس ذات کی طرف کرتا ہوں جو کہ اعز نصرا ہے یعنی جس کی نصرت سب پر غالب ہے۔ اور جس کا لشکر ہر وقت حاضر ہے۔ میں تمہاری راہنمائی اس خداوند قدوس کی طرف کرتا ہوں ، جس نے مقام بدر پر اپنے نبی اور اس کے ساتھیوں کو فتح عظیم سے نوازا۔ لہذا تم مدد کے لیے اسی مالک الملک کی طرف رجوع کرو ، دشمن سے ڈٹ کر مقابلہ کرو ، مجھے دوبارہ خط نہ لکھنا۔ اللہ جل جلالہ نے بدر میں قلیل تعداد اور بےسروسامانی کی حالت میں تمہاری مدد کی تھی ، وہ زیادہ نفری اور وافر سازوسامان کے ساتھ کیوں تمہاری مدد نہیں فرمائے گا۔ تم اسی کی طرف رجوع کرو ، آئندہ میری طرف مراجعت نہ کرنا۔ اس روایت کے راوی حضرت عیاض ؓ فرماتے ہیں۔ حضرت عمر ؓ کا یہ خط جب مسلمانوں کو پہنچا ، تو انہوں نے نصرت الہی پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے ایسا زبردست حملہ کیا کہ دشمن کو چار کوس تک پیچھے بھگا دیا۔ ان کے پاؤں پھر نہ جم سکے اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اس فتح نے شام اور فلسطین کو ہمیشہ کے لیے رومیوں سے پاک کردیا ، اور یہ علاقے مرکز اسلام میں داخل ہوگئے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ وما النصر الا من عنداللہ العزیز الحکیم۔ مدد تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ جو کہ غالب ہے اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ یہاں پھر وہی سوال دوبارہ ابھرتا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے میدان میں تو مسلمانوں کی بھرپور مدد فرمائی۔ لیکن اس کے میدان میں ایسا کیوں نہ ہوا۔ اس کا جواب پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے۔ کہ جب انسان پورے عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ جان کی بازی لگا دیتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہوتی ہے مگر احد کے میدان میں مسلمانوں میں کچھ کمزوری آگئی تھی۔ اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ عبداللہ بن ابی کے ہمراہ تین سو آدمیوں کا لشکر پہلے ہی علیحدہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ بعض مجاہدین نے نبی (علیہ السلام) کے حکم کے خلاف اپنے مرکز کو چھوڑ دیا۔ بعض لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی بھی ہوئی ، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ جس کی تفصیلات آگے آ رہی ہیں۔ بہرحال اس کے بعد اللہ نے اہل اسلام کو مضبوط بھی کردیا۔
کفار کی ناکامی :
آگے اللہ تعالیٰ نے نصرت الہی کا نتیجہ بیان فرمایا کہ اللہ کی مدد اس لیے آئی۔ لیقطع طرفا من الذین کفروا۔ تاکہ کفار کی جمعیت میں سے ایک گروہ کو قطع کردے۔ ان کی کمر توڑ کر رکھ دے اور ان کے غرور کا سر نیچا کردے چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جنگ بدر میں ستر بڑے بڑے آئمۃ الکفر مارے گئے جن میں ان کا سرغنہ ابوجہل اور امیہ بھی شامل تھے۔ ایک گروہ تو مارا گیا ، فرمایا او یکبتھم ، یا ان کو ذلیل کردے۔ چناچہ ستر قتل ہوئے اور اتنی ہی تعداد میں قیدی بنا لیے گئے۔ جو کہ مشرکین مکہ کے لیے نہایت ہی ذلت و رسوائی کی بات تھی ، ان قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیہ دینا پڑا۔ اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے۔ بڑے جوش و خروش کے ساتھ مکہ سے نکلے تھے۔ کہ مسلمانوں کو نیست و نابود کردیں گے۔ مگر خود پس کر رہ گئے۔ جو باقی بچ گئے۔ فینقلبوا خائبین۔ وہ سخت ناکام ہو کر لوٹے۔ مکہ والے فتح کی خوشخبری سننے کے لیے انتظار کر رہے تھے۔ کہ انہیں ذلت اور رسوا کن شکست کی خبر سننا پڑی۔
غزوہ احد میں آزمائش :
غزوہ بدر کے مختصر تذکرے کے بعد روئے سخن پھر غزوہ احد کی طرف ہوتا ہے۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی اپنی غلطی کی وجہ سے انہیں سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ ستر صحابہ کرام نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ ان میں سید الشہداء حضرت حمزہ ؓ بھی شامل تھے۔ بہت سے صحابہ کرام زخمی ہوئے۔ خود حضور نبی کریم (علیہ السلام) زخمی ہوگئے ۔ ایک کافر نے تلوار سے وار کیا۔ آپ کا خود کٹ گیا ، اور سر کے نیچے پیشانی تک زخم آ گیا۔ دائیں طرف کے نچلے چار دانتوں میں سے دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔ زخم اتنا گہرا تھا کہ خون بند نہیں ہوتا تھا۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضرت فاطمہ ڈھال میں پانی لاتی تھیں۔ اور حضرت علی ؓ زخم کو دھوتے تھے۔ پھر چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخم میں رکھی تو خون بند ہوا۔ ان حالات میں حضور ﷺ نے کافروں کے حق میں بد دعا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ آپ کی زبان مبارک سے نکلا۔ کیف یفلح قوم۔ وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کا سر زخمی کردیا ، حالانکہ وہ انہیں اپنے رب کی طرف دعوت دیتا ہے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے بد دعا کرنے سے منع فرما دیا اور فرمایا۔ لیس لک من الامر شیء۔ اس معاملہ میں آپ کے لیے کوئی چیز (یعنی اختیار) نہیں ہے۔ یعنی آپ کو حکم اور حکومت میں اختیار نہیں ہے۔ کسی کو ایمان کی توفیق عطا کردے یا کسی کو کفر پر اڑا رہنے دے ، یہ سب اختیار اللہ کے پاس ہے۔ آپ کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ آپ کا کام دعوت دینا ، جہاد کرنا اور صبر کا دامن تھامنا ہے۔ کسی کو منزل مقصود تک پہنچانا آپ کا کام نہیں ہے۔ آپ کا کام یہ ہے۔ وانک لتھدی الی صراط مستقیم۔ آپ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی کردیں۔ کسی کی کامیابی یا ناکامی اللہ مالک الملک ، کے اختیار میں ہے۔ آج کل لوگوں نے غلط عقیدے بنا کر رکھے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ مختار کل ہیں ، نہیں بھائی ! اللہ نے صراحت کے ساتھ فرما دیا ہے۔ کہ اختیار آپ کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ انک لاتھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء۔ آپ اپنی خواہش کے مطابق کسی کو ہدایت نہیں دے سکتے ، بلکہ ہدایت دیتا تو اللہ کے اختیار میں ہے۔ اگر آپ کے بس میں ہوتا تو آپ اپنے مشفق ہمدرد اور خدمت گذار چچا ابو طالب کو دوزخ سے بچا لیتے۔ مگر اللہ نے یہ اختیار آپ کو عطا نہیں کیا۔
جزا اور سزا اللہ کے پاس سے :
یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔ او یتوب علیھم۔ یا اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے۔ او یعذبھم۔ یا ان کو سزا دے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ ان میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جو آگے چل کر ایمان کی دولت سے مشرف ہونے والے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ان کے خلاف بددعا کرنے سے روک دیا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں۔ کہ یہی لوگ جنہوں نے آپ کو اور اہل اسلام کو سخت اذیتیں پہنچائیں ، بعد میں اسلام لے آئے۔ چناچہ ابوسفیان ، عکرمہ بن ابوجہ۔ ل ، خالد بن ولید ، صفوان بن امیہ ، عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ انہی لوگوں میں شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرداً فرداً سب کو ایمان کی دولت عطا کی ، ابوسفیان اور عکرمہ فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے۔ خالد بن ولید اور صفوان بن امیہ فتح مکہ سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے۔ اور اسی طرح بعض دوسرے لوگ بھی حضور ﷺ کے جانثاروں میں شامل ہوگئے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت میں ہے کہ کون اس قابل ہے کہ اس کی توبہ قبول کرلی جائے۔ اور کون ہے جو دائمی سزا کا مستحق ہے۔ چناچہ بہت سے لوگوں کو ایمان کی توفیق نصیب نہیں ہوئی ، وہ سزا کے مستوجب ٹھہرے۔ انہی کے متعلق فرمایا۔ فانھم ظالمون۔ ظلم کرنے والے وہی لوگ ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بددعا کرنے سے منع فرما دیا۔ بعض دوسرے مواقع پر حضور ﷺ کی بد دعا کا تذکرہ ملتا ہے جبکہ ان لوگوں نے آپ پر بہت زیادتی کی ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا ، تو آپ رک گئے ، کیونکہ کسی کو ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ کسی وقت بھی ہدایت دے سکتا ہے۔ لہذا آپ کو بدد عا کرنے سے روک دیا گیا۔
فرمایا۔ وللہ ما فی السموات و ما فی الرض۔ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کی ہی ملکیت ہے۔ ہر چیز پر اسی کا تصرف ہے۔ ہر ہر مقام پر حکم اور حکومت اللہ جل شانہ کی ہے۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل کرنے والے ہیں۔ خدا کی خوشنودی کے کام انجام دینے والے ہیں۔ آپ دوسروں کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ لست علیھم بمصیطر۔ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں کہ آپ ان کو ایمان لانے پر مجبور کریں۔ بلکہ انما انت مذکر۔ آپ تو نصیحت کرنے والے ہیں۔ انما علیک البلاغ۔ آپ کے ذمہ ہماری شریعت اور دین ان تک پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد۔ وعلینا الحساب۔ ان سے حساب ہم خود لیں گے۔
فرمایا چونکہ سب کچھ خدا تعالیٰ ہی کا ہے۔ اس لیے یغفر لمن یشاء۔ وہ جس کو چاہے معاف فرما دے۔ توبہ کی توفیق عنایت کردے اور وہ لوگ ایمان قبول کرلیں ، تو ان کی بخشش کا سبب بن سکتا ہے۔ چناچہ اکثر لوگ ایمان کی دولت سے مالا مال ہو کر بخشش کے مستحق بن گئے۔ اور پھر جنہوں نے ایمان قبول نہ کیا۔ ان کے متعلق فرمایا۔ و یعذب من یشاء۔ وہ جس کو چاہے سزا دے۔ آپ پر اس ضمن میں کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ دل برداشتہ ہو کر ان کے لیے بد دعا نہ کریں۔ واللہ غفور رحیم۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ جس کو چاہے گا ، تو بہ کی توفیق دے کر اس کے لیے بخشش کے دروازے کھول دے گا۔
Ayahs 3:130–134گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد کا ذکر فرمایا۔ اور اس ضمن میں اہل ایمان کی تسلی کے لیے غزوہ بدر کا تذکرہ بھی ہوا۔ کہ اس جنگ میں اللہ نے اپنی خاص مہربانی سے اہل ایمان کے اطمینان اور بشارت کے لیے فرشتوں کو نازل فرمایا۔ مگر غزوہ احد میں مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگئی تھی لہذا اس میں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر احد کی جنگ میں شریک ہونے والے مشرکین کے حق میں بد دعا کرنے سے اللہ نے منع فرما دیا۔ بدر میں کامیابی کا راز بتایا کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا۔ اور صبر اور تقوی کو اختیار کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ کامیابی عطا فرمائی۔ ان غزوات کے تزکرہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے درمیان میں سود کی حرمت کا حکم نازل فرمایا ہے۔ اور ساتھ ہی انفاق فی سبیل اللہ کی ترگیب دی ہے۔ سود اور انفاق فی سبیل اللہ دو متضاد چیزیں ہیں۔ اول الذکر سے اخلاق بگڑتا ہے اور ثانی الذکر سے اخلاق میں عمدگی آتی ہے۔ لہذا دونوں چیزوں کو اکٹھا بیان فرما کر ترہیب و ترغیب کا سامان پیدا فرمایا ہے۔
حرمت سود :
ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا۔ اے ایمان والو ! لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ۔ مت کھاؤ سو دگنے پر دگنا۔ یہاں پر لاتاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ۔ مت کھاؤ سود دگنے پر دگنا۔ یہاں پر لاتاکلوا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ جس کا معنی کھانا ہے۔ تو کیا سود کھانا ہی حرام ہے اور اس کا لینا دینا جائز ہے ؟ ہرگز نہیں۔ چونکہ کھانا ایک اہم چیز ہے اس لیے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ورنہ مراد لینا دینا ہی ہے۔ جس طرح کسی چیز کا کھانا حرام ہے اسی طرح اس کا پہننا بھی حرام ہوگا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ سود کی رقم سے خرد کر وہ غلہ تو حرام ہو مگر اسی رقم سے لیا گیا کپڑا حلال ہو۔ سود خواہ کسی بھی شکل و صورت میں ہو ، حرام ہی ہوگا۔ لہذا لا تاکلوا سے مراد صرف کھانا ہی حرام نہیں ہوگا بلکہ سود کا استعمال ہر صورت میں حرام ہوگا۔
دوسری خاص چیز جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے۔ وہ دگنے کی قید ہے کہ دگنے پر دگنا سود نہ کھاؤ۔ یہ اضعافا مضعفۃ۔ اس لیے فرمایا کہ عربوں میں بھی ڈبل سود یعنی سود مرکب یا سود در سود کا رواج موجود تھا اور یہ سود کی بدترین صورت ہے اس لیے اس کا ذکر کیا ہے۔ وگرنہ سنگل سود یا سود مفرد بھی اسی طرح حرام ہے ، جس طرح سود مرکب ، سود کا ذکر سورة بقرہ میں آ چکا ہے۔ واحل اللہ البیع وحرم الربوا۔ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام خواہ وہ سود مفرد ہو یا مرکب۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حقیقی سود وہ ہوتا ہے۔ جو ادھار دی گئی رقم پر حاصل کیا جائے۔ یہ سود خواہ نقدی کی صورت میں ہو ، سونا چاندی یا اجناس کی شکل میں وصول کیا جائے ، بہرحال حرام ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ ایک جنس کو دوسری جنس کے بدلے میں زیادتی یا ادھار کے ساتھ بیع کرنا حرام ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ سود مرکب کیسے ہوتا ہے۔ تو اس کی صورت آج بھی ویسی ہی ہے جیسے اس زمانے میں تھی جس کا تذکرہ قرآن پاک نے کیا ہے۔ کوئی رقم کسی خاص مدت کے لیے سود پر لی جاتی ہے۔ مقرر مدت میں اگر اصل رقم بمع سود واپس نہ کی جاسکے تو سود کو اصل زر میں شامل کرکے کل رقم کو اصل شمار کرلیا جاتا ہے اور پھر اس رقم پر سود کی مقرر شرح عاید کردی جاتی ہے۔ سود کی شرح عام طور پر سالانہ ہوتی ہے۔ ہر سال اصل رقم پر سود کا حساب کرکے اسے اصل زر میں شامل کرلیا جاتا ہے اور اس طرح کچھ عرصہ بعد قرض کی اصل رقم بڑھ کر کئی گنا ہوجاتی ہے۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود مت کھاؤ۔ واتقوا اللہ۔ اور اللہ سے ڈر جاؤ۔ لعلکم تفلحون۔ تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
جذبہ انتقام :
غزوہ احد میں مسلمانوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ خود حضور ﷺ کو بڑی جسمانی تکلیف پہنچی۔ سر مبارک زخمی ہوا ، دانت مبارک شہید ہوا ، ستر صحابہ شہید ہوگئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کے درمیان سود کے تذکرہ کے متعلق مولانا عبیداللہ سندھی فرماتے ہیں۔ کہ ہم نے اپنے استاد حضرت مولانا شیخ الہند سے دریافت کیا کہ حضرت ! غزوہ احد کے واقعہ کے درمیان حرمت سود کی آیت کا کیا محل ہے۔ تو فرمایا بعض اوقات ربط آیات کو سمجھنے کے لیے بڑے تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ بات در اصل یہ ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہوگئی ، تو ان کے دلوں میں جذبہ انتقام بھڑک اٹھا۔ چناچہ بعض روایات میں آتا ہے۔ کہ مسلمانوں نے عہد کیا کہ اگر آئندہ اگر کفار پر غالب آئے تو ان سے دوہرا انتقام لیں گے۔ کافروں نے ہمارے شہداء کے ساتھ بڑی تزلیل کا کام کیا ہے۔ ان کے چہرے مسخ کیے ، لہذا ہم بھی ان سے سخت انتقام لیں گے۔ تو مولانا فرماتے ہیں۔ کہ اسی جذبہ انتقام کو کم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ اس آیت سود کو غزوہ احد کے واقعہ میں لائے ہیں۔ جس طرح سود انسان کا اخلاق بگاڑتا ہے ، اسی طرح جذبہ انتقام بھی بداخلاقی پیدا کرتا ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ فرمایا کہ وہ اپنے جذبات پر قابو رکھیں کیونکہ سود اور انتقام ایک ہی قبیل سے ہیں۔ اور ان کے سبب اصل مقصد سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔
اسی آج کے درس میں آگے انفاق فی سبیل اللہ کی آیت بھی آ رہی ہے۔ سود خواری اور انفاق دو متضاد چیزیں ہیں۔ سود خوری سے انسانی اخلاق فاسد ہوتا ہے اور انفاق فی سبیل اللہ اخلاق عالیہ کا نمونہ ہے۔ چناچہ مستدرک حاکم کی روایت میں ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، جس قوم میں زنا اور سود خوری جیسی بیماریاں پیدا ہوجائیں اس قوم پر خدا کا غضب نازل ہوگا۔ کیونکہ یہ اخلاقی بیماریاں خدا کے غضب کو دعوت دیتی رہتی ہیں۔
ڈرانے والی آیات :
سود خوری سے ممانعت کے بعد فرمایا : واتقوا النار التی اعدت للکفرین۔ اس آگ سے ڈر جاؤ، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ جہنم کی آگ بالذات کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ جہنم کی آگ بالذات کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مگر اس آیت میں ایمان والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ کہ اس آگ سے بچ جائیں۔ اس ضمن میں تفسیر مدارک والے لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ قرآن پاک میں سب سے زیادہ ڈرانے وعالی آیت یہ ہے۔ جس میں ایمان والوں کو دوزخ کی آگ سے ڈرایا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ اگر اہل ایمان بھی کافروں والے کام کریں گے ، کفر ، شرک ، بدعت اور معاصی میں مبتلا ہوں گے تو وہ بھی دوزخ کی آگ سے بچ نہیں سکیں گے۔
کامیابی کا راز :
آگے اہل ایمان کو دوزخ سے بچنے اور کامیابی حاصل کرنے کا راز بتایا جا رہا ہے۔ واطیعوا اللہ ولرسول۔ اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو۔ لعلکم ترحمون۔ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ غزوہ احد میں اسی چیز کی کمی آگئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ آپ نے پچاس آدمیوں کے ایک دستہ کو پہاڑ کی چوٹی پر مقرر فرمایا تھا۔ اور واضح حکم دیا تھا کہ ہمیں فتح ہو یا شکست ، تمہیں ہر صورت میں اس محاذ پر قائم رہنتا ہے۔ مگر جب انہوں نے دیکھا کہ جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری ہورہا ہے۔ تو وہ مورچہ چھوڑ کر پہاڑ سے نیچے اتر آئے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں یہی کوتاہی ہوئی تھی جس کی وجہ سے مسلمانوں کو عظیم نقصان اٹھانا پڑا۔ لہذا اہل اسلام کو سمجھایا جا رہا ہے۔ کہ آئندہ ایسی غلطی نہ کرنا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کو ہمیشہ مقدم رکھنا۔ یہی کامیابی کا راز ہے اور اسی کی بدولت تم پر رحم کیا جائے گا۔
نیکی میں سبقت :
نیز فرمایا۔ وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم۔ اور سبقت کرو ، دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف ، مقصد یہ ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسول کا اتباع کروگے ، ایمان اور تقوی اختیار کروگے ، صبر کا دامن تھامے رکھو گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے بخشش کی بشارت ہے۔ اور پھر بخشش کا نتیجہ ہوگا۔ وجنۃ۔ کہ تمہیں جنت میں داخلے کا ٹکٹ مل جائیگا۔ اور وہ جنت ایسی ہوگی جسے دنیا کے کسی بڑے سے بڑے باغ پر بھی قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے جس جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ عرضھا السموات والارض۔ وہ اتنی وسیع ہے کہ اس کا عرض یعنی چوڑان ہی آسمانوں اور زمین کے برابر ہوگا۔ یہاں پر آسمان و زمین کی مثال اس لیے دی گئی ہے۔ کہ انسانی ذہن میں زمین و آسمان سے وسیع کوئی چیز نہیں ہے۔ لہذا انہی چیزوں کا ذکر کیا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے۔ کہ اللہ رب العزت کی جنت آسمانوں اور زمین سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اس کے نیچے سے لے کر اوپر تک آٹھ طبقات ہیں اور سب سے بالائی طبقے کا نام جنت الفردوس ہے اس میں ہر طرح کی نعمتیں میسر ہوں گی۔ ایسی نعمتیں جو اس وقت انسانی ذہن میں نہیں آسکتیں۔ اور یہ سب کچھ اعدت للمتقین۔ ان متقیوں کے لیے ہے۔ جو اللہ کے احکام کی پابندی کرنے والے ہیں۔ لہذا اپنے اندر وہ صفات پیدا کرو ، جو اللہ نے بیان فرمائی ہیں تاکہ تم جنت کے حقدار بن سکو۔
نیکی میں سبقت کرنے کے متعلق ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ سارعوا ابالاعمال سبعا۔ یعنی سات چیزیں پیش آنے سے پہلے پہلے اچھے اعمال انجام دے لو ، ورنہ پھر موقع نہیں ملے گا۔ وہ سات چیزیں کونسی ہیں۔ فرمایا ما ینتظر احدکم الا غنی مطغیا۔ ایسی دولت مندی آجائے جو انسان کو سرکشی میں ڈال دے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ناداری کی حالت میں دین دار ہوتے ہیں جب مال آجاتا ہے۔ تو بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ اس لیے فرمایا ایسی دولت مندی آنے سے پہلے پہلے اچھے اعمال کرلو۔ فرمایا۔ اوفقرا او منسیا۔ یا ایسا فقر لاحق ہوجائے جو سب کچھ فراموش کرا دے۔ ناداری کی حالت میں بعض اوقات انسان متفکر اور مغموم ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے نیکی کے کام بھول جاتے ہیں۔ ایسی حالت وارد ہونے سے پہلے نیکی میں سبقت حاصل کرلو۔ تیسری چیز فرمایا۔ او مرضا مفسدا۔ یا ایسی بیماری آجائے جو انسان کو فساد میں ڈال دے۔ بیماری میں بھی انسان نیکی سے محروم ہوجاتا ہے۔ چوتھی چیز فرمایا۔ او ھرما مفسدا۔ یا ایسا بڑھاپا آجائے جو انسان کو عقل و فہم سے عاری کردے۔ اسی لی ایسے بڑھاپے سے بھی پناہ مانگی گئی ہے جو انسان کے قوی کو کمزور کردیتا ہے پانچویں چیز فرمایا۔ او موتا مجھزا۔ یا موت ہی آ کر انسان کا فیصلہ کردے۔ پھر تو اعمال کی دنیا ختم ہوگئی۔ اب مزید نیکی کا کوئی موقع باقی نہیں رہا۔ چھٹی چیز فرمایا۔ اوالدجال۔ یا دجال۔ والدجال شر غائب ینتظر۔ اور دجال تو بڑی بری چیز ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ دجال کا ظہور ہوگا ، تو بڑے فتنے برپا ہوں گے۔ لہذا اس کے ظہور سے پہلے نیکی کرلو۔ اور ساتویں چیز فرمایا۔ او الساعۃ۔ یا پھر قیامت برپا ہوجائے۔ والساعۃ ادھی و امر۔ اور قیامت تو بڑی کڑوی اور تلخ ہے۔ اس کے بعد تو ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ اور پھر حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ ان سات چیزوں کے ظہور سے پہلے پہلے نیکی میں سبقت کرلو ، ورنہ پھر موقع نہیں ملے گا۔
انفاق فی سبیل اللہ :
آگے اللہ تعالیٰ نے متقین کی بعض صفات بیان فرمائی ہیں۔ فرمایا ان کی پہلی صفت یہ ہے الذین ینفقون فی السراء والضراء وہ خرچ کرتے ہیں خوشی کی حالت میں بھی اور تکلیف کی حالت میں بھی یہی چیز ہے ۔۔ جو سود کی جڑ کو کاٹتی ہے۔ ایک طرف سود خور کسی غریب کی غربت سے فائدہ اٹھا کر قرضے پر سود در سود وصول کرتا ہے۔ اور دوسری طرف اہل ایمان ہیں کہ وہ ایسے غربا و مساکین پر ہمیشہ خرچ کرتے ہیں۔ وہ خود خواہ آسائش میں ہوں یا تکلیف میں مبتلا ہوں ، ان کی طرف سے انفاق فی سبیل اللہ جاری رہتا ہے اور یہی وہ عالی اخلاق ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور بخشش کا سبب ہے۔
متقین کی صفات :
متقین کی دوسری صفت ہے۔ والکظمین الغیظ۔ وہ غصے پر قابو پانے والے ہیں۔ یہ بھی بہت بڑی صفت ہے۔ بعض اوقات انسان غصے کی حالت میں دیوانہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ کچھ کر بیٹھتا ہے۔ جس پر بعد میں ندامت اٹھانا پڑتی ہے۔ غصے کی حالت میں جوش انتقام میں مبتلا ہونے کی بجائے ، اس پر قابو پالینا ہی اصل مردانگی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے متقین کی صفات میں شمار کیا ہے۔ سورة شوری میں آتا ہے۔ والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون۔ ایمان والے وہ ہیں۔ کہ دیگر صفات کے علاوہ ان میں ایک صفت میں یہ بھی پائی جاتی ہے کہ جب ان پر سرکشی کی جاتی ہے۔ تو وہ انتقام پر آمادہ ہوجاتے ہیں وہ تو انتقام کی بات ہے۔ اور یہاں غصے پر قابو پانے کی بات ہورہی ہے کہ اہل ایمان غصے کو پی جاتے ہیں۔ یہاں پر یہ دو باتیں متعارض معلوم ہوتی ہیں۔ یعنی ایک طرف تو مومن انتقام پر آمادہ ہوجاتے ہیں ، اور دوسری طرف غصے کو دبا لیتے ہیں۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ انتقام لینے والی بات کافروں اور نافرمانوں کے بارہ میں ہے۔ جب وہ کوئی غلط کام کرتے ہیں تو مسلمان بھی انتقام لینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ سورة مائدہ میں بھی آ چکا ہے۔ اعزۃ علی الکفرین۔ مسلمان کافروں کے مقابلے میں سخت ہیں۔ جب کہ مومنوں کے لیے نرم دل ہیں۔ مفسرین ایک دوسری توجیہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ظلم اور زیادتی پر ڈٹا ہوا ہے ، اس کو معافی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ معاف کرنے سے مزید خرابی پیدا ہوگی۔ البتہ جو شخص تائب ہوجائے اس سے انتقام لینا جائز نہیں ہے۔
فرمایا متقین کی تیسری صفت یہ ہے۔ والعافین عن الناس۔ وہ لوگوں کو معاف کردیتے ہیں ، مفسرین کرام نے حضرت علی بن حسین یعنی حضرت امام حسین کے فرزند امام زین العابدین کا یہ واقعہ بیان کیا ہے۔ کہ آپ وضو فرما رہے تھے۔ لونڈی پانی ڈال رہی تھی۔ اتفاق سے لوٹے کا پانی آپ پر گر پڑا۔ آپ کے کپڑے بھیگ گئے۔ لونڈی کی غلطی تھی۔ جب اس نے آپ کو غصے کی حالت میں دیکھا تو اس کی زبان سے نکلا۔ والکظمین الغیظ۔ یہ سن کر آپ غصے کو پی گئے اور فرمایا میں تم سے کوئی انتقام نہیں لوں گا۔ لونڈی صاحب علم تھی ، کہنے لگی۔ والعافین عن الناس۔ یعنی مومنوں کی صفت تو یہ ہے کہ وہ نہ صرف غصے کو دبا دیتے ہیں بلکہ لوگوں کو معاف بھی کردیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ، جاؤ۔ میں نے تجھے معاف کیا۔ لونڈی نے مزید جرات کرکے آیت کا اگلا ٹکڑا پڑھ دیا۔ واللہ یحب المحسنین۔ اللہ اعلی درجے کی نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا جا تو آزاد ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا نیکی ہوسکتی ہے۔ کہ لونڈی نے غلطی کی مگر آپ نے اس کے ساتھ انتہائی درجے کی نیکی کی۔ لہذا مسلمانوں کو چاہئے۔ کہ اپنے اندر ایسی صفات پیدا کریں جن کا تذکرہ اس آیت میں کیا گیا ہے۔ اس کے برخلاف سود کی لعنت کو چھوڑ دینا چاہئے۔ جو انتہائی درجے کی بد اخلاقی کا سبب ہے۔
Ayahs 3:135–138ربط آیات :
اس سے پیشتر سود خوری کی ممانعت کا تذکرہ ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے دوزخ سے بچاؤ کا ذکر کیا۔ اپنے رسول کی اطاعت کا حکم دیا تاکہ لوگوں پر رحم کیا جائے پھر اللہ تعالیٰ نے بہشت ، مغفرت اور بخشش طلب کرنے میں سبقت حاصل کرنے کا حکم دیا۔ یہ بہشت جن متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ان کے اوصاف کو بیان فرمایا یعن متقی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق میں سے خوشی کی حالت میں بھی اور تکلیف کی حالت میں خرچ کرتے ہیں ، غصے کو دباتے ہیں اور لوگوں کو معاف کرتے ہیں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو پسند کرتا ہے۔ اب ان آیات میں دوسرے درجہ کے لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے کہ ان کے لیے بھی فلاح ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو برائی کرنے کے بعد اس پر نادم ہوتے ہیں آئندہ اس پر اصرار نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بھی معاف فرما دے گا۔
ارتکاب گناہ اور عمانی :
ارشاد ہوتا ہے۔ والذین اذا فعلوا فاحشۃ۔ اور وہ لوگ جو کوئی فحش بات کر گزرتے ہیں۔ او ظلموا انفسہم۔ یا انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فحش بات سے مراد کبیرہ گناہ ہے اور جانوں پر ظلم کرنے سے مراد صغیرہ گناہ ہے۔ مقصد یہ کہ جن لوگوں نے خواہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہو یا صغیرہ گناہ کا ، کبیرہ گناہ کی مثال زنا چوری وغیرہ ہے اور صغیرہ کسی غیر محرم کی طرف دیکھنا ، یا اس کو ہاتھ لگا دینا۔ واقعات میں آتا ہے۔ کہ ایک شخص نے غیر عورت کا بوسہ لے لیا۔ یہ بھی صغیرہ گناہ مٰں شامل ہے۔ غرض ارتکاب گناہ کے بعد ذکروا اللہ وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں۔ یاد کرنے کا مطلب اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا ، اس کی وعید سے ڈر جانا ، اور اس کے جلال اور عظمت کو یاد کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ نے گناہ کے ارتکاب پر سخت وعید فرمائی ہے ، اس سے ڈر کر وہ اپنے کئے پر نادم ہوجاتے ہیں۔ فاستغفروا لذنوبھم۔ وہ بخشش مانگتے ہیں اپنے گناہوں کے لیے۔ اور یہ اچھی صفت ہے۔ ایک دوسری روایت میں حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ کلکم خطاءون۔ تم میں سے ہر شخص خطا کار اور گنہگار ہے۔ کیونکہ کوئی نہ کوئی گناہ تو سرزد ہوتا ہی رہتا ہے۔ مگر فرمایا۔ خیر الخطائین التوابون۔ بہترین خطا کار وہ ہیں جو خطا کے بعد توبہ کرلیتے ہیں توبہ کرنے سے اللہ تعالیٰ گناہوں سے پاک کردیتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ اچھے انسان کی یہی صفت ہے کہہ وہ گناہ پر اصرار نہ کرے بلکہ معافی مانگ کر اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے اسی میں انسان کی کامیابی ہے۔
استغفار کی برکات :
حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ شیطان کا قول ہے۔ اھلکت الناس بالذنوب۔ میں نے لوگوں کو گناہوں کی وجہ سے تباہ کردیا ہے۔ میں ان کے دلوں میں وسوسہ ڈال کر ان کو گناہ پر آمادہ کرتا ہوں جس کی وجہ سے وہ ہلاک ہوتے ہیں۔ واھلکونی بالاستغفار وبلا الہ الا اللہ۔ اور مجھے لوگوں نے تباہ کردیا استغفار کرنے سے اور کلمہ طیبہ پڑھنے سے۔ یعنی جب لوگ استغفار کرتے ہیں اور افضل ترین ذکر لا الہ الا اللہ پڑھتے ہیں تو میرا منصوبہ ناکام ہوجاتا ہے۔ میں انہیں گناہوں کی وجہ سے ہلاک کرنا چاہتا ہوں مگر وہ مذکورہ دو اوصاف کی وجہ سے بچ جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے میں تباہ اور ناکام ہوجاتا ہوں۔
فرمایا۔ ومن یغفر الذنوب الا اللہ۔ اور کون ہے اللہ کے سوا جو گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ وہی مالک و مختار ہے۔ اس کی حکمت وقدرت میں کسی کو دخل نہیں۔ انسان گناہ کرتے ہیں۔ مگر وہ بھی غفور الرحیم ہے۔ معاف کرنے کے لیے اسے ایک بہانہ چاہئے وہ قادر مطلق ہے اسے کوئی نہیں پوچھ سکتا اتنے بڑے پاپی کو کیوں معارف کردیا ہے۔
فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے گناہگاروں وک استغفار کرنے پر اس لیے معاف فرما دیتا ہے۔ ولم یصروا علی ما فعلوا۔ کہ وہ غلطی کرکے اس پر اصرار نہیں کرتے۔ گناہ کرکے سچے دل سے معافی مانگ لی ، پھر اس گناہ کے قریب نہیں جاتے۔ اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ لاکبیرۃ بالاستغفار۔ اگر انسان معافی مانگ لے تو پھر کبیرہ گناہ بھی کچھ نہیں۔ وہ بھی ختم ہوجاتا ہے۔ ولا صغیرۃ مع الاصرار۔ اور اگر گناہ پر اصرار کرے گا تو پھر صغیرہ گناہ بھی پہاڑ بن جائے گا۔ لہذا گناہ پر اصرار نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اصلاح کے لیے آمادہ رہنا چاہئے۔ اور ہر وقت استغفار کرتے رہنا چاہئے۔ استغفار کی مثال صابن کی ہے جس طرح صابن کپڑوں کی میل کچیل دور کردیتا ہے ، اسی طرح استغفار دلوں کو صاف کردیتا ہے۔ اسی لیے حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ استٖغفار کو لازم پکڑو۔ گناہ پر اصرار کرنے سے انسان ضدی اور معاند بن جاتا ہے۔ اس میں اصلاح کا مادہ ختم ہوجاتا ہے۔ دل میں کدورت اور تاریکی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس میں زنگ لگ جاتا ہے ، اور جب وہ اصرار کی وجہ سے پختہ ہوجاتا ہے تو پھر اس کا اترنا مشکل ہوجاتا ہے۔ لہذا غلطی پر اصرار نہیں کرنا چاہئے۔ وھم یعلمون۔ اور وہ جانتے بھی ہیں یعنی نیکی اور برائی میں تمیز کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ ہر انسان اس کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس کے باوجود اگر غلطی پر اصرار کرتا ہے تو اس کے لیے تباہی ہے۔ اور جو لوگ گناہ پر اصرار نہیں کرتے بلکہ معافی مانگ کر پاک صاف ہوجاتے ہیں۔ فرمایا۔ اولئک جزاءھم مغفرۃ من ربھم۔ ایسے لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے مغفرت اور بخشش ہے۔ انہیں نجات کا پروانہ حاصل ہوجاتا ہے۔ اور اس کے علاوہ ان کیلئے وجنت تجری من تحتھا الانھار۔ ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ باغات رہائش کے لیے قرینے سے سجائے ہوں گے۔ ان میں ہر قسم کی آسائش اور پھلوں کی فراوانی ہوگی۔ کامیاب لوگوں کا ٹھکانا وہاں عارضی نہیں ہوگا۔ بلکہ خلدین فیھا۔ اس میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے ، انہیں وہاں سے نکالا نہیں جائے گا۔ اور فرمایا کہ قانون خداوندی یہی ہے۔ ونعم اجر العلمین۔ نیک اعمال کرنے والوں کے لیے یہ خوب اجر ہے۔ عمل بہت بڑی چیز ہے۔ ایمان اور عقیدے کی درستگی کے بعد فلاح کا دارومدار عمل پر ہے۔ ولکل درجت مما عملوا۔ ہر ایک کو مرتبہ اس کے عمل کے مطابق ملے گا۔ لہذا نیک اعمال کرنے والے عزت کے مقام میں پہنچیں گے ، خدا تعالیٰ کی طرف سے بخشش اور معافی ملے گی اور وہ ہمیشہ کے لیے معزز اور پاکیزہ زندگی بسر کریں گے۔ یہ ان کی دائمی زندگی ہوگی اور اس کی نعمتیں بھی دائمی ہوں گی۔
نشانات عبرت :
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سابقہ لوگوں کے جستہ جستہ واقعات بیان فرمائے ہیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو عبرت حاصل ہو۔ اسی لیے فرمایا۔ قد خلت من قبلکم سنن۔ تم سے پہلے بھی واقعات گزر چکے ہیں۔ ان میں اہل ایمان اور ان وک ملنے والے انعامات کا ذکر ہے۔ اور نافرمانوں کو ملنے والی سزاؤں کا بھی تذکرہ ہے۔ ان واقعات سے عبرت حاصل کرنے کے لیے فسیروا فی الارض زمین میں چلو پھرو۔ فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین۔ اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ قرآن پاک کے بیان کردہ واقعات کے عملی نشانات تمہیں جگہ جگہ ملیں گے۔ آپ کو پتہ چلے گا کہ نافرمانوں کا کیا حشر ہوا ، کوئی پانی میں غرق ہوئے ، کچھ آگ میں جل گئے ، بعض کو آندھی نے آگھیرا اور بعض پر پتھروں کی بارش ہوئی یہ سب نشانات عبرت ہیں جو زمین میں سفر کرنے سے ملیں گے۔ لہذا عبرت کے لیے سفر اختیار کرنا اچھی بات کی علامت ہے۔
فلاح انسانیت :
پرانے نشانات کے تحفظ کی آج بھی بعض صورتیں موجود ہیں۔ مگر ان سے مقصود عبرت حاصل کرنا نہیں بلکہ محض استعجاب ہے جو کہ پسندیدہ چیز نہیں۔ انگریزوں نے آثار قدیمہ کی حفاظت کا بندوبست کیا ہے۔ مگر کس مقصد کے لیے ؟ محض یہ جاننے کے لیے کہ کس زمانے میں کونسا طرز زندگی پایا جاتا تھا ، پرانے زمانے کی عمارات ، اوزار ، برتن ، سکے وغیرہ اس زمانے کی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کے نام پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔ پرانی مورتیوں اور مجسموں کو بحفاظت رکھا گیا ہے۔ اس سے انسانیت کی کیا خدمت ہوتی ہے۔ اس سے تو بہتر تھا کہ انسانوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دی جاتی ، ان کے اذہان و قلوب کو زندہ کیا جاتا ، مگر ایسا تو مقصود ہی نہیں ہے۔ سائنس کی ترویج و ترقی کے لیے بیشمار دولت صرف کی جا رہی ہے۔ مگر انسانیت کی حقیقی فلاح کے لیے اس کا عشر عشیر بھی خرچ نہیں جاتا۔ سائنس نے جہاں بہت سی سہولتیں فراہم کی ہیں وہاں بہت سی تباہی کے سامان بھی پیدا کیے ہیں۔ ایک طرف آسمانوں تک پرواز کی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانوں کی تباہی کے لیے جدید ترین ہتھیار بھی ایجاد کیے جا رہے ہیں۔
بہرحال زمین میں عبرت کے لیے سفر کرنا چاہئے۔ تاکہ معلوم ہوسکے کہ اللہ کے احکام کو جھٹلانے والوں کا کیا حشر ہوا۔ اور اگر ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلیں گے ، تو ہمارا حشر بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا۔ ھذا بیان للناس۔ یہ عام لوگوں کے لیے بیان ، وضاحت یا سٹیٹمنٹ ہے۔ ان کو قانون قدرت بتلایا گیا ہے۔ کہ فلاح وتقوی کا راستہ یہ ہے۔ اور تکذیب کا راستہ وہ ہے۔ وھدی وموعظمۃ للمتقین۔ اللہ کی یہ آیات متقین کے لیے ہدایت اور نصیحت کا ذریعہ ہیں۔ اور متقین وہ ہیں جو کفر و شرک اور معاصی سے بچتے ہیں۔ خدا کی عظمت اور جلال ہمیشہ ان کے سامنے ہوتا ہے۔ وہ حدود شرع کی حفاظت کرتے ہیں ، قرآن پاک سے یہی لوگ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔