Ayahs 3:139–143ربط آیات :
غزوہ احد کے موقع پر مسلمانوں میں جو کمزوری واقع ہوگئی تھی۔ اس کے ازالے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض احکام نازل فرمائے کہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری سے منع فرمایا۔ غلطیوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔ غصے کو دبانے اور لوگوں کو معاف کرنے کی تعلیم دی۔ ہر خوشی اور تکلیف میں راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دلائی۔ اور پھر اگر کوئی گناہ سرزد ہوجائے تو اس سے تائب ہونے کا طریقہ بتلایا۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ اور اس کی وعید کو یاد کرکے اس سے بخشش طلب کرے ، گناہ کی معافی مانگے اور آئندہ کے لیے ایسی برائی سے رک جائے ، اس پر اصرار نہ کرے۔ جو کوئی ان احکام پر عمل پیرا ہوگا اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش نصیب ہوگی اور اللہ کی ہر نعمت اس کے شامل حال ہوگی۔
مسلمانوں کی حوصلہ افزائی :
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے کہ اگر کسی وقت کوئی کمزوری واقع ہوجائے ، کوئی غلطی سرزد ہوجائے ، تو انسان کو دل نہیں ہار دینا چاہئے۔ کہ جہاد سے ہی منہ موڑ لے۔ بلکہ اسے نئے ولولے اور نئے جوش و خروش کے ساتھ جہاد کی تیاری کرنی چاہئے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ولاتھنوا۔ اور سست نہ ہوجاؤ۔ عربی زبان میں وھن۔ سستی اور کمزوری کو کہا جاتا ہے۔ اور دین کے معاملہ میں یعنی جہاد کرنے یا کسی دوسری نیکی کرنے کے سلسلے میں وہن کو اختیار کرنا اچھی صفت نہیں ہے۔ حدیث شریف میں وہن کی مذمت آئی ہے۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا ، جب تمہارے اندر وہن پیدا ہوجائے گا ، تو تمہاری حالت تنزل اور پستی میں چلی جائے گی۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ، حضور ! وھن کیا چیز ہے۔ فرمایا حب الدنیا کراھیۃ الموت۔ یعنی جب لوگوں کے دلوں میں دنیا کی محبت اور موت سے کراہت پیدا ہوجائے گی ، تو تم نہایت پستی میں چلے جاؤگے۔ مقصد یہ کہ وہن کو اختیار نہ کرو دین کے معاملہ میں کمزوری اور سستی کا مظاہرہ نہ کرو۔
فرمایا۔ ولا تحزنوا۔ اور جو نقصان ہوچکا ہے۔ اس پر غمگین نہ ہو۔ جو زخم غزوہ احد میں لگ چکا ہے۔ بڑے بڑے اکابر صحابہ شہید ہوئے ہیں۔ خود نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچی ہے۔ اس پر غمگین نہ ہو۔ اور نہ سستی دکھاؤ۔ یہ درست ہے کہ اس موقع پر بڑی تکلیف پہنچی ہے۔ مگر اس وقت شکست میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت سی حکمتیں پوشیدہ ہیں جو تمہاری بلآخر کامیابی پر منتج ہوگی۔ لہذا ایاد رکھو ! وانتم الاعلون ان کنتم مومنین۔ اگر تم ایمان پر قائم رہے تو دشمن کے مقابلے میں تم ہی بلند رہوگے۔ اللہ تعالیٰ کا تمہارے ساتھ وعدہ ہے۔ کہ ایمان کے تقاضوں کو تم پورا کرتے رہو اور وہ تمہیں دشمن پر غالب کردے گا۔
جنگ قادسیہ :
اصول کے طور پر یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اہل اسلام کو جب کبھی کوئی پریشانی لاحق ہوجائے ، تو انہیں فوراً اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ایمان کے تقاضے میں کہاں کمزوری واقع ہوئی ہے۔ لازماً کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوئی ہوگی۔ قادسیہ کی جنگ کے سالار حضرت سعد بن ابی وقاص تھے۔ دوران جنگ جب بعض مورچوں پر مسلمانوں کو کچھ پریشانی لاحق ہوئی تو آپ نے مجاہدین کو جمع فرمایا اور کہا ، اے لوگو ! میں سمجھتا ہوں کہ ہماری یہ کمزوری کسی گناہ کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ ضرور ہم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ جس کی ہمیں تلافی کرنی چاہئے۔ آؤ سب مل کر اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔ مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائیگا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ تین دن رات تک متواتر جنگ ہوئی۔ آخر اللہ نے فتح عظیم عطا فرمائی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ایمان پر قائم رہے۔ تو تم ہی غالب رہوگے۔
حالات میں تغیر و تبدل :
اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ دیکھو ان یمسسکم قرح۔ اگر تمہیں غزوہ احد میں زخم پہنچا ہے۔ بڑے بڑے عظیم المرتبت ستر صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ تو یہ کوئی ایسی تکلیف نہیں جو صرف تمہیں پہنچی ہے۔ اس قسم کا زخم کافروں کو تو پہلے ہی لگ چکا ہے۔ فقد مس القوم قرح مثلہ۔ جنگ بدر میں ان کے بھی ستر سرکردہ آدمی مارے گئے تھے اور اتنے ہی قیدی بنے۔ پھر ان کو فدیہ دینا پڑا اور بڑی ذلت اٹھانا پڑی۔ یاد رکھو ! انسان کبھی ایک حالت پر قائم نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور مصلحت کے مطابق حالات میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے۔ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے۔ کہ جب ہرقل نے ابوسفیان سے پوچھا کہ تمہارے اور مسلمانوں کے درمیان معاملات کیسے رہتے ہیں ، ان کے ساتھ کبھی مٹھ بھیڑ بھی ہوئی ہے۔ اور اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے۔ تو ابو سفیان نے جواب دیا۔ الحرب سجال بیننا و بینھم۔ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا معاملہ پانی کے ڈول کی مانند ہوتا ہے۔ کبھی کسی نے ڈول کنویں میں ڈال کر پانی نکال لیا اور کبھی کسی نے۔ یعنی لڑائی کی صورت میں کبھی ہم غالب آتے ہیں اور کبھی مسلمان غالب آتے ہیں۔ ہرقل نے کہا کہ اللہ کے رسولوں کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ انہیں دشمن کے مقابلے میں کبھی فتح ہوتی ہے اور کبھی شکست مگر بالآخر اللہ نے اپنے رسولوں کو غلبہ عطا کرتا ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مسلمانو احد کی عارضی شکست سے گھبراؤ نہیں۔ وتلک الایام نداولھا بین الناس۔ یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ ایک سی حالت نہیں رہتی کہ ہمیشہ فتح ہو یا ہمیشہ شکست ہو ، بلکہ یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اگر اب تکلیف پہنچی ہے۔ تو اس کا اچھا بدلہ ملیگا۔
آزمائش اور اس کی حکمت :
تکلیف پہنچنے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی ہے کہ ولیعلم اللہ الذین امنوا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے ان لوگوں کو جو ایمان لائے۔ امام بیضاوی اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ یہاں پر یعلم سے مراد محض جاننا نہیں ، کیونکہ خدا تعالیٰ کا علم تو ازلی ابدی ہے۔ اس مقام پر یہ لفظ علم ظہور کا معنی دیتا ہے۔ تو مطلب یہ ہوگا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے سامنے ظاہر کردے ، ان لوگوں کو جو ایمان لائے لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اہل ایمان تکلیفیں اٹھا کر بھی ایمان پر قائم رہتے ہیں اور حق کے راستے کو ترک نہیں کرتے۔
غزوہ احد کی وقتی شکست کی دوسری حکمت یہ ہے۔ ویتخذ منکم شھداء۔ اور تاکہ تم میں شہید بنائے جو لوگ بوجوہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ ان کی انتاہائی خواہش تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں راہ حق میں جہاد کی سعادت نصیب کرے اور وہ بھی اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کرکے مرتبہ شہادت پر فائز ہوں۔ چناچہ ان کی اس خواہش کی تکمیل کے لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں شہادت بھی عطا فرمائی۔ یہ بھی سراسر نفع کا سودا تھا۔ فرمایا۔ واللہ لا یحب الظلمین۔ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔ محبوب خدا بننے کے لیے ایمان اور نیکی کی ضرورت ہے۔ شرک اور کفر کرنے والے اللہ کی نگاہ میں کبھی محبوب نہیں بن سکتے یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے۔ کہ اگر کسی وقت اہل اسلام کو شکست ہوجائے ، ان پر غیر مسلم غالب آجائیں ، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا۔ کہ مسلمان اللہ کی نگاہ میں گرگئے ہیں۔ اور کافر محبوب بن گئے ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ انسانیت کے تقاضے کے مطابق کمی بیشی ہوسکتی ہے۔ مسلمان آزمائش میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ مگر خدا کا دشمن کافر اور مشرک اس کا محبوب ہرگز نہیں بن سکتا۔ وقتی طور پر اس دنیا میں کافر خوشحال ہوسکتا ہے اسے کامیابی بھی حاصل ہوسکتی ہے ، اسے استدراج کہتے ہیں۔ مگر آخرت میں کافر لازماً پکڑا جائے گا۔ اور اسے کفر کا بدلہ چکانا ہوگا۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے ہرگز محبت نہیں کرتا۔ محبت کے لائق اس کے وہ بندے ہیں۔ جو اس پر ایمان لائے۔ اور اعمال صالھہ انجام دیے۔
مومنوں کا تزکیہ نفس :
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی وقتی آزمائش کی تیسری حکمت یہ بیان فرمائی ہے۔ ولیمحص اللہ الذین امنوا۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو پاک کردے ان کا تزکیہ نفس کردے۔ اصل پاکی تو روح اور جان کی پاکی ہوتی ہے۔ شاہ ولی اللہ اس کو نسمہ کہتے ہیں۔ شاہ اسماعیل نے اپنی معرکۃ الآرا کتاب عبقات میں لکھا ہے کہ انسان کے نسمے کا پاک ہونا ضروری ہے۔ عبادت ، ریاضت ، ذکر و اذکار اسی مقصد کے لیے کیے جاتے۔ خصوصاً عبادات میں نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج وغیرہ نسمہ کی پاکیزگی کا سبب بنتے ہیں۔ جہاد ایک اتنا بڑا عمل ہے۔ جس کے ذریعے انسان اپنے جسم و جان تک کو راہ خدا میں لگا دیتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جہاد میں مومن کو لگنے والی ایک ٹھوکر یا اس کے جسم پر آنیوالی ایک ضرب اس کے نسمہ کو پاک کرکے اسے حظیرۃ القدس کا اہل بنا دیتی ہے دشمن کی تلوار کا ایک وار حقوق العباد کے سوا اس کے تمام گناہوں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مقصد یہ کہ اہل ایمان کو تکلیف پہنچنے میں بھی اس کے لیے بہت سی فائدے کی چیزیں ہیں۔
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ برصغیر میں مسلمانوں پر جب زوال آیا ، تو وہ دل برداشتہ نہیں ہوئے ، بلکہ انگریز جیسی جابر طاقت کے سامنے ڈٹ گئے ، انہوں نے مسلمانوں کو ہر طریقے سے تنگ کیا ، وہ طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا ہوئے۔ مگر دین کا دامن تھامے رہے اور ایمان کی حقانیت پر حرف نہیں آنے دیا۔ یہی وہ صفت ہے جس کے ذریعے انسان کا نسمہ پاک ہوتا ہے۔ اور وہ بارگاہ خداوندی میں پہنچ کر اس کے فیضان سے مستفید ہوتا ہے۔
فرمایا کفر و اسلام کے درمیان جنگ وجدال کا ایک مقصد تو مومنوں کا تزکیہ ہے اور دوسرا و یمحق الکفرین۔ اس کے ذریعے وہ کافروں کو مٹاتا ہے۔ کفر و اسلام کی بڑی جنگیں ہوئیں۔ کبھی مسلمانوں کو فح ہوئی اور کبھی کفار کا پلہ بھاری رہا۔ مگر حتمی نتیجہ کیا نکلا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کو ایسا مٹایا کہ پورے عرب کو کافروں سے پاک کردیا۔ اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مراکز اسلام بن گئے۔ فتح مکہ کے دن حضور ﷺ نے فرمایا کہ آج کے بعد مکہ پر چڑھائی نہیں کی جائیگی۔ بلکہ مکہ والے دیگر ممالک پر چڑھائی کریں گے۔ چناچہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ تھوڑے ہی عرصہ مٰں آدھی دنیا پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جہاد کے ذریعے کفر کو ملیا میٹ کردیا۔
جہاد اور صبر :
اہل ایمان کی کامیابی کے لیے جہاد اور صبر بہترین ہتھیار ہیں۔ جب تک انسان میں جذبہ قربانی پیدا نہ ہو ، اس کے ایمان کی تکمیل ممکن نہیں۔ اور پھر اگر تکلیف پہنچنے پر صبر کا دامن چھوڑ دے تو یہ بھی اس کے ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں چیزوں کی اہمیت تنبیہ کے انداز میں بیان فرمائی ہے کہ اے اہل اسلام ! ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ۔ کیا تم گمان رکھتے ہو کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ ولما یعلم اللہ الذین جھدا منکم۔ حالانکہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے تم میں سے مجاہدین کو ظاہر نہیں کیا۔ جان کی بازی لگانے والوں کو پتہ تو جب چلے گا ، جب جہاد کا موقع آئے گا۔ جہاد کرنے والے لوگ اس وقت ظاہر ہوں گے ، جب وہ دشمن کے مقابلے میں آئیں گے۔ محض زبان سے کلمہ پڑھ لینے سے جنت کا ٹکٹ نہیں مل جائے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے جہاد کا موقع فراہم کرکے تمہیں آزمائیں گے ، کہ وہ کون لوگ ہیں ، جو جان کی بازی بھی لگا سکتے ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا۔ ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع ونقص من الاموال والانفس۔ یعنی ہم تمہیں مختلف الانواع آزمائشوں مٰں ڈال کر دیکھیں گے کہ تم میں سے کون ہیں جو ان آزمائشوں پر پورا اترتے ہیں۔ خوف اور بھوک برداشت کرنا پڑے گا اور اس کے ساتھ ساتھ مال و جان کی قربانی بھی دینا ہوگی۔
فرمایا پہلی آزمائش تو یہ وہگی۔ کہ جہاد کے لیے کون تلوار لے کر میدان میں اترتا ہے۔ اور پھر جب میدان جنگ میں تکلیف پہنچتی ہے۔ تو یہ بھی دیکھنا ہے۔ ویعلم الصبرین۔ کہ صبر کون کرتا ہے۔ تکالیف و مصائب کو برداشت کرنے کی ہمت کس میں ہے۔ اسی لیے فرمایا۔ کہ تمہیں جنت میں داخلہ یونہی نہیں مل جائے گا۔ ابھی تو ہم نے مجاہدین اور صبر کرنے والوں کو ظاہر ہی نہیں کیا۔
موت کی تمنا :
آگے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یاد دلایا۔ ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ۔ تم موت آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے۔ جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے۔ ان کے جذبات بڑے تیز تھے۔ وہ دشمن سے دوبارہ ٹکر لینے کے لیے بیتاب رہتے تھے۔ اور خواہش کرتے تھے کہ جہاد کا موقع آئے تو انہیں بھی شہادت جیسا بلند مقام نصیب ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہوئے عرض کیا تھا۔ حجور ! ہم دین حق کی خدمت کرتے رہیں گے۔ ولم نفر۔ اور بھاگیں گے نہیں۔ یہاں تک کہ ہمیں موت آجائے۔ صحابہ کرام ؓ نے اللہ کے رسول سے جو وعدہ کیا تھا ، اسے نبھا کر دکھایا۔ انہوں نے جہاد کے میدانوں میں وہ معرکے دکھائے جو ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ ان کی فتوھات کا راز اس بات میں مضمر تھا ، کہ انہوں نے موت کا چیلنج قبول کرلیا تھا۔ حضرت زبیر معرکہ مصر میں شریک تھے۔ جب قلعہ کا محاصرہ طول پکڑ گیا۔ تو فرمایا اے لوگو ! آؤ سب سے پہلے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہوں۔ مجھے ٹوکری میں ڈال کر رسی کے ذریعے قلعہ کے اندر اتار دو ۔ جب اندر پہنچ کر میں نعرہ تکبیر بلند کروں۔ تو تم بھی باہر سے جواب دینا اللہ کو منظور ہوا تو ہم کامیاب ہوں گے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ حضرت زبیر کو اندر اتار دو ۔ جب اندر پہنچ کر میں نعرہ تکبیر بلند کروں ، تو تم بھی باہر سے جواب دینا۔ اللہ کو منظور ہوا تو ہم کامیاب ہوں گے۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ حضرت زبیر کو اندر اتار دیا گیا ، کچھ اور لوگ بھی دیوار پر چرھ گئے۔ آپ نے قلعہ میں داخل ہو کر تلوار چلانی شروع کردی اور اندر سے دروازہ کھول دیا۔ اسلامی فوج اندر داخل ہوگئی۔ معرکے کا رن پڑا اور قلعہ فتح ہوگیا ، یہ ہیں وہ قربانیاں جن کے ذریعے مسلمانوں نے شجر اسلام کی آبیاری کی۔
حضرت زبیر ؓ یرموک کی لڑائی میں دشمن کی دو لاکھ کی تعداد کی فوج میں اکیلے گھس گئے تھے۔ صفوں کو چیرتے ہوئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے گئے۔ بہادری کے خوب خوب جوہر دکھائے جسم کا کوئی حصہ زخموں سے خالی نہیں تھا۔ کندھے پر اتنا بڑا زخم کا نشان تھا کہ اس کا کڑا بن گیا تھا جس میں بچے ہاتھ ڈال کر کھیلتے رہتے تھے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یاد دلایا۔ کہ تم جہاد اور شہادت کی تمنا کرتے تھے۔ تو اب یہ موقع تمہیں فراہم کیا جا رہا ہے۔ فقد رایتموہ۔ جسے تم نے دیکھ لیا ہے۔ وانتم تنظرون۔ اور تم اسے اپنی آنکھوں کے سامنے تک رہے ہو۔ لہذا اب جان کی بازی لگانے کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اور ہر قسم کی مشکلات کو سینے سے لگا لو۔ آخر کار کامیابی تمہاری ہی ہوگی۔
Ayahs 3:144–145ربط آیات :
سلسلہ کلام غزوہ احد کے تمعلق ہی چل رہا ہے۔ اس سے پہلے ارشاد ہوچکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں سستی نہ دکھاؤ۔ اور کوئی تکلیف پہنچنے پر غمگین بھی نہ ہو۔ اگر تم ایمان کے تقاضوں پر پورا اتروگے ، تو غلبہ تمہیں ہی حاصل ہوگا ، تم احد میں تکلیف پہنچنے پر رنجیدہ خاطر ہو ، تو اس قسم کی تکلیف تو دشمنوں کو بھی پہنچ چکی ہے۔ فرمایا کہ ہم زمانے کے دلوں کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں۔ کبھی کسی گروہ کا پلہ بھاری ہوتا ہے ، کبھی کسی کا۔ اللہ تعالیٰ نے اذیت پہنچنے میں بھی حکمت رکھی ہے۔ اس میں بھی بہت سی مصلحتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ممتاز کرنا چاہتا ہے۔ اور بعض کو شہادت کے درجے پر فائز کرنا چاہتا ہے یہ نہ سمجھو کہ اس میں کافروں کو بڑائی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ ان سے ہرگز محبت نہیں کرتا۔ اس کے علاوہ یہ بھی مصلحت ہے کہ آزمائش میں ڈال کر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ، ان کی جانوں کو اور نسموں کو پاک کرنا چاہتا ہے۔ اور کافروں کو مٹانا چاہتا ہے۔ ایسی آزمائشوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ جہاد اور صبر کرنے والے لوگوں کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔ تم دشمن کے ساتھ ٹکر لینے کے لیے بیتاب تھے۔ اب اللہ نے موقع فراہم کیا ہے۔ تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ثابت قدمی سے مقابلے پر آؤ۔
سانحہ احد :
آج کی اس آیت میں بھی اس خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے جو غزوہ احد میں پیش آیا۔ جنگ کی حکمت عملی کے طور پر حضور ﷺ نے تیر اندازوں کی ایک جماعت کو پہاڑ کے درے پر مقرر فرمایا تھا اور حکم دیا تھا۔ کہ ہمیں فتح ہو یا شکست تم نے اس درے کو نہیں چھوڑنا۔ لڑائی شروع ہوئی۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا۔ دشمن بھاگ نکلا ، اس دوران کچھ مجاہدین نے کفار کا تعاقب کیا۔ اور بعض دوسرے مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے۔ اس موقع پر درے پر مامور تیر اندازوں نے غلطی کی۔ حضور ﷺ کے حکم کے برخلاف ان کی اکثریت پہاڑ سے نیچے اتر کر مال غنیمت پر متوجہ ہوگئی ، صرف د س آدمی مقررہ مقام پر باقی رہ گئے۔ اس وقت دشمن کی کمان خالد بن ولید کے ہاتھ میں تھی۔ جب انہوں نے جنگی اہمیت کے حامل اس درے کو خالی پایا تو گھڑ سواروں کی جماعت کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور مسلمانوں پر عقب سے حملہ کردیا۔ بھاگنے والے مشرکین نے جب دیکھا کہ ان کی فوج مسلمانوں کے عقب میں پہنچ گئی ہے۔ تو وہ بھی پلٹ آئے۔ اور اس طرح اہل اسلام کفار کے دو لشکروں کے درمیان آگئے۔ درے پر موجود دس آدمی پہلے ہی شہید ہوچکے تھے۔ بہت سے دوسرے مسلمان بھی شہید ہوئے۔ عتبہ بن ابی وقاص نے حضور ﷺ پر پتھر پھینکا جس سے خود میں لگی ہوئی دو کڑیاں حضور ﷺ کے رخسار مبارک میں ددھنس گئیں۔ آپ شدید زخمی ہوئے۔ ابن قمیہ نے نبی (علیہ السلام) پر حملہ کیا۔ جس سے آپ کے دانت مبارک شہید ہوگئے۔ آپ کے جسم اطہر سے کافی مقدار میں خون بہہ گیا۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ حضور کا دفاع کر رہے تھے۔ پرچم اسلام بھی ان کے ہاتھ میں تھا انہوں نے بھی اپنی جان حضور پر قربان کردی۔ ابن قمیہ نے شور مچا دیا کہ اس نے خود حضور ﷺ کو شہید کردیا ہے۔
یہ سن کر مسلمانوں میں بد دلی پھیل گئی۔ بہت سے ہمت ہار بیٹھے۔ بعض نے تجویز کیا کہ عبداللہ بن ابی کو کہہ کر ابو سفیان سے امان حاصل کرلینی چاہئے۔ مگر بعض دوسرے جانثاروں نے کہا کہ جب حضور ﷺ ہی ہم میں موجود نہ رہے۔ تو ہماری زندگیاں کس کام کی ہیں۔ ہمیں بھی دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئئے شہید ہوجانا چاہیے۔ حضرت انس بن مالک کے چچا انس بن نضر بنی نجار میں سے تھے کہنے لگے۔ اگر محمد ﷺ شہید کردیے گئے ہیں تو رب محمد تو زندہ ہے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر اپنا سفر جاری رکھنا چاہئے۔ یہ کہہ کر دشمنوں پر حملہ آور ہوئے اور جام شہادت نوش فرمایا۔
اس موقع پر پورے لشکر اسلام میں افراتفری پھیل گئی۔ سب لوگ ادھر ادھر بھاگ گئے۔ صرف سترہ یا پچیس آدمی ثابت قدم رہے۔ ان میں حضرات ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، علی ؓ ، طلحہ ؓ ، ابوطلحہ ؓ ، ابودجانہ ؓ ، سعد ؓ وغیرہ شامل تھے۔ ایک صحابی نے حضور ﷺ کو زخمی حالت میں پہچانا اور لوگوں کو آواز دی کہ حجور علیہ السالم زندہ سلامت ہیں۔ آپ نے اسے آواز پست رکھنے کا حکم دیا۔ پھر آپ نے فرمایا۔ اللہ کے بندو ! تم کدھر بھاگ گئے ہو۔ آپ کے ارشاد پر لوگ پھر اکٹھے ہوگئے۔ انہوں نے دشمن کا مقابلہ کیا اور دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔
ازلی و ابدی صرف ذات خداوندی ہے :
آج کی آیت میں حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ پھیلنے سے جو بددلی پیدا ہوگئی تھی ، اس کی طرف اشارہ ہے۔ اور مسلمانوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے۔ کہ اس قسم کے واقعات سے بد دل نہیں ہونا چاہئے۔ بلکہ یہ ایک فطری عمل ہے جو ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وما محمد الا رسول۔ نہیں ہیں حضرت محمد ﷺ مگر اللہ کے رسول۔ آپ رسول ہیں۔ خود خدا تو نہیں جو ازلی ابدی ہستی ہے۔ بحیثیت رسول آپ کو بھی وہ آزمائشیں آسکتی ہیں جو آپ سے پہلے رسولوں پر آئیں۔ اللہ کے بہت سے رسول طبعی موت کے ذریعے اپنے رب کی بارگاہ میں پہنچے اور ان میں سے بہت سے کافروں کے ہاتھوں شہید بھی ہوئے۔ لہذا رسول کی موت کے بعد مسلمانوں کا دین سے پلٹ جانا ہرگز روا نہیں۔ نبی اور رسول کی زندگی بھی ایک نہ ایک دن ختم ہونے والی ہے۔ اور وہ صرف خدا کی ذات ہے جو ازلی ، ابدی ، حی اور قیوم ہے لہذا کسی ایسی متوقع صورت میں اہل ایمان کو بد دل نہیں ہونا چاہئے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو حضور ﷺ کی ذات اقدس اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ بعض اوقات انسان اپنی جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں مگر اپنے پیرو مرشد یا برگزیدہ ہستی کے متعلق بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں لہذا ان کی تکلیف کے مقابلے میں اپنی جان کی بازی لگا دینے سے بھی گریز نہیں کرتے ، جو لوگ راسخ العقیدہ اور ثابت قدم تھے ، ان میں کسی قسم کی بد دلی پیدا نہیں ہوئی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر حضور ﷺ ہم میں موجود نہ بھی رہیں ، دین تو تب بھی قائم رہے گا۔ اور اس دین کے لیے محنت اور کوشش کرنا اولین فرض ہوگا۔ دین تو منجانب اللہ ہی ہے۔ جو ازلی ابدی ذات ہے۔ لہذا اس دین کی حفاظت لازم ہے۔ لہذا راسخ العقیدہ مسلمان پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔
فرمایا۔ قد خلت من قبلہ الرسل۔ آپ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ افائن مات۔ وہ اپنی طبعی موت سے وفات پاکر اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں۔ اوقتل۔ یا شہید کردیے جائیں۔ انقلبتم علی اعقابکم۔ تو اے ایمان والو کیا تم اپنے الٹے پاؤ پلٹ جاؤ گے کیا اپنے دین کو چھوڑ دوگے۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ رسول کے اس دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد ین تو ختم نہیں ہوجائے گا۔ اس لیے تمہیں اپنے دین پر قائم رہنا ہوگا۔ یہ خیال دل سے نکال دو کہ جب حضور ﷺ تم میں موجود نہیں رہیں گے۔ تو تم دین اسلام ترک کرکے پھر اپنے پرانے دین کی طرف پلٹ جاؤگے۔ فرمایا۔ ومن ینقلب علی عقبیہ۔ اور جو کوئی اپنی ایڑیوں پر پلٹے گا۔ فلن یضر اللہ شیئا۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ دین سے مرتد ہو کر وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ اور یاد رکھو ! و سیجزی اللہ الشکرین۔ اللہ تعالیٰ شکر ادا کرنے والوں وک بدلہ اور ثواب عطا کرے گا۔
قد خلت من قبلہ الرسل سے مرزائیوں نے غلط استدلال کیا ہے۔ کہ حضور ﷺ سے پہلے سب کے سب رسول گزر چکے ہیں جن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی شامل ہیں۔ اس سے وہ آپ کی موت ثابت کرکے اپنے جعلی مسیح مرزا قادیانی کے لیے راہ ہموار کرتے ہیں۔ حالانکہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت کے مطابق۔ الرسل۔ سے مراد سارے رسول نہیں بلکہ کچھ رسول گزر چکے ہیں۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر الرسل سے سارے رسول بھی مراد لیے جائیں تو بھی رحضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ آسمان پر اٹھایا جانا بھی گزر جانے کے مترادف ہے۔ اس دنیا سے تو وہ ایک دفعہ گذر کر ہی آسمان پر گئے ہیں جہاں وہ زندہ ہیں اور قرب قیامت میں دوبارہ نزول فرمائیں گے۔ مرزائیوں کا عقیدہ محض دجل ، الحاد اور کفر ہے۔ اس آیت سے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت ثابت نہیں ہوتی۔
دین پر ثابت قدمی :
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے شکر کرنے والوں کا تذکرہ کیا ہے کہ انہیں اچھا بدلہ دیا جائے گا۔ حضرت علی فرماتے ہیں۔ کہ یہاں شکر ادا کرنے سے مراد دین پر ثابت قدم رہنا ہے۔ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ امیر الشاکرین تھے کیونکہ وہ جنگ احد کے موقع پر ثابت قدم رہے۔ حضور ﷺ کی وفات پر جب صحابہ کرام سخت پریشانی کے عالم میں تھے۔ تو صدیق اکبر نے یہی آیت تلاوت کی تھی۔ وما محمد الا رسول۔ الایۃ۔ سب کو تسلی ہوگئی کہ حضور ﷺ وفات پا چکے ہیں۔ اسلام کی نعمت پر ثابت قدم رہنا ہی شکرگزاری کی علامت ہے اور سب سے بڑی نعمت ایمان ہے ، جسے نصیب ہوجائے۔ جو شخص ایمان پر ثابت قدم رہے گا۔ اس کے پاؤں میں لغزش نہیں آئیگی۔ یقینا وہ شکر گذار ہوگا۔ احد کے میدان میں جب مسلمان کفار کے دوگروہوں کے درمیان گھر گئے۔ حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ اڑ گئی تو کئی صحابہ تتر بتر ہوگئے۔ پھر جب آپ کو زندہ سلامت پایا گیا تو صحابہ کرام دوبارہ آپ کے گرد جمع ہوگئے۔ وہ اپنی لغزش پر نادم ہوئے اور پھر ثابت قدم ہوگئے۔ آگے آئیگا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لغزش کو معاف فرما دیا۔ الغرض یہاں پر شکر گزاری سے مراد ایمان پر ثابت قدمی ہے۔
ابن قمیہ کا حشر :
ابن قمیہ نے حٗضور (علیہ السلام) کا دفاع کرنے والے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو شہید کرکے حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ اڑا دی تھی۔ آپ نے اس بدبخت کے متعلق فرمایا تھا۔ خدا تیری جڑ اکھاڑ دے۔ اس شخص کی سزا کے متعلق دو روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت تو یہ ہے کہ اس لڑائی میں حضرت ابودجانہ نے اس کا سر قلم کردیا تھا۔ اور دوسری روایت یہ ہے کہ یہ شخص کہیں پہاڑوں کے درمیان سفر کر رہا تھا۔ اچانک ایک جنگلی بکرا جسے عربی میں وعل کہتے ہیں نمودار ہوا ، اور اس نے ابن قمیہ پر حملہ کرکے اسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اس وقت اسلام کے اور بھی بڑے بڑے دشمن تھے۔ حضرت خالد بن ولید اور ابوسفیان اور بعض دوسرے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ جنگ بدر میں حضرت حمزہ نے ہندہ کے بیٹے کو قتل کیا تھا ، اسے آپ سے سکت عداوت تھی۔ چناچہ آپ کی شہادت پر ہندہ نے حضرت حمزہ کا کلیجہ چبایا۔ اور آپ کا مثلہ بنایا ، مگر وہ بھی ابوسفیان کے ساتھ ایمان لے آئی۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو اچھا بدلہ دے گا۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو کسی حالت میں بھی بد دل نہیں ہونا چاہئے۔ کسی بڑی سے بڑی ہستی کے فوت ہونے پر بھی جزع فزع نہیں کرنا چاہئے ، کیونکہ وہ بہرحال خدا کی مخلوق ہے اور اسے ایک نہ ایک وقت پر فوت ہونا ہے۔ دنیا میں کسی ہستی کو دوام نہیں۔ صرف ذات خداوندی ہمیشہ قائم و دائم ہے۔
موت کا وقت مقرر ہے :
فرمایا۔ وما کان لنفس ان تموت الا باذن اللہ۔ کسی نفس کے لیے یہ بات نہیں ہے۔ کہ وہ مرے مگر اللہ کے حکم سے۔ ہر شخص کی موت اللہ کے حکم سے ہی واقع ہوگی۔ اور موت کیا ہے۔ کتابا موجلا۔ ایک قرر نوشتہ ہے۔ موت اپنے مقررہ وقت سے ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں آسکتی۔ اللہ تعالیٰ کے علم اور لوح محفوظ میں یہ چیز لکھی ہوئی ہے کہ فلاں شخص اتنی عمر پائیگا اور فلاں وقت میں فلاں بیماری یا فلاں حادثہ میں اس کی موت واقع ہوگی۔ مقصد یہ کہ جس طرح ایک عام امتی کی موت کا وقت مقر ہے اسی طرح اللہ کے برگزیدہ انبیاء بھی اپنے اپنے وقت پر داعی اجل کو لبیک کہتے رہے ہیں۔ مگر ان کا ملایا ہوا دین قائم رہا ہے۔ لہذا نبی کے بعد بھی اس کے دین پر ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ اہل اسلام کو سمجھایا جا رہا ہے۔ کہ دین کا دامن کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑنا۔
طلب دنیا یا طلب آخرت :
فرمایا ہر شخص کے لیے اجر وثواب اس کی نیت اور ارادے کے مطابق ملتا ہے۔ ومن یرد ثواب الدنیا۔ جو شخص دنیا کا ارادہ کرتا ہے۔ توتہ منھا۔ ہم اس کو دنیا میں سے ہی بدلہ دیتے ہیں۔ ہاں یہ بات ہے کہ ہر مطلوبہ چیز مہیا نہیں کرتے بلکہ جتنا چاہتے ہیں اتنا دیتے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں آتا ہے۔ عجلنا لہ یھا ما نشاء۔ دنیا کی ہر خواہش پوری نہیں ہوتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی منشاء ہے۔ جتنا چاہے عطا کردے۔ برخلاف اس کے۔ ومن یرد ثواب الاخرۃ۔ جو کوئی آخرت کے ثواب کا طلبگار ہے۔ نوتہ منھا۔ ہم اسے آخرت میں سے بدلہ دیں گے۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص دنیا کی خواہش کرتا ہے وہ غرض فانی کے لیے کرتا ہے ، جو چند روز بعد ختم ہوجانے والی ہے اور جو کوئی آخرت کی خواہش کرتا ہے۔ تو اس سے مراد خدا تعالیٰ کی رضا ہے ، جو دائمی ہے آخرت کی خواہش کے ذریعہ سے ہی انسان اپنی جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ جس سے دین قائم ہوتا ہے۔ اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا ہے۔ یہی چیز روحانی ترقی کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت و کامیابی کی دلیل ہے۔ اس خواہش کا مقصد وحید یہ ہے کہ انسان حظیرۃ القدس کا ممبر بن جائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچ جائے۔
فرمایا۔ وسیجزی اللہ الشکرین۔ ہم شکر ادا کرنے والوں کو پورا پورا بدلہ دیتے ہیں۔ اور شکر گزاری یہ ہے۔ کہ انسان ایمان ، توحید ، اطاعت اور فرمانربداری کے کاموں پر ثابت قدم رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ سب سے پہلی ثابت قدمی حضور ﷺ کے صحابہ کرام کو حاصل ہوئی ، جو براہ راست حضور کے فیض یافتہ تھے۔ جو تھوڑی بہت کمزوریاں رہ گئی تھیں۔ وہ بھی رفع ہوگئیں۔ ان کی غلطیاں معاف ہوگئیں اور وہ لوگ مجموعی طور پر شکر گزار بن گئے۔ یہی لوگ ایمان کی دولت کے محافظ تھے ایمان ہی ان کی سب سے قیمتی متاع تھی جسے انہوں نے آئندہ نسلوں کو منتقل کیا۔ ایمان کے علاوہ باقی سب چیزیں فانی اور بےحقیقت ہیں۔
Ayahs 3:146–148ربط آیات :
غزوہ احد میں اہل اسلام کو نقصان اٹھانا پڑا حتی کہ خود حضور نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑ گئی اور مسلمانوں میں بددلی پیدا ہوگئی تھی۔ گذشتہ درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی۔ کہ ایسے مواقع پر ایمان پر مضبوط رہیں اور کمزوری کا احساس پیدا نہ ہونے دیں۔ بات سمجھائی کہ اللہ کا رسول خدا نہیں ہے ، جو ازلی ابدی ہو۔ بلکہ عام انسانوں کی طرح رسول نے بھی موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اگر اللہ کا رسول تم میں موجود نہ رہے ، تو کیا تم دین کو چھوڑ جاؤ گے دین تو اللہ کا ہے۔ جو حیی اور قیوم ہے ، قائم و دائم ہے ، لہذا اس کے دین کی جدوجہد ہمیشہ جاری رہنی چاہئے۔
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے گذشتہ انبیاء اور ان کے ساتھ شریک جہاد لوگوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ کہ وہ لوگ قربانیاں دے کر دین کی تقویت کا باعث بنتے رہے لہذا وہ لوگ مسلمانوں کے لیے اچھا نمونہ ہیں ان کی اقتدا کرنی چاہئے سورة بقرہ میں اسرائیلی پیغمبر حزقیل (علیہ السلام) کا ذکر آ چکا ہے۔ آپ کے پیروکاروں کی ایک جماعت حضرت طالوت کی سرکردگی میں دشمن سے نبرد آزما ہوئی۔
جہاد سنت انبیاء ہے :
ایسے ہی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ وکاین من نبی قتل۔ اور اللہ کے کتنے ہی نبی ایسے گزرے ہیں۔ جنہوں نے جنگ کی ، اس حالت میں۔ معہ ربیون کثیر۔ کہ ان کے ساتھ کثیر تعداد میں رب والے یا اللہ والے بھی شامل تھے۔ مسلمانوں کو بتلانا یہ مقصود ہے۔ کہ جہاد کا حکم صرف آخری امت کے لیے ہی مخصوص نہیں۔ بلکہ سابقہ انبیاء کے لیے بھی جہاد کا حکم اسی طرح تھا ، جس طرح نبی آخر الزماں اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے لیے ہے۔ حق اور باطل کی کشمکش ہمیشہ سے ہے۔ لہذا ہر امت کے لیے جہاد کرنا ضروری رہا ہے۔ اے مسلمانو تسلی رکھو کہ جہاد ہی میں تمہاری اور تمہارے دین کی بقا ہے جو قوم جہاد ترک کردیتی ہے وہ صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔
ربنیین ، کا لفظ اسی سورة کے آٹھویں رکوع میں بھی آچکا ہے وہاں بھی عرض کیا تھا کہ ربی ، یا ربانی سے مراد رب والے یا اللہ والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے انبیاء پر ایمان رکھنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ سچے دین کی تعلیم پر عمل کرتے ، اخلاص اور صداقت سے معمور ہیں یہی لوگ ربانی ہیں جن کی نسبت اپنے رب کی طرف ہے ، چونکہ یہ لوگ اپنے انبیاء کے بھی متبع ہیں اس لیے یہ ان کے صحابہ میں شمار ہوگئے۔ اور ایسے لوگ ہمیشہ سچائی کے راستے پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ اور بزدلی یا بےصبری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ان میں کسی قسم کی گھبراہٹ پیدا نہیں ہوتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ربیون میں علماء فقہاء اور دین میں سمجھ رکھنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ کیونکہ انبیاء کے متبع ہمیشہ ایسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے فرمایا۔ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی۔ یعنی میں بھی بصیرت پر ہوں اور میرے متبع بھی بصیرت پر ہیں۔ انہیں دین کے کسی معاملہ میں اشتباہ نہیں۔ حقیقت حال ان پر آشکارا ہے۔ اور وہ اسی کا اتباع کرتے ہیں۔
مومن ثابت قدم رہتا ہے :
فرمایا جن اللہ والوں نے نبیوں کے ساتھ مل کر جہاد کیا۔ فما وھنوا لما اصابھم فی سبیل اللہ۔ اللہ کے راستے میں انہیں جو بھی تکلیف پہنچی اس پر انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی۔ ان لوگوں پر بڑی بڑی آزمائشیں آئیں ، مال ضائع ہوا ، گھر بار چھوڑنا پڑا ، آدمی شہید ہوئے مگر ان کے پاؤں میں لغزش نہیں آئی۔ دوسرے پارے میں ذکر آ چکا ہے۔ کہ انہوں نے یوں کہا۔ وقالوا مالنا الا نقاتل فی سبیل اللہ وقداخرجنا من دیارنا وابناءنا۔ ہم اللہ کے راستے میں کیوں جہاد نہ کریں جب کہ ہمین ملک بدر کیا گیا۔ اور ہماری اولاد ہم سے چھین لی گئی۔ ہمارے بچوں کو غلام بنایا گیا اور ہماری بچیوں کو لونڈیاں بنا لیا گیا۔ لہذا ہم ضرور دشمن کے ساتھ جہاد کریں گے جب اس عزم بالجزم کے ساتھ میدان جہاد میں اترے تو پھر کسی مشکل سے مشکل وقت میں بھی انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وما ضعفوا۔ اور نہ وہ ضعیف یا سست ہوئے۔ وما استکانوا۔ اور نہ وہ دشمن کے سامنے مغلوب ہوئے۔ استکانت کا معنی پست ہوجانا ، دب جانا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ استکانت میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ انہوں زبان سے بھی کوئی ایسی بابت نہیں کی جس سے ان کی کمزوری یا پستی ظاہر ہوتی ہے۔
صبر بہترین حربہ ہے :
فرمایا۔ واللہ یحب الصبرین۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ اہل اسلام کو سمجھایا جا رہا ہے کہ جس طرح ان لوگوں نے صبر کیا۔ اسی طرح تم بھی مشکلات پر صبر کے ذریعے قابو پاؤ۔ حضور ﷺ کی شہادت کی خبر پر دل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے تھا۔ ملت ابراہیمی میں صبر کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ عبادات کی ادائیگی ، اور مصائب و مشکلات اور نفسانی خواہشات کے مقابلہ کے لیے صبر ہی بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے پارہ میں گزر چکا ہے۔ استعینوا بالصبر والصلوۃ۔ صبر اور نماز کے ذریعے مشکلات کا مقابلہ کرو۔ جس قدر تعلق باللہ قائم ہوگا۔ اسی قدر مصائب کم ہوجائیں گے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے سابقہ لوگوں کی مشکلات کا ذکر فرما کر اہل ایمان کو ثابت قدمی کی ترغیب دلائی۔ اور نصیحت کی کہ ایسے اوقات میں کمزوری اور سستی دکھانے کی بجائے تعلق باللہ کو مضبوط بنانا چاہئے۔
مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے۔ لاتتمنوا القاء العدو۔ اے ایمان والو ! دشمن سے ٹکر لینے کی تمنا نہ کرو۔ البتہ۔ اذا لقیتم فاصبروا۔ اور جب مڈھ بھیڑ ہو ہی جائے ، تو پھر صبر کا دامن نہ چھوڑ دو ۔ اعلموا ان الجنۃ تحت ظلال السیوف۔ یاد رکھو ! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ کمزوری دکھانے کے بجائے صبر کا دامن تھامے رکھو۔ کیونکہ جنت کا راستہ تلواروں کے سائے تلے ہے۔ کمزوری دکھانے کی بجائے صبر کا دامن تھامے رکھو۔ کیونکہ جنت کا راستہ تلواروں کے سائے میں سے گزر کرجاتا ہے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ بیماری کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی مومن کے لیے لائق نہیں کہ وہ بیماری کی خواہش کرے۔ ہاں اگر بیماری آجائے ، تو پھر واویلا کرنے کی بجائے صبر کرنا چاہئے۔ اسی میں خدا تعالیٰ کی رضا ہے۔
مجاہدین کی دعا :
فرمایا صبر کے علاوہ مجاہدین کا دوسرا حربہ ان کی دعا ہے۔ جب وہ میدان جہاد میں اترتے ہیں۔ وماکان قولھم الا ان قالوا۔ تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی اور بات نہیں ہوتی۔ وہ یوں کہتے ہیں۔ ربنا اغفرلنا ذنوبنا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرما دے دوسرے پارے میں گزر چکا ہے۔ حضرت طالوت کے ساتھیوں نے بھی یہی دعا کی تھی۔ کہ اے اللہ ! ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ یہاں پر بھی یہی الفاظ ہیں اللہ والوں کا ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ جب میدان جنگ میں دشمن سے مقابلہ ہوتا ہے۔ تو وہ اپنے پروردگار سے دعائیں کرتے ہیں۔ دعا اللہ سے تعلق کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کو مومن کسی وقت ترک نہیں کرسکتا۔ دعا عبادت کا نچوڑ اور خلاصہ ہے۔ خود حضور ﷺ انیس غزوات میں بنفس نفیس شریف ہوئے جن میں سے آٹھ غزوات میں بالفعل لڑائی ہوئی۔ حضور نے مسلمانوں کو یہی دعا سکھائی۔ اللھم منزل الکتب مجری السحاب۔ ھازم الاحزاب اھزمھم وانصرنا علیھم۔ اے مالک الملک جو کتاب کو نازل فرماتا ہے اور بادلوں کو اٹھاتا ہے ، دشمنوں کے قدموں کو اکھاڑ دے اور ہماری مدد فرما۔ فتح مکہ کے دن آپ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا۔ الحمد للہ الذی انجز وعدہ و نصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ۔ اس خداوند قدوس کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا ، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور دشمنوں کو شکست دی ، وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ اس کے سوا کوئی مددگار نہیں۔ آپ نے مجاہدین کو سکھایا کہ میدان جنگ میں جا کر یوں دعا کیا کرو۔ اللھم امن روعاتنا۔ اے اللہ ! خوف کی حالت میں ہمیں امن نصیب فرما۔ واسترعوراتنا۔ اور ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرما۔
جنگ کے موقع پر حضور نبی کریم ﷺ نے مختلف دعائیں صحابہ کو سکھائیں تاہم جو دعا یہاں قرآن پاک نے بیان کی ہے ، وہ بڑی اہم دعا ہے۔ فرمایا کہ مجاہدین کی زبان پر یہ دعا ہوتی ہے۔ ربنا اغفرلنا ذنوبنا۔ اے اللہ ہمارے گناہ بخش دے۔ ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما ، جنگ احد میں تھوڑی سی کوتاہی ہوگئی تھی ، اسی لغزش کی معافی مانگی جا رہی ہے۔ واسرافنا فی امرنا۔ ہمارے معاملات میں جو زیادتیاں ہوئی ہیں۔ حدود اعتدال سے جو تجاوز ہوا ہے ، ہم ان کی بھی معافی مانگتے ہیں۔ وثبت اقدامنا۔ اور ہمارے قدموں کو مضبوط فرما۔ ان میں لغزش نہ آنے پائے۔ اور ہر تیرے دین کی سربلندی کے لیے ڈٹے رہیں۔ جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے جس طرح اہل ایمان کے قدموں کو مضبوط کیا اس کا ذکر سورة انفال میں آتا ہے۔ ویثبت بہ الاقدام۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یاد دلایا کہ وہ وقت یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان کی کیفیت طاری کردی۔ تمہارے لیے آسمان کی طرف سے پانی اتارا تاکہ تمہیں پاک کرے ، تم سے شیطان کی نجاست (شیطان کی وسوسہ اندازی) کو دور کرے۔ تمہاری ہمت بندھائے۔ اور اس کے ذریعے تمہارے قدم جمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر فرشتوں سے بھی کہا۔ انی معکم۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ فثبتوا الذین امنوا۔ پس تم اہل ایمان کے قدم مضبوط کرو۔ مقصد یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے قدم مضبوط کردے تو پھر کامیابی یقینی ہے۔ اور اگر خدا کسی قوم کے قدم اکھاڑ دے۔ تو کہیں پناہ نہیں مل سکتی۔
مجاہدین کی دعا کا چوتھا جزو ہے وانصرنا علی القوم الکفرین۔ اے اللہ ! کافروں کی قوم کے مقابلے میں ہماری مدد فرما۔ کیونکہ ہم تو تیرے دین کی خاطر جنگ لڑ رہے ہیں۔ اور کافر تیرے دین کی نافرمانی کا پیغام دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔ ہم تیری اطاعت اور فرمانبرداری کو دنیا میں غالب کرنا چاہتے ہیں ، ہم مدد کے مستحق ہیں ، لہذا ہماری مدد فرما۔ مجاہدین کی اس دعا میں ہمارے لیے بھی تعلیم ہے کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور ایسی ہی دعا کرنی چاہئے۔ جب بھی میدان جہاد میں اتریں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی دعائیں کریں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء اور ان کے مجاہدین کا تذکرہ کرکے ہمارے لیے مشعل راہ قائم کردی۔
دنیا و آخرت کا ثواب :
فرمایا جو لوگ اپنے انبیاء کی معیت میں جہاد کرنے والے تھے۔ ، اور اس کے حضور دعائیں مانگنے والے تھے۔ فاتھم اللہ ثواب الدنیا۔ انکو اللہ تعالیٰ نے دنیا کا ثواب عطا کیا۔ یعنی انہیں دنیا میں فتح عطا کی جیسے سورة صف میں فرمایا۔ واخری تحبونھا نصر من اللہ وفتح قریب۔ جب دشمن سے مڈھ بھیڑ ہو۔ تو مسلمان کی خواہش یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اسے فتح نصیب فرمائے۔ تاکہ خدا کا دین غالب ہو۔ کلمۃ اللہ ھی العلیا۔ تاکہ اللہ کی بات بلند ہوجائے۔ اور اس کے دین کے دشمنوں کے ارادے ناکام ہوجائیں۔ چناچہ دنیا کے ثواب سے مراد فتح و نصرت اور بالتبع مال غنیمت ہے مگر سب سے بڑی کامیابی اللہ کے کلمے کی بلندی ہے۔ باقی سب چیزیں اس کے تابع ہیں۔
فرمایا اللہ تعالیٰ نے انہیں نہ صرف دنیا کا ثواب عطا کیا۔ بلکہ ۔ وحسن ثواب الاخرۃ۔ یعنی آخرت کا بہتر اجر بھی دیا اور یہ بہتر اجر اخروی کامیابی ، نجات اور جنت میں داخلہ ہے۔ ظاہر ہے کہ۔ فضل اللہ المجاھدین علی القعدین درجۃ۔ اللہ تعالیٰ نے بیٹھ رہنے والوں کے مقابلے میں جہاد کرنے والوں کو فضیلت بخشی ہے۔ فرمایا جنت کے سو درجے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مجاہدین کو بلند سے بلند رجہ عطا فرمائے گا۔ وہ مجاہدین جو دین کی اشاعت اور کفر کو مغلوب کرنے کے لیے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان جہاد کی طرف چلتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی عمل نہیں ہے۔ بہت بڑی بات ہے جس کی تفصیلات قرآن پاک اور احادیث میں جگہ جگہ موجود ہیں۔
محبوبان خدا :
فرمایا۔ یادرکھو ! واللہ یحب المحسنین۔ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ ان سے محبت رکھتا ہے۔ نیکی کے کاموں میں جہاد ، دین کی اقامت ، صبر ، خدا کی فرمانبرداری ، اطاعت رسول۔ دنیا میں حدود اللہ کا اجرا ، مصائب پر صبر ، بلند ہمتی ، اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر وقت تیاری یہ سب باتیں شامل ہیں۔ اگر کبھی وقتی طور پر مسلمانوں کو نقصان پہنچا اور کافروں کو عارضی کامیابی بھی حاصل ہوگئی تو اس سے کافر اللہ کے محبوب نہیں بن سکتے بلکہ خدا کے محبوب ہمیشہ نیکی کرنے والے ہی ہوتے ہیں۔ دنیا کا اتار چڑھاؤ محض آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس میں بھی بہت سی مصلحتیں ہیں جن میں سے چار کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو ہی محبوب بناتا ہے۔
Ayahs 3:149–151ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء اور ان کے پیروکاروں کا نمونہ بیان فرمایا اور اہل ایمان کو ترغیب دی کہ وہ بھی انہی لوگوں کا طریقہ اختیار کریں جو سابقہ انبیاء کے متبعین نے اختیار کیا انہوں نے دشمن کے ساتھ جہاد کیا اور ثابت قدم رہے ان کے پائے استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو کامیابی عطا اور دنیا و آخرت کا ثواب عطا کیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں اور ان کے ماننے والوں کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ برخلاف اس کے نافرمانوں اور منافقین کے اقوال و افعال سے بچنا بھی ضروری ہے۔ دشمن کے غلط پراپیگنڈا سے اہل ایمان میں بددلی پیدا ہونے کا احتمال ہے۔ لہذا دشمن کی چالوں سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے۔ جنگ احد کے واقعہ میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ جب حضور ﷺ زخمی ہو کر گرگئے ، تو مشرک حملہ آور نے مشہور کردیا کہ نعوذ باللہ آنحضرت (علیہ السلام) کو شہید کردیا گیا ہے۔ اس غلط پراپیگنڈہ کی بنا پر مسلمانوں میں بددلی پیدا ہوگئی ، منافقین کو موقع مل گیا۔ وہ کہنے لگے کہ جب حضور نبی کریم ﷺ ہی ہمارے درمیان موجود نہیں رہے۔ تو پھر ہمیں ان کا دین چھوڑ کر اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ جانا چاہئے۔ بعض نے کہا کہ ابوسفیان سے امان حاصل کرلینی چاہیے یہ سب پراپیگنڈا تھا۔ تاکہ مسلمان اپنے دین سے پھرجائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی باتوں کا رد فرمایا ہے۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ اللہ نے فرمایا۔ وما محمد الا رسول۔ یعنی حضور نبی کریم (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ وہ خود خدا نہیں جو ازلی ابدی ہے۔ بلکہ وہ تو فانی ہیں۔ اگر موت یا شہادت کی بنا پر وہ اس دار فانی سے رخصت ہوجائیں تو کیا تم آپ کے لائے ہوئے دین کو ترک کردوگے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ بلکہ حضور ﷺ کا لایا ہوا دین قیامت تک قائم رہے گا۔ مسلمانوں کو منافقین کے پراپیگنڈا سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔
عظیم نقصان :
ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایھالذین امنوا۔ اے ایمان والو ! ان تطیعوا الذین کفروا۔ اگر تم کافروں کی بات مانوگے اور منافق بھی کافروں میں شامل ہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ یردوکم علی اعقابکم۔ کہ وہ تمہیں پلٹا دیں گے تمہاری ایڑیوں پر۔ مراد یہ کہ ان کی کوشش یہ ہوگی۔ کہ وہ تمہیں دین حق سے دوبارہ جاہلیت کی طرف لے جائیں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ فتنقلبوا خسرین۔ کہ تم سخت نقصان اٹھانے والے بن کر پلٹ جاؤگے۔ مقصد یہ اپنے دین پر قائم رہو۔ ہر حالت میں دین کی حفاظت کرو۔ تمہیں وقتی طور پر فتح ہو یا شکست اپنے دین پر ہر صورت میں قائم رہو۔ اگر تم نے دین کے پاکیزہ نظریات کو ترک کردیا ، تو پھر کفر اور جہالت کی طرف پلٹ جاؤگے۔ اور یہ سب سے بڑا نقصان ہوگا۔
لہذا مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے۔ کہ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں ورنہ وہ تمہیں دوبارہ جاہلیت کی طرف پھر دیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس مومن کے دل میں ایمان راسخ ہوگیا ہے ، اس کو اگر آگ کے شعلوں میں بھی ڈال دیا جائے تو وہ کفر کی طرف پلٹنا پسند نہیں کرے گا۔ وہ ہر قسم کی مشکلات برداشت کرلے گا مگر ایمان کو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اے ایمان والو ! لاتتخذوا بطانۃ من دونکم۔ یعنی ایمان والوں کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا دلی دوست نہ بناؤ۔ کافروں کو اپنے معاملات میں دخیل نہ ہونے دو ۔ ورنہ وہ تمہیں کفر کی طرف لے جائیں گے۔ یہود و نصاری ان سے بھی بدتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ولن ترضی عنک الیھود ولا النصری۔ آپ سے یہود و نصاری کبھی راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کا دین اختیار نہ کرلو۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ثابت قدمی اور دشمن کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔
مسلمانوں کے تنزل کی وجہ :
اس وقت دنیا میں مسلمان جس تنزل کا شکار ہیں اس کی اسی فیصد وجہ کفار کی مداخلت ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے قوانین ، سیاست ، تجارت ، تعلیم ، ٹیکس وگیرہ میں دخیل ہیں۔ غیر مسلم کافر ہوں یا مشرک ، یہودی ہوں یا نصرانی ، کمیونسٹ ہوں یا دہریے وہ ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی تدابیر کرتے ہیں۔ اپنے ملکوں میں تعلیم کے نام پر ایسے شاگرد بنا کر بھیجتے ہیں جو مسلمانوں کے نظریات کو جڑ بنیاد سے اکھیڑ کر رکھ دیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمن ایک صالح آدمی مولوی شہاب الدین کا بیٹا تھا جو کہ شیخ الہند کا شاگرد تھا۔ مگر یہ یہودیوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ اسمتھ کا شاگرد تھا۔ جس نے اس کے ذہن کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ صدر ایوب کے زمانے میں اس نے کتاب لکھی تھی جس میں قرآن پاک کے وحی الہی ہونے کا انکار کردیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ پورے کا پورا قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ اس میں آدھا یا کچھ کلام حضور خاتم النبیین ﷺ کا ہے۔ مقصد یہ کہ غیر مسلم لوگ مسلمانوں کو اپنے ہاں تعلیم دے کر ان کے بنیادی نظریات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پھر انہی کے ہاتھوں ان کی قوم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ روس کیا کر رہا ہے۔ افغانستان اور ایران وغیرہ میں اپنے نظریات پھیلا رہا ہے مگر مسلمانوں کی آج زبوں حالی یہ ہے کہ ان کی مرکزیت ختم ہوچکی ہے۔ رسوخ عقیدہ مفقود ہے۔ قرآن پر غور و تدبر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ قرآن پر غور و تدبر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ حضور ﷺ کی تعلیمات سے دلچسپی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا دین اور اخلاق دونوں بگڑ چکے ہیں۔ کفار ہمارے تمام معاملات میں دخیل ہیں۔ ترکی کے معاملات میں امریکہ دخل اندازی کر رہا ہے۔ عرب اس کے مشورہ کے بغیر کوئی بات نہیں کرسکتے ، ترقی پذیر ممالک میں ایڈوائزر وہاں سے آتے ہیں۔ لہذا مسلمان ترقی کی بجائے تنزل کی طرف جا رہے ہیں۔ اللہ نے اس لیے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی بات مانوگے تو وہ تمہیں دوبارہ کفر کی طرف لے جائیں گے۔ عیسائی مشنریاں اس پر مستزاد ہیں۔ مسلمان ممالک میں خاص طور پر کام کررہی ہیں۔ تیس تیس سال تک کام کرنے کے بعد رپورٹ دیتی ہیں کہ اگرچہ مسلمانوں کو عیسائی تو نہیں بنایا جاسکا۔ مگر ان کے نظریات اس قدر بگاڑ دیے گئے ہیں۔ کہ وہ مسلمان بھی باقی نہیں رہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ان خطرات کو محسوس کریں۔ اپنے کام خود انجام دیں۔ اور غیر مسلم اقوام کی مداخلت بند کریں ورنہ وہ کفار کے چنگل سے کبھی آزاد نہ ہوسکیں گے۔
فرمایا اغیار سے منہ موڑ کر صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ بل اللہ مولیکم۔ بلکہ اللہ ہی تمہارا مولا ہے۔ مولا کے بہت سے معنی آتے ہیں جیسے آقا ، سید ، ناصر ، معین ، ساتھی۔ آزاد کیا ہوا غلام ، ، چچا زاد بھائی وغیرہ تقریباً پچیس معنی ہیں۔ مگر یہاں پر مولا سے مراد مددگار ہے۔ خود اللہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا۔ انت مولانا۔ یہ لفظ حضور ﷺ کی ذات اقدس کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ سیدنا اور مولانا۔ یعنی حضور ہمارے آقا ، سردار اور راہنما ہیں تاہم اس مقام پر اہل اسلام کو تسلی دی کہ اغیار کی تمام تر سازشوں کے خلاف تمہارا مددگار اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ یقیناً تمہاری مدد کرے گا۔ وھو خیر النصرین۔ وہ بہتر مدد کرنے والا ہے۔ تمہارا کام یہ ہے کہ تم اس کی وحدانیت پر صدق دل سے ایمان لاؤ۔ اس نے ہمیشہ اہل ایمان کی مدد فرمائی ہے۔ ولقد نصرکم اللہ ببدر وانتم اذلۃ۔ اس نے تمہاری غزوہ بدر میں مدد فرمائی حالانکہ تم اس موقع پر بہت کمزور تھے۔ اس نے حنین کے موقع پر بھی تمہاری مدد فرمائی اس کی مدد ایسے طریقے سے شامل حال ہوجاتی ہے کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔
اسلام کا رعب :
اہل اسلام کی مزید تسلی کے لیے فرمایا : سنلقی فی قلوب الذین کفروا لرعب۔ ہم کافروں کے دلوں میں عنقریب رعب ڈال دیں گے۔ جنگ احد کے موقع پر ایسا ہی ہوا۔ بظاہر کافروں کو کامیابی حاصل ہوئی۔ بہت سے اکابر مسلمان شہید ہوئے۔ مگر پھر کافر وہاں ٹھہر نہ سکے۔ انہیں واپس ہی جانا پڑا۔ ایک موقع پر ابوسفیان کے دل میں خیال پیدا ہوا۔ کہ مسلمان تعداد میں تھوڑے سے تو تھے۔ ان میں سے شہید اور زخمی بھی ہوئے۔ مگر ہم پھر بھی واپس پلٹ رہے ہیں۔ واپس جا کر ان کا کام تمام کردینا چاہئے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایسا رعب ڈالا کہ انہیں دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور واپس مکہ لوٹ گئے۔ البتہ نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے زخمی صحابہ نے آٹھ میل تک کفار کا تعاقب کیا۔
فرمایا ان پر رعب اس لیے مسلط کردیا۔ بما اشرکوا باللہ۔ کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک بنائے ہیں۔ اور شرک سے ضعف پیدا ہوتا ہے۔ اور حمیت بھی ہو تو وہ حمیت جاہلیہ ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ تعصب اور عناد کی وجہ سے بہادری کا بثوت بھی پیش کرتے ہیں مگر عقل اور بصیرت سے خالی ہوتے ہیں۔ برخلاف اس کے اگر مومن کو وقتی طور پر تکلیف بھی پہنچے تو وہ بصیرت اور سمجھ پر ہوتا ہے۔ کافر اندھے ہوتے ہیں۔ ان میں وہن اور کمزوری پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ توہمات کے پرستار ہوتے ہیں۔ مشرکین کا حال دیکھ لیں۔ ذرا ذرا سی بات پر شگون لیتے ہیں۔ وہ خود اعتمادی سے عاری ہوتے ہیں۔ اور اسی وجہ سے وہ ضعف کا شکار ہوجاتے ہیں۔
بلال دلیل شرک :
فرمایا یہ لوگ جس شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وہ ایسا ہے۔ مالم ینزل بہ سلطانا۔ جس کی اللہ نے کوئی سند یا دلیل نہیں اتاری ، سلطان کا معنی غلبہ برہان ، دلیل وغیرہ ہے۔ صاحب اقتدار کو بھی سلطان کہتے ہیں یعنی طاقت اور قوت والا۔ بہرحال یہاں سلطان کا معنی دلیل ہے کہ مشرکین کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں بلکہ محض اپنے دادا یا باپ یا قوم کی اندھی تقلید ہے جس پر یہ لوگ مصر ہیں اسکے برخلاف کفر کی تردید میں ہزاروں دلائل موجود ہیں۔ ان میں عقلی ، نقلی ، کتابی ، سمعی ، بصری ہر قسم کے دلائل موجود ہیں۔ انسان ذرا سا غور کرے تو اس کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ ایک پتہ ہی لے لیں یا گھاس کے ایک تنکے کی تخلیق پر غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں ٓا جائیگی اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر قطعی طور پر فرما دیا۔ لا برھان لہ بہ۔ ان کے پاس شرک کی کوئی دلیل نہیں۔ محض سنی سنائی باتوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہے۔ وماواھم النار۔ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے۔ اور یاد رکھو ! وبئس مثوی الظلمین۔ ظالموں کا ٹھکانا بہت برا ہے۔ کفر شرک کرنے والے سب سے بڑھ کر ظالم ہیں۔ ان لشرک لظلم عظیم۔ شرک ظلم عظیم ہے۔ یہ اول درجے کا ظلم ہے۔ اس کے بعد حقوق ضائع کرنے والے۔ اور لوگوں کی جان و مال کے تلف کنندہ دوسرے درجے کے مجرم ہوں گے ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ ان کا اعتقاد فاسد ہے۔