3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:165–168

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

کیا جس وقت پہنچی تم کو مصیبت ، تو تم نے پہنچائی تھی اس سے دوگنی۔ تم نے کہا یہ کہاں سے آئی ہے۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ، وہ تمہارے نفسوں کی طرف سے آئی ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو کچھ تم کو اس دن پہنچا جس دن دو جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں ، پس اللہ کے حکم سے اور تاکہ اللہ تعالیٰ ممتاز کردے ایمان والوں کو۔

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور تاکہ ممتاز کردے ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت اختیار کی۔ اور ان سے کہا گیا آؤ لڑو اللہ کے راستے میں یا دشمن کا دفاع کرو تاکہ وہ کہنے لگے کہ اگر ہم جانتے کوئی لڑائی تو ضرور تمہارا اتباع کرتے۔ وہ لوگ کفر کی طرف اس دن زیادہ قریب تھے بہ نسبت ایمان کے۔ اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے اس چیز کو جس کو وہچھپاتے ہیں۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے اپنے بھائی بندوں کے بارے میں کہا اور خود بیٹھ گئے ، اگر یہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے پس ہٹاؤ تم اپنے نسفوں سے موت کو اگر تم سچے ہو۔

ربط آیات : اس درس کی آیت بھی واقعہ احد کے سلسلہ ہی کی کڑیاں ہیں۔ پہلی آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے منافقوں یا کافروں کی بات ماننے سے منع فرما دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ جن لوگوں سے غلطی سرزد ہوگئی تھی ان کے ساتھ نرمی اختیار کریں اور ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اللہ رب العزت سے معافی طلب کریں اور آئندہ اس کے ساتھ مشورہ کیا کریں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت میں خیانت کے مسئلہ کو بیان فرمایا۔ پھر خداوند کریم نے اپنے اس عظیم احسان کا تذکرہ فرمایا جو اس نے بنی نوع انسان پر بالعموم اور اہل ایمان پر بالخصوص کیا۔ اور وہ احسان یہ ہے کہ انہی کی نسل اور خاندان میں سے ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا ، جو اللہ کا پیغام ان تک پہنچاتا ہے۔ ان کا تزکیہ کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ آج کے درس کی آیات میں بھی غزوہ احد کے ضمن میں ہی ہیں۔ اس جنگ میں مسلمانوں کی کوتاہی کی وجہ سے فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ ستر مسلمان شہید ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے۔ خود حضور نبی کریم ﷺ کے جسم اطہر پر چوٹیں آئیں۔ ان تمام عوامل کا مسلمانوں کو بہت صدمہ تھا۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں مختلف طریقوں اور مختلف الفاظ سے تسلی دی اور آئندہ کے لیے محتاط رہنے کی تعلیم دی۔ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بتا دیا کہ اگرچہ اس واقعہ میں اہل ایمان کو تکلیف پہنچی ہے۔ مگر اس تکلیف میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں جن کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے تسلی : اس مقام پر اللہ جل شانہ نے اہل ایمان کی تسلی کے لیے ارشاد فرمایا۔ اولما اصابتکم مصیبۃ۔ غزوہ احد میں بلاشبہ تمہیں تکلیف پہنچی۔ مگر تمہیں یاد ہونا چاہئے۔ قد اصبتم مثلیھا۔ تم اس سے پہلے دشمن کو دگنی تکلیف پہنچا چکے ہو۔ احد کے مقام پر تو مسلمانوں کے خلاف ستر آدمی شہید ہوئے ہیں۔ مگر بدر کی جنگ میں کفار کے نہ صرف ستر اکابر مارے گئے تھے بلکہ اتنی ہی تعداد میں وہ قیدی بھی بنے تھے۔ گویا تم ان کو دگنا نقصان پہنچا چکے ہو۔ لہذا احد کی شکست سے دل برداشتہ نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی شکست کے باوجود ان پر یہ احسان فرمایا کہ کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا۔ وہ نہ تو مسلمانوں کو قیدی بنا سکے اور نہ خود وہاں زیادہ دیر ٹھہر سکے بلکہ اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ مکہ واپس پلٹ جائیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس وقت کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جب شکست ہوئی ، تکلیف پہنچی۔ قلتم انی ھذا۔ تم پکار اٹھے۔ یہ کیا ہوگیا ۔ ہمیں شکست کیسے ہوگئی۔ ہم تو حق پر تھے۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے ہیں۔ ہمیں کیوں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ قل۔ اے پیغمبر ! آپ فرما دیجئے۔ ھو من عندانفسکم۔ یہ تکلیف تمہیں خاص تمہارے ہی نفسوں کی طرف سے پہنچی ہے۔ تم نے اللہ کے رسول کی حکم عدولی کی ، اس کے مقرر کردہ مورچہ کو چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے شکست دوچار ہونا پڑا۔ لہذا یہ تکلیف تمہاری اپنی ہی غلطی کا نتیجہ ہے۔ دنیا کے جنگی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا جنگی پلان بالکل درست تھا۔ اور اس میں کوئی خامی نہیں تھی۔ انگریز اور یہودی مورخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے موقع پر سپہ سالار اعظم ﷺ کی جنگی حکمت عملی نہایت اعلی درجے کی تھی۔ مگر یہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی غلطی تھی۔ کہ وہ پہاڑی درہ پر قائم نہ رہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اس درے کو کسی صورت میں بھی ترک نہیں کرنا۔ مگر ان کی اکثریت نہ صرف پہاڑ سے نیچے اتر آئی بلکہ آپس میں جھگڑا بھی کیا جس کی وجہ سے اہل ایمان کو مجموعی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔ بہرحال اس میں مسلمانوں کی غلطی کی طرفر اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ کہ تکلیف تمہارے ہی نفسوں کی طرف سے پہنچی تھی اس میں تمہارا اپنا ہی قصور تھا۔ اور یہ بھی یاد رکھو۔ ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ جو مالک الملک فتح سے ہمکنار کرسکتا ہے ، وہ فتح کو شکست میں تبدیل کرنے بھی قادر ہے۔ اور وہ تمہیں تمہاری غلطیوں پر تنبیہ بھی کرسکتا ہے۔ شکست کی حکمت : آگے اللہ تعالیٰ نے اس شکست کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے۔ وما اصابکم یوم التقی الجمعن۔ دونوں جماعتوں یعنی اہل کفر و اہل اسلام کے اکٹھا ہونے کے دن یعنی غزوہ احد کے موقع پر جو تکلیف تمہیں پہنچی ہے اس میں کفار نے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ بلکہ فباذن اللہ۔ اللہ کے حکم سے ہی ایسا ہوا ہے۔ کوئی چیز اللہ کی تقدیر ، اس کی مشیت اور ارادے کے بغیر واقع نہیں ہوسکتی۔ لہذا اس پر افسوس کا زیادہ اظہار نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا۔ اور اس میں حکمت یہ تھی۔ ولیعلم المومنین۔ کہ اللہ تعالیٰ معلوم کرے کہ مومن کون لوگ ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ہر چیز ہر وقت موجود ہے اسے تکلیف میں مبتلا کرکے اہل ایمان کا ایمان جانچنے کی ضرورت نہ تھے ی ، بلکہ یہاں پر علم کا معنی ممتاز کرنا ہے اور مطلب یہ ہے۔ کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو باقی لوگوں سے ممتاز کرنا چاہتا تھا جب اس قسم کی آزمائش آئی تو سب لوگوں کو علم ہوگیا۔ کہ پکے سچے مومن کون ہیں اللہ نے انہیں کمزور ایمان والوں سے علیحدہ کردیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ کا اس واقعہ سے یہ منشاء بھی تھا۔ ولیعلم الذین نافقوا۔ تاکہ منافقوں کو بھی ممتاز کردے ، اہل ایمان سے علیحدہ کردے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو مومن نہیں ہیں بلکہ کافر ہیں اور آئندہ اہل ایمان ان کے دھوکے میں نہ آئیں۔ منافقین نے اپنے نفاق کا اظہار تو ابتدائے غزوہ میں ہی کردیا تھا جب کہ ان کا ایک جتھہ راستے ہی سے واپس لوٹ گیا تھا۔ اور میدان احد تک پہنچا ہی نہیں ۔ ان میں سے جو میدان جنگ میں پہنچ گئے وہ بڑے فکر مند تھے۔ انہوں نے طرح طرح کی باتیں بنائیں جن سے ان کی بزدلی کا اظہار ہوتا تھا مسلمانوں کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے میدان جنگ میں ان پر نیند طاری کردی جس کی وجہ سے وہ تازہ دم ہوگئے اور ان کے تمام تفکرات رفع ہوگئے۔ مگر منافقوں کو یہ سعادت بھی نصیب نہ ہوئی۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مختلف وماقع پر واضح کردیا کہ اہل ایمان کون ہیں اور منافق کون۔ تو یہاں پر بھی ارشاد فرمایا کہ مسلمانوں کے گروہ کو تکلیف پہنچنے میں ایک حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ مومنوں اور منافقوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کردے۔ جارحانہ یا مدافعانہ جنگ : آگے اللہ تعالیٰ نے منافقین کے تعلق سے جنگی حکمت عملی کا تذکرہ فامایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ وقیل لھم۔ اور ان منافقوں سے کہا گیا۔ تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ۔ آؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ اوادفعوا ، یا دفاع کرو۔ جنگ دو ہی طریقوں سے لڑائی جاتی ہے اقدامی جنگ (OFFENSIVE WAR) ہوتی ہے یا دفاعی جنگ (DEFENSIVE WAR) ہوتی ہے۔ اسلام میں دونوں قسم کے جہاد روا ہیں۔ شاہ ولی اللہ محدث دہولی فرماتے ہیں۔ کہ اسلام نے جنگ میں پہل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اگر کسی علاقے میں دشمن نے ظلم و ستم اور فتنہ و فساد کا بازار گرم کر رکھا ہو ، شرفا کی عزت و مال مھفوظ نہ ہو۔ اسلام کے خلاف سازش کا گڑھ بنا ہوا ہو ، تو ایسی صورت میں گندے عنصر کا قلع قمع ضروری ہوجاتا ہے۔ اور اسلام جنگ میں اقدام کی اجازت دیتا ہے۔ دوسری صورت اس وقت پیدا ہوتی ہے۔ جب دشمن خود چڑھائی کردے جیسا کہ جنگ کے موقع پر ہوا تھا۔ تو ایسی حالت میں دفاعی جنگ لڑی جاتی ہے۔ ایسے موقع پر مرد ، عورت جوان ، بوڑھا سب پر فرض عاید ہوتا ہے۔ کہ وہ اپنا دفاع کرے عام حالات میں تو جہاد فرض کفایہ ہے۔ مسلمانوں کی فوج موجود ہے وہ دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہو ، باقی لوگوں کو میدانِ جنگ میں جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ، مگر جب دشمن اہل اسلام پر چڑھ دوڑے تو یہ جنگ فرض عین بن جاتی ہے۔ اس میں ہر مرد و زن کی شرکت لازم ہوتی ہے۔ تو یہاں پر منافقوں سے کہا جا رہا ہے کہ آؤ اللہ کے راستے میں جارحانہ جنگ لڑو یا کم از کم دفاع میں ہی شریک ہوجاؤ۔ بعض اوقات بھرپور دفاعی طاقت دیکھ کر بھی دشمن مرعوب ہوجاتا ہے۔ لہذا اے گروہ منافقین اگر تم حملہ کرنے کے لیے باہر نہیں نکل سکتے تو کم از کم دشمن کے حملہ کو روکنے کے لیے تو مسلمانوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑے ہوجاؤ۔ منافقوں کی حیلہ سازی : فرمایا اس کے جواب میں منافقین اپنے نفاق کا اظہار یوں کرتے ہیں۔ قالوا لو نعلم قتالا لا تبعناکم۔ اگر ہم یہ کسی ڈھب کی لڑائی جانتے تو ضرور تمہارا اتباع کرتے یعنی تمہارے ساتھ جنگ میں شریک ہوجاتے۔ مگر یہ تو کسی ڈھب کی لڑائی ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد زیادہ ہے اور ہم قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے ، لہذا ہم اس لڑائی میں تمہارے ساتھ شامل ہونے کو تیار نہیں۔ اس طرح منافقین جنگ سے بچنے کے لیے حیلہ سازی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن ان کے نفاق کا پول کھل گیا۔ اور ان کی حالت یہ ہوگئی۔ ھم للکفر یومئذ اقرب منھم للایمان۔ وہ لوگ اس دن ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب ہوگئے۔ پہلے تو یہ لوگ صرف دل سے منافق تھے اور زبان سے ایمان کا دعوی کرتے تھے مگر اس دن انہوں نے زبان سے بھی ایسی بات کہہ دی جس کی وجہ سے ظاہری طور پر بھی کفر کے قریب تر ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ان کی خصلت یہ ہے۔ یقولون بافواھھم۔ اپنے مونہوں سے ایسی بات کہتے ہیں۔ مالیس فی قلوبھم۔ جو ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ زبان سے تو مسلمانوں کی حمایت کا دم بھرتے ہیں مگر دل میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ کہ کسی طرح جنگ میں شریک ہونے سے بچ جائیں۔ دل و زبان کا یہی تضاد منافقت کی نشانی ہے۔ عبداللہ بن ابی نے بھی یہی بات کی تھی۔ کہ ہماری تو بات ہی نہیں مانی گئی۔ ہم کہتے تھے شہر میں رہ کر دفاع کریں گے مگر یہ باہر نکل گئے ، لہذا ہم ایسی جنگ میں شریک نہیں ہوسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی منافقت کا پردہ یہ کہہ کر فاش کردیا۔ واللہ اعلم بما یکتمون۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جس چیز کو جو وہ چھپاتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں چھپے ہوئے رازوں سے بھی واقف ہے۔ لہذا اللہ کو دھوکا نہیں دے سکتے بلکہ خود ہی نقصان اٹھائیں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ایک اور خصلت کا تذکرہ کیا ہے۔ الذین قالوا لاخوانہم وقعدوا۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنے بھائی بندوں یعنی مسلمانوں کے متعلق یوں کہا اور خود بیٹھ رہے۔ لو اطاعونا ما قتلوا۔ اگر یہ ہماری بات مان لیتے ، تو قتل نہ ہوتے ، یعنی ہم تو شہر میں رہ کر دفاع کے حق میں تھے۔ مگر انہوں نے ہماری بات نہیں مانی لہذا باہر میدان میں جا کر مارے گئے۔ غرضیکہ طرح طرح کے حیلے بہانے کیے کہ مسلمانوں کو اس وجہ سے شکست ہوئی ان کی جنگی حکمت عملی درست نہیں تھی یا ان کی صف بندی اور مورچہ بندی کمزور تھی۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ سب ان کی بہانہ سازی ہے۔ اصل میں یہ لوگ اسلام کے دشمن ہیں اور اسے پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ موت سے فرار ممکن نہیں : اللہ تعالیٰ نے ایسے بدباطن لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا۔ قل۔ اے نبی (علیہ السلام) ، ان سے کہہ دیں۔ فادرء وا عن انفسکم الموت۔ پس روک لو اپنے آپ سے موت کو۔ انہوں نے کہا تھا۔ کہ اگر مسلمان باہر نکل کر نہ لڑتے تو شہید نہ ہوتے ، ہم جنگ میں عدم شرکت کی بنا پر بچ گئے۔ اللہ نے فرمایا اگر تم موت کو وارد ہونے سے اس طرح روک سکتے ہو ، تو روک کر دکھا دو ۔ تم خواہ گھر میں بیٹھے رہو یا کہیں چلے جاؤ، موت بہر صورت اپنے وقت پر آ کر رہے گی تم اسے ٹال نہیں سکتے ، کیونکہ موت وحیات قبضہ قدرت میں ہے۔ اس کا پروگرام یقیناً اٹل ہے۔ اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون۔ جب کسی کی موت کا معین وقت آجاتا ہے تو پھر۔ ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔ لہذا یہ تمہاری خام خیالی ہے کہ تم گھر میں بیٹھ رہنے سے موت کو ٹال سکتے ہو۔ بسا اوقات جنگ میں شریک لوگ بخیر و عافیت واپس آتے ہیں۔ اور پیچھے رہ جانے والے مر جاتے ہیں۔ شیخ سعدی نے ایک شخص کا واقعہ بیان کیا ہے کہ ساری رات بیمار کے پاس بیٹھا روتا رہا کہ بیچارا بہت جلد مر جائے گا۔ مگر جب صبح ہوئی تو خود لقمہ اجل بن گیا جب کہ مریض ابھی زندہ تھا۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا۔ ان کنتم صدقین۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو یعنی گھر بیٹھ کر موت کو وارد ہونے سے روک سکتے ہو ، تو اسے روک کر دکھا دو ۔ مگر تم ہرگز ایسا نہ کر سکوگے۔ الغرض ! غزوہ احد میں مسلمانوں کی شکست میں جو حکمتیں پوشیدہ تھیں اللہ نے ان کو بیان فرما دیا۔ منجملہ ان کے ایک حکمت یہ بھی تھی کہ منافقوں کا طرز عمل واضح ہوجائے۔ اس طرح اللہ جل جلالہ نے اس ایک واقعہ کے ذریعے ہزاروں اصول سمجھا دیے۔ اور آئندہ کے لیے مسلمانوں کو مستعد رہنے کی تعلیم دی۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور نہ خیال کریں آپ ان لوگوں کے بارے میں جو مارے گئے اللہ تعالیٰ کی راہ میں مردے ، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے پروردگار کے پاس ان کو روزی دی جاتی ہے۔

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

وہ خوش ہونے والے ہیں اس پر جو اللہ نے ان کو دیا ہے اپنے فضل سے۔ اور وہ بشارت حاصل کرتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ابھی تک ان سے نہیں ملے ان کے پیچھے سے۔ یہ کہ نہیں ہوگا ان پر کوئی خوف اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خوشخبری حاصل کرتے ہیں اللہ کی نعمت اور اس کے فضل سے اور یہ کہ بیشک اللہ تعالیٰ نہیں ضائع کرتا ایمان والوں کے اجر کو۔

ربط آیات : گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تنبیہ فرمائی کہ وہ منافقوں ، یہود اور نصاری کی مشابہت اختیار نہ کریں۔ جو روش انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر اختیار کی تھی اس سے منع فرمایا۔ نیز منافقین نے شہدائے احد کے متعلق کیا تھا۔ لو کانوا عندنا ما ماتوا وما قتلوا۔ یعنی اگر یہ لوگ جنگ میں شریک ہونے کی بجائے ہمارے ساتھ پڑے رہتے تو نہ مارے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کی بھی تردید فرمائی۔ دوسری بات اللہ نے یہ بھی بیان فرمائی کہ جب منافقین سے کہا گیا ۔ تعالوا قاتلوا فی سبیل اللہ اوادفعوا۔ آؤ اللہ کے راستے میں جہاد کرو۔ یا کم از کم دشمن سے دفاع ہی کرو۔ تو انہوں نے یوں حیلہ سازی کی کہ یہ تو کوئی ڈھب کی لڑائی نہیں ہے جس میں ہم شریک ہوں۔ یہ تو خود کشی کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کسی ڈھب سے جنگ کی منصوبہ بندی کی جاتی تو ہم ضرور اس میں شامل ہوتے۔ بلکہ شہدائے احد کے متعلق انہوں نے کہا۔ لو اطاعونا ما قتلوا۔ اگر یہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے اللہ تعالیٰ نے ان تمام باتوں کی تردید فرمائی۔ جہاد فی سبیل اللہ : آج کے درس میں اللہ کے راستے میں شہید ہونے والے لوگوں کی فضیلت اور ان کا درجہ بیان فرمایا ہے۔ اور ان کو مردہ کہنے سے منع فرمایا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی زندگی جیسی قیمتی متاع کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ انہیں حقیقی زندگی ھاصل ہوجاتی ہے۔ اور وہ بلند مراتب پر فائز ہوجاتے ہیں۔ لہذا فرمایا۔ ولا تحسبن الزین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے انہیں مردہ مت گمان کرو۔ اللہ کی راہ سے مراد جہاد فی سبیل اللہ ، دین کی اقامت اور اللہ اور اس کے رسول کے مشن کا قیام ہے۔ نیکی کے تمام امور فی سبیل اللہ ہی تصور ہوتے ہیں تاہم ان سب میں جہاد کا مرتبہ بلند ترین ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ عام نیکی کا معیار یہ ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں خلوص نیت کے ساتھ ایک پیسہ خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو دس گنا اجر عطا فرماتا ہے۔ سورة انعام کے آخری رکوع میں موجود ہے۔ من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔ جو کوئی ایک نیکی لے کر آیا اس کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے۔ اور مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے کا ثواب کم از کم سات سو گنا ہے۔ اس کے بعد۔ واللہ یضاعف لمن یشاء۔ اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے گا دگنا کرے گا۔ یہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہوگا۔ ایک دوسری صحیح حدیث میں نماز کے متعلق فرمایا کہ یہ۔ عماد الدین۔ یعنی دین کا ستون ہے اور جہاد کے متعلق فرمایا کہ اسلام کی کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ دین ، اہل دین اور ملت کو جہاد کی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ جہاد کریں گے تو کامیابی ہوگی ، غلبہ حاصل ہوگا۔ اور جہاد ترک کردیں گے تو ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ دوسروں کے محکوم ہوجائیں گے۔ مذہب ، ملت اور خود بھی ادبار کا شکار ہوجائیں گے۔ شہدا کی زندگی : اس سے پہلے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات۔ یعنی اللہ کے راستے میں جان دینے والوں کو مردہ مت کہو۔ ان کو تو حقیقی حیات نصیب ہوچکی ہے جو اس دنیا کی زندگی سے لاکھوں کروڑوں درجے اعلی وارفع ہے۔ یہاں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کو مردہ مت گمان کرو۔ یہ نہ سمجھو کہ وہ بالکل ختم ہوچکے ہیں۔ بل احیاء۔ بلکہ وہ تو زندہ ہیں ان کو ایسی زندگی ملی ہے جو اس زندگی سے بہت فائق ہے اور وہ زندگی ہے کہاں ، فرمایا عند ربھم۔ اپنے پروردگار کے پاس سورة بقرہ میں شہداء کی زندگی کے متعلق فرمایا۔ ولکن لا تشعرون۔ تم کو اس زندگی کا شعور نہیں ہے۔ شہداء جس جہاں اور جس مقام پر موجود ہیں ، وہ چیز تمہاری عقل میں نہیں آسکتی اور نہ ہی تمہاری نگاہ اسے دیکھ سکتی ہے۔ وہ دوسرا جہان ہے۔ جہاں کے احکامات مختلف ہیں۔ تمہیں اس کا شعور حاصل نہیں ہے۔ اس مقام پر فرمایا ، وہ اپنے پروردگار کے ہاں زندہ ہیں۔ اور۔ یرزقون۔ ان کو روزی دی جارہی ہے۔ یہ شہداء کی خصوصیت ہے کہ مرنے کے بعد وہ عالیشان مقام اور نعمتوں میں رہتے ہیں۔ جس قسم کی ان کی خواہش ہوتی ہے اسی قسم کی ان کو روزی دی جاتی ہے۔ گویا شہداء کو فی الوقت باعزت روزی مل رہی ہے۔ شہداء کے مناقب : شہداء کے فضائل کے متعلق حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شہید کا پہلا قطرہ خون زمین پر گرتے ہی اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ البتہ حقوق العباد اور دین (قرض) پھر بھی اس کے ذمہ واجب الادا رہتے ہیں۔ کسی کا حق تلف کیا ہے۔ قرض لے کر واپس نہیں کیا ، تو جب تک صاحب حق معاف نہیں کرے گا۔ اس سے خلاصی نہیں ہوگی۔ موطا امام مالک کی روایت میں آتا ہے کہ شہداء کی ارواح سبز رنگ کے پرندوں کے جسموں میں سوار ہو کر۔ یسرح فی الجنۃ حیث یشاء۔ جہاں چاہتے ہیں سیر و تفریح کرتے ہیں ، کھاتے پیتے ہیں اور پھر ان قندیلوں کی طرف آجاتے ہیں جو عرش الہی کے ساتھ لٹک رہی ہیں۔ روایات میں آیا ہے۔ کہ جنت لافردوس جنت کا سب سے اعلی درجہ ہے اور عرش الہی اس کے اوپر ہے۔ جس کے ساتھ قندیلیں ہیں جن میں شہداء بسیرا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اتنا اعلی مقام عطا کیا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اپنے وقت کے فقیہ ، مھدث اور نہایت صالح آدمی تھے۔ ساری عمر علم اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزاری۔ آپ شاہ ولی اللہ کے شاگرد ہیں۔ شاہ عبدالعزیز (رح) نے آپ کے متعلق فرمایا۔ کہ آپ وقت کے بیہقی ہیں۔ امام بیہقی چوتھی صدی میں گزرے ہیں۔ آپ امام شافعی کے مقلد تھے۔ آپ نے حدیث کی بہت کتابیں جمع کی ہیں ، جن میں سنن کبریٰ آپ کی بڑی مشہور کتاب ہے۔ قاضی ثناء اللہ کے پیر مظہر جان جانان تھے جو عالمگیر کے خالہ زاد بھائی تھے۔ شاہ ولی اللہ کے ہمعصر تھے شاہ صاحب نے ان کی بڑی تعریف کی ہے۔ انہوں نے بھی شاہ صاحب کے متعلق بڑے تعریفی کلمات کہے ہیں۔ آپ بڑے کامل درجے کے مرد مومن تھے۔ آپ رفض کے بڑے خلاف تھے۔ اس لیے رافضیوں نے آپ کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔ اس زمانے میں رافضیوں کا بڑا دور دورا تھا۔ دسویں صدی ہجری کے بعد جب صفویں خاندان ایران میں آیا ، اس وقت سے اس لعنت کو بڑا عروج حاصل ہوا ، اب رفض کے ساتھ ساتھ خارجیت بھی پھیل رہی ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے ہی حالات ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا فتنہ کھڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو ان فتنوں سے محفوظ رکھے۔ اب تو عقیدے کی حفاظت بڑا مشکل کام ہوگیا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ فارسی زبان میں آپ کی کتاب۔ مالابدمنہ۔ درس نظامی میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ فقہ کی مستند کتاب مانی جاتی ہے۔ آپ کی سب سے زیادہ معروف تالیف تفسیر مظہری ہے۔ جو آپ نے اپنے پیرومرشد مرزا مظہر جانجاناں کی طرف منسوب کی۔ قاضی صاحب نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ میرے مرشد نے فرمایا کہ میں کشفی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں کہ شہداء پر اللہ کی ذاتی تجلیات پڑ رہی ہیں۔ انہیں یہ انعام اس لیے حاصل ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی سب سے قیمتی متاع یعنی جان اللہ کی راہ میں قربان کردی۔ یہ عنایت صرف شہداء تک ہی محدود ہے۔ کیونکہ مقربین فرشتوں پر بھی خداوند تعالیٰ کی ذاتی تجلیات نہیں پڑتیں۔ ان پر صفاتی تجلیات ہی پڑتی ہیں۔ ذاتی تجلیات صرف انسانوں کے لیے خاص ہیں۔ شہیدوں کے بعد صدیقوں کا درجہ ان سے بھی بلند ہے۔ اور پھر انبیاء کا درجہ سب سے اعلی وارفع ہے۔ بہرحال قاضی صاحب نے لکھا ہے کہ ان کے مرشد نے بیان کیا کہ میں کشفی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں کہ شہداء پر اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات پڑ رہی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ شہداء کی زندگی عام مومنین کی نسبت بہت اعلی درجے کی زندگی ہے۔ برزخ کی زندگی : جہاں تک برزخی زندگی کا تعلق ہے ، وہاں تو ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں زندہ ہوتا ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) ، صدیقین اور شہداء کا درجہ تو بلند ہے ، عام مومنین کو بھی برزخ میں زندگی حاصل ہوتی ہے ، جس میں انہیں راحت کا احساس بھی ہوتا ہے اسی طرح کافروں اور منافقوں کی ارواح بھی برزخ میں زندہ ہوتی ہیں جبھی تو انہیں عذاب کا احساس ہوتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شہداء کے متعلق خاص طور پر فرمایا کہ انہیں مردہ گمان نہ کرو۔ بلکہ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور وہاں انہیں روزی دی جاتی ہے۔ صرف معتزلہ فرقہ ایسا ہے جو برز کی زندگی کا قائل نہیں ، ان کے نزدیک اس دنیا کی زندگی کے بعد بس آخرت کی زندگی ہے۔ حالانکہ یہ بات غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ شہداء کو اس زندگی کے منقطع ہونے کے فوراً بعد برزخ کی زندگی حاصل ہوجاتی ہے۔ جہاں انہیں روزی ملتی ہے اور دیگر خوشیاں بھی حاصل ہوتی ہیں ، تاہم اہل ایمان کو حقیقی انعامات حشر کے بعد حاصل ہوں گے برزخ میں اس کا کچھ نمونہ حاصل ہوتا ہے۔ وہاں جو کچھ بھی انہیں حاصل ہوتا ہے۔ اس کے متعلق فرمایا۔ فرحین بما اتھم اللہ من فضلہ۔ اللہ نے جو کچھ انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے۔ اس پر خوش ہونے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ انعامات پر وہ خوش ہو رہے ہیں۔ پچھلوں کے متعلق بشارت : آگے اللہ تعالیٰ نے دو بشارتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ جو شہداء کو عالم برزخ میں حاصل ہوتی ہیں۔ پہلی بشارت کے متعلق فرمایا۔ ویستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم۔ وہ بشارت حاصل کرتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں جو ان سے نہیں ملے۔ یعنی شہداء کے عزیز و اقارب ، رشتہ دار ، احباب وغیرہ جو ایماندار ہیں اور ابھی تک دنیوی زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان کے متعلق انہیں یہ خوشخبری ملتی ہے۔ الا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ کہ ان پر بھی خوف نہیں ہوگا اور وہ بھی غمگین نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں خوشخبری دی جاتی ہے کہ تمہارے فلاں فلاں اعزہ و اقارب بھی تمہاری طرح دنیا میں نیکی کے راستے پر چل رہے ہیں۔ اور اسی صراط مستقیم پر چلتے ہوئے وہ بھی تمہاری طرح راحت کے مقام میں پہنچیں گے۔ چناچہ یہ خوشخبری شہداء کے لیے مزید خوشی کا باعث ہوتی ہے۔ فرمایا دوسری بشارت یہ ہے۔ یستبشرون بنعمۃ من اللہ وفضل۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت اور احسان حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل بھی ان کے شامل حال ہے۔ قیامت کے بعد تو سب لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا مگر شہداء کو یہ نعمتیں فی الوقت مل رہی ہیں۔ اور اب انہیں یہ یقین حاصل ہوگیا ہے۔ وان اللہ لایضیع اجر المومنین۔ بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ اہل ایمان اپنے اور اچھے عقیدے کے ساتھ جو نیک عمل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کا ضرور بدلہ دے گا۔ یہ تو عام مومنین کے متعلق ہے مگر شہداء کو تو نہایت اعلی مقام حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی عزیز ترین متاع اللہ کی راہ میں قربان کردی ، اللہ کے دین کے قیام کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دی ، لہذا اللہ تعالیٰ نے ان کو بہترین اجر عطا فرمایا۔۔ شہداء کا غسل اور جنازہ : حدیث شریف میں آتا ہے کہ کافروں کے ہاتھوں شہادت پانے والے شہیدوں کو غسل دینے کا حکم نہیں ہے۔ ان کو اسی طرح خون میں لت پت قبر میں اتار دیا جائے۔ شہدائے احد کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا ان کے ہتھیار زرہ وغیرہ زائد لباس میں آتے ہیں یہ ان کے جسم سے اتار دو اور ان کے اصل لباس کرتہ ، قمیض ، تہبند پاجامہ وغیرہ سمیت دفن کردو۔ فرمایا شہداء کا خون قیامت کے دن دوبارہ تروتازہ ہوجائے گا۔ جس سے کستوری جیسی خوشبو آئے گی اور یہ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔ البتہ فقہائے کرام ، محدثین ، مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ اگر کوئی شخص جنابت کی حالت میں شہید ہوجائے تو اس کے غسل کے مسئلہ میں اختلاف رائے ہے۔ امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں۔ کہ ایسی حالت میں بھی شہید کو غسل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں کہ جنبی شہید کے لیے غسل ضروری ہے۔ دلیل کے طور پر فرماتے ہیں۔ کہ حضرت حنظلہ ؓ جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے ، انہوں نے اپنی بیوی سے ہم بستری کی جنگ زوروں پر تھی۔ انہیں غسل کا موقع نہ ملا۔ اسی حالت میں میدانِ جنگ میں کود گئے اور شہید ہوگئے۔ حضور ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا تھا۔ کہ میں نے دیکھا ہے کہ فرشتے بارش کے پاکیزہ پانی سے چاندی کے برتن میں زمین و آسمان کے درمیان حضرت حنظلہ کو غسل دے رہے تھے ، لہذا ثابت ہوا کہ جنبی شہید کا غسل ضروری ہے۔ شہداء کا جنازہ پڑھنے کے متعلق امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا جنازہ پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ ان کی مغفرت تو ہوچکی ہے۔ تاہم امام ابوحنیفہ ، امام مالک اور امام احمد کی رائے ہے کہ جنازہ پڑھا جائے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جنازہ صرف گناہوں کی معافی کے لیے ہی نہیں بلکہ درجات کی بلندی کے لیے بھی پڑھا جاتا ہے۔ شہداء کا جنازہ پڑھنے کا مقصد یہ ہوگا۔ کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ شہداء بیر معونہ : بیر معونہ کے مقام پر ستر صحابہ کرام جو قراء ، فضلا اور منتخب بزرگوار تھے ، شہید کردیے گئے۔ یہ کفار کی سازش تھی۔ ابربراء عامر نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کہ ملک نجد میں تعلیم اسلام کے لیے مبلغین کی ضرورت ہے۔ چناچہ آپ نے ستر صحابہ کرام ان کے ساتھ بھیج دیے۔ جب یہ قافلہ بیر معونہ کے مقام پر پہنچا ، تو انہیں دھوکے سے شہید کردیا گیا۔ ان شہداء اور شہدائے احد کے متعلق بخاری شریف میں روایت ہے کہ انہوں نے عالم برزخ میں اپنی اچھی حالت اور اللہ کی طرف سے انعام و اکرام کے متعلق تمنا کی تھی کہ ان کی اس حالت کا علم دنیا میں رہنے والے ان کے بھائیوں کو ہوجائے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں تمہاری حالت کو تمہارے بھائیوں تک پہنچاتا ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی زبان سے وحی نازل فرمائی۔ بلغوا عنا قومنا انا لقینا ربنا فرضی عنا ورضینا عنہ۔ ہماری قوم تک یہ بات پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے ملے ہیں۔ وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہم اس سے راضی ہوگئے ہیں یہ قرآن پاک کی آیت تھی جو کافی عرصہ پڑھی جاتی رہی ، بعد میں منسوخ ہوگئی۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر شہداء کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور خوشخبری سنائی ہے کہ وہ مومنوں کے نیک اعمال کو ضائع نہیں کرتا۔ بلکہ ان کا بہتر اجر عطا کرتا ہے۔
Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے حکم مانا اللہ کا اور رسول کا بعد اس کے کہ ان کو زخم پہنچا۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے نیکی ہے اور ڈراتے رہے ہیں بہت بڑا اجر ہے۔

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

وہ لوگ جن کے لیے لوگوں (یعنی کافروں) نے کہا کہ بیشک لوگوں (یعنی مکہ والوں) نے تمہارے لیے اکٹھا کیا ہے (لشکر) پس ان سے ڈروا۔ پس (اس بات نے) ان کے ایمان کو زیادہ کیا۔ اور انہوں نے کہا ، کافی ہے ہم کو اللہ اور وہ بہتر کارساز ہے۔

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پس وہ لوٹے اللہ کی نعمت اور فضل لے کر کہ پہنچی ان کو کوئی برائی۔ اور انہوں نے اللہ کی خوشنودی کی پیروی کی۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

بیشک یہ بات کہ یہ شیطان ہے جو ڈراتا ہے اپنے دوستوں کو ۔ پس ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔

ربط آیات : یہ آیات بھی غزوہ احد ہی کے ضمن میں ہیں۔ سابقہ درس میں اللہ تعالیٰ نے شہداء کی فضیلت بیان فرمائی اور ان منافقوں کی مذمت کی جو کہتے تھے کہ اگر مسلمان ہماری بات مانتے ، لڑائی کے لیے باہر نہ نکلتے ، تو نہ مارے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے شہداء کو مردہ کہنے سے منع فرمایا ، بلکہ ان کی حیات جاودان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں روزی دی جا رہی ہے اور وہ صدق اور قرب کے مقام پر فائز ہیں۔ اپنے پس ماندگان کے متعلق انہیں بشارت ملتی ہے کہ اگر وہ بھی صراط مستقیم پر گامزن رہے ، تو شہداء کے ساتھ آ ملیں گے۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ وہ ایمان والوں کے اجر کسی صورت میں ضائع نہیں کرتا۔ یہ بات کسی گذشتہ درس میں بیان ہوچکی ہے کہ غزوہ احد میں مشرکین کے سالا لشکر ابوسفیان تھے۔ بڑے بڑے ائمہ کفر تو جنگ بدر میں ہی مارے گئے تھے اور اب سیادت ابوسفیان کو حاصل تھی۔ اگرچہ مسلمانوں کو ابتدائی طور پر فتح حاصل ہوئی ، مگر بعض صحابہ کی غلطی کی وجہ سے یہ فتح شکست میں تبدیل ہوگئی ۔ مسلمانوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے پھر مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی ، کاروں کے دلوں میں رعب ڈالا اور وہ فتح حاصل کرنے کے باوجود پس پا ہونے پر مجبور ہوگئے۔ تاہم ابوسفیان نے لوٹنے وقت اعلان کیا۔ کہ مسلمانوں کے ساتھ اگلے سال پھر بدر کے مقام پر معرکہ ہوگا۔ گویا اہل اسلام کو چیلنج کیا۔ کہ اگلے سال بدر کے مقام پر پھر مقابلہ کے لیے تیار ہو کر آئیں۔ شان نزول : آج کے درس کی پہلی آیات دو مختلف واقعات سے متعلق ہیں اور اس لحاظ سے ان کے شان نزول بھی مختلف ہیں۔ پہلی آیت میں ان صادقین کا ذکر ہے جنہوں نے تکلیف کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف بیان کی ہے۔ مفسرین کرام اس آیت کا پس منظر غزوہ احد ہی بیان کرتے ہیں۔ مشرکین اہل اسلام کو کاری ضرب لگانے کے بعد جب واپس ہوئے تو راستے میں ابوسفیان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ کہ مسلمانوں پر غلبہ حاصل کرنے کے باوجود نہ انہوں نے کوئی قیدی بنائے ہیں اور نہ ہی کوئی اور مفاد حاصل کرسکے ہیں۔ مٹھی بھر مسلمان ہیں۔ اب بھی پلٹ کر ان کا صفایا کردینا چاہئے۔ اہل مکہ کے اس برے ارادے کی خبر جب حضور ﷺ کو پہنچی۔ تو آپ نے بچے کھچے زخمی صحابہ کو جمع فرمایا اور اس خبر سے مطلع فرمایا ، اس کے ساتھ ہی یہ مشورہ بھی کیا کہ پیشتر اس کے کہ مشرکین پلٹ کر ہم پر حملہ کریں ، کیوں نہ ہم خود ان کا تعاقب کرکے ان کے ناپاک ارادے کو خاک میں ملا دیں۔ صحابہ کرام اگرچہ تھکے ماندے اور زخم خوردہ تھے مگر وہ حضور ﷺ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مشرکین کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے۔ مسلمان مدینہ طیبہ سے آٹھ میل دو حمرا 4 الاسد کے مقام تک کفار کے پیچھے گئے ، جب مشرکین کو علم ہوا تو انہوں نے پسپائی میں ہی اپنی خیر منائی اور اس طرح دونوں لشکروں کی دوبارہ مڈبھیڑ نہ ہوسکی۔ حضور ﷺ کا لشکر وہاں تین دن تک ٹھہرا رہا ، وہاں پر تجارتی لین دین میں منافع بھی حاصل کیا اور پھر باعزت مدینہ لوٹ آئے۔ تو پہلی آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ کہ زخم خوردہ اہل ایمان نے نبی (علیہ السلام) کے حکم کو بسروچشم تسلیم کیا اور اس کی تعمیل کی۔ آج کے درس کی دوسری آیت کا پس منظر 4 ھ کا واقعہ ہے۔ احد کے موقع پر ابوسفیان مسلمانوں کو چیلنج کرگیا تھا کہ آئندہ سال پھر ہمارا تمہارا بدر کے مقام پر مقابلہ ہوگا۔ اس پلان کے تحت ابوسفیان دو ہزار کا لشکر لے کر جس میں پچاس کے قریب گھوڑ سوار بھی تھے مکہ سے نکلا۔ مسلمانوں کا رعب تو اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی ان کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔ جب یہ لشکر روحا کے مقام پر پہنچا ، تو انہوں نے مسلمانوں کو بددل کرنے کے لیے ایک اور منصوبہ بنایا۔ اور وہ یہ تھا کہ کسی طرح مدینہ میں یہ خبر بڑھا چڑھا کر پہنچائی جائے کہ اہل مکہ بہت بڑے لشکر اور سازوسامان کے ساتھ مقابلہ کے لیے آ رہے ہیں۔ اب مسلمان ان سے بچ نہیں سکتے۔ کفار کا خیال تھا کہ اس قسم کے پراپیگنڈہ سے مرعوب ہو کر خود ہی ہتھیار ڈال دیں گے۔ اور مقابلے کی جرات نہیں کرینگے۔ چناچہ اس مقام پر مشرکین کو معبد خزاعی نامی ایک شخص ملا جو مدینہ کی طرف جا رہا تھا۔ انہوں نے پراپیگنڈا کا کام اس سے لینا چاہا۔ وہ شخص اگرچہ اس وقت تک ایمان نہیں لایا تھا۔ مگر دل سے حضور ﷺ کا طرفدار تھا۔ اس شخص نے مشرکین کو بتایا کہ وہ مسلمانوں کی طاقت اور جذبہ ایمانی سے واقف ہے ، تم ان کا مقابلہ نہیں کرسکوگے۔ لہذا بہتر ہے کہ یہیں سے واپس چلے جاؤ، ورنہ سخت نقصان اٹھاؤ گے۔ اس سے کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا مزید رعب داخل ہوگیا۔ مگر وہ جس قبیح مقصد کے لیے آئے تھے اس سے دستبردار ہونے کے لیے بھی تیار نہ تھے۔ چناچہ انہوں نے مطلوبہ پراپیگنڈہ کے لیے دوسرے لوگوں کی کدمات ھاصل کیں ۔ قبیلہ عبدالقیس کا ایک قفلہ مدینے کی طرف رواں تھا۔ اس کے قائدین کی کچھ منت سماجت کی ، کچھ لالچ دیا اور انہیں اپنے حق میں پراپیگنڈا کرنے پر آمادہ کرلیا۔ چناچہ جب یہ قافلہ مدینہ پہنچا اور انہوں نے لشکر کفار کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا۔ تو اہل اسلام پر اس پراپیگنڈہ کا اثر یہ ہوا کہ جذبہ شہادت سے سرشار ہو کر ان کی قوت ایمانی میں اور اضافہ ہوگیا۔ آج کی دوسری آیت کریمہ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ پراپیگنڈہ بطور موثر ہتھیار : پراپیگنڈا کو ہمیشہ سے ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے معاملہ مذہبی ہو یا سیاسی ، معاشی ہو یا معاشتری ہر صورت میں پراپیگنڈہ کو کافی اہمیت حاصل ہے۔ سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ بنانے میں پراپیگنڈا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ خاص طور پر جنگ کے دوران اپنی قوم کی حوصلہ افزائی اور دشمن کی اعصاب شکنی کے لیے پراپیگنڈا بہترین ہتھیار ثابت ہوا ہے۔ اس زمانے میں پراپیگنڈا کی ابتداء تو انگریزوں نے کی تھی۔ اس کا اصول یہ تھا کہ اگر کتے کو بھی مارنا مقصود ہو تو پہلے سخت پراپیگنڈہ کرو کہ یہ باولا ہے ، اس کے بعد اس کو گولی ماردو۔ آجکل اس ہتھیار کا سب سے زیادہ استعمال اشتراکی ممالک خصوصاً روس کے ہاں ہوتا ہے۔ اس پراپیگنڈا کی ابتدا غریب کی حمایت سے ہوتی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں کو سرمایہ داری کے خلاف تیار کیا جاتا ہے۔ جب لوگوں کے دلوں میں اشتراکیت کے لیے نرم گوشہ پیدا ہوجاتا ہے ، تو پھر ہمسایہ ملک پر حملہ کردیا جاتا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے اشتراکیت کے جہنم میں جھونک دیا جاتا ہے۔ بہرحال کفار مکہ نے بھی اسی ہتھیار کو آزمایا مگر اہل ایمان کے ناقابل شکست ایمان پر اس کا کوئی منفی اثر مرتب نہ ہوا۔ بلکہ انکے ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوگئے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صحابہ کرام کے ایمان کی پختگی کا ذکر فرمایا ہے۔ الذین استجابوا للہ والرسول۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول کا حکم مانا۔ من بعد ما اصابھم القرح۔ بعد اس کے کہ وہ زخم خوردہ تھے انہیں احد کے مقام پر سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا ، ستر صحابہ کرام شہید ہوچکے تھے باقیوں میں سے بیشتر زخمی تھے مگر جب اللہ کے رسول نے منشائے ایزدی کے مطابق دشمن کے تعاقب کا حکم دیا ، تو بچے کھچے زخمی صحابہ نے اس حکم پر دل و جان سے لبیک کہا اور دشمن کے تعاقب میں آٹھ میل چلے گئے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر صحابہ کی مدح بیان فرما کر تمام اہل اسلام کو ترغیب دی ہے۔ کہ وہ بھی اسلام کے اولین جانثاروں کی تقلید میں اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ اللہ نے فرمایا۔ للذین احسنوا منھم۔ ان میں سے جن لوگوں نے نیکی کا راستہ اختیار کیا۔ واتقوا۔ اور پرہیزگاری اختیار کی۔ اجر عظیم۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح پہلے نیک لوگوں کو انعامات سے نوازا ہے آئندہ بھی نیکی کرنے والوں کو بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ایمان میں اضافہ : اب اگلی آیت میں دوسرے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الذین قال لھم الناس۔ وہ لوگ کہ جن کو لوگوں نے کہا یہاں پر الناس سے مراد وہی تاجر لوگ جن کا تعلق قبیلہ عبدالقیس سے تھا اور وہ مدینہ کی طرف جا رہے تھے اور انہوں نے مشرکین کے کہنے پر مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس ناس سے مراد جماعت بھی ہوسکتی ہے اور فرد واحد بھی۔ کیونکہ عربی زبان میں اس لفظ کا اطلاق دونوں معانی پر ہوتا ہے۔ چناچہ فقہائے احناف بیان کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کہے۔ لا اکلم الناس واللہ۔ یعنی اللہ کی قسم میں ان لوگوں سے کلام نہیں کروں گا۔ اور اس کے بعد وہ شخص اگر کسی ایک آدمی سے بھی کلام کرلے گا تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی۔ کیونکہ ناس کا لفظ جماعت اور فرد واحد پر یکساں بولا جاتا ہے چونکہ مدینہ کی طرف پورا قافلہ جا رہا تھا اور ان سب کو مشرکین نے پراپیگنڈا پر آمادہ کیا تھا ، اس لیے اس ناس سے جماعت مراد ہے اور بعض کہتے ہیں کہ مشرکین نے صرف ایک آدمی کو اس کام پر مامور کیا تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر ناس سے مراد وہ فرد واحد ہوگا۔ بہرحال یہاں پر الذین سے مراد مدینہ والے اہل ایمان ہیں اور الناس سے مراد وہ ایک یا زیادہ تجار ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف پراپیگنڈا کیا۔ تو معنی یہ ہوا کہ جب قافلے والوں نے مدینہ طیبہ کے مسلمانوں سے یوں کہا ۔ ان الناس قد جمعوا لکم۔ بیشک لوگوں نے تمہارے لیے اکٹھا کیا ہے۔ یہاں پر ناس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ جنہوں نے تجارتی قافلے کو اپنے حق مٰں پراپیگنڈا کے لیے بھیجا تھا۔ مطلب یہ قافلوے والوں نے اہل مدینہ سے جا کر کہا کہ مکہ والوں نے تمہارے مقابلے کے لیے کثیر فوج اور وافر اسلحہ اکٹھا کر رکھا ہے۔ اور وہ تم پر عنقریب حملہ آور ہونے والے ہیں۔ لہذا فاخشوھم۔ ان سے ڈر جاؤ۔ مقصد یہ تھا کہ تم اہل مکہ کا مقابلہ نہیں کرسکوگے۔ لہذا جنگ کیے بغیر ان کی اطاعت قبول کرلو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین کے اس جھوٹے پراپیگنڈا سے مسلمان خوفزدہ نہ ہوئے۔ فزادھم ایمانا۔ بلکہ ان کے ایمان میں مزاید اجافہ ہوگیا۔ وہ اسلام پر مزید جم گئے۔ مشرکین سے ڈرنے کی بجائے ان کے جذبہ جہاد میں مزید اضافہ ہوا۔ اور انہوں نے کہا۔ وقالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ ہمارے لیے ہمارا اللہ کافی ہے۔ وہ بہترین کارساز ہے۔ ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ کلمہ بہترین ورد بھی ہے۔ یہ اس بات کا اقرار ہے۔ کہ خالق ومالک اور مسبب الاسباب ذات واھد ہے ، فتح و شکست اسی کے ہاتھ میں ہے ، اسی نے ہمارا کام بنانا ہے جب تک کسی چیز میں اللہ اثر نہ ڈالے اس وقت تک کوئی چیز مفید نہیں ہوسکتی۔ لہذا اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ حضرت ابوالحسن شاذلی (رح) نے اس ورد کے فضائل اور مختلف مقاصد کے لیے اسے پڑھنے کے متعلق ایک رسالہ القول الجلیل لکھا ہے۔ بہرحال۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل۔ حصول مقصد کے لیے بڑا اچھا وظیفہ ہے۔ صحابہ کرام ؓ کی فضیلت : امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اور عام اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی ہے کہ تم بھی انہی کا طریقہ اختیار کرو۔ ان مجاہدوں کو تکلیف بھی آتی ہے تو جزع فزع نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اللہ کے دین پر مزید جم جاتے تھے۔ احد کے موقع پر ذرا سی اجتہادی غلطی ہوئی تھی ، تو فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ سمجھا اور پھر جان فروشی پر مستعد ہوگئے۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر زخم خوردہ صحابہ نے دشمن کا آٹھ میل تک تعاقب کیا اور تین دن تک وہاں ٹھہرے۔ اگلے سال 4 ھ میں جب ابوسفیان کے لشکر کی خبر ملی تو حضور ﷺ پندرہ سو جانثاروں کے ساتھ بدر کے مقام پر پہنچے وہاں پر آٹھ دن تک انتظار کیا مگر ابوسفیان کو سامنے کی ہمت نہ ہوئی۔ یہ غزوہ بدر صغری کہلاتا ہے۔ وہاں پر جنگ تو نہ ہوئی۔ البتہ صحابہ نے وہاں کی منڈی میں تجارت کی جس سے کافی نفع حاصل ہوا۔ جسے تمام مجاہدین میں برابر برابر تقسیم کردیا گیا۔ اسی مالی فائدے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ فانقلبوا بنعمۃ من اللہ وفضل۔ پس وہ اللہ کا انعام اور فضل لے کر واپس لوٹے ۔ اس انعام سے تجارتی منافع اور اخروی ثواب دونوں مراد ہیں۔ اور فضل سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ خاص مہربانی ہے جو ان کے شامل حال تھی۔ اس کے علاوہ وہ بالکل صحیح سلامت واپس آئے۔ لم یمسسھم سوء۔ اور اہل ایمان کو کوئی تلیف بھی نہ پہنچی اور ان کی خصوصی شان یہ ہے واتبعوا رضوان اللہ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی پیروی کی۔ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کردیا۔ جب انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے تابع کرلیا تو پھر۔ واللہ ذو فضل عظیم۔ اللہ تعالیٰ بھی بہت بڑے فضل والا ہے۔ اس نے دنیا میں بھی ان کو غالب کیا۔ اور آخرت میں بھی ان کو وافرحصہ عطا کرے گا۔ شیطانی فعل : مشرکین کی اس سازش کے متعلق آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ انما الشیطان یخوف اولیاءہ۔ یہ شیطان ہے جو اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے یعنی اس جھوٹے پراپیگنڈا سے شیطان کے اپنے دوست (یعنی کمزور بیان والے اور منافق قسم کے لوگ) توڑ سکتے ہیں مگر اہل اسلام پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوسکتا (امام شاہ ولی اللہ نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے ، دیکھو فتح الرحمان اور امام بیضاوی نے دونوں تفسیروں کو اختیار کیا ہے) اس کا دوسرا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان نے اپنے حواریوں کے ذریعے جھوٹا پراپیگنڈا کروایا تاکہ مسلمان ڈر جائیں۔ اور مشرکین کی اطاعت قبول کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فرمایا۔ فلاتخافوھم تم ان سے مت ڈرو ، ان کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا۔ اس کے بجائے وکافون ان کنتم مومنین۔ اگر تم پکے سچے موم ہو تو مجھ سے ڈرو کہ کہیں میرے حکم کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صحابہ کرام کا نمونہ بیان فرما کر ان کے بعد آنے والے مسلمانوں کو نصیھت فرمائی ہے۔ کہ تم کو بھی صحابہ کی طرح تکلیف کے باوجود دین کی خاطر ہمہ تن تیار رہنا چاہئے اور تمہاری زبان پر بھی حسبنا اللہ و نعم الوکیل کے الفاظ ہونے چاہئیں۔ اگر اللہ کی ذات پر بھروسہ کرکے دشمن کے مقابلہ میں ڈٹ جاؤ گے تو فتح و نصرت تمہارا اتقبال کرے گی ، جب کوئی انسان اپنے آپ کو ہمہ تن اللہ کے سپرد کردیتا ہے تو پھر فانقلبوا کا مصداق بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے انعام اور فضل اس کے شامل حال ہوجاتے ہیں گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کا وحدہ گزر چکا ہے۔ کہ اگر تم ایمان اور اخلاص پر قائم رہوگے تو ہم کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب باقی نہیں رہا ، کیونکہ مسلمان اپنے مرکز کو ترک کرچکے ہیں۔ آج ہم امریکہ اور روس کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی مادی مدد کے مھتاج ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہمارا رعب ان پر کیسے وارد ہوسکتا ہے۔ آج مسلمانوں میں صحابہ کرام والی جانفشانی کا کروڑواں حصہ بھی باقی نہیں رہا۔ کیونکہ ہمارا ایمان کمزور ہوچکا ہے۔ اور دنیا صرف ایمان سے ڈرتی ہے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کا نمونہ بیان فرما کر آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لیے راہ عمل متعین کردی ہے۔