3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:188–189

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کے بارے میں جو خوش ہوتے اس چیز پر جو انہوں نے کی ہے۔ اور پسند کرتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ، ان باتوں پر جو انہوں نے نہیں کیں۔ پس نہ گمان کریں آپ کہ ان کو عذاب سے کامیابی حاصل ہوگی۔ اور ان کے لیے تو دردناک عذاب ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے بادشاہی آسمانوں۔ اور زمین کی اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ کئی دروس سے سے اہل کتاب اور منافقین کی قباحتوں کا ذکر ہو رہا ہے اہل کتاب کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گستاخی کرنا ، ارتکاز دولت کرنا اور بخل سے کام لینا ، اسلام قبول کرنے میں مختلف حیلے بہانے کرنا اور بےہودہ مطالبات کرنے کے متعلق تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تسلی دی اور فرمایا کہ تمہاری آزمائش بھی ضرور ہوگی ، اس کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ اور جان و مال کی قربانی سے درغ نہیں کرنا چاہئے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اے اہل ایمان ! تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سننا پڑیں گی ، جن کی وجہ سے تمہیں کوفت ہوگی اور فرمایا کہ ایسی باتوں کا مقابلہ تم صبر اور تقوی کے ذریعے کرنا ، اللہ تعالیٰ تمہیں ضرور کامیاب کرے گا۔ اہل کتاب کی اس خرابی کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں گے۔ اور اسے چھپائیں گے نہیں۔ مگر انہوں نے اس پختہ عہد کو پس پشت ڈال دیا اور ان تمام پیشین گوئیوں کو چھپا لیا ، جو اللہ کے آخری نبی ، اس کے صحابہ اور قرآن حکیم کے متعلق ان کی اپنی کتابوں میں موجود تھیں۔ اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے اپنی اغراض فاسدہ کی بناء پر ایسا کیا ، اور حق کے بدلے میں دنیا کا حقیر مال خریدا۔ منافقوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ زبان سے اسلام کا کلمہ پڑھتے ہیں مگر دل میں کفر بھرا ہوا ہے۔ ان کا معاملہ ایسا ہے کہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور جب کفار کے پاس جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اسلام کی نسبت تمہارا دین اچھا ہے۔ اس طرح سے یہ لوگ دونوں طرف کے مفاد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جب جہاد کا موقع آتا ہے تو مختلف حیلوں بہانوں سے اسے ٹالتے ہیں۔ سورة توبہ اور بعض دیگر سورتوں میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔ اب آج کے درس میں اللہ جل جلالہ نے اہل کتاب اور منافقین کی ایک اور بری خصلت کا تذکرہ کیا ہے۔ اہل کتاب کی خام خیالی : ارشاد ہوتا ہے۔ لاتحسبن الذین یفرحون بما اتوا۔ نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کے بارے میں جو اس چیز پر خوش ہوتے ہیں جو انہوں نے کی۔ ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا۔ اور چاہتے ہیں کہ ان کی ان باتوں پر تعریف کی جائے جو انہوں نے نہیں کیں۔ فرمایا ایسے لوگوں کے متعلق۔ فلا تحسبنھم بمفازۃ من العذاب۔ آپ یہ مت گمان کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ جائیں گے۔ یہاں پر تحسبن اور یحسبن دونوں قراتیں منقول ہیں۔ تحسبن مخاطب کا صیغہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! یا دیگر مخاطبین۔ ظاہر ہے کہ اول مخاطب تو نبی (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ ہے اور اس کے بعد صحابہ کرام اور پھر دیگر اہل ایمان یعنی آپ ان لوگوں کے متعلق گمان نہ کریں جو اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور ناکردہ پر تعریف چاہتے ہیں۔ اور اگر اسے یحسبن پڑھا جائے ، تو یہ غائب کا صیغہ ہے۔ اور مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور ناکردہ پر مدح چاہتے ہیں ، وہ یہ گمان نہ کریں کہ عذاب سے بچ جائیں گے۔ اب رہا یہ سوال کہ انہوں نے کیا کیا اور کیا نہ کیا۔ جو کچھ اہل کتاب اور منافقین نے کیا وہ تو یہ ہے کہ حق بات کو چھپایا اور اس کے بدلے میں دنیا کا حقیر مال وصول کیا۔ ہر قسم کی برائی ، دھوکہ اور فریب کیا ، اور اس پر بھی خوش ہو رہے ہیں۔ کہ ہم نے بہت بڑا معرکہ مار لیا ہے۔ اور جو کام نہیں کیا ، وہ نیکی کا کام ہے حق بات کو ظاہر نہیں کیا۔ حضور ﷺ اور قرآن پاک کے متعلق پیشین گوئیوں کو ظاہر نہیں کیا۔ اور چاہتے یہ ہیں کہ ان کے ناکردہ کاموں پر بھی لوگ ان کی تعریف کریں کہ یہ بہت اچھے دیندار آدمی ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ محض ان کی خام خیالی ہے اس قسم کی ہوشیاری اور چالاکی کرکے وہ عذاب الہی سے نہیں بچ سکتے۔ انہیں اپنے کیے دھرے کا حساب دینا ہوگا۔ منافقین کا بھی یہی حال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے نفاق کا کسی کو علم نہیں ، ہمین کوئی گرفت نہیں کرسکتا ، لہذا توقع رکھتے ہیں کہ لوگ ہمیں نیک سیرت اور عابد و زاہد سمجھ کر ہماری تعریف کریں۔ اللہ نے فرمایا۔ ولھم عذاب الیم۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اہل ایمان کی خدا خوفی : اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے متعلق سورة مومنون میں فرمایا۔ والذین یوتون ما اتوا وقلوبھم وجلۃ۔ کہ وہ نیکی کا کام کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ انھم الی ربھم راجعون۔ کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ نامعلوم ہماری نیکیوں میں کتنی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ چناچہ بزرگان دین کا مقولہ ہے کہ بعض نیک آدمی نماز پڑھ کر بھی اس قدر گبھرا جاتے ہیں جیسے کوئی چوری کرکے نکلتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نامعلوم اس فرض میں کس قدر کوتاہی اور غلطی واقع ہوئی ہے۔ کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہوجائے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ نیکی کرنے کے بعد انسان کو اللہ تعالیٰ سے بہتر اجر کی توقع رکھنی چاہئے اور خدا کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے نیکی کی توفیق بخشی۔ اور ساتھ ڈرتے بھی رہنا چاہئے۔ کہ کہیں کوئی غلطی نہ ہو ، اسی طرح روزہ روزہ رکھ کر بھی دل میں خوف رہنا چاہئے۔ کہ یہ قبولیت کے قابل بھی ہوا ہے یا نہیں۔ اسی لیے تو فرمایا۔ الایمان بین الخوف والرجا۔ یعنی ایمان خوف اور امید کے درمیان پایا جاتا ہے صحیح ایمان کا تقاضا یہ ہے۔ کہ انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بھی ڈرتا رہے اور اس کے ساتھ امید کا دامن بھی وابستہ رکھے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ ہمارے نبی بھی ۔ یدعوننا رغبا ور رھبا۔ ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے ہیں۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں۔ مدح کے طالب ریا کار : اپنی تعریف کرانے کی بیماری یہودیوں سے نکل کر اہل اسلام تک بھی پہنچ چکی ہے اللہ والے تو نیکی کرنے کے بعد بھی اپنی تعریف نہیں چاہتے مگر آج کا ہر چھوٹا بڑا اسی چکر میں پڑا ہوا ہے کہ کسی طرح اخبار میں نام آجائے فوٹو چھپ جائے تو بہت بڑا مقصد پورا ہوجائے گا۔ حکومت کے کارپردازان خصوصاً صدر ، وزیر اعظم ، وزرائے اعلی اور دیگر وزراء حضرات اپنی ہر کردہ اور ناکردہ پر تعریف سننا چاہتے ہیں۔ یہ تو صریحاً ریا کاری ہے۔ اور اچھے کام پر بھی پانی پھیرنے کے مترادف ہے ، لہذا اگر اللہ نے کسی کو نیکی کی توفیق عطا کی ہے۔ تو اسے شہرت کا ذریعہ نہیں بنانا چاہئے بلکہ حتی الامکان اسے پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ البتہ ایک چیز ہے۔ نیک کام کرکے اگر مومن کے دل میں خوشی پیدا ہو۔ تو یہ طبعی امر ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ روزہ دار کو دو وقت خوشی حاصل ہوتی ہے۔ ایک خوشی اسے افطاری کے وقت حاصل ہوتی ہے۔ کہ اس کی ذمہ داری پوری ہوئی اور دوسری خوشی اس وقت حاصل ہوگی۔ جب قیامت کے دن اللہ روزے کا اجر عطا فرمائیں گے۔ یہ طبعی خوشی ہے اور جائز ہے۔ ہاں اگر خوشی اس وجہ سے ہے کہ لوگ اسے روزہ دار کہیں یا نمازی اور پرہیز گار تصور کریں ، تو یہ خطرناک بیماری ہے۔ یہ چیز ریاکاری کہلاتی ہے اور نفاق کی تعریف میں بھی آتی ہے۔ ایسے شخص کو آخرت میں سخت ترین عذاب سے سابقہ پڑے گا۔ مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک لمبی حدیث آتی ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک شہید سے اس کے اعمال کے متعلق دریافت فرمائیں گے ، تو وہ عرض کرے گا ، مولا کریم ! میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا اور اپنی جان جیسی قیمتی متاع تیرے راستے میں قربان کردی۔ اللہ کریم فرمائیں گے تو جھوٹ کہتا ہے۔ تو نے جہاد میں اس لیے حصہ لیا کہ تمہاری بہادری کے چرچے ہوں۔ تیرا یہ مقصد دنیا میں پورا ہوچکا ہے۔ اس کے بعد وہ اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اسی طرح ایک عالم سے دریافت کیا جائے گا کہ میں نے تجھے دنیا میں علم کی دولت عطا کی ، تو نے اسے کہاں صرف کیا۔ عرض کرے گا۔ کہ میں نے دین کا علم حاصل کرکے دوسروں تک پہنچایا۔ آپ کی کتاب قرآن پاک میں مشغول رہا۔ اللہ فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے۔ تو قرآن اس لیے پڑھتا تھا کہ لوگ تجھے عالم اور قاری کہیں۔ تیرا یہ مقصد دنیا میں پورا ہوچکا اب تیرا ٹھکانا جہنم میں ہے۔ اسی طرح ایک ایک تیسرے شخص سخی کا معاملہ پیش ہوگا۔ وہ بھی کہے گا کہ دنیا میں میں نے تیرا عطا کردہ مال تیری رضا کے لیے تیرے بتائے ہوئے راستے پر خرچ کیا۔ مولا کریم فرمائیں گے تو بھی جھوٹا ہے۔ تو نے سخی کہلانے کے لیے مال صرف کیا ، تاکہ تیری سخاوت کے چرچے ہوں۔ تیرا بھی یہ مقصد دنیا میں پورا ہوچکا۔ پھر حکم ہوگا اور وہ بھی اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ الغرض ! موجودہ زمانے میں ذاتی نمود و نمائش ایک فیشن بن چکا ہے۔ ہر شخص اس دوڑ میں سب سے آگے نکلنا چاہتا ہے۔ ہاں اللہ کے بندے کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر نیک کام رضائے الہی کی خاطر کرتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی خود نمائی نہیں کرتے بلکہ اپنے آپ کو ہمیشہ ہیچ سمجھتے ہیں۔ مولانا احمد علی لاہوری خط لکھتے تو آخر میں اپنے آپ کو احقر الانام لکھتے یعنی سارے انسانوں میں حقیر بندہ۔ حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رح) اپنے آپ کو ننگ اسلام (اسلاف کے لیے باعث شرم) سے تعبیر کرتے تھے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنا تعارف فقیر ولی اللہ کی حیثیت سے کراتے تھے۔ شیخ الہند مولانا محمود الحسن اپنے آپ کو بندہ محمود یعنی اللہ کا بندہ محمود کہتے تھے۔ مگر آج تو آوا ہی الٹ چکا ہے۔ ہر کس و ناقص اپنے آپ کو سب سے بڑا محدث ، سب سے بڑا صوفی اور سب سے بڑا زاہد و عابد کہلانے پر مصر ہے۔ بڑے بڑے پوستروں پر اور جلسے جلوسوں میں ناموں کے ساتھ لمبے لمبے القابات کی فہرست پر غور فرمائیں اور پھر دیکھیں کہ یہ لوگ اس طرح کی خوش نمائی پر کس قدر خوش ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ریاکاری میں داخل ہیں۔ مقصد یہ کہ جس طرح یہود اپنے ہر کردہ کام پر خوش ہوتے تھے اور ناکردہ پر تعریف چاہتے تھے ، آج اہل اسلام بھی اسی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ الا ماشاء اللہ اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائے۔ آمین۔ اقتدار اعلی : فرمایا یاد رکھو ! و للہ ملک السموات والارض۔ آسمان و زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔ جب حقیقی اقتدار اعلی اس مالک الملک کے پاس ہے۔ تو پھر کتمانِ حق کرنے والے مجرمین۔ مخلوق خدا کو ہدایت کی بجائے گمراہی کے راستے پر چلانے والے ، جھوٹی تعریف پر خوش ہونے والے اور ریاکار لوگ اللہ کی سزا سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ وہ تو ایک دن پکڑے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی ہے کہ دنیا میں لوگ جس مال کی خاطر دھوکہ کرتے تھے ، غلط بیانی کرتے تھے ، اس پر بھی ان کا قبضہ نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کی ملکیت میں ہے۔ وہ جب چاہے کسی کو عطا کردے اور جب چاہے واپس لے لے۔ اس کے سامنے سب حقیر اور بےبس ہیں۔ دنیا کی یہ چند روزہ بادشاہت اسی مالک کی عطا کردہ ہے اور انسانوں کے پاس امانت ہے۔ انہیں اس کا حساب دینا ہوگا۔ مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ بڑے بڑے حکمرانوں ، بادشاہوں اور عہدیداروں کو قیامت کے دن سب سے زیادہ افسوس ہوگا۔ وہ حسرت کے ساتھ کہیں گے کاش ہم اس اقتدار پر فائز ہوتے ۔ کسی کو جتنا بڑا اقتدار حاصل ہوگا۔ ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہوگی ، اس دن صاحبان اقتدار بصد حسرت کہیں گے۔ ھلک عنی سلطنیہ۔ آج میرے اقتدار نے مجھے کچھ فائدہ نہ دیا ، سب کچھ تباہ ہوگیا۔ نہ فوج کام آئی۔ نہ پولیس اور نہ کوئی سیکیوٹی کاش میں میں دنیا میں حکومت پر فائز نہ ہوتا۔ اس دن وہی بچ سکیں گے۔ جنہوں نے اقتدار کا تصرف عدل و انصاف کے ساتھ کیا ہوگا۔ جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔ انہیں یقین رکھنا چاہئے کہ بادشاہی تو خدا تعالیٰ کی ہے۔ اگر اس کے حکم پر چلتے رہیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ فلاح عطا فرمائیگا۔ وہ اس دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت کی کامیابی بھی انہی کے مقدر میں ہے۔ فرمایا۔ واللہ علی کل شیء قدیر۔ اللہ ہی ہر چیز پر قادر ہے۔ ہر قسم کی بادشاہی اسی کی ہے۔ سزا و جزا پر بھی وہ قادر ہے۔ لہذا جھوٹے ، مکار ، اور کتمان حق کرنے والے لوگوں کو مالک الملک کی گرفت کا انتظار کرنا چاہئے۔ اور صاحب بصیرت لوگوں کو اللہ کی طرف سے بہتر جزا کی امید رکھنی چاہیے۔ وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔
Ayahs 3:190–191

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے ، اور رات اور دن کے اختلاف میں البتہ نشانیاں ہیں عقلمندوں کے لیے۔

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کو کھڑے ہوں ، بیٹھے ہوں یا کروٹوں کے بل لیٹے ہوں اور وہ غور و فکر کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں (اور کہتے ہیں) اے ہمارے پروردگار ! تو نے نہیں پیدا کیا اس کو باطل ، پاک ہے تیری ذات ، پس بچا تو ہمیں آگ کے عذاب سے۔

سورة کی ابتداء اور انتہا : آج کے درس سے سورة آل عمران کا آخری رکوع شروع ہورہا ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا تھا۔ الم۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم۔ یعنی اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ اور قائم ہے اب سورة کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور حاکمیت کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وللہ ملک السموات والارض۔ تمام سلطنت اللہ ہی کی ہے۔ واللہ علی کل شیء قدیر۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ قادر مطلق اور معبود برحق وہی ہے۔ اب آمدہ آیات میں دعوی ملکیت ، قدرت تامہ اور توحید کے لائل بیان ہوئے ہیں۔ یہ ایسی صفات ہیں جو صرف اللہ رب العزت کے ساتھ مختص ہیں۔ متصرف فی الامور ، قادر مطلق ، مستحق عبادت ، نافع ، ضار صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ان امور میں کسی اور کو کوئی دخل حاصل نہیں۔ شان نزول : مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہود و نصاری اور مشرکین حضور ﷺ سے طرح طرح کے بےہودہ سوال کرتے تھے ، آپ سے معجزات طلب کرتے تھے ، اور حیلے بہانے سے خود اسلام قبول نہیں کرتے تھے اور دوسروں کو قبول کرنے سے روکتے تھے۔ چناچہ اس آیت کے شان نزول کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مشرکین مکہ نے یہودیوں سے سوال کی کہ تمہارے نبی موسیٰ (علیہ السلام) کیسے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ موسیٰ (علیہ السلام) عصا اور ید بیضا جیسی نشانیاں رکھتے تھے۔ ان کے ہاتھ پر کئی معجزے ظاہر ہوئے ، پانی میں راستہ بن گیا ، بارہ چشمے جاری ہوگئے ، من وسلوی نازل وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد مشرکین نے نصاری سے دریافت کیا کہ تمہارے نبی عیسیٰ (علیہ السلام) کیسے تھے۔ عیسائیوں نے کہا ، وہ مردوں کو زندہ کرتے تھے ، مادر زاد اندھوں کو بینا کرتے تھے اور کوڑھی کو شفا دیتے تھے۔ اس پر مشرکین نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ دیکھیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اپنی امت کے سامنے کیسی نشانیاں ظاہر کیں۔ آپ بھی ہمارے سامنے معجزہ پیش کریں اور وہ یہ کہ صفا پہاڑی کو سونے کا بنا دیں۔ مشرکین کے اس قسم کے مطالبات کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے کہ انہوں نے اجرائے چشمہ کا معجزہ طلب کیا۔ اور کہا کہ آپ کے لیے کھجور اور انگور کا باغ ہونا چاہئے۔ جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں۔ یا ہم پر آسمان گرا دے یا اللہ اور فرشتوں کو ہمارے پاس لے آ ۔ تمہارے لیے سونے کا محل ہونا چاہئے یا آپ کو آسمان پر چڑھ جانا چاہئے اور پھر ہمارے سامنے آسمان سے کتاب نازل ہونی چاہئے وغیرہ تو اس مقام پر مشرکین نے صفا پہاڑی کو سونے کا بنانے کا مطالبہ پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت عطاء کی روایت میں ہے کہ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے عرض کیا کہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا کوئی عجیب و غریب واقعہ بیان کریں۔ انہوں نے فرمایا ، حضور ﷺ کے تمام حالات عجیب و غریب تھے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ حضور ﷺ رات کو میرے گھر تشریف لائے۔ میں لحاف میں لیٹی ہوئی تھی۔ آپ بھی تھوڑی دیر لحاف میں لیٹ گئے اور پھر فرمایا ، عائشہ ! مجھے اجازت دو ، میں اپنے رب کی عبادت کرلوں۔ چناچہ اٹھ کر آپ نے وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ آپ یہ آیت ان فی خلق السموات والارض۔ پڑھتے رہے اور روتے رہے حتی کہ سینہ مبارک آنسوؤں سے تر ہوگیا۔ اس طرح کافی وقت گزر گیا اور صبح ہوگئی۔ حضرت بلال اذان کے لیے آئے اور عرض کیا۔ آپ اس قدر گریہ زاری کیوں کرتے ہیں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کردی ہیں۔ آپ نے فرمایا۔ افلا اکون عبدا شکورا۔ کیا میں اپنے پروردگار کا شکر گزار بندہ بن جاؤں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ آج رات مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنھار لایت لاولی الالباب۔ بہرحال اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے سوال کے جواب میں اپنی الوہیت اور ملکیت کے متعلق دلائل پیش فرمائے ہیں ، دلائل عقلی اور نقلی دونوں قسم کے ہوسکتے ہیں تاہم یہاں پر عقلی دلائل کا تذکرہ ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے دلائل تو عام ہیں جن کا مشاہدہ تمام انسان شب و روز کرتے ہیں۔ لہذا ان کی موجودگی میں کوئی دوسرا معجزہ طلب کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ تاہم یہ لوگ تعصب اور عناد کی بنا پر حضور ﷺ سے ہر روز نئے نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ ان فی خلق السموات والارض۔ بیشک زمین و آسمان کی تخلیق میں۔ واختلاف الیل والنہار۔ اور شب و روز کے اختلاف یعنی آگے پیچھے آنے میں۔ لایات لاولی الالباب۔ البتہ عقلمند کے لیے نشانیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اتنے بڑے بڑے آسمانوں اور اتنی وسیع و عریض زمین کی تخلیق کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ ان اشیاء کی پیدائش جن و انس کے بس کی بات نہیں۔ پھر اس زمین میں بڑے بڑے دریا چلائے اور سمندر پیدا کیے۔ بلند وبالا پہاڑ پیدا کرکے ان کے اندر انسانی فائدے کے لیے مع دنیات پیدا کیں۔ اسی زمین پر پھل ، پھول ، سبزیاں اور اناج پیدا کیے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان کے لیے کیا یہ کوئی کم دلائل ہیں۔ اس کے علاوہ رات اور دن کا اگے پیچھے مقرر اوقات میں آنا اور پھر موسموں کا تغیر و تبدل ، کبھی گرمی ہے ، کبھی سردی ہے۔ کبھی بہار ہے اور کبھی خزاں ہے۔ کبھی بارش برس کر سبزیوں اور پھلوں کو روئیدگی میں مدد دے رہی ہے۔ اور کبھی سخت دھوپ پھولوں اور فصلوں کو پکار رہی ہے۔ آخر یہ سب کچھ کیا خود بخود یعنی Automatic ہی ہورہا ہے ؟ اس پورے نظام کو چلانے والی کوئی ہستی موجود ہے یا نہیں۔ انسان پوری زندگی غور کرتا رہے۔ آخر کار اسے تسلیم کرن اپڑے گا کہ اس پورے کارخانہ قدرت کی چلانے والی واحد ذات ہے ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، جو ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ اسی کی قدرت اور حکمت کا کام ہے ، جو الوہیت میں متفرد ہے۔ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ کے یہ کم دلائل ہیں ؟ نہیں بلکہ صاحبانِ عقل و خرد کے لیے یہی دلائل کافی ہیں بشرطیکہ وہ غور و فکر کرکے ان کو سمجھنا چاہے۔ الباب لب کی جمع ہے اور لب مغز یا خلاصے کو کہتے ہیں۔ بادام ، اخروٹ وغیرہ کا مغز ہوتا ہے جسے انسان استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح انسان کا لب لباب اس کی عقل ہوتی ہے جسکے ذریعے وہ دوران زندگی بڑے بڑے فیصلے کرتا ہے۔ محنت مزدوری ، کاروبار ، تعلیم وتعلیم ہر چیز عقل پر موقوف ہے۔ انسان نیکی بدی اور حق و باطل کی پہچان بھی اسی عقل کے ذریعے کرتا ہے۔ چناچہ انسان کے لیے کسی قانون کی پابندی کا دارومدار بھی عقل پر ہی ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان مکلف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسا کمال جوہر عطا فرمایا ہے۔ جس کو بروئے کار لاکر انسان بڑے بڑے کام انجام دیتا ہے۔ تو فرمایا کہ تخلیق ارض و سما اور شب و روز کے تغیر و تبدل کے دلائل جو ہم نے پیش کیے ہیں۔ ان سے عقلمند ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وہ ان دلائل قدرت میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کو پہچان سکتے ہیں۔ فرمایا جو انسان عقل کو بروئے کار نہیں لاتے ، وہ انسان نہیں بلکہ جانور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة انفال میں فرمایا ہے۔ ان شر الدواب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون۔ بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں گونگے اور بہرے ہیں۔ جانور بھی اپنے مالک کو پہچانتا ہے۔ مگر یہ حضرت انسان ہے جسے اللہ نے عقل جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔ مگر اسے بروئے کار لا کر اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل نہیں کرتا۔ وہ تو آسمان و زمین کو دیکھ کر ہی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا یقین کرلیتے ہیں کہ یہ کام سوائے اس مالک الملک کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ دن اور رات کی تبدیلی اسی کے حکم سے آتی ہے۔ یقلب الیل والنہار۔ یعنی رات اور دن کو پلٹیاں دینا اسی کا کام ہے ، اس میں کسی دوسرے کو تصرف حاصل نہیں۔ لہذا جو شخص اپنی عقل کو استعمال کرے گا وہ انسانیت میں کمال حاصل کرے گا اور اعلی درجہ پائے گا۔ باقی رہے مادہ پرست لوگ ، تو یہ دنیا کا کتنا بھی علم حاصل کرلیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی مصنوعات کی تاروں میں ہی الجھ کر رہ جاتے ہیں اور صانع کی صحیح معرفت حاصل نہیں کرسکتے ، ایسے لوگ بڑے بڑے سائنس دان تو ہوسکتے ہیں ، بڑے بڑے فلاسفر تو کہلا سکتے ہیں ، محقق اور دانشور بھی ہوسکتے ہیں ، مگر قرآن پاک کی زبان میں اولی الالباب نہیں ہوسکتے ، جو غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک نہیں پہنچ سکے وہ احمق ہیں۔ انہیں دنیا کے بڑے سے بڑے علم نے بھی کچھ فائدہ نہیں دیا۔ جس نے خدا کو پہچان کر اس کی عبادت نہیں کی۔ اللہ کا ذکر نہیں کیا وہ کیسا سکالر ہے۔ وہ تو جاہل ہے اسے عقلمند نہیں کہہ سکتے۔ ذکر الہی : آگے فرمایا عقلمند وہ لوگ ہیں۔ الذین یذکرون اللہ۔ جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ قیما و قعودا و علی جنوبھم۔ کھڑے ہوں یا بیٹھے ہو یا اپنی کروٹوں کے بل لیٹے ہوں ہر حالت میں اپنے خالق ومالک کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اور اس یاد آوری میں آگے ان کی دعاؤں کا ذکر بھی آ رہا ہے کہ وہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں کس قسم کی التجا کرتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی فکر کیسی صحیح ہے ، اور ان کے عقائد کیسے پختہ ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ کی یاد سے ہی عقلمند پہچانے جاتے ہیں ، یہی ان کی علامت ہے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں آتا ہے۔ کہ نبی (علیہ السلام) کان یذکر اللہ فی کل احیانہ۔ آپ تمام اوقات میں اپنے رب کو یاد کرتے رہتے تھے ، آپ کا کوئی وقت ذکر الہی کے بغیر نہ گزرتا تھا۔ عمران بن حصین کی روایت میں آتا ہے۔ کہ ذکر میں ہر قسم کی عبادت بھی شامل ہے ، جو کہ ہر حالت میں کی جاسکتی ہے۔ جیسے فرمایا۔ صل قائما۔ نماز کھڑے ہو کر پڑھو۔ اور اگر کھڑے ہو کر ادا نہیں کرسکتے۔ فصل قاعدا۔ تو بیٹھ کر پڑھ لو۔ اور ایسا بھی نہیں کرسکتے تو۔ علی جنبک۔ پہلو کے بل لیٹ کر ہی ادا کرلو۔ آگے فقہائے کرام نے اجتہاد سے یہ اشارہ فرمایا ہے۔ اگر لیٹ کر بھی نماز پڑھنے سے معزوری ہو تو اشارے سے بھی پڑھ لینی چاہئے۔ کیونکہ یہ اہم ترین عبادت ہے۔ اور بہترین ذکر۔ جیسا فرمایا اقم الصلوۃ لذکری۔ میرا ذکر کرنے کے لیے نماز پڑھو۔ مقصد یہ کہ ذکر میں تمام عبادات بھی شامل ہیں۔ اب ذکر قلبی بھی ہے اور زبانی بھی۔ ہم عوام لوگوں کے لیے زبانی ذکر ہی بہت بڑی سعادت ہے۔ قرآن پاک کی تلاوت تمام اور ادا کا سردار ہے۔ یا پھر وہ اذکار کریں جو قرآن پاک میں یا سنت خیر الانام میں وارد ہوئے ہیں یا پھر اسلاف کرام نے بتائے ہیں۔ ہمیں ایسے اذکار کی پابندی کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات کے خصوصی ذکر ہیں جیسے رات کا ذکر ، صبح کا ذکر ، وضو کرتے وقت کھانا ، کھاتے وقت ، بازار چلتے وقت ، نیند سے بیداری کے وقت وغیرہ وغیرہ۔ غرضیکہ کوئی وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہئے ، جس قدر کثرت سے ذکر کرے گا ، اسی قدر فلاح حاصل ہوگی۔ واذکرو اللہ کثیرا لعلکم تفلحون۔ اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تاکہ تم فلاح پاجاؤ، کامیاب ہوجاؤ۔ ذکر الہی ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ باقی تمام عبادات کی کوئی نہ کوئی حد (Limit) ہے ، جیسے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ جیسی عبادات محدود ہیں مگر ذکر الہی کی کوئی حد نہیں مسند احمد کی روایت میں آتا ہے۔ اکثروا ذکر اللہ حتی یقولوا مجنون۔ اللہ کا ذکر اس کثرت سے کرو کہ لوگ کہنے لگیں یہ پاگل ہے۔ غرضیکہ ذکر انسان کی بلندی کا ذریعہ ہے۔ اب ذکر الہی سے دو چیزیں حاصل ہوتی ہیں یعنی حکمت خداوندی اور انسانیت کی تکمیل۔ اگر انسانیت میں کفر ، شرک اور معاصی کی وجہ سے فساد پیدا ہوجائے ، تو حکمت باطل ہوجاتی ہے۔ زمین و آسمان کو پیدا کرنے کا مقصد یہی ہے کہ انسانیت کی تکمیل ہو۔ لوگ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانیں اور خالص اس کی عبادت کریں۔ اور اگر انہی چیزوں میں فساد پیدا ہوجائے ، تو حکمت کا ابطال لازم آئے گا۔ انسان اپنے مقام سے گرجائے گا۔ جب انسان نے تخلیق ارض و سما اور اختلاف لیل و نہار میں غور و فکر کرکے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلی تو وہ عقلمندوں میں شامل ہوگیا اور پھر عقلمندوں کی نشانی اور علامت یہ ہے کہ وہ ہر حالت اور ہر وقت اللہ کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ زبانی ذکر تو عام ہے۔ اس کے علاوہ قلبی ذکر بھی ہے۔ جو لوگ بزرگان دین سے تربیت حاصل کرتے ہیں ، وہ بزرگان دین انہیں قلبی ذکر بھی سکھلا دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسان کا دل ہمیشہ بیدار رہتا ہے اور ذکر الہی میں مشغول رہتا ہے۔ ان کا کوئی سانس ذکر سے خالی نہیں ہوتا حتی کہ ان کے لطائف باطنی بھی ذکر کرنے لگتے ہیں۔ یہ چیزیں ایسے لوگوں کو حاصل ہوتی ہیں۔ جو سلوک کی منازل طے کرتے ہیں۔ اور مرشدان برحق کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ہر طالب کی تربیت اس کی صلاحیت کے مطابق کرتے ہیں۔ خواجہ شہاب الدین سہروردی (رح) کے پاس جو شخص ذکر کی تربیت کے لیے جاتا ، آپ اس کی مناسبت اسمائے الہی کے ساتھ معلوم کرتے اور پھر جس اسم کے ساتھ زیادہ مناسبت ہوتی ، اسی اسم پاک کا ذکر بتاتے۔ اگر کسی شخص کی اسمائے حسنہ میں سے کسی کے ساتھ بھی مناسبت نہ پاتے ، تو اس سے فرماتے کہ تم عقیدہ حقہ اور ایمان پر قائم رہو ، اور نیکی کرتے رہو۔ تمہارے لیے یہی کافی ہے۔ مصنوعات خداوندی میں غور و فکر : عقلمندوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کی پہلی صفت تو یہ ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ اور دوسری صفت یہ یہ بیان فرمائی۔ ویتفکرون فی خلق السموات والارض۔ کہ وہ آسمان و زمین کی تخلیق میں غور وفکر کرتے ہیں۔ اس غور و فکر کے نتیجے میں انسان اللہ تعالیٰ کی ، وحدانیت اور اس کی صفات کمال کو سمجھ سکے گا۔ چناچنہ حضرت شیخ الاسلام لکھتے ہیں کہ اس آیت سے معلوم ہوا کہ آسمان و زمین اور دیگر مصنوعاتِ الہی میں غور و فکر وہی کامیاب سمجھا جائے گا جس کا نتیجہ خدا تعالیٰ کی یاد اور آخرت کی طرف توجہ ہو۔ حضرت حسن بصری کی روایت میں آتا ہے کہ تفکر ساعۃ خیر من عبادۃ ستین سنۃ۔ یعنی ساٹھ سال کی عبادت کی نسبت ایک گھڑی بھر کا غور و فکر زیادہ قیمتی ہے۔ اگر کسی نے غور و فکر کے بعد اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلی تو یہ چیز سال ہا سال کی عبادت بلا معرفت سے بدرجہا بہتر ہوگی۔ مصنوعات قدرت عبث نہیں : فرمایا صاحب عقل وہ لوگ ہیں جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور مصنوعات قدرت میں غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ ربنا ما خلقت ھذا باطلا۔ اے اہمارے پروردگار ! تو نے یہ سب چیزیں بیکار نہیں کیں۔ ان اشیا کی تخلیق میں ضرور کوئی حکمت ہے۔ اور دنیا کی حکمت آخرت ہے۔ الدنیا مزرعۃ الاخرۃ۔ فرمایا دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہ اگلی منزل کا راستہ ہے۔ اس راستے پر چل کر انسان آخرت میں پہنچ سکتا ہے۔ اس دنیا میں جو کچھ کمائی کرے گا۔ اسے آخرت میں پالے گا۔ مقصد یہ ہے کہ کائنات کی تخلیق بیکار محض یا کوئی کھیل تماشہ نہیں ، بلکہ اس کی کوئی غرض وغایت ہے اور وہ ہے آخرت۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض کی گئی ہے۔ سبحنک۔ اے مولا ! تیری ذات پاک ہے تو تمام عیوب ، نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہے یہ تنزیہ فی العقیدہ ہوگیا۔ اے اللہ ! ہم تیری تسبیح اور پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ نہ کوئی عبادت میں شریک ہے۔ نہ اختیار میں نہ مشکل کشائی میں ، نہ حاجت روائی میں۔ اس میں عقیدہ کی اصلاح کا پورا مواد موجود ہے اگر عقیدہ درست نہیں ، خدا کی تنزیہ کا قائل نہیں تو ایسا شخص عقلمند نہیں ہوسکتا ، وہ بیوقوف ہوگا۔ دوزخ سے نجات : جب عقیدہ صاف ہوگیا اور قیامت کے دن پر یقین ہوگیا تو ایسے لوگ پھر اللہ کے حضور دعا کرتے ہیں۔ فقنا عذاب النار۔ اے مولا کریم ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے ، عقلمندوں کی یہ پہلی دعا ہے جو غور و فکر کے نتیجے میں ان کے دل سے نکلی ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں باقی دعاؤں کا ذکر آئیگا۔
Ayahs 3:192–194

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو نے جس کو دوزخ کی آگ میں داخل کردیا پس بیشک تو نے اس کو رسوا کردیا ، اور نہیں ہوگا ظالموں کے لیے کوئی مدد کرنے والا۔

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! بیشک ہم نے سنا ہے ، ایک پکارنے والے کو جو پکارتا ہے ایمان لانے کے لیے کہ ایمان لاؤ اپنے پروردگار پر ، پس ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ، بخش دے ہم کو ہمارے گناہ اور مٹا دے ہم سے ہماری برائیاں اور موت دے ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ۔

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! اور دے دے ہمیں جو تو نے وعدہ کیا ہے ہم سے اپنے رسولوں کی زبانوں پر اور نہ رسوا کر تو ہمیں قیامت والے دن بیشک تو وعدے کا خلاف نہیں کرتا۔

ربط آیات : جیسا کہ گذشتہ درس میں عرض کیا تھا کہ اس سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے ایمان اور توحید کے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ اور ان میں عقلی اور سمعی یا نقلی دونوں قسم کے دلائل موجود ہیں۔ گذشتہ درس میں عقلی دلائل بیان ہوچکے ہیں اور اب نقلی دلائل پیش ہو رہے ہیں ابتداء میں ذکر آ چکا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور شب و روز کے اختلاف میں اہل عقل کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ جن کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی حکمت کاملہ اور قدرت تامہ کو سمجھ سکتا ہے اور ایمان اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرسکتا ہے۔ پھر عقلمندوں کی علامات یہ بتائیں کہ ہر وہ حالت میں اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اے اللہ ! تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں کیا۔ تخلیق ارض و سما میں غور و فکر کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ انسان اللہ کی مصنوعات میں تو غور و فکر کرسکتا ہے اور اس کی صفت اور وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے ، مگر خود خدا تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر نہیں کرسکتا۔ یہ بات امام غزالی نے اپنی متعدد کتابوں میں درج کی ہے۔ اور حضرت شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں یہ اصول بیان کیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ لافکرۃ فی الرب۔ یعنی رب تعالیٰ کی ذات میں غور و فکر نہیں ہوسکتا۔ تفکروا فی الخلق ولا تتفکروا فی الخالق۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیا میں غور و فکر کرو ، خود خالق کائنات کی ذات میں فکر مت کرو ، کیونکہ ذات خداوندی وہ ذات ہے ، جسے غور و فکر کے ذریعے نہیں پایا جاسکتا۔ مخلوق میں غور و فکر سے اللہ تعالیٰ کی صفت سمجھ میں آتی ہے اور اس کی وحدانیت کا ادراک ہوتا ہے۔ چناچہ عقلمند لوگ غور وفکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔ کہ اے مولا کریم ! تو نے یہ تمام چیزیں بیکار پیدا نہیں کیں۔ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، تو وحدہ لا شریک ہے۔ اس طرح گویا توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آگیا۔ سورة یوسف میں موجود ہے۔ وکاین من ایۃ فی السموت والارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون۔ لوگ زمین و آسمان کی بیشمار نشانیوں کے قریب سے گزر جاتے ہیں مگر ان میں غور و فکر کرکے نتیجہ اخذ نہیں کرتے ، بلکہ غافل رہتے ہیں۔ مقصد یہ کہ زمین و آسمان ، اس کے ستارے اور سیارے ہر وقت انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔ نظام شمسی : جس نظام شمسی (Solar system) میں ہم رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ مشہور سیارے زہری ، قمر ، شمس ، عطارد ، مریخ ، مشتری اور زحل ہیں۔ ان کے آجکل بڑے چرچے ہو رہے ہیں۔ خلا پیما سائنس دان ان سیاروں پر کمندیں ڈال رہے ہیں۔ بلکہ ان سات میں قمر سیارے پر تو انسان پہنچ چکا ہے اور اس کی وضع قطع معلوم ہوچکی ہے۔ چاند پر سردترین علاقہ بھی معلوم ہوا ہے ، اگر انسان وہاں پہنچ جائے تو برف کا ٹکڑا بن جائے اسی طرح وہاں پر اڑھائی سو سنٹی گریڈ تک گرم ترین علاقہ بھی موجود ہے۔ جو لوگ چاند پر پہنچے ہیں وہ اس زمینی لباس میں نہیں گئے ، یہ تو فوراً جل جائیگا ، وہاں پر خلائی لباس پہن کر ہی پہنچا جاسکتا ہے۔ اور یہ ایسا لباس ہے جس کی تیاری پر اڑھائی تین لاکھ روپے خرچ آتا ہے۔ قرآن پاک کے سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند پر انسانی رہائش قریباً ناممکن ہے۔ انسان وہاں پر پہنچا بھی ہے تو محدود وقت کے لیے ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ چاند پر ایک پونڈ انسانی خوراک پہنچانے پر تیس ہزار پونڈ خرچ آئے گا۔ ظاہر ہے کہ اس قدر فضول عیاشی کی کون جرات کرے گا۔ یہ اس سیارے کی بات ہے جو زمین سے قریب ترین ہے۔ نظام شمسی کا دوسرا سیارہ سورج زمین سے نوکروڑ تیس لاکھ میل دور ہے۔ یہ اپنی پیدائش سے لے کر پورے نظام شمسی کو گرمی اور روشنی پہنچا رہا ہے۔ اس کی روشنی ہم تک سات منٹ اور آٹھ سیکنڈ میں پہنچتی ہے۔ مگر اللہ مالک الملک نے فرمایا کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا۔ اذ الشمس کورت۔ جب یہ سورج اور اس کی روشنی لپیٹ دی جائے گی یہ پورا نظام شمسی درہم برہم ہوجائے گا۔ اس کے بعد ایک دوسرا نظام قائم ہوگا ، جسے آخرت اور حشر کا نظام کہا جاسکتا ہے۔ علم فلکیات : ستاروں سے متعلق علم کی دو قسمیں ہیں۔ ایک علم نجوم ہے۔ جس میں ستاروں کے تغیر و تبدل کے حساب سے کسی شخص کی قسمت یا سعادت اور شقاوت کا حال معلوم کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے علم کو حضور ﷺ نے شرک کا حصہ قرار دیا ہے۔ اور سحر کی طرح حرام کہا ہے۔ من اتی منجما۔ فرمایا جو کوئی شخص نجومی کے پاس جا کر قسمت کا حال معلوم کرتا ہے ، وہ شخص محمد ﷺ کی شریعت کا انکار کرتا ہے۔ ایسے شخص کو توبہ کرکے تجدید ایمان کرنی چاہئے۔ قرا ان پاک میں ایسے ستارے کا بھی ذکر ہے جس کی عرب کے لوگ پوجا کرتے تھے۔ سورة نجم میں موجود ہے۔ وانہ ھو رب الشعری۔ یعنی شعری ستارے کا مالک بھی وہی خدا ہے ، جو چاند اور سورج کا خدا ہے ، لہذا تم اس ستارے کی پورجا کیوں کرتے ہو۔ تفسیر الجواہر میں مذکور ہے اور ماہرین فلکیات بھی بتاتے ہیں کہ شعری ستارہ ہمارے سورج سے بیس ہزار گنا بڑا ہے۔ ستاروں سے متعلق دوسرا علم ، علم فلکیات یا (Astronomy) کہلاتا ہے۔ اور کے ذریعے خلا میں موجود ستاروں کے حالات معلوم کیے جاتے ہیں جن پر غور و فکر کرکے انسان کے لیے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں۔ شعری ستارے کا حجم اسی علم کے ذریعے حاصل ہوا ہے۔ پھر ماہرین فلکیات یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہماری یہ زمین سورج سے اس قدر چھوٹی ہے کہ ان کے حجم کی نسبت ایک اور تیرہ لاکھ کی ہے۔ گویا زمین سورج سے تیرہ لاکھ گنا چھوٹی ہے۔ مگر بہت دوری کی وجہ سے اتنا بڑا فرق نظر نہیں آتا۔ اور پھر چاند زمین سے بھی چھوٹا ہے۔ مریخ سرخ سیارہ ہے ، سائنسدان اس پر بھی پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کی تصاویر اور دیگر حالات معلوم کیے جا رہے ہیں۔ بہرحال ان سب چیزوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں رکھی ہیں۔ ان میں غور کرکے فوراً خدا کی توحید کا قائل ہوجاتا ہے کہ جس مالک الملک نے یہ سارا نظام قائم کیا ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے۔ یہ نظام شمسی ہے ، اس کے اوپر عالم بالا اور پھر ملاء اعلی ، حظیرۃ القدس اور آخرت کا نظام ہے۔ اور یہ سب نظام اس کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ ان تمام پر اللہ تعالیٰ کا تصرف ہے۔ سورۃ کی ابتداء میں ذکر ہوچکا ہے کہ ہر چیز کو تھامنے والی فقط ذات خداوندی ہے۔ ربوبیت بھی اسی کے ساتھ مختص ہے۔ ہر چیز کو وہی حد کمال تک پہنچانا ہے نشونما کے تمام سامان پیدا کرنے والا بھی وہی مالک الملک ہے۔ لہذا اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ہوسکتا ، نافع ، ضار ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تواں صرف اور صرف وہی ہے۔ اسی لیے انسان یہ کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ سبحنک۔ اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے۔ الغرض ! جب انسان تخلیق کائنات میں غور و فکر کے بعد اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ ربنا ماخلقت ھذا باطلا۔ تو وہ اس حقیقت کو بھی پالیتا ہے کہ لامحالہ یہ تمام نظام آخرت پر منتج ہونے والا ہے اس لیے وہ رب العزت سے دعا کرتا ہے۔ فقنا عذاب النار۔ اے مولا کریم ! آخرت میں پیش آنے والے دوزخ کے عذاب سے بچالے۔ وہ سمجھ چکا ہے کہ دوزخ کا عذاب کس قدر ہولناک ہے۔ اس لیے مزید دعا کرتا ہے۔ ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ۔ اے اللہ ! جس کو تو نے دوزخ کی آگ میں ڈال دیا ، تو نے اس کو رسوا کردیا۔ کافروں کی رسوائی تو اضح ہے کیونکہ وہ ابدی جہنمی ہیں۔ تاہم بعض مومن بھی کچھ عرصہ کے لیے دوزخ میں جائیں گے اگرچہ ان کا یہ قید و بند دوامی نہیں ہوگا بلکہ ان کے تزکیہ کے لیے ہوگا۔ تاکہ گناہوں کی وجہ سے جو میل کچیل ان پر جم چکا ہے ، اسے صاف کرکے اس شخص کو پاک مقام پر جانے کا اہل بنایا جاسکے گا۔ تو بہرحال مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ مومن جتنا عرصہ بھی دوزخ میں رہے گا ، اتنا عرصہ تو رسوائی ضرور ہوگی۔ اسی لیے بندہ عرض کرتا ہے۔ کہ مولی کریم ! دوزخ سے بچا لے کیونکہ وہ رسوائی کا مقام ہے اور پھر وہ یہ بھی جانتا ہے۔ وما لظلمین من انصار۔ جو شخص اپنے گناہوں کی وجہ سے دوزخ میں چلا گیا ، اس کے لیے وہاں کوئی مددگار نہیں ہوگا اس دنیا میں تو لوگ حیلے بہانے اور سفارشات کے ذریعے کسی نہ کسی طرح سزا سے بچ جاتے ہیں مگر وہاں پر چھٹکارے کی کوئی صورت نہیں ہوگی ، مقررہ سزا بہرحال بھگتنا ہوگی۔ اب تک تو عقلی دلائل کی بات ہورہی تھی کہ انسان عقلی طور پر غور و فکر کرکے کسی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے۔ اب آگے نقلی یا سمعی دلیل کا بیان آ رہا ہے۔ مومن بارگاہ رب العزت میں عرض کرتا ہے۔ ربنا اننا سمعنا منادیا ینادی للایمان ان امنوا بربکم۔ اے مولا کریم ! بیشک ہم نے ایک منادی کرنے والے کی آواز کو سنا جو ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ کہ اپنے رب پر ایمان لے آؤ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ منادی کرنے والا کون ہے۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ اگر اس سے صامت یعنی خاموش منادی کرنے والا مراد لیا جائے تو وہ قرآن پاک ہے۔ اور اگر ناطق یعنی بولنے والا منافی ہو تو وہ پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ ہے۔ قرآن پاک بظاہر خاموش ہے۔ مگر وہ زبان حال سے پکار پکار کر ایمان کی دعوت دے رہا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس وقت انسان صراط مستقیم پر قدم رکھتا ہے ، تو کوئی شخص اس کو کہتا ہے۔ استقم ولا تعد۔ یعنی سیدھے چلے جانا اور دائیں بائیں نہ مڑنا۔ جب صراط مستقیم کا مسافر آگے کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔ تو دائیں بائیں طرف موجود دیواروں پر سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے پھر اوپر سے کوئی دوسرا شخص آواز دیتا ہے کہ بھائی پردہ نہ اٹھاؤ، ایسا کروگے تو غلط راستے پر چل پڑوگے جہاں سے واپس نہیں آ سکوگے۔ فرمایا یہ صراط مستقیم اسلام کا راستہ ہے۔ اور جو ہستی انسان کو اس پر سیدھا چلنے کی دعوت دیتی ہے ، وہ قرآن پاک ہے۔ اور جب کوئی شخص حرام یا ناجائز چیز کی طرف جاتا ہے تو گویا دیوار کا پردہ اٹھاتا ہے۔ اس وقت جو شخص اسے ایسا کرنے سے منع کرتا ہے وہ انسان کا زندہ ضمیر ہوتا ہے۔ وہ انسان کو جھنجھوڑ کر کہتا ہے۔ کہ غلط راستے پر مت جاؤ۔ مگر جب کوئی شخص گناہوں پر اصرار کرتا ہے تو اس کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے ، جو آخر کار ایسے غلط کار کو منع کرنا بھی چھوڑ دیتا ہے اور مسلسل گناہوں کی وجہ سے انسان کے دل پر تاریکی چھا جاتی ہے۔ کلا بل۔ ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون۔ فرمایا لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ جاتا ہے۔ جس طرح نمی لگنے سے لوہا زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ اسی طرح گناہوں کی وجہ سے لوگوں کے دل سیاہ ہوجاتے ہیں۔ اگر اس منادی سے مراد ناطق منادی لیا جائے تو وہ نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ آپ بلا واسطہ منادی ہیں ، جنہوں نے ہر مقام پر براہ راست ایمان کی دعوت دی۔ آپ نے کوہ صفا پر ایمان کی دعوت دی۔ کعبۃ اللہ کے پاس اعلان کیا۔ طائف پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا۔ گلیوں میں ، بازاروں میں ، میلوں میں اور منڈیوں میں آپ نے ہر جگہ یہی دعوت دی۔ یا ایہا الناس قولوا لا الہ الا اللہ تفلحو۔ اے لوگو ! لا الہ الا اللہ کہہ دو ، فلاح پاجاؤ گے۔ یہ دعوت حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کے واسطے سے لوگوں تک آگے بھی پہنچائی۔ یہ دعوت بالواسطہ ہوگئی۔ صحابہ کے بعد تابعین ، تبع تابعین ، بزرگانِ دین ، عالمان دین ، مفسرین اور مفکرین اس دعوت کو دوسروں تک پہنچا کر رسالت کا حق ادا کر رہے ہیں۔ دعائے مغفرت : بہرحال فرمایا کہ ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا جو بلند آواز سے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ۔ اس دعوت کے جواب میں ہم نے کہا۔ فامنا۔ پس ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور عرض کرتے ہیں۔ ربنا فاغفر لنا ذنوبنا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہوں کو معاف فرما دے۔ یہاں پر ذنوب کا لفظ ہے اور اس سے مراد بڑے بڑے گناہ ہیں ، جن سے معافی کی درخواست کی جا رہی ہے۔ و کفر عنا سیاتنا۔ اور مٹا دے ہم سے ہماری چھوتی چھوٹی کوتاہیاں۔ یعنی بڑے چھوٹے سارے ہی گناہ معاف فرما دے۔ بلکہ ان کی بجائے ہمارے نامہ اعمال میں نیکیاں درج فرما دے ، جیسا کہ اللہ نے بعض مقامات پر ارشاد فرمایا۔ فاولئک یبدل اللہ سیاتھم حسنت۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوتاہیوں کو نیکیوں میں تبدیل کردیتا ہے۔ ہم بھی ایسی ہی درخواست کرتے ہیں۔ فرمایا ، صاحب بصیرت لوگوں کی اگلی دعا یہ ہوتی ہے۔ وتوفنا مع الابرار۔ اے مولا کریم ! ہمیں وفات بھی نیک لوگوں کے ساتھ دے۔ مرنے سے پہلے اور بعد نیک لوگوں کی رفاقت اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔ سورة نساء میں فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی۔ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھداء والصلحین۔ وحسن اولئک رفیقا۔ اللہ کے انعام یافتہ لوگ منجملہ نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین کے ساتھ ہوں گے ، اور یہ بہت اچھی رفاقت ہے (جسے نصیب ہوجائے) یہ ایسی چیز ہے جس کے لیے انبیاء (علیہم السلام) بھی دعائیں مانگتے رہے۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) نے دعا کی۔ فاطر السموات والارض انت ولیی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین۔ مجھے اسلام پر موت دنیا اور صالحین کی رفاقت نصیب کرنا۔ میرا انجام نیک لوگوں کے ساتھ ہو۔ یہاں پر ابرار کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو ، بر ، کی جمع ہے اور معنی نیکوکار یا نیک خصلت ہے۔ ایسے لوگ جو ہمیشہ نیکی پر توجہ رکھتے ہیں۔ نیکوکاروں کی صحبت یا اچھی سوسائٹی کی ضرورت اس زندگی میں بھی ہے ، اچھے اور نیکی والے وہی لوگ ہوں گے جن کے ذہن اچھے اور جن کی تربیت اچھی ہوئی ہے۔ مقصود یہ ہونا چاہئے کہ ایمان والے تقوی والے ، طہارت والے اور صداقت والے لوگوں کی سوسائٹی نصیب ہو ، مگر آج ایسی مجلس کہاں ملے گی۔ ہر طرف دھوکے ، فریب ، فراڈ ، شرک اور بدعت کا زور ہے ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اخلاق ہمیشہ ماحول سے سیکھا جاتا ہے۔ جب ہمارا ماحول ہی درست نہیں ہے۔ ہماری گلیوں اور بازاروں میں گالی گلوش لہو و لعب ، عیاشی اور فحاشی کا دور دورہ ہے۔ بچے گلیوں میں آوارہ پھر رہے ہیں۔ تو اچھی تربیت کیسے ہوگی اور اچھی سوسائٹی کہاں سے آئے گی۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ مومن غافل نہیں ہوسکتا ، وہ ماحول کو درست رکھنے کی کوشش کرتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ اگر ماحول خراب ہوگیا تو معاشرہ بگڑ جائے گا۔ اور پھر آنے والی نسل کی درستگی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے گا۔ فرمایا عقلمند لوگوں کی منتہائے مقصود یہ دعا ہوتی ہے ربنا واتنا ما وعدتنا علی رسلک۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ کچھ عطا کر جو تو نے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا ہے اور وہ وعدہ یہ ہے۔ انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشہاد۔ ہم اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی مدد فرمائیں گے ، انہیں فتح و نصرت اور غلبہ عطا کریں گے اور آخرت میں بھی جنت اور درجات عالیہ کا وعدہ ہے۔ اللہ کی مخلوق میں غور و فکر کرنے والے اہل خرد یہ بھی عرض کرتے ہیں۔ اے مولا کریم۔ ولا تخزنا یوم القیمۃ۔ ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا ہمیں یقین ہے۔ انک لاتخلف المیعاد ۔ بیشک تو وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ منتہائے کار دو ہی باتیں ہیں اور وہ یہ کہ انسان آخرت میں کامیابی کے مقام پر یعنی جنت میں پہنچ جائے اور خدا کے غضب کے مقام دوزخ سے بچ جائے۔ اور یہ مقصود حاصل کرنے کے لیے صرف دو چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول یہ کہ انسان ایمان ، توحید اور اطاعت کو اختیار کرلے اور دوسرا یہ کہ انسان معاصی سے بچا رہے۔