3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:72–74

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ایمان لاؤ اس چیز پر جو نازل کی گئی ہے ان لوگوں پر جو ایمان لائے ہیں ، دن کے پہلے حصے میں اور کفر کرو اس کے ساتھ دن کے آخری حصے میں ، شاید یہ لوگ پھرجائیں۔

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور تم نہ تصدیق کرو مگر اس کی جو تمہارے دین کی پیروی کرتا ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ بیشک ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ تصدیق نہ کرو اس وجہ سے کہ دیا جائے کوئی مثل اس کے جو تم دیے گئے ہو۔ یا وہ جھگڑ کریں تمہارے ساتھ تمہارے رب کے پاس ، آپ کہہ دیجئے ، بیشک فضیلت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ خاص کرتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے۔ اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔

ربط آیات : گذشتہ درس کی طرح آج کے درس میں بھی اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے برے خصائل کا تذکرہ ہے۔ ان آیات کا مصداق مدینے کے ارد گرد بسنے والے یہودی خاص طور پر ہیں۔ اب تک اہل کتاب کی دینی خیانت کا تذکرہ ہورہا ہے۔ آج کا درس بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ تاہم آئندہ آنے والے درس سے اہل کتاب کی دنیوی خیانت کا بیان ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دینی طور پر بھی خائن ہیں اور دنیوی طور پر بھی ایسے ہی ہیں۔ گذشتہ سے پیوستہ درس میں یہ بیان ہوا تھا۔ کہ اہل کتاب کی خواہش اور کوشش یہ ہے کہ کسی طرح مسلمانوں کو ان کے دین سے پھیر دیں ۔ اس سلسلہ میں وہ ہر حیلہ اختیار کرنے پر کمر بستہ رہتے ہیں آج کے درس میں ان کی ایک تدبیر کا تذکرہ ہے۔ اور وہ یہ کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت ایمان لے آئیں۔ اور شام کو انکار کردیں۔ تاکہ اس طریقہ سے ان لوگوں کو دین سے بد ظن کرسکیں جو پہلے ہی ایمان لا چکے ہیں۔ یہودیوں کی تدبیر : سورة بقرہ میں تحویل قبلہ کا ذکر ہوچکا ہے۔ جب وہ آیات نازل ہوئیں ، قد نری تقلب وجھک فی السماء۔ اور مسلمانوں نے اپنا قبلہ بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ کو مقرر کرلیا ، تو مدینے کے یہودی بہت سیخ پا ہوئے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ کہ کسی طرح اسلام کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے بند باندھا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے یہ تدبیر بنائی کہ ان میں سے کچھ لوگ دن کے پہلے میں اوپرے دل سے اسلام قبول کرلیں اور آخری حصے میں اسلام سے باہر آجائیں۔ اس طرح کمزور ایمان یا پڑھے لکھے یہودی اسے قبول کرکے منحرف کیوں ہوجاتے ہیں۔ اس طرح اسلام میں نئے آنے والے رک جائیں گے۔ اور جو ایمان لا چکے ہیں ، ان کے ایمان متزلزل ہوجائیں گے۔ یہود کی اسی تدبیر کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ وقالت طائفۃ من اھل الکتب امنوا بالذی انزل علی الذین امنوا وجہ النہار۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ایمان لاؤ اس چیز پر جو اہل ایمان پر اتاری گئی ہے ، دن کے پہلے حصے میں ظاہر ہے کہ نازل ہونے والی چیز قرآن پاک ہے۔ مقصد یہ کہ صبح کے وقت مسلمان ہوجاؤ۔ وجہ چہرے کو بھی کہتے ہیں۔ اور دن کے ابتدائی حصے کو بھی۔ اس کا ثبوت ایک عرب شاعر کے کلام سے ملتا ہے جو کہتا ہے۔ من کان مسرورا بمقتل مالک فلیات نسوتنا بوجہ نھار۔ جو مالک کے مرنے پر خوش ہیں۔ انہیں دن کے ابتدائی حصے میں آ کر دیکھنا چاہئے کہ ہماری عورتیں مالک پر کس قدر نوحہ کر رہی ہیں اور وہ کس قدر غمگین ہیں لہذا انہیں اس خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ لوگ مالک کی موت پر خوش ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ وجہ النھار سے دن کا پہلا حصہ مراد لیا ہے۔ غرض ! فرمایا کہ دن کے پہلے حصے میں ایمان لے آؤ، واکفروا اخرہ اور دن کے آخری حصے میں انکار کردو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا۔ لعلھم یرجعون۔ شاید اہل ایمان اپنے ایمان سے پھرجائیں۔ یہ خیال کریں۔ کہ اسلام میں ضرور کوئی نقص ہے۔ جو یہ اہل علم ایمان لا کر پھر واپس اپنے دین پر چلے گئے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام سے متنفر ہوجائیں گے۔ تصدیق حق سے انکار : یہ اہل کتاب کی دینی خیانت تھی۔ وہ لوگ جان بوجھ کر تصدیق حق سے انکار کر رہے تھے۔ حالانکہ یہ وہی رسول ہیں۔ جن کی بشارت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی۔ بلکہ سارے انبیاء نے دی۔ اور قرآن پاک وہی کتاب ہے۔ جو اللہ کی آخری اور برحق کتاب ہے۔ مگر یہ لوگ گمراہی کے پیشوا بنے ہوئے ہیں۔ اور لوگوں کو صحیح دین سے پھیرنا چاہتے ہیں۔ اپنی حکمت عملی کو بروئے کار لاتے ہوئے کہتے ہیں۔ ولا تومنوا الا لمن تبع دینکم۔ اور نہ تصدیق کرنا ، مگر اس کی جو تمہارے دین کا تابع ہو۔ یعنی صرف اپنے دین کو ہی سچا ماننا ، کہیں مسلمانوں کے دین کی تصدیق نہ کر بیٹھنا۔ مقصد یہ کہ جب ، عارضی طور پر دن کے اول حصہ میں بظاہر ایمان بھی لے آؤ۔ تو تصدیق صرف اسی چیز کی کرنا جو تمہارے دین میں شامل ہے۔ کسی دوسری بات کی تصدیق نہ کرنا۔ کیونکہ سچا دین صرف تمہارا ہی ہی ہے۔ اور اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں ان کا یہ قول نقل فرمایا ہے۔ وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصری۔ یعنی جنت کا داخلہ صرف یہودیوں اور نصرانیوں کے لیے مخصوص ہے۔ کوئی دوسرا شخص جنت میں نہیں جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے پیغمبر ! (ﷺ) قل ان الھدی ھدی اللہ۔ ان سے کہہ دیں ، ہدایت تو وہی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے۔ کسی پارٹی کا باطل پر پختہ ہونا حق کی دلیل بن سکتا۔ ہدایت یافتہ وہ ہے جو ہدایت من جانب اللہ پر عمل کرتا ہے۔ یہودیت اللہ کی جانب سے نہیں ہے۔ یہ اصل دین کی مسخ شدہ صورت ہے اور اس میں کفر اور شرک کی آمیزش ہے۔ اگر صحیح ہدایت کی تلاش ہے ، تو وہ ہدایت ایسی ہے۔ جو اللہ کے نبیوں پر نازل ہوئی۔ اور جس کی آخری کڑی قرآن پاک ہے۔ ان یوتی احد مثل ما اوتیتم۔ یہ کہ کسی دوسرے کو بھی ایسی ہی چیز دی گئی ہے جو تم کو دی گئی ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ آیت کے اس حصے کا تعلق گذشتہ۔ حصہ ، ولا تومنوا الا لمن تبع دینکم ، کے ساتھ ہے۔ یعنی یہودی اپنے ہی دینی بھائی بندوں کو کہہ رہے ہیں۔ کہ اپنے سوا کسی دوسرے کی تصدیق نہ کرنا ، کیونکہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی دوسرے کو بھی ویسی ہی فضیلت ، برتری یا کتاب دے دی جائے جیسی تم کو دی گئی ہے تمہارا دین ہی برتر اور افضل ہے۔ لہذا اسی پر قائم رہنا۔ اور اغیار کی عدم تصدیق کی دوسری حکمت یہ ہے کہ ، او یحاجوکم عند ربکم ، یا وہ تمہارے ساتھ تمہارے رب کے پاس جھگڑا کریں۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں کہ اگر تم نے اہل ایمان کی تصدیق کردی تو پھر بحث مباحثہ میں تم پر غالب آجائیں گے اور یہو یہودیت کی ناکامی کا باعث ہوگا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اگر تم نے ان کی تصدیق کردی تو وہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے خلاف حجت قائم کریں گے کہ مولا کریم ! ان لوگوں نے سچے دین کی تصدیق کرنے کے باوجود تیرے آخری نبی اور تیری آخری کتاب قرآن پاک کو تسلیم نہ کیا۔ اس طرح اہل اسلام قیامت کے دن اللہ کے حجور بھی تم پر غالب آجائیں گے ، لہذا سلامتی اسی بات میں ہے۔ کہ صرف اسی کی تصدیق کرو جو تمہارے دین کا متبع ہے ، اس کے علاوہ کسی دوسرے کی تصدیق مت کرو۔ بنی اسرائیل کی عارضی فضیلت : بنی اسرائیل کا دعوی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو باقی تمام اقوام پر فضیلت بکشی ہے۔ قرآن پاک میں بھی آتا ہے۔ اے بنی اسرائیل ! میری نصیحتوں کو یاد کرو ، جو میں نے تم کو دیں۔ و انی فضلتکم علی العلمین۔ اور میں نے تم کو تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔ مگر یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا۔ اس وقت بنی اسرائیل ہی اللہ کے نزدیک برتر تھے۔ چناچہ انہیں فرعون سے نجات دلائی اور انہیں طرح طرح کی نعمتیں عطا کیں۔ پھر جب انہوں نے اپنے دین کو بگاڑ لیا۔ تعصب ، حسد ، ضد اور عناد کا شکار ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و خوار کردیا۔ ان کی فضیلت اور برتری ختم ہوگئی۔ حضرت داود (علیہ السلام) کا یہ فرمانا کہ نبوت ہمیشہ ان کے خاندان میں رہے گی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک خاص مدت تک نبوت ، حکومت اور برتری کو دائمی خیال کرلیا ، حالانکہ جب وہ احکام الہی سے روگردان ہوگئے ، تو ان کے پاس حکومت رہی اور نہ برتری۔ بلکہ نبوت بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسماعیل کی طرف منتقل کردی اور اخری نبی کے طور پر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرما دیا۔ لہذا نبی آخر الزمان کی بعثت کے بعد فضیلت اور برتری بھی آخری امت کو منتقل ہوگئی۔ قرآن نے بتا دیا۔ جعلنکم امۃ وسطا۔ ہم نے تم کو عادل اور افضل امت بنایا۔ نیز یہ بھی فرمایا۔ کنتم خیر امۃ۔ تم سب امتوں سے بہترین امت ہو۔ گویا آخری امت کو اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ امم پر برتری عطا کردی۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ قیامت کے روز سب سے پہلے میری امت کا فیصلہ ہوگا۔ اور جنت میں بھی سب سے پہلے یہ آخری امت ہی جائے گی۔ لہذا اہل کتاب کی دائمی برتری کا دعوی باطل ہے۔ تمام فضائل کا مالک اللہ ہے : فرمایا۔ قل ان الفضل بید اللہ۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیں کہ فضل تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ وہی اس کا مالک ہے۔ یوتیہ من یشاء وہ جس کو چاہتا ہے ، فضل عطا کردیتا ہے۔ جب تک بنی اسرائیل اس کے احکام پر عمل پیرا رہے ، اللہ نے ان کو فضیلت عطا کی۔ پھر جب ان کی صلاحیت ختم ہوگئی ، تو اللہ نے فضیلت والی نعمت بھی ان سے واپس لے لی۔ اور دوسری امت کو دے دی۔ واللہ واسع علیم۔ اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر امت کی صلاحیت کو جانتا ہے اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ سلوک کرتا ہے۔ مسلمانوں کے متعلق حضور ﷺ کا اشارہ تھا۔ کہ میری امت کے عروج کا زمانہ نصف دن سے کم کا نہیں ہوگا۔ اور نصف دن پانچ سو سال کا ہوتا ہے۔ چناچہ تقریباً چھ سو سال تک دنیا میں مسلمانوں کو مکمل عروج حاصل رہا۔ پھر جوں جوں ان کی صلاحیت ختم ہوتی گئی ، اقتدار بھی ان سے چھنتا گیا۔ اب گذشتہ آٹھ سو سال سے پستی میں جا رہے ہیں۔ اور دوسری اقوام مادی لحاظ سے ترقی پر ہیں۔ یہی حال بنی اسرائیل کے ساتھ ہوا۔ جب تک صلاحیت موجود رہی برتری حاصل رہی ، جب صلاحیت ختم ہوگئی ، تو فضیلت بھی چھن گئی۔ فرمایا فضیلت کا مالک وہ ہے۔ یختص برحمتہ من یشاء۔ وہ جسے چاہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرتا ہے۔ اپنے اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خاص کیا اور پھر آخری دور میں اپنے آخری پیغمبر اور آخری امت کو اپنی رحمت کے ساتھ خاص کیا۔ ان کو فضیلت اور برتری عطا فرمائی۔ کیونکہ واللہ ذوالفضل العظیم۔ اللہ تعالیٰ عظیم فضل و رحمت کا مالک ہے۔ اس کی رحمت تو ہر آن موجود ہے مگر انسان عدم صلاحیت کی بناء پر اس سے محروم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 3:75–76

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس ایک خزانہ امانت رکھیں۔ تو وہ اس کو تمہاری طرف لوٹادے گا۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کے پاس ایک دینار امانت رکھیں ، تو اسے آپ کی طرف واپس نہیں کرے گا ، جب تک کہ آپ اس پر قائم نہ رہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے اوپر امی لوگوں کے حق میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور یہ لوگ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں۔

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

کیوں نہیں۔ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا اور ڈرتا رہے گا۔ پس بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ ڈرنے والے اور تقوی اختیار کرنے والوں کو۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی دینی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ اہل اسلام کو گمراہ کرنے کے لیے کیسی کیسی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تلبیس کا ذکر تھا۔ کہ یہ لوگ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کردیتے ہیں اور حق کو چھپا دیتے ہیں۔ یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ اہل کتاب باطل غرور میں مبتلا تھے۔ باقی لوگوں پر اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ بغض اور حسد میں مبتلا تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی مالی خیانت کا ذکر کیا ہے کہ وہ دنیا کے مال و دولت کے سلسلے میں کس قدر خائن ہیں۔ مالی خیانت : ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ومن اھل الکتب۔ بعض اہل کتاب ایسے ہیں۔ من ان تامنہ بقنطار۔ اگر آپ ان کے پاس ڈھیر مال یا بڑا خزانہ امانت رکھیں یؤودہ الیک تو وہ اس کو واپس لوٹا دے گا۔ ومنھم اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں۔ من ان تامنہ بدینار۔ اگر آپ ان کے پاس ایک دینار ایک اشرفی یا ایک پونڈہی امانت رکھیں۔ لایؤدہ الیک۔ تو وہ اس کو بھی واپس نہیں کرے گا۔ بعض سے مراد اگر وہ اہل کتاب لیے جائیں ، جو ایمان لے آئے۔ تو ظاہر ہے کہ ان کی امانتداری تو ایمان کی برکت کی وجہ سے ہوگی ، اور اگر بعض سے مراد عام اہل کتاب لیے جائیں ، تو یہ بھی ممکن ہے ، کیونکہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کچھ اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور کچھ برے بھی ہوتے ہیں۔ خود قرآن میں آگے آئے گا۔ لیسو سواء۔ وہ سارے برابر نہیں ہیں۔ دوسری یہ بات بھی ہے کہ قرآن کریم کو ماننے والے عام مسلمان متعصب نہیں ہیں۔ اگر کسی باطل دین والے میں بھی کوئی اچھی صفت ہوگی ، تو وہ اس کی تعریف کریں گے تعصب کا اظہار نہیں کریں گے ، کیونکہ یہ تو مشرکین اور اہل کتاب کا شیوہ ہے۔ چناچہ قرآن پاک میں جہاں بھی اہل کتاب کی کسی اچھی بات کا ذکر ہے ، وہاں اس کی تعریف کی گئی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے تعلیم دی ہے کہ اچھی چیز کو چھپانا نہیں چاہئے۔ کہ یہ بد دیانتی میں داخل ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مدینے میں دس بڑے عالم یہودی تھی۔ ان میں سے عبداللہ بن سلام واحد عالم ہیں ، جنہیں اللہ نے اسلام کی دولت نصیب فرمائی ، باقی تو علماء اس نعمت سے مھروم رہے۔ کسی شخص نے عبداللہ بن سلام ؓ کے پاس 12 سو اونس چاندی امانت رکھی۔ ایک اونس چالیس درہم کے برابر ہوتا ہے۔ جب اس شخص نے اپنی امانت طلب کی تو عبداللہ نے کوئی پس و پیش نہ کی اور امانت اس کے حوالے کردی۔ ایک دوسرا یہودی عالم فنحاص بن عازورا تھا ، اس کا حال یہ تھا کہ قریش خاندان کا کوئی مسافر مدینے آیا۔ تو فنحاص کو شکل و صورت سے بڑا بزرگ شخص خیال کرکے ایک دینار اس کے پاس امانت رکھ دیا۔ مگر جب اپنی امانت واپس لینا چاہی تو فنحاص نے انکار کردیا۔ کہ میں نے تمہاری کوئی امانت نہیں رکھی۔ یہاں سے چلے جاؤ۔ پاس ہی اس کا شاگرد تھا۔ اس نے کہا ، کہ حضرت اس شخص کی امانت آپ کے پاس موجود ہے اسے واپس کردیں۔ کہنے لگا ٹھیک ہے میں نے ایک دینار اس سے لیا تھا۔ مگر یہ امی (ان پڑھ) لوگ ہیں ، ان کا مال ہضم کرجانے میں کوئی گناہ نہیں۔ یہ ہمارے لیے جائز ہے۔ کیونکہ ہم اللہ کے محبوب ہیں۔ نحن ابناء اللہ واحباءہ۔ یہ لوگ ہمارے مرید ہیں۔ ان کا مال ہمارے لیے حلال ہے۔ آخر ہم نے علم حاصل کیا ہے۔ اس کے لیے محنت کی ہے۔ خرچ کیا ہے وہ ان سے پورا نہیں کرینگے ، تو اور کس سے کریں گے۔ جب وہ مسافر مایوس ہوگیا۔ تو ایک دوسرے یہودی نے اسے یہ ترکیب بتائی کہ تم امانتدار سے یوں کہو کہ میں نے تمہیں نیک آدمی سمجھ کر تمہارے پاس امانت رکھی تھی۔ اگر میری امانت واپس نہ کی تو میں مدینے میں یہ اعلان کردوں گا کہ فلاں شخص میری امانت کھا گیا ہے اور تم بدنام ہوجاؤ گے۔ چناچہ اس بدنامی سے ڈرتے ہوئے فنحاص نے وہ ایک دینار واپس کردیا۔ غرضیکہ ان واقعات کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ ڈھیروں مال امانت کے طور پر ان کے پاس رکھو ، تو وہ عندالطلب لوٹا دیتے ہیں۔ اور اس میں ذرہ بھر خیانت نہیں کرتے اور بعض ایسے بھی ہیں کہ ایک دینار امانت رکھ کر مکر جاتے ہیں۔ دینار و درہم : اس زمانے میں دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا ، جس کا وزن چار ماشے ہوتا تھا۔ اور درہم چاندی کا سکہ تھا ، جو ساڑھے تین ماشے کا ہوتا تھا۔ قیصر و کسری کی سلطنتوں اور باقی دنیا میں یہی سکہ رائج تھا۔ تابعین میں ایک بزرگ عبداللہ بن دینار نامی ہوئے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ دینار دو الفاظ پر مشتمل ہے ، دین اور نار۔ دین کا معنی تو واضح ہے مذہب ، عقیدہ وغیرہ اور نار کا معنی آگ ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں۔ من اخذہ بحقہ فھو دینہ ، جو دینار کو حق اور جائز طریقے سے حاصل کرتا ہے۔ وہ اس کیلئے آگ بن جاتا ہے۔ گویا دینار کے لفظ میں حق و باطل دونوں پہلو مضمر ہیں۔ اگر کمائی حلال طریقے سے کی ہے اور جائز ضرورت پر خرچ کیا ہے۔ تو یہ اس کے لیے دین بن گیا۔ اور اگر اس کا الٹ ہے تو یہی مال اس کے لیے دوزخ کا باعث بن گیا۔ فرماتے ہیں۔ کہ جس طرح دینار دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ اسی طرح درہم بھی دو الفاظ سے بنا ہے۔ یعنی در اور ہم۔ در کا معنی بہانا یا زیادتی ہے۔ اور ہم کا معنی غم ہے اس طرح درہم کا معنی ہوگا ، غم کا باعث یا غم کو زیادہ کرنے والا ہے۔ یعنی مال و دولت بظاہر بڑی پرکشش چیز ہے۔ مگر حقیقت میں یہ غم کا باعث بنتی ہے اس کی وجہ سے اکثر مصائب آتے ہیں۔ یا مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ درہم یعنی مال و دولت ایسی چیز ہے کہ اگر میسر نہ ہو تو بھی انسان غم میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور اگر مل جائے۔ تب بھی ہر وقت غم و فکر میں لگا رہتا ہے کہ فلاں کام کرنا ہے ، فلاں رہ گیا ہے۔ باطل فلسفہ : میں عرض یہ کر رہا تھا۔ کہ یہودیوں نے ایک باطل فلسفہ قائم کر رکھا تھا۔ کہ انہوں نے علم حاصل کرنے میں بڑی محنت کی ہے۔ مال صرف کیا ہے تو اس کے عوضانے کے طور پر ان پڑھ لوگوں کا مال ان پر حلال ہے۔ جب یہ فلسفہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ یہودیوں نے یہ عقیدہ بنا رکھا ہے۔ تو آپ نے فرمایا ، کذب اعداء اللہ ، دشمنانِ خدا جھوٹ بولتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کوئی حق نہیں دیا۔ اللہ جل جلالہ نے نے جاہلیت کی تمام باتیں (رسومات) میرے پاؤں کے نیچے روند دی ہیں۔ ان کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے۔ الا الامانۃ ، سوائے امانت کے کیونکہ ، انھا تؤد الی البر والفاجر۔ امانت خواہ نیک آدمی کی ہو یا برے شخص کی ، اس کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اس میں دوستی اور دشمنی کو کوئی دخل نہیں۔ کوئی شخص کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ، جاہل ہو یا عالم ، امانت بہرحال واجب الادا ہوتی ہے۔ دھوکہ دہی ، چوری ، خیانت وغیرہ کا مال قطعاً حرام ہے ہاں اگر کوئی اپنی خوشی سے کسی کو کچھ دے دے تو لینے والے کے لیے جائز ہے۔ وگرنہ امانت کی ادائیگی ہر ایک کے لیے لازم ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر لوگوں نے ایک دوسرے کا مال کھلے عام کھایا خوب لوٹ مار کی۔ یہ قطعاً حرام ہے۔ اس کا حساب قیامت کو دینا پڑے گا۔ ہندو تو ویسے ہی کافر ہے۔ اگر کسی مسلمان نے ہندو کا مال کھایا ہے۔ تو وہ بھی معاف نہیں ہوگا۔ کسی نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا کہ ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں۔ ذمیوں کے علاقے سے گزرتے ہوئے کوئی بھیڑ بکری یا مرغی وغیرہ مل جائے ، تو ہم کھالیتے ہیں۔ آخر ہم غازی ہیں ذمیوں کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ناراض ہوئے اور فرمایا یہ تو وہی بات ہے جو یہودیوں نے کی تھی۔ لیس علینا فی الامیین سبیل۔ یعنی امیوں کا مال کھا جانے میں کوئی حرج نہیں۔ فرمایا جب ذمی لوگ مسلمانوں کو جزیہ ادا کرتے ہیں تو پھر ان کے مال و جان کی حفاظت ہم پر لازم آتی ہے۔ ان کے مال کو ان کی رضامندی کے بغیر کھانا حرام ہے۔ امانت کی واپسی پر اصرار : فرمایا بعض اہل کتاب ایسے ہیں کہ اگر آپ اس کے پاس کثیر مال بطور امانت رکھیں ، تو وہ لوٹا دے گا ، اور بعض ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار بھی امانت رکھیں ، تو وہ واپس رکھیں ، تو وہ لوٹا دے گا۔ اور بعض ایسے ہیں کہ اگر ایک دینار بھی امانت رکھیں ، تو وہ واپس نہیں کرے گا۔ ہاں امانت کی واپسی کی ایک صورت ہے۔ الا ما دمت علیہ قائما۔ کہ تو اس کے سر پر سوار ہے۔ یعنی وقتاً فوقتاً مطالبہ کرتا رہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اسی سے یہ اخذ کیا ہے۔ کہ قرض خواہ اپنے قرض کا پیچھا کرسکتا ہے۔ حتی کہ اسے واپس مل جائے۔ مگر اکثر اہل کتاب ایک دینار بھی واپس کرنے کو تیار نہیں۔ ذلک بانھم قالوا لیس علینا فی الامیین سبیل۔ کیونکہ ان کا فلسفہ یہ ہے۔ کہ ان پڑھ لوگوں کا مال کھانے میں ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ و یقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون۔ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کے باطل عقیدہ کی نسبت ان کے دین اور ان کی کتاب کی طرف ہوگی۔ اور کتاب کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ خدا تعالیٰ نے ان کے لیے امیوں کا مال مباح قرار دیا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ یہ لوگ دیدہ دانستہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ لاتخن من خانک۔ جو شخص تیرے ساتھ خیانت کرتا ہے۔ تو اس کے ساتھ ایسا نہ کر۔ اپنے جرم کا وہ خود ذمہ دار ہے۔ مگر تم اس گناہ کا ارتکاب نہ کرو۔ عہد کی پابندی : اللہ نے فرمایا۔ بلی من اوفی بعھدہ۔ جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے گا۔ اگر کسی نے امانت رکھی ہے تو اس کو ادا کرے گا۔ واتقی اور ڈرتا رہے گا۔ کفر شرک نفاق اور معصیت سے بچتا رہے گا۔ امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔ بلکہ پرہیزگاری اختیار کرے گا۔ فان اللہ یحب المتقین۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ متقیوں کو ہی پسند فرماتا ہے۔ دوسری جگہ موجود ہے۔ واللہ لا یحب الخائنین۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ وہ ایسے لوگوں سے نفرت کرتا ہے۔ کفار ، مشرکین ، منافقین ، متکبرین اور خائنین اس کی نظر میں بہت بڑے مجرم ہیں۔ غرض ! ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی گندی ذہنیت کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے ایک باطل فلسفہ خود ہی وضع کر رکھا ہے جس کی کوئی اصلیت نہیں۔ مالی حقوق تو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتے جب کہ صاحب حق خود معاف نہ کرے۔ حقوق العباد بڑی اہم چیز ہے۔
Ayahs 3:77–78

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت خریدتے ہیں یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں اور اللہ ان سے کلام نہیں کرے گا۔ اور نہ ان کی طرف نگاہ کرے گا قیامت کے دن ، اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ اور ان کے لیے ددناک عذاب ہے۔

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور بیشک ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ ایسا ہے۔ جو موڑتے ہیں اپنی زبانوں کو کتاب کے ساتھ ، تاکہ تم اسے کتاب سے گمان کرو۔ حالانکہ وہ کتاب سے نہیں ہے۔ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی جانب سے نہیں ہے اور یہ اللہ پر جھوٹ کہتے ہیں اور یہ جانتے ہیں۔

اہل کتاب کی تیسری خیانت : اس سے پیشتر اہل کتاب کی دینی اور مالی خیانت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں اور ان میں اہل کتاب کی تیسری بڑی خیانت کا ذکر ہے یہ لوگ ان پیش گوئیوں کو چھپا لیتے ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے سابقہ کتب میں قرآن کریم اور حضور خاتم النبیین ﷺ کے متعلق نازل فرمائی تھیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے۔ کہ اس نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا۔ کہ ان کے پاس جو نبی آئے گا اس پر ایمان لائیں گے اور اس کا ساتھ دیں گے مگر جب اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور قرآن پاک اترنا شروع ہوا تو ان لوگوں نے اپنے عہد کا کچھ پاس نہ کیا۔ آگے اس سورة میں مختلف قسم کے عہدوں کا ذکر آ رہا ہے۔ بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر تو سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آئے گا۔ مگر یہ ان کی بہت بڑی خیانت تھی کہ اپنے عہد کو بھول گئے اور نہ قرآن پر ایمان لائے اور نہ نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کو تسلیم کیا۔ حالانکہ ان کے عہد کا ذکر خود تورات میں بھی موجود ہے۔ مگر انہوں نے تحریف کرکے تورات کے احکام کو بھی بدل دیا۔ اور قرآن پاک کو بھی تسلیم نہ کیا۔ حضور ﷺ والسلام کے ایک صحابی اشعث بن قیس کی کچھ زمین ایک یہودی کے قبضے میں تھی ، جسے وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ اس کی شکایت اس نے آپ (علیہ السلام) کی خدمت میں کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے۔ جو گواہی دے کہ زمین واقعی تمہاری ہے۔ آپ نے فرمایا کہ البینۃ علی المدعی۔ گواہ پیش کرنا مدعی پر لازم ہے۔ لہذا تم اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ پیش کرو۔ صحابی رسول نے عرض کیا۔ حضور ! میرے پاس گواہ تو کوئی نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر مدعا علیہ کی قسم پر فیصلہ ہوگا۔ مسلمان کہنے لگا کہ حضرت ! یہ شخص تو فاجر ہے۔ یہ تو جھوٹی قسم بھی کھا جائے گا۔ اس کا کیا اعتبار ہے۔ آپ نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں جس پر فیصلہ کیا جائے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا من حلف علی یمین فاجرۃ لیقطتع بھا مال امرٗ مسلم لقی اللہ عز وجل وھو علیہ غضبان۔ جو شخص کسی مسلمان۔ کا مال کھانے کے لیے جھوٹی قسم اٹھاتا ہے۔ قیامت کے دن وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہوگا۔ آپ نے یہ آیت بھی تلاوت فرمائی۔ ان الذین یشترون بعہد اللہ و ایمانھم الخ۔ حضرت اشعث بن قیس فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔ اہل کتاب کی بد عہدی : ارشاد ربانی ہے۔ ان الذین یشترون بعہد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا۔ جو لوگ اپنے عہد اور قسم کے بدلے دنیا کا حقیر مال خریدتے ہیں اولئک لا خلاق لھم فی الاخرۃ ۔ ان کے لیے آخرت میں کچھ نہیں۔ دنیا کا مال جس قدر بھی زیادہ ہو۔ آخرت کے مقابلے میں بالکل حقیر ہے۔ مالحیوۃ الدنیا الا متاع۔ یہ دنیا کی زندگی تو تھوڑا سا برتنے کا سامان ہے۔ قل متاع الدنیا قلیل۔ آپ کہ دیں دنیا کا سارا مال و اسباب آخرت کے مقابلے میں بلکل قلیل ہے۔ لہذا دنیا کے حقیر مال کو ناجائز ذرائع سے حاصل کرنے والوں کو آخرت میں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ولا یکلمھم اللہ۔ اور اللہ ان سے شفقت و مہربانی کے ساتھ کلام نہیں کرے گا۔ غصے اور باز پرس کی صورت میں تو ضرور کلام کرے گا۔ مگر لطف و کرم کے ساتھ گفتگو نہیں فرمائے گا۔ ولا ینظر الیھم یوم القیمۃ اور نہ نگاہ شفقت سے ایسے لوگوں کی طرف دیکھے گا۔ ولا یزکیھم اور ان کو پاک بھی نہیں کرے گا۔ یہ ہمیشہ نجاستوں میں لت پت رہیں گے۔ ولھم عذاب الیم۔ اور وہ عذاب الیم کا شکار ہوں گے۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے عہد لیا تھا۔ کہ ہر نبی برحق کی حمایت کرنا اس پر ایمان لانا اور اس طرح خدا تعالیٰ کے عہد کی پابندی کرنا۔ مگر ان لوگوں نے عہد کو توڑ دیا۔ انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ کے احکام کو چھپایا۔ کلام الہی میں تحریف کی۔ جھوٹی قسم کھا کر دنیا کا مال حاصل کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے عہد کی پابندی کی سخت تاکید کی تھی ، قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وکان عھد اللہ مسئولا۔ اللہ کے عہد کے متعلق باز پرس ہوگی۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے عام حکم بھی دیا اوفوا ابالعقود۔ اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ عہد سے روگردانی منافق کی نشانی ہے۔ اللہ کی نظر میں ایسے لوگ مبغوض ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے ساتھ کلام شفقت نہیں کرے گا ، ان کی طرف نظر شفقت سے نہیں دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ مبغوض لوگ : حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ۔ نہ ان کے ساتھ کلام شفقت کرے گا۔ نہ نظر رحمت سے دیکھے گا۔ اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان میں سے ایک آدمی وہ ہے منع ابن السبیل فضل الماء۔ جو کسی مسافر کو زائد پانی سے مستفید نہیں ہونے دیتا۔ کنواں یا چشمہ ہے پانی بھی اپنی ضرورت سے زیادہ ہے مگر وہ مسافر کو پانی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ روکتا ہے۔ فرمایا ایسا شخص اللہ کی نگاہ میں مبغوض ہے۔ اس گروہ کا دوسرا آدمی وہ ہے۔ جو نماز عصر کے بعد جھوٹی قسم اٹھا کر گاہک کو سودا خریدنے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور تیسرا آدمی وہ ہے۔ جو خلیفۃ المسلمین اور امام کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے پھر اگر اس کا دنیوی مقصد پورا ہوتا رہے ، تو عہد کی پاسداری کرتا ہے۔ اور یہ مقصد پورا نہ ہو تو بیعت کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ یہ تین قسم کے آدمی اللہ کی نگاہ میں مبغوض ہوں گے۔ ایک اور حدیث میں یوں بھی آتا ہے۔ کہ وہ شخص بھی مبغوض ہوگا۔ مبرء بوالدیہ۔ جو اپنے والدین سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ ان کی خدمت کرنے کی بجائے ، ان کے ساتھ احسان کرنے کی بجائے ، ان سے نفرت کرتا ہے۔ فرمایا وہ شخص بھی مبغوض ہے مبرء من ولدہ۔ جو اپنی اولاد سے نفرت کرتا ہے۔ انہیں ان کی مطلوبہ شفقت و محبت مہیا نہیں کرتا۔ اور تیسرا آدمی وہ ہے کہ انعم علیہ قوم۔ اس کی قوم نے اس پر احسان کیا۔ مگر وہ ان کی ناشکری اور ناقدری کرتا ہے۔ فرمایا یہ تین قسم کے لوگ ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ ان سے نہ کلام کرے گا نہ نظر شفقت سے دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا۔ صحیح احادیث میں آتا ہے۔ کہ تین قسم کے آدمی اس زمرہ میں آتے ہیں۔ المسبل۔ وہ شخص جو اپنے پاجامے یا تہبند۔ پتلون کو ٹخنوں سے نیچے لٹکاتا ہے۔ مردوں کے لیے مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ عورتیں مستثنا ہیں : دوسرا شخص والمنفق سلعتہ جو جھوٹی قسم اٹھا کر سودا بیچتا ہے۔ گاہک کو جھوٹا یقین دلاتا ہے۔ اور تیسرا شخص المنان ہے۔ جو کسی پر احسان کرکے جتلاتا ہے اس کا نہ صرف احسان ضائع ہوا۔ بلکہ وہ بھی مبغوض گروہ میں شامل ہوگیا۔ ایک حدیث میں حضور نبی کریم کا ارشاد ہے تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے۔ پہلا شخص۔ التاجر الحلاف۔ یعنی قسمیں کھانے والا تاجر ہے۔ والفقیر المختال۔ دوسرا شخص وہ ہے جو محتاج ہو کر غرور کرے۔ والبخیل المنان۔ اور تیسرا شخص احسان جتلانے والا بخیل ہے ان تینوں اقسام کے آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے۔ محبوب لوگ : پھر فرمایا تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے پہلا شخص وہ ہے جو دشمن کے مقابلے میں جہاد کرتا ہے۔ پھر یا تو فتح تک پہنچتا ہے یا شہید ہوجاتا ہے۔ فرمایا دوسرا محبوب آدمی وہ ہے ۔ جو کسی قافلے میں شامل ہو کر سفر پر جاتا ہے۔ پڑاؤ کے مقام پر قافلے والے سو جاتے ہیں اور وہ خدا کے حضور کھڑا ہو کر نماز پڑتا ہے اللہ کے سامنے اپنی مناجات پیش کرتا ہے۔ پھر جب نماز فجر کا وقت ہوجاتا ہے۔ تو اپنے ساتھیوں کو بیدار کردیتا ہے۔ فرمایا تیسرا محبوب خدا وہ شخص ہے جو پڑوسی کی تکالیف پر صبر کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے موت آجائے یا وہاں سے علیحدگی اختیار کرلے۔ ان اقسام کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔ آیت زیر درس میں یہودیوں کا ذکر اس گروہ میں کیا گیا ہے۔ جن سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے۔ وہ مبغوض لوگ ہیں۔ انہوں نے اپنے عہد کو توڑا اور جھوٹی قسمیں کھائیں۔ قسم تو سچی بھی نہیں کھانی چاہئے۔ سوائے اس کے کہ براٗت کے لیے ہو۔ محض دنیا کا حقیر مال حاصل کرنے کے لیے قسم اٹھانا باعث وبال ہے۔ تحریف لفظی : اگلی آیت میں یہودیوں کی ایک اور بری خصلت کا تذکرہ ہے۔ وہ جان بوجھ کر زبان کے ہیر پھیر سے اصل لفظ کو بگاڑ کر بولتے تھے۔ جس سے سننے والا کچھ اور مطلب سمجھ سکتا تھا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ وان منھم لفریقا یلون السنتھم بالکتب۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو اللہ کی کتاب زبان کو مروڑ کر پڑھتا ہے۔ لتحسبوہ من الکتب ، تاکہ تم گمان کرو کہ یہ اللہ کی کتاب میں سے ہے۔ وما ھو من الکتب ، حالانکہ وہ اللہ کی کتاب میں سے نہیں ہے۔ اہل کتاب کی اس قبیح حرکت کی مثال سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ جب یہ لوگ حضور کی مجلس میں آتے تھے۔ تو لفظ راعنا کی بجائے زبان کو گھما کر راعینا کہتے تھے حالانکہ دونوں لفظوں کے معانی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ راعنا کا معنی ہے کہ حضور ! ہماری طرف توجہ فرمائیں ، اور راعینا کا معنی چرواہا یا احمق ہے۔ اس طرح وہ لوگ رسول مقبول ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرتے تھے ، یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ کتنے خائن لوگ ہیں جو اللہ کی کتاب اور نبی کے ساتھ بھی خیانت کرتے ہیں۔ اس قسم کی تحریف لفظی کی مثال تورات میں بھی موجود ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے مروہ کے مقام پر لے گئے۔ مروہ چونکہ مکہ معظمہ میں ہے۔ اس لیے یہاں سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی ثابت ہوتی ہے۔ جس کو یہودی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ وہ تو اسحاق (علیہ السلام) کو ذبیح اللہ کہتے ہیں۔ چناچہ اس حقیقت سے بچنے کے لیے وہ لفظ مروہ کو موریا کہہ کر بولتے تھے۔ تاکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاتھوں انجام پانے والی قربانی مکہ میں ثابت نہ ہوسکے۔ مقصد یہ کہ یہ لوگ اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے۔ اور اصل لفظ کو بگاڑ کر کچھ اور ہی بنا دیتے تھے۔ انجیل میں موجود لفظ فارقلیط کی جگہ مددگار یا شفیع لکھ دیا۔ اور دس ہزار کی بجائے لاکھوں لکھ دیا۔ اور اس طرح لفظی تحریف کی۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ اس نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ آگے فرمایا ما مسنا من لغوب۔ یہ اس لیے فرمایا کہ ان بدبختوں نے تورات میں بھی رد و بدل کیا ، تورات میں بھی موجود ہے کہ اللہ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا فرمایا۔ مگر ان لوگوں نے آگے لکھ دیا۔ فاستراح (پھر اس نے آرام کیا) اللہ نے فرمایا یہ تو کفر کا کلمہ ہے۔ کیا خدا تعالیٰ تھک گا تھا ، جو آرام کی ضرورت پڑی۔ اللہ کے ساتھ ایسی بات منسوب کرنا صریح کفر ہے۔ مگر ان لوگوں نے محض ساتویں دن کی چھٹی ثابت کرنے کے لیے یہ لفظ بڑھا دیا۔ یہ بھی تحریف لفظی کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے نہ صرف الفاظ کو تبدیل کیا ، بلکہ معنوطی طور پر بھی مطلب کچھ کا کچھ کردیا۔ تحریف معنوی : مسلمانوں میں اہل بدعت بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔ یہ قرآن پاک کے الفاظ تو تبدیل نہیں کرسکے مگر مطلب سارا الٹ پلٹ کردیا ہے۔ جس آیت سے چاہتے ہیں ، اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ دیکھئے میلاد کا موسم آتا ہے۔ پہاڑیاں بنائی جاتی ہیں۔ پوچھو بھائی یہ پہاڑیاں کیسی ہیں ، کہتے ہیں قرآن میں صفا ومروہ پہاڑیوں کا ذکر آیا ہے۔ ان الصفا و المروۃ من شعائر اللہ ۔ کہ یہ پہاڑیاں اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس قسم کی باتیں قرآن پاک میں صریح تحریف ہے۔ قطعاً ناجائز اور گمراہی کا باعث ہے۔ بہت سے واعظین اور خود ساختہ مفسرین بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ ایک صاحب نے بسم اللہ کی تفسیر لکھی ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ اسم اللہ سے مراد حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔ حالانکہ اسم اللہ سے اللہ کا نام مراد ہے۔ اور اللہ کا نام لے کر ہی شروع کرنا چاہئے ۔ مگر انہوں نے اس کا معنی تبدیل کردیا۔ خود پروفیسر ہیں ، معلم ہیں ، مگر تفسیر یہ کی ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی تو یہی کہا۔ کہ میرا نام سورة فتح میں محمد رکھا رکھا گیا ہے اور رسول اللہ بھی لکھا ہے (العیاذ باللہ) ۔ یعنی لفظ تو محمد رسول اللہ ہے مگر اس نے کہا کہ اس سے مراد میری ذات ہے۔ اسی طرح خاتم النبیین کا ترجمہ یہ کیا ہے۔ کہ حضور ﷺ مہریں لگا لگا کر نبی بنا رہے ہیں۔ آپ کے بعد جو بھی نبی آئے گا وہ آپ کی مہر سے بنے گا۔ سب سے پہلے مرزا نے اپنے آپ کو اس قسم کا نبی شمار کیا۔ اسی کو تحریف معنوی کہتے ہیں جو کفر ہے۔ فرمایا اس قسم کی لفطی و معنوی تحریف کرکے ، ویقولون ھو من عند اللہ کہتے ہیں۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ اللہ نے ارشاد فرمایا ، وما ھو من عنداللہ۔ حالانکہ یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ غلط معانی اور الفاظ کو اللہ کی طرف منوب کرنا بدترین قسم کی خیانت ہے۔ اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ اسی لیے فرمایا۔ ویقولون علی اللہ الکذب ، وہ اللہ پر افترا باندھتے ہیں۔ اور کتمانِ حق بھی کرتے ہیں۔ آگے سورة مائدہ میں آئے گا کہ انہوں نے زنا کے حکم کو تورات میں چھپا دیا تھا مگر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذریعے ظاہر فرما دیا۔ مطلب بدلنے کا کام یہاں پر فضل الرحمن اور پرویز نے بھی کیا ہے۔ نماز کا معنی کچھ کردیا۔ حج کا معنی عالمی کانفرنس کردیا وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح یہ لوگ الفاظ تو اب نہیں بدل سکتے مگر مفہوم بدل کر تحریف معنوی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وھم یعلمون۔ حالانکہ وہ اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ بعض باطنی فرقے بھی اس قسم کی تحریف میں ملوث ہیں۔ انہوں نے حج سے مراد پیر کی زیارت لیا ہے۔ روزہ کا مطلب یہ ہے کہ پیر صاحب جو راز بتائیں اسے چھپا کر رکھا جائے۔ یہ صریحاً تحریف ہے۔ الفاظ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان الفاظ کا مفہوم بھی وہی لینا چاہئے۔ جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہے۔ اور جس کی وضاحت اللہ کے نبی نے کی۔ یا نبی کے صحابہ یا آئمہ دین نے کی ، جنہوں نے حقیقتاً اس کا مطلب سمجھا ہے۔ اگر آیات قرآنی کا مطلب وہ لیا جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی مراد ہے تو درست ہے ، ورنہ سراسر گمراہی ہوگی۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہوگا۔
Ayahs 3:79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی انسان کے لیے یہ بات (مناسب) نہیں ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب ، حکم اور نبوت عطا فرمائے۔ پھر وہ شخص لوگوں سے کہے کہ ہوجاؤ تم میرے بندے اللہ کے سوا۔ لیکن وہ یوں کہے گا کہ ہوجاؤ رب والے۔ اس وجہ سے کہ تم کتاب سکھلاتے ہو ، اور اس وجہ سے تم اس کو پڑھتے ہو۔

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور وہ تم کو اس بات کا حکم نہیں دے گا ، کہ تم اللہ کے فرشتوں اور نبیوں کو رب بناؤ۔ کیا وہ تم کو کفر کا حکم دے گا۔ بعد اس کے کہ تم فرمانبردار ہوچکے ہو۔

ربط آیات : اہل کتاب کی مختلف خیانتوں کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ یہ لوگ دینی ، دنیوی اور مالی لحاظ سے خائن تھے۔ جھوٹ بولتے تھے۔ اللہ کی کتاب کے احکام کو تبدیل کرتے اور حق کو چھپاتے تھے۔ الفاظ و معانی میں تحریف کے مرتکب ہوتے تھے ، خود مسائل گھڑ کر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے اور کہتے کہ یہ کتاب کا حصہ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بارے میں صریح جھوٹ بولتے آخری نبی (علیہ السلام) کے متعلق پیشن گوئیوں کو چھپا جاتے۔ حق و باطل کو خلط ملط کرتے تھے اور دنیا کا حقیر مال حاصل کرنے کی خاطر اپنے عہد و پیمان کا کچھ لحاط نہ رکھتے۔ ان کی ان بدخصلتوں کی وجہ سے اللہ نے ان کی سزا بھی تجویز فرما دی۔ کہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ نرمی سے کلام نہیں کرے گا ، نہ ان کی طرف نگاہ شفقت سے دیکھے گا۔ اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا۔ وہ ہمیشہ عذاب الیم میں مبتلا رہیں گے۔ شان نزول : گذشتہ دروس میں وفد نجران کا تفسیلی ذکر ہوچکا ہے۔ کہ یہ وفد حضور ﷺ سے بحث و مباحثہ کے لیے مدینہ طیبہ آیا تھا۔ جب بات چیت کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہوا تو نبی (علیہ السلام) نے ان کو مباہلہ کا چیلنج دیا۔ مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔ اور جزیہ دینا قبول کرکے سمجھوتہ کرلیا۔ ان کے قیام مدینہ کے دوران حضور ﷺ کی مجالس ہوتی رہتی تھیں جن میں ارکان وفد کے علاوہ صحابہ کرام بھی شامل ہوتے۔ ایسی ہی ایک مجلس میں نجران کے نصاریٰ ، نبی (علیہ السلام) کے ساتھ مصروف گفتگو تھے ، حضور نبی کریم ﷺ ان کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ اس مجلس میں بنو قریظہ کا یہودی مولوی ابورافع بھی موجود تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ حضور ﷺ ہر بات میں عیسائیوں کو لاجواب کر رہے ہیں ، تو وہ کہنے لگا۔ کہ اے محمد ! کیا تم چہاتے ہو کہ ہم تمہاری پوجا کرنے لگیں جیسا کہ نصاری مسیح (علیہ السلام) کی پوجا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ابورافع کے اس سوال کے جواب میں یہ آیت نازل فرما کر واضح کردیا۔ کہ یہ ناممکن ہے۔ کہ اللہ کا نبی لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے بلکہ وہ تو ہمیشہ ایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی ہی دعوت دے گا۔ بشریت انبیاء : کلام کا آغاز اس طرح ہوتا ہے۔ ماکان لبشر۔ کسی بشر یا انسان کی یہ شان نہیں ہے۔ کہ وہ لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف بلائے۔ بشر سے مراد انسان ، آدمی یا آدم کی اولاد ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) ابو البشر یعنی تمام انسانوں کے باپ ہیں اس لحاظ سے تمام انبیاء کرام بھی انسان ہیں مشرکین کا یہ بالکل غلط عقیدہ ہے کہ نبی بشر نہیں ہوتا ۔ حالانکہ حدیث شریف مٰں صریح الفاظ آئے ہیں۔ کسی نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضور ﷺ کے اخلاق کے متعلق سوال کیا۔ تو انہوں نے کہا۔ کان رسول اللہ بشرا من البشر۔ یعنی حضور ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان تھے۔ پوچھنے والے نے دریافت کیا تھا۔ کہ حضور ﷺ کی گھریلو زندگی کیسی ہے۔ آپ کا اخلاق کیسا ہے۔ آپ گھر میں کیا کیا کام کرتے ہیں تو جواب یہی تھا۔ کہ حضور ﷺ انسانوں میں سے ایک انسان ہیں۔ جو کام عام آدمی گھر میں کرتے ہیں ، وہ کام اللہ کا نبی بھی کرتا ہے۔ حدیث شریف میں بشرا من البشر کا لفظ آتا ہے۔ نور من نور اللہ نہیں آتا۔ یہ تو عیسائیوں والا عقیدہ ہے۔ انہوں نے بھی مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا جزو بنا دیا۔ اور آج کے مسلمان بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ الغرض ! حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا ، آنحضرت (علیہ السلام) گھر میں بکر کا دودھ دوھ لیتے ، اپنے کپڑے صاف کرلیتے۔ جوتے کا ٹانکا لگا لیتے۔ گویا اپنا کام اپنے دست مبارک سے انجام دے لیتے تھے۔ بخاری ، مسلم ، ترمذی اور دیگر کتب احادیث میں یہ حدیث موجود ہے۔ کہ کچھ لوگ آپ کی خدمت میں ایک مقدمہ لائے تاکہ آپ اس کا فیصلہ فرمائیں۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا۔ انما انا بشر۔ بھائی ! میں ایک انسان ہوں اور انسان عالم الغیب نہیں ہوتا۔ میں ظاہر میں تمہارا معاملہ سنوں گا۔ اور اس کے مطابق فیصلہ دوں گا۔ ہوسکتا ہے ایک فریق اپنا مقدمہ پیش کرنے میں بڑا چرب زبان ہوا اور دوسرا فریق اتنا فصیح نہ ہو۔ فرمایا ، فلعلہ بعضکم الحن بحجتہ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کی دلیل سن کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔ یا درکھو ، ! جو شخص کسی چیز کا مستحق نہیں ہے۔ وہ اس چیز کو مت لے۔ کیونکہ اس کے حق میں وہ دوزخ کی آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ فرمایا میں انسان ہوں۔ باطنی حالات تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ جب وحی نازل ہوتی ہے۔ مالک الملک کی جانب سے علم دیا جاتا ہے۔ تو معلوم ہوجاتا ہے۔ فرمایا تمام انبیاء (علیہم السلام) انسان ہیں اور انسانیت کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں۔ انسان یا بشر ہونا کوئی عیب کی بات نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بطور احسان کے فرمایا ہے۔ انی خالق بشرا من طین فرشتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ، میں مٹی سے بشر کو پیدا کرنے والا ہوں۔ ثم اذا انتم بشر تنتشرون۔ پھر تم بحیثیت انسان زمین پر پھیل گئے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت اور قوی و اعضاء کے ساتھ پیدا کیا۔ ثم رددنہ اسفل سافلین۔ پھر اگر اس انسان کی فکر فاسد ہوجائے۔ عقیدہ بگڑ جائے اعمال و اخلاق خراب ہوجائیں تو اس انسان سے زیادہ ذلیل چیز کوئی نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں کیڑے مکوڑے ، جانور ، درندے وگیرہ انسان سے بہتر ہیں۔ مگر انسان ہونا کوئی بری بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہترین مخلوق پیدا کیا۔ منصب نبوت : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ما کان لبشر۔ کسی انسان کی یہ شان نہیں ۔ ان یوتیہ اللہ الکتب۔ کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب عطا کرے۔ اور اللہ تعالیٰ کتاب اس کو دیتا ہے جس کو منصب نبوت عطا کرتا ہے اور یہ سب سے بلند مرتبہ ہے جو کسی انسان کو حاصل ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ فضیلت والی اور کوئی چیز نہیں تمام اولیاء ، عابد ، زاہد سب نبی سے کم تر درجہ میں ہیں۔ نبوت کا مقام سب سے اعلی ہے اور یہ مقام اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو عطا فرمایا اور آپ کو قرآن پاک جیسی کتاب عطا کی۔ فرمایا۔ جس انسان کو اللہ کتاب عطا کرے۔ والحکم۔ اور حکم عطا کرے۔ حکم کا معنی فیصلہ بھی ہوتا ہے اور علم بھی۔ جیسے فرمایا۔ فاحکم بینھم یعنی ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ نیز فرمایا۔ فاحکم بینھم۔ یعنی ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ نیز فرمایا۔ اتینہ حکما و علما۔ ہم نے اسے حکم اور علم عطا فرمایا۔ نیز حکم کا معنی فہم بھی ہوتا ہے اور۔ نبی کا فہم ، عقل اور ذکاوت تمام انسانوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ نبی اعقل الناس ہوتا ہے۔ وہ سب سے زیادہ ذکی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں کمال درجے کی صلاحیت ودیعت کرتا ہے۔ آگے فرمایا ، والنبوۃ یعنی ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ کتاب اور حکم کے علاوہ نبوت بھی عطا فرما دے۔ اس کی یہ شان نہیں ہے۔ ثم یقول للناس۔ کہ وہ لوگوں سے کہے۔ کونوا عبادا لی من دون اللہ۔ اللہ کے علاوہ میرے بندے بن جاؤ۔ یہ بات ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تو نبوت اور رسالت عطا فرمائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلانے کی بجائے اپنی بندگی کی طرف دعوت دے۔ یا کسی دوسرے انسان یا کسی بھی مخلوق کی عبادت کی تلقین کرے۔ یہ نہیں ہوسکتا اگر ایسی بات ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نعوذ باللہ ، اللہ کا انتخاب ہی درست نہیں تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ پر جہالت لازم آئے گی (نعوذ باللہ) کہ اس نے ایسے شخص کو نبی بنایا جو اس نبوت کا اہل نہیں تھا۔ نبی کا منصب تو یہ ہے کہ وہ خود بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر کار بند ہو اور دوسروں کو بھی اسی کی دعوت دے۔ دنیا کے معاملات میں بھی جب کسی شخص کو وزارت یا گورنری کے عہدہ پر فائز کیا جاتا ہے۔ تو اس سے توقع ہوتی ہے۔ کہ وہ حکومت کی پالیسی کے مطابق کام کرے گا۔ اگر کوئی شخص خلاف کرے تو اسے ایک منٹ کے لیے کسی اعلی عہدے پر برداشت نہیں کیا جاتا ۔ اللہ کا نبی تو اللہ کا کامل وفا دار ہوتا ہے۔ دنیا میں منشائئے یازدی کی تکمیل اس کا فرض ہوتا ہے۔ وہ اللہ کے علاوہ اپنی یا کسی دوسری مخلوق کی عبادت کی دعوت کیسے دے سکتا ہے۔ انبیاء کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان میں موجود بشریت کے تمام تقاضے بہترین طور پر سنور جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تربیت ہی ایسی کرتا ہے۔ جس سے ان کے تمام قوی درجہ کمال کو پہنچ جاتے ہیں۔ ان سے ایسی بات کا سرزد ہونا جو منشائے الہی کے خلاف ہو ، ناممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ، ہم نے تم پر احسان کیا۔ تمہاری پرورش ہماری آنکھوں کے سامنے رہی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا۔ بامرنا ووحینا۔ سب کچھ ہمارے حکم اور وحی کے مطابق ہورہا ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی تربیت نہایت اعلی درجے میں کرتا ہے۔ لہذا ان کی شان کے خلاف ہے کہ وہ غیر اللہ کی طرف دعوت دیں۔ اللہ والے : برخلاف اس کے اللہ کے نبی تو کہیں گے اے لوگو ! ولکن کونوا ربنیین۔ رب والے بن جاؤ یعنی بن جاؤ۔ شیخ الہند نے یہ ترجمہ کیا ہے۔ اللہ والے ہوجاؤ۔ ربنیین۔ رب سے مشتق ہے۔ جس میں ن اور ی مبالغے کے آتے ہیں بعض ربی بھی کہتے ہیں۔ اس کا معنی بھی وہی ہے۔ دوسرے مقام پر ربیون کثیر۔ کے الفاظ آئے ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ تربیت کے مادے سے ہے۔ اور معنی یہ ہے کہ دوسروں کی تربیت کرنے والے ہو۔ اور دوسروں کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف بلانے والے ہو۔ یعنی ایسے اللہ والے بن جاؤ، جو علم ، عقیدے اور عمل میں درجہ کمال پر ہوں۔ حضرت عبداللہ بن عباس قرآن کے بڑے عالم ہوئے ہیں۔ حضرت علی کے زمانہ میں کچھ عرصہ گورنر بھی رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے زندگی کا بیشتر حصہ لوگوں کی تعلیم و تربیت میں گزرا۔ جس دن آپ کی وفات طائف میں ہوئی تو حضرت علی کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ (جو آپ کی بیوی خولہ کے بطن سے تھے) وہ بھی بڑے عالم فاضل ہوئے ہیں۔ انہوں نے فرمایا الیوم مات ربانی ھذہ الامۃ۔ آج حضور کی امت کا ایک بہت بڑا ربانی عالم دنیا سے رخصت ہوگیا۔ ربانی وہ شخص ہے جس کے دل کی اصلاح اس طرح ہوجائے کہ اس کے اندر فاسد خیالات باقی نہ رہیں۔ جیسا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دعا کی۔ اے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جس میں تیری خشیت نہ ہو۔ اصلاح یافتہ دل وہی ہوگا جس میں خشیت الہی موجود ہوگی۔ اسی لیے اللہ نے قرآن کریم میں علمائے حق کی یہ نشانی بیان فرمائی ہے۔ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء۔ جو حق پرست ہوں گے وہ خدا ساے ڈرنے والے ہوں گے۔ فرمایا اللہ کا نبی تو کہے گا ، اللہ والے ہوجاؤ، رب والے ہوجاؤ۔ بما کنتم تعلمون الکتب۔ اس وجہ سے کہ تم کتاب سکھلاتے ہو۔ اور کتاب سکھلانے والے کی لازماً اصلاح ہونی چاہئے۔ اس میں خالص توحید اور جذبہ عبادت ہونا چاہئے۔ بلکہ اسے دوسروں کی اصلاح بھی کرنی چاہئے۔ وبما کنتم تدرسون۔ اور اس وجہ سے کہ تم خدا کی کتاب پڑھتے ہو۔ اس کا بھی تقاضا ہے کہ تم اللہ والے بن جاؤ۔ عبدیت کی غلط نسبت : کل ذکر کیا تھا کہ کتاب اللہ میں لفظی یا معنوی تحریف کرنا اہل کتاب کا کام تھا مگر اس زمانے میں یہ کام خود مسلمان بھی انجام دے رہے ہیں۔ بلکہ یہ تو ان سے بھی بدتر کام کر رہے ہیں۔ کلام اللہ کے ایسے غلط معانی و مطالب بیان کرتے ہیں جو نہ اللہ کی مراد ہے اور نہ رسول اللہ کی تشریح ہے۔ نہ خلفائے راشدین نے ایسے معنی کیے اور نہ آئمہ دین نے یہ مطلب سمجھا مگر آج کا پرویز اور مرزا قادیانی عجیب و غریب تاویلات کرتے ہیں۔ اب دیکھئے مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے اس آیت۔ قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسہم۔ سے کیا مطلب نکالا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ سے فرما رہے ہیں آپ اپنی طرف سے کہہ دیں اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ گویا حضور ﷺ اپنی امت کو میرے بندو کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں (نعوذ باللہ) اسی سے مولوی احمد رضا خان یہ نکالتے ہیں کہ حضور ﷺ کی طرف نسبت کرکے نام رکھنا جائز ہے۔ جیسے عبدالرسول ، عبدالمصطفیٰ ، عبدالنبی وغیرہ۔ حالانکہ یہ مطلب ہرگز نہیں نکلتا۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی ! آپ اللہ کی طرف سے کہہ دیں یعنی اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا ، اس کی مثال سورة مریم میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو حضرت مریم کی طرف یہ آیت دے کر بھیجا۔ قال انما انا رسول ربک لاھب لک غلاما زکیا۔ میں تیرے رب کا فرستادہ ہوں تاکہ میں تجھ کو ایک پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔ بظاہر عطا کی نسبت جبرائیل امین کی طرف ہے۔ مگر حقیقت میں وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ میں اللہ کی جانب سے آیا ہوں اور وہ اللہ تجھے بیٹا عطا کرنے والا ہے۔ اسی طرح اس آیت میں یعبادی سے مراد نبی کے بندو نہیں بلکہ اللہ کے بندو ! ہے ۔ ملا علی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں کہ عبدالرسول ، عبدالحسنین ، عبدالعلی وغیرہ نام رکھنے میں شرک کی بو پائی جاتی ہے۔ اسی طرح پیر بخش ، علی بخش وغیرہ نام نہیں رکھنے چاہئیں۔ کسی پیر نبی ، بزرگ کی طرف عبدیت کی نسبت کرنا قطعاً روا نہیں۔ مگر لوگ باز نہیں آتے۔ قرآن پاک کا عجیب و غریب ترجمہ کرکے جگہ جگہ باطل عقیدے وضع کیے گئے ہیں۔ یہ سب چیزیں تحریف کا حصہ ہیں۔ حضور ﷺ نے جس کا نام عبدالشمس تھا ، اس کا نام عبدالرحمن رکھا ، نام رکھتے وقت عبدیت کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف ہونی چاہئے۔ یا کم از کم ایسے نام رکھو جس میں کسی قسم کی پیچیدگی نہ پائی جائے۔ رب صرف اللہ ہے : الغرض ! فرمایا کہ اللہ کا نبی اپنی عبدیت کی دعوت نہیں دے سکتا بلکہ وہ تو یوں کہے گا کہ اللہ والے بن جاؤ اس وجہ سے کہ تم کتاب سکھلاتے ہو اور اسے پڑھتے پڑھاتے ہو۔ ولا یامرکم۔ اللہ کا نبی تمہیں ہرگز یہ حکم نہیں دے گا کہ ان تتخذوا الملئکۃ والنبیین اربابا۔ کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بنا لو۔ جیسا کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے کیا۔ اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ۔ انہوں نے اپنے پیروں اور مولویوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا۔ گذشتہ دروس میں گزر چکا ہے۔ کہ عدی بن حاتم طائی نے کہا۔ کہ حضور ! ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے تھے ان کو رب نہیں بناتے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ جس چیز کو تمہارے پیر اور عالم حرام کہتے ہیں تم حرام سمجھتے ہو ، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ حلال ہے اور جس چیز کو وہ حلال کہتے ہیں تم حلال سمجھتے ہو حالانکہ وہ اللہ کے ہاں ھرام ہے۔ یہی رب بنانا ہے۔ جب تحلیل و تحریم کا منصب غیر اللہ کے سپرد کردیا جائے تو انہیں رب بنانے کے مترادف ہے۔ کسی کو سجدہ کیا جائے ، نذر و نیاز پیش کی جائے ، حاضر و ناظر سمجھا جائے علیم کل سمجھا جائے ، مافوق الاسباب ، حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا جائے ، یہی شرک ہے۔ اس قسم کا جو بھی عقیدہ اللہ کے علاوہ غیر کی طرف منسوب کیا جائے گا شرک ہوگا ، فرمایا پیغمبر کبھی یہ حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں یا انبیاء کو رب بناؤ۔ ایامرکم بالکفر۔ کیا وہ تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے ؟ بعد اذ انتم مسلمون۔ باوجود اس کے کہ تم فرمانرداری میں اختیار کرچکے ہو۔ اللہ کی وحدانیت کو اپنا چکے ہو۔ جب تم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ چکے ہو تو پھر وہ تمہیں ایسا حکم کیسے دے گا۔ جس سے تم پھر کفر و شرک کی تاریکیوں میں غرق ہوجاؤ ایسا نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے نبی سے یہ توقع ہرگز نہیں ہوسکتی۔ اہل کتاب نے نبی (علیہ السلام) سے کہا تھا کہ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کی عبادت کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ قانون بتلایا کہ اللہ کا نبی نہ اپنی عبدیت کی طرف دعوت دیتا ہے اور نہ کسی غیر اللہ کی۔ مسیح (علیہ السلام) نے بھی ربوبیت کی نسبت اللہ ہی کی طرف کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ان اللہ ربی و ربکم۔ میرا اور تمہارا سب کا رب اللہ ہے۔ میں بھی اسی کی عبادت کرتا ہوں تم بھی اسی کی عبادت کرو اللہ کا ہر نبی یہی دعوت دے گا۔ کہ اللہ والے بن جاؤ۔ رب والے بن جاؤ۔ اس کے سوا کسی انسان کی پوجا نہ کرو۔