Ayahs 3:45–48ربط آیات : گذشتہ درس میں حضرت مریم کے کچھ مناقب بیان ہوئے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم پیغمبر کی پیدائش کے لیے ان کا انتخاب کیا۔ اور اس ضمن میں انہیں تمام جہان والی عورتوں پر فضیلت بخشی۔ اس کے علاوہ انہیں ظاہری اور باطنی ہر لحاظ سے پاکیزہ بنایا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی عبادت کرنے کی نصیحت کی گئی۔ اور پھر یہ اصول بھی بیان کردیا کہ جو واقعات بیان کیے جا رہے ہیں۔ وہ غیب کی خبروں میں سے ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کی گئی کہ حضرت مریم کی کفالت کے متعلق جب قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو اے پیغمبر آخر الزمان (علیہ السلام) آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ نہ آپ غیب دان ہیں۔ بلکہ آپ تک یہ خبریں پہنچانے کا ہمارا اپنا انتظام ہے۔ اب آج کے درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق خوشخبری اور آپ کے بعض معجزات کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ مریم کے اس استعجاب کا بیان ہے۔ جو انہیں بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری پر ہوا۔
حضرت مریم کو بشارت :
پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ حضرت مریم کی پرورش اللہ تعالیٰ نے خاص طریقہ سے فرمائی اور وہ جلدی جلدی بڑی ہونے لگیں۔ پھر جب وہ سن بلوغت کو پہنچ گئیں تو فرشتوں نے آکر آپ کو بشارت دی۔ ارشاد ہوتا ہے۔ اذ قالت الملئکۃ اس واقعہ کو دھیان میں لاؤ، جب فرشتوں نے آ کر مریم سے کہا ، یمریم ، اے مریم ! ان اللہ یبشرک ، بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں بشارت دیتا ہے۔ بکلمۃ منہ ، اپنی طرف سے ایک کلمہ کی۔ بشارت اس خبر کو کہا جاتا ہے۔ جس میں خوشی ہو۔ خبر سن کر سرور حاصل ہو۔ جیسے سورة بقرہ میں گذر چکا ہے۔ و بشر الذین امنوا و عملوا الصلحت ان لھم جنت۔ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کیے ، ان کو جنت کی بشارت دے دیجئے۔ ظاہر ہے۔ کہ یہ نہایت ہی خوشی کی بات ہے کہ کسی کے لیے جنت مقدر کردی جائے تاہم بعض اوقات بشارت سے مراد محض خبر بھی ہوتا ہے۔ جیسے کفار کے متعلق فرمایا۔ فبشرھم بعذاب الیم۔ انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دو ۔ تاہم یہاں پر بشارت سے مراد اچھی اور خوش کن خبر ہے کہ اے مریم ! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی طرف سے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے اس مقام پر کلمہ کا لفظ حضرت مسیح (علیہ السلام) پر بولا گیا ہے۔ آپ کو اللہ کا کلمہ اس خصوصیت کی بنا پر کہا گیا ہے۔ جو آپ کی ذات میں بن باپ کے پیدائش کی وجہ سے ہے۔ قرآن میں بعض دوسری چیزوں کی نسبت بھی خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے۔ جیسے سورة شمس میں ناقۃ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی کا ذکر آیا ہے۔ اونٹنیاں اور تمام چیزیں تو سب کی سب اللہ ہی کی ہیں۔ مگر صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو خاص طور پر اللہ کی اونٹنی اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی پیدائش خاص طریقہ سے کی تھی۔ یہ اونٹنی کسی ماں کے پیٹ کی بجائے چٹان سے نکالی گئی تھی۔ اس لیے اس کو اللہ کی اونٹنی کہا گیا۔
اسی طرح خانہ کعبہ کو بیت اللہ شریف یعنی اللہ کا گھر کہا گیا ہے۔ حالانکہ تمام مساجد اللہ ہی کے گھر ہیں۔ اس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز اسی کی پیدا کردہ ہے لہذا اسی کی ہے۔ مگر بیت اللہ کو بیت اللہ اس لیے کہا گیا ہے۔ کہ وہاں پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی تجلیات ہر وقت نازل ہوتی رہتی ہیں۔ عام مساجد میں بھی اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی ہوتی ہے۔ اس لیے وہ بھی اللہ کے گھر ہیں۔ تو بہرحال فرشتوں نے حضرت مریم کو اللہ کے کلمے کی بشارت یعنی خوشخبری دی۔
امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہنے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بغیر باپ کے توسط کے پیدا کیا۔ گویا آپ اللہ تعالیٰ کے کلام اور اس کے حکم سے پیدا ہوئے۔ اس لقب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پہلی کتابوں میں مسیح (علیہ السلام) کے متعلق پیش گوئی موجود تھی کہ آپ اپنے مقررہ دور میں آ کر ہدایت کا ذریعہ بنیں گے۔ تو یہ وہی کلمۃ اللہ ہیں۔ جن کا ذکر پہلی کتابوں میں موجود ہے۔ کلمۃ اللہ کی تیسری توضیح یوں بیان کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو کلمت ربک ، یعنی اللہ کے کلمے کہا ہے۔ اور یہ لوگوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے۔ اسی طرح چونکہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو بھی مخلوق کے لیے زریعہ ہدایت بنایا ، لہذا ان کا نام بھی کلمۃ اللہ رکھ دیا۔
فرمایا اے مریم ! اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے کلمے کی خوشخبری دیتا ہے۔ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ اکثر مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ لفظ مسیح عبرانی اور سریانی زبان کے اشتقاق سے آیا ہے اور اس کا معنی مبارک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیدائش کے بعد پہلے ہی دن آپ کی زبان سے کہلوادیا تھا۔ کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ نے مجھے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔ وجعلنی مبارکا این ما کنت۔ (سورۃ مریم) میں جہاں بھی ہوں ، مجھے برکت والا بنایا ہے۔ لہذا آپ کا لقب مسیح قرار دیا گیا۔ اس کے علاوہ آپ کا لقب یسوع بھی ہے جو یشوع سے آیا ہے اور اس کا معنی سردار یا سید ہے۔
عربی زبان میں مسیح کا معنی سیاح ہے۔ دجال کے ساتھ مسیح کا لفظ بھی انہی معانی میں آیا ہے۔ مسیح دجال یعنی سیاحت کرنے والا دجال ، کہتے ہیں کہ دجال چالیس دن میں پوری دنیا کے گرد گھوم جائیگا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی مسیح اس لیے کہتے ہیں۔ کہ آپ بھی سیاحت کرتے تھے۔ آپ نے زندگی بھر رہنے کے لیے اپنا گھر نہیں بنایا بلکہ ہمیشہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے تھے۔ مسیح کا اطلاق مسیح پر بھی ہوتا ہے۔ جس کا معنی ہاتھ پھیرنا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو ہاتھ لگاتے تو اللہ تعالیٰ شفا عطا کردیتا۔ یہ ذکر آگے معجزات میں آئے گا۔
دجال کے ساتھ لفظ مسیح ، ممسوح کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ جو کہ مفعولی کا صیغہ ہے۔ ممسوح العین۔ اس شخص کو کہتے ہیں۔ جس کی ایک ہی آنکھ ہو یعنی مٹائی ہوئی آنکھ والا۔ دجال کی دائیں آنکھ بالکل مٹی ہوئی ہوگی اور انگور کے پھٹے ہوئے دانے کی مانند ہوگی۔ اس کی بائیں آنکھ میں بھی عیب ہوگا۔ اس لیے اس کو ممسوح کہا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممسوح بگڑی ہوئی فطرت والے کو بھی کہتے ہیں۔ دجال ممسوح الفطرت یعنی بگری ہوئی فطرت والا ہوگا۔
عیسائیوں کا باطل عقیدہ :
عیسی بن مریم کہہ کر اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے اس باطل عقیدہ کی تردید فرمائی ہے۔ جس کے مطابق وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا یا تین خداؤں میں سے تیسرا کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر واضح کردیا ہے۔ کہ عیسیٰ ابن مریم ہے۔ جس کو اللہ نے ایک عورت کے بطن سے پیدا فرمایا۔ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو۔ وہ الہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ تو خود مخلوق ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے ، اس کے نبی اور برگزیدہ انسان ہیں۔ لم یلد و لم یولد۔ تو شان کداوندی ہے۔ یہ صفت کسی مخلوق میں کیسے ثابت کی جاسکتی ہے۔ بلکہ ایسا عقیدہ رکھنا اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ سورة مریم میں موجود ہے۔ کہ یہ اتنا بڑا کلمہ ہے کہ تکاد السموت یتفطرن منہ و تنشق الارض و تخر الجبال ھدا۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ اس بات پر کہ ان دعوا للرحمن ولدا۔ وہ خدا تعالیٰ کے لیے بیٹے کو پکار رہے ہیں۔ یہ اس قدر باطل عقیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا بیٹا ثابت کرنا۔ یہ تو اس کی تنزیہہ کے ہی خلاہے۔
عیسی ابن مریم :
قرآن پاک میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کا لقب عیسیٰ ابن مریم کئی مقامات پر آیا ہے۔ آخرت میں بھی آپ کو اسی لقب سے پکارا جائے گا۔ جب محاسبے کی منزل آئے گی ، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اسی نام سے مخاطب کریں گے۔ سورة مائدہ میں آتا ہے واذ قال اللہ یعیسی ابن مریمء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ۔ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا۔ کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لو۔ تفسیر روح المعانی میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس طرح خطاب فرمائیں گے ، تو آپ پر دہشت طاری ہوجائیگی اور آپ پانچ سو سال تک کپکپاتے رہیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو حوصلہ دے گا۔ تو عرض کریں گے قال سبحانک۔ اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے۔ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں۔ جس کا مجھے حق ہی نہیں پہنچتا۔ تو تو دلوں کی باتوں کو بھی جانتا ہے ، مخفی ارادوں تک سے واقف ہے۔ اگر میں نے ایسی بات کی ہے تو تجھ سے تو پوشیدہ نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، وہ ایسا دن ہوگا ، کہ اس دن سچوں کو ان کی سچائی فائدہ دے گی۔ یہ سب سورة مائدہ میں آ رہا ہے۔ امام بخاری فرماتے ہیں۔ کہ قیامت کے دن ہر شخص کو باپ کی سنبت سے پکارا جائے گا۔ مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔ یعنی عیسیٰ ابن مریم۔ کیونکہ آپ کے لیے باپ کا توسط نہیں ہے اسی طرح سورة مریم میں جہاں یحییٰ (علیہ السلام) کا ذکر آتا ہے۔ وہاں وبراً بوالدیہ۔ کے الفاظ آتے ہیں۔ جس کا مطلب ہے والدین یعنی ماں اور باپ دونوں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے والا۔ مگر جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے۔ وہاں فرمای ابرا بوالدتی۔ اللہ نے مجھ کو میری ماں کے ساتھ نیکی اور احسان کرنے والا بنایا ہے۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے اس عقیدے کا رد فرمایا ہے جس کے مطابق وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا یا تین خداؤں میں سے تیسرا خدا مانتے ہیں۔
یہودیوں کی مسیح دشمنی :
یہودی حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حد درجہ تحقیر کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کی والدہ پر حرام کاری کا الزام لگا کر ان کو بدکار عورت تک کہا۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو حرامی بچہ کہہ دیا۔ حتی کہ آپ کو سزائے موت دلانے کے لیے عدالت میں لے گئے اور راستے میں جاتے ہوئے العیاذ باللہ آپ کے چہرے پر تھوکا۔ یہ بدبخت لوگ بگڑی ہوئی ذہنیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے مسیح (علیہ السلام) کی بڑی توہین کی۔ حتی کہ انہیں سولی پر لٹکانے کے لیے تیار ہوگئے۔ انہوں نے تو ایسا کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا چھوری مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے ٓپ کو بچا لیا۔ انجیل میں موجود ہے کہ یہودیوں کے عالم بڑے بدبخت تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سانپ کے بچوں سے تشبیہ دی ہے۔ آپ نے فرمایا ، تم کیسے بدبخت لوگ ہو ، جو لوگوں کو گمراہی مٰں ڈالتے ہو۔ اور ہدایت کی بات کو سنتے ہی نہیں۔ یہودی حضرت مسیح (علیہ السلام) کو دجال بھی کہتے تھے۔ کہ یہ لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ ان کے عقیدے بگاڑتا ہے۔ مروجہ رسموں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ اسی بنا پر وہ آپ کے دشمن بن گئے اور پھر آپ کے قتل کے درپے ہوئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے قریب جب دجال ظاہر ہوگا۔ تو اس کو مسیح سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے لگ جائیں گے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اصفہان کے ستر ہزار چغے پہنے ہوئے یہودی دجال کے پیچھے پیچھے جائیں گے۔
حضرت مسیح کے مناقب :
آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی اس دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعض اوصاف بیان فرمائے ہیں کہ فرشوں نے جس مسیح عیسیٰ ابن مریم کی بشارت حضرت مریم کو دی وہ وجیھا فی الدنیا والاخرۃ دنیا اور آخرت میں وجاہت والا ہوگا۔ یعنی عزت اور مرتبے والا ہوگا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں کی تمام تر دشمنی اور ہرزہ سرائی کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الزامات سے بری قرار دیا۔ اور ان ناپاک لوگوں کی ساش کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ جس کو اللہ تعالیٰ عزت کا اعلی مقام عطا کرے اسے کون ذلیل کرسکتا ہے۔ آپ تو دونوں جہانوں میں صاحب عزت ہیں۔ ان کی عزت کرنے والے کروڑوں اور اربوں لوگ موجود ہیں۔ عیسائیوں کا اگرچہ عقیدہ مشرکانہ ہے۔ مگر وہ آپ کی عزت تو کرتے ہیں۔ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب کے لگ بھگ ہے یہ سب حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سچا نبی تسلیم کرتے ہیں۔ جس کی دس آدمی عزت کرنے والے ہوں ، اس کا حوصلہ بلند ہوجاتا ہے۔ مگر یہاں تو اربوں کی تعداد میں مسیح (علیہ السلام) کو سچا رسول ماننے والے موجود ہیں۔ لہذا آپ عزت کے اعلی مقام پر فائز ہیں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی لوگوں نے طرح طرح کے الزام لگائے ان کی طرف غلط باتیں منسوب کیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں غلط الزامات سے بری قرار دیا۔ براہ اللہ مما قالوا۔ نیز یہ بھی فرمایا وکان عنداللہ وجیھا۔ وہ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے تھے۔ یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بھی وجیھا ، کا لفظ استعمال کیا ، کہ آپ بڑے عزت والے اور بڑے وقار والے تھے۔ یہودیوں کی الزام تراشیاں بکواس محض تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آپ کو نبوت کے مقام پر سرفراز فرمایا۔ اور آخرت میں آپ اپنے صحیح ماننے والوں کی شفاعت کریں گے۔ اس سے بڑھ کر اور کیا عزت اور وجاہت ہوسکتی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) دنیا اور آخرت میں وجاہت والے ہوں گے۔
مقربین الہی :
ومن المقربین ، عیسیٰ (علیہ السلام) تعالیٰ کے مقربین میں سے ہوں گے۔ انہیں خدا تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا ، جو بہت بڑا مرتبہ ہے۔ ہر صاحب ایمان اپنے مالک کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ عبادت ریاضت ، قربانی ، صدقہ خیرات سب اسی واسطے سے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو کر اپنا تقرب عطا کردے۔ تو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مقربین میں سے بنایا۔ بعض فرماتے ہیں کہ مقرب وہ ہے جو نہایت اونچے درجے کے کام کرتا ہو ، اور اس میں غایت درجے کا خلوص پایا جائے۔ از قربا قربانا ، میں یہی بات ہے۔ دو بھائیوں نے قربانی کی۔ جس قربانی میں زیادہ خلوص اور صلاحیت تھی ، اللہ نے اسے قبول کرلیا۔ اور جو برا تھا ، اس کی قربانی قبول نہ کی۔ شیخ ابو طالب مکی اپنی تصوف کی مشہور و معروف کتاب قوت القلوب میں فرماتے ہیں۔ مقرب وہ ہوتے ہیں جن کی نگاہ ازل کے فیصلے پر ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ اس فکر میں رہتے ہیں۔ کہ پتہ نہیں ہمارا حساب کیا ہوگا۔
بزرگان دین کی نگاہ ازل کے اس فیصلے پر ہوتی ہے ، جب اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو دو مٹھیوں میں بند کرکے فرمایا تھا ھذہ للجنۃ ولا ابالی وھذہ للنار ولا ابالی یعنی اس مٹھی والے لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کچھ پروا نہیں اور یہ لوگ دوزخی ہیں ، مجھے کچھ پروا نہیں۔ اللہ کے مقربین کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ الایمان بین الخوف والرجی ، ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے جب کسی شخص کا آخری وقت آتا ہے موت کا فرشتہ اس کے قریب آجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرتا ہے۔ کہ اے مولا کریم ! یہ شخص اہل ایمان میں سے ہے یا اہل نار میں سے مجھے حکم دے کہ میں اس کی روح کو ایمان کے ساتھ قبض کروں یا کفر کے ساتھ ، تو اللہ کے بندے اپنے آخری وقت کو یاد کرکے فکر مند رہتے ہیں کہ الہ العالمین ہمیں معلوم نہیں کہ ہمارا خاتمہ کیسے ہوگا۔ یا اللہ ! ہمیشہ اپنے مالک کی طرف لگی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بھی فرمایا کہ آپ مقربین میں سے ہوں گے۔
کم سنی میں کلام : حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بعض اوصاف بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کے بعض معجزات کا تذکرہ بھی کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ویکلم الناس فی المھد وکھلا آپ لوگوں سے کلام کریں گے گہو ارے میں (یا گود میں) اور ادھیڑ عمر میں۔ یہ بشارت تھی جو فرشتوں نے حضرت مریم کو دی۔ اور پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی۔ تو یہ بشارت حرف بحرف پوری ہوئی۔ سورة مریم میں موجود ہے۔ کہ پیدائش کے پہلے ہی دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے باتیں کیں۔ جب حضرت مریم نومولد بچے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا کر قوم کے پاس آئیں تو قوم نے سخت غصے کا اظہار کیا۔ اور کہا ، اے ہارون کی بہن ! تیرے والدین تو ایسے نہیں تھے ، تو یہ بچہ کہاں سے لے آئی۔ تو حضرت مریم نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔ لوگوں نے کہا ، گہوارے یا گود میں پڑا بچہ ہمارے ساتھ کیسے بات کرے گا۔ اس وقت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بول کر کہا ، انی عبداللہ ، میں اللہ کا بندہ ہوں۔ مجھے کتاب عطا کی گئی ہے اور نبی بنایا گیا ہوں۔
حضور ﷺ نے فرمایا۔ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ بعض دیگر بچوں نے بھی کم سنی میں کلام کیا ہے۔ حضرت جریج ایک نیک آدمی تھے ان پر تہمت لگائی گئی کہ وہ زنا کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ایک فاحشہ عورت نے اپنے نومولود بچے کی نسبت ان کی طرف کی۔ لوگ آپ کو گھسیٹ کر عبادت خانے سے باہر لے آئے۔ آپ کو مارا پیٹا اور عبادت خانہ تباہ کردیا۔ اس اللہ کے بندے نے زندگی کی آخری نماز پڑھی۔ اور پھر اس بچے کے پیٹ پر انگلی رکھ کر کہا کہ خدا کے حکم سے بتاؤ، تمہارا باپ کون ہے۔ اللہ نے اس بچے کو قوت گویائی دی اور اس نے بول کر کہا کہ میرا باپ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ سخت پشیطان ہوئے کہ انہوں نے ایک نیک آدمی کو ناحق تکلیف دی ہے۔ کہنے لگے اگر چاہو تو تمہارا عبادت خانہ ، سونے اور چاندی سے تعمیر کردیں۔ حضرت جریج نے فرمایا۔ مجھے سونے چاندی کے محل کی جرورت نہیں۔ میرا جھونپڑا ویسا ہی مٹی سے بنا دو جیسے پہلے تھا۔ (بخاری مسلم)
قرآن پاک میں موجود ہے ، وشھد شاھد من اھلھا ، جب زلیخا نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر تہمت لگائی ، تو ایک چھٹے بچے نے ہی آپ کی بریت کی گواہی دی تھی۔ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت مومنہ تھی۔ اللہ تعالیٰ کی توحید اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان تھا۔ جب کنگھی اس کے ہاتھ سے نیچے گر پڑی تو اس نے بسم اللہ ، کہہ کر دوباری اٹھائی۔ اس پر فرون کی بیتی بگڑ گئی۔ فرعون کو پتہ چلا کہ یہ لوگ میرے علاوہ کسی اور خدا کو بھی مانتے ہیں۔ تو اس نے تانبے کا ایک بہت بڑا گھوڑا تیار کرایا۔ اور پھر اس کو گرم کرکے خاندان کے سب افراد کو اس کے پیٹ میں ڈال دیا۔ چھوٹے بچے کی ماں اپنے بچے کو جلتا ہوا دیکھ کر سخت پریشان ہوئی۔ مگر اس بچے کو اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی۔ اس نے بول کر کہا ، ماں ! گھبراؤ نہیں۔ جس چیز کو تم آگ سمجھ رہی ہو ، وہ تو باغ و بہار ہے۔ آؤ تم بھی اس اغ میں کود جاؤ تم حق پر ہو۔
قرا ان پاک میں اصحاب الاخدود کا واقعہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کی بعثت سے ستر سال قبل پیش آیا ہے۔ یمن کے بادشاہ ذونواس نے اہل ایمان کی سرکوبی کے لیے بڑے بڑے گڑھے کھدوائے ان میں خوب آگ جلائی۔ اور پھر ہزاروں ایمان والوں کو اس آگ میں زندہ جلا دیا۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ ایک ایماندار عورت لائی گئی جس کی گود میں بچہ بھی تھا۔ آگ کے شعلے دیکھ کر عورت کو تردد پیدا ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے بچے کو قوت گویائی دی اور وہ کہنے لگا۔ امی اصبری ، انک علی الحق ، یعنی اے ماں ! صبر کرنا ، بلاشبہ تم حق پر ہو۔
بکاری شریف اور بعض دیگر احادیث مٰں ایک اور بچے کا واقعہ بھی آتا ہے۔ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی۔ پاس سے کچھ لوگ گزرے ، جو ایک عورت پر چوری اور بدکاری کا الزام لگا کر اسے پیٹتے جا رہے تھے مگر وہ زبان سے یہی کہہ رہی تھی۔ حسبی اللہ۔ دودھ پلانے والی عورت نے اس معتوب عورت کی حالت زار دیکھ کر اپنے بچے کے متعلق کہا ، خدا تجھے ایسا نہ بنائے۔ بچہ فوراً دودھ چھوڑ کر بولا اللھم اجعلنی مثلھا اے اللہ ! مجھے ایسا ہی بنا دے ، تھوڑی دیر بعد ایک بڑا مفرور اور سرکش آدمی گھوڑے پر سوار گزرا۔ ماں اس سوار کی شان و شوکت دیکھ کر کہنے لگی۔ اے اللہ ! میرے بچے کو بھی ایسا ہی بنا دے۔ بچہ دودھ چھوڑ پھر بولا ، یا اللہ ! مجھے ایسا نہ بنانا ، بہرحال تاریخ میں بعض دیگر بچوں کے حالات بھی ملتے ہیں جنہوں نے کم سنی میں اسی طرح کلام کیا ، جس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیدائش کے پہلے دن کلام کرکے اپنی ماں کی بریت کی۔
حکیمانہ کلام :
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن اور کہولت میں کلام کرنے سے مراد حکیمانہ کلام ہے۔ عمر کے دونوں حصوں میں آپ کا کلام حکمت سے لبریز ہوگا۔ چناچہ بعض آثار میں آتا ہے۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بارہ سال کی عمر مٰں تبلیغ کرتے تھے۔ اور ایسی حکیمانہ باتیں کرتے تھے ، کہ بڑے بڑے فلاسفر اور دانا حیران رہ جاتے تھے۔ تفسیر بیضاوی اور تفسیر روح المعانی میں حضرت سعید ابن مسیب اور حضرت زید بن اسلم تابعین میں سے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کو 33 سال کی عمر میں آسمان پر اٹھایا گیا۔ آپ دوسرے آسمان پر ہیں۔ معراج والی حدیث میں موجود ہے۔ کہ دوسرے آسمان پر حضور ﷺ کی ملاقات حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی۔ اور دوسری طرف یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ کہ سن کہولت چالیس سال کے بعد ہوتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) چالیس سال تک تو دنیا میں ٹھہرے ہی نہیں پھر کہولت میں کلام کرنے سے کیا مراد ہے۔ اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا بچپن میں کلام کرنا تو مکمل ہوگیا مگر آپ کا کہولت یعنی ادھیڑ عمر میں کلام کرنا ابھی باقی ہے۔ اس کی تکمیل اس وقت ہوگی جب قرب قیامت میں آپ دوبارہ زمین پر آئیں گے ، تو اس عمر میں بھی حکیمانہ کلام کریں گے۔ ایک سو سے زیادہ احادیث موجود ہیں جن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دوبارہ آنے کا ذکر ہے۔ بخاری ، مسلم اور دیگر کتب میں یہ بھی ہے ۔ کہ جب دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے ، تو حکومت کریں گے۔ دنیا میں عدل و انصاف قائم کریں گے۔ چالیس سال یا کم و بیش کا عرصہ دنیا میں ٹھہریں گے۔ بعض روایات میں سات سال کا ذکر بھی ہے۔ اس عرصے میں آپ نکاح کریں گے ، اولاد ہوگی۔ اور پھر طبعی وفات بھی ہوگی۔ حضور ﷺ نے فرمایا میرے ساتھ ہی دفن ہوں گے ترمذی شریف میں یہ حدیث موجود ہے جو درجہ حسن کی ہے۔
صالح عیسیٰ (علیہ السلام) : اللہ تعالیی نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ومن الصلحین ، یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) صالحین میں سے ہوں گے۔ صالح کا معنی نیکو کار ہے۔ میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ صالح اس شخص کو کہتے ہیں جو نیکی کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرتا ہو۔ اور کسی کا حق ضائع نہ کرتا ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں یہ خوبی بدرجہ اتم موجود تھی۔ آپ اللہ کے اولو العزم پیغمبر اور صاحب کتاب رسول ہیں۔ لہذا فرشتوں نے حضرت مریم کو بشارت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جس کلمۃ اللہ کی بشارت دی جا رہی ہے۔ وہ نیکو کاروں میں سے ہوگا گذشتہ آیت کے آخر میں ذکر تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مقربین میں سے ہوں گے اس آیت کے آخر میں فرمایا کہ وہ صالحین میں سے ہوں گے۔
حضرت مریم ؓ کی پریشانی :
جب حضرت مریم نے فرشتوں کی زبان سے بیٹے کی پیدائش کی بشارت سنی تو بہ مقتضائے بشریت گھبرا گئیں۔ بات ہی ایسی تھی۔ وہ ایک عابدہ و زاہدہ دوشیزہ لڑکی ہے ، نکاح ہوا نہیں ، تو بچہ کیسے پیدا ہوگا۔ کیا نکاح ہوگا۔ اگر نہیں ہوگا۔ تو بچہ کیسے۔ حضرت مریم کو طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ آخر پریشان ہو کر کہنے لگیں۔ قالت رب انی یکون لی ولد۔ اے پروردگار ! میرے ہاں بچہ کیسے ولم یمسسنی بشر۔ مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا۔ عادت اللہ تو یہ ہے کہ مرد و زن کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے مگر نہ تو میرا نکاح ہوا ہے۔ نہ کسی ناجائز طریقے سے مرد کی قربت حاصل ہوئی ہے۔ تو بچہ کیسے پیدا ہوگا۔ فرشتوں نے جواب دیا۔ قال کذلک اللہ یخلق ما یشاٗ ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے ، جو دچا ہے۔ اس سے پہلے جب یحییٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق بشارت کا ذکر آیا تھا۔ تو وہ وہاں فرمایا تھا۔ کذلک اللہ یفعل ما یشاٗ یعنی اللہ تعالیٰ اسی طرح کرتا جس طرح چاہے۔ مگر یہاں پر یفعل کی بجائے یخلق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہاں پر بوڑھے میاں بیوی سے بچہ پیدا کرنا مقصود تھا۔ جو کہ عام عادت کے خلاف ہے۔ مگر ممکن ہے۔ پچھلے دنوں اخبارات میں آیا کہ ہندوستان کے کسی علاقے میں سو سال کی عورت کے ہاں بچہ پیدا ہوا اگرچہ یہ عام طور پر دشوار ہے مگر ناممکن نہیں۔ کیونکہ میاں بیوی دونوں موجود ہیں اگرچہ بوڑھے ہوچکے ہیں۔ مگر عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت میں یخلق کا لفظ اس لیے استعمال کیا۔ کہ یہاں پر باپ بھی موجود نہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بچہ پیدا ہوا۔ آگے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ذکر بھی آرہا ہے۔ وہاں نہ ماں ہے اور نہ باپ ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے کلمہ کن کے ساتھ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرما دی۔ اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی کام کے کرنے کے لیے اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی ، بلکہ اس کا حکم ہی کافی ہوتا ہے۔
مسیح (علیہ السلام) بحیثیت معلم :
فرمایا جس مسیح (علیہ السلام) کی بشارت دی جا رہی ہے۔ اس کی ایک صفت یہ بھی ہوگی۔ و یعلمہ الکتب والحکمۃ ، اور اللہ تعالیٰ اسے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حکمت سکھائیگا۔ عام مفسرین کرام کتاب سے مراد لکھنا لیتے ہیں اور حکمت سے دانائی۔ مگر بہت سے دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ کتاب سے مراد قرآن اور حکمت سے مراد سنت ہے۔ مسلم شریف میں امام ابن ابی ذئب کی روایت میں ہے کہ جب مسیح (علیہ السلام) دنیا میں دوبارہ نازل ہوں گے۔ تو وہ کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کریں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قرآن و سنت کا علم بھی بلا واسطہ دیں گے۔ آپ کسی استاذ سے تفسیر پڑھیں گے اور نہ سنت سیکھیں گے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ یہ چیزیں خود سکھائیگا۔
والتوراۃ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تورات کا علم بھی دیا۔ تورات کا معنی قانون ہے اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی۔ فرعون کی غلامی سے نجات پانے کے بعد آپ کی امت نے درخواست کی ، کہ ہم غلامی کے قانون سے آزاد ہوچکے ہیں۔ اس لیے اب ہمارا اپنا قانون ہونا چاہئے ، تو اس فرمائش کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی۔
والانجیل ، اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل کا علم بھی دیا گیا۔ انجیل کا لفظی معنی بشارت ہے۔ اور یہ کتاب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی اور آپ کو اس بات کا پابند بنایا کہ تم جہاں بھی جاؤ لوگوں کو خوشخبری سناؤ مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد ( سورة صف) یعنی میں تم کو خوشخبری سنانے والا ہوں کہ میرے بعد ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔ سریانی زبان میں یہ نام فارقلیط ہے جو کہ اب عیسائیوں نے انجیل سے حذف کردیا ہے۔ ان دونوں الفاظ کا معنی ایک ہی ہے یعنی ستودہ جہاں تعریف والا نبی۔ وہ آنیوالا ہے اور اس کی شریعت ابد تک رائج رہیگی۔ اس کے بعد کوئی نیاقانون اور شریعت نہیں آئیگی۔ اس لیے اس کا نام ہی انجیل رکھا۔ اس میں اخلاق ، حکمت اور نصیحت کی باتیں ہیں۔
Ayahs 3:49–50ربط آیات :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے متعلق بشارت کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے فرشتوں نے حضرت مریم کو خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالیٰ جو کلمہ تجھ کو عطا کرے گا۔ اس کا نام مسیح ابن مریم ہوگا۔ بڑی عزت والا اور دنیا و آخرت میں مقربین میں سے ہوگا۔ نیز یہ کہ وہ گود میں اور ادھیڑ عمر میں کلام کرے گا۔ اور نیکو کاروں میں سے ہوگا۔ حضرت مریم نے تعجب کا اظہار کیا۔ کہ اس کے ہاں بچہ کیسے ہوگا جب کہ نہ اس نے نکاح کیا ہے۔ اور نہ وہ کسی لغزش کا شکار ہوئی ہے۔ بلکہ کسی مرد نے اس کو چھوا تک نہیں تو اللہ کی جانب سے ارشاد ہوا۔ کہ اس کے لیے بغیر باپ کے بچہ عطا کردینا کچھ مشکل نہیں۔ وہ جو چاہے کرپاتا ہے۔ صرف اس کے حکم کی ضرورت ہوتی ہے کام ہوجاتا ہے۔ اس کے حکم کی تعمیل کے لیے اسباب و علل کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی فرمایا۔ کہ اس پیدا ہونے والے بچے کو اللہ تعالیٰ براہ راست کتاب و حکمت کی تعلیم دیگا۔ اور اسے تورات اور انجیل بھی سکھائیگا۔
رسول بنی اسرائیل : اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ جس کلمۃ اللہ کی بشارت دی گئی ہے اس کی حیثیت یہ ہوگی ورسولا الی بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ اسے بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گا۔ نبوت اور رسالت اللہ تعالیٰ کے اعلی ترین مناصب ہیں جسے عطا ہوجائیں۔ یہ منصب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حصے میں بھی رکھ دیا کہ وہ رسول ہوں گے۔ مگر بنی اسرائیل کی طرف۔ آپ کی نبوت و رسالت تمام اقوام عالم کے لیے نہیں بلکہ صرف قوم بنی اسرائیل کے لیے ہے۔ یہ تو انجیل میں بھی موجود ہے کہ ایک عورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئی۔ اور عرض کیا ، حضرت میں آپ سے فیض حاصل کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے دریافت کیا ، تو کس قبیلہ سے تعلق رکھتی ہے عرض کیا کنعان قبیلہ سے متعلق ہوں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اس عورت کی راہنمائی کرنے سے انکار کردیا اور فرمایا ، میں تو بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ اس عورت نے بڑا اصرار کیا مگر آپ نے اس کی بات نہ مانی۔ جب وہ عورت چلی گئی تو آپ کے شاگردوں نے عرض کیا کہ آپ نے اس عورت کو کیسے محروم رکھا ، فرمایا ، میں تو بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی آتا ہے کہ آپ نے فرمایا ، کیا میں انسانوں کی غذا کتوں کے آگے ڈال دوں ، انجیل میں موجود ہے کہ اس عورت نے پھر عرض کیا کہ کتے بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور انہیں بھی فیاض لوگوں کی میز سے گرے ہوئے ٹکڑے مل جاتے ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا۔ اے عورت ! تیرا ایمان بڑا مضبوط ہے۔ الغرض عیسیٰ (علیہ السلام) نے صاف کہہ دیا کہ میں صرف بنی اسرائیل کی اصلاح کیلیے مبعوث ہوا ہوں۔ اسی لیے آجکل کے عیسائیوں کی دعوت عامہ غلط ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) صرف بنی اسرائیل کے رسول ہیں۔
البتہ حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت اور رسالت تمام اقوام عالم کے لیے ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ وما ارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا۔ ہم نے آپ کو تمام بنی نوع انسان کیلے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ نے خود حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا۔ قل یا ایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا۔ آپ کہہ دیں کہ اے دنیا جہان کے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ نے خود بھی فرمایا بعثت الی الاسود والاحمر۔ اللہ نے مجھے ہر سیاہ و سرخ کیطرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ غرضیکہ آپ (علیہ السلام) کی نبوت عامہ ہے اور تمام بنی نوع انسان کے علاوہ جن وغیرہ بھی اس میں شامل ہیں۔ حضور ﷺ سے قبل آپ کے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی تمام اقوام کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ اس کی تصریح قرآن پاک میں موجود ہے۔ انی جاعلک للناس اما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ میں تمہیں ساری دنیا کا امام بنانے والا ہوں۔
معجزات انبیاٗ :
فرمایا جس عظیم المرتبت رسول کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ وہ آکر کہے گا۔ انی قد جئتکم بایۃ من ربکم۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ نشانی سے مراد وہ معجزات ہیں۔ جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاٗ کو عطا کئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کوئی نبی ایسا نہیں ہوا ، جس کو اللہ تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی نشانی نہ عطا کی ہو۔ معجزے عام بھی ہوتے ہیں اور خاص بھی۔ مادی بھی اور روحانی بھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، اللہ نے جو خاص معجزہ مجھے عطا فرمایا ہے۔ وہ قرآن کریم ہے۔ اس لیے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میرے ماننے والے سب سے زیادہ ہوں گے۔ میرا یہ معجزہ دائمی ہے۔ اور ہمیشہ لوگوں کے درمیان موجود رہے گا۔ لوگ اس کو پڑھیں گے ، اس پر ایمان لائیں گے۔ ہدایت اختیار کریں گے۔ تو حضور ﷺ کے پیروکاروں میں شمار ہوں گے ، یہ آپ کا زندہ معجزہ ہے۔ باقی معجزات وقتی نوعیت کے تھے ، جو اپنے اپنے وقت تک ہی قائم رہے۔
مصنوعی پرندہ :
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے معجزات لوگوں کے سامنے پیش کیے۔ سب سے پہلے معجزے کے متعلق فرمایا۔ انی اخلق لکم من الطین کھیئۃ الطیر فانفخ فیہ۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے ایک پرندے کی شکل بناتا ہوں۔ پھر اس میں پھونک مارتا ہوں۔ فیکون طیرا باذن اللہ۔ پس وہ اللہ کے حکم سے اڑنے لگتا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ خاص معجزہ تھا۔ آپ مٹی کا پرندہ بناتے اس میں پھونک مارتے تو وہ پھر سے اڑجاتا۔ اب ہماری شریعت میں کسی جاندار کی تصویر یا مجسمہ بنانا جائز نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا لعن اللہ المصورین۔ تصویر کشی کرنے والوں پر خدا کی لعنت ہے۔ وہ اس کی رحمت سے دور ہیں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا ، جس گھر میں تصویر اور کتا ہو ، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ بہرحال عیسیٰ (علیہ السلام) نے تصویر سازی معجزہ کے طور پر کی۔
شفائے بیماراں :
فرمایا میرا دوسرا معجزہ یہ ہے۔ وابرئ الاکمہ والابرص۔ میں مادر زاد اندھوں اور برص یا کوڑھ کے مریضوں کو اچھا کرتا ہوں برص پھلبہری یا جذام پر بولا جاتا ہے۔ یہ لاعلاج بیماریاں ہیں۔ یونانیوں کے زمانے سے لے کر آجتک حکماٗ نے ان بیماریوں پر قابو پانے کی بڑی کوشش کی ہے مگر پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکتے۔ جذام ایسی خطرناک بیماری ہے کہ اس کے مریض کے ہاتھ پاؤں کی انگلیاں اور ناک وگیرہ گل جاتے ہیں اور پھلبہری کے داگ بھی جب پیدا ہوجائیں تو رفع نہیں ہوتے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بطور معجزہ ان مہلک بیماریوں کا علاج کرتے تھے۔ اس زمانے میں طبابت کا بڑا چرچا تھا۔ بقراط اور جالینوس جیسے بڑے بڑے حکیم اسی زمانہ کے قریب گزرے ہیں۔ ایک سے ایک بڑا طبیب تھا۔ مگر مذکورہ بیماریاں لاعلاج تھیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے علاج کا دعویٰ کیا۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں میڈیکل سائنس نے بہت زیادہ ترقی کی ہے۔ خاص طور پر سرجری میں بڑی مہارت حاسل کی ہے۔ مگر پھر بھی لاتعداد کیس ایسے ہیں کہ بیماری کی سمجھ ہی نہیں آتی ، علاج تو بعد کی بات ہے۔ بہرحال یہ بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ لاعلاج بیماریوں کا علاج کرتے تھے۔
در اصل معجزہ کا مطلب ہی عاجز کردینے والی نشانی ہے۔ یعنی ایسی چیز جس کا عام لوگ جواب پیش کرنے سے عاجز آجائیں۔ خود قرآن پاک نے اپنے آپ کو بطور معجزہ پیش کرتے ہوئے چیلنج کیا۔ ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ۔ اگر تمہیں قرٓن پاک کے کلام الہی ہونے میں کوئی شک ہے۔ تو اس جیسی ایک سورة ہی بنا کر لاؤ۔ مگر فصاحت و بلاغت کا کوئی ماہر اس چیلنج کو قبول نہ کرسکا۔ بلکہ سب عاجز آگئے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طبابت کا بڑا چرچا تھا۔ مگر مذکورہ بیماریوں کے سامنے سب عاجز تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ سے زندگی سے مایوس مریضوں کو شفا ملنے لگی۔
احیائے موتیٰ :
اس سے بھی بڑھ کر آپ نے تیسرے معجزے کا اعلان کیا۔ واحی الموتی باذن اللہ۔ میں مردوں کو زندہ کرتا ہوں ، اللہ کے حکم سے۔ مفسرین کرام نے چار ایسے مردوں کا ذکر کیا ہے جنہیں عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے زندہ کیا۔ پہلا واقعہ آپ کے عاذر نامی دوست کا تھا۔ جس کا گھر آپ سے کئی دن کی مسافت پر تھا ، وہ سخت بیمار ہوا ، تو اس کی بہن نے آکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی حالت زار بیان کی۔ آپ دو تین دن کا سفر طے کرکے اس کے گاؤں پہنچے ، تو دوست فوت ہوچکا تھا ، اور اسے دفن کیا جا چکا تھا۔ آپ نے اس کی قبر پر جا کر کہا۔ قم باذن اللہ۔ اللہ کے حکم سے کھرے ہوجاؤ۔ تو وہ مردہ زندہ ہوگیا۔ احیائے موتی کا دوسرا واقعہ ایک عورت کا بیٹا تھا۔ اس عورت نے آپ کی بری منت سماجت کی۔ تو آپ نے اس کو زندہ کردیا۔ اسی طرح ایک چنگی والے کی مردہ بیٹی کو زندہ کیا۔ چوتھا واقعہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کا ہے۔ آپ نے اس کی قبر پر جا کر کہا۔ قم باذن اللہ۔ تو وہ گھبرائے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ان کا آدھا سر سفید ہوچکا تھا۔ کہنے لگے ، کیا قیامت برپا ہوگئی ہے۔ آپ نے نفی میں جواب دیا۔ اس زمانے میں لوگوں کے بال سفید نہیں ہوتے تھے۔ یہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے سفید ہونا شروع ہوئے۔ گویا دنیا بحیثیت مجموعی اس وقت تک جوان تھی۔ پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے بڑھاپا آنا شروع ہوا۔ تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سام سے پوچھا تمہارے بال کیسے سفید ہوگئے۔ تو انہوں نے کہا ، برزخ میں دہشت کی وجہ سے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا ، کیا دوبارہ اسی حالت میں جانا پسند کرتے ہو ، انہوں نے کہا ، ہاں ، بشرطیکہ مجھ پر سکرات موت کی تلخی دوبارہ وارد نہ ہو۔ چناچہ وہ دوبارہ اسی حالت پر چلے گئے۔ باقی تین مردوں کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ انہوں نے کافی عرصہ دوبارہ زندگی گزار دی ، بلکہ بعض کے ہاں اولاد بھی پیدا ہوئی۔ وہ پھر اپنے اپنے وقت میں ختم ہوگئے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے احیائے موتی کا معجزہ بھی مسیح (علیہ السلام) کو عطا فرمایا۔
خوراک کی خبر :
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس معجزے کا بھی تذکرہ کیا وانبئکم بما تاکلون میں تم کو بتلاتا ہوں جو کچھ تم گھر سے کھا کر آتے ہو۔ وما تدخرون فی بیوتکم اور جو کچھ تم گھر میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ کسی مجلس میں لوگ بیٹھے ہوتے تو عیسیٰ (علیہ السلام) بتا دیتے کہ فلاں شخص اپنے گھر سے یہ چیز کھا کر آیا اور فلاں چیز اس کے گھر میں باقی رکھی ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ نے معجزہ عطا کیا تھا ، اس کے علاوہ باقی چیزوں کی آپ خبر نہیں دییتے تھے۔ فرمایا ان فی ذلک لایۃ لکم ان کنتم مومنین۔ اس میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں اگر تم یقین رکھتے ہو ، یقین دہانی کے لیے اس قسم کے الفاظ قران پاک میں متعدد بار آئے ہیں کسی نبی کے ہاتھ پر کوئی خارق عادت فعل سرزد ہو تو معجزہ کہلاتا ہے۔ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ہو تو کرامت کہلاتی ہے۔ تاہم یہ سب کچھ باذن اللہ یعنی اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔ کسی انسان ، نبی ، ولی کا اپنا اختیار نہیں ہوتا۔
معجزات کا انکار :
موجودہ زمانے کے بعض منکرین معجزات نے ایسی آیات کی عجیب و غریب تاویلیں کی ہیں۔ انہوں نے اس آیت میں مذکورہ پرندوں سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری لیے ہیں ، جنہیں آپ نے تیزی سے جانے کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے مادر زاد اندھوں سے جاہل لوگ مراد لیے ہیں۔ اسی طرح وہ کوڑھی سے گندے اور غلیظ لوگ مراد لیتے ہیں۔ پرویز جیسے منکرین نے کمال الٹے معنی لیے ہیں۔ حالانکہ قرآن پاک میں معجزات کا صریح تزکرہ موجود ہے مثلاً پتھروں سے پانی نکلنا ، اور اونٹنی کا چٹان سے پیدا ہونا ، عصا ، ید بیضا وغیرہ۔ اس کے علاوہ حضرت داود اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) کے کئی ایک معجزات کا ذکر صریح الفاظ میں موجود ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے جلائی جانے والی آگ کا معجزہ بڑا واضح ہے۔ یہ تمام معجزات اہل ایمان کے ایمان کا حصہ ہیں اور ان سے انکار کی مجال نہیں۔ مگر کتنے ہی دہریے ، نیچری ، قادیانی ، لاہوری ، سرسید احمد خاں اور پرویز وغیرہم گمراہ لوگ ہیں۔ جو صریح معجزات کی بیہودہ تاویلیں کرتے ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت پر ہی یقین نہیں کہ وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ ان منکرین نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بغیر باپ کے پیدائش کا بھی انکار کردیا ہے۔ یہ کفر کی باتیں ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے۔ آمنا وصدقنا کہے ۔ اگر کوئی چیز انسانی شعور میں نہ بھی آئے ، تو اس پر ایمان لانا چاہئے۔ انکار نہیں کرنا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی فرماتے ہیں کہ ہم ہر چیز کو عقل سے بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اعلی دماغ والے لوگ معجزات کی حقیقت سے آگاہ ہوسکتے ہیں مگر عام لوگوں کے سامنے ایسی چیزوں کا اظہار مناسب نہیں ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ومصدقا لما بین یدی من التوراۃ میں اپنے سے پہلے نازل ہونے والی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں۔ ہر نبی اپنے سے پہلی کتاب کی تصدیق کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس نبی سے چاہیں کسی پہلے نازل شدہ حکم کو منسوخ کرا دیں۔ اللہ تعالیٰ جس نبی سے چاہیں کسی پہلے نازل شدہ حکم کو منسوخ کرا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے کہلوایا کہ میں تورات کا مصدق ہوں ، اس کا منحرف نہیں ہوں۔
فرمایا مجھے یہ فرض بھی سونپا گیا ہے۔ ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم۔ تاکہ میں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر بنی اسرائیل پر مچھلی ، چربی اور بعض دوسری چیزیں حرام تھیں۔ ان اشیاٗ کو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے حلال قرار دیا۔ یہ بات قابل وضاحت ہے کہ حلت و حرمت کی نسبت جب نبی کی طرف ہوتی ہے۔ تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ نبی حلت و حرمت کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے۔ وگرنہ کسی چیز کی حلت و حرمت اللہ تعالیٰ کی صفاتِ خاصہ میں سے ہے۔ نبی اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دیتا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے پاس اس بات کا قطعی علم آگیا ہے کہ فلاں چیز حلال ہے یا حرام ہے۔ عیسائیوں نے اسی مقام پر غلطی کی۔ جب یہ منصب انہوں نے اپنے پادریوں کو سونپ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شرک قرار دیا۔ اربابا من دون اللہ ، یہی تو ہے کہ حلال و حرام کے اختیار ات اپنے پیر پادری یا مولویوں کے سپرد کردیے جائیں۔ تو نبی کا حلال و حرام ٹھہرانا در اصل اللہ کے احکام کا اعلان ہوتا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا وجئتکم بایۃ من ربکم۔ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانیاں لے کر آیا ہوں۔ اس لیے میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ فاتقوا اللہ۔ اللہ سے ڈر جاؤ۔ واطیعون۔ اور میری بات مانو ، کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں۔ اور اسی کا حکم تم کو سناتا ہوں۔
اگلی آیت میں تمام اقوام اور ادیان کا بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے۔
Ayahs 3:51–54بنیادی عقیدہ :
گذشتہ درس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعض معجزات کا تذکرہ تھا جن کے متعلق آپ نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں ، اس لیے میرا تم سے مطالبہ ہے۔ کہ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ قرآن پاک شاہد ہے۔ کہ جن انبیاء کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ان سب نے اپنی اپنی قوم سے یہی کہا کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت صالح ، حضرت ہود ، حضرت شعیب اور حضرت لوط (علیہم السلام) کے واقعات سے یہی پتہ چلتا ہے۔ یہ بنیادی عقیدہ تخلیق آدم سے لے کر ہر دور میں ہر امت میں پایا گیا ہے۔ اور انبیاء اسی عقیدے کی تعلیم دیتے آئے ہیں۔ یہاں پر بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے اسی عقیدے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان اللہ ربی و ربکم۔ بیشک میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے۔ وہی خالق ہے ، وہی مالک ہے اس لیے فاعبدوہ عبادت بھی اسی کی کرو۔ یہ عقیدہ دین کی اساس ہے اور تمام انبیاٗ کی بنیادی تعلیم یہی ہے۔ اسی سے عیسائیوں کے باطل عقیدہ کا بھی رد ہوتا ہے۔ جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا یا خود خدا مانتے ہیں ، میرا اور تمہارا سب کا رب تو ایک وحدہ لا شریک ہے۔ تم خواہ مخواہ مجھ میں ربوبیت کی صفت مانتے ہو۔
اعتقاد اور عمل :
یہاں پر دو باتیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمائی ہیں۔ پہلی بات ہے۔ ان اللہ ربی وربکم۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں۔ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اس بیان کے ذریعے سمجھانا یہ چاہتے ہیں۔ کہ دیکھو بھائی ! ہم سب مخلوق ہیں۔ میرا اور تمہارا سب کا رب ایک ہی ہے ہماری سب کی منزل بھی ایک ہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور الوہیت پر ایمان لانا۔ اور یاد رکھو ! جب تک کسی شخص کا اعتقاد برحق نہ ہو ، اس کی قوت عقلی اور علمی کامل نہیں ہوسکتی۔ لہذا اس قوت کو کامل بنانے کے لیے اعتقاد کی سچائی اور اس کی پختگی ضروری ہے۔ اور پھر اعتقاد برحق کی آخری منزل اللہ تعالیٰ کی الوہیت پر کامل ایمان لانا ہے اگر عقیدے میں شرک شامل ہوگیا ، تو عقیدہ فاسد ہوجائیگا اور قوت علمیہ ضائع ہوجائے گی۔ اور انسان کو مطلوبہ کمال کبھی حاصل نہیں ہوسکے گا۔
امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں دوسری بات فاعبدوہ ہے۔ اور یہ چیز قوت عملیہ کی تکمیل کے لیے ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خالص عبادت کرے اس کے اوامرو نواہی پر عمل کرے۔ اس طرح اس کی قوت عملی بھی کمال کو پہنچ جائے گی۔ پھر جب قوت علمی اور قوت عملی دونوں اپنے معایر کو پہنچ جائیں گی تو فرمایا ھذا صراط مستقیم یہی وہ سیدھا راستہ ہے جس کی طلب ہر مسلمان ہر نماز میں کرتا ہے اور کہتا ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ یہی وہ راستہ ہے جس کی تعلیم تمام انبیاٗ کرام دیتے آئے ہیں۔ ھذا صراط علی مستقیم۔ یہ اساسی اعتقاد ہے۔ جس کو چھوڑ کر یہودی گمراہ ہوگئے۔ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تباہ و برباد کردیا۔ برخلاف اس کے عیسائیوں نے اللہ کے بندے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کے درجے تک پہنچایا۔ وہ بھی صراط مستقیم سے بھٹک گئے۔ اور ناکام ہوئے۔ جب تک یہ اساسی عقیدہ درست نہیں ہوگا ، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری : فرمایا۔ فلما احس عیسیٰ منہم الکفر۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کی طرف سے کفر محسوس کیا۔ یہ لوگ آپ کے سخت مخالف تھے۔ آپ کو طرح طرح سے تکالیف پہنچاتے تھے۔ جب ان کی عداوت حد سے بڑھ گئی تو آپ نے فرمایا۔ قال من انصاری الی اللہ۔ کون ہے جو میری مدد کرے اللہ کی راہ میں بعض فرماتے ہیں ۔ کہ چونکہ یہودیوں نے عیسیٰ کی بات نہ مانی ، اس لیے آپ نے غیر بنی اسرائیل کے لوگوں سے خطاب کیا کہ مطلقاً میری مدد کرنے والا کون ہے۔ اس موقع پر ، قال الحواریون ، حواریوں نے کہا۔ نحن انصار اللہ ، ہم اللہ کے مددگار ہیں۔
حواری وہ مخلص لوگ ہیں۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ حور سفیدی کو کہتے ہیں ، یعنی وہ چیز جو خالص ہو۔ یہ لوگ بھی چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخلص تھے ، اس لیے ان کو حواری کہا گیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ یہ لوگ دھوبی تھے اور کپڑے دھویا کرتے تھے۔ ان پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا گزر ہوا ، تو وپوچھا کیا کرتے ہو ، عرض کیا ، ہم کپروں کو میل کچیل سے صاف کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تم کپڑوں کو صاف کرتے ہو ، آؤ ! میں تمہیں دلوں کی صفائی کا راز بتاؤں۔ وہ لوگ آپ کے معتقد ہوگئے۔ اور آپ کی مدد کرنے لگے۔ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ وہ بنی اسرائیل سے تھے یا غیر بنی اسرائیل سے۔ تاہم زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ لوگ بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اور تعداد میں بارہ تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انہیں مختلف مقامات پر تبلیغ کے لیے بھیجتے اور یہ اللہ کا پیغام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) انہیں مختلف مقامات پر تبلیغ کے لیے بھیجتے اور یہ اللہ کا پیغام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منشاٗ کے مطابق لوگوں تک پہنچاتے۔ بہرحال حواری مخلص دوست پر بولا جاتا ہے۔ اور حور بمعنی سفید اس لیے کہ ان کے دل پاک اور سفید تھے۔ توحید سے لبریز تھے اور ہر قسم کی دورت سے پاک تھے۔
حدیث شریف میں آتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ لکل نبی حواری۔ ہر نبی کا کوئی مخلص دوست اور ساتھی ہوا کرتا ہے۔ اور میرا حواری زبیر ہے ، جو آپ کے پھوپھی اور عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ بڑے بہادر مجاہد تھے اللہ تعالیٰ نے اتنا حوصلہ اور قوت ایمان دی تھی۔ کہ جنگ یرموک میں لاکھوں دشمنوں کی صفوں میں تن تنہا گھس گئے۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے۔ کہ حضرت زبیر نے اپنے بیٹے عروہ سے کہا ، میرے جسم میں ایک انجچ جگہ بھی ایسی نہیں جہاں تیر یا تلوار کا زخم نہ آیا ہو۔ ایک دفعہ نیزہ آپ کے کندھے سے پار ہوگیا تھا۔ زخم پوری طرح بھرا نہیں تا۔ بلکہ کندھے میں سوراخ بن گیا تھا۔ عروہ اس میں ہاتھ ڈال کر کھیلا کرتے تھے۔ بہرحال حضور ﷺ نے حضرت زبیر کو اپنا حواری بتایا۔
الغرض ! حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں ، یعنی ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں۔ کیونکہ خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ان نصروا اللہ ینصرکم جو اللہ کے دین کی مدد کرتا ہے ، اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اللہ کو اپنی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ تو غنی ہے اور وہ خود ہر ایک کا مددگار ہے۔ اللہ کی مدد سے مراد اللہ کے دین ، اس کی کتاب ، اس کے نبی ، اس کی شریعت اور عقیدہ حق کی مدد ہے ، اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے تن من گھن کی بازی لگا دینا ہی اللہ کی مدد ہے۔
حواریوں نے اپنے اس دعوی کی تائید میں کہ ہم اللہ کے مددگار ہیں ، یہ بھی کہا ، امنا باللہ ، ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے۔ واشھد بانا مسلمون۔ آپ بھی گواہ بن جائیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ اس طرح حواریوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان کا گواہ بنا لیا۔
حواریوں کی دعا :
عیسی (علیہ السلام) کے حواریوں نے اللہ رب العزت کے حضور دعا بھی۔ ربنا امنا بما انزلت۔ اے ہمارے پروردگار ! بیشک ہم ایمان لائے ہیں۔ اس چیز کے ساتھ جو تو نے نازل کی ہے۔ یعنی کتاب واتبعنا الرسول اور ہم نے رسول (عیسی علیہ السلام) کی پیروی کی ہے۔ فاکتبنا مع الشھدین۔ لہذا ہمیں بھی گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ گویا کتاب و سنت کے ساتھ اپنا متعلق محکم کرنے کے بعد اللہ کے ہاں اپنے ایمان کی رجسٹری کرا رہے ہیں۔ تاکہ قیامت کے دن اپنے ایمان کا پورا پورا بدلہ پا سکیں۔ یہ ہے وہ نقشہ جو قرآن پاک نے حواریوں کا کھینچا ہے۔ البتہ انجیل میں ان حواریوں کا بالکل معکوس نقشہ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے تو حواریوں کا ایمان بھی ثابت نہیں ہوتا۔ یہ حواریوں کا قصور نہیں ، بلکہ ان یہودیوں کی تحریف کا نتیجہ ہے ، جن کے ہاتھ میں تورات اور انجیل رہی۔ یہ دونوں کتابیں تحریفات سے پر ہیں۔ خود عیسائی پادریوں کا بیان ہے کہ انجیل میں تین ہزار غلطیاں موجود ہیں۔ تحریف شدہ تورات میں انبیاء سے بڑی غلط باتیں منسوب کی گئی ہیں ، حتی کہ کفر و شرک اور بےحیائی تک ان سے منسوب ہے یحرفون الکلم عن مواضعہ ، یہ لوگ بائیبل کے ہر ایڈیشن میں کوئی نہ کوئی تبدیلی کرتے رہے ہیں۔ اس طرح انہوں نے خدا کی تابوں میں ردوبدل کردیا ہے۔ خود ان کی اپنی ذہنیت بگڑ چکی ہے مفسد اور سازشی ذہن رکھتے ہیں اور ہمیشہ بنی نوع انسان کی برائی کی تدبیریں سوچنے والے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام لوگ ان کے دام فریب میں پھنس جائیں اور پھر وہ انہیں جس طرح چاہیں گمراہ کرتے رہیں۔ یہ کم بخت ایسی ایسی سکی میں تیار کرتے ہیں۔ جن کے نتائج سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال بعد سامنے آئیں۔
یہودیوں کی سازش :
شام و فلسطین کے یہودی شاہ روم کی عمل داری میں تھے تاہم انہیں مقامی طور پر کچھ آزادی بھی حاصل تھی بالکل ایسے ہی جیسے کسی وفاق میں صوبوں کو صوبائی معاملات میں قدرے خود مختاری ہوتی ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) ان بدبختوں کی برائیوں کی نشاندہی کرتے تھے ، جس کی وجہ سے یہ ان کے مخالف تھے ، آپ کو گالیاں دیتے ، پتھر مارتے ، آپ کے خلاف غلط پراپیگنڈا کرتے ، ان کے خلاف سازشیں کرتے ، غرضیکہ آپ کی ایذا رسانی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے۔ کہتے کہ یہ شخص تورات کا انکار کرکے دین کو بگاڑ رہا ہے۔ آپ پر ملحد ہونے کا الزام لگایا گیا اور آپ کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا۔ بہرحال انہوں نے ایک مخفی تدبیر کی۔ کہ عیسیٰ کو عدالت میں پیش کرکے آپ کو سزائے موت دلائیں۔ اس ضمن میں آپ کو ایک مکان میں بند کردیا گیا ، تاکہ آپ ان کی گرفت سے نکل نہ سکیں۔ آپ کے خلاف اسی سازش کا تذکرہ کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ومکروا ، اور انہوں نے خفیہ تدبیر کی۔ بعض اوقات لفظ مکر سے غلط فہمی ہوتی ہے۔ اردو اور پنجابی میں مکر سے مراد فریب اور دھوکا ہے۔ جب کہ عربی زبان میں یہ لٖط خفیہ تدبیر کے لیے بولا جاتا ہے۔ بہرحال یہودیوں نے خفیہ تدبیر کی ، کہ کسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرادیا جائے۔ اور ادھر اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اسی منشاء کے متعلق فرمایا۔ ومکر اللہ ۔ اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی ، وہ اپنے بندے کو یہودیوں کے ناپاک ہواتھوں سے محفوظ کرنا چاہتا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جس طرح آسمانوں پر اٹھا لیا اس کا ذکر آگے آئیگا۔ فرمایا۔ واللہ خیر المکرین۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ یہ مشہور مقولہ ہے۔ کہ جو اپنے بھائی کے لیے کنواں کھودتا ہے۔ (چاہ کندہ را چاہ درپیش) وہ خود اسی میں گرتا ہے۔ جو کسی کے لیے بری تدبیر کرتا ہے ، وہ خود اس کا شکار ہوجاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کامیاب ہوئی۔ اللہ نے انہیں وہاں سے صحیح سلامت نکال لیا۔ اور یہودی اپنی سازش میں کامیاب نہ ہوسکے۔ آگے آپ کے آسمان پر اٹھائے جانے کی تفصیلات آئیں گی۔