Ayahs 3:183–185ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے بخل اور حرص کا تذکرہ کرکے ان کی مذمت کی تھی۔ وہاں ان کی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں اس گستاخی کا بیان بھی تھا جس میں انہوں نے کہا۔ کہ اگر اللہ ہم سے قرض حسن مانگتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے ۔ کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وہاں پر متنبہ کردیا تھا۔ کہ اس نے ان گستاخانہ کلمات کو تحریر کرلیا ہے۔ نیز یہ بھی بتا دیا تھا کہ ان کے آباء و اجداد کے قتل انبیاء کے فعل کو بھی اس نے لکھ رکھا ہے۔ اور قیامت کے دن انہیں جلا دینے والے عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا۔ در اصل قبولیت اسلام کے خلاف اہل کتاب کی یہ حیلہ سازی تھی۔ وگرنہ وہ اسلام کی سچی اور مبنی بر حقیقت دعوت کو ٹھکرا نہیں سکتے تھے۔ انہیں حقیقت حال کا علم ہوچکا تھا۔ مگر وہ محض اپنی ہٹ دھرمی عناد اور ضد کی وجہ سے اسلام قبول کرنے پر تیار نہ ہوتے تھے۔ انہیں علم تھا کہ اگر انہوں نے اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرلیا تو پھر ان کی سیادت قائم نہیں رہ سکے گی اور ان کے اکل حرام مشمولہ سود کے تمام راستے بند ہوجائیں گے۔ اب آج کے درس میں ہے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ایک اور حیلے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ انہوں نے کہا۔ کہ ہم تو صرف اسی صورت میں ایمان لائیں گے جب اللہ کا رسول ہمارے پاس ایسی قربانی لے کر آئے جسے آگ ہمارے سامنے کھا جائے۔ اس درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس بےہودہ بہانے کا جواب بھی دیا ہے۔
سرمایہ داری کی لعنت : سرمایہ داری ہمیشہ قبول حق میں مانع رہی ہے۔ سابقہ انبیاء کے دور میں بھی یہی چیز تھی۔ بڑے بڑے زر پرستوں نے ہر جائز و ناجائز طریقے سے دولت اکٹھی کر رکھی تھی۔ مال اکٹھا کرنا اور پھر اسے جائز کی بجائے ناجائز امور پر خرچ کرنا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ اللہ کے نبی انہیں حرام راستے سے دولت کمانے اور حرام راستے پر خرچ کرنے سے روکتے تھے۔
عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ، جس کی وجہ سے سرمایہ دارانہ ذہنیت کے لوگ انبیاء کے گرد جمع نہیں ہوتے تھے۔ بلکہ ان کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے تھے۔ سورة ہود میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تقریر موجود ہے۔ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ، اے میری قوم ! خالص اللہ ہی کی عبادت کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں۔ نیز یہ کہ ناپ تول میں ڈنڈی نہ مارو۔ کسی کا حق نہ کھاؤ، زمین میں فساد نہ پھیلاؤ۔ بقیۃ اللہ خیر لکم ان کنتم مومنین۔ لوگوں کے حق ادا کرنے کے بعد جو چیز تمہارے پاس بچ جائیگی۔ وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو۔ اور اگر تم نے حقداروں کے حق ادا نہ کیے ، تو وہ چیز تمہارے لیے بہتر نہیں ہوگی۔ اس وعظ پر قوم سخت چین بچیں ہوئی۔ اور کہنے لگی۔ یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد اباءنا۔ اے شعیب ! کیا تمہاری نمازیں یہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے آباء و اجداد کے معبودوں کو ترک کردیں او ان نفعل فی اموالنا ما نشواء یا ہم اپنے مالوں میں جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ تم ہمیں اس کام سے بھی روکنا چاہتے ہو۔ تم ہمارے مال پر پابندی لگانا چاہتے ہو۔ ہمیں تمہاری یہ بات ہرگز قبول نہیں۔ اور اگر اللہ کا نبی یہ کہے کہ مجھ پر ایمان لا کر جو چاہے کرتے پھرو۔ تو پھر وہ سارے کے سارے نبی کے گرد اکٹھے ہوجائیں گے مگر اللہ کا پیغمبر تو انہیں شتر بےمہار نہیں چھوڑ سکتا۔ وہ تو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز سکھائیگا۔ اللہ کا نبی انہیں جائز ذرائع سے کمانے اور جائز امور پر خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہے اسی لیے تو لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اور اسے تسلیم کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں ، طرح طرح کے حیلے بہانے کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں مکہ کے دولت مند مشرکین کا بھی یہی حال تھا۔ وہ بھی حضور ﷺ کو نبی ماننے کے لیے تیار نہ تھے اور اس کے لیے کئی بہانے بناتے تھے۔
قربانی کی فرمائش : آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ایک اور حیلہ کا ذکر کیا ہے ایمان لانے کے لیے انہوں نے نبی (علیہ السلام) کے سامنے ایک اور شرط پیش کی۔ ارشاد ہوتا ہے۔ الذین قالوا ان اللہ عھد الینا الا نومن لرسول حتی یاتینا بقربان تاکلہ النار۔ وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمارے ساتھ عہد کیا ہے کہ ہم کسی رسول پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں ، جب تک وہ ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لائے جس کو آگ کھا جائے۔ امام رازی اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق تو ایسی بات کی تھی کہ جو شخص نبوت کا دعوی کرے۔ اسے اس قسم کی سوختنی قربانی پیش کرنے کو کہاجائے مگر دو نبی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اس شرط سے مستثنی قرار دے دیا۔
سابقہ امتوں میں مال غنیمت کا استعمال بھی جائز نہیں تھا۔ لہذا محاذ جنگ سے حاصل ہونے والا مال لوگ استعمال بھی جائز نہیں تھا۔ لہذا محاذ جنگ سے حاصل ہونے والا مال لوگ استعمال نہیں کرتے تھے بلکہ سارا سامان ایک مقام پر اکٹھا کردیا جاتا تھا۔ آسمان سے سفید رنگ کی معجزانہ آگ آتی تھی جو اسے جلا کر راکھ کردیتی تھی۔ اور ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ کہ چونکہ یہ مال ان لوگوں کے لیے حلال نہیں تھا۔ اس لیے وہ خود ہی اسے آگ لگا کر ضائع کردیتے ہوں۔ مگر نبی آخر الزمان کی امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کو حلال قرار دیا ہے۔ صحیح حدیث میں حضور نبی کریم علیہ الصلوہ والسلام کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری عاجزی اور ضعف کو دیکھ کر ہمارے لیے مال غنیمت جائز قرار دے دیا ہے۔ سورة انفال میں بھی موجود ہے۔ فکلوا مما غنمتم حلالا طیبا۔ مال غنیمت کے حلال اور طیب مال میں سے کھاؤ۔
بائیبلکی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ہاں قربانی کی قبولیت کی نشانی یہ تھی کہ آسمان سے آگ نازل ہو کر اسے جلا دیتی تھی۔ چناچہ بعض مواقع پر کوئی نبی سوختنی قربانی کرتا تھا تو آگ اسے جلا دیتی تھی۔ جو نبی کی صداقت کی دلیل سمجھی جاتی تھی سورة مائدہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کی قربانی کا ذکر ہے کہ ان میں سے ایک کی قبول ہوگئی اور دوسرے کی نہ ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق وہاں بھی مقبولیت کی نشانی یہی تھی کہ اسے آگ نے جلا دیا تھا جب کہ دوسری غیر مقبول قربانی صحیح سلامت بچ گئی تھی۔ الغرض ! اہل کتاب نے نبی ﷺ سے ایسی ہی معجزانہ قربانی کی فرمائش کی ، اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے عہد کر رکھا ہے کہ جب تک ایسی قربانی کا مشاہدہ نہ کرلیں ہم کسی رسول پر ایمان نہیں لائیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اس فرمائش کے جواب میں فرمایا۔ قل اے پیغمبر (علیہ السلام) ! ان کو کہہ دیجئے۔ قد جاء کم رسل من قبلی۔ مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے رسول آئے ہیں بالبینات۔ واضح باتیں لے کر۔ بینات معجزے کو بھی کہتے ہیں اور واضح احکام پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ جیسے نماز روزہ ، توحید ، صبر ، شکر ، خدا کا ذکر وغیرہ یہ سب بینات اور دین کے بڑے اہم اصول ہیں۔ اللہ کے نبی ہر بات میں واضح دلائل پیش کرتے ہیں۔ خاص طور پر توحید کے متعلق تو بڑے بڑے عقلی اور نقلی دلائل اور مشاہدہ کے ہزاروں دلائل پیش کیے گئے ہیں جن کو سن کر اور دیکھ کر ہر سلیم الفطرت انسان تسلیم کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ اور عنادی ذہن والے لاجواب ہوجاتے ہیں اور جہالت پر اتر آتے ہیں۔ اس سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے توحید باری تعالیٰ کے متعلق ، عقلی ، نقلی اور مشاہداتی دلائل کتنے مضبوط تھے جن کا جواب نہ باپ دے سکا ، نہ بادشاہ وقت اور نہ ساری قوم نتیجہ یہ ہوا کہ دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے مارپیٹ پر تیار ہوگئے ، باپ نے گھر سے نکال دیا۔ حتی کہ پوری قوم دشمن جان بن گئی۔ اسی لیے فرمایا کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ ان سے کہہ دیں کہ مجھ سے پہلے بھی اللہ کے رسول واضح دلائل لے کر آئے ہیں۔ وبالذی قلتم۔ اور وہ چیز بھی لائے ہیں جسکی تم لوگ فرمائش کر رہے ہو۔ یعنی مجھ سے پہلے اللہ کے نبی سوختنی قربانی کی دلیل بھی تمہارے آباء و اجداد کے سامنے پیش کرچکے ہیں مگر انہوں نے پھر بھی انکار کردیا۔
تورات میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قربانی کا ذکر موجود ہے۔ بعل نامی بت کے پجاری یہی یہودی تھے۔ ان کو حضرت الیاس (علیہ السلام) نے کہا کہ آؤ میدان میں نکلو ، ایک بیل میں اللہ کے نام پر قربان کرتا ہوں۔ تم ایک بیل اپنے بت بعل کے نام پر قربان کرو ، پھر دیکھتے ہیں کہ کس کی قربانی کو آسمانی آگ جلا کر قبولیت کے درجہ تک پہنچاتی ہے۔ چناچہ دونوں قربانیاں کی گئیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قربانی کو آگ نے جلا دیا اور اسرائیلیوں کی قربانی ویسی کی ویسی رہی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اب یہودی حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی تسلیم کرلیتے مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے ، بلکہ آپ کے اور زیادہ دشمن ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے نبی کو پہاڑوں میں پناہ لے کر جان بچانا پڑی۔ حتی کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے۔ فرما ای تمہارے آباء و اجداد نے منہ مانگا معجزہ دیکھنے کے باوجود فلم قتلتموھم۔ پس تم نے یعنی تمہارے آباء و اجداد کے نام پر قربان کرو ، پھر دیکھتے ہیں۔ کہ کس کی قربانی وک آسمانی آگ جلا کر قبولیت کے درجہ تک پہنچاتی ہے۔ چناچہ دونوں قربانیاں کی گئیں۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قربانی کو آگ نے جلا دیا اور اسرائیلیوں کی قربانی ویسی کی ویسی رہی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اب یہودی حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اللہ کا نبی تسلیم کرلیتے مگر وہ اپنی ضد پر اڑے رہے ، بلکہ آپ کے اور زیادہ دشمن ہوگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے نبی کو پہاڑوں میں پناہ لے کر جان بچانا پڑی۔ حتی کہ وہ اپنے ملک سے ہجرت کر گئے۔ فرمایا تمہارے آباء و اجداد نے منہ مانگا معجزہ دیکھنے کے باوجود۔ فلم قتلتموھم۔ پس تم نے یعنی تمہارے آباء و اجداد نے ان کو کیوں قتل کیا۔ کیوں ان کی جان کے دشمن بنے۔ فرما ایا اس بات کا جواب دو ان کنتم صدقین۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ مقصد یہ کہ آج تم مجھ سے وہی پرانا قربانی والا معجزہ طلب کر رہے ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری فرمائش پوری بھی کردے ، پھر بھی تم ماننے پر تیار نہ ہوگے بلکہ کسی اور حیلے بہانے سے انکار کردوگے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اس کے متبعین کو تسلی دی اور فرمایا اے اہل حق ! آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ بیشک یہ لوگ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں۔ فان کذبوک۔ اگر یہ لوگ ایسا کرتے ہیں ، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ فقد کذب رسل من قبلک۔ بیشک آپ سے پہلے بھی اللہ کے رسول جھٹلائے گئے ہیں۔ جس طرح آج آپ کی قوم آپ کا انکار کر رہی ہے اسی طرح سابقہ قومیں سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کا انکار کرتی رہی ہیں اور نبی بھی ایسے۔ جاء و بالبینت والزبر۔ جو کھلی نشانیاں یعنی معجزات اور دلائل لے کر آئے۔ اور بڑی نصیحت آموز باتیں لے کر اللہ کی طرف سے مبعوث ہوئے۔ زبر صحیفے کو کہتے ہیں جس میں وعظ و نصیحت کی باتیں ہوں۔ اسی لیے حضرت داود (علیہ السلام) کا صحیفہ زبور کہلاتا ہے۔ صحیفے میں احکام اتنے زیادہ نہیں ہوتے البتہ معاشرتی پندونصائح ہوتے ہیں۔ فرمایا اس کے علاوہ اللہ کے وہ پیغمبر۔ والکتب المنیر۔ روشن کتاب بھی لے کر آئے ، مگر پھر بھی تمہاری قوم نے انہیں تسلیم نہ کیا۔ روشن کتاب سے مراد ایسی کتاب ہے جس میں وعظ و نصیحت کے علاوہ ہر قسم کے احکام منجملہ حلال و حرام کے احکام ، سیاسی اور معاشی احکام ، جہاد ، عبادات اور دیگر معاشرتی احکام موجود ہوں۔ فرمایا اللہ کے نبیوں نے تمام حجت پوری کردی مگر ان لوگوں نے ان کا نہ صرف انکار کیا ، بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوئے۔ لہذا اے پیغمبر ! آپ بد دل نہ ہوں۔ پیغمبروں کو جھٹلانا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ یہ لوگ اپنی عادت سے باز نہیں آئیں گے۔ لہذا آپ اپنا کام کرتے چلے جائیں۔
موت اور جزائے عمل : فرمایا۔ کل نفس ذائقۃ الموت۔ ہر ایک نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ، کوئی ذی روح موت سے نہیں بچ سکتا۔ یہ قطعی اور یقینی بات ہے۔ افائن مت فھم الخلدون۔ جس طرح نبی اور اس کے ماننے والے موت سے ہم کنار ہوں گے ، اسی طرح ان کے مخالفین کو بھی یہی گھاٹی لازما عبور کرنا ہوگی۔ یہ زندگی ختم ہوجائے گی اور سب کو نئی زندگی داخل ہو کر رب العزت کی بارگاہ میں پیش ہونا ہوگا۔ وانما توفون اجورکم یوم القیمۃ۔ اور پھر فیصلے کے دن تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اس میں نہ کمی ہوگی اور نہ کسی پر ظلم کیا جائے گا۔ ہر شخص کو اس کے کیے کا پھل مل جائے گا۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جیسا انسان کا اپنا وجود۔ جس طرح انسان کے اپنے جسم کے موجود ہونے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح جزائے عمل بھی لاریب واقع ہو کر رہے گی۔ فمن زحزح عن النار وادخل الجنۃ فقد فاز۔ پس جو شخص دوزخ سے دور کردیا تیا ، اور جنت میں داخل کردیا گیا ، وہ کامیاب ہوگیا یہی ایسی کامیابی ہے جس کے مقابلے میں دنیا کی بڑی سے بڑی دولت ، سرمایہ اور اقتدار سب ہیچ ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان دوزخ سے بچ کر جنت کا داخلہ حاصل کرلے جو ہمیشہ کے لیے خدا تعالیٰ کی رحمت کا مقام ہے۔ جو وہاں پہنچ گیا۔ وہ حظیرۃ القدس کا ممبر بن گیا اور اسی کے لیے فلاح و کامیابی ہے۔
دنیا دھوکہ محض ہے : فرمایا وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور۔ اور دنیا کی زندگی محض دھوکے کا سامان ہے۔ شیطان بہت بڑا دھوکے باز ہے اس نے لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ آدمی اس دنیا کے کاموں میں مگن ہو کر اس کو مستقل ٹھکانا سمجھنے لگتا ہے اور آخرت کے انجام سے غافل ہوجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر لوگ حقیقت سے بےبہرہ ہو کر دین حق کی مخالفت پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں اور پھر بد اعمالی اور بدعقیدگی کا ذخیرہ جمع کرکے آخرت میں نامراد و ناکام ہوجاتے ہیں۔ اس واسطے فرمایا کہ دنیا دھوکے کا سامان ہے اس سے ہوشیار رہنا چاہئے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے قبول حق میں اہل کتاب کے جھوٹے حیلے بہانوں کی مذمت بیان فرمائی اور نبی (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کو تسلی دی کہ تکذیب حق سے پریشان نہ ہوں۔ اللہ والوں کو ایسی آزمائشوں سے ہمیشہ گزرنا پڑا ہے۔
Ayah 3:186ربط آیات : گذشتہ دروس میں پیغمبر خدا ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کو اہل کتاب کی ایذا رسانیوں کے خلاف تسلی دی گئی تھی۔ کہ اگر یہ لوگ آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ اس سے دل برداشتہ نہ ہوں ، کیونکہ یہ لوگ تو ہمیشہ سے اللہ کے نبیوں کی تکذیب کرتے رہے ہیں حالانکہ وہ پیغمبر اللہ کی طرف سے واضح نشانیاں ، کتاب اور نصیحت آموز باتیں لے کر آتے رہے۔ فرمایا اہل کتاب کی بےہودہ باتوں سے قطع نظر آپ تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں۔ نیز فرمایا کہ ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور اس گھاٹی کو عبور کرکے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش ہونا ہے وہاں ہر ایک کو اس کے کیے کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی۔ آج کے درس میں بھی اہل کتاب اور مشرکین کی اسی قسم کی اذیت رساں باتوں کا تزکرہ کرکے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو تسلی دی گئی ہے۔ کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔
اصول ابتلا : ارشاد ہوتا ہے۔ لتبلون۔ اے اہل ایمان ! البتہ تم ضرور آزمائے جاؤگے یہاں پر ل تاکیدی اور ن ثقیلہ دونوں آئے ہیں اور یہ دونوں حروف تاکید کے لیے آتے ہیں ، لہذا معنی یہ ہوا کہ تمہاری آزمائش لازماً ہوگی۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور آزمائش کس چیز میں ہوگی ، فرمایا فی اموالکم وانفسکم ۔ تمہارے مالوں میں بھی آزمائش ہوگی اور جانوں میں بھی ہوگی۔ یعنی دیندار لوگوں کو مالی اور جانی ہر دو لحاظ سے آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا۔ تاکہ پتہ چل جائے کہ دین کے معاملہ میں پرخلوص کون ہے اور کمزور ایمان والا کون ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ یبتلی الرجل علی قدر دینہ۔ انسان اپنے دین کے مرتبے اور مقدار کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ کوئی شخص جس قدر دین میں مضبوط ہوگا۔ بسا اوقات اس کی آزمائش بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے۔ آزمائش کا یہ قانون اللہ تعالیٰ نے کئی ایک سورتوں میں بیان فرمایا ہے۔
سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے۔ ولنبلونکم بشیء من الخوف والجوع و نقص من الاموال والانفس والثمرات۔ اور ہم تمہاری ضرور آزمائش کریں گے خوف اور بھوک کے ذریعے اور مال ، جان اور پھلوں کے لیے نقصان کے ذریعے۔ جب بھی مالی یا جانی نقصان ہوتا ہے ، اہل ایمان کے لیے آزمائش ہوتی ہے۔ کہ اس تکلیف پر وہ کہاں تک ثابت قدم رہتا ہے۔ سورة انبیاء میں آتا ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ ہم خیر و شر دونوں طریقوں سے آزماتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس دنیا کو دار الابتلاء کہاجاتا ہے اس دنیا کو کوئی مستقل گھر نہ سمجھ بیٹھے ، یہ تو آزمائش کا گھر ہے۔ اکثر مقامات پر آزمائش کے سلسلہ میں مال و جان کا ذکر کیا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے۔ کہ کسی کو مال اور اولاد دے کر آزمایا جاتا ہے اور کسی سے یہ چیزیں واپس لے کر آزمائش میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ کبھی بیماری میں مبتلا کرکے آزمایا جاتا ہے اور کبھی جہاد میں جامِ شہادت پلا کر انسان کی کڑی آزمائش ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ عام قانون بتا دیا تاکہ اللہ والے ہر وقت امتحان سے گزرنے کے لیے تیار ہیں۔ ایک ابتلاء جنگ احد میں آئی تھی تو اس کے بعد بھی کوئی امتحان آسکتا ہے۔ لہذا اہل ایمان کو اس سے گبھرانا نہیں چاہئے۔
تکلیف دہ باتیں : اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک دوسری آزمائش کے متعلق خبردار کیا۔ ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم۔ تم ضرور سنو گے ان لوگوں کی طرف سے جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی۔ ومن الذین اشرکوا۔ اور ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا۔ اذی کثیرا۔ بہت سی تکلیف دہ باتیں ، یعنی یہود و نصاری اور مشرکین کی طرف سے تمہیں اذیت ناک باتیں سننا پڑیں گے۔ ایسی تکلیف دہ باتیں وہ پہلے بھی کرتے آئے ہیں اور آئندہ بھی باز نہیں آئیں گے۔ لہذا اہل ایمان کو اس کے لیے بھی تیار رہنا چاہئے۔ مشرکین کے متعلق تو مکی سورتوں میں آپ جگہ جگہ پڑھتے ہیں کہ وہ قرآن پاک ، پیغمبر خدا اور اہل ایمان کے متعلق کس قسم کی زبان استعمال کرتے تھے۔ اس وقت سے لے کر یہ اذیت ناک سلسلہ آج تک جاری ہے۔ مشرکین کو دنیا میں جہاں کہیں غلبہ حاصل ہوتا ہے یا انہیں موقع ملتا ہے۔ وہ اہل ایمان کو ذلیل کرنے سے باز نہیں آتے۔ باقی رہے اہل کتاب تو ان کے متعلق آپ جانتے ہیں کہ ہجرت کے وقت مدینہ کے گردونواح میں جو یہودی آباد تھے انہوں نے اہل اسلام کے متعلق کیا کیا شوشے چھوڑے ، اور نئے نئے مسلمانوں پر یکس طرح عرصہ ھیات تنگ کرنے کی کوشش کی۔ کعب بن اشرف یہودیوں کا دولت مند تاجر اور سردار تھا۔ وہ بدبخت شعر بھی کہتا تھا۔ اور اپنے اشعار میں حضور ﷺ کی ہجو بیان کرتا تھا۔ اور ایسے قبیح اشعار سر عام پڑھنے کی دوسروں کو بھی ترغیب دیتا تھا۔ یہ لعین اپنے شعروں میں مسلمان پاکدامن اور باعصمت عورتوں کے ساتھ اپنے عشق و محبت کا اظہار کرتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے یہ چیز نہایت ہی تکلیف دہ تھی۔ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کی ذلت ناک شکست کے بعد یہ شخص مکہ گیا اور اہل مکہ کو مسلمانوں کے خلاف حملہ کرنے پر اکسایا وہ کہا کرتا تھا۔ کہ مسلمانوں کے دین کی نسبت مشرکین کا دین بہتر ہے۔ اس شخص نے معاہدہ کی خلاف ورزی بھی کی تھی ، آخر حضور ﷺ کے حکم سے مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ بعض دوسرے یہودی بھی نبی کریم ﷺ کے جانی دشمن بن گئے۔ چناچہ خیبر کے یہودیوں نے کھانے میں زہر ملا کر حضور ﷺ کو شہید کر نیکی ناکام کوشش کی۔ بعض دیگر سازشیں بھی کیں ، جو آج تک جاری ہیں۔
امیر شکیب ارسلان شام کے رئیس اور عالم تھے۔ ترکی خلافت میں عہدیدار رہے۔ پہلی جنگ عظیم میں ہسپتالوں کے انچارج تھے۔ آپ نے طرابلس کی لڑائی میں بطور مجاہد شرکت کی ، اور دوسری جنگ عظیم میں بھی انگریزوں کا مقابلہ کرتے رہے۔ انگریزوں نے شام پر قبضہ کرکے ان کو جلا وطن کردیا تھا۔ آپ نے بیس سال تک یورپ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری اور 1946 میں فوت ہوئے۔
ایک امریکی انگریز نے (The New World Of Islam) (اسلام کی دنیائے جدید) کے نام سے کتاب لکھی جس میں موجودہ دور کے مسلمانوں کے حالات قلمبند کیے۔ ایک مصری شخص نے اس کا ایک جلد میں عربی ترجمہ کیا۔ جس کا نام حاضر العالم الاسلامی رکھا۔ اور اسے امیر شکیب ارسلان کو پیش کیا کہ وہ اس کتاب کا مقدمہ تحریر فرما دیں۔ آپ نے تین جلدوں پر محیط ایک عظیم مقدمہ لکھا جس میں انگریز مصنف کی غلط بیانی کا بھی پردہ چاک کیا۔ اور اہل اسلام کے حالات کو حقیق رنگ میں پیش کیا۔ جنگ عظیم اول و دوم کے درمیانی عرصہ کی یہ ایک عظیم کتاب تھی۔ امری شکیب لکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے عیسائیوں نے قرٓان کریم اور پیغمبر خدا ﷺ کے خلاف تقریباً چھ لاکھ کتابیں شائع کی ہیں۔ اہل کتاب کی طرف سے مسلمانوں کی دل آزاری کا اندازہ اس ایک بات سے لگایا جاسکتا ہے۔
جرمنی کے نولڈک نامی ایک ناہنجار نے لکھا ہے کہ محمد ﷺ پر (نعوذ باللہ) مرگی کے دورے پڑتے تھے ، اس دوران جو کچھ آپ بڑبڑاتے ۔ لوگوں نے اسے قرآن کا نام دے دیا۔ العیاذ باللہ۔ غرضیکہ ان لوگوں سے جیسا بھی بن پڑا انہوں نے دین کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ یہودی تو ازلی ابدی سازشی ہیں ، اسلام کے خلاف انہوں نے امریکی جرمنی اور فرانسیسی انگریزوں وک بھی شامل کرلیا ہے ، بلکہ اب خود پس منظر میں رہ کر دوسروں کے ہاتھ سے اپنی خباثت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب اہل اسلام کی دل آزاری کی باتیں ہیں۔
ہندوستان میں اپنے دور اقتدار میں ایک انگریز نے اپنے کتے کا نام احمد رکھا تھا۔ اس پر ساری دنیا میں احتجاج ہوا تو اس نے معافی مانگی کہ مجھے علم نہیں تھا کہ میں نے کس قدر گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ بعض اوقات یہ بدبخت حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی تصویریں شائع کرتے ہیں یا ان کے کارٹوں اور فلمیں بناتے ہیں۔ پچھلے دنوں بعض خبیثوں نے کپڑے پر قرآن پاک کی آیات شائع کرکے اس کی تذلیل کا پہلو نکالا۔ اور پھر ایسے کپڑے سے ایسی قمیصیں تیار کیں۔ کہ بیٹھنے پر آیت الکرسی پیٹھ کے نیچے آجائے۔ اس قسم کے ملبوسات یہودیوں نے امریکہ اور نیڈا سے تیار کروا کے بھیجے تاکہ اسلام اور اہل اسلام کی تذلیل ہو۔ بعض اوقات یہ لوگ قرآن (اسلام) کو رجعت پسند مذہب اور مسلمانوں کو رجعت پسند لوگ کہتے ہیں۔
مسلمانوں کی دل آزاری کا اس بات میں بھی بہت سامان ہے۔ کہ عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ یعنی اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ انہوں نے لغت کی کتاب (منجد) میں لکھا ہے کہ مسیح کا معنی ہی ابن اللہ ہے۔ العیاذ باللہ ، یہ اللہ تعالیٰ پر کتنا بڑا بہتان ہے۔ وہ تو خود قرآن میں فرماتا ہے کہ زمین و آسمان پھٹ جائیں ، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں اس بات پر۔ ان دعوا للرحمن ولدا۔ کہ اللہ تعالیٰ کا بیٹا پکارا جائے۔ یہ اتنی سخت بات ہے۔ مگر ان لوگوں کے منہ اس قدر پھٹ چکے ہیں کہ انہیں واہی تباہی بکنے میں کچھ جھجک محسوس نہیں ہوتی۔
روسی بھی بگڑے ہوئے یہودی اور عیسائی ہیں۔ انہوں نے اشتراکیت کے سائے میں پناہ لے رکھی ہے یہ بھی اہل اسلام کو تنگ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔ دل آزاری کے نئے نئے سامان پیدا کرتے رہتے ہیں ہندوستان میں ہنود نے بھی اس سلسلہ میں پورا پورا پارٹ ادا کیا ہے۔ راجپال نے رنگیلا رسول نامی کتاب لکھ کر اہل اسلام کو غیظ و غضب کا نشانہ بنایا ، اسے ایک غریب بڑھئی نوجوان مسلمان غازی علم الدین شہید (رح) نے قتل کیا۔ دیانند سرسوتی نے اپنی کتاب کا چودھواں باب قرآن پاک کی مذمت میں لکھا تھا۔ مختلف آیات قرآنی کے ساتھ اس نے تمسخر کیا تھا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کے متعلق لکھا کہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا خدا کوئی بدو تھا جو اونٹ چرایا کرتا تھا ، اسی لیے تو صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو ناقۃ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی کہا گیا ہے۔ ان ہندوؤں نے بھی اللہ تعالیٰ پیغمبر خدا اور قرآن پاک کے متعلق ایسی ایسی ناقابل برداشت باتیں کیں ، اس معاملہ میں نصاری ، یہود اور ہنود سب اکٹھے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جاتے دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسی باتیں تم پہلے بھی سن چکے ہو اور آئندہ بھی سننی پڑیں گی ، اس کے لیے ہمیشہ تیار رہو۔
صبر کی تلقین : ان دو باتوں یعنی مال و جان میں آزمائش اور مخالفین کی طرف سے تکلیف دہ باتیں سننے کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان دو تکالیف کا علاج بھی بیان فرمایا ہے۔ وان تصبروا۔ اور اگر تم صبر کروگے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے صبر کی بہت زیادہ تلقین فرمائی ہے۔ کہیں فرمایا۔ ان اللہ مع الصبرین۔ یعنی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا۔ یا ایہا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اے اہل ایمان ! صبر اور نماز کے ساتھ استعانت پکڑو۔ سورة احقاف میں حضور ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا۔ فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لھم۔ آپ جگہ بازی نہ کریں بلکہ اولوا لعزم رسولوں کی طرح صبر سے کام لیں۔ مقصد یہ کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) اگر آپ کے مخالفین آپ کو مختلف طریقوں سے اذیت پہنچاتے ہیں تو آپ بھی ان کا اسی طریقے سے ترکی بہ ترکی جواب نہ دیں ، بلکہ صبر کا دامن تھامے رکھیں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا اہل حق کا شیوہ نہیں ، دشمن کا مقابلہ احسن طریقے سے کریں۔ اگر کسی نے کتاب لکھ کر مخالفت کی ہے۔ تو آپ اس کا جواب اسی معروف طریقے سے دیں۔ یا اگر کوئی صورت باقی نہیں رہی تو ان کے خلاف جہاد کریں ، تاکہ دنیا سے فتنے کو ختم کیا جاسکے۔ محض اشتعال انگیز باتیں سن کر مشتعل ہوجانا اصول صبر کے خلاف ہے۔
تقوی کی ڈھال : ایسی ہی اذیت ناک باتوں کا دوسرا علاج فرمایا۔ وتتقوا۔ اگر تم تقوی کی راہ اختیار کروگے۔ اللہ تعالیٰ نے تقوی کی بھی بار بار تاکید کی ہے۔ تقوی کا معنی محافظت بر حدود شرع ہے۔ یعنی کسی بھی حالت میں شریعت کی ھدود کو عبور نہیں کرنا چاہئے۔ گالی کا جواب گالی سے نہیں دیان چاہئے۔ بیہودگی کا جواب بیہودگی نہیں ہے۔ بلکہ تقوی کا تقاضا یہ ہے۔ کہ برائی کا جواب اچھائی سے دو ۔ ایسا کرنے سے لوگوں پر اس کا بہت اچھا اثر مرتب ہوگا۔ تمہارے اخلاق اور صبر سے مخالفین کے دل کمزور ہوجائیں گے اور وہ جلد ہی مغلوب ہوجائیں گے۔ ضد میں آکر ایسا نہ کریں کہ اگر اہل کتاب نے حضور ﷺ کی شان میں کوئی ایسی ویسی بات کی ہے تو آپ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یا موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں کوئی نازیبا الفاظ کہہ دیں۔ اعلیاذ باللہ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا کہ اس کے بھیجے ہوئے تمام رسول اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لاؤ۔ اہل اسلام تو ایسا ہی کرتے ہیں۔ مگر تورات کی طرف اپنی نسبت کرنے والے یہود نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیغمبر تسلیم کرتے اور نہ حضور خاتم النبیین کو۔ اسی طرح نصاری جو انجیل کے حامل ہونے کے دعویدار ہیں ، نہ قرآن پاک کو اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور نہ محمد الرسول اللہ کو اللہ کا رسول تسلیم کرتے ہیں۔ یہ سب ضد ، عناد اور تعصب کی وجہ سے ہے۔
مقصودی امور : فرمایا اگر تم صبر کروگے اور تقوے کا دامن پکڑوگے فان ذلک من عزم الامور۔ تو یہ مقصودی امور ہیں ، یعنی ایسا ہی ہونا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ ایں از کارہائے مقصود است۔ یہ چیزیں ایسے کاموں میں سے ہیں کہ جن پر پختہ عزم ہونا چاہئے۔ ایک مسلمان کے لیے لازم ہے۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام و فرامین بدل و جان قبول کرے۔ فرمایا صبر اور تقوی انہی عزم بالجزم امور میں سے ہیں۔
Ayah 3:187ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے آزمائش کو اصول بیان فرمایا تھا۔ اور مسلمانوں کو خبردار کردیا تھا۔ کہ تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے ذریعے لازمی طور پر آزمایا جائیگا۔ لہذ اس قسم کے امتحان کے لیے ہمہ وقت تیار رہو۔ نیز یہ کہ کسی مومن کا ایمان جس قدر پختہ ہوتا ہے ، اس کی آزمائش بھی اسی قدر سخت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے بڑی دل آزار باتیں سننی پڑیں گی۔ مگر ان سے دل برداشتہ ہو کر تبلیغ دین کا کام ترک نہ کر بیٹھنا ، بلکہ اپنا کام ہمیشہ اور ہر حالت میں جاری رکھنا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تکلیف دہ امور پر اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اگر تم صبر کا دامن پکڑے رہوگے کہ صبر ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تقوی کی راہ پر گامزن رہوگے ، تو یہ باتیں مقصودی امور میں سے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو صبر اور تقوی کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب دی۔ کہ ان دو سنہری اصولوں کو مضبوطی سے پکڑے رکھو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس امتحان میں کامیاب فرمائیگا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اس عہد و پیمان کا ذکر فرمایا جو ان سے عہد لیا گیا کہ تمہیں میری طرف سے جو احکام پہنچیں گے ، تم انہیں لوگوں کے سامنے بلا کم وکاست واجھ طور پر بیان کردوگے اور اس میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رکھوگے۔ مگر اہل کتاب اس عہد پر قائم نہ رہ سکے اور انہوں نے اچھی چیز کے بدلے کم قیمت چیز خرید لی جس کی وہج سے وہ امتحان میں پورے نہ اتر سکے اور ناکام ہوگئے۔
میثاق اہل کتاب : ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ واذ اخذ اللہ میثاق الذین اوتوا لکتب۔ اے پیغمبر (علیہ السلام) ! اس بات کو اپنے دھیان میں لاؤ جب اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے پختہ عہد لیا۔ میثاق وثق کے مادہ سے ہے اور اس کا معنی پختہ عہد کرنے کا ہوتا ہے۔ ایسا عہد جس کی پابندی نہایت ضروری ہوتی ہے۔ یہ اس وہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کے بارے میں بنی اسرائیل سے لا تھا ، حالانکہ عہد و پیمان تو اور بھی ہیں جن کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ مثلاً عہد الست جو عالم ارواح میں تمام نوع انسانی کی ارواح سے لیا گیا تھا۔ اللہ نے پوچھا تھا۔ الست بربکم۔ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو تمام ارواح نے بیک زبان اقرار کیا تھا۔ قالوا بلی ۔ کہ ہاں مولا کریم ! تو ہی ہمارا رب ہے۔ بنی اسرائیل سے خصوصی طور پر لیے گئے عہدوں کا ذکر بھی سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا۔ لا تعبدون الا اللہ۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور والدین اقربا ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ تو حسن سلوک کریں گے۔ اسی طرح سورة مائدہ میں ا ائے گا کہ لقد اخذنا میثاق بنی اسراء یل وارسلنا الیھم رسلا۔ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے مگر انہوں نے اپنی خواہشات کی پیروی میں بعض رسولوں کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔
بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اس عہد کا ذکر فرمایا ہے جس میں ان کو دی گئی کتاب کے متعلق فرمایا تھا۔ لتبیننہ للناس۔ کہ تم اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کروگے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ہ کی ضمیر کتاب کی طرف لوٹتی ہے اور معنی یہ ہوتا ہے۔ کہ تم اس کتاب کو ضرور ظاہر کروگے ، بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہ کی ضمیر میثاق کی طرف بھی راجع ہو سکتی ہے۔ کہ تم لوگوں کے سامنے اس عہد کا واضح اعلان کروگے کہ ہم نے اللہ سے یہ پختہ وعدہ کیا ہے۔ بہرحال عہد یہ تھا کہ تم اللہ کے احکام لوگوں کے سامنے بلا کم وکاست واضح طور پر بیان کروگے۔ ولا تکتمونہ۔ اور اسے چھپاؤ گے نہیں یہ عہد تورات و انجیل دونوں کتابوں میں موجود تھا بلکہ موجودہ تحریف شدہ کتابوں میں اب بھی ایسی آیتیں موجود ہیں۔ جن سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل سے فرمایا تھا کہ جو کتاب میں نے تم کو دی ہے اس کو لوگوں کے سامنے علی الاعلان بیان کرنا ، اس کے احکام کو ظاہر کرنا ، جو چیز میں نے تمہیں اندھیرے میں دی ہے اسے تم روشنی میں لوگوں سے بیان کرنا۔ بعض مقامات پر آتا ہے کہ اس کے متعلق اپنی اولادوں کو بتلانا۔ انجیل میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ اس کتاب کا اعلان کوٹھوں اور مکانوں پر کرنا اور منادی کرنا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتلائی ہے اور اس کو چھپانے کی کوشش نہ کرنا۔
عہد شکنی : مگر اس پختہ عہد کے باوجود اللہ نے فرمایا۔ فنبذوہ وراء ظھورھم۔ انہوں نے اس کتاب کو یا عہد کو پس پشت ڈال دیا۔ دوسری جگہ پر ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ اور پھر یہ بھی کہ کتاب میں جو چیزیں ان کے مفاد میں تھیں انہیں ظاہر کردیا اور باقی باتوں کو چھپا دیا۔ قرآن پاک کی شہادت کے مطابق جن چیزوں کو انہوں نے چھپا دیا وہ نبی آخر الزمان ﷺ کے متعلق پیشن گوئیاں تھیں جو اللہ نے تورات و انجیل میں بیان فرمائی تھیں۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ یہ لوگ حضور نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ یہ وہ نبی ہیں۔ الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل ۔ جن کا ذکر ان کی تورات و انجیل میں لکھا ہوا موجود ہے۔ سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ یعرفونہ کما یعرفون ابناءھم۔ یہ اللہ کی کتاب کو اسی طرح پہچانتے ہیں۔ جیسے اپنی اولادوں کو پہچانتے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور وہی پیغمبر ہے جس کی خوشخبری ان کی کتابوں میں موجود ہے۔ مگر یہ لوگوں کے سامنے اسے ظاہر نہیں کرتے بلکہ چھپا جاتے ہیں۔
غرض فاسد : اہل کتاب کی طرف سے کتمان حق ان کی غرض فاسد کی بناء پر تھا اور وہ یہ تھی کہ اگر قرآن پر ایمان لائیں گے ، خاتم النبیین کو رسول مان لیں گے ، تو ان کی ساری چودھراہٹ ختم ہوجائے گی۔ جیسا کہ پہلی آیتوں میں گزر چکا ہے۔ یہود کی اصل بیماری زر پرستی اور سرمایہ داری تھی جس کی وجہ سے وہ ساری برائیوں کے مرتکب ہوتے تھے۔ قرآن پر ایمان لانے کے بعد ان کے لیے دولت جمع نہیں ہوسکتی تھی۔ کیونکہ قرآن پاک تو حلال و حرام کی تمیز سکھاتا ہے۔ نہ وہ حرام ذرائع سے دولت جمع کرنے کی اجازت دیتا ہے اور نہ اسے ناجائز امور میں خرچ کرنے دیتا ہے۔ قرآن تو برائیوں کو ختم کرنے کے لیے آیا ہے۔ وہ تو صاف صاف کہتا ہے۔ لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل۔ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔ ْ سود اور رشوت کو بند کرو۔ حرام کاری کو ختم کرو۔ عیاشی ، فحاشی اور زنا پر قدغن لگا دی جاتی ہے۔ اس لیے قرآن پاک کا قانون ان لوگوں کو راس نہیں آتا۔ برطانیہ کے ایک وزیر اعظم گلیڈ سٹون نے قرآن پاک ہاتھ میں لے کر پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے لوگ مہذب نہیں ہوسکتے۔ ظاہر ہے کہ ان کی تہذیب تو یہ ہے کہ زنا اس وقت تک زنا شمار نہیں ہوتا جب تک وہ فریقین کی مرضی کے خلاف نہ ہو۔ اگر مرد و زن باہمی رضا مندی سے اس فعل کا ارتکاب کرتے ہیں ، تو قانون کی نظر میں یہ کوئی جرم نہیں۔ بلکہ وہاں تو لواطت تک کو جائز قرار دے دیا گیا ہے۔ قرآن تو حکم دیتا ہے۔ ولا تقربوا الزنی۔ یعنی زنا کے قریب تک نہ جاؤ۔ مگر یہ مہذب قوم ہر فحاشی کو جائز تصور کرتی ہے۔ قرآن شراب پر پابندی عاید کرتا ہے اور اسے رجس من عمل الشیطان۔ قرار دیتا ہے کہ یہ ناپاک ہے اور شیطانی عمل ہے جوار ، قمار بازی سب اسی حکم میں آتے ہیں۔ مگر یہود نصاری کے ہاں سب کچھ جائز ہے۔ وہ قرآن پاک کو اللہ کا کلام اور حضور نبی آخر الزماں ﷺ کو اللہ کا نبی کیسے مان سکتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ لا تشربوا الخمر فانہ مفتاح کل شیء۔ شراب مت پیو کہ یہ ہر برائی کا دروازہ کھولتی ہے۔ مقصد یہ کہ اہل کتاب اپنی من مانی غرض فاسد کی بناء پر جانتے ہیں۔ کہ یہ دونوں چیزیں برحق ہیں اور اس کی شہادت ان کی اپنی کتابوں میں موجود ہے۔ مگر وہ اسے چھپا جاتے ہیں۔
آخری امت کی بیماری : اغراض فاسدہ کی وجہ سے حقائق کو چھپا جانا اس آخری امت میں بھی عود کر آیا ہے۔ شرک و بدعات کی ترویج اسی قبیل سے ہے۔ اہل بدعت حق سے روگردانی کرتے ہوئے اپنے پیٹ کی خاطر سنت کی بجائے بدعت اور توحید کی بجائے شرک کو اختیار کرتے ہیں اور اسی کے حق میں پراپیگنڈا کرتے ہیں۔ اگر صحیح مسئلہ بتایا جائے تو لوگوں کی کایا پلٹ جائے مگر کیا کیا جائے ان نام نہاد عالمانِ دین کا جو فیس لے کر غلط مسائل بیان کرتے ہیں اور حق کو چھپاتے ہیں۔ بعض مولوی سو روپے کی خاطر نکاح پر نکاح پڑھا دیتے ہیں۔ انہیں ذرا خدا کا خوف نہیں آتا کہ وہ حرام میں حصہ دار بن رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کی رسومات عرس ، تیجا ، چالیسواں وغیرہ سب باطل طریقے ہیں جن کے ذریعے لوگوں کا مال ہضم کیا جاتا ہے۔ قبروں پر چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ ان پر گنبد بنائے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ کے فرمان کی خلاف ورزی ہورہی ہے حضور ﷺ نے تو فرمایا لاتجصصوا۔ قبروں پر پکی اینٹ نہ لگاؤ، چونا اور سیمنٹ مت لگاؤ۔ مگر آج عالیشان گنبد بنائے جا رہے ہیں۔ یہ کہاں کا دین ہے۔ آج کون ہے جو انہیں دین کا اصل مسئلہ بتائے اور کون ہے جو اس پر عمل کرے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا بہت بڑا دربار تو بتا دیا مگر ان کی تعلیم کو بھی کسی نے پڑھا ہے آپ کے ملفوظات میں موجود ہے کہ کسی نے دریافت کیا ، حضرت ! بعض اوقات بارش کی وجہ سے قبر کی مٹی ضائع ہوجاتی ہے ، کیا اسے پختہ کیا جاسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ، نہیں۔ قبر جتنی بوسیدہ ہوگی ، اس پر اللہ کی رحمت اتنی ہی زیادہ برسے گی۔ خواجہ صاحب اور سید علی ہجویری نے تو اپنے لیے جھونپڑی تک نہیں بنائی مگر آج ان کی قبور پر کتنی عالیشان تع میرات ہوچکی ہیں۔ کیا ان کی تعلیمات کا یہی اثر ہے۔ یہ جو کچھ ہورہا ہے اغراض فاسدہ کی بیماری کا نتیجہ ہے۔
جس ظالم بادشاہ نے میلاد کا سلسلہ شروع کیا تھا ، وہ فاسق آدمی تھا بظاہر بڑا دیندار اور نبی کریم (علیہ السلام) سے محبت کا دعویدار تھا۔ مگر بدعات کا دروازہکھول گیا۔ اب سرکاری طور پر بھی میلاد منایا جا رہا ہے۔ جن چیزوں سے اللہ اور اس کے رسول کی محبت پیدا ہوتی ہے ، وہ کہاں ہیں۔ تمام فرائض ، سنن اور مستحبات کے تارک میلاد کو ہی اصل دین سمجھ بیٹھے ہیں۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ بھائی ! اس معاملہ میں قرآن کیا کہتا ہےحضور ﷺ کا فرمان کیا ہے ؟ حضور نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا من احب سنتی فقد احبنی۔ جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی۔ مگر آج محبت کا مرکز سنت کی بجائے بدعت قرار پر اچکا ہے۔ یہ وہی یہودیوں والی کتمان حق کی بیماری مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئی ہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتب۔ جو کتاب کے ذریعے نازل کردہ حق بات کو چھپاتے ہیں۔ ان پر اللہ بھی لعنت بھیجتا ہے اس کے فرشتے بھی اور تمام مخلوق بھی لعنت بھیجتی ہے۔ اللہ نے تو عہد لیا تھا کہ حق بات کو ظاہر کرنا اور اس کو چھپانا نہیں مگر ان لوگوں نے بالکل الٹ عمل کیا۔
اللہ تعالیٰ نے یہ عام اصول بیان فرما دیا کہ حق بات کو چھپانا نہیں بلکہ ظاہر کرنا ہے۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے جس میں بعض امور کو عوام الناس کے سامنے بیان کرنا فتنہ یا گمراہی کا باعث بن سکتا ہے۔ مثلاً وحدت الشہود اور وحدت الوجود وغیرہ جیسے مسائل ایسے ہیں جو علما تک محدود رہنے چاہئیں۔ عوام میں بیان نہیں کرنے چاہئیں۔ مسلم شریف میں ابن مسعود سے روایت ہے۔ ما انت بمحدث قوما حدیثا لاتبلغہ عقلوھم الا کان لبعضہم فتنۃ۔ لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کرنا جن کی عقل کی رسائی اس بات تک نہ ہو ، تو وہ فتنے کا باعث ہوسکتی ہے لہذا بعض اوقات بعض چیزوں کا چھپانا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایسی باتیں اہل علم کے ساتھ تبادلہ خیال کے طور پر تو ہوسکتی ہیں مگر عوام کے لیے مناسب نہیں۔
الغرض ! حق بات کو چھپا جانا اہل کتاب کی بیماری اغراض فاسدہ کی بناء پر تھی۔ حضور رعلیہ السلام کے زمانہ مبارک میں مدینہ طیبہ میں یہودیوں کے دس بڑے عالم تھے جن میں سے اسلام کی دولت صرف حضرت عبداللہ بن سلام کے حصے میں آئی ، باقی سب محروم رہے حالانکہ وہ حقیقت کو پہچانتے تھے مگر ان کی اغراض فاسدہ ان کے آڑے آتی تھیں۔ وفد نجران میں شامل بڑے پادری کے بھائی نے دوران سفر یہی بات کی تھی کہ اگر تم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اللہ کا سچا رسول مانتے ہو ، تو تسلیم کیوں نہیں کرلیتے۔ تو وہ کہنے لگا کہ اگر ہم حق کو تسلیم کرلیں تو ہم رومی بادشاہوں کی عطا کردہ جاگیروں سے محروم ہوجائیں گے ، ہمارے اعزاز ختم ہوجائیں گے۔ اور ہماری اغراض پوری نہیں ہوں گی۔
حقیر دنیا کی طلب : فرمایا اہل کتاب نے عہد شکنی کی اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا۔ واشتروا بہ ثمنا قلیلا۔ اور کتاب اللہ کے بدلے میں دنیا کا حقیر مال خریدا۔ چند ٹکوں کی خاطر دین حق کو بیچ ڈالا۔ اور حقیقت کے بدلے گمراہی مول لی۔ توحید کی جگہ بدعات اور شرکیہ افعال کو رائج کیا۔ سحر ، جادوگنڈے اور تعویذ کے ذریعے دنیا کا حقیر مال اکٹھا کیا۔ اللہ کا فرمان ہے۔ متاع الدنیا قلیل۔ دنیا کا سارا مال بھی قلیل ہے۔ آخرت کے مقابلے میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکال لے سوئی کے ذریعہ وہ کتنا پانی حاصل کرلے گا۔ فرمایا آخرت کی نسبت پوری دنیا ایک سوئی کے برابر ہے۔ اگر کوئی شخص پوری دنیا کا مال و متاع بھی سمیٹ کر رکھ لے تو کتنے روز اس کے پاس رہے گا۔ آخری امت کی تو عمر ہی تھوڑی ہے۔ پہلی امتوں کے لوگ چار چار پان پانچ سو سال تک بھی عمریں پاتے تھے۔ مگر وہ بھی دنیا کا مال دنیا ہی میں چھوڑ کر چلے گئے۔ لہذا اس دنیا کے بڑے سے بڑے مال کی بھی کوئی حقیقت نہیں۔ مگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ، وہ ہمہ وقت دنیا کے حقیر مال کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا ، ہر امت کا کوئی نہ کوئی فتنہ ہتا ہے۔ اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ لوگ اسی کے پیچھے دوڑتے رہیں گے۔ صحیحین کی روایت میں آتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علعلیہ وسلم نے فرمایا ، مجھے اپنی امت پر فقر و ناداری آنے کا ڈر نہیں بلکہ خوف یہ ہے۔
ان تبسط علیکم الدنیا۔ کہ تم پر دنیا پھیلا دی جائیگی۔ و تھلککم کما اھلکتھم۔ اور یہ تمہیں اسی طرح تباہ کردے گی جس طرح پہلے لوگوں کو کیا۔ اسی لیے فرمایا کہ جن لوگوں نے دنیا خریدی۔ فبئس ما یشترون۔ بہت بری چیز ہے جو انہوں نے خریدی۔ ایمان کو برباد کرکے دنیا کا حقیر مال خریدا انہوں نے نہایت ہی گھاٹے کا سودا کیا۔