3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:98–101

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

اے پیغمبر (ﷺ) ! آپ کہ دیجئے اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو۔ اللہ گواہ ہے۔ ان چیزوں پر جو تم کرتے ہو۔

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

آپ کہ دیجئے اے اہل کتاب ! تم اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو ، اس شخص کہ جو ایمان لاتا ہے۔ تم اس راستے میں کجی تلاش کرتے ہو ، اور تم گواہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ ان کاموں سے غافل نہیں ہے جو تم کرتے ہو۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم ان لوگوں میں سے ایک فریق کی بات مانو گے جنہیں کتاب دی گئی ہے۔ تو وہ تمہیں پلٹا دیں گے تمہارے ایمانوں کے بعد ، کفر کی طرف۔

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کفر کس طرح کروگے حالانکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں ، اور تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو مضبوطی سے پکڑے گا ، تو اس کو سیدھے راستے کی ہدایت دی گئی۔

ربط آیات : گذشتہ اسباق میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے غلط ملط اعتراضات کے جوابات دیے اور ملت ابراہیمی کی وضاحت فرمائی۔ اور یہ بھی واضح کیا کہ حضور خاتم النبیین ﷺ اور آپ کے ساتھی ہی اصل ملت ابراہیمی پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ ملت ابراہیمی کے مرکزی قبلہ بیت اللہ شریف کا تذکرہ ہوا ، اور اس کے فضائل بھی بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے اتباع کا بطور خصوصی حکم دیا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بطور نصیحت اور تنبیہ اہل کتاب سے خطاب فرمایا ہے۔ کہ جب ھضور (علیہ السلام) کا ملت ابراہیمی پر قائم ہونا ثابت ہوچکا ، تو پھر اہل کتاب کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیئے۔ اور انہیں جان لینا چاہیئے۔ کہ ان کا اپنا طریقہ خود ساختہ ہے۔ جسے ملت ابراہیمی سے کوئی واسطہ نہیں۔ تکفیر آیات : ارشاد ہوتا ہے قل یاھل الکتب اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ اہل کتاب سے خطاب فرمائیں۔ اور کہ دیں اے اہل کتاب ! اہل کتاب سے مراد یہود و نصاری ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کی کتابوں تورات اور انجیل کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ لغوی طور پر تو اہل کتاب ہر وپ شخص ہے جو کسی بھی آسمانی کتاب پر ایمان لاتا ہے یا اس کی طرف اپنی نسبت کرتا ہے۔ مگر حضور ﷺ سے پہلے نازل ہونے والی دیگر کتب و صحائف کے ماننے والوں نے اپنا سلسلہ منقطع کردیا تھا ۔ لہذا اہل کتاب کا اطلاق ان دو گروہوں یعنی یہود ونصاری پر ہوتا ہے۔ جو اپنی نسبت تورات اور انجیل کی طرف کرتے تھے۔ قرآن پاک نے اہل کتاب کا لقب صرف انہی دو اقوام کو دیا ہے ، اور جگہ جگہ ان کو خطاب کیا ہے۔ فرمایا اے پیغمبر ﷺ آپ اہل کتاب سے کہ دیں لم تکفرون بایت اللہ تم اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو۔ آیات میں اللہ کی توحید اور اس کے احکام ، دلائل وبراہین اور معجزات وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب یہ سب چیزیں تمہارے پاس پہنچ چکی ہیں ، تو پھر تم انکار کیوں کرتے ہو ، ایمان کیوں نہیں لے آتے۔ یاد رکھو ، واللہ شھید علی ما تعلمون تم جو کچھ کر رہے ہو ، اللہ تعالیٰ اس پر گواہ ہے۔ یعنی سب کچھ اس کے سامنے ہو رہا ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لہذا تمہارا فرض ہے کہ حقیقت کے واضح ہوجانے کے بعد اس پر ایمان لے آؤ اور اگر پھر بھی تم کفر پر اڑے رہے ، تو پھر یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کی سزا سے بچ نہیں سکو گے۔ خدا تعالیٰ سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ شھید کا یہی معنی ہے۔ صراط مستقیم میں رکاوٹ : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے شکوے کے انداز میں فرمایا ہے۔ قل یاھل الکتب اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ اہل کتاب سے کہ دیں لم تصدون عن سبیل اللہ من امن تم اہل ایمان کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو۔ جو لوگ ایمان کی دولت سے مالامال ہوچکے ہیں۔ تم چاہتے ہو ، کہ وہ پھر ایمان سے پھرجائیں۔ اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لیے مختلف حیلے بہانے کرتے ہو۔ منجملہ ان کے ایک صورت یہ ہے ، تبغونھا عوجا کہ تم صراط مستقیم میں عیب ، نقص اور کجی تلاش کرتے ہو۔ تاکہ اس کا اظہار کر کے لوگوں میں دین حق سے متعلق غلط فہمیاں پیدا کی جائیں اور وہ اس سیدھے راستے کو چھوڑنے پر آمادہ ہوجائیں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو۔ مسلمانوں میں افتراق پیدا کرنے کے لیے یہودیوں نے اوس اور خذرج کی پرانی دشمنی کو زندہ کرنے کی کوشش کی ، مگر اس میں بھی کامیاب نہ ہوسکے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے۔ کہ اوس اور ضذرج کے قبائل مدینے میں سینکڑوں سال سے آباد تھے ، کافی بڑی تعداد والے قبیلے تھے۔ ان کا اصل تعلق یمنی خاندانوں سے تھا مگر مدینے میں آکر آباد ہوگئے۔ مشہور ہے۔ کہ یہ دونوں قبیلے ایک معمولی سی بات پر لڑائی میں ملوث ہوئے اور یہ لڑائی ایک سو بیس سال 120 تک چلتی رہی حضور ﷺ کے درود مدینہ کے بعد یہ لوگ مسلمان ہوگئے اور اپنی تمام پرانی رنجش ترک کر کے آپس میں شیر و شکر ہوگئے۔ یہودی مسلمانوں کو کسی صورت پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ کسی مجلس میں ان دونوں قبائل کے لوگ موجود تھے۔ وہاں شاس ابن قیس یہودی نے یہ اشعار پڑھے یا پڑھوائے جس سے ان دونوں قبیلوں کی پرانی حمیت جاہلیہ پھر بیدار ہوگئی قریب تھا کہ ان میں پھر فساد کی آگ بھڑک اٹھتی کہ حضور ﷺ وہاں تشریف لے آئے اور فرمایا ، بڑے افسوس کی بات ہے۔ کہ میں اللہ کا پیغمبر تمہارے درمیان موجود ہوں مگر تم پھر پرانی عصبیت کی باتیں کرنے لگے ہو۔ آپ (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو سخت تنبیہ فرمائی ، تو وہ تائب ہو کر لڑائی سے باز آگئے۔ تاہم یہودیوں نے ان مسلمان قبیلوں کو لڑانے کی پوری کوشش کی تاکہ یہ اسلام سے بدظن ہو کر دوبارہ کفر کا راستہ اختیار کریں۔ اللہ نے فرمایا ، تم ایسا برا کام کیوں کرتے ہو۔ موجودہ زمانے کے یہودی بھی اسلام کے خلاف سازش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ انہوں نے مصر سے تحریف شدہ قرآن پاک شائع کر کے پوری دنیا میں تقسیم کیا۔ آہت کریمہ " ومن یبتغ غیرالاسلام دینا " میں لفظ غیر کو اڑا کر اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ کبھی الفاظ بدلے ، کبھی معنی بدلے اور کبھی قرآن پاک میں موجود پیش گوئیوں کو جھٹلانے کی کوشش کی۔ تاکہ مسلمانوں میں اشتباہ پیدا ہوجائے اور وہ اسلام سے بدظن ہوجائیں۔ ان کا مقصد یہی ہے۔ کہ اسلام میں کجی تلاش کی جائے اور پھر اسے خوب مشتہر کیا جائے۔ مشرقین نے اس ضمن میں بڑی کوششیں کی ہیں۔ وہ علوم شرقیہ پر عبور حاصل کر کے قرآن و حدیث کی تفسیر و تشریح کرتے ہیں اور پھر ان میں نہایت ہوشیاری کے ساتھ باطل نظریات داخل کردیتے ہیں تاکہ لوگ اسلام سے بیزار ہوجائیں۔ بحر حال اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کے ذریعے اہل کتاب سے فرمایا کہ تم ان لوگوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو ، جو ایمان لا چکے ہیں۔ تم اللہ کے راستے میں کجی تلاش کرتے ہو۔ وانتم شھداء حالانکہ تم گواہ ہو۔ شہداء ، شہید کی جمع ہے۔ جس کا عام فہم معنی گواہ ہے۔ یعنی اے اہل کتاب تم گواہ ہو ۔ امام ابوبکر جصاص (رح) مفسر قرآن فرماتے ہیں۔ کہ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اہل کتاب کی گواہی مسلمان پر کیسے معتبر ہوگی ، جب کہ گواہی کے لیے دو مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہونا قرآن پاک کی رو سے ضروری ہے اس کا جواب امام صاحب یہ فرماتے ہیں ۔ کہ یہاں شہید سے مراد گواہ نہیں بلکہ اہل علم ہے۔ چناچہ انتم شھداء کا معنی انتم علمین ہوگا ا یعنی تم جانتے ہو۔ اور جان بوجھ کر اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہو۔ فرماتے ہیں۔ کہ اس کا دوسرا معنی انتم عقلاء بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم عقل و شعور رکھتے ہو مگر جان بوجھ کر اسلام کی راہ میں رکاوٹ کھڑع کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ موجودہ زمانے کے یہودیوں نے ایک اور حربہ استعمال کیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک اہل اسلام کے دلوں میں نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی محبت موجزن ہے ہم ان پر غالب نہیں آسکتے ، لہذا ان کی یہ کوشش ہے۔ کہ کسی طریقے سے اہل السلام کے دل سے حضور ﷺ کی محبت کو نکال دیا جائے۔ مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ آج کے زمانے میں کتنا بھی گیا گزرا مسلمان ہے۔ اس کا دل پیغمبر اسلام کی محبت سے سرشار ہے۔ اہل کتاب کی ان تمام کارستانیوں کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما اللہ بغافل عما تعملون اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے۔ وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ تم یقینا سخت ترین سزا کے مستحق ہوگے۔ اہل اسلام کو تنبیہ : اہل کتاب سے شکوہ کرنے کے بعد اب اہل ایمان سے خطاب ہے۔ اور انہیں تنبیہ کی جارہی ہے کہ کہیں یہود و نصاری کی سازش کا شکار نہ ہوجانا۔ اگر تم ان کے جال میں پھنس گئے ، تو وہ یقینا تمہارے ایمان پر ڈاکہ ڈالیں گے اور تمہیں ہمیشہ کے لیے ناکام و نامراد بنا دیں گے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنو ان تطیعو فریقا من الذین اوتو الکتب اے اہل ایمان اگر تم اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی اطاعت کروگے ، ان کی بات مانو گے ، تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ یردوکم بعد ایمانکم کفرین یہ لوگ تمہیں تمہارے ایمان کے بعد کفر کی طرف پھیر دیں گے ، ان کے دل میں یہ چیز بری طرح کھٹک رہی ہے۔ کہ تم کیوں ایمان آئے ہو۔ لہذا ان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے۔ کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے بدظن کر کے دوبارہ کفر کے اندھیروں میں دھکیل دیں۔ یہود ونصاری کی اس خصلت بد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا ہے۔ " ولن ترضی عنک الیھود ولا النصری ھتی تتبع ملتھم " یہود و نصاری آپ سے کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ جب تک آپ اپنا دین چھوڑ کر ان کا دین اختیار نہ کرلیں تطیعو یعنی اطاعت میں عقیدہ اور اعمال دونوں چیزیں شامل ہیں۔ اگر تم نے اہل کتاب کی اطاعت عقیدے میں کی ، تو تمہارا عقیدہ بھی ویسا ہی ہوجائے گا ، جو کہ یقینا باطل عقیدہ ہے۔ ان کے عقیدے میں کفر و شرک شامل ہے۔ لہذا ان کی بات مان کر بھی کفر میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اور اگر تم نے اعمال میں ان کی بات تسلیم کی ، تو تمہارے اعمال بھی کافروں جیسے ہوجائیں گے۔ کر بحر حال کفر ہے۔ خواہ وہ عقیدے میں ہو یا عمل میں ہو۔ اور یہ بہت بڑا نقصان ہے۔ لفار کے اعمال کی ایک مثال یہ ہے۔ کہ وہ آپس میں برسرپیکار رہتے ہیں۔ اور اگر مسلمان بھی ویسے ہی کام شروع کردیں ، تو دونوں میں کیا فرق رہ گیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ سباب المومن فسوق وقتالہ کفر یعنی مسلمانوں کو گالی دینا فسق ہے۔ اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ اہل کتاب سے ہوشیار رہو ، ان کی اطاعت نہ عقیدے میں کرو نہ اعمال میں۔ اگر ایسا کروگے تو ان کی خواہش کی تکمیل ہوگی اور وہ تمہیں ایمان کے نور سے نکال کر کفر کے اندھیروں میں دھکیل دیں گے۔ اس کے بعد فرمایا وکیف تکفرون تم کس طرح کفر کروگے۔ وانتم تتلی علکیم ایت اللہ حالانکہ تم پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں۔ یعنی قرآن کریم نازل ہو رہا ہے۔ اور تمہارے لیے ہدایت کا سامان بہم پہنچایا جارہا ہے۔ اس صورت حال میں تم کیسے کفر کرسکتے ہو۔ اکثر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت کریمہ صحابہ ؓ کے بارے میں ہے جو آپ کے زمانہ مبارک میں موجود تھے۔ چناچہ انہیں مخاطب کر کے کہا جارہا ہے۔ کہ نزول قرآن کے اس بابرکت ترین دور میں یہود و نصاری کی اطاعت اخ تیار کرلو ، تو یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہوگی۔ اور اگر اس خطاب کے مخاطبین میں صحابہ ؓ کے بعد آنے والے مسلمان بھی سمجھے جائیں تو اس کا معنی یہ ہوگا ، کہ اللہ کا قرآن تمہارے پاس موجود ہے جس کی تلاوت تم ہر روز کرتے ہو ، اس کے احکام کو سمجھتے ہو ، تو پھر تم کس طرح کفر کرتے ہو۔ فرمایا اہک تو اللہ کی آیتیں تم پر پڑھی جاتی ہیں ، اور دوسری بات یہ ہے۔ وفیکم رسولہ تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے۔ جو تمہیں آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ اور تمام احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ تمہیں توحید اور ایمان کا درس دیتا ہے ، اور کفر و شرک سے بچاتا ہے۔ اس کے بعد تم کیسا کفر کروگے آیت کے اس حصہ کا بھی بظاہر اطلاق تو صحابہ کرام پر ہی ہوتا ہے جن کے درمیان حضور رسول مقبول ﷺ بنفس نفیس موجود تھے۔ تاہم اگر اس کا اطلاق بعد میں آنے والے اہل اسلام پر بھی کیا جائے ، تو اس کا مطلب یہ ہوگا ، کہ اگرچہ نبی اکرم ﷺ تم میں بذاتہ تو موجود نہیں ہیں مگر آپ کی سنت ، احادیث ، آثار ، تعلیمات اور شریعت تو تمہارے درمیان موجود ہے۔ اور قیامت تک باقی رہے گی ، اس کے باوجود تم یہود و نصاری کی بات مان کر گمراہی کا راستہ اختیار کرو ، تو کتنے افسوس کا مقام ہے۔ عقیدہ حاضر و ناظر : بعض اہل برعت اس مقام پر سیدھے سادھے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں۔ وفیکم رسولہ کا مطلب یہ ہے۔ نبی (علیہ السلام) بنفس نفیس ہر زمانے اور ہر مقام پر تمہارے درمیان موجود ہیں۔ لہذا آپ حاضر و ناظر ہیں۔ حالانکہ امر مسلم یہ ہے کہ ہر وقت ہر مقام پر حاضر ناظر ہونا صرف اللہ کی صفت ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی یہ صفت نہیں ہے۔ مگر یہ لوگ بھی یہودیوں سے کم نہیں ہیں ، جو صحیح العقیدہ مسلمانوں کے عقیدے فاسد کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے۔ جیسے پہلے آیت گزر چکی ہے " ومن دخلہ کان امنا " جو حرم شریف میں داخل ہوگیا ، اسے امن نصیب ہوگا ظاہری طور پر اسے کسی جرم کی سزا نہیں دی جاسکتی۔ جب تک وہ حرم سے باہر نہ آجائے اور باطنی طور پر دوزخ سے مامون ہوگا۔ گویا وہاں داخل ہوجانے والے کو امن حاصل ہوجانا بیت اللہ شریف کی خاص صفت ہے ، مگر یار لوگوں نے یہی عبارت خواجہ فرید الدین شکر گنج (رح) کے مزار کے دروازے پر لکھ دی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے۔ کہ جو اس دروازے میں داخل ہوگیا ، ظاہری اور باطنی طور پر مامون ہوگیا۔ یہ کتنی غلط بات ہے۔ جو چیز اللہ نے بیت اللہ شریف کے متعلق فرمائی ہے لوگوں نے اسے بناوٹی دروازے پر چسپاں کردیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس دروازے سے گزرتے ہیں ، خواجہ صاھب نے تو اپنی زندگی میں کبھی نہ فرمایا ، کہ جو اس دروازے سے گزر گیا ، وہ جنتی ہوگیا ، خواہ وہ کفر شرک اور بدعت میں ہی کیوں نہ ملوث ہو۔ العیاذباللہ۔ خواجہ فرید الدین تو ماشاء اللہ شہخ السلام تھے۔ نہایت صالح اور نیک انسان تھے آپ کے ہاتھ پر لاکھوں افراد نے اسلام قبول کیا ، بہت سے راجپوت خاندان آپ کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ان سے غلط بات منسوب کرنا کس قدر ناانصافی ہے۔ واقعی لوگ بدعت اور شرک میں اندھے ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دین کی سمجھ عطا کرے۔ یہ بہت بڑی نعمت ہے جسے میسر آجائے۔ بخاری شریف کی حدیث ہے من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین اللہ تعالیٰ جس شجص کے بارے میں بہتری کا ارادہ فرماتا ہے ، اس کو دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا انعام اور فضل ہے ، اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے۔ الغرض ! وفیکم رسولہ کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ کا نبی تمہارے درمیان فی نفسہ موجود ہے ، بلکہ اس کی سنت اور شریعت موجود ہے۔ اس سے استفادہ کرتے رہو تو گمراہ نہیں ہوگے۔ اعتصام باللہ : فرمایا اہل کتاب تو تمہیں دین اسلام سے پھیر دینا چاہتے ہیں۔ مگر ومن یعتصم باللہ جو اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا فقد ھدی الی صراط مستقیم پس بیشک ایسے شخص کو ہدایت دی گئی سیدھے راستے کی۔ گویا ایسا شخص گمراہ نہیں ہوگا۔ اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے کا معنی یہ ہے کی اس پر ایمان لائے ۔ اس کے دین کی باتوں پر مضبوطی سے عمل پیرا ہو۔ جس نے اللہ کی ذات پر پورا پورا بھروسہ کیا ، اس نے اعتصام باللہ کو پا لیا۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ انسان کو چاہیئے ۔ کہ وہ اسباب پر بھی زیادہ انحصار نہ کرے بلکہ محض اللہ کی ذات پر ایمان رکھے ، اس پر توکل رکھے تو شیطان بھی دفع ہوگا۔ اور یہود ونصاری بھی اپنی سازش میں ناکام ہوں گے۔ بدعت ختم ہوگی۔ یہ اکسیری نسخہ ہے۔ اسلام کی تعلیم ہی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے شروع ہوتی ہے۔ ہر کام اسی کے نام کے ساتھ شروع کیا جاتا ہے۔ جو رحمن اور رحیم ہے اسی ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ، وہ وحدہ لاشریک ہے۔ تمام قوتوں کا مالک ہے یہی اعتصام باللہ ہے۔ لہذا جو کوئی اللہ پر ایمان لا کر اس کے احکام کو مضبوطی سے پکڑے گا ، وہ کبھی گمراہ نہیں ہوگا۔ یہاں پر اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے۔
Ayahs 3:102–103

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے جیسا کہ حق ہے اس سے ڈرنے کا اور تم نہ مرو مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبرداری کرنے والے ہو۔

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو سب کے سب اور تفرقہ نہ ڈالو۔ اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر کی جب کہ تم آپس میں دشمن تھے ، اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی۔ پس تم اس کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی ہوگئے ، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے پس اللہ نے تم کو بچا لیا۔ اسی طرح اللہ کھول کر بیان کرتا ہے۔ تمہارے لیے اپنی آیتیں تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔

ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بات ماننے سے منع فرمایا تھا۔ اہل کتاب کی گمراہی کا زکر کرنے کے بعد اہل ایمان کو تنبیہ فرمائی کہ اگر انہوں نے اہل کتاب کے کسی گروہ کی بات کو مان لیا ، تو وہ انہیں راہ ہدایت سے کفر کی طرف پھیر دیں گے۔ پھر وضاحت فرمائی کہ اگر عقیدے میں ان کی بات مانی ، تو کافر ہوجاؤ گے اور اگر اعمال میں ان کا اتباع کیا تو اللہ کی ناراضگی مول لوگے اور کفران نعمت کے مرتکب ہوگے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص طور پر رہنمائی فرمائی ہے اور دین کے بنیادی اصولوں پر قائم رہنے بد عقیدگی اور معصیت سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ خوف خدا : ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنواتقوا اللہ حق تقتہ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو ، جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ ظاہر ہے کہ خوف خدا جبھی حاصل ہوگا۔ جب کسی انسان کی دین پر استقامت ہو ، یعنی اس کا عقیدہ کفر ، شرک اور نفاق سے پاک ہو اور اس کے اعمال بھی بالکل درست ہوں۔ صغائر اور کبائر سے اجتناب کرتا ہو بلکہ ہر مشکوک چیز سے پرہیز کرے۔ اگر اس میں یہ چیزیں پیدا ہوگئیں تو اس کو کمال تقوی حاصل ہو جائے گا اور حق تقتہ کا یہی مقصد ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ کہ تقوے کے کئی درجات ہیں۔ ان میں سے سب سے ادنا درجہ یہ ہے۔ کہ انسان کفر و شرک اور بد عقیدگی سے بچ جائے۔ شیطان اور دیگر گمراہی پھلانے والے عوامل سے دور رو سکے ، اگر کوئی شخص تقوی کا یہ ادنی درجہ بھی حاصل نہ کرسکے ، تو پھر اس کی نجات کی کوئی صورت نہیں۔ کیونکہ اس معاملہ میں کوئی رعایت ممکن نہیں۔ اور تقوے کا اعلی درجہ یہ ہے کہ ایمان کے ساتھ انسان اعمال حسنہ پر بھی کاربند ہو ، اور معاصی سے بچتا ہو۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں۔ " تقوی محافظت بر حدود شرع " یعنی کمال درجے کا تقوی وہ ہے جو شریعت کے حدود کی پوری پوری حفاظت کرتا ہو۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی ایک صفت یہ بھی بتائی ہے " والحفظین لحدود اللہ " یعنی مومن وہ لوگ ہیں جو حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ، ان سے آگے نہیں بڑھتے۔ کمال درجے کے متقین ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔ حق تقاتہ " جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے " اس کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن مسعود زضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ کہ حق تقتہ کا مطلب ہے۔ ان یقاع ولایعصی کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی جائے ، نافرمانی نہ کی جائے۔ ویشکر ولایکفر اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا جائے ، کفران نعمت نہ ہونے پائے ویذکر ولاینسی اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ یاد کرتا رہے ، بھلائے نہ۔ حضرت انس کی روایت ہے حق نقاتہ کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ لا یتقی اللہ العبد حق تقتہ حتی یخزن لسانہ یعنی انسان کو اللہ سے کماحقہ ، ڈرنے کا درجہ اس وقت حاصل ہوگا ، جب وہ اپنی زبان کو محفوظ کرلے گا ، گویا اس کو اپنی زبان پر اس قدر کنٹرول حاصل ہونا چاہیئے ، کہ وہ کوئی غلط کلمہ نہ بول سکے بلکہ ہمیشہ اچھی بات کہے۔ ترمذی شریف اور بعض دیگر کتب احادیث میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے ، جسے امام ابن کثیر (رح) نے بھی بیان فرمایا ہے۔ ولو ان قطرۃ من الزقوم قطرت فی دارالدنیا اگر زقوم یعنی جہنم کے تھور کا ایک قطرہ زمین پر پھینک دیا جائے ، تو ساری دنیا کی معیشت کو اس ﷺ در بگاڑ دے کہ کوئی انسان دنیا کی کسی چیز سے مستفید نہ ہوسکے۔ اس تھور میں اتنی کڑواہٹ اور بدبو ہے۔ فرمایا پھر تم خیال کرلوفکیف لمن لیس لہ طعام الا من القوم اس شخص کا کیا حشر ہوگا۔ جس کا کھانا زقوم کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ اسے کتنی اذیت پہنچے گی۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ سے ڈرتے رہو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ زقوم کھانے والوں میں نام درج ہوجائے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! من احب ان یزحزح عن النار ویدخل الجنہ جو شخص چاہتا ہے۔ کہ اسے دوزخ سے نجات حاصل ہوجائے۔ اور وہ جنت میں داخل ہوجائے فیدرک منیتہ وھویومن باللہ والیوم الاخر تو اسے موت ایسی حالت میں آنی چاہیئے کہ وہ اللہ کی ذات اور قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔ ویاتئ الی الناس مایحب ان یوتی الیہ اور اسے چاہیئے کہ وہ لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کرے جو وہ اپنے کیے پسند کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ حق تقتہ میں یہی چیز بیان کی گئی ہے کہ ولا تمو تن الا وانتم مسلمون تمہاری موت اسلام کی حالت میں آنی چاہیئے۔ اور یہ مقام جبھی حاصل ہوگا جب انسان ہمیشہ اس کی فکر میں لگا رہے گا۔ وہ ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتا رہے گا کہ کہیں اس کی موت اسلام کے علاوہ کسی اور چیز پر نہ آجائے۔ دوسرے مقام پر فرمایا " فاتقو اللہ ما استطعتم " اللہ سے ڈرو جس قدر طاقت رکھتے ہو۔ مفسرین اور محدثین کرام فرماتے ہیں۔ کہ ما استطعتم کا تعلق تقوے کے اعمال والے درجے سے ہے۔ یعنی اپنی استطاعت کے مطابق اعمال حسنہ انجام دیتے رہو۔ اس میں ہر آدمی کی طاقت کے مطابق رعایت موجود ہے۔ برے اعمال سے بچتا رہے ، اگر کوئی خامی رہ جائے گی تو اللہ تعالیٰ مہربانی فرما کر معاف کردیں گے۔ مگر تقوے کے عقیدے والے درجے میں معافی اور رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر ایمان میں نقص آئے گا ، کفر ، شرک یا نفاق میں سے کوئی شائبہ واقع ہوگا تو نجات کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ عقائد میں تھوڑی سی کوتاہی بھی ناقابل برداشت ہے۔ خاتمہ بالایمان : یہاں پر سوال پیدا ہوتا کہ کسی شخص کی موت تو غیر اختیاری چیز ہے۔ وہ خود چاہے بھی تو موت نہیں آسکتی ، پھر اس آیت کا کیا مطلب کہ " نہ مرو تم مگر اس حالت میں کہ تم فرمانبرداری کرنے والے ہو "۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم پوری زندگی اعمال صالحہ میں مشغول رہو ، حتی کہ انہیں پر تمہارا خاتمہ ہوجائے۔ اگر ایسا ہوگیا ، ایمان قائم رہا اور اسی پر خاتمہ ہوگیا ، تو کامرانی یقینی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے من مات علیہ یبعث علیہ یعنی جو کوئی جس عقیدے اور عمل پر مرے گا ، اسی پر قیامت کو اٹھایا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں نیک اعمال انجام دیتا رہے حتی کہ اسے موت آجائے۔ سورة حجر میں یہی بات ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے " واعبد ربک حتی یاتیک الیقین " اپنے رب کی عبادت کرتے رہو ، حتی کہ یقینی چیز یعنی موت آجائے الغرض ! ولا تموتن الا وانتم مسلمون کا مطلب یہ ہوا کہ تم زندگی بھر نیک کاموں میں لگے رہو ، کیونکہ پتہ نہیں کہ موت کس وقت آجائے ، اور موت بحر صرت اسلام کی حالت میں آنی چاہیئے۔ تاکہ حشر کو اسلام ہی کے عقیدے اور عمل پر دوبارہ اٹھایا جائے۔ حبل اللہ : فرمایا واعتصمو ا بحبل اللہ جمیعا اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے پکڑ لو۔ حبل اللہ یعنی اللہ کی رسی سے مراد قرآن پاک ہے۔ ترمذی شریف میں حضرت علی ؓ سے روایت ہے ، حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا لوگو ! یاد رکھو انما ستکون فتنہ ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں میں نے عرض کیا مالمخرج منھا یا رسول اللہ اس فتنہ سے بچ نکلنے کا کیا ذریعہ ہے فرمایا کتاب اللہ وہ بذریعہ اللہ کی کتاب ہے۔ فیہ نباء من قبلکم جس میں تم سے پہلی امتوں کے واقعات ہیں وخبر ما بعدکم اور تمہارے بعد آنے والی اطلاعات ہیں۔ وحکم مابینکم اور اس زندگی میں پہش آنے والے معاملات کے متعلق واضح احکام موجود ہیں۔ فرمایا وھو حبل اللہ المتین یہ خدا کی مضبوط رسی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب صفات قرآن پاک میں موجود ہیں۔ اس میں سابقہ اقوام کے عبرتناک واقعات موجود ہیں جس سے انسان نصیحت پکڑ سکتا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا " لقد کان فی قصصہم عبرۃ لاو کی الاباب " ان واقعات میں صاحب عقل و بصیرت لوگوں کے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔ اور بعد میں آنے والی اطلاعات میں موت ، قبر ، برزخ ، حشر ، جنت ، دوزخ وغیرہ کے متعلق قرآن پوری پوری اطلاعات بہم پہنچاتا ہے۔ اور تیسری چیز احکام میں جو پوری زندگی کے ہر گوشہ پر محیط ہے اور انسان کی ہر مرحلہ پر رہنمائی کرتے ہیں۔ اوامرو نواہی کی پوری تفصیل موجود ہے۔ جن کے مطابق زندگی بسر کر کے انسان دائمی نجات حاصل کرسکتا ہے۔ الغرض ! یہ قرآن پقاک ہی پے جسے حبل اللہ کا لقب دیا گیا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود زضی اللہ عنہ کی روایت میں آتا ہے۔ کتاب اللہ حبل اللہ الممدود منالسماء الی الارض قرآن پاک اللہ کی کتاب ہی حبل اللہ ہے جسے آسمان سے زمین تک دراز کیا گیا ہے۔ قرآن پاک لوح محفوظ بیت العزت سے دنیا میں حضور صلی علیہ وسلم پر نازل ہوا۔ اسی طرح عبداللہ بن مسعود کی ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضر (علیہ السلام) نے فرمایا القرآن ھو حبل اللہ المتین یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے۔ والنور المبین یہ روشنی دینے والا نور ہے۔ قرآن پاک میں بھی آتا ہے " وانزلنا الیکم نورا مبینا " ہم نے واضح طور پر بیان کرنے والا نور تمہاری طرف اتارا۔ قرآن پاک کے متعلق یہ بھی آتا ہے ھو شفاء النافع یہ نفع پہنچانے والی شفا ہے۔ " فیہ ھدی و شفاء " اس میں ہدایت اور تمام روحانی امراض کی شفا ہے۔ جو کوئی قرآن پاک پر عمل پیرا ہوگا روحانی طور پے صحت یاب ہوگا۔ قرآن پاک عصمۃ لمن تنسک بہ جو اس کو مضبوطی سے تھام لے گا۔ یہ اس کے لئے گمراہی اور دوزخ سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائے گا۔ ونجات لمن تبع جو اس کا اتباع کرے گا ، اس کو نجات نصیب ہوگی۔ یہ سب حبل اللہ کی تشریح ہے۔ مسلم شریف کی حدیث میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے رویت ہے حضور ﷺ نے فرمایا ان اللہ یرضی لکم ثلاثا اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تین چیزوں کو پسند فرماتا اور تین چیزوں کو ناپسند کرتا ہے۔ فرمایا اللہ کی پسندیدہ چیزیں یہ ہیں۔ ان تعبدہ کہ تم اس کی عبادت کرو ولاتشرکوا بہ شیاء اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ۔ تیسری پسندیدہ چیز فرمایا تعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ پھر فرمایا تین ناپسندیدہ چیزوں میں قیل قال یعنی بیہودہ اور بلا مقصد بات چیت ، کثرت سوال اور اضاعتہ المال ہیں کثرت سوال سے مراد یہ ہے کہ لوگ مسائل دریافت کرنے میں تو بال کی کھال اتارتے ہیں ، مگر عمل صفر ہے۔ اور مال کا ضیاع یہ ہے کہ فضول رسومات ، بدعات اور حرام جگہوں پر خرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کو ہرگز یہ پسند نہیں کہ اس کے دیے ہوئے مال کو اس کی رضا کے خلاف خرچ کیا جائے۔ الغرض ! حبل اللہ سے مراد قرآن پاک ہے جسے مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ تفریق بین المسلمین : ارشاد ہوتا ہے ، سب کے سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ ولا تفرقوا تفرقہ اور اختلاف نہ کرو۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اس مقام پر جس اختلاف سے منع کیا گیا ہے۔ وہ اصول کا ختلاف ہے ، کیونکہ فروعات میں اختلاف کرنا مباع ہے فروعی اختلافات کے ذریعے انسان کی عبادت درست ہوتی ہے۔ مختلف حالات میں احکام مختلف ہوتے ہیں۔ مثلا حائضہ عورت اور جنبی کے لیے نماز حرام ہے ، لیکن ایک عام مکلف کے لیے فرض ہے۔ مسافر اور مریض کے لیے روزہ کھانا حلال ہے مگر مقیم اور تندرست کے لیے حرام ہے۔ یہ فروعی اختلافات ہیں۔ آئمہ دین جیسے حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی وغیرہ کا بعض فروعات میں آپس میں اختلاف ہے یہ روا ہے بشرطیکہ تعصب سے پرہیز کیا جائے۔ اکثر لوگ تعصب سے کام لیتے ہوئے اپنے مسئلہ پر اڑ جاتے ہیں۔ اسی کو درست سمجھتے ہوئے دوسرے مسلک والوں کو جہنمی قرار دے دیتے ہیں۔ یہ جہالت اور نادانی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ لبتہ اگر دین کے کسی اصول میں اختلاف کرے گا تو گمراہ ہوجائے گا۔ تذکیر احسانات الہی : آگے فرمایا واذکروا نعمت اللہ علیکم اللہ تعالیٰ کے ان احسانات کو یاد کرو ، جو اس نے تم پر کئے۔ اذکنتم اعداء تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن تھے۔ اور تمہارے اندر عصبیت جاہلیت پائی جاتی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پر لڑنے مارنے پر تیار ہوجاتے تھے ، تمہارے سامنے کوئی مشن نہیں تھا۔ ان حالات میں فالف بین قلوبکم اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے الفت ڈال دی۔ آگے سورة انفال میں بھی آئے گا۔ " والف بین قلوبھم ولو انفقت مافی الارض جمیعا ما الفت بین قکوبھم ولکن اللہ الف بینھم " اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کی۔ وگرنہ اگر آپ پوری دنیا کے خزانے بھی خرچ کردیتے تو ان کے درمیان پیار و محنب کی فضا قائم نہ کرسکتے۔ یہ تو ایمان اور اسلام کی الفت ہے جو اللہ نے اپنے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو مبعوث فرما کر ان کے درمیان پیدا کی۔ اپنی آخری کتاب نازل فرمائی اسلام کے احکام سے آگاہ فرمایا چناچہ اس کے تقاضوں کو سمجھ کر وہ لوگ اپنے اختلافات بھول گئے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا فاصبحتم بنعمتہ اخوانا تم اللہ کے فضل سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ تمہاری تمام عداوتیں اور پرانی عصبیت دور ہوگئی اور تم آپس میں شیر وشکر ہوگئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے مومن تقی وفاجر شقی یعنی مومن کی صفت یہ ہے وہ متقی ہوتا ہے اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا اتباع کرتا ہے۔ اور فاجر ان احکام کی نافرمانی کر کے گمراہی میں جاگرتا ہے۔ لہذا جب اسلام آگیا تو پھر الفت اور محبت اسلام کی وجہ سے ہونے لگی۔ قبائل اور خاندانوں کا طلسم ٹوٹ گیا اور صدیوں سے جاہلیت کی شکار قوم تہذیب و تمدن کے بام عروج پر پہنچ گئی۔ یہ اسلام کی وجہ سے بھائی بندی کا نتیجہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس جاہل قوم کی عصبیت کا تذکرہ کیا اور ان کو یاد کرایا وکنتم علی شفا حفرۃ من النار فانقذکم منھا تم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے۔ شفا فتح کے ساتھ ہو تو اس کا معنی کنارہ ہے۔ اور اگر کسر کے ساتھ شفا تو اس کا معنی تندرستی ہوتا ہے۔ یہاں پر شفا سے مراد کنارہ اور حفرہ گڑھے کو کہتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ تم اپنی جاہلیت اور عصبیت کی بناء پر دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے۔ موت آنے کی دیر تھی کہ ا گڑھے میں گرجاتے۔ مگر اللہ نے تمہیں اس گڑھے سے بچا لیا۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ تمہیں ایمان کی دولت نصیب ہوگئی اور تم جہنم کے گڑھے میں گرنے سے بچ گئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ فرمایا کذلک یبین اللہ لکم ایتہ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے احکام اور اصول بیان فرماتا ہے۔ تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ جن کے ذریعے تم فرمانبردار بن سکتے ہو۔ اور اس کا مقصد یہ ہے لعلکم تھتدون تاکہ تم ہدایت پاجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہدایت کے تمام سامان مہیا کردیے ہیں اب ان سے فائدہ اٹھانا تمہارا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب چیزیں واضح فرما دی ہیں۔
Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

پس چاہیئے کہ تم میں ایک ایسی جماعت ہو جو خیر کی دعوت دے اور معروف کا حکم کرے اور برائی کے کاموں سے منع کرے۔ اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔

ربط آیات : گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب کی بات ماننے سے منع فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی اللہ کو مضبوطی سے پکڑے گا ، اس پر ایمان لا کر اس کے حکم کا اتباع کرے گا اور اسی پر بھروسہ کرے گا۔ اسے سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب ہوگی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ڈرتے رہو ، جس طرح ڈرنے کا حق ہے۔ اور ساتھ ہی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کی نصیحت فرمائی۔ اور آپس میں تفریق پیدا کرنے کی بجائے بھائی بھائی بن کر رہنے کی تلقین فرمائی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جو ان ہدایات پر عمل کرے گا ، وہی کامیاب و کامران ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی ذاتی صلاح کے لیے ایک پروگرام دیا تاکہ اس پر عمل پیرا ہو کر فلاح حاصل کرسکے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ذاتی کے بعد دوسروں کی صلاح کرنے اور ان کو راہ ہدایت کی طرف لانے کی ضرورت اور اہمیت کو واضح کیا ہے۔ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کیا کرتے تھے۔ واجعلنا ھدۃ مھتدین اے اللہ ! ہم کو ہدایت دینے والے اور ہدایت پانے والے بنا دے۔ مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کے لیے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔ اور پھر وہ دوسروں کو بھی ہدایت کی دعوت دے۔ اور ان کی ہدایت کے لیے سامان مہیا کرے۔ آج کے درس میں اللہ نے وہ قانون بتایا ہے جس پر عمل کر کے انسان اپنی اصلاح کے بعد دوسروں کی اصلاح بھی کرسکتا ہے۔ دعوت الی الخیر : ارشاد ہوتا ہے ولتکن منکم امۃ تم میں ایک گروہ یا جماعت ایسی ہونی چاہیئے یدعون الی الخیر جو لوگوں کو خیر کی طرف دعوت دے نیکی اور اچھائی کی طرف بلائے۔ ظاہر ہے کہ تمام کے تمام لوگ تبلیغ کے کام پر نہیں لگ سکتے لہذا فرمایا کہ ایک گروہ یا جماعت کم از کم ایسی ہونی چاہیئے جو تبلیغ دین کا فرض اپنے ذمے لے۔ ولتکن میں لام تاکیدی ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کار خیر کے لیے کسی جماعت کا ہونا کوئی عام قسم کی نصیحت نہیں ہے۔ جس پر عمل کرلیا جائے یا نہ کیا جائے ، ایک ہی بات ہو۔ بلکہ تاکیدا فرمایا کہ ایسی جماعت لازمی ہونی چاہیئے۔ جو لوگوں کو خیر کی دعوت دے۔ اب رہا یہ سوال کہ خیر سے کیا مراد ہے۔ تو مستند احمد ، ترمذی ، ابن ماجہ وغیرہ کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ کہ یدعون الی الخیر کا مطلب ہے الخیر اتباع القرآن والسنۃ یعنی قرآن سنت کا اتباع ہی خیر ہے۔ قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ اساسی قانون ہے۔ اور سنت رسول قرآن پاک کی شرح ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی زبان سے کرائی ہے۔ قرآن پاک وہی جلی ہے اور سنت وحی خفی یا وحی باطنی ہے۔ امام شافعی (رح) ، امام ولی اللہ (رح) ، امام ابن تمییہ (رح) ، اور مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) وغیرہم فرماتے ہیں ، ہر صحیح حدیث جو صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے ، وہ قرآن کی شرح ہے ، اس کی تفسیر ہے۔ تعلیم دین اور اس کے تعلم کے لیے سور ۃ توبہ میں بھی آتا ہے۔ " فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم " یعنی ایسا کیوں نہ ہوتا کہ ہر بستی میں سے ایک جماعت دین کی تعلیم حاصل کرتی اور پھر وہ واپس جا کر اپنی قوم کو ڈراتی یعنی ان کو احکام الہی سے خبردار کر کے ان پر عمل کرنے کی تلقین کرتی آج کے درس میں بھی اسی قسم کا حکم ہے۔ کہ تم میں سے ایک جماعت ضرور ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو خیر کی دعوت دے۔ اصلاح کے تین اصول : اس آیت کریمہ میں انسانی اصلاح کے تین اصول بیان کیے گئے ہیں یدعون الی الخیر ہر وقت خیر کی دعوت دیتے رہین ، انفرادی اور اجتماعی زندگی درست رہ سکے۔ اور اس جماعت کی دوسری ڈیوٹی یہ ہو کہ ویامرون بالمعروف وہ نیکی کا حکم کرتی رہے۔ وینھون عن المنکر اور برائی سے روکتی رہے ، اگر ہر قوم میں ایسی جماعت پیدا ہوجائے گی ، تو تمام نظام درست ہوجائے گا اور قوم اصلاح یافتہ ہوجائے گی۔ اور اگر یہ فریضہ ادا نہیں ہوگا ، تو ظاہر ہے قوم منتشر ہو کر بربادی کی طرف جائے گی۔ بنی نوع انسان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ پہلے ہی حکم دے چکے ہیں۔ کہ تقوی اختیار کرو۔ قرآن پاک کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو۔ آپس میں اتفاق و اتحاد قائم رکھو۔ اور بھائی بھائی بن کر زندگی بسر کرو اور اپنے قول اور عمل سے کتاب اللہ اور سنت زسول پر عمل پیرا ہوجاؤ۔ اور اب یہاں دعوت الی الخیر ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا درس دے کر قوم و ملت کو بیدار رہنے اور اپنی خصوصیات کو باقی رکھنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ ایمان کے تین درجات سے متعلق مسلم شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت موجود ہے۔ یہ یزید کی خلافت کے بعد کا واقعہ ہے۔ یزید خود تو فاسق فاجر ہی تھا۔ تاہم اس کے بعد اس کا بیٹا مسند خلافت پر متمکن ہوا۔ جو کہ نیک آدمی تھا۔ مگر وہ دو تین ماہ سے زیادہ یہ بار نہ اٹھا سکا اور فوت ہوگیا اس کے بعد 65 ھ میں مروان بن الحکم خلیفہ بنا۔ اس زمانہ میں بھی صحابہ کرام ؓ موجود تھے۔ تابعین میں بھی بڑے بڑے اہل علم لوگ تھے۔ ہوا یہ کہ عید کا دن تھا ، خلیفہ وقت مروان حجرت ابو سعید خدری ؓ کا ہاتھ تھامے نماز عید کے لیے جا رہے تھے ، عید گاہ پہنچے تو مروان اپنا ہاتھ چھڑا کر منبر پر جانا چاہتا تھا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے ہر چند روکا کہ عید کے دن پہلے نماز اور بعد میں خطبہ ہوتا ہے۔ اس لیے آپ قبل از نماز عید کا خطبہ نہ دیں ، مگر مروان نہ مانا اور منبر پر پہنچ کر خطبہ شروع کردیا۔ اتنے میں حاضرین میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز سے پکارا الصلوۃ قبل الخطبہ یعنی خطبے سے پہلے نماز ہونی چاہیئے۔ مگر مروان پھر بھی نہ مانا اور اپنی ضد پر اڑا رہا۔ ابو سعید خدری ؓ نے کہا اما ھذا فقد قضی ما علیہ یعنی اس شخص نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کردیا ، کیونکہ میں نے خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے من رائ منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ جو کوئی برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے۔ فان لم یستطع فبلسانہ اگر وہ ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے ہی کہ دے۔ اور اگر زبان سے روکنے کی طاقت بھی نہ پاتا ہو فبقلبہ تو کم از کم دل ہی سے اسے برا جانے۔ فرمایا وذلک اضعف الایمان یہ کمزور ترین ایمان ہے۔ مسلم شریف اور ابن ماجہ شریف کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں ولیس وراء ذلک من الایمان حبہ خردل یعنی اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا کوئی درکہ باقی نہیں ہے۔ کسی برائی کو محض دل سے برا جاننا ایمان کا آخری درجہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر یہ درجہ بھی کسی کو حاصل نہ ہوسکے ، تو پھر اس کا ایمان باقی نہ رہا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ اور حضرت حذیفہ ؓ کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں۔ والذی نفسی بیدہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے لتامرن بالمعروف وتنھون عن المنکر تم ضرور نیکی کا کام کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔ اگر ایسا نہیں کروگے لیو شکن اللہ یبعث علیکم عقابا تو منتظر رہو کہ اللہ تم پر عذاب مسلط کردے۔ ثم لتدعنہ فلا یستجیب لکم پھر تم دعائیں کرتے رہو گے۔ مگر اللہ قبول نہیں کرے گا۔ گویا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے غفلت اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے مستحق ٹھروگے۔ فرض کفایہ : مفسر قرآن امام ابونکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ ولتکن منکم امۃ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تبلیغ دین کا کام فرض کفایہ ہے۔ کیونکہ یہ کام ایک گروہ یا جماعت کے سپرد کیا گیا ہے۔ سب کے سب مسلمانوں کو یہ حکم نہیں ہے۔ اگر یہ کام تمام اہل اسلام کے لیے ضروری ہوتا تو نماز ، روزہ وغیرہ کی طرح فرض عین ہوتا ۔ فرض کفایہ کا حکم یہ ہے کہ اگر عامۃ المسلمین میں سے کچھ لوگ بھی اس کو ادا کرلیں تو سب کی طرف سے ادا ہوجائے گی اور اگر کوئی شخص بھی اس فرض کو پورا نہ کرے ، تو سب کے سب گنہگار ہوں گے۔ جیسے جہاد کا فریضہ ہے۔ جب کوئی شخص بھی جہاد کرنے والا نہیں ہوگا تو ساری قوم قابل مواخذہ ہوگی اور اگر جہاد کے قابل بعض لوگ اس فرض کو ادا کرتے رہیں گے تو ساری قوم کی طرف سے فرض کی ادائیگی ہوجائے گی۔ اسی طرح اسلامی تعلیم حاصل کرنے کا معاملہ ہے۔ بنیادی تعلیم کے متعلق تو حضور ﷺ نے فرمایا طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم و مسلمۃ کہ یہ ہر مسلمان مرد و زن پر فرض ہے۔ یہ ضروریات دین میں شامل ہے۔ اور اس کے ذریعے سے انسان اپنا عقیدہ اور عمل درست کرتا ہے ، مگر مفصل تعلیم فرض بلکفایہ ہے۔ کچھ لوگ بھی اگر دین کی مفصل تعلیم حاصل کرلیں گے اور وہ اسے عام لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے ، تو یہ تمام لوگوں کی طرف سہ کفایت کرے گا۔ اسی طرح مردے کا غسل ، کفن دفن اور اس کی نماز جنازہ ہے۔ اگر بعض لوگوں نے یہ امور انجام دے دیے تو سب لوگوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا ہوگیا۔ اور اگر کسی نے بھی نہیں کیا تو سارے کے سارے بستی والے گنہگار ہوں گے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے۔ مامن قوم یعمل فیھم بالمیعاصی جس قوم میں برائیوں کا ارتکاب ہو رہا ہو اور قوم کے لوگ قادر ہونے کے باوجود برائی کو روکنے کی کوشش نہ کریں تو اللہ تعالیٰ سب کو سزا دیں گے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے مزید فرمایا۔ کہ برائی سے منع نہ کرنے والی بہیماری سب سے پہلے بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی۔ جب اس قوم کے لوگ معاصی میں مبتلا ہوئے تو ابتدا میں بعض لوگوں نے انہیں روکنے کی کوشش کی ، جب وہ باز نہ آئے ، تو باقی لوگ بھی ان کے ساتھ ہی شامل ہوگئے۔ ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا وغیرہ جاری رکھا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو ملعون قرار دے کر سزا میں مبتلا کردیا۔ الغرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض بالکفایہ ہے۔ اور اگر امت میں سے کچھ لوگ بھی اس کا بار اٹھا لیں ، تو یہ فریضہ ادا ہوجائے گا۔ اس کے مکلفین : امام غزالی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ برائی کو بزور طاقت روکنا حکومت وقت کا کام ہے کیونکہ اس کے پاس وسائل اور طاقت ہوتی ہے۔ اور زبان سے روکنا علمائے کرام کا کام ہے۔ جب کہیں برائی دیکھیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ خاموش تماشائی نہ بنیں بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور احتجاج کریں۔ فرماتے ہیں کہ ایمان کہ آخری درجے میں عوام الناس آتے ہیں۔ انہیں چاہیئے کہ وہ کم از کم دل سے ہی برائی کو برا سمجھیں اور نیکی کی حوصلہ افزائی کریں۔ ابو داؤد شریف کی روایت میں ہے اذا سرتک حسنتک وساء تک سیئتک فانت مومن جب تجھے نیکی اچھی لگے اور برائی بری محسوس ہو ، تو سمجھ لے کہ تیرے اندر ایمان باقی ہے اور اگر اس کے خلاف ہے۔ تو آدمی ایمان سے خالی ہوگیا۔ بعض مفسرین اور علمائے کرام فرماتے ہیں۔ کہ برائی کو طاقت سے روکنے کے کیے حکومت کے علاوہ بعض دوسرے لوگ بھی مکلف ہیں۔ انسان اپنے گھر میں یا اپنے ماحول میں جہاں بھی برائی کو بزور طاقت روک سلتا ہے وہاں وہ ایسا کرنے کا پابند ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ایسے شخص کو اپنے گھر میں یا حلقہ اثر میں اختیار حاصل ہوتا ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں موجود ہے کلکم راع وکلکم مسئول عن رعیتہ تم میں سے ہر شخص اپنے حلقہ اثر میں حاکم ہے اور تم سے اپنی رعیت کے متعلق بازپرس ہوگی۔ لہذا ہر شخص کے لیے لازم ہے کہ جہاں بھی طاقت پاتا ہے ، برائی کو روکنے کی کوشش کرے۔ اگر اس ضمن میں غفلت کا مظاہرہ کرے گا تو مجرم ٹھرے گا۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف کے بھی مختلف درجات ہیں جو حکم جس درجے کا ہوگا ، اس پر عمل کرانا بھی اسی درجے میں داخل ہوگا۔ مثلا نماز یا روزہ فرض ہے ، تو وہاں نماز اور روزہ کا حکم کرنا بھی فرض ہوگا۔ اور نوافل وغیرہ جیسے مستحب امور ہیں ان کا حکم کرنا بھی مستحب کے درجے میں ہوگا۔ فرض واجب نہی ہوگا۔ مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ کسی مسئلہ میں قدرت ہونے میں یہ شرط بھی داخل ہے کہ وہ مسائل دین سے واقف بھی ہو۔ اگر کوئی شخص دینی مسائل کو جانتا ہی نہیں تو عمل کیسے کرائے گا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ جاہل لوگوں کا وعظ سننا بھی درست نہیں۔ ایسا شخص جھوٹی رویتیں بیان کر کے غکط مسئلے پیش کرے گا۔ ظاہر ہے کہ ایسا آدمی عالم نہیں جاہل ہے ، لہذا اس کے وعظ سے بھی اجتناب کرنا چاہیئے۔ حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) بھی حاشیئے میں فرماتے ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرنے کے لیے انسان کا صاحب علم ہونے کے ساتھ ساتھ ذی ہوش اور موقع شناس ہونا بھی ضروری ہے۔ ممکن ہے کہ ایک جاہل آدمی معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنا دے۔ یا منکرات کی اصلاح کے لیے ایسے وسائل استعمال کرے جن سے مزید منکرات پیدا ہونے کا احتمال ہو۔ بعض اوقات نرمی کی بجائے سختی اور سختی کی بجائے نرمی اختیار کرنے سے بھی اصلاح کی بجائے بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔ لہذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر وسیع تر معنوں میں ایک آدمی کا کام نہیں ہے۔ بلکہ اس کام کے کیے مذکورہ شرائط کا پایا جانا بھی ضروری ہے۔ الغرض ! فرمایا کہ تم میں سے ایک ایسا گروہ ضرور ہونا چاہیئے۔ جو ہر وقت خیر کی طرف دعوت دے ، اچھے کاموں کی تلقین کرے۔ اور برے کاموں سے منع کرے۔ فرمایا واولئک ھم المفلحون یہی لوگ کامیاب اور کامران ہیں۔ ایسا فریضہ ادا کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہوں گے اور انہیں درجہ کمال حاصل ہوگا۔ فرمایا یہ لوگ فلاح یافتہ ہوجائیں گے۔