3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 3:152–153

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق اللہ نے تمہارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کر دکھایا تھا۔ جب کہ تم ان (دشمنوں) کو کاٹ رہے تھے اللہ کے حکم سے۔ یہاں تک کہ جب تم بزدل ہوگئے اور تم نے معاملہ میں جھگڑا کیا۔ اور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھائی ، جسے تم پسند کرتے ہو۔ تم میں سے بعض وہ ہیں جو دنیا کا ارادہ کرتے ہیں۔ اور بعض وہ ہیں جو آخرت کا ارادہ کرتے ہیں۔ پھر پھیر دیا تم کو ان سے تاکہ تم کو آزمائش میں ڈالے۔ اور البتہ تحقیق اللہ نے تم کو معاف کردیا ہے۔ اور فضل والا ہے اہل ایمان پر۔

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

جب کہ تم اوپر جا رہے تھے اور کسی کی طرف نہیں پلٹتے تھے۔ اور اللہ کا رسول تم کو پکارتا تھا پیچھے سے ، پس پہنچایا اللہ تعالیٰ نے تم کو غم پر غم۔ تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو۔ جو تم سے فوت ہوگئی ہے۔ اور نہ اس پر جو تم کو پہنچی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ان کاموں کی خبر رکھنے والا ہے ، جو تم کرتے ہو۔

ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور منافقین کی بات ماننے سے منع فرمایا۔ اور اس سے پہلے سابقہ انبیاء کرام اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے خبردار کیا کہ اگر کافروں اور منافقوں کی بات مانوگے تو وہ تمہیں الٹا جاہلیت کی طرف لے جائیں گے۔ اور تمہیں تمہارے پاکیزہ نظریات سے برگشتہ کردیں گے جو کہ تمہارے لیے سخت نقصان کا باعث ہوگا۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ تمہیں مخالفین کے پراپیگنڈا سے متاثر نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر مکمل بھروسہ کرنا چاہئے۔ وہی تمہارا آقا اور مددگار ہے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی بیان ہوچکا ہے۔ کہ کفار و مشرکین کے نظریات باطل ہیں وہ وہم میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ انکے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دے گا۔ وہ جہنم کے مستحق ہیں ، لہذا ان کی بات کو کسی طور تسلیم نہیں کرنا۔ غزوہ احد ۔ سرسری جائزہ : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان ہوچکا ہے۔ کہ اے اہل ایمان ! اگر تم تقوی اور صبر کی راہ پر مستقیم رہوگے ، تو یقیناً تم کو بلندی حاصل ہوگی۔ چناچہ جنگ احد کے ابتدائی حصہ میں حالات مسلمانوں کے حق میں تھے۔ کافر تعداد میں بھی زیادہ تھے ، اور ادھر مسلمانوں کے ایک ہزار مجاہدین میں سے تین سو کا لشکر عبداللہ بن ابی منافق کی معیت میں پہلے ہی علیحدہ ہوگیا۔ کافروں کے پاس سامان حرب کی بھی فراوانی تھی مگر مسلمانوں کے پاس محض واجبی سا سامان تھا۔ اس کے باوجود ابتدائے جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا اور اللہ نے غلبہ عطا فرمایا۔ بیس کے قریب کافر واصل بجہنم ہوئے۔ دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ دور تک بھاگتے چلے گئے مگر مسلمانوں کی ایک کوتاہی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور اہل اسلام کی فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ حضور ﷺ نے ایک پہاڑی پر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ کی قیادت میں پچاس تیر اندازوں کی ایک جماعت مقرر کی تھی اور انہیں حکم دیا تھا کہ ہمیں فتح ہو یا شکست تم اپنے مورچے کو مت چھوڑنا۔ جب تیر اندازوں نے دیکھا کہ نیچے مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگئی ہے دشمن بھاگ نکلا ہے ، تو ان میں اختلاف رائے پیدا ہوا کہ آیا انہیں اپنے مورچے کو چھوڑ دینا چاہئے۔ یا حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق وہیں ڈٹے رہنا چاہئے۔ ان کے قائد کی رائے یہ تھی کہ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق انہیں یہیں موجود رہنا چاہئے۔ تاہم اکثریت کی رائے تھی کہ حضور کا موجود رہنے کا حکم مسلمانوں کی فتح تک کے لیے تھا۔ اب جب کہ فتح حاصل ہوگئی ہے تو اب وہاں ٹھہرنا کچھ ضروری نہیں رہا۔ چناچہ تیر اندازوں کی اکثریت پہاڑ سے نیچے اتر کر مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئی۔ اور پہاڑی پر حضرت عبداللہ کے ہمراہ صرف دس آدمی باقی رہ گئے۔ نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ الحرب خدعۃ۔ یعنی لڑائی داؤ پیچ سے ہوتی ہے۔ اس ہتھیار کو کفار کے رسالہ کے کمانڈر حضرت خالد بن ولید نے آزمایا ، جو ابھی تک دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ وہ اپنے دستہ کے تین سو گھوڑ سواروں کے ہمراہ اس پہاڑی پر حملہ آور ہوئے جسے مسلمان تیر انداز چھوڑ چکے تھے۔ پہاڑی پر موجود دس گیارہ مجاہدین کی جماعت حملہ کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئی۔ کفار کے بھاگتے ہوئے سپاہیوں نے جب دیکھا کہ ان کا رسالہ مسلمانوں کے عقب میں پہنچ گیا ہے ، تو وہ بھی واپس لوٹے اور اس طرح مسلمان جو پہلے ہی قلیل تعداد میں تھے کفار کے دو لشکروں کے درمیان گھر گئے۔ ان میں ایسی افراتفری پھیلی کہ خود مسلمان مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہونے لگے۔ حضرت حذیفہ ؓ کے والد حضرت یمان اسی افراتفری میں شبہ میں شہید ہوگئے ، خود حضور ﷺ کا رخسار مبارک زخمی ہوا۔ ہونٹ پھٹ گیا اور نیچے کا ایک دانت مبارک شہید ہوا۔ خود کی کڑیاں ٹوٹ کر سر مبارک میں داخل ہوگئیں۔ خون بہنے لگا۔ آپ (علیہ السلام) پر بےہوشی طاری ہوگئی اور آپ زمین پر گر گئے۔ آپ کا دفاع کرنے والے دس میں سے نو مسلمان شہید ہوگئے۔ بعض مجاہدین نے زبردست جرات کا مظاہرہ کیا۔ حضرت طلحہ کے ہاتھ پر نیزے اور تیر کے زخم آئے جس سے ہاتھ شل ہوگیا۔ ابودجانہ نے اپنی پشت کو ڈھال بنا کر حضور نبی کریم ﷺ کا دفاع کیا۔ مسلمانوں کو تنبیہ : ان حالات کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان کی غلطی پر تنبیہ فرمائی ہے۔ اور ساتھ تسلی بھی دی ہے۔ کہ یہ واقعہ تمہارے لیے آزمائش تھی۔ اس ابتلا سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ ولقد صدقکم اللہ وعدہ۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اذ تحسونھم باذنہ۔ جب تم اللہ کے حکم سے کافروں کو کاٹ رہے تھے ان کو تہ تیغ کر رہے تھے۔ اور وہ وعدہ یہی تھا۔ کہ اگر تم تقوی اور صبر سے کام لوگے تو تمہاری مدد کی جائیگی۔ چناچہ ابتدائے جنگ میں اللہ نے تمہاری مدد فرمائی تم ان پر غالب آئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ حس کا معنی محسوس کرنا ، پشت پر مالش کرنا ، کاٹنا ، استیصال کرنا وغیرہ آتا ہے۔ یہاں پر کاٹنا یا استیصال کرنا زیادہ مناسب حال ہے ، مقصد یہ کہ ابتدائے جنگ میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں کفار پر غلبہ عطا کیا۔ حتی اذا فشلتم۔ حتی کہ جب تم بزدل ہوگئے۔ وتنازعتم فی الامر۔ اور تم نے آپس کے معاملہ میں جھگڑا کیا۔ یعنی بعض نے کہا کہ ہمیں اس پہاڑی پر قائم رہنا چاہئے۔ جب کہ دوسروں نے کہا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے لہذا انہوں نے مورچہ چھوڑ دیا۔ جنگ کے موقع پہ اختلاف رائے ہی نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ پوری فوج کو یک جان ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ آگے سورة انفال میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپس میں تنازعہ نہ کیا کرو۔ اس سے تفرقہ پڑ کر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے فوج بزدل ہوجاتی ہے۔ اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔ دشمن پر اس کا رعب ختم ہوجاتا ہے۔ لہذا جنگ کے دوران مکمل یک جہتی کی فضا برقرار رہنی چاہئے۔ غزوہ احد کے موقع پر یہ حالت برقرار نہ رہ سکی تین سو افراد کا گروہ مدینے سے روانگی کے وقت ہی علیحدہ ہوگیا تھا اس کے علاوہ مقام جنگ کے متعلق بھی مسلمانوں میں اختلاف رائے پیدا ہوا۔ کچھ لوگ شہر سے باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہتے تھے اور بعض دوسرے شہر کے اندر مورچہ بندی کرنا چاہتے تھے اور پھر آخری اختلاف یہ ہوا کہ حضور ﷺ کی مقرر کردہ پچاس تیر اندازوں کی جماعت اپنے مورچہ پر قائم نہ رہی۔ درحقیقت یہ حضور نبی کریم ﷺ کے حکم کی نافرمانی تھی۔ چناچہ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ وعصیتم۔ اور تم نے نافرمانی کی۔ من بعد ما اراکم ما تحبون۔ بعد اس کے کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی جو تم پسند کرتے تھے ، تمہاری پسندیدہ چیز تو فتح تھی جو تم نے دیکھ لی۔ دشمن بھاگ رہا تھا اور تم مال غنیمت اکٹھا کر رہے تھے۔ اس کے بعد تم نے نافرمانی کی ، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوج میں ابتری پھیل گئی۔ اور تمہاری فتح شکست میں تبدیل ہوگئی۔ طلب دنیا اور طلب آخرت : فرمایا یہ صورت حال اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ منکم من یرید الدنیا۔ تم میں سے بعض لوگ ایسے تھے جو دنیا کے طالب تھے یہ انہی تیر اندازوں کی طرف اشارہ ہے ، جو مورچہ کو چھوڑ کر مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے۔ مال غنیمت کے اسی تعاقب کو حصول دنیا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ومنکم من یرید الاخرۃ۔ اور تم میں سے بعض دوسرے تھے جو آخرت کے طالب تھے۔ پچاس میں سے صرف دس گیارہ آدمی رہ گئے تھے جو حضور ﷺ کے حکم کی تعمیل میں مورچے پر قائم رہے اور شہید ہوگئے۔ بلاشبہ انہوں نے دنیا کے مقابلے میں آخرت کو ترجیح دی۔ یہی لوگ آخرت کا ارادہ کرنے والے تھے۔ فرمایا ثم صرفکم عنہم۔ پھر تم کو ان سے پھیر دیا۔ ابتداء میں تم کافروں پر غالب آ چکے تھے۔ کافروں کے ایک لشکر نے پیچھے سے حملہ کردیا اور دوسرے لشکر نے واپس پلٹ کر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔ فرمایا یہ سب کچھ اس لیے ہوا۔ لیبتلیکم۔ تاکہ اللہ تعالیٰ تمہیں آزمائش میں ڈال دے۔ مقصد یہ کہ میدان احد میں کفار کا جو پلہ بھاری ہوگیا تھا۔ یہ مسلمانوں کی آزمائش تھی کہ وہ اس قسم کے نامساعد حالات میں میں بھی کس حد تک ثابت قدم رہتے ہیں۔ انسانوں کو اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اس مقام پر بعض حضرات نے غلطی کھائی ہے کہ کیا بعض صحابہ کرام واقعی دنیا کے طالب تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ تمام صحابہ سچے اور مخلص اہل ایمان تھے ان میں محض دنیا کا طالب کوئی بھی نہیں تھا۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے۔ وہ اپنے مقربین کی معمولی سی لغزش کا بھی نوٹس لیتا ہے۔ صحابہ کرام بڑے پائے کے ربی لوگ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس معمولی سی غلطی پر بھی انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔ اس موقع پر ان کا مال غنیمت کا تعقاقب بھی محض دنیا کے لیے نہیں بلکہ آخرت ہی کے لیے تھا۔ شرعی قانون کے مطابق مال غنیمت میں سے ہر مجاہد کو حصہ ملتا ہے ، خواہ وہ خود اسے جمع کرے یا کوئی دوسرا یہ فرض انجام دیتا رہے۔ لہذا ان صحابہ کا مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت جمع کرنا اس وجہ سے نہیں تھا۔ کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو حصہ سے محروم ہوجائیں گے۔ بلکہ یہ فریضہ بھی وہ تمام مسلمانوں کے مشترکہ مقصد کی خاطر ہی ادا کر رہے تھے۔ لہذا مال غنیمت کے تعاقب کو طلب دنیا سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے۔ ان کے دوسرے ساتھی جو مورچے پر قائم رہے اور غنیمت کا کچھ خیال نہ کیا ، وہ دنیا کی طلب کے بغیر محض آخرت کے طالب تھے۔ گویا دونوں گروہ در حقیقت آخرت ہی کے طلبگار تھے۔ ایک گروہ دنیا کے راستے آخرت کا طالب تھا اور دوسرا براہ راست آخرت چاہتا تھا۔ دنیا سے رغبت کسی کو نہ تھی چونکہ اس وقت مال غنیمت سامنے موجود تھا ، اس لیے اسے طلب دنیا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بایں ہمہ صحابہ کرام کی دنیا داری سے مراد وہ دنیا طلبی نہیں ہے جو ہماری اور بعد میں آنے والے لوگوں کی ہے۔ ہم لوگ دنیا کے خواہشمند بالذات ہیں جب کہ صحابہ کرام طالب دنیا بالذات نہیں تھے۔ بلکہ طالب بالعرض تھے یعنی آخرت کی خاطر دنیا کے طالب تھے۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس پر بھی تنبیہ فرما دی۔ یہ ایک آزمائش تھی۔ غلطی معاف ہوگئی : اس آزمائش کے بعد فرمایا۔ ولقد عفا عنکم۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری غلطیوں کو معاف فرما دیا۔ ظاہر ہے کہ جسے اللہ معاف فرما دے ، وہ پاک ہوگیا۔ یہ غلطی کوئی قصداً یا عمداً نہیں ہوئی۔ بلکہ اجتہادی غلطی تھی جسے اللہ نے معاف کردیا۔ صحابہ کا مقصد یہ تھا کہ دشمن کو ڈرانا بھی ضروری ہے اور مال غنیمت اکٹھا کرنا بھی لازم ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل ہو۔ چناچہ اس بات پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرما دی اور ساتھ تسلی بھی دے دی کہ اللہ نے تمہاری غلطی معاف کردی ہے کیونکہ واللہ ذو فضل علی المومنین۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر فضل کرنے والا ہے۔ مسلمانوں کی زبوں حالی : آگے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس زبوں حالی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ جب کہ وہ سخت افراتفری کے عالم میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ارشاد ہے۔ اذ تصعدون۔ جب تم اوپر جا رہے تھے۔ صعود کا معنی اوپر چڑھنا بھی ہے اور دور چلے جانا بھی۔ مقصد یہ ہے کہ جب کفار نے تم پر دو طرف سے حملہ کردیا ، تو تم دباؤ میں آگئے اور ان کے سامنے ٹھہر نہ سکے۔ تم دور تک چلے گئے حتی کہ پلٹ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ ولا تلون علی احد۔ کسی کی طرف توجہ نہیں کر رہے تھے۔ حالانکہ والرسول یدعوکم فی اخریکم ۔ اللہ کا رسول تمہیں پیچھے سے پکار رہا تھا۔ آپ فرما رہے تھے۔ الی یا عباد اللہ۔ اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ، میں تو یہاں ہوں ، حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ نے لوگوں میں سخت بد دلی پیدا کردی تھی۔ کافروں کا دباؤ پڑا۔ تو مسلمان بھاگ نکلے اور ان میں حضرت عثمان بھی شامل تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سب کو معاف کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا۔ فاثابکم غما بغم۔ تمہیں غم پر غم دیا۔ ایک شکست کا غم ، دوسرے حضور ﷺ کی شہادت کا غم تھا فرمایا یہ آزمائش اس لیے ڈالی گئی تھی۔ لکیلا تحزنوا علی ما فاتکم۔ تاکہ تم اس چیز پر غم نہ کرو ، جو تم سے فوت ہوگئی ہے۔ یہ تو ابتلا تھی۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی استاذ اپنے شاگرد کی اصلاح کے لیے اسے سزا دیتا ہے مقصد تمہاری اصلاح تھا تاکہ آئندہ اس قسم کی غلطی سے بچ جاؤ۔ نیز فرمایا ایسی چیز پر بھی غمگین نہ ہو۔ ولا ما اصابکم۔ جو تم کو پہنچی ہے۔ یعنی جو تکلیف اور پریشانیاں تمہیں آئی ہیں۔ نہ ان پر زیادہ فکر مند ہو اور نہ اس چیز پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی ہے۔ یعنی اگر فتح حاصل نہیں ہوسکی۔ تو کوئی بات نہیں۔ فکر مت کرو۔ اللہ تعالیٰ آئندہ بہتر فتوحات عطا کرے گا۔ واللہ خبیر بما تعملون۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام کاموں سے باخبر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات موجود ہے۔ کہ تمہاری غلطی محض اجتہادی غلطی تھی ، لہذا اللہ نے اس غلطی کو معاف کردیا آئندہ محتاط رہو۔ اہل اسلام اور کفار میں مکالمہ : مسلمانوں پر عقب سے حملہ ہونے کی وجہ سے جب یہ افواہ اڑ گئی کہ حضور نبی کریم ﷺ شہید ہوگئے ہیں اور لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔ تو اللہ کے رسول نے آواز دی کہ بھئی ! میں تو یہاں ہوں۔ پہلے تو کسی نے آپ کو پہچانا ہی نہیں۔ مگر بعد میں آپ کے صحابی حضرت کعب نے آپ کو پہچان لیا اور مسلمانوں کو آواز دی کہ اللہ کے رسول یہاں زندہ سلامت موجود ہیں۔ اس پر لوگ پھر آپ کے گروہ جمع ہوگئے۔ اس موقع پر ابوسفیان نے پکار کر کہا ابن ابی کبشہ کہاں ہے۔ قریش مکہ حضور ﷺ کو خاندان رضاعت کی بنا پر یہ لقب دیتے تھے۔ اور اس سے آپ کی (نعوذ باللہ) تحقیر مقصود ہوتی تھی۔ پھر ابو سفیان نے کہا ابن ابی قحافہ کہاں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی کنیت تھی۔ وہ سمجھا کہ سب شہید ہوگئے ہیں آگے سے کوئی جواب نہیں آ رہا ہے ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے جواب دیا ، اللہ کے دشمن ! ہم سب یہاں موجود ہیں۔ اللہ کا رسول بھی ہے۔ ابوبکر بھی ہے اور میں عمر بھی ہوں۔ ابو سفیان نے نعرہ مارا ، اعل ھبل کی جے ، اس پر حضور ﷺ نے جوابی نعرہ لگایا۔ اللہ اعلی و اجل۔ اللہ ہی سب سے بڑا اور بزرگ ہے۔ ابوسفیان نے پھر کہا۔ لنا العزا ولا عزی لکم۔ ہمارا حامی عزی ہے۔ اور تمہارا کوئی عزی نہیں۔ آپ نے فرمایا۔ تم یوں کہو۔ اللہ مولانا ولا مولی لکم۔ ہمارا مولا اللہ ہے۔ اور تمہارا کوئی مولا نہیں۔ اس نے پھر کہا۔ کہ ہم نے تمہارے شہیدوں کے ناک کان کاٹ ڈالے ہیں۔ نہ میں نے اس کا حکم دیا ہے اور نہ میں اس پر ناراض ہوں۔ غرض میدان جنگ میں اس قسم کے مکالمے کا تبادلہ ہوا۔ مسلمانوں نے ان پر دوبارہ حملہ کیا اور وہ واپس لوٹ گئے۔ باقی تفصیلات اگلی آیات میں دو تین رکوع تک آئیں گی۔
Ayahs 3:154–155

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر اتارا اللہ نے تمہارے اوپر غم کے بعد امن اونگھ جو ڈھانپ رہی تھی ایک گروہ کو تم میں سے۔ اور ایک گروہ ایسا تھا کہ ان کو فکر مند کیا تھا ان کی جانوں نے وہ گمان کرتے تھے اللہ کے بارے میں ناحق خیال ، جاہلیت کا خیال۔ وہ کہتے تھے کیا معاملے میں ہمارے لیے بھی کچھ ہے ؟ آپ کہہ دیجئے۔ معاملہ سب کا سب اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ اپنے نفسوں میں ان باتوں کو چھپاتے ہیں ، جن کو آپ کے ہمارے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔ کہتے ہیں اگر معاملے میں ہمارے لیے کچھ ہوتا ، تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہہ دیجئے ، اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تو وہ لوگ کلتے جن پر قتل کیا جانا لکھ دیا گیا ہے اپنی قتل گاہوں کی طرف تاکہ اللہ تعالیٰ آزمائے اس چیز کو جو تمہارے باطن میں ہے۔ اور تاکہ صاف کردے اللہ تعالیٰ اس چیز کو جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ دلوں کے رازوں کو جانتا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

بیشک تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے پشت پھیری جس دن دو جماعتوں کی آپس میں ٹکر ہوئی۔ بیشک ان کو پھسلایا شیطان نے ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے۔ اور البتہ تحقیق اللہ نے ان کو معاف کردیا ہے بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور برد بار ہے۔

ربط آیات : ان آیات کا تعلق بھی غزوہ احد ہی سے ہے۔ اس جنگ کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ اس جنگ کے دوران مسلمانوں کی کوتاہی کی بناء پر ان پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ ابتدائی فتح حاصل ہونے کے بعد مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا۔ بہت سے اکابر صحابہ شہید ہوئے خود حضور ﷺ زخمی ہوگئے حتی کہ آپ کی شہادت کی خبر بھی مشہور ہوگئی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کی غلطی کو معاف فرما دیا۔ کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ فتح حاصل کرنے کے باوجود وہاں ٹھہر نہ سکے بلکہ واپس بھاگ گئے۔ آج کے درس میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر مہربانی فرما کر کس طرح ان کے غم واندوہ کو اطمینان میں بدل دیا۔ دوران جنگ نیند : ارشاد ہوتا ہے۔ ثم انزل علیکم من بعد الغم امنۃ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے غم کے بعد تم پر امن کی حالت نازل فرمائی۔ اور وہ امن کیا تھا۔ نعاسا۔ اونگھ تھی ، جو تم پر طاری ہوگئی۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں۔ کہ دوران جنگ نیند یا اونگھ کا وارد ہوجانا حضور ﷺ کی نبوت و صداقت کی عظیم دلیل اور معجزہ ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی حالت یہ تھی کہ بہت سے مجاہدین شہید ہوچکے تھے۔ بہت سے زخمی حالت میں تھے۔ حضور نبی کریم ﷺ خود زخمی تھے۔ یہ تو سخت پریشانی کا عام تھا۔ انسان کو نیند تو کجا ذرا سا چین بھی نصیب نہیں ہوسکتا ، ایسی حالت میں نیند کا آجانا اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی۔ اور عام قانون بھی یہی ہے۔ کہ اگر لڑائی کی حالت میں نیند طاری ہوجائے تو فتح و کامیابی کی علامت ہوتی ہے۔ یہ ایک نیک فال ہوتا ہے۔ کیونکہ تھکے ک ماندے پریشان حال شخص کو کچھ دیر کے لیے نیند آجائے ، تو اسے سکون حاصل ہوجاتا ہے۔ پریشانی دور ہوجاتی ہے۔ اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ نیند کی حالت صرف خالص ایمان والوں پر طاری ہوئی تھی۔ منافق اس نعمت سے محروم رہے۔ صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں کہ نیند یا اونگھ بھی ایسی طاری ہوئی کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑتی تھی جسے پھر اٹھانا پڑتا تھا ، غرض اللہ تعالیٰ نے نیند کے ذریعے اہل ایمان کا غم دور کردیا ، ان کا بوجھ ہلکا کردیا اور وہ پھر سے تازہ دم ہوگئے۔ سورة نبا میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ وجعلنا نومکم سباتا۔ اور ہم نے تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا ہے۔ اور یہ سکون اہل ایمان کو عین جنگ کی حالت میں حاصل ہوا۔ یغشی طائفۃ منکم۔ یہ اونگھ ڈھانپ رہی تھی تم میں سے ایک گروہ کو جو پکے سچے مسلمان تھے۔ منافقوں کو یہ چیز نصیب نہیں ہوئی۔ منافقوں کے شبہات : فرمایا منافقوں کی حالت اس وقت یہ تھی۔ وطائفۃ قد اھمتہم انفسہم۔ کہ اس گروہ کو ان کی جانیں فکر مند کر رہی تھیں ان کو چین نصیب نہیں ہوا۔ بلکہ وہ تو خوفزدہ ہو رہے تھے۔ کہ اب پتہ نہیں کیا ہوگا۔ ہم اس مشکل سے نکل سکیں گے یا نہیں۔ ان کے دلوں میں طرح طرح کے باطل خیالات آ رہے تھے۔ یظنون باللہ غیر الحق۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق گمان کرتے تھے۔ غلط خیال قائم کرتے تھے۔ کہ شاید اللہ ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اور انہیں فتح حاصل نہیں ہوگی۔ اور یہ گمان ایسے ہیں۔ ظن الجاھلیۃ۔ جاہلیت والے گمان ہیں۔ اور ساتھ ساتھ عقیدہ تقدیر کی تکذیب بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ ہو رہا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے وہ مشیت الہی کے مطابق ہے جو کچھ اللہ کی تقدیر میں موجود ہے ، وہ ہو کر رہے گا۔ تقدیر ٹل نہیں سکتی۔ مومن تو اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو بھی خیر و شر آتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی حکمت ، ارادے اور مشیت سے آتا ہے۔ مگر منافقین زمانہ جاہلیت کے گندے عقائد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں۔ یقولون ھل لنا من الامر من شیء۔ کیا معاملے میں ہمارے لیے بھی کچھ ہے ؟ یعنی ہمیں تو غم پر غم پڑ رہا ہے کیا ہمارے لیے اچھائی میں بھی کچھ حصہ ہے ؟ اس کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے۔ قل ان الامر کلہ للہ۔ اے نبی (علیہ السلام) آپ کہہ دیجئے کہ سارے کا سارا معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اس کے ارادے اور مشیت میں کسی کو مجاز دخل نہیں وہ جو چاہے کرتا ہے اللہ تعالیٰ بتلا رہے ہیں کہ ان منافقوں کی حالت یہ ہے کہ یخفون فی انفسہم مالایبدون لک۔ یہ لوگ اپنے نفسوں میں منافقانہ سازشوں اور گندے خیالات کو چھپاتے ہیں ، جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے۔ موت کا وقت مقرر ہے : اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں۔ کہ یہ بدبخت اپنی منافقت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔ یقولون لوکان لنا من الامر شیء ما قتلنا ھھنا۔ کہتے ہیں کہ اگر معاملے میں ہمارے لیے بھی کچھ ہوتا ، تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کو ہماری بھلائی منظور ہوتی تو ہمارے اتنے آدمی شہید نہ ہوتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ کہ ان کا یہ خیال باطل محض ہے۔ کہ اگر جنگ میں شریک نہ ہوتے تو بچ جاتے۔ بلکہ فرمایا۔ قل لو کنتم فی بیوتکم۔ اگر تم اپنے گھروں میں بھی پڑے ہوتے۔ لبرز الذین کتب علیھم القتل الی مضاجعھم۔ تو جن لوگوں کی تقدیر میں موت لکھی جا چکی ہے وہ اپنے قتل گاہ کی طرف ضرور نکل آتے۔ یہ تو خدا تعالیٰ کے علم میں ہے کہ فلاں شخص کی موت کس مقام اور کس وقت پر واقع ہوگی۔ لہذا یہ ان کی خام خیالی ہے کہ اگر گھروں میں بیٹھ رہتے تو قتل نہ ہوتے جس خداوند کریم نے ان کے قتل کا مقام مقرر فرما دیا وہ ان کے اس مقام پر پہنچ جانے کا انتظام بھی فرما دیتا۔ لہذا اس قسم کے باطل خیالات دل میں نہیں لانے چاہئیں بلکہ تقدیر خداوندی پر راضی ہوجانا چاہئے۔ مومن کی آزمائش : تقدیر پر ایمان لانا ایک مومن کا جزو ایمان ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوتی۔ جو انسان پیدا کیے گئے ہیں۔ ان کے حوادثات بھی ان کے ساتھ مقدر ہیں۔ غزوہ احد میں جو تکلیف پہنچی وہ مسلمانوں کے مقدر میں لکھی جا چکی تھی۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے اس کی حکمت یوں بیان فرمائی۔ ولیبتلی اللہ ما فی صدورکم۔ تاکہ اللہ تعالیٰ آزمائے اس چیز کو جو تمہارے دلوں میں ہے ایسی ہی مشکل صورت حال میں کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوتی ہے۔ مقصد یہ تھا کہ آزما کر دیکھا جائے کہ ان میں سے کون سچے مومن ہیں اور کن کے دلوں میں کھوٹ موجود ہے۔ چناچہ منافقین کا ایک گروہ تو احد کی طرف آتے ہوئے راستے سے ہی واپس ہوگیا۔ اور جو میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ ان میں سے بعض کے دلوں میں مختلف وسوسے پیدا ہونے لگے۔ کہ ہمیں فتح کیوں نہیں حاصل ہورہی ہے اور یہ کہ اگر ہم اس جنگ کے لیے باہر نہ نکلتے تو شاید قتل ہونے سے بچ جاتے وغیرہ وغیرہ ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے کھرے اور کھوٹے کی آزمائش فرمائی۔ کیونکہ جو راسخ العقیدہ مسلمان تھے وہ ہر حالت میں ثابت قدم رہے۔ اس آزمائش کی دوسری حکمت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ولیمحص ما فی قلوبکم۔ اور تاکہ اللہ تعالیٰ اس چیز کو صاف کردے جو تمہارے دلوں میں ہے۔ مطلب یہ کہ دلوں میں جو مختلف وسوسے اور شبہات پیدا ہو رہے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان کو دور کرکے اہل ایمان کے دلوں کو ایسی اشیا سے پاک صاف کردیا۔ اس مقام پر آزمائش کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے صدور کا لفظ فرمایا کہ تمہارے سینوں میں جو بات پوشیدہ ہے اس کو آزمائے۔ اور آگے جہاں پاک صاف کرنے کا ذکر ہے وہاں قلوب کا لفظ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقیدہ ، ایمان اور اخلاص کا مرکز دل ہے لہذا اس کی پاکیزگی ضرورت ہے۔ تاکہ انسان کا عقیدہ اور ایمان درست ہوجائے اور اس میں دین کے لیے اخلاص پیدا ہوجائے۔ یہی وجہ ہے۔ کہ مومن لوگ امتحان میں بالکل پاک صاف ہو کر نکلتے ہیں۔ جب کہ روگی دل والے تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس آزمائش کے ذریعے ہم نے تمہارے دلوں میں موجود میل کچیل کو صاف فرما دیا۔ تمہیں احساس ہوگیا کہ فلاں غلطی کی وجہ سے ہم پر یہ سختی آئی ہے۔ لہذا آئندہ کے لیے خبردار اور مستعد ہوگئے۔ اسی لیے علامہ اقبال کہتے ہیں۔ مرد را روز بلا روز صفا است۔ یعنی مرد مومن کے لیے مصائب و مشکلات کا دن اس کے لیے باطنی صفائی کا دن ہوتا ہے۔ اسی طرح پرانے شعراء بھی کہتے ہیں۔ حوادثات اور مصائب کی خوبی اللہ ہی کے لیے ہے کیونکہ یہ مصائب کمینوں کے لیے زنگ آلدگی اور شریف لوگوں کے لیے دلوں کی صیقل کا باعث ہوتے ہیں۔ اسی طرح لوہے کی زبان سے کہلوایا۔ میں تو فقط ایک ٹکڑا تھا۔ پھر تو نے مجھے مصائب میں ڈال کر تلوار بنا دیا۔ اور حوادثات کی گردش نے میری دھار کو تیز کردیا۔ مطلب یہ کہ انسان مصائب کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتا ہے۔ جب آزمائش آئے تو اس پر جزع فزع کرنے کی بجائے اسے خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے۔ اور اپنے عقیدے پر ثابت قدم رہنا چاہئے۔ اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ کہ ریاضت و عبادت کا مقصد انسان کے نسمہ کی پاکیزگی ہے۔ نسمہ سے مراد روح ہے۔ جو مصائب و مشکلات میں پاک صاف ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے نسموں کو پاک کردیا۔ ان کے دلوں کی کجیاں دور ہوگئیں۔ واللہ علیم بذات الصدور۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے رازوں کو جاننے والا ہے۔ اس سے تمہاری کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، خواہ وہ زبان پر ہو یا سینے میں ہو۔ لہذا اپنے نسمہ کو پاک صاف رکھو۔ اس میں برے خیالات کو جگہ نہ دو ۔ ہر اچھائی اور تکلیف اللہ کی مقرر کردہ تقدیر کے مطابق واقع ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے مطابق وقتا فوقتا تمہارا امتحان لیتا رہتا ہے۔ اور مبارک باد کے مستحق ہیں وہ لوگ جو اس امتحان میں پوا اترتے ہیں۔ شیطان کا پھسلاوا : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوسرے کا گروہ کا ذکر فرمایا جو اس امتحان میں پورا نہ اتر سکے۔ اور پھر اس لغزش کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہے۔ ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعن۔ تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے پشت پھیری اس دن ، جس روز دو جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی۔ اور یہ جنگ اہل اسلام اور کفار کے درمیان تھی۔ اس جنگ میں مسلمان سخت افراتفری کے عالم میں مبتلا ہوگئے اور ان کی اکثریت میدان جنگ سے بھاگ نکلی۔ صرف قلیل تعداد میں مخلص لوگ ثابت قدم رہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کی وجہ یہ تھی۔ انما استزلھم الشیطن ببعض ما کسبوا۔ ان کے بعض اعمال یعنی کوتاہیوں کے سبب شیطان نے انہیں پھسلا دیا۔ تمام مسلمان بد دل ہوئے تھے بلکہ ان میں سے بعض نے کمزوری دکھائی حالانکہ اس سے پہلے اسلام کے لیے ان کی بڑی بڑی قربانیاں موجود تھیں۔ ان میں حضرت عثمان بھی شامل ہیں جو سابقین الاولین اور پہلی ہجرت یعنی حبشہ کی ہجرت کرنے والوں میں سے ہیں۔ مگر اس موقع پر ثابت قدم نہ رہ سکے۔ بعض بزرگان دین فرماتے ہیں۔ کہ اس موقع پر آپ کے دل میں کچھ کدورت پیدا ہوگئی تھی۔ بہت سے اکابر صحابہ شہید ہوئے۔ خود حضور ﷺ کو زخم آئے بلکہ شہادت کی خبر مشہور ہوئی۔ افراتفری کے عالم میں حضرت عثمان کے پائے ثبات میں لغزش آگئی ، جس کی وجہ سے شیطان مخل ہوا۔ اس نے وسوسہ ڈالا اور پھر آپ ٹک نہ سکے اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ مگر جلد ہی دل کی وہ میل کچیل صاف ہوگئی۔ حضور ﷺ کے زندہ ہونے کی خبر ملی اور آپ واپس آگئے۔ اس کے بعد پھر گھمسان کی لڑائی ہوئی اور کافروں کو بھاگتے بنی۔ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو پھر راست قدم کردیا۔ اللہ کی طرف سے معافی : بہرحال صحابہ کرام ؓ کی یہ لغزش تھی کہ وہ ثابت قدم نہ رہ سکے ، اللہ کا نبی زخمی حالت میں موجود ہے ، وہ پکار رہا ہے۔ کہ اللہ کے بندو ! کدھر جا رہے ہو ، اس طرف آؤ، یہ یقیناً غلطی تھی ، جو بعض کوتاہیوں کی وجہ سے واقع ہوئی۔ شیطان نے وسوسہ اندازی کی۔ مگر اس کے باوجود ولقد عفا اللہ عنھم۔ اللہ نے ان کو معاف فرما دیا۔ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ ولقد عفا اللہ عنہم۔ اللہ نے ان کو معاف فرما دیا۔ پہلے بھی گزر چکا ہے۔ ولقد عفا اللہ عنہم۔ اب پھر دہرایا جا رہا ہے کہ اللہ نے ان غلطیوں سے درگزر فرمایا۔ لقد تاکید کے لیے ہوتا ہے۔ البتہ تحقیق اللہ ان کو معاف فرما چکا ہے۔ صحابہ کی اس عام معافی کے بعد اب کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان پر نکتہ چینی کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت میں آتا ہے۔ کہ لوگوں نے حضرت عثمان ؓ پر اعتراض کیا۔ کہ آپ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ واقعہ ایسا ہی ہے۔ مگر اس کی وجہ کیا تھی۔ وہ تو بخوشی شریک جہاد ہونا چاہتے تھے۔ مگر حضور ﷺ نے منع فرما دیا۔ حضور ﷺ کی بیٹی اور آپ کی زوجہ بیمار تھیں۔ اللہ کے رسول نے حضرت عثمان کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی کی تیمار داری کے لیے مدینہ میں ٹھہر جائیں آپ نے ان کی تسلی کے لیے فرمایا کہ آپ کی اس جنگ میں عدم شرکت کے باوجود اللہ تعالیٰ آپ کو شریک ہونے والوں جیسا اجر عطا کرے گا۔ اور اللہ کا رسول غنیمت میں ویسا ہی حصہ عطا کرے گا۔ جیسا کہ جہاد میں شرکت حضور نبی کریم ﷺ کے حکم کی وجہ سے تھی۔ حضور ﷺ کی لخت جگر اسی دوران فوت ہوگئیں۔ اور حضور ﷺ نے حضرت عثمان کو مال غنیمت میں سے برابر کا حصہ دیا۔ چناچہ حدیث میں حضرت عثمان کا نام بدری صحابہ میں موجود ہے۔ آپ پر یہ بھی اعتراض کیا جاتا ہے۔ کہ حضرت عثمان بیعت رضوان حدیبیہ میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ اس کے جواب میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ حضرت عثمان کو حضور ﷺ نے کفار مکہ کی طرف قاصد بنا کر بھیجا تھا۔ اس وقت اس کام کے لیے آپ سے بہتر کوئی شخص نہیں تھا۔ اور بیعت رضوان کی ضرورت اس وقت پیش آئی جب حضرت عثمان ؓ کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی۔ بیعت رضوان تو ان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لیے ہوئی تھی لہذا اس واقعہ میں ان کی شرکت کیونکر ممکن تھی۔ غرضیکہ لوگوں کا یہ اعتراض بھی قابل قبول نہیں۔ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ ؓ کی ان لغزشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اعلان فرما دیا۔ لہذا جو شخص اس کے بعد بھی صحابہ کبار پر طعن تشنیع کا مرتکب ہوگا ، اس کے اپنے ایمان میں فتور ہوگا۔ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کے متعلق تو خود قرآن پاک میں ارشاد فرمایا۔ ؓ و رضوا عنہ۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ صحابہ کرام ؓ کو رضا الہی کی ڈگری حاصل ہوچکی ہے۔ فرمایا ان اللہ غفور حلیم بیشک اللہ بخشش کرنے والا اور بردبار ہے۔ وہ فوراً گرفت نہیں کرتا۔ بلکہ اہل ایمان کو موقع دیتا ہے۔ کہ اس قسم کی لغزشوں سے پرہیز کریں۔
Ayahs 3:156–158

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جنہوں نے کفر کیا اور اپنے بھائی بندوں سے کہا جب کہ انہوں نے زمین میں سفر کیا یا وہ مجاہد تھے۔ کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے یا نہ مارے جاتے ، تاکہ کردے اللہ اس بات کو حسرت ان کے دلوں میں۔ اور اللہ تعالیٰ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے جو کچھ تم کام کرتے ہو۔

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ کے راستے میں مارے گئے یا مر گئے البتہ بخشش اللہ کی جانب سے اور مہربانی ، بہتر ہے اس چیز سے جس کو یہ جمع کرتے ہیں۔

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مر گئے یا مارے گئے تو البتہ اللہ تعالیٰ کی طرف تم سب اکٹھے کئے جاؤگے۔

ربط آیات : گذشتہ دروس میں گذر چکا ہے اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ ایک بات یہ کہ اے مسلمانو ! صبر و استقلال سے کام لینا اور اللہ کے فرستادہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متبعین کا اسوہ اختیار کرنا۔ اور دوسری بات یہ کہ کافروں کا کہنا نہ ماننا۔ اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار اور خاص طور پر منافقین کے غلط پراپیگنڈا سے متاثر نہ ہونے کی تلقین کی ہے۔ غزوہ احد میں تین سو منافق ابتداء ہی میں لشکر اسلام سے علیحدہ ہوگئے جو کہ صریح غداری تھی۔ پھر ان میں سے جو لوگ شریک جنگ بھی ہوئے ، وہ بھی دل شکستگی کے ساتھ ، گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ کس طرح انہوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کی وقتی شکست کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان پر نیند کی صورت میں امن نازل فرمایا جب کہ منافق اس نعمت سے محروم رہے۔ انہیں اپنی جانوں کی فکر لاحق ہو رہی تھی۔ وہ ایسا محسوس کر رہے تھے کہ شاید وہ اب زندہ سلامت واپس نہیں جاسکیں گے۔ بہرحال آج کے درس کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی توجہ منافقین کی ایک اور سازش کی طرف دلا کر اس سے بچنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ منافقین کی تدبیر : ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا لاتکونوا اکالذین کفروا۔ اے ایمان والو ! ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ ان کفار میں منافقین کا گروہ بھی شامل ہے۔ خاص طور پر اعتقادی منافق اس جماعت کے بدترین لوگ ہوتے ہیں ، جن کے متعلق خود قرآن پاک کا فیصلہ ہے۔ ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۔ یعنی ایسے منافقین کا ٹھکانا جہنم کے سب سے نیچے والے خطرناک گھڑھے میں ہوگا۔ ان کی سازش اب یہ ہے۔ وقالوا لاخوانہم۔ کہ انہوں نے اپنے بھائی بندوں کے بارے میں کہا تھا۔ اور بھائی بندوں سے مراد مسلمان ہیں۔ اور یہ بات انہوں نے اس وقت کہی ۔ اذا ضربوا فی الارض۔ جب انہوں نے یعنی مسلمانوں نے زمین میں سفر کیا۔ او کانوا غزی۔ یا جب وہ جہاد میں شریک ہوئے۔ مطلب یہ کہ جب کبھی مسلمان تجارتی یا دیگر سفر پر گئے اور وہاں موت آگئی۔ یا پھر کسی جہاد میں شریک ہوئے تو شہادت نصیب ہوگئی۔ ایسی صورت حال میں منافقین کہنے لگے۔ لوکانوا عندنا۔ اگر یہ مسلمان ہمارے پاس ہوتے یعنی مذکورہ سفر پر نہ جاتے یا جنگ میں شریک نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔ ما ما توا وما قتلوا۔ نہ وہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کی جان بچ جاتی۔ در اصل منافق مسلمانوں کو سفر اور جہاد سے بد ظن کرنا چاہتے تھے۔ کہ یہی چیزیں ان کی موت کا سبب بن رہی ہیں۔ لہذا ان کو نہ کسی سفر پر جانا چاہئے۔ اور نہ کسی جہاد میں شریک ہونا چاہئے۔ اس آیت کریمہ میں اخوانھم کا لفظ توجہ طلب ہے۔ منافقین اور مسلمانوں کو بھائی بند کہا گیا ہے۔ اور یہ اس اعتبار سے کہ مدینے میں رہنے والے سارے قومی بھائی تھے۔ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود بحیثیت قوم یہ لوگ بھائی بھائی تھے۔ ایسا بھی تھا کہ ایک ہی خاندان کے افراد ہونے کے باوجود بعض لوگ مسلمان ہوگئے ، بعض منافق اور کافر رہے اور ان میں سے بعض یہودی تھے۔ لہذا یہ سب لوگ آپس میں ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ اور پھر ان میں رشتہ داری اور قرابت بھی تھی ، اس واسطے اخوان کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ منافق کافروں نے اپنے مسلمان بھائی بندوں سے کہا کہ تم خواہ مخواہ دور درازکا سفر اختیار کرتے ہو اور جہاد میں شریک ہو کر اپنی موت کو دعوت دیتے ہو۔ ہماری طرح گھر میں بیٹھے رہتے تو تمہاری جان بچ جاتی۔ حسرت و یاس : ایسی بات کرنے سے منافقین کا مقصود یہ ہے۔ لیجعل اللہ ذلک حسرۃ فی قلوبھم۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ان (مسلمانوں) کے دلوں میں حسرت پیدا کردے۔ ان کے دل میں یہ بات راسخ ہوجائے کہ منافقین بات تو صحیح کہتے ہیں۔ واقعی اگر جہاد میں شریک نہ ہوتے تو ہمارے آدمیوں کی جان بچ جاتی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ منافقین کی ایسی مایوس کن باتوں میں نہ آئیں۔ بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق جہاد میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوں کیونکہ دین اسلام اور مسلمانوں کی بقا اسی میں راز میں مضمر ہے۔ حسرۃ فی قلوبھم۔ کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقین کے دلوں میں حسرت پیدا کردے۔ اگر مسلمان کفار و منافقین کی اس چال میں نہ آئیں اور وہ سفر اور جہاد میں برابر شریک ہوتے رہیں تو یہ چیز خود منافقین کے لیے باعث حسرت ہوگی کہ ان کی تمام تر سعی کے باوجود مسلمان ان کے بہکاوے میں نہیں آئے۔ لہذا ان کے دلوں میں حسرت و یاس پیدا ہوگی اور وہ خود اپنی ہی لگائی ہوئی آگ میں جلتے رہیں گے۔ موت وحیات کا سر رشتہ : گذشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ موت وحیات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے کوئی شخص اپنے مقررہ وقت سے پہلے نہیں مرتا۔ جس شخص کی جس وقت موت مقدر ہوچکی ہے ، لامحالہ اس میں سر مو فرق نہیں آسکتا ، کوئی گھر میں بیٹھا رہے یا سفر و جہاد میں شامل ہو ، موت کا وقت بہرحال معین ہے۔ کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا۔ لہذا کفار و منافقین کا یہ کہنا کہ مسلمان جہاد میں شریک ہو کر خود موت کے منہ میں جاتے ہیں۔ ناقابل فہم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بات سمجھا دی کہ اگر اس قسم کا عقیدہ مسلمانوں میں بھی پیدا ہوجائے تو یہ بہت بری بات ہے۔ انہیں اپنے عقیدہ موت وحیات پر ثابت رہنا چاہئے۔ کیونکہ وہ اللہ یحییٰ و یمیت زندہ کرنا اور موت دینا تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ موت وحیات کا مالک تو وہ ہے جب تک چاہے کسی کو زندہ رکھے اور جب چاہے اسے اپنے پاس بلا لے۔ اس کی حکمت کو وہی مالک الملک جانتا ہے۔ محض جہاد میں شرکت موت کو دعوت دینے والی بات بالکل غلط اور بےبنیاد ہے۔ دیکھئے حضرت خالد بن ولید اسلام کے عظیم سپاہی اور قابل جرنیل تھے۔ انہوں نے یرموک اور موتہ جیسے عظیم معرکے سر کیے۔ ان کے جسم کا ایک بالشت مقام بھی ایسا نہیں تھا۔ فجہاں پر تیر ، تلوار ، یا نیازہ کا زخم نہ آیا ، مگر میدان جہاد میں شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ زندگی کے آخری حصہ میں افسوس کا اظہار کیا کرتے تھے کہ بیشمار جنگوں میں حصہ لیا۔ مگر تمام تر خواہشات کے باوجود شہادت نصیب ہوئی اور موت بستر پر آ رہی ہے فرماتے تھے۔ فلا قرت اعین الجبن۔ خدا اس بزدل کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کرے جو موت کے ڈر سے جہاد میں شریک نہیں ہوتا۔ اسے میری حالت سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔ میں نے کتنے جہاد کے بسا اوقات دشمن کے نرغہ میں رہا ہوں مگر ان کے ہاتھوں موت نہیں آئی۔ لہذا جہاد سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ موت کا خوف دلانا منافقین کی چال ہے اس سے خبردار رہنا چاہئے۔ واللہ بما تعملون بصیر۔ اور اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے جو کچھ تم کام کرتے ہو۔ شہداء کے لیے انعام : آگے ارشاد ہوتا ہے۔ ولئن قتلتم فی سبیل اللہ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں شہید ہوگئے۔ او متم۔ یا طبعی موت مرے تو اس کا ماحصل یہ ہوگا۔ لمغفرۃ من اللہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری بخشش کا اعلان ہوجائے گا۔ تمام گناہ معاف ہوجائیں گے۔ غلطیاں قلم زد کردی جائیں گی۔ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی شخص کی عبادت کے پس منظر میں تین نظریات ہوتے ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس کی عبادت کرتا ہے۔ وہ مامورات اور منہیات کو اس لیے انجام دیتا ہے کہ کہیں خدا کی گرفت میں نہ آجائے۔ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہوتا ہے۔ فمن زحزح عن النار و ادخل الجنۃ فقد فاز۔ کہ جس شخص کو دوزخ کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کرلیا گیا۔ وہی کامیاب و کامران ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر کر عبادت گزارکو خدا کی جانب سے مغفرت حاصل ہوتی ہے۔ اللہ کہتا ہے جاؤ تمہاری غلطیاں معاف کردی گئی ہیں۔ غزوہ احد میں مسلمانوں سے غلطی ہوئی۔ مگر وہ خالص خدا پرست لوگ تھے۔ جونہی غلطی کا احساس ہوا ، پھر اکٹھے ہوگئے اور جانبازی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے بلا شبہ اللہ کی مغفرت حاصل کرلی۔ اللہ تعالیٰ نے اعلان فرما دیا۔ ولقد عفا اللہ عنھم۔ اللہ نے ان کو معاف فرما دیا۔ مولانا تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ عبادت کرتے وقت کسی شخص کے پیش نظر جو دوسری چیز ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نعمتیں حاصل ہوں ، اس کی خوشنودی اور تقرب حاصل ہو اور اس کے صلہ میں اسے بلند درجہ نصیب ہو۔ فرمایا ایسے شخص کا مقام رحمت ہے۔ اسی لیے فرمایا اللہ کی راہ میں شہید ہونے والوں کا صلہ مغفرت اور رحمۃ ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ سمجھا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور رحمت۔ خیر مما یجمعون۔ ان چیزوں سے بہتر ہے جن کو یہ دنیا میں اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ چند روزہ دنیا ہے۔ اس کا مال و اسباب اور روپیہ پیسہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کے مقابلے میں صفر ہے۔ اصل چیز ایمان اور نیکی ہے۔ لہذا اس کو اختیار کرنا چاہئے۔ اور منافقوں کی چال میں نہیں آنا چاہئے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ کسی عبادت گزار کے پیش نطر تیسرا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے وہ یہی دعا کرتا ہے۔ اسئلک رضاک۔ اے مولا کریم ! میں تیری رضا چاہتا ہوں۔ اور یہ سب سے بلند مقام ہے۔ اللہ کے حضور پیشی : آگے ارشاد ہوتا ہے۔ ولئن متم او قتلتم۔ اگر تم طبعی موت مرو یا شہید ہوجاؤ۔ لا الی اللہ تحشرون۔ تو لا محالہ تم سب خدا تعالیٰ کی طرف ہی اکٹھے کیے جاؤ گے۔ مومن کا یہ ایمان ہے کہ مرنے کے بعد اسے براہ راست خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہونا بعث بعد الموت پر اس کا یقین ہے۔ یہ نہ سمجھو کہ زندہ رہنے میں ہی تمہارا فائدہ ہے ، مرنے کے بعد محروم ہوجاؤگے۔ بلکہ یاد رکھو ! تمہیں بہرحال اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ اور وہ باز پرس بھی کرسکتا ہے۔ لہذا موت کے ڈر سے جہاد سے اجتناب نہ کرو۔ مجرم اور گنہگار بن کر رب العزت کے حضور پیش نہ ہونا بلکہ ایسے اعمال لے کر حاضر ہونا جن کی وجہ سے تمہیں اللہ کی مغفرت اور مہربانی حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو منع فرما دیا کہ کافروں اور منافقوں کی مشابہت اختیار نہ کریں۔ ان کی سازش کا شکار نہ ہوں اور اپنے دین پر قائم رہیں۔