Ayah 20:21: پیغمبر کے لیے دلنواز تسلی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ ﷺ پر ۔ اے پیغمبر !۔ یہ قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ آپ ﷺ مشقت میں پڑجائیں "۔ اس کی تبلیغ اور انذار کے باعث کہ یہ لوگ حق کو مانتے کیوں نہیں۔ سو ایسا نہیں کریں۔ کیونکہ منوانا نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ ہی یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ کا کام تو صرف پہنچا دینا ہے اس پیغام حق و ہدایت کو اور بس۔ پس آپ اس بناء پر اتنی مشقت اور پریشانی میں مبتلا نہ ہوں کہ یہ لوگ مانتے کیوں نہیں ؟ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { فََلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلٓیٰ اٰثَارِہِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا } ۔ (الکہف : 6) ۔ اور بعض حضرات مفسرین نے یہاں پر یہ بھی کہا کہ شروع شروع میں آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام زیادہ عبادت کرتے اور اتنا کھڑے رہتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک میں ورم پڑجاتا۔ جس پر کفار قریش کہنے لگے کہ ان پر قرآن کیا نازل ہوا کہ یہ بےچارے خواہ مخواہ مشقت میں پڑگئے۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح، قرطبی، مدارک، مراغی، اور جامع وغیرہ) ۔ آیت کریمہ کے کلمات طیبات کا عموم اگرچہ ان دونوں صورتوں کو شامل ہے مگر راجح اور واضح قول پہلا ہی لگتا ہے۔ اور وہی متبادر بھی ہے۔ بہرکیف دونوں صورتوں میں اس ارشاد ربانی میں حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے لطف و عنایت اور تسلیہ و تسکین کا ایک خاص مظہر پایا جاتا ہے (علیہ الصلوۃ والسلام) والحمد للہ رب العلمین -
Ayah 20:32 قرآن حکیم ایک عظیم الشان تذکرہ و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کو ایک عظیم الشان یاددہانی کے طور پر نازل کیا گیا ہر اس شخص کے لیے جو ڈرتا ہو۔ یعنی اس تذکیر قرآنی سے استفادہ و فیضیابی کی اولین شرط خوف و خشیت خداوندی ہے۔ سو اس سے فیضیاب وہی ہوسکتا ہے جو ڈرتا ہو اپنے رب کی ناراضگی، اس کی پکڑ اور اس کے عذاب سے۔ یعنی اس سے فائدہ ایسے لوگ اٹھا سکتے ہیں۔ ورنہ یہ عظیم الشان نصیحت اور اس کی بےپایاں رحمت تو سب دنیا جہاں کے لئے عام ہے۔ سو قرآن حکیم کی تذکیر بےمثال سے فائدہ اٹھانے کیلئے اولین شرط خوف وخشیت خداوندی ہے۔ کیونکہ جو لوگ اس سے محروم ہوتے ہیں ان کے دل سخت ہوجاتے ہیں۔ اور ایسے سنگدلوں پر کوئی بات اثر نہیں کرسکتی۔ سو سنگدلی اور خوف و خشیت خداوندی سے محرومی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ خوف و خشیت خداوندی یعنی بن دیکھے خدا سے ڈرنا دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ بہرکیف اس ارشاد سے قرآن حکیم کی اصل حیثیت کو واضح فرما دیا گیا کہ وہ ہے تذکیر و یاددہانی۔ یعنی ان اہم اور بنیادی حقائق کی تذکیر و یاددہانی جو انسان کی فطرت میں پیوست ہیں اور جس کی شہادت آفاق وانفس کے اندر جا بجا پھیلی بکھری موجود ہے۔ لیکن غافل انسان ان کی طرف توجہ نہ کرنے کی بنا پر دائمی خسارے اور ہولناک انجام کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ سو قرآن حکیم اپنی رحمتوں بھری تعالیم مقدسہ کے ذریعے انسان کو خبردار کرتا ہے تاکہ وہ اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔
Ayah 20:43 قرآن حکیم خالص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے : سو تنزیل کے لفظ سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ خالص اتارا ہوا کلام ہے اور خالص اللہ کا کلام ہے۔ اس میں کسی بھی مخلوق کا کوئی حصہ یا عمل دخل نہیں۔ یہ قرآن حکیم کی عظمت شان کا ایک خاص پہلو ہے کہ یہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان کائنات کے خالق ومالک کا اتارا ہوا کلام ہے۔ سو جب اس کلام حکیم کو اتارنے والی ذات اقدس و اعلیٰ اس قدر عظمتوں والی ہے تو اس کا نازل فرمودہ یہ کلام مجید بھی بےمثال اور نہایت عظیم الشان کلام ہے۔ نیز یہ اسی کا حق اور اسی کی شان ہے کہ وہ اپنی مخلوق کیلئے ایسا قانون اتارے جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا کفیل و ضامین ہو۔ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی نہ یہ شان ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کا یہ حق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز یہ قرآن حکیم خالصتاً اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اس میں کسی انسان کی طرف سے کسی مداخلت کا نہ کوئی امکان ہے نہ سوال۔ سو یہ اس کتاب حکیم کی عظمت شان کا ایک منفرد اور امتیازی پہلو ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں " نازل " یا " منزَّل " وغیرہ جیسے کسی اسم مشتق کی بجائے " تنزیل " کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ جو کہ مصدر ہے۔ سو یہ کتاب حکیم سراسر نازل شدہ اور خالص اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ اہم حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جس نے اس کلام حکیم کو صدق دل سے اپنا لیا اور اپنی زندگی کی زمام پوری طرح اس کے حوالے کردی وہ کتنا اونچا اور کس قدر خوش نصیب انسان ہے جبکہ دوسری طرف اس سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو اس سے منہ موڑے گا وہ کتنا بدنصیب اور کس قدر محروم انسان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:54 " استواء علی العرش " سے مراد ؟ : یعنی ایسا استواء اور ایسی جلوہ فرمائی جو کہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے لائق ہے۔ جیسا کہ حضرات سلف صالحین کا کہنا ہے کہ ایسے کلام کو تو اپنے ظاہر ہی پر رکھا جائے مگر اس کی حقیقت اور مراد کو اللہ پاک ہی کے حوالے کیا جائے۔ سو اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی وہی ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی۔ اور جب اس کی ان شوؤن وصفات میں کوئی اس کا شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے خدائے رحمان کی ایک اور صفت بیان فرمائی گئی ہے جس سے اس امر کو واضح فرمایا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو پیدا کرنے کے بعد وہ کہیں الگ ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ عرش پر مستوی ہو کر اپنی پیدا کردہ اس کائنات کا نظام بھی وہ خود چلا رہا ہے۔ کہ جس طرح اس کائنات کا خالق ومالک وہ ہے اسی طرح اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو اس کائنات کا حقیقی فرمانروا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اسی لیے اس نے یہ قرآن حکیم نازل کر کے اپنے بندوں کو اپنے احکام و قوانین سے آگاہ فرما دیا تاکہ وہ اس کے حکم و ارشاد کے مطابق اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر رہ کر زندگی گزاریں اور اس کے نتیجے میں دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں۔ اور جو اس سے اعراض اور روگردانی برتیں وہ آخر کار اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتیں۔ تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھی پورے ہوں اور اس کائنات کی تخلیق کی حکمت بھی متحقق ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید جل وعلا شانہ -
Ayah 20:65 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت و حکمت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ان بلند وبالا آسمانوں اور زیر پاؤں بچھے زمین کے اس عظیم الشان فرش کے اندر موجود ہے۔ اور جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین کے درمیان پایا جاتا ہے کہ ان سب کا خالق ومالک بھی بلاشرکت غیرے وہی وحدہ لا شریک ہے اور اس میں حکم و تصرف بھی اسی کا چلتا ہے۔ نہ حکمتوں بھری اس عظیم الشان کائنات کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ اس میں جاری و کارفرما حکم و تصرف میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے۔ وہی اس سب کا خالق ومالک حقیقی بھی ہے اور وہی اس میں حاکم و متصرف بھی ہے۔ سو نہ اس کی تخلیق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ ہی اس کے حکم و تصرف میں۔ لہذا اسی کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے قانون نازل فرمائے اور ان کے لیے حدود عمل و تصرف مقرر فرمائے۔ اس لیے اس نے قرآن حکیم کی اس کتاب عظیم کی صورت میں اپنا وہ آخری اور جامع ہدایت نامہ نازل فرمایا جو قیامت تک ان سب کے لیے مینارئہ رشد و ہدایت بنا رہے گا۔ پس جو صدق دل سے اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنا کر اس کے مطابق اپنی زندگی گزاریں گے وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہوں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑ کر اپنی مرضی اور خواہشات پر چلیں گے وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 20:76 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا بیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں نہاں اور عیاں سب ایک برابر ہیں : یعنی { اِنْ تَجْہَرْ } شرط کی جزاء محذوف ہے۔ اور { فَاِنَّہ یَعْلَمُ } اس محذوف کی علت ہے۔ (روح، قرطبی، جلالین، جمل وغیرہ) ۔ سو اصل چیز تو دل کی یاد اور اس میں موجود عظمت خداوندی کا استحضار ہے۔ زبان سے ذکر و دعا کی جو اجازت ہے اس سے مقصود اصل میں دل میں موجود ان ہی معانی و مطالب کا ذکر و تذکرہ ہے۔ اور اس کو دوسرے شواغل سے محفوظ رکھنا اور ہر وقت اور ہر حال میں اسی کے ذکر سے رطب اللسان اور اس کی یاد دلشاد سے مشرف و سرفراز رہنا ہے۔ نہ کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کو سنانا کہ وہ اس سے غنی اور بےنیاز ہے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ اس کے یہاں نہاں وعیاں سب ایک برابر ہیں۔ لہذا بندے کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اسی فکر و کوشش میں رہے کہ اسکا تعلق اپنے اس خالق ومالک سے صحیح اور درست رہے۔ ظاہر کے اعتبار سے بھی اور باطن کے اعتبار سے بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ نیز اس ارشاد میں پیغمبر کے لیے اور آپ کے توسط سے ہر داعی حق کے لیے یہ پیغام تسلیہ و تسکین بھی ہے کہ آپ اپنی مشکلات میں اپنے پروردگار سے جو بھی دعا و مناجات کرتے ہیں خواہ وہ سرًّا ہو یا علانیتًا، اور جو بھی پریشانی آپ کو لاحق ہوتی ہے خواہ وہ آپ کی زبان پر آئے یا دل کے مخفی گوشوں میں ہی مخفی و مستور رہے، آپ کا ربِّ علیم وخبیر اس سب سے واقف و آگاہ ہے۔ اس لیے وہ آپ کی ہر موڑ پر مدد ضرور فرمائے گا اور آپ کی مشکل آسان فرمائے گا۔ اور اس سلسلے میں اگر کوئی تاخیر ہوتی ہے تو وہ بھی کسی حکمت اور مصلحت پر مبنی ہوتی ہے۔ اور اسی میں آپ کے لیے خیر و برکت ہے۔ پس آپ اسی پر بھروسہ رکھیں اور اس پر مطمئن ہوجائیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال فی الحیاۃ۔
Ayah 20:87 { وَاَخْفٰی } سے مراد ؟ : { سِرّ } اور { اَخْفٰی } کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ اور دونوں مراد لئے گئے ہیں۔ ثقہ حضرات مفسرین کرام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ ایک مطلب یہ ہے کہ { سِّر } سے مراد وہ مخفی اور راز دارانہ بات ہے جو انسان چھپا کر دوسر سے سے کہتا ہے۔ اور { اَخفْیٰ } سے مراد وہ خفیہ بات ہے جسکو انسان اپنے دل میں ہی چھپا کر رکھتا ہے، دوسرے پر ظاہر ہی نہیں کرتا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ " سر ‘ ّ ‘ سے مراد وہ بات ہے جو انسان اپنے جی میں چھپا کر رکھتا ہے اور " اخفٰی " سے مراد وہ بات ہے جو ابھی تک اس کے دل میں بھی نہ آئی ہو بلکہ بعد میں آنے والی ہو۔ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ ان دونوں کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ سو ایسی ذات اقدس و اعلیٰ سے انسان کی کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے ؟ پس انسان کو ہمیشہ اس کی فکر و کوشش کرنی چاہیئے کہ اس کا معاملہ اس کے اپنے خالق ومالک کی اس ذات اقدس و اعلیٰ سے صحیح اور درست ہو ۔ سبحان اللہ ۔ جس ذات اقدس و اعلیٰ کی شان یہ ہو کہ اس کے یہاں { سِرّ } اور { اَخفْیٰ } دونوں ایک برابر ہوں۔ آج کا جاہل مسلمان اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے اس طرح کا فلسفہ بگھارتا ہے کہ صاحب ! جس طرح تم کسی دنیاوی حاکم کے پاس براہ راست نہیں جاسکتے، اور اگر چلے بھی جاؤ تو تمہاری وہاں کوئی شنوائی نہیں ہوتی، تو تم کسی کا وسیلہ و واسطہ پکڑ کر وہاں جاتے اور اپنی عرض و درخواست پیش کرتے ہو، اسی طرح تم خدا تعالیٰ کے ہاں بھی براہ راست نہیں جاسکتے جب تک کہ تم ہما و شما میں سے کسی کا وسیلہ نہ پکڑو۔ لہذا " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " وغیرہ وغیرہ ۔ { فَتَعٰالَی اللّٰہُ عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا کَبِیْرًا } ۔ سو حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کو مخلوق پر قیاس کرکے اس طرح کے شرکیہ فلسفے گھڑنا ممنوع و محظور اور عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال -
8 معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں "۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا حق ہے۔ جس نے قرآن حکیم جیسی یہ عظیم الشان اور بےمثال نعمت نازل فرمائی اور جس نے آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان کائنات تخلیق فرمائی۔ اور جس نے ان کے درمیان کی طرح طرح کی اور گوناگوں مخلوقات کو پیدا فرمایا، وہ اللہ وحدہ لاشریک ہی معبود برحق ہے۔ اور جب اس کی ان اور ان صفات و خوبیوں اور ان عظیم الشان اور جلیل القدر نعمتوں اور عنایتوں میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ کسی بھی عبادت کو خواہ وہ قولی ہو یا فعلی، جانی ہو یا مالی، اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کیلئے بجا لانا شرک اور ظلم عظیم ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہی معبود برحق ہر قسم کے نفع و نقصان کا مالک ہے۔ پس بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اسی پر رکھو ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
9 اللہ ہی کے لیے ہیں سب اچھے نام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے لیے ہیں سب اچھے نام "۔ جو اس کے مختلف کمالات اور بےمثل خوبیوں پر دلالت کرتے ہیں۔ اس لئے اس وحدہ لاشریک کو اس کے انہی اسماء حسنیٰ کے مطابق جانو اور مانو۔ اور اس کو انہی سے یاد کرو اور پکارو جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلِلّٰہِ الاَسْمَائُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَا } ۔ (الاعراف :180) ۔ سو یہ اسمائے حسنیٰ خالقیت، مالکیت، ربوبیت عامہ، قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ جیسی جن عظیم الشان صفات پر دلالت کرتے ہیں وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ مختص اور اسی کی صفات خاصہ ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ ارشاد تسلیہ و تسکین کا ایک عظیم الشان خزانہ عامرہ ہے کہ جب وہ تمام اچھی اور اعلیٰ صفات سے موصوف و متصف ہے اور اس کی یہ صفات عالیہ آپ پر سایہ فگن ہیں تو پھر آپ کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ آپ ان میں سے جس صفت کا بھی سہارا لیں گے اس کی خیرات و برکات سے متمتع و مستفید ہوں گے۔ اس کے سوا اور کسی سہارے کی نہ آپ کو کوئی ضرورت ہے نہ حاجت۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ حضرات اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ یہاں اسمائے حسنیٰ سے مراد صفات الہی ہیں۔ اس لیے کہ خداوند قدوس کے تمام اسمائے حسنیٰ اس کی صفات علیا ہی کی تعبیر ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک والرضا بکل حال من الاحوال -
Ayah 20:910 حضرت موسیٰ کے عبرتوں بھرے قصے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تمہیں موسیٰ کی خبر بھی پہنچی ؟ "۔ استفہام تقریر و تشویق کے لئے ہے تاکہ بعد کے کلام کو غور و توجہ سے سنیں۔ (مراغی، صفوہ وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ کا یہ قصہ بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پر محیط و مشتمل ہے اور اس سے دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلے میں بڑی راہنمائی اور مدد ملتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے راہ حق میں کیا کیا مشقتیں جھیلیں ؟ کیا کیا اور کیسے کیسے صبر آزما حالات آپ کو اس دوران پیش آئے ؟ ؟ قدرت کی عنایتیں کس کس طرح آپ پر متوجہ ہوئیں اور کس طرح بالآخر آپ (علیہ السلام) نے تن تنہا فرعون جیسے طاغوت کا مقابلہ کیا اور صدیوں سے اس کی غلامی میں جکڑی ہوئی اپنی قوم کو رہائی دلائی اور ظلم و ستم کی چکی میں پسی ہوئی اس قوم کو آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا ؟ ؟ اور یہاں تک کہ فرعون اپنے اس عبرتناک انجام کو پہنچا جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں ملتی۔ چناچہ وہ اپنی فرعونیت سمیت ہمیشہ کے لئے غرق ہوگیا وغیرہ وغیرہ ۔ وَالْحَمْدُ لِلُّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنِ ۔ سو اوپر اللہ پاک کے اسماء وصفات کی روشنی میں تسکین وتسلیہ کے جس سامان کا ذکر فرمایا گیا تھا اب اسے حضرت موسیٰ کی سرگزشت کے ضمن میں پیش فرمایا جا رہا ہے۔ اور جن اہم اور بنیادی حقائق کو اوپر علمی انداز میں بیان فرمایا گیا تھا اب انہی کو چلتی پھرتی عملی زندگی میں دکھایا جا رہا ہے۔ سو تشویق و ترغیب کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ کی سرگزشت پہنچی ؟ سو یہ سرگزشت ہم تمہیں سناتے ہیں۔ پس تم اسے غور سے سنو۔
Ayahs 20:10–1111 حضرت موسیٰ کے ذکر کا آغاز عطائے نبوت سے : سو ارشاد فرمایا گیا " جبکہ انہوں نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو "۔ یعنی اپنی بیوی سے جن کا نام صفورا یا صفوریا تھا۔ اور جمع کا صیغہ تکریم کے لئے ہے۔ جیسا کہ " رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرْکَاتَہ عَلَیْکُم " میں ہے۔ یا جمع کا یہ صیغہ آپکی بیوی، بچے اور خادم تینوں کے اعتبار سے تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ " اہل " کا اصل مصداق انسان کی اپنی بیوی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے اہل خانہ اس میں بالتبع شامل ہوتے ہیں۔ پس روافض ازواج مطہرات کے بغض میں اہل بیت کا جو مفہوم و مطلب بیان کرتے ہیں وہ ان کا اپنا خود ساختہ اور باطل و مردود ہے۔ اس لیے پیغمبر کے اہل بیت کا اصل اور حقیقی مصداق پیغمبر کی زوجات مطہرات ہی ہوتی ہیں۔ لغت وبیان کے اعتبار سے بھی اور محاورہ و زبان کے لحاظ سے بھی۔ اور عرف و رواج کے اعتبار سے بھی۔ بہرکیف یہاں پر حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا آغاز وہاں سے کیا جا رہا ہے جبکہ آپ کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا گیا تھا۔ اور یہ اس وقت ہوا تھا جبکہ آپ مدین سے واپس مصر کی طرف آ رہے تھے۔ اس دوران اپنے بال بچوں کے ہمراہ چلتے چلتے جب آپ وادی طور کے پاس پہنچے جہاں رات ہوگئی۔ راستہ بھی معلوم نہیں تھا۔ موسم بھی سردی کا تھا۔ سردی بھی معلوم ہوتا ہے سخت تھی۔ تو آپ کو اس موقعہ پر دور سے آگ کا ایک شعلہ سا دکھائی دیا۔ تو آپ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ تم یہیں ٹھہرو مجھے وہاں پر ایک آگ سی دکھائی دی ہے۔ میں وہاں جاتا ہوں تاکہ تمہارے لیے آگ کا کوئی انگارہ لے آؤں تاکہ تم آگ تاپ سکو ۔ جیسا کہ سورة قصص میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ یا کم از کم مجھے اپنے راستے کے بارے میں کوئی راہنمائی مل سکے۔ اس لیے آپ اپنے بال بچوں کو وہاں چھوڑ کر اس آگ کی طرف روانہ ہو گیے۔
12 حضرت موسیٰ کے لیے نور الہی کی تجلی : سو وہ آگ نہ تھی بلکہ نور الہی کی تجلی تھی جس کو حضرت موسیٰ آگ سمجھے اور آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ اس سے میں تمہارے لیے کوئی انگارہ لے آؤں جس سے تمہارے لئے آگ سیکنے کا انتظام ہوجائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا { لَعَلَّکُمْ تَصْطَلُوْنَ } (القصص : 29) یا مجھے وہاں کوئی آدمی مل جائے تو اس سے رستے کیلئے کوئی راہنمائی حاصل کرسکوں۔ روایات کے مطابق حضرت موسیٰ نے ایک طویل عرصہ مدین میں گزارنے کے بعد اور حضرت شعیب سے طے پانے والی مدت کو پورا کرنے کے بعد حضرت شعیب سے مصر کیلئے واپسی کی اجازت مانگی تاکہ وہاں جاکر اپنی والدہ سے مل سکیں۔ تو حضرت شعیب نے آپ کو اجازت دے دی۔ آپ کی بیوی کو بھی آپ کے ساتھ روانہ کردیا اور ساتھ خادم بھی روانہ کیا۔ راستے میں بیوی کو ایک بچہ بھی ہوا۔ رات سخت اندھیری اور ٹھنڈک بھی انتہائی سخت تھی۔ جنگل بیابان تھا اور موسیٰ راستہ بھی بھول گئے۔ سو ایسی سخت صورتحال میں موسیٰ کو دور پہاڑی پر ایک آگ سی جلتی نظر آئی۔ تب آپ نے اپنے گھر والوں سے یوں فرمایا۔ (ابن کثیر، المراغی، المحاسن اور معارف وغیرہ) ۔ مگر وہ روشنی آگ کی روشنی نہیں تھی بلکہ وہ نور الہی کی تجلی تھی جو حضرت موسیٰ کے لیے خداوند قدوس کی رحمتوں اور عنایتوں کے نئے دروازے کھولنے کے لیے نمودار ہوئی تھی۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان عطا کے ؟۔
Ayahs 20:12–1313 حضرت موسیٰ کے لیے حق تعالیٰ کی رحمتوں بھری ندا و پکار : کہ " میں تمہارا رب ہوں "۔ یعنی یہاں پر آگ وغیرہ کوئی نہیں بلکہ یہ تو تجلی ہے تمہارے رب کے نوربے کیف کی۔ جو کہ آپ کو اس شجرہ خضرا میں اس نار بیضاء کی صورت میں دکھلائی گئی ہے۔ سو یہاں سے دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتیں واضح ہوگئیں۔ ایک یہ کہ نبوت و رسالت کا شرف ایک خاص وہبی شرف ہوتا ہے جس سے اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے۔ جس میں بندے کے اپنے کسب و اکتساب اور محنت و عمل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ پیغمبر کو نبوت ملنے سے ایک لمحہ قبل بھی اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اب یہاں دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ کس ارادہ و خیال سے کوہ طور پر جاتے ہیں اور وہاں آگے کیا صورت پیش آتی ہے اور کس طرح اللہ پاک آپ کو نبوت و رسالت کے اس عظیم الشان شرف و مقام سے نوازتے ہیں جو کہ حضرت واہب مطلق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ملنے والا سب سے بڑا شرف و اعزاز ہے۔ اسی طرح اللہ پاک حضرت امام الانبیاء ہمارے نبی و پیشوا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد فرماتے ہیں ۔ { مَا کَنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الاِیْمَانُ وَلٰکِنْ جَعَلْنَاہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بہ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا } ۔ (الشوریٰ : 52) " اور آپ اے پیغمبر اس سے پہلے یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کسے کہتے ہیں مگر ہم ہی نے اس کو ایک عظیم الشان نور بنایا جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں نور ہدایت سے نوازتے ہیں " ۔ سبحان اللہ ۔ کس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ بتایا گیا کہ وحی آنے سے قبل پیغمبر کو یہ تک پتہ نہیں ہوتا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور وحی کسے کہتے ہیں۔ اور ایمان کیا شی ہوتی ہے۔ اور دراصل یہی چیز ہے جو کہ ایک نبی کی عظمت شان اور اس کے مرتبہ و مقام کو دوسروں سے جدا اور ممتاز کرتی ہے کہ دوسرے عام لوگ تو بڑی لمبی چوڑی محنتوں مشقتوں کے بعد اور خاص منصوبوں کے تحت علم وہنر کی کوئی دولت حاصل کرتے ہیں اور کسی مرتبہ و مقام پر پہنچتے ہیں لیکن نبی و رسول کے یہاں نبوت و رسالت سے سرفرازی کیلئے کسی محنت و مشقت اور منصوبہ بندی کا ہونا تو درکنار وہاں اس طرح کا کوئی تصور و خیال تک بھی نہیں ہوتا۔ اور اگر غور کیا جائے تو اسی چیز میں ان کی حقانیت کا ثبوت اور ان کی نبوت کا اعجاز پوشیدہ و پنہاں ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے حضور ﷺ ہی کو لیجئے جن کے بارے میں مذکورہ بالا آیت کریمہ میں یہ تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ ﷺ کو نبوت ملنے سے پہلے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کسے کہتے ہیں۔ لیکن نبوت سے سرفراز ہوتے ہی تئیس (23) سال کی مختصر اور قلیل مدت میں آپ ﷺ نے دنیا کو علوم و معارف کے ان خزانوں سے مشرف و سرفراز فرما دیا کہ دنیا ان سے آج تک مسلسل و لگاتار فیضیاب ہو رہی ہے اور قیامت تک ہوتی رہے گی۔ اور ایسے علم و معارف کہ دنیا کے تمام کتب خانوں کو گو یا دھو کر رکھ دیا۔ کیا خوب کہا کہنے والے نے ۔ یتیمے کہ ناکردہ قرآن درست ۔ کتب خانہء ملت چند بشست ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وسلامہ علیہ وعَلٰی اٰلِہ وَ صَحْبِہ و مَنْ وَالاہ ومن دعا بدعوتہ و بہدیہ اہتدٰی واستن بسُنَّتِہ و سار علی دربہ الی یوم یعرض علی اللّٰہِ واللِّقَائِ وجَزَاہُ عَنَّا خَیْرَ مَا جُوْزِ یَ بہ نبیٌّ عَنْ اُمَّتِہ وَاَنْزَلَہُ المقعد المقرّبَ عِنْدَہٌ جَلَّ و علا ۔ وَرَزَقَنَا شَفَاعَتَہ یَوْمَ الْقِیَامَۃَ ۔ اور دوسری عظیم الشان حقیقت سورة طہ کی اس زیر بحث آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوئی کہ اللہ پاک اپنے بندے کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے وہاں سے نوازتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اور اس قدر نوازتا ہے جتنا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس کی تو شان ہی نوازنا اور ہر وقت اور ہر طرح سے نوازنا ہے۔ اور وہ ہر کسی کو اس کے ظرف کے مطابق نوازتا ہے۔ پس مومن کو چاہیئے کہ وہ اپنے دل کا تعلق اور کنکشن (Conection) اس وہاب مطلق سے ہمیشہ صحیح رکھے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ یہاں دیکھئے کہ حضرت موسیٰ تو کوہ طور پر آگ لینے جاتے ہیں اور وہاں نبوت و رسالت سے سرفرازی کا شرف مل جاتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان کرم وعطاء کے ۔ فلنعم ماقیل ۔ خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال ۔ کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے ۔ فکن اللہم لنا واجعلنا لک -
14 حضرت موسیٰ کو جوتے اتارنے کا حکم و ارشاد : سو حضرت موسیٰ کو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنے جوتے اتار دو "۔ کہ تواضع اور ادب و احترام کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے پاکیزہ اور مقدس مقامات پر پابرہنہ حاضری دی جائے۔ جیسا کہ کعبتہ اللہ کی حاضری کے موقعہ پر کیا جاتا ہے۔ اور بعض نے کہا کہ چونکہ آپ کے جوتے پاک نہیں تھے اس لئے آپ کو یہ حکم فریا گیا۔ (ابن کثیر، روح، مراغی، محاسن التاویل اور مدارک وغیرہ) ۔ مگر ظاہر اور متبادر یہی ہے کہ یہ ہدایت اور ادب مقام کے تقاضے کی بناء پر تھا کہ شاہی آداب کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ انسان وہاں ادب و تواضع کے ساتھ جائے۔ اسی لیے حضرت علی ؓ ، حضرت سعید بن جبیر (رح) اور حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ بہت سے لوگوں سے اسلاف سے مروی ہے کہ ادب و تواضع کا تقاضا یہی ہے۔ اور یہ کہ دعاء و مناجات کے وقت جوتے اتار دیئے جائیں۔ اسی سے خانہ کعبہ کی حاضری اور طواف کے وقت جوتے اتار دیئے جاتے ہیں۔ اسی لیے حدیث میں وارد ہے کہ حضرت بشیر بن خصاصیہ ایک مرتبہ قبروں کے درمیان سے جوتے پہنے ہوئے گزر رہے تھے۔ تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ایسے موقعہ پر جوتے اتار کر گزرنا چاہیئے۔ (القرطبی، ابن کثیر، فتح القدیر اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس موقعہ پر حضرت موسیٰ کو جو سب سے پہلی ہدایت فرمائی گئی وہ یہی تھی کہ اپنے جوتے اتار دو کہ آپ طوبیٰ کی اس مقدس وادی میں موجود ہو۔ سو جوتے اتار کر حاضری صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ ادب اور تواضع کے آداب میں سے بھی ہے۔ اسی لیے ہمارے یہاں مسجد کی حاضری کے لیے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ طوبیٰ کی اس وادی کو چونکہ یہ شرف حاصل ہوا تھا کہ اس کو اللہ پاک نے اپنی تجلی سے نوازا اور حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا اور وہ بھی فرشتے کے واسطے کے بغیر۔ اس لیے یہ وادی مقدس قرار پائی۔
Ayahs 20:14–1716 حضرت موسیٰ کو نماز قائم کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نماز قائم کرو میری یاد کیلئے "۔ کہ یہ میری یاد دلشاد کا سب سے بڑا ذریعہ اور عمدہ طریقہ ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اس سے مومن اپنے رب سے گفتگو اور مکالمے کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب اس طرح صدق و صفائی کے ساتھ تم مجھے یاد کرو گے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ { فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ } ۔ اور جب میں تمہیں یاد کروں تو اس سے بڑھ کر تمہارے لیے شرف و امتیاز اور انعام و اکرام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر محلوظ خاطر اور پیش نظر رکھنے کی ہے کہ معبود برحق بہرحال میں ہی ہوں۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل میرا ہی حق ہے۔ پس قیام و رکوع سجدئہ و طواف اور نذر و نیاز وغیرہ ہر عبادت پر میرا ہی حق ہے۔ ان میں سے کوئی بھی عبادت کسی اور کیلئے بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف منصب نبوت و رسالت سے سرفرازی کے بعد حضرت موسیٰ کو جو سب سے پہلی ہدایت فرمائی گئی اس میں تین اہم باتوں کا حکم وارشاد فرمایا گیا۔ سب سے پہلے توحید اور وحدانیت خداوندی ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جو کہ دین حق کی اصل بنیاد اور مرکزی نکتہ ہے۔ اس لیے ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی کی دعوت دی اور شرک کے خلاف ہمیشہ جہاد کیا۔ اور دوسری بات حضرت موسیٰ کو یہ ارشاد فرمائی گئی کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کی کرنی ہے کہ یہ خالص اسی کا حق ہے جس میں کسی اور کو شریک کرنا شرک اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور تیسری بات جو اس موقعہ پر آنجناب کو ارشاد فرمائی گئی وہ اقامت صلاۃ یعنی نماز قائم کرنے کی ہدایت سے متعلق تھی۔ جس سے نماز کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 20:18–1921 تطویل کلام بر بنائے لذت و انبساط : سوال کا جواب تو اتنا ہی تھا کہ " یہ میری لاٹھی ہے " اور بس۔ مگر لذت کلام سے مزید شاد کامی کے لئے حضرت موسیٰ نے آگے اس سے متعلق مزید باتیں بھی عرض کردیں۔ اور ظاہر ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ سے شرف تخاطب کی لذت سے بڑھ کر لذت اور کس کی ممکن ہوسکتی ہے۔ بہرکیف حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ " آپ کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے ؟ " تاکہ آپ اپنی لاٹھی کے بارے میں یقین کرلیں۔ تاکہ بعد میں اس کی معجزانہ کیفیت سے پریشان نہ ہوجائیں۔ سو حضرت حق کی طرف سے حضرت موسیٰ سے یہ سوال ایناس اور تقریر کے لیے تھا۔ (ابن کثیر، معارف القرآن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہم فزدنا بک ایمانا و یقینا -
22 { مآرب اخریٰ } سے مقصود و مراد ؟ : " مآرب "، " ماربہ " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ " حاجت "، " ضرورت " اور " نفع و فائدہ " وغیرہ کے ہیں۔ ( المراغی، الصفوۃ وغیرہ ) ۔ سو حضرت موسیٰ نے فرمایا کہ " اس میں میرے اور بھی کئی کام ہیں "۔ مثلاً یہ کہ حسب ضرورت اس پر کچھ سامان ٹانک لیا۔ جہاں ہاتھ نہ پہنچا وہاں اس سے کام لے لیا اور ضرورت پڑنے پر کسی کی ٹھکائی کردی وغیرہ وغیرہ۔ اپنی بکریوں کی حفاظت کیلئے بھیڑیوں وغیرہ کو بھگانا وغیرہ۔ بہرکیف اس سے حضرت موسیٰ کے اس یقین کا اظہار ہوگیا کہ یہ لاٹھی ہی ہے کوئی اور چیز نہیں۔ اور یہی اصل مقصد تھا اس سوال سے۔ تفسیری روایات میں " مآرب اخری " کے ذیل میں اور بھی بہت سی عجیب و غریب قسم کی باتیں ذکر کی گئی ہیں لیکن علامہ ابن کثیر جیسے محققین نے ان کو اسرائیلی روایات کا چربہ قرار دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق وصواب پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 20:20–2123 حضرت موسیٰ کے لیے معجزئہ عصا کا ذکر : سو حضرت موسیٰ کی لاٹھی معجزانہ طور پر ایک ایسا سانپ بن گئی جو کہ چستی اور پھرتی میں تو باریک سانپ کی طرح تھا۔ اس لئے دوسرے مقام پر اس کو " جانّ " فرمایا گیا۔ مگر جسم کے اعتبار سے وہ بھاری اور ایک بڑے اژدھے کی شکل میں تھا۔ اسی لئے ایک دوسرے مقام پر اس کو " ثعبان مبین " بھی فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ (الاعراف : 106، الشعرائ :32) میں ذکر فرمایا گیا۔ بہرکیف موسیٰ کو جب حق تعالیٰ کی طرف سے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اسے زمین پر ڈال دو تو آپ نے اس کو فورا ڈال دیا۔ اور جونہی آپ نے اس کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک دوڑتا ہوا سانپ بن گئی۔ اور اس طرح آنجناب کو عصا کے اس عظیم الشان معجزے سے نواز دیا گیا۔
Ayahs 20:22–2425 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو حضرت موسیٰ کو ارشاد ہوا کہ " اپنے ہاتھ کو اپنی بغل میں دے دو ۔ وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی عیب (اور بیماری) کے "۔ جیسا کہ برص کی بیماری وغیرہ سے ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر بیماری سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ سو حضرت موسیٰ کو بتایا اور اطمینان دلایا گیا کہ آپ اس طرح کے معجزے سے خوف نہیں کھانا کہ یہ نہ کسی بیماری کی وجہ سے ہوگا اور نہ ہی یہ کوئی عیب ہوگا بلکہ معجزہ ہوگا۔ جس سے آپ کو بطور خاص نوازا جائے گا۔ سو حضرت موسیٰ کے دو خاص معجزے تھے۔ یعنی عصا اور ید بیضا۔
Ayahs 20:25–2627 حضرت موسیٰ کی دعا کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت موسیٰ کی اپنے رب کے حضور ایک خاص دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا۔ سو اس موقعہ پر حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے شرح صدر کی دعاء و درخواست کی۔ تاکہ میں اس عظیم الشان بار امانت کے اٹھانے اور اس کے تقاضے پورے کرنے کے قابل ہو سکوں۔ اور وقت کے سب سے بڑے کافر کے سامنے حق کو صحیح طور پر اور پوری صراحت و وضاحت سے بیان کرنے کا حوصلہ پاسکوں۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کو جب منصب نبوت و رسالت سے سرفرازی کے بعد اس عظیم الشان مہم پر جانے کا حکم وارشاد فرمایا گیا اور آپ پر فریضہ رسالت کی ادائیگی کی یہ بھاری ذمہ داری ڈالی گئی تو آپ نے فورا اپنے خالق ومالک کے حضور اپنی یہ عاجزانہ دعاء و درخواست پیش کردی۔ جس کے لفظ لفظ سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے اس دلسوزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور یہ عرض و درخواست پیش کی اور اس سے اس بارے نصرت و امداد کی التجاء کی۔ سو اس سے حضرات انبیائے کرام کے صدق و اخلاص اور کمال للہیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ کہ وہ مختار کل نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کی نصرت و امداد کے محتاج ہوتے ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ اختیار کلی اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 20:27–3028 عقدئہ لسان کے ازالے کی دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے عقدئہ لسان یعنی زبان کی گرہ کھولنے کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی دعاء و درخواست میں اللہ تعالیٰ کے حضور مزید عرض کیا " اور میری زبان سے گرہ کھول دے "۔ جس کے بارے میں بعض حضرات کا کہنا ہے کہ وہ پیدائشی تھی ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بچپن میں اس وقت سے ہوگئی تھی جب کہ آپ نے فرعون کے سامنے آزمائش کے ایک موقع پر ایک جلتا انگارا اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ۔ جس کا قصہ مشہور ہے۔ (روح، قرطبی، معارف اور صفوہ وغیرہ) ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنے رب سے شرح صدر اور اس رکاوٹ کے دور کرنے کی دعا فرمائی۔ سو پیغمبر کا کام اور ان کی شان اپنے رب سے مانگنا ہی ہوتا ہے اور بس۔ وہ مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں۔ جس طرح کہ کچھ اہل زیغ و ضلال کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جب حضرات انبیائے کرام اور حضرت موسیٰ جیسے اولو العزم اور جلیل القدر پیغمبر بھی مختار کل نہیں ہوسکتے بلکہ یہ سب ہمیشہ اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کے محتاج ہوتے ہیں اور اسی کے حضور دست دعا وسوال دراز کرتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے ؟ سو غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے عاجز بندوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے اور ان کو پوجنے پکارنے کا درس دیتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 20:31–3229 حضرت ہارون کو شریک کار بنانے کی دعاء و درخواست : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ نے اپنی دعا میں مزید عرض کیا کہ " میرے بھائی ہارون کے ذریعے میرے بازو مضبوط فرما دے "۔ یعنی اسباب کے درجے میں۔ کہ یہ دنیا ہے ہی دارالاسباب۔ نہ کہ مافوق الاسباب طریقے سے جو کہ شرک ہے۔ پس اس سے اہل بدعت کے جن بڑوں نے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرنے کی کوشش کی ہے وہ سراسر باطل و مردود ہے۔ کیونکہ یہ استمداد ما تحت الاسباب تھی نہ کہ ما فوق الاسباب۔ سو ما تحت الاسباب مدد و استمداد نہ صرف جائز بلکہ واقع اور موجود ہے اور شریعت نے نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت دی ہے بلکہ پیغمبر اسلام نے یہ سب کچھ خود کرکے بتایا ہے اور عملی طور پر اس کا ثبوت دیا ہے۔ رہ گئی مافوق الاسباب مدد کی تو وہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا نہ کوئی کرسکتا ہے اور نہ کسی سے ایسی مدد مانگنا جائز ہے کہ یہ اسی وحدہ لاشریک کا خاصہ ہے۔ بہرکیف حضرت موسیٰ نے اپنی دعاء میں اپنے بھائی حضرت ہارون کے بارے میں جو کہ عمر میں ان سے بڑے تھے یہ عرض کیا کہ ان کو میرا وزیر اور مددگار بنایا جائے تاکہ وہ راہ حق و ہدایت میں میرے معاون اور دست وبازو بن سکیں کہ مجھ سے زیادہ فصیح بھی ہیں اور مجھے فریضہ رسالت کے سلسلے میں ایک ایسے معین و مددگار کی سخت ضرورت بھی ہے۔ اور اس طرح مجھے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں تقویت مل سکے۔
Ayahs 20:33–3730 ذکر و تسبیح کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے ذکر و تسبیح اور خاص کر اجتماعی ذکر و تسبیح کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ سو اس ارشاد سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی تسبیح و تقدیس اور اجتماعی ذکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ " تاکہ ہم دونوں تیرا ذکر کریں " کہ تیری تسبیح و تقدیس اور تیرا ذکر ہی شاہ کلید اور کامیابی کی ضمانت ہے۔ کیونکہ تسبیح میں تنزیہ ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کی ہر نقص و عیب اور شائبہ شرک و ضعف سے۔ اور تسبیح کے ساتھ ذکر میں اشارہ ہے اس کی صفات کمال کی طرف۔ سو وہی ہے جو ہر نقص و عیب سے پاک اور ہر خوبی و کمال کا مالک ہے۔ اور وہی مدد کرسکتا ہے اپنے بندے کی۔ اور اسی کو پکارنے کا حق ہے۔ جیسا کہ اس کا ارشاد ہے ۔ { لَہُ دَعْوَۃُ الْحَقِّ } ۔ اور یہی صحیح تعلق ہے بندے کا اس وحدہ لاشریک سے کہ اس کی یاد دلشاد سے ہمیشہ محظوظ و سرشار رہے۔ اور ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع رہے۔ اور اسی سے اپنے ظاہر و باطن کا تعلق رکھے۔ اور اسی کے ذکر سے رطب اللسان اور شاد کام رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اجتماعی ذکر و تسبیح کا یہ ارشاد در اصل فریضہ نبوت کی ادائیگی کی تعبیر ہے۔ کیونکہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے طریقے پر کام کرنے والوں کی خلوت و جلوت دونوں ہی ذکر و تسبیح ہوتی ہیں۔ وہ جو کام مسجد میں کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہوتا ہے اور جو بازار میں کرتے ہیں وہ بھی ذکر و تسبیح ہوتا ہے۔ ان کی رزم و بزم میں فرق اگر ہوتا ہے تو صرف میدان کار کا ہوتا ہے۔ ورنہ کام دونوں جگہ ایک ہی ہوتا ہے۔ سو ذکر و تسبیح کی قوت کی ہی بندئہ مومن کی اصل قوت ہوتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 20:3831 امِّ موسیٰ کی طرف وحی کا مطلب ؟ : یعنی وحی کا لفظ یہاں پر اس القا والہام کے معنیٰ میں ہے جو کہ اللہ پاک اپنی قدرت اور رحمت سے اپنی مخلوق میں سے کسی کو فرما دیتا ہے۔ نہ کہ نبوت و رسالت کی وہ وحی جس سے حضرات انبیاء ورسل کو نوازا جاتا ہے۔ سو اس آیت کریمہ میں وحی کے لفظ کا استعمال ویسے ہی ہے جیسا کہ سورة نحل میں شہد کی مکھی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ } ۔ (النحل :68) سو یہ لغوی وحی ہے نہ کہ شرعی اور اصطلاحی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و حکمت سے حضرت موسیٰ کی والدہ ماجدہ کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنے بچے کو ایک صندوق میں رکھ کر سمندر میں ڈال دیں اور اس بات پر وہ مطمئن بھی ہوگئیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے۔
Ayah 20:3932 حضرت موسیٰ کی حفاظت کے لیے قدرت کا کرشمہ : کہ آنجناب کی حفاظت ان کے دشمن سے کرائی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تاکہ اس کو اٹھا لے وہ شخص جو دشمن ہے میرا بھی اور اس کا بھی "۔ یعنی فرعون جس کی تباہی اور خاتمے کا فیصلہ آنجناب کے ذریعے طے اور مقدر ہوچکا تھا۔ سو اس نے حضرت موسیٰ کی دشمنی کی بناء پر اور ان کے خاتمے کیلئے کتنے بیگناہوں کا خون بہایا تھا۔ قدرت کے غیبی ہاتھ کی کرشمہ سازی ملاحظہ ہو کہ اسی دشمن کے ذریعے موسیٰ کی پرورش کا سامان کیا جا رہا ہے۔ سو حفاظت دراصل اسی وحدہ لاشریک کی حفاظت ہے۔ اس کی حفاظت و عنایت اگر حاصل ہو تو انسان کا دشمن بھی اس کی حفاظت میں لگ جاتا ہے۔ اور حضرت موسیٰ کا قصہ اس کی بہت واضح اور بڑی نمایاں مثال ہے۔ پس مومن صادق کا کام ہے کہ وہ بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھے ۔ وباللہ التوفیق ۔ وہ اگر چاہے تو فرعون جیسے خدائی کا دعویٰ کرنے والے طاغیہ سے حضرت موسیٰ جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر کی حفاظت کا سامان کرا دے اور اس طاغیے کو ایسے بچے کی حفاظت کے لیے آمادہ اور تیار کر دے جو آگے چل کر نہ صرف اس کی حکومت و اقتدار بلکہ اس کے وجود ہی کے لیے خاتمے کا باعث بننے والا تھا ۔ فالحمد للہ اللہم فکن لنا و لا تکن علینا -
33 موسیٰ کی حفاظت کا انتظام محبت کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں نے تم پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تم ہر آنکھ کے تارے بن جاؤ "۔ اور کوئی تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے اس شان کرم و عنایت کے ۔ فَکُنِ اللّٰھُمَّ لَنَا وَلَا تَکُنْ عَلَیْنَا یَا اَکَرْم اَلْاَکْرمِیْنَ وَیا اَرْحَمَ الرّٰاِحمن ۔ سو حضرت موسیٰ کی حفاظت محبت کے اس غیر مرئی ہتھیار سے کی گئی جس کی طرف عام لوگوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔ لیکن یہ ایسا قوی اور اس قدر موثر ہتھیار ثابت ہوا کہ اس کی بناء پر حضرت موسیٰ فرعون جیسے بڑے سرکش، کافر اور اپنے جانی دشمن سے بھی پوری طرح محفوظ رہے۔ سو حفاظت اصل میں اللہ پاک ہی کی حفاظت ہے۔ وہ جس طرح چاہے بندے کی حفاظت کا سامان فرمادے۔ پس مومن صادق کا بھروسہ ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک پر رہنا چاہیئے۔ لیکن آج کا جاہل مسلمان ہے کہ اس کا بھروسہ اس قادر مطلق کے سوا اس کی طرح طرح کی ایری غیری مخلوق، فرضی و وہمی سہاروں، بنی ٹھنی قبروں، طرح طرح کے جبوں قبوں، نیلی پیلی جھنڈیوں اور جھوٹ موٹ کی خود ساختہ سرکاروں وغیرہ پر ہے۔ جن کے آگے وہ طرح طرح کے ڈنڈوت کرتا اور قسما قسم کی شرکیات کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور اس طرح اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان خود کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔