20. Surah Taa-Haa
طهTaa-Haa · 135 ayahsتفہیم القرآن
تعارف
زمانۂ نزول
اس سورة کا زمانہ نزول سورة مریم کے زمانے قریب ہی کا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی ہو۔ بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے قبول اسلام سے پہلے یہ نازل ہوچکی تھی۔ ان کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خباب (رض) بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمر کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انہیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں، ہم مسلمان ہوچکے ہیں، تم سے جو کچھ ہو سکے کرلو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑ نہ دیں گے۔ پھر کہا کہ تم جب تک غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورة طٰہ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا " کیا خوب کلام ہے "۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارت، جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے، باہر آگئے اور کہا کہ " بخدا، مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا، ابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنا دے۔ پس اے عمر، اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو "۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جا کر حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔
موضوع اور مباحث
سورة کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قرآن تم پر کچھ اس لیے نازل نہیں کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے تم کو ایک مصیبت میں ڈال دیا جائے۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ پتھر کی چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالو، نہ ماننے والوں کو منوا کر چھوڑو، اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کر کے دکھاؤ۔ یہ تو بس ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے تاکہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جو اس کی پکڑ سے بچنا چاہے وہ سن کر سیدھا ہوجائے۔ یہ مالک زمین و آسمان کا کلام ہے۔ اور خدائی اس کے سوا کسی کی نہیں، یہ دونوں حقیقتیں اپنی جگہ اٹل ہیں، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس تمہید کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک قصے کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ وقت کے حالات کی طرف اس میں کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔ مگر جس ماحول میں یہ قصہ سنایا گیا ہے، اس کے حالات سے مل جل کر یہ اہل مکہ سے کچھ اور باتیں کرتا نظر آتا ہے جو اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے بین السطور سے ادا ہو رہی ہیں۔ ان باتوں کی تشریح سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ عرب میں کثیر التعداد یہودیوں کی موجودگی اور اہل عرب پر یہودیوں کے علمی و ذہنی تفوق کی وجہ سے، نیز روم اور حبش کی عیسائی سلطنتوں کے اثر سے بھی، عربوں میں بالعموم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا نبی تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کے بعد اب دیکھیے کہ وہ باتیں کیا ہیں جو اس قصے کے بین السطور سے اہل مکہ کو جتائی گئی ہیں :۔ 1) ۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت اس طرح عطا نہیں کیا کرتا کہ ڈھول تاشے اور نفیریاں بجا کر ایک خلق اکٹھی کرلی جائے اور پھر باقاعدہ ایک تقریب کی صورت میں یہ اعلان کیا جائے کہ آج سے فلاں شخص کو ہم نے نبی مقرر کیا ہے۔ نبوت تو جس کو بھی دی گئی ہے، کچھ اسی طرح بصیغۂ راز دی گئی ہے جیسے حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ اب تمہیں کیوں اس بات پر اچنبھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یکایک نبی بن کر تمہارے سامنے آگئے اور اس کا اعلان نہ آسمان سے ہوا نہ زمین پر فرشتوں نے چل پھر کر اس کا ڈھول پیٹا۔ ایسے اعلانات پہلے نبیوں کے تقرر پر کب ہوئے تھے کہ آج ہوتے ؟ 2 ) ۔ جو بات آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) ٹھیک وہی بات منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی تھی۔ 3) ۔ پھر جس طرح آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بغیر کسی سر و سامان اور لاؤ لشکر کے تن تنہا قریش کے مقابلے میں دعوت حق کا علم بردار بنا کر کھڑا کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی یکایک اتنے بڑے کام پر مامور کردیے گئے تھے کہ جا کر فرعون جیسے جبار بادشاہ کو سرکشی سے باز آنے کی تلقین کریں۔ کوئی لشکر ان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے ایسے ہی عجیب ہیں۔ وہ مدین سے مصر جانے والے ایک مسافر کو راہ چلتے پکڑ کر بلا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ جا اور وقت کے سب سے بڑے جابر حکمراں سے ٹکرا جا۔ بہت کیا تو اس کی درخواست پر اس کے بھائی کو مددگار کے طور پر دے دیا۔ کوئی فوج فرّا اور ہاتھی گھوڑے اس کار عظیم کے لیے اس کو نہیں دیئے گئے۔ 4) ۔ جو اعتراضات اور شبہات اور الزامات اور مکر و ظلم کے ہتھکنڈے اہل مکہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں استعمال کر رہے ہیں ان سے بڑھ چڑھ کر وہی سب ہتھیار فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں استعمال کیے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ کس طرح وہ اپنی ساری تدبیروں میں ناکام ہوا اور آخرکار کا کون غالب آ کر رہا ؟ خدا کا بےسرو سامان نبی ؟ یا لاؤ لشکر والا فرعون ؟ اس سلسلہ میں خود مسلمانوں کو بھی ایک غیر ملفوظ تسلی دی گئی ہے کہ اپنی بےسرو سامانی اور کفار قریش کے سرو سامان پر نہ جائیں، جس کام کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے وہ آخر کار غالب ہی ہو کر رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے ساحران مصر کا نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب حق ان پر منکشف ہوگیا تو وہ بےدھڑک اس پر ایمان لے آئے اور پھر فرعون کے انتقام کا خوف انہیں بال برابر بھی ایمان کی راہ سے نہ ہٹا سکا۔ 5 ) ۔ آخر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک شہادت پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ دیوتاؤں اور معبودوں کے گھڑے جانے کی ابتدا کس مضحکہ انگیز طریقے سے ہوا کرتی ہے اور یہ کہ خدا کے نبی اس گھناؤنی چیز کا نام و نشان تک باقی رہنے کے کبھی روادار نہیں ہوئے ہیں۔ پس آج اس شرک اور بت پرستی کی جو مخالفت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر رہے ہیں وہ نبوت کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح قصۂ موسیٰ کے پیرائے میں ان تمام معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس وقت ان کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باہمی کشمکش سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد ایک مختصر وعظ کیا گیا ہے کہ بہرحال یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے جو تمہاری اپنی زبان میں تم کو سمجھانے کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس پر کان دھرو گے اور اس سے سبق لو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود برا انجام دیکھو گے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس روش پر تم لوگ جا رہے ہو یہ دراصل شیطان کی پیروی ہے۔ اَحیاناً شیطان کے بہکائے میں آجاتا تو خیر ایک وقتی کمزوری ہے جس سے انسان بمشکل ہی بچ سکتا ہے۔ مگر آدمی کے لیے صحیح طریق کار یہ ہے کہ جب اس پر اس کی غلطی واضح کردی جائے تو وہ اپنے باپ آدم کی طرح صاف صاف اس کا اعتراف کرلے، توبہ کرے، اور پھر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے۔ غلطی اور اس پر ہٹ اور نصیحت پر نصیحت کیے جانے پر بھی اس سے باز نہ آنا، اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے جس کا نقصان آدمی کو خود ہی بھگتنا پڑے گا، کسی دوسرے کا کچھ نہ بگڑے گا۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ان منکرین حق کے معاملے میں جلدی اور بےصبری نہ کرو۔ خدا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر انکار پر فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے۔ لہٰذا گھبراؤ نہیں۔ صبر کے ساتھ ان لوگوں کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جاؤ۔ اور نصیحت کا حق ادا کرتے رہو۔ اسی سلسلے میں نماز کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اہل ایمان میں صبر، تحمل، قناعت، رضا بقضا اور احتساب کی وہ صفات پیدا ہوں جو دعوت حق کی خدمت کے لیے مطلوب ہیں۔
طٰهٰۚ Open ayah 20:1 in the Quran reader
طٰہٰ
مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader
ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ
اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader
یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 1
تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader
نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو
اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader
وہ رحمٰن(کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ 2
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader
مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں
وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader
تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔ 3
اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader
وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ 4
وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader
اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟
اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader
جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 5 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 6
فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader
وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!
اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader
میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 7 تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 8
وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader
اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے
اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader
میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 9
اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader
قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ 10
فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader
پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا
وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader
اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ 11
قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader
موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 12
قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader
فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"
فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader
اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا
قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader
فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی
وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ 13 یہ دُوسری نشانی ہے
لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader
اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں
اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader
اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"
قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader
موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، 14
وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader
اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے
وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader
اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے
یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader
تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، 15
وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader
اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے
هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader
ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔ 16
اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader
اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر
وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader
اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے
كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader
تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں
وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader
اور خوب تیرا چرچا کریں
اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader
تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"
قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader
فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ
وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader
ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ 17