20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفہیم القرآن

تعارف

زمانۂ نزول

اس سورة کا زمانہ نزول سورة مریم کے زمانے قریب ہی کا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ ہجرت حبشہ کے زمانے میں یا اس کے بعد نازل ہوئی ہو۔ بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے قبول اسلام سے پہلے یہ نازل ہوچکی تھی۔ ان کے قبول اسلام کی سب سے زیادہ مشہور اور معتبر روایت یہ ہے کہ جب وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے کی نیت سے نکلے تو راستہ میں ایک شخص نے ان سے کہا کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، تمہاری اپنی بہن اور بہنوئی اس نئے دین میں داخل ہوچکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر سیدھے بہن کے گھر پہنچے۔ وہاں ان کی بہن فاطمہ بنت خطاب اور ان کے بہنوئی سعید بن زید بیٹھے ہوئے حضرت خباب (رض) بن ارت سے ایک صحیفے کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ حضرت عمر کے آتے ہی ان کی بہن نے صحیفہ فوراً چھپا لیا۔ مگر حضرت عمر اس کے پڑھنے کی آواز سن چکے تھے۔ انہوں نے پہلے کچھ پوچھ گچھ کی۔ اس کے بعد بہنوئی پر پل پڑے اور مارنا شروع کردیا۔ بہن نے بچانا چاہا تو انہیں بھی مارا یہاں تک کہ ان کا سر پھٹ گیا۔ آخر کار بہن اور بہنوئی دونوں نے کہا کہ ہاں، ہم مسلمان ہوچکے ہیں، تم سے جو کچھ ہو سکے کرلو۔ حضرت عمر اپنی بہن کا خون بہتے دیکھ کر کچھ پشیمان سے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اچھا مجھے بھی وہ چیز دکھاؤ جو تم لوگ پڑھ رہے تھے۔ بہن نے پہلے قسم لی کہ وہ اسے پھاڑ نہ دیں گے۔ پھر کہا کہ تم جب تک غسل نہ کرلو، اس پاک صحیفے کو ہاتھ نہیں لگا سکتے۔ حضرت عمر (رض) نے غسل کیا اور پھر وہ صحیفہ لے کر پڑھنا شروع کیا۔ اس میں یہی سورة طٰہ لکھی ہوئی تھی۔ پڑھتے پڑھتے یک لخت ان کی زبان سے نکلا " کیا خوب کلام ہے "۔ یہ سنتے ہی حضرت خباب بن ارت، جو ان کی آہٹ پاتے ہی چھپ گئے تھے، باہر آگئے اور کہا کہ " بخدا، مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے اپنے نبی کی دعوت پھیلانے میں بڑی خدمت لے گا، کل ہی میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ خدایا، ابوالحکم بن ہشام (ابو جہل) یا عمر بن خطاب دونوں میں سے کسی کو اسلام کا حامی بنا دے۔ پس اے عمر، اللہ کی طرف چلو، اللہ کی طرف چلو "۔ اس فقرے نے رہی سہی کسر پوری کردی اور اسی وقت حضرت خباب کے ساتھ جا کر حضرت عمر (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اسلام قبول کرلیا۔ یہ ہجرت حبشہ سے تھوڑی مدت بعد ہی کا قصہ ہے۔

موضوع اور مباحث

سورة کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ قرآن تم پر کچھ اس لیے نازل نہیں کیا گیا ہے کہ خواہ مخواہ بیٹھے بٹھائے تم کو ایک مصیبت میں ڈال دیا جائے۔ تم سے یہ مطالبہ نہیں ہے کہ پتھر کی چٹانوں سے دودھ کی نہر نکالو، نہ ماننے والوں کو منوا کر چھوڑو، اور ہٹ دھرم لوگوں کے دلوں میں ایمان پیدا کر کے دکھاؤ۔ یہ تو بس ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے تاکہ جس کے دل میں خدا کا خوف ہو اور جو اس کی پکڑ سے بچنا چاہے وہ سن کر سیدھا ہوجائے۔ یہ مالک زمین و آسمان کا کلام ہے۔ اور خدائی اس کے سوا کسی کی نہیں، یہ دونوں حقیقتیں اپنی جگہ اٹل ہیں، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ اس تمہید کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ چھیڑ دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ محض ایک قصے کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ وقت کے حالات کی طرف اس میں کوئی اشارہ تک نہیں ہے۔ مگر جس ماحول میں یہ قصہ سنایا گیا ہے، اس کے حالات سے مل جل کر یہ اہل مکہ سے کچھ اور باتیں کرتا نظر آتا ہے جو اس کے الفاظ سے نہیں بلکہ اس کے بین السطور سے ادا ہو رہی ہیں۔ ان باتوں کی تشریح سے پہلے یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجیئے کہ عرب میں کثیر التعداد یہودیوں کی موجودگی اور اہل عرب پر یہودیوں کے علمی و ذہنی تفوق کی وجہ سے، نیز روم اور حبش کی عیسائی سلطنتوں کے اثر سے بھی، عربوں میں بالعموم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا نبی تسلیم کیا جاتا تھا۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھنے کے بعد اب دیکھیے کہ وہ باتیں کیا ہیں جو اس قصے کے بین السطور سے اہل مکہ کو جتائی گئی ہیں :۔ 1) ۔ اللہ تعالیٰ کسی کو نبوت اس طرح عطا نہیں کیا کرتا کہ ڈھول تاشے اور نفیریاں بجا کر ایک خلق اکٹھی کرلی جائے اور پھر باقاعدہ ایک تقریب کی صورت میں یہ اعلان کیا جائے کہ آج سے فلاں شخص کو ہم نے نبی مقرر کیا ہے۔ نبوت تو جس کو بھی دی گئی ہے، کچھ اسی طرح بصیغۂ راز دی گئی ہے جیسے حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ اب تمہیں کیوں اس بات پر اچنبھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یکایک نبی بن کر تمہارے سامنے آگئے اور اس کا اعلان نہ آسمان سے ہوا نہ زمین پر فرشتوں نے چل پھر کر اس کا ڈھول پیٹا۔ ایسے اعلانات پہلے نبیوں کے تقرر پر کب ہوئے تھے کہ آج ہوتے ؟ 2 ) ۔ جو بات آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پیش کر رہے ہیں (یعنی توحید اور آخرت) ٹھیک وہی بات منصب نبوت پر مقرر کرتے وقت اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائی تھی۔ 3) ۔ پھر جس طرح آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بغیر کسی سر و سامان اور لاؤ لشکر کے تن تنہا قریش کے مقابلے میں دعوت حق کا علم بردار بنا کر کھڑا کردیا گیا ہے، ٹھیک اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) بھی یکایک اتنے بڑے کام پر مامور کردیے گئے تھے کہ جا کر فرعون جیسے جبار بادشاہ کو سرکشی سے باز آنے کی تلقین کریں۔ کوئی لشکر ان کے ساتھ بھی نہیں بھیجا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے معاملے ایسے ہی عجیب ہیں۔ وہ مدین سے مصر جانے والے ایک مسافر کو راہ چلتے پکڑ کر بلا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ جا اور وقت کے سب سے بڑے جابر حکمراں سے ٹکرا جا۔ بہت کیا تو اس کی درخواست پر اس کے بھائی کو مددگار کے طور پر دے دیا۔ کوئی فوج فرّا اور ہاتھی گھوڑے اس کار عظیم کے لیے اس کو نہیں دیئے گئے۔ 4) ۔ جو اعتراضات اور شبہات اور الزامات اور مکر و ظلم کے ہتھکنڈے اہل مکہ آج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں استعمال کر رہے ہیں ان سے بڑھ چڑھ کر وہی سب ہتھیار فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں استعمال کیے تھے۔ پھر دیکھ لو کہ کس طرح وہ اپنی ساری تدبیروں میں ناکام ہوا اور آخرکار کا کون غالب آ کر رہا ؟ خدا کا بےسرو سامان نبی ؟ یا لاؤ لشکر والا فرعون ؟ اس سلسلہ میں خود مسلمانوں کو بھی ایک غیر ملفوظ تسلی دی گئی ہے کہ اپنی بےسرو سامانی اور کفار قریش کے سرو سامان پر نہ جائیں، جس کام کے پیچھے خدا کا ہاتھ ہوتا ہے وہ آخر کار غالب ہی ہو کر رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ مسلمانوں کے سامنے ساحران مصر کا نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جب حق ان پر منکشف ہوگیا تو وہ بےدھڑک اس پر ایمان لے آئے اور پھر فرعون کے انتقام کا خوف انہیں بال برابر بھی ایمان کی راہ سے نہ ہٹا سکا۔ 5 ) ۔ آخر میں بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک شہادت پیش کرتے ہوئے یہ بھی بتایا گیا کہ دیوتاؤں اور معبودوں کے گھڑے جانے کی ابتدا کس مضحکہ انگیز طریقے سے ہوا کرتی ہے اور یہ کہ خدا کے نبی اس گھناؤنی چیز کا نام و نشان تک باقی رہنے کے کبھی روادار نہیں ہوئے ہیں۔ پس آج اس شرک اور بت پرستی کی جو مخالفت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کر رہے ہیں وہ نبوت کی تاریخ میں کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس طرح قصۂ موسیٰ کے پیرائے میں ان تمام معاملات پر روشنی ڈالی گئی ہے جو اس وقت ان کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باہمی کشمکش سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے بعد ایک مختصر وعظ کیا گیا ہے کہ بہرحال یہ قرآن ایک نصیحت اور یاد دہانی ہے جو تمہاری اپنی زبان میں تم کو سمجھانے کے لیے بھیجی گئی ہے۔ اس پر کان دھرو گے اور اس سے سبق لو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے۔ نہ مانو گے تو خود برا انجام دیکھو گے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کا قصہ بیان کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جس روش پر تم لوگ جا رہے ہو یہ دراصل شیطان کی پیروی ہے۔ اَحیاناً شیطان کے بہکائے میں آجاتا تو خیر ایک وقتی کمزوری ہے جس سے انسان بمشکل ہی بچ سکتا ہے۔ مگر آدمی کے لیے صحیح طریق کار یہ ہے کہ جب اس پر اس کی غلطی واضح کردی جائے تو وہ اپنے باپ آدم کی طرح صاف صاف اس کا اعتراف کرلے، توبہ کرے، اور پھر خدا کی بندگی کی طرف پلٹ آئے۔ غلطی اور اس پر ہٹ اور نصیحت پر نصیحت کیے جانے پر بھی اس سے باز نہ آنا، اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارنا ہے جس کا نقصان آدمی کو خود ہی بھگتنا پڑے گا، کسی دوسرے کا کچھ نہ بگڑے گا۔ آخر میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو سمجھایا گیا ہے کہ ان منکرین حق کے معاملے میں جلدی اور بےصبری نہ کرو۔ خدا کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ کسی قوم کو اس کے کفر انکار پر فوراً نہیں پکڑ لیتا بلکہ سنبھلنے کے لیے کافی مہلت دیتا ہے۔ لہٰذا گھبراؤ نہیں۔ صبر کے ساتھ ان لوگوں کی زیادتیاں برداشت کرتے چلے جاؤ۔ اور نصیحت کا حق ادا کرتے رہو۔ اسی سلسلے میں نماز کی تاکید کی گئی ہے تاکہ اہل ایمان میں صبر، تحمل، قناعت، رضا بقضا اور احتساب کی وہ صفات پیدا ہوں جو دعوت حق کی خدمت کے لیے مطلوب ہیں۔

Ayahs 20:1–3

مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰۤىۙ Open ayah 20:2 in the Quran reader

ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاؤ

اِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَنْ یَّخْشٰىۙ Open ayah 20:3 in the Quran reader

یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 1

سورة طٰهٰ 1 یہ فقرہ پہلے فقرے کے مفہوم پر خود روشنی ڈالتا ہے۔ دونوں کو ملا کر پڑھنے سے صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کو نازل کر کے ہم کوئی اَنْہونا کام تم سے نہیں لینا چاہتے۔ تمہارے سپرد یہ خدمت نہیں کی گئی ہے کہ جو لوگ نہیں ماننا چاہتے ان کو منوا کر چھوڑو اور جن کے دل ایمان کے لیے بند ہوچکے ہیں ان کے اندر ایمان اتار کر ہی رہو۔ یہ تو بس ایک تذکیر اور یاد دہانی ہے اور اس لیے بھیجی گئی ہے کہ جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو وہ اسے سن کر ہوش میں آجائے۔ اب اگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں خدا کا کچھ خوف نہیں، اور جنہیں اس کی کچھ پروا نہیں کہ حق کیا ہے، اور باطل کیا، ان کے پیچھے پڑنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں۔
Ayahs 20:4–5

تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَ السَّمٰوٰتِ الْعُلٰىؕ Open ayah 20:4 in the Quran reader

نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو

اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى Open ayah 20:5 in the Quran reader

وہ رحمٰن(کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ 2

سورة طٰهٰ 2 یعنی پیدا کرنے کے بعد کہیں جا کر سو نہیں گیا ہے بلکہ آپ اپنے کارخانۂ تخلیق کا سارا انتظام چلا رہا ہے، خود اس ناپیدا کنار سلطنت پر فرمانروائی کر رہا ہے، خالق ہی نہیں ہے بالفعل حکمراں بھی ہے۔
Ayahs 20:6–7

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ مَا تَحْتَ الثَّرٰى Open ayah 20:6 in the Quran reader

مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان میں ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں

وَ اِنْ تَجْهَرْ بِالْقَوْلِ فَاِنَّهٗ یَعْلَمُ السِّرَّ وَ اَخْفٰى Open ayah 20:7 in the Quran reader

تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔ 3

سورة طٰهٰ 3 یعنی کچھ ضروری نہیں ہے کہ جو ظلم و ستم تم پر اور تمہارے ساتھیوں پر ہو رہا ہے اور جن شرارتوں اور خباثتوں سے تمہیں نیچا دکھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ان پر تم بآواز بلند ہی فریاد کرو۔ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ تم پر کیا کیفیت گزر رہی ہے۔ وہ تمہارے دلوں کی پکار تک سن رہا ہے۔
Ayah 20:8

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى Open ayah 20:8 in the Quran reader

وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ 4

سورة طٰهٰ 4 یعنی وہ بہترین صفات کا مالک ہے۔
Ayahs 20:9–10

وَ هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰىۘ Open ayah 20:9 in the Quran reader

اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى Open ayah 20:10 in the Quran reader

جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 5 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 6

سورة طٰهٰ 5 یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ چند سال مدین میں جلا وطنی کی زندگی گزار نے کے بعد اپنی بیوی کو (جن سے مدین ہی میں شادی ہوئی تھی) لے کر مصر کی طرف واپس جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کی سرگزشت سورة قَصص میں بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا تھا اور اس پر انہیں اپنی گرفتاری کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا تو وہ مصر سے بھاگ کر مدین میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔
Ayahs 20:11–12

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ یٰمُوْسٰىؕ Open ayah 20:11 in the Quran reader

وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ!

اِنِّیْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ Open ayah 20:12 in the Quran reader

میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 7 تُو وادی ِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 8

سورة طٰهٰ 7 غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم، " یہودیوں کے خلاف عمل کرو۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے " (ابو داؤد)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس لیے دونوں طرح عمل کرو۔ ابو داؤد میں عمْرو بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ مسند احمد اور ابو داؤد میں ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " جب تم میں سے کوئی مسجد آئے تو جوتے کو پلٹ کر دیکھ لے۔ اگر کوئی گندگی لگی ہو تو زمین سے رگڑ کر صاف کرلے اور انہی جوتوں کو پہنے ہوئے نماز پڑھ لے " ابوہریرہ کی روایت میں حضور کے یہ الفاظ ہیں " اگر تم میں سے کسی نے اپنے جوتے سے گندگی کو پامال کیا ہو تو مٹی اس کو پاک کردینے کے لیے کافی ہے "۔ اور حضرت ام سَلَمہ کی روایت میں ہے یطھرہ مابعدہ، یعنی " ایک جگہ گندگی لگی ہوگی تو دوسری جگہ جاتے جاتے خود زمین ہی اس کو پاک کر دے گی "۔ ان کثیر التعداد روایات کی بنا پر امام ابو حنیفہ، امام ابو یوسف، امام اوزاعی اور اسحاق بن راھَوَیہ وغیرہ فقہا اس بات کے قائل ہیں کہ جوتا ہر حال میں زمین کی مٹی سے پاک ہوجاتا ہے۔ ایک ایک قول امام احمد اور امام شافعی کا بھی اس کی تائید میں ہے۔ مگر امام شافعی کا مشہور قول اس کے خلاف ہے۔ غالباً وہ جوتا پہن کر نماز پڑھنے کو ادب کے خلاف سمجھ کر منع کرتے ہیں، اگرچہ سمجھا یہی گیا ہے کہ ان کے نزدیک جوتا مٹی پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوتا۔ (اس سلسلے میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مسجد نبوی میں چٹائی تک کا فرش نہ تھا، بلکہ کنکریاں بچھی ہوئی تھیں۔ لہٰذا ان احادیث سے استدلال کر کے اگر کوئی شخص آج کی مسجدوں کے فرش پر جوتے لے جانا چاہے تو یہ صحیح نہ ہوگا۔ البتہ گھاس پر یا کھلے میدان میں جوتے پہنے پہنے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو میدان میں نماز جنازہ پڑھتے وقت بھی جوتے اتارنے پر اصرار کرتے ہیں، وہ در اصل احکام سے ناواقف ہیں)۔ سورة طٰهٰ 8 عام خیال یہ ہے کہ " طویٰ " اس وادی کا نام تھا۔ مگر بعض مفسرین نے " وادی مقدس طویٰ " کا یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ " وہ وادی جو ایک ساعت کے لیے مقدس کردی گئی ہے۔
Ayahs 20:13–14

وَ اَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰى Open ayah 20:13 in the Quran reader

اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے

اِنَّنِیْۤ اَنَا اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ١ۙ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِیْ Open ayah 20:14 in the Quran reader

میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 9

سورة طٰهٰ 9 یہاں نماز کی اصلی غرض پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آدمی خدا سے غافل نہ ہوجائے، دنیا کے دھوکا دینے والے مظاہر اس کو اس حقیقت سے بےفکر نہ کردیں کہ میں کسی کا بندہ ہوں، آزاد خود مختار نہیں ہوں۔ اس فکر کو تازہ رکھنے اور خدا سے آدمی کا تعلق جوڑے رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے جو ہر روز کئی بار آدمی کو دنیا کے ہنگاموں سے ہٹا کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ نماز قائم کر تاکہ میں تجھے یاد کروں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ۔ ، " مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ " ضمناً اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس شخص کو بھول لاحق ہوجائے اسے جب بھی یاد آئے نماز ادا کر لینی چاہیے۔ حدیث میں حضرت اَنَس سے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا من نسی صلاۃ فلیصَلّھا اذا ذکرھا لا کفارۃ لھا الا ذٰلک، " جو شخص کسی وقت کی نماز بھول گیا ہو اسے چاہیے کہ جب یاد آئے ادا کرلے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے " (بخاری، مسلم، احمد)۔ اسی معنی میں ایک روایت حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے جسے مسلم، ابو داؤد اور نسائی وغیرہ نے لیا ہے۔ اور ابوقتادہ کی روایت ہے کہ حضور سے پوچھا گیا اگر ہم نماز کے وقت سو گئے ہوں تو کیا کریں ؟ آپ نے فرمایا " نیند میں کچھ قصور نہیں، قصور تو جاگنے کی حالت میں ہے۔ پس جب تم میں سے کوئی شخص بھول جائے یا سو جائے تو جب بیدار ہو یا جب یاد آئے، نماز پڑھ لے " (ترمذی، نسائی، ابو داؤد)۔
Ayah 20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا تَسْعٰى Open ayah 20:15 in the Quran reader

قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ 10

سورة طٰهٰ 10 توحید کے بعد دوسری حقیقت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء (علیہم السلام) پر منکشف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے، آخرت ہے۔ یہاں نہ صرف اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ ساعت منتظرہ اس لیے آئے گی کہ ہر شخص نے دنیا میں جو سعی کی ہے اس کا بدلہ رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدعا پورا ہوسکے۔ جسے عاقبت کی کچھ فکر ہو اس کو ہر وقت اس گھڑی کا کھٹکا لگا رہے اور یہ کھٹکا اسے بےراہ روی سے بچاتا رہے۔ اور جو دنیا میں گم رہنا چاہتا ہو وہ اس خیال میں مگن رہے کہ قیامت ابھی کہیں دور دور بھی آتی نظر نہیں آتی۔
Ayahs 20:16–17

فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَتَرْدٰى Open ayah 20:16 in the Quran reader

پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا

وَ مَا تِلْكَ بِیَمِیْنِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:17 in the Quran reader

اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ 11

سورة طٰهٰ 11 یہ سوال طلب علم کے لیے نہ تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بھی معلوم تھا کہ موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ پوچھنے سے مقصود یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں اچھی طرح مستحضر ہوجائے اور پھر وہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔
Ayah 20:18

قَالَ هِیَ عَصَایَ١ۚ اَتَوَكَّؤُا عَلَیْهَا وَ اَهُشُّ بِهَا عَلٰى غَنَمِیْ وَ لِیَ فِیْهَا مَاٰرِبُ اُخْرٰى Open ayah 20:18 in the Quran reader

موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 12

سورة طٰهٰ 12 اگرچہ جواب میں صرف اتنا کہہ دینا کافی تھا کہ حضور، یہ لاٹھی ہے، مگر حضرت موسیٰ نے اس سوال کا جو لمبا جواب دیا وہ ان کی اس وقت کی قلبی کیفیت کا ایک دلچسپ نقشہ پیش کرتا ہے۔ قاعدے کی بات ہے کہ جب آدمی کو کسی بہت بڑی شخصیت سے بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو وہ اپنی بات کو طول دینے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اسے زیادہ سے زیادہ دیر تک اس کے ساتھ ہم کلامی کا شرف حاصل رہے۔
Ayahs 20:19–22

قَالَ اَلْقِهَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:19 in the Quran reader

فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ"

فَاَلْقٰىهَا فَاِذَا هِیَ حَیَّةٌ تَسْعٰى Open ayah 20:20 in the Quran reader

اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا

قَالَ خُذْهَا وَ لَا تَخَفْ١ٙ سَنُعِیْدُهَا سِیْرَتَهَا الْاُوْلٰى Open ayah 20:21 in the Quran reader

فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی

وَ اضْمُمْ یَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 20:22 in the Quran reader

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ 13 یہ دُوسری نشانی ہے

سورة طٰهٰ 13 یعنی روشن ایسا ہوگا جیسے سورج ہو، مگر تمہیں اس سے کوئی تکلیف نہ ہوگی۔ بائیبل میں ید بیضاء کی ایک اور ہی تعبیر کی گئی ہے جو وہاں سے نکل کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گئی۔ وہ یہ کہ حضرت موسیٰ نے جب بغل میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو پورا ہاتھ برص کے مریض کی طرح سفید تھا، پھر جب دوبارہ اسے بغل میں رکھا تو وہ اصلی حالت پر آگیا۔ یہی تعبیر اس معجزے کی تلمود میں بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ فرعون کو برص کی بیماری تھی جسے وہ چھپائے ہوئے تھا۔ اس لیے اس کے سامنے یہ معجزہ پیش کیا گیا کہ دیکھ یوں آناً فاناً برص کا مرض پیدا بھی ہوتا ہے اور کافور بھی ہوجاتا ہے۔ لیکن اول تو ذوق سلیم اس سے ابا کرتا ہے کہ کسی نبی کو برص کا معجزہ دے کر ایک بادشاہ کے دربار میں بھیجا جائے۔ دوسرے اگر فرعون کو مخفی طور پر برص کی بیماری تھی تو ید بیضاء صرف اس کی ذات کے لیے معجزہ ہوسکتا تھا، اس کے درباریوں پر اس معجزے کا کیا رعب طاری ہوتا۔ لہٰذا صحیح بات وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی کہ اس ہاتھ میں سورج کی سی چمک پیدا ہوجاتی تھی جسے دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوجاتیں۔ قدیم مفسرین میں سے بھی بہتوں نے اس کے یہی معنی لیے ہیں۔
Ayahs 20:23–25

لِنُرِیَكَ مِنْ اٰیٰتِنَا الْكُبْرٰىۚ Open ayah 20:23 in the Quran reader

اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں

اِذْهَبْ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰى۠ Open ayah 20:24 in the Quran reader

اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے"

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، 14

سورة طٰهٰ 14 یعنی میرے دل میں اس منصب عظیم کو سنبھالنے کی ہمت پیدا کر دے۔ اور میرا حوصلہ بڑھا دے۔ چونکہ یہ ایک بہت بڑا کام حضرت موسیٰ کے سپرد کیا جا رہا تھا جس کے لیے بڑے دل گردے کی ضرورت تھی، اس لیے آپ نے دعا کی کہ مجھے وہ صبر، وہ ثبات، وہ تحمل، وہ بےخوفی اور وہ عزم عطا کر جو اس کام کے لیے درکار ہے۔
Ayahs 20:26–28

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، 15

سورة طٰهٰ 15 بائیبل میں اس کی تشریح بیان ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ نے عرض کیا " اے خداوند، میں فصیح نہیں ہوں نہ پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تو نے اپنے بندے سے کلام کیا۔ بلکہ رک رک کر بولتا ہوں اور میری زبان کند ہے " (خروج 104)۔ مگر تلمود میں اس کا ایک لمبا چوڑا قصہ بیان ہوا ہے۔ اس میں یہ ذکر ہے کہ بچپن میں جب حضرت موسیٰ فرعون کے گھر پرورش پا رہے تھے، ایک روز انہوں نے فرعون کے سر کا تاج اتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ اس بچے نے یہ کام بالارادہ کیا ہے یا یہ محض طفلانہ فعل ہے۔ آخر کار یہ تجویز کیا گیا کہ بچے کے سامنے سونا اور آگ دونوں ساتھ رکھے جائیں۔ چناچہ دونوں چیزیں لا کر سامنے رکھی گئیں اور حضرت موسیٰ نے اٹھا کر آگ منہ میں رکھ لی۔ اس طرح ان کی جان تو بچ گئی، مگر زبان میں ہمیشہ کے لیے لکنت پڑگئی۔ یہی قصہ اسرائیلی روایات سے منتقل ہو کر ہمارے ہاں کی تفسیروں میں بھی رواج پا گیا۔ لیکن عقل اسے ماننے سے انکار کرتی ہے۔ اس لیے کہ اگر بچے نے آگ پر ہاتھ مارا بھی ہو تو یہ کسی طرح ممکن نہیں ہے کہ وہ انگارے کو اٹھا کر منہ میں لے جاسکے بچہ تو آگ کی جلن محسوس کرتے ہی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔ منہ میں لے جانے کی نوبت ہی کہاں آسکتی ہے ؟ قرآن کے الفاظ سے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اپنے اندر خطابت کی صلاحیت نہ پاتے تھے اور ان کو اندیشہ لاحق تھا کہ نبوت کے فرائض ادا کرنے کے لیے اگر تقریر کی ضرورت کبھی پیش آئی (جس کا انہیں اس وقت تک اتفاق نہ ہوا تھا) تو ان کی طبیعت کی جھجک مانع ہوجائے گی۔ اس لیے انہوں نے دعا فرمائی کہ یا اللہ میری زبان کی گرہ کھول دے تاکہ میں اچھی طرح اپنی بات لوگوں کو سمجھا سکوں۔ یہی چیز تھی جس کا فرعون نے ایک مرتبہ ان کو طعنہ دیا کہ " یہ شخص تو اپنی بات بھی پوری طرح بیان نہیں کرسکتا " (لَا یَکَادُ یُبِیْنُ۔ الزُخْرف۔ 52) اور یہی کمزوری تھی جس کو محسوس کر کے حضرت موسیٰ نے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون کو مددگار کے طور پر مانگا۔ سورة قصص میں ان کا یہ قول نقل کیا گیا، وَاَخِیْ ھٰرُوْنَ ھُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَاناً فَاَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْاً ، " میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اس کو میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج "۔ آگے چل کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی یہ کمزوری دور ہوگئی تھی اور وہ خوب زور دار تقریر کرنے لگے تھے، چناچہ قرآن میں اور بائیبل میں ان کی بعد کے دور کی جو تقریریں آئی ہیں وہ کمال فصاحت و طاقت لسانی کی شہادت دیتی ہیں۔ یہ بات عقل کے خلاف ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ہکلے یا توتلے آدمی کو اپنا رسول مقرر فرمائے۔ رسول ہمیشہ شکل، صورت، شخصیت اور صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین لوگ ہوئے ہیں جن کے ظاہر و باطن کا ہر پہلو دلوں اور نگاہوں کو متاثر کرنے والا ہوتا تھا۔ کوئی رسول ایسے عیب کے ساتھ نہیں بھیجا گیا اور نہیں بھیجا جاسکتا تھا جس کی بنا پر وہ لوگوں میں مضحکہ بن جائے یا حقارت کی نگاہ سے دیکھا جائے۔
Ayahs 20:29–30

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔ 16

سورة طٰهٰ 16 بائیبل کی روایت کے مطابق حضرت ہارون حضرت موسیٰ سے تین برس بڑے تھے (خروج 77)
Ayahs 20:31–37

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور خوب تیرا چرچا کریں

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے"

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ 17

سورة طٰهٰ 17 اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو ایک ایک کر کے وہ احسانات یاد دلاتا ہے جو پیدائش کے وقت سے لے کر اس وقت تک اس نے ان پر کیے تھے۔ ان واقعات کی تفصیل سورة قصص میں بیان ہوئی ہے۔ یہاں صرف اشارات کیے گئے ہیں جن سے مقصود حضرت موسیٰ کو یہ احساس دلانا ہے کہ تم اسی کام کے لیے پیدا کیے گئے ہو اور اسی کام کے لیے آج تک خاص طور پر سرکاری نگرانی میں پرورش پاتے رہے ہو جس پر اب تمہیں مامور کیا جا رہا ہے۔