Ayahs 20:38–44سورة طٰهٰ 18
آدمی کے راہ راست پر آنے کی دو ہی شکلیں ہیں۔ یا تو وہ تفہیم و تلقین سے مطمئن ہو کر صحیح راستہ اختیار کرلیتا ہے، یا پھر برے انجام سے ڈر کر سیدھا ہوجاتا ہے۔
Ayah 20:45سورة طٰهٰ 18 (الف)
معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب حضرت موسیٰ مصر پہنچ گئے اور حضرت ہارون عملاً ان کے شریک کار ہوگئے۔ اس وقت فرعون کے پاس جانے سے پہلے دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ گزارش کی ہوگی۔
Ayahs 20:46–48سورة طٰهٰ 19
اس واقعے کو بائیبل اور تلمود میں جس طرح بیان کیا گیا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیجیے تاکہ اندازہ ہو کہ قرآن مجید انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کس شان سے کرتا ہے اور بنی اسرائیل کی روایات میں ان کی کیسی تصویر پیش کی گئی ہے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ پہلی مرتبہ جب خدا نے موسیٰ سے کہا کہ " اب میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں کہ تو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے " تو حضرت موسیٰ نے جواب میں کہا " میں کون ہوں جو فرعون کے پاس جاؤں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاؤں "۔ پھر خدا نے حضرت موسیٰ کو بہت کچھ سمجھایا، ان کی ڈھارس بندھائی، معجزے عطا کیے، مگر حضرت موسیٰ نے پھر کہا تو یہی کہا کہ اے خداوند، میں تیری منت کرتا ہوں کسی اور کے ہاتھ سے جسے تو چاہے یہ پیغام بھیج " (خروج 4)۔ تلمود کی روایت اس سے بھی چند قدم آگے جاتی ہے۔ اس کا بیان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کے درمیان سات دن تک اسی بات پر رد و کد ہوتی رہی۔ اللہ کہتا رہا کہ نبی بن، مگر موسیٰ کہتے رہے کہ میری زبان ہی نہیں کھلتی تو میں نبی کیسے بن جاؤں۔ آخر اللہ میاں نے کہا میری خوشی یہ ہے کہ تو ہی نبی بن۔ اس پر حضرت موسیٰ نے کہا کہ لوط کو بچانے کے لیے آپ نے فرشتے بھیجے، ہاجرہ جب سارہ کے گھر سے نکلی تو اس کے لیے پانچ فرشتے بھیجے، اور اب اپنے خاص بچوں (بنی اسرائیل) کو مصر سے نکلوانے کے لیے آپ مجھے بھیج رہے ہیں۔ اس پر خدا ناراض ہوگیا اور اس نے رسالت میں ان کے ساتھ ہارون کو شریک کردیا اور موسیٰ کی اولاد کو محروم کر کے کہانت کا منصب ہارون کی اولاد کو دے دیا۔۔۔۔۔ یہ کتابیں ہیں جن کے متعلق بےشرم لوگ کہتے ہیں کہ قرآن میں ان سے یہ قصے نقل کرلیے گئے ہیں۔
Ayah 20:49سورة طٰهٰ 20
یہاں قصے کی ان تفصیلات کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کس طرح فرعون کے پاس پہنچے اور کس طرح اپنی دعوت اس کے سامنے پیش کی۔ یہ تفصیلات سورة اعراف رکوع 13 میں گزر چکی ہیں اور آگے سورة شعراء رکوع 2۔ 3، سورة قصص رکوع 4، اور سورة نازعات رکوع 1 میں آنے والی ہیں۔
فرعون کے متعلق ضروری معلومات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 86۔
سورة طٰهٰ 21
دونوں بھائیوں میں سے اصل صاحب دعوت چونکہ موسیٰ ؑ تھے اس لیے فرعون نے انہی کو مخاطب کیا۔ اور ہوسکتا ہے کہ خطاب کا رخ ان کی طرف رکھنے سے اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ وہ حضرت ہارون کی فصاحت و بلاغت کو میدان میں آنے کا موقع نہ دینا چاہتا ہو اور خطابت کے پہلو میں حضرت موسیٰ کے ضعف سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو جس کا ذکر اس سے پہلے گزر چکا ہے،
فرعون کے اس سوال کا منشا یہ تھا کہ تم دونوں کسے رب بنا بیٹھے ہو، مصر اور اہل مصر کا رب تو میں ہوں۔ سورة نازعات میں اس کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ اَ نَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی، " اے اہل مصر، تمہارا رب اعلیٰ میں ہوں "۔ سورة زخرف میں وہ بھرے دربار کو مخاطب کر کے کہتا ہے یٰقَوْمِ اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ وَھٰذِہِ الْاَنْھَارُ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِیْ ، " اے قوم، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں " ؟ (آیت۔ 51)۔ سورة قصص میں وہ اپنے درباریوں کے سامنے یوں بنکارتا ہے یٰٓاَیُّھَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ ، فَاَوْقِدْلِیْ یَا ھَامٰنُ عَلَی الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحاً لَعَلِّی اَطَّلِعُ الیٰ اِلٰہِ مُوْسٰی، " اے سرداران قوم، میں نہیں جانتا کہ میرے سوا تمہارا کوئی اور بھی الٰہ ہے، اے ہامان، ذرا اینٹیں پکوا اور ایک بلند عمارت میرے لیے تیار کرا تاکہ میں ذرا اوپر چڑھ کر دیکھوں تو سہی کہ یہ موسیٰ کسے الٰہ بنا رہا ہے " (آیت 38)۔ سورة شعراء میں وہ حضرت موسیٰ کو ڈانٹ کر کہتا ہے لَئِنِ اتَّخَذْ تَ الٰھاً غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ، " اگر تو نے میرے سوا کسی کو الٰہ بنایا تو یاد رکھ کہ تجھے جیل بھیج دوں گا " (آیت 29)۔
اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرعون اپنی قوم کا واحد معبود تھا اور وہاں اس کے سوا کسی کی پرستش نہ ہوتی تھی۔ یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ فرعون خود سورج دیوتا (رع یا راع) کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق جتاتا تھا، اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتاؤں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی۔ اس لیے فرعون کا دعویٰ " واحد مرکز پرستش " ہونے کا نہ تھا، بلکہ وہ عملاً مصر کی اور نظریے کے اعتبار سے دراصل پوری نوع انسان کی سیاسی ربوبیت و خداوندی کا مدعی تھا اور یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھا کہ اس کے اوپر کوئی دوسری ہستی فرمانروا ہو جس کا نمائندہ آ کر اسے ایک حکم دے اور اس حکم کی اطاعت کا مطالبہ اس سے کرے۔ بعض لوگوں کو اس کی لن ترانیوں سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا منکر تھا اور خود خدا ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ مگر یہ بات قرآن سے ثابت ہے کہ وہ عالم بالا پر کسی اور کی حکمرانی مانتا تھا۔ سورة المؤمن آیات 28 تا 34 اور سورة زخرف آیت 53 کو غور سے دیکھیے۔ یہ آیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کی ہستی سے اس کو انکار نہ تھا۔ البتہ جس چیز کو ماننے کے لیے وہ تیار نہ تھا وہ یہ تھی کہ اس کی سیاسی خدائی میں اللہ کا کوئی دخل ہو اور اللہ کا کوئی رسول آ کر اس پر حکم چلائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حاشیہ 53)۔
Ayah 20:50سورة طٰهٰ 22
یعنی ہم ہر معنی میں صرف اس کو رب مانتے ہیں۔ پروردگار، آقا، مالک، حاکم، سب کچھ ہمارے نزدیک وہی ہے۔ کسی معنی میں بھی اس کے سوا کوئی دوسرا رب ہمیں تسلیم نہیں ہے۔
سورة طٰهٰ 23
یعنی دنیا کی ہر شے جیسی کچھ بھی بنی ہوئی ہے، اسی کے بنانے سے بنی ہے۔ ہر چیز کو جو بناوٹ، جو شکل و صورت، جو قوت و صلاحیت، اور جو صفت و خاصیت حاصل ہے، اسی کے عطیے اور بخشش کی بدولت حاصل ہے۔ ہاتھ کو دنیا میں اپنا کام کرنے کے لیے جس ساخت کی ضرورت تھی وہ اس کو دی، اور پاؤں کو جو مناسب ترین ساخت درکار تھی وہ اس کو بخشی۔ انسان، حیوان، نباتات، جمادات، ہوا، پانی، روشنی، ہر ایک چیز کو اس نے وہ صورت خاص عطا کی ہے جو اسے کائنات میں اپنے حصے کا کام ٹھیک ٹھیک انجام دینے کے لیے مطلوب ہے۔
پھر اس نے ایسا نہیں کیا کہ ہر چیز کو اس کی مخصوص بناوٹ دے کر یونہی چھوڑ دیا ہو۔ بلکہ اس کے بعد وہی ان سب چیزوں کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جسے اپنی ساخت سے کام لینے اور اپنے مقصد تخلیق کو پورا کرنے کا طریقہ اس نے نہ سکھایا ہو۔ کان کو سننا اور آنکھ کو دیکھنا اسی نے سکھایا ہے۔ مچھلی کو تیرنا اور چڑیا کو اڑنا اسی کی تعلیم سے آیا ہے۔ درخت کو پھل پھول دینے اور زمین کو نباتات اگانے کی ہدایت اسی نے دی ہے۔ غرض وہ ساری کائنات اور اس کی ہر چیز کا صرف خالق ہی نہیں، ہادی اور معلم بھی ہے۔
اس بےنظیر جامع و مختصر جملے میں حضرت موسیٰ نے صرف یہی نہیں بتایا کہ ان کا رب کون ہے، بلکہ یہ بھی بتادیا کہ وہ کیوں رب ہے اور کس لیے اس کے سوا کسی اور کو رب نہیں مانا جاسکتا۔ دعوے کے ساتھ اس کی دلیل بھی اسی چھوٹے سے فقرے میں آگئی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب فرعون اور اس کی رعایا کا ہر فرد اپنے وجود خاص کے لیے اللہ کا ممنون احسن ہے، اور جب ان میں سے کوئی ایک لمحہ کے لیے زندہ تک نہیں رہ سکتا جب تک اس کا دل اور اس کے پھیپھڑے اور اس کا معدہ و جگر اللہ کی دی ہوئی ہدایت سے اپنا کام نہ کیے چلے جائیں، تو فرعون کا یہ دعویٰ کہ وہ لوگوں کا رب ہے، اور لوگوں کا یہ ماننا کہ وہ واقعی ان کا رب ہے، ایک حماقت اور ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔
مزید براں، اسی ذرا سے فقرے میں حضرت موسیٰ نے اشارۃً رسالت کی دلیل بھی پیش کردی جس کے ماننے سے فرعون کو انکار تھا۔ ان کی دلیل میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ خدا جو تمام کائنات کا ہادی ہے، اور جو ہر چیز کو اس کی حالت اور ضرورت کے مطابق ہدایت دے رہا ہے، اس کے عالمگیر منصب ہدایت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ انسان کی شعوری زندگی کے لیے بھی رہنمائی کا انتظام کرے۔ اور انسان کی شعوری زندگی کے لیے رہنمائی کی وہ شکل موزوں نہیں ہو سکتی جو مچھلی اور مرغی کی رہنمائی کے لیے موزوں ہے۔ اس کی موزوں ترین شکل یہ ہے کہ ایک ذی شعور انسان اس کی طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہو اور وہ ان کی عقل و شعور کو اپیل کر کے انہیں سیدھا راستہ بتائے۔
Ayah 20:51سورة طٰهٰ 24
یعنی اگر بات یہی ہے کہ جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی اور زندگی میں کام کرنے کا راستہ بتایا اس کے سوا کوئی دوسرا رب نہیں ہے، تو یہ ہم سب کے باپ دادا جو صدہا برس سے نسل در نسل دوسرے ارباب کی بندگی کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کی تمہارے نزدیک کیا پوزیشن ہے ؟ کیا وہ سب گمراہ تھے ؟ کیا وہ سب عذاب کے مستحق تھے ؟ کیا ان سب کی عقلیں ماری گئی تھیں ؟ یہ تھا فرعون کے پاس حضرت موسیٰ کی اس دلیل کا جواب۔ ہوسکتا ہے کہ یہ جواب اس نے بر بنائے جہالت دیا ہو اور ہوسکتا ہے کہ بربنائے شرارت۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں دونوں باتیں شامل ہوں، یعنی وہ خود بھی اس بات پر جھلا گیا ہو کہ اس مذہب سے ہمارے تمام بزرگوں کی گمراہی لازم آتی ہے، اور ساتھ ساتھ اس کا مقصد یہ بھی ہو کہ اپنے اہل دربار اور عام اہل مصر کے دلوں میں حضرت موسیٰ کی دعوت کے خلاف ایک تعصب بھڑکا دے۔ اہل حق کی تبلیغ کے خلاف یہ ہتھکنڈا ہمیشہ استعمال کیا جاتا رہا ہے اور جاہلوں کو مشتعل کرنے کے لیے بڑا مؤثر ثابت ہوا ہے۔ خصوصاً اس زمانہ میں جبکہ قرآن کی یہ آیات نازل ہوئی ہیں، مکہ میں نبی ﷺ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے سب سے زیادہ اسی ہتھکنڈے سے کام لیا جا رہا تھا، اس لیے حضرت موسیٰ کے مقابلے میں فرعون کی اس مکاری کا ذکر یہاں بالکل بر محل تھا۔
Ayah 20:52سورة طٰهٰ 25
یہ ایک نہایت ہی حکیمانہ جواب ہے جو حضرت موسیٰ نے اس وقت دیا اور اس سے حکمت تبلیغ کا ایک بہترین سبق حاصل ہوتا ہے۔ فرعون کا مقصد، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، سامعین کے، اور ان کے توسط سے پوری قوم کے دلوں میں تعصب کی آگ بھڑکانا تھا۔ اگر حضرت موسیٰ کہتے کہ ہاں وہ سب جاہل اور گمراہ تھے اور سب کے سب جہنم کا ایندھن بنیں گے تو چاہے یہ حق گوئی کا بڑا زبردست نمونہ ہوتا، مگر یہ جواب حضرت موسیٰ کے بجائے فرعون کے مقصد کی زیادہ خدمت انجام دیتا۔ اس لیے آنجناب نے کمال دانائی کے ساتھ ایسا جواب دیا جو بجائے خود حق بھی تھا، اور ساتھ ساتھ اس نے فرعون کے زہریلے دانت بھی توڑ دیے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ جیسے کچھ بھی تھے، اپنا کام کر کے خدا کے ہاں جا چکے ہیں۔ میرے پاس ان کے اعمال اور ان کی نیتوں کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ ان کے بارے میں کوئی حکم لگاؤں۔ ان کا پورا ریکارڈ اللہ کے پاس محفوظ ہے۔ ان کی ایک ایک حرکت اور اس کے محرکات کو خدا جانتا ہے۔ نہ خدا کی نگاہ سے کوئی چیز بچی رہ گئی ہے اور نہ اس کے حافظہ سے کوئی شے محو ہوئی ہے۔ ان سے جو کچھ بھی معاملہ خدا کو کرنا ہے اس کو وہی جانتا ہے۔ مجھے اور تمہیں یہ فکر نہیں ہونی چاہیے کہ ان کا موقف کیا تھا اور ان کا انجام کیا ہوگا۔ ہمیں تو اس کی فکر ہونی چاہیے کہ ہمارا موقف کیا ہے اور ہمیں کس انجام سے دو چار ہونا ہے۔
Ayah 20:53سورة طٰهٰ 26
انداز کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کا جواب " نہ بھولتا ہے " پر ختم ہوگیا، اور یہاں سے آخر پیرا گراف تک کی پوری عبارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور شرح و تذکیر ارشاد ہوئی ہے۔ قرآن میں اس طرح کی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ کسی گزرے ہوئے یا آئندہ پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتے ہوئے جب کسی شخص کا کوئی قول نقل کیا جاتا ہے، تو اس کے بعد متصلاً چند فقرے وعظ و بند، یا شرح و تفسیر، یا تفصیل و توضیح کے طور پر مزید ارشاد فرمائے جاتے ہیں اور صرف انداز کلام سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ اس شخص کا قول نہیں ہے جس کا پہلے ذکر ہو رہا تھا، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا اپنا قول ہے۔
واضح رہے کہ اس عبارت کا تعلق صرف قریب کے فقرے " میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے " سے ہی نہیں ہے بلکہ حضرت موسیٰ کے پورے کلام سے ہے جو رَبُّنَا الَّذِئٓ اَعْطٰی کُلَّ شَئءٍ سے شروع ہوا ہے۔
Ayah 20:54سورة طٰهٰ 27
یعنی جو لوگ عقل سلیم سے کام لے کر جستجوئے حق کرنا چاہتے ہوں وہ ان نشانات کی مدد سے منزل حقیقت تک پہنچنے کا راستہ معلوم کرسکتے ہیں۔ یہ نشانات ان کو بتادیں گے کہ اس کائنات کا ایک رب ہے اور ربوبیت ساری کی ساری اسی کی ہے۔ کسی دوسرے رب کے لیے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 20:55سورة طٰهٰ 28
یعنی ہر انسان کو لازماً تین مرحلوں سے گزرنا ہے۔ ایک مرحلہ موجودہ دنیا میں پیدائش سے لے کر موت کا۔ دوسرا مرحلہ موت سے قیامت تک کا۔ اور تیسرا قیامت کے روز دوبارہ زندہ ہونے کے بعد کا مرحلہ۔ یہ تینوں مرحلے اس آیت کی رو سے اسی زمین پر گزرنے والے ہیں۔
Ayah 20:56سورة طٰهٰ 29
یعنی آفاق و اَنفُس کے دلائل کی نشانیاں بھی، اور وہ معجزات بھی جو حضرت موسیٰ کو دیے گئے تھے۔ قرآن میں متعدد مقامات پر حضرت موسیٰ کی وہ تقریریں بھی موجود ہیں جو انہوں نے فرعون کو سمجھانے کے لیے کیں۔ اور وہ معجزات بھی مذکور ہیں جو اس کے پے در پے دکھائے گئے۔
Ayah 20:57سورة طٰهٰ 30
جادو سے مراد عصا اور ید بیضا کا معجزہ ہے جو سورة اعراف اور سورة شعراء کی تفصیلات کے موجب حضرت موسیٰ نے پہلی ہی ملاقات کے وقت بھرے دربار میں پیش کیا تھا۔ اس معجزے کو دیکھ کر فرعون پر جو بد حواسی طاری ہوئی اس کا اندازہ اس کے اسی فقرے سے کیا جاسکتا ہے کہ ’ تو اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے "۔ دنیا کی تاریخ میں نہ پہلے کبھی یہ واقعہ پیش آیا تھا اور نہ بعد میں کبھی پیش آیا کہ کسی جادوگر نے اپنے جادو کے زور سے کوئی ملک فتح کرلیا ہو۔ فرعون کے اپنے ملک میں سینکڑوں ہزاروں جادوگر موجود تھے جو تماشے دکھا دکھا کر انعام کے لیے ہاتھ پھیلاتے پھرتے تھے۔ اس لیے فرعون کا ایک طرف یہ کہنا کہ تو جادوگر ہے، اور دوسری طرف یہ خطرہ ظاہر کرنا کہ تو میری سلطنت چھین لینا چاہتا ہے، کھلی ہوئی بد حواسی کی علامت ہے، دراصل وہ حضرت موسیٰ کی معقول و مدلل تقریر، اور پھر ان کے معجزے کو دیکھ کر یہ سمجھ گیا تھا کہ نہ صرف اس کے اہل دربار، بلکہ اس کی رعایا کے بھی عوام و خواص اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں گے۔ اس لیے اس نے جھوٹ اور فریب اور تعصبات کی انگیخت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کردی۔ اس نے کہا یہ معجزہ نہیں جادو ہے اور ہماری سلطنت کا ہر جادوگر اسی طرح لاٹھی کو سانپ بنا کر دکھا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ذرا دیکھو، یہ تمہارے باپ دادا کو گمراہ اور جہنمی ٹھہراتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ہوشیار ہوجاؤ، یہ پیغمبر ویغمبر کچھ نہیں ہے، اقتدار کا بھوکا ہے، چاہتا ہے کہ یوسف کے زمانے کی طرح پھر بنی اسرائیل یہاں حکمراں ہوجائیں اور قبطی قوم سے سلطنت چھین لی جائے۔ ان ہتھکنڈوں سے وہ دعوت حق کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔ (مزید تشریحات کے لیے تفہیم القرآن، جلد دوم کے حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں، الاعراف حواشی 87، 88، 89۔ یونس، حاشیہ 75۔ اس مقام پر یہ بات بھی نگاہ میں رہنی چاہیے کہ ہر زمانے میں برسر اقتدار لوگوں نے داعیان حق کو یہی الزام دیا ہے کہ وہ دراصل اقتدار کے بھوکے ہیں اور ساری باتیں اسی مقصد کے لیے کر رہے ہیں۔ اس کی مثالوں کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، آیت 110، 123۔ یونس، آیت 78۔ المومنون، آیت 24۔
Ayahs 20:58–59سورة طٰهٰ 31
فرعون کا مدعا یہ تھا کہ ایک دفعہ جادوگروں سے لاٹھیوں اور رسیوں کا سانپ بنوا کر دکھا دوں تو موسیٰ ؑ کے معجزے کا جو اثر لوگوں کے دلوں پر ہوا ہے وہ دور ہوجائے گا۔ یہ حضرت موسیٰ کی منہ مانگی مراد تھی۔ انہوں نے فرمایا کہ الگ کوئی دن اور جگہ مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ جشن کا دن قریب ہے، جس میں تمام ملک کے لوگ دار السلطنت میں کھنچ کر آجاتے ہیں۔ وہیں میلے کے میدان میں مقابلہ ہوجائے تاکہ ساری قوم دیکھ لے۔ اور وقت بھی دن کی پوری روشنی کا ہونا چاہیے تاکہ شک و شبہ کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے۔
Ayah 20:60سورة طٰهٰ 32
فرعون اور اس کے درباریوں کی نگاہ میں اس مقابلے کی اہمیت یہ تھی کہ وہ اسی کے فیصلے پر اپنی قسمت کا فیصلہ معلق سمجھ رہے تھے۔ تمام ملک میں آدمی دوڑا دیے گئے کہ جہاں جہاں کوئی ماہر جادوگر موجود ہو اسے لے آئیں۔ اسی طرح عوام کو بھی جمع کرنے کی خاص طور پر ترغیب دی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اکٹھے ہوں اور اپنی آنکھوں سے جادو کے کمالات دیکھ کر عصائے موسیٰ کے رعب سے محفوظ ہوجائیں۔ کھلم کھلا کہا جانے لگا کہ ہمارے دین کا انحصار اب جادوگروں کے کرتب پر ہے۔ وہ جیتیں تو ہمارا دین بچے گا، ورنہ موسیٰ کا دین چھا کر رہے گا (ملاحظہ ہو سورة ہو سورة شعراء رکوع 3)۔
اس مقام پر یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مصر کے شاہی خاندان اور طبقۂ امراء کا مذہب عوام کے مذہب سے کافی مختلف تھا۔ دونوں کے دیوتا اور مندر الگ الگ تھے، مذہبی مراسم بھی یکساں نہ تھے، اور زندگی بعد موت کے معاملہ میں بھی، جس کو مصر میں بہت بڑی اہمیت حاصل تھی، دونوں کے عملی طریقے اور نظری انجام میں بہت بڑا امتیاز پایا جاتا تھا (ملاحظہ ہو Toynbee کی ؒ Study of History صفحہ 31۔ 32)۔ علاوہ بریں مصر میں اس سے پہلے جو مذہبی انقلابات رونما ہوئے تھے ان کی بدولت وہاں کی آبادی میں متعدد ایسے عناصر پیدا ہوچکے تھے جو ایک مشرکانہ مذہب کی بہ نوبت ایک توحیدی مذہب کو ترجیح دیتے تھے یا دے سکتے تھے۔ مثلاً خود بنی اسرائیل اور ان کے ہم مذہب لوگ آبادی کا کم از کم دس فی صدی حصہ تھے۔ اس کے علاوہ اس مذہبی انقلاب کو ابھی پورے ڈیڑھ سو برس بھی نہ گزرے تھے جو فرعون ا میں وفس یا اخناتون (1377 ق م 1360 ق م) نے حکومت کے زور سے برپا کیا تھا، جس میں تمام معبودوں کو ختم کر کے صرف ایک معبود آتون باقی رکھا گیا تھا۔ اگرچہ اس انقلاب کو بعد میں حکومت ہی کے زور سے الٹ دیا گیا، مگر کچھ نہ کچھ تو اپنے اثرات وہ بھی چھوڑ گیا تھا۔ ان حالات کو نگاہ میں رکھا جائے تو فرعون کی وہ گھبراہٹ اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے جو اس موقع پر اسے لاحق تھی۔
Ayah 20:61سورة طٰهٰ 33
یہ خطاب عوام سے نہ تھا جنہیں ابھی حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا وہ معجزہ دکھاتے ہیں یا جادو، بلکہ خطاب فرعون اور اس کے درباریوں سے تھا جو انہیں جادوگر قرار دے رہے تھے۔
سورة طٰهٰ 34
یعنی اس کے معجزے کو جادو اور اس کے پیغمبر کو ساحر کذاب نہ قرار دو۔
Ayah 20:62سورة طٰهٰ 35
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دلوں میں اپنی کمزوری کو خود محسوس کر رہے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ نے جو کچھ دکھایا ہے وہ جادو نہیں ہے۔ وہ پہلے ہی سے اس مقابلے میں ڈرتے اور ہچکچاتے ہوئے آئے تھے، اور جب عین موقع پر حضرت موسیٰ نے ان کو للکار کر متنبہ کیا تو ان کا عزم یکایک متزلزل ہوگیا۔ ان کا اختلاف رائے اس امر میں ہوا ہوگا کہ آیا اس بڑے تہوار کے موقع پر، جبکہ پورے ملک سے آئے ہوئے آدمی اکٹھے ہیں، کھلے میدان اور دن کی پوری روشنی میں یہ مقابلہ کرنا ٹھیک ہے یا نہیں۔ اگر یہاں ہم شکست کھا گئے اور سب کے سامنے جادو اور معجزے کا فرق کھل گیا تو پھر بات سنبھالے نہ سنبھل سکے گی۔
Ayah 20:63سورة طٰهٰ 36
اور یہ کہنے والے لازماً فرعونی پارٹی کے وہ سر پھرے لوگ ہوں گے جو حضرت موسیٰ کی مخالفت میں ہر بازی کھیل جانے پر تیار تھے۔ جہاندیدہ اور معاملہ فہم لوگ قدم آگے بڑھاتے ہوئے جھجک رہے ہوں گے۔ اور یہ سر پھرے جوشیلے لوگ کہتے ہوں گے کہ خواہ مخواہ کی دور اندیشیاں چھوڑ دو اور جی کڑا کر کے مقابلہ کر ڈالو۔
سورة طٰهٰ 37
یعنی ان لوگوں کا دار و مدار دو باتوں پر تھا۔ ایک یہ کہ اگر جادوگر بھی موسیٰ کی طرح لاٹھیوں سے سانپ بنا کر دکھا دیں گے تو موسیٰ کا جادوگر ہونا مجمع عام میں ثابت ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ وہ تعصبات کی آگ بھڑکا کر حکمران طبقے کو اندھا جوش دلانا چاہتے تھے اور یہ خوف انہیں دلا رہے تھے کہ موسیٰ کا غالب آجانا تمہارے ہاتھوں سے ملک نکل جانے اور تمہارے مثالی (Ideal) طریق زندگی کے ختم ہوجانے کا ہم معنی ہے۔ وہ ملک کے با اثر طبقے کو ڈرا رہے تھے کہ اگر موسیٰ کے ہاتھ اقتدار آ گیا تو یہ تمہاری ثقافت، اور یہ تمہارے آرٹ، اور یہ تمہارا حسین و جمیل تمدن، اور یہ تمہاری تفریحات، اور یہ تمہاری خواتین کی آزادیاں (جن کے شاندار نمونے حضرت یوسف کے زمانے کی خواتین پیش کرچکی تھیں) غرض وہ سب کچھ جو کے بغیر زندگی کا کوئی مزہ نہیں، غارت ہو کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد تو نری " ملائیت " کا دور دورہ ہوگا جسے برداشت کرنے سے مر جانا بہتر ہے۔
Ayah 20:64سورة طٰهٰ 38
یعنی ان کے مقابلے میں متحدہ محاذ پیش کرو۔ اگر اس وقت تمہارے درمیان آپس ہی میں پھوٹ پڑگئی اور عین مقابلے کے وقت مجمع عام کے سامنے یہ ہچکچاہٹ اور سرگوشیاں ہونے لگیں تو ابھی ہوا اکھڑ جائے گی اور لوگ سمجھ لیں گے کہ تم خود اپنے حق پر ہونے کا یقین نہیں رکھتے، بلکہ دلوں میں چور لیے ہوئے مقابلے پر آئے ہو۔
Ayah 20:65سورة طٰهٰ 39
بیچ کی یہ تفصیل چھوڑ دی گئی کہ اس پر فرعون کی صفوں میں اعتماد بحال ہوگیا اور مقابلہ شروع کرنے کا فیصلہ کر کے جادوگروں کو احکام دے دیے گئے کہ میدان میں اتر آئیں۔
Ayah 20:66سورة طٰهٰ 40
سورۂ اعراف میں بیان ہوا تھا کہ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُؤٓا اَعَیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ ، " جب انہوں نے اپنے انچھر پھینکے تو لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کردیا اور انہیں دہشت زدہ کردیا " (آیت 116)۔ یہاں بتایا جا رہا ہے کہ یہ اثر صرف عام لوگوں پر ہی نہیں ہوا تھا، خود حضرت موسیٰ بھی سحر کے اثر سے متاثر ہوگئے تھے۔ ان کی صرف آنکھوں ہی نے یہ محسوس نہیں کیا بلکہ ان کے خیال پر بھی یہ اثر پڑا کہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر دوڑ رہی ہیں۔
Ayah 20:67سورة طٰهٰ 41
معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جونہی حضرت موسیٰ ؑ کی زبان سے " پھینکو " کا لفظ نکلا، جادوگروں نے یکبارگی اپنی لاٹھیاں اور رسیاں ان کی طرف پھینک دیں اور اچانک ان کو یہ نظر آیا کہ سینکڑوں سانپ دوڑتے ہوئے ان کی طرف چلے آ رہے ہیں۔ اس منظر سے فوری طور پر اگر حضرت موسیٰ نے ایک دہشت اپنے اندر محسوس کی ہو تو یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ انسان بہرحال انسان ہی ہوتا ہے۔ خواہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، انسانیت کے تقاضے اس سے منفک نہیں ہو سکتے۔ علاوہ بریں یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت حضرت موسیٰ کو یہ خوف لاحق ہوا ہو کہ معجزے سے اس قدر مشابہ منظر دیکھ کر عوام ضرور فتنے میں پڑجائیں گے۔
اس مقام پر یہ بات لائق ذکر ہے کہ قرآن یہاں اس امر کی تصدیق کر رہا ہے کہ عام انسانوں کی طرح پیغمبر بھی جادو سے متاثر ہوسکتا ہے۔ اگرچہ جادوگر اس کی نبوت سلب کرلینے، یا اس کے اوپر نازل ہونے والی وحی میں خلل ڈال دینے، یا جادو کے اثر سے اس کو گمراہ کردینے کی طاقت نہیں رکھتا، لیکن فی الجملہ کچھ دیر کے لیے اس کے قویٰ پر ایک گونہ اثر ضرور ڈال سکتا ہے۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی غلطی کھل جاتی ہے جو احادیث میں نبی ﷺ پر جادو کا اثر ہونے کی روایات پڑھ کر نہ صرف ان روایات کی تکذیب کرتے ہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر تمام حدیثوں کو ناقابل اعتبار ٹھہرانے لگتے ہیں۔
Ayahs 20:68–69سورة طٰهٰ 42
ہو سکتا ہے کہ معجزے سے جو اژدھا پیدا ہوا تھا وہ ان تمام لاٹھیوں اور رسیوں ہی کو نگل گیا ہو جو سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ لیکن جن الفاظ میں یہاں اور دوسرے مقامات پر قرآن میں اس واقعے کو بیان کیا گیا ہے ان سے بظاہر گمان یہی ہوتا ہے کہ اس نے لاٹیوں اور رسیوں کو نہیں نگلا بلکہ اس جادو کے اثر کو باطل کردیا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ سورة اعراف اور شعراء میں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا یَاْفِکُوْنَ ، " جو جھوٹ وہ بنا رہے تھے اس کو وہ نگلے جا رہا تھا "۔ اور یہاں الفاظ یہ ہیں کہ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْا، " وہ نگل جائے گا اس چیز کو جو انہوں نے بنا رکھی ہے " اب یہ ظاہر ہے کہ ان کا جھوٹ اور ان کی بناوٹ لاٹھیاں اور رسیاں نہ تھیں بلکہ وہ جادو تھا جس کی بدولت وہ سانپ بنی نظر آ رہی تھیں۔ اس لیے ہمارا خیال یہ ہے کہ جدھر جدھر وہ گیا لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل کر اس طرح پیچھے پھینکتا چلا گیا کہ ہر لاٹھی، لاٹھی اور ہر رسی، رسی بن کر پڑی رہ گئی۔
Ayah 20:70سورة طٰهٰ 43
یعنی جب انہوں نے عصائے موسیٰ کا کارنامہ دیکھا تو انہیں فوراً یقین آگیا کہ یہ یقیناً معجزہ ہے، ان کے فن کی چیز ہرگز نہیں ہے، اس لیے وہ اس طرح یکبارگی اور بےساختہ سجدے میں گرے جیسے کسی نے اٹھا اٹھا کر ان کو گرا دیا ہو۔
سورة طٰهٰ 44
اس کے معنی یہ ہیں کہ وہاں سب کو معلوم تھا کہ یہ مقابلہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے۔ پورے مجمع میں کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ تھا کہ مقابلہ موسیٰ اور جادوگروں کے کرتب کا ہو رہا ہے اور فیصلہ اس بات کا ہونا ہے کہ کس کا کرتب زبردست ہے۔ سب یہ جانتے تھے کہ ایک طرف موسیٰ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ ، خالق زمین و آسمان کے پیغمبر کی حیثیت سے پیش کر رہے ہیں، اور اپنی پیغمبری کے ثبوت میں یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا عصا معجزے کے طور پر فی الواقع اژدہا بن جاتا ہے۔ اور دوسری طرف جادوگروں کو برسر عام بلا کر فرعون یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ عصا سے اژدہا بن جانا معجزہ نہیں ہے بلکہ محض جادو کا کرتب ہے۔ بالفاظ دیگر، وہاں فرعون اور جادوگر اور سارے تماشائی عوام و خواص معجزے اور جادو کے فرق سے واقف تھے، اور امتحان اس بات کا ہو رہا تھا کہ موسیٰ جو کچھ دکھا رہے ہیں یہ جادو کی قسم سے ہے یا اس معجزے کی قسم سے جو رب العالمین کی قدرت کے کرشمے کے سوا اور کسی طاقت سے نہیں دکھایا جاسکتا۔ یہ وجہ ہے کہ جادوگروں نے اپنے جادو کو مغلوب ہوتے دیکھ کر یہ نہیں کہا کہ " ہم نے مان لیا، موسیٰ ہم سے زیادہ با کمال ہے "، بلکہ انہیں فوراً یقین آ گیا کہ موسیٰ واقعی اللہ رب العالمین کے سچے پیغمبر ہیں اور وہ پکار اٹھے کہ ہم اس خدا کو مان گئے جس کے پیغمبر کی حیثیت سے موسیٰ اور ہارون آئے ہیں۔
اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ مجمع عام پر اس شکست کے کیا اثرات پڑے ہوں گے، اور پھر پورے ملک پر اس کا کیسا زبردست اثر ہوا ہوگا۔ فرعون نے ملک کے سب سے بڑے مرکزی میلے میں یہ مقابلہ اس امید پر کرایا تھا کہ جب مصر کے ہر گوشے سے آئے ہوئے لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ جائیں گے کہ لاٹھی سے سانپ بنادینا موسیٰ کا کوئی نرالا کمال نہیں ہے، ہر جادوگر یہ کرتب دکھا لیتا ہے، تو موسیٰ کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ لیکن اس کی یہ تدبیر اسی پر الٹ پڑی، اور قریہ قریہ سے آئے ہوئے لوگوں کے سامنے خود جادوگروں ہی نے بالاتفاق اس بات کی تصدیق کردی کہ موسیٰ جو کچھ دکھا رہے ہیں یہ انکے فن کی چیز نہیں ہے، یہ فی الواقع معجزہ ہے جو صرف خدا کا پیغمبر ہی دکھا سکتا ہے۔
Ayah 20:71سورة طٰهٰ 45
سورة اعراف میں الفاظ یہ ہیں اِنَّ ھٰذَا الَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْھَا اَھْلَھَا، " یہ ایک سازش ہے جو تم لوگوں نے دار السلطنت میں ملی بھگت کر کے کی ہے تاکہ سلطنت سے اس کے مالکوں کو بےدخل کردو "۔ یہاں اس قول کی مزید تفصیل یہ دی گئی ہے کہ تمہارے درمیان صرف ملی بھگت ہی نہیں ہے، بلکہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ موسیٰ تمہارا سردار اور گرو ہے، تم نے معجزے سے شکست نہیں کھائی ہے بلکہ اپنے استاد سے جادو میں شکست کھائی ہے، اور تم آپس میں یہ طے کر کے آئے ہو کہ اپنے استاد کا غلبہ ثابت کر کے اور اسے اس کی پیغمبری کا ثبوت بنا کر یہاں سیاسی انقلاب بر پا کردو۔
سورة طٰهٰ 46
یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں۔
سورة طٰهٰ 47
صلیب یا سولی دینے کا قدیم طریقہ یہ تھا کہ ایک لمبا شہتیر سا لیکر زمین میں گاڑ دیتے تھے، یا کسی پرانے درخت کا تنا اس غرض کے لیے استعمال کرتے تھے، اور اس کے اوپر کے سرے پر ایک تختہ آڑا کر کے باندھ دیتے تھے۔ پھر مجرم کو اوپر چڑھا کر اور اس کے دونوں ہاتھ پھیلا کر آڑے تختے کے ساتھ کیلیں ٹھونک دیتے تھے۔ اس طرح مجرم تختے کے بل لٹکا رہ جاتا تھا اور گھنٹوں سسک سسک کر جان دے دیتا تھا۔ صلیب دیے ہوئے یہ مجرم ایک مدت تک یونہی لٹکے رہنے دیے جاتے تھے تاکہ لوگ انہیں دیکھ دیکھ کر سبق حاصل کریں۔
سورة طٰهٰ 48
یہ ہاری ہوئی بازی جیت لینے کے لئے فرعون کا آخری داؤ تھا، وہ چاہتا تھا کہ جادوگروں کو انتہائی خوفناک سزا سے ڈرا کر ان سے یہ اقبال کرالے کہ واقعی یہ ان کی اور موسیٰ ؑ کی ملی بھگت تھی اور وہ ان سے ملکر سلطنت کے خلاف سازش کرچکے تھے۔ مگر جادوگروں کے عزم و استقامت نے اس کا یہ داؤ بھی الٹ دیا، انہوں نے اتنی ہولناک سزا برداشت کرنے کے لئے تیار ہو کر دنیا بھر کو یہ یقین دلا دیا کہ سازش کا الزام محض بگڑی ہوئی بات بنانے کے لئے ایک بےشرمانہ سیاسی چال کے طور پر گھرٓ گیا ہے، اور اصل حقیقت یہی ہے کہ وہ سچے دل سے موسیٰ ؑ کی نبوت پر ایمان لے آئے ہیں۔
Ayah 20:72سورة طٰهٰ 49
دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے " یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم ان روشن نشانیوں کے مقابلے میں جو ہمارے سامنے آ چکی ہیں، اور اس ذات کے مقابلے میں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے، تجھے ترجیح دیں "۔
Ayahs 20:73–74سورة طٰهٰ 50
یہ جادوگروں کے قول پر اللہ تعالیٰ کا اپنا اضافہ ہے۔ انداز کلام خود بتارہا ہے کہ یہ عبارت جادوگروں کے قول کا حصہ نہیں ہے۔
سورة طٰهٰ 51
یعنی موت اور زندگی کے درمیان لٹکتا رہے گا۔ نہ موت آئے گی کہ اس کی تکلیف اور مصیبت کا خاتمہ کر دے۔ اور نہ جینے کا ہی کوئی لطف اسے حاصل ہوگا کہ زندگی کو موت پر ترجیح دے سکے۔ زندگی سے بیزار ہوگا، مگر موت نصیب نہ ہوگی۔ مرنا چاہے گا مگر مر نہ سکے گا۔ قرآن مجید میں دوزخ کے عذابوں کی جتنی تفصیلات دی گئی ہیں ان میں سب سے زیادہ خوفناک صورت عذاب یہی ہے جسکے تصور سے روح کانپ اٹھتی ہے۔
Ayahs 20:75–77سورة طٰهٰ 52
بیچ میں ان حالات کی تفصیل چھوڑ دی گئی ہے جو اس کے بعد مصر کے طویل زمانہ قیام میں پیش آئے۔ ان تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف رکوع 15۔ 16، سورة یونس رکوع 9، سورة مومن رکوع 3 تا 5، اور سورة زخرف رکوع 5۔
سورة طٰهٰ 53
اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخر کار ایک رات مقرر فرما دی جس میں تمام اسرائیلی اور غیر اسرائیلی مسلمانوں کو (جن کے لیے " میرے بندوں ‘’ کا جامع لفظ استعمال کیا گیا ہے) مصر کے ہر حصے سے ہجرت کے لیے نکل پڑنا تھا۔ یہ سب لوگ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو کر ایک قافلے کی صورت میں روانہ ہوگئے۔ اس زمانے میں نہر سویز موجود نہ تھی۔ بحر احمر سے بحر روم (میڈیٹرینین) تک کا پورا علاقہ کھلا ہوا تھا۔ مگر اس علاقے کے تمام راستوں پر فوجی چھاؤنیاں تھیں جن سے بخیریت نہیں گزرا جاسکتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ نے بحر احمر کی طرف جانے والا راستہ اختیار کیا۔ غالباً ان کا خیال یہ تھا کہ سمندر کے کنارے کنارے چل کر جزیرہ نمائے سینا کی طرف نکل جائیں۔ لیکن ادھر سے فرعون ایک لشکر عظیم لے کر تعاقب کرتا ہوا ٹھیک اس موقع پر آپہنچا جبکہ یہ قافلہ ابھی سمندر کے ساحل ہی پر تھا۔ سورة شعراء میں بیان ہوا ہے کہ مہاجرین کا قافلہ لشکر فرعون اور سمندر کے درمیان بالکل گھر چکا تھا۔ عین اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ اِضْرِبْ بِعَصَاکَ الْبَحْرَ ، " اپنا عصا سمندر پر مار " فَاَنْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ، " فوراً سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک بڑے ٹیلے کی طرح کھڑا ہوگیا "۔ اور بیچ میں صرف یہی نہیں کہ قافلے کے گزرنے کے لیے راستہ نکل آیا، بلکہ بیچ کا یہ حصہ، اوپر کی آیت کے مطابق خشک ہو کر سوکھی سڑک کی طرح بن گیا۔ یہ صاف اور صریح معجزے کا بیان ہے اور اس سے ان لوگوں کے بیان کی غلطی واضح ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہوا کے طوفان یا جوار بھاٹے کی وجہ سے سمندر ہٹ گیا تھا۔ اس طرح جو پانی ہٹتا ہے وہ دونوں طرف ٹیلوں کی صورت میں کھڑا نہیں ہوجاتا، اور بیچ کا حصہ سوکھ کر سڑک کی طرح نہیں بن جاتا (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد سوم الشعراء حاشیہ 47)۔