20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 20:114

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہِ حقیقی۔ 90 اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔ 91

سورة طٰهٰ 90 اس طرح کے فقرے قرآن میں بالعموم ایک تقریر کو ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جاتے ہیں، اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ کلام کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر ہو۔ انداز بیان اور سیاق وسباق پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک تقریر ختم ہوگئی ہے اور وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اٰدَمَ۔ سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے۔ اغلب یہ ہے کہ یہ دونوں تقریریں مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہوں گی اور بعد میں نبی ﷺ نے حکم الہٰی کے تحت ان کو ایک سورة میں جمع کردیا ہوگا۔ جمع کرنے کی وجہ دونوں کے مضمون کی مناسبت ہے جس کو ابھی ہم واضح کریں گے۔ سورة طٰهٰ 91 فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ، پر تقریر ختم ہوچکی تھی۔ اس کے بعد رخصت ہوتے ہوئے فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ﷺ کو ایک بات پر خبردار کرتا ہے جو وحی نازل کرنے کے دوران میں اس کے مشاہدے میں آئی۔ بیچ میں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا گیا، اس لیے پیغام کی ترسیل مکمل کرنے کے بعد اب وہ اس کا نوٹس لے رہا ہے۔ بات کیا تھی جس پر یہ تنبیہ کی گئی، اسے خود تنبیہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں۔ نبی ﷺ وحی کا پیغام وصول کرنے کے دوران میں اسے یاد کرنے اور زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے ہوں گے۔ اس کوشش کی وجہ سے آپ کی توجہ بار بار بٹ جاتی ہوگی۔ سلسلۂ اخذ وحی میں خلل واقع ہو رہا ہوگا۔ پیغام کی سماعت پر توجہ پوری طرح مرکوز نہ ہو رہی ہوگی۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ آپ کو پیغام وحی وصول کرنے کا صحیح طریقہ سمجھایا جائے، اور بیچ بیچ میں یاد کرنے کی کوشش جو آپ کرتے ہیں اس سے منع کردیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورة طٰہ کا یہ حصہ ابتدائی زمانے کی وحیوں میں سے ہے۔ ابتدائی زمانہ میں جبکہ نبی ﷺ کو ابھی اخذ وحی کی عادت اچھی طرح نہ پڑی تھی، آپ سے کئی مرتبہ یہ فعل سرزد ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر آپ کو متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سورة قیامہ کے نزول کے موقع پر بھی یہی ہوا تھا اور اس پر سلسلۂ کلام کو توڑ کر آپ کو ٹوگا گیا کہ لَا تُحَرِّکْ بِہ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ وَقُرْاٰنَہ، فَاِذَا قَرَأ نٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ۔ " اسے یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو بار بار حرکت نہ دو ، اسے یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے، لہٰذا جب ہم اسے سنا رہے ہوں تو غور سے سنتے رہو، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے۔ " سورة اعلیٰ میں بھی آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہم اسے پڑھوا دیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں، سَنْقْرئُکَ فَلَا تَنْسٰی۔ بعد میں جب آپ کو پیغامات وحی وصول کرنے کی اچھی مہارت حاصل ہوگئی تو اس طرح کی کیفیات آپ پر طاری ہونی بند ہوگئیں۔ اسی وجہ سے بعد کی سورتوں میں ایسی کوئی تنبیہ ہمیں نہیں ملتی۔
Ayah 20:115

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

92 ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، 93 مگر وہ بھُول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا۔ 94

سورة طٰهٰ 92 جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے، یہاں سے ایک الگ تقریر شروع ہوتی ہے جو اغلباً اوپر والی تقریر کے بعد کسی وقت نازل ہوئی ہے اور مضمون کی مناسبت سے اس کے ساتھ ملا کر ایک ہی سورة میں جمع کردی گئی ہے۔ مضمون کی مناسبتیں متعدد ہیں۔ مثلاً یہ کہ 1) وہ بھولا ہوا سبق جسے قرآن یاد دلا رہا ہے وہی سبق ہے جو نوع انسانی کو اس کی پیدائش کے آغاز میں دیا گیا تھا اور جسے یاد دلاتے رہنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا، اور جسے یاد دلانے کے لیے قرآن سے پہلے بھی بار بار " ذکر " آتے رہے ہیں۔ 2) انسان اس سبق کو بار بار شیطان کے بہکانے سے بھولتا ہے، اور یہ کمزوری وہ آغاز آفرینش سے برابر دکھا رہا ہے۔ سب سے پہلی بھول اس کے اولین ماں باپ کو لاحق ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اس کا سلسلہ برابر جاری ہے، اسی لیے انسان اس کا محتاج ہے کہ اس کو پیہم یاد دہانی کرائی جاتی رہے۔ 3) یہ بات کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا انحصار بالکل اس برتاؤ پر ہے جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس " ذکر " کے ساتھ وہ کرے گا، آغاز آفرینش ہی میں صاف صاف بتادی گئی تھی آج یہ کوئی نئی بات نہیں کہی جا رہی ہے کہ اس کی پیروی کرو گے تو گمراہی و بد بختی سے محفوظ رہو گے ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں مبتلائے مصیبت ہو گے۔ 4) ایک چیز ہے بھول اور عزم کی کمی اور ارادے کی کمزوری جس کی وجہ سے انسان اپنے ازلی دشمن شیطان کے بہکائے میں آجائے اور غلطی کر بیٹھے۔ اس کی معافی ہو سکتی ہے بشرطیکہ انسان غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے رویے کی اصلاح کرلے اور انحراف چھوڑ کر اطاعت کی طرف پلٹ آئے۔ دوسری چیز ہے وہ سرکشی اور سرتابی اور خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے مقابلے میں شیطان کی بندگی جس کا ارتکاب فرعون اور سامری نے کیا۔ اس چیز کے لیے معافی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کا انجام وہی ہے جو فرعون اور سامری نے دیکھا اور یہ انجام ہر وہ شخص دیکھے گا جو اس روش پر چلے گا۔ سورة طٰهٰ 93 آدم ؑ کا قصہ اس سے پہلے سورة بقرہ، سورة اعراف (دو مقامات پر) ، سورة حجر، سورة بنی اسرائیل اور سورة کہف میں گزر چکا ہے۔ یہ ساتواں موقع ہے جبکہ اسے دہرایا جا رہا ہے۔ ہر جگہ سلسلہ بیان سے اس کی مناسبت الگ ہے اور ہر جگہ اسی مناسبت کے لحاظ سے قصے کی تفصیلات مختلف طریقے سے بیان کی گئی ہیں۔ قصے کے جو اجزاء ایک جگہ کے موضوع بحث سے مناسبت رکھتے ہیں وہ اسی جگہ بیان ہوئے ہیں، دوسری جگہ وہ نہ ملیں گے، یا طرز بیان ذرا مختلف ہوگا۔ پورے قصے کو اور اس کی پوری معنویت کو سمجھنے کے لیے ان تمام مقامات پر نگاہ ڈال لینی چاہیے۔ ہم نے ہر جگہ اس کے ربط وتعلق اور اس سے نکلنے والے نتائج کو اپنے حواشی میں بیان کردیا ہے۔ سورة طٰهٰ 94 یعنی اس نے بعد میں اس حکم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ استکبار اور قصدی و ارادی سرکشی کی بنا پر نہ تھا بلکہ غفلت اور بھول میں پڑجانے اور عزم و ارادے کی کمزوری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تھا۔ اس نے حکم کی خلاف ورزی کچھ اس خیال اور نیت کے ساتھ نہیں کی تھی کہ میں خدا کی کیا پروا کرتا ہوں، اس کا حکم ہے تو ہوا کرے، جو کچھ میرا جی چاہے گا کروں گا، خدا کون ہوتا ہے کہ میرے معاملات میں دخل دے۔ اس کے بجائے اس کی نافرمانی کا سبب یہ تھا کہ اس نے ہمارا حکم یاد رکھنے کی کوشش نہ کی، بھول گیا کہ ہم نے اسے کیا سمجھایا تھا، اور اس کے ارادے میں اتنی مضبوطی نہ تھی کہ جب شیطان اسے بہکانے آیا اس وقت وہ ہماری پیشگی تنبیہ اور نصیحت و فہمائش کو (جس کا ذکر ابھی آگے آتا ہے) یاد کرتا اور اس کے دیے ہوئے لالچ کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرتا۔ بعض لوگوں نے " اس نے عزم نہ پایا " کا مطلب یہ لیا ہے کہ " ہم نے اس میں نافرمانی کا عزم نہ پایا "، یعنی اس نے جو کچھ کیا بھولے سے کیا، نافرمانی کے عزم کی بنا پر نہیں کیا۔ لیکن یہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے۔ یہ بات اگر کہنی ہوتی تو لَمْ نَجِدْ لَہ عَزْماً عَلَ الْعِصْیَان کہا جاتا نہ کہ محض لَمْ نَجِدْلَہ عَزْماً۔ آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ فقدان عزم سے مراد اطاعت حکم کے عزم کا فقدان ہے، نہ کہ نافرمانی کے عزم کا فقدان۔ علاوہ بریں اگر موقع و محل اور سیاق وسباق کی مناسبت کو دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ آدم ؑ کی پوزیشن صاف کرنے کے لیے یہ قصہ بیان نہیں کر رہا ہے، بلکہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ بشری کمزوری کیا تھی جس کا صدور ان سے ہوا اور جس کی بدولت صرف وہی نہیں بلکہ ان کی اولاد بھی اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہات کے با وجود اپنے دشمن کے پھندے میں پھنسی اور پھنستی رہی ہے۔ مزید براں، جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر اس آیت کو پڑھے گا اس کے ذہن میں پہلا مفہوم یہی آئے گا کہ " ہم نے اس میں اطاعت امر کا عزم، یا مضبوط ارادہ نہ پایا "۔ دوسرا مفہوم اس کے ذہن میں اس وقت تک نہیں آسکتا جب تک وہ آدم ؑ کی طرف معصیت کی نسبت کو نامناسب سمجھ کر آیت کے کسی اور معنی کی تلاش شروع نہ کر دے۔ یہی رائے علامہ آلوسی نے بھی اس موقع پر اپنی تفسیر میں ظاہر فرمائی ہے۔ وہ کہتے ہیں لکن لا یخفٰی علیک ان ھٰذا التفسیر غیر متبادرٍ ولا کثیر المناسبۃ للمقام، " مگر تم سے یہ بات پوشیدہ نہ ہوگی کہ یہ تفسیر آیت کے الفاظ سن کر فوراً ذہن میں نہیں آتی اور نہ موقع و محل کے ساتھ کچھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے۔ " (ملاحظہ ہو روح المعانی۔ جلد 16۔ صفحہ 243)۔
Ayahs 20:116–117

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

اس پر ہم نے آدمؑ 95 سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے 96 ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے 97 اور تم مصیبت میں پڑ جاو

سورة طٰهٰ 95 یہاں وہ اصل حکم بیان نہیں کیا گیا ہے جو آدم ؑ کو دیا گیا تھا، یعنی یہ کہ " اس خاص درخت کا پھل نہ کھانا "۔ وہ حکم دوسرے مقامات پر قرآن مجید میں بیان ہوچکا ہے۔ اس مقام پر چونکہ بتانے کی اصل چیز صرف یہ ہے کہ انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہ اور فہمائش کے باوجود اپنے جانے بوجھے دشمن کے اغوا سے متاثر ہوجاتا ہے، اور کس طرح اس کی یہی کمزوری اس سے وہ کام کرا لیتی ہے جو اس کے اپنے مفاد کے خلاف ہوتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اصل حکم کا ذکر کرنے کے بجائے یہاں اس فہمائش کا ذکر کیا ہے جو اس حکم کے ساتھ حضرت آدم کو کی گئی تھی۔ سورة طٰهٰ 96 دشمنی کا مظاہرہ اسی وقت ہوچکا تھا۔ آدم اور حوا (علیہما السلام) خود دیکھ چکے تھے کہ ابلیس نے ان کو سجدہ کرنے سے انکار کیا ہے اور صاف صاف یہ کہہ کر کیا ہے کہ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خلقْتَہ مِنْ طِیْنٍ ، " میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے " (اعراف۔ آیت 12۔ ص۔ آیت 76)۔ اَرَاَیْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّ مْتَ عَلَیَّ ، " ذرا دیکھ تو سہی یہ ہے وہ ہستی جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے " ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْناً ، " اب کیا میں اسے سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے ؟ " (بنی اسرائیل۔ آیات 61۔ 62)۔ پھر اتنے ہی پر اس نے اکتفا نہ کیا کہ کھلم کھلا اپنے حسد کا اظہار کردیا، بلکہ اللہ تعالیٰ سے اس نے مہلت بھی مانگی کہ مجھے اپنی فضیلت اور اس کی نااہلی ثابت کرنے کا موقع دیجیے، میں اسے بہکا کر آپ کو دکھا دوں گا کہ کیسا ہے یہ آپ کا خلیفہ۔ اعراف، حجر اور بنی اسرائیل میں اس کا یہ چیلنج گزر چکا ہے اور آگے سورة ’ ص ‘ میں بھی آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا کہ یہ تمہارا دشمن ہے، تو یہ محض ایک امر غیب کی اطلاع نہ تھی، بلکہ ایک ایسی چیز تھی جسے عین برسر موقع دونوں میاں بیوی اپنی آنکھوں دیکھ چکے اور اپنے کانوں سن چکے تھے۔ سورة طٰهٰ 97 اس طرح یہ بھی دونوں کو بتادیا گیا کہ اگر اس کے بہکانے میں آ کر تم نے حکم کی خلاف ورزی کی تو جنت میں نہ رہ سکو گے اور وہ تمام نعمتیں تم سے چھن جائیں گی جو تم کو یہاں حاصل ہیں۔
Ayahs 20:118–119

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھوکے ننگے رہتے ہو

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

نہ پیاس اور دُھوپ تمہیں ستاتی ہے۔“ 98

سورة طٰهٰ 98 یہ تشریح ہے اس مصیبت کی جس میں جنت سے نکلنے کے بعد انسان کو مبتلا ہوجانا تھا۔ اس موقع پر جنت کی بڑی اور اکمل و افضل نعمتوں کا ذکر کرنے کے بجائے اس کی چار بنیادی نعمتوں کا ذکر کیا گیا، یعنی یہ کہ یہاں تمہارے لیے غذا، پانی، لباس اور مسکن کا انتظام سرکاری طور پر کیا جا رہا ہے، تم کو ان میں سے کوئی چیز بھی حاصل کرنے کے لئے محنت اور کوشش نہیں کرنی پڑتی۔ اس سے خود بخود یہ بات آدم و حوا (علیہما السلام) پر واضح ہوگئی کہ اگر وہ شیطان کے بہکائے میں آ کر حکم سرکار کی خلاف ورزی کریں گے تو جنت سے نکل کار انہیں یہاں کی بڑی نعمتیں تو درکنا، یہ بنیادی آسائشیں تک حاصل نہ رہیں گی۔ وہ اپنی بالکل ابتدائی ضروریات تک کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے اور اپنی جان کھپانے پر مجبور ہوجائیں گے۔ چوٹی سے ایڑی تک پسینہ جب تک نہ بہائیں گے ایک وقت کی روٹی تک نہ پاسکیں گے۔ معاش کی فکر ہی ان کی توجہ اور ان کے اوقات اور ان کی قوتوں کا اتنا بڑا حصہ کھینچ لے جائے گی کہ کسی بلند تر مقصد کے لیے کچھ کرنے کی نہ فرصت رہے گی نہ طاقت۔
Ayah 20:120

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا۔ 99 کہنے لگا ”آدم ، بتاوٴں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“ 100

سورة طٰهٰ 99 یہاں قرآن صاف تصریح کرتا ہے کہ آدم و حوا میں سے اصل وہ شخص جس کو شیطان نے وسوسے میں ڈالا آدم ؑ تھے نہ کہ حضرت حوا۔ اگرچہ سورة اعراف کے بیان کے مطابق مخاطب دونوں ہی تھے اور بہکانے میں دونوں ہی آئے، لیکن شیطان کی وسوسہ اندازی کا رخ دراصل حضرت آدم ہی کی طرف تھا۔ اس کے برعکس بائیبل کا بیان یہ ہے کہ سانپ نے پہلے عورت سے بات کی اور پھر عورت نے اپنے شوہر کو بہکا کر درخت کا پھل اسے کھلایا (پیدائش، باب 3)۔ سورة طٰهٰ 100 سورة اعراف میں شیطان کی گفتگو کی مزید تفصیل ہم کو یہ ملتی ہے وَقَالَ مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَہِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ اَوْ تَکُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ ، " اور اس نے کہا کہ تمہارے رب نے تم کو اس درخت سے صرف اس لیے روک دیا ہے کہ کہیں تم دونوں فرشتے نہ ہوجاؤ، یا ہمیشہ جیتے نہ رہو۔ " (آیت 20)۔
Ayah 20:121

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

آخر کار دونوں(میاں بیوی)اُس درخت کا پھل کھاگئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے۔ 101 آدمؑ نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔ 102

سورة طٰهٰ 101 بالفاظ دیگر نافرمانی کا صدور ہوتے ہی وہ آسائشیں ان سے چھین لی گئیں جو سرداری انتظام سے ان کو مہیا کی جاتی تھیں، اور اس کا اولین ظہور لباس چھن جانے کی شکل میں ہوا۔ غذا، پانی اور مسکن سے محرومی کی نوبت تو بعد کو ہی آنی تھی، اس کا پتہ تو بھوک پیاس لگنے پر ہی چل سکتا تھا، اور مکان سے نکالے جانے کی باری بھی بعد ہی میں آسکتی تھی۔ مگر پہلی چیز جس پر نافرمانی کا اثر پڑا وہ سرکاری پوشاک تھی جو اسی وقت اتر والی گئی۔ سورة طٰهٰ 102 یہاں اس بشری کمزوری کی حقیقت کو سمجھ لینا چاہیے جو آدم ؑ سے ظہور میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کو وہ اپنا خالق اور رب جانتے تھے اور دل سے مانتے تھے۔ جنت میں ان کو جو آسائشیں حاصل تھیں ان کا تجربہ انہیں خود ہر وقت ہو رہا تھا۔ شیطان کے حسد اور عداوت کا بھی ان کو براہ راست علم ہوچکا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دینے کے ساتھ ہی بتادیا تھا کہ یہ تمہارا دشمن تمہیں نافرمانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا اور اس کا تمہیں یہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے سامنے چیلنج دے چکا تھا کہ میں اسے بہکاؤں گا اور اس کی بیخ کنی کر کے چھوڑوں گا۔ ان ساری باتوں کے باوجود جب شیطان نے ان کو ناصح مشفق اور خیر خواہ دوست کے بھیس میں آکر ایک بہتر حالت (زندگی جاوداں اور سلطنت لازوال) کا لالچ دلایا تو وہ اس کی تحریص کے مقابلے میں نہ جم سکے اور پھسل گئے، حالانکہ اب بھی خدا پر ان کے عقیدے میں فرق نہ آیا تھا اور اس کے فرمان کے بارے میں ایسا کوئی خیال ان کے ذہن میں نہیں تھا کہ وہ سرے سے واجب الاذعان ہی نہیں ہے۔ بس ایک فوری جذبے نے، جو شیطانی تحریص کے زیر اثر ابھر آیا تھا، ان پر ذہول طاری کردیا اور ضبط نفس کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی وہ طاعت کے مقام بلند سے معصیت کی پستی میں جا گرے۔ یہی وہ " بھول " اور " فقدان عزم " ہے جس کا ذکر قصے کے آغاز میں کیا گیا تھا، اور اسی چیز کا نتیجہ وہ نافرمانی اور بھٹک ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ انسان کی وہ کمزوری ہے جو ابتدائے آفرینش ہی میں اس سے ظاہر ہوئی، اور بعد میں کوئی زمانہ ایسا نہیں گزرا ہے جبکہ یہ کمزوری اس میں نہ پائی گئی ہو۔
Ayah 20:122

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا 103 اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔ 104

سورة طٰهٰ 103 یعنی شیطان کی طرح راندۂ درگاہ نہ کردیا، طاعت کی کوشش میں نا کام ہو کر جہاں وہ گر گئے تھے وہیں انہیں پڑا نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اٹھا کر پھر اپنے پاس بلا لیا اور اپنی خدمت کے لیے چن لیا۔ ایک سلوک وہ ہے جو بالارادہ بغاوت کرنے والے اور اکڑ اور ہیکڑی دکھانے والے نوکر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کا مستحق شیطان تھا اور ہر وہ بندہ ہے جو ڈٹ کر اپنے رب کی نافرمانی کرے اور خم ٹھونک کر اس کے سامنے کھڑا ہوجائے۔ دوسرا سلوک وہ ہے جو اس وفادار بندے کے ساتھ کیا جاتا ہے جو محض " بھول " اور فقدان عزم " کی وجہ سے قصور کر گزرا ہو، اور پھر ہوش آتے ہی اپنے کیے پر شرمندہ ہوجائے۔ یہ سلوک حضرت آدم و حوا سے کیا گیا، کیونکہ اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی وہ پکار اٹھے تھے کہ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَا وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنُ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ، " اے ہمارے پروردگار، ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور اگر تو ہم سے در گزر نہ فرمائے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم بر باد ہوجائیں گے۔ " (اعراف۔ آیت۔ 23)۔ سورة طٰهٰ 104 یعنی صرف معاف ہی نہ کیا، بلکہ آئندہ کے لیے راہ راست بھی بتائی اور اس پر چلنے کا طریقہ بھی سکھایا۔
Ayahs 20:123–124

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میرے”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی 105 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“ 106

سورة طٰهٰ 105 دنیا میں تنگ زندگی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسے تنگ دستی لاحق ہوگی۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں اسے چین نصیب نہ ہوگا۔ کروڑ پتی بھی ہوگا تو بےچین رہے گا۔ ہفت اقلیم کا فرمانروا بھی ہوگا تو بےکلی اور بےاطمینانی سے نجات نہ پائے گا۔ اس کی دنیوی کامیابیاں ہزاروں قسم کی تدبیروں کا نتیجہ ہوں گی جن کی وجہ سے اپنے ضمیر سے لے کر گرد و پیش کے پورے اجتماعی ماحول تک ہر چیز کے ساتھ اس کی پیہم کشمکش جاری رہے گی جو اسے کبھی امن و اطمینان اور سچی مسرت سے بہرہ مند نہ ہونے دے گی۔ سورة طٰهٰ 106 اس جگہ آدم ؑ کا قصہ ختم ہوجاتا ہے۔ یہ قصہ جس طریقے سے یہاں، اور قرآن کے دوسرے مقامات پر بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے میں یہ سمجھا ہوں (واللہ اعلم بالصواب) کہ زمین کی اصل خلافت وہی تھی جو آدم ؑ کو ابتداءً جنت میں دی گئی تھی۔ وہ جنت ممکن ہے کہ آسمانوں میں ہو اور ممکن ہے کہ اسی زمین پر بنائی گئی ہو۔ بہرحال وہاں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ اس شان سے رکھا گیا تھا کہ اس کے کھانے پینے اور لباس و مکان کا سارا انتظام سرکار کے ذمہ تھا اور خدمت گار (فرشتے) اس کے حکم کے تابع تھے۔ اس کو اپنی ذاتی ضروریات کے لیے قطعاً کوئی فکر نہ کرنی پڑتی تھی، تاکہ وہ خلافت کے بزرگ تر اور بلند تر وظائف ادا کرنے کے لیے مستعد ہو سکے۔ مگر اس عہدے پر مستقل تقرر ہونے سے پہلے امتحان لینا ضروری سمجھا گیا تاکہ امیدوار کی صلاحیتوں کا حال کھل جائے اور یہ ظاہر ہوجائے کہ اس کی کمزوریاں کیا ہیں اور خوبیاں کیا۔ چناچہ امتحان لیا گیا اور جو بات کھلی وہ یہ تھی کہ یہ امیدوار تحریص و اطماع کے اثر میں آ کر پھسل جاتا ہے، اطاعت کے عزم پر مضبوطی سے قائم نہیں رہتا، اور اس کے علم پر نسیان غالب آجاتا ہے۔ اس امتحان کے بعد آدم اور ان کی اولاد کو مستقل خلافت پر مامور کرنے کے بجائے آزمائش کے دور میں امیدواروں کے لیے معیشت کا سرکاری انتظام ختم کردیا گیا۔ اب اپنی معاش کا انتظام انہیں خود کرنا ہے۔ البتہ زمین اور اس کی مخلوقات پر ان کے اختیارات برقرار ہیں۔ آزمائش اس بات کی ہے کہ اختیار رکھنے کے باوجود یہ اطاعت کرتے ہیں یا نہیں، اور اگر بھول لاحق ہوتی ہے، یا تحریص و اطماع کے اثر میں آکر پھسلتے ہیں، تو تنبیہ، تذکیر اور تعلیم کا اثر قبول کر کے سنبھلتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اور ان کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے، طاعت کا یا معصیت کا ؟ اس آزمائشی خلافت کے دوران میں ہر ایک کے طرز عمل کا ریکارڈ محفوظ رہے گا۔ اور یوم الحساب میں جو لوگ کامیاب نکلیں گے انہی کو پھر مستقل خلافت، اس دائمی زندگی اور لازوال سلطنت کے ساتھ جس کا لالچ دے کر شیطان نے حکم کی خلاف ورزی کرائی تھی، عطا کی جائے گی۔ اس وقت یہ پوری زمین جنت بنادی جائے گی اور اس کے وارث خدا کے وہ صالح بندے ہوں گے جنہوں نے آزمائشی خلافت میں طاعت پر قائم رہ کر، یا بھول لاحق ہونے کے بعد بالآخر طاعت کی طرف پلٹ کر اپنی اہلیت ثابت کردی ہوگی۔ جنت کی اس زندگی کو جو لوگ محض کھانے پینے اور اینڈنے کی زندگی سمجھتے ہیں ان کا خیال صحیح نہیں ہے۔ وہاں پیہم ترقی ہوگی بغیر اس کے کہ اس کے لیے کسی تنزل کا خطرہ ہو۔ اور وہاں خلافت الہٰی کے عظیم الشان کام انسان انجام دے گا بغیر اس کے کہ اسے پھر کسی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے۔ مگر ان ترقیات اور ان خدمات کا تصور کرنا ہمارے لیے اتنا ہی مشکل ہے جتنا ایک بچے کے لیے یہ تصور کرنا مشکل ہوتا ہے کہ بڑا ہو کر جب وہ شادی کرے گا تو ازدواجی زندگی کی کیفیات کیا ہوں گی اسی لیے قرآن میں جنت کی زندگی کے صرف انہی لذائذ کا ذکر کیا گیا ہے جن کا ہم اس دنیا کی لذتوں پر قیاس کر کے کچھ اندازہ کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ آدم و حوا کا قصہ جس طرح بائیبل میں بیان ہوا ہے اسے بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے۔ بائیبل کا بیان ہے کہ " خدا نے زمین کی مٹی سے انسان کو بنایا اور اس کے نتھنوں میں زندگی کا دم پھونکا تو انسان جیتی جان ہوا۔ اور خداوند خدا نے مشرق کی طرف عدن میں ایک باغ لگایا اور انسان کو جسے اس نے بنایا تھا وہاں رکھا۔ " اور باغ کے بیچ میں حیات کا درخت اور نیک و بد کی پہچان کا درخت بھی لگایا "۔ " اور خداوند خدا نے آدم کو حکم دیا اور کہا کہ تو باغ کے ہر درخت کا پھل بےروک ٹوک کھا سکتا ہے لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا۔ کیونکہ جس روز تو نے اس میں سے کھایا تو مرا "۔ " اور خداوند خدا اس پسلی سے جو اس نے آدم میں سے نکالی تھی ایک عورت بنا کر اسے آدم کے پاس لایا " ،۔ " اور آدم اور اس کی بیوی دونوں ننگے تھے اور شرماتے نہ تھے۔ " اور " سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا، چالاک تھا، اور اس نے عورت سے کہا کیا واقعی خدا نے کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا " ؟ " سانپ نے عورت سے کہا کہ تم ہرگز نہ رکو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جس دن تم اسے کھاؤ گے تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خدا کی مانند نیک و بد کے جاننے والے بن جاؤ گے "۔ چناچہ عورت نے اس کا پھل لے کر کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھلایا "۔ تب دونوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو معلوم ہوا کہ وہ ننگے ہیں اور انہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لیے لنگیاں بنائیں۔ اور انہوں نے خداوند خدا کی آواز، جو ٹھنڈے وقت باغ میں پھرتا تھا، سنی اور آدم اور اس کی بیوی نے اپنے آپ کو خداوند خدا کے حضور سے باغ کے درختوں میں چھپایا "۔ پھر خدا نے آدم کو پکارا کہ تو کہاں ہے۔ اس نے کہا کہ میں تیری آواز سن کر ڈرا اور چھپ گیا کیونکہ میں ننگا تھا۔ خدا نے کہا ارے، تجھ کو یہ کیسے معلوم ہوگیا کہ تو ننگا ہے۔ ضرور تو نے اس درخت کا پھل کھایا ہوگا جس سے میں نے منع کیا تھا۔ آدم نے کہا کہ مجھے حوا نے اس کا پھل کھلایا، اور حوا نے کہا مجھے سانپ نے بہکایا تھا۔ اس پر خدا نے سانپ سے کہا " اس لیے کہ تو نے یہ کیا تو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا۔ تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک چاٹے گا اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تو اس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ " اور عورت کو یہ سزا دی کہ " میں تیرے درد حمل کو بہت بڑھاؤں گا، تو درد کے ساتھ بچہ جنے گی اور تیری رغبت اپنے شوہر کی طرف ہوگی اور وہ تجھ پر حکومت کرے گا "۔ اور آدم کے بارے میں یہ فیصلہ صادر کیا کہ چونکہ تو نے اپنی بیوی کی بات مانی اور میرے حکم کے خلاف کیا " اس لیے زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی، مشقت کے ساتھ تو اپنی عمر بھر اس کی پیداوار کھائے گا .......... تو اپنے منہ کے پسینے کی روٹی کھائے گا۔ " پھر " خداوند نے آدم اور اس کی بیوی کے واسطے چمڑے کے کرتے بنا کر ان کو پہنائے "۔ " اور خداوند خدا نے کہا دیکھو انسان نیک و بد کی پہچان میں ہم میں سے ایک کی مانند ہوگیا۔ اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔ اس لیے خداوند خدا نے اس کو باغ عدن سے باہر کردیا " (پیدائش، باب 2۔ آیات 7۔ 25۔ باب 3۔ آیات 1۔ 23)۔ بائیبل کے اس بیان اور قرآن کے بیان کو ذرا وہ لوگ بالمقابل رکھ کر دیکھیں جو یہ کہتے ہوئے نہیں شرماتے کہ قرآن میں یہ قصے بنی اسرائیل سے نقل کرلیے گئے ہیں۔
Ayahs 20:125–126

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا "پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟"

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ فرمائے گا”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔“ 107

سورة طٰهٰ 107 قیامت کے روز نئی زندگی کے آغاز سے لے کر جہنم میں داخل ہونے تک جو مختلف کیفیات مجرمین پر گزریں گی ان کو قرآن مجید میں مختلف مواقع پر جدا جدا بیان کیا گیا ہے۔ ایک کیفیت یہ ہے لَقَدْ کُنْتَ فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ھٰذَا فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ، " تو اس چیز سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تیرے آگے سے پردہ ہٹا دیا ہے، آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔ " یعنی تجھے خوب نظر آ رہا ہے۔ (ق۔ آیت 22)۔ دوسری کیفیت یہ ہے اِنَّمَا یُؤَخِّرُھُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الْاَبْصَارُ مُھْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُؤسِھِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْہِمْ طَرْفُھُمْ وَاَفْئِدَتُھُمْ ھَوَ آء، " اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل ہیں کہ اڑے جاتے ہیں " (ابراہیم۔ آیت 43)۔ تیسری کیفیت یہ ہے وَنُخْرِجُ لَہ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتَاباً یَّلْقٰہُ مَنْشُوْراً ہ اِقْرأ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْباً ہ " اور قیامت کے روز ہم اس کے لیے ایک نوشتہ نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب پائے گا۔ پڑھ اپنا نامۂ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے " (بنی اسرائیل۔ آیات 13۔ 14)۔ انہی کیفیات میں سے ایک یہ بھی ہے جو آیت زیر بحث میں بیان ہوئی ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ خدا کی قدرت سے یہ لوگ آخرت کے ہولناک مناظر اور اپنی شامت اعمال کے نتائج کو تو خوب دیکھیں گے، لیکن بس ان کی بینائی یہی کچھ دیکھنے کے لیے ہوگی۔ باقی دوسری حیثیتوں سے انکا حال اندھے کا سا ہوگا جسے اپنا راستہ نظر نہ آتا ہو، جو نہ لاٹھی رکھتا ہو کہ ٹٹول کر چل سکے نہ کوئی اس کا ہاتھ پکڑ کے چلانے والا ہو، قدم قدم پر ٹھوکریں کھا رہا ہو، اور اس کو کچھ نہ سوجھتا ہو کہ کدھر جائے اور اپنی ضروریات کہاں سے پوری کرے۔ اسی کیفیت کو ان الفاظ میں ادا کیا گیا ہے کہ " جس طرح تو نے ہماری آیات کو بھلا دیا تھا اسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے " یعنی آج کوئی پروا نہ کی جائے گی کہ تو کہاں کہاں ٹھوکریں کھا کر گرتا ہے اور کیسی کیسی محرومیاں برداشت کر رہا ہے۔ کوئی تیرا ہاتھ نہ پکڑے گا، کوئی تیری حاجتیں پوری نہ کرے گا، اور تیری کچھ بھی خبر گیری نہ کی جائے گی۔
Ayah 20:127

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں ، 108 اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے

سورة طٰهٰ 108 اشارہ ہے اس " تنگ زندگی " کی طرف جو اللہ کے " ذکر " یعنی اس کی کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے درس نصیحت سے منہ موڑنے والوں کو دنیا میں بسر کرائی جاتی ہے۔
Ayah 20:128

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

پھر کیا اِن لوگوں کو 109 (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (بربادشدہ)بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ درحقیقت اِس میں 110 بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کےلیےجو عقلِ سلیم رکھنے والے ہیں

سورة طٰهٰ 109 اشارہ ہے اہل مکہ کی طرف جو اس وقت مخاطب تھے۔ سورة طٰهٰ 110 یعنی تاریخ کے اس سبق میں، آثار قدیمہ کے اس مشاہدے میں، نسل انسانی کے اس تجربے میں۔
Ayahs 20:129–130

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، 111 شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔ 112

سورة طٰهٰ 111 یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ ان کو ابھی ہلاک نہیں کرنا چاہتا، اور ان کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر کرچکا ہے، اس لیے اس کی دی ہوئی اس مہلت کے دوران میں یہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ کریں اس کو تمہیں برداشت کرنا ہوگا اور صبر کے ساتھ ان کی تمام تلخ و ترش باتیں سنتے ہوئے اپنا فریضۂ تبلیغ و تذکیر انجام دینا پڑے گا۔ اس تحمل و برداشت اور اس صبر کی طاقت تمہیں نماز سے ملے گی جس کو تمہیں ان اوقات میں پابندی کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔ " رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح " کرنے سے مراد نماز ہے، جیسا کہ آگے چل کر خود فرما دیا وَأمُرْ اَھْلَکَ بَالصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْھَا، " اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ " نماز کے اوقات کی طرف یہاں بھی صاف اشارہ کردیا گیا ہے۔ سورج نکلنے سے پہلے فجر کی نماز۔ سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز۔ اور رات کے اوقات میں عشا اور تہجد کی نماز۔ رہے دن کے کنارے، تو وہ تین ہی ہو سکتے ہیں۔ ایک کنارہ صبح ہے، دوسرا کنارہ زوال آفتاب، اور تیسرا کنارہ شام۔ لہٰذا دن کے کناروں سے مراد فجر، ظہر اور مغرب کی نماز ہی ہو سکتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم۔ ہود، حاشیہ 113۔ بنی اسرائیل، حاشیہ 91 تا 97، جلد سوم، الروم حاشیہ 24۔ جلد چہارم، المومن۔ حاشیہ 74۔ سورة طٰهٰ 112 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں اور غالباً دونوں ہی مراد بھی ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنی موجودہ حالت پر راضی ہوجاؤ جس میں اپنے مشن کی خاطر تمہیں طرح طرح کی ناگوار باتیں سہنی پڑ رہی ہیں، اور اللہ کے اس فیصلے پر راضی ہوجاؤ کہ تم پر ناحق ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں کو بھی سزا نہیں دی جائے گی، وہ داعی حق کو ستاتے بھی رہیں گے اور زمین میں دندناتے بھی پھریں گے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم ذرا یہ کام کر کے تو دیکھو، اس کا نتیجہ وہ کچھ سامنے آئے گا جس سے تمہارا دل خوش ہوجائے گا۔ یہ دوسرا مطلب قرآن میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ادا کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں نماز کا حکم دینے کے بعد فرمایا عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَاماً مَّحْموْداً ، " توقع ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر پہنچا دے گا " آیت 79۔ اور سورة ضحٰی میں فرمایا وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلیٰ ہ وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی، " تمہارے لیے بعد کا دور یقیناً پہلے دور سے بہتر ہے، اور عنقریب تمہارا رب تمہیں اتنا کچھ دے گا کہ تم خوش ہوجاؤ گے "۔
Ayah 20:131

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال 113 ہی بہتر اور پائندہ تر ہے

سورة طٰهٰ 113 رزق کا ترجمہ ہم نے " رزق حلال " کیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی حرام مال کو " رزق رب " سے تعبیر نہیں فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارا اور تمہارے ساتھی اہل ایمان کا یہ کام نہیں ہے کہ یہ فسّاق و فجّار ناجائز طریقوں سے دولت سمیٹ سمیٹ کر اپنی زندگی میں جو ظاہر چمک دمک پیدا کرلیتے ہیں، اس کو رشک کی نگاہ سے دیکھو۔ یہ دولت اور یہ شان و شوکت تمہارے لیے ہرگز قابل رشک نہیں ہے۔ جو پاک رزق تم اپنی محنت سے کماتے ہو وہ خواہ کتنا ہی تھوڑا ہو، راستباز اور ایماندار آدمیوں کے لیے وہی بہتر ہے اور اسی میں وہ بھلائی ہے جو دنیا سے آخرت تک برقرار رہنے والی ہے۔
Ayah 20:132

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو 114 اور خود بھی اُس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ 115

سورة طٰهٰ 114 یعنی تمہارے بال بچے بھی اپنی تنگ دستی و خستہ حالی کے مقابلہ میں ان حرام خوروں کے عیش و عشرت کو دیکھ کر دل شکستہ نہ ہوں۔ ان کو تلقین کرو کہ نماز پڑھیں۔ یہ چیز ان کے زاویۂ نظر کو بدل دے گی۔ ان کے معیار قدر کو بدل دے گی۔ ان کی توجہات کا مرکز بدل دے گی۔ وہ پاک رزق پر صابر و قانع ہوجائیں گے اور اس بھلائی کو جو ایمان وتقویٰ سے حاصل ہوتی ہے اس عیش پر ترجیح دینے لگیں گے جو فسق و فجور اور دنیا پرستی سے حاصل ہوتا ہے۔ سورة طٰهٰ 115 یعنی ہم نماز پڑھنے کے لیے تم سے اس لیے نہیں کہتے ہیں کہ اس سے ہمارا کوئی فائدہ ہے۔ فائدہ تمہارا اپنا ہی ہے، اور وہ یہ ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہوگا جو دنیا اور آخرت دونوں ہی میں آخری اور مستقل کامیابی کا وسیلہ ہے۔
Ayah 20:133

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ)کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیانِ واضح نہیں آگیا؟ 116

سورة طٰهٰ 116 یعنی کیا یہ کوئی کم معجزہ ہے کہ انہی میں سے ایک امی شخص نے وہ کتاب پیش کی ہے جس میں شروع سے اب تک کی تمام کتب آسمانی کے مضامین اور تعلیمات کا عطر نکال کر رکھ دیا گیا ہے۔ انسان کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ان کتابوں میں جو کچھ تھا، وہ سب نہ صرف یہ کہ اس میں جمع کردیا گیا، بلکہ اس کو ایسا کھول کر واضح بھی کردیا گیا کہ صحر نشین بدّو تک اس کو سمجھ کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Ayahs 20:134–135

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

اے محمدؐ ، اِن سے کہو، ہر ایک انجامِ کار کے انتظار میں ہے، 117 پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں

سورة طٰهٰ 117 یعنی جب سے یہ دعوت تمہارے شہر میں اٹھی ہے، نہ صرف اس شہر کا بلکہ گرد و پیش کے علاقے کا بھی ہر شخص انتظار کر رہا ہے کہ اس کا انجام آخر کار کیا ہوتا ہے۔