Ayah 21:1سورة الْاَنبیَآء 1
مراد ہے قرب قیامت۔ یعنی اب وہ وقت دور نہیں ہے جب لوگوں کو اپنا حساب دینے کے لیے اپنے رب کے آگے حاضر ہونا پڑے گا۔ محمد ﷺ کی بعثت اس بات کی علامت ہے کہ نوع انسانی کی تاریخ اب اپنے آخری دور میں داخل ہو رہی ہے۔ اب وہ اپنے آغاز کی بہ نسبت اپنے انجام سے قریب تر ہے۔ آغاز اور وسط کے مرحلے گزر چکے ہیں اور آخری مرحلہ شروع ہوچکا ہے۔ یہی مضمون ہے جس کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں بیان فرمایا ہے۔ آپ نے اپنی دو انگلیاں کھڑی کر کے فرمایا بُعِثت انا والسَّاعَۃُ کَھَاتینِ ، " میں ایسے وقت پر مبعوث کیا گیا ہوں کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ " یعنی میرے بعد بس قیامت ہی ہے۔ کسی اور نبی کی دعوت بیچ میں حائل نہیں ہے۔ سنبھلنا ہے تو میری دعوت پر سنبھل جاؤ۔ کوئی اور ہادی اور بشیر و نذیر آنے والا نہیں ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 2
یعنی کسی تنبیہ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ نہ خود سوچتے ہیں کہ ہمارا انجام کیا ہوا ہے اور نہ اس پیغمبر کی بات سنتے ہیں جو انہیں خبردار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Ayah 21:2سورة الْاَنْبِیَآء 3
یعنی قرآن کی ہر نئی سورت جو محمد ﷺ پر نازل ہوتی ہے اور انہیں سنائی جاتی ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 4
وَھُمْ یَلْعَبُوْنَ کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک وہ جو اوپر ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے اور اس میں کھیل سے مراد یہی زندگی ہے جسے خدا اور آخرت سے غافل لوگ کھیل رہے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے سنجیدگی کے ساتھ نہیں سنتے بلکہ کھیل اور مذاق کے طور پر سنتے ہیں۔
Ayah 21:3سورة الْاَنْبِیَآء 5
" پھنسے جاتے ہو " بھی ترجمہ ہوسکتا ہے، اور دونوں ہی مطلب صحیح ہیں۔ سرگوشیاں کفار مکہ کے وہ بڑے بڑے سردار آپس میں بیٹھ بیٹھ کر کیا کرتے تھے جن کو نبی ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرنے کی بڑی فکر لاحق تھی وہ کہتے تھے یہ شخص بہرحال نبی تو ہو نہیں سکتا، کیونکہ ہم ہی جیسا انسان ہے، کھاتا ہے، پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، بیوی بچے رکھتا ہے۔ آخر اس میں وہ نرالی بات کیا ہے جو اس کو ہم سے ممتاز کرتی ہو اور ہماری بہ نسبت اس کو خدا سے ایک غیر معمولی تعلق کا مستحق بناتی ہو ؟ البتہ اس شخص کی باتوں میں اور اس کی شخصیت میں ایک جادو ہے کہ جو اس کی بات کان لگا کر سنتا ہے اور اس کے قریب جاتا ہے وہ اس کا گرویدہ ہوجاتا ہے۔ اس لئے اگر اپنی خیر چاہتے ہو تو اس کی سنو اور نہ اس سے میل جول رکھو، کیونکہ اس کی باتیں سننا اور اس کے قریب جانا گویا آنکھوں دیکھتے جادو کے پھندے میں پھنسنا ہے۔
جس چیز کی وجہ سے وہ نبی ﷺ پر " سحر " کا الزام چسپاں کرتے تھے اس کی چند مثالیں آپ کے قدیم ترین سیرت نگار محمد بن اسحاق (متوفی 152 ھ) نے بیان کی ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ ایک دفعہ عُتْبَہ بن ربیعہ (ابو سفیان کے خسر، ہند جگر خور کے باپ) نے سرداران قریش سے کہا، اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جا کر محمد ﷺ سے ملوں اور اسے سمجھانے کی کوشش کروں۔ یہ حضرت حمزہ کے اسلام لانے کے بعد کا واقعہ ہے جب کہ نبی ﷺ کے صحابہ کی تعداد روز بروز بڑھتی دیکھ کر اکابر قریش سخت پریشان ہو رہے تھے۔ لوگوں نے کہا ابو الولید، تم پر پورا اطمینان ہے، ضرور جا کر اس سے بات کرو۔ وہ حضور ﷺ کے پاس پہنچا اور کہنے لگا، " بھتیجے، ہمارے ہاں تم کو جو عزت حاصل تھی، تم خود جانتے ہو، ور نسب میں بھی تم ایک شریف ترین گھرانے کے فرد ہو۔ تم اپنی قوم پر یہ کیا مصیبت لے آئے ہو ؟ تم نے جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بیوقوف ٹھہرایا۔ اس کے دین اور اس کے معبودوں کی برائی کی۔ باپ دادا جو مر چکے ہیں ان سب کو تم نے گمراہ اور کافر بنایا۔ بھتیجے، اگر ان باتوں سے تمہارا مقصد دنیا میں اپنی بڑائی قائم کرنا ہے تو آؤ ہم سب مل کر تم کو اتنا روپیہ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مال دار ہوجاؤ۔ سرداری چاہتے ہو تو ہم تمہیں سردار مانے لیتے ہیں۔ بادشاہی چاہتے ہو تو بادشاہ بنا دیتے ہیں۔ اور اگر تمہیں کوئی بیماری ہوگئی ہے جس کی وجہ سے تم کو واقعی سوتے یا جاگتے میں کچھ نظر آنے لگا ہے تو ہم سب مل کر بہترین طبیبوں سے تمہارا علاج کرائے دیتے ہیں۔ " یہ باتیں وہ کرتا رہا اور نبی ﷺ خاموش سنتے رہے۔ جب وہ خوب بول چکا تو آپ نے فرمایا " ابوالولید، جو کچھ آپ کہنا چاہتے تھے کہہ چکے ہیں، یا اور کچھ کہنا ہے "۔ اس نے کہا بس مجھے جو کچھ کہنا تھا میں نے کہہ دیا۔ آپ نے فرمایا اچھا اب میری سنو۔ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْمِ ، حٰمٓ، تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک مسلسل آپ سورة حٰم السجدہ کی تلاوت فرماتے رہے اور عتبہ پیچھے زمین پر ہاتھ ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ اڑتیسویں آیت پر پہنچ کر آپ نے سجدہ کیا، اور پھر سر اٹھا کر عتبہ سے فرمایا، " ابو الولید، جو کچھ مجھے کہنا تھا وہ آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔ " عتبہ یہاں سے اٹھ کر سرداران قریش کی طرف پلٹا تو لوگوں نے دور سے ہی اس کو آتے دیکھ کر کہا " خدا کی قسم، ابوالولید کا چہرا بدلا ہوا ہے۔ یہ وہ صورت نہیں ہے جسے لے کر وہ گیا تھا۔ " اس کے پہنچتے ہی لوگوں نے سوال کیا، " کہو ابوالولید، کیا کر آئے ہو " ؟ اس نے کہا " خدا کی قسم، آج میں نے ایسا کلام سنا ہے کہ اس سے پہلے کبھی نہ سنا تھا۔ واللہ یہ شعر نہیں ہے، نہ سحر ہے اور نہ کہانت۔ اے معشر قریش، میری بات مانو اور اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ اس کی باتیں جو میں نے سنی ہیں رنگ لا کر رہیں گی۔ اگر عرب اس پر غالب آگئے تو اپنے بھائی کا خون تمہاری گردن پر نہ ہوگا، دوسروں پر ہوگا۔ اور اگر یہ عرب پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی۔ اور اس کی عزت تمہاری عزت "۔ لوگوں نے کہا " واللہ، ابوالولید تم پر بھی اس کا جادو چل گیا۔ " اس نے کہا " یہ میری رائے ہے، اب تم جانو اور تمہارا کام "۔ (ابن ہشام، جلد اول، ص 313۔ 314)۔ بیہقی نے اس واقعہ کے متعلق جو روایات جمع کی ہیں ان میں سے ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب حضور ﷺ سورة حٰم سجدہ کی تلاوت کرتے ہوئے اس آیت پر پہنچے کہ فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صَاعِقَۃ عَادٍ وَّ ثَمُوْدٍ ، تو عتبہ نے بےاختیار آگے بڑھ کر آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ خدا کے لیے اپنی قوم پر رحم کرو۔
دوسرا واقعہ ابن اسحاق نے یہ بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ اَرَاش کا ایک شخص کچھ اونٹ لے کر مکہ آیا۔ ابو جہل نے اس کے اونٹ خرید لیے اور جب اس نے قیمت طلب کی تو ٹال مٹول کرنے لگا۔ اَرَشی نے تنگ آ کر ایک روز حرم کعبہ میں قریش کے سرداروں کو جا پکڑا اور مجمع عام میں فریاد شروع کردی۔ دوسری طرف حرم کے ایک گوشے میں نبی ﷺ تشریف فرما تھے۔ سرداران قریش نے اس شخص سے کہا کہ " ہم کچھ نہیں کرسکتے، دیکھو، وہ صاحب جو اس کونے میں بیٹھے ہیں، ان سے جا کر کہو، وہ تم کو تمہارا روپیہ دلوا دیں گے۔ " اَرَشی نبی ﷺ کی طرف چلا، اور قریش کے سرداروں نے آپس میں کہا " آج لطف آئے گا "۔ اراشی نے جا کر حضور سے اپنی شکایت بیان کی۔ آپ اسی وقت اٹھ کھڑے ہوئے اور اسے ساتھ لے کر ابو جہل کے مکان کی طرف روانہ ہوگئے۔ سرداروں نے پیچھے ایک آدمی لگا دیا کہ جو کچھ گزرے اس کی خبر لا کر دے۔۔ نبی ﷺ سیدھے ابو جہل کے دروازے پر پہنچے اور کنڈی کھٹکھٹائی۔ اس نے پوچھا " کون " ؟ آپ نے جواب دیا " محمد ﷺ " وہ حیران ہو کر باہر نکل آیا۔ آپ نے اس سے کہا " اس شخص کا حق ادا کردو۔ " اس نے جواب میں کوئی چوں و چرا نہ کی، اندر گیا اور اس کے اونٹوں کی قیمت لا کر اس کے ہاتھ میں دے دی۔ قریش کا مخبر یہ حال دیکھ کر حرم کی طرف دوڑا اور سرداروں کو سارا ماجرا سنا دیا اور کہنے لگا کہ واللہ آج وہ عجیب معاملہ دیکھا ہے جو کبھی نہ دیکھا تھا، حَکَم بن ہشام (ابو جہل) جب نکلا ہے تو محمد ﷺ کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا اور جب محمد ﷺ نے اس سے کہا کہ اس کا حق ادا کردو تو یہ معلوم ہوتا تھا کہ جیسے حکم بن ہشام کے جسم میں جان نہیں ہے۔ (ابن ہشام، جلد 2، ص 29۔ 30)۔
یہ تھا شخصیت اور سیرت و کردار کا اثر اور وہ تھا کلام کا اثر، جس کو وہ لوگ جادو قرار دیتے تھے اور ناواقف لوگوں کو یہ کہہ کہہ کر ڈراتے تھے کہ اس شخص کے پاس نہ جانا ورنہ جادو کر دے گا۔
Ayah 21:4سورة الْاَنْبِیَآء 6
یعنی رسول نے کبھی اس جھوٹے پروپیگنڈے اور سرگوشیوں کی اس مہم (Whispering Campaign) کا جواب اس کے سوا نہ دیا کہ " تم لوگ جو کچھ باتیں بناتے ہو سب خدا سنتا اور جانتا ہے، خواہ زور سے کہو، خواہ چپکے چپکے کانوں میں پھونکو "۔ وہ کبھی بےانصاف دشمنوں کے مقابلے میں ترکی بہ ترکی جواب دینے پر نہ اتر آیا۔
Ayah 21:5سورة الْاَنْبِیَآء 7
اس کا پس منظر یہ ہے کہ نبی ﷺ کی دعوت کا اثر جب پھیلنے لگا تو مکہ کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ آپ کے مقابلے میں پروپیگنڈا کی ایک مہم شروع کی جائے اور ہر اس شخص کو، جو مکہ میں زیارت کے لیے آئے آپ کے خلاف پہلے ہی سے اتنا بد گمان کردیا جائے کہ وہ آپ کی بات سننے کے لیے آمدہ ہی نہ ہو۔ یہ مہم ویسے تو بارہ مہینے جاری رہتی تھی، مگر خاص طور پر حج کے زمانے میں کثرت سے آدمی پھیلا دیے جاتے تھے جو تمام بیرونی زائرین کے خیموں میں پہنچ کر ان کو خبردار کرتے پھرتے تھے کہ یہاں ایسا ایسا ایک آدمی ہے، اس سے ہوشیار رہنا۔ ان گفتگوؤں میں طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی تھیں۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ شخص جادوگر ہے۔ کبھی کہا جاتا کہ ایک کلام اس نے خود گھڑ رکھا ہے، اور کہتا ہے خدا کا کلام ہے۔ کبھی کہا جاتا کہ اجی وہ کلام کیا ہے، دیوانوں کی بڑ اور پراگندہ خیالات کا پلندا ہے۔ کبھی کہا جاتا کہ شاعرانہ تخیلات اور تک بندیاں ہیں جن کا نام اس نے کلام الہٰی رکھا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو بہکایا جائے۔ صداقت کا ان کے سامنے سرے سے کوئی سوال ہی نہ تھا کہ جم کر کوئی ایک قطعی اور جچی تلی رائے ظاہر کرتے۔ لیکن اس جھوٹے پروپیگنڈے کا حاصل جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ نبی ﷺ کا نام انہوں نے خود ملک کے گوشے گوشے میں پہنچا دیا۔ آپ کی جتنی شہرت مسلمانوں کی کوششوں سے سالہا سال میں بھی نہ ہو سکتی تھی وہ قریش کی اس مخالفانہ مہم سے تھوڑی مدت ہی کے اندر ہوگئی۔ ہر شخص کے دل میں ایک سوال پیدا ہوگیا کہ آخر معلوم تو ہو وہ کون ایسا آدمی ہے جس کے خلاف یہ طوفان برپا ہے، اور بہت سے سوچنے والوں نے سوچا کہ اس شخص کی بات سنی تو جائے۔ ہم کوئی بچے تو نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ بہک جائیں گے۔
اس کی ایک دلچسپ مثال طُفَیل بن عمرو دوسی کا قصہ ہے جسے ابن اسحاق نے خود ان کی روایت سے بڑی تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ دوس کا ایک شاعر تھا۔ کسی کام سے مکہ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی قریش کے چند لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور نبی ﷺ کے خلاف خوب میرے کان بھرے یہاں تک کہ میں آپ سے سخت بد گمان ہوگیا اور میں نے طے کرلیا کہ آپ سے بچ کر ہی رہوں گا۔ دوسرے روز میں نے حرم میں حاضری دی تو آپ کعبہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ میرے کانوں میں چند جملے جو پڑے تو میں نے محسوس کیا کہ یہ تو کوئی بڑا اچھا کلام ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں شاعر ہوں، جوان مرد ہوں، عقل رکھتا ہوں، کوئی بچہ نہیں ہوں کہ صحیح اور غلط میں تمیز نہ کرسکوں۔ آخر کیوں نہ اس شخص سے مل کر معلوم کروں کہ یہ کیا کہتا ہے۔ چناچہ جب نبی ﷺ نماز سے فارغ ہو کر واپس چلے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا اور آپ کے مکان پر پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ آپ کی قوم نے آپ کے متعلق مجھ سے یہ یہ کچھ کہا تھا، اور میں آپ سے اس قدر بد گمان ہوگیا تھا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی تاکہ آپ کی آواز نہ سننے پاؤں۔ لیکن ابھی جو چند کلمے میں نے آپ کی زبان سے سنے ہیں وہ مجھے کچھ اچھے معلوم ہوئے۔ آپ مجھے ذرا تفصیل سے بتائیے، آپ کیا کہتے ہیں۔ نبی ﷺ نے جواب میں مجھ کو قرآن کا ایک حصہ سنایا اور میں اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت ایمان لے آیا۔ پھر واپس جا کر میں نے اپنے باپ اور بیوی کو مسلمان کیا۔ اس کے بعد اپنے قبیلے میں مسلسل اشاعت اسلام کرتا رہا، یہاں تک کہ غزوہ خندق کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے میرے قبیلے کے ستر اسی گھرانے مسلمان ہوگئے۔ (ابن ہشام جلد 2، ص 22۔ 24)
ایک اور روایت جو ابن اسحاق نے نقل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرداران قریش اپنی محفلوں میں خود اس بات کا اعتراف کرتے تھے کہ جو باتیں وہ نبی ﷺ کے خلاف بناتے ہیں وہ محض جھوٹ ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ ایک مجلس میں نضر بن حارث نے تقریر کی کہ " تم لوگ محمد ﷺ کا مقابلہ جس طرح کر رہے ہو اس سے کام نہ چلے گا۔ وہ جب تمہارے درمیان نو عمر جوان تھا تو تمہارا سب سے زیادہ خوش اطوار آدمی تھا۔ سب سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر امین سمجھا جاتا تھا۔ اب کہ اس کے بال سفید ہونے کو آگئے، تم کہتے ہو یہ ساحر ہے، کاہن ہے، شاعر ہے، مجنون ہے۔ بخدا وہ ساحر نہیں ہے، ہم نے سحروں کو دیکھا ہے اور ان کی جھاڑ پھونک سے ہم واقف ہیں۔ بخدا وہ کاہن بھی نہیں ہے، ہم نے کاہنوں کی تک بندیاں سنی ہیں اور جیسی گول مول باتیں وہ کیا کرتے ہیں انکا ہمیں علم ہے۔ بخدا وہ شاعر بھی نہیں ہے، شعر کی تمام اصناف سے ہم واقف ہیں اور اس کا کلام ان میں سے کسی صنف میں نہیں آتا۔ بخدا وہ مجنون بھی نہیں ہے، مجنون کی جو حالت ہوتی ہے اور جیسی بےتکی بڑ وہ ہانکتا ہے کیا اس سے ہم بیخبر ہیں ؟ اے سرداران قریش، کچھ اور بات سوچو، جس چیز کا مقابلہ تمہیں درپیش ہے وہ اس سے زیادہ بڑی ہے کہ یہ باتیں بنا کر تم اسے شکست دے سکو "۔ اس کے بعد اس نے یہ تجویز پیش کی کہ عجم سے رستم و اسفندیار کے قصے لا کر پھیلائے جائیں تاکہ لوگ ان میں دلچسپی لینے لگیں اور وہ انہیں قرآن سے زیادہ عجیب معلوم ہوں۔ چناچہ کچھ دنوں اس پر عمل کیا گیا اور خود نضر نے داستان گوئی شروع کردی۔ (ابن ہشام جلد اول، ص 32۔ 321)
Ayah 21:6سورة الْاَنْبِیَآء 8
اس مختصر سے جملے میں نشانی کے مطالبے کا جو جواب دیا گیا ہے وہ تین مضمونوں پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ تم پچھلے رسولوں کی سی نشانیاں مانگتے ہو، مگر یہ بھول جاتے ہو کہ ہٹ دھرم لوگ ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ دوسرے یہ کہ تم نشانی کا مطالبہ تو کرتے ہو، مگر یہ یاد نہیں رکھتے کہ جس قوم نے بھی صریح معجزہ آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد ایمان لانے سے انکار کیا ہے وہ پھر ہلاک ہوئے بغیر نہیں رہی ہے۔ تیسرے یہ کہ تمہاری منہ مانگی نشانی نہ بھیجنا تو تم پر خدا کی ایک بڑی مہربانی ہے۔ اب تک تم انکار پر انکار کیے جاتے رہے اور مبتلائے عذاب نہ ہوئے۔ کیا اب نشانی اس لیے مانگتے ہو کہ ان قوموں کا سا انجام دیکھو جو نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں اور تباہ کردی گئیں ؟
Ayahs 21:7–8سورة الْاَنْبِیَآء 9
یہ جواب ہے ان کے اس قول کا کہ " یہ شخص تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے " وہ نبی ﷺ کی بشریت کو اس بات کی دلیل قرار دیتے تھے کہ آپ نبی نہیں ہو سکتے۔ جواب دیا گیا کہ پہلے زمانے کے جن لوگوں کو تم خود مانتے ہو کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے، وہ سب بھی بشر ہی تھے اور بشر ہوتے ہوئے ہی خدا کی وحی سے سرفراز ہوئے تھے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 11)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 10
یعنی یہ یہودی، جو آج اسلام کی دشمنی میں تمہارے ہم نوا ہیں اور تم کو مخالفت کے داؤ پیچ سکھایا کرتے ہیں، ان ہی سے پوچھ لو کہ موسیٰ اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کون تھے۔ انسان ہی تھے یا کوئی اور مخلوق ؟
Ayah 21:9سورة الْاَنْبِیَآء 11
یعنی پچھلی تاریخ کا سبق صرف اتنا ہی نہیں بتاتا کہ پہلے جو رسول بھیجے گئے تھے وہ انسان ہی تھے، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کی نصرت و تائید کے، اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو ہلاک کردینے کے، جتنے وعدے اللہ نے ان سے کیے تھے وہ سب پورے ہوئے اور ہر وہ قوم برباد ہوئی جس نے انکو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ اب تم اپنا انجام خود سوچ لو۔
Ayah 21:10سورة الْاَنْبِیَآء 12
یہ اکٹھا جواب ہے کفار مکہ کے ان مضطرب اقوال کا جو وہ قرآن اور محمد ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شاعری ہے، یہ ساحری ہے یہ پراگندہ خواب ہیں، یہ من گھڑت افسانے ہیں، وغیرہ۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ اس کتاب میں آخر وہ کونسی نرالی بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہ آتی ہو، جس کی وجہ سے اس کے متعلق تم اتنی متضاد راہیں قائم کر رہے ہو۔ اس میں تو تمہارا اپنا ہی حال بیان کیا گیا ہے۔ تمہارے ہی نفسیات اور تمہارے ہی معاملات زندگی زیر بحث ہیں۔ تمہاری ہی فطرت اور ساخت اور آغاز و انجام پر گفتگو ہے۔ تمہارے ہی ماحول سے وہ نشانیاں چن چن کر پیش کی گئی ہیں جو حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ اور تمہارے ہی اخلاقی اوصاف میں سے فضائل اور قبائح کا فرق نمایاں کر کے دکھایا جا رہا ہے جس کے صحیح ہونے پر تمہارے اپنے ضمیر گواہی دیتے ہیں۔ ان سب باتوں میں کیا چیز ایسی گنجلک اور پیچیدہ ہے کہ اس کو سمجھنے سے تمہاری عقل عاجز ہو ؟
Ayahs 21:11–12سورة الْاَنْبِیَآء 13
یعنی جب عذاب الہٰی سر پر آگیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ آگئی شامت۔
Ayahs 21:13–15سورة الْاَنْبِیَآء 14
نہایت معنی خیز فقرہ ہے اور اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں، مثلاً ، ذرا اچھی طرح اس عذاب کا معائنہ کرو تاکہ کل کوئی اس کی کیفیت پوچھے تو ٹھیک بتاسکو۔ اپنے وہی ٹھاٹھ جما کر پھر مجلسیں گرم کرو، شاید اب بھی تمہارے خدم و حشم ہاتھ باندھ کر پوچھیں کہ حضور کیا حکم ہے۔ اپنی وہی کونسلیں اور کمیٹیاں جمائے بیٹھے رہو، شاید اب بھی تمہارے عاقلانہ مشوروں اور مدبرانہ آراء سے استفادہ کرنے کے لیے دنیا حاضر ہو۔
Ayah 21:16سورة الْاَنْبِیَآء 15
یہ تبصرہ ہے ان کے اس پورے نظریۂ حیات پر جس کی وجہ سے وہ نبی ﷺ کی دعوت پر توجہ نہ کرتے تھے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ انسان دنیا میں بس یونہی آزاد چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو کچھ چاہے کرے اور جس طرح چاہے جیے، کوئی باز پرس اس سے نہیں ہونی ہے۔ کسی کو اسے حساب نہیں دینا ہے۔ چند روز کی بھلی بری زندگی گزار کر سب کو بس یونہی فنا ہوجانا ہے۔ کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں بھلائی کی جزا اور برائی کی سزا ہو۔ یہ خیال درحقیقت اس بات کا ہم معنی تھا کہ کائنات کا یہ سارا نظام محض کسی کھلنڈڑے کا کھیل ہے جس کا کوئی سنجیدہ مقصد نہیں ہے۔ اور یہ خیال دعوت پیغمبر سے ان کی بےاعتنائی کا اصل سبب تھا۔
Ayah 21:17سورة الْاَنْبِیَآء 16
یعنی ہمیں کھیلنا ہی ہوتا تو کھلونے بنا کر ہم خود ہی کھیل لیتے۔ اس صورت میں یہ ظلم تو ہرگز نہ کیا جاتا کہ خواہ مخواہ ایک ذی حس، ذی شعور، ذمہ دار مخلوق کو پیدا کر ڈالا جاتا، اس کے درمیان حق و باطل کی یہ کشمکش اور کھینچا تانیاں کرائی جاتیں، اور محض اپنے لطف و تفریح کے لیے ہم دوسروں کو بلا وجہ تکلیفوں میں ڈالتے۔ تمہارے خدا نے یہ دنیا کچھ رومی اکھاڑے (Coliseu) کے طور پر نہیں بنائی ہے کہ بندوں کو درندوں سے لڑوا کر اور ان کی بوٹیاں نچوا کر خوشی کے ٹھٹھے لگائے۔
Ayah 21:18سورة الْاَنْبِیَآء 17
یعنی ہم بازی گر نہیں ہیں، نہ ہمارا کام کھیل تماشا کرنا ہے۔ ہماری یہ دنیا ایک سنجیدہ نظام ہے جس میں کوئی باطل چیز نہیں جم سکتی۔ باطل یہاں جب بھی سر اٹھاتا ہے، حقیقت سے اس کا تصادم ہو کر رہتا ہے اور آخر کار وہ مٹ کر ہی رہتا ہے، اس دنیا کو اگر تم تماشا گاہ سمجھ کر جیو گے، یا حقیقت کے خلاف باطل نظریات پر کام کرو گے تو نتیجہ تمہاری اپنی ہی تباہی ہوگا۔ نوع انسانی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو کہ دنیا کو محض ایک تماشا گاہ، محض ایک خوان نعیم، محض ایک عیش کدہ سمجھ کر جینے والی، اور انبیاء کی بتائی ہوئی حقیقت سے منہ موڑ کر باطل نظریات پر کام کرنے والی قومیں پے در پے کس انجام سے دو چار ہوتی رہی ہیں پھر یہ کونسی عقلمندی ہے کہ جب سمجھانے والا سمجھائے تو اس کا مذاق اڑاؤ، اور جب اپنے ہی کیے کرتوتوں کے نتائج عذاب الہٰی کی صورت میں سر پر آجائیں تو چیخنے لگو کہ " ہائے ہماری کم بختی، بیشک ہم خطا وار تھے "۔
Ayahs 21:19–20سورة الْاَنْبِیَآء 18
یہاں سے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال پر گفتگو شروع ہوتی ہے جو نبی ﷺ اور مشرکین مکہ کے درمیان اصل بنائے نزاع تھی۔ اب مشرکین کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ کائنات کا یہ نظام جس میں تم جی رہے ہو (جس کے متعلق ابھی یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ کسی کھلندڑے کا کھلونا نہیں ہے، جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ ایک سنجیدہ اور با مقصد اور مبنی بر حقیقت نظام ہے، اور جس کے متعلق یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس میں باطل ہمیشہ حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے) اس کی حقیقت یہ ہے کہ اس پورے نظام کا خالق، مالک، حاکم اور رب صرف ایک خدا ہے، اور اس حقیقت کے مقابلے میں باطل یہ ہے کہ اسے بہت سے خداؤں کی مشترک سلطنت سمجھا جائے، یا یہ خیال کیا جائے کہ ایک بڑے خدا کی خدائی میں دوسرے چھوٹے چھوٹے خداؤں کا بھی کچھ دخل ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 19
یعنی وہی فرشتے جن کو مشرکین عرب خدا کی اولاد سجھ کر، یا خدائی میں دخیل مان کر معبود بنائے ہوئے تھے۔
Ayah 21:21سورة الْاَنْبِیَآء 21
اصل میں لفظ " یَنشرون " استعمال ہوا ہے جو " انشار " سے مشتق ہے۔ انشار کے معنی ہیں بےجان پڑی ہوئی چیز کو اٹھا کھڑا کرنا۔ اگرچہ اس لفظ کو قرآن مجید میں بالعموم زندگی بعد موت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن اصطلاحی مفہوم سے قطع نظر، اصل لغوی معنی کے اعتبار سے یہ لفظ بےجان مادے میں زندگی پھونک دینے کے لیے مستعمل ہوتا ہے۔ اور موقع و محل کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لفظ یہاں اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن ہستیوں کو انہوں نے خدا قرار دے رکھا ہے اور اپنا معبود بنایا ہے، کیا ان میں کوئی ایسا ہے جو مادہ غیر ذی حیات میں زندگی پیدا کرتا ہو ؟ اگر ایک اللہ کے سوا کسی میں یہ طاقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اور مشرکین عرب خود مانتے تھے کہ کسی میں یہ طاقت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ تو پھر وہ ان کو خدا اور معبود کس لیے مان رہے ہیں ؟
Ayahs 21:22–23سورة الْاَنْبِیَآء 22
یہ استدلال سادہ بھی ہے اور بہت گہرا بھی۔ سادہ سی بات، جس کو ایک بدوی، ایک دیہاتی، ایک موٹی سی سمجھ کا آدمی بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے، یہ ہے کہ ایک معمولی گھر کا نظام بھی چار دن بخیریت نہیں چل سکتا اگر اس کے دو صاحب خانہ ہوں۔ اور گہری بات یہ ہے کہ کائنات کا پورا نظام، زمین کی تہوں سے لے کر بعید ترین سیاروں تک، ایک ہمہ گیر قانون پر چل رہا ہے۔ یہ ایک لمحہ کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا اگر اس کی بیشمار مختلف قوتوں اور بےحد و حساب چیزوں کے درمیان تناسب اور توازن اور ہم آہنگی اور تعاون نہ ہو۔ اور یہ سب کچھ اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ کوئی اٹل اور غالب و قاہر ضابطہ ان بیشمار اشیاء اور قوتوں کو پوری مناسبت کے ساتھ باہم تعاون کرتے رہنے پر مجبور کر رہا ہو۔ اب یہ کس طرح تصور کیا جاسکتا ہے کہ بہت سے مطلق العنان فرمانرواؤں کی حکومت میں ایک ضابطہ اس باقاعدگی کے ساتھ چل سکے ؟ نظم کا وجود خود ہی ناظم کی وحدت کو مستلزم ہے۔ قانون اور ضابطہ کی ہمہ گیری آپ ہی اس بات پر شاہد ہے کہ اختیارات ایک ہی حاکمیت میں مرکوز ہیں اور وہ حاکمیت مختلف حاکموں میں بٹی ہوئی نہیں ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو، تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 47 جلد سوم، المومنون، حاشیہ 85)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 23
رب العرش، یعنی کائنات کے تخت سلطنت کا مالک۔
Ayahs 21:24–25سورة الْاَنْبِیَآء 24
پہلے دو استدلال عقلی تھے۔ اور یہ استدلال نقلی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج تک جتنی کتابیں بھی خدا کی طرف سے دنیا کے کسی ملک میں کسی قوم کے پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں، ان میں سے کسی اور کو بھی بندگی و عبادت کا حق پہنچتا ہے۔ پھر یہ کیسا مذہب تم لوگوں نے بنا رکھا ہے جس کی تائید میں نہ عقل سے کوئی دلیل ہے اور نہ آسمانی کتابیں ہی جس کے لیے کوئی شہادت فراہم کرتی ہیں۔
سورة الْاَنْبِیَآء 25
یعنی نبی کی بات پر ان کا توجہ نہ کرنا علم پر نہیں بلکہ جہل پر مبنی ہے۔ حقیقت سے بیخبر ہیں اس لیے سمجھانے والے کی بات کو ناقابل التفات سمجھتے ہیں۔
Ayahs 21:26–28سورة الْاَنْبِیَآء 26
یہاں پھر فرشتوں ہی کا ذکر ہے جن کو مشرکین عرب خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ بعد کی تقریر سے یہ بات خود ظاہر ہوجاتی ہے۔
Ayah 21:29سورة الْاَنْبِیَآء 27
مشرکین فرشتوں کو دو وجوہ سے معبود بناتے تھے۔ ایک یہ کہ انکے نزدیک وہ خدا کی اولاد تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ انکی پرستش (خوشامد) کر کے انہیں خدا کے ہاں اپنا شفیع (سفارشی) بنانا چاہتے تھے۔ وَیَقُوْلُوْ نَ ھٰؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عند اللہ (یونس۔ آیت۔ 18۔ اور مانَعْبُدُھُمْ الاَّ لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللہِ زُلْفاً ہ (الزمر۔ آیت 3)۔ ان آیات میں دونوں وجوہ کی تردید کردی گئی ہے۔
اس جگہ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن بالعموم شفاعت کے مشرکانہ عقیدے کی تردید کرتے ہوئے اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ جنہیں تم شفیع قرار دیتے ہو وہ علم غیب نہیں رکھتے اور یہ اللہ تعالیٰ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو ان کے سامنے ہیں اور ان باتوں کو بھی جو ان سے اوجھل ہیں۔ اس سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ آخر ان کو سفارش کرنے کا مطلق اور غیر مشروط اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے جب کہ وہ ہر شخص کے اگلے پچھلے اور پوشیدہ و ظاہر حالات سے واقف نہیں ہیں۔ اس لیے ٰوہ فرشتے ہوں یا انبیاء و صالحین، ہر ایک کا اختیار شفاعت لازماً اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو کسی کے حق میں شفاعت کی اجازت دے۔ بطور خود ہر کس و ناکس کی شفاعت کردینے کا کوئی بھی مجاز نہیں ہے۔ اور جب شفاعت سننا یا نہ سننا اور اسے قبول کرنا یا نہ کرنا بالکل اللہ کی مرضی پر موقوف ہے تو ایسے بےاختیار شفیع اس قابل کب ہو سکتے ہیں کہ ان کے آگے سر نیاز جھکایا جائے اور دست سوال دراز کیا جائے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، طٰہٰ ، حاشیہ 85۔ 86)
Ayah 21:30سورة الْاَنْبِیَآء 28
اصل میں لفظ " رتق " اور " فتق " کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ رتق کے معنی ہیں یکجا ہونا، اکٹھا ہونا، ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہونا، متصل اور متلاصق ہونا۔ اور فتق کے معنی پھاڑنے اور جدا کرنے کے ہیں۔ بظاہر ان الفاظ سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کی ابتدائی شکل ایک تودے (Mass) کی سی تھی، بعد میں اس کو الگ الگ حصوں میں تقسیم کر کے زمین اور دوسرے اجرام فلکی جدا جدا دنیاؤں کی شکل میں بنائے گئے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم حٰمٓ السجدہ، حاشیہ 13۔ 14۔ 15)۔
سورة الْاَنْبِیَآء 29
اس سے جو مفہوم سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کو خدا نے سبب زندگی اور اصل حیات بنایا، اسی میں اور اسی سے زندگی کا آغاز کیا۔ دوسری جگہ اس مطلب کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، وَاللہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَآءٍ (النور۔ آیت 45) " اور خدا نے ہر جاندار کو پانی سے پیدا کیا۔ "
Ayah 21:31سورة الْاَنْبِیَآء 30
اس کی تشریح سورة نحل 12 میں گزر چکی ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 31
یعنی پہاڑوں کے درمیان ایسے درے رکھ دیے اور دریا نکال دیے جن کی وجہ سے پہاڑی علاقوں سے گزرنے اور زمین کے ایک خطے سے دوسرے خطے کی طرف عبور کرنے کے راستے نکل آتے ہیں۔ اسی طرح زمین کے دوسرے حصوں کی ساخت بھی ایسی رکھی ہے کہ ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے راہ بن جاتی ہے یا بنا لی جاسکتی ہے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 32
ذو معنی فقرہ ہے۔ یہ مطلب بھی ہے کہ لوگ زمین میں چلنے کے لیے راہ پائیں، اور یہ بھی کہ وہ اس حکمت اور اس کاریگری اور اس انتظام کو دیکھ کر حقیقت تک پہنچنے کا راستہ پالیں۔
Ayah 21:32سورة الْاَنْبِیَآء 33
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر، حواشی نمبر 8، 10، 110۔ 120۔
سورة الْاَنْبِیَآء 34
یعنی ان نشانیوں کی طرف جو آسمان میں ہیں۔
Ayah 21:33سورة الْاَنْبِیَآء 35
کُلٌّ اور یَسْبَحُوْنَ کے الفاظ بتاتے ہیں کہ مراد صرف سورج اور چاند ہی نہیں ہیں بلکہ دوسرے اجرام فلکی، یعنی تارے بھی مراد ہیں، ورنہ جمع کے بجائے تثنیہ کا صیغہ استعمال کیا جاتا۔ فَلَکِ جو فارسی کے چرخ اور گردوں کا ٹھیک ہم معنی ہے، عربی زبان میں آسمان کے معروف ناموں میں سے ہے۔ " سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں " سے دو باتیں صاف سمجھ میں آتی ہیں۔ ایک یہ کہ یہ سب تارے ایک ہی " فلک " میں نہیں ہیں بلکہ ہر ایک کا فلک الگ ہے۔ دوسرے یہ کہ فلک کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں یہ تارے کھونٹیوں کی طرح جڑے ہوئے ہوں اور وہ خود انہیں لیے ہوئے گھوم رہا ہو، بلکہ وہ کوئی سیال شے ہے یا فضا اور خلا کی سی نوعیت کی چیز ہے جس میں ان تاروں کی حرکت تیرنے کے فعل سے مشابہت رکھتی ہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، یٰسین، حاشیہ 37)۔
قدیم زمانے میں لوگوں کے لیے آسمان و زمین کے رتق و فتق، اور پانی سے ہر زندہ چیز کے پیدا کیے جانے، اور تاروں کے ایک ایک فلک میں تیرنے کا مفہوم کچھ اور تھا، موجودہ زمانے میں طبعیات (Physics) ، حیاتیات، (Biology) اور علم ہیئت (Astronomy) کی جدید معلومات نے ہمارے لیے ان کا مفہوم کچھ اور کردیا ہے، اور نہیں کہہ سکتے کہ آگے چل کر انسان کو جو معلومات حاصل ہونی ہیں وہ ان الفاظ کے کن معانی پر روشنی ڈالیں گی۔ بہرحال موجودہ زمانے کا انسان ان تینوں آیات کو بالکل اپنی جدید ترین معلومات کے مطابق پاتا ہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ وَلَہ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْض سے لے کر کَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ تک کی تقریر شرک کی تردید میں ہے، اور اَوَلَمْ یَرَا لَّذِیْنَ کَفَرُوْ سے لے کر فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ تک جو کچھ فرمایا گیا ہے اس میں توحید کے لیے ایجابی (Positive) دلائل دیے گئے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ یہ نظام کائنات جو تمہارے سامنے ہے، کیا اس میں کہیں ایک اللہ رب العالمین کے سوا کسی اور کی بھی کوئی کاریگری تمہیں نظر آتی ہے ؟ کیا یہ نظام ایک سے زیادہ خداؤں کی کار فرمائی میں بن سکتا تھا اور اس باقاعدگی کے ساتھ جاری رہ سکتا تھا ؟ کیا اس حکیمانہ نظام کے متعلق کوئی صاحب عقل و خرد آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ یہ ایک کھلندڑے کا کھیل ہے اور اس نے محض تفریح کے لیے چند گرویاں بنائی ہیں جن سے کچھ مدت کھیل کر بس وہ یونہی ان کو خاک میں ملا دے گا ؟ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو اور پھر بھی نبی کی بات ماننے سے انکار کیے جاتے ہو ؟ تم کو نظر نہیں آتا زمین و آسمان کی ایک ایک چیز اس نظریہ توحید کی شہادت دے رہی ہے جو یہ نبی تمہارے سامنے پیش کر رہا ہے ؟ ان نشانیوں کے ہوتے تم کہتے ہو کہ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَۃٍ ، " یہ نبی کوئی نشانی لے کر آئے " کیا نبی کی دعوت توحید کے حق ہونے پر گواہی دینے کے لیے یہ نشانیاں کافی نہیں ہیں ؟
Ayah 21:34سورة الْاَنْبِیَآء 36
یہاں سے پھر سلسلہ تقریر اس کش مکش کی طرف مڑتا ہے جو نبی ﷺ اور آپ کے مخالفین کے درمیان برپا تھی۔
Ayah 21:35سورة الْاَنْبِیَآء 37
مختصر جواب ہے ان ساری دھمکیوں اور بد دعاؤں اور کو سنوں اور قتل کی سازشوں کا جن سے ہر وقت نبی ﷺ کی تواضع کی جاتی تھی۔ ایک طرف اکابر قریش تھے جو آئے دن آپ کو اس تبلیغ کے خوفناک نتائج کی دھمکیاں دیتے رہتے تھے، اور ان میں سے بعض پرجوش مخالفین بیٹھ بیٹھ کر یہ تک سوچا کرتے تھے کہ کسی طرح آپ کا کام تمام کردیں۔ دوسری طرف ہر وہ گھر جس کا کوئی فرد اسلام قبول کرلیتا تھا، آپ کا دشمن بن جاتا تھا۔ اس کی عورتیں آپ کو کلپ کلپ کر کو سنے اور بد دعائیں دیتی تھیں اور اس کے مرد آپ کو ڈراوے دیتے پھرتے تھے۔ خصوصاً ہجرت حبشہ کے بعد تو مکہ بھر کے گھروں میں کہرام مچ گیا تھا، کیونکہ مشکل ہی سے کوئی ایسا گھرانا بچا رہ گیا تھا جس کے کسی لڑکے یا لڑکی نے ہجرت نہ کی ہو۔ یہ سب لوگ نبی ﷺ کے نام کی دوہائیاں دیتے تھے کہ اس شخص نے ہمارے گھر برباد کیے ہیں۔ ان ہی باتوں کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے، اور ساتھ ساتھ نبی ﷺ کو بھی تلقین کی گئی ہے کہ تم ان کی پروا کیے بغیر، بےخود اپنا کام کیے جاؤ۔
سورة الْاَنْبِیَآء 38
یعنی راحت اور رنج، مفلسی اور امیری، غلبہ اور مغلوبی، قوت اور ضعف، صحت اور بیماری، غرض تمام مختلف حالات میں تم لوگوں کی آزمائش کی جا رہی ہے، تاکہ دیکھیں تم اچھے حالات میں متکبر، ظالم، خدا فراموش، بندہ نفس تو نہیں بن جاتے، اور برے حالات میں کم ہمتی کے ساتھ پست اور ذلیل طریقے اور ناجائز راستے تو اختیار نہیں کرنے لگتے۔ لہٰذا کسی صاحب عقل آدمی کو ان مختلف حالات کو سمجھنے میں غلطی نہیں کرنی چاہیے۔ جو حالت بھی اسے پیش آئے، اس کے امتحانی اور آزمائشی پہلو کو نگاہ میں رکھنا چاہیے اور اس سے بخیریت گزرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ صرف ایک احمق اور کم طرف آدمی کا کام ہے کہ جب اچھے حالات آئیں تو فرعون بن جائے، اور جب برے حالات پیش آجائیں تو زمین پر ناک رگڑنے لگے۔
Ayah 21:36سورة الْاَنْبِیَآء 39
یعنی برائی کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے۔ یہاں اتنی بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ یہ فقرہ ان کے مذاق کا مضمون نہیں بتارہا ہے، بلکہ مذاق اڑانے کی وجہ اور بنیاد پر روشنی ڈال رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ فقرہ بجائے خود کوئی مذاق کا فقرہ نہیں ہے۔ مذاق تو وہ دوسرے ہی الفاظ میں اڑاتے ہوں گے اور کچھ اور ہی طرح کے آوازے کستے اور فقرے چست کرتے ہوں گے۔ البتہ یہ سارا دل کا بخار جس وجہ سے نکالا جاتا تھا وہ یہ تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کی خدائی کا رد کرتے تھے۔
سورة الْاَنْبِیَآء 40
یعنی بتوں اور بناوٹی خداؤں کی مخالفت تو انہیں اس قدر ناگوار ہے کہ اس کا بدلہ لینے کے لیے تمہاری تضحیک و تذلیل کرتے ہیں، مگر انہیں خود اپنے حال پر شرم نہیں آتی کہ خدا سے پھرے ہوئے ہیں اور اس کا ذکر سن کر آگ بگولہ ہوجاتے ہیں۔