Explained with ayahs 99–101
سب سے اعلی کتاب
فرمان ہے کے جیسے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت وحمد والے ہیں کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے بابرکت نہیں ملی۔ ہر طرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔ اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
سورة طٰهٰ 75
موسیٰ ؑ کا قصہ ختم کر کے اب پھر تقریر کا رخ اس مضمون کی طرف مڑتا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک مرتبہ پلٹ کر سورة کی ان ابتدائی آیات کو پڑھ لیجیے جن کے بعد یکایک حضرت موسیٰ کا قصہ شروع ہوگیا تھا۔ اس سے آپ کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آجائے گی کہ سورة کا اصل موضوع بحث کیا ہے، بیچ میں قصہ موسیٰ کس لیے بیان ہوا ہے۔ اور اب قصہ ختم کر کے کس طرح تقریر اپنے موضوع کی طرف پلٹ رہی ہے۔
سورة طٰهٰ 76
یعنی یہ قرآن، جس کے متعلق آغاز سورة میں کہا گیا تھا کہ یہ کوئی ان ہونا کام تم سے لینے اور تم کو بیٹھے بٹھائے ایک مشقت میں مبتلا کردینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے، یہ تو ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
ربط آیات
سورة طہ میں اصل بیان توحید، رسالت اور آخرت کے اصولی مسائل کا ہے انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات اسی سلسلہ میں بیان ہوئے اور حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ بڑی تفصیل سے ذکر ہوا ہے اور اس کے ضمن میں رسالت محمدیہ کا اثبات بھی ہے اسی اثبات رسالت محمدیہ کا یہ حصہ ہے جو اگلی آیات میں بیان ہوا ہے کہ ان واقعات و قصص کا اظہار ایک نبی امی کی زبان سے خود دلیل رسالت و نبوت اور وحی الہی کی ہے اور ان سب کا سرچشمہ قرآن ہے اور حقیقت قرآن کے ذیل میں کچھ تفصیل معاد و آخرت کی بھی آگئی ہے (جس طرح ہم نے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا) اسی طرح ہم آپ سے اور واقعات گزشتہ کی خبریں (اور حکایتیں) بھی بیان کرتے رہتے…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون آیات 135-99
حضرت موسیٰ کی سرگزشت تمام ہوئی۔ اب آگے وہی مضمون جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا نئے اسلوب اور نئے دلائل کے ساتھ پھر سامنے آگیا۔ آنحضرت کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ماضی کی یہ سرگزشت جو ہم نے تمہیں سنائی ہے۔ یہ صرف ماضی کی حکایت نہیں ہے بلکہ یہی کچھ تمہارے اور تمہارے مخالفین کے سامنے بھی پیش آ رہا ہے اور پیش آئے گا جو لوگ تمہاری اس یاد دہانی سے اعراض اور دوسروں کو برگشتہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قیامت کے روز اپنا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ میں سے بھی ان کو اٹھاناپ ڑے گا جو ان کے سبب سے گمراہ ہوں گے۔ اور یہ قیامت کا دن بڑا ہی سخت دن ہوگا۔ اس دن کسی کی کچھ پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
99۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے فرعون و موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا، اسی طرح انبیاء کے حالات ہم آپ پر بیان کر رہے ہیں تاکہ آپ ان سے باخبر ہوں، اور اس میں عبرت کے پہلو ہوں، انھیں لوگوں کے سامنے نمایاں کریں تاکہ لوگ اس کی روشنی میں صحیح رویہ اختیار کریں۔
99۔ 2 نصیحت (ذکر) سے مراد قرآن عظیم ہے۔ جس سے بندہ اپنے رب کو یاد کرتا، ہدایت اختیار کرتا اور نجات وسعادت کا راستہ اپناتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
43: حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر اس جیسے واقعات کا جاری ہونا جبکہ آپ امی ہیں، اور آپ کے پاس ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اور جو آیات آپ تلاوت کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمائی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے…
Read the full tafseer →2 یعنی موسیٰ و فرعون کی طرح اور بہت سی گذشتہ اقوام کے واقعات ہم تجھ کو اور تیرے ذریعہ سے تمام دنیا کو سناتے رہتے ہیں جس میں بہت سے فوائد ہیں مثلاً علم کی توقیر، معجزات کی تکثیر، پیغمبر اور مسلمانوں کی تسلی، عقلمندوں کے لیے عبرت و تذکیر اور معاندین کے حق میں تہدید و ترہیب کا سامان ہوتا ہے۔
3 یعنی قرآن کریم جو ان عبرت آموز واقعات و حقائق پر مشتمل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
آیت 99 کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ج ”
اس طرح بذریعہ وحی پچھلی اقوام کے تفصیلی حالات حضور ﷺ کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا ”
ہم نے اپنے فضل خاص سے آپ ﷺ کو یہ قرآن عطا کیا ہے۔ اس میں پچھلے زمانے کی خبریں بھی ہیں اور یاد دہانی اور تذکیر و نصیحت بھی۔
Read the full tafseer →69 اس سورة کا آغاز بھی ذکر سے کیا گیا تھا۔ یعنی ہم نے یہ ذکر اس لئے نہیں نازل کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں بلکہ یہ تو ڈرنے والوں کے لئے یاددہانی ہے۔ یہاں اسی اصل موضوع کی طرف عود کیا گیا ہے۔ جو کہ نوع انسان کی ہدایت ہے۔ درمیان میں جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا گیا تو اس میں بھی یہی رنگ غالب نظر آتا ہے۔
Read the full tafseer →118۔ (جس میں علاوہ اخلاقی ہدایات وقانونی دفعات، معاشری آداب کے وہ خبریں بھی درج ہیں) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی اسی طرح جس طرح ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سامری کا قصہ بیان ہوچکا۔ (آیت) ” نقص ...... سبق “۔ یعنی ہم ماضی کے ان واقعات و حالات پر آپ کو اس لیے مطلع کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کی نبوت و رسالت وصداقت پر دلیلیں اور بڑھتی جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →کذلک نقص علیک من انبآء ما سبق وقد اتینک من لدنا ذکرا۔ اس طرح ہم تم
سے واقعات گزشتہ کی کچھ خبریں بیان کرتے رہتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا ہے۔
کَذٰلِکَ نَقُصُّیعنی جس طرح ہم نے تم کو موسیٰ کا قصہ سنایا اسی طرح ہم گزشتہ اقوام کے سابقہ احوال و واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ تم کو بصیرت حاصل ہو تمہارے علم میں افزونی ہو معجزات میں اضافہ ہو اور تمہاری امت کے بصیرت اندوز لوگوں کے لئے سرمایۂ نصیحت و بیداری حاصل ہو۔
وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُہَّاِ ذکْرًاذکر سے مراد ہے قرآن مجید یعنی ہم نے تم کو ایسا قرآن عطا کیا ہے جس میں اقوام ماضیہ کے واقعات درج ہیں یہ قابل غور و فکر یادداشت اور…
Read the full tafseer →(99) اسی طرح محمد ﷺ ہم آپ سے بذریعہ جبریل امین ؑ اور گزشتہ قوموں کے واقعات بیان کرتے ہیں اور ہم نے بذریعہ قرآن کریم آپ کو کرامت وبلندی عطا فرمائی ہے کہ جس قرآن حکیم میں تمام اولین وآخرین کے متعلق معلومات اور باتیں ہیں۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ۔۔ : یعنی جیسے ہم نے آپ کو موسیٰ ؑ ، بنی اسرائیل، فرعون اور اس کی قوم کے حالات بتائے ہیں، ایسے ہی ہم آپ کو ان چیزوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں جو آپ سے پہلے گزر چکیں۔ جنھیں نہ آپ نے دیکھا تھا اور نہ آپ کو یا آپ کی قوم کو ان کا علم تھا۔ دیکھیے ہود (49) ان سے مقصود محض وقت گزاری یا لطف اٹھانا نہیں بلکہ مقصود نصیحت ہے اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو یہ عظیم نصیحت عطا کی ہے۔ اس عظیم نصیحت سے مراد وحی الٰہی کے ذریعے سے نازل ہونے والی کتاب و حکمت (قرآن و سنت) ہے۔ اس کے سوا بڑے سے بڑے آدمی کی بات نہ اللہ کے پاس سے ہے اور نہ اس پر عمل کی اجازت ہے۔ دیکھیے سورة اعراف (3) ”ذِكْرًا“ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–104
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا :
تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا
حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [نَقُصُّ : ہم سناتے ہیں ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ کو ] [مِنْ انۢبَاۗءِ مَا : اس کی خبروں میں سے جو ] [قَدْ سَبَقَ : پہلے گزرا ہے ] [وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ : اور ہم نے دی ہے آپ ﷺ کو ] [مِنْ لَّدُنَا : اپنے خزانے میں سے ] [ذِكْرًا : ایک نصیحت ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرے گا قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ لاد کر آئے گا، مجرمین کا اس حالت میں حشر ہوگا کہ ان کی آنکھی نیلی ہونگی، آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے دن رہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح ہم نے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم آپ سے گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں (یہ خبریں آپ کی نبوت کی دلیلیں ہیں آپ انہیں نہیں جانتے تھے صرف وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا۔ اس سے قرآن مجید مراد ہے جو سارے عالم کے انسانوں کے لیے وعظ اور نصیحت ہے جو اس پر عمل کرے گا کامیاب ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
اثبات رسالت محمدیہ و تہدید معاندین و ترہیب از عذاب آخرت
قال اللہ تعالیٰ کذلک نقص علیک من انباء ما قد سبق .... الیٰ .... ان لبثتم الا یوما۔
(ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور ہارون کا ماجرا ختم ہوا جو از اول تا آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان تھا۔ اب ان آیات میں رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اے نبی ہم آپ ﷺ کو اس قرآن میں گزشتہ زمانے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت رسالت کی اور اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہو۔ اور آپ ﷺ کے لیے باعث تسلی ہو اور منکرین اور معاندین کے لیے موجب تہدید و عبرت ہو۔ اور لوگوں کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
73:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا ہمارا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اور یہ تیسری آیت تشجیع ہے یعنی گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہم آپ پر اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ انہوں نے توحید کی خاطر کس قدر مصیبتیں اٹھائیں اس طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لہذا آپ بھی ان پر صبر کریں اور یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان صداقت رسول ﷺ یعنی آپ ہماری وحی سے معلوم کر کے گذشتہ لوگوں کی اخبار بیان کر رہے ہیں۔ لہذا آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
74:۔ ” ذِکْرًا “ سے قرآن کریم مراد ہے۔ و تفسیر الذکر بالقران ھو الذی ذھب الیہ الجمھور (روح ج 16 ص 259) ۔ ” مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں سامری کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والے بعض لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ لوگ سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تمہاری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی ؟ جب انہوں نے اپنی صفائی پیش کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بچھڑا سازی کا سارا واقعہ بیان کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھتکار دیا ، اور فرمایا…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ مَا قَدْ سَبَقَ 0ۚ وَقَدْ اٰتَيْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًا 99ۖۚ
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِقُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] تو وہ اپنے اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے ۔ وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11] اور اسکی بہن کہا کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِ مَا قَدْسَبَقَ ج وَقَدْ اٰ تَیْنٰـکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا۔ (طٰـہٰ : 99)
(اے پیغمبر ! اسی طرح ہم آپ کو گزرے ہوئے حالات کی خبریں سناتے ہیں اور خاص اپنے پاس سے ہم نے آپ کو ایک ذکر عطا کیا ہے۔ )
سورت کے آغاز اور پیش نظر آیات میں ربط
پیشِ نظر آیت اور اس سے پیوستہ آیت کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس سورت کا آغاز جس موضوع سے ہوا تھا اسی پر اس کا اختتام کیا جارہا ہے۔ سورت کے آغاز میں یہ بتایا گیا تھا کہ ہم نے یہ قرآن کریم آپ ﷺ پر اس لیے نازل نہیں کیا تھا کہ آپ ﷺ کسی مشکل میں پڑجائیں بلکہ اس کے نزول کا سبب تو یہ ہے کہ بگڑی ہوئی نوع انسانی کے لیے یہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
فہم القرآن
ربط کلام : معبود باطل کی حیثیت بتلانے اور اس کا انجام دکھلانے کے بعد سچے معبود کا تعارف کر وایا گیا ہے۔
یہ کتنی عظیم حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایک واقعہ بھی داستاں گوئی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو اجزاء کی شکل میں مختلف مقامات پر بیان کرتے ہوئے موقع اور مضمون کی مناسبت سے ایسی نصیحت کی جاتی ہے جو انسان کے دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں پہلے معبود باطل یعنی بچھڑے کے بارے میں بتلایا کہ ناعاقبت اندیش لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ بچھڑے کا مجسمہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی…
Read the full tafseer →99: کَذٰلِکَ کافؔ محلاً منصوب ہے ای مثل ما اقتصصنا علیک قصۃ موسٰی و ہارون جیسے ہم نے تمہیں موسیٰ و ہارون کا واقعہ بیان کیا۔ اسی طرح نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَـآئِ مَاقَدْ سَبَقَ (ہم تم سے واقعات گزشتہ کی کچھ خبریں بیان کرتے ہیں۔ ) گزشتہ امتوں کے واقعات و حالات تاکہ وضاحت اور زیادہ ہوجائے اور آپ کے معجزات بھی زیادہ ہوجائیں۔ وَقَدْ ٰاتَیْنٰکَ (اور ہم نے ہی آپ کو دیا ہے۔ ) مِنْ لَّدُنَّا (اپنے پاس سے) ذِکْرًا (ایک نصیحت نامہ) ذکر سے قرآن مجید مراد ہے۔ یہ سب سے عظیم تر ذکر ہے اور قرآن کریم ایسا ہے۔ جو اس کی طرف متوجہ ہو اس کے لئے اس میں نجات ہے یہ واقعات، حالات پر مشتمل ہے جن میں حقیقی فکر و…
Read the full tafseer →99۔ کذالک نقص علیک من انباء ماقد سبق، ، جو امور گزرچکے ہیں ۔ وقد اتیناک من لدنا ذکرا، اس سے مراد قرآن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
99۔ 101:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے مقابلہ کا فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پوجا کا پھیلنا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پاکر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں ان پڑھ رسول ( علیہ السلام) سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں پھر فرمایا ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
آیات (98)
یعنی تمہارا کریم کے سوا کوئی معبود نہی، صرف اسی کے ساتھ محبت کی جائے، اسی پر امیدیں رکھی جائیں، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کو پکارا جائے۔ وہی کامل ہستی ہے جو اسماء حسنیٰ اور اوصاف عالیہ کی مالک ہے۔ اس کے علم نے تمام اشیاء کا احاطہ کر رکھا ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے کہ بندوں پر جتنی بھی نعمتیں ہیں صرف اسی کی عطا کردہ ہیں۔ صرف وہی ہے جو تمام تکالیف کو دور کرتا ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →101 گزشتہ قوموں کے حالات کا ذکر تسکین و عبرت کیلئے : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ یہ حالات اس لیے بیان کیے گئے کہ تاکہ اس سے آپ کے لئے تسلی کا سامان ہو اور آپ کی قوم کے لئے عبرت و نصیحت کا کہ گزشتہ انبیاء و رسل نے راہ حق میں کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائیں اور انہوں نے کس کس طرح صبر و استقامت سے کام لیا۔ اور یہ کہ حضرات انبیاء و رسل اور ان کے پیش کردہ دین حق کی تکذیب کا آخری انجام کیا ہوا۔ اور ایسے منکر لوگوں نے اپنے کیے کرائے کا بھگتان کس طرح بھگتا۔ نیز اس میں آپ کی ۔ اے پیغمبر ۔ صداقت و حقانیت کی واضح دلیل بھی ہے کہ آپ بغیر کسی سے پڑھے سیکھے کے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تو اس کا ذریعہ وحی کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–101
ف 1 اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ ان پر لدار رہے گا۔ یہ وعید ہے۔2 یہ اس دہشت اور سراسیمگی کی کیفیت کا ذکر ہے جس میں یہ مشرک اور کافر قیاتم کے روز مبتلا ہوں گے۔ قیامت کے دن مختلف احوال اور مقامات ہوں گے جن کا متعدد آیات میں ذکر پایا جاتا ہے اور ان ماقمات میں کفار کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں ہے۔ (کذا فی الشور کافی)
Read the full tafseer →(20:99) کذلک نقص علیک الخ کلام مستانفہ ہے اور خطاب حضرت نبی کریم ﷺ سے ہے کہ جس طرح ہم نے ابھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور سامری کا قصہ بیان کیا ہے اسی طرح ہم ماضی کے اور واقعات و حالات بھی تمہیں سناتے ہیں۔
انبائ۔ نبأ کی جمع۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ سچی خبریں۔ ما قد سبق جو پہلے ہوچکا ہے۔ جو پہلے گذر چکا ہے۔ اتینک۔ ماضی بمعنی حال۔ ہم تجھ کو دیتے ہیں۔ من لدنا۔ ہماری طرف سے۔ لدنا مضاف مضاف الیہ۔ ہماری طرف۔ ذکرا۔ بمعنی کتاب، قرآن۔ ذکر کو تعظیم وتفخیم کے لئے نکرہ لایا گیا ہے۔ یعنی ذکر عظیم۔ قرآن کریم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کئے گئے ہیں، اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے۔ تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پا کر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں امی رسول ﷺ سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام ، اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں۔ پھر فرمایا ” ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو اللہ کا کلام نہ مانے گا، اور اس کی نصیحت کو قبول کرنے سے منہ پھیرے گا، تو قیامت کے دن ایسے گناہوں کے بوجھ کے نیچے یہ لوگ دبے ہوئے ہوں گے۔ جس بوجھ کی سزا میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے۔ پھر فرمایا :” قیامت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
[44] یعنی قرآن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
دنیا کی جامع ترین کتاب :
(ف 1) قرآن حکیم میں کمال یہ ہے کہ اس میں رشد واصلاح کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا ، ہر نوع اور ہر قسم کے دلائل بیان کئے گئے ہیں آپ دیکھیں گے کہ کہیں فلسفیانہ براہین کا انبار ہے ، کہیں فطرت کے عجائبات سے استشہاد ہے ، کہیں یہ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفسیات کا مطالعہ کرو ، اور دل کی گہرائیوں کو دیکھو اور کہیں دنیا کے اہم اور مفید البیان واقعات گنائے ہیں ، اخلاق ومعاشرت کی تفصیلات جدا ہیں اور حکم ونصائح کا ذکر ، علیحدہ عقائد کے مسائل بھی ہیں ، اور اقوام وامم کے حالات بھی یہی وجہ ہے کہ جامعیت کے اعتبار سے قرآن کا پایہ کائنات کے تمام صحیفوں سے کہیں بلند ہے ۔
Read the full tafseer →-99 جس طرح ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سنایا اسی طرح ہم آپ کو واقعات گزشتہ کی خبریں بھی سناتے ہیں اور ہم نے اپنے پاس سے آپ کو ایک پڑھنے کی اور نصیحت کی کتاب دی ہے۔ یعنی آپ کو قرآن کریم عنایت کیا ہے جس میں واقعات گزشتہ کی خبریں بھی ہیں اور وہ قرآن کریم آپ کی نبوت پر دلیل بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
ف 9۔ تاکہ نام و نشان اس کا نہ رہے۔
Read the full tafseer →ہم نے آپ کو اے پیغمبر اسلام پہلی سرگزشتوں کے واقعات بھی سنائے اور قرآن بھی دیا :
99۔ ہم نے اس سے پہلے کتنی ہی دفعہ یہ بات عرض کی ہے کہ قرآن کریم میں گزشتہ کتب الہی کا خلاصہ بھی آگیا ہے جس پر ایمان لانا اور اس کو اپنے لئے راہنمائے ہدایت بنانا لازم اور ضروری ہے یہ نہیں کہ یہ قصہ تورات یا انجیل کا سمجھ کر مرضی کی جائے اور اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ کے اپنے زمانہ کے حالات بھی اس میں بیان کئے گئے ہیں وہ بھی جو پیش آچکے تھے اور وہ بھی جو ابھی پیش آنے تھے اور ان میں سے آپ ﷺ کے وقت میں وہ پیش آئے اور ایسے بھی جو بعد میں پیش آچکے تھے اور وہ بھی جو ابھی پیش آنے تھے اور ان میں سے آپ ﷺ کے وقت میں وہ پیش آئے…
Read the full tafseer →Commentary
وَقَدْ آتَيْنَاكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا (And We have given to you, from Ourself, a (book on advice. - 20:99) According to a majority of commentators the word (advice) in the present context means the Qur'an.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–99
75. Now that the story of Prophet Moses (peace be upon him) comes to an end, the same theme, that was interrupted by this story, has been resumed.
76. That is, the Quran about which it was said at the beginning of the Surah that it had not been sent down to put the Holy Prophet (peace be upon him) in distress, and that it was an admonition for the God-fearing.
Read the full tafseer →