Taa-Haa 20:9

Taa-Haa · from ayah 9

20:9

وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ۟ۘ‌وَهَلۡ اَتٰٮكَ حَدِيۡثُ مُوۡسٰى‌ۘ‏

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And has the story of Moses reached you? -

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:9

اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کیا تمہیں موسیٰ (کے حال) کی خبر ملی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تجھے موسیٰ ؑ کا قصہ بھی معلوم ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) کیا تم تک موسیٰ کا واقعہ پہنچا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ تمہیں موسیٰ کی خبر آئی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کیا آپ کے پاس موسٰی ؑ کی خبر آچکی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا تیرے پاس موسیٰ کی خبر پہنچی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور کیا آپ کو موسیٰ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کیا موسیٰ ؑ کی سرگزشت تمہارے علم میں آئی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کیا تمہیں موسیٰ کی خبر بھی پہنچی ہے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو موسیٰ کی بھی خبر پہنچی ہے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کیا آپ ﷺ تک پہنچی ہے موسیٰ ؑ کی خبر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کیا آپ کو موسیٰ کے حال کی خبر ملی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Has the story of Moses reached you?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Has there come to you the story of Musa?

— Muhammad Taqi Usmani

Has there come to you the story of Musa?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And has there come to you the story of Musa

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Hath there come unto thee the story of Moses?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And has the story of Moses reached you? -

— Saheeh International

(Muhammad), have you heard the story of Moses?

— Muhammad Sarwar

And has the story of Musa come to you?

— Muhammad Habib Shakir

Hath there come unto thee the story of Musa?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 20:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

آگ کی تلاش۔ یہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کرچکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا ابر چھایا ہوا تھا ہرچند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا اس طرف آگ سی نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة طٰهٰ 5 یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ چند سال مدین میں جلا وطنی کی زندگی گزار نے کے بعد اپنی بیوی کو (جن سے مدین ہی میں شادی ہوئی تھی) لے کر مصر کی طرف واپس جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کی سرگزشت سورة قَصص میں بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا تھا اور اس پر انہیں اپنی گرفتاری کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا تو وہ مصر سے بھاگ کر مدین میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام کے قصہ) کی خبر پہنچی ہے (یعنی وہ سننے کے قابل ہے کہ اس میں توحید و نبوت کے متعلق علوم ہیں جن کی تبلیغ نافع ہوگی وہ قصہ یہ ہے کہ) جب کہ انہوں نے (مدین سے آتے ہوئے ایک رات جس میں سردی بھی تھی اور رستہ بھی بھول گئے تھے کوہ طور پر) ایک آگ دیکھی (کہ واقع میں وہ نور تھا مگر شکل آگ کی سی تھی) سو اپنے گھر والوں سے (جو صرف بی بی تھی یا خادم وغیرہ بھی) فرمایا کہ تم (یہاں ہی) ٹہرے رہو (یعنی میرے پیچھے پیچھے مت آنا کیونکہ یہ تو احتمال ہی نہ تھا کہ بدون ان کے آگے سفر کرنے لگیں گے) میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمہارے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

2۔ آگے کا مضمون … آیات 9 تا 98 اوپر کے مجموعہ آیات میں نبی ﷺ کو جو تسکین و تسلی دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کی روشنی میں دی گئی ہے۔ اب آگے حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت آرہی ہے جس میں وہی حقیقتیں، جو اوپر علمی انداز میں بیان ہوئی ہیں، چلتی پھرتی عملی زندگی میں دکھا دی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو بعثت سے پہلے اور بعثت کے بعد جن آزمائشوں سے گزرنا پڑا اور ان میں اللہ کی مدد نے جس طرح ان کو سہارا دیا، ان کی تفصیل اس سرگزشت میں آگئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے آگے جو مراحل آنے والے تھے ابھی ان کا بہت بڑا حصہ پس پردہ تھا اس سرگزشت نے ان مراحل کو بھی آپ ﷺ کے سامنے کردیا اور ان کے لئے جن تیاریوں کی ضرورت تھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

10۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب موسیٰ ؑ مدین سے اپنی بیوی کے ہمراہ (جو ایک قول کے مطابق حضرت شعیب ؑ کی دختر نیک اختر تھیں) اپنی والدہ کی طرف سے واپس جا رہے تھے، اندھیری رات تھی اور راستہ بھی نامعلوم۔ بعض مفسرین کے بقول بیوی کی زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور انھیں حرارت کی ضرورت تھی۔ یا سردی کی وجہ سے گرمی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اتنے میں دور سے انھیں آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔ گھر والوں سے یعنی بیوی سے (یا بعض کہتے ہیں خادم اور بچہ بھی تھا اس لئے جمع کا لفظ استعمال فرمایا) کہا تم یہاں ٹھہرو ! شاید میں آگ کا کوئی انگارا وہاں سے لے آؤں یا کم از کم وہاں سے راستے کی نشان دہی ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–9

5: اور زیادہ چھپی ہوئی باتیں وہ ہیں جو زبان سے کہی ہی نہیں گئیں، بلکہ جن کا صرف خیال دل میں آیا۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بھی باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

وھل اتک حدیث موسیٰ (02 : 9) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے تاکہ سامعین سمجھ جائیں کہ نبی کریم ﷺ کی طرف قرآن کی وحی بھیجنا کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس طرح پیشتر موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی مل چکی ہے، آپ ﷺ کو بھی ملی، جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کی وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی، آپ ﷺ کی وحی میں بھی ان ہی اصول پر زور دیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق میں جو صعوبات و شدائد برداشت کیں، آپ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح ان کو آخرکار کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن مقہور و مخذول ہوئے آپ ﷺ بھی یقینا غالب و منصور ہوں گے اور آپ ﷺ کے دشمن تباہ و ذلیل کیے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8 اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَط لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی ” اب یہاں سے آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ شروع ہو رہا ہے جس کے بارے میں بیشتر تفصیلات سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران گزر چکی ہیں۔ چناچہ یہاں وہ تفصیلات پھر سے دہرائی نہیں جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 قرآن کے انداز بیان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس قدر تفصیل کے ساتھ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ پہلی بار اسی سورة میں بیان ہوا ہے اور قرآن کے مخصوص طرز بیان کی بنا پر اس میں قریش کے کئی اعتراضات کے جواب از خود آگئے ہیں جو وہ وقتا ً فوقتا ً کرتے رہتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ یعنی قصہ موسیٰ بھی سننے کے قابل ہے جو حکم ومعارف اور علوم توحید ونبوت سے پر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہل اتک حدیث موسیٰ ۔ اور کیا آپ کو موسیٰ کے قصہ کی خبر بھی پہنچی ہے۔ استفہام تقریری ہے یعنی یقیناً موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ تم کو پہنچ گیا ‘ حضرت موسیٰ کا واقعہ بھی رسول اللہ کے واقعہ سے ملتا جلتا تھا ‘ حضرت موسیٰ کو تعب و مشقت اٹھانی پڑی تھی اور اس کے بلند مراتب پر آپ فائز ہوئے تھے ‘ اس لئے نزول قرآن اور اس کی اصلی غرض کے تمہیدی ذکر کے بعد حضرت موسیٰ کا واقعہ ذکر فرمانا شروع کردیا ‘ شروع نبوت کے دور میں جن سورتوں کا نزول ہوا۔ سورت طہٰ بھی انہی میں سے ہے۔ حضرت موسیٰ کا واقعہ اپنے اندر جن مضامین کو سموئے ہوئے ہے نبوت کے بار کی برداشت تبلیغ رسالت ‘ تحمل شدائد پر صبر وغیرہ انہی کی طرف سورة کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور اے محمد ﷺ ابھی تک آپ کو حضرت موسیٰ ؑ کے قصہ کی خبر نہیں پہنچی ہے، اب آپ کو بتاتے ہیں جب کہ انہوں نے (مدین سے واپسی پر) اپنے بائیں طرف ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں یعنی اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ لاؤں کیوں کہ اس رات میں سردی بھی بہت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے یا شاید وہاں آگ کے پاس راستہ بتانے والا بھی کوئی مجھے مل جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–11

وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى : قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ ؑ کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں ”اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“ کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کردیا گیا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

(تفسیر 9 ۔ 16) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھل اتک حدیث موسیٰ ۔ اہل معانی نے کہا : یہ استفہام اثبات و ایجاد ہے اس کا معنی ہے الیس قدأتاک ؟ کیا تیرے پاس نہیں آئی موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع ؟ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے قدأتاک (آچکی ہے تیرے پاس) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کلی نے کہا : اس کا معنی ابھی تک موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع نہیں آئی۔ پھر اس کے متعلق خود خبر دی۔ اذ راناراً فقال لا ھلہ امکثوا انی انست ناراً لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا : یہ اس وقت ہوا جب آپ کی خدمت کرنے کی مدت پوری ہوئی اور آپ اپنی اہلیہ کو لے کر چلے۔ آپ مدین سے مصر کی طرف آرہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں : 2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ 3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَهَلْ : اور کیا ] [اَتٰىكَ : پہنچی آپ ﷺ کے پاس ] [حَدِيْثُ مُوْسٰى: موسٰی (علیہ السلام) کی بات ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–18

مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

7:۔ یہ دوسری آیت تشجیع ہے اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ یاد دلایا کہ دیکھو مسئلہ توحید کی تبلیغ کے لیے انہوں نے کسی قدر مصائب اٹھائے۔ لہذا آپ بھی اعلاء کلمۃ اللہ کی خاطر جس قدر تکلیفیں آئیں ان پر صبر کریں۔ مسوق لترغیب النبی ﷺ فی الائتساء بموسی (علیہ السلام) فی تحمل اعباء النبوۃ والصبر علی مقاساۃ الخطوب فی تبلیغ احکام الرسالۃ۔ (روح ج 16 ص 164) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

حضور ﷺ کے لئے تسلی : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں انبیاء کو سخت دشمنوں سے واسطہ پڑا تو انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ناکام کیا۔ یہ سورة اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، مقصد یہ تھا کہ جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے سخت تکلیف برداشت کیں تو اس کے بعد اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی ، اسی طرح اے پیغمبر ! آپ کو بھی سخت مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى۝ 9ۘ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی ) الاتیان ۔ ( مص ض ) کے معنی کسی چیز کے بسہولت آنا کے ہیں ۔ اسی سے سیلاب کو اتی کہا جاتا ہے حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی۔ (طٰـہٰ : 9) (کیا آئی ہے آپ کے پاس موسیٰ کی سرگزشت۔ ) ھَلْکا مفہوم ھَلْ …استفہام کے لیے آتا ہے۔ یہ استفہام کبھی تقریری ہوتا ہے اور کبھی انکاری۔ یہاں یہ استفہام تقریری ہے اور جہاں تک اس کے موقع استعمال کا تعلق ہے اسے دو موقعوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کبھی تہدید و وعید کے لیے اور کبھی ترغیب و تشویق کے لیے۔ یہاں اس کا استعمال ترغیب و تشویق کے لیے ہے۔ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے دل میں تشویق پیدا کی جارہی ہے تاکہ وہ شوق سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت سنیں۔ بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اچانک بغیر کسی مناسبت کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر شروع کردیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ رسول محترم ﷺ کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تفصیلی واقعہ : 9: وَھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی ( کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ کی خبر پہنچی) ھَلْ یہاں قد کے معنی میں ہے اور حدیث کا معنی خبر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں آپ کو خطاب کرنے کے بعد اس لئے سنایا تاکہ نبوت کی مشقتیں اور صعوبتیں برداشت کرنی اور ناپسندیدہ باتوں کے پیش آنے کی صورت میں صبر کرنے میں آپ ان کے طرز عمل کو سامنے رکھیں تاکہ آپ اسی طرح بلند مرتبہ پائیں جیسے موسیٰ (علیہ السلام) نے پایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9۔ وھل اتک حدیث موسی، ، استفہام تقریری ہے یقینا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ تمہیں پہنچ گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–16

9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–11

خدا کا استوا علی العرش ہونا قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 حضرت موسیٰ کے عبرتوں بھرے قصے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تمہیں موسیٰ کی خبر بھی پہنچی ؟ "۔ استفہام تقریر و تشویق کے لئے ہے تاکہ بعد کے کلام کو غور و توجہ سے سنیں۔ (مراغی، صفوہ وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ کا یہ قصہ بھی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پر محیط و مشتمل ہے اور اس سے دعوت الی اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کے سلسلے میں بڑی راہنمائی اور مدد ملتی ہے کہ حضرت موسیٰ نے راہ حق میں کیا کیا مشقتیں جھیلیں ؟ کیا کیا اور کیسے کیسے صبر آزما حالات آپ کو اس دوران پیش آئے ؟ ؟ قدرت کی عنایتیں کس کس طرح آپ پر متوجہ ہوئیں اور کس طرح بالآخر آپ (علیہ السلام) نے تن تنہا فرعون جیسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 8–9

ف 8 قرآن کی عظمت کے ذکر اور تبلیغ کے سلسلے میں آنحضرت کی تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے حضرت موسیٰ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے جیسے حضرت موسیٰ کو پیش آچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–16

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–9

ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ شعیب (علیہ السلام) سے اجازت لے کر جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین سے مصر کو اپنی ماں اور اپنے بھائی ہارون سے ملنے کے لئے آرہے تھے، تو اس سفر میں ان کی بی بی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ زنانے کے ساتھ کے سبب سے موسیٰ (علیہ السلام) راتوں کو راستہ چلتے تھے۔ وہ سخت جاڑے کا موسم تھا۔ برف کے پڑنے سے ایک رات بڑی سردی ہوئی، اور اتفاق سے اس رات کو موسیٰ (علیہ السلام) راستہ بھی بھول گئے تھے۔ اسی حالت میں طور پہاڑ کی داہنی طرف کچھ آگ کی سی روشنی دکھائی دی۔ اس روشنی کو دیکھ کر انہوں نے اپنی بی بی سے کہا کہ تم یہاں ٹھہری رہو، میں جہاں آگ کی روشنی ہے ، وہاں جا کر آگ لے آتا ہوں۔ اور آگ کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ سمجھ لیں کہ نبی ﷺ کی طرف وحی کا نزول کوئی انوکھی بات نہیں۔ جس طرح پیشتر موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی مل چکی ہے آپ کو بھی ملی اور جیسے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی توحید وغیرہ کی تعلیم پر مشتمل تھی آپ کی وحی میں بھی اسی اصول پر زور دیا گیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ حق میں جو صعوبتیں برداشت کیں آپ کو بھی برداشت کرنی پڑیں گی اور جس طرح ان کو آخرکار کامیابی اور غلبہ نصیب ہوا اور دشمن ذلیل ہوئے اسی طرح آپ بھی یقینا غالب و منصور ہوں گے اور آپ کے دشمن تباہ و ذلیل ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

(ف 3) رات کی تاریکی اور سردی میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، مگر جنگل اور سنسان زمین میں آگ کہاں ؟ بےچین تھے کہ دور سے شعلے اٹھتے معلوم ہوئے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو ، میں جاتا ہوں ممکن ہے آگ کے چند انگارے لے آؤں اور ان سے تم بدن گرم کرسکو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آگ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، قرآن حکیم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے مفسرین کہتے ہیں ، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی دردزہ سے جانکاہ حالت میں تھی ، غور فرمائیے جنگل میں جہاں ہمدردی اور اعانت کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو ، جہاں آگ تک میسر نہ ہو ، یہ وقت کس قدر نازل ہوجاتا ہے ، یہ وقت بہت گھبراہٹ اور اضطراب کا ہے مگر آپ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-9 اور اے پیغمبر ! کیا آپ کو موسیٰ کی بات اور اس کی خبر پہونچی ہے۔ یعنی استفہام تشویق کی بنا پر پوچھا گیا تاکہ شوق دلا کر واقعہ ذکر کیا جائے اور وہ واقعہ سنایا جائے جس میں ان کو نبوت دینے کا ذکر ہے اور یہ واقعہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور آپ کی نبوت پر ایک دلیل ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–15

ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ مثیل موسیٰ ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ آپ کو پہنچ چکا : 9۔ اے پیغمبر اسلام ! کیا موسیٰ (علیہ السلام) کی حکایت تو نے سنی ؟ یعنی یقینا موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ تو آپ ﷺ تک پہنچ چکا کہ اس اللہ کے بندے کو کیا کیا مشقت اٹھانا پڑی تھی اور پھر وہ ان کو برداشت کرکے ہی اس بلند مقام پر پہنچا تھا ، سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ اپنے اندر جن مضامین کو سموئے ہوئے ہے نبوت کے بارے کی برداشت اور ایک ظالم و جابر حکمران سے واسطہ جس کے ظلم کی داستان دنیا جانتی ہے اور جو اپنے آپ کو الہ اور لوگوں کا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھے بیٹھا تھا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر مظالم کی انتہا اور اسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Commentary وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ (And has there come to you the story of Musa? - 20:9) In the earlier verses, reference was made to the greatness of the Qur’ an and also to the reverence due to the Holy Prophet ﷺ . Thereafter, the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been related so that the Holy Prophet ﷺ should become fully aware of the trials and tribulations which afflict the prophets in the discharge of their missions, and which were rendered with courage and fortitude by the earlier prophets. This was to prepare the Holy Prophet ﷺ for the great mission which was entrusted…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

5. This happened when Prophet Moses (peace be upon him) was returning to Egypt after passing several years in exile in Midian, along with his wife whom he had married there. According to the early part of his history, which has been related in Surah Al-Qasas, an Egyptian had been killed by Prophet Moses (peace be upon him), so he had to leave Egypt in order to escape arrest and had taken refuge in Midian. 6. It appears that this happened during a night of winter, when Prophet Moses (peace be upon him) was passing through the southern part of the Sinai Peninsula. When he saw a fire at a…

Read the full tafseer →