Taa-Haa 20:10

Taa-Haa · from ayah 10

20:10

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ هُدًی ۟اِذۡ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَهۡلِهِ امۡكُثُوۡۤا اِنِّىۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّىۡۤ اٰتِيۡكُمۡ مِّنۡهَا بِقَبَسٍ اَوۡ اَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

When he saw a fire and said to his family, "Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance."

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:10

جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ " ذرا ٹھیرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق) کوئی رہنمائی مل جائے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم (یہاں) ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لاؤں یا آگ (کے مقام) کا رستہ معلوم کرسکوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جبکہ اس نے آگ دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا سی دیر ٹھہر جاؤ مجھے آگ دکھائی دی ہے۔ بہت ممکن ہے کہ میں اس کا کوئی انگارا تمہارے پاس ﻻؤں یا آگ کے پاس سے راستے کی اطلاع پاؤں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو ایک آگ نظر آئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید میں اس میں سے کوئی شعلہ تمہارے پاس لے آؤں، یا اس آگ کے پاس مجھے راستے کا پتہ مل جائے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنی بی بی سے کہا ٹھہرو مجھے ایک آگ نظر پڑی ہے شاید میں تمہارے لیے اس میں سے کوئی چنگاری لاؤں یا آ گ پر راستہ پاؤں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب موسٰی ؑ نے (مدین سے واپس مصر آتے ہوئے) ایک آگ دیکھی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا: تم یہاں ٹھہرے رہو میں نے ایک آگ دیکھی ہے (یا میں نے ایک آگ میں انس و محبت کا شعلہ پایا ہے) شاید میں اس میں سے کوئی چنگاری تمہارے لئے (بھی) لے آؤں یا میں اس آگ پر (سے وہ) رہنمائی پا لوں (جس کی تلاش میں سرگرداں ہوں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بیشک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید میں تمہارے پاس اس سے کوئی انگارا لے آؤں، یا اس آگ پر کوئی رہنمائی حاصل کرلوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے کہا : ٹھہرو ! مجھے آگ نظر آئی ہے۔ شاید میں وہاں سے آپ کے کوئی کوئی انگارا لا سکوں یا مجھے وہاں سے راہ کا پی پتہ چل جائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ اس نے دیکھا ایک شعلہ تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ ذرا ٹھہرو، مجھے آگ نظر آئی ہے، تاکہ میں اس میں سے ایک انگارہ لائوں یا ممکن ہے مجھے وہاں راستہ کا کچھ سراغ مل جائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جب انہوں نے ایک آگ دیکھی، اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں (وہاں جا کر) اس میں سے تمہارے لئے کوئی انگارا لے آؤں، یا مجھے اس آگ پر (راستے سے متعلق) کوئی راہنمائی ہی مل جائے،

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ وقت قابل ذکر ہے) جب انہوں نے آگ دیکھی۔ سو انہوں نے اپنے گھروالوں سے کہا تم یہیں ٹھہرو۔ میں نے آگ دیکھی ہے کیا عجب میں اسمیں سے کوئی شعلہ لے آؤں یا آگ کے پاس راستہ (کا پتہ) پا جاؤں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب اس نے ایک آگ دیکھی تو اس ؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ آپ ذرا (یہاں) ٹھہرئیے مجھے آگ نظر آئی ہے تاکہ میں لے آؤں تمہارے لیے اس میں سے کوئی انگارہ یا میں پاؤں اس آگ (کی جگہ) سے کوئی راہنمائی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب انہوں نے آگ دیکھی تو اپنے گھروالوں سے کہا کہ تم یہاں ٹھہرو میں نے آگ دیکھی ہے، میں وہاں جاتا ہوں شاید اس میں سے میں تمہارے پاس انگاری لائوں یا آگ کے مقام کا رستہ معلوم کرسکوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

When he saw a fire and said to his family: "Hold on! I have just perceived a fire; perhaps I will bring a brand from it for you, or I will find some guidance at the fire about the way to follow."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When he saw a fire and said to his family, :Stay here. I have noticed a fire. Perhaps I can bring you an ember from it, or find some guidance by the fire.

— Muhammad Taqi Usmani

When he saw a fire and said to his family, :Stay here. I have noticed a fire. Perhaps I can bring you an ember from it, or find some guidance by the fire.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When he saw a fire, he said to his family: "Wait! Verily, I have seen a fire; perhaps I can bring you some burning brand therefrom, or find some guidance at the fire."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When he saw a fire and said unto his folk: Lo! Wait! I see a fire afar off. Peradventure I may bring you a brand therefrom or may find guidance at the fire.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

When he saw a fire and said to his family, "Stay here; indeed, I have perceived a fire; perhaps I can bring you a torch or find at the fire some guidance."

— Saheeh International

When he saw the fire, he said to his family, "Wait here for I can see a fire. Perhaps I shall bring you a burning torch or find a way to some fire".

— Muhammad Sarwar

When he saw fire, he said to his family: Stop, for surely I see a fire, haply I may bring to you therefrom a live coal or find a guidance at the fire.

— Muhammad Habib Shakir

Recall what time he saw a fire and said to his household, bide ye! verily I have perceived a fire! haply I may bring you from it a brand or may find at the fire a guidance.

— Abdul Majid Daryabadi

Behold, he saw a fire: So he said to his family, "Tarry ye; I perceive a fire; perhaps I can bring you some burning brand therefrom, or find some guidance at the fire."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

آگ کی تلاش۔ یہاں سے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ شروع ہوتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ آپ اس مدت کو پوری کرچکے تھے جو آپ کے اور آپ کے خسر صاحب کے درمیان طے ہوئی تھی اور آپ اپنے اہل و عیال کو لے کر دس سال سے زیادہ عرصے کے بعد اپنے وطن مصر کی طرف جا رہے تھے سردی کی رات تھی راستہ بھول گئے تھے پہاڑوں کی گھاٹیوں کے درمیان اندھیرا تھا ابر چھایا ہوا تھا ہرچند چقماق سے آگ نکالنا چاہی لیکن اس سے بالکل آگ نہ نکلی ادھر ادھر نظریں دوڑائیں تو دائیں جانب کے پہاڑ پر کچھ آگ دکھائی دی تو بیوی صاحبہ سے فرمایا اس طرف آگ سی نظر آرہی ہے میں جاتا ہوں کہ وہاں سے کچھ انگارے لے آؤں تاکہ تم سینک تاپ کرلو اور کچھ روشنی بھی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 9–10

سورة طٰهٰ 5 یہ اس وقت کا قصہ ہے جب حضرت موسیٰ چند سال مدین میں جلا وطنی کی زندگی گزار نے کے بعد اپنی بیوی کو (جن سے مدین ہی میں شادی ہوئی تھی) لے کر مصر کی طرف واپس جا رہے تھے۔ اس سے پہلے کی سرگزشت سورة قَصص میں بیان ہوئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا تھا اور اس پر انہیں اپنی گرفتاری کا اندیشہ لاحق ہوگیا تھا تو وہ مصر سے بھاگ کر مدین میں پناہ گزیں ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–10

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ کیا آپ کو موسیٰ (علیہ السلام کے قصہ) کی خبر پہنچی ہے (یعنی وہ سننے کے قابل ہے کہ اس میں توحید و نبوت کے متعلق علوم ہیں جن کی تبلیغ نافع ہوگی وہ قصہ یہ ہے کہ) جب کہ انہوں نے (مدین سے آتے ہوئے ایک رات جس میں سردی بھی تھی اور رستہ بھی بھول گئے تھے کوہ طور پر) ایک آگ دیکھی (کہ واقع میں وہ نور تھا مگر شکل آگ کی سی تھی) سو اپنے گھر والوں سے (جو صرف بی بی تھی یا خادم وغیرہ بھی) فرمایا کہ تم (یہاں ہی) ٹہرے رہو (یعنی میرے پیچھے پیچھے مت آنا کیونکہ یہ تو احتمال ہی نہ تھا کہ بدون ان کے آگے سفر کرنے لگیں گے) میں نے ایک آگ دیکھی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید میں اس میں سے تمہارے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اذرا نارا فقال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی (10) حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت ابتدائے نبوت سے یہ حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا آغاز اس وقت سے کیا ہے جب ان کو نبوت عطا ہوئی ہے۔ مدین سے واپسی پر جب وہ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ وادیٔ طور کے پاس پہنچے تو شب کا وقت تھا۔ راستہ کا بھی کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا اور سردی بھی معلوم ہوتا ہے کہ سخت تھی۔ اتنے میں ایک سمت سے انہیں شعلہ سا نظر آیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے گھر والوں سے فرمایا کہ تم لوگ یہیں ٹھہرو، مجھے ایک شعلہ سا دکھائی دیا ہے، میں وہاں جاتا ہوں یا تو وہاں سے تمہارے تاپنے کے لئے، جیسا کہ سورة قصص میں تصریح ہے، کوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 9–10

10۔ 1 یہ اس وقت کا واقعہ ہے۔ جب موسیٰ ؑ مدین سے اپنی بیوی کے ہمراہ (جو ایک قول کے مطابق حضرت شعیب ؑ کی دختر نیک اختر تھیں) اپنی والدہ کی طرف سے واپس جا رہے تھے، اندھیری رات تھی اور راستہ بھی نامعلوم۔ بعض مفسرین کے بقول بیوی کی زچگی کا وقت بالکل قریب تھا اور انھیں حرارت کی ضرورت تھی۔ یا سردی کی وجہ سے گرمی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اتنے میں دور سے انھیں آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے نظر آئے۔ گھر والوں سے یعنی بیوی سے (یا بعض کہتے ہیں خادم اور بچہ بھی تھا اس لئے جمع کا لفظ استعمال فرمایا) کہا تم یہاں ٹھہرو ! شاید میں آگ کا کوئی انگارا وہاں سے لے آؤں یا کم از کم وہاں سے راستے کی نشان دہی ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–11

6: سورة قصص میں آگے اس واقعے کی تفصیل آنے والی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ مدین میں ایک عرصہ دراز گذارنے کے بعد اپنی اہلیہ کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ جب صحرائے سینا میں پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ اور سخت سردی کا بھی احساس ہوا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ کی سی شکل نظر آئی جو در حقیقت ایک نور تھا۔ اس وقت انہوں نے اپنی اہلیہ کو وہاں رکنے کی ہدایت دی۔ اور خود آگ کی طرف چلے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

وھل اتک حدیث موسیٰ (02 : 9) ” کیا موسیٰ ؐ کا قصہ تمہیں معلوم ہے “۔ اگر نہیں تو سنئے ‘ حضرت موسیٰ ؐ مدین سے واپسی مصر جارہے تھے۔ وہ طور کے دامن میں سفر کررہے تھے ‘ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی تھی اور ان کے اور اللہ کے نبی شعیب (علیہ السلام) کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ پوراہو گیا تھا۔ معاہدہ یہ تھا کہ حضرت شعیب اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو انکے نکاح میں دے دے گا اگر وہ انکی آٹھ سال تک خدمت کرتا رہے یا دس سال تک۔ میعاد پوری کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؐ عازم مصر ہوئے تاکہ وہاں وہ اپنی بیوی کیساتھ مستقلاً زندگی گزاریں۔ مصر میں جہاں ان کی ولادت ہوئی اور جہاں ان کی قوم کے لوگ بنی اسرائیل آباد ہیں ‘ فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 10–11

3 اس قصہ کے مختلف اجزاء سورة قصص، سورة طہٰ اور سورة اعراف میں سے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مدین سے مصر کی طرف واپسی کا واقعہ مذکور ہے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا۔ کئی سال وہاں مقیم رہنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر جانے کا ارادہ کیا، حاملہ بیوی ہمراہ تھی رات اندھیری تھی، سردی کا شباب تھا، بکریوں کا گلہ بھی ساتھ لے کر چلے تھے۔ اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں متفرق ہوگئیں اور بیوی کو درد زہ شروع ہوگیا۔ اندھیرے میں سخت پریشان تھے سردی میں تاپنے کے لیے آگ موجود نہ تھی۔ چقماق مارنے سے بھی آگ نہ نکلی۔ ان مصائب کی تاریکیوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10 اِذْ رَاٰ نَارًا ” یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف واپس آ رہے تھے۔ اندھیری رات تھی ‘ سردی کا موسم تھا اور راستے کے بارے میں بھی ان کے پاس یقینی معلومات نہیں تھیں۔ اس صورت حال میں جب آپ علیہ السلام کو آگ نظر آئی ہوگی تو یقیناً آپ علیہ السلام بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ” ممکن ہے مجھے وہاں سے کوئی چنگاری مل جائے جس کی مدد سے ہم آگ جلا کر تاپ سکیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں سے مجھے راستے کے بارے میں کوئی راہنمائی مل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں ہم کسی غلط…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–12

9 سیدنا موسیٰ کا آگ لینے کے لئے جانا :۔ اس قصہ کا آغاز اس وقت سے کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی تھی۔ آٹھ دس سال آپ مدین میں شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے وہاں آپ کا نکاح شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے ہوا تھا۔ طے شدہ مدت گزارنے کے بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ اپنے آبائی وطن مصر کی طرف چلنا چاہئے۔ دوران سفر آپ کو رات آگئی۔ شدید سردی کا موسم تھا۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی۔ سخت اندھیرا تھا لہذا آپ راستہ بھی بھول گئے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں۔ سخت پریشانی کا عالم تھا۔ اتنے میں آپ کو دور کہیں سے آگ دکھائی دی۔ جو اس بات کی علامت تھی کہ ضرور وہاں کوئی آدمی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ (اس وقت جب وہ مدین سے اپنی زوجہ محترمہ کو رخصت کرا کے مصر لارہے تھے، موسم سردی کا تھا، اور رات اندھیری تھی) (آیت) ” نارا “۔ مشرقی ممالک میں رات کو سفر کرنے کا یہی دستور عام ہے اور یہ دستور بھی عام ہے کہ سردی میں رات کو باہر آگ کے بڑے بڑے الاؤ جلا کر بیٹھتے ہیں۔ اندھیرے میں ان کی روشنی بڑی دور سے نظر آتی ہے۔ رانارا “۔ جو روشنی آپ نے دیکھی وہ آپ کو آگ ہی کی معلوم ہوئی۔ یہ ضرور نہیں کہ فی الواقع وہ آگ ہی رہی ہو۔ اہل لطائف کہتے ہیں کہ اس آیت میں اصل ہے صوفیہ کے مسئلہ تمثیل کی۔ موسیٰ کے سامنے نور قدیم، نار حادث کی شکل میں متمثل ہوا۔ 10۔ یعنی میرے پیچھے پیچھے نہ آؤ میں اکیلا جاتا ہوں۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اذ را ناراً (موسیٰ کا واقعہ اس وقت کا) جب کہ انہوں نے آگ دیکھی تھی۔ بغوی نے واقعہ کی تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت شعیب سے مصر لوٹ کر جانے کی اجازت طلب کی تاکہ اپنی والدہ اور بہن کی زیارت کرسکیں حضرت شعیب نے اجازت دے دی آپ اپنی بی بی کے ساتھ چل پڑے۔ سردی کا موسم تھا۔ بادشاہان شام کے خوف سے آپ عام راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ پر ہو لئے بیوی دنوں سے تھیں ‘ صبح ‘ شام کا بھروسہ نہ تھا راستوں سے واقف نہ تھے صحرا میں بغیر جانے ایک راستہ پر چل پڑے وہ راستہ کوہ طور کے دائیں مغربی جانب جاتا تھا ‘ رات تاریک اور فضا برفیلی تھی راستہ میں بی بی درد زہ ہونے لگی آپ نے چقماق کو رگڑا پر آگ نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–10

(9۔ 10) اور اے محمد ﷺ ابھی تک آپ کو حضرت موسیٰ ؑ کے قصہ کی خبر نہیں پہنچی ہے، اب آپ کو بتاتے ہیں جب کہ انہوں نے (مدین سے واپسی پر) اپنے بائیں طرف ایک آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں یعنی اپنی بیوی سے کہا تم ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں اس میں سے تمہارے پاس کوئی شعلہ لاؤں کیوں کہ اس رات میں سردی بھی بہت تھی اور راستہ بھی بھول گئے تھے یا شاید وہاں آگ کے پاس راستہ بتانے والا بھی کوئی مجھے مل جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 9–11

وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى : قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ ؑ کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں ”اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“ کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کردیا گیا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 9–10

(تفسیر 9 ۔ 16) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وھل اتک حدیث موسیٰ ۔ اہل معانی نے کہا : یہ استفہام اثبات و ایجاد ہے اس کا معنی ہے الیس قدأتاک ؟ کیا تیرے پاس نہیں آئی موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع ؟ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے قدأتاک (آچکی ہے تیرے پاس) ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کلی نے کہا : اس کا معنی ابھی تک موسیٰ کے واقعہ کی اطلاع نہیں آئی۔ پھر اس کے متعلق خود خبر دی۔ اذ راناراً فقال لا ھلہ امکثوا انی انست ناراً لعلی اتیکم منھا بقیس او اجد علی النار ھدی۔ حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ نے کہا : یہ اس وقت ہوا جب آپ کی خدمت کرنے کی مدت پوری ہوئی اور آپ اپنی اہلیہ کو لے کر چلے۔ آپ مدین سے مصر کی طرف آرہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 1–11

1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں : 2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “ 3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اِذْ : جب ] [رَاٰ : انھوں (علیہ السلام) نے دیکھی ] [نَارًا : ایک آگ ] [فَقَالَ : تو انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لِاَهْلِهِ : اپنے گھر والوں سے ] [امْكُـثُوْٓا : تم لوگ ٹھہرو ] [انىٓ اٰنَسْتُ : بیشک میں نے دیکھی ] [نَارًا : ایک آگ ] [لَّعَلِيْٓ: شاید کہ ] [اٰتِيْكُمْ : میں لائوں تمہارے پاس ] [مِّنْهَا : اس سے ] [بِقَبَسٍ : کوئی انگارہ ] [اَوْ : یا ] [اَجِدُ : میں پائوں ] [عَلَي النَارِ : آگ پر ] [هُدًى: کوئی رہنمائی ] ق ب س [قَبْسًا : (ض) ] آگ سے آگ جلانا۔ قَبَسٌ آگ سے حاصل کی ہوئی آگ۔ جلتا ہوا کوئلہ۔ انگارہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 10 (افتعال) اِقْتِبَاسًا آگ یا کسی چیز سے اس کا کوئی جز یا ٹکڑا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–18

مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 10–12

8:۔ یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ابتدا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر مصر کو روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ کہ ایک اندھیری رات میں بیوی صاحبہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ سردی شدت کی تھی۔ اور اندھیرا بھی تھا ایسے وقت میں آگ اور روشنی کی اشد ضرورت تھی۔ ایک طرف آگ دیکھی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا۔ تم ٹھہرو میں وہاں سے آگ لاتا ہوں۔ جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ آگ ایک درخت کے سبز پتوں سے نکل رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود پتے سر سبز ہیں۔ جب کسی طریقے سے آگ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس درخت سے ایک غائبانہ آواز آئی ” اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 9–12

حضور ﷺ کے لئے تسلی : اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں انبیاء کو سخت دشمنوں سے واسطہ پڑا تو انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ناکام کیا۔ یہ سورة اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، مقصد یہ تھا کہ جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے سخت تکلیف برداشت کیں تو اس کے بعد اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی ، اسی طرح اے پیغمبر ! آپ کو بھی سخت مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے بعد…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہْلِہِ امْكُـثُوْٓا اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَي النَّارِ ہُدًى۝ 10 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْرَاٰنَارًا فَقَالَ لِاَھْلِہِ امْکُثُوْٓا اِنِّیْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِنْھَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ھُدًی۔ (طٰـہٰ : 10) (جبکہ موسیٰ نے ایک آگ دیکھی تو اپنے اہل خانہ سے کہا کہ تم لوگ یہاں ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے تاکہ میں اس سے ایک ان گیا ری لے آئوں یا ممکن ہے مجھے وہاں کوئی راستہ دکھانے والا مل جائے۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو راستے میں پیش آنے والے واقعات آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کی اہلیہ محترمہ بھی یقینا آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ تھیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی خادم بھی ہو۔ روایات میں کہا گیا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کے ساتھ بکریوں کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 9–12

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ رسول محترم ﷺ کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

واقعہ طور اور نبوت کا ملنا : 10: اِذْ رَ ٰایٰ نَارًا (جبکہ انہوں نے آگ دیکھی) اذمضمر کا ظرف ہے ای حین رای نارًا کان کیت و کیت جب انہوں نے آگ دیکھی تو معاملہ ایسا ایسا تھا۔ (2) اذکر محذوف کا مفعول بہٖ ہے۔ روایت تفصیلیہ میں ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے شعیب (علیہ السلام) سے والدہ کی خدمت میں جانے کی اجازت طلب کی اور اپنے گھروالوں کو لے کر چل دیے راستہ میں ان کے ہاں بیٹے کی ولادت ایک ایسی رات میں ہوئی جو اندھیری اور برفانی تھی اور آپ راستہ میں بھی بھول گئے اور جانور بھی آپ کے منتشر ہوگئے۔ آپ کے پاس پانی بھی نہیں تھا۔ آپ نے چقماق جلایا مگر اس کی ضرب بےفائدہ گئی۔ اسی دوران آپ نے یہ آگ دیکھی جو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10۔ اذ رای نارا، ، حضرت موسیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) سے مصر لوٹ کرجانے کی اجازت طلب کی تاکہ اپنی والدہ اور بہن کی زیارت کرسکیں ۔ حضرت شعیب نے اجازت دے دی، آپ اپنی بی بی کے ساتھ چل پڑے، سردی کاموسم تھا بادشاہان شام کے خوف سے آپ عام راستے کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر چلنے لگے ۔ بیوی ایام سے تھیں، صبح شام کا بھروسہ نہ تھا، راستوں سے واقف نہ تھے صحرا میں بغیر جانے ایک راستے پر چل پڑے، وہ راستہ کوہ طور کے دائیں مغرب جانب جاتا تھا رات کی تاریکی اور فضا ٹھنڈی تھی راستہ میں بیوی کو دردزہ ہونے لگا، آپ نے چقمقاق کو رگڑا اس سے آگ نہیں نکلی، بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت موسیٰ غیرت مند آدمی تھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–16

9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–11

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–11

خدا کا استوا علی العرش ہونا قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 10–11

11 حضرت موسیٰ کے ذکر کا آغاز عطائے نبوت سے : سو ارشاد فرمایا گیا " جبکہ انہوں نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو "۔ یعنی اپنی بیوی سے جن کا نام صفورا یا صفوریا تھا۔ اور جمع کا صیغہ تکریم کے لئے ہے۔ جیسا کہ " رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرْکَاتَہ عَلَیْکُم " میں ہے۔ یا جمع کا یہ صیغہ آپکی بیوی، بچے اور خادم تینوں کے اعتبار سے تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ " اہل " کا اصل مصداق انسان کی اپنی بیوی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے اہل خانہ اس میں بالتبع شامل ہوتے ہیں۔ پس روافض ازواج مطہرات کے بغض میں اہل بیت کا جو مفہوم و مطلب بیان کرتے ہیں وہ ان کا اپنا خود ساختہ اور باطل و مردود…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب مدین میں دس سال تک جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد حضرت موسیٰ اپنے اہل و عیال سمت مصر واپس آرہے تھے۔ اس سے قبل کی سرگزشت کا ذکر سورة قصص میں ہے۔10 معلوم ہوتا ہے کہ جنگل میں سخت سردی تھی اور حضرت موسیٰ راستہ بھول گئے تھے۔ سورة قصص میں ہے ” لعلکم تصطلون “ تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ (کذافی ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:10) امکثوا۔ مکث یمکث مکث (باب نصر) سے فعل امر جمع مذکر حاضر تم ٹھہرو۔ تم ٹھہرے رہو۔ انست۔ ماضی واحد متکلم۔ انس مادہ۔ انس یؤنس ایناس (افعال) انوس کرنا۔ انس الشیٔ کسی چیز کو دیکھنا۔ انست میں نے دیکھی ہے۔ انس (سمع) انس (کرم) انس (ضرب) انسا۔ مانوس ہونا۔ اسی سے انس محبت۔ مونس۔ انس دینے والا۔ لعلی۔ لعل حرف مشبہ بالفعل ی ضمیر واحد متکلم۔ شاید میں۔ قبس۔ القبس۔ آگ کا شعلہ۔ یا اس کی چنگاری جو شعلہ سے لی جائے۔ القبس (ضرب) مصدر۔ قبس منہ النار آگ کو بصورت شعلہ لینا۔ قبس العلم علم سے فائدہ اٹھانا۔ اقتبس (باب افتعال) علم و ہدایت سے فائدہ اٹھانا۔ علم حاصل کرنا۔ نیز اس کے معنی بڑی آگ سے کچھ آگ لینے کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–16

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–17

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 9–11

(ف 3) رات کی تاریکی اور سردی میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، مگر جنگل اور سنسان زمین میں آگ کہاں ؟ بےچین تھے کہ دور سے شعلے اٹھتے معلوم ہوئے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو ، میں جاتا ہوں ممکن ہے آگ کے چند انگارے لے آؤں اور ان سے تم بدن گرم کرسکو ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آگ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، قرآن حکیم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے مفسرین کہتے ہیں ، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی دردزہ سے جانکاہ حالت میں تھی ، غور فرمائیے جنگل میں جہاں ہمدردی اور اعانت کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو ، جہاں آگ تک میسر نہ ہو ، یہ وقت کس قدر نازل ہوجاتا ہے ، یہ وقت بہت گھبراہٹ اور اضطراب کا ہے مگر آپ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 10 وہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ موسیٰ نے مدین کی واپسی پر رات کو طور پر ایک آگ دیکھی اور آگ کو دیکھ کر اپنے گھر والوں سے کہا تم ذرا یہیں ٹھہر جائو میں نے ایک آگ دیکھی ہے میں شاید اس آگ میں سے تمہارے پاس کوئی انگارا لے آئوں یا وہاں آگ کے پاس کوئی راستہ بتانے والا پالوں گا یعنی یہ سمجھے کہ پہاڑ کے لوگوں نے آگ جلا رکھی ہے وہاں جا کر آگ بھی لے آئوں گا تاکہ اس سے سردی میں تاپنے کا کام لیا جاسکے اور آگ کے پاس جو شخص ہوگا اس سے راستہ کا پتہ بھی معلوم کرلوں گا تردید بطور مانعتہ الخلو تھی دونوں باتیں ہوجائیں یا دونوں میں سے کوئی ایک ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہ قصہ سورة قصص اور طہ اور اعراف میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–15

ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا آگ دیکھ کر جانا اور آگ کی بجائے رسالت لے کر واپس آنا : 10۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جیسا کہ آپ پڑھ چکے ہیں نبوت ملنے سے پہلے مصر سے بھاگ گئے تھے اور آپ کا یہ بھاگنا ایک اتفاقی قتل کے بعد ہوا اور یہاں سے بھاگ کر خضر سے ملاقات کرتے ہوئے کچھ عرصہ ان کے ہم سفر رہ کر مدین کی طرف نکل گئے ، وہاں شعیب (علیہ السلام) کے داماد ہوئے اور ان کے ہاں آٹھ دس سال گزارنے کے بعد واپس مصر آرہے تھے کہ راستہ میں رات کے وقت ایک جگہ آگ نظر آئی اور اپنے ہم سفر بال بچوں کو ایک جگہ بٹھا کر خود آگ لینے اور وہاں سے راستہ معلوم کونے کی غرض سے گئے جیسا کہ زیر نظر آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جنگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

Commentary وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ (And has there come to you the story of Musa? - 20:9) In the earlier verses, reference was made to the greatness of the Qur’ an and also to the reverence due to the Holy Prophet ﷺ . Thereafter, the story of Sayyidna Musa (علیہ السلام) has been related so that the Holy Prophet ﷺ should become fully aware of the trials and tribulations which afflict the prophets in the discharge of their missions, and which were rendered with courage and fortitude by the earlier prophets. This was to prepare the Holy Prophet ﷺ for the great mission which was entrusted…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 9–10

5. This happened when Prophet Moses (peace be upon him) was returning to Egypt after passing several years in exile in Midian, along with his wife whom he had married there. According to the early part of his history, which has been related in Surah Al-Qasas, an Egyptian had been killed by Prophet Moses (peace be upon him), so he had to leave Egypt in order to escape arrest and had taken refuge in Midian. 6. It appears that this happened during a night of winter, when Prophet Moses (peace be upon him) was passing through the southern part of the Sinai Peninsula. When he saw a fire at a…

Read the full tafseer →