Explained with ayahs 11–16
اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔
جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة طٰهٰ 7
غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم، " یہودیوں کے خلاف عمل کرو۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے " (ابو داؤد)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس لیے دونوں طرح عمل کرو۔ ابو داؤد میں عمْرو بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ مسند احمد اور ابو داؤد میں ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَتٰىهَا، یعنی جو آگ دور سے دیکھی جب اس کے پاس پہنچے۔ مسند احمد وغیرہ میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ موسیٰ ؑ اس آگ کی طرف چلے اور اس کے قریب پہنچے تو ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا کہ ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے مگر حیرت یہ ہے کہ اس درخت کی کوئی شاخ یا پتہ جلتا نہیں بلکہ آگ نے درخت کے حسن اور تروتازگی اور رونق میں اور زیادتی کردی ہے۔ یہ حیرت انگیز منظر کچھ دیر تک اس انتظار میں دیکھتے رہے کہ شاید کوئی چنگاری آگ کی زمین پر گرے تو یہ اٹھالیں۔ جب دیر تک ایسا نہ ہوا تو موسیٰ ؑ نے گھاس وغیرہ کے کچھ تنکے جمع کر کے اس آگ کے قریب کیا کہ ان میں آگ لگ جائے گی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11.12:
جب حضرت موسیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔
تواضع کی ہدایت اور اس کے آداب
فاخلع نعلیک پہلی ہدایت یہ ہوئی کہ جوتے اتار دو۔ جوتے اتار کر حاضر ہونا صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ تواضح کے آداب میں سے بھی ہے۔ چناچہ ہمارے ہاں مسجد کے احترام کے لئے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ مسجد خدا کے سامنے حاضری کی جگہ ہے جس کے لئے طہارت اور تواضح دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جوتے صاف ہوں تو ان کے ساتھ مسجد میں…
Read the full tafseer →11۔ 1 موسیٰ ؑ جب آگ والی جگہ پہنچے تو وہاں ایک درخت سے (جیسا کہ سورة قصص۔ 30 میں صراحت ہے) آواز آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6: سورة قصص میں آگے اس واقعے کی تفصیل آنے والی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ مدین میں ایک عرصہ دراز گذارنے کے بعد اپنی اہلیہ کو لے کر مصر کی طرف روانہ ہوئے تھے۔ جب صحرائے سینا میں پہنچے تو راستہ بھول گئے۔ اور سخت سردی کا بھی احساس ہوا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آگ کی سی شکل نظر آئی جو در حقیقت ایک نور تھا۔ اس وقت انہوں نے اپنی اہلیہ کو وہاں رکنے کی ہدایت دی۔ اور خود آگ کی طرف چلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (21 : 61) ’ اور میں نے تجھ و چن لیا ہے ‘ سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ‘ ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا “۔
انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ‘ ایک غیر آباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
3 اس قصہ کے مختلف اجزاء سورة قصص، سورة طہٰ اور سورة اعراف میں سے جمع کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں مدین سے مصر کی طرف واپسی کا واقعہ مذکور ہے۔ مدین میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی صاحبزادی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نکاح ہوگیا تھا۔ کئی سال وہاں مقیم رہنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر جانے کا ارادہ کیا، حاملہ بیوی ہمراہ تھی رات اندھیری تھی، سردی کا شباب تھا، بکریوں کا گلہ بھی ساتھ لے کر چلے تھے۔ اس حالت میں راستہ بھول گئے۔ بکریاں متفرق ہوگئیں اور بیوی کو درد زہ شروع ہوگیا۔ اندھیرے میں سخت پریشان تھے سردی میں تاپنے کے لیے آگ موجود نہ تھی۔ چقماق مارنے سے بھی آگ نہ نکلی۔ ان مصائب کی تاریکیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10 اِذْ رَاٰ نَارًا ”
یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی اہلیہ کے ساتھ مدین سے مصر کی طرف واپس آ رہے تھے۔ اندھیری رات تھی ‘ سردی کا موسم تھا اور راستے کے بارے میں بھی ان کے پاس یقینی معلومات نہیں تھیں۔ اس صورت حال میں جب آپ علیہ السلام کو آگ نظر آئی ہوگی تو یقیناً آپ علیہ السلام بہت خوش ہوئے ہوں گے۔
لَّعَلِّیْٓ اٰتِیْکُمْ مِّنْہَا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَی النَّارِ ہُدًی ”
ممکن ہے مجھے وہاں سے کوئی چنگاری مل جائے جس کی مدد سے ہم آگ جلا کر تاپ سکیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہاں سے مجھے راستے کے بارے میں کوئی راہنمائی مل جائے۔ ایسا نہ ہو کہ رات کے اندھیرے میں ہم کسی غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
9 سیدنا موسیٰ کا آگ لینے کے لئے جانا :۔ اس قصہ کا آغاز اس وقت سے کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی تھی۔ آٹھ دس سال آپ مدین میں شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے وہاں آپ کا نکاح شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے ہوا تھا۔ طے شدہ مدت گزارنے کے بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ اپنے آبائی وطن مصر کی طرف چلنا چاہئے۔ دوران سفر آپ کو رات آگئی۔ شدید سردی کا موسم تھا۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی۔ سخت اندھیرا تھا لہذا آپ راستہ بھی بھول گئے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں۔ سخت پریشانی کا عالم تھا۔ اتنے میں آپ کو دور کہیں سے آگ دکھائی دی۔ جو اس بات کی علامت تھی کہ ضرور وہاں کوئی آدمی بھی…
Read the full tafseer →12۔ (من جانب اللہ) اس آواز کی کیفیت وصفت سے متعلق بڑی بڑی بحثیں چھڑ گئی ہیں، لیکن قول حق مفسر تھانوی (رح) کا ہے :۔ ” اس نداء کی کیفیت وصفت نہ کہیں منصوص ہے نہ قیاس سے ادراک کی جاسکتی ہے۔ اس لیے تعیین بالتخمین رجم بالغیب ہے۔ البتہ یہ امر یقینی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین کے ساتھ یہ امر معلوم ہوگیا تھا کہ یہ نداء من جانب اللہ ہے۔ خواہ یہ یقین علم ضروری سے حاصل ہوا ہو یا کسی علم استدلالی ہے۔ واللہ اعلم “۔ تو ریت کی مسخ شدہ روایت یوں ہے۔ :” اس وقت خداوند کا فرشتہ ایک بوٹے میں سے آگ کے شعل میں اس پر ظاہر ہوا۔ اس نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک بوٹا آگ میں روشن ہے اور وہ جل نہیں جاتا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →فلما اتہا نودی یموسی۔ سو جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو ان کو (اللہ کی طرف سے) آواز
دی گئی کہ اے موسیٰ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) چناچہ جب وہاں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سبز رنگ کا درخت ہے اس میں سے سفید آگ چمک رہی ہے فوراً اللہ کی طرف سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں اپنے جوتے اتار دو ، اس لیے کہ وہ مردہ ہوئے گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے کیوں کہ تم ایک پاکیزہ میدان یعنی طوی میں یا یہ کہ طوی اس لیے کہا گیا کہ اس سے پہلے اور انبیاء کرام کا ادھر سے گزر ہوچکا تھا یا یہ کہ اس وادی میں جس میں یہ درخت تھا ایک کنواں تھا جس کے چاروں طرف پتھر لگا دیے گئے تھے اس بنا پر اس وادی کو طوی کہا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
وَهَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى : قرآن کی عظمت کے ذکر اور دعوت و تبلیغ کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی مشقت اور تکلیف کی طرف اشارہ فرما کر اب یہاں سے موسیٰ ؑ کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے، اس سے مقصود آپ ﷺ کو تسلی دینا ہے، کیونکہ جن دنوں یہ سورت نازل ہوئی مکہ میں نبی ﷺ کو ایسے ہی حالات درپیش تھے، جیسے موسیٰ ؑ کو پیش آچکے تھے۔ اس کے علاوہ گزشتہ آیت میں ”اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ“ کے ساتھ توحید کا جو بیان ہوا تھا اس کی مزید وضاحت مقصود ہے کہ ہر نبی یہی دعوت لے کر آیا۔ خصوصاً گزشتہ انبیاء میں سے جس نبی کے واقعات سب سے زیادہ مشہور ہیں انھیں بھی پہلی وحی میں آگاہ کردیا گیا : (اِنَّنِيْٓ اَنَا…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما اتھا جب آپ اس آگ کے پاس آئے نودی تو درخت سے آواز دی گئی جیسا کہ سورة القصص میں ہے یعنی اس کی جہت سے آواز آئی جیسا کہ آگے آئے گا۔ یموسیٰ ۔ انی انا ربک بلاشبہ میں تیرا پروردگار ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
1:۔ ابن منذر ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ پر جب شروع میں وحی کا نزول ہوا تو آپ نماز میں اپنے قدموں کے اگلے حصوں پر کھڑے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
نزول قرآن آپ (علیہ السلام) کے لئے باعث مشقت نہیں :
2:۔ ابن مردویہ اور ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کفار نے کہا یہ آدمی اپنے رب کی طرف سے مشقت میں پڑگیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” طہ (1) ما انزلنا علیک القران لتشقی (2) “
3:۔ ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو کھڑے ہوتے تھے تو رسی سے اپنے…
Read the full tafseer →[فَلَمَآ : پھر جب ] [اَتٰىهَا : وہ پہنچے اس کے پاس ] [نُوْدِيَ : تو آواز دی گئی ] [يٰمُوْسٰى: اے موسٰی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8:۔ یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ابتدا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر مصر کو روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ کہ ایک اندھیری رات میں بیوی صاحبہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ سردی شدت کی تھی۔ اور اندھیرا بھی تھا ایسے وقت میں آگ اور روشنی کی اشد ضرورت تھی۔ ایک طرف آگ دیکھی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا۔ تم ٹھہرو میں وہاں سے آگ لاتا ہوں۔ جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ آگ ایک درخت کے سبز پتوں سے نکل رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود پتے سر سبز ہیں۔ جب کسی طریقے سے آگ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس درخت سے ایک غائبانہ آواز آئی ” اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
حضور ﷺ کے لئے تسلی :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں انبیاء کو سخت دشمنوں سے واسطہ پڑا تو انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ناکام کیا۔ یہ سورة اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، مقصد یہ تھا کہ جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے سخت تکلیف برداشت کیں تو اس کے بعد اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی ، اسی طرح اے پیغمبر ! آپ کو بھی سخت مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے بعد…
Read the full tafseer →فَلَمَّآ اَتٰىہَا نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى 11ۭ
ندا
النِّدَاءُ : رفْعُ الصَّوت وظُهُورُهُ ، وقد يقال ذلک للصَّوْت المجرَّد، وإيّاه قَصَدَ بقوله : وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] أي : لا يعرف إلّا الصَّوْت المجرَّد دون المعنی الذي يقتضيه تركيبُ الکلام . ويقال للمرکَّب الذي يُفْهَم منه المعنی ذلك، قال تعالی: وَإِذْ نادی رَبُّكَ مُوسی[ الشعراء/ 10] وقوله : وَإِذا نادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 58] ، أي : دَعَوْتُمْ ، وکذلك : إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
[ الجمعة/ 9] ونِدَاءُ الصلاة مخصوصٌ في الشَّرع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔
تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فَلَمَّـآ اَتٰـھَا نُوْدِیَ یٰـمُوْسٰی۔ اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ ج اِنَّـکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طْوًی۔ (طٰـہٰ : 11، 12)
(جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے، آواز آئی، اے موسیٰ ۔ یہ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنے جوتے اتار دو ، کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ )
آگ کی جگہ کے قریب اللہ تعالیٰ کا حکم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاں آگ دیکھی تھی جب اس کے قریب پہنچے تو مسند احمد وغیرہ میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف چلے اور اس کے قریب پہنچے تو ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا کہ ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
رسول محترم ﷺ کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →11: فَلَمَّا اَتٰھَا (جب آگ کے پاس آپ پہنچے) ھا کی ضمیر آگ کی طرف لوٹ رہی ہے۔ آپ نے آگ کو سفید پایا جو ایک سبز رنگ کے درخت سے نیچے سے لے کر اوپر تک بھڑک رہی تھی۔ اور وہ درخت عناب کا تھا یا عوسج کا درخت تھا۔ عوسج ایک کانٹے دار جھاڑی ہے۔ آپ نے اس کے پاس کسی شخص کو نہ پایا۔ روایت میں ہے کہ جب اس آگ کی طلب میں آگے بڑھتے تو وہ آگ ان سے دور ہوتی اور جب چھوڑ دیتے تو وہ ان کے قریب ہوتی پس اس جگہ۔ نُوْدِیَ (موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی) ۔ یٰمُوْسٰٓی (اے موسی) ۔
Read the full tafseer →11۔ فلمااتاھا ، ، جب موسیٰ وہاں پہنچے آپ نے ایک درخت کو دیکھا جو اوپر سے نیچے تک بالکل سبز تھا، اور اس کے گردا گرد شفاف سفید، آگ اس کو گھیرے ہوئے تھی جو بہت زیادہ روشن تھی، نہ درخت کی سبزی آگ کی روشنی اور سفیدی میں مخل آتی نہ آگ کی نورانیت درخت کی سبزی نمایاں ہونے سے مانع تھی، ابن مسعود کا قول ہے کہ درخت کا رنگ گندمی سبز تھا۔
قتادہ اور مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ وہ عوسج کا درخت تھا، اور بعض نے کہا کہ وہ عناب کا درخت تھا، یہیابن عباس ؓ سے بھی مروی ہے اہل تفسیر یہ کہتے ہیں کہ موسیٰ نے جس کو آگ سمجھا تھا وہ آگ نہ تھی نور تھا، موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو آگ ہی خیال کیا تھا اس لیے اللہ نے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
آیت 1
(طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم ﷺ کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔ “ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں، (ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–11
خدا کا استوا علی العرش ہونا
قول باری ہے (الرحمٰن علی العرش استوی۔ وہ رحمٰن (کائنات کے) تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہے) حسن کا قول ہے کہ اپنے لطف و تدبیر کے ساتھ جلوہ فرما ہے۔ ایک قول کے مطابق غلبہ حاصل کئے ہوئے ہے۔
قول باری ہے (فانہ یعلم السرا واخفیٰ ۔ وہ چپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے بھی مخفی تر بات بھی جانتا ہے) ابن عباس کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ چپکے چپکے دوسرے سے کہے اور اس سے زیادہ مخفی بات وہ ہے جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھے اور کسی سے اس کا اظہار نہ کرے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ سر اس بات کو کہتے ہیں جو بندہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ہے اور اس سے مخفی تر بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
11 حضرت موسیٰ کے ذکر کا آغاز عطائے نبوت سے : سو ارشاد فرمایا گیا " جبکہ انہوں نے ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم یہیں ٹھہرو "۔ یعنی اپنی بیوی سے جن کا نام صفورا یا صفوریا تھا۔ اور جمع کا صیغہ تکریم کے لئے ہے۔ جیسا کہ " رَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرْکَاتَہ عَلَیْکُم " میں ہے۔ یا جمع کا یہ صیغہ آپکی بیوی، بچے اور خادم تینوں کے اعتبار سے تھا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ " اہل " کا اصل مصداق انسان کی اپنی بیوی ہی ہوتی ہے۔ دوسرے اہل خانہ اس میں بالتبع شامل ہوتے ہیں۔ پس روافض ازواج مطہرات کے بغض میں اہل بیت کا جو مفہوم و مطلب بیان کرتے ہیں وہ ان کا اپنا خود ساختہ اور باطل و مردود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت
تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →ف 11 یہ آواز ایک درخت سے آرہی تھی۔ (دیکھیے قصص آیت 30)
Read the full tafseer →(20:11) نودی۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب نداء مصدر۔ اس کو پکارا گیا۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہے اذا نودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ (62:9) جب جمعہ کے دن نماز کے لئے پکارا جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16
حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 16
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
(ف 3) رات کی تاریکی اور سردی میں آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، مگر جنگل اور سنسان زمین میں آگ کہاں ؟ بےچین تھے کہ دور سے شعلے اٹھتے معلوم ہوئے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو ، میں جاتا ہوں ممکن ہے آگ کے چند انگارے لے آؤں اور ان سے تم بدن گرم کرسکو ،
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی آگ کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، قرآن حکیم نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے مفسرین کہتے ہیں ، اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی بیوی دردزہ سے جانکاہ حالت میں تھی ، غور فرمائیے جنگل میں جہاں ہمدردی اور اعانت کے لئے کوئی شخص موجود نہ ہو ، جہاں آگ تک میسر نہ ہو ، یہ وقت کس قدر نازل ہوجاتا ہے ، یہ وقت بہت گھبراہٹ اور اضطراب کا ہے مگر آپ…
Read the full tafseer →- 1 1 سو جب موسیٰ آگ کے پاس پہنچا تو اس کو آواز دی گئی اور اس کو پکارا گیا اے موسیٰ یہ ندا حضرت حق تعالیٰ کی جانب سے آئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔
Read the full tafseer →سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) جب اس کے قریب آئے تو ندا آئی اے موسیٰ ! :
11۔ یہاں سے وحی کا ذکر شروع ہوگیا جب آپ کو اچانک آواز آئی کہ اے موسیٰ ! ظاہر ہے کہ آپ چونک گئے ہوں گے کہ یہ کون ہے جو میرا واقف نکل آیا اور مجھے پہچان گیا اور جب کہ وہ مجھے نظر نہیں آیا ؟ لیکن بعد میں آپ کو معلوم ہوا کہ مجھے پہچان کر آواز دینے والا کون ہے اور واقعی وہ ہے جس کو دیکھا نہیں جاسکتا اور یہ کہ اس میں کیا راز ہے کہ ہر وقت ساتھ رہنے والے نے خاموشی اختیار رکھی اور پھر کہاں لے جا کر وہ اچانک میرے ساتھ مخاطب ہوگیا سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ دیا ۔ ابھی موسیٰ آواز سن ہی رہے تھے کہ اے موسیٰ ! تو…
Read the full tafseer →فَلَمَّا أَتَاهَا (So when he came to it - 20:11): means that he approached the fire which he had seen from a distance. Musnad by Ahmad, on the authority of Wahb Ibn Munabbih (رح) reports that when Sayyidna Musa (علیہ السلام) drew near the fire he saw a very strange scene. A fire was blazing on a green tree without scorching even a leaf or a branch. On the other hand the flame added manifold to the beauty and the freshness of the tree. He stood there quite a while watching this strange sight waiting for a chance to pick up a piece of burning wood. At last he collected some dry grass and tried…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
7. Probably, it is because of this that the Jews do not say their prayers with their shoes on. The Prophet (peace be upon him), however, removed this misunderstanding, saying: Act in contrast to the practice of the Jews who do not say their prayers with their shoes or leather socks on. (Abu Daud). It does not, however, mean that one must say his prayers with the shoes on, but it is merely to make it lawful to say prayers with shoes on. This is confirmed by another tradition, related by Abu Daud from Amar bin Aas, that he had seen the Prophet (peace be upon him) saying his prayer both with and…
Read the full tafseer →