Explained with ayahs 11–16
اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔
جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة طٰهٰ 7
غالباً اسی واقعہ کی وجہ سے یہودیوں میں یہ شرعی مسئلہ بن گیا کہ جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے فرمایا خالفوا الیھود فانھم لا یصلّون فی فعالہم ولا خفافہم، " یہودیوں کے خلاف عمل کرو۔ کیونکہ وہ جوتے اور چمڑے کے موزے پہن کر نماز نہیں پڑھتے " (ابو داؤد)۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ضرور جوتے ہی پہن کر نماز پڑھنی چاہیے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسا کرنا جائز ہے، اس لیے دونوں طرح عمل کرو۔ ابو داؤد میں عمْرو بن عاص کی روایت ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دونوں طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ مسند احمد اور ابو داؤد میں ابو سعید خدری ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے…
Read the full tafseer →نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى، اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ، بحر محیط، روح المعانی وغیرہ میں ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے یہ آواز اس طرح سنی کہ ہر جانب سے یکساں آرہی تھی اس کی کوئی جہت متعین نہیں تھی اور سننا بھی ایک عجیب انداز سے ہوا کہ صرف کانوں سے نہیں بلکہ تمام اعضاء بدن سے سنا گیا جو ایک معجزہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ آواز کا حاصل یہ تھا کہ جس چیز کو آپ آگ سمجھ رہے ہیں وہ آگ نہیں اللہ تعالیٰ کی ایک تجلی ہے اور اس میں فرمایا کہ میں ہی آپ کا رب ہوں۔ حضرت موسیٰ ؑ کو اس آواز کے متعلق یہ یقین کس طرح ہوا کہ حق تعالیٰ ہی کی آواز ہے ؟ اس کا اصل جواب تو یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے ان کے قلب کو اس پر مطمئن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
11.12:
جب حضرت موسیٰ اس مقام پر پہنچے جہاں ان کو شعلہ نظر آیا تھا تو ان کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یہ تو میں تمہارا رب ہوں۔ یعنی تم تو آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو لیکن یہاں آگ نہیں ہے بلکہ میں تمہارا رب ہوں۔
تواضع کی ہدایت اور اس کے آداب
فاخلع نعلیک پہلی ہدایت یہ ہوئی کہ جوتے اتار دو۔ جوتے اتار کر حاضر ہونا صرف طہارت ہی کے آداب میں سے نہیں بلکہ تواضح کے آداب میں سے بھی ہے۔ چناچہ ہمارے ہاں مسجد کے احترام کے لئے بھی اس کو ضروری قرار دیا گیا ہے اس لئے کہ مسجد خدا کے سامنے حاضری کی جگہ ہے جس کے لئے طہارت اور تواضح دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر جوتے صاف ہوں تو ان کے ساتھ مسجد میں…
Read the full tafseer →12۔ 1 جوتیاں اتارنے کا حکم اس لئے دیا کہ اس میں تواضع کا اظہار اور شرف و تکریم کا پہلو زیادہ اور وادی کی پاکیزگی اس کا سبب تھا، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے۔ تاہم اس کے دو پہلو ہیں۔ یہ حکم وادی کی تعظیم کے لئے تھا یا اس لئے کہ وادی کی پاکیزگی کے اثرات ننگے پیر ہونے کی صورت میں موسیٰ ؑ کے اندر زیادہ جذب ہو سکیں۔ واللہ اعلم۔
12۔ 2 طُوَی وادی کا نام ہے، اسے بعض نے منصرف اور بعض نے غیر منصرف کہا ہے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فلمآ اتھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (21 : 61) ’ اور میں نے تجھ و چن لیا ہے ‘ سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر۔ قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ‘ ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا “۔
انسان کا خون خشک ہوجاتا ہے اور جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور کپکپی طاری ہوجاتی ہے۔ محض اس منظر کے تصور سے ‘ ایک غیر آباد پہاڑی پر موسیٰ اکیلے…
Read the full tafseer →4 " طویٰ " اس میدان کا نام ہے۔ شاید وہ میدان پہلے سے متبرک تھا یا اب ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ناپاک تھیں اس لیے اتروا دی گئیں۔ باقی موزہ یا جوتا پاک ہو تو اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں پورا مسئلہ فقہ میں دیکھنا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 12 اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ ”
یعنی جسے تم آگ سمجھ کر یہاں آئے ہو اس آگ کے پردے میں خود میں ہوں تمہارا رب تمہارا پروردگار !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
9 سیدنا موسیٰ کا آگ لینے کے لئے جانا :۔ اس قصہ کا آغاز اس وقت سے کیا جارہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا کی گئی تھی۔ آٹھ دس سال آپ مدین میں شعیب (علیہ السلام) کے پاس رہے وہاں آپ کا نکاح شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی سے ہوا تھا۔ طے شدہ مدت گزارنے کے بعد آپ کو خیال آیا کہ آپ اپنے آبائی وطن مصر کی طرف چلنا چاہئے۔ دوران سفر آپ کو رات آگئی۔ شدید سردی کا موسم تھا۔ بیوی ساتھ تھی اور وہ حاملہ تھی۔ سخت اندھیرا تھا لہذا آپ راستہ بھی بھول گئے اور کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کریں۔ سخت پریشانی کا عالم تھا۔ اتنے میں آپ کو دور کہیں سے آگ دکھائی دی۔ جو اس بات کی علامت تھی کہ ضرور وہاں کوئی آدمی بھی…
Read the full tafseer →13۔” خلع نعلین یا تو بوجہ ان کے غیر طاہر ہونے کے تھا یا اس لیے کہ مقام کا ادب ہو۔ یا اس لیے کہ مقام متبرک سے قدم بھی مس کرے کہ اس کی برکت زائد پہنچے۔ اور (آیت) ” انک بالواد “۔ الخ۔ ہر حال میں علت ہوسکتا ہے “۔ (تھانوی (رح) توریت میں تصریح ہے کہ یہ حکم مقام کے تقدس واحترام کی رعایت سے تھا۔” تب اس نے کہا یہاں نزدیک مت آ۔ اپنے پاؤں سے جوتا اتار۔ کیونکہ یہ جگہ جہاں تو کھڑا ہے مقدس زمین ہے “۔ (خروج۔ 3: 5) ہمارے ہاں کے بھی اکثر اکابر اسی طرف گئے ہیں۔ امرہ بذلک لان القوۃ تواضع وادب (بیضاوی) قیل انما امرہ بخلع نعلیہ تعظیما للبقعۃ (ابن کثیر) قال الاصم لان القوۃ ادخل فی التواضع وحسن الادب (روح) یحمل ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →انی انا ربک میں تمہارا رب ہوں۔
بغوی نے لکھا ہے جب موسیٰ وہاں پہنچے تو آپ نے ایک درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک بالکل سبز تھا اور اس کے گرداگرد شفاف سفید ‘ آگ اس کو گھیرے ہوئے تھی جو بہت زیادہ روشن تھا (دھویں کا نام بھی نہ تھا) درخت کی سبزی اور آگ کی سفیدی دونوں اپنی اپنی جگہ نمایاں تھیں نہ درخت کی سبزی آگ کی روشنی اور سفیدی میں مخل تھی نہ آگ کی نورانیت درخت کی سبزی نمایاں ہونے سے مانع تھی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا درخت کا رنگ گندمی سبز تھا۔ قتادہ ‘ مقاتل اور کلبی نے کہا وہ عوسج کا درخت تھا۔ وہب نے کہا علیق کا درخت تھا بعض کا قول ہے کہ عناب کا درخت تھا اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
(11۔ 12) چناچہ جب وہاں آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ سبز رنگ کا درخت ہے اس میں سے سفید آگ چمک رہی ہے فوراً اللہ کی طرف سے آواز دی گئی کہ اے موسیٰ میں تمہارا رب ہوں اپنے جوتے اتار دو ، اس لیے کہ وہ مردہ ہوئے گدھے کی کھال کے بنے ہوئے تھے کیوں کہ تم ایک پاکیزہ میدان یعنی طوی میں یا یہ کہ طوی اس لیے کہا گیا کہ اس سے پہلے اور انبیاء کرام کا ادھر سے گزر ہوچکا تھا یا یہ کہ اس وادی میں جس میں یہ درخت تھا ایک کنواں تھا جس کے چاروں طرف پتھر لگا دیے گئے تھے اس بنا پر اس وادی کو طوی کہا گیا۔
Read the full tafseer →فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ : غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتا پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ غلط فہمی دور کرنے کے لیے فرمایا : (خَالِفُوا الْیَھُوْدَ فَإِنَّھُمْ لَا یُصَلُّوْنَ فِيْ نِعَالِھِمْ وَلَا خِفَافِھِمْ) [ أبوداوٗد، الصلاۃ، باب الصلاۃ في النعل : 652، و صححہ الألباني ] ”یہودیوں کے خلاف عمل کرو، کیونکہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔“ اگر دوسری حدیث نہ ہوتی تو اس حدیث کی رو سے جوتوں سمیت نماز پڑھنا فرض تھا۔ وہ حدیث یہ ہے، عبداللہ عمرو ؓ فرماتے ہیں : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّيْ حَافِیًا وَمُنْتَعِلًا)…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخلع نعلیک ج انک بالواد المقدس طوی۔ اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاخلع نعلیک ترمذی نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے انہوں نے نبی پاک ﷺ سے روایت کیا ہے فرمایا : ” جس دن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السللام سے کلام فرمائی اس دن موسیٰ (علیہ السلام) پر صوف کا کمبل تھا صوف (اون) کا جبہ تھا اور صوف کی ٹوپی تھی اور صوف کی شلوار تھی اور آپ کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے کے تھے “ (2) ۔ ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف حمید الاعرج کے طریق سے جانتے ہیں۔ حمید یہ علی کو فی کا بیٹا ہے۔ اور یہ منکر الحدیث ہے اور حمید بن قیس الاعرج المکی جو مجاہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
مقدس مقام پر جوتے اتارنا :
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ (دونوں جوتے) مردار گدھے کے چمڑے کے بنے ہوئے تھے اس لئے فرمایا کہ ان دونوں کو اتار دو ۔
2:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں نماز میں جوتے اتارنے کی وجہ کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتوں کو اتارنے کا حکم اس لئے تھا کیونکہ وہ مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے پس تیرے رب نے ارادہ کیا کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →[انىٓ انا : بیشک میں ہی ] [رَبُّكَ : آپ (علیہ السلام) کا رب ہوں ] [فَاخْلَعْ : تو آپ (علیہ السلام) اتار دیں ] [نَعْلَيْكَ : اپنے دونوں جوتے ] [انكَ : بیشک آپ (علیہ السلام) ] [بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ : اس پاک کی ہوئی وادی میں ہیں ] [طُوًى: جو طوٰی (کہلاتی) ہے ]
خ ل ع
[خَلْعًا : (ف) ] کوئی پہنی ہوئی چیز اتارنا جیسے ٹوپی اتارنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12
ن ع ل
[نَعْلًا : (ف) ] جوتا عطا کرنا یا پہنانا
نَعْلٌ جوتا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 12
ط وی
[طَیًّا : (ض) ] کسی چیز کو تہہ در تہہ لپیٹنا جیسے کپڑے کا تھان لپیٹا جاتا ہے۔ یَوْمَ نَطْوِی السَّمَائَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ (جس دن ہم لپیٹیں گے آسمان کو جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
8:۔ یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کی ابتدا ہوتی ہے۔ جب وہ اپنی زوجہ مطہرہ کے ساتھ حضرت شعیب (علیہ السلام) سے رخصت ہو کر مصر کو روانہ ہوئے تو راستہ میں یہ واقعہ پیش آیا۔ کہ ایک اندھیری رات میں بیوی صاحبہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا۔ سردی شدت کی تھی۔ اور اندھیرا بھی تھا ایسے وقت میں آگ اور روشنی کی اشد ضرورت تھی۔ ایک طرف آگ دیکھی تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا۔ تم ٹھہرو میں وہاں سے آگ لاتا ہوں۔ جب وہ آگ کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ آگ ایک درخت کے سبز پتوں سے نکل رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود پتے سر سبز ہیں۔ جب کسی طریقے سے آگ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس درخت سے ایک غائبانہ آواز آئی ” اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
حضور ﷺ کے لئے تسلی :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کے لئے تسلی کا مضمون بیان کیا ہے۔ اس سلسلے میں حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان دونوں انبیاء کو سخت دشمنوں سے واسطہ پڑا تو انہوں نے صبر کا دامن تھامے رکھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ناکام کیا۔ یہ سورة اس وقت نازل ہوئی جب حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے تھے ، مقصد یہ تھا کہ جس طرح موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے سخت تکلیف برداشت کیں تو اس کے بعد اللہ نے انہیں کامیابی عطا کی ، اسی طرح اے پیغمبر ! آپ کو بھی سخت مصائب کا سامنا کرنا ہوگا اور اس کے بعد…
Read the full tafseer →اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ 0ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى 12ۭ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔
تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فَلَمَّـآ اَتٰـھَا نُوْدِیَ یٰـمُوْسٰی۔ اِنِّیْٓ اَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ ج اِنَّـکَ بِالْوَادِالْمُقَدَّسِ طْوًی۔ (طٰـہٰ : 11، 12)
(جب موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے، آواز آئی، اے موسیٰ ۔ یہ میں تمہارا رب ہوں، پس تم اپنے جوتے اتار دو ، کیونکہ تم طویٰ کی مقدس وادی میں ہو۔ )
آگ کی جگہ کے قریب اللہ تعالیٰ کا حکم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جہاں آگ دیکھی تھی جب اس کے قریب پہنچے تو مسند احمد وغیرہ میں وہب بن منبہ کی روایت ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس آگ کی طرف چلے اور اس کے قریب پہنچے تو ایک عجیب حیرت انگیز منظر دیکھا کہ ایک بڑی آگ ہے جو ایک ہرے بھرے درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
فہم القرآن
ربط کلام : اے نبی ﷺ آپ جس ایک اللہ کی عبادت کرنے کی دعوت دیتے ہیں یہی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) دیا کرتے تھے۔ اس لیے آپ کو ان کے حالات سے آگاہ کیا جاتا ہے۔
رسول محترم ﷺ کو پوری طرح متوجہ فرمانے کے لیے یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے کہ کیا آپ کے پاس موسیٰ (علیہ السلام) کی خبر نہیں پہنچی ؟ لو اب سماعت فرمائیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے آگ دیکھی تو اپنے گھر والوں سے فرمایا ٹھہریں میں آپ کے تاپنے کے لیے آگ کا انگارہ لاتا ہوں یا پھر اس روشنی سے راستے کا پتہ معلوم کرتا ہوں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) آگ کے قریب آئے تو انھیں آواز دی گئی۔ اے موسیٰ میں آپ کا رب ہوں آپ مقدس وادی میں پہنچ چکے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →12: اِنِّیْ اَنَا رَبُّکَ ( میں تمہارا رب ہوں) اِنیہمزہ مقصورہ کے ساتھ یعنی آواز دے کر یہ کہا گیا یموسیٰ انی اور اس لئے بھی کہ ندا قول ہی کی قسم میں سے ہے اس لئے قول والا معاملہ کیا گیا کیونکہ قال کے بعد اِنَّ آتا ہے۔
قراءت : مکی اور ابو عمرو نے اَنِّیْ پڑھا ہے۔ اس صورت میں تقدیر کلام یہ ہے نُودِیَ بِاَ نّی اَنَا رَبُّکَ یعنی آواز دی گئی اس لئے کہ میں تمہارا رب ہوں اَنَا مبتدا ہے یا تاکید ہے۔ یا ضمیر فصل ہے۔ اور ضمیر کو دوبارہ معرفہ کی تحقیق اور ازالہ شبہ کیلئے لایا گیا ہے۔ روایت میں ہے کہ جب آواز دی گئی یا موسیٰ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی من المتکلم ؟ اس پر اللہ نے فرمایا انا ربک پس اس…
Read the full tafseer →12۔ انی اناربک ، ، ابوجعفر ، ابن کثیر، ابوعمرو، نے اسی طرح پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے الف کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ کہا گیا کہ حضرت موسیٰ کو فرمایا گیا کہ میں تمہارا رب ہوں وہب کا بیان ہے کہ درخت سے آواز آئی کہ میرا تیرا رب ہوں۔ جب کہا گیا اے موسیٰ ، تو انہوں نے بہت جلدی جواب دیا، وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ ان کو کہاں سے پکارا جارہا ہے۔ کہا میں آپ کی آواز سن رہا ہوں لیکن آپ کی جگہ معلوم نہیں، آپ کہاں ہیں ؟ آواز آئی میں آپ کے اوپر ، آپ کے ساتھ، آپ کے سامنے اور آپ کے پیچھے اور آپ کے نفس کے زیادہ قریب ہوں، اس وقت حضرت موسیٰ کو یقین ہوا کہ یہ اللہ ہے۔ یہ شان تو اسی کی ہے۔
” فاخلع نعلیک، ، اس کا سبب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…
Read the full tafseer →آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ اسے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہ مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے : (وھل اتک حدیث موسی) ” کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی ؟ “ یعنی جناب موسیٰ کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی اسدت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انہیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کرسکیں۔ (فقال لاھلہ امکثوا انی انست ناراً ) ” تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آپ دیکھی ہے “ اور یہ آگ کو وہ طور کے دائیں جانب تھی۔ (لعلی اتیکم منھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وادی طویٰ میں موسیٰ کو جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا گیا ؟
قول باری ہے (فاخلع نعلیک اپنی جوتیاں اتار دو ) حسن اور ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جوتے اتار دینے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ وہ اپنے قذموں کے ذریعے وادی مقدس کی برکت سے براہ راست فیض یاب ہوجائیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس پر بعد کی آیت دلالت کرتی ہے جو یہ ہے (انک بالوادی المقدس طویٰ تو وادی مقدس طویٰ میں ہے) عبارت کی ترتیب اس طرح ہے ” اخلع نعلیک لانک بالوادی المقدس (اپنی جوتیاں اتار دو اس لئے کہ تم وادی مقدس میں ہو) کعب اور عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ایک مردہ گدھے کے چمڑے کی بنی ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
13 حضرت موسیٰ کے لیے حق تعالیٰ کی رحمتوں بھری ندا و پکار : کہ " میں تمہارا رب ہوں "۔ یعنی یہاں پر آگ وغیرہ کوئی نہیں بلکہ یہ تو تجلی ہے تمہارے رب کے نوربے کیف کی۔ جو کہ آپ کو اس شجرہ خضرا میں اس نار بیضاء کی صورت میں دکھلائی گئی ہے۔ سو یہاں سے دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتیں واضح ہوگئیں۔ ایک یہ کہ نبوت و رسالت کا شرف ایک خاص وہبی شرف ہوتا ہے جس سے اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے۔ جس میں بندے کے اپنے کسب و اکتساب اور محنت و عمل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ پیغمبر کو نبوت ملنے سے ایک لمحہ قبل بھی اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اب یہاں دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ۔ علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت
تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →ف 12 غالباً اسی سے یہودیوں نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جوتی پہن کر نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ نبی ﷺ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے فرمایا :” یہودیوں کے خلاف کرو اس لئے کہ وہ اپنے جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے۔ (ابودائود)
13 ” طوی “ اس وادی کا نام تھا۔ (نیز دیکھیے سورة قصص :4)
Read the full tafseer →(20:12) فاخلع۔ خلع (باب فتح) سے فعل امر واحد مذکر حاضر۔ پس تو اتار ڈال ۔ نعلیک۔ تیرے دونوں جوتے۔ اپنے دونوں جوتے۔ نعلین تثنیہ منصوب۔ مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ تثنیہ کا نون بوجہ اضافت کے گرگیا۔ طوی۔ طوی ایک وادی کا نام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16
حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 16
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…
Read the full tafseer →وادی طوی میں تجلیات :
(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لئے آگے بڑھے ، اور ایک وادی میں پہنچ گئے ، جو تجلیات سے معمور تھی ، مخاطب کیا گیا ، کہ میں تمہارا رب ہوں ، جس نے تمہیں بلایا ہے قریب آؤ اور جوتا اتار دو ، یہ مقام پاک اور متبرک ہے ۔
موسی (علیہ السلام) جس چیز کو آگ سمجھے ، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی تجلی تھی یعنی ایک صورت اظہار اور ایک عنوان شہود تصوف کی اصطلاح میں تجلی ایک جنگ ہے جس کے ماتحت اظہار وشہود کی مختلف نوعیں آجاتی ہیں ۔
تجلیات کی بڑی بڑی قسمیں یہ ہیں ۔
1۔ عام کائنات میں حسن و جمال ، نظم وفسق افادہ اور شعور ۔
2۔ مخصوص مقامات ارضی ومسماوی ہیں بین اور واضح ظہور ،
3۔ قلب مومن…
Read the full tafseer →- 12 یقینا میں تمہارا پروردگار ہوں سو تو اپنی دونوں جوتیاں اتار دے کیونکہ تو اس وقت ایک مقدس وادی میں ہے جس کا نام طویٰ ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں میدان شاید پہلے سے بزرگ تھا یا اب ہوگیا ان کی پاپوش ناپاک تھیں یہودیہ نہیں سمجھتے پاک موزہ پاپوش بھی نماز میں اتارتے ہیں ہمارے پیغمبر نے فرمایا تم نماز پڑھو موزے سے پاپوش سے اگر پاک ہوں۔ 12
کہتے ہیں حضرت موسیٰ کی جوتیاں گدھے کی کھال کی تھیں اور کھال غیر مدبوغ تھی یا یہ کہ اشارہ ہو بیوی اور بچے کا خیال دل سے نکال دو ۔ جیسا کہ امام رازی نے کہا ہے۔ (واللہ اعلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔
Read the full tafseer →میں تیرا پروردگار ہوں ذرا جوتا اتار اور میری بات غور سے سن !
12۔ اے موسیٰ ! جسے تم آگ سمجھ رہے ہو وہ آگ نہیں بلکہ میں ہوں تیرا پروردگار ! گویا تم اب بارگاہ رب ذوالجلال میں ہو اور یہ طوی کی مقدس وادی ہے اور ادب واحترام کا تقاضا ہے کہ جوتے اتار دو ۔ آپ جس وادی میں کھڑے ہیں یہ وادی طوی کی مقدس وادی ہے ، جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا ؟ تفسیری حدیث میں آیا ہے کہ اس وقت آپ کا جوتا مردہ گدھے کی کھال سے بنایا گیا تھا ۔ (ابن کثیر فتح البیان ج 6 ص 229) لیکن تفسیر روایات کا جو پایا ہے سب کو معلوم ہے کہا گیا ہے کہ یہ محض متوجہ کرنے کے لئے کہا گیا ہے جیسا کہ انسان کوئی اہم بات کرنے کے لئے دوسرے کو متوجہ…
Read the full tafseer →نُودِيَ يَا مُوسَىٰ إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ (He was called, "0 Musa, it is Me, your Lord, remove your shoes - 20:11, 12). It is related in Al-Bahr ul-Muhit, Ruh ul-Ma` ani and other books that the voice which Sayyidna Musa (علیہ السلام) heard appeared to come from all directions and not from any particular direction. At the same time the manner in which the voice reached his perception was most extraordinary, because it was heard not only through his ears but by the entire body. This, indeed, was a miracle!
What the voice said was that the light that he saw was not fire…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
7. Probably, it is because of this that the Jews do not say their prayers with their shoes on. The Prophet (peace be upon him), however, removed this misunderstanding, saying: Act in contrast to the practice of the Jews who do not say their prayers with their shoes or leather socks on. (Abu Daud). It does not, however, mean that one must say his prayers with the shoes on, but it is merely to make it lawful to say prayers with shoes on. This is confirmed by another tradition, related by Abu Daud from Amar bin Aas, that he had seen the Prophet (peace be upon him) saying his prayer both with and…
Read the full tafseer →