Taa-Haa 20:13

Taa-Haa · from ayah 13

20:13

وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی ۟وَاَنَا اخۡتَرۡتُكَ فَاسۡتَمِعۡ لِمَا يُوۡحٰى‏

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:13

اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میں نے تم کو انتخاب کرلیا ہے تو جو حکم دیا جائے اسے سنو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میں نے تجھے منتخب کر لیا اب جو وحی کی جائے اسے کان لگا کر سن

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میں نے تمہیں (نبوت کے لیے) منتخب کیا ہے۔ لہذا جو بات وحی کے ذریعے کہی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میں نے تجھے پسند کیا اب کان لگا کر سن جو تجھے وحی ہوتی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میں نے تمہیں (اپنی رسالت کے لئے) چن لیا ہے پس تم پوری توجہ سے سنو جو تمہیں وحی کی جا رہی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میں نے تجھے چن لیا ہے، پس غور سے سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میں نے تمہیں (نبوت کے لئے) چن لیا ہے لہذا جو وحی کی جاتی ہے اسے غور سے سنو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میں نے تم کو برگزیدہ کیا تو جو وحی کی جا رہی ہے اسے غور سے سنو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں نے تمہیں چن لیا ہے، اس لئے اب تم غور سے سنو اس وحی کو جو تمہاری طرف بھیجی جاتی ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے۔ سوسنو جو کچھ وحی کیا جارہا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میں نے تم کو چن لیا ہے تو اب ذرا توجہ سے سنو جو وحی تم پر کی جا رہی ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میں نے تم کو چن لیا ہے۔ تو جو حکم دیا جائے اسے سنو !۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I Myself have chosen you; therefore, give ear to what is revealed.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I have chosen you (for prophet-hood), so listen to what is revealed:

— Muhammad Taqi Usmani

I have chosen you (for prophet-hood), so listen to what is revealed:

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And I have chosen you. So listen to that which will be revealed (to you)"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And I have chosen thee, so hearken unto that which is inspired.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And I have chosen you, so listen to what is revealed [to you].

— Saheeh International

I have chosen you as My Messengers. Listen to the revelation.

— Muhammad Sarwar

And I have chosen you, so listen to what is revealed:

— Muhammad Habib Shakir

And I! I have chosen thee hearken thou then to that which shall be revealed.

— Abdul Majid Daryabadi

"I have chosen thee: listen, then, to the inspiration (sent to thee).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔ جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 13–14

سورة طٰهٰ 9 یہاں نماز کی اصلی غرض پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آدمی خدا سے غافل نہ ہوجائے، دنیا کے دھوکا دینے والے مظاہر اس کو اس حقیقت سے بےفکر نہ کردیں کہ میں کسی کا بندہ ہوں، آزاد خود مختار نہیں ہوں۔ اس فکر کو تازہ رکھنے اور خدا سے آدمی کا تعلق جوڑے رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے جو ہر روز کئی بار آدمی کو دنیا کے ہنگاموں سے ہٹا کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ نماز قائم کر تاکہ میں تجھے یاد کروں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ۔ ، " مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ " ضمناً اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس شخص کو بھول لاحق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قرآن سننے کا ادب فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى، حضرت وہب بن منبہ سے منقول ہے کہ قرآن سننے کے ادب میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے تمام اعضاء کو فضول حرکت سے روکے کہ کسی دوسرے شغل میں کوئی عضو بھی نہ لگے اور نظر نیچی رکھے اور کلام سمجھنے کی طرف دھیان لگائے اور جو شخص اس ادب کے ساتھ کوئی کلام سنتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے سمجھنے کی بھی توفیق دے دیتے ہیں۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

استماع کے معنی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سننے کے ہیں۔ یہ جملہ اصل بات کہنے سے پہلے پوری طرح متوجہ کرنے کے لئے ہے یعنی میں نے تمہیں اپنے کار خاص، فریضہ نبوت و رسالت کے لئے منتخب کیا ہے تو جو کچھ تم پر وحی کی جا رہی ہے اس کو غور و توجہ سے سنو۔ اس میں اس تشریف و تکریم کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے کے سبب سے حضرت موسیٰ کو حاصل ہوئی اور عظیم ذمہ داری کی طرف بھی جو حضرت موسیٰ پر اس منصب کی بدولت عائد ہوئی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–21

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وانا اخترتک (31) ” اور میں نے تجھ کو چن لیا “۔ ما شاء اللہ کیا اکرام ہے ! اللہ بذات خود انتخاب فرما رہے ہیں۔ اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو ‘ انسانوں کے ہزارہا گروہوں میں سے صرف ایک فرد کو ‘ یہ فرد اللہ کے پیدا کردہ ستاروں میں سے ایک ستارے پر رہتا ہے ‘ جو بہ نسبت پوری کائنات کے ایک ذرہ ہے۔ وہ کائنات جو صرف کن کے حکم کے نتیجے میں وجود میں آگئی لیکن یہ اس ذات باری کی ذرہ نوازی ہی تو ہے۔ اس اعزاز اور انتخاب کے بعد اور جوتے اتار کر بار گاہ رب العزت میں حاضری اور اخذ وحی کی تیاری و استعداد کے بعد حکم آتا ہے کہ اب سنو ‘ باران رحمت کا نزول ہورہا ہے۔ فاستمع لما یوحی (31) ” سن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے “۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 " پسند کیا ہے " یعنی تمام جہان میں سے نبوت و رسالت اور شرف مکالمہ کے لیے چھانٹ لیا۔ اس لیے آگے جو احکام دیئے جائیں انھیں غور و توجہ سے سنو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 وَاَنَا اخْتَرْتُکَ ” میں نے آپ ﷺ کو اپنے رسول کے طور پر پسند کرلیا ہے اور ایک بڑے مشن کے لیے آپ علیہ السلام کا انتخاب کرلیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 13–14

10 موسیٰ (علیہ السلام) کا اتفاقا طوی وادی میں پہنچنا :۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک درخت میں آگ بھڑک رہی ہے۔ پاس نہ کوئی آدم ہے نہ آدم زاد۔ آگ جوں جوں بھڑکتی ہے درخت مزید سرسبز ہوجاتا ہے۔ اس عجیب نظارہ کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس میں ایک آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تمہارا پروردگار تم سے ہم کلام ہو رہا ہوں۔ تم اس وقت طویٰ کے مقدس میدان میں پہنچ چکے ہو۔ لہذا اپنے جوتے اتار لو۔ اس آواز کی کیفیت یہ تھی کہ یہ معلوم ہی نہ ہوسکتا تھا کہ کس سمت سے آواز آرہی ہے۔ دائیں سے آرہی ہے یا بائیں سے آگے سے یا پیچھے سے، اوپر سے یا نیچے سے۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) پس آواز کو سننے کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ (اپنی نبوت و رسالت کے لیے) اہل لطائف کہتے ہیں کہ تمہیدی مکالمہ کے بعد جب قلب موسوی قابل ومتحمل ہوگیا براہ راست تجلیات خداوندی کا، تو اب اس پر رسالت کے بار عظیم کی تفویض ہوئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–14

آیت نمبر 1 تا 14 ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانا اخترتک اور (نبوت و رسالت کے لئے) میں نے تم کو پسند کرلیا ہے۔ فاستمع لما یوحی۔ پس جو کچھ (تمہاری طرف) وحی کیا جا رہا ہے اس کو سن لو ‘

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) اور میں نے فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجنے کے لیے تمہارا انتخاب کیا ہے لہذا جو تمہیں حکم دیا جائے اس پر عمل کرو،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۭوَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى : نبوت کے حصول میں کسی کی جد و جہد یا محنت کا کچھ دخل نہیں، یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہے۔ دیکھیے سورة حج (75) قادیانی دجال نے اسے مجاہدہ و کسب سے حاصل ہوسکنے کا دعویٰ کیا، چناچہ اس کی زندگی ہی میں اس کے پیروکاروں میں سے تیرہ آدمیوں نے نبوت کا دعویٰ کردیا۔ دیکھیے قادیانیت از ابوالحسن علی ندوی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانا اخترتک یعنی میں نے تجھے رسالت کے لیے چن لیا۔ اہل مدینہ ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے وأنا اخترتک پڑھا ہے اور حمزہ نے انا اخترناک پڑھا ہے، دونوں کا معنی ایک ہے لیکن یہاں أنا اخترتک دو اعتبار سے اولیٰ ہے کہ ایک یہ کہ خط کے اعتبار سے یہ مناسب ہے، دوسرا یہ کہ نسق کلام کے اعتبار سے یہ اولیٰ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یموسیٰ ۔ انی انا ربک فاخلع نعلیک، اس نسق کے اعتبار سے متکلم کا صیغہ آئے گا ؛ یہ نحاس کا قول ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فاستع لما یوحیٰ ۔ اس میں ایک مسئلہ ہے۔ ابن عطیہ نے کہا (2) ۔ مجھے میرے والد صاحب نے بتایا فرمایا میں نے ابوالفضل جوہری (رح)…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–14

مقدس مقام پر جوتے اتارنا : 1:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ (دونوں جوتے) مردار گدھے کے چمڑے کے بنے ہوئے تھے اس لئے فرمایا کہ ان دونوں کو اتار دو ۔ 2:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں نماز میں جوتے اتارنے کی وجہ کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتوں کو اتارنے کا حکم اس لئے تھا کیونکہ وہ مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔ 3:۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے پس تیرے رب نے ارادہ کیا کہ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَانا : اور میں نے ] [اخْتَرْتُكَ : چنا آپ (علیہ السلام) کو ] [فَاسْتمعْ : تو آپ (علیہ السلام) دھیان سے سنیں ] [لِمَا : اس کو جو ] [يُوْحٰى: وحی کیا جائے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–18

مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

9:۔ میں نے تمہیں رسالت و نبوت کے لیے چن لیا ہے لہذا اب میری باتوں پر کان دھر اور ان کو غور سے سن۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–16

تفسیر : ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ واقعہ بیان ہوا ہے جب آپ مدین سے چل کر وادی طویٰ کے قریب پہنچے ، تو اندھیری رات میں آپ کو روشنی اور تپش کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ نے دور ایک مقام پر آگ جلتی دیکھ کر اپنے گھر والوں کو وہیں ٹھرنے کا حکم دیا اور خود آگ کی تلاش اور کسی راستہ بتانے والے کی جستجو میں وہاں پہنچے۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ایک سرسبز و شاداب درخت سے نکل رہی تھی مگر اس درخت کو جلاتی نہیں تھی۔ آپ نے آگے بڑھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں ، تم ایک مقدس وادی میں پہنچ چکے ہو ، لہٰذا بطور ادب اپنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى۝ 13 اختیارُ : طلب ما هو خير وفعله، وقد يقال لما يراه الإنسان خيرا، وإن لم يكن خيرا، وقوله : وَلَقَدِ اخْتَرْناهُمْ عَلى عِلْمٍ عَلَى الْعالَمِينَ [ الدخان/ 32] ، يصحّ أن يكون إشارة إلى إيجاده تعالیٰ إياهم خيرا، وأن يكون إشارة إلى تقدیمهم علی غيرهم . والمختار في عرف المتکلّمين يقال لكلّ فعل يفعله الإنسان لا علی سبیل الإكراه، فقولهم : هو مختار في كذا، فلیس يريدون به ما يراد بقولهم فلان له اختیار، فإنّ الاختیار أخذ ما يراه خيرا، والمختار قد يقال للفاعل والمفعول . الاختیار ( افتعال ) بہتر چیز کو طلب کرکے اسے کر گزرنا ۔ اور کبھی اختیار کا لفظ کسی چیز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنَا اخْتَرْتُکَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی۔ (طٰـہٰ : 13) (میں نے تجھ کو چن لیا ہے تو جو وحی کی جارہی ہے اسے غور سے سنو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر آپ ( علیہ السلام) کی حیثیت کا انکشاف پروردگار نے سابقہ آیت کریمہ میں اپنا تعارف کرایا، پھر اس جگہ کی شناخت بتائی جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کھڑے تھے۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی حیثیت واضح کی گئی ہے کہ آپ ( علیہ السلام) کا اس جگہ حاضر ہونا اور اللہ تعالیٰ کے کلام سے مشرف ہونا ایک عام آدمی کی حیثیت سے نہیں بلکہ یہ عنایات اس وجہ سے ہورہی ہیں کہ آپ ( علیہ السلام) کو پروردگار نے چن لیا اور برگزیدہ کرلیا ہے۔ مقصود اس سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–16

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں دین کے تیسرے بنیادی عقیدہ کا یوں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے وقت کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ قیامت کا برپا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہر شخص کو اس کی اچھی بری کوشش کا بدلہ چکایا جائے۔ اے موسیٰ ! وہ شخص یعنی فرعون جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تجھے نبوت کے کام سے نہ روک دے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کا بندہ بنا لیا ہے۔ اگر آپ توحید کی دعوت دینے اور نبوت کے کام سے رک گئے تو آپ ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے اعتقادات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

13: وَاَنَا اخْتَرْتُکَ (اور میں نے تم کو پسند کرلیا ہے) یعنی نبوت کیلئے چن لیا ہے۔ قراءت : حمزہ نے اِنَّا اِخْتَرْنَاکَ پڑھا ہے۔ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوْحٰی ( جو کچھ تمہاری طرف وحی کیا جارہا ہے اس کو غور سے سن لو) یوحی ای الیک۔ فاستمع للذی یوحٰیپس تم کان لگائو اس کو جو وحی کی گئی یا فاستمع للوحی وحی کو غور سے سنو۔ لما کی لام استمع کے متعلق ہے یا اخترتک کے متعلق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

13۔ وانااخترتک، ، اور ہم نے آپ کی رسالت کو شمار کیا۔ حمزہ نے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔ بطور تعظیم کے ہم نے آپ کو چنا ، فاستمع لمایوحی، ، جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے اس کو غور سے سنو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–16

9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 13 (وانا اخترتک) یعنی میں نے لوگوں میں سے تجھے چن لیا ہے۔ یہ سب سے بڑی نعمت اور احاسن ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت کو نوازا جو اس شکر کا تقاضا کرتی ہے جو اس کے لائق ہے، اس لئے فرمایا (فاستمع لما یوحی) یعنی اس وحی کو غور سے سن جو تیری طرف کی جا رہی ہے، وہ اس کی مستحق ہے کہ اس کو غور سے سنا جائے کیونکہ یہ دین کی اساس اور دعوت اسلامی کا ستون ہے۔ (1) صحیح مسلم، الایمان، باب فی قولہ (ان اللہ لاینام) ح :129

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 12–13

وادی طویٰ میں موسیٰ کو جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا گیا ؟ قول باری ہے (فاخلع نعلیک اپنی جوتیاں اتار دو ) حسن اور ابن جریج کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جوتے اتار دینے کا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ وہ اپنے قذموں کے ذریعے وادی مقدس کی برکت سے براہ راست فیض یاب ہوجائیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس پر بعد کی آیت دلالت کرتی ہے جو یہ ہے (انک بالوادی المقدس طویٰ تو وادی مقدس طویٰ میں ہے) عبارت کی ترتیب اس طرح ہے ” اخلع نعلیک لانک بالوادی المقدس (اپنی جوتیاں اتار دو اس لئے کہ تم وادی مقدس میں ہو) کعب اور عکرمہ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جوتیاں ایک مردہ گدھے کے چمڑے کی بنی ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 12–13

13 حضرت موسیٰ کے لیے حق تعالیٰ کی رحمتوں بھری ندا و پکار : کہ " میں تمہارا رب ہوں "۔ یعنی یہاں پر آگ وغیرہ کوئی نہیں بلکہ یہ تو تجلی ہے تمہارے رب کے نوربے کیف کی۔ جو کہ آپ کو اس شجرہ خضرا میں اس نار بیضاء کی صورت میں دکھلائی گئی ہے۔ سو یہاں سے دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتیں واضح ہوگئیں۔ ایک یہ کہ نبوت و رسالت کا شرف ایک خاص وہبی شرف ہوتا ہے جس سے اللہ پاک محض اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے۔ جس میں بندے کے اپنے کسب و اکتساب اور محنت و عمل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ پیغمبر کو نبوت ملنے سے ایک لمحہ قبل بھی اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اب یہاں دیکھئے کہ حضرت موسیٰ ۔ علی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 13–14

ف 1 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت موسیٰ کو بھی پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر کو بھی ” ربک فکبر “ فرمایا گیا۔ (موضح) ” فاعبدنی “ میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کرنے کا حکم آگیا تھا لیکن چن کہ نماز تمام عبادتوں سے زیادہ اہم ہے اس لئے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ (شوکانی) اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ نماز کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہ۔ نیز اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کرنے سے پہلے سو جائے یا اسے غافل ہوجائے تو جونہی یاد آئے اسے چاہیے کہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اقم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–14

(20:13) اخترتک۔ ماضی واحد متکلم اختیار (افتعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے۔ فاستمع۔ پس خوب (کان لگا کر) سن۔ استماع افتعال فعل امر واحد مذکر حاضر الاستماع کے معنی غور سے سننے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ومنہم من یستمعون الیک (10:42) اور ان میں بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔ لما۔ میں لام کا تعلق یا اخترتک سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اس کے لئے میں نے تمہیں منتخب کیا ہے یا اس کا تعلق استمع سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اسے خوب دھیان سے سنو۔ یوحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی مادہ وحی کی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–16

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–17

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–20

(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔ حل لغات : طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔ ” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 13 اور میں نے تجھ کو منجملہ دوسرے لوگوں کے نبوت کے لئے پسند فرمایا ہے اور منتخب کیا ہے۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اور جو وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن۔ یعنی میں نے تجھ کو اپنی پیغمبری کے لئیپ سند فرمایا ہے اب میں تجھ پر جو وحی بھیجتا ہوں اس کو غور سے سن۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–15

ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے موسیٰ ! میں نے تجھ کو چن لیا ہے غور سے وحی کو سن اس کے مطابق عمل کر : 13۔ اس آیت میں سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو رسالت کے لئے انتخاب کر لئے جانے کا ذکر فرمایا ، آج جس کو لوگ منتخب کرتے ہیں اس کے احترام کی کیا صورت ہوتی ہے سب پر ظاہر ہے لیکن اس انتخاب میں چنے جانے والے کا اپنا زیادہ حصہ ہوتا ہے ، انتخاب کرنے والوں سے ، لیکن جس شخص کو اپنی مخلوقات میں سے اللہ تعالیٰ منتخب کرلے اس کی کیا ہی بات ہے سبحان اللہ ! اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے موسیٰ ! دیکھ ‘ میں نے تجھے چن لیا ہے پس جو کچھ وحی کی جاتی ہے اس کو کان لگا کر سن اسی لئے کسی نے کہا ہے کہ ع خدا کے فضل کا موسیٰ سے پوچھئے حال کہ آگ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

How to conduct oneself when the Qur'an is being recited فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ (So listen to what is revealed - 20:13). Sayyidna Wahb Ibn Munabbih has said that the correct behavior while listening to the recitation of the Qur'an is, that one sits still, refrains from any unnecessary movement in a way that no organ of his body is involved in any other work, keeps eyes down - concentrates the mind towards understanding its meaning. The person who listens to the Holy Qur'an in this respectful manner is rewarded by Allah Ta` ala with a better understanding of His word.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

9. This is the real object of Salat. It has been prescribed to remind people that they should not become neglectful of Allah by worldly diversions and that they should remember that man is not an unbridled free being but a servant of Allah. Salat has been prescribed five times a day to remind man of Allah’s presence. Some people are of the opinion that it means: Establish Salat, so that I may remember you. Incidentally, according to this verse, if one forgets to offer a prayer in time, he should offer it when he recollects it. This is also supported by a tradition related by Anas: If one…

Read the full tafseer →