Explained with ayahs 11–16
اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔
جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
سورة طٰهٰ 9
یہاں نماز کی اصلی غرض پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ آدمی خدا سے غافل نہ ہوجائے، دنیا کے دھوکا دینے والے مظاہر اس کو اس حقیقت سے بےفکر نہ کردیں کہ میں کسی کا بندہ ہوں، آزاد خود مختار نہیں ہوں۔ اس فکر کو تازہ رکھنے اور خدا سے آدمی کا تعلق جوڑے رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ نماز ہے جو ہر روز کئی بار آدمی کو دنیا کے ہنگاموں سے ہٹا کر خدا کی طرف لے جاتی ہے۔
بعض لوگوں نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ نماز قائم کر تاکہ میں تجھے یاد کروں، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ۔ ، " مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا۔ "
ضمناً اس آیت سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس شخص کو بھول لاحق…
Read the full tafseer →اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ ۙ وَاَ قِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ ، اس کلام میں حضرت موسیٰ ؑ کو دین کے تمام اصول کی تعلیم دے دی گئی یعنی توحید، رسالت، آخرت، فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى میں رسالت کی طرف اشارہ ہے اور فاعْبُدْنِيْ کے معنی یہ ہیں کہ صرف میری عبادت کریں، میرے سوا کسی کی عبادت نہ کریں یہ مضمون توحید کا ہوگیا آگے اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ میں آخرت کا بیان ہے۔ فَاعْبُدْنِيْ کے حکم میں اگرچہ نماز کا حکم بھی داخل ہے لیکن اس کو جداگانہ اس لئے بیان فرما دیا کہ نماز تمام عبادات میں افضل و اعلیٰ بھی ہے اور حدیث کی تصریح کے مطابق دین کا عمود اور ایمان کا نور ہے…
Read the full tafseer →اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوۃ لذکری 14
حضرت موسیٰ کو اولین تعلیم
یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ کو دی گی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیاء کو دی گئی ہے۔ اس آیت کا تجزیہ کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس میں تین باتیں مذکور ہیں۔
سب سے پہلے عقیدہ توحید اس لئے کہ یہی عقیدہ مرکز دین ہے۔ جہاں تک خدا کے ماننے کا تعلق ہے دنیا نے ہمیشہ خدا کو مانا ہے۔ انکار خدا کی حماقت موجودہ زمانے کی پیداوار ہے، البتہ شرک کی ضلالت ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں انسان پر حملہ آور ہوتی رہی ہے چناچہ ہر نبی کو سب سے پہلے توحید ہی کی تعلیم دی گئی اور ہر نبی نے سب سے پہلے شرک ہی کے خلاف جہاد کیا۔
دوسری چیز جس کی حضرت…
Read the full tafseer →14۔ 1 یعنی تکلیفات میں سب سے پہلا اور سب سے اہم حکم ہے جس کا ہر انسان پر تکلف ہی ہے۔ علاوہ ازیں جب الوہیت کا مستحق بھی وہی ہے تو عبادت بھی صرف اسی کا حق ہے۔
14۔ 2 عبادت کے بعد نماز کا خصوصی حکم دیا۔ حالانکہ عبادت میں نماز بھی شامل تھی، تاکہ اس کی وہ اہمیت واضح ہوجائے جیسے کہ اس کی ہے۔ لِذِکْرِیْ کا ایک مطلب یہ ہے کہ تو مجھے یاد کرے، اسلئے یاد کرنے کا طریقہ عبادت ہے اور عبادت میں نماز کو خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب بھی میں تجھے یاد آجاؤں نماز پڑھ، یعنی اگر کسی وقت غفلت یا نیند کا غلبہ ہو تو اس کیفیت سے نکلتے ہی اور میری یاد آتے ہی نماز پڑھ۔ جس طرح کہ نبی ﷺ نے فرمایا '…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات…
Read the full tafseer →6 اس میں خالص توحید اور ہر قسم کی بدنی و مالی عبات کا حکم دیا۔ نماز چونکہ اہم العبادات تھی اس کا ذکر خصوصیت سے کیا گیا اور اس پر بھی متنبہ فرما دیا گیا کہ نماز سے مقصود اعظم خدا تعالیٰ کی یادگاری ہے۔ گویا نماز سے غافل ہونا خدا کی یاد سے غافل ہونا ہے اور ذکر اللہ (یاد خدا) کے متعلق دوسری جگہ فرما دیا۔ (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) یعنی کبھی بھول چوک ہوجائے تو جب یاد آجائے اسے یاد کرو۔ یہ ہی حکم نماز کا ہے کہ وقت پر غفلت و نسیان ہوجائے تو یاد آنے پر قضا کرلے۔ " فَلْیُصَلِّہَا اِذَاذَکَرَہَا "
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–15
آیت 14 اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا ”
یہ آیت اس لحاظ سے ممتاز و منفرد ہے کہ اللہ کی انا نیت انا نیت کبریٰ کے اظہار کے لیے جو الفاظ یہاں اس مقام پر استعمال ہوئے ہیں ‘ میرے علم کی حد تک قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوئے۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ایک تو ہماری انائے صغیر The finite ego ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ کی انائے کبیر The Infinite Ego ہے۔ اس انائے کبیر The Great I am کا اس آیت میں بھرپور انداز میں اظہار ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
10 موسیٰ (علیہ السلام) کا اتفاقا طوی وادی میں پہنچنا :۔ جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک درخت میں آگ بھڑک رہی ہے۔ پاس نہ کوئی آدم ہے نہ آدم زاد۔ آگ جوں جوں بھڑکتی ہے درخت مزید سرسبز ہوجاتا ہے۔ اس عجیب نظارہ کو دیکھ ہی رہے تھے کہ اس میں ایک آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تمہارا پروردگار تم سے ہم کلام ہو رہا ہوں۔ تم اس وقت طویٰ کے مقدس میدان میں پہنچ چکے ہو۔ لہذا اپنے جوتے اتار لو۔ اس آواز کی کیفیت یہ تھی کہ یہ معلوم ہی نہ ہوسکتا تھا کہ کس سمت سے آواز آرہی ہے۔ دائیں سے آرہی ہے یا بائیں سے آگے سے یا پیچھے سے، اوپر سے یا نیچے سے۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) پس آواز کو سننے کے لئے…
Read the full tafseer →16۔ اس میں نماز کی غایت بیان کردی کہ اس سے اصل مقصود یاد الہی کو دل میں دل تازہ رکھنا ہے۔ معناہ اقم الصلوۃ لتذ کرنی فیھا (ابن جریر) لتذ کرنی (کشاف) اور یہی معنی مجاہد تابعی سے بھی منقول ہیں۔ (روح) اور واقعہ بھی یہی ہے کہ کسی کے دل پر اگر حاکم اعلی، ہمہ بین وہمہ دان حاکم کی ہمہ وقتی معیت وحاکمیت کا خیال اگر پوری طرح مستولی ہوجائے تو اس سے کوئی قصور سرزدہی کیوں ہونے پائے۔ آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ میری یاد آنے پر نماز پڑھ لیا کرو۔ چناچہ یہیں سے بعض فقہاء نے قضاء صلوۃ فائتہ کا استنباط کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیت نمبر 1 تا 14
ترجمہ : شروع کرتا ہوں میں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے طٰہٓ اللہ کی اس سے کیا مراد ہے وہی بہتر جانتا ہے اے محمد ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑجائیں یعنی تعب میں پڑجائیں اس طرز عمل سے جو آپ نے نزول قرآن کے بعد اختیار کیا رات کی نماز (تہجد) میں طول قیام کے ذریعہ، مطلب یہ کہ (تخفیف کرکے) اپنے اوپر بار کم ڈالئے بلکہ ہم نے قرآن کو اس شخص کی نصیحت کے لئے نازل کیا ہے جو خوف خدا رکھتا ہو یہ اس ذات کی جانب سے نازل کردہ ہے جس نے زمین اور بلند آسمانوں کو پیدا فرمایا۔ تنزیلاً اپنے فعل ناصب (انزلناہ) کے عوض میں ہے عُلیٰ عُلْیَا کی جمع ہے جیسے…
Read the full tafseer →اننی انا اللہ لا الہ الا الا انا فاعبدنی میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری عبادت کرو (کسی اور کی نہ کرو)
اَنَا اللّٰہَ ۔۔ مَا یُوْحٰیسے بدل ہے اس جملہ کے اندر وحی کے حصے بیان فرمائے۔ توحید عبادت جو علم کا کمال ہے اور عبادت خالص جو عمل کا کمال ہے۔
واقم الصلوۃ لذکری اور میری ہی یاد کی نماز پڑھا کرو۔
عمومی عبادت کا ذکر پہلے کیا پھر نماز کی خصوصیت کے ساتھ حکم دیا۔ کیونکہ تمام عبادتوں میں نماز کی اہمیت اور عظمت ظاہر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ نماز دین کا ستون ہے رواہ ابو نعیم والبیہقی عن عمر ؓ و صاحب مسند الفردوس عن علی ؓ ۔
ابن عساکر نے حضرت انس ؓ کی روایت سے حدیث مذکور ان الفاظ…
Read the full tafseer →(14) میں اللہ ہوں میرے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں لہذا میری فرمانبرداری کرو اور اگر کسی وقت نماز پڑھنا بھول جاؤ تو فورا یاد آتے ہی پڑھ لیا کرو۔
Read the full tafseer →اِنَّنِيْٓ اَنَا اللّٰهُ : اللہ تعالیٰ نے پہلے موسیٰ ؑ کو اس تعلق سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ اور موسیٰ ؑ کے درمیان تھا کہ بلاشبہ میں تیرا رب ہوں جو تجھ سے مخاطب ہوں، یعنی تجھے پیدا کرنے والا، تیری پرورش کرنے والا اور تیری ہر ضرورت پوری کرنے والا میں ہی ہوں۔ پھر جوتے اتارنے کے حکم کے بعد وحی کو غور سے سننے کی تاکید فرمائی، کیونکہ چننے سے مقصود ہی وحی کے ذریعے سے رسالت کی ذمہ داریاں سونپنا تھا۔ اب ضمیر متکلم ”اَنَا“ کے بعد اپنا ذاتی نام بتایا، کیونکہ ملاقات میں پہلی چیز یہی ہے کہ ایک دوسرے کا نام معلوم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا کہ میں تو اپنے کلیم کا نام جانتا ہی ہوں، میرا نام اللہ ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوٰۃ لذکری۔ اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ لذکری کی تاویل میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ احتمال ہے کہ یہ مراد ہو کہ تو مجھے نماز میں ذکر کرے یا مراد ہے کہ میں اس نماز کی وجہ سے علیین میں مدح کے ساتھ تیرا ذکر کروں۔ اس بنا پر مصدر فاعل یا مفعول کی طرف مضاف ہونے کا اچتمال رکھتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے توحید کے بعد نماز پر استقامت اختیار کر۔ یہ نماز کی قدر کی عظمت پر تنبیہ ہے کیونکہ نماز اللہ کی بارگاہ میں تضرع ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس بنا پر نماز ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ذکر کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
مقدس مقام پر جوتے اتارنا :
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت علی ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ (دونوں جوتے) مردار گدھے کے چمڑے کے بنے ہوئے تھے اس لئے فرمایا کہ ان دونوں کو اتار دو ۔
2:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرماتے ہیں نماز میں جوتے اتارنے کی وجہ کیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جوتوں کو اتارنے کا حکم اس لئے تھا کیونکہ وہ مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے۔
3:۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے (آیت) ” فاخلع نعلیک “ کے بارے میں روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوئے تھے پس تیرے رب نے ارادہ کیا کہ موسیٰ…
Read the full tafseer →[اننِيْٓ انا : بیشک میں ہی ] [اللّٰهُ : اللہ ہوں ] [لَآ اِلٰهَ : کوئی اِلٰہ نہیں ] [اِلَّآ انا : سوائے میرے ] [فَاعْبُدْنِيْ : پس آپ (علیہ السلام) بندگی کریں میری ] [وَاَقِمِ : اور آپ (علیہ السلام) قائم کریں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [لِذِكْرِيْ : میری یاد کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →10:۔ یہ توحید کی دوسری آیت ہے۔ وہ پیغام جس کی تبلیغ کے لیے تمہیں رسالت سے سرفراز کیا گیا ہے کہ میرے سوا اور کوئی متصرف و کارساز نہیں۔ لہذا میری ہی عبادت کرنا اور صرف مجھے ہی پکارنا ” وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِکْرِيْ “ اس میں امر مصلح نماز کا ذکر ہے۔ لذکری، یہ اقم کے متعلق ہے یعنی توحید کے بعد میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ ای حافظ بعد التوحید علی الصلوۃ (قرطبی جلد 11 ص 177) یا لام اجلیہ ہے ای اقم الصلوۃ لاجل توحیدی۔ یعنی تبلیغ توحید پر ثبات و استقلال کی خاطر نماز قائم کرو کیونکہ نماز مصائب و شدائد برداشت کرنے میں ممد و معاون ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
تفسیر : ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ واقعہ بیان ہوا ہے جب آپ مدین سے چل کر وادی طویٰ کے قریب پہنچے ، تو اندھیری رات میں آپ کو روشنی اور تپش کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ نے دور ایک مقام پر آگ جلتی دیکھ کر اپنے گھر والوں کو وہیں ٹھرنے کا حکم دیا اور خود آگ کی تلاش اور کسی راستہ بتانے والے کی جستجو میں وہاں پہنچے۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ایک سرسبز و شاداب درخت سے نکل رہی تھی مگر اس درخت کو جلاتی نہیں تھی۔ آپ نے آگے بڑھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں ، تم ایک مقدس وادی میں پہنچ چکے ہو ، لہٰذا بطور ادب اپنے…
Read the full tafseer →اِنَّنِيْٓ اَنَا اللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِيْ 0ۙ وَاَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِكْرِيْ 14
عبد
العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] .
( ع ب د ) العبودیۃ
کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔
تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…
Read the full tafseer →اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدْنِیْ لا وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ ۔ (طٰـہٰ : 14)
(بےشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی بندگی کرو اور میری یاد کے لیے نماز قائم کرو۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جانے والی اولیں تعلیم
یہ اولین تعلیم ہے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اور یہی تعلیم ہمیشہ تمام انبیائے کرام کو دی گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں تین باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1 سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے موسیٰ ، تم جس آواز کو سن رہے ہو، یہ آواز تمہارے خدا کی آواز ہے۔ میں ہی اللہ ہوں جو تم سے مخاطب ہوں۔ دنیا نے اگرچہ ہمیشہ مجھے تسلیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں دین کے تیسرے بنیادی عقیدہ کا یوں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے وقت کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ قیامت کا برپا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہر شخص کو اس کی اچھی بری کوشش کا بدلہ چکایا جائے۔ اے موسیٰ ! وہ شخص یعنی فرعون جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تجھے نبوت کے کام سے نہ روک دے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کا بندہ بنا لیا ہے۔ اگر آپ توحید کی دعوت دینے اور نبوت کے کام سے رک گئے تو آپ ہلاک ہوجائیں گے۔
یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے اعتقادات…
Read the full tafseer →14: اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَآاِلٰـہَ اِلاَّ ٓاَنَا فَاعْبُدْنِیْ ( میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو) یعنی مجھے اکیلا جان کر میری طاعت کرو۔ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃ لِذِکْرِیْ (اور میری ہی یاد کیلئے نماز پڑھا کرو) تاکہ تم مجھے نماز میں یاد کرو کیونکہ نماز اذکار پر مشتمل ہے۔ (2) نماز کو قائم کرو اس لئے کہ میں نے اس کا تذکرہ نماز میں کردیا اور اس کا حکم دیا (3) تاکہ میں تمہارا تذکرہ مدح اور ثناء کے ساتھ کروں (4) یہ خاص میری یاد کیلئے کہ اس میں غیر کے ذکر کی ملاوٹ نہ ہو۔ (5) تاکہ تو مجھے یاد کرنے والا بن جائے نہ کہ بھولنے والا۔ (6) میری یاد کے اوقات میں نماز کو قائم…
Read the full tafseer →14۔ اننی انا اللہ لاالہ الاانافاعبدنی، ، میرے علاوہ کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں۔ واقم الصلوۃ لذکری، مجاہد کا قول ہے کہ نماز قائم کریں تاکہ اس کے ذریعے سے میری یاد ہو۔ مقاتل کا بیان ہے کہ جب تم نماز چھوڑ دو پھر مجھے یاد کرو، اس کو قائم کرو۔
حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا جو شخص نماز سے بھول جائے جب اس کو یاد آئے تو اس کو پڑھ لے ، اس کا کفارہ یہی ہے ، پھر میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے فرمایا، اقم الصلوۃ لذکری، ،۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…
Read the full tafseer →آیت 14
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس وحی کو بیان کتے ہوئے فرمایا : (اننی انا اللہ لا الہ الا انا) ” بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ یعنی اللہ ہی ہے جو الوہیت کا مستحق اور اس سے متصف ہے کیونکہ وہ اسماء، وصفات میں کامل اور اپنے افعال میں منفرد ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ مثیل اور جس کا کوئی ہمسر ہے نہ برابری کرنے والا۔
(فاعبدنی) ” پس میری ہی عبادت کر “ عبادت کی ظاہری اور باطنی، اصولی اور فروعی تمام انواع کے ذریعے سے۔ پھر نماز کا بطور خاص ذکر فرمایا، حالانکہ نماز عبادت میں داخل ہے۔ اس کی ایک وجہ نماز کا شرف و فضل ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ نماز ایسی عبادت ہے جو دل، زبان اور اعضا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
بھولی ہوئی نماز جب یاد آئے اسی وقت ادا کی جائے نہ کہ اگلے روز والی نماز کے وقت میں
قول باری ہے (واقیم الصلوۃ للذکری اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر) حسن اور مجاہد کا قول ہے تاکہ نماز کے اندر تو تسبیح و تعظیم کے ذریعے مجھے یاد کرے۔ “ ایک قول کے مطابق ” تاکہ میں تجھے تیری مدد و توصیف کے ساتھ یاد کروں۔ “ زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی آنکھ صبح کی نماز کے لئے نہیں کھلی یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ آپ نے طلوع شمس کے بعد نماز اد ا کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اقم الصلوۃ لذکری) ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
16 حضرت موسیٰ کو نماز قائم کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نماز قائم کرو میری یاد کیلئے "۔ کہ یہ میری یاد دلشاد کا سب سے بڑا ذریعہ اور عمدہ طریقہ ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اس سے مومن اپنے رب سے گفتگو اور مکالمے کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب اس طرح صدق و صفائی کے ساتھ تم مجھے یاد کرو گے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ { فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ } ۔ اور جب میں تمہیں یاد کروں تو اس سے بڑھ کر تمہارے لیے شرف و امتیاز اور انعام و اکرام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر محلوظ خاطر اور پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت
تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 1 شاہ صاحب لکھتے ہیں : حضرت موسیٰ کو بھی پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر کو بھی ” ربک فکبر “ فرمایا گیا۔ (موضح) ” فاعبدنی “ میں اگرچہ ہر قسم کی بدنی و مالی عبادت کرنے کا حکم آگیا تھا لیکن چن کہ نماز تمام عبادتوں سے زیادہ اہم ہے اس لئے اس کا خاص طور پر الگ ذکر بھی فرمایا۔ (شوکانی) اور ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ نماز کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی یاد سے غافل نہ ہ۔ نیز اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کرنے سے پہلے سو جائے یا اسے غافل ہوجائے تو جونہی یاد آئے اسے چاہیے کہ نماز پڑھ لے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :” اقم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
(20:13) اخترتک۔ ماضی واحد متکلم اختیار (افتعال) مصدر ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں نے تجھے منتخب کرلیا ہے۔
فاستمع۔ پس خوب (کان لگا کر) سن۔ استماع افتعال فعل امر واحد مذکر حاضر الاستماع کے معنی غور سے سننے کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے ومنہم من یستمعون الیک (10:42) اور ان میں بعض ایسے ہیں جو تمہاری طرف کان لگاتے ہیں۔
لما۔ میں لام کا تعلق یا اخترتک سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اس کے لئے میں نے تمہیں منتخب کیا ہے یا اس کا تعلق استمع سے ہے کہ جو وحی کیا جاتا ہے اسے خوب دھیان سے سنو۔ یوحی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ ایحاء (افعال) مصدر۔ وحی مادہ وحی کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16
حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 16
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔
حل لغات :
طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔
” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…
Read the full tafseer →- 14 بلاشبہ ! میں اللہ ہوں میرے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں لہٰذا میری ہی عبادت اور بندگی کیا کر اور میری ہی یاد کے لئے نما زپڑھا کر ۔ یعنی جب کوئی دوسرا میرے سوا معبود ہونے کے قابل ہی نہیں تو میری ہی عبادت کر اور میری ہی یاد کے لئے نماز ادا کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–15
ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔
Read the full tafseer →میں اللہ ہوں ‘ میری عبادت کرو اور میری یاد کے لئے نماز ادا کرو :
14۔ میں ہی اللہ ہوں ‘ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘ کوئی پکارے جانے کے قابل نہیں ، کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ‘ اور اس پیغام الہی میں وحی کے دو حصے بیان ہوئے توحید عبادت جو علم کا کمال ہے اور عبادت خالص جو عمل کا کمال ہے ، ” میری یاد کے لئے نماز قائم کرو “ عبادت میں سے ایک خاص قسم عبادت کو نکھار کر بیان کیا تاکہ تمام عمل کا کمال ہے ۔ ” میری یاد کے لئے نماز قائم کرو “ عبادت میں سے ایک خاص قسم عبادت کو نکھار کر بیان کیا تاکہ تمام عبادتوں میں نماز کی اہمیت اور عظمت واضح ہوجائے یہی وجہ ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ نے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →إِنَّنِي أَنَا اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِي وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي (Surely I am ALLAH. There is no god but I, so worship Me and establish Salah for My remembrance - 20:14): with these words Allah Ta` ala bestowed upon Sayyidna Masu (علیہ السلام) knowledge of all the basic principles of the true Faith, namely the Oneness of Allah Ta` ala, the prophethood and the Hereafter. فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَىٰ (So listen to what is revealed) refers to prophethood. فَاعْبُدْنِي means "worship Me alone and no one else". This points to the Oneness of Allah Ta` ala.إِنَّ السَّاعَةَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9. This is the real object of Salat. It has been prescribed to remind people that they should not become neglectful of Allah by worldly diversions and that they should remember that man is not an unbridled free being but a servant of Allah. Salat has been prescribed five times a day to remind man of Allah’s presence.
Some people are of the opinion that it means:
Establish Salat, so that I may remember you. Incidentally, according to this verse, if one forgets to offer a prayer in time, he should offer it when he recollects it. This is also supported by a tradition related by Anas: If one…
Read the full tafseer →