Taa-Haa 20:15

Taa-Haa · from ayah 15

20:15

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِیَةٌ اَكَادُ اُخْفِیْهَا لِتُجْزٰی كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعٰی ۟اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَـةٌ اَكَادُ اُخۡفِيۡهَا لِتُجۡزٰى كُلُّ نَفۡسٍۢ بِمَا تَسۡعٰى‏

قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the Hour is coming - I almost conceal it - so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 1 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:15

قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھو کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اس (کے وقت) کو خفیہ رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر شخص کو اس کے کیے کا بدلہ ملے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک قیامت آنے والی ہے قریب تھا کہ میں اسے سب سے چھپاؤں کہ ہر جان اپنی کوشش کا بدلہ پائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس (عمل) کا بدلہ دیا جائے جس کے لئے وہ کوشاں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

قیامت یقینا آنے والی ہے میں اسے ظاہر کرنے ہی والا ہوں تاکہ ہر شخص اپنی کوشش کا بدلہ پائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک قیامت شدنی ہے۔ میں اس کو چھپائے ہی رکھوں گا تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور دوسرا اہم مضمون اس وحی کا یہ ہے کہ) قیامت نے یقیناً آنا ہے قریب ہے کہ میں اس (کے وقت) کو چھپائے رکھوں، (اور وہ آئے گی اس لئے کہ) تاکہ ہر شخص کو (پورا پورا) بدلہ دیا جائے اس کے (زندگی بھر کے) کئے کرائے کا،

— مولانا اسحاق مدنی

بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اسے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو اس کی کوشش کا بدلہ مل جائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ) بیشک قیامت آکر رہے گی میں اسے مخفی ہی رکھوں گا تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو جو اس نے کوشش کی ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قیامت یقینا آنے والی ہے، میں نے اس (کے وقت) کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ ملے جو اس نے کمایا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Hour of Resurrection is coming. I have willed to keep the time of its coming hidden so that everyone may be recompensed in accordance with his effort.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, the Hour (i.e. the Day of Judgment) has to come. I would keep it secret, so that everyone is given a return for the effort one makes.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, the Hour (i.e. the Day of Judgment) has to come. I would keep it secret, so that everyone is given a return for the effort one makes.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, the Hour is coming -- and I am almost hiding it -- that every person may be rewarded for that which he strives."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the Hour is surely coming. But I will to keep it hidden, that every soul may be rewarded for that which it striveth (to achieve).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the Hour is coming - I almost conceal it - so that every soul may be recompensed according to that for which it strives.

— Saheeh International

Although it is certain that the Day of Judgment will come, I prefer to keep it almost a secret so that every soul will receive the recompense for what it has done (on its own).

— Muhammad Sarwar

Surely the hour is coming-- I am about to make it manifest-- so that every soul may be rewarded as it strives:

— Muhammad Habib Shakir

Verily the Hour is coming--I wish to conceal it - in Order that every one may be requited according to that which he hath endeavoured.

— Abdul Majid Daryabadi

"Verily the Hour is coming - My design is to keep it hidden - for every soul to receive its reward by the measure of its Endeavour.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–16

اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔ جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة طٰهٰ 10 توحید کے بعد دوسری حقیقت جو ہر زمانے میں تمام انبیاء (علیہم السلام) پر منکشف کی گئی اور جس کی تعلیم دینے پر وہ مامور کیے گئے، آخرت ہے۔ یہاں نہ صرف اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے مقصد پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ ساعت منتظرہ اس لیے آئے گی کہ ہر شخص نے دنیا میں جو سعی کی ہے اس کا بدلہ رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدعا پورا ہوسکے۔ جسے عاقبت کی کچھ فکر ہو اس کو ہر وقت اس گھڑی کا کھٹکا لگا رہے اور یہ کھٹکا اسے بےراہ روی سے بچاتا رہے۔ اور جو دنیا میں گم رہنا چاہتا ہو وہ اس خیال میں مگن رہے کہ قیامت ابھی کہیں دور دور بھی آتی نظر نہیں آتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اَكَادُ اُخْفِيْهَا، یعنی قیامت کے معاملہ کو میں تمام مخلوقات سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں یہاں تک کہ انبیاء اور فرشتوں سے بھی اور اکاد سے اس طرف اشارہ ہے کہ اگر لوگوں کو قیامت و آخرت کی فکر دلا کر ایمان و علم صالح پر ابھارنا مقصود نہ ہوتا تو اتنی بات بھی ظاہر نہ کی جاتی کہ قیامت آنے والی ہے جیسا کہ اوپر آیت میں آیا ہے اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ، مقصود اس سے اخفائے قیامت میں مبالغہ کرنا ہے۔ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا تَسْعٰي (تاکہ جزاء دیا جائے ہر نفس اپنے عمل کی) اس جملہ کا تعلق اگر لفظ اتیة سے ہے تو معنی ظاہر ہیں کہ قیامت کے آنے کی حکمت و مصلحت یہ ہے کہ دنیا تو دار الجزاء نہیں یہاں نیک و بد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قیامت کی یاد دہانی یہ قیامت کی یاد دہانی ہے اور اس کے لئے آتیۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی صرف یہ نہیں ہیں کہ وہ آئے گی، بلکہ یہ فاعل کا صیغہ ہے جس کے اندر زور اور تاکید ہے کہ یہ آ کے رہے گی، یہ شدنی اور اٹل ہے۔ یہ امر محلوظ ہے کہ قیامت کے باب میں عام ذہن کبھی انکار صریح کا نہیں بلکہ تعجب اور استبعاد کا رہا ہے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کے اثبات کے پہلو بہ پہلو اس کی قطعیت پر بہت زور دیا ہے۔ قیامت کا مقصد لتجزی کل نفس بما تسعی یہ قیامت کا اصل مقصد بیان ہوا ہے کہ اس کا آنا اس لئے لا بدی ہے کہ ہر جان کو اس کی کمائی کا، نیک ہو یا بد، بدلہ دیا جانا ناگزیر ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ دنیا ایک رحیم و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 15–16

16۔ 1 اس لئے کہ آخرت پر یقین کرنے سے یا اس کے ذکر و مراقبے سے گریز، دونوں ہی باتیں ہلاکت کا باعث ہیں

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–21

7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 14–16

اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔ یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔ اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اس کے آنے کا وقت سب سے مخفی رکھنا چاہتا ہوں، حتی کہ اگر خود اپنے سے چھپانا ممکن ہوتا تو اپنے سے بھی مخفی رکھتا، لیکن یہ ممکن ہی نہیں۔ وفیہ من المبالغۃ کما فی الحدیث (وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ ) 18 ۔ الکہف :24) وکما قال الشاعر (غیرت از چشم برم روئے تو دیدن نہ دہم۔ گوش رانیز حدیث توشنیدن نہ دہم) اور اگر بہت سی مصالح باعث اظہار نہ ہوتیں تو جتنا اجمالی اظہار کیا گیا یہ بھی نہ کیا جاتا۔ 8 یعنی قیامت کا آنا اس لیے ضروری ہے کہ ہر شخص کو اس کے نیک و بد کا بدلہ ملے اور مطیع و عاصی میں کوئی التباس و اشتباہ باقی نہ رہے یہ توحید و عبادت کے بعد عقیدہ معاد کی تعلیم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

آیت 14 اِنَّنِیْٓ اَنَا اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا ” یہ آیت اس لحاظ سے ممتاز و منفرد ہے کہ اللہ کی انا نیت انا نیت کبریٰ کے اظہار کے لیے جو الفاظ یہاں اس مقام پر استعمال ہوئے ہیں ‘ میرے علم کی حد تک قرآن میں کسی اور مقام پر نہیں ہوئے۔ علامہ اقبال نے یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ ایک تو ہماری انائے صغیر The finite ego ہے اور اس کے مقابلے میں اللہ کی انائے کبیر The Infinite Ego ہے۔ اس انائے کبیر The Great I am کا اس آیت میں بھرپور انداز میں اظہار ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 خفی لا لغوی مفہوم :۔ اخفہا۔ خفی کا معروف معنی چھپنا اور پوشیدہ ہونا ہے اور اخفی کا معنی چھپانا۔ اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہوگا۔ میں اسے چھپائے ہوئے ہوں پھر یہ لفظ لغت زدی الاضداد سے بھی ہے۔ جس کا معنی ہے ظاہر کردینا، کہتے ہیں خفی المظر القارۃ، یعنی بارش نے چوہے کو بل سے نکال کر ظاہر کردیا یا بےنقاب گویا ہم نے دوسرے معنی کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ اس سے مطلب زیادہ واضح ہوتا ہے۔ گویا جو آواز اس میدان میں آرہی تھی وہ اللہ کی طرف سے وحی ہو رہی تھی اور قرآن کی صراحت کے مطابق اللہ کا بندے سے ہم کلام ہونا بھی وحی ہی کی تین قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ آپ گئے تو تھے آگ لینے کو اور اللہ کی مہربانی یہ ہوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ توحید و رسالت ان دوعقائد کی تعلیم پچھلی آیت میں آچکی تھی۔ اب عقیدۂ معاد کا ذکر ہو رہا ہے اور یہی تینوں اصلی اور مرکزی عقائد ہیں دین الہی و شریعت خداوندی کے۔ آیت میں بیان قیامت کی غایت کا آگیا۔ وہ اسی ناسوتی زندگی کی تکمیل کے لیے ہے، نتائج کا ظہور پوری طرح اس محدود ومختصر دنیوی زندگی میں ہو نہیں پاتا۔ ظہور کامل کے لیے ایک یوم موعود کا پیش آنا بالکل مطابق عقل اور عین تقاضائے عدل ہے۔ جو لوگ عقیدۂ حشر کے منکر ہیں، حیرت ہوتی ہے کہ ان کے سطحی دماغ اس موجودہ زندگی کی محدودیت پر قانع کیسے ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” لتجزی “ کا تعلق (آیت) ” اتیۃ “۔ سے ہے (آیت) ” اکاد اخفیھا “۔ کا فقرہ درمیان میں بطور جملہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 15–24

آیت نمبر 15 تا 24 ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیہا بلاشبہ وہ گھڑی (یعنی قیامت) آنے والی ہے ‘ میں اس کے (مقررہ وقت) کو پوشیدہ رکھوں گا۔ یہ جملہ حکم عبادت کی علت ہے یا مستانفہ ہے یا معترضہ ہے جس کو خوف دلانے کے لئے ذکر کیا ہے اور بقول بغوی واو عاطفہ محذوف ہے اصل میں وَاِنَّ السَّاعَۃَ اٰتَیْۃٌ تھا۔ اخفش نے اکا دکا ترجمہ اُرِیْدُ (میں چاہتا ہوں) کیا ہے بغوی کے نزدیک یہ لفظ زائد ہے۔ معنی یہ ہے کہ میں اس کا مقررہ وقت ظاہر نہیں کروں گا۔ بعض اہل علم نے اَکَادُ اُخْفِیْہَاکا یہ مطلب بیان کیا۔ قریب تھا کہ میں قیامت کو چھپا لیتا یہ بھی نہ کہتا کہ قیامت آنے والی ہے ‘ بندوں پر مہربانی کرنی اور اتمام حجت کرنا مقصود تھا اس لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اور دوسرا یہ کہ قیامت آنیوالی ہے میں اس کے وقت کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں یا یہ کہ میں نے اس کا علم خاص اپنی ذات کے لیے مخفی رکھا ہے تو کسی اور سے اس کا اظہار کیوں کروں کہ وہ کب آئے گی تاکہ ہر ایک نیک وبد کو، جو کچھ کسی نے نیک و بداعمال کیے ہیں ان کو ان کا بدلہ مل جائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ السَّاعَةَ اٰتِيَةٌ : توحید، عبادت اور نماز کی تاکید کے بعد ایمان کے ایک اور بنیادی رکن قیامت کے یقینی ہونے کا ذکر فرمایا، تاکہ ہر شخص کو اس کی سعی و کوشش کی جزا دی جائے۔ اس صورت میں ”لِتُجْزٰى“ ”اٰتِيَةٌ“ کے متعلق ہوگا۔ قیامت کا یقین ہی ایسی چیز ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت پر آمادہ کرتی ہے، ورنہ باز پرس اور اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین نہ ہو تو جائز و ناجائز کی تمیز کون کرتا ہے ؟ اَكَادُ اُخْفِيْهَا لِتُجْزٰى۔۔ : یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ جس کام کے متعلق ”کَادَ یَکَادُ“ استعمال ہو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ واقع ہونے کے قریب ہے مگر واقع نہیں ہوا، جیسا کہ سورة…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوٰۃ لذکری۔ اس میں سات مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1 ۔ لذکری کی تاویل میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ احتمال ہے کہ یہ مراد ہو کہ تو مجھے نماز میں ذکر کرے یا مراد ہے کہ میں اس نماز کی وجہ سے علیین میں مدح کے ساتھ تیرا ذکر کروں۔ اس بنا پر مصدر فاعل یا مفعول کی طرف مضاف ہونے کا اچتمال رکھتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے توحید کے بعد نماز پر استقامت اختیار کر۔ یہ نماز کی قدر کی عظمت پر تنبیہ ہے کیونکہ نماز اللہ کی بارگاہ میں تضرع ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس بنا پر نماز ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ذکر کا نام…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 15–24

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔ قیامت کی گھڑی مخفی ہے : 2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔ 4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [السَّاعَةَ : وہ گھڑی (یعنی قیامت)] [اٰتِيَةٌ: آنے والی ہے ] [اَكَادُ : میں ارادہ کرتا ہوں کہ ] [اُخْفِيْهَا : میں خفیہ رکھوں اس کو ] [لِتُجْزٰى: تاکہ جزاء دی جائے ] [كُلُّ نَفْسٍۢ: ہر جان کو ] [بِمَا : اس کی جو ] [تَسْعٰي : اس نے بھاگ دوڑ کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 9–18

مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 9–36

تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی (ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔ نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

11:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَ کَادُ اُخْفِیھَا “ حضرت عبداللہ بن عباس اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے۔ اکاد اخفیھا من نفسی فکیف یعلمہا مخلوق کو کیف اظھرھا لکم (خازن ج 4 ص 215، قرطبی ج 11 ص 185 وغیرہ) ۔ یعنی اگر ممکن ہوتا تو قیامت کے معین وقت کا علم میں اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھتا۔ اس لیے مخلوق میں سے اسے کوئی نہیں جان سکتا۔ یہ محاورہ ہے جب کسی بات کے کتمان میں مبالغہ مقصود ہو تو اس وقت یہ محاورہ بولتے ہیں۔ وھذا محمول علی ما جرت بہ عادۃ العرب من ان احدھم اذا اراد المبالغۃ فی کتمان الشیء قال کدت اخفیہ من نفسی (روح ج 16 ص 156)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–16

تفسیر : ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ واقعہ بیان ہوا ہے جب آپ مدین سے چل کر وادی طویٰ کے قریب پہنچے ، تو اندھیری رات میں آپ کو روشنی اور تپش کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ نے دور ایک مقام پر آگ جلتی دیکھ کر اپنے گھر والوں کو وہیں ٹھرنے کا حکم دیا اور خود آگ کی تلاش اور کسی راستہ بتانے والے کی جستجو میں وہاں پہنچے۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ایک سرسبز و شاداب درخت سے نکل رہی تھی مگر اس درخت کو جلاتی نہیں تھی۔ آپ نے آگے بڑھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں ، تم ایک مقدس وادی میں پہنچ چکے ہو ، لہٰذا بطور ادب اپنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِيَۃٌ اَكَادُ اُخْفِيْہَا لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍؚبِمَا تَسْعٰي۝ 15 ساعة السَّاعَةُ : جزء من أجزاء الزّمان، ويعبّر به عن القیامة، قال : اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] ، يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] ( س و ع ) الساعۃ ( وقت ) اجزاء زمانہ میں سے ایک جزء کا نام ہے اور الساعۃ بول کر قیامت بھی مراد جاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ [ القمر/ 1] قیامت قریب آکر پہنچی ۔ يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ [ الأعراف/ 187] اے پیغمبر لوگ ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ أتى الإتيان : مجیء بسهولة، ومنه قيل للسیل المارّ علی وجهه ( ا ت ی )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 9–24

ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔ تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰ تِیَۃٌ اَکَادُ اُخْفِیْہَا لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا تَسْعٰی۔ (طٰـہٰ : 15) (بےشک قیامت ضرور آنے والی ہے، میں اسے مخفی رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر جان کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ ) توحید اور نماز کے بعد قیامت کی تلقین توحید، عبادت اور نماز کے بعد اب قیامت کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ اس میں سب سے پہلیاٰ تِیَۃٌ کا لفظ لا کر ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، وہ یہ کہ ایسے لوگ بہت کم گزرے ہیں اور آج بھی کچھ زیادہ نہیں جو قیامت کے سرے سے منکر ہوں۔ عرب کھل کر قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے البتہ ! انھیں اس کے آنے کا یقین نہیں تھا۔ آج کا انسان بھی قیامت کا اقرار کرتا ہے لیکن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–16

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں دین کے تیسرے بنیادی عقیدہ کا یوں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے وقت کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ قیامت کا برپا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہر شخص کو اس کی اچھی بری کوشش کا بدلہ چکایا جائے۔ اے موسیٰ ! وہ شخص یعنی فرعون جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تجھے نبوت کے کام سے نہ روک دے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کا بندہ بنا لیا ہے۔ اگر آپ توحید کی دعوت دینے اور نبوت کے کام سے رک گئے تو آپ ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے اعتقادات…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

15: اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ ( بیشک قیامت آنے والی ہے) بہر صورت۔ اَکَادُ اُخْفِیْھَا (میں اس کے وقت مقررہ کو پوشیدہ رکھوں گا) اَکَادَ کا معنی اُرِیْدُہے ( میں چاہتا ہوں) یہ اخفش سے مروی ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ صلہ ہے ایک قول یہ ہے کہ اخفیھا اضداد میں سے ہے اس کا معنی جبکہ خفی یخفی (ض) سے ہو تو تو اظہرھا ہے یعنی میں اس کو ظاہر کرنے والا ہوں۔ یا چھپانے والا ہوں۔ پس میں نہیں کہوں گا کہ وہ آنے والی ہے کیونکہ میرا ارادہ اس کو چھپانے کا ہے۔ اگر وہ نہ ہوتا جو اس کے آنے کے متعلق اطلاعات میں موجود رہے اس کے ساتھ ساتھ کہ اس کے وقت میں حکمت کی وجہ سے عموم ہی اختیار کیا گیا ہے۔ عموم یہ کہ وہ نہیں جانتے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 15۔ ان الساعۃ آتیۃ اکاد اخفیھا، ، اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت آنے والی ہے میں اس کے مقررہ وقت کو پوشیدہ رکھوں گا، اکاد صلہ ہے اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ میں اس کو اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھتا۔ اسی طرح ابی بن کعب کے مصحف میں بھی ہے اور عبداللہ بن مسعود کے مصحف میں بھی اسی طرح ہے کہ اگر میں اس کو اپنے سے بھی پوشیدہ رکھتا تو مخلوق کو کی سے پتہ چلتا اور بعض قرات میں ہے کہ پھر تمہارے لیے کیسے ظاہر ہوتی۔ عرب کی عادت ہے کہ جب وہ کسی چیز کے پوشیدہ ہونے میں مبالغہ کرتے تو کہتے کہ میں نے اس چیز کو اپنے آپ سے بھی پوشیدہ رکھا، اور اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے اور کہا، اکاد میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 9–16

9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 15 (ان الاسعۃ اتیۃ) یعنی قیامت کی گھڑی کا واقع ہونا لازمی امر ہے۔ (اکاداخفیھا) یعنی قیامت کی گھڑی خود آپ ﷺ سے چھپی ہوئی ہے، جی اس کہ بعض قرأت میں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے : (یسئلک الناس عن الاسعۃ قل انما علمھا عند اللہ) (الاحزاب :63/63) ” آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ “ اور فرمایا : (ان اللہ عندہ علم الاسعۃ) (لقمن :33/31) ” قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم کو تمام مخلوقات سے چھپا رکھا ہے قیامت کے بارے میں کوئی مقرب فرشتہ جانتا ہے نہ کوئی نبی مرسل۔ اور قیامت کے آنے کی حکمت یہ ہے کہ (لجزی کل نفس بما تسعی)…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 14–16

بھولی ہوئی نماز جب یاد آئے اسی وقت ادا کی جائے نہ کہ اگلے روز والی نماز کے وقت میں قول باری ہے (واقیم الصلوۃ للذکری اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر) حسن اور مجاہد کا قول ہے تاکہ نماز کے اندر تو تسبیح و تعظیم کے ذریعے مجھے یاد کرے۔ “ ایک قول کے مطابق ” تاکہ میں تجھے تیری مدد و توصیف کے ساتھ یاد کروں۔ “ زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی آنکھ صبح کی نماز کے لئے نہیں کھلی یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ آپ نے طلوع شمس کے بعد نماز اد ا کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اقم الصلوۃ لذکری) ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–17

16 حضرت موسیٰ کو نماز قائم کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نماز قائم کرو میری یاد کیلئے "۔ کہ یہ میری یاد دلشاد کا سب سے بڑا ذریعہ اور عمدہ طریقہ ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اس سے مومن اپنے رب سے گفتگو اور مکالمے کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب اس طرح صدق و صفائی کے ساتھ تم مجھے یاد کرو گے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ { فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ } ۔ اور جب میں تمہیں یاد کروں تو اس سے بڑھ کر تمہارے لیے شرف و امتیاز اور انعام و اکرام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر محلوظ خاطر اور پیش…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–24

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–24

سورة طہ : (رکوع نمبر 1) اسرارومعارف سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی قیامت کے آنے کا وقت اس لئے پوشیدہ رکھا گیا ہے کہ جس آزمائش کے لئے انسان کو دنیا میں بھیجا گیا ہے اس کا مدعا پورا ہو اور ہر شخص کو اپنے کئے کا ٹھیک ٹھیک بدلہ ملے گویا اس کے مخفی رکھنے کی حکمت ” مسعی کی جزا “ ہے۔ اس صورت میں ” لتجزی “ جار مجرور ” اخفیھا “ کے متعلق ہوگا نہ کہ ” اتیۃ “ کے (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:15) اکاد اخفیھا۔ اکاد۔ کاد یکاد کود سے مضارع واحد متکلم واحد متکلم کا صیغہ ہے یہ افعال مقاربہ میں سے ہے کسی فعل کے قریب الوقوع ہونے کو بیاں کرنے کے لئے آتا ہے۔ یہاں بمعنی ارید میں ارادہ رکھتا ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اخفی مضارع واحد متکلم اخفی یخفی اخفاء (افعال) مصدر سے ہے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب الساعۃ کے لئے ہے۔ اخفیھا۔ میں اس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں۔ لتجزی لام تعلیل کے لئے ہے تجزی مضارع مجہول واحد مؤنث غائب تاکہ اس کو جزا دی جائے تاکہ اسے بدلہ دیا جائے ضمیر کا مرجع کل نفس ہے۔ لتجزی کل نفس بما تسعی۔ تاکہ ہر شخص کو اس کی کوشش کا بدلہ مل جائے ۔ لتجزی کا تعلق…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 9–16

لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16 حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔ تشریح : آیت نمبر 9 تا 16 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–17

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–24

[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–20

(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔ حل لغات : طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔ ” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 15 بلاشبہ قیامت آنے والی ہے میں اس کے وقت کو جملہ خلائق سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو جو کچھ وہ کرتا ہے اس کے کئے کا بدلا دیا جائے ۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی پہلی وحی میں نماز کا حکم ہے اور ہمارے پیغمبر کو بھی ور بک فکبر اور قیامت کو چھپاتا ہوں یعنی وقت کسی کو نہیں بتاتا۔ 12 خلاصہ ! یہ کہ توحید کی تعلیم اور عبادات میں سے اہم عبادت کا ذکر فرمانے کے ساتھ قیامت کا ذکر کیا جو معاد کے عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے اس کی علت بیان فرمائی کہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلا دیا جائے اور نیک کو نیکی کا پھل ملے اور بد کو بدی کی سزا دی جائے لہٰذا قیامت کا یقین اور اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–15

ف 4۔ سو قرآن ایسی ذات مستجمع الصفات کا نازل کیا ہوا ہے اور یقینی حق ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قیامت کا آنا یقینی ہے لیکن اس کو مخفی رکھا گیا ہے تاکہ تم سعی کا بدلہ پاؤ : 15۔ قیامت کا تصور سارے انبیاء کرام (علیہم السلام) کے ذریعہ ان کی قوموں تک پہنچایا گیا اور ہمیشہ اس کا نمبر توحید الہی کے ساتھ ہی رکھا گیا اس طرح زیر نظر آیت میں بھی اس کی یاد دہائی کرائی گئی ہے اور پورے زور کے ساتھ اس کو بیان کیا گیا ہے جس طرح ہماری زبان میں کہتے ہیں کہ قیامت آئے گی اور اگر اس فقرہ کو اس طرح ادا کیا جائے کہ ” قیامت ضرور آ کر رہے گی ۔ “ تو اس میں کسی قدر زور بڑھ جائے گا ، اہل زبان اس حقیقت کو سمجھتے ہیں اور یہی زور (اتیہ) کے لفظ میں پایا جاتا ہے اور قرآن کریم میں اس پر اس لئے بھی زور دیا ہے کہ توحید…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

أَكَادُ أُخْفِيهَا (I would keep it secret - 20:15): Allah Ta` ala says that He wishes to keep the circumstances relating to the Day of Judgment hidden from all created things including prophets and angels. The word أَكَادُ (I would) gives a subtle hint that it is only to induce people to good deeds that the coming of the Day of Judgment has been disclosed, otherwise even this fact would have been concealed. لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ (So that everyone is given a return for the effort one makes - 20:15). If this phrase is taken to be linked with the word آتِيَةٌ (has to come)…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10. After Tauhid, the second thing that was revealed to all the Prophets was the reality of the Hereafter, and they were appointed to impart its knowledge to their peoples. Here its object has also been stated. The Hour of Resurrection is destined to come so that everyone should get the recompense in the Hereafter of what he did in this world, and that Hour has been kept secret to fulfill the requirement of the trial. For the one who believes in the Hereafter will always be on his guard against any deviation from the right way, and the one who does not believe in the coming of that Hour will…

Read the full tafseer →