Explained with ayahs 11–16
اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی۔
جب حضرت موسیٰ ؑ آگ کے پاس پہنچے تو اس مبارک میدان کے دائیں جانب کے درختوں کی طرف سے آواز آئی کہ اے موسیٰ ! میں تیرا رب ہوں تو جوتیاں اتار دے۔ یا تو اس لئے یہ حکم ہوا کہ آپ کی جوتیاں گدھے کے چمڑے کی تھیں یا اس لئے کہ تعظیم کرانی مقصود تھی۔ جیسے کہ کعبہ جانے کے وقت لوگ جوتیاں اتار کر جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ اس بابرکت جگہ پر پاؤں پڑیں اور بھی وجوہ بیان کئے گئے ہیں۔ طوی اس وادی کا نام تھا۔ یا یہ مطلب کہ اپنے قدم اس زمین سے ملا دو۔ یا یہ مطلب کہ یہ زمین کئی کئی بار پاک کی گئی ہے اور اس میں برکتیں بھر دی گئی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں۔ لیکن زیادہ صحیح پہلا قول ہی ہے۔ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة طٰهٰ 11
یہ سوال طلب علم کے لیے نہ تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کو بھی معلوم تھا کہ موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ پوچھنے سے مقصود یہ تھا کہ لاٹھی کا لاٹھی ہونا حضرت موسیٰ کے ذہن میں اچھی طرح مستحضر ہوجائے اور پھر وہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں۔
Read the full tafseer →فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا، اس میں حضرت موسیٰ ؑ کو خطاب کر کے تنبیہ کی گئی ہے کہ ایسا نہ ہونا چاہیے کہ آپ کافروں اور بےایمانوں کے کہنے سے قیامت کے معاملے میں غفلت برتنے لگیں اور وہ آپ کی ہلاکت کا سبب بن جائے، ظاہر ہے کہ کسی نبی و رسول سے جو معصوم ہے یہ غفلت نہیں ہو سکتی اس کے باوجود ایسا خطاب کرنا دراصل ان کی امت اور عام مخلوق کو سنانا ہے کہ جب اللہ کے پیغمبروں کو بھی ایسی تاکید کی جاتی ہے تو ہمیں اس کا کتنا اہتمام کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →فلا یصدنک عنھا من لایومن بھا وا تبع ھوئہ فتردی 16
ایجازبیان کی ایک مثال
عنھا میں ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک صلوۃ ہے اور بھا کی ضمیر کا مرجع الساعۃ ہے یعنی نماز سے تمہیں وہ شخص روکنے یا غفل نہ کرنے پاوے جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے۔ یہ مفہوم لے نل میں اگرچہ بظاہر انتشار ضمیر کا سوال پیدا ہوتا ہے جس کو کلام کا عیب سمجھا جاتا ہے لیکن انتشار ضمیر صرف اس صورت میں عیب ہے جب مرجع کے تعین کے لئے کوئی واضح قرینہ موجود نہو۔ اگر واضح قرینہ موجود ہو تو کوئی عیب نہیں بلکہ اس سے کلام میں ایجاز کا حسن پیدا ہوتا ہے اور فصحا کے کلام میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں موجود ہیں۔
یہاں قرینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
16۔ 1 اس لئے کہ آخرت پر یقین کرنے سے یا اس کے ذکر و مراقبے سے گریز، دونوں ہی باتیں ہلاکت کا باعث ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
7: سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کو یہ یقین کیسے آیا کہ یہ آواز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آرہی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو یہ اطمینان عطا فرمادیا کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی سے ہم کلام ہیں۔ اور حالات بھی ایسے پیدا کردئیے گئے کہ انہیں یہ یقین آجائے۔ مثلاً بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ آگ کے پاس پہنچے تو یہ عجیب منظر نظر آیا کہ وہ آگ ایک درخت کے اوپر شعلے مار رہی ہے۔ مگر درخت کا کوئی پتہ جلتا نہیں ہے۔ انہوں نے انتظار کیا کہ شاید کوئی چنگاری اڑ کر ان کے پاس آجائے۔ مگر وہ بھی نہ آئی۔ پھر انہوں نے کچھ گھاس پھونس لے کر اسے آگ کے قریب کیا، تاکہ اس میں آگ لگ جائے تو وہ آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اننی انا اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔ فتردی (02 : 61) (02 : 41۔ 61) ” ‘۔
یہ کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ تعالیٰ نے خود پکار کر موسیٰ (علیہ السلام) کو جو پیغام دیا ‘ اس میں اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ ہمہ جہت تاکید۔
اننی انا اللہ میں لفظ ان تاکیدی ‘ پھر انا تاکیدی ‘ مبدا وخبر کی حصر تاکیدی ‘ پھر نفی و اثبات کی تاکیدی حصر
لا الہ الا انا (41) جس میں اللہ کی الوہیت کا اثبات اور تمام غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ثابت کی گئی ہے۔ پھر الوہیت کے ثبوت کے بعد الہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کی تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ کی طرف توجہ کی جائے لیکن عبادات…
Read the full tafseer →9 نہ روک دے اس سے یعنی قیامت پر یقین رکھنے سے یا نماز سے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برے کی صحبت سے منع کیا تو اور کوئی کس شمار میں ہے۔ کذافی الموضح۔ غرض یہ ہے کہ دنیا پرست کافر کی چاپلوسی یا زیادہ نرمی اور مداہنت اختیار نہ کی جائے۔ ورنہ اندیشہ ہے کہ آدمی بلند مقام سے نیچے پٹک دیا جائے۔ العیاذ باللہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
آیت 16 فَلَا یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِھَا وَاتَّبَعَ ھَوٰٹہُ فَتَرْدٰی ”
عَنْھَا کی ضمیر کا تعلق السَّاعَۃ قیامت سے بھی ہوسکتا ہے اور الصَّلٰوۃ نماز سے بھی۔ چناچہ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ آخرت کا منکر کوئی شخص آپ علیہ السلام کو بھی اس سے برگشتہ نہ کر دے۔ لیکن اگر عَنْھَا کا تعلق الصّٰلوۃ سے مانا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اگر کوئی شخص نماز کا منکر ہے تو وہ آپ کو بھی اس سے بدظن کرنے کا باعث نہ بن جائے۔
Read the full tafseer →12 اور پانچویں یہ بات کہ جو شخص روز آخرت پر ایمان نہیں لاتا اور اس کا ذہن اللہ کے سامنے جوابدہی کے تصور سے خالی ہوتا ہے وہ اپنی خواہشات کا غلام بن کر رہ جاتا ہے۔ وہ دنیا کی دلچسپیوں اور دل فریبیوں میں ایسا مستغرق ہوتا ہے کہ اسے اللہ کبھی بھولے سے یاد نہیں آتا۔ لہذا تم ایسے لوگوں کی صحبت سے پرہیز کرو۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے ساتھ تمہیں بھی لے ڈوبیں۔ یہ تھیں وہ بنیادی تعلیمات جو سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت کے آغاز میں ہی بتلا دی گئیں اور یہ پانچویں ہدایت بالخصوص اس لئے دی گئی کہ آپ ایک جابر، سرکش اور دنیا پرست حکمران کے پاس اللہ کا پیغام لے کر جانے والے تھے اور اس کام کے لئے ایسی استقامت…
Read the full tafseer →18۔ یعنی کہیں تم کسی دشمن دین کی صحبت سے متاثر ہو کر فکر آخرت اور خیال عاقبت سے غافل نہ ہوجانا، موسیٰ (علیہ السلام) مقرب خاص ہیں اور اب پیغمبر بھی بن چکے ہیں، یہ ارشاد ان تک سے ہورہا ہے کہ کہیں تم دشمنان دین کی صبحت کا اثر نہ قبول کرلینا ورنہ خدائی قانون میں سزا تمہارے لیے بھی رکھی ہوئی ہے ! ہم دنیا داروں کیلئے تو رونگٹے کھڑے ہوجانے کا مقام ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ آیت میں اباحت کا ابطلا ہے۔ نیز اس حقیقت کا اثبات کہ تکلیفات شرعیہ ہستی کا مل سے بھی ساقط نہیں ہوتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
آیت نمبر 15 تا 24
ترجمہ : قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اس کو لوگوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہوں اور اس کا قرب اس کی علامات سے ظاہر ہوجائے گا تاکہ ہر شخص کو اس (دن) میں اس کے اعمال نیک و بد کا بدلہ دیا جاسکے، تو تجھ کو اس پر یقین رکھنے سے کوئی ایسا شخص باز نہ رکھ سکے، نہ روک سکے جس اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار میں اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے ورنہ تو تو ہلاک ہوجائے گا یعنی اگر تو اس پر یقین رکھنے سے باز رہا تو ہلاک ہوجائے گا اور اے موسیٰ تیرے داہنے ہاتھ میں یہ کیا ہے استفہام تقریر کے لئے ہے تاکہ اس پر معجزہ کا ترتب ہو سکے، کہا یہ میری لاٹھی ہے (جست) لگاتے وقت اور چلنے کے وقت اس پر…
Read the full tafseer →فلا یصدنک عنہا من لا یومن بہا واتبع ہوہ فتردی۔ پس تم کو نہ پھیر دے قیامت سے (یعنی
قیامت پر ایمان لانے سے اور اللہ کی ملاقات سے یا نماز قائم کرنے سے) وہ شخص جو قیامت کو نہیں مانتا اور اپنی خواہشات کے پیچھے چلتا ہے (ورنہ) تم بھی ہلاک ہوجاؤ گے۔
آیت میں بظاہر کافر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ موسیٰ کو اقرار قیامت یا اقامت نماز سے نہ پھیر دے اور حقیقت میں موسیٰ ( علیہ السلام) کو ممانعت کی گئی کہ تم کافروں کے کہنے میں نہ آجانا ورنہ ان کی طرح آخرت میں تم بھی تباہ ہوجاؤ گے۔ اس فقرہ سے اشارۃً معلوم ہو رہا ہے کہ فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے اقرار توحید و قیامت اوراقامۃ الصلوٰۃ لربہٖ اس کا انکار استقامت فطرت کے…
Read the full tafseer →(16) تو تمہیں قیامت کے اقرار ویقین سے ایسا شخص روک نہ پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اس کے انکار اور بتوں کی پوجا کرکے اپنی خواہشات پر چلتا ہو کہیں تو اس بےفکری سے تباہ نہ ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا۔۔ : اس آیت سے حاصل ہونے والے فوائد میں سے ایک فائدہ مفسر زمخشری کے الفاظ میں یہ ہے : ”جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ جم غفیر ہیں، کیونکہ کفار کے لیے قیامت کو تسلیم کرنے سے زیادہ مشکل کوئی چیز نہیں، نہ ہی وہ اس سے زیادہ کسی چیز کا انکار کرتے ہیں۔ سو ایسا ہرگز نہ ہو کہ ان کی طرف سے آنے والے مصائب کی کثرت اور ان کی بہت بڑی تعداد تمہیں خوف زدہ کر دے اور ان کی کثرت تمہارے قدم پھسلنے کا باعث بن جائے۔ یاد رکھو کہ وہ جس قدر بھی تعداد میں زیادہ ہوں، وہ صرف اور صرف اپنی خواہش نفس کے پیچھے چل رہے ہیں، کسی دلیل وبرہان کے پیچھے نہیں اور اس میں بہت بڑی ترغیب ہے کہ دلیل کا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اننی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدنی واقم الصلوٰۃ لذکری۔ اس میں سات مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1 ۔ لذکری کی تاویل میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ احتمال ہے کہ یہ مراد ہو کہ تو مجھے نماز میں ذکر کرے یا مراد ہے کہ میں اس نماز کی وجہ سے علیین میں مدح کے ساتھ تیرا ذکر کروں۔ اس بنا پر مصدر فاعل یا مفعول کی طرف مضاف ہونے کا اچتمال رکھتا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے توحید کے بعد نماز پر استقامت اختیار کر۔ یہ نماز کی قدر کی عظمت پر تنبیہ ہے کیونکہ نماز اللہ کی بارگاہ میں تضرع ہے اور اس کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ اس بنا پر نماز ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نماز کو ذکر کا نام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–24
1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ سے مراد ہے کہ میں اس کو (یعنی قیامت کے دن کو) کسی پر ظاہر نہیں کروں گا اپنے علاوہ۔
قیامت کی گھڑی مخفی ہے :
2:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ اکاد اخفیھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
3:۔ عبد بن حمید، اور ابن انباری نے مصاحف میں مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اکاد اخفیھا “ کہ میں نے اس کو اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھا۔
4:۔ ابن ابی حاتم اور ابن انباری نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان الساعۃ اتیۃ…
Read the full tafseer →[فَلَا يَصُدَّنَّكَ : پس ہرگز نہ روکے آپ (علیہ السلام) کو ] [عَنْهَا : اس سے ] [مَنْ : وہ جو ] [لَّا يُؤْمِنُ : ایمان نہیں لاتا ] [بِهَا : اس پر ] [وَاتَّبَعَ : اور اس نے پیروی کی ] [هَوٰىهُ : اپنی خواہش کی ] [فَتَرْدٰى: ورنہ تُو تباہ و برباد ہوگا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–18
مدین سے واپس ہوتے ہوئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آگ نظر آنا اور نبوت سے سرفراز کیا جانا اور دعوت حق لے کر فرعون کے پاس جانے کا حکم ہونا
پہلے بتایا جا چکا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد کے تمام قبیلے (جو تعداد میں بارہ تھے) مصر میں جا کر آباد ہوگئے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی وفات کے بعد وہاں ان لوگوں کی کوئی حیثیت نہ رہی پردیسی ہونے کی وجہ سے مصر کے اصل باشندے یعنی قبطی لوگ انہیں بری طرح ستاتے تھے سخت کاموں میں پیلتے تھے اور بیگاریں لیتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا پھر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–36
تفصیل قصہ موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ ۔ وھل اتٰک حدیث موسٰی۔۔۔ الیٰ ۔۔۔ واتبع ھوٰہ فتردٰی
(ربط) اوپر کی آیتوں میں اللہ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کا بیان تھا اب آگے موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ بسط اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مقابلہ میں کس طرح اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کو ثابت کیا۔ اور دلیل نبوت یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگ لینے کے لیے گئے اللہ کے فضل سے ان کو نبوت مل گئی اور عصا اور ید بیضاء کا معجزہ عطا ہوا۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبوت عطا کر دے تو کیا بعید ہے۔
نیز اس قصہ کے بیان سے آں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
11:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” اَ کَادُ اُخْفِیھَا “ حضرت عبداللہ بن عباس اور اکثر مفسرین نے فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے۔ اکاد اخفیھا من نفسی فکیف یعلمہا مخلوق کو کیف اظھرھا لکم (خازن ج 4 ص 215، قرطبی ج 11 ص 185 وغیرہ) ۔ یعنی اگر ممکن ہوتا تو قیامت کے معین وقت کا علم میں اپنی ذات سے بھی پوشیدہ رکھتا۔ اس لیے مخلوق میں سے اسے کوئی نہیں جان سکتا۔ یہ محاورہ ہے جب کسی بات کے کتمان میں مبالغہ مقصود ہو تو اس وقت یہ محاورہ بولتے ہیں۔ وھذا محمول علی ما جرت بہ عادۃ العرب من ان احدھم اذا اراد المبالغۃ فی کتمان الشیء قال کدت اخفیہ من نفسی (روح ج 16 ص 156)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
تفسیر : ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کچھ واقعہ بیان ہوا ہے جب آپ مدین سے چل کر وادی طویٰ کے قریب پہنچے ، تو اندھیری رات میں آپ کو روشنی اور تپش کے لئے آگ کی ضرورت محسوس ہوئی۔ آپ نے دور ایک مقام پر آگ جلتی دیکھ کر اپنے گھر والوں کو وہیں ٹھرنے کا حکم دیا اور خود آگ کی تلاش اور کسی راستہ بتانے والے کی جستجو میں وہاں پہنچے۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے دیکھا کہ وہ آگ ایک سرسبز و شاداب درخت سے نکل رہی تھی مگر اس درخت کو جلاتی نہیں تھی۔ آپ نے آگے بڑھنا چاہا تو غیب سے آواز آئی ، اے موسیٰ ! میں تیرا پروردگار ہوں ، تم ایک مقدس وادی میں پہنچ چکے ہو ، لہٰذا بطور ادب اپنے…
Read the full tafseer →فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْہَا مَنْ لَّا يُؤْمِنُ بِہَا وَاتَّبَعَ ہَوٰىہُ فَتَرْدٰى 16
صدد
الصُّدُودُ والصَّدُّ قد يكون انصرافا عن الشّيء وامتناعا، نحو : يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً
، [ النساء/ 61] ، وقد يكون صرفا ومنعا نحو : وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطانُ أَعْمالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ [ النمل/ 24]
( ص د د ) الصدود والصد
۔ کبھی لازم ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے رو گردانی اور اعراض برتنے کے ہیں جیسے فرمایا ؛يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُوداً ، [ النساء/ 61] کہ تم سے اعراض کرتے اور کے جاتے ہیں ۔ اور کبھی متعدی ہوتا ہے یعنی روکنے اور منع کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : وَزَيَّنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
ترکیب : اذ ظرف ہے حدیث کا یا مفعول اذکر کا۔ ھدیً اے ہادیا یدلنی علی الطریق۔ نودی کا مفعول مالم یسم فاعلہ محذوف اے نودی یا موسیٰ الخ بیان نداء طوٰی اسم علم للوادی وھو بدل منہ۔ لذکری متعلق ہے اقم سے لتجزی متعلق ہے آیۃ سے سیرتھا منصوب بنرع الخافض ای حال تھا بیضاء حال ہے من غیرسوء متعلق ہے تخرج سے۔
تفسیر : قرآن کے نازل ہونے سے کفار سخت متعجب تھے اس لیے اس کو آنحضرت ﷺ کی زحمت کا سبب قرار دیتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل ہونے کے یہود و نصاریٰ اور ان کے اتباع کفار عرب بھی قائل تھے۔ اس لیے یہاں سے موسیٰ ( علیہ السلام) کا قصہ بیان فرماتا ہے کہ دیکھو ان کو کس طرح سے الہام ہوا۔ آگ لینے گئے…
Read the full tafseer →فَلاَ یَصُدَّنَّکَ عَنْھَا مَنْ لاَّیُؤْمِنُ بِھَا وَاتَّبَعَ ھَوٰہُ فَتَرْدٰی۔ (طٰـہٰ : 16)
(پس نہ روکے تمہیں اس سے وہ شخص جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہشوں کا پیرو ہے کہ تم ہلاک ہو کر رہ جاؤ۔ )
عَنْھَا اور بِھَا کی ضمیروں کا مرجع
مفسرین نے عَنْھَا اور بِھَا کی ضمیروں کے مرجع میں اختلاف کیا ہے۔ جمہور مفسرین کا خیال تو یہ ہے کہ دونوں ضمیروں کا مرجع السَّاعَۃَہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سابقہ آیت کریمہ میں السَّاعَۃَ کا لفظ گزرا ہے۔ قریب ہونے کی وجہ سے اسی کو دونوں ضمیروں کا مرجع ہونا چاہیے۔ جو شخص بھی دونوں آیتوں کو پڑھے گا وہ سیاق کلام سے خودبخود سمجھ جائے گا کہ یہاں السَّاعَۃَ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی پہلی وحی میں دین کے تیسرے بنیادی عقیدہ کا یوں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! قیامت ہر صورت برپا ہونے والی ہے لیکن اس کے وقت کو میں نے چھپا رکھا ہے۔ قیامت کا برپا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تاکہ ہر شخص کو اس کی اچھی بری کوشش کا بدلہ چکایا جائے۔ اے موسیٰ ! وہ شخص یعنی فرعون جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا تجھے نبوت کے کام سے نہ روک دے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو اپنی خواہشات کا بندہ بنا لیا ہے۔ اگر آپ توحید کی دعوت دینے اور نبوت کے کام سے رک گئے تو آپ ہلاک ہوجائیں گے۔
یہ بات پہلے بھی عرض ہوچکی ہے کہ دین کے اعتقادات…
Read the full tafseer →16: فَلاَ یَصُدَّ نَّکَ عَنْھَا (پس تم کو نہ پھیر دے قیامت سے) نمبر 1۔ قیامت کیلئے اعمال کرنے سے تمہیں نہ روک دے۔ نمبر 2۔ نماز قائم کرنے سے نہ روک دے۔ نمبر 3۔ قیامت پر ایمان سے نہ روک دے۔ اس میں خطاب موسیٰ (علیہ السلام) کو ہے۔ اور مراد اس سے ان کی امت ہے۔ مَنْ لَّا یُؤْمِنُ بِھَا (وہ جو اس پر ایمان نہیں رکھتا) جو اس کی تصدیق نہیں کرتا۔ وَاتَّبَعَ ھَوٰہٗ (اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑا ہے) اس کے حکم کی مخالفت میں فَتَرْدٰی (پس تم بھی ہلاک ہوجائوگے) ۔
Read the full tafseer →16۔ فلایصدنک عنھا، قیامت کے بارے میں لوگوں کے مختلف سوالات کی وجہ سے اپنے ایمان سے نہ پھرجانا۔ من لایومن بھا واتبع ھواہ، اللہ کے حکم کے خلاف ، فتردی ، اس کی وجہ سے ہلاک ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
9۔ 16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کے ذکر سے یہاں یہ مطلب ہے کہ جس طرح قریش میں کے سرکش لوگ اے رسول اللہ کے تم سے وہ گستاخی کی باتیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بہت سرکشی کی باتیں کیں تھیں لیکن آخر کو اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) کا غلبہ ہوا اور فرعون ڈوب کر ہلاک ہوگیا وقت مقررہ پر یہی انجام اب ہونے والا ہے کہ اسلام کا غلبہ ہو کر مکہ کی ہر گلی کوچہ میں کلمہ گو نظر آئیں گے اور جن بتوں کی حمایت میں یہ مشرک لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں ان بتوں کی اور ان کے پوجنے والوں کی نہایت ذلت ہوگی اللہ سچا ہے۔ چناچہ قرآن شریف کی اس غیب کی خبر کا ظہور فتح مکہ…
Read the full tafseer →آیت 16
وہ شخص، جو قیامت کا انکار کرتا ہے اور اس کے واقع ہونے کا اعتقاد نہیں رکھتا وہ آپ ﷺ کو قیامت اور جزا و سزا پر ایمان لانے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے روک نہ دے۔ وہ اس بارے میں شک کرتا ہے اور شک پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس بارے میں باطل دلائل کے ذریعے سے بحث کرتا ہے، خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہوئے، مقدور بھر قیامت کے بارے میں شبہات پیدا کرتا ہے، “ اس کا مقصد حق تک پہنچنا نہیں بلکہ اس کا مقصد صرف خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ جس شخص کا یہ حال ہو اس کی بات پر کان دھرنے اور اس کے اقوال و افعال کو، جو قیامت پر ایمان لانے سے روکتے ہیں، قبول کرنے سے بچئے۔
جس شخص کا یہ حال ہے اس سے بچنے کا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
بھولی ہوئی نماز جب یاد آئے اسی وقت ادا کی جائے نہ کہ اگلے روز والی نماز کے وقت میں
قول باری ہے (واقیم الصلوۃ للذکری اور میری یاد کے لئے نماز قائم کر) حسن اور مجاہد کا قول ہے تاکہ نماز کے اندر تو تسبیح و تعظیم کے ذریعے مجھے یاد کرے۔ “ ایک قول کے مطابق ” تاکہ میں تجھے تیری مدد و توصیف کے ساتھ یاد کروں۔ “ زہری نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے ایک مرتبہ حضور ﷺ کی آنکھ صبح کی نماز کے لئے نہیں کھلی یہاں تک کہ سورج نکل آیا۔ آپ نے طلوع شمس کے بعد نماز اد ا کی اور فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (اقم الصلوۃ لذکری) ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
16 حضرت موسیٰ کو نماز قائم کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نماز قائم کرو میری یاد کیلئے "۔ کہ یہ میری یاد دلشاد کا سب سے بڑا ذریعہ اور عمدہ طریقہ ہے۔ اسی لئے حدیث شریف میں اس کو مومنوں کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ اور جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ اس سے مومن اپنے رب سے گفتگو اور مکالمے کے شرف سے مشرف ہوتا ہے۔ اور جب اس طرح صدق و صفائی کے ساتھ تم مجھے یاد کرو گے تو میں بھی تمہیں یاد کروں گا ۔ { فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ } ۔ اور جب میں تمہیں یاد کروں تو اس سے بڑھ کر تمہارے لیے شرف و امتیاز اور انعام و اکرام اور کیا ہوسکتا ہے۔ اور اس ضمن میں یہ بات خاص طور پر محلوظ خاطر اور پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت، آزمائش، معجزات اور ہدایت
تشریح : تمام نبیوں کو نبوت ملنے کے مختلف طریقے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ مختصراً اس واقعہ کو بیان فرماتا ہے جس کا تعلق سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی سے ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ایک مصری ہلاک ہوگیا اور آپ گرفتاری سے بچنے کے لیے مصر سے بھاگ کر مدین جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد واپس مصر کی طرف جا رہے تھے کہ جزیرہ نمائے سینا کے جنوبی علاقے سے گزرتے ہوئے دور سے آگ نظرآئی۔ آگ کی ضرورت تھی، اس لیے لینے چلے گئے اور وہاں ان کو اللہ نے نبوت عطا کردی اور حکم دیا کہ توحید پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–24
سورة طہ :
(رکوع نمبر 1)
اسرارومعارف
سورة طہ : مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عجیب واقعہ جو انہیں فرعون کے ساتھ پیش آیا بیان کرتی ہے اس سے بھی عجیب واقعہ خود اہل مکہ میں سے سیدنا عمر فاروق ؓ کا ایمان لانا اسی کے سبب سے ہوا ، ایک روز تنگ آکر گھر سے نکل پڑے کہ اس شخص نے شہر کا سکون چھین لیا ہے آخر ایک ہی تو بندہ ہے اسے قتل کر کے قصہ ختم کرنا چاہیے ، مراد نبی اکرم ﷺ کی ذات والا صفات تھی راستے میں ایک صحابی ؓ ملے تیمور دیکھ کر پوچھا کیا ارادے ہیں ، کہا یہ نئے مذہب والا فسانہ ختم کیا چاہتا ہوں ، انہوں نے فرمایا کہ کسی اور طرف جانے سے پہلے گھر کی خبر لو تمہاری تو بہن بھی مسلمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ حضرت موسیٰ کے ہاتھ میں لاٹھی ہے مگر ان سے یہ سوال اس لئے کہا کہ حضرت موسیٰ لاٹھی کے لاٹھی ہونے کا اقرار کریں اور پھر اپنے رب کی قدرت کا کرشمہ دیکھیں (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(20:16) فلا یصدنک۔ فعل نہی واحد مذکر غائب بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ صد سے ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ پس ہرگز تجھے نہ روک دے۔ ضمیر فاعل کا مرجع من لا یؤمن بھا ہے۔ عنھا ای عن تصدیق الساعۃ قیامت کی تصدیق سے۔ ھاضمیر کا مرجع الساعۃ ہے۔ فتردی۔ میںسببیہ ہے۔ تردی مضارع واحد مذکر حاضر ردی یردی (باب سمع) ردی مصدر بمعنی ہلاک ہونا۔ فتردی ورنہ تم بھی ہلاک ہوجائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–16
لغات القرآن آیت نمبر 9 تا 16
حدیث بات چیت، خبر۔ اھل گھر والے، بیوی۔ امکثوا تم ٹھہر جاؤ ۔ رک جاؤ۔ انست میں نے دیکھا ہے۔ لعلی شاید کہ میں۔ قبس سلگتی لکڑی۔ انگارہ، نودی آواز دی گئی۔ اخلع اتار دے۔ نعلیک (نعلین) دونوں جوتے۔ الواد میدان۔ المقدس پاک صاف، مقدس۔ طوی میدان۔ اخترتک میں نے تجھے چن لیا، پسند کرلیا۔ استمع غور سے سنو۔ الساعۃ گھڑی، قیامت۔ اکاد میں قریب ہوا۔ اخفی میں چھپا کر رکھوں۔ تسعی دوڑتا ہے۔ لاتصدن نہ روک دے ۔ تردیٰ ہلاک ہوجائے۔
تشریح : آیت نمبر 9 تا 16
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک قبطی کو مار ڈالنے کے الزام اور فرعون کے ظلم و ستم اور بےانصافی کے خوف سے مصر سے مدین تشریف لے گئے تھے۔ مدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزے ملنے کا ذکر
حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جب اللہ تعالیٰ نے پوچھا :” اے موسیٰ ! تمہارے داہنے ہاتھ میں کیا چیز ہے “ ؟ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا :” یہ میرے ہاتھ کی لکڑی ہے۔ میں اس پر ٹیک لگایا کرتا ہوں، اور اس سے اپنی بکریوں کے واسطے پتے جھاڑا کرتا ہوں، اور میرے لئے اس میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں “ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی لکڑی کا حال بیان کرچکے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا :” موسیٰ ! تم اس لکڑی کو زمین پر ڈال دو “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو زمین پر ڈال دیا، اور ڈالتے ہی اس لکڑی کا سانپ بن کر دوڑنے لگا۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–24
[3] اس قصے کے مختلف اجزا سورة اعراف، سورة قصص اور سورة طہ سے جمع کئے جاسکتے ہیں۔ مصر میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو مکا مارا تھا۔ اتفاق سے وہ مرگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) مارے ڈر کے مدین بھاگ گئے۔ وہاں شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بکریاں چرانے پر رکھ لیا اور اپنی بیٹی سے نکاح کردیا۔ دس برس سسرال میں رہے پھر اپنی ماں اور بہن سے ملنے کا اشتیاق ہوا تو بیوی بچوں کو لے کر مدین سے مصر روانہ ہوئے۔ جاڑے کا موسم اور اندھیری رات، راستہ بھول گئے۔ دور سے آگ دیکھ کر خیال کیا کہ یا تو وہاں سے تھوڑی سی آگ مل جائے گی تاکہ بال بچوں کو رات بھر گرم رکھنے کا بندوبست ہوجائے یا کم از کم وہاں سے راستے کا پتہ چل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
(ف 2) یہاں سے تجلی بصورت الہام کا آغاز ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں منتخب کرلیا ہے آئندہ سے تیرا دل میرے کلام کا مہبط ہے ، سنو ، اور توجہ سے سنو ۔
حل لغات :
طوی : ملک شام میں ایک وادی کا نام ہے ، اسی کو وادی امین کہتے ہیں ۔
” احترتک “۔ سے ظاہر ہے ، نبوت کا خلعت یونہی نہیں مرحمت فرمایا جاتا ، بلکہ اس کے لئے انتخاب اور اصطفا کی ضرورت ہے ، ابتدا ہی سے انبیاء (علیہم السلام) میں ایک قسم کا جو ہر قابلیت ہوتا ہے ، جو وقت مقررہ کے آجانے پر اظہار پذیر ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس وقت جب کہ ذہن وفکر کی ضروریات پختہ ہوجاتی ہیں ، مقام نبوت پر انبیاء کو فائز کرتے ہیں ، اور…
Read the full tafseer →- 16 کہیں ایسا نہ ہو کہ جو شخص قیامت کا یقین نہیں رکھتا وہ اپنی نفسانی خواہش اور چائو کی پیروی کرتا ہے وہ تجھ کو قیامت پر اعتقاد رکھنے اور اسکے فکر کرنے سے روک دیا ور تو ہلاک ہوجائے۔ یعنی قیامت کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے ایسا نہ ہو کسی بد اعتقاد آدمی کی صحبت سے تم قیامت کے اعتقاد میں ڈھیلے ہو جائو تو یہ تو بات تم کو ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دے گی اور تم ہلاک ہو جائو گی کیونکہ قیامت کا عقیدہ نہ ہو تو حرام و حلال کی تمیز باقی نہیں رہتی اور عذاب وثواب کا خیال بھی نہیں آتا۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں نہ روک دے اس سے یعنی قیامت کے یقین لانے سے یا نماز سے جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو برے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–20
ف 5۔ بڑے مسئلے اصول میں تین تھے۔ توحید و نبوت و معاد۔ تینوں کی تعلیم کی گئی اور فاعبدنی میں تمام فروع آگئے، نماز کو شرف کی وجہ سے جداگانہ بھی ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →ایسا نہ ہو کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے ان کا اثر آپ پر پڑے ۔
16۔ نماز اور آخرت کا جوڑ کس طرح جوڑ دیا گیا فرمایا خیال رہے کہ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس لئے نماز کے قریب نہیں آتا وہ آپ کو بھی نماز جیسی عبادت سے غافل نہ کردے اور یقینا یہ حکم موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو دیا گیا ہے جیسے بہت سی جگہ قرآن کریم نے خطاب تو نبی کریم ﷺ سے فرمایا لیکن آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو سبق پڑھایا گیا ۔ اس جگہ عنہا کی ضمیر کا مرجع ” صلوۃ “ ہے اور بہا کی ضمیر کا مرجع (الساعۃ) اور روز مردہ زندگی پر غور کرنے سے یہ بات مزید واضح ہوجاتی ہے کہ جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا اس کے…
Read the full tafseer →فَلَا يَصُدَّنَّكَ عَنْهَا (must not make you neglectful of it - 20:16 ) Here Sayyidna Musa (علیہ السلام) is cautioned by Allah Ta’ ala lest he should allow himself to be led away by the infidels and become negligent about the Day of Judgment because that would be the cause of his ruination. It is clear that a Prophet and a Messenger who is impeccable cannot commit such a lapse but the fact that such a warning has been addressed to him is meant to warn his followers as well as mankind at large to be cautious in the matter
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
11. This question was not asked for the sake of getting any information, for Allah knew that Moses (peace be upon him) held a staff in his hand. The question was posed with a view to impressing upon him the fact that it was a staff so that he might be mentally prepared to see the miracle which was going to be performed with it.
Read the full tafseer →